ہیٹی میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے لیے ہیٹی کی قیادت میں تمام تر اقدامات کی حمایت پر زور؛ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کا اہم اور مقتدر بیان

محمود احمد, JULY 20,2026

نیویارک، اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

پاکستان نے ہیٹی کو درپیش سنگین اور کثیرالجہتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہیٹی کی اپنی قیادت اور ملکیت پر مبنی جامع تزویراتی حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام صرف سیاسی اتفاقِ رائے، مضبوط قومی سلامتی کے اداروں اور مربوط علاقائی و بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں ہیٹی سے متعلق بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ملک میں دیرپا استحکام کا تمام تر انحصار ہیٹی کے تمام متعلقہ فریقوں کی جانب سے دانشمندانہ سیاسی اور طرزِ حکمرانی سے متعلق تادیبی فیصلوں پر ہے۔ انہوں نے اس بات پر شدید زور دیا کہ متفقہ اور مقررہ مدت کے اندر آزادانہ، شفاف اور جامع انتخابات کے انعقاد کے لیے سازگار اور امن پسند ماحول پیدا کرنا انتہائی ناگزیر ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے اپنے مقتدر خطاب میں ہیٹی میں امن و امان کی فوری بحالی، روز بروز بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال، خصوصاً خواتین اور بچوں پر مسلح گینگ تشدد کے تباہ کن اثرات سے نمٹنے کی تزویراتی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے ہتھیار پھینکنے، غیر مسلح کرنے، سابق جنگجوؤں کی بحالی اور انہیں معاشرے کے دھارے میں دوبارہ شامل کرنے کے عمل کو تیز کرنے کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ کے پابندیوں کے نظام پر مؤثر عملدرآمد کے ذریعے ہیٹی میں غیر قانونی ہتھیاروں اور بارود کی ترسیل کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

پاکستانی وپاد کی جانب سے ہیٹی کے عوام اور حکومت کے لیے اپنی مکمل سفارتی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے صائب الفاظ میں کہا کہ کسی بھی دیرپا حل کے لیے ہیٹی کی اپنی قیادت پر مبنی عمل ہی ناگزیر ہے، جو باہمی مکالمے، تعاون اور مؤثر علاقائی و بین الاقوامی معاونت پر استوار ہو۔ انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان ہیٹی میں پائیدار امن، ترقی اور عوام کی خوشحالی کے قیام کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر اپنی تعمیری اور تادیبی معاونت جاری رکھے گا۔

پاک-کینیڈا تاریخی مشترکہ اعلامیہ جاری؛ تجارت، صاف توانائی، کان کنی اور زراعت میں تزویراتی تعاون کے فروغ پر مکمل اتفاق

محمود احمد, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

پاکستان اور کینیڈا نے دوطرفہ سفارتی، معاشی اور عوامی روابط میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین شراکت داری کو نئی تزویراتی بلندیوں پر لے جانے کے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی مشترکہ اعلامیے کے مطابق، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی خصوصی دعوت پر کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے ۲۰ جولائی ۲۰۲۶ء کو پاکستان کا اہم سرکاری دورہ کیا، جو کہ ان کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلا باضابطہ دورۂ پاکستان ہے۔ وزارتِ خارجہ میں دونوں رہنماؤں کے مابین ون آن ون ملاقات اور وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات ہوئے جس میں دوطرفہ تعلقات اور عالمی و علاقائی امور کا احاطہ کیا گیا۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق، نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کینیڈین ہم منصب کو خطے میں جاری تنازعات کے حل کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے پاکستان کے اس سفارتی کردار کو سراہا جس کے نتیجے میں تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت طے پائی۔ دونوں وزراء نے پائیدار جنگ بندی اور اس یادداشت کے تحت کیے گئے تمام وعدوں پر عمل درآمد پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے فروری ۲۰۲۶ء میں منعقد ہونے والے دوطرفہ مشاورتی اجلاس کے چھٹے دور کو انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے تزویراتی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔ ملاقات میں کینیڈا میں مقیم ۳ لاکھ سے زائد پاکستانی نژاد افراد اور ۹ ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ کی گراں قدر خدمات کو سراہتے ہوئے پارلیمانی، ثقافتی اور عوامی روابط کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

معاشی اور تجارتی شعبے میں دونوں وزراء نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ و فروغ کے معاہدے پر ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور مذاکرات جلد مکمل کرنے کے لیے باقاعدہ رابطے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، جبکہ پاک-کینیڈا مشترکہ ورکنگ گروپ برائے تجارت و سرمایہ کاری کو بھی دوبارہ فعال کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ توانائی کے شعبے میں کینیڈین کمپنی جے سی ایم پاور کے ۲۴۰ میگاواٹ دھابیجی ہائبرڈ ونڈ سولر منصوبے کو تمام ضروری ریگولیٹری منظوری ملنے کا خیرمقدم کیا گیا، جو کے الیکٹرک کے اشتراک سے پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔ غذائی تحفظ کے حوالے سے دونوں رہنماؤں نے کینیڈین کینولا کی درآمد کے لیے نباتاتی صحت کی شرائط پر مبنی ایک نئے پروٹوکول پر دستخط کیے، جبکہ پاکستان کی نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اور کینیڈین فوڈ انسپیکشن ایجنسی کے مابین تکنیکی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔

اعلامیے کے آخر میں واضح کیا گیا کہ فریقین نے عالمی سپلائی چینز میں اہم معدنیات کی تزویراتی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کان کنی کے شعبے اور معدنی تلاش میں کینیڈا کی مہارت سے فائدہ اٹھانے پر اتفاق کیا، جس کے تحت وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے سینیٹر اسحاق ڈار کو ۲۰۲۷ء میں کینیڈا میں منعقد ہونے والی پی ڈی اے سی کانفرنس میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی۔ علاقائی امن و سلامتی، خاص طور پر افغانستان کی صورتحال اور دہشت گردی کے خطرات پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے کینیڈین وزیرِ خارجہ نے اعلان کیا کہ کینیڈا اقوامِ متحدہ اور انٹرپول کے ذریعے پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ تعلیم، صحت اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے نئے ترقیاتی منصوبوں کی معاونت بھی کی جائے گی۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک-کینیڈا تعلقات اب ایک بالکل نئے اور مستحکم دور میں داخل ہو چکے ہیں۔

امریکا سے جنگ کا خاتمہ صرف عسکری فتح یا برتری پر مبنی مذاکرات سے ہی ممکن ہے؛ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا مقتدر انتباہ

