جی ایچ کیو راولپنڈی میں پیپلز لبریشن آرمی کی 99ویں سالگرہ کی تقریب: پاکستان اور چین کی دوستی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر

منصور احمد, August 01,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

پاک فوج کے سپہ سالار، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے پاکستان اور چین کے دیرینہ و مضبوط تذویراتی تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں دوست ممالک کی باہمی دوستی انتہائی منفرد، وقت کی ہر کسوٹی پر پرکھی ہوئی اور بدلتے ہوئے علاقائی و عالمی چیلنجز کے باوجود مضبوطی سے قائم و دائم ہے۔

ہفتہ کے روز پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، چین کی عوامی جمہوریہ کی پیپلز لبریشن آرمی کے قیام کی 99ویں سالگرہ کی پروقار تقریب جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں منعقد کی گئی۔ چین کے پاکستان میں سفیر جیانگ زائی ڈونگ اس موقع پر مہمانِ خصوصی تھے۔ تقریب میں چین کے دفاعی اتاشی میجر جنرل وانگ ژونگ، چینی سفارت خانے کے اعلیٰ عہدیداران اور پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے سینئر افسران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے جی ایچ کیو آمد پر تمام معزز مہمانوں کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور پیپلز لبریشن آرمی کو اس کی 99ویں سالگرہ پر دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے چین کے دفاع، قومی ترقی اور بین الاقوامی سطح پر امن و سلامتی کے قیام میں پی ایل اے کی نمایاں خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔

پاکستان اور چین کے تعلقات کی پائیدار مضبوطی پر بات کرتے ہوئے آرمی چیف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک فوج اور پی ایل اے حقیقی اور غیر متزلزل شرکاء ہیں، جو باہمی اعتماد، سچی حمایت اور علاقائی امن و استحکام کے تحفظ کے مشترکہ عزم سے جڑے ہوئے ہیں۔

اس موقع پر چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے جی ایچ کیو میں یادگاری تقریب کی میزبانی پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی بے مثال خدمات اور قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے پاکستان کے لیے چین کی غیر متزلزل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان ہر موسم میں آزمودہ تذویراتی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وضاحتی نوٹ: متن میں پیش کردہ عہدے کی تصحیح کے ساتھ آرمی چیف کا باضابطہ اور درست رینک ‘جنرل’ ہی تحریر کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کا دورۂ ترکیہ: ‘ٹراسا’ اور ‘اسیلسن’ کا دورہ، ریلوے کی جدید کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر اتفاق

منصور احمد, August 01,2026

انقرہ/ترکیہ (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی نے ترکیہ کے اپنے دو روزہ سرکاری دورے کے دوسرے روز ترکیہ کی معروف ریلوے مینوفیکچرنگ کمپنی ‘ٹراسا’ اور عالمی شہرت یافتہ دفاعی و ہائی ٹیکنالوجی کمپنی ‘اسیلسن’ کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر پاکستان ریلوے کی جامع جدید کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل ریلوے نظام کے فروغ پر دونوں ممالک کے حکام کے درمیان اہم اور تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزارتِ ریلوے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر نے اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کے ہمراہ جدید ریلوے ٹیکنالوجی، مسافر کوچز، ریلوے انجن، الیکٹرک اور ڈیزل ملٹی پل یونٹس فریٹ ویگنز، جدید پیداواری نظام، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اور کوالٹی کنٹرول کے مختلف شعبوں کا بچشمِ خود معائنہ کیا۔ دورے کے دوران ترک نائب وزیر ٹرانسپورٹ عثمان بویراز، ٹراسا کے ڈائریکٹر جنرل سلیم کوچبائے، ٹی سی ڈی ڈی تاشیماجیلک کے ڈائریکٹر جنرل اوفوک یالچن، ڈپٹی گورنر ساکاریا اور اسیلسن کے اعلیٰ حکام نے پاکستانی وفد کو ترکیہ کے جدید ریلوے آپریشنز، سگنلنگ، مواصلاتی نظام، سائبر سکیورٹی اور اسمارٹ ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجیز پر تفصیلی بریفنگ دی۔

