جعلی رسیدوں اور سیل چھپانے والوں کے خلاف کارروائی

منصور احمد june 23,2026

لاہور ( نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں ٹیکس چوری کا جڑ سے خاتمہ کرنے اور ریونیو بڑھانے کے لیے ایک انقلابی اور سخت ترین ڈیجیٹل سیکیورٹی پلان نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نئے فیصلے کے تحت پنجاب میں قائم تمام میرج ہالز، شادی مارکیز، لگژری فارم ہاؤسز اور بڑے انٹرنیشنل و لوکل فوڈ چینز کی مانیٹرنگ کے لیے خصوصی کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ ان تمام مقامات پر ہونے والی ہر سنگل ٹرانزیکشن اور کاروباری لین دین کا باقاعدہ اندراج کیا جائے گا تاکہ ٹیکس نیٹ کو شفاف بنایا جا سکے۔ یہ اہم فیصلے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت پنجاب ریونیو اتھارٹی کے حوالے سے منعقدہ ایک خصوصی اور اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیے گئے۔

اجلاس کے دوران یہ مقتدر فیصلہ بھی سامنے آیا کہ جو ریسٹورنٹس یا ہالز گاہکوں کو جعلی رسیدیں فراہم کرتے ہیں یا اپنی اصل سیل چھپا کر قومی خزانے کو نقصان پہنچاتے ہیں، ان کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن اور سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اجلاس میں بڑے ریسٹورنٹس میں کیش کی صورت میں رقم وصول کرنے پر مکمل پابندی عائد کرنے اور اس کی جگہ لازمی ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم انسٹال کرنے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ اگر پوری دنیا کیش اکانومی سے ڈیجیٹل اکانومی پر منتقل ہو سکتی ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکس چوری پر حکومت کی پالیسی زیرو ٹالرنس کی ہے، اب ٹیکس چوروں کو کیمرے کی آنکھ بھی دیکھے گی اور ہمارا جدید ڈیجیٹل سسٹم بھی پکڑے گا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے متعلقہ حکام کو ٹیکس وصولی اور سیکٹرل میپنگ کی ہر ہفتے باقاعدگی سے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ اجلاس کے دوران مالی سال 2026-27 کے لیے مجموعی طور پر 528 ارب 50 کروڑ روپے کا بھاری ریونیو ہدف مقرر کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب ریونیو کلیکشن میں گزشتہ عرصے کے دوران 38 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد ٹیکس وصولی 250 ارب سے بڑھ کر 346 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ پی آر اے کا دائرہ کار بھی 10 اضلاع سے بڑھا کر 26 اضلاع تک وسیع کر دیا گیا ہے اور ادارے میں انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ونگ، ٹیکس پیئر آڈٹ اور لیگل ونگ کا باقاعدہ قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔ وزیراعلیٰ نے پی آر اے کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے افسران کو شاباش دی اور ہیومن ریسورس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے میڈیا ونگ کو بھی متحرک کرنے کا حکم دیا تاکہ ٹیکس چوروں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی وجوہات جامع انداز میں عوام کے سامنے لائی جا سکیں۔

بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور جلوسوں کے راستوں سے خطرناک تاریں فوری ہٹانے کی مقتدر ہدایت؛ غفلت برتنے پر سخت کارروائی کا انتباہ

خیرپور نیوز ڈیسک ( نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

محرم الحرام کے مقدس اور حساس ایام کے دوران عزاداروں کی سہولت اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) کی انتظامیہ متحرک ہو گئی ہے۔ اس مقتدر سلسلے میں سیپکو کے چیف انجینئر آپریشن و آپریشن ڈائریکٹر انجینئر مشتاق حسین بڑدی نے خیرپور میں مختلف مرکزی امام بارگاہوں اور ماتمی جلوسوں کی روایتی گزرگاہوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس اہم موقع پر سپرنٹنڈنگ انجینئر عبدالحق سیال، شیعہ رابطہ کونسل کے مرکزی رہنما سعید احمد بلیدی اور سیپکو کے دیگر اعلیٰ افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔

دورے کے دوران چیف انجینئر آپریشن نے مختلف مجالس اور جلوسوں کے بانیان، متولیان اور پرمٹ ہولڈرز سے براہِ راست ملاقاتیں کیں اور محرم الحرام کے انتظامات، خصوصاً بجلی کی فراہمی کے حوالے سے ان کے مسائل سنے۔ انہوں نے موقع پر موجود متعلقہ سب ڈویژنز کے افسران کو ان مسائل کے فوری اور پائیدار حل کے لیے مقتدر احکامات جاری کیے۔ انجینئر مشتاق حسین بڑدی نے فیلڈ اسٹاف کو سخت ہدایت کی کہ ایامِ عزا کے دوران بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ مجالس اور ماتمی جلوسوں کے دوران عزاداروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے تکنیکی ٹیموں کو فوری طور پر جلوسوں کے راستوں سے نیچے لٹکتی ہوئی خطرناک تاریں ہٹانے، بجلی کے پولز (کھمبوں) کو کرنٹ سے محفوظ بنانے اور راستوں میں آنے والے میٹرز اور ٹرانسفارمرز کی مرمت و فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کا حکم دیا۔ چیف انجینئر کا کہنا تھا کہ محرم الحرام کے دوران فرائض کی انجام دہی میں کسی بھی قسم کی تکنیکی یا انتظامی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ اس موقع پر شیعہ رابطہ کونسل کے رہنماؤں نے سیپکو حکام کو جلوسوں اور مجالسِ عزا کے اوقات اور روٹس سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اور سیپکو انتظامیہ کے اس فعال مقتدر اقدام کو سراہا۔

پاک ایران تعلقات میں اہم پیش رفت: جنرل سید عاصم منیر کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مقتدر ملاقات، خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

کاشف عباسی ,june 23,2026

راولپنڈی (سفارتی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ایک انتہائی اہم اور مقتدر ملاقات کی ہے۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران مجموعی علاقائی صورتحال، امن کے پائیدار فروغ، سیکیورٹی چیلنجز اور خطے میں پائیدار استحکام سے متعلق تزویراتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے دوطرفہ برادرانہ تعاون کو مزید وسعت دینے پر مکمل اتفاق کیا۔

پاک فوج کے ترجمان کے مطابق، ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے خطے میں مکالمے کے آغاز، کشیدگی میں نمایاں کمی اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری، مخلصانہ اور ذمہ دارانہ کردار کو مقتدر الفاظ میں سراہا۔ ایرانی صدر نے علاقائی تنازعات کے پرامن حل اور مختلف عالمی و علاقائی فریقوں کے درمیان مفاہمت کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کی مسلسل اور کامیاب سفارتی کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاک ایران مضبوط تعلقات پورے خطے کے امن و امان اور معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