کاشف عباسی , JULY 20,026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین عسکری تصادم کے مقتدر تناظر میں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے تہران اور واشنگٹن کے مابین جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم تزویراتی موقف سامنے رکھا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ امریکا کے ساتھ جاری یہ جنگ صرف اسی صورت میں ختم ہو گی جب ایران کو میدانِ جنگ میں واضح برتری حاصل ہو گی، کیونکہ جنگ کا خاتمہ یا تو مکمل عسکری فتح کے ذریعے ممکن ہوتا ہے یا پھر برابری اور برتری کی بنیاد پر ہونے والے مذاکرات کے ذریعے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سفارتی مذاکرات کا درست وقت تب ہی ہوتا ہے جب آپ فوجی محاذ پر ٹھوس میدانی اور تزویراتی کامیابیاں حاصل کر چکے ہوں۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے ملکی قیادت کی حکمتِ عملی کی تادیبی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی زندگیوں اور ملک کے مستقبل کے معاملے میں کوئی خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا، اور تمام فیصلے درست اور مکمل حساب کتاب کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کو ہر وقت یہ تزویراتی جائزہ لینا چاہیے کہ جنگ جاری رکھنے سے ملک کو فائدہ ہو گا یا اس کی قیمت زیادہ بھاری پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ نقصانات کے باوجود اس جنگ میں ایران ایک مؤثر بین الاقوامی طاقت کے طور پر ابھرا ہے اور اس نے دنیا پر اپنے نظام کی مضبوطی کو ثابت کیا ہے۔ دوسری جانب، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے واشنگٹن کا موقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ تنازع کو حل کرنے کے لیے ماضی میں کئی بار مذاکرات کی کوشش کی ہے اور وہ اب بھی اس سفارتی راستے کو کھلا رکھنے کے حق میں ہیں۔

ادھر جنگ کے مقتدر محاذ پر ایرانی فوج کے ترجمان نے ایک انتہائی سخت تادیبی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دشمن کو سخت اور مکمل سبق نہ دیا گیا تو وہ دوبارہ حملہ کرے گا۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ ایران کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی دشمن جنگی سامان آبنائے ہرمز کے ذریعے لانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، اور امریکا کے ساتھ عسکری معاونت کرنے والے تمام ممالک کو آبنائے ہرمز کے بحری راستے کو استعمال کرنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا ہو گا۔ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کی شب مسلسل نویں رات بھی ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں کی گئیں، جن میں ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، بحری صلاحیتوں اور میزائل و ڈرون لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔

اس کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ایک مقتدر تزویراتی کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اردن کے عقبہ ایئرپورٹ پر موجود امریکی فوج کے بھاری ٹرانسپورٹ طیاروں اور نگرانی کرنے والے طیاروں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد طیاروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایرانی نشریاتی اداروں کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے اردن کے موفق السلطی ایئر بیس پر امریکی افواج کے زیرِ استعمال 20 ہینگرز کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایک اور تادیبی بیان میں کویت کے علی السالم ایئر بیس پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو بھی کامیابی سے نشانہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے، جس سے خطے میں جنگ کے مزید پھیلنے کے شدید خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔

برطانیہ میں نئے سیاسی و معاشی دور کا آغاز؛ نو منتخب وزیرِ اعظم اینڈی برنہم کا حکومت بنانے کی دعوت قبول کرنے کے بعد قوم سے پہلا مقتدر خطاب

محمود احمد, JULY 20,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

برطانیہ کے نو منتخب وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے باقاعدہ طور پر حکومت بنانے کی شاہی دعوت قبول کر لی ہے اور ۱۰ ڈاؤننگ اسٹریٹ میں داخل ہوتے ہی اپنے پہلے مقتدر خطاب میں ملک کے لیے ایک بالکل نئے سیاسی و معاشی ماڈل کا اعلان کر دیا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق، نئے برطانوی وزیرِ اعظم نے قوم سے پختہ وعدہ کیا ہے کہ ان کی حکومت کی پہلی، بنیادی اور تزویراتی ترجیح صرف اور صرف عوام کی فلاح و بہبود ہو گی۔

وزیرِ اعظم کی سرکاری رہائش گاہ میں قدم رکھتے ہی اینڈی برنہم نے اپنے تادیبی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے حکومت بنانے کی دعوت قبول کر لی ہے اور اب ہمیں پوری دنیا کو یہ دکھانے کی ضرورت ہے کہ ہم برطانیہ میں سیاسی و معاشی استحکام واپس لا سکتے ہیں۔ انہوں نے صائب الفاظ میں کہا کہ یہ لمحات برطانیہ کی تاریخ میں ایک سرکٹ بریکر ثابت ہوں گے؛ ماضی میں ہم اتنے اچھے ثابت نہیں ہو سکے، لیکن اب ہمیں خود کو بہتر بنانا ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ لمحہ تدبر، کڑے خود احتسابی اور ایک نئے تزویراتی عزم کا ہے تاکہ برطانیہ اپنا کھویا ہوا عالمی وقار دوبارہ حاصل کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی رواں سال کے آخر میں ملک کے لیے ایک جامع ۱۰ سالہ ترقیاتی منصوبہ پیش کرے گی، جبکہ عوام کو مہنگائی اور زندگی کے بھاری اخراجات کے بوجھ سے فوری نجات دلانے کے لیے پہلے ہی مرحلے میں ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا جائے گا۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے اپنے انقلابی اور فلاحی ایجنڈے کو واضح کرتے ہوئے اعلان کیا کہ دفتر سنبھالتے ہی ان کی پہلی ہدایت یہ ہو گی کہ ملک میں سڑکوں اور کھلے آسمان تلے سونے والے بے گھر افراد کے سنگین مسئلے کا مستقل بنیادوں پر خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ غریب عوام کی دیکھ بھال کو حکومت کے دل میں رکھا جائے گا، اور اس مقصد کے لیے حکومت غریب اور کم آمدن والے طبقات کے لیے بڑی تعداد میں نجی و سرکاری کونسل ہاؤسز تعمیر کرے گی تاکہ ملک کے ہر ضرورت مند شہری کو چھت میسر آ سکے اور برطانیہ کو ایک حقیقی فلاحی ریاست بنایا جا سکے۔

فرانس کے کیلین ایمباپے نے نئی تاریخ رقم کر دی؛ دو بار عالمی کپ کا گولڈن بوٹ ایوارڈ جیتنے والے دنیا کے پہلے فٹ بالر بن گئے

محمود احمد, JULY 20,2026

ایسٹ ردرفورڈ، نیوجرسی (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

فرانس کے مایہ ناز فٹ بالر اور قومی ٹیم کے کپتان کیلین ایمباپے نے ایک سے زائد بار عالمی کپ کا ‘گولڈن بوٹ’ ایوارڈ حاصل کرنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بن کر فٹ بال کی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھوا دیا ہے۔ کیلین ایمباپے فٹ بال ورلڈ کپ کی تاریخ کے وہ پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں جنہوں نے دو مختلف ٹورنامنٹس میں سب سے زیادہ گول اسکور کرنے کا مقتدر اعزاز اپنے نام کیا ہے۔

چینی خبر رساں ادارے ‘شنہوا’ کے مطابق، 23 ویں فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں اسپین کے ہاتھوں ارجنٹائن کی 1-0 سے شکست کے بعد کیلین ایمباپے کی یہ تاریخی کامیابی باضابطہ طور پر سامنے آئی، کیونکہ فائنل معرکے میں ارجنٹائن کے اسٹار کھلاڑی لیونل میسی کوئی گول اسکور نہ کر سکے۔ چار سال قبل قطر میں کھیلے گئے ورلڈ کپ میں 8 گولز کے ساتھ یہ مقتدر اعزاز جیتنے والے کیلین ایمباپے نے اس بار امریکی سرزمین پر کھیلے گئے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے اکیلے 10 گول داغے اور مزید 4 گول کرنے میں اپنے ساتھی کھلاڑیوں کی معاونت کی۔ فرانس کی ٹیم اس میگا ایونٹ میں چوتھی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

