سیاحتی مقامات پر ہائی الرٹ: مری اور گلیات میں تیز بارشوں کا نیا سلسلہ متوقع، ریسکیو 1122 کے تمام وسائل متحرک

منصور احمد june 22,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

ملکہ کوہسار مری، گلیات اور ان کے مروجہ گرد و نواح میں آئندہ چند روز کے دوران گرج چمک، تیز تند ہواؤں اور موسلا دھار بارشوں کی نئی پیش گوئی کے پیشِ نظر پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 مری نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ خراب موسم اور ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹنے کے لیے تمام دستیاب ایمرجنسی وسائل، اسپیشلائزڈ ریسکیو ٹیموں اور کنٹرول روم کے عملے کو فیلڈ مارشل ڈسپلن کے تحت مکمل طور پر متحرک کر دیا گیا ہے۔ ریسکیو 1122 مری کے ترجمان کے مطابق، حالیہ موسمیاتی رپورٹس میں مختلف اوقات کے دوران شدید موسمی سرگرمیوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کے باعث مقتدر انتظامیہ کی جانب سے تمام حفاظتی اور قبل از وقت انتظامی اقدامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

ترجمان نے تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ خراب موسم کے دوران کسی بھی ناگہانی آفت یا حادثے کی صورت میں فوری رسپانس کو یقینی بنانے کے لیے فائر وہیکلز، جدید ایمبولینسز اور ہیوی ریسکیو اہلکاروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رکھا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق، ان شدید پہاڑی بارشوں کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ ، پتھر اور درخت گرنے، سڑکوں پر شدید پھسلن، ٹریفک حادثات اور نشیبی برساتی ندی نالوں میں اچانک طغیانی کے شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اسی تزویراتی تناظر میں مری آنے والے سیاحوں اور مقامی شہریوں کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طویل سفر سے مکمل گریز کریں اور ندی نالوں یا خطرناک چٹانی گزرگاہوں سے دور رہیں۔ ریسکیو 1122 نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری مدد کے لیے ہیلپ لائن 1122 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

فلپائن میں اسکول کے اندر اندھا دھند فائرنگ، 3 افراد ہلاک، 5 شدید زخمی؛ کم عمر ملزمان گرفتار

روزینہ اسماعیل.june 22,2026

منیلا (بین الاقوامی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

فلپائن کے شہر تکلوبان میں واقع ایک ہائی اسکول میں فائرنگ کے افسوسناک اور دلخراش واقعے میں 3 افراد موقع پر ہلاک جبکہ 5 زخمی ہو گئے۔ مقامی پولیس اور انتظامیہ کے مطابق، یہ لرزہ خیز واقعہ پیر کی صبح اس وقت پیش آیا جب اسکول میں معمول کے مطابق تدریسی سرگرمیاں جاری تھیں اور طلبہ کلاس رومز میں موجود تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، فائرنگ تکلوبان کے ‘سان ہوزے نیشنل ہائی اسکول’ میں صبح تقریباً 9 بجے ہوئی، جس کے نتیجے میں پورے تعلیمی ادارے میں شدید خوف و ہراس اور بھگدڑ مچ گئی۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس کی بھاری نفری اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور لاشوں و زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔

تکلوبان پولیس حکام نے مقتدر میڈیا کو بتایا کہ اس سفاکانہ حملے میں ملوث دونوں مشتبہ کم عمر ملزمان کو فوری کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، گرفتار ہونے والوں میں ایک 15 سالہ لڑکا شامل ہے جو اسی اسکول کا گریڈ 9 کا طالب علم بتایا جاتا ہے، اسے اسکول کی عمارت کے اندر سے ہی اسلحہ سمیت حراست میں لیا گیا، جبکہ اس کے دوسرے مشتبہ ساتھی کو اسکول سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران گھیراؤ کر کے دبوچا گیا۔ فائرنگ کے فوری بعد سوشل میڈیا پر واقعے کی مبینہ ویڈیوز گردش کرنے لگیں جن میں گولیوں کی آوازیں اور بچوں کی چیخ و پکار سنی جا سکتی ہے، تاہم پولیس حکام نے امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر عوام سے غیر مصدقہ معلومات اور افواہیں پھیلانے سے گریز کرنے کی مقتدر اپیل کی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، کم عمر حملے آوروں کی جانب سے اس انتہائی قدم اور فائرنگ کے اصل محرکات تاحال واضح نہیں ہو سکے ہیں، اور پولیس دہشت گردی، ذاتی عناد اور دیگر مختلف پہلوؤں سے تفتش کا دائرہ وسیع کر کے تحقیقات کر رہی ہے۔ واقعے کے بعد تکلوبان کے تمام تعلیمی اداروں اور اطراف کے حساس علاقوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، جبکہ مقامی صوبائی انتظامیہ نے متاثرہ خاندانوں سے دلی اظہارِ افسوس کرتے ہوئے اسپتال انتظامیہ کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے سیاسی مبصرین کے مطابق، اس واقعے نے فلپائن کے تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی انتظامات، گن کنٹرول قوانین اور طلبہ کے ذہنی رجحانات کے حوالے سے ایک نئی ملک گیر بحث کو جنم دے دیا ہے اور والدین کی جانب سے حکومت سے سخت ترین اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

خلیجی معیشت میں بڑا اقدام: کویت کا غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے 15 سالہ اقامہ متعارف، پاکستانی تاجر بھی مستفید ہو سکیں گے

محمود احمد june 22,2026

کویت سٹی ( نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

خلیجی ریاست کویت نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور عالمی کاروباری شخصیات کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے ایک تزویراتی اور تاریخی پیشرفت کرتے ہوئے 15 سالہ طویل مدتی اقامہ (ریذیڈنسی ویزا) باقاعدہ متعارف کرا دیا ہے۔ نئے مقتدر قانون کے تحت مروجہ شرائط پر پورا اترنے والے اہل غیر ملکی سرمایہ کار، ان کے کاروباری شراکت دار اور قریبی اہلِ خانہ اب کفیل (اسپانسر) کے روایتی نظام کے بغیر طویل مدت تک کویت میں رہائش اختیار کرنے اور اپنی تجارتی سرگرمیاں بلاروک ٹوک جاری رکھنے کے اہل ہوں گے۔

کویتی حکام کے مطابق، اس انقلابی اقدام کا بنیادی مقصد ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو متحرک کرنا، ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنانا اور کویت کو خلیجی خطے کے نمایاں مالیاتی و تجارتی مراکز کی صف میں شامل کرنا ہے۔ نئی پالیسی کے مقتدر ضوابط کے تحت وہ تمام غیر ملکی افراد درخواست دینے کے مجاز ہوں گے جو کویت میں حکومت سے منظور شدہ تزویراتی سرمایہ کاری منصوبوں اور فعال کاروباری سرگرمیوں سے وابستہ ہوں۔ کویتی وزارتِ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ اس خصوصی اقامے کی سہولت حاصل کرنے والوں میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے علاوہ تسلیم شدہ بین الاقوامی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران اور رجسٹرڈ کاروباری شراکت دار بھی شامل ہیں۔ پاکستانی سرمایہ کار اور کاروباری برادری بھی خلیج کی اس نئی پالیسی سے یکساں طور پر مستفید ہو سکیں گے۔