مذاکرات کے دوران پاکستان ریلوے، ٹراسا اور اسیلسن کے درمیان ٹیکنالوجی ٹرانسفر، مشترکہ مینوفیکچرنگ، رولنگ اسٹاک کی جدید کاری، جدید سگنلنگ، ٹیلی کمیونیکیشن، خودکار ٹرین کنٹرول ، سائبر سکیورٹی اور ذہین ریلوے نظام میں آئندہ کے لیے وسیع تعاون کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ مزید برآں، کیرج فیکٹری اسلام آباد اور پاکستان ریلوے کی دیگر مرکزی ورکشاپس کو جدید ترک ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے اور مقامی سطح پر ریلوے آلات کی تیاری کے امکانات پر بھی فریقین کے مابین کامل اتفاقِ رائے پایا گیا۔

وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے کی مکمل ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، جدید ٹریفک مینجمنٹ، فائبر آپٹک مواصلاتی نظام اور محفوظ ریلوے آپریشنز موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایم ایل-1 (ML-1)، ایم ایل-3 (ML-3) اور اہم ترین ‘اسلام آباد-تہران-استنبول’ فریٹ کوریڈور کی کامیابی کے لیے جدید ریلوے ٹیکنالوجی کو اپنانا نہایت ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کے سگنلنگ اور مواصلاتی نظام کی بدولت علاقائی روابط اور فریٹ آپریشنز مزید مستحکم اور منافع بخش ہوں گے۔

رکنِ قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ کے انتقال پر وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا گہرے دکھ کا اظہار

کاشف عباسی , August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ کے ناگہانی انتقال پر گہرے دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے تعزیتی بیانیے میں وفاقی وزیر نے کہا کہ مرحوم نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں بے لوث عوامی خدمت، پاکستان مسلم لیگ (ن) سے لازوال وفاداری اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے انتہائی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک محمد اقبال چنڑ کا انتقال پارٹی بالخصوص ملکی سیاست کے لیے ایک بہت بڑا نا وہ پورا ہونے والا نقصان ہے۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اپنی پوسٹ کے ذریعے مرحوم کے سوگوار اہلِ خانہ، بالخصوص ان کے صاحبزادے اور ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک ظہیر اقبال چنڑ اور تمام متعلقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے ربّ العزت کے حضور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے بلند درجات فرمائے، ان کی مغفرت کرے اور لواحقین کو یہ صدمہ صبر و حوصلے سے برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔

رکنِ قومی اسمبلی ملک اقبال چنڑ کے انتقال پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

منصور احمد, August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سینئر سیاستدان، رکنِ قومی اسمبلی ملک اقبال چنڑ کے ناگہانی انتقال پر گہرے رنج و غم اور دلی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مرحوم، پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ کے والدِ گرامی تھے۔

ہفتہ کے روز جاری کردہ اپنے ایک خصوصی تعزیتی بیانیے میں گورنر خیبرپختونخوا نے مرحوم ملک اقبال چنڑ کی سیاسی، سماجی اور طویل عوامی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ مرحوم نے جمہوری اقدار کی پاسداری اور عوامی خدمت کے میدان میں انتہائی گراں قدر خدمات انجام دیں، جنہیں سیاسی و سماجی حلقوں میں ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا اور یاد رکھا جائے گا۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک ظہیر اقبال چنڑ، ان کے سوگوار خاندان اور تمام پسماندگان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ملک اقبال چنڑ کی کامل مغفرت فرمائے، انہیں جوارِ رحمت اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور تمام لواحقین کو اس ناگہانی و عظیم صدمے کو صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے۔

سیلاب متاثرین کی امداد کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے 6 شہداء کی عظیم قربانی؛ پاک فوج عوام کی خدمت اور دفاعِ وطن کے لیے ہمیشہ پیش پیش

کاشف عباسی , August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

پاک فوج کی عوام کے لیے کی جانے والی بے لوث خدمات سے تاریخ بھری پڑی ہے، چاہے جنگ کی صورتحال ہو یا ناگہانی آفت، مسلح افواج نے قوم کو کبھی مایوس کیا اور نہ ہی تنہا چھوڑا ہے۔ عوامی خدمت کی ایسی ہی لازوال اور بے لوث مثال 2022ء کی تباہ کن سیلابی صورتحال کے دوران قائم کی گئی تھی۔