دوسری جانب، ارجنٹائن کے مقتدر کپتان لیونل میسی کا اس ورلڈ کپ میں سفر 8 گول اور 4 گول اسسٹ کے ساتھ ختم ہوا۔ اگرچہ ارجنٹائن کو فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن 39 سالہ لیونل میسی اب بھی عالمی کپ کے بہترین کھلاڑی کو دیے جانے والے ‘گولڈن بال’ ایوارڈ کی دوڑ میں سب سے اہم نام سمجھے جا رہے ہیں۔ لیونل میسی پہلے ہی فٹ بال کی تاریخ میں 1978ء سے شروع ہونے والے اس مقتدر گولڈن بال ایوارڈ کو ایک سے زائد بار جیتنے والے دنیا کے واحد کھلاڑی ہیں اور اس بار بھی وہ اس اعزاز کو حاصل کرنے کے مضبوط امیدوار ہیں۔

سنگین مقدمات کی تفتیش اور اشتہاری مجرمان کے خلاف بلاامتیاز کارروائیوں کی ہدایت؛ سیف سٹی اور جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال یقینی بنانے کا حکم

منصور احمد, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد پولیس سید علی ناصر رضوی کی زیرِ صدارت پیر کے روز ایک مقتدر اور اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس تزویراتی اجلاس میں ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز محمد عتیق طاہر، ڈی جی سیف سٹی محمد ہارون جوئیہ، ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق، ڈی آئی جی سکیورٹی رانا عمر فاروق اور دیگر سینئر پولیس افسران نے شرکت کی۔

ترجمان اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیے کے مطابق، اجلاس کے دوران وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کے قیام، جرائم کے خاتمے کے لیے جاری اقدامات، سنگین مقدمات میں تفتیشی پیش رفت، اشتہاری و عادی مجرمان کے خلاف جاری تادیبی کارروائیوں، خفیہ اطلاعات پر مبنی پولیسنگ، جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال، سیف سٹی کیمروں کے ذریعے نگرانی کے نظام، فوری جوابی کارروائی، مختلف شعبوں کے مابین رابطہ کاری اور شہریوں کو بروقت خدمات کی فراہمی جیسے اہم امور کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے تمام افسران کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کا امن ہر صورت برقرار رکھا جائے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اشتہاری مجرمان اور عادی ملزمان کے خلاف بلاامتیاز تادیبی کارروائیاں کی جائیں، اور تمام زیرِ تفتیش مقدمات کو مکمل طور پر میرٹ پر یکسو کرتے ہوئے مضبوط شواہد کے ساتھ چالان عدالتوں میں پیش کیے جائیں تاکہ ملزمان کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلائی جا سکے۔ انہوں نے مزید تاکید کی کہ جدید ٹیکنالوجی اور سیف سٹی کے جدید نگرانی کے نظام سے بھرپور فائدہ اٹھا کر جرائم کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے۔ آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ شفاف تحقیقات، مؤثر پولیسنگ، کڑا احتساب، قانون کی بلاامتیاز عملداری اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اسلام آباد پولیس کی اولین اور مقتدر ترجیحات میں شامل ہے۔

فیکٹری کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور اسٹیل پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ غیر قانونی؛ سپریم کورٹ نے محکمہ ان لینڈ ریونیو کی اپیل منظور کر لی

کاشف عباسی , JULY 20,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ٹیکس قوانین کے حوالے سے ایک انتہائی مقتدر اور تزویراتی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ فیکٹری یا کسی بھی صنعتی ڈھانچے کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور اسٹیل پر ٹیکس کی واپسی یا ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ قانون کے مطابق بالکل قابلِ قبول نہیں ہے، جبکہ سیلز ٹیکس قوانین کی تشریح سے متعلق معاملات محض حقائق کا تنازع نہیں بلکہ انتہائی اہم اور بنیادی قانونی سوالات ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے محکمہ ان لینڈ ریونیو کی اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ اور اپیلیٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو کے سابقہ فیصلوں کو سراسر کالعدم قرار دے کر محکمے کا اصل فیصلہ بحال کر دیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل تین رکنی مقتدر بینچ نے کمشنر ان لینڈ ریونیو زون ٹو، لارج ٹیکس پیئرز یونٹ کراچی کی جانب سے باوانی شوگر ملز لمیٹڈ کے خلاف دائر سول اپیل کا تفصیلی محفوظ فیصلہ جاری کیا۔ جسٹس عرفان سعادت خان کی جانب سے تحریر کردہ 12 صفحات پر مشتمل اس تزویراتی فیصلے کے مطابق، ٹیکس دہندہ کمپنی نے جولائی سے دسمبر 2013ء کے دوران اپنی فیکٹری کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور اسٹیل پر ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ کیا تھا، جسے محکمہ ان لینڈ ریونیو نے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء اور متعلقہ سرکاری نوٹیفیکیشنز کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا؛ تاہم بعد میں اپیلیٹ ٹریبونل اور سندھ ہائی کورٹ نے محکمے کے خلاف کمپنی کے حق میں فیصلے دیے تھے جنہیں اب سپریم کورٹ نے تادیبی طور پر معطل کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے مقتدر فیصلے میں اہم قانونی نکات واضح کرتے ہوئے قرار دیا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء کی متعلقہ دفعہ بنیادی طور پر صرف قابلِ ٹیکس اشیاء کی فراہمی پر لاگو ہوتی ہے، جبکہ فیکٹریوں اور دیگر غیر منقولہ تعمیرات کو کسی صورت قابلِ ٹیکس اشیاء قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے صائب الفاظ میں کہا کہ قانون کے تحت تعمیراتی سامان، خصوصاً سیمنٹ اور اسٹیل پر ٹیکس کی واپسی کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی کیونکہ یہ سامان مستقل طور پر غیر منقولہ جائیداد کا حصہ بن جاتا ہے۔ مزید برآں، عدالت نے واضح کیا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت ٹیکس کے دعوے کے لیے تمام کاروباری ادائیگیاں مقررہ بینکنگ چینل کے ذریعے ہونا ایک لازمی اور تادیبی شرط ہے، اور اس شرط پر عمل نہ ہونے کی صورت میں ٹیکس کا دعویٰ خود بخود خارج ہو جاتا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے یہ مقتدر قانونی اصول بھی دہرایا کہ قانون کے کسی نکتے پر فریق یا اس کے وکیل کی جانب سے نادانی میں کیا گیا اعتراف عدالت کو پابند نہیں کرتا کیونکہ قانون کے خلاف کوئی عذر قبول نہیں ہو سکتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کی درست اور شفاف تشریح کرنا عدالت کی آئینی ذمہ داری ہے، اس لیے کسی سرکاری نمائندے کی قانونی رعایت کو بنیاد بنا کر آئین و قانون سے انحراف نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے رولنگ دی کہ سندھ ہائی کورٹ اور اپیلیٹ ٹریبونل نے معاملے کو محض حقائق کا تنازع قرار دے کر فاش غلطی کی، چنانچہ دونوں بنیادی قانونی سوالات محکمہ ان لینڈ ریونیو کے حق میں اور ٹیکس دہندہ شوگر مل کے خلاف طے کرتے ہوئے کمپنی کا دعویٰ مستقل طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کا وسطی ایشیائی اور دوست ممالک کے طلبہ کے لیے علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام کا مقتدر اعلان

روزینہ اسماعیل, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پاکستان کے تزویراتی سفارتی و تعلیمی روابط کو فروغ دینے کے لیے وسطی ایشیائی اور دیگر دوست ممالک کے بین الاقوامی طلبہ کے لیے “علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام” کے تحت پاکستان میں مکمل مالی معاونت کے ساتھ چار سالہ بی ایس ڈگری پروگرام میں داخلوں کے لیے باضابطہ مقتدر درخواستیں طلب کر لی ہیں. یہ اسکالرشپ پاکستان کی مقتدر اور عالمی معیار کی جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند غیر ملکی طلبہ کو فراہم کی جائے گی.

ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ تادیبی تفصیلات کے مطابق، اس اسکالرشپ کے تحت انجینئرنگ و ٹیکنالوجی، کمپیوٹر سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی، معاون طبی علوم ، کاروبار و معاشیات، زراعت، سماجی علوم، غذائی تحفظ ، بین الاقوامی تعلقات ، ذرائع ابلاغ اور مختلف زبانوں سمیت متعدد اہم شعبوں میں تعلیم کے وسیع مواقع دستیاب ہوں گے. اسکالرشپ پیکیج کے مقتدر نکات کے مطابق منتخب طلبہ کی مکمل ٹیوشن فیس، ہاسٹل میں رہائش، ماہانہ معقول وظیفہ، ڈگری پروگرام کے دوران ایک مرتبہ اپنے ملک سے پاکستان آمد و رفت کے ہوائی سفر کے اخراجات اور پاکستان میں ابتدائی آباد کاری کے لیے خصوصی یکمشت مالی معاونت شامل ہے.

اہلیت کے مروجہ معیار کے مطابق، بین الاقوامی امیدواروں کے لیے اے لیول یا اس کے مساوی تعلیمی قابلیت میں کم از کم 60 فیصد نمبر ہونا لازمی ہے، جبکہ انجینئرنگ پروگراموں میں داخلے کے خواہشمند طلبہ کے لیے 65 فیصد نمبروں کی تادیبی شرط رکھی گئی ہے. اس کے علاوہ منتخب امیدواروں کو پاکستان پہنچنے کے بعد انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمینز (آئی بی سی سی) سے اپنی تعلیمی مساواتی سند بھی لازمی طور پر حاصل کرنا ہوگی. ہائر ایجوکیشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اس مقتدر بین الاقوامی اسکالرشپ پروگرام کے لیے آن لائن درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 10 اگست 2026ء مقرر کی گئی ہے.

حفظِ مراتب (وارنٹ آف پریسیڈنس) میں ترامیم کے لیے وزیرِ اعظم کی جانب سے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل؛ وفاقی وزیرِ قانون کمیٹی کے چیئرمین مقرر

منصور احمد, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان نے ملک میں سرکاری و آئینی عہدوں کے حفظِ مراتب (وارنٹ آف پریسیڈنس) میں مجوزہ ترامیم پر تفصیلی غور و خوض کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی مقتدر کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق، وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کو اس اہم تزویراتی کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ اس کمیٹی کو بنیادی طور پر یہ مقتدر مینڈیٹ تفویض کیا گیا ہے کہ وہ وارنٹ آف پریسیڈنس کی موجودہ قانونی حیثیت کا گہرائی سے جائزہ لے اور سپریم کورٹ کے تاریخی ’مصطفیٰ امپیکس کیس‘ کے فیصلے کی روشنی میں ترامیم کے لیے مجاز اتھارٹی کا تعین کرے۔

اس اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کے ڈھانچے میں وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور، وفاقی وزیر برائے قومی صحت و خدمات اور مشیرِ وزیرِ اعظم برائے پی ایم او کو بطور ارکان شامل کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ انتظامی امور کو منظم کرنے کے لیے سیکریٹری کیبنٹ ڈویژن کمیٹی کے رکن اور سیکریٹری ہوں گے جبکہ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بھی اس کمیٹی کا حصہ ہیں۔ کمیٹی کو یہ خصوصی اور تادیبی اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ اپنی قانونی، آئینی اور انتظامی معاونت کے لیے کسی بھی وفاقی وزارت، ڈویژن یا ریاستی ادارے کے اعلیٰ افسر یا متعلقہ قانونی ماہر کو کمیٹی میں شامل کر سکتی ہے۔

کمیٹی کے تزویراتی دائرہ کار میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکریٹریٹ اور اس کے چیئرمین کی جانب سے دی گئی سابقہ سفارشات پر تفصیلی نظرثانی کرنا بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ کمیٹی ایسے ٹھوس اور شفاف قواعد و ضوابط تیار کرے گی جن کے تحت مستقبل میں کسی بھی سرکاری یا آئینی عہدے کو اس مقتدر لسٹ میں شامل، تبدیل یا حذف کیا جا سکے اور وارنٹ آف پریسیڈنس کو وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کرنے کے لیے ایک مستقل اور خودکار طریقہ کار بھی تجویز کیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن کے تحت کیبنٹ ڈویژن اس کمیٹی کو تمام سیکریٹریٹ سپورٹ فراہم کرے گی، جبکہ کمیٹی کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ملکی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے ہر صورت 14 روز کے اندر اپنی حتمی سفارشات اور ترمیمی مسودہ وزیرِ اعظم کو پیش کرے۔

پاکستان میں صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کا عزم؛ وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ سے اقوامِ متحدہ کے وفد کی مقتدر ملاقات

منصور احمد, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے اقوامِ متحدہ کی خواتین کی تنظیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے چیف آف اسٹاف محمد نصیری نے ایک مقتدر تزویراتی ملاقات کی ہے۔ وزارتِ قانون و انسانی حقوق میں ہونے والی اس ہائی پروفائل ملاقات میں حکومتِ پاکستان اور یو این ویمن کے مابین خواتین کے حقوق، صنفی مساوات، بچیوں کو بااختیار بنانے اور ملکی طرزِ حکمرانی میں خواتین کی شمولیت کے جاری منصوبوں کو مزید مستحکم کرنے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

جاری کردہ آفیشل پریس ریلیز کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے اس اعلیٰ سطح کے وفد میں پاکستان کے لیے یو این ویمن کے کنٹری نمائندے جمشید ایم قاضی اور ڈپٹی کنٹری نمائندہ فہمیدہ اقبال خان بھی شامل تھے۔ وفد کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتے ہوئے وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے پاکستان کے سماجی شعبے میں اقوامِ متحدہ کے مسلسل تعاون کو سراہا اور خواتین کے حقوق کے تحفظ، انصاف تک رسائی کو بہتر بنانے اور مؤثر ترین تادیبی پالیسی سازی کے لیے وزارتِ انسانی حقوق اور یو این ویمن کے مابین قریبی شراکت داری پر روشنی ڈالی۔