نئے مروجہ قواعد و ضوابط کے تحت سرمایہ کاروں کے لیے یہ لازمی ہوگا کہ ان کے کاروباری منصوبے ‘کویت ڈائریکٹ انویسٹمنٹ پروموشن اتھارٹی’ سے باقاعدہ تصدیق شدہ اور منظور شدہ ہوں، جبکہ مقامی کویتی شہریوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور حکومت کی مقرر کردہ کم از کم سرمایہ کاری کی مخصوص حد (تھریش ہولڈ) کو پورا کرنا بھی لازمی ہوگا۔ کویتی کابینہ کی منظوری کے بعد نافذ ہونے والی یہ نئی ویزا اصلاحات ملک کے طویل المدتی اقتصادی وژن کا ایک اہم حصہ ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد کویت بھی اب متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے خلیجی ممالک کی اس صف میں شامل ہو گیا ہے جو عالمی ٹیلنٹ اور سرمائے کو محفوظ اور مستحکم ماحول فراہم کر رہے ہیں، جس سے پاکستانی تاجروں کے لیے بھی مڈل ایسٹ میں کاروباری توسیع کے نئے اور مقتدر مواقع پیدا ہوں گے۔

تاریخی فتح: فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے نیوزی لینڈ کو پچھاڑ دیا، فٹبال تاریخ کا 92 سالہ انتظار ختم

محمود احمد june 22,2026

ہیوسٹن (اسپورٹس رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

اسٹار فارورڈ محمد صلاح کی شاندار کارکردگی کی بدولت مصر کی ورلڈ کپ تاریخ میں پہلی فتح؛ گروپ جی میں چار پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست

مصر کی قومی فٹبال ٹیم نے فیفا ورلڈ کپ کے مقتدر اسٹیج پر شاندار اور جارحانہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کو 1-3 سے عبرتناک شکست دے کر ٹورنامنٹ کی تاریخ میں اپنی پہلی مقتدر فتح حاصل کر لی ہے۔ مصری ٹیم کی یہ الٹ پھیر کامیابی ملک کی فٹبال تاریخ کا ایک یادگار اور سنہری باب قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ سال 1934ء میں ورلڈ کپ میں پہلی بار شرکت کرنے کے بعد سے اب تک مصر کو پہلی مرتبہ عالمی سطح پر کسی میچ میں فتح نصیب ہوئی ہے، جس سے ان کا 92 سالہ طویل انتظار ختم ہو گیا ہے۔

کھیل کے پہلے ہاف میں نیوزی لینڈ نے پراعتماد آغاز کیا اور میچ کے ابتدائی منٹوں میں ایک خوبصورت کارنر کک پر فن سرمین کے شاندار ہیڈر کی بدولت 0-1 کی برتری حاصل کر لی۔ پہلے 45 منٹ کے اختتام تک مصر ایک گول کے خسارے میں تھا، تاہم دوسرے ہاف میں مصری ٹیم نے فیلڈ مارشل اسٹرٹیجی کے تحت انتہائی جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے مقابلے کا رخ مکمل طور پر بدل دیا۔ میچ کے 58ویں منٹ میں مصطفیٰ زیکو نے محمد ہانی کے فلائی کراس پر بہترین ہیڈر کے ذریعے گول داغ کر مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا، جس کے چند ہی منٹ بعد مصری کپتان اور عالمی شہرت یافتہ اسٹار فارورڈ محمد صلاح نے حریف دفاع کو جلا دیتے ہوئے مصر کو 1-2 کی برتری دلا دی۔

میچ کے آخری لمحات میں محمد صلاح نے ایک بار پھر جادوئی کھیل پیش کرتے ہوئے گول کرنے کا خوبصورت موقع پیدا کیا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے محمود تریزیگیہ نے توازن کے ساتھ ہیڈر کے ذریعے گیند کو جال کی راہ دکھا کر تیسرا گول اسکور کیا اور مصری فتح پر حتمی مہر ثبت کر دی۔ صلاح کی اس مقتدر کارکردگی نے نہ صرف ٹیم کو تاریخی کامیابی دلائی بلکہ ورلڈ کپ کے اگلے ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی کی امیدوں کو بھی روشن کر دیا ہے۔ اس فتح کے بعد مصر دو میچوں میں چار پوائنٹس کے ساتھ گروپ جی میں سرفہرست آ گیا ہے جبکہ نیوزی لینڈ ایک پوائنٹ کے ساتھ آخری پوزیشن پر ہے۔ میچ کے اختتام پر ہیوسٹن اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں مصری شائقین نے قومی پرچم لہرا کر جشن منایا، جبکہ مصر کی نظریں اب اپنے اگلے گروپ میچ پر مرکوز ہیں۔

برطانیہ میں بڑا سیاسی بھونچال: برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کا استعفیٰ، کنگ چارلس کو فیصلے سے مطلع کر دیا

منصور احمد june 22,2026

لندن (بین الاقوامی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے اپنی ہی جماعت لیبر پارٹی کے اندر سے شدید اور مسلسل بڑھتے ہوئے تزویراتی دباؤ کے بعد بالآخر ٹیلی ویژن پر براہِ راست خطاب کرتے ہوئے اپنے مقتدر عہدے سے استعفیٰ دینے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، کیئر اسٹارمر کا یہ اچانک اور بڑا فیصلہ ان کے سیاسی حریف اینڈی برنم کی جانب سے نارتھ ویسٹ انگلینڈ میں ضمنی الیکشن کے دوران پارلیمنٹ کی نشست پر حاصل کی جانے والی فیصلہ کن فتح کے فوراً بعد سامنے آیا ہے۔ 63 سالہ سابق وکیل اور لیبر پارٹی کے سربراہ کیئر اسٹارمر حالیہ چند ماہ میں متعدد داخلی پالیسیوں، معاشی فیصلوں اور مختلف سیاسی اسکینڈلز کے باعث برطانوی ووٹرز اور عوامی سرویز میں اپنی مروجہ مقبولیت بری طرح کھو چکے تھے۔