مقتدر ملاقات کے دوران آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل اور اصولی عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان دیرینہ دوطرفہ، دفاعی اور سفارتی تعلقات کو مشترکہ مفادات کے تحت مزید مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے تمام امور پر مستقبل میں بھی قریبی تزویراتی مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے عسکری ذرائع کے مطابق، اس اہم ملاقات سے دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین سرحدی سیکیورٹی اور علاقائی مفاہمت کے عمل کو مزید تقویت ملے گی۔

کاروباری شعبے کے لیے اہم تبدیلی: پراپرٹی کی خرید و فروخت پر عائد ایڈوانس ٹیکس میں کمی، فنانس بل میں حتمی منظوری

کاشف عباسی ,june 23,2026

لاہور (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

وفاقی حکومت کی جانب سے فنانس بل کی باقاعدہ منظوری کے بعد پراپرٹی کی خرید و فروخت پر عائد ایڈوانس ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے۔ اس مقتدر فیصلے کے تحت ملک بھر میں غیر منقولہ جائیداد (پراپرٹی) کے لین دین پر ٹیکس کی نئی شرحیں نافذ کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالیاتی سال کے آغاز سے ہی پورے ملک میں جائیداد کے خریداروں اور فروخت کنندگان سے اسی نئی مقررہ شرح کے مطابق ٹیکس کی وصولی کا آغاز کر دیا جائے گا۔

نئے منظور شدہ قانون کے مقتدر مروجہ ضوابط کے تحت، یکم جولائی سے جائیداد فروخت کرنے والے کسی بھی شخص سے سودے کی مجموعی رقم کا 2.75 فیصد ایڈوانس ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ دوسری جانب، جائیداد خریدنے والے شخص پر بھی پراپرٹی کی رائج الوقت فیئر مارکیٹ ویلیو کا 1.25 فیصد ایڈوانس ٹیکس لاگو ہوگا۔ معاشی ماہرین اور رئیل اسٹیٹ سے وابستہ حلقوں کے مطابق، ٹیکس کی شرح میں اس مقتدر تبدیلی سے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرگرمیوں اور کاروباری لاگت پر براہِ راست اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

پراپرٹی سیکٹر کے برعکس، فنانس بل کے تحت کارپوریٹ سیکٹر اور بینکاری کے شعبے پر ٹیکسوں کے بوجھ میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یکم جولائی سے نافذ العمل ہونے والی ترامیم کے مطابق، بینکنگ کمپنیوں اور فرٹیلائزر (کھاد) کے سیکٹر کی پندرہ کروڑ روپے سے زائد کی سالانہ آمدن پر 10 فیصد کی شرح سے بھاری ٹیکس عائد ہوگا، جبکہ ان کے علاوہ دیگر تمام کارپوریٹ کمپنیوں کی پچاس کروڑ روپے سے زائد کی آمدنی پر 8 فیصد کی شرح سے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر پر ٹیکس بڑھانے سے دستاویزی معیشت اور قومی خزانے کو مقتدر فائدہ پہنچے گا۔

ایوان میں گرما گرمی: وزیرِ اعظم کے خطاب کے انداز سے بالکل مزہ نہیں آیا، ملک کے گرد بربادی کا ماحول ہے، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی

منصور احمد june 23,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے خطاب کے بعد ایوان میں سخت اور تیکھا اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے ڈھائی سال پورے ہونے والے ہیں لیکن ملک کے ارد گرد بربادی کا ماحول ہے، جس کے تدارک کے لیے اب حکمرانوں کو اپنا روایتی رویہ اور لہجہ بدلنا ہوگا۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ وزیرِ اعظم نے جس انداز میں آج بات کی مجھے اس کا بالکل مزہ نہیں آیا، یاد رکھیں کہ اب آپ کے پاس وقت بہت کم ہے اور ہمارے چاروں طرف ایک بڑی بربادی پھیلی ہوئی ہے۔

محمود خان اچکزئی نے اسپیکر قومی اسمبلی کے حالیہ اقدامات اور کردار پر شدید سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسپیکر نے ایوان چلاتے ہوئے آئین اور قانون کا بالکل خیال نہیں رکھا، بلکہ انتہائی چابک دستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ہی چودہ ساتھی پارلیمنٹیرینز کو اسمبلی سے فارغ کر دیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ماضی اور حال میں ہمیشہ آئین کو روندنے کے لیے غیر جمہوری حکومتوں کا ساتھ دیا گیا۔ ملک میں حالیہ عدالتی سزاؤں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے انکشاف کیا کہ کوٹ لکھپت جیل میں قید ستر سال سے زائد عمر کے بزرگ قیدیوں کو سخت سزائیں دی گئی ہیں، جہاں پانچ افراد کو مجموعی طور پر دو سو چھیاسی سال قید کی سزا سنائی گئی۔ انہوں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ماہ رنگ بلوچ کو عمر بھر کی قید کی سزا سنانے کو سراسر زیادتی قرار دیا۔

اپوزیشن لیڈر نے وفاق سے گلہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی آسمان پر نہیں بلکہ بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا اور پنجاب کا مجموعہ ہے، تو پھر خیبرپختونخوا کو برابر کا پاکستان کیوں نہیں سمجھا جاتا؟ انہوں نے شکوہ کیا کہ آزاد کشمیر کے عوام بنیادی ضروریات اور آٹے کے لیے چیخ رہے ہیں لیکن اس پر وزیرِ اعظم کا رویہ مایوس کن تھا۔ انہوں نے وزیرِ اعظم کو مشورہ دیا کہ وہ خود بلوچ قیادت کو بلائیں اور یقین دہانی کروائیں کہ بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق وہاں کے بچوں کا ہے، اور یہی حق سندھ اور خیبرپختونخوا کے عوام کو بھی دیا جائے۔ خطاب کے آخر میں انہوں نے ایوان کو یاد دلایا کہ ہم سب نے آئینِ پاکستان کی حفاظت کا حلف لیا ہے، اس لیے پارلیمنٹ کو مضبوط بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس ایک بہترین فوج موجود ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر شدید افسوس کا اظہار کیا کہ تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان تاحال جیل میں قید ہیں۔

لاہور میں پہلی الیکٹرک ٹرام کا منصوبہ ایک بار پھر تاخیر کا شکار، پنجاب حکومت نے روٹ تبدیل کر کے کینال روڈ کو نکال دیا

منصور احمد june 23,2026

لاہور (خصوصی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

لاہور کے شہریوں کے لیے جدید اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے والا پنجاب حکومت کا پہلا الیکٹرک ٹرام منصوبہ ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ حکومتِ پنجاب نے ٹرام کے پرانے روٹ میں تزویراتی تبدیلی کرتے ہوئے اس منصوبے سے شہر کی اہم ترین شاہراہ کینال روڈ کو مکمل طور پر خارج کر دیا ہے۔ حکام کی جانب سے جاری کردہ نئی تفصیلات کے مطابق، الیکٹرک ٹرام کا نیا روٹ اب جن مقتدر علاقوں پر مشتمل ہوگا، ان میں سی بی ڈی، گلبرگ، جیل روڈ اور استنبول چوک شامل ہیں۔