ملاقات کے دوران خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے سے متعلق زیرِ غور ‘قومی پالیسی’ پر ہونے والی پیش رفت کا جامع جائزہ لیا گیا، جسے یو این ویمن کی تکنیکی معاونت سے صوبائی حکومتوں، سول سوسائٹی اور ماہرینِ تعلیم سے وسیع مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے اس جامع قومی پالیسی کو جلد حتمی شکل دینے اور اس پر مؤثر عمل درآمد کے لیے حکومت کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ فریقین نے آئندہ منعقد ہونے والی سارک کانفرنس پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور اسے جنوبی ایشیا میں صنفی مساوات اور علاقائی تعاون کا ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔ اس کے علاوہ، پاکستان کے جینڈر ڈیٹا سسٹم کو مضبوط بنانے، بین الاقوامی کنونشن اور بیجنگ ڈیکلریشن کے تحت رپورٹنگ کو مؤثر بنانے سمیت خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت، معاشی خود مختاری اور ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کے فروغ پر بھی بات چیت کی گئی، تاکہ ٹیکنالوجی کے ذریعے خواتین کے خلاف ہونے والے آن لائن تشدد کا تدارک کیا جا سکے۔

ملاقات کے دوران محمد نصیری نے یو این ویمن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی جانب سے وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ کو ایک مقتدر تعریفی خط پیش کیا، جس میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کے کامیاب انعقاد اور آئندہ دو برس کے لیے کانفرنس کی چیئرمین شپ سنبھالنے پر پاکستان کے قائدانہ کردار کی زبردست تحسین کی گئی۔ محمد نصیری نے وزارتِ انسانی حقوق کے ساتھ مستقبل میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ وفاقی وزیر نے اعادہ کیا کہ پاکستان جامع و پائیدار ترقی کے حصول کے لیے یو این ویمن کے ساتھ اپنے تزویراتی اشتراک کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے مکمل تیار ہے۔

زیرِ تعمیر جوہری بجلی گھر پر امریکی حملہ؛ خطے میں پیدا ہونے والے عدم استحکام کی تمام تر ذمہ داری واشنگٹن پر عائد ہوتی ہے، ایران کا مقتدر انتباہ

محمود احمد, JULY 20,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے دارخوین میں زیرِ تعمیر جوہری بجلی گھر پر حالیہ امریکی حملے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے واشنگٹن کو ایک مقتدر اور تزویراتی انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اس جارحیت اور عدم استحکام کے نتیجے میں خطے میں پیدا ہونے والی انتہائی سنگین صورتحال کی تمام تر ذمہ داری براہِ راست امریکی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے ‘بی بی سی’ کی عالمی رپورٹ کے مطابق، کاظم غریب آبادی نے اپنے تادیبی بیان میں کہا کہ دارخوین میں زیرِ تعمیر جوہری بجلی گھر پر امریکی حملہ دراصل ایران کے توانائی کے پُرامن انفراسٹرکچر پر ایک انتہائی خطرناک اور بلاجواز حملہ ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر جاری کردہ اپنے باضابطہ بیان میں ایرانی نائب وزیرِ خارجہ نے خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی علاقائی بدامنی کے اسباب صرف اور صرف امریکی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے صائب الفاظ میں کہا کہ تہران اس ننگی جارحیت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور اپنے قومی مفادات، سالمیت اور علاقائی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن اور مناسب تزویراتی اقدامات اٹھانے کا مکمل قانونی و ریاستی حق محفوظ رکھتا ہے۔

دوسری جانب، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے گزشتہ روز اپنے ایک مقتدر اعلامیے میں اعلان کیا تھا کہ اس نے دارخوین میں زیرِ تعمیر جوہری بجلی گھر کی تعمیراتی سائٹ پر ہونے والے مبینہ امریکی حملے کی رپورٹس کا باقاعدہ اور تادیبی جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ آئی اے ای اے کی جانب سے جاری بیان میں زمینی حقائق واضح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ جوہری تنصیب ابھی تعمیر کے بالکل ابتدائی مراحل میں ہے اور ایجنسی کے آخری معائنے کے وقت وہاں کوئی بھی جوہری مواد سرے سے موجود نہیں تھا۔ ادارے نے عالمی برادری کو اطمینان دلایا ہے کہ اس مبینہ حملے سے کسی بھی قسم کی تابکاری پھیلنے کا کوئی امکان یا خطرہ نہیں ہے۔ دریں اثنا، آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رفائیل ماریانو گروسی نے تمام فریقین سے اپنی اس اپیل کا سختی سے اعادہ کیا ہے کہ دنیا بھر میں تمام جوہری تنصیبات کے قرب و جوار میں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائیوں سے مکمل گریز کیا جائے اور انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔

امریکہ صرف ان ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے جہاں سے عالمی تجارتی جہازوں پر حملے کیے جاتے ہیں؛ واشنگٹن اب بھی سفارتی حل کے لیے تیار ہے

محمود احمد, JULY 20,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

مشرقِ وسطیٰ اور آبنائے ہرمز میں جاری شدید ترین بحری و عسکری کشیدگی کے مقتدر تناظر میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا ایک اہم تزویراتی بیان سامنے آیا ہے. ‘انڈیپنڈنٹ اردو’ کی عالمی رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیرِ خارجہ نے آسیان وزرائے خارجہ کے اہم ترین اجلاس میں شرکت کے لیے پیر کے روز فلپائن روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دنیا بھر کے دیگر مقتدر ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے اور اس اہم ترین بحری راستے کو کھلا رکھنے کے لیے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں مخلصانہ طور پر ادا کریں.

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے پریس بریفنگ کے دوران واشنگٹن کی عسکری پالیسی کی تادیبی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج خلیج میں صرف اور صرف ان ایرانی فوجی تنصیبات، ٹھکانوں اور مقامات کو نشانہ بنا رہی ہیں جو عالمی تجارتی جہازوں پر میزائلوں اور خودکش ڈرونز کے ذریعے حملوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں. انہوں نے صائب الفاظ میں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز ایک مکمل طور پر بین الاقوامی آبی راستہ ہے، لیکن تہران انتظامیہ مسلسل عالمی قوانین کو پامال کرتے ہوئے اسی آبی گزرگاہ میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف جارحانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے. مارکو روبیو نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو عالمی معیشت کی بقا کے لیے ہر صورت آزاد، محفوظ اور ہر قسم کی رکاوٹ یا حملوں سے پاک رہنا چاہیے، اور اگر ایران جہاز رانی سے متعلق کسی بھی سابقہ مروجہ مفاہمتی انتظام یا بین الاقوامی معاہدے کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو ایسے کسی بھی امن انتظام کا برقرار رہنا ناممکن ہو جاتا ہے.

تزویراتی تناؤ کو کم کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ امریکہ خطے میں جنگ نہیں چاہتا اور اب بھی اس سنگین معاملے کے مقتدر سفارتی حل کے لیے مکمل تیار ہے. انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ہمیشہ سفارتی راستے کو ترجیح دی ہے اور ہم نے ایران کے ساتھ اس تنازع کو پرامن طور پر حل کرنے کی متعدد بار تادیبی کوششیں کی ہیں؛ چنانچہ اگر تہران کی جانب سے بامقصد مذاکرات کا دروازہ دوبارہ کھلتا ہے تو واشنگٹن اس کا بھرپور خیرمقدم کرے گا. مارکو روبیو نے ایران کی داخلی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس وقت تہران کو شدید ترین معاشی پابندیوں اور اندرونی و خارجی چیلنجز کا سامنا ہے، اور ان نازک حالات میں مزید عسکری محاذ آرائی کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنا ہی خود ایران اور پورے خطے کے بہترین مفاد میں ہے.

