جرمنی میں یومِ دفاع و شہداءِ پاکستان کا شاندار انعقاد: برلن اور ہیمبرگ میں دیس سے دور پاکستانی کمیونٹی کی زبردست تقاریب

منصور احمد,September 06,2026

برلن / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

یومِ دفاع و شہداءِ پاکستان کے عظیم قومی موقع پر جرمنی کے اہم ترین شہروں برلن اور ہیمبرگ میں دیارِ غیر میں مقیم پاکستانی برادری کی جانب سے پروقار اور پرجوش خصوص تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔ ان تقاریب میں جرمنی بھر سے پاکستانی تارکینِ وطن کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور 6 ستمبر 1965ء کی معرکہ آرائی میں سرحدوں کی حفاظت کرنے والے افواجِ پاکستان کے جری شہداء اور غازیوں کو عقیدت کے پھول پیش کیے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق، جرمنی کے دارالحکومت برلن میں مرکزی تقریب کا اہتمام پاکستان مسلم لیگ (ن) جرمنی کے جنرل سیکرٹری اور پی او ای ایف یورپ کے چیف آرگنائزر محمد انصر بٹ کی جانب سے کیا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے 6 ستمبر 1965ء کی تاریخی اور تزویراتی اہمیت پر روشنی ڈالی اور بھارتی جارحیت کے سامنے پاک افواج اور قوم کی بے مثال جرات اور استقامت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کل بھی اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے تھے اور آج بھی ملک کے تمام ریاستی اداروں کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔

دوسری جانب، جرمنی کے صنعتی شہر ہیمبرگ میں پاکستان جرمن سوسائٹی کے نائب صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی جرمنی کے سیکرٹری اطلاعات فرید شاہ نے ایک الگ باوقار تقریب کا انعقاد کیا۔ اپنے خطاب میں فرید شاہ نے 1965ء کی جنگ کو قومی تاریخ کا ایک سدا بہار اور سنہری باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معرکے نے قوم کے غیر متزلزل اتحاد کو ثابت کیا۔ انہوں نے عسکری و سیاسی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کی عظیم قربانیوں کو سلام پیش کیا۔

علاوہ ازیں، سینٹرل ملٹی کلچرل مسجد کے بانی صدر غضنفر الدین احمد کے زیراہتمام منعقدہ خصوصی تقریب میں شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے بالخصوص قرآنی خوانی اور دعائیں کی گئیں۔ غضنفر الدین احمد نے 1965ء کی جنگ کے دوران سابق صدر ایوب خان کے تاریخی قومی خطاب کا حوالہ دیا جس نے قوم میں دفاع کا بے مثال جذبہ بیدار کیا تھا۔ تقریب میں لاہور سے تعلق رکھنے والے معروف وی لاگر اور کالم نگار شاہ رخ محمود نے بھی شرکت کی اور 1965ء کے معرکے میں لاہور کے شہریوں کے تاریخی اور جری کردار کا احاطہ کیا۔

جرمنی میں منعقدہ ان تمام تقاریب کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ تارکینِ وطن اپنے دیس اور پاک سرزمین سے ہزاروں میل دور ہونے کے باوجود جذباتی، سیاسی اور دفاعی طور پر پاکستان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور افواجِ پاکستان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق، جبکہ دریائے سندھ میں کالاباغ اور تونسہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

روزینہ اسماعیل, September 06,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

پنجاب کے زیادہ تر اہم دریاؤں میں پانی کی آمد و رفت اور بہاؤ اس وقت معمول کے مطابق ریکارڈ کیا جا رہا ہے، تاہم بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث دریائے سندھ میں دو مقامات پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔

پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب کے ترجمان کی جانب سے یکم اور 6 ستمبر کو جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، دریائے چناب، جہلم، راوی اور ستلج میں پانی کا بہاؤ بالکل نارمل ہے اور تمام تمام کنٹرول سٹرکچرز محفوظ ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیرہ غازی خان کی مختلف پہاڑی روڈ کوہیوں میں بھی فی الوقت پانی کی آمد اور بہاؤ معمول کے مطابق دیکھا جا رہا ہے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے نے انکشاف کیا کہ دریائے سندھ میں کالاباغ اور تونسہ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کالاباغ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 72 ہزار کیوسک جبکہ تونسہ بیراج پر 3 لاکھ 6 ہزار کیوسک درج کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیالکوٹ اور نارووال کے قریب واقع برسات نالہ ڈیک (کنگرا کے مقام پر) بھی اس وقت نچلے درجے کی سیلابی کیفیت میں ہے۔ پانی کے ذخائر کی صورتحال کے مطابق تربیلا ڈیم اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق 100 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 79 فیصد تک بھر چکا ہے۔

محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے کے ڈیٹا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع بشمول لاہور، سرگودھا، شیخوپورہ، فیصل آباد، چکوال، راولپنڈی، حافظ آباد، جھنگ، سیالکوٹ، ساہیوال، قصور، گوجرانوالہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جوہر آباد، منڈی بہاؤالدین، گجرات، مری، نورپور تھل اور اٹک میں مون سون کی شدید بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب، محمد سیف انور جپہ نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر سیلابی خطرے سے دوچار علاقوں میں فوری طور پر تمام سہولیات سے لیس فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں۔ ان کیمپس میں ممکنہ متاثرین کے لیے عارضی رہائش، پکا ہوا کھانا، پینے کا صاف پانی، ادویات، طبی ٹیمیں اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کی جا رہی ہیں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم کی بدلتی صورتحال اور سیلابی خدشات کے پیشِ نظر مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ انہوں نے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ غیر ضروری طور پر دریاؤں، نہروں، برسات نالوں اور پانی کی گزرگاہوں پر سیر و تفریح یا پکنک سے سخت گریز کریں۔ خاص طور پر والدین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی سخت نگرانی کریں اور انہیں ہرگز ڈوبنے کے خطرے والی نہروں یا سیلابی نالوں میں نہانے کی اجازت نہ دیں۔ کسی بھی ہنگامی کیفیت میں ضلاعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کی ہدایات پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

یومِ دفاع و شہداءِ پاکستان: سی ڈی اے اور ایم سی آئی کا مسلح افواج اور شہداء کے اہل خانہ سے بھرپور یکجہتی اور عقیدت کا اظہار

منصور احمد,September 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد نے پوری پاکستانی قوم کے ساتھ مل کر 6 ستمبر ‘یومِ دفاع و شہداء’ کے تاریخی اور پروقار موقع پر پاکستان کی بہادر مسلح افواج، غازیوں اور شہداء کے لائقِ تحسین اہل خانہ کے ساتھ بھرپور عقیدت، احترام اور یکجہتی کا باضابطہ اظہار کیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ اور سی ڈی اے کی جانب سے اتوار کے روز جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق، اس عظیم اور قابلِ فخر قومی دن کی مناسبت سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد بھر کو سبز و سفید قومی اور علامتی پرچموں سے سجا دیا گیا۔ شہر کی تمام اہم ترین شاہراہوں، چوراہوں، عوامی مقامات، قومی یادگاروں اور ریاستی عمارتوں—بالخصوص پارلیمنٹ ہاؤس—پر قومی پرچم پوری شان و شوکت کے ساتھ آویزاں کیے گئے، جس سے وفاقی دارالحکومت حب الوطنی، قومی یکجہتی اور شاندار قومی جذبوں کا مرکز بن گیا۔

