پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان سخت معاشی پالیسیوں پر اتفاق

کاشف عباسی ,May 22 ,2026

اسلام آباد: نیوز اینڈ نیوز

نئے مالی سال میں دو فیصد بنیادی بجٹ سرپلس ہدف برقرار رکھنے کا فیصلہ، مزید ٹیکس اقدامات متوقع

اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ اور معاشی حکمتِ عملی پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں فریقین نے سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت اور عالمی مالیاتی ادارہ معیشت کو مستحکم بنانے، مالی خسارہ کم کرنے اور ٹیکس نظام کو مزید وسعت دینے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر کام کر رہے ہیں۔

عالمی مالیاتی ادارے کے وفد نے 13 مئی سے 20 مئی تک اسلام آباد کا دورہ کیا، جس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے مالی سال 2026-27 کے لیے مجموعی قومی پیداوار کے دو فیصد کے برابر بنیادی بجٹ سرپلس برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق یہ ہدف مالیاتی استحکام اور معیشت کی مضبوطی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان بتدریج مالیاتی نظم و ضبط کو مزید سخت کرے گا، جبکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع بنانے، ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر کرنے، غیر ضروری اخراجات کم کرنے اور وفاقی و صوبائی سطح پر مالیاتی نظم و نسق کو مضبوط بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے مجموعی طور پر 860 ارب روپے سے زائد اضافی ریونیو اکٹھا کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے لیے تقریباً 15 ہزار 264 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بجٹ مذاکرات کے دوران ٹیکس اصلاحات، توانائی شعبے کی بہتری، سرکاری اخراجات میں کمی اور معاشی اصلاحاتی پروگرام پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ دونوں فریقین نے حالیہ معاشی اشاریوں اور اصلاحات پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم آئندہ مالی سال کے مکمل بجٹ خدوخال پر ابھی حتمی اتفاق نہیں ہو سکا۔

ذرائع کے مطابق بجٹ سے متعلق مزید مذاکرات آئندہ چند روز میں آن لائن ذرائع کے ذریعے جاری رہیں گے تاکہ تمام مالیاتی اہداف اور پالیسی معاملات کو حتمی شکل دی جا سکے۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ سخت مالیاتی پالیسی اور ٹیکس اصلاحات کے باعث حکومت کو مہنگائی، کاروباری سرگرمیوں اور عوامی دباؤ جیسے چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم معاشی استحکام اور بیرونی مالیاتی اعتماد کے لیے یہ اقدامات ضروری تصور کیے جا رہے ہیں۔

عالمی مالیاتی ادارے نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے محصولات میں اضافے، مالیاتی نظم و ضبط اور ادارہ جاتی اصلاحات پر مسلسل توجہ دینا ہوگی تاکہ طویل المدتی اقتصادی بہتری ممکن بنائی جا سکے۔

زیرِ حراست تشدد کے سب سے زیادہ کیسز پنجاب میں رپورٹ، لاہور ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع

ملک بھر میں 364 شکایات درج، مگر محدود مقدمات ہی ایف آئی آرز میں تبدیل ہو سکے

لاہور: نیوز اینڈ نیوز

لاہور: وفاقی تحقیقاتی ادارے نے لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ زیرِ حراست تشدد اور مبینہ حراستی اموات سے متعلق سب سے زیادہ شکایات پنجاب سے موصول ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دیگر صوبوں کے مقابلے میں پنجاب میں ایسے کیسز کی تعداد نمایاں طور پر زیادہ ہے، تاہم ملک بھر میں موصول ہونے والی شکایات میں سے صرف محدود تعداد کو باقاعدہ فوجداری مقدمات میں تبدیل کیا جا سکا۔

عدالت میں جمع کرائے گئے اعداد و شمار کے مطابق 30 اپریل 2026ء تک وفاقی تحقیقاتی ادارے نے “تشدد اور حراستی اموات کی روک تھام و سزا قانون 2022ء” کے تحت ملک بھر میں مجموعی طور پر 364 انکوائریاں درج کیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں سب سے زیادہ 266 انکوائریاں شروع کی گئیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں 48، سندھ میں 33، اسلام آباد میں 15 اور بلوچستان میں 2 کیسز رپورٹ ہوئے۔

اعداد و شمار کے مطابق شکایات کی بڑی تعداد کے باوجود پنجاب اور سندھ میں باقاعدہ مقدمات کی تعداد برابر رہی، جہاں دونوں صوبوں میں 19،19 ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ خیبرپختونخوا اور اسلام آباد میں 6،6 مقدمات درج ہوئے، جبکہ بلوچستان میں سامنے آنے والی دونوں شکایات کو ایف آئی آرز میں تبدیل کر دیا گیا۔

رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ زیرِ حراست تشدد کے متعدد کیسز ابھی مختلف مراحل میں ہیں، جن میں تحقیقات، شواہد جمع کرنے اور قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ایسے کیسز میں متاثرین اور گواہوں کے تحفظ، آزادانہ تحقیقات اور شفاف عدالتی کارروائی انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت مقدمے کے دوران عدالت نے متعلقہ اداروں سے تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی تاکہ حراستی تشدد کی روک تھام کے لیے موجودہ اقدامات اور قانون پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جا سکے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست تشدد کے واقعات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں اور ان کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی، احتساب اور اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ تشدد سے پاک تفتیشی نظام ہی انصاف کے شفاف عمل کو یقینی بنا سکتا ہے

چین کے بغیر دنیا ترقی نہیں کر سکتی، پاکستان ہر مشکل وقت میں چین کو اپنے ساتھ پاتا رہا: وزیراعظم شہباز شریف

کاشف عباسی ,May 22 ,2026

اسلام آباد: نیوز اینڈ نیوز

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم کا ون چائنا پالیسی کی مکمل حمایت کا اعادہ، پاک چین دوستی کو خارجہ پالیسی کا اہم ستون قرار

اسلام آباد: پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دنیا چین کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی، کیونکہ صنعتی، معاشی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں چین نے غیر معمولی ترقی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہر مشکل وقت میں چین کو ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد دوست کے طور پر اپنے ساتھ کھڑا پایا۔