ٹیلی ویژن پر جذباتی اور براہِ راست خطاب کرتے ہوئے کیئر اسٹارمر نے مقتدر عوام کو بتایا کہ انہوں نے بکنگھم پیلس میں کنگ چارلس کو اپنے اس فیصلے سے باقاعدہ مطلع کر دیا ہے، جبکہ انہوں نے لیبر پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملک اور پارٹی کے مقتدر وقار کی خاطر نئے قائد کے انتخاب کا عمل فوری شروع کریں، جس کے لیے کاغذاتِ نامزدگی 9 جولائی سے جمع کروائے جا سکیں گے۔ واضح رہے کہ سال 2024ء کے عام انتخابات میں کیئر اسٹارمر نے کنزرویٹو پارٹی کے 14 سالہ طویل اقتدار کا خاتمہ کرتے ہوئے، 1997ء کے بعد لیبر پارٹی کو برطانوی تاریخ کی سب سے بڑی پارلیمانی اکثریت دلوائی تھی، مگر وہ تبدیل ہوتے جیو پولیٹیکل حالات اور عوامی مینڈیٹ کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے۔ ان کے اس استعفے اور ٹائم ٹیبل کے اعلان کے ساتھ ہی برطانیہ میں نئے وزیرِ اعظم کی دوڑ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔

عالمی امن کا سنہری موقع: امریکہ اور ایران کے درمیان ایسے نتیجہ خیز مذاکرات کے منتظر ہیں جو مثبت نتائج لائیں، وزیرِ اعظم شہباز شریف

محمود احمد june 21,2026

برگن اسٹاک (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے مابین جاری تاریخی بات چیت کو عالمی تاریخ کا ایک بڑا تزویراتی موڑ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی امن کے مستقل قیام کے لیے یہ ایک انتہائی اہم اور سنہری موقع ہے، جہاں ہم سب مل کر دنیا بھر میں امن و استحکام کا ایک مضبوط اور پائیدار اتحاد قائم کر سکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق، سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مقتدر اعلیٰ سطحی مذاکرات کے پہلے سیشن کے اختتام پر وزیرِ اعظم پاکستان نے بین الاقوامی میڈیا سے خصوصی گفتگو کی۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس انتہائی پیچیدہ اور نازک امن معاہدے کو ممکن بنانے کے لیے پسِ پردہ ایک غیر معمولی، کلیدی اور مخلصانہ کردار ادا کیا ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت، جرات مندانہ سوچ اور براہِ راست مذاکرات کے فعال ویژن کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہی کی تزویراتی دور اندیشی کے باعث امریکہ اور ایران کا ایک میز پر بیٹھنا ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سرگرم سفارت کاری کو بھی سراہا اور قوی امید ظاہر کی کہ یہ نتیجہ خیز مذاکرات مشرقِ وسطیٰ اور پوری دنیا کے لیے مثبت معاشی و سیاسی نتائج لائیں گے۔

اس اہم مقتدر موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ جے ڈی وینس نے پاک فوج کے سربراہ کی اعلیٰ حکمتِ عملی کا اعتراف کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ایک بہترین سپہ سالار قرار دیا۔ امریکی نائب صدر نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شروع دن سے ہی اس امن مشن میں واشنگٹن کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہے ہیں، اور اس سنگین عالمی بحران کو ٹالنے کے لیے پاکستان نے جو غیر جانبدارانہ اور تعمیری کردار ادا کیا ہے، اسے عالمی سطح پر بھرپور طریقے سے سراہا گیا ہے۔ جے ڈی وینس نے پاک-امریکہ دیرینہ تعلقات کو ایک نیا رخ دیتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر میرے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتہائی قریبی اور قابلِ اعتماد دوست ہیں، اور دونوں ممالک کا باہمی سیکیورٹی تعاون خطے کی سلامتی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

امریکہ اور ایران کا پاکستان کی اعلیٰ قیادت پر بھرپور اعتماد، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عالمی مذاکراتی میز پر متحرک شرکت

محمود احمد june 21,2026

برگن اسٹاک (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

سوئٹزرلینڈ کے مقتدر شہر برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی میں کمی، پائیدار جنگ بندی اور خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے تاریخ ساز مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی پریس اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکہ اور ایران کے اعلیٰ اختیاراتی وفود ایک خصوصی بند کمرہ اجلاس میں آمنے سامنے بیٹھے، جہاں مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، فوری جنگ بندی، سفارتی چینلز کی بحالی اور مستقبل کے پائیدار امن فریم ورک کے مختلف تزویراتی پہلوؤں پر تفصیلی اور گہرائی سے بات چیت کی جا رہی ہے۔

باوثوق سفارتی ذرائع کے مطابق، ان انتہائی حساس اور معلق مذاکرات کو ممکن بنانے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ایک تاریخی، متوازن اور مؤثر ثالثی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کی غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی اور دونوں عالمی طاقتوں کے ساتھ یکساں مضبوط سفارتی رابطوں کو اس پورے مذاکراتی عمل میں مرکزی اور نمایاں اہمیت دی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، امریکہ اور ایران دونوں ممالک نے پاکستان کے مصالحتی کردار کو دل کھول کر سراہتے ہوئے اس اہم ترین امن مشن میں پاکستان کی فعال شمولیت اور رہنمائی پر اپنے غیر مشروط اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اس مقتدر امن مشن میں پاکستان کی تزویراتی نمائندگی وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خود کر رہے ہیں۔

عالمی سفارتی گیلری کے مطابق، امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر جیسے اہم ترین مقتدر مہرے شامل ہیں، جبکہ دوسری جانب ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جن کے ہمراہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور قومی سلامتی کے دیگر اعلیٰ حکام بھی مذاکرات کی میز پر موجود ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں پاکستان کے علاوہ برادر ملک قطر کا اعلیٰ سطحی وفد بھی سہولت کار کے طور پر شریک ہے۔ اس وقت پاکستان، قطر، امریکہ اور ایران پر مشتمل چار ملکی اسٹرٹیجک اجلاس میں مروجہ “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کے اہم نکات، مستقل جنگ بندی کے امکانات اور علاقائی استحکام کے آئندہ کے سفارتی لائحہ عمل پر باریک بینی سے تکنیکی مشاورت جاری ہے۔ عالمی سیاسی و سفارتی حلقوں کے مطابق، دو روایتی حریفوں کو ایک میز پر لانا پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی، موجودہ سیاسی قیادت اور قومی سلامتی کے اداروں کے لیے ایک شاندار اور تزویراتی کامیابی قرار دی جا رہی ہے، جبکہ دنیا بھر کی نظریں اب اس اجلاس کے باقاعدہ مشترکہ اعلامیے پر لگی ہوئی ہیں۔

برگن اسٹاک میں جے ڈی وینس اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، غیر رسمی گفتگو سوشل میڈیا پر زیرِ بحث

محمود احمد june 21,2026

برگن اسٹاک (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت علاقے برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تاریخی امن مذاکرات کے موقع پر پاکستان، امریکہ، ایران اور قطر کے اعلیٰ سطحی وفود کی مقتدر ملاقاتیں مسلسل جاری رہیں۔ اس دوران وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ایک خصوصی اور تزویراتی ملاقات کی، جس میں خطے میں پائیدار امن، امریکہ ایران مذاکرات، ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر پیش رفت اور سفارتی تعاون سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان نے اس پیچیدہ مذاکراتی عمل میں سہولت کاری اور رابطہ کاری کے لیے ایک کلیدی اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔

سفارتی ملاقاتوں کے اس پسِ منظر میں سوشل میڈیا پر اس بیٹھک سے متعلق ایک غیر رسمی گفتگو بھی تیزی سے گردش کر رہی ہے، جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے منسوب ایک جملہ خاصا زیرِ بحث بنا ہوا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی پریس گیلری اور باوثوق سفارتی ذرائع کے مطابق اس مبینہ جملے کی کسی بھی سرکاری امریکی یا پاکستانی مقتدر بیان سے آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور اسے محض سوشل میڈیا مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق برگن اسٹاک میں ہونے والی یہ اعلیٰ سطحی ملاقات انتہائی خوشگوار اور مقتدر ماحول میں ہوئی، جہاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت اور خطے میں امن کے قیام کے لیے جاری مخلصانہ سفارتی کوششوں کو دل کھول کر سراہا۔ پریس کانفرنس اور تجزیہ کاروں کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اس عالمی فورم پر موجودگی کو مذاکراتی عمل میں پاکستان کے فعال، اسٹرٹیجک اور بااثر کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے وفود کے درمیان ان مذاکرات کا بنیادی مقصد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر من و عن عملدرآمد، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور وسیع تر عالمی امن کے امکانات کو آگے بڑھانا ہے۔

سربراہی اجلاس: سوئٹزرلینڈ میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے اہم ملاقات، پاک-امریکہ وفود میں غیر معمولی گرمجوشی کا مظاہرہ

محمود احمد june 21,2026

زیورخ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

سوئٹزرلینڈ کے تفریحی مقام برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی امن مذاکرات کے باقاعدہ آغاز پر پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ایک انتہائی اہم اور مقتدر ملاقات ہوئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر عملدرآمد کے لیے سوئٹزرلینڈ کے جیو پولیٹیکل مذاکراتی مرکز میں ہونے والی اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین سٹرٹیجک تعلقات اور خطے کے امن پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر بھی موجود تھے، اور ملاقات میں اس وقت غیر معمولی سفارتی گرمجوشی دیکھی گئی جب اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شاندار استقبال کیا اور ان سے گرمجوشی سے بغل گیر ہوئے۔

بین الاقوامی سفارتی ذرائع کے مطابق برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ اختیاراتی وفود امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پہنچ چکے ہیں۔ ایرانی وفد کی قیادت وہاں کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف کر رہے ہیں، جسے ایرانی میڈیا میں ’میناب 168‘ کا خصوصی نام دیا گیا ہے، اس وفد میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، قومی سلامتی کونسل کے اہم عہدیدار علی باقری، مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی، کاظم غریب آبادی اور اسماعیل بقائی شامل ہیں، جبکہ امریکی وفد کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس خود کر رہے ہیں۔ عالمی امن کے اس مقتدر عمل میں سہولت کار کے طور پر قطر اور سوئٹزرلینڈ کے خصوصی نمائندے بھی کلیدی حیثیت میں شریکِ گفتگو ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اس اہم پیشرفت پر اپنا مقتدر مؤقف جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، ایران اور امریکہ کے درمیان طے شدہ امن مفاہمت پر عملدرآمد کی بھرپور تائید و حمایت کرتا ہے اور اس عالمی عمل کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار مستقل جاری رکھے گا۔ اس تاریخی عالمی سربراہی موقع پر وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی ایران، قطر، سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کے وفود کے ساتھ سائیڈ لائن پر انتہائی اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ ترجمان دفترِ خارجہ نے واضح کیا کہ اس سنگین عالمی بحران میں پاکستان کی سفارتی سہولت کاری اس کے اصولی، متوازن اور امن پسند مؤقف کی کھلی مظہر ہے، کیونکہ امریکہ اور ایران کے ابتدائی مذاکراتی ادوار کی کامیاب میزبانی اور پاکستان کے مسلسل مقتدر سفارتی رابطے ہی بالآخر دونوں فریقین کو ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کی میز پر لانے کا بنیادی باعث بنے ہیں۔

بجٹ اجلاس: قومی اسمبلی نے 4 ہزار 232 ارب روپے کے 89 مطالباتِ زر کی منظوری دے دی

کاشف عباسی ,june 21,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

مالی سال 27۔2026ء کے وفاقی بجٹ کو حتمی شکل دینے کے مراحل میں قومی اسمبلی نے ایک بڑی مقتدر پیشرفت کرتے ہوئے مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کے 4 ہزار 232 ارب روپے سے زائد مالیت کے 89 مطالباتِ زر کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اتوار کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ بجٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے مجموعی طور پر 4 ہزار 232 ارب 4 کروڑ روپے سے زائد کے یہ ڈیمانڈز ایوان کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیے، جن پر اپوزیشن کی جانب سے کوئی کٹوتی کی تحریک پیش نہ کیے جانے کے باعث ایوان نے انہیں کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔

بجٹ دستاویزات اور مروجہ ایجنڈے کے مطابق منظور کیے گئے ان مطالباتِ زر میں ملک کے تزویراتی اور دفاعی شعبوں کے لیے سب سے خطیر رقم مختص کی گئی ہے، جس کے تحت دفاعی خدمات کے لیے 3 ہزار ارب روپے کے ڈیمانڈ کی حتمی منظوری دی گئی ہے، جبکہ وزارتِ دفاع کے لیے 17 ارب 10 کروڑ، ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس کے لیے 21 ارب 65 کروڑ، کنٹونمنٹس و گیریژن کے لیے 17 ارب 58 کروڑ اور دفاعی پیداوار ڈویژن کے لیے 1 ارب 14 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایوان نے اٹامک انرجی کے شعبے کے لیے 22 ارب 57 کروڑ، پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے لیے 2 ارب 35 کروڑ 77 لاکھ اور انٹیلی جنس بیورو ڈویژن کے لیے 22 ارب 96 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔

تعلیمی و ترقیاتی شعبوں کے لیے بھی اربوں روپے کے فنڈز کو مقتدر تحفظ دیا گیا ہے، جس میں وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے لیے 42 ارب 74 کروڑ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے جاری اخراجات کے لیے 66 ارب 43 کروڑ اور ایچ ای سی کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے الگ سے 46 ارب روپے کی منظوری شامل ہے۔ پائیدار انفراسٹرکچر کے لیے واٹر ریسورسز (آبی وسائل) کے جاری و ترقیاتی منصوبوں کے لیے بالترتیب 55 ارب 25 کروڑ اور 47 ارب 83 کروڑ روپے منظور ہوئے، جبکہ ریلوے ڈویلپمنٹ کے لیے 40 ارب 65 کروڑ، مواصلات (کمیونیکیشن) کے لیے 59 ارب 25 کروڑ، اور آئی ٹی و ٹیلی کام ڈویلپمنٹ کے لیے 19 ارب 58 کروڑ روپے کے مطالباتِ زر منظور کیے گئے ہیں۔ دیگر اہم محکموں میں قومی احتساب بیورو کے لیے 7 ارب 73 کروڑ، قانون و انصاف کے لیے 11 ارب 12 کروڑ، اطلاعات و نشریات کے لیے 11 ارب 1 کروڑ اور قومی اسمبلی و سینیٹ کے انتظامی اخراجات کے لیے بالترتیب 9 ارب 3 کروڑ اور 3 ارب 21 کروڑ روپے کی آئینی منظوری دے دی گئی ہے۔