سرکاری حکام کا اس اہم فیصلے کے حوالے سے کہنا ہے کہ کینال روڈ کو روٹ سے نکالنے کا مقتدر فیصلہ خالصتاً تکنیکی امور اور ماحولیاتی تحفظ کو مدِ نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ اگر ٹرام کینال روڈ پر چلائی جاتی تو اس کے لیے سڑک کے دونوں اطراف موجود پرانے اور گھنے درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی کرنا پڑتی، جس سے لاہور کے پہلے سے متاثرہ ماحول کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔ لہٰذا، شہر کے گرین کور اور قیمتی درختوں کو بچانے کے لیے روٹ کو تبدیل کرنا ناگزیر سمجھا گیا۔

یاد رہے کہ یہ جدید الیکٹرک ٹرام پہلی بار جولائی 2025ء میں چین سے لاہور پہنچی تھی، جس کے بعد اگست 2025ء میں ایکسپو سینٹر لاہور میں عوام اور مقتدر شخصیات کے لیے اس کی باقاعدہ نمائش کی گئی تھی۔ اس ٹرام کا کامیابی سے آزمائشی سفر بھی کیا جا چکا ہے، تاہم بار بار روٹ کی تبدیلی، فنڈز کی دستیابی اور دیگر تکنیکی وجوہات کے باعث اس عوامی منصوبے کے باقاعدہ آغاز اور افتتاح کی حتمی ٹائم لائن ابھی تک واضح نہیں ہو سکی ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو اس جدید سفر کے لیے مزید انتظار کرنا پڑے گا۔

تمام اقساط اسی مالیاتی سال کے اندر ادا کرنا لازمی ہوگا؛ ڈیجیٹل نان کمپلائنس پر سزاؤں اور قانونی کارروائیوں میں بھی کمی کا مقتدر فیصلہ

کاشف عباسی ,june 23,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

وفاقی حکومت نے نیشنل اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی اہم سفارشات پر فنانس بل میں چند انتہائی مقتدر ترامیم شامل کرتے ہوئے قومی اسمبلی سے فنانس بل کی باقاعدہ منظوری حاصل کر لی ہے۔ ان ترامیم کا بنیادی مقصد عوام اور موبائل صارفین پر سے یکمشت ٹیکسوں کا بھاری بوجھ کم کرنا اور متعلقہ کاروباری شعبوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ٹیم اور وزارتِ خزانہ کے اعلیٰ حکام نے طویل تزویراتی مشاورت کے بعد ان عوامی ترامیم کو حتمی شکل دی، جس کے بعد ایوان نے اپوزیشن کی کٹوتی کی تحاریک کو مسترد کرتے ہوئے مالیاتی بل کی شق وار منظوری دے دی۔

قائمہ کمیٹی کی منظور شدہ سفارش کے مطابق، اب بیرونِ ملک سے لائے جانے والے یا امپورٹڈ موبائل فونز پر عائد بھاری ٹیکسز کی یکمشت ادائیگی کے بجائے قسطوں کا باقاعدہ نظام متعارف کروایا جا رہا ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے موبائل ڈیوائس رجسٹریشن سسٹم کے تحت بلاک یا رجسٹرڈ ہونے والے فونز کا ٹیکس اب صارفین آسان اقساط میں ادا کر سکیں گے۔ تاہم، اس مقتدر قانون کے تحت یہ لازمی شرط رکھی گئی ہے کہ تمام اقساط اسی مالیاتی سال کے اندر ادا کرنا ہوں گی جس مالیاتی سال میں وہ فون پاکستان میں امپورٹ یا داخل کیا گیا ہو۔ اس کے علاوہ، ڈیجیٹل نان کمپلائنس یعنی ڈیجیٹل قوانین کی عدم تعمیل پر عائد سخت سزاؤں اور قانونی کارروائیوں کے حجم میں بھی نمایاں کمی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے فنانس بل قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں ایوان میں پیش کرنے کی مقتدر اجازت چاہی۔ اسپیکر کی جانب سے باقاعدہ اجازت ملنے پر انہوں نے یہ تاریخی رپورٹ ایوان کے سامنے پیش کی، جس کی اکثریت رائے سے منظوری دے دی گئی۔ معاشی اور تکنیکی ماہرین کے مطابق، پی ٹی اے ٹیکس قسطوں میں کرنے کے اس فیصلے سے ملک میں موبائل فونز کی قانونی رجسٹریشن کے رجحان میں مقتدر اضافہ ہوگا اور متوسط طبقے کو اپنے قیمتی فونز بحال کروانے میں انتہائی آسانی پیدا ہوگی۔

افسوسناک واقعہ: اٹک کے علاقے پنڈ جنگل میں برساتی نالے میں نہاتے ہوئے 2 معصوم بچے ڈوب گئے، ایک کی لاش برآمد، دوسرے کی تلاش جاری

منصور احمد june 23,2026

اٹک ( نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

تحصیل فتح جنگ کے گاؤں پنڈ جنگل میں واقع ایک مقامی برساتی نالے میں نہاتے ہوئے دو معصوم بچے گہرے پانی میں ڈوب گئے۔ دلخراش واقعے کی اطلاع ملتے ہی پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 کی مقتدر ایمبولینسز اور ماہر غوطہ خوروں پر مشتمل واٹر ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ ریسکیو اہلکاروں نے پیشہ ورانہ اور تزویراتی انداز میں فی الفور سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں طویل جدوجہد کے بعد ایک بچے کی لاش کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔

ریسکیو حکام کے مروجہ ریکارڈ کے مطابق، نالے سے برآمد ہونے والی لاش کی شناخت 14 سالہ طیب کے نام سے ہوئی ہے، جسے ڈوبنے والے اصل مقام سے ہی نکال کر ضروری قانونی کارروائی اور ضابطے کے بعد سوگوار ورثاء کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ نالے میں ڈوبنے والے دوسرے معصوم بچے کی زندگی بچانے یا اس کی باقاعدہ تلاش کے لیے واٹر ریسکیو آپریشن تاحال پوری قوت سے جاری ہے۔ مقتدر ریسکیو ٹیمیں اور غوطہ خور بچے کی کھوج کے لیے برساتی نالے کے مختلف حساس بہاؤ اور گہرے مقامات پر سرچ آپریشن میں مصروف ہیں۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے علاقائی نمائندے کے مطابق، اس اندوہناک واقعے کے بعد پورے پنڈ جنگل میں کہرام مچ گیا ہے اور مقامی انتظامیہ نے شہریوں سے دوبارہ مقتدر اپیل کی ہے کہ وہ حالیہ بارشوں کے بعد ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں میں بچوں کو نہانے سے سختی سے روکیں۔