مسجدِ اقصی پر یہودی آباد کاروں کا ایک اور مقتدر دھاوا؛ قابض اسرائیلی افواج کی فلسطینیوں کے گھر مسمار کرنے کی دھمکیاں اور گرفتاریاں

محمود احمد, JULY 20,2026

مقبوضہ بیت المقدس (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

مقبوضہ بیت المقدس اور مسلمانوں کے قبلۂ اول مسجدِ اقصی پر صہیونی جارحیت کا سلسلہ بدستور تیز ہو گیا ہے. مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق، قابض اسرائیلی فورسز کی سخت سکیورٹی میں اتوار کے روز 214 انتہا پسند یہودی آباد کاروں نے مسجدِ اقصی پر ایک بار پھر تزویراتی دھاوا بولا. اس اشتعال انگیز کارروائی کے ساتھ ہی قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے مسجد کی انتظامیہ کے ارکان کی جبری بیدخلی، فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کے یکطرفہ نوٹسز اور شہر کے مختلف علاقوں میں مقتدر چھاپوں کا تادیبی سلسلہ بھی تیز کر دیا گیا ہے.

القدس گورنریٹ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیانیے کے مطابق، 214 یہودی آباد کاروں نے صبح اور دوپہر کے بعد دو مختلف اوقات میں منظم گروپس کی شکل میں مسجدِ اقصی کے تقدس کو پامال کیا، جو کہ یہاں بار بار ہونے والے صہیونی حملوں کا مقتدر تسلسل ہے. وادی حلوہ انفارمیشن سینٹر کے تادیبی اعداد و شمار کے مطابق، صرف گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مسجدِ اقصی پر دھاوا بولنے والے انتہا پسند یہودی آباد کاروں کی مجموعی تعداد 1639 تک پہنچ چکی ہے. مزید برآں، قابض حکام نے مقبوضہ بیت المقدس میں ہیئتِ عملِ قومی کے ممتاز رکن اور سرگرم سیاسی کارکن احمد الصفدی اور ناصر الہدمی سمیت کئی دیگر اہم مسلم شخصیات کو مسجدِ اقصی کی حدود سے جبری طور پر بیدخل کرنے کا مقتدر حکم نامہ جاری کیا ہے.

دوسری جانب، فلسطینی آبادی کو ہجرت پر مجبور کرنے کی تزویراتی پالیسی کے تحت قابض اسرائیلی افواج نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قصبے کفر عقب میں 22 مکانات کے مالکان کو گھر خالی کرنے کے حتمی نوٹسز تھمائے ہیں، جنہیں مسماری کے لیے صرف ایک ہفتے کی مہلت دی گئی ہے؛ یہ مکانات ان 30 گھروں کا حصہ ہیں جن کے خلاف پہلے ہی انہدام کے احکامات جاری ہو چکے ہیں. اسی مقتدر کارروائی کے دوران اسرائیلی فورسز نے قلندیا کیمپ پر چھاپہ مار کر شہریوں کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی اور ایک فلسطینی کو گرفتار کر لیا. گورنریٹ کے مطابق، قابض فوج نے قلندیا کیمپ میں پاپولر کمیٹی کی مقتدر عمارت اور خود القدس گورنریٹ کے سرکاری دفتر پر وحشیانہ قبضہ کر لیا اور احتجاج کرنے والے نہتے فلسطینیوں پر اندھا دھند آنسو گیس کے گولے اور ساؤنڈ بم برسائے، جبکہ بیت عنان اور بیت لقیا کو ملانے والی سڑک پر مستقل فوجی گیٹ کی تنصیب کے لیے سیمنٹ کے بھاری بلاکس رکھ کر راستے بلاک کر دیے ہیں.

اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر میں افسوسناک واقعہ؛ زخمی ہسپتال منتقل، شمالی اور شمال مشرقی ریاستوں میں مزید بارشوں کا الرٹ جاری

کاشف عباسی , JULY 20,026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش میں مون سون کی شدید اور تباہ کن بارشوں کے باعث ایک مقتدر مکان کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے 5 افراد ہلاک اور 2 شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ چینی خبر رساں ادارے ‘شنہوا’ کے مطابق یہ انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعہ گزشتہ رات اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر کے نواحی گاؤں حبیب پور میں پیش آیا، جہاں خستہ حال مکان موسلا دھار بارشوں کا دباؤ برداشت نہ کر سکا۔

مقامی پولیس حکام نے تادیبی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ملبے تلے دب کر ہلاک ہونے والوں میں بدقسمت خاندان کے 4 معصوم بچے بھی شامل ہیں، جن کی لاشیں ریسکیو اداروں نے نکال لی ہیں۔ واقعے میں شدید زخمی ہونے والے دیگر 2 افراد کو فوری طور پر قریبی مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا طبی علاج جاری ہے۔ مقتدر بھارتی محکمۂ موسمیات اور سول انتظامیہ نے صورتحال کی سنگینی کے پیشِ نظر آئندہ چند روز کے دوران ملک کے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں مزید طوفانی اور شدید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور شہریوں کو مخدوش مکانات سے دور رہنے کی تادیبی ہدایات دی ہیں۔

نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سے کینیڈین وزیرِ خارجہ انیتا آنند کی مقتدر ملاقات؛ دوطرفہ تعلقات اور عالمی و علاقائی سکیورٹی کے امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال

محمود احمد, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے وزارتِ خارجہ میں ایک اعلیٰ سطح کی مقتدر اور تزویراتی ملاقات کی ہے۔ کینیڈین وزیرِ خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد ان کا یہ پہلا باضابطہ دورۂ پاکستان دونوں ممالک کے مابین سفارتی و معاشی تعلقات کو نئی جہت دینے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

پیر کے روز وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیے کے مطابق، اس ہائی پروفائل ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے پاکستان اور کینیڈا کے دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کا جامع تادیبی جائزہ لیا، جبکہ موجودہ بدلتے ہوئے علاقائی ماحول اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاک-کینیڈا باہمی مفاد اور مشترکہ اقدار پر مبنی طویل مدتی شراکت داری کو مزید مستحکم اور مضبوط بنانے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔

ملاقات میں دونوں وزرائے خارجہ نے تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، آئی ٹی اور عوامی روابط جیسے ترجیحی شعبوں میں باہمی تعاون کا دائرہ کار مزید وسعت دینے پر مکمل اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کے مابین طے پانے والے متفقہ مشترکہ اعلامیے کے مقتدر نکات پر عمل درآمد کی رفتار اور اب تک کی پیش رفت کا مسلسل جائزہ لینے کے لیے ہر سال باقاعدگی کے ساتھ اعلیٰ سطح کا سالانہ اجلاس منعقد کرنے کا ایک اہم تزویراتی فیصلہ بھی کیا گیا، جس سے دونوں ممالک کے مابین ادارہ جاتی روابط مزید منظم ہوں گے۔

ملک بھر میں شدید بارشوں اور برف پگھلنے کے باعث دریاؤں میں طغیانی؛ بھارت نے غیر قانونی ڈیموں کے اسپل ویز کھول دیے

منصور احمد, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

پاکستان بھر میں جاری حالیہ شدید بارشوں، شمالی علاقوں میں برف پگھلنے کی رفتار تیز ہونے اور بھارت کی جانب سے روایتی آبی جارحیت کے تحت ڈیموں کے اسپل ویز کھولے جانے کے باعث ملک کے تمام بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہونے لگی ہے. متعلقہ تزویراتی اداروں اور واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کی جانب سے صورتحال کی مسلسل کڑی نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ دریاؤں میں پانی کا مجموعی بہاؤ اس وقت 4 لاکھ 54 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے.