سی ڈی اے اور ایم سی آئی نے اپنے مشترکہ پیغام میں کہا کہ یومِ دفاع محض ایک کیلنڈر کی تاریخ نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے شہداء کی یاد، ان کے عظیم ایثار پر تشکر اور تجدیدِ عہد کا ایک مقدس دن ہے۔ یہ دن ہمیں ان سرحدوں کے محافظوں کی غیر معمولی بہادری، جرات، اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے دی جانے والی بے مثال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنا آج ہمارے امن، وقار اور محفوظ کل پر قربان کر دیا۔

بیان میں شہداء کے سوگوار خاندانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہر شہید کے پیچھے ایک ایسا صابر خاندان ہے جس نے ملک و قوم کی خاطر ناقابلِ تصور جدائی اور نقصان برداشت کیا۔ کسی ماں باپ نے اپنا لختِ جگر کھویا، کسی بیوی نے سہاگ اور کسی بچے نے اپنے والد کا سایہ، مگر ان خاندانوں کا حوصلہ، صبر اور حب الوطنی پوری قوم کے لیے فخر، طاقت اور تحریک کا سرچشمہ ہے۔ قوم شہداء کے ان عظیم خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے اور ان کی احسان مند رہے گی۔

سی ڈی اے اور ایم سی آئی کی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم سب مل کر ایک پُرامن، خوشحال، مضبوط، سرسبز اور متحد پاکستان کی تعمیر میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ شہری انتظامیہ نے واضح کیا کہ اسلام آباد پاکستان کے تمام محافظوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ان کی یہ لازوال قربانیاں تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ زندہ و جاوید رہیں گی۔

نیپال میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ: وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستان کی جانب سے 100 ٹن انسانی امداد کی ایمرجنسی کھیپ روانہ

کاشف عباسی , September 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر حکومتِ پاکستان نے حالیہ موصلادھار بارشوں، شدید سیلاب اور تباہ کن لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ دوست ملک نیپال کی امدادی و بحالی کی سرگرمیوں میں فوری معاونت کے لیے 100 ٹن سے زائد وزنی انسانی امدادی سامان کی بڑی کھیپ کھٹمنڈو روانہ کر دی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ اور وزارتِ خارجہ کی جانب سے اتوار کے روز جاری کردہ باضابطہ ہنگامی بیان کے مطابق، قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کے اعلیٰ زیرِ اہتمام تیار کی گئی اس امدادی کھیپ کو خصوصی چارٹرڈ طیارے کے ذریعے اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو منتقل کیا گیا۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے امدادی سامان کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس ایمرجنسی ریلیف پیکج میں نیپال کے شدید متاثرہ علاقوں اور بے گھر ہونے والے لینڈ سلائیڈنگ و سیلاب متاثرین کے لیے واٹر پروف خیمے، گرم کمبل، فلور چٹائیاں، حفظانِ صحت کی ضروری کٹس، ایمرجنسی ادویات اور فرسٹ ایڈ کا ضروری سامان شامل کیا گیا ہے تاکہ متاثرین کی بنیادی ضروریات کو فوری طور پر پورا کیا جا سکے۔

اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امدادی سامان کی روانگی اور خصوصی چارٹرڈ فلائٹ کی منتقلی کے حوالے سے ایک وقار تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے حکومتِ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستان میں تعیّنات نیپال کے سفیر، وزارتِ خارجہ، این ڈی ایم اے اور سول ایوی ایشن کے اعلیٰ ترین عسکری و سول حکام بھی موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری اور حکام نے کہا کہ پاکستان اور نیپال کے درمیان گہرے دوستانہ اور تاریخی تعلقات قائم ہیں۔ مشکل اور آزمائش کی اس گھڑی میں 100 ٹن امدادی سامان کی فراہمی حکومت اور عوامِ پاکستان کی جانب سے نیپال کی حکومت اور اس کے مصیبت زدہ عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی، خیر سگالی اور انسانی ہمدردی کے غیر متزلزل عزم کا واضح ثبوت ہے۔

یومِ دفاعِ پاکستان پر وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ کا اہم پیغام؛ کسانوں، سائنسدانوں اور عسکری محافظوں کی مشترکہ محنت کو قومی مضبوطی کا ضامن قرار دیدیا

منصور احمد,September 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے یومِ دفاعِ پاکستان کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ 6 ستمبر کا تاریخی دن ہمیں یہ بنیادی سبق یاد دلاتا ہے کہ وطنِ عزیز کی دفاعی اور سیاسی حفاظت صرف جغرافیائی سرحدوں پر نبرد آزما ہونے تک محدود نہیں بلکہ یہ ملک کے ہر زرعی، معاشی اور انتظامی شعبے میں دیانت داری اور ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق، وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ قومی پیغام میں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ جن عظیم شہیدوں اور غازیوں نے وطن کی سلامتی کے لیے اپنا آج قربان کیا، ان کی لازوال جدوجہد ہی ہماری آنے والی نسلوں کے محفوظ، باوقار اور پرامن کل کی حتمی ضمانت ہے۔

رانا تنویر حسین نے ملک کو درپیش معاشی و غذائی درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی حقیقی خودمختاری کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ ہم عسکری دفاع کے ساتھ ساتھ اپنی بنیادی غذائی ضروریات میں بھی اپنے پاؤں پر مستقل بنیادوں پر کھڑے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سیکیورٹی اور غذائی تحفظ ایک دوسرے سے گہرے جڑے ہوئے بنیادی قومی مفادات ہیں، جنہیں جدا نہیں کیا جا سکتا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے محنت کش کسان، زرعی سائنسدان، مزدور اور عسکری محافظ سب یکساں طور پر پاکستان کی دفاعی اور معاشی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں اپنا تاریخی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یومِ دفاع ہمیں اپنی تمام تر قومی صلاحیتوں اور قدرتی وسائل کو بروئے کار لا کر پاکستان کو مزید مضبوط اور خودکفیل بنانے کا درس دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جدید ترین دور میں قومی طاقت کا انحصار روایتی دفاع کے ساتھ ساتھ معاشی، زرعی، اور غذائی استحکام پر پنہاں ہے۔ موجودہ حکومت جہاں ایک طرف ملک کو خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے پرعزم ہے، وہاں دوسری طرف اسے زرعی طور پر مستحکم اور خودکفیل بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے یومِ دفاع پر پاکستان کی بہتری، خودکفالت اور قومی خدمت کا عزم بھی دہرایا۔