امن و امان کا قیام اولین ترجیح: محرم الحرام کے پیشِ نظر ضلع ہرنائی میں سیکیورٹی مزید سخت، پولیس فورس کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت

منصور احمد june 23,2026

ہرنائی ( نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

محرم الحرام کے مقدس اور حساس موقع پر امن و امان کی مجموعی صورتحال کو برقرار رکھنے، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر ممکن یقینی بنانے کے لیے ضلع ہرنائی میں سیکیورٹی انتظامات کو تزویراتی طور پر انتہائی سخت کر دیا گیا ہے۔ اسی مقتدر سلسلے میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی نے ضلع کے مختلف انتہائی حساس اور اہم مقامات پر قائم پولیس چوکیوں اور داخلی و خارجی راستوں کا اچانک (سرپرائز) دورہ کیا۔ مقتدر دورے کے دوران ایس پی ہرنائی نے فیلڈ میں فرنٹ لائن پر تعینات پولیس اہلکاروں کی موقع پر حاضری، سیکیورٹی الرٹنس، جدید اسلحہ، ایمونیشن اور دستیاب لاجسٹک وسائل کا تفصیلی و سائنسی جائزہ لیا۔

ایس پی ہرنائی نے چوکیوں پر موجود حفاظتی مورچوں، اسٹریٹجک پوزیشنز اور واچ ٹاورز کا بھی گہرائی سے معائنہ کیا تاکہ محرم الحرام کے دوران کسی بھی قسم کے ممکنہ بیرونی خطرے یا شرپسندی سے مؤثر اور فول پروف انداز میں نمٹا جا سکے۔ اس موقع پر تعینات پولیس افسران اور جوانوں سے مقتدر گفتگو کرتے ہوئے انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی نے واضح کیا کہ محرم الحرام ایک انتہائی حساس مذہبی موقع ہے، جس کے دوران تمام جوانوں کو اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے مطابق چوبیس گھنٹے الرٹ اور مستعد رہنا ہو گا۔ انہوں نے سخت لہجے میں خبردار کیا کہ فیلڈ ڈیوٹی اور عوامی تحفظ کی انجام دہی میں کسی بھی سطح پر سستی، غفلت، لاپرواہی یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور فرائض سے منہ موڑنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت ترین محکمانہ و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ فرنٹ لائن پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے مخلص جوانوں کو نقد انعامات اور تعریفی اسناد سے نوازا جائے گا۔

ایس پی ہرنائی نے مزید کہا کہ ہرنائی پولیس چیلنجنگ حالات کے باوجود شہریوں کے تحفظ اور امن کے دیرپا قیام کے لیے فرنٹ لائن پر کھڑی ہے اور سیکیورٹی کو مزید ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے تمام دستیاب سرکاری وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے موقع پر موجود سرکل افسران کو حفاظتی گشت مزید بڑھانے اور مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھنے کے حوالے سے مقتدر ہدایات بھی جاری کیں۔ دورے کے اختتام پر ہرنائی پولیس کے جانثار جوانوں اور افسران نے اس فولادی عزم کا اعادہ کیا کہ وہ محرم الحرام کے پرامن انعقاد اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر تمام تر ذمہ داریاں بھرپور اور مقتدر انداز میں ادا کریں گے۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے علاقائی نمائندے کے مطابق، اس سرپرائز دورے سے فیلڈ فورس کے مورال میں مقتدر اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون کا سلامتی کونسل میں خطاب؛ فوجی برتری کے بجائے یوکرین بحران کے منصفانہ اور پُرامن سفارتی تصفیے پر زور

محمود احمد june 23,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (سفارتی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

پاکستان نے یوکرین میں طویل عرصے سے جاری خونریز تنازع کے مسلسل پھیلاؤ پر شدید اور گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور باہمی سفارت کاری کی بحالی پر زور دیا ہے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اس پیچیدہ عالمی بحران کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کا واحد قابلِ عمل راستہ صرف اور صرف بامعنی بات چیت اور مخلصانہ سفارتی کوششیں ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے یوکرین کی نازک صورتحال پر منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ تنازع کے حل کی جانب تاحال کوئی مثبت پیش رفت دیکھنے میں نہیں آ رہی، جبکہ مسلسل فوجی حملوں کے باعث نہ صرف جنگ میں ہولناک شدت آ رہی ہے بلکہ معصوم شہریوں کا انسانی بحران بھی روز بروز سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ جنگ کے دائرۂ کار میں مسلسل توسیع سے سویلین آبادی کی مشکلات میں ناقابلِ تلافی اضافہ ہوا ہے اور شہری بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے اس تزویراتی نقطے پر زور دیا کہ تمام متحارب فریق بین الاقوامی قانون، بالخصوص بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کریں۔ انہوں نے شہریوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، نہ کہ فوجی برتری کے حصول کی یکطرفہ کوششوں سے۔ انہوں نے فریقین کے مابین اعتماد سازی کے اقدامات اور بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس ضمن میں انہوں نے پاکستان کے اس مقتدر مطالبے کا اعادہ کیا کہ فوری اور مکمل جنگ بندی کی جائے اور امریکہ کی سہولت کاری میں جاری تزویراتی مذاکراتی عمل کو فوری دوبارہ شروع کیا جائے۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے مطابق، انہوں نے اعادہ کیا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں اور تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات کے مطابق پُرامن تصفیہ ہی اس تنازع کا واحد اور دیرپا حل ہے، اور پاکستان اس منصفانہ حل کے لیے تمام عالمی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

سرگودھا میں وحشت ناک واقعہ: گھر سے دکان پر جانے والی 7 سالہ معصوم بچی قتل، دو مشتبہ دکاندار زیرِ حراست

منصور احمد june 23,2026

سرگودھا (کرائم رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

شاہینوں کے شہر سرگودھا میں 7 سالہ معصوم بچی کے مبینہ اغوا اور بہیمانہ قتل کے لرزہ خیز واقعے نے پورے علاقے میں شدید غم و غصے اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ مقامی پولیس کے مطابق، دوسری جماعت کی طالبہ اپنے گھر سے روزمرہ کی چند اشیاء خریدنے کے لیے قریبی دکان پر گئی تھی، لیکن طویل وقت گزرنے کے باوجود جب وہ واپس نہ لوٹی تو اہلِ خانہ کو شدید تشویش لاحق ہوئی۔