آج یکم اگست 2026ء کو کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی شہید اور ان کے ساتھیوں کی چوتھی برسی منائی جا رہی ہے۔ یکم اگست 2022ء کو لسبیلہ میں سیلاب متاثرین کی امدادی سرگرمیوں کا خود جائزہ لینے کے لیے ریسکیو مشن کی قیادت کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا تھا، جس میں انہوں نے اپنے دیگر 5 رفقائے کار کے ساتھ جامِ شہادت نوش کیا۔

اس المناک حادثے میں بریگیڈیئر امجد حنیف (جو حادثے سے کچھ عرصہ قبل ہی میجر جنرل کے عہدے پر ترقی پا چکے تھے)، بریگیڈیئر محمد خالد، پائلٹ میجر سعید احمد، میجر محمد طلحہ اور نائیک مدثر فیاض بھی ملک و قوم کی خدمت کرتے ہوئے شہید ہو گئے تھے۔ اس دردناک حادثے نے پوری قوم کی آنکھیں اشکبار کر دی تھیں اور ملک کی فضا کئی روز تک شدید سوگوار رہی۔

کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی شہید ایک انتہائی پیشہ ور، باصلاحیت اور نڈر آفیسر تھے جنہوں نے پاک فوج میں اہم ترین عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ انہیں نومبر 2020ء میں تھری سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی جبکہ دسمبر 2020ء میں انہیں کور کمانڈر کوئٹہ تعینات کیا گیا تھا۔ پاک فوج ہر مشکل گھڑی میں اپنے ہم وطنوں کی مدد اور ملک و قوم کے دفاع کے لیے ہمیشہ تپش و قربانی کے جذبے سے شارشار رہی ہے اور آئندہ بھی کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔

آرٹیکل 370 اور 35 کی منسوخی کے 7 سال: مقبوضہ کشمیر میں امن و ترقی کے بھارتی دعوے زمینی حقائق کے برعکس نکلے

منصور احمد, JULY 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

غیر قانونی زیرِ تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں اگست 2019ء کے دوران بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35کی یکطرفہ و غیر قانونی منسوخی کے بعد سے اب تک وادی میں امن، ترقی اور خوشحالی سے متعلق بھارتی حکومت کے تمام تر ادعا اور دعوے مکمل طور پر کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ سیاسی اور دفاعی تجزیہ کاروں کی جانب سے پیش کردہ ایک جامع رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سات سال کے دوران مقبوضہ خطے کو معاشی تباہی، سیاسی بے چینی اور انسانی حقوق کے شدید ترین چیلنجز کا سامنا رہا ہے جو نئی دہلی کے سرکاری بیانیے کو بے نقاب کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت نے آئینی حیثیت کے خاتمے کو وادی کے انضمام اور ترقی کے منصوبے کے طور پر پیش کیا تھا، تاہم سات سال کے بعد بھی بے روزگاری، شدید عسکریت، جبری نظر بندیاں اور آبادی کی تناسب کو بدلنے کی ناپاک کوششیں عروج پر ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت سیاحوں کی تعداد کو معمول کی زندگی کا ثبوت بنا کر پیش کرتی ہے، تاہم 2019ء کی پابندیوں اور 2025ء کے پہلگام حملے کے بعد وادی کا شعبۂ سیاحت مکمل طور پر سیکورٹی فورسز کے رحم و کرم پر ہے جس سے مقامی ہاتھ کے کاریگر، تاجر اور سیاحت سے وابستہ ہزاروں کشمیری شدید معاشی بحران کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ سیب کی صنعت، باغبانی اور درمیانے درجے کے تمام کاروبار نئے ٹیکسوں، متنازعہ زمینی پالیسیوں اور کاروباری بندشوں کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تعلیم کا شعبہ مسلسل انٹرنیٹ کی بندش، طویل سیکورٹی پابندیوں اور اساتذہ کی شدید کمی سے متاثر ہے، جس سے پوری وادی کے نوجوان خوف، شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال میں مبتلا ہیں۔ دوسری جانب زمین، ڈومیسائل اور انتظامی قوانین میں جابرانہ ترمیم کے ذریعے مقبوضہ وادی کی مسلم اکثریتی آبادیاتی ساخت کو ہندو اکثریت میں بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی ورزی ہے۔ مذہبی قیادت پر پابندیوں اور اسلامی اداروں میں مداخلت نے کشمیریوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔

جولائی 2026ء میں وادی کے اندر ‘ریاستی حیثیت کی بحالی’ کی تحریک نے مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور مذہبی قیادت کو ایک بار پھر ایک پیج پر متحد کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئینی حقوق کی بحالی، تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی اور سچی جمہوریت کا قیام ہی حل ہے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ وادی میں پائیدار امن تبھی ممکن ہے جب جموں و کشمیر کے تنازع کو بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات و امنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔

ایک لاکھ کشمیری پاک فوج کا حصہ ہیں، قربانی دینے والوں کو قابض کہنا زیادتی ہے؛ 25 کروڑ آبادی کی ضروریات کے لیے انتظامی ری سیٹ پر عوام اور حکومت غور کریں، اہم پریس کانفرنس

منصور احمد, JULY 31,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے راولپنڈی میں اہم ترین میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر اور پاکستان کی سلامتی و انتظامی ڈھانچے پر پاک فوج کا موقف بالکل واضح اور قطعی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دے کر کہا کہ “پاکستان کا سب سے لاڈلہ بچہ کشمیر ہے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا، ہمارے بچے بڑے ہوں گے تو ان کی بھی یہی ایک آواز رہے گی کہ کشمیر بنے گا پاکستان۔”

ترجمان پاک فوج نے مقبوضہ و آزاد کشمیر کی صورتحال اور پاک فوج پر بلاجواز تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ “ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے اور کشمیر بھی ہمارا ہے، مگر دوسری جانب تقاریر میں پاکستان کی فوج کو قابض کہا جا رہا ہے۔ یہ بتائیں کہ اسی پاک فوج میں کم از کم ایک لاکھ کشمیری جوان شامل ہیں، اور کتنے ہی پاکستانی مجاہدین و افواج کے افسران نے کشمیر کی آزادی کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ انہیں قابض کہنا کسی صورت درست نہیں۔” انہوں نے واضح کیا کہ فوج کا سیاسی یا مقامی انتظامی امور سے کوئی لینا دینا نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملک میں قومی سلامتی، گڈ گورننس اور انتظامی اصلاحات کے باہمی تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قومی سلامتی، گڈ گورننس اور عوامی فلاح و بہبود ایک دوسرے سے گہرے جڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے بدلتے ہوئے عالمی و علاقائی حالات کے مطابق ملک کے انتظامی ڈھانچے اور حکمرانی کے نظام پر سنجیدگی سے غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھی حکمرانی کے بغیر درپیش چیلنجز کا موثر حل ممکن نہیں۔

ترجمان پاک فوج نے مزید اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1972ء میں پاکستان کی کل آبادی محض 7 سے 8 کروڑ تھی جو آج بڑھ کر تقریباً 25 کروڑ تک جا پہنچی ہے، جس کی وجہ سے عوامی ضروریات اور مسائل کا حجم بھی یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ اگر ملک میں بہتر حکمرانی اور عوام کی سہولت کے لیے کسی ‘انتظامی ری سیٹ’ کی ضرورت ہے تو اس پر ضرور غور ہونا چاہیے، تاہم چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام یا نیا فریم ورک بنانے کا حتمی اختیارات صرف عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کے پاس ہے۔

مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے 133ویں یومِ پیدائش پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا شاندار خراجِ عقیدت

کاشف عباسی , JULY 31,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو ان کے 133ویں یومِ پیدائش کے پروقار موقع پر شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ صدرِ مملکت نے اپنے پیغام میں انہیں تحریکِ آزادی کی عظیم رہنما اور بانیِ پاکستان کی انتہائی بااعتماد ساتھی قرار دیا ہے۔

ایوانِ صدر کی جانب سے جمعہ کے روز جاری ہونے والے باضابطہ اعلامیے کے مطابق، صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح قائدِاعظم محمد علی جناح کی نہ صرف بااعتماد رفیقِ کار تھیں بلکہ وہ تحریکِ پاکستان کی ایک ممتاز رہنما اور عظیم جمہوری اقدار کی توانا علمبردار بھی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مادرِ ملت نے برصغیر کی خواتین کو قومی زندگی اور تحریکِ آزادی کی جدوجہد میں اپنا مؤثر اور بھرپور کردار ادا کرنے کی ترغیب دی، جس کی بدولت ان کی یہ عظیم جدوجہد آج بھی پوری پاکستانی قوم بالخصوص خواتین کے لیے ایک روشن مشعلِ راہ ہے۔