اسلام آباد میں منعقدہ خصوصی تقریب اور تصویری نمائش سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاک چین تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی بنیاد باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ ترقی پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ پاکستان کی غیر مشروط حمایت کی اور کبھی کسی سیاسی دباؤ یا شرائط کے تحت تعاون نہیں کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ چین کی ترقی پوری دنیا کے لیے ایک مثال بن چکی ہے اور جدید ٹیکنالوجی، صنعت، معیشت اور انفراسٹرکچر کے میدان میں چین کی کامیابیاں قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے معاشی اور ترقیاتی اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے۔

تقریب میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ چین کے ساتھ دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور ہر آزمائش میں یہ رشتہ مزید مضبوط ہوا ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے چینی قیادت اور عوام کو سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد، مسلسل تعاون اور مشترکہ ترقیاتی اہداف کی بنیاد پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے۔

صدر اور وزیراعظم نے ایک بار پھر ون چائنا پالیسی کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے حوالے سے اپنے مؤقف پر ثابت قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی اسٹریٹجک شراکت داری خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب توجہ زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، خصوصی اقتصادی زونز اور معدنیات کے شعبوں پر مرکوز کی جا رہی ہے تاکہ پاکستان کی معیشت کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔

تقریب کے دوران پاک چین دوستی کے 75 سال مکمل ہونے پر خصوصی تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی، جس میں دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات، اہم ملاقاتوں، مشترکہ منصوبوں اور مختلف شعبوں میں تعاون کو تصویری انداز میں پیش کیا گیا۔ شرکاء نے نمائش کو سراہتے ہوئے پاک چین دوستی کو دنیا کی مثالی دوستی قرار دیا۔

دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے متاثرین کو مزید 67 کروڑ 77 لاکھ روپے معاوضے کی ادائیگی

منصور احمد ,May 22,2026

اسلام آباد: نیوز اینڈ نیوز

منصوبے کے متاثرین کو مجموعی طور پر 64 ارب 24 کروڑ روپے سے زائد ادا کیے جا چکے ہیں

اسلام آباد: واپڈا نے دیامر بھاشا ڈیم منصوبے سے متاثرہ افراد کو معاوضے کی ادائیگی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ضلع اپر کوہستان کے علاقے ہربن کے متاثرین میں مزید 67 کروڑ 77 لاکھ روپے تقسیم کر دیے۔ یہ رقم زمینوں کے حصول اور دیگر املاک کے معاوضے کے طور پر ادا کی گئی۔

معاوضے کے چیک بوشی داس میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران متاثرین کے حوالے کیے گئے۔ تقریب میں دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے جنرل منیجر و پراجیکٹ ڈائریکٹر انجینئر ڈاکٹر نزاکت حسین، ڈپٹی کمشنر اپر کوہستان عزیز اللہ جان، ڈپٹی کمشنر دیامر لیفٹیننٹ محمد اویس عباسی (ریٹائرڈ)، تھور ہربن گرینڈ امن جرگہ کے اراکین، مقامی عمائدین، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور واپڈا کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حکام نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم منصوبہ ہے، جو ملک کی پانی، خوراک اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کے حقوق کا تحفظ حکومت اور واپڈا کی اولین ترجیح ہے اور اسی مقصد کے تحت شفاف انداز میں معاوضوں کی ادائیگی جاری رکھی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ہربن اور تھور کے قبائل کے درمیان زمین کی حدود سے متعلق کئی دہائیوں پرانا تنازع 2022ء میں تھور ہربن گرینڈ امن جرگہ کی کامیاب کوششوں سے حل ہوا تھا، جس کے بعد متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کی راہ ہموار ہوئی۔ اس جرگے نے خیبرپختونخوا کے ضلع اپر کوہستان اور گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے قبائل کے درمیان مذاکرات کے ذریعے امن معاہدہ کرایا تھا۔

واپڈا حکام کے مطابق ادارہ اب تک اپر کوہستان کی ضلعی انتظامیہ کو 4 ارب 48 کروڑ روپے سے زائد جبکہ ضلع دیامر کی انتظامیہ کو 59 ارب 76 کروڑ روپے سے زیادہ رقم منتقل کر چکا ہے۔ اس طرح دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے لیے زمینوں اور جائیدادوں کے حصول کی مد میں مجموعی ادائیگیاں 64 ارب 24 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 35 ہزار 924 ایکڑ اراضی درکار ہے، جس میں سے اب تک 33 ہزار 848 ایکڑ زمین حاصل کی جا چکی ہے۔ حاصل کی گئی زمین میں گلگت بلتستان کے 32 ہزار 428 ایکڑ جبکہ خیبرپختونخوا کے 1 ہزار 420 ایکڑ شامل ہیں۔

دیامر بھاشا ڈیم دریائے سندھ پر تعمیر کیا جا رہا ہے اور اسے پاکستان کے اہم ترین آبی و توانائی منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد 81 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا جبکہ 4 ہزار 500 میگاواٹ سستی، ماحول دوست اور کم لاگت بجلی قومی گرڈ میں شامل ہوگی۔

ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ ملک میں زرعی ترقی کے لیے بھی سنگ میل ثابت ہوگا کیونکہ اس سے مزید 12 لاکھ ایکڑ اراضی سیراب کی جا سکے گی۔ علاوہ ازیں دیامر بھاشا ڈیم ہر سال تقریباً 18 ارب یونٹ کم لاگت بجلی پیدا کرے گا، جس سے توانائی بحران میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے۔

2026ء فٹبال ورلڈ کپ کی تیاریاں عروج پر، دنیا بھر میں جوش و خروش بڑھ گیا

محمود احمد May22,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

واشنگٹن / ریو ڈی جنیرو / زیورخ: دنیا کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ فیفا ورلڈ کپ 2026ء کی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں اور ٹورنامنٹ کے قریب آتے ہی دنیا بھر میں فٹبال شائقین کا جوش و خروش عروج پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والا یہ ورلڈ کپ تاریخ کا سب سے بڑا عالمی فٹبال مقابلہ ہوگا، جس میں پہلی مرتبہ 48 ٹیمیں شرکت کریں گی۔ ماہرین کے مطابق ٹیموں کی تعداد بڑھنے سے مقابلے مزید سخت اور دلچسپ ہونے کی توقع ہے۔

فیفا حکام کے مطابق ورلڈ کپ کے مختلف شہروں میں اسٹیڈیمز کی تیاری، ٹرانسپورٹ نظام، شائقین کی سہولیات اور سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ امریکا کے بڑے شہروں نیویارک، لاس اینجلس، میامی اور ڈلاس سمیت متعدد مقامات پر خصوصی سیکیورٹی پلان تیار کیے گئے ہیں تاکہ ایونٹ کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