اہلِ خانہ کی جانب سے فوری اطلاع ملنے پر پولیس اور مقامی افراد نے بچی کی تلاش شروع کی، جس کے بعد بدقسمتی سے اس کی لاش مردہ حالت میں برآمد ہوئی۔ پولیس حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے جائے وقوعہ کو سیل کیا اور ابتدائی تفتیش و ریکی کی بنیاد پر اس دکان سے تعلق رکھنے والے دو مشتبہ دکانداروں کو حراست میں لے کر نامعلوم تفتیشی مرکز منتقل کر دیا ہے۔ سرگودھا پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی گہرائی تک پہنچنے کے لیے تمام ممکنہ اور حساس پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ جائے وقوعہ سے سائنسی شواہد اور فنگر پرنٹس اکٹھے کرنے کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ٹیموں کو بھی طلب کیا گیا ہے۔

بچی کی میت کو ضابطے کی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق، پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ اور بچی کے ساتھ ہونے والی ممکنہ زیادتی یا تشدد کے حقائق کھل کر سامنے آئیں گے۔ دوسری جانب، معصوم بچی کے سوگوار خاندان نے مقتدر حکام سے انصاف کی درد مندانہ اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس درندگی میں ملوث سفاک عناصر کو قانون کے مطابق سرعام عبرت ناک سزا دی جائے۔ پولیس نے متعلقہ تھانے میں سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

عالمی فورم پر پاکستان کا شام کے لیے مضبوط موقف: شامی قیادت میں سیاسی منتقلی کے عمل اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ

محمود احمد june 22,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (سفارتی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

پاکستان نے برادر اسلامی ملک شام میں ہونے والی حالیہ مثبت پیش رفت اور استحکام کی کوششوں کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے، وہاں جاری سیاسی منتقلی کے عمل اور بین الاقوامی برادری میں شام کے دوبارہ انضمام کے لیے اپنی غیر متزلزل سفارتی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کی انسانی و سیاسی صورتحال پر ہونے والے اہم بریفنگ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ حالیہ رپورٹس ملک کے پُرامن مستقبل اور تزویراتی بحالی کے حوالے سے ایک امید افزا رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔

پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب کے دوران اسرائیل کی جانب سے شام کی جغرافیائی خود مختاری کی مسلسل اور سنگین خلاف ورزیوں، بشمول غیر قانونی فوجی دراندازیوں، من مانی گرفتاریوں اور شامی املاک و ذرائع معاش کی تباہی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے مقبوضہ شامی جولان میں اسرائیل کے نئے پانچ سالہ آباد کاری توسیعی منصوبے کو بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے یکسر منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ انہوں نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو فوری طور پر ایسے تمام یکطرفہ اقدامات سے روکا جائے اور وہ 1974ء کے مروجہ معاہدۂ علیحدگی کی مکمل پاسداری کرے۔ سفیر عاصم افتخار نے ایک پیچیدہ علاقائی ماحول کے باوجود دانشمندی کے ساتھ قومی ترجیحات، بحالی اور تعمیرِ نو پر فوکس رکھنے پر موجودہ شامی قیادت کو زبردست الفاظ میں سراہا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے شام اور اقوامِ متحدہ کے درمیان بڑھتے ہوئے مقتدر تعاون کا خیرمقدم کیا اور شمال مشرقی شام میں مقامی انتظامی ڈھانچوں کے قومی اداروں میں تدریجی انضمام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات پورے ملک میں ریاستی عملداری کی بحالی اور قومی یکجہتی کے لیے سنگ میل ثابت ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ شامی عوام کی مرضی اور قیادت میں آگے بڑھنے والا سیاسی منتقلی کا عمل ہی خطے میں پائیدار امن کی بہترین ضمانت ہے۔ سلامتی کے چیلنجز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیا کہ داعش اور غیر ملکی دہشت گرد جنگجوؤں کے خطرات تاحال موجود ہیں، جس کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی مسلسل کوششیں ناگزیر ہیں۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے مطابق، پاکستانی مندوب نے شام کی ابتر انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ شام کی معاشی بحالی کے لیے مالی وسائل کی کمی کو فوری پورا کرے، جبکہ انہوں نے شامی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا عزم دہرایا۔

عوامی ریلیف میں کمی: وفاقی حکومت کا ملک بھر میں فیول سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ، پٹرول اور ڈیزل پر ٹیکسز کی نئی شرح کا نوٹیفکیشن جاری

منصور احمد june 22,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

وفاقی حکومت نے ملک بھر میں جاری فیول سبسڈی پروگرام کو یکسر ختم کرنے کا ایک بڑا تزویراتی فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت اب موٹر سائیکل سواروں، چھوٹے کسانوں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو رعایتی نرخوں پر پٹرول اور ڈیزل فراہم نہیں کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق، ایندھن کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی کے تناظر اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی حتمی منظوری کے بعد، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت قومی اسٹیئرنگ کمیٹی کے ساتویں مقتدر اجلاس میں اس فیصلے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس کے دوران تمام صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں فیول سبسڈی کے خاتمے کی توثیق کی گئی۔

دوسری جانب، پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع نے پٹرول اور ڈیزل پر عائد مروجہ ٹیکسز کی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں مجموعی طور پر 29 فیصد ٹیکس شامل ہے، جو کہ رقم کی صورت میں 88 روپے 7 پیسے بنتا ہے۔ اس میں 19 روپے 32 پیسے کسٹم ڈیوٹی، 66 روپے 25 پیسے پیٹرولیم لیوی اور 2 روپے 50 پیسے کلائمیٹ سپورٹ لیوی شامل ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 29 فیصد ٹیکسز شامل ہیں جن کا حجم 91 روپے 15 پیسے فی لیٹر ہے، جس میں 15 روپے 68 پیسے کسٹم ڈیوٹی، 72 روپے 97 پیسے لیوی اور 2 روپے 50 پیسے کلائمٹ سپورٹ لیوی نافذ کی گئی ہے۔

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی نئی شرح کا مقتدر نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جو 20 جون 2026ء سے نافذ العمل ہو چکا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، عام صارفین کو ریلیف دینے کے لیے پٹرول پر ڈیولپمنٹ لیوی 40.49 روپے کم کر کے 106.74 روپے سے سیدھی 66.25 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ تاہم، دوسری جانب حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی میں 19.71 روپے فی لیٹر کا بھاری اضافہ کر دیا ہے، جس سے ڈیزل پر لیوی 53.26 روپے سے بڑھ کر 72.97 روپے فی لیٹر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ علاوہ ازیں، ہائی آکٹین پر پیٹرولیم لیوی میں 214.49 روپے کی ریکارڈ کمی کی گئی ہے، جس کے بعد اس پر عائد لیوی 305.74 روپے سے کم ہو کر 91.25 روپے فی لیٹر رہ گئی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق، ڈیزل پر لیوی بڑھنے سے ملکی مال برداری اور زراعت پر براہِ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