صدرِ مملکت نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پوری قوم مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی عظیم قومی، سیاسی، جمہوری اور بے لوث سماجی خدمات کو ہمیشہ انتہائی قدر اور گہرے احترام کی نگاہ سے یاد رکھے گی۔ انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر خصوصی دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے درجات بلند فرمائے اور انہیں اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمائے۔

کوئٹہ کے علاقے سورنج میں کوئلہ کان حادثہ: صدر آصف علی زرداری کا قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار

کاشف عباسی , JULY 31,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کوئٹہ کے نواحی علاقے سورنج میں کوئلے کی کان میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ صدر مملکت نے حادثے کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانی ضیاع پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

ایوانِ صدر کے پریس ونگ کی جانب سے جمعہ کے روز جاری ہونے والے باضابطہ بیانیے کے مطابق، صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے مرحومین کی مغفرت، ان کے درجات کی بلندی اور غمزدہ لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی خصوصی دعا کی۔ انہوں نے متعلقہ اداروں اور ریسکیو حکام کو ہدایت کی کہ کان میں پھنسے تمام مزدوروں تک جلد از جلد رسائی کو یقینی بنایا جائے اور تمام زخمیوں کو فوری طور پر بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

صدرِ مملکت نے اس بات پر شدید زور دیا کہ کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی جانوں کے تحفظ کے لیے مقررہ حفاظتی ضوابط پر بلاامتیاز اور سختی سے عمل درآمد کروایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے دلخراش اور افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ وطنِ عزیز کی تعمیر و ترقی میں محنت کش طبقے کا کردار بے حد قابلِ قدر ہے اور ان کی جان و مال کی مکمل حفاظت کرنا ریاست کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

این سی سی آئی اے کا پنجاب بھر میں اوڈ گینگ کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن: مالیاتی سائبر فراڈ میں ملوث 27 ملزمان گرفتار

محمود احمد, JULY 31,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے پنجاب بھر میں مالیاتی سائبر فراڈ، آن لائن ڈکیتیوں اور جعلی شناختی بھیس بدل کر شہریوں کو لوٹنے والے خطرناک ‘اوڈ گینگ’ کے خلاف وسیع پیمانے پر بڑا کریک ڈاؤن کیا ہے۔ اس کامیابی کے دوران ایجنسی نے لاہور، ملتان اور فیصل آباد سے مجموعی طور پر 27 ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے پاس سے بھاری تعداد میں سمارٹ فونز، غیر قانونی فعال سمیں اور دیگر ڈیجیٹل شواہد برآمد کر لیے ہیں۔

ترجمان این سی سی آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمان انتہائی منظم انداز میں خود کو بینک افسران، کسٹمز، پولیس اہلکار، خیراتی اداروں کے نمائندے، ٹی سی ایس رائیڈر اور جعلی سرمایہ کاری کمپنیوں کے نمائندے ظاہر کر کے شہریوں کو چکمہ دیتے تھے۔ ملزمان سادہ لوح شہریوں سے ون ٹائم پاس ورڈ بینکنگ تفصیلات اور پاس ورڈز حاصل کر کے ان کے تمام جمع شدہ سرمائے کا صفایا کر دیتے تھے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں این سی سی آئی اے کی ٹیموں نے دو مختلف تابڑ توڑ کارروائیوں کے دوران 13 ملزمان کو گرفتار کیا جن میں محمد عرفان، محمد دانش، نبیل اختر، بدر الرحمن، محمد عدنان، ندیم عباس، اللہ رکھا، محمد عاطف اور محمد وسیم شامل ہیں۔ ملزمان کے قبضہ سے 13 موبائل فونز، 25 جعلی ایکٹیو سمیں اور اہم ترین ڈیجیٹل ثبوت ملے۔ اسی طرح ملتان میں چار مختلف آپریشنز کے دوران گینگ کے مزید 13 ملزمان گرفتار کیے گئے جن میں محمد عاصم بلوچ، محمد عثمان، خالد بلوچ، عبدالغفار اور اوڈ برادری سے تعلق رکھنے والے محمد جبران، محمد شان، محمد وقاص، محمد الیاس، محمد اقبال، محمد شفیق، محمد یوسف اور محمد نعیم اوڈ شامل ہیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملتان گینگ جعلی واٹس ایپ اور فرضی ویب سائٹس کے ذریعے لاکھوں روپے بٹور رہا تھا۔

