سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کا اچانک ماسکو کا اہم دورہ

محمود احمد, August 25,2026

واشنگٹن/ماسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے روسی اعلیٰ حکام کے ساتھ انتہائی اہم اور اہم نوعیت کی ملاقاتوں کے لیے اچانک اور غیر متوقع طور پر ماسکو کا ہنگامی دورہ کیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے “رائٹرز” کے مطابق امریکی انٹیلی جنس چیف کا یہ غیر معمولی دورہ ایک ایسے انتہائی حساس اور نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک طرف ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ایران کے درمیان شدید جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور دوسری جانب روس اور ایران کے درمیان گہرے عسکری، دفاعی، معاشی اور سفارتی تعلقات پہلے سے قائم ہیں۔ یوکرینی انٹیلی جنس اور بین الاقوامی سفارتی ذرائع سے موصول ہونے والی تفصیلی رپورٹس کے مطابق روس اور ایران کے درمیان مسلسل بڑھتے ہوئے باہمی دفاعی نظام، ڈرون ٹیکنالوجی کی فراہمی اور عسکری تعاون کے تناظر میں اعلیٰ سطح کے امریکی حکام کا یہ غیر اعلانیہ دورہ عالمی منظر نامے پر کسی نئی اور غیر معمولی پیش رفت کا باعث بن سکتا ہے۔ اس اہم دورے اور سیکیورٹی تحرک کے حوالے سے ماسکو اور کرملین کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے ایران کو کسی بھی قسم کی ناجائز عسکری معاونت کی خبریں درست نہیں ہیں، تاہم روسی حکومت نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سنگین بحران اور تنازع کو پرامن سفارتی راستے سے حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے اور مدد فراہم کرنے کی مکمل آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کے مرکزی انٹیلی جنس ادارے سی آئی اے کے ترجمان نے جان ریٹکلف کے اس ہنگامی دورۂ ماسکو کی تفصیلات، ملاقاتوں کے ایجنڈے اور مقصد سے متعلق ذرائع ابلاغ کو کسی بھی قسم کا تبصرہ یا بیان دینے سے مکمل طور پر معذرت کی ہے۔ بین الاقوامی سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق نومبر 2021 میں سابق سی آئی اے چیف ولیم برنز کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ہونے والی تاریخی ملاقات کے بعد کسی بھی امریکی انٹیلی جنس ادارے کے اعلیٰ ترین سربراہ کا ماسکو کا یہ پہلا بڑا، اہم اور اہم ترین دورہ تصور کیا جا رہا ہے جس سے خطے کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

سابق وزیراعظم عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان خان کی آن لائن پریس کانفرنس: والد سے رابطے پر پابندی اور صحت پر شدید تشویش کا اظہار

کاشف عباسی , August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے صاحبزادے سلیمان خان اور قاسم خان نے ایک بین الاقوامی آن لائن نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اُنھیں اپنے والد سے ملے ہوئے کئی برس بیت چکے ہیں جبکہ گذشتہ چھ ماہ سے اُن کی فون پر بھی کوئی بات نہیں کروائی گئی۔ آن لائن نیوز کانفرنس کے دوران عمران خان کے دونوں صاحبزادوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے والد اس وقت جن کٹھن اور سخت حالات سے گزر رہے ہیں وہ بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ سلیمان خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے واضح احکامات جاری کیے جا چکے ہیں کہ عمران خان کی ان کے بچوں سے ٹیلی فون پر بات کروائی جائے لیکن اس کے باوجود حکام نے تاحال ان کے اس بنیادی حق کی اجازت نہیں دی اور مسلسل لعل و گوہر سے کام لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستانی حکام انہیں اپنے والد سے ملنے کے لیے ویزے جاری کرنے سے بھی مسلسل گریز کر رہے ہیں۔ نیوز کانفرنس کے دوران قاسم خان کا کہنا تھا کہ ان کے والد بے حد مضبوط اعصاب کے مالک شخص ہیں لیکن 73 سال کی عمر میں ان کے ساتھ جیل میں جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے اس کے ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ قاسم خان نے مزید بتایا کہ ان کے والد گزشتہ تین برسوں سے عملاً قیدِ تنہائی کا سامنا کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے سیاسی موقف اور نظریے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ یاد رہے کہ عمران خان کے بیٹوں کی جانب سے یہ ہنگامی پریس کانفرنس ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سابق وزیرِ اعظم کو 20 اگست کی شب راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کے طبی معائنے کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم کو علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے لیکن حکومت نے سکیورٹی خدشات کا عذر پیش کرتے ہوئے انہیں پمز منتقل کیا تھا اور یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ معائنے کے بعد وہ بالکل صحت مند پائے گئے ہیں۔ تاہم پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے اس عمل کو عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے جبکہ دوسری جانب حکومت نے بھی سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر نظرثانی درخواست جمع کروائی ہوئی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تجارتی پابندیوں کے بعد کینیڈا کا امریکی اشیاء پر 20 ارب ڈالر کے جوابی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کا اعلان