ملکی سیلابی صورتحال کے تادیبی حقائق کے مطابق، مودی حکومت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر قائم کیے گئے ڈیموں کے اسپل ویز کھول دیے ہیں، جس کے باعث دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھنا شروع ہو گیا ہے اور اس وقت وہاں ایک لاکھ 30 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے. دوسری جانب، دریائے سندھ میں بھی پانی کی آمد میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں تربیلا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 32 ہزار کیوسک، کالا باغ پر 2 لاکھ 43 ہزار کیوسک، چشمہ بیراج پر 2… لاکھ 47 ہزار کیوسک، تونسہ بیراج پر 2 لاکھ 10… لاکھ کیوسک، گڈو بیراج پر 1 لاکھ 64 ہزار کیوسک اور سکھر بیراج کے مقام پر 1 لاکھ 10… لاکھ کیوسک پانی کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے. اس کے علاوہ دریائے جہلم میں بھی پانی کی آمد میں تیزی آئی ہے اور منگلا ڈیم پر پانی کا بہاؤ 57 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے، جبکہ ملکی ڈیموں میں پانی کا مجموعی ذخیرہ اس وقت 61 لاکھ ایکڑ فٹ تک جا پہنچا ہے.

ادھر اسکردو اور گلگت بلتستان کے دیگر شمالی علاقوں میں شدید گرمی کے باعث گلیشیئرز اور برف پگھلنے کا عمل انتہائی تیزی سے جاری ہے. اسکردو میں غیر معمولی گرمی کی وجہ سے درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خطے میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور شدید لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں. اس ہنگامی صورتحال اور ممکنہ سیلابی خطرات کے پیشِ نظر دریائے سندھ میں تربیلا ڈیم کے اسپل ویز کو باقاعدہ کھول دیا گیا ہے اور متعلقہ حکام نے تزویراتی فیصلہ کیا ہے کہ شمالی علاقوں سے آنے والے تمام بڑے سیلابی ریلوں کو محفوظ اور تادیبی انداز میں تربیلا ڈیم میں ذخیرہ کیا جائے گا تاکہ ڈاؤن اسٹریم کے میدانی علاقوں کو ممکنہ تباہی اور سیلابی نقصانات سے ہر صورت محفوظ رکھا جا سکے.

آئی ایس پی آر سمر کیمپ 2026ء؛ ملک بھر سے 4 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات کی شرکت، وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی نشست

منصور احمد, JULY 20,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے زیرِ اہتمام پاکستان بھر کے طلبہ و طالبات کے لیے منعقدہ “سمر کیمپ 2026ء” کے شرکاء کے ساتھ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ایک انتہائی اہم اور مقتدر خصوصی نشست منعقد ہوئی۔ آئی ایس پی آر کے اس تزویراتی سمر کیمپ میں ملک بھر کے 18 سے زائد مختلف اسٹیشنز سے 4 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات نے بھرپور شرکت کی، جس کا بنیادی مقصد نوجوانوں میں قومی ہم آہنگی اور یکجہتی کے شعور کو بیدار کرنا تھا۔

خصوصی نشست سے خطاب اور طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ملکی سلامتی کو درپیش چیلنجز، ‘فتنہ الہندوستان’ اور ان کی مقامی پراکسیز کے حوالے سے تفصیلی تادیبی گفتگو کی۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں انکشاف کیا کہ بلوچستان میں بدامنی پھیلانے والی ان دہشت گرد تنظیموں کو بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کی مکمل مالی و لاجسٹک پشت پناہی حاصل ہے۔ انہوں نے ہمسایہ ملک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان نے پاکستان کی جانب سے متعدد تنبیہات اور بین الاقوامی دوحہ معاہدے کے باوجود اپنی سرزمیں پر موجود ان دہشت گرد عناصر کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی، جو انتہائی تشویشناک ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کے لیے بنا ہے، اور قومی اتحاد، یکجہتی، باہمی اعتماد اور ہمارے نوجوانوں کی مثبت سوچ ہی ایک مضبوط، مستحکم اور پرامن ملک کی اصل ضمانت ہے۔

اس مقتدر مکالمے کے دوران ملک بھر سے آئے ہوئے طلبہ و طالبات نے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سے صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے، سی پیک و دیگر شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری، افغان سرحد پر اسمگلنگ کی روک تھام اور سوشل میڈیا پر جاری منفی پروپیگنڈے سمیت دیگر اہم قومی امور پر کھل کر تیکھے سوالات کیے۔ سمر کیمپ کے شرکاء کا کہنا تھا کہ انہیں بلوچستان کی اصل صورتحال اور مختلف سوالات کے حقائق پر مبنی انتہائی مدلل جوابات موصول ہوئے ہیں۔ طلبہ نے آئی ایس پی آر کی اس تزویراتی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ قومی ہم آہنگی، باہمی یکجہتی کے فروغ اور نوجوانوں کو ملکی دھارے میں شامل رکھنے کے لیے مستقبل میں بھی ایسے مقتدر مکالموں کا انعقاد انتہائی ضروری ہے۔

اسپین نے ارجنٹائن کو 1-0 سے شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ 2026ء کا عالمی ٹائٹل جیت لیا

محمود احمد, JULY 20,2026

نیویارک/ایسٹ ردرفورڈ (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

اسپین کی قومی فٹ بال ٹیم نے فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے سنسنی خیز اور تزویراتی فائنل معرکے میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کو 1-0 سے شکست دے کر تاریخ کا ایک اور مقتدر عالمی اعزاز اپنے نام کر لیا ہے. امریکہ کی ریاست نیو جرسی کے تاریخی میٹ لائف اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میچ میں ہسپانوی ٹیم نے کھیل کے پہلے منٹ سے لے کر اختتامی سیٹی بجنے تک میچ پر اپنا مکمل کنٹرول برقرار رکھا اور شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا.

ورلڈ کپ کے اس تاریخی فائنل میں اسپین نے اپنی روایتی اور منظم حکمتِ عملی کے تحت میچ کے آغاز سے ہی ارجنٹائن پر شدید دباؤ بنائے رکھا. اسپین کی ٹیم پورے میچ میں مسلسل اور جارحانہ حملے کرتی رہی، تاہم ارجنٹائن کے گول کیپر نے انتہائی شاندار اور غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسپین کے کئی یقینی گولز کو ناکام بنایا اور ارجنٹائن کو بڑے نقصان سے بچائے رکھا. دوسری جانب، دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کی ٹیم فائنل کے اس اہم ترین معرکے میں اپنی وہ روایتی اور مقتدر فارم نہ دکھا سکی جس کے لیے وہ دنیا بھر میں جانی جاتی ہے اور ہسپانوی اٹیک کے سامنے بے بس نظر آئی.