محرم الحرام کے دوران جلوسوں اور امام بارگاہوں کی سخت نگرانی؛ سیف سٹی کنٹرول روم کے عملے کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت

منصور احمد june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیف سٹی اسلام آباد عباس مہدی نے ‘محافظ محرم کنٹرول روم’ کے افسران و عملے کو ایک اہم اور مقتدر بریفنگ دی ہے، جس میں محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی نگرانی، مانیٹرنگ اور رسپانس میکنزم کو مزید فول پروف اور مضبوط بنانے کے لیے تزویراتی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اتوار کو سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کو تفصیلات بتاتے ہوئے سیف سٹی حکام نے کہا کہ اس اہم بریفنگ کا بنیادی فوکس جدید سیف سٹی سرویلنس کیمرہ سسٹم کے ذریعے وفاقی دارالحکومت کی تمام امام بارگاہوں اور جلوس کے مروجہ راستوں کی چوبیس گھنٹے موثر ترین نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔

عباس مہدی نے کنٹرول روم کے افسران کو سخت احکامات جاری کیے کہ وہ مسلسل چوکس رہیں اور اسلام آباد میں ہونے والے تمام مذہبی اجتماعات اور ماتمی جلوسوں کی جامع ترین کوریج کو مانیٹر کریں۔ حکام کے مطابق اس موقع پر ‘محافظ محرم ایپ’ کے ذریعے موصول ہونے والی شہریوں کی تمام ایمرجنسی کالز کو اولین ترجیح دینے اور ان پر سیکنڈز کے اندر فوری ایکشن لینے کی خصوصی ہدایات دی گئیں تاکہ بروقت ریسکیو اور عوامی مدد کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ بریفنگ کے دوران کنٹرول روم اور فیلڈ فارمیشنز کے درمیان موثر اسٹرٹیجک کوآرڈینیشن پر بھی زور دیا گیا تاکہ کسی بھی ابھرتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے، جبکہ فیلڈ مارشل ڈسپلن کے تحت عملے کو تمام دستیاب تکنیکی وسائل کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

محرم الحرام کے جلوسوں کے دوران ٹریفک پلان پر سختی سے عمل کیا جائے، مختص پارکنگ کا استعمال لازمی، سی ٹی او اسلام آباد

منصور احمد june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) اسلام آباد کائنات اظہر خان نے محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس کے دوران بہترین نظم و ضبط اور ٹریفک قوانین کی مقتدر تعمیل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ زائرین اور شہری صرف اور صرف پارکنگ کی مخصوص جگہیں استعمال کریں، اسلام آباد ٹریفک پولیس (آئی ٹی پی) ٹریفک کی روانی کے لیے سیکیورٹی و ٹریفک پلان پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔ اتوار کو ایک مقامی میڈیا چینل سے مقتدر گفتگو کرتے ہوئے چیف ٹریفک آفیسر اسلام آباد نے محرم کے جلوسوں کے دوران منظم طرزِ عمل کی اہمیت اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ کی ہدایات پر عمل درآمد پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے تاکہ سڑکوں پر کسی بھی قسم کی تکلیف اور بھیڑ سے بچا جا سکے، ٹریفک پلان کی کسی بھی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور مذہبی اجتماعات کے دوران پریشانی سے بچنے کے لیے سخت انتظامی اقدامات کیے جائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں سی ٹی او کائنات اظہر خان نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور راولپنڈی و اسلام آباد کے درمیان انٹر سٹی نقل و حرکت میں اضافے کی وجہ سے خاص طور پر ویک اینڈ پر بڑی شاہراہوں پر ٹریفک کا شدید دباؤ دیکھنے کو ملتا ہے، جس کے لیے اسلام آباد پولیس ٹریفک بہاؤ کو منظم کرنے کے لیے فعال اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے موٹر سائیکل سواروں کو خصوصی مشورہ دیا کہ وہ مروجہ سپیڈ لین کی پابندی کریں، ہیلمٹ لازمی پہنیں اور لاپرواہی سے ڈرائیونگ کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے دارالحکومت میں قانون کے مقتدر نفاذ کے لیے سیف سٹی کیمروں کے تزویراتی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے خبردار کیا کہ سیف سٹی نیٹ ورک کے ذریعے ٹریفک کی تمام خلاف ورزیوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور ای چالاننگ کے ذریعے کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے، لہٰذا کسی بھی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی طرح یہاں بھی ٹریفک قوانین کا احترام کیا جائے تاکہ ایک محفوظ روڈ نیٹ ورک قائم ہو سکے۔

قومی اسمبلی نے اپوزیشن کے رکن اقبال آفریدی کی معطلی ختم کرنے کی تحریک منظور کر لی، پارلیمنٹ کے تقدس اور مہمانوں کے پاسز کے حوالے سے ضابطہ اخلاق پر سختی کا فیصلہ

کاشف عباسی ,june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

قومی اسمبلی نے اپوزیشن جماعت کے معطل رکنِ اسمبلی اقبال آفریدی کی رکنیت کی معطلی ختم کرنے کی مقتدر تحریک کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اتوار کو اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ بجٹ اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر خان نے اس حوالے سے تحریک پیش کرنے کی اجازت چاہی، جس پر ایوان کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد انہوں نے تحریک پیش کی اور قومی اسمبلی نے اسے کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔ اس سے قبل بیرسٹر گوہر خان نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ اپوزیشن کی تقاریر لائیو ٹیلی کاسٹ نہیں کی جا رہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈیلے ٹرانسمیشن کی جائے مگر اپوزیشن کا مؤقف عوام تک پہنچنا چاہیے، نیز اقبال آفریدی 11 جون سے معطل ہیں اور چونکہ بجٹ سیشن سال میں ایک بار آتا ہے، اس لیے ان کے حلقے کی نمائندگی کے لیے ان کی معطلی ختم کی جائے۔