محمود احمد, August 25,2026

اوٹاوا/واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

کینیڈا کی حکومت نے امریکہ کی جانب سے عائد کردہ یکطرفہ تجارتی پابندیوں اور اضافی ٹیرف کے جواب میں اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی محصولات کا ‘ڈالر کے بدلے ڈالر’ کی بنیاد پر بھرپور، مؤثر اور مساوی جواب دے گا، جس کے تحت امریکی سٹیل، ڈیری مصنوعات، گھریلو استعمال کے الیکٹرانک آلات، اور دیگر کئی اہم اشیاء پر بھاری جوابی محصولات عائد کیے جائیں گے۔ کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ یہ سخت اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جمعہ کے روز کینیڈین درآمدات کے ایک مخصوص حصے پر پچاس فیصد کے اضافی اور سنگین محصولات عائد کرنے کے ردِعمل میں اٹھایا گیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان طویل تجارتی مذاکرات کی ناکامی کے بعد سامنے آیا تھا۔ یہ نیا امریکی اقدام کینیڈین سٹیل، ایلومینیم، گاڑیوں، اور لکڑی کی برآمدات پر پہلے سے نافذ العمل امریکی محصولات کے علاوہ تھا جس نے دونوں پڑوسی ممالک کے تجارتی تعلقات میں شدید تناؤ پیدا کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، کینیڈین انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ فیصلے کے تحت کینیڈا تقریباً 28 ارب کینیڈین ڈالر (جو کہ تقریباً 20 ارب امریکی ڈالر بنتے ہیں) کی مجموعی مالیت کی امریکی درآمدی مصنوعات اور تجارتی مال پر پندرہ فیصد سے لے کر پچاس فیصد تک کے بھاری جوابی محصولات نافذ کرے گا۔ کینیڈین وزارتِ تجارت کے مطابق ان نئے جوابی محصولات کا باقاعدہ اطلاق رواں سال آٹھ ستمبر کی نصف شب سے کینیڈا بھر میں نافذ العمل ہو جائے گا، جس سے امریکہ کے زراعت، ٹیکنالوجی، اور انڈسٹریل سیکٹر پر براہِ راست معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اس تجارتی کشیدگی اور ٹیرف وار سے شمالی امریکہ کی سب سے بڑی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس کا اثر عالمی منڈیوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ کینیڈا کے وزیرِ تجارت نے واضح کیا کہ کینیڈا اپنے قومی اور معاشی مفادات کا تحفظ کرنا اچھی طرح جانتا ہے اور امریکہ کے بلاجواز اقدامات کے سامنے خاموش نہیں رہے گا۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کا نیا دور، وزیراعظم شہباز شریف سے اعلیٰ سطح کے سعودی کاروباری وفد کی اہم ملاقات

کاشف عباسی , August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کے اہم اور ترجیحی شعبوں میں سعودی عرب کی جانب سے بڑی سرمایہ کاری کی گہری دلچسپی کا پرجوش اور گرمجوش خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان حکومت سے حکومت اور کاروبار سے کاروبار کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے اور وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے یہ بہترین، موزوں اور تاریخ کا سب سے مناسب وقت ہے۔ اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس میں سعودی پاک مشترکہ بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کی قیادت میں آنے والے اعلیٰ سطح کے سعودی کاروباری اور تجارتی وفد سے تفصیلی اور اہم ملاقات کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے اپنے دلی احترام، عقیدت اور نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دہائیوں پر محیط دیرینہ، دینی اور تاریخی برادرانہ تعلقات قائم ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ ان تعلقات کو باہمی مفادات پر مبنی ایک پائیدار اور مضبوط سٹریٹجک اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے تاکہ دونوں ممالک کی معیشت کو استحکام اور پائیدار ترقی حاصل ہو سکے۔

ملاقات کے دوران سعودی وفد کے سربراہ شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے پاکستان کے مختلف اہم اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں جن میں زراعت، بندرگاہوں کی جدید کاری، شاہراہوں کی تعمیر و توسیع، بین الاقوامی ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ، رئیل اسٹیٹ، جدید توانائی کے منصوبوں، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی بہتری اور انفارمیشن ٹیکنالوجی شامل ہیں، میں بڑی سرمایہ کاری اور تجارتی شراکت داری قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کے وژن 2030 کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے اور شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کے سابقہ دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کا موجودہ دورہ گزشتہ بات چیت اور دوطرفہ مذاکرات کو آگے بڑھانے میں انتہائی مددگار ثابت ہو گا اور مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر مالیت کے تجارتی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر پیش رفت کی راہ ہموار کرے گا۔ انہوں نے سعودی وفد کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے ہر ممکن سہولیات، شفاف ماحول اور حکومتی سطح پر کامل تعاون فراہم کرنے کا یقین دلایا۔