امریکا ایران مذاکرات میں فیلڈ مارشل کا کلیدی کردار، دیگر شخصیات کو کریڈٹ دینے کی ضرورت نہیں: ہمایوں مہمند

کاشف عباسی ,june 22,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے تاریخ ساز امن بریک تھرو پر ملک کے سیاسی اور حکومتی حلقوں میں تزویراتی بحث تیز ہو گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مقتدر رہنما اور سینیٹر ہمایوں مہمند نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں کامیابی کے پیچھے بنیادی، کلیدی اور فیصلہ کن کردار صرف اور صرف چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تھا، اس لیے اس عظیم سفارتی کامیابی کا کریڈٹ کسی اور سیاسی شخصیت کو دینے کی قطعی ضرورت نہیں۔

نجی ٹی وی کے مقتدر ٹاک شو میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر ہمایوں مہمند کا کہنا تھا کہ خود امریکی نائب صدر جے ڈی وینس عالمی میڈیا کے سامنے اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ اس انتہائی پیچیدہ مذاکراتی عمل میں فیلڈ مارشل عاصم منیر شروع دن سے واشنگٹن کے ساتھ کھڑے رہے اور انہوں نے ہی اسے ممکن بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آرمی چیف کی ان انتھک اور کامیاب سفارتی کوششوں کو کسی بھی سیاسی مہرے کے کھاتے میں ڈالنا مناسب نہیں۔ سینیٹر ہمایوں مہمند نے ایران پر عائد عالمی پابندیوں میں ممکنہ نرمی یا خاتمے کے پاکستان پر اثرات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت سے پاکستان کو معاشی طور پر براہِ راست اور زبردست فائدہ پہنچے گا، جس سے پاک-ایران گیس پائپ لائن اور پیٹرولیم مصنوعات کی سستی درآمد کے امکانات روشن ہوں گے اور ملکی توانائی بحران پر ہمیشہ کے لیے قابو پایا جا سکے گا۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو ان منصوبوں میں شفافیت کو مقدم رکھنا ہو گا۔

دوسری جانب، وفاقی وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے بھی پروگرام میں حکومت کا تزویراتی مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے مابین یہ کامیاب مذاکرات پاکستان کے لیے نئے معاشی، سفارتی اور تزویراتی مواقع کا دروازہ کھول رہے ہیں۔ بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ تہران پر پابندیوں میں متوقع نرمی کے نتیجے میں پاک-ایران گیس پائپ لائن منصوبے، بجلی کی فراہمی اور دوطرفہ تجارت میں حائل تمام قانونی رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس مقتدر سفارتی موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کے ساتھ اپنے معاشی اور تجارتی روابط کو فوری طور پر نئی بلندیوں پر لے جانا چاہیے تاکہ ملکی معیشت کو پائیدار استحکام حاصل ہو سکے۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے سیاسی مبصرین کے مطابق، اگرچہ کریڈٹ لینے کی جنگ جاری ہے، تاہم تمام سیاسی و عسکری مہرے اس بات پر مکمل متفق ہیں کہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ پاکستان کی خوشحالی کا ضامن ہے۔

سفارت کاری کا بڑا معرکہ: الحمد للہ، پاکستان کو ایک بڑی تزویراتی کامیابی حاصل ہوئی ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر؛ امریکہ اور ایران کے درمیان 60 روز میں حتمی امن معاہدے کے روڈ میپ پر اتفاق

کاشف عباسی ,june 22,2026

راولپنڈی (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی مذاکراتی عمل میں ہونے والی بریک تھرو اور مثبت پیش رفت پر اپنا مقتدر ردِعمل دیتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ “الحمد للہ پاکستان کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، اور یہ تاریخی کامیابی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم اور مخلصانہ کوششوں سے ممکن ہوئی۔” فیلڈ مارشل کا یہ مقتدر بیان سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ کے تحت ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکراتی اجلاس کے انتہائی کامیاب اختتام اور مشترکہ اعلامیے کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں علاقائی سلامتی اور عالمی امن کے حوالے سے طویل عرصے بعد بڑی تزویراتی پیش رفت ہوئی ہے۔

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے بھی برگن اسٹاک میں مذاکرات کے پہلے مرحلے کی شاندار کامیابی پر گہرے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی تاریخ کا ایک عظیم اور تاریخی سنگِ میل قرار دیا ہے۔ اپنے خصوصی بیان میں وزیرِ اعظم پاکستان نے بتایا کہ یہ مقتدر مذاکرات انتہائی خوشگوار، مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئے، جن کے منطقی نتیجے میں دونوں روایتی حریف فریقین (واشنگٹن اور تہران) نے آئندہ 60 دنوں کے اندر ایک حتمی اور جامع امن معاہدے تک پہنچنے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر باقاعدہ اتفاق کر لیا ہے۔ وزیرِ اعظم کے مطابق، اس تاریخی امن عمل کی باقاعدہ نگرانی اور تیز رفتار پیش رفت کے لیے ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ مقتدر کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے، جبکہ تکنیکی اور تزویراتی سطح کے ذیلی مذاکرات بھی جلد شروع کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے امریکی اور ایرانی قیادت کے تعمیری و لچکدار رویے کو سراہتے ہوئے اس عمل میں معاونت کرنے والے تمام دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پسِ پردہ غیر معمولی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کی انتھک محنت، فولادی عزم اور مسلسل پسِ پردہ سفارتی رابطوں نے ہی اس ناممکن نظر آنے والی عالمی پیش رفت کو ممکن بنایا ہے۔ وزیرِ اعظم نے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزارتِ خارجہ کی مقتدر ٹیم اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی شبانہ روز خدمات کو بھی دل کھول کر سراہا۔ انہوں نے برادر ملک قطر اور میزبان ملک سوئٹزرلینڈ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول اور تکنیکی سہولیات فراہم کیں۔ عالمی سیاسی اور سفارتی حلقوں کے مطابق، اس تاریخ ساز کامیابی نے عالمی سطح پر پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عسکری و سیاسی قیادت کے تزویراتی وقار کو معراج بخش دی ہے، اور دنیا اب تنازعات کے حل کے لیے پاکستان کو ایک ناگزیر مصالحت کار کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

ملاوٹ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن: پنجاب فوڈ اتھارٹی کی بڑی کارروائی، لاہور میں جعلی دودھ تیار کرنے والا منظم گروہ گرفتار