منشیات سازی اور اسمگلنگ کیس: مشہور مصری ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ اور 11 دیگر افراد کو سزائے موت کا حکم

محمود احمد, September 06,2026

قاہرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

مصر کے معروف سرکاری اخبار ’الاہرام‘ کے مطابق مصری عدالت نے ملک کی نامور اور معروف ٹیلی وژن اینکر سارہ خلیفہ اور ان کے 11 دیگر ساتھیوں کو منشیات کی خریدو فروخت اور سنگین جرائم سے متعلق الزامات ثابت ہونے پر باقاعدہ پھانسی (سزائے موت) کا حکم سنا دیا ہے۔

الاہرام کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق، سارہ خلیفہ اور ان کے دیگر مجرمانہ گروہ پر الزام تھا کہ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیکلز اور خام اجزاء کی غیر قانونی درآمد کی اور انہیں مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کا ایک منظم نیٹ ورک چلا رہے تھے۔ اس کے علاوہ ملزمان کے قبضے سے غیر قانونی آتشیں اسلحہ، جدید پسطول اور بھاری مقدار میں گولہ بارود بھی برآمد ہوا تھا۔

39 سالہ سارہ خلیفہ مصری میڈیا پر اپنے مقبول عام ٹی وی شو ’مشن امپاسبل‘ کی وجہ سے ملک گیر شہرت رکھتی ہیں، جس میں بنیادی طور پر سنسنی خیز جرائم اور ان کی تحقیقاتی رپورٹس پر بات کی جاتی تھی۔ سارہ خلیفہ اور ان کے مرکزی ساتھیوں نے عدالت کے سامنے اپنے اوپر عائد تمام سنگین الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق اسی کیس میں شامل دیگر 9 ملزمان کو عمر قید (25 سال قیدِ با مشقت) کی سزا سنائی گئی ہے، جبکہ عدم ثبوت کی بنا پر 7 افراد کو مقدمے سے مکمل طور پر بری کر دیا گیا ہے۔ سارہ خلیفہ کے قانونی دفاعی وکیل نے میڈیا کو بتایا کہ وہ اعلیٰ عدالت میں اس سزائے موت کے خلاف فوری اپیل دائر کریں گے۔

واضح رہے کہ اس ہائی پروفائل کیس کے فیصلے کا ابتدائی اعلان گزشتہ ماہ کیا گیا تھا، تاہم مصری قانون کے تحت سزائے موت کی حتمی توثیق سے قبل تمام قانونی دستاویزات کو مصر کے گرینڈ مفتی کی شرعی و مذہبی رائے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ گرینڈ مفتی سے شرعی منظوری ملنے کے بعد اب عدالت نے سزا کی باضابطہ توثیق کر دی ہے۔

نئی دہلی میں 5 منزلہ ہاسٹل کی عمارت زمین بوس: درجنوں طلبہ ملبے تلے دب گئے، ایک ہلاک اور متعدد زخمی

کاشف عباسی , September 06,2026

نئی دہلی / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے جنوب مغربی علاقے ستیہ نکیتن میں اتوار کی دوپہر ایک خوفناک حادثہ پیش آیا ہے، جہاں دہلی یونیورسٹی کے قریب واقع ایک پانچ منزلہ رہائشی ہاسٹل کی عمارت اچانک زمین بوس ہو گئی۔ حادثے کے وقت عمارت میں درجنوں طلبہ اور مزدور موجود تھے، جن میں سے متعدد کے ملبے تلے دبے ہونے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ واقعہ اتوار کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً 1:30 بجے پیش آیا۔ ‘ہاسٹل ڈیز’ نامی اس عمارت کے گرنے کے وقت اس میں اندازً 50 کے قریب افراد موجود تھے۔ چونکہ اتوار کے روز دہلی یونیورسٹی میں تعطیل تھی، اس لیے زیادہ تر طلبہ اپنے کمروں میں ہی موجود تھے۔

مقامی پولیس اور این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امدادی کارروائیوں کے دوران اب تک کم از کم 1 شخص کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 6 افراد کو شدید زخمی حالت میں ملبے سے نکال لیا گیا ہے، جن میں سے 2 کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ موقع پر موجود ایک مقامی رکنِ اسمبلی نے میڈیا کو بتایا کہ ملبے تلے محصور بعض طلبہ فون کالز کے ذریعے اپنی موجودگی اور مدد کے لیے رابطے کر رہے ہیں۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق عمارت کے گرنے کی بنیادی وجہ اس کے تہہ خانے میں جاری تعمیراتی اور کھدائی کا کام بنا۔ عمارت کے قریب موجود ایک دکاندار نے بھارتی خبر رساں ادارے ‘اے این آئی’ کو بتایا کہ عمارت کی آمدنی بڑھانے کے لیے لیز ہولڈر نے نیچے ستونوں کے پاس کھدائی کروائی تھی، جس سے بنیادیں کمزور ہو گئیں اور پوری عمارت بیٹھ گئی۔ حادثے کے نتیجے میں متصل واقع ایک اور عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

دہلی کی وزیرِاعلیٰ ریکھا گپتا نے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملبے میں پھنسے افراد کو بحفاظت نکالنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں اور این ڈی آر ایف ہر ممکن کوششیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ احتیاطی تدابیر کے طور پر آس پاس کی دیگر تمام عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا ہے۔

دوسری جانب نیشنل سٹوڈنٹس یونین آف انڈیا نے حادثے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات اور غفلت کے ذمہ دار بلڈنگ مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق 40 سے 50 سال پرانی اس عمارت کے مالک اور ٹھیکیدار کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔

جنوب مغربی یمن میں حوثیوں اور حکومتی افواج کے درمیان خوفناک معرکہ آرائی: 140 سے زائد عسکری اہلکار ہلاک

محمود احمد, September 06,2026

تعز / عدن (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

یمن کے تزویراتی جنوب مغربی محاذوں پر ایران کے اتحادی حوثی جنگجوؤں اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی شدت میں ہولناک اضافہ ہو گیا ہے، جہاں ہفتے کی سہ پہر سے اتوار کی صبح کے درمیان ہونے والی خونریز لڑائی میں دونوں جانب سے 140 سے زائد فوجی اور عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق یمنی حکومت کے دو سینئر عسکری عہدیداروں نے تصدیق کی ہے کہ حوثیوں کے شدید میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں ان کی افواج کے کم از کم 84 اہلکار جاں بحق ہوئے ہیں۔ دوسری جانب حوثی تحریک (انصار اللہ) کے چار عسکری ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ اسی 24 گھنٹے کے عرصے کے دوران ان کے بھی 57 جنگجو مارے گئے ہیں۔