برازیلین سپر اسٹار نیمار کی قومی ٹیم میں واپسی نے شائقین میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔ انجری کے باعث طویل عرصے تک فٹبال سے دور رہنے والے نیمار اب مکمل فٹنس حاصل کرنے کے بعد دوبارہ میدان میں اترنے کے لیے تیار ہیں۔ فٹبال ماہرین کا کہنا ہے کہ نیمار کی موجودگی برازیل کی اٹیکنگ لائن کو مزید مضبوط بنائے گی اور ٹیم کے عالمی ٹائٹل جیتنے کے امکانات روشن ہوں گے۔

اسی طرح پرتگال کے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو بھی ممکنہ طور پر اپنے کیریئر کا چھٹا ورلڈ کپ کھیلنے جا رہے ہیں۔ اگر رونالڈو ایونٹ میں شرکت کرتے ہیں تو وہ ایک نئی تاریخ رقم کریں گے، جبکہ شائقین ان کی کارکردگی دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔

دوسری جانب فیفا کو شدید گرمی اور موسمی حالات کے باعث بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق بعض میزبان شہروں میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے، جس کے پیش نظر فیفا نے اضافی واٹر بریکس، جدید کولنگ سسٹمز اور ہنگامی طبی سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کھلاڑیوں اور شائقین کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

امریکی حکام نے بھی ایونٹ کے دوران سیکیورٹی کو اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ڈرون حملوں اور فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے جدید نگرانی نظام اور خصوصی آلات خریدے جا رہے ہیں۔ نیویارک پولیس سمیت دیگر ادارے بڑے پیمانے پر سیکیورٹی مشقیں بھی کر رہے ہیں۔

فیفا نے ورلڈ کپ 2026ء کے لیے خصوصی ٹیکنیکل اسٹڈی گروپ بھی تشکیل دے دیا ہے، جو میچز کے دوران جدید تجزیے، کھلاڑیوں کی کارکردگی اور نئی حکمت عملیوں پر رپورٹس تیار کرے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ ورلڈ کپ جدید ٹیکنالوجی، نئی حکمت عملیوں اور عالمی سطح کے سخت مقابلوں کے باعث فٹبال کی تاریخ کا منفرد ترین ایونٹ ثابت ہو سکتا ہے

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرقِ وسطیٰ (فلسطین) پر بریفنگ کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد کا بیان

محمود احمد May22,2026

نیویارک: نیوز اینڈ نیوز

اقوامِ متحدہ میں پاکستان نے غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ پر زور دیا ہے۔

پاکستانی نمائندے نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں گزشتہ دو برسوں سے جاری تباہ کن جنگ نے انسانی زندگی، بنیادی ڈھانچے اور پورے معاشرتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والی محدود امید بھی اب مسلسل خطرات سے دوچار ہے جبکہ خطے کی مجموعی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

پاکستان نے غزہ میں قیامِ امن اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مصر، قطر، ترکیہ اور امریکا کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی ریاست اور عرب ممالک کے مؤقف کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتا ہے اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔

اجلاس میں غزہ کے انتظامی امور کے لیے قائم عبوری ڈھانچے، قومی انتظامی کمیٹی، سرکاری اداروں کی بحالی، پولیس فورس کی تشکیل اور فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ رابطوں میں پیش رفت کو مثبت قدم قرار دیا گیا، تاہم پاکستان نے واضح کیا کہ زمینی حقائق اب بھی انتہائی تشویشناک ہیں۔

پاکستانی نمائندے نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی کارروائیاں، فضائی حملے اور انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹیں مسلسل جاری ہیں، جن کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان خلاف ورزیوں سے امن عمل کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور عالمی برادری کو اس صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔

غزہ میں انسانی بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ لاکھوں فلسطینی اب بھی عارضی خیموں میں انتہائی خراب حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ صاف پانی، خوراک، ادویات اور طبی سہولیات کی شدید قلت برقرار ہے جبکہ بیشتر اسپتال جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔ خوراک کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ اور نکاسیٔ آب کے نظام کی تباہی نے بیماریوں اور وباؤں کے خطرات مزید بڑھا دیے ہیں۔

پاکستان نے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے عالمی امدادی وعدوں کو عملی شکل دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صرف اعلانات کافی نہیں بلکہ متاثرہ فلسطینی عوام تک فوری مالی اور انسانی امداد پہنچنا ضروری ہے۔

پاکستانی نمائندے نے بین الاقوامی سمندری حدود میں امدادی قافلے “گلوبل صمود فلوٹیلا” کو روکنے اور انسانی امدادی کارکنوں کی گرفتاری کی شدید مذمت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار افراد میں پاکستانی سماجی کارکن سعد ایدھی بھی شامل ہیں اور ان تمام کارکنوں کی فوری رہائی یقینی بنائی جانی چاہیے۔

اجلاس میں مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی آبادکاری، فلسطینیوں کی بے دخلی اور مسجدِ اقصیٰ میں اشتعال انگیز کارروائیوں پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ پاکستان نے ان اقدامات کو بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات دو ریاستی حل کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

پاکستان نے زور دیا کہ غزہ سے متعلق امن منصوبے اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔ پاکستانی نمائندے نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کا واحد راستہ ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر قائم ہو اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو۔

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار، ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر امریکی نگرانی کا دعویٰ کر دیا

محمود احمد May22,2026

:نیوز اینڈ نیوز

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ خلیجی خطے کی صورتحال پر امریکا کی مکمل نظر ہے اور آبنائے ہرمز میں عالمی بحری سرگرمیوں کی نگرانی مؤثر انداز میں جاری رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا خطے میں کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کرے گا جس سے عالمی تجارتی راستے متاثر ہوں یا بحری نقل و حرکت میں رکاوٹ پیدا ہو۔

اپنے تازہ بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ سفارتی رابطے بدستور جاری ہیں اور واشنگٹن ایک ایسے معاہدے کی کوشش کر رہا ہے جس کے تحت ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دے رہا ہے، تاہم تمام ممکنہ آپشنز اب بھی زیر غور ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا نہیں چاہتا کہ افزودہ یورینیم ایران کے اندر محفوظ رکھا جائے، کیونکہ اس سے خطے کی سلامتی اور عالمی امن کے حوالے سے خدشات جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کا حل جلد سامنے آ سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری رابطوں میں اہم پیشرفت متوقع ہے اور پاکستان کی سفارتی کوششیں اس عمل میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے ذریعے ایک اہم سفارتی وفد تہران پہنچ رہا ہے تاکہ جاری مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔

مارکو روبیو کے مطابق امریکا اس معاملے کا پرامن حل چاہتا ہے، تاہم اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو واشنگٹن کے پاس دیگر راستے بھی موجود ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں کسی قسم کی اضافی بحری پابندیاں یا ٹیکس عالمی سفارتی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیت مکمل طور پر فعال ہے اور ملک کسی بھی بیرونی دباؤ یا جارحیت کا مقابلہ کرنے کی بھرپور طاقت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم اور مسلح افواج ملکی خودمختاری کے دفاع کے لیے متحد ہیں۔

ایرانی فوجی قیادت نے بھی واضح کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی یا اشتعال انگیزی کی گئی تو اس کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باوجود تہران سفارتی راستہ اختیار کرنے کے حق میں ہے، تاہم قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

عالمی سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تناؤ نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو نہایت حساس بنا دیا ہے، جبکہ پاکستان، سعودی عرب، قطر اور دیگر علاقائی ممالک سفارتی ذرائع سے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں سرگرم ہیں

آزاد کشمیر انتخابات؛ فریال تالپور اور چوہدری ریاض کی اہم ملاقات، پیپلز پارٹی کی انتخابی حکمتِ عملی پر تفصیلی مشاورت

منصور احمد ,May 21,2026

اسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، آئندہ انتخابات اور پاکستان پیپلز پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما فریال تالپور اور آزاد کشمیر کے سینئر سیاسی رہنما چوہدری ریاض کے درمیان اسلام آباد میں تفصیلی ملاقات ہوئی۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں آزاد کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی پوزیشن کو مزید مستحکم بنانے، کارکنوں کو متحرک کرنے، تنظیمی ڈھانچے کو فعال بنانے اور آئندہ انتخابات کے لیے جامع حکمتِ عملی مرتب کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر پارٹی کی عوامی رابطہ مہم، انتخابی تیاریوں اور مختلف حلقوں میں سیاسی سرگرمیوں کے فروغ سے متعلق امور بھی زیرِ غور آئے۔

ملاقات کے دوران فریال تالپور نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ جمہوریت، عوامی حقوق اور خطے کی ترقی کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے ہر دور میں پیپلز پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور پارٹی مستقبل میں بھی عوامی توقعات پر پورا اترنے کے لیے بھرپور کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ انتخابات میں پارٹی کو منظم، فعال اور مضبوط انداز میں میدان میں اتارا جائے گا، جبکہ کارکنوں اور عہدیداروں کو عوامی مسائل کے حل کے لیے مزید متحرک کیا جائے گا۔ فریال تالپور کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی عوامی خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آزاد کشمیر میں پارٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں آزاد کشمیر کے مختلف حلقوں کی سیاسی صورتحال، عوامی رجحانات اور پارٹی کی انتخابی پوزیشن پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ پارٹی قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں، خواتین اور پارٹی کارکنوں کو زیادہ سے زیادہ متحرک کر کے عوامی رابطہ مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ پارٹی کا پیغام گھر گھر پہنچایا جا سکے۔

اس موقع پر چوہدری ریاض نے آزاد کشمیر میں پارٹی سرگرمیوں، تنظیمی ڈھانچے اور مقامی سیاسی صورتحال سے متعلق فریال تالپور کو تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو امید کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور پارٹی آئندہ انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

چوہدری ریاض نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کیا ہے اور کشمیری عوام کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پارٹی قیادت کی ہدایات کے مطابق انتخابی مہم کو بھرپور انداز میں چلایا جائے گا اور کارکنوں کو متحد و منظم رکھا جائے گا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی جماعتوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی بھی انتخابی میدان میں بھرپور تیاری کے ساتھ اترنے کے لیے متحرک دکھائی دے رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت کی حالیہ ملاقاتیں اور مشاورتی عمل آزاد کشمیر کی سیاست میں اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے آئندہ دنوں میں سیاسی رابطوں، تنظیمی مشاورت اور انتخابی حکمتِ عملی کے سلسلے کو مزید تیز کرنے پر اتفاق کیا، جبکہ پارٹی کو نچلی سطح تک فعال بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا

امریکہ۔ایران کشیدگی میں اہم سفارتی پیشرفت، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران پہنچ رہے ہیں، پاکستان کا ثالثی کردار مزید نمایاں

تہران / اسلام آباد:(نیوز اینڈ نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری غیر یقینی صورتحال اور ممکنہ جنگی خطرات کے تناظر میں پاکستان کا سفارتی کردار ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر آج تہران پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ ایران کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔

ذرائع کے مطابق یہ دورہ نہ صرف پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید تناؤ میں کمی لانے کی کوششوں کا بھی اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت خطے میں ایک ذمہ دار اور متوازن ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے، جو جنگ کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دے رہا ہے۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ایران کے دو ہنگامی دورے کیے۔ مختصر عرصے میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کی جانب سے مسلسل رابطوں کو سفارتی ماہرین انتہائی غیر معمولی اور اہم قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان دوروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان پسِ پردہ رابطے اور پیغام رسانی ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

دفاعی ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اپنے دورۂ تہران کے دوران ایرانی صدر، اعلیٰ حکومتی شخصیات اور پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈرز سے تفصیلی ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال، خلیج میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں، ایران کے جوہری پروگرام، امریکہ کے ممکنہ اقدامات اور جنگی خطرات سے بچنے کے لیے سفارتی راستوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی کوشش ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ غلط فہمی یا فوجی تصادم کو روکا جا سکے اور کشیدگی میں کمی کے لیے ایک قابلِ عمل سفارتی فریم ورک تشکیل دیا جائے۔ اسی مقصد کے تحت پاکستان دونوں ممالک کے درمیان رابطے کے ایک قابلِ اعتماد ذریعے کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی ایسے اشارے دیے گئے ہیں کہ واشنگٹن فوری فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دینا چاہتا ہے۔ دوسری جانب ایران نے بھی بعض معاملات میں لچک دکھانے کے اشارے دیے ہیں، جس کے بعد خطے میں جنگ کے خدشات کے باوجود مذاکرات کے امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا رہا۔