بیرسٹر گوہر خان کے نکتہ اعتراض پر مقتدر رولنگ دیتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ جب بھی قومی مفاد کمپرومائز ہو گا اور ریاست، اعلیٰ عدلیہ یا مسلح افواج پر کوئی منفی بات کی جائے گی تو اسے آن ائیر جانے کی قطعی اجازت نہیں ہوگی۔ اسپیکر نے کہا کہ اقبال آفریدی کی رکنیت معطلی کو ختم کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں کیونکہ ان کا مقصد ہاؤس اور ایم این ایز کے وقار کا تحفظ کرنا ہے، تاہم اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ اقبال آفریدی کو باور کرائے کہ وہ آئندہ سیکورٹی پاسز کے بغیر کسی غیر متعلقہ شخص کو پارلیمنٹ میں نہیں لائیں گے اور پارلیمانی عملے یا دیگر اراکین کے ساتھ بدتمیزی سے گریز کریں گے۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے اراکینِ اسمبلی پر زور دیا کہ پارلیمنٹ کی لابیز صرف اراکین کے لیے ہوتی ہیں، وہاں غیر متعلقہ لوگوں کا داخلہ بند ہونا چاہیے کیونکہ ووٹنگ کے عمل کے دوران لابیز ایوان کا حصہ بن جاتی ہیں، اس لیے انہوں نے سارجنٹ ایٹ آرمز کو سخت ترین احکامات جاری کیے ہیں کہ ضابطے کی خلاف ورزی پر سیکیورٹی عملے کو معطل کر دیا جائے گا۔

اجلاس کے دوران وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایوان کے تقدس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایم این ایز کی جانب سے مہمانوں کے لیے بلاجواز کارڈز جاری کروانے کی مروجہ روایت اب ختم ہونی چاہیے، اراکین کا گیلریوں کی طرف اشارے کر کے بات کرنا قواعد کے خلاف ہے اور مہمانوں کی جانب سے اندر ویڈیوز بنانا ایوان کے تقدس کو پامال کرتا ہے، پارلیمنٹ کو مچھلی منڈی نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے عدلیہ کے حوالے سے کہا کہ ماضی میں ان سمیت 4 اراکینِ اسمبلی کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی ہو چکی ہے، آئین کے تحت حاضر سروس ججز کے کنڈکٹ کو ایوان میں نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ہاؤس کے وقار میں ہی ہم سب کا وقار ہے اور ججز پر تنقید کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، جبکہ پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے تجویز دی کہ پارلیمنٹ کے داخلہ راستوں پر صرف ایک مخصوص لین ایم این ایز کے لیے مختص ہونی چاہیے جس پر اسپیکر نے بتایا کہ یہ اقدام پہلے ہی نافذ ہے۔ دوسری جانب علی محمد خان نے پارلیمنٹ آنے والے مہمانوں کے لیے مناسب اور باعزت انتظامات کا مطالبہ کیا، جس کے بعد ایوان نے نئے کوڈ آف کنڈکٹ کی تشکیل کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو مل بیٹھنے کی مقتدر ہدایت جاری کی۔

وفاق اور صوبوں میں مالی تعاون خوش آئند، پنجاب کا بجٹ متوازن اور عوام دوست ہے، اشرف بھٹی

منصور احمد june 21,2026

اسلام آباد (انیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اشرف بھٹی نے وفاقی حکومت کو چاروں صوبوں کی جانب سے 1,035 ارب روپے کی خطیر گرانٹ فراہم کرنے کے مقتدر فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ قومی مالیاتی و معاشی چیلنجز، ملکی سکیورٹی صورتحال، قومی اہمیت کے بڑے ترقیاتی منصوبوں اور بیرونی قرضوں کی بروقت ادائیگی جیسے حساس معاملات میں وفاق کو مالی طور پر مستحکم اور مضبوط بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اتوار کو جاری کردہ اپنے ایک مقتدر اخباری بیان میں تجارتی رہنما اشرف بھٹی نے واضح کیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان یہ مالی تعاون قومی یکجہتی، معاشی بقا اور جیو پولیٹیکل استحکام کے لیے ایک انتہائی خوش آئند اور تزویراتی پیشرفت ہے۔

مرکزی صدر آل پاکستان انجمن تاجران نے کہا کہ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے ایک بہترین، متوازن اور عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے، جس میں خدمات (سروسز)، پراپرٹی اور موٹر وہیکل ٹیکس جیسے مروجہ ذرائع سے صوبائی ریونیو بڑھانے کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور انتظامی بہتری لانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ پہلے سے موجود کاروباری اور تاجر طبقے پر مزید کوئی اضافی بوجھ نہ پڑے۔ اشرف بھٹی کا مزید کہنا تھا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے طویل المدتی مالی اصلاحات ناگزیر ہیں اور صوبائی آمدنی بڑھا کر خود کفالت حاصل کرنا ہوگی، جبکہ ٹیکس نظام میں ڈیجیٹلائزیشن، شفافیت اور بہتر گورننس سے تاجر برادری کا نظام پر اعتماد بڑھے گا اور ملک میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

تعلیمی نظام کو عالمی معیار کے مطابق جدید بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، وائس چانسلر قائداعظم یونیورسٹی

روزینہ اسماعیل.june 21,2026

اسلام آباد (ایجوکیشن رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے مہارتوں، جدید اختراعات، مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال اور حکومت، اکیڈمیا و انڈسٹری کے مستحکم روابط پر مبنی تعلیمی انقلاب پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جدید، منظم اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تعلیمی ماحول ہی طلباء کو مستقبل کے عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کر سکتا ہے۔ سرکاری ٹی وی (پی ٹی وی نیوز) کے ساتھ خصوصی اور مقتدر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے عملی تحریر، مواصلاتی مہارتوں اور عالمی معیار کے مطابق نصابی اصلاحات پر بھرپور توجہ مرکوز کرتے ہوئے تعلیمی نظام کو دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو روایتی طریقوں سے آگے بڑھنا ہوگا اور طلباء کو بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے حقیقی دنیا کی عملی صلاحیتوں سے آراستہ کرنا ہوگا۔

وائس چانسلر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ قائداعظم یونیورسٹی پہلے ہی ملک کے صفِ اول کے تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے لیکن اس کی اعلیٰ تعلیمی کارکردگی کو برقرار رکھنے اور اس کے مزید فروغ کے لیے حکومت کی جانب سے زیادہ سے زیادہ مالی تعاون اور فنڈنگ کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجیز کو طلباء کے لیے صرف معاون ٹولز کے طور پر تعمیری طور پر اپنانا چاہیے تاکہ ان پر حد سے زیادہ انحصار پیدا کرنے کے بجائے سیکھنے کے نتائج کو بہتر بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں جدید لیبز اور انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کیمپس میں نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں، منشیات اور سگریٹ نوشی پر سخت ‘زیرو ٹالرینس پالیسی’ پر عمل پیرا ہے اور سیکھنے، کردار سازی و یونیورسٹی کے مقتدر معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ایک صحت مند تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