عسکری ماہرین کے مطابق بحیرہ احمر کے انتہائی اہم اور حساس داخلی راستے ‘آبنائے باب المندب’ اور اس سے ملحقہ ساحلی علاقوں پر مکمل سیکیورٹی اور ملٹری کنٹرول حاصل کرنے کے لیے جاری یہ جنگ گزشتہ دو ماہ کے دوران سب سے زیادہ مہلک اور خونی ثابت ہوئی ہے۔ یہ نیا خونریز مرحلہ 2022ء کے تاریخی جنگ بندی معاہدے کے حتمی طور پر ختم ہونے اور تعطل کا شکار ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی عسکریت پسندوں نے جمعرات کے روز ایک بڑے پیمانے پر جارحانہ عسکری آپریشن کا آغاز کیا تھا، جس کا بنیادی مقصد ‘موچا’ کی تاریخی و اہم بندرگاہ کے مواصلاتی و لوجسٹک رابطوں کو مکمل طور پر منقطع کرنا تھا۔ یہ بندرگاہ گزشتہ کئی ہفتوں سے مسلسل حملوں کی زد میں ہے اور حوثی فورسز آبنائے باب المندب کی جانب تیزی سے پیش قدمی کی کوشش کر رہی ہیں۔

مختلف عسکری اور طبی ذرائع کے فراہم کردہ مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق جمعرات سے شروع ہونے والے اس تازہ ترین معرکے میں اب تک مجموعی طور پر 300 سے زائد فوجی اور کئی عام شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھ ہیں، جبکہ درجنوں زخمی ہیں۔

خلیجِ فارس میں ‘آبنائے ہرمز’ کے ارد گرد بڑھتے ہوئے شدید جنگی خطرات اور ممکنہ بندش کے پیشِ نظر، دنیا میں خام تیل کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک سعودی عرب کی بحری برآمدات اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ‘آبنائے باب المندب’ کی تزویراتی اور معاشی اہمیت میں ریکارڈ اضافہ ہو چکا ہے۔

یاد رہے کہ خود کو ‘انصار اللہ’ کہلوانے والا حوثی گروپ اس وقت شمالی یمن، دارالحکومت صنعاء اور بحیرہ احمر کے مغربی ساحلی پٹی کے ایک بڑے رقبے پر قابض ہے، جبکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ یمنی صدارتی لیڈرشپ کونسل ملک کے مشرقی علاقوں، جنوبی ساحل اور اہم بندرگاہی شہر ‘عدن’ پر کنٹرول رکھتی ہے۔

خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تجارتی خسارے میں تاریخی کمی: درآمدات میں 44 فیصد کی ڈرامائی کیپنگ

منصور احمد, September 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ رواں مالی سال 2026-27 کے پہلے ماہ جولائی میں ڈرامائی اور نمایاں حد تک کم ہو گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ خلیجی ممالک سے پٹرولیم، گیس اور توانائی کی درآمدات میں ہونی والی بڑی کمی اور برآمدات میں معمولی بہتری ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعداد و شمار کے مطابق، جولائی 2026 کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے لیے پاکستان کی مجموعی برآمدات 5.6 فیصد اضافے کے ساتھ 271.60 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے اسی ماہ (جولائی 2025) میں 257.16 ملین ڈالر تھیں۔ دوسری جانب، خطے کے ممالک سے پاکستان کی برآمدات (درآمدی حجم) میں 44.3 فیصد کی نمایاں اور حیران کن کمی دیکھی گئی اور یہ حجم 1.578 ارب ڈالر سے گھٹ کر صرف 879.98 ملین ڈالر پر آ گیا۔

درآمدات میں اس بڑی سیکیورنگ کی بدولت جولائی میں پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ مجموعی تجارتی خسارہ سکڑ کر تقریباً 608.4 ملین ڈالر رہ گیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 1.32 ارب ڈالر سے زائد کا ایک بھاری تجارتی بوجھ تھا۔

اسٹیٹ بینک کے جزوی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب اور اردن کے لیے پاکستانی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ قطر، کویت اور بحرین کے لیے پاکستانی برآمدی حجم میں کچھ کمی آئی۔ دوسری جانب درآمدی محاذ پر سب سے بڑا جھٹکا توانائی کی خرید کو لگا؛ بالخصوص متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر سے پٹرولیم مصنوعات اور مائع قدرتی گیس کی آمد میں شدید کمی دیکھی گئی، تاہم بحرین اور اردن سے معمولی اضافہ سامنے آیا۔

پاکستان اپنی قومی اور صنعتی توانائی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے خلیجی ممالک پر بری طرح انحصار کرتا ہے جہاں سے تیل، ایل این جی اور دیگر خام کیمیکلز درآمد کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ مالی سال 2025-26 کے کل اعداد و شمار بھی بتاتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ سے پاکستان کی کل درآمدات 4 فیصد کمی کے ساتھ 16.413 ارب ڈالر رہی تھیں۔

توانائی کے معاشی و تکنیکی ماہر فرحان محمود نے اس پیش رفت کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا کہ خلیجی ممالک بالخصوص قطر سے گیس کی درآمد میں اچانک اور نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ماضی میں قطر سے روزانہ تقریباً 700 ملین مکعب فٹ گیس درآمد کرتا تھا، جو کہ سپلائی چین کے درپیش مسائل اور علاقائی دباؤ کے باعث اب ڈرامائی طور پر کم ہو کر صرف 450 ملین مکعب فٹ پر آ گئی ہے۔

معاشی ماہرین اور انرجی اینالسٹس کا ماننا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جغرافیائی و سیاسی کشیدگی ، سمندری راستوں کی ناکہ بندی، اور عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ براہِ راست پاکستان کے تجارتی خسارے اور درآمدی بل پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

جنوبی لبنان میں اسرائیلی ایئر فورس کی شدید بمباری: 4 افراد جاں بحق، خواتین اور بچوں سمیت 20 زخمی

محمود احمد, September 06,2026

بیروت (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فضائیہ کے بمبار طیاروں نے ہولناک بمباری کی ہے، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 4 افراد ہلاک جبکہ 20 سے زائد شہری شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

لبنانی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں کا بنیادی نشانہ جنوبی لبنان کے تاریخی شہر نباتیہ اور عرب سلیم کے رہائشی علاقے بنے۔ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق نباتیہ الفوقہ میں فضائی بمباری کے نتیجے میں دو افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوئے جبکہ عرب سلیم کے قریب ایک مکان پر حملے سے دو خواتین ہلاک ہو گئیں۔ زخمی ہونے والے 20 سے زائد افراد میں تین کمسن بچے اور کئی خواتین شامل ہیں جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

دوسری جانب، اسرائیلی فوج کے ترجمان نے فضائی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ کارروائی حزب اللہ کی جانب سے سرحد پار اسرائیلی عسکری اہلکاروں اور سیکیورٹی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے دو ہتھیار بردار ڈرون حملوں کا براہِ راست جواب ہے۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جنوبی لبنان میں بنیادی طور پر حزب اللہ کے عسکری مراکز اور زیرِ زمین ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