فیصل آباد میں ایجنسی نے ایک اور اہم کارروائی کرتے ہوئے ملزم ناصر علی کو گرفتار کیا جو شہریوں کے بینک اکاؤنٹس ہیک کر کے رقوم کو جعلی جاز کیش اور ایزی پیسہ اکاؤنٹس میں منتقل کرتا تھا، جس کے قبضے سے 1 اینڈرائیڈ فون، 6 کی پیڈ فونز اور 23 جعلی سمیں برآمد کی گئیں۔ این سی سی آئی اے کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ سائبر کرائمز اور منظم گینگز کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ عوام الناس کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنا او ٹی پی، شناختی کوائف یا بینکاری معلومات کسی بھی غیر متعلقہ فرد کے ساتھ ہرگز شیئر نہ کریں۔

کوئٹہ کے علاقے سورنج میں کوئلے کی کان میں المناک حادثہ: وزیراعظم شہباز شریف کا مزدوروں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

منصور احمد, JULY 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کوئٹہ کے نواحی علاقے سورنج میں کوئلے کی کان میں پیش آنے والے دلخراش اور المناک حادثے میں محنت کش مزدوروں کی اموات پر گہرے دکھ، صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے سورنج کی کان میں خطرناک گیس بھر جانے کے باعث ہونے والے اس حادثے کو انتہائی دردناک قرار دیتے ہوئے جاں بحق ہونے والے محنت کشوں کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی ہے۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جمعہ کے روز جاری ہونے والے باضابطہ بیانیے کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) اور بلوچستان کے تمام متعلقہ امدادی اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ریسکیو اور ریلیف کارروائیوں کو بلا تعطل اور انتہائی مستعد انداز میں جاری رکھیں۔ انہوں نے کان میں پھنسے اور زخمی ہونے والے تمام مزدوروں کو بحفاظت نکالنے اور انہیں فوری بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام تر وسائل بکارِ لانے کی بھی تاکید کی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے غمزدہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینے والے محنت کش ہمارا انتہائی قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام اور انتظامیہ کو سخت ہدایت جاری کی کہ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی قیمتی جانوں کو محفوظ بنانے کے لیے مستقل اور فول پروف حفاظتی اقدامات فوری طور پر نافذ کیے جائیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے دلخراش واقعات کا سدِباب ممکن ہو سکے۔

پنجاب کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق، دریائے سندھ میں کالاباغ و چشمہ پر نچلے جبکہ نالہ پلکھو میں درمیانے درجے کا سیلاب

روزینہ اسماعیل, JULY 31,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے کے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی موجودہ صورتحال سے متعلق تازہ ترین رپورٹ جاری کر دی ہے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق قائم ہے، تاہم دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب جبکہ وزیر آباد کے مقام پر نالہ پلکھو میں درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دریائے چناب، جہلم، راوی اور ستلج میں پانی کا بہاؤ فی الوقت نارمل سطح پر برقرار ہے۔ دریائے سندھ میں کالاباغ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 63 ہزار کیوسک اور چشمہ کے مقام پر 2 لاکھ 94 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں صورتحال بالکل معمول کے مطابق ہے۔ اس کے علاوہ وزیر آباد کے نالہ پلکھو میں پانی کا بہاؤ 3 ہزار 600 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ نارووال کے نالہ بسنتر میں نچلے درجے کی سیلابی صورتحال پیش نظر ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا (یا سیف انور جپہ) نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مون سون بارشوں کا چوتھا طاقتور سلسلہ 5 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ بالائی کیچمنٹ ایریاز میں متوقع شدید بارشوں کے سبب مشرقی دریاؤں اور ان سے منسلک ندی نالوں میں طغیانی اور پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد اور ملتان میں شدید اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) جبکہ مری، گلیات اور دیگر پہاڑی سلسلوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا شدید خطرہ موجود ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے دریاؤں اور ندی نالوں کے پاٹ میں مقیم تمام شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی سخت ہدایت جاری کی ہے اور بتایا ہے کہ حکومتِ پنجاب نے متاثرہ تمام علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے ہیں جہاں خوراک، ادویات اور پینے کا صاف پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب غیر ضروری سیر و تفریح سے گریز کریں اور بچوں کو ہرگز پانی میں نہانے نہ دیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے۔