کاشف عباسی ,june 22,2026

لاہور ( نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے صوبائی دارالحکومت لاہور کے گنجان آباد علاقے گوال منڈی میں ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے کیمیکلز اور سفوف کی مدد سے جعلی و مصنوعی دودھ تیار کرنے والے ایک انتہائی منظم اور خطرناک گروہ کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ہے۔ مقتدر کارروائی کے دوران مارکیٹ میں سپلائی کے لیے تیار کیا گیا تقریباً 50 لاکھ روپے مالیت کا جعلی دودھ، مضرِ صحت گاڑھا محلول اور دودھ کی تیاری میں استعمال ہونے والی بھاری مشینری برآمد کر کے مروجہ قوانین کے تحت ضبط کر لی گئی ہے۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سید موسیٰ رضا نے ویجیلنس اور ڈیری سیفٹی ٹیم کے ہمراہ ایک خفیہ اور معتبر اطلاع پر اس یونٹ پر چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران پاؤڈر اور مہلک کیمیکلز سے تیار شدہ 10 ہزار لیٹر جعلی دودھ اور 1500 لیٹر خطرناک گاڑھا محلول موقع پر ہی تلف کر دیا گیا، جبکہ دھندے میں ملوث ملزمان کو حراست میں لے کر ان کے خلاف تھانے میں مقتدر مقدمہ درج کروا دیا گیا ہے۔ فوڈ اتھارٹی کے مروجہ ریکارڈ کے مطابق، جائے وقوعہ سے 11 گھی کے ٹین، مکسنگ مشین، 6 بڑے ڈرم، 10 بیگ پاؤڈر، 2 چلرز، 2 فریزرز، وزن کرنے والے کانٹے اور گیس سلنڈرز برآمد ہوئے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق، یہ ملاوٹ مافیا ایک رہائشی علاقے کے اندر قائم خفیہ کارخانے میں رات کے اندھیرے میں یہ مصنوعی دودھ تیار کرتا تھا، جسے صبح سویرے شہر کی مختلف مقتدر دکانوں اور نامی گرامی مارکیٹوں میں خالص دودھ کے نام پر سپلائی کیا جاتا تھا۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی سید موسیٰ رضا نے میڈیا کو بتایا کہ ملزمان پاؤڈر، پانی، ناقص گھی اور ٹیکسٹائل کیمیکلز کی مدد سے زہریلا مائع تیار کر کے معصوم شہریوں اور بچوں کی صحت کے ساتھ ایک ہولناک کھیل کھیل رہے تھے۔ موبائل لیبارٹری کے ذریعے موقع پر کیے گئے سائنسی ٹیسٹ میں دودھ کے تمام نمونے انتہائی ناقص اور انسانی صحت کے لیے کینسر کا باعث قرار پائے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پنجاب بھر میں خالص خوراک کی فراہمی کے لیے بین الاقوامی معیار کے مطابق بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے ذریعے شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے اردگرد ایسی کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً فوڈ اتھارٹی کی ہیلپ لائن پر دیں۔

افغان طالبان رجیم کا جھوٹ ایک بار پھر بے نقاب، کابل میں دہشت گردوں کی مبینہ وی آئی پی میزبانی کے دعوے سامنے آگئے

محمود احمد june 22,2026

کابل/اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

افغان طالبان حکومت کی جانب سے سرحد پار کارروائیاں کرنے والے دہشت گرد گروہوں کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں اور مقتدر مراعات دینے سے متعلق الزامات اور حقائق ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کرنے والی تازہ ترین تصاویر و شواہد کے بعد یہ چونکا دینے والا دعویٰ سامنے آیا ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایک انتہائی معروف فائیو اسٹار ہوٹل میں پاکستان کو مطلوب کالعدم شدت پسند گروپس سے وابستہ ہائی پروفائل افراد کی کھلی موجودگی دیکھی گئی ہے۔

تزویراتی ذرائع کے مطابق، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان دستاویزی تصاویر میں بعض ایسے مسلح اور بااثر افراد کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے جن کے بارے میں مصدقہ طور پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد سنگین وارداتوں میں ملوث ‘حافظ گل بہادر گروپ’ سے وابستہ ہیں۔ تصاویر کے حوالے سے جیو پولیٹیکل ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کابل کے سب سے مقتدر اور معروف ‘انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل’ کے اندر کی ہیں، جہاں مبینہ طور پر یہ شدت پسند کمانڈرز نہ صرف سرکاری مہمانوں کی طرح قیام پذیر تھے بلکہ ہوٹل کے مختلف حصوں میں بلا خوف و خطر گھومتے پائے گئے۔ بعض بین الاقوامی رپورٹس میں یہ ہولناک دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ان مقتدر دہشت گردوں کو افغان انٹیلی جنس کی جانب سے خصوصی پروٹوکول، مالی سہولیات اور سخت وی آئی پی سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔

دفاعی اور قومی سلامتی کے مقتدر ماہرین کا کہنا ہے کہ کابل کے دل میں دہشت گرد کمانڈرز کی اس سطح پر موجودگی افغانستان میں موجود تخریب کار عناصر اور افغان حکومت کے اعلیٰ مہروں کے درمیان گہرے روابط کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایسے اقدامات دوطرفہ تعلقات اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کو شدید ترین نقصان پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں۔ اگرچہ افغان طالبان حکومت ماضی میں روایتی طور پر یہ دعویٰ کرتی آئی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی، تاہم ان تازہ ترین تصاویر کے منظرِ عام پر آنے کے بعد کابل کا یہ مؤقف دنیا بھر میں بری طرح بے نقاب ہو گیا ہے۔ علاقائی امور کے ماہرین نے زور دیا ہے کہ سرحد پار سیکیورٹی چیلنجز اور دہشت گردی کے اس منظم نیٹ ورک سے نمٹنے کے لیے افغان حکومت کو اب زبانی جمع خرچ کے بجائے ٹھوس، شفاف اور ذمہ دارانہ اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

ملزم سکیورٹی فورسز کو پنجگور میں کارروائی کے دوران مطلوبہ اسلحہ و بارود سمیت ہتھے چڑھا تھا؛ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف بڑی عدالتی پیش رفت

کاشف عباسی ,june 22,2026

تربت ( نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

انسدادِ دہشت گردی کی مقتدر عدالت تربت نے فتنہ الہندوستان کے نیٹ ورک اور دیگر کالعدم تنظیموں سے منسلک خطرناک سہولت کار ساجد احمد کو دہشت گردی، معاونت اور غیر قانونی اسلحہ ایکٹ کے مروجہ مقدمات میں مجموعی طور پر 14 سال سخت قیدِ بامشقت کی سزا کا حکم دے دیا ہے۔ عدالتی دستاویزات اور سرکاری سکیورٹی ذرائع کے مطابق، مجرم ساجد احمد کو حساس اداروں اور سکیورٹی فورسز نے ضلع پنجگور کے ایک حساس علاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ کامیاب کارروائی کے دوران گرفتار کیا تھا، جہاں تلاشی کے دوران اس کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید خودکار اسلحہ اور دھماکا خیز مواد برآمد ہوا تھا۔