تاہم، لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے کارروائی سے قبل عرب سلیم کی ایک مخصوص عمارت کے آس پاس کے رہائشیوں کو ہنگامی بنیادوں پر علاقہ خالی کرنے کی تنبیہ جاری کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ حزب اللہ اس عمارت کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی جنگی طیاروں نے انتباہی نوٹس میں بتائی گئی عمارت کے بجائے اس کے متصل واقع ایک اور رہائشی گھر کو بم سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہاں موجود دو بے گناہ خواتین جاں بحق ہو گئیں، جبکہ بعد ازاں وارننگ والی عمارت کو بھی تباہ کر دیا گیا۔

لبنانی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ اس بربرانہ بمباری کے دوران نباتیہ شہر میں واقع تاریخی ‘غنڈور ہسپتال’ کے ایک بڑے حصے کو بھی شدید نقصان پہنچا، اگرچہ یہ ہسپتال گزشتہ کئی برسوں سے غیر فعال تھا۔ علاوہ ازیں، نباتیہ میں ہونے والے فضائی حملوں کے باعث متعدد قدیم اور تاریخی عمارتوں سمیت سرکاری مالیاتی، ریونیو اور زرعی دفاتر کی عمارتیں تباہ ہو گئیں اور شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان یہ تازہ ترین اور خطرناک فوجی تصادم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرحد کے دونوں اطراف کشیدگی عروج پر ہے اور فریقین کی جانب سے سابقہ سرحد پار سیکیورٹی معاہدوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات مسلسل عائد کیے جا رہے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں جنگی کارروائیوں کے بعد امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس ابراہم لنکن’ 5 روزہ قیام کے بعد تھائی لینڈ سے روانہ

محمود احمد, September 06,2026

بنکاک / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

امریکی بحریہ کا جوہری توانائی سے چلنے والا دیوہیکل طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس ابراہم لنکن’ پانچ دنوں کے مسلسل قیام، آرام اور ضروری لاجسٹک سہولیات کی فراہمی کے بعد اتوار کے روز تھائی لینڈ سے واپس روانہ ہو گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق، یو ایس ایس ابراہم لنکن بدھ کے روز تھائی لینڈ کے مشرقی ساحل پر واقع تزویراتی لیم چابانگ بندرگاہ پر پہنچا تھا، جہاں وہ عالمی سیاحتی مقام پٹایا کے سمندری ساحل کے قریب لنگر انداز رہا۔ اس اہم ساحلی قیام کا بنیادی مقصد جہاز پر موجود تقریباً 5 ہزار امریکی عسکری اہلکاروں کو مسلسل طویل جنگی خدمات کے بعد آرام، تفریح اور لاجسٹک سسٹمز کو بہتر بنانے کا موقع فراہم کرنا تھا۔

یو ایس ایس ابراہم لنکن کے کمانڈر کیپٹن ڈین کیلر نے تھائی لینڈ کی حکومت اور عوام کی جانب سے زبردست میزبانی اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تھائی لینڈ امریکی بحریہ کے لیے جنوب مشرقی ایشیاء میں ایک انتہائی اہم تزویراتی شراکت دار ہے، اور یہ حالیہ دورہ کسی مشترکہ فوجی مشق کے بجائے محض عملے کی بحالی اور ضروری لاجسٹک سہولیات کے حصول کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔

یہ سپر کیریئر جہاز تقریباً 286 دن کے تاریخی اور طویل ترین عرصے تک مسلسل کھلے سمندر میں رہنے کے بعد تھائی لینڈ پہنچا تھا۔ اس ریکارڈ سکیورٹی ڈیوٹی کے دوران ابراہم لنکن نے مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال اور ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیوں، فضائی حملوں اور سمندری ناکہ بندی سے متعلق اہم جنگی مشنز میں بنیادی اور مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

عام حالات میں امریکی بحریہ کے طیارہ بردار بحری جہازوں کی معمول کی سمندری تعیناتی چھ سے نو ماہ پر محیط ہوتی ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جنگی حالت اور کشیدگی کی بنا پر اس کی مدت میں ڈرامائی اضافہ کیا گیا تھا، جس کے باعث اسے دہائیوں کی طویل ترین مسلسل سمندری تعیناتیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب، اتنی طویل جنگی تعیناتی کے دوران جہاز پر موجود ہزاروں اہلکاروں کو درپیش سنگین مسائل اور نفسیاتی دباؤ کا معاملہ بھی امریکی ایوانوں میں گونج رہا ہے۔ امریکی کانگریس کے ارکان اور آزاد ذرائع نے جہاز پر خوراک کی کمی، صفائی ستھرائی کے ناکافی انتظامات اور مسلسل جنگی تناؤ کے باعث فوجیوں کی شدید ذہنی و نفسیاتی صحت پر گہرے تشویشناک اثرات کا اظہار کیا ہے۔ تھائی لینڈ میں مختصر وقفے کے بعد اب اس بحری جہاز اور اس کے عملے کو بالآخر وطن واپسی اور باقاعدہ بحالی کے مرحلے کا انتظار ہے۔

پنجاب کو بین الاقوامی سرحد سے زیادہ ہمسایہ صوبوں سے خطرہ ہے: وزیراعلیٰ مریم نواز کا انٹیلی جنس فیوژن سنٹر کے افتتاح پر بڑا اور متنازع بیانیہ

منصور احمد, September 05,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے داخلی سیکیورٹی اور دہشت گردی کے تناظر میں ایک انتہائی اہم اور بحث طلب بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کو بیرونی یا ہمسایہ ممالک کی نسبت اپنے ہی ہمسایہ صوبوں کی سرحدی حدود سے دہشت گردی اور امن و امان کا زیادہ بڑا خطرہ لاحق ہے۔

سنیچر کے روز صوبائی دارالحکومت لاہور میں جدید ترین ’پرووینشل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سنٹر پنجاب‘ کی باضابطہ افتتاح تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کی سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ پنجاب کے عوام کو مکمل تحفظ محسوس ہو اور وہ ایک محفوظ اور پائیدار ماحول میں زندگی بسر کریں۔

تقریب کے دوران سیکیورٹی چیلنجز پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے ٹرائی بارڈر علاقوں کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ پنجاب کو دہشت گردی اور سیکیورٹی تھریٹ کا جتنا سامنا اپنے پڑوسی ممالک سے ہے، اس سے کہیں زیادہ خطرہ ہمسایہ صوبوں سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی سرحدی راستوں کو استعمال کرتے ہوئے عسکریت پسند اور دہشت گرد پنجاب کی حدود میں داخل ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ پنجاب کی جغرافیائی سرحدیں سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے ساتھ ساتھ مشرق میں بھارت سے ملتی ہیں۔

اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ پنجاب پر ہمیشہ سب کی نظریں ہوتی ہیں، تاہم تمام تر درپیش چیلنجز کے باوجود پنجاب ایک محفوظ صوبہ بن چکا ہے جہاں سیکیورٹی فورسز کی استعداد کار بڑھانے کے لیے جدید ترین مصنوعی ذہانت اور اربوں روپے کے ٹیکنالوجی پراجیکٹس پر کام کیا گیا ہے۔