ملک کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے نئے اعدادوشمار جاری

منصور احمد june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

واپڈا نے ملک کے مختلف دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین اعدادوشمار جاری کر دیے ہیں۔ اتوار کو جاری کردہ سرکاری رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 1 لاکھ 29 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 45 ہزار 800 کیوسک، جبکہ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد 45 ہزار کیوسک اور اخراج بھی 45 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح خیرآباد پل پر پانی کی آمد 1 لاکھ 95 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 95 ہزار 600 کیوسک رہا، دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 29 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 37 ہزار کیوسک جبکہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 31 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 7 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مختلف بیراجوں کے مروجہ اعدادوشمار کے مطابق جناح بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 22 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 15 ہزار 400 کیوسک، چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 10 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 3 ہزار کیوسک، تونسہ بیراج میں پانی کی آمد 1 لاکھ 94 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 69 ہزار 200 کیوسک، گدو بیراج میں پانی کی آمد 1 لاکھ 52 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 15 ہزار 100 کیوسک، سکھر بیراج میں پانی کی آمد 1 لاکھ 7 ہزار کیوسک اور اخراج 64 ہزار 600 کیوسک، کوٹری بیراج میں پانی کی آمد 22 ہزار 300 کیوسک اور اخراج صفر کیوسک، تریموں بیراج میں پانی کی آمد 18 ہزار کیوسک اور اخراج 3 ہزار 400 کیوسک جبکہ پنجند بیراج میں پانی کی آمد 12 ہزار 600 کیوسک اور اخراج صفر کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ملک کے بڑے آبی ذخائر کی موجودہ صورتحال کے مطابق تربیلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ہے جبکہ ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح 1443.28 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، تربیلا میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550 فٹ ہے اور آج قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.816 ملین ایکڑ فٹ موجود ہے۔ منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ ہے جبکہ ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح 1171.55 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، منگلا میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242 فٹ ہے اور آج قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2.652 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اسی طرح چشمہ بیراج کا کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15 فٹ ہے جبکہ ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح 642.10 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، چشمہ میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 649 فٹ ہے اور آج قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.065 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پنجاب میں غیر قانونی شکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 11 ملزمان گرفتار؛ لاکھوں روپے جرمانہ

منصور احمد june 21,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی خصوصی اور سخت ہدایات پر صوبہ بھر میں محکمہ جنگلی حیات (وائلڈ لائف) کی ٹیمیں غیر قانونی شکار، ناجائز قبضہ اور نایاب پرندوں کی تجارت کرنے والے عناصر کے تعاقب میں بھرپور سرگرم عمل ہیں، اسی سلسلے میں ایک مقتدر کارروائی کے دوران وائلڈ لائف رینجرز نے جہلم، چکوال، راولپنڈی، خوشاب اور لودھراں کے اضلاع میں کریک ڈاؤن کر کے خرگوش، سور، تیتر، بٹیر اور نایاب طوطوں کے غیر قانونی شکار اور اسمگلنگ میں ملوث 11 ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق وائلڈ لائف ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی پر ان تمام ملزمان کے خلاف باقاعدہ قانونی چالان مرتب کر کے سوا چار لاکھ روپے سے زائد کا بھاری جرمانہ عائد کیا گیا ہے جبکہ کارروائی کے دوران بازیافت کیے گئے تمام معصوم جنگلی پرندوں کو بحفاظت واپس قدرتی ماحول میں آزاد کر دیا گیا ہے۔

محکمہ جنگلی حیات کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر چکوال مرزا عابد حسین نے وائلڈ لائف رینجرز کی مقتدر ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے جنگلی سور کے 2 غیر قانونی شکاریوں کو 75 ہزار روپے جبکہ بھورے تیتر کی غیر قانونی تجارتی سپلائی پر 1 بڑے ڈیلر کو 35 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔ اسی طرح اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر جہلم ارشد ناز نے رن وے کارروائی کے دوران خرگوش کے 1 شکاری کو 36 ہزار روپے، تیتر کے 1 شکاری کو 40 ہزار روپے جبکہ قیمتی طوطوں کی غیر قانونی بلیک مارکیٹ تجارت پر ملوث ملزم کو 15 ہزار روپے جرمانہ کر کے تمام کیسز کو مروجہ قوانین کے تحت موقع پر ہی نمٹا دیا۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ خوشاب میں بھی اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر رانا محمد اشفاق نے مقتدر کارروائی کے دوران جنگلی خرگوش کے 3 سرگرم غیر قانونی شکاریوں کو دھر لیا اور انہیں 1 لاکھ 50 ہزار روپے کا بھاری جرمانہ عائد کیا۔ جنوبی پنجاب کے ضلع لودھراں میں اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر نے قیمتی لو برڈز اور فنچز چڑیا کے غیر قانونی کاروبار اور اسمگلنگ میں ملوث 1 نوسرباز ملزم کو گرفتار کر کے 60 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جبکہ کالے تیتر پر غیر قانونی قبضہ جمانے والے 1 شخص کو 15 ہزار روپے محکمانہ معاوضے کی مد میں جرمانہ کیا گیا۔ دوسری جانب راولپنڈی میں اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر محمد عمران نے جنگلی پرندوں کو پھنسانے کے لیے بچھائے گئے تمام غیر قانونی نیٹ گیئرز (جال اور آلات) کو موقع پر ہی جلا کر خاکستر کر دیا اور ضبط کیے گئے تمام نایاب تیتروں کو فیلڈ مارشل اسٹرٹیجی کے تحت واپس کھلے آسمان اور قدرتی ماحول میں آزاد کر دیا تاکہ وائلڈ لائف پروٹیکشن کو یقینی بنایا جا سکے۔

بجٹ اجلاس: قومی اسمبلی آج سے 135 مطالباتِ زر پر بحث کا آغاز کرے گی، 9,126 ارب روپے سے زائد کے ملکی اخراجات کی حتمی منظوری متوقع، دفاع، پنشن اور سماجی تحفظ حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل

کاشف عباسی ,june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

مالی سال 27۔2026ء کے وفاقی بجٹ کو حتمی شکل دینے کے لیے قومی اسمبلی کا اہم ترین اور مقتدر اجلاس آج (اتوار) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو رہا ہے، جہاں وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب مختلف وزارتوں، ڈویژنز اور وفاقی محکموں کے جاری و ترقیاتی اخراجات کی منظوری کے لیے مجموعی طور پر 135 مطالباتِ زر ایوان کے سامنے پیش کریں گے۔ قومی اسمبلی سے 30 جون 2027ء کو ختم ہونے والے آئندہ مالی سال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ان مطالباتِ زر کی مقتدر منظوری حاصل کی جائے گی جس کے تحت 9,126 ارب روپے سے زائد کے ملکی اخراجات کی حتمی منظوری متوقع ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بجٹ اجلاس کے اسٹرٹیجک ایجنڈے کے مطابق رواں سال وفاقی حکومت کی بنیادی تزویراتی ترجیحات میں ملکی دفاع، سماجی تحفظ اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی فلاح و بہبود کو سرِ فہرست رکھا گیا ہے، اسی لیے ایوان میں پیش کیے جانے والے مطالباتِ زر میں سب سے اہم فوکس دفاعی خدمات, الاؤنسز کہن سالی، وفاقی پنشن اور مختلف مقتدر گرانٹس پر رکھا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق اس اہم ترین بحث کے دوران ملک میں توانائی کے شدید بحران سے نمٹنے کے لیے شعبہ بجلی (پاور سیکٹر) اور پٹرولیم کے جاری و ترقیاتی منصوبوں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا گیا ہے تاکہ صنعتی و معاشی پہیہ بلا تعطل چلایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ غریب پرور منصوبوں کے تسلسل کو پائیدار بنانے اور غریب عوام کو مروجہ ریلیف دینے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور پاکستان بیت المال کے اربوں روپے کے اخراجات کو بھی ایوانِ زیریں سے باقاعدہ منظور کروایا جائے گا۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مروجہ قواعد و ضوابط کے تحت اس مقتدر بحث کے دوران اپوزیشن بینچوں کی طرف سے قائدِ حزبِ اختلاف کی نگرانی میں مختلف وزارتوں کی کارکردگی پر سخت تنقید کی جائے گی اور متعدد تحریکاتِ تخفیف بھی پیش کی جائیں گی، جس کے بعد وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کی قیادت میں حکومتی اتحاد اور اپوزیشن کے مابین رائے دہی کے ذریعے تمام 135 ڈیمانڈز کی حتمی اور آئینی منظوری دی جائے گی جو ملکی معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