تفتیشی حکام اور استغاثہ نے عدالت کے سامنے مضبوط شواہد پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم ریاست مخالف اور ملک دشمن نیٹ ورکس کے مقتدر مہروں سے براہِ راست رابطے میں تھا، جبکہ اس پر کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف کے لیے تزویراتی سہولت کاری کرنے، مقامی معصوم نوجوانوں کو ورغلا کر شدت پسند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے اور متعدد تخریبی منصوبوں میں معاونت فراہم کرنے کے سنگین الزامات ثابت ہوئے۔ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے ناقابلِ تردید سائنسی و دستاویزی شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ملزم کو قصوروار قرار دیتے ہوئے دہشت گردی کے مقدمے میں 14 سال قید کی سزا سنائی جبکہ ‘بلوچستان آرمز ایکٹ’ کے تحت بھی اضافی جرمانے اور قید کی مقتدر سزا عائد کی ہے۔

عدالتی فیصلے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اعلیٰ اداروں نے اس تزویراتی اقدام کو دہشت گردی کے سہولت کاروں اور فیلڈ نیٹ ورکس کے خلاف جاری آپریشنز میں ایک بڑی اور اہم ترین پیش رفت قرار دیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا واشگاف الفاظ میں کہنا ہے کہ ملک دشمن عناصر، تخریب کاروں اور ان کے مقامی و بین الاقوامی سہولت کاروں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے کسی بھی عنصر کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، اس فیصلے سے دہشت گردی کی سپلائی لائن کو توڑنے میں مدد ملے گی، جبکہ سکیورٹی اداروں نے امن و امان کی مقتدر صورتحال برقرار رکھنے کے لیے عوام سے کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دینے کی اپیل کی ہے۔

سیاحتی مقامات پر ہائی الرٹ: مری اور گلیات میں تیز بارشوں کا نیا سلسلہ متوقع، ریسکیو 1122 کے تمام وسائل متحرک

منصور احمد june 22,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

ملکہ کوہسار مری، گلیات اور ان کے مروجہ گرد و نواح میں آئندہ چند روز کے دوران گرج چمک، تیز تند ہواؤں اور موسلا دھار بارشوں کی نئی پیش گوئی کے پیشِ نظر پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 مری نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ خراب موسم اور ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹنے کے لیے تمام دستیاب ایمرجنسی وسائل، اسپیشلائزڈ ریسکیو ٹیموں اور کنٹرول روم کے عملے کو فیلڈ مارشل ڈسپلن کے تحت مکمل طور پر متحرک کر دیا گیا ہے۔ ریسکیو 1122 مری کے ترجمان کے مطابق، حالیہ موسمیاتی رپورٹس میں مختلف اوقات کے دوران شدید موسمی سرگرمیوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کے باعث مقتدر انتظامیہ کی جانب سے تمام حفاظتی اور قبل از وقت انتظامی اقدامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

ترجمان نے تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ خراب موسم کے دوران کسی بھی ناگہانی آفت یا حادثے کی صورت میں فوری رسپانس کو یقینی بنانے کے لیے فائر وہیکلز، جدید ایمبولینسز اور ہیوی ریسکیو اہلکاروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رکھا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق، ان شدید پہاڑی بارشوں کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ ، پتھر اور درخت گرنے، سڑکوں پر شدید پھسلن، ٹریفک حادثات اور نشیبی برساتی ندی نالوں میں اچانک طغیانی کے شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اسی تزویراتی تناظر میں مری آنے والے سیاحوں اور مقامی شہریوں کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طویل سفر سے مکمل گریز کریں اور ندی نالوں یا خطرناک چٹانی گزرگاہوں سے دور رہیں۔ ریسکیو 1122 نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری مدد کے لیے ہیلپ لائن 1122 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

خلیجی معیشت میں بڑا اقدام: کویت کا غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے 15 سالہ اقامہ متعارف، پاکستانی تاجر بھی مستفید ہو سکیں گے

محمود احمد june 22,2026

کویت سٹی ( نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

خلیجی ریاست کویت نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور عالمی کاروباری شخصیات کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے ایک تزویراتی اور تاریخی پیشرفت کرتے ہوئے 15 سالہ طویل مدتی اقامہ (ریذیڈنسی ویزا) باقاعدہ متعارف کرا دیا ہے۔ نئے مقتدر قانون کے تحت مروجہ شرائط پر پورا اترنے والے اہل غیر ملکی سرمایہ کار، ان کے کاروباری شراکت دار اور قریبی اہلِ خانہ اب کفیل (اسپانسر) کے روایتی نظام کے بغیر طویل مدت تک کویت میں رہائش اختیار کرنے اور اپنی تجارتی سرگرمیاں بلاروک ٹوک جاری رکھنے کے اہل ہوں گے۔

کویتی حکام کے مطابق، اس انقلابی اقدام کا بنیادی مقصد ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو متحرک کرنا، ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنانا اور کویت کو خلیجی خطے کے نمایاں مالیاتی و تجارتی مراکز کی صف میں شامل کرنا ہے۔ نئی پالیسی کے مقتدر ضوابط کے تحت وہ تمام غیر ملکی افراد درخواست دینے کے مجاز ہوں گے جو کویت میں حکومت سے منظور شدہ تزویراتی سرمایہ کاری منصوبوں اور فعال کاروباری سرگرمیوں سے وابستہ ہوں۔ کویتی وزارتِ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ اس خصوصی اقامے کی سہولت حاصل کرنے والوں میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے علاوہ تسلیم شدہ بین الاقوامی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران اور رجسٹرڈ کاروباری شراکت دار بھی شامل ہیں۔ پاکستانی سرمایہ کار اور کاروباری برادری بھی خلیج کی اس نئی پالیسی سے یکساں طور پر مستفید ہو سکیں گے۔

نئے مروجہ قواعد و ضوابط کے تحت سرمایہ کاروں کے لیے یہ لازمی ہوگا کہ ان کے کاروباری منصوبے ‘کویت ڈائریکٹ انویسٹمنٹ پروموشن اتھارٹی’ سے باقاعدہ تصدیق شدہ اور منظور شدہ ہوں، جبکہ مقامی کویتی شہریوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور حکومت کی مقرر کردہ کم از کم سرمایہ کاری کی مخصوص حد (تھریش ہولڈ) کو پورا کرنا بھی لازمی ہوگا۔ کویتی کابینہ کی منظوری کے بعد نافذ ہونے والی یہ نئی ویزا اصلاحات ملک کے طویل المدتی اقتصادی وژن کا ایک اہم حصہ ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد کویت بھی اب متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے خلیجی ممالک کی اس صف میں شامل ہو گیا ہے جو عالمی ٹیلنٹ اور سرمائے کو محفوظ اور مستحکم ماحول فراہم کر رہے ہیں، جس سے پاکستانی تاجروں کے لیے بھی مڈل ایسٹ میں کاروباری توسیع کے نئے اور مقتدر مواقع پیدا ہوں گے۔