خلیجی ممالک خصوصاً متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر بھی خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ان ممالک نے پاکستان کے ثالثی کردار کو مثبت قرار دیتے ہوئے اس عمل کی حمایت کی ہے، کیونکہ کسی بھی ممکنہ جنگ کی صورت میں پورا خطہ شدید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت نہایت محتاط اور متوازن سفارت کاری کے ذریعے ایک اہم علاقائی طاقت کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ہوتی ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک بڑی پیشرفت تصور کی جائے گی۔

سیاسی اور دفاعی حلقوں میں اس دورے کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی میڈیا بھی پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چند روز مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی سفارتی منظرنامے کے لیے نہایت فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

خیبرپختونخوا کے 23 اضلاع میں خصوصی انسدادِ پولیو مہم کا آغاز، 46 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے

رپورٹ : ( نیوز اینڈ نیوز) پشاور: خیبرپختونخوا میں پولیو کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر خصوصی انسدادِ پولیو مہم شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ایمرجنسی آپریشنز سنٹر خیبرپختونخوا کے مطابق صوبے کے 23 مخصوص اضلاع میں یہ مہم چلائی جائے گی، جس کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے 46 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

حکام کے مطابق مہم کا مقصد صوبے کے حساس اور زیادہ خطرات والے علاقوں میں بچوں کو پولیو وائرس سے محفوظ بنانا اور بیماری کے مکمل خاتمے کو یقینی بنانا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان مکمل رابطہ اور تعاون جاری ہے۔

ایمرجنسی آپریشنز سنٹر کے مطابق یہ خصوصی مہم بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کے تمام اضلاع میں چلائی جائے گی، جبکہ ضلع ایبٹ آباد، تورغر، اپر کوہستان، لوئر کوہستان، کولائی پالس، باجوڑ، دیر لوئر، مہمند، مردان، نوشہرہ، پشاور، خیبر، کوہاٹ، ہنگو، کرم اور کرک بھی اس مہم میں شامل ہیں۔

حکام نے بتایا کہ ضلع پشاور اور ضلع خیبر میں انسدادِ پولیو مہم سات روز تک جاری رہے گی، جبکہ دیگر اضلاع میں یہ مہم چار دن تک جاری رکھی جائے گی تاکہ ہر بچے تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔

انسدادِ پولیو مہم کو مؤثر اور کامیاب بنانے کے لیے 22 ہزار 450 تربیت یافتہ پولیو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گی۔ اس کے علاوہ مہم کے دوران پولیو ورکرز کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے تقریباً 35 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

صوبائی حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پولیو ایک خطرناک مگر قابلِ تدارک بیماری ہے اور مشترکہ کوششوں سے ہی اس کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

پاکستان اور کویت کے درمیان بحری و توانائی شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

منصور احمد ,May 21,2026

اسلام آباد: (نیوز اینڈ نیوز ) پاکستان اور کویت کے درمیان بحری امور، توانائی ذخیرہ منصوبوں اور بندرگاہی انفراسٹرکچر میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کویت کے سفیر ناصر عبدالرحمن جاسر المطیری نے وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری سے اہم ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی روابط کو مضبوط بنانے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر بحری امور نے کہا کہ پاکستان خطے میں تجارتی اور بحری سرگرمیوں کے حوالے سے ایک اہم مقام رکھتا ہے اور گوادر بندرگاہ اور پورٹ قاسم میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان ملکی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے بحری اور توانائی شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

جنید انوار چوہدری نے بتایا کہ پاکستان میں ایل پی جی، ایل این جی اور خام تیل ذخیرہ کرنے کے بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے، جن میں کویت کی شراکت داری نہایت اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی ذخیرہ کرنے کی جدید سہولیات کے قیام سے نہ صرف ملکی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔

وفاقی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے اور کویتی سرمایہ کاروں کے لیے خصوصی مراعات اور آسان کاروباری ماحول فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو نئی جہت دی جا سکے۔

کویتی سفیر ناصر عبدالرحمن جاسر المطیری نے پاکستان کے بحری اور توانائی منصوبوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کویت پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے گوادر، پورٹ قاسم اور دیگر بندرگاہی منصوبوں کو خطے کی تجارت کے لیے اہم قرار دیا اور کہا کہ کویتی کمپنیاں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہیں۔

ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان میری ٹائم سیکٹر، بندرگاہی ترقی، توانائی انفراسٹرکچر اور تجارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور کویت کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے میں معاشی استحکام اور ترقی کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہوگا۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے کے فروغ سے متعلق پاکستان-فلپائن قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی

محمود احمد May20,2026

نیویورک :نیوز اینڈ نیوز


بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمہ پُرامن بقائے باہمی اور عالمی ہم آہنگی کے لیے ناگزیر ہے: سفیر عاصم افتخار احمد

اقوامِ متحدہ، 20 مئی 2026: اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے آج “امن کے لیے بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے، افہام و تفہیم اور تعاون کے فروغ” کے عنوان سے دو سالہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی، جسے پاکستان اور فلپائن نے مشترکہ طور پر پیش کیا تھا اور جسے اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کی بڑی تعداد کی حمایت حاصل تھی۔

قرارداد پیش کرتے ہوئے اپنے خطاب میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے رکن ممالک کا ان کی تفہیم، لچک اور بھرپور حمایت پر شکریہ ادا کیا، بالخصوص قرارداد کے شریک بانی ممالک کی بڑھتی ہوئی تعداد کو سراہا، جو اقوامِ متحدہ کی وسیع نمائندگی کی عکاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ قرارداد آزادیِ اظہار کے حق کی توثیق کرتی ہے اور تمام ریاستوں کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ تمام انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے عالمی احترام، ان کے تحفظ اور ان پر عمل درآمد کو فروغ دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد اس اصول کو بھی برقرار رکھتی ہے کہ مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر عدم برداشت کے واقعات کے ردِعمل میں تشدد کسی صورت قابلِ جواز یا قابلِ قبول نہیں ہوسکتا، اور نہ ہی ایسے تشدد کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے منسوب کیا جانا چاہیے۔