اس موقع پر شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے پاکستانی قیادت اور حکومت کے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی حکومت اور وہاں کی تجارتی برادری پاکستان کے نجی اور سرکاری شعبے کے ساتھ تجارتی و کاروباری روابط کو مزید گہرا اور مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ وفد اپنے دورۂ پاکستان کے دوران مختلف وزراء، اعلیٰ حکومتی نمائندوں اور نجی شعبے کے اہم سٹیک ہولڈرز سے بھی تفصیلی ملاقاتیں کرے گا تاکہ آئندہ کے منصوبوں کو حتمی شکل دی جا سکے۔ اس اعلیٰ سطح اور اہم ملاقات میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، جام کمال خان، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، جنید انوار چوہدری، علی پرویز ملک، سردار اویس احمد خان لغاری، محمد حنیف عباسی، وزیراعظم کے مشیران محمد علی، ہارون اختر خان، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی التواء اور پانی کا بطور ہتھیار استعمال پاکستان کے لیے نیا سیکیورٹی چیلنج: وفاقی وزیر احسن اقبال

محمود احمد, August 25,2026

نیویارک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر تاریخی سندھ طاس معاہدے کو التواء میں رکھ کر جدید تاریخ میں پہلی بار پانی کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے، جو پاکستان کی سلامتی اور معیشت کے لیے ایک سنگین اور نیا چیلنج بن چکا ہے۔ نیویارک میں ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیائی اقدامات فروا امین سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ 70 سال پرانا یہ اہم معاہدہ دونوں ممالک کے مابین سخت ترین جنگوں اور کشیدگی کے باوجود ہمیشہ ناقابلِ دست اندازی سمجھا جاتا رہا، تاہم موجودہ بھارتی حکومت کا یکطرفہ اقدام خطے کے امن اور واٹر سیکیورٹی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اقدام سے بھارت کے پاس یہ صلاحیت آ جاتی ہے کہ وہ فصلوں کی اشد ضرورت کے وقت پاکستان کا پانی روک لے یا پھر غیر متوقع طور پر سیلابی پانی چھوڑ کر تباہی مچائے، جس سے مشترکہ آبی وسائل کو دباؤ کا ہتھکنڈہ بنایا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اس سنگین چیلنج سے نمٹنے کے لیے دوہری حکمتِ عملی پر پوری قوت سے کام کر رہا ہے۔ پہلی سطح پر ملک کے اندر پانی ذخیرہ کرنے کے لیے سٹریٹجک بفر کا قیام تیز کر دیا گیا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ چار سے پانچ دہائیوں میں کوئی بڑا ڈیم تعمیر نہیں کیا، لیکن اب دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز پر کام کی رفتار کو تیز کر کے تقریباً 60 لاکھ ایکڑ فٹ اضافی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش پیدا کی جا رہی ہے تا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور بالائی علاقوں سے پانی کے ممکنہ اخراج کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ دوسری سطح پر، پاکستان اس تنازع کو کسی عسکری تصادم یا جنگ کی طرف جانے سے روکنے کے لیے تمام بین الاقوامی اور سفارتی ذرائع کا مؤثر استعمال کر رہا ہے، کیونکہ جنوبی ایشیا کو اس وقت جنگوں کے بجائے غربت، بیماریوں کے خاتمے، اور اپنی نوجوان آبادی کو معیاری تعلیم و روزگار دینے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

گفتگو کے دوران انہوں نے حکومتِ پاکستان کے ‘اڑان پاکستان’ فریم ورک اور 5E حکمتِ عملی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جیو اکنامکس کو ملکی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے پاس 7 ٹریلین ڈالر سے زائد مالیت کے معدنی ذخائر موجود ہیں، اور معاشی استحکام کی بحالی کے بعد امریکی کمپنیوں، ایکسپورٹ امپورٹ بنک، اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا جا رہا ہے۔ احسن اقبال نے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی اور صنعتی تعاون کسی صورت بھی چین کے ساتھ پاکستان کے آئرن کلیڈ تعلقات کی قیمت پر نہیں ہوگا۔ چین نے توانائی بحران کے وقت سی پیک کے ذریعے 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی، اور اب سی پیک 2.0 کے تحت بی ٹو بی ماڈل میں گرین انرجی، زراعت، ٹیکنالوجی اور کان کنی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ وفاقی وزیر نے پاکستان کی نئی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا سینٹرز اور یونیورسٹیوں میں تحقیقی اصلاحات کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان میں اضافی توانائی اور باصلاحیت نوجوان آبادی کی صورت میں ڈیٹا سینٹرز کے لیے پرکشش ماحول موجود ہے، لیکن پانی کے وسائل کا تحفظ ہی ملکی بقا اور غذائی تحفظ کی اصل ضامن ہے۔ پاکستان دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ مساوی اور متوازن تعلقات قائم رکھتے ہوئے اپنی معاشی و آبی خودمختاری کا ہر قیمت پر دفاع جاری رکھے گا۔

پاکستان اور ایتھوپیا کا موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مشترکہ اقدامات اور تجربات کے تبادلے پر زور