انہوں نے ماضی کا موازنہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ جب انہوں نے وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالا تو یہ تلخ حقیقت سامنے آئی کہ امن قائم کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے مقابلے میں شدت پسندوں کے پاس زیادہ جدید ٹیکنالوجی، ڈیوائسز اور نائٹ وژن گلاسز موجود ہوتے تھے اور وہ انتہائی باقاعدہ منصوبہ بندی سے حملے کرتے تھے۔ تاہم اب حکومت نے سیکیورٹی اداروں کو جدید ترین نظام، ڈرونز اور تھرمل کیمروں سے لیس کر دیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ شدت پسندوں کی جانب سے سی سی ٹی وی کیمروں کو نشانہ بنانے کی پالیسی کے پیش نظر اب کیمروں کی بلٹ پروفنگ کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس اور لاء انفورسمنٹ ایجنسیز کی سرحدی چیک پوسٹوں کی کایا پلٹ دی گئی ہے؛ ماضی کی مٹی کی بوریوں کی عارضی دیواروں کی جگہ اب اونچی اور محفوظ ترین سیمنٹڈ کنکریٹ والز اور سیف رومز بنا دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی اچانک دہشت گردانہ حملے کی صورت میں اہلکار اپنی حفاظت یقینی بناتے ہوئے موثر جواب دے سکیں۔

پاک چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ: بیجنگ کی پیکنگ یونیورسٹی میں دو روزہ بین الاقوامی علمی سیمینار کا انعقاد

منصور احمد, September 05,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان قائم لازوال اور تزویراتی سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے تاریخی اور پرمسرت موقع پر چین کے دارالحکومت بیجنگ کی قدیم و معروف پیکنگ یونیورسٹی میں دو روزہ بین الاقوامی علمی و تحقیقی سیمینار کا پروقار آغاز ہو گیا ہے۔ اس اعلیٰ سطحی کانفرنس کا بنیادی مقصد گزشتہ ساڑھے سات دہائیوں پر محیط ہمہ جہت شراکت داری کا احاطہ کرنا اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق دوطرفہ تعلقات کو مزید پائیدار اور مستحکم بنانا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی اور چینی ذرائع ابلاغ کی تفصیلی رپورٹس کے مطابق “ورثہ، جدت اور مشترکہ کامیابی” کے خصوصی موضوع کے تحت منعقد ہونے والے اس سیمینار کی میزبانی پیکنگ یونیورسٹی کے مرکز برائے مطالعاتِ پاکستان اور دیگر اعلیٰ چینی و پاکستانی فکری و تحقیقی اداروں نے مشترکہ طور پر کی ہے۔ سیمینار میں دونوں ممالک کے نامور ماہرین، پالیسی سازوں، سفارت کاروں اور تعلیمی شخصیات نے شرکت کر کے پاک چین لازوال دوستی کے 75 سالہ تاریخی سفر کے تمام سیاسی، معاشی اور دفاعی پہلوؤں کا تفصیلی احاطہ کیا ہے، جبکہ بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں باہمی عملی تعاون کو مزید وسعت دینے کی حکمتِ عملی پر گہرا غور و خوض کیا جا رہا ہے۔

سیمینار کی مختلف علمی نشستوں کے دوران شرکا نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے اور جدید ترین فیز کے تحت زرعی اصلاحات و جدید کاری، سبز ترقی، ماحولیاتی پائیداری، صنعتی زونز و پارکس کے قیام، تیسرے فریق کے ساتھ مشترکہ مارکیٹنگ اور ہمہ گیر صنعتی تعاون جیسے اہم شعبوں میں نئی شراکت داریوں کے امکانات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ سی پیک کا اگلا مرحلہ دونوں ممالک کے معاشی و صنعتی افق کو نئی بلندیوں پر لے جانے اور علاقائی تجارتی رابطوں کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

علاوہ ازیں، موجودہ پیچیدہ علاقائی اور عالمی جیو پولیٹیکل صورتحال، بحرانوں اور ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان اعلیٰ ترین تزویراتی اعتماد کو برقرار رکھنے اور باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے یکجہتی پر زور دیا گیا۔ سیمینار میں تعلیم، زبان، ادب، آرٹ اور ثقافت کے تبادلوں کے ذریعے عوامی روابط کو مزید گہرا بنانے کے راستوں کی نشان دہی بھی کی گئی۔

عصری تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، سیمینار میں مصنوعی ذہانت بگ ڈیٹا، سائبر ٹیکنالوجی اور جدید سائنسی علوم کے اس دور میں دونوں دوست ممالک کے درمیان تعلیمی و علمی اداروں کے ناطوں کو بالکل نئی جدید جہت دینے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ دونوں اقوام اس جدید تکنیکی انقلاب کے ثمرات سے یکساں طور پر مستفید ہو سکیں۔

یومِ دفاع و شہداء کے موقع پر افواجِ پاکستان کا ملک کی سلامتی، خودمختاری اور بقا کے لیے ہر قربانی دینے کے عزم کا اعادہ

منصور احمد, September 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

دفاعِ وطن، بقائے وطن اور پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ملک کی مسلح افواج ہر لمحہ اور ہر آن مکمل تیار ہیں۔ یومِ دفاع و شہداء کے تاریخی موقع پر افواجِ پاکستان نے ملک کی سلامتی، خودمختاری اور بقا کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق افواجِ پاکستان کے افسران اور جوانوں نے اپنے خصوصی اور جذباتی پغامات میں کہا ہے کہ پاک فوج کا ہر ایک جوان وطنِ عزیز کا حقیقی محافظ ہے اور ہم اس کی بقا اور سلامتی کے سچے امین ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اس پاک سرزمین کی سرحدوں کی نگہبانی کے ساتھ ساتھ ملک کے حال اور روشن مستقبل کے خیرخواہ بھی ہیں۔

افواجِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی دشمن نے اس پاک دھرتی کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا، پاک افواج کے غازیوں اور شہیدوں نے سینہ سپر ہو کر ہمیشہ پاکستان کی حفاظت اور سلامتی کو سب سے مقدم رکھا ہے۔ وطن سے عشق کے جذبے کے تحت پاک فوج نے ہر آزمائش میں اپنی قومی ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھایا ہے اور ایک پاکستانی ہونے پر ہمیشہ دل سے فخر کیا ہے۔

مسلح افواج کے ترجمانوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاک افواج اور ملک کی غیرت مند عوام اس دھرتی کے خوابوں اور قوم کی امیدوں کو باہم متحد ہو کر آگے بڑھائیں گے۔ 6 ستمبر یومِ دفاع کے موقع پر وطن کے ان بے باک محافظوں نے مسلسل محنت، لگن اور مکمل اتحاد کے ساتھ پاکستان کو اس کی حقیقی منزلِ مقصود تک پہنچانے کے پختہ عزم کا اعادہ بھی کیا ہے۔