پاکستانی مستقل مندوب نے مذاہب، ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے کو عالمی برادری کی مشترکہ خواہش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ باہمی افہام و تفہیم، پُرامن بقائے باہمی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانیت کے دیرینہ خواب یعنی پائیدار امن اور خوشحالی کے حصول کے لیے ایک ایسی ثقافتِ امن کو فروغ دینا ضروری ہے جو تنوع اور شمولیت کو اپنائے، بنیادی حقوق اور آزادیوں کا تحفظ کرے، اور ان سماجی ڈھانچوں اور دقیانوسی تصورات کو مسترد کرے جو افراد، معاشروں، برادریوں اور ریاستوں کے درمیان تقسیم پیدا کرتے ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ یہ قرارداد اقوامِ متحدہ کے منشور اور یونیسکو کے دستور کے اصولوں سے رہنمائی حاصل کرتی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ پائیدار امن، برداشت، مکالمے اور اقوام و معاشروں کے درمیان تعمیری روابط کے ذریعے ہی قائم کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی جذبے کے تحت پاکستان اور فلپائن نے متعدد شریک بانی ممالک کی حمایت سے یہ دو سالہ قرارداد پیش کی تاکہ بین الثقافتی اور بین المذاہب یکجہتی اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سال قرارداد کو تکنیکی طور پر برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی تاکہ وہ بنیادی پیغام محفوظ اور دوبارہ اجاگر کیا جاسکے جسے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس میں متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ گزشتہ برسوں کے دوران پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ان عظیم مقاصد کے مکمل حصول کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غیرملکیوں سے نفرت، نسل پرستی اور عدم برداشت آج بھی موجود ہیں، جو اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سمیت ہر سطح پر امن اور ہم آہنگ بقائے باہمی کے فروغ کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی فٹبال سازی کو عالمی خراجِ تحسین، “ٹرائیوناڈو” فٹبال جنرل اسمبلی کی صدر کو پیش

محمود احمد May20,2026

نیو یارک : نیوز اینڈ نیوز

اقوامِ متحدہ، 20 مئی 2026: دنیا کے مقبول ترین کھیل فٹبال میں پاکستان کی دیرینہ اور نمایاں خدمات کو آج اقوامِ متحدہ میں بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا، جب پاکستان کے مستقل مندوب سفیرعاصم افتخار احمد نے عالمی یومِ فٹبال 2026 اور فیفا ورلڈ کپ کے سلسلے میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر محترمہ اینالینا بیئربوک کو پاکستان میں تیار کردہ ایڈیڈاس “ٹرائیوناڈو” فٹبال پیش کی۔

اس موقع پر پاکستان کے عالمی معیار کے فٹبال تیار کرنے والے ملک کے طور پر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ کردار کو اجاگر کیا گیا، جبکہ بالخصوص سیالکوٹ کے ہنرمند کاریگروں کی مہارت کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جو دنیا کے بڑے کھیلوں کے مقابلوں کے لیے اعلیٰ معیار کی فٹبالیں تیار کرتے آرہے ہیں۔

اس موقع پر نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کے تاریخی نارتھ لان میں دوستانہ فٹبال میچز بھی منعقد ہوئے، جن میں سفارتکاروں، سابق فٹبال کھلاڑیوں اور اقوامِ متحدہ کے عملے نے شرکت کی۔ یہ تقریب دوستی، اتحاد اور کھیل کے جذبے کی بھرپور عکاس تھی۔

شرکاء نے علاقائی ٹیموں کی صورت میں مقابلوں میں حصہ لیا اور قومی و جغرافیائی اختلافات سے بالاتر ہو کر “خوبصورت کھیل” کی یکجہتی پیدا کرنے والی قوت کا جشن منایا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں کہا:

“یہ پاکستان کے لیے انتہائی فخر کی بات ہے کہ ہمارے باصلاحیت مزدوروں اور ہنرمند کاریگروں کے تیار کردہ فٹبال عالمی کھیلوں کے اعلیٰ ترین مقابلوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ پاکستان کی فٹبال سازی کی صنعت نہ صرف غیرمعمولی مہارت اور معیار کی عکاس ہے بلکہ ہمارے لوگوں کی محنت، عزم اور فنی صلاحیتوں کی بھی مظہر ہے۔”

انہوں نے مزید کہا:

“سیالکوٹ میں عالمی معیار کی فٹبالوں کی تیاری کے ذریعے پاکستان کھیلوں، دوستی اور عالمی یکجہتی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا آرہا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں آج کی یہ تقریب اس بات کا عملی اظہار تھی کہ فٹبال مختلف ثقافتوں اور اقوام کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتا ہے۔”

سفیرعاصم افتخار احمد نے پاکستان کے فٹبال سازوں کو ملک کے عالمی تشخص کو اجاگر کرنے میں ان کی دیرینہ خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا:

“ہم اپنے فٹبال سازوں پر بے حد فخر کرتے ہیں، جو اپنی غیرمعمولی مہارت اور فٹبال سازی کے فن میں اعلیٰ معیار کے ذریعے ملک کے لیے مسلسل اعزاز کا باعث بن رہے ہیں۔”

یہ تقریب کھیلوں کو امن، شمولیت، یکجہتی اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر اجاگر کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی وسیع تر کوششوں کا حصہ تھی۔

پنکی کیس میں غیر ضروری میڈیا کوریج پر سوالات، جھوٹی خبروں کے خلاف کارروائی ہوگی: اعظم نذیر تارڑ

محمود احمد May20,2026

نیوز اینڈ نیوز:اسلام آباد

وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے انمول عرف پنکی منشیات کیس اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمہ کو غیر ضروری میڈیا کوریج دی گئی، جبکہ بعض عناصر دانستہ طور پر مشہور شخصیات کے نام لے کر اصل کیس سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایوانِ بالا میں خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بے بنیاد الزامات اور جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دے سکتی کہ وہ سنسنی پھیلانے یا قانون سے بچنے کے لیے معزز شخصیات کی ساکھ کو نقصان پہنچائے۔

وفاقی وزیرِ قانون نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پوری پارلیمنٹ ان کے ساتھ کھڑی ہے اور کوئی بھی باشعور پاکستانی “شوشہ نیوز” پر یقین نہیں رکھتا۔

انہوں نے کہا کہ بعض عناصر تفتیشی عمل کو متنازع بنانے اور عوام کی توجہ اصل مقدمے سے ہٹانے کے لیے جان بوجھ کر معروف شخصیات کے نام استعمال کر رہے ہیں۔ اعظم نذیر تارڑ نے سوال اٹھایا کہ “کیا اس ملک میں کوئی اور مسئلہ باقی نہیں رہ گیا کہ ایک ملزمہ کو مسلسل غیر ضروری کوریج دی جا رہی ہے؟”

انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ حکومت منشیات فروشی جیسے سنگین جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے، تاہم قانون کے نام پر کسی کی کردار کشی یا سیاسی مقاصد کے لیے بے بنیاد مہم برداشت نہیں کی جائے گی۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ جھوٹے پروپیگنڈے اور افواہوں کے ذریعے قانون کی گرفت سے بچنا ممکن نہیں، ریاست ایسے عناصر کے خلاف مؤثر قانونی اقدامات کرے گی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کی پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کا انتظام نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن کو منتقل کرنے کی منظوری

Screenshot

کاشف عباسی ,May 20 ,2026

اسلام آباد: اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی تنظیمِ نو کے منصوبے کے تحت ادارے کا انتظامی کنٹرول اور تیس فیصد شیئرز نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن کو منتقل کرنے کی اصولی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد سمندری اور زمینی ذرائع سے مربوط اور مؤثر فریٹ ٹرانسپورٹ نظام قائم کرنا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں اس اہم فیصلے کے علاوہ انیس سو نواسی کے کشمیری مہاجرین کے گزارہ الاؤنس میں ستر فیصد سے زائد اضافے اور تقریباً آٹھ ارب چونتیس کروڑ روپے مالیت کی سات ضمنی گرانٹس کی بھی منظوری دی گئی۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق وزارتِ بحری امور کی جانب سے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی تنظیمِ نو اور نجکاری سے متعلق سمری پیش کی گئی تھی، جس کے تحت ادارے کے تیس فیصد حصص نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن کو منتقل کیے جائیں گے جبکہ انتظامی کنٹرول بھی اسی ادارے کے سپرد ہوگا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ اس اقدام کا مقصد شپنگ اور روڈ نیٹ ورکس کو یکجا کر کے ملک میں مال برداری کے نظام کو جدید، مؤثر اور منافع بخش بنانا ہے تاکہ ابھرتے ہوئے بحری اور ٹرانس شپمنٹ مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق اس منصوبے کی ابتدائی منظوری وزیراعظم کی جانب سے رواں سال فروری میں دی گئی تھی، جس کے بعد وزارتِ بحری امور نے باقاعدہ سمری اقتصادی رابطہ کمیٹی کو ارسال کی۔

اجلاس میں متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ تنظیمِ نو اور انضمام کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ پاکستان کے بحری شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے اور بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں میں ملک کا کردار مزید مضبوط ہو۔

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دہشتگردی کے خاتمے اور قومی خودمختاری کے دفاع کے عزم کا اعادہ

کاشف عباسی ,May 20,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

کوئٹہ: وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ، دہشتگردی کے مکمل خاتمے اور بلوچستان میں پائیدار امن و استحکام کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن قوتیں پراپیگنڈا، جعلی خبروں اور پراکسیز کے ذریعے پاکستان کی ترقی کا راستہ نہیں روک سکتیں۔

کوئٹہ کے دورے کے دوران وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج میں افسران اور فیکلٹی سے خطاب کیا۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی، جھوٹے بیانیے اور منفی پروپیگنڈا پاکستان کی ترقی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی مضبوطی، عوام کے اتحاد اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت کے باعث دشمن کے تمام عزائم ناکام ہوں گے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے افسران اور جوانوں کے بلند حوصلے، آپریشنل تیاری اور پیشہ ورانہ عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام کی ثابت قدم حمایت سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔

انہوں نے بلوچستان میں دیرپا امن کے لیے عوام دوست حکمتِ عملی، جامع ترقی، بہتر طرزِ حکمرانی اور ریاست و عوام کے درمیان مضبوط تعلق کو ناگزیر قرار دیا۔ آرمی چیف نے بلوچستان حکومت کی عوامی فلاح، سماجی و معاشی ترقی اور صوبے میں استحکام کے لیے جاری اقدامات کو بھی سراہا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو خطے میں “امن اور استحکام کے ضامن” ملک قرار دیا اور کہا کہ پاکستان نہ صرف اپنی سرحدوں بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت اور قومی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

بعد ازاں وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں، گورننس اصلاحات اور انسدادِ دہشتگردی اقدامات سے متعلق صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں قومی ایکشن پلان پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے معدنیاتی خطے کے لیے خصوصی سیکیورٹی کوریڈور قائم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی تاکہ سرمایہ کاری، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی سرگرمیوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

ایران کا امریکا کو سخت انتباہ، صدر ٹرمپ کی نئی حملوں کی دھمکی، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

کاشف عباسی ,May 20 ,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

واشنگٹن / تہران: ایران نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر جارحانہ اقدامات جاری رہے تو خطے میں “نئے محاذ” کھول دیے جائیں گے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو معاہدے کے لیے محدود وقت دیتے ہوئے ایک اور بڑے حملے کی دھمکی دے دی۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں، جب آپ کسی ملک کو بری طرح شکست دے رہے ہوں تو وہ مذاکرات کی میز پر آتا ہے اور معاہدے کی درخواست کرتا ہے۔”

امریکی صدر نے مزید کہا کہ اگر ضروری ہوا تو ایران کو “ایک اور بڑا دھچکا” دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کسی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق تہران کے پاس واشنگٹن کے ساتھ معاہدے کے لیے صرف چند دن باقی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ پیش رفت جمعہ، ہفتہ، اتوار یا اگلے ہفتے کے آغاز تک سامنے آسکتی ہے۔

دوسری جانب ایرانی فوج نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو “اسٹریٹجک غلطی” سے باز رہنے کا انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی نئی جارحیت کا جواب وسیع اور سخت ہوگا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

قطر نے بھی بیان دیا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے مزید وقت درکار ہے، جبکہ سفارتی ذرائع کے مطابق خطے کے کئی ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے پسِ پردہ رابطوں میں مصروف ہیں۔

ادھر متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے عراقی سرزمین سے چھوڑے گئے چھ ڈرون تباہ کر دیے ہیں۔ اماراتی حکام کے مطابق ڈرون حملوں کا مقصد حساس تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا، تاہم فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے خطرہ ٹال دیا۔

خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری نقل و حرکت اور دھمکی آمیز بیانات کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے، جبکہ عالمی برادری ممکنہ بڑے تصادم کے خدشات پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔

امریکی مسجد پر حملے میں جاں بحق سیکیورٹی گارڈ کو ہیرو قرار دے دیا گیا

محمود احمد ,May 20 ,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

واشنگٹن: امریکی ریاست کیلیفورنیا میں واقع اسلامک سینٹر آف سان ڈیاگو پر فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے سیکیورٹی گارڈ امین عبداللہ کو بہادری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پولیس اور مسلم کمیونٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی بروقت کارروائی نے درجنوں جانیں بچا لیں۔

امریکی حکام کے مطابق مسجد کمپلیکس پر دو نوجوان حملہ آوروں نے پیر کے روز اندھا دھند فائرنگ کی، جسے تفتیشی ادارے ممکنہ نفرت انگیز جرم قرار دے رہے ہیں۔ دونوں مشتبہ حملہ آور، جن کی عمریں سترہ اور اٹھارہ برس بتائی جا رہی ہیں، بعد ازاں ایک قریبی گاڑی سے مردہ حالت میں پائے گئے، جہاں ابتدائی تحقیقات کے مطابق انہوں نے خود کو گولیاں مار کر زندگی کا خاتمہ کیا۔

پولیس چیف اسکاٹ وال نے امین عبداللہ کے کردار کو “غیر معمولی بہادری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ فوری ردعمل نہ دیتے تو جانی نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔

مسجد سے ملحقہ اسکول کے سابق عملے کے ارکان نے بھی کہا کہ امین عبداللہ کی حاضر دماغی نے حملہ آوروں کو اُن کلاس رومز تک پہنچنے سے روک دیا جہاں بچے موجود تھے۔

امام طٰہٰ حسانے کے مطابق امین عبداللہ نے ریڈیو کے ذریعے فوری طور پر اساتذہ اور عملے کو خبردار کیا، جس کے بعد بچوں اور نمازیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

واقعے کے بعد امریکی مسلم کمیونٹی میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، جبکہ مختلف مذہبی و سماجی رہنماؤں نے مسجد پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے نفرت انگیز واقعات پر تشویش ظاہر کی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ وفاقی ادارے بھی واقعے کی چھان بین میں شامل ہو گئے ہیں۔

پی ٹی آئی قیادت کا ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان، مہنگائی اور عمران خان کی صحت کے معاملے پر جمعہ کو مظاہروں کا فیصلہ

کاشف عباسی ,May 20 ,2026

نیوز اینڈ نیوز : رپورٹ
اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت میں قائم اپوزیشن اتحاد نے مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، امن و امان کی صورتحال اور سابق وزیرِاعظم عمران خان کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔

یہ فیصلہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی بعد ازاں پی ٹی آئی رہنماؤں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس میں توثیق کی۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا کے وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں اڈیالہ جیل جانے والے قافلے کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، جس کے بعد کارکنوں اور رہنماؤں نے سری نگر ہائی وے اور جی ٹی روڈ کے سنگم، المعروف چونگی نمبر 26، پر دھرنا دے دیا۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے شاہد خٹک کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پوری جماعت اور عوام سابق وزیرِاعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ جمعہ کے روز ملک بھر میں مہنگائی، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی صحت سے متعلق خدشات، انہیں اسپتال منتقل کرنے کے مطالبے، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کے لیے احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔

اسد قیصر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے پارلیمانی اجلاسوں کے دوران بھی احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت اپوزیشن کی آواز دبانے اور سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، تاہم عوامی ردِعمل کے ذریعے اس کا مقابلہ کیا جائے گا۔

ادھر اسلام آباد میں قافلے کو روکنے کے بعد کارکنوں نے شدید نعرے بازی کی اور عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر حکومت کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ سیاسی قیادت کو سابق وزیرِاعظم تک رسائی سے روکنا غیر جمہوری اقدام ہے۔

اٹھائیسویں آئینی ترمیم پر تبصرہ قبل از وقت، پیپلز پارٹی کو تاحال کوئی مسودہ موصول نہیں ہوا، سلیم مانڈوی والا

کاشف عباسی ,May 20 ,2026

نیوز اینڈ نیوز

اسلام آباد: ممکنہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم سے متعلق سیاسی حلقوں میں جاری بحث کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی نے واضح کیا ہے کہ پارٹی کو تاحال کسی مجوزہ آئینی ترمیم کا باضابطہ مسودہ موصول نہیں ہوا، اس لیے اس معاملے پر رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔

صدر آصف علی زرداری کے دورۂ چین کی تفصیلات سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ میڈیا میں مختلف قیاس آرائیاں سامنے آرہی ہیں، تاہم پیپلز پارٹی کو کسی مجوزہ ترمیم یا آئینی تبدیلی کے حوالے سے ابھی تک کوئی دستاویز فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک باقاعدہ مسودہ سامنے نہیں آتا، اس معاملے پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پارٹی قیادت کو بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ پیش رفت نہیں بتائی گئی۔ اس موقع پر صدر مملکت کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی اور پریس سیکریٹری دانیال گیلانی بھی موجود تھے۔

پریس کانفرنس کے دوران صدر آصف علی زرداری کے حالیہ دورۂ چین پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا گیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان دفاع، زراعت، صحت، صنعتی تعاون اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں پانچ مفاہمتی یادداشتوں اور ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

مرتضیٰ سولنگی نے پاکستان بحریہ کی پہلی ہنگور کلاس آبدوز کی تقریبِ شمولیت کو پاک چین دفاعی تعاون میں اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کی تزویراتی اہمیت جے ایف سترہ تھنڈر طیارہ منصوبے کے برابر ہے۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے بتایا کہ پاکستانی فلموں اور ڈراموں کو چین میں متعارف کرانے کے لیے بھی نئی ثقافتی حکمت عملی پر کام جاری ہے، جبکہ پاکستانی فلم ’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ کی چین میں تجارتی نمائش اکیس اور بائیس مئی کو متوقع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں پانی کی قلت پر قابو پانے کے لیے سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے منصوبے پر بھی مفاہمتی یادداشت طے پائی ہے، جس کے تحت روزانہ پچاس لاکھ گیلن پانی صاف کرنے کی صلاحیت رکھنے والا پلانٹ قائم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ زرعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی چین کی بڑی چائے کمپنی کے ساتھ تعاون کا معاہدہ کیا گیا ہے۔