ملک بھر میں آئندہ 12 سے 24 گھنٹے انتہائی اہم، این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے شدید موسمی صورتحال، گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارشوں، اربن فلڈنگ اور گلیشیئرز پگھلنے کے شدید خطرات کا الرٹ جاری کر دیا، صوبائی و ضلعی انتظامیہ ہائی الرٹ، سیاحوں کو شمالی علاقوں کے سفر سے گریز کی مقتدر ہدایت

روزینہ اسماعیل.june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے ملک بھر میں آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران غیر معمولی اور شدید موسمی تبدیلیوں کے پیشِ نظر ہائی وولٹیج الرٹ جاری کرتے ہوئے تمام مقتدر وفاقی، صوبائی اور ضلعی اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر الرٹ رہنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ این ڈی ایم اے کے مقتدر ترجمان کے مطابق ملک کے بیشتر حصوں میں تیز آندھی، گرج چمک، گرد آلود طوفان اور شدید موسمی پیش رفت کے ساتھ موسلا دھار بارشوں کا قوی امکان ہے جس کے باعث بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ (سڑکوں پر پانی جمع ہونا) اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے، لہٰذا تمام ریسکیو اور ایمرجنسی سروسز کو چوبیس گھنٹے ہائی الرٹ پر برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ اسٹرٹیجک ایڈوائزری کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، مری، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان اور بہاولپور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع شدید موسمی لہر کی زد میں آ سکتے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا کے اضلاع پشاور، سوات، چترال، دیر، مردان، کوہاٹ اور بنوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ دوسری جانب بلوچستان کے اضلاع تربت، کیچ اور خضدار سمیت سندھ کے بالائی اضلاع بالخصوص کراچی، سکھر، لاڑکانہ اور دادو میں شدید گرد آلود طوفان، تیز ہواؤں اور بعض مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

اتھارٹی نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی سلسلوں کے لیے ایک الگ اور انتہائی حساس الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور متوقع طوفانی بارشوں کے یکجا ہونے سے گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار تیز ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے مقتدر واقعات، اچانک سیلابی ریلے اور لینڈ سلائیڈنگ کا سنگین خطرہ موجود ہے، جس سے مقامی رابطہ سڑکیں اور شاہراہیں بلاک ہو سکتی ہیں۔ این ڈی ایم اے نے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کے وژن کے مطابق تمام متعلقہ پی ڈی ایم ایز کو ہدایت کی ہے کہ وہ حساس مقامات کی مسلسل مانیٹرنگ کریں جبکہ سیاحوں اور مسافروں کو سختی سے تاکید کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے مکمل گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ یا پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ موبائل ایپ کے ذریعے فوری رابطہ قائم کریں۔

پاکستانی کرنسی نوٹوں پر بانیٔ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کے ساتھ میاں محمد نواز شریف کی تصویر بھی شائع ہونی چاہیے، قائدِ اعظم نے پاکستان بنایا اور نواز شریف نے ملک کو ناقابلِ تسخیر ایٹمی قوت بنا کر بچایا، پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے ارشد ملک کا انوکھا اور مقتدر مطالبہ

محمود احمد june 20,2026

لاہور(نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

پنجاب اسمبلی کے اہم ترین اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی رکنِ اسمبلی (ایم پی اے) ارشد ملک کی جانب سے ملکی کرنسی کے حوالے سے ایک انتہائی انوکھا، منفرد اور مقتدر مطالبہ سامنے آیا ہے جس نے سیاسی و عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران مقتدر اظہارِ خیال کرتے ہوئے لیگی ایم پی اے ارشد ملک نے باقاعدہ مطالبہ پیش کیا کہ پاکستانی نوٹوں پر بانیٔ ملت قائدِ اعظم محمد علی جناح کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کی تصویر بھی لازمی طور پر شائع ہونی چاہیے۔ انہوں نے اپنے اس مطالبے کے حق میں سٹرٹیجک دلیل دیتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ بلا شبہ قائدِ اعظم محمد علی جناح نے اپنی بے پناہ جدوجہد سے یہ پیارا پاکستان بنایا تھا لیکن میاں محمد نواز شریف نے کڑے عالمی دباؤ کے باوجود 28 مئی 1998ء کو چاغی کے مقام پر ایٹمی دھماکے کر کے اس ملک کو دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی قوت بنایا اور ملک کا دفاع ناقابلِ تسخیر کر کے پاکستان کو ہمیشہ کے لیے بچا لیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں ہے جب مسلم لیگ (ن) کے کسی مقتدر رہنما کی جانب سے اپنے قائد کی محبت یا سیاسی وابستگی میں اس نوعیت کا کوئی بڑا یا متنازع بحث کا حامل بیان سامنے آیا ہو۔ اس سے قبل سال 2018ء کے عام انتخابات سے عین قبل جب میاں محمد نواز شریف لندن سے اپنی بیٹی مریم نواز کے ہمراہ وطن واپس لوٹ رہے تھے تو اس وقت مسلم لیگ (ن) کے مقتدر رہنما اور موجودہ وفاقی مشیر رانا ثناء اللہ خان کی جانب سے بھی ایک انتہائی متنازع اور سنسنی خیز بیان دیا گیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ “نواز شریف کا استقبال کرنا حج کرنے سے بھی بڑا کام ہے”۔ رانا ثناء اللہ کے اس مروجہ بیان پر اس وقت ملک بھر کے مذہبی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید ردِعمل اور نکتہ چینی دیکھنے کو ملی تھی اور اب پنجاب اسمبلی کے فلور پر ایم پی اے ارشد ملک کی جانب سے پاکستانی کرنسی نوٹوں پر میاں نواز شریف کی تصویر لگانے کے اس نئے اور انوکھے مطالبے نے سوشل میڈیا اور پریس گیلری میں ایک نیا ہنگامہ برپا کر دیا ہے جہاں مختلف حلقے اس پر اپنی اپنی آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