منصور احمد, August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے عالمی اثرات کے پیشِ نظر پائیدار ترقی پالیسی ادارے کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح کے سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان اور ایتھوپیا کے مابین موسمیاتی لچک، شجرکاری، پانی کے تحفظ، اور سبز معیشت میں باہمی تعاون کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں ایتھوپیا کے سفیر عمر حسین اوبا نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی انسانی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے اور اب دنیا کو محض خطرات کی نشاندہی کرنے کے بجائے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ انہوں نے ایتھوپیا کے ‘گرین لیگیسی انیشی ایٹو’ کو پاکستان کے لیے ایک بہترین مثال قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے ملک نے شجرکاری اور زمین کی بحالی کو عوامی روزگار سے جوڑا جس سے لاکھوں افراد مستفید ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایتھوپیا حکومت، تحقیق، جامعات اور عوام کے اشتراک سے حاصل ہونے والے اس کامیاب تجربے کو پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ایتھوپیا جیسے ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی خطرات کا محض شکار بننے کے بجائے عالمی سطح پر عملی حل پیش کرنے والے ممالک کے طور پر ابھرنا ہو گا تا کہ قدرتی ماحولیاتی حل اور گرین فنانسنگ کے ذریعے پائیدار ترقی حاصل کی جا سکے۔

اقلیتوں کے حقوق اور کرسچن پرسنل لاء پر پیش رفت جاری رہے گی: وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ

منصور احمد, August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے متعلقہ برادریوں کے نمائندگان کے ساتھ مشاورت سے تمام قانونی و پالیسی امور پر عملدرآمد جاری رکھے گی۔

نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن برائے اقلیتی حقوق کے وفد سے ملاقات کے دوران کرسچن میرج اینڈ ڈیوورس بل، کرسچن پرسنل لاء، تعلیمی و روزگار کے مساوی مواقع، اور اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے خاتمے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے مسیحی خواتین کے شادی و طلاق سے متعلق حقوق کے تحفظ کے لیے موثر قانونی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا جس پر وفاقی وزیر نے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے وفد کو ‘نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز رائٹس’ کے قیام سے متعلق جاری قانون سازی اور پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہے اور اس سلسلے میں تمام نمائندگان کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔

بھارت میں نظامِ صحت کی بدحالی: ضلعی ہسپتالوں میں گردوں کے ماہرین ناپید، رپورٹ نے بھانڈہ پھوڑ دیا

منصور احمد, August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

بھارت میں نریندر مودی حکومت کی پالیسیوں کے باعث جہاں معیشت زوال پذیر ہے، وہی ملک کا پورا نظامِ صحت بھی سنگین بحران کا شکار ہو چکا ہے اور عوام علاج معالجے کے لیے در بدر ہونے پر مجبور ہیں۔

بھارتی جریدے ‘دی وائر’ میں شائع ہونے والی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق، بھارت کی کم از کم 29 ریاستوں اور وفاقی علاقوں کے کسی بھی ضلعی ہسپتال میں ماہرِ امراضِ گردہ (نیفرولوجسٹ) موجود ہی نہیں ہے۔ متعدد ریاستوں میں ڈائیلاسز ٹیکنیشنز اور یورولوجسٹ کی شدید قلت ہے جبکہ کئی جگہوں پر گردوں کے علاج کے لیے طبی عملے کی آسامیاں تک منظور نہیں کی گئیں۔ ‘انڈین ایکسپریس’ میں شائع ‘لانسیٹ کمیشن’ کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی نظامِ صحت غیر مساوی معیار، وسائل کے غلط استعمال اور مالی تحفظ کی عدم دستیابی کا شکار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی 13 سے 16 فیصد نوجوان آبادی گردوں کے امراض میں مبتلا ہے، مگر مودی سرکار نے عوام کی صحت و تعلیم پر توجہ دینے کے بجائے تمام تر توانائی ہندوتوا اور اقتدار کو مضبوط کرنے پر مرکوز کر رکھی ہے۔

موڈیز ریٹنگ میں بہتری پر جرمن سفیر کی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کو مبارکباد: دوطرفہ اقتصادی تعاؤن بڑھانے پر اتفاق

کاشف عباسی , August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان میں جرمنی کی سفیر انا لیپل نے اہم ملاقات کی، جس میں انہوں نے بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ‘موڈیز’ کی جانب سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری پر وزیرِ خزانہ کو مبارکباد پیش کی۔ جرمن سفیر نے علاقائی و تزویراتی چیلنجز کے باوجود پاکستان کے معاشی استحکام اور اصلاحاتی اقدامات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی کاوشوں کو سراہا۔

ملاقات کے دوران وزیرِ خزانہ نے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، مالیاتی نظم و ضبط اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ڈیجیٹلائزیشن پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیکس اصلاحات اور پالیسیوں کے تسلسل سے شفافیت بڑھے گی اور جرمن کثیر القومی کمپنیوں سمیت تمام غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول میسر آئے گا۔

جرمن سفیر نے دوطرفہ تجارتی روابط مزید مضبوط بنانے میں جرمنی کی مکمل دلچسپی کا اعادہ کیا اور وزیرِ خزانہ کو رواں سال جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں منعقد ہونے والی ’19ویں ایشیا پیسیفک کانفرنس آف جرمن بزنس’ میں شرکت کی باضابطہ دعوت بھی دی۔

عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر سپیکر اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے پیغامات: اتحاد، رواداری اور اسوۂ حسنہ کی پیروی پر زور

منصور احمد, August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے عید میلاد النبی ﷺ کے مبارک موقع پر امتِ مسلمہ بالخصوص پاکستانی قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت باسعادت پوری انسانیت کے لیے باعثِ رحمت ہے اور آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ تمام انسانوں کے لیے محبت، عدل، برداشت اور حسنِ اخلاق کا کامل نمونہ ہے۔

اپنے پیغام میں سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ یہ دن محض عقیدت کا اظہار نہیں بلکہ خود احتسابی، اصلاحِ نفس اور سیرتِ نبوی ﷺ کی سچی اتباع کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے انسانوں کو رنگ، نسل اور مذہب کے امتیاز کے بغیر عدل اور احترام کا عالمی درس دیا۔ انہوں نے علماء، مشائخ اور نجی و سرکاری اداروں پر زور دیا کہ وہ بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دیں اور نوجوانوں کو اسوۂ حسنہ سے روشناس کروائیں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے خواتین اور بچوں کے حقوق اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سیرتِ نبوی ﷺ کے اصولوں کو اپنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔

ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے اپنے مبارکبادی پیغام میں کہا کہ نبی کریم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ رشد و ہدایت کا دائمی سرچشمہ ہے۔ انہوں نے فرقہ واریت اور باہمی تعصبات کو ختم کر کے ملک میں اتحاد، برداشت اور یکجہتی کے فروغ پر زور دیا۔ دونوں راہنماؤں نے اللہ تعالیٰ سے ملک اور امتِ مسلمہ میں امن، خوشحالی اور استحکام کے لیے خاص دعائیں بھی کیں۔

یوکرین میں فوری جنگ بندی اور سفارت کاری کی بحالی پر زور: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کا اہم مطالبہ

محمود احمد, August 25,2026

اقوام متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

حکومتِ پاکستان نے ملک کے دو بڑے اقتصادی و انتظامی مراکز اسلام آباد اور لاہور کے درمیان ایک جدید ترین ہائی سپیڈ ریل کوریڈور قائم کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد دونوں شہروں کے درمیان سفری وقت کو نصف سے بھی کم کرنا اور تجارتی روابط کو فروغ دینا ہے۔ اس اہم اور تاریخ ساز منصوبے کی منظوری وفاقی کابینہ اور قومی اقتصادی کونسل کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں دی گئی، جس کی صدارت وزیراعظم نے کی۔ ابتدائی تفصیلات کے مطابق اس جدید ریلوے ٹریک کی کل لمبائی تقریباً تین سو پچاس کلومیٹر ہو گی اور اس پر دو سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے والی بلٹ ٹرین ٹائپ ہائی سپیڈ ٹرینیں چلائی جائیں گی، جس کی بدولت اسلام آباد سے لاہور کا فاصلہ محض پونے دو سے دو گھنٹے میں طے کرنا ممکن ہو سکے گا۔ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف عام مسافروں، تاجروں اور سرکاری حکام کو سفری سہولت میسر آئے گی بلکہ موٹروے اور جی ٹی روڈ پر گاڑیوں کے دباؤ اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی۔ وزاتِ ریلوے اور مواصلات کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اس منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ اربوں ڈالر لگایا گیا ہے جسے بین الاقوامی اور علاقائی مالیاتی اداروں کی شراکت داری نیز پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت مکمل کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت اسلام آباد اور لاہور کے علاوہ راولپنڈی، جہلم، گجرات اور گوجرانوالہ کے قریب بھی جدید انٹرچینج اسٹیشن بنائے جائیں گے تاکہ ملحقہ علاقوں کی آبادی بھی اس تیز رفتار ٹرانسپورٹ سسٹم سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔ کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیرِ مواصلات نے بتایا کہ یہ منصوبہ آنے والی نسلوں کے لیے بنیادی ڈھانچے کا ایک عظیم تحفہ ہو گا جو ملک میں اقتصادی سرگرمیوں میں تزی لانے کے ساتھ ساتھ روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے لیے جدید اور صاف ستھری گرین انرجی یعنی سولر اور الیکٹرک پاور سسٹم کا استعمال کیا جائے گا تا کہ ایندھن کے درآمدمی بل پر بھی قابو پایا جا سکے اور ماحولیات کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ منصوبے کا پہلا فیز تین سال کے عرصے میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اس کے لیے زمین کے حصول اور سروے کا کام رواں سال کے آخر تک شروع کر دیا جائے گا۔ معاشی ماہرین اور تجارتی برادری نے اس منصوبے کو ملک کے ٹرانسپورٹیشن سیکٹر میں ایک شاندار انقلاب قرار دیتے ہوئے اس کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے ملک کی اندرونی تجارت، سیاحت اور صنعتی نقل و حمل کو بے پناہ استحکام حاصل ہو گا۔