میچ کے پہلے ہاف میں ارجنٹائن کے گول کیپر کے بہترین دفاع کی بدولت مقابلہ بغیر کسی گول کے برابر رہا، تاہم دوسرے ہاف میں اسپین نے شاندار اور مربوط کمبینیشن پلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے بالاآخر ارجنٹائن کے دفاع کو توڑ ہی دیا اور فیصلہ کن گول اسکور کر دیا، جو میچ کے آخر تک فاتح گول ثابت ہوا. ارجنٹائن کی ٹیم نے آخری لمحات میں میچ برابر کرنے کی کوشش ضرور کی لیکن اسپین کے مضبوط دفاع نے ان کا کوئی بھی تادیبی حربہ چلنے نہ دیا. شاندار فتح کا مقتدر سائرن بجتے ہی اسپین کے کھلاڑی اور مداح جشن میں ڈوب گئے.

فیفا کی جانب سے مقررہ مروجہ انعامی رقم کے مطابق ورلڈ کپ 2026ء کی فاتح ٹیم اسپین کو 5 کروڑ امریکی ڈالر جبکہ رنر اپ رہنے والی ارجنٹائن کی ٹیم کو 3 کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالر کی بھاری انعامی رقم دی جائے گی. اسی طرح تیسری پوزیشن حاصل کرنے پر انگلینڈ کو 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر اور چوتھی پوزیشن پر فرانس کو 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے انعامات دیے جائیں گے. اس عالمی تاریخی فتح کے بعد اسپین نے ایک بار پھر دنیا کی بہترین فٹ بال ٹیم ہونے کا مقتدر تاج سر پر سجا لیا ہے، جبکہ ارجنٹائن کا مسلسل دوسری بار عالمی چیمپئن بننے کا تزویراتی خواب ادھورا رہ گیا.

پارا ہائی کر دیا گیا، ہر عقل کی بات کرنے والے کو بھسم کرنا حکمتِ عملی مان لیا گیا ہے؛ مولانا فضل الرحمان کے خطاب پر فواد چوہدری کا تزویراتی ردِعمل

منصور احمد, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

سابق وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ سخت مقتدر خطاب اور ملک کے موجودہ سنگین سیاسی و آئینی بحران پر اپنے گہرے تزویراتی ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ملک کے فیصلہ سازوں اور مقتدر حلقوں کو موجودہ صورتحال کی سنگینی سے سخت خبردار کرتے ہوئے شدید تحمل، بردباری اور ٹھنڈے دماغ سے فیصلے کرنے کا مخلصانہ مشورہ دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک اہم تادیبی پیغام میں فواد چوہدری نے جمعیت لائر فورم کے کنونشن میں مولانا فضل الرحمان کی جانب سے مقتدر حلقوں کے خلاف کیے گئے سخت ترین خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی کے سربراہ کے اس حالیہ بیان اور دوٹوک مؤقف سے ملک کے مجموعی سیاسی ماحول کی تلخیوں میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ اس انتہائی نازک اور حساس وقت میں ملک مزید تلخیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا، بلکہ اس وقت شدید تحمل اور سیاسی بردباری کا مظاہرہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

ملک کے مقتدر حلقوں اور مقتدر فیصلہ سازوں کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت مقتدر اشرافیہ کو بالکل ٹھنڈے دماغ کے ساتھ ملکی بقا کی خاطر سوچنا چاہیے۔ انہوں نے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس وقت سیاسی پارہ اس قدر ہائی کر دیا گیا ہے کہ ہر عقل، دانش اور آئین پسندی کی بات کرنے والے کو ‘بھسم’ کرنا یا سائیڈ لائن کرنا ہی مروجہ ریاستی حکمتِ عملی مان لیا گیا ہے، جو کہ ملکی مستقبل کے لیے انتہائی افسوسناک اور نقصان دہ ہے۔

موجودہ حکومتی اتحاد اور دیگر وفاقی سیاسی جماعتوں کے غیر سنجیدہ رویے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے فواد چوہدری نے مزید کہا کہ اس وقت ملک کی تمام نام نہاد وفاقی جماعتیں اس جاری سیاسی و آئینی جنگ کو صرف اور صرف اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر چھوڑ کر خود بالکل سائیڈ پر ہو چکی ہیں اور تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے تادیبی انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملک پہلے ہی تاریخ کے بدترین کثیر الجہتی بحرانوں کی زد میں ہے، لہٰذا اس تلخ اور کشیدہ سیاسی ماحول میں اب مزید کسی بھی قسم کا تادیبی اضافہ یا محاذ آرائی ریاست کے لیے بہت بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔

انتخابات میں بدترین دھاندلی کی گئی؛ لوٹوں کے سہارے خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے کا آپشن مسترد کر دیا، مولانا فضل الرحمان

کاشف عباسی , JULY 19,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے موجودہ سیاسی و مقتدر نظام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کھلا دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ انتخابات میں بدترین دھاندلی کے ذریعے پارلیمنٹ اور آئین کو یرغمال بنایا گیا ہے۔ اسلام آباد میں جمعیت لائر فورم کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک مقتدر اور بڑے وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ مقتدر حلقے ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور انہیں بلوچستان حکومت میں شمولیت سمیت خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت گرا کر جے یو آئی کی حکومت بنانے کی پیشکش کی گئی تھی، جسے انہوں نے صاف مسترد کر دیا۔ انہوں نے صائب الفاظ میں کہا کہ وہ لوٹوں کے سہارے اور مقتدر بیساکھیوں پر بیٹھ کر اس گھوڑے پر سوار ہونے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنے خلاف جاری پروپیگنڈے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ دائرہ اختیار اور غلط پالیسیوں سے اختلاف کرنے پر ان کی کردار کشی کی مہم چلائی جا رہی ہے، لیکن وہ کسی کے سامنے سرنڈر کرنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس افسر کے آفس سے ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا وہ فوری معافی مانگے۔ جے یو آئی کے سربراہ نے دل گرفتہ انداز میں کہا کہ انہوں نے باجوڑ دھماکوں سمیت اپنے علماء، اساتذہ اور 100 سے زائد کارکنوں کے جنازے اٹھائے ہیں، لیکن مقتدر حلقے کبھی ان کے جنازوں پر نہیں روئے، جبکہ وہ فوج کے ہر جنازے پر روئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک میں عدم اعتماد کی فضا خود مقتدر حلقوں کی غلط پالیسیوں نے پیدا کی ہے، جس کے باعث بنوں، لکی مروت اور ٹانک میں پولیس فورسز اور عوام کے اندر شدید ترین خلیج اور دوریاں جنم لے چکی ہیں۔

انہوں نے ماضی کے تزویراتی حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں بھی عوام سے البدر اور الشمس جیسے لشکر بنوائے گئے جس کے تلخ نتائج تاریخ کا حصہ ہیں، اور اب دوبارہ مقتدر حلقے عوام کو لشکر بنانے پر مجبور کر کے نئے دشمن پیدا کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ خوشامدی حکمرانوں نے اپنے رویوں سے عوام، پارلیمنٹ اور آئین کو کمزور جبکہ اسٹیبلشمنٹ کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے تادیبی طور پر واضح کیا کہ اس وقت ریاست کی ساری توانائیاں عوامی فلاح کے بجائے صرف اور صرف اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں اور مقتدر طبقہ اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے شہدا کے خون کو بطور ایندھن استعمال کر رہا ہے۔