اوگرا کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی جدید قیمتوں کا تعین کرتے ہوئے جمعہ (31 جولائی) کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب اضافے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور معاشی اشاریوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جزوی ترمیم کی گئی ہے۔

پٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کے جاری کردہ نئے نرخوں کے مطابق، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 42 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 393 روپے 04 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی قیمت میں 1 روپے 09 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے تحت پیٹرول کی نئی قیمت 336 روپے 15 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ان نئی اور ترمیم شدہ قیمتوں کا اطلاق آج یعنی جمعرات (30 اور 31 جولائی کی درمیانی شب) رات 12 بجے سے ملک بھر میں یکساں طور پر نافذ العمل ہو جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا خضدار میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع خضدار میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے جانے والے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پر پاک فوج اور تمام متعلقہ اداروں کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ وزیراعظم نے بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد تنظیم ‘فتنہ الہندوستان’ کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ فورسز نے ایک بار پھر اپنی بے مثال صلاحیتوں اور دلیری سے ملک کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔

پنجشنبہ (جمعرات) کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے آپریشن کے دوران 4 خطرناک دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے اور بارودی مواد سے لدی 2 گاڑیوں کو بروقت تباہ کر کے دشمن کا بڑا دہشت گردانہ منصوبہ ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور بروقت اقدام کی شدید پذیرائی کی۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ بیرونی ایما پر پاکستان کا امن و امان تباہ کرنے اور دہشت گردی پھیلانے کی ہر مذموم کوشش کو اسی طرح خاک میں ملا دیا جائے گا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ارضِ پاک سے دہشت گردی اور غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی شرپسندی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ بلاامتیاز آپریشن اور یکسو کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپنی بہادر سکیورٹی فورسز کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے اور وطنِ عزیز کے امن، استحکام، خودمختاری اور سلامتی کے لیے ان کے افسران و جوانوں کی لازوال قربانیوں کو بے حد قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی سہولت کے لیے تاریخی ڈیجیٹل اقدامات کا اعلان: کیو آر کوڈز، موبائل ایپ اور اپوسٹائل سسٹم کے ذریعے سفارتی خدمات کی یکسر ڈیجیٹائزیشن کا حکم

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بیرونِ ملک مقیم تمام پاکستانیوں کو ملک کا انتہائی قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ انہیں سفارتخانوں اور کونصل خانوں میں تمام ممکنہ آسانیاں اور اعلیٰ ترین سہولیات کی فراہمی حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے تاکید کی ہے کہ کیو آر کوڈ کی مدد سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی تمام شکایات کے براہِ راست اندراج اور ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے وسیع پیمانے پر آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ تمام شہری اس جدید نظام سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے سفارتخانوں میں سہولیات کی فراہمی میں اضافے، تمام سرکاری و قانونی دستاویزات کی تصدیقی عمل کی ڈیجیٹائزیشن، شکایت کے طریقہ کار کو مزید آسان بنانے اور بیرونِ ملک سے پاکستان میں معاشی و دیگر ادائیگیوں کے لیے قائم جدید ڈیجیٹل نظام سے متعلق وزارتِ خارجہ کے ایک اعلیٰ سطحی بریفنگ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے پنجشنبہ (جمعرات) کو جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزرا احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، چوہدری سالک حسین، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ مملکت عون چوہدری، معاونِ خصوصی طارق باجوہ اور دنیا بھر میں قائم پاکستانی سفارتخانوں کے سفرائے کرام، وزارتِ داخلہ، ایف آئی اے، اور این آئی ٹی بی سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی آسانی کے لیے پاور آف اٹارنی، جائیدادوں کی خرید و فروخت کے معاملات اور اہم دستاویزات کی تصدیق کو آسان بنانے کے لیے کیو آر کوڈ سسٹم مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت دی کہ سفارتخانوں میں کیو آر کوڈز کو نمایاں جگہوں پر آویزاں کیا جائے اور خصوصی مہم کے ذریعے اس کی افادیت کو اجاگر کیا جائے۔