پاکستان کی برآمدات میں اضافے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں: وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کی فارن ٹریڈ ونگز کو ہدایت

منصور احمد, August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کی زیرِ صدارت فارن ٹریڈ ونگز کا ایک اہم داخلی اجلاس منعقد ہوا جس میں قومی برآمدات کے فروغ، نئی بین الاقوامی منڈیوں کی تلاش اور بیرونِ ملک تجارتی مشنز کی کارکردگی پر تفصیلی غور کیا گیا۔

وزارتِ تجارت کے ترجمان کے مطابق، وفاقی وزیر جام کمال خان نے عالمی سطح پر ابھرتی ہوئی منڈیوں میں پاکستانی برآمدات کی حوصلہ افزا پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ایکسپورٹ کو مزید بڑھانے کے لیے کوششیں تیز کی جائیں۔ انہوں نے چاول، ٹیکسٹائل، زرعی مصنوعات، فارماسیوٹیکلز، پراسیسڈ فوڈ، لائٹ انجینئرنگ اور سروسز کے شعبوں کے لیے نئی اور غیر روایتی مارکیٹوں تک رسائی حاصل کرنے پر خصوصی زور دیا اور بی ٹو بی روابط کو مزید مضبوط بنانے کا حکم دیا۔

وزیرِ تجارت نے ہدایت کی کہ فارن ٹریڈ ونگز ہر ملک کے ساتھ تجارت کے لیے علیحدہ اور واضح ایکشن پلان ترتیب دیں تاکہ بین الاقوامی تجارتی معاہدے پاکستان کے لیے متوازن اور فائدے مند ثابت ہوں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ زیرِ التوا جوائنٹ ٹریڈ کمیٹیوں کے اجلاس جلد بلائے جائیں اور وزارتِ تجارت، وزارتِ خارجہ، سفارت خانوں اور کاروباری برادری کے مابین رابطہ کاری کو مزید فعال بنایا جائے۔

شاہدرہ میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کا بڑا ایکشن: معروف آئسکریم برانڈ کی ڈسٹری بیوشن سیل، 10 لاکھ روپے جرمانہ

محمود احمد, August 25,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

پنجاب فوڈ اتھارٹی (PFA) کے ڈائریکٹر جنرل راجہ منصور احمد کی ہدایت پر شاہدرہ میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے معروف آئسکریم برانڈ کی ڈسٹری بیوشن کو فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے اور مالک پر 10 لاکھ روپے کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا گیا ہے۔

کارروائی کے دوران ‘فور سٹار ڈسٹری بیوشن’ سے 3 ہزار کلو گرام ایکسپائرڈ (انقضائے المیعاد) آئسکریم برآمد کی گئی جسے موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی کے مطابق تلف کی گئی آئسکریم گزشتہ سال نومبر میں ہی ایکسپائر ہو چکی تھی، جسے منفی 22 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت پر بالکل تازہ اسٹاک کے ساتھ چھپا کر رکھا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ زہریلی اور ناقص آئسکریم تازہ اسٹاک کی آڑ میں مختلف شہروں کی مارکیٹوں میں سپلائی کی جانی تھی۔

ڈی جی فوڈ اتھارٹی راجہ منصور احمد نے اس موقع پر سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ عوام خصوصاً بچوں کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور ادارے کی جانب سے ان کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب بھر میں ناقص، سڑی ہوئی یا ایکسپائرڈ اشیائے خورونوش کی فروخت کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔

گھریلو چوری کی واردات میں ملوث ملزم گرفتار: بنی گالا پولیس نے 6 لاکھ روپے سے زائد کا مالِ مسروقہ برآمد کر لیا

منصور احمد, August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

اسلام آباد کے تھانہ بنی گالا پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گھریلو چوری کی واردات میں ملوث ملزم کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے 6 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا چوری شدہ سامان برآمد کر لیا ہے۔

ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق، ملزم ایک گھر میں غیر قانونی طور پر داخل ہو کر لیپ ٹاپ، طلائی زیورات، قیمتی گھڑیاں اور دیگر اشیاء چوری کر کے فرار ہو گیا تھا۔ بنی گالا پولیس ٹیم نے سائنسی و تفتیشی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو ٹریس کر کے گرفتار کیا۔ گرفتار ملزم کی شناخت ‘حبیب’ کے نام سے ہوئی ہے۔

ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد، قاضی علی رضا نے بتایا کہ گرفتار ملزم سے برآمد کیے گئے مالِ مسروقہ میں 6 لاکھ روپے سے زائد کی قیمتی گھڑیاں، لیپ ٹاپ اور طلائی زیورات شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح بناتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا امتیاز بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں ایس آئی یو ٹی کے قیام کی کاوشیں قابلِ تحسین: رجب علی شیخ کی گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات

محمود احمد, August 25,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رجب علی شیخ نے گورنر ہاؤس پشاور میں اہم ملاقات کی، جس کے دوران ڈیرہ اسماعیل خان کی علاقائی ترقی اور عوامی بہبود کے مختلف منصوبوں پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