جزیرہ خارگ میں صورتحال بالکل معمول کے مطابق اور پرسکون ہے: ایرانی میڈیا کی تازہ وضاحت

محمود احمد, September 05,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

ایران کے اہم ترین خام تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارگ میں صورتحال بالکل معمول کے مطابق، محفوظ اور پرسکون ہے۔

ایرانی میڈیا اداروں کی جانب سے فراہم کردہ تازہ ترین تفصیلات کے مطابق اس سے قبل گردش کرنے والی ان رپورٹس کے بعد کہ امریکی فورسز نے جزیرہ خارگ کے قریب لنگر انداز ایک ایرانی آئل ٹینکر کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا ہے، اب صورتحال کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ اس مبینہ واقعے پر نہ تو ایرانی حکومت و دفاعی حکام نے کوئی باضابطہ بیان جاری کیا ہے اور نہ ہی امریکی حکام نے کوئی تبصرہ کیا ہے۔

ایران کی طلبہ خبر رساں ایجنسی نے جزیرہ خارگ اور اس کے ارد گرد کے ساحلی علاقوں کی تازہ ترین تصاویر اور فوٹیج جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ علاقے میں کسی قسم کی آگ، تباہی یا دھوئیں کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیے اور تمام تر معاشی و آپریشنل سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔

ادھر نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق مبینہ حملے اور دھماکوں کے وقت ایرانی آئل ٹینکر جزیرہ خارگ کے ساحل سے تقریباً چھ میل (11 کلومیٹر) کے فاصلے پر کھلے سمندر میں موجود تھا، تاہم جزیرے کی تنصیبات اور مقامی حدود مکمل طور پر محفوظ اور بحال ہیں۔

یمن کے جنوب مغربی علاقوں میں حوثیوں اور حکومتی فورسز میں خونریز جھڑپیں: 60 سے زائد افراد ہلاک

محمود احمد, September 05,2026

تعز / عدن (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

یمن کے جنوب مغربی اور ساحلی علاقوں میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان گھماسان کی جنگ چھڑ گئی ہے، جس کے نتیجے میں عام شہریوں سمیت 60 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ نے طبی اور عسکری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مسلسل کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس ہولناک تصادم میں یمنی حکومتی فورسز کے کم از کم 26 اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ انصار اللہ (حوثی) ذرائع نے اپنے 31 مسلح جنگجوؤں کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے۔

حکومت کے زیرِ انتظام اور محاصرے میں گھِرے شہر تعز میں طبی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ایک مسافر بس پر ناگہانی میزائل حملے کے نتیجے میں 6 عام شہری ہلاک اور 7 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ اگرچہ اس ہولناک حملے کی ذمہ داری کے حوالے سے آزادانہ ذرائع سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آ سکی ہے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ جنگ یمن کے مغربی اور جنوب مغربی پٹی پر بیک وقت کئی اہم محاذوں پر شدت اختیار کر چکی ہے۔ حوثی فورسز اس وقت ملک کے زیادہ تر شمالی علاقوں، دارالحکومت صنعاء اور بحیرۂ احمر کے مغربی ساحلی پٹی کے بڑے حصے پر قابض ہیں، جبکہ صدارتی لیڈرشپ کونسل کے زیرِ انتظام مشرقی اضلاع اور بندرگاہی شہر عدن سمیت جنوبی ساحلی علاقے شامل ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یمنی حکومتی فورسز نے تعز کے مغربی علاقوں میں سخت جوابی کارروائی کرتے ہوئے بعض اہم پہاڑی مقامات پر دوبارہ اپنا کنٹرول قائم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ پہاڑی سلسلے باب المندب اور بحیرۂ احمر کی اہم عالمی بحری گزرگاہوں اور تجارتی راستوں کی نگہبانی کے حوالے سے انتہائی تزویراتی اور ملٹری اہمیت رکھتے ہیں۔

یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی سفارتی کوششیں تیز: ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ماسکو پہنچ گئے

محمود احمد, September 05,2026

ماسکو / کیئو (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

یوکرین میں کئی سالوں سے جاری خونریز جنگ اور عسکری بحران کے خاتمے کے لیے عالمی سفارتی کوششوں میں اس وقت ایک غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دو قریبی اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اہم مذاکرات کے لیے روسی دارالحکومت ماسکو پہنچ گئے ہیں۔

روسی اور امریکی سفارتی حکام کے مطابق دونوں اعلیٰ سطحی امریکی ایلچی ہفتے کے روز ماسکو پہنچے، جہاں ہوائی اڈے پر روسی صدارتی ایلچی کریل دمترییف نے ان کا باضابطہ استقبال کیا۔ ماسکو میں روسی حکام اور صدر ولادیمیر پیوٹن سے اہم بات چیت کے بعد، دونوں ایلچیوں کا اتوار کے روز یوکرین کے دارالحکومت کیئو روانہ ہونے کا قوی امکان ہے، جہاں وہ جاری جنگ کے بعد پہلی مرتبہ یوکرینی قیادت کے ساتھ براہِ راست اور آمنے سامنے مذاکرات کریں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ وٹکوف اور کشنر یوکرین جنگ کے پائیدار خاتمے اور فوری جنگ بندی کے لیے ایک بالکل نئی سٹریٹجک تجویز اپنے ساتھ لے کر گئے ہیں۔ اگرچہ امریکی صدر نے فی الوقت اس امن فارمولے کی باریک تفصیلات اور شرائط کو ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے۔

یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکی وفد کی اس سفارتی آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیئو حکومت ان سے تعمیری بات چیت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک حقیقت پسندانہ، منصفانہ اور قابلِ عمل راستہ تلاش کیا جا سکے۔

یہ اہم سفارتی پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان سابقہ تمام امن مذاکرات طویل تعطل کا شکار ہیں اور دونوں جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں میں شدید تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ خطے میں جاری اس جنگ کے دوران سرحدی کنٹرول اور سیکیورٹی ضمانتوں پر دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں، جس کے باعث عالمی برادری اس امریکی مشن کو جنگ بندی کی بحالی کے لیے انتہائی اہم اور آخری کوشش کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

خلیجِ فارس میں ایران کے تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کے قریب آئل ٹینکر پر میزائل حملہ: چار میزائل لگنے کا دعویٰ

محمود احمد, September 05,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

ایران کے انتہائی اہم اور تزویراتی خام تیل کے برآمدی مرکز خارگ جزیرے کے قریب ہفتے کی صبح طاقتور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد ایرانی ذرائع ابلاغ نے ایک ایرانی آئل ٹینکر کو امریکی افواج کی جانب سے مبینہ طور پر میزائل حملے کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دی ہے۔

ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے ‘تسنیم’ کی رپورٹ کے مطابق خارگ جزیرے کے ساحل سے تقریباً 10 کلومیٹر کے فاصلے پر سمندر میں لنگر انداز ایک ایرانی آئل ٹینکر پر امریکی فورسز کی طرف سے چار میزائل داغے گئے۔ ابتدائی موصولہ اطلاعات کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں فی الحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے اور ٹینکر پر موجود تمام عملے کو باحفاظت نکالنے کا آپریشن ہنگامی بنیادوں پر شروع کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل ایرانی خبر رساں ادارے ‘فارس’ نے خارگ جزیرے کے ارد گرد سمندری حدود میں بیک وقت متعدد شدید دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی رپورٹ جاری کی تھی، تاہم شروعات میں دھماکوں کی حتمی وجہ اور نقصان کے بارے میں صورتحال واضح نہیں تھی اور نہ ہی ساحلی علاقے سے دھوئیں کے بادل دکھائی دیے تھے۔

واقعے کی سنگینی کے باوجود ایرانی انتظامیہ اور امریکی حکام کی جانب سے اس بابت ابھی تک کوئی باضابطہ تصدیقی یا تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی اس مبینہ کارروائی پر فوراً کسی قسم کے تبصرے سے گریز کیا ہے۔

خارگ جزیرے کی تزویراتی اور معاشی اہمیت:

خلیجِ فارس میں واقع خارگ جزیرہ ایران کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہاں ملک کا سب سے بڑا اور مرکزی خام تیل برآمدی ٹرمینل قائم ہے جہاں سے سمندری راستوں کے ذریعے عالمی منڈیوں کو تیل منتقل کیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حالیہ جنگ اور محاذ آرائی سے قبل ایران اپنی مجموعی خام تیل کی برآمدات کا تقریباً 90 فیصد حصہ اسی خارگ جزیرے کے ٹرمینل سے منتقل کرتا تھا، جس کے باعث اس تنصیب پر ہونے والا کوئی بھی حملہ نہ صرف ایرانی معیشت بلکہ عالمی توانائی کی رسد کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

ایران کا امریکی شہریوں سے جنگ کا پیادہ نہ بننے کا مطالبہ؛ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایرانی زیرِ زمین مرکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

محمود احمد, September 05,2026

تہران / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی شہریوں سے زوردار اپیل کی ہے کہ وہ اپنی حکومت کو اپنے وجود کو ایران کے ساتھ جاری فوجی محاذ آرائی میں ‘جنگ کا پیادہ’ بنانے کی ہرگز اجازت نہ دیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (ٹوئٹر) پر امریکی عوام کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ وہ خود کو ایک ایسی جنگ کا حصہ بنانے اور اس کے بھاری اخراجات ادا کرنے سے باز رہیں جس کا انہوں نے جمہوری طور پر کبھی انتخاب نہیں کیا تھا۔ انہوں نے امریکی شہریوں سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کو خطے میں بلاوجہ ‘کرائے کے سپاہی’ بننے سے روکیں۔

اسماعیل بقائی کے اس بیان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کے واضح عندیے نے خطے میں جاری شدید کشیدگی کو ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچا دیا ہے۔

تازہ امریکی بیانات اور دھمکیوں میں صدر ٹرمپ نے ایران کے نطنز ایٹمی مرکز کے قریب واقع انتہائی محفوظ اور گہرے زیرِ زمین مقام ‘کوہِ کلنگ گاز لا’ کو نشانہ بنانے کا اشارہ دیا ہے۔ یہ مقام کئی سالوں سے تعمیر کیا جانے والا ایک انتہائی مضبوط اور بم پروف کمپلیکس ہے، جسے پہاڑوں کی گہرائی کے باعث روایتی فضائی حملوں سے تباہ کرنا ناممکن حد تک مشکل تصور کیا جاتا ہے۔

ایران اس مقام پر کسی بھی قسم کی خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق امریکی اور اسرائیلی دعوؤں اور الزامات کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔ ایرانی ترجمان نے اپنے حالیہ بیان میں بھی واضح کیا کہ کوہِ کلنگ میں کوئی جوہری یا ایٹمی سرگرمی انجام نہیں دی جا رہی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری اس سنگین فوجی تنازع کو کم اہمیت دیتے ہوئے اسے ایک ‘چھوٹا معاملہ’ قرار دیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کو مکمل جنگ کے بجائے ایک محدود ‘فوجی تصادم’ کہنا زیادہ مناسب ہوگا جو امریکہ کے لیے ایک محدود نوعیت کا آپریشن ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری ان حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ اور غیر مستحکم بنی ہوئی ہے۔

نیویارک کے سرکاری سکولوں میں کم عمر طلبہ کے لیے جنریٹو اے آئی پر ایک سال کی پابندی کا اعلان

محمود احمد, September 05,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی نے شہر کے تمام سرکاری سکولوں میں کم عمر اور چھوٹی جماعتوں کے طلبہ کے لیے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال پر ایک سال کی عارضی پابندی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

حکومت کی اس نئی اور جامع تعلیمی پالیسی کے تحت 2-K سے لے کر آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے کلاس رومز اور تعلیمی تدریس کے دوران استعمال ہونے والے تمام جنریٹو اے آئی ٹولز کے استعمال کو روک دیا گیا ہے۔ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے حکام کے مطابق اس فیصلے سے نیویارک سٹی کے تقریباً 6 لاکھ طالب علم براہِ راست متاثر ہوں گے۔

میئر زوہران ممدانی نے پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے بچوں کو سیکھنے، تربیت حاصل کرنے اور اپنی تخلیقی صلاحیتیں پروان چڑھانے کے لیے مصنوعی انٹیلی جنس کی بجائے اپنے اساتذہ، زبانی گفتگو اور براہِ راست انسانی تعلق کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیکنالوجی کے ہر جگہ موجود ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسے تعلیمی سفر کے ابتدائی اور حساس مرحلے میں بھی استعمال کیا جائے۔

نئی پالیسی کے تحت تمام جماعتوں کے طلبہ کے لیے ایسے اے آئی چیٹ بوٹس پر بھی سخت پابندی عائد کر دی گئی ہے جو دوست، ساتھی یا ذہنی معاونت کے طور پر کام کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں تیسری سے پانچویں جماعت کے لیے روزانہ زیادہ سے زیادہ 30 منٹ اور چھٹی سے آٹھویں جماعت کے لیے 45 منٹ اسکرین ٹائم کی حد مقرر کی گئی ہے۔

دوسری جانب ہائی سکول کے طلبہ کو اے آئی سے مکمل طور پر الگ نہیں رکھا جائے گا۔ انہیں سال میں دو مرتبہ ‘اے آئی لٹریسی’ کی تربیت دی جائے گی جس میں اس کے فوائد، تعصب اور غلط معلومات کے خطرات شامل ہوں گے۔ ہائی سکول سطح پر صرف پانچ منظور شدہ اے آئی پروگراموں کو استاد کی نگرانی میں ہفتے میں زیادہ سے زیادہ 45 منٹ کے لیے استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ معیار پر پورا نہ اترنے والے 38 پروگراموں کے اے آئی فیچرز کو فوری بند کر دیا گیا ہے۔