گورنر ہاؤس پشاور کے ترجمان کے مطابق، ملاقات میں رجب علی شیخ نے ڈیرہ اسماعیل خان میں سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (SIUT) کے قیام کے لیے گورنر فیصل کریم کنڈی کی انتھک کاوشوں کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی یو ٹی کا قیام نہ صرف ڈیرہ اسماعیل خان بلکہ خیبر پختونخوا کے ساتھ ساتھ پنجاب اور بلوچستان کے ملحقہ اضلاع کے عوام کے لیے بھی صحت کے شعبے میں ایک عظیم تحفہ ثابت ہو گا۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے اس موقع پر اعادہ کیا کہ صوبے خصوصاً پسماندہ اضلاع میں معیاری طبی سہولیات اور انفراسٹرکچر کی فراہم حکومت اور ان کی ترجیحات میں شامل ہے تا کہ عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات میسر آ سکیں۔

مالی سال 2026ء میں پاکستان کے گلابی نمک کی برآمدات 3 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں: برآمدی حجم 1.48 لاکھ ٹن سے متجاوز

منصور احمد, August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

حکومتِ پاکستان کی جانب سے قدرتی وسائل کی عالمی تشہیر، جغرافیائی شناخت اور ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ کے نتیجے میں مالی سال 2026ء کے دوران پاکستان کے گلابی نمک کی برآمدات 3 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ برآمدی حجم 1 لاکھ 48 ہزار 71 ٹن سے تجاوز کر گیا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق مالی سال 2025ء میں پنک سالٹ کی برآمدات 3 کروڑ 50 لاکھ ڈالر (1,27,924 ٹن) تھیں، جس میں واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے مطابق ملک میں چٹانی نمک کے تخمینہ ذخائر 6 کروڑ 50 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد ہیں جن میں 99 فیصد تک خالصیت پائی جاتی ہے۔ حکومت نے اس کی عالمی شناخت مضبوط بنانے کے لیے ‘کھیوڑہ پنک راک سالٹ’ کے نام سے جغرافیائی اشاریہ (GI) رجسٹر کروایا ہے جس کے بین الاقوامی اندارج پر بھی کام جاری ہے۔ برآمدات کی شفافیت کے لیے کسٹمز میں مخصوص ایچ ایس کوڈ (2501.0021) متعارف کروایا گیا ہے جبکہ انڈر انوائسنگ روکنے کے لیے کم از کم برآمدی قیمت 130 ڈالر فی میٹرک ٹن مقرر کی گئی ہے۔

ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) نے ورلڈ ایکسپو 2025ء اوساکا سمیت گلف فوڈ یو اے ای، انوگا جرمنی اور سیال فرانس جیسی بین الاقوامی نمائشوں میں پاکستانی پنک سالٹ کی بھرپور برانڈنگ کی ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کے اس منفرد قدرتی ورثے اور معاشی صلاحیت کو اجاگر کرنا ہے۔

ایم 6 موٹروے سکھر۔حیدرآباد سیکشن: 40 ارب روپے کے فنڈز جاری کیے جائیں، رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی کا مطالبہ

کاشف عباسی , August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینئر رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے سکھر۔حیدرآباد ایم 6 موٹروے (M-6 کی عدم تکمیل اور فنڈز کی قلت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے کے لیے درکار بقایا 40 ارب روپے فوری طور پر مہیا کیے جائیں۔

منگل کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران نکتۂ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے شرمیلا فاروقی نے کہا کہ ایم 6 موٹروے ایک انتہائی اہم اور سٹریٹیجک نوعیت کا قومی منصوبہ ہے جس کی تکمیل میں بلاوجہ تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 70 ارب روپے میں سے صرف 30 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں جبکہ بقیہ فنڈز کے لیے وسائل کی عدم دستیابی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا عذر پیش کیا جا رہا ہے۔

شرمیلا فاروقی نے سندھ کے ساتھ عدم مساوات کا گلہ کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ ایک طرف ایم 6 کو فنڈز نہیں دیے جا رہے، جبکہ دوسری طرف حال ہی میں ایکنک نے پنجاب میں ایک موٹروے کی منظوری دے کر اس کے لیے 49 ارب روپے کے فنڈز جاری بھی کر دیے ہیں۔ انہوں نے سپیکر سے درخواست کی کہ سندھ کے اس انتہائی اہم بنیادی ڈھانچے کے معاملے کو فوری طور پر متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے تا کہ ایم 6 کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔

آبنائے ملاکا اور سنگاپور کو آزاد اور محفوظ بحری گزرگاہ برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ: انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور کا سنگاپور فورم میں اہم اقدام

محمود احمد, August 25,2026

سنگاپور/جکارتہ (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور نے منگل کے روز آبنائے ملاکا اور سنگاپور کو بین الاقوامی بحری تجارت اور جہاز رانی کے لیے آزاد، کھلی اور محفوظ گزرگاہوں کے طور پر برقرار رکھنے کے اپنے عزم کا دوبارہ اعادہ کیا ہے۔

چینی خبر رساں ادارے ‘شنہوا’ کی رپورٹ کے مطابق سنگاپور میں منعقدہ 17ویں تعاون فورم کے موقع پر تینوں ساحلی ممالک نے ان اہم بحری گزرگاہوں کی بین الاقوامی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس کے اختتام پر جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ 1982ء کے اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام بحری جہازوں کو ان حدود سے بلا تعطل گزرنے کا بنیادی حق (حقِ عبوری گزر) حاصل ہے، اور یہ تینوں ممالک ہر سطح پر جہاز رانی کی آزادیوں کا احترام کرتے ہیں۔

انڈونیشیا کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سی ٹرانسپورٹیشن، ملائیشیا کے میرین ڈیپارٹمنٹ اور سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ موقف میں واضح کیا گیا کہ ان بحری راستوں سے فائدہ اٹھانے والے ممالک، بین الاقوامی تنظیموں اور سمندری صنعت سے وابستہ تمام فریقین کو بھی آمدورفت کی سلامتی، حفاظت اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے میں اپنا متحرک اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔

دریائے کولوراڈو کے پانی میں کٹوتی کا تنازع: نیواڈا ریاست نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا

محمود احمد, August 25,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

امریکی ریاست نیواڈا نے دریائے کولوراڈو کے پانی کی تقسیم سے متعلق وفاقی حکومت کے کٹوتی کے منصوبے کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف باضابطہ قانونی مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ امریکی جنوب مغرب کی 7 ریاستوں اور 4 کروڑ سے زائد عوام کو سیراب کرنے والے اس اہم ترین دریا پر جاری شدید خشک سالی اور پانی کی تقسیم پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد یہ بڑا قانونی قدم اٹھایا گیا ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق وفاقی حکومت نے حال ہی میں زیریں طاس کی ریاستوں—نیواڈا، ایریزونا اور کیلیفورنیا—کے لیے پانی کی فراہمی میں 2036ء تک سالانہ 3.7 ارب مکعب میٹر تک کٹوتی کا فیصلہ سنایا ہے، جبکہ بالائی طاس کی ریاستوں کو اس کٹوتی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ نیواڈا حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے ان کے حصے کا 2 تہائی پانی کم ہو جائے گا، جس سے صحرائی شہر ‘لاس ویگاس’ کو شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے جو اپنی 90 فیصد پانی کی ضروریات کے لیے اسی دریا پر انحصار کرتا ہے۔ نیواڈا کے ریپبلکن گورنر جو لومبارڈو نے واضح کیا کہ یہ کوئی سیاسی ڈرامہ نہیں بلکہ نیواڈا کے شہریوں اور معیشت کی بقا کا جنگ ہے۔

دوسری جانب وفاقی حکام کا موقع ہے کہ تمام 7 ریاستوں کے درمیان پانی کے استعمال پر عدم اتفاق کے باعث یہ کارروائی ناگزیر تھی، تاکہ لیک پاول اور لیک میڈ جیسے تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ جانے والے ڈیموں میں پن بجلی کی پیداوار اور پانی کا بنیادی نظام مکمل طور پر مفلوج ہونے سے بچایا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق نیواڈا کے بعد ایریزونا ریاست کی جانب سے بھی ٹرمپ انتظامیہ کے اس منصوبے کے خلاف داد رسی کے لیے وفاقی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے جانے کا شدید امکان ہے۔

سوڈان کا بحران: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا پائیدار امن کے لیے سوڈانی قیادت میں سیاسی عمل پر زور

محمود احمد, August 25,2026

اقوام متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

پاکستان نے سوڈان میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی و انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مسلسل رابطہ کاری، بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری اور فوری انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ سوڈان میں پائیدار امن کی بحالی صرف اور صرف سوڈانی قیادت اور سوڈانی ملکیت میں چلنے والے سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے دارفور، کردفان اور بالخصوص العبید کی ابتر ہوتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے عسکری رویے اور بڑھتی کشیدگی کو دارفور، الجنینہ اور الفاشر میں ہونے والے مظالم کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ تنازع اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکا ہے اور اس کا سب سے بڑا خامیانہ عام شہری بھگت رہے ہیں۔ پاکستان نے واضح کیا کہ ایک متحد، مستحکم اور خودمختار سوڈان نہ صرف وہاں کے عوام بلکہ پورے افریقہ کے امن و خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔

پاکستان نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے فوری طور پر جدہ اعلامیے پر عملدرآمد یقینی بنائے اور بلا رکاوٹ امداد کی رسائی ممکن بنائے۔ سفیر عاصم افتخار نے کونسل پر واضح کیا کہ ایک خودمختار ریاست کی قومی مسلح افواج اور نسل کشی کے التزامات کا سامنا کرنے والی ملیشیا کے درمیان واضح فرق برقرار رکھا جائے اور سوڈان کی تقسیم یا متوازی حکومت قائم کرنے کی کسی بھی کوشش کی سختی سے مخالفت کی جائے۔