بریفنگ کے دوران وزیراعظم کو بتایا گیا کہ عوام الناس اور بیرونِ ملک جانے والے شہریوں کی سہولت کے پیشِ نظر وزارتِ خارجہ اسلام آباد کے مرکزی دفتر میں حال ہی میں شام کی شفٹ کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ آسان خدمت مرکز اسلام آباد میں بھی دستاویزات کی تصدیق کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کوریئر سروسز کے ذریعے تصدیقی عمل متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اس نظام کو ہائر ایجوکیشن کمیشن ، انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن ، نادرا اور نیشنل پولیس بیورو کے مرکزی ڈیٹا بیس سے منسلک کر دیا گیا ہے جس سے تصدیقی مراحل کی رفتار میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ حکام نے بتایا کہ اپوسٹائل کنونشن کے تحت دستاویزات کی تصدیق کو ‘ون سٹیپ’ کر دیا گیا ہے اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے ایک جدید موبائل ایپلی کیشن بھی تیار کی جا رہی ہے، جس کے ذریعے برتھ، ڈیتھ، میرج اور فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کی گھر بیٹھے ڈیجیٹل تصدیق ممکن ہو سکے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی ضلع ہنگو میں پولیس چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت: ڈی ایس پی دیار خان سمیت 9 اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں پولیس چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی جانب سے کیے جانے والے مذموم اور بزدلانہ حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نے اس ناخوشگوار واقعے کے نتیجے میں فرض کی راہ میں جامِ شہادت نوش کرنے والے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) دیار خان سمیت تمام 9 پولیس اہلکاروں کی عظیم قربانی پر گہرے دکھ، صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے پنجشنبہ (جمعرات) کے روز جاری ہونے والے باضابطہ بیانیے کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے شہدائے پولیس کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی اور ان کے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے صبرِ جمیل کی التجا کی ہے۔ وزیراعظم نے اس حملے میں شدید زخمی ہونے والے دیگر پولیس اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے ان کی جلد اور مکمل صحت یابی کی بھی دعا کی ہے۔

حملے کے فوری بعد پولیس کی بروقت اور جرات مندانہ جوابی کارروائی پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخوا پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بہادری کو شدید سراہا، جس کے نتیجے میں فتنہ الخوارج کے 15 سفاک دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک کر دیے گئے۔ وزیراعظم نے خیبر پختونخوا پولیس کے جوانوں کی شجاعت کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کی لعنت کے خلاف جنگ میں ہماری پولیس فورس نے ہمیشہ ہراول دستے کا تاریخی اور بے مثال کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود حکومت اور تمام قومی ادارے ملک عزیز سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل، حتمی اور جذری خاتمے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں اور شہدا کی یہ عظیم قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔

چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد کا پیپلز پارٹی ہری پور کے سینئر نائب صدر گل حبیب خان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار

کاشف عباسی , JULY 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے پاکستان پیپلز پارٹی ضلع ہری پور کے سینئر نائب صدر گل حبیب خان کے ناگہانی انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سینیٹر روبینہ خالد نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ گل حبیب خان کی وفات پارٹی کے لیے ایک بہت بڑا اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

پنجشنبہ (جمعرات) کو جاری کردہ اپنے باضابطہ تعزیتی پیغام میں سینیٹر روبینہ خالد نے مرحوم کی سیاسی و عوامی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ گل حبیب خان ایک مخلص، نظریاتی اور انتہائی وفادار جیالے تھے۔ انہوں نے اپنی تمام تر سیاسی زندگی پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور، نظریے اور کارکنوں کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی اور ان کی یہ شاندار خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

سینیٹر روبینہ خالد نے گل حبیب خان کی وفات پر ان کے غمزدہ اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور پاکستان پیپلز پارٹی کے تمام کارکنان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے اور مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

153 کلومیٹر طویل چترال-بونی-مستوج-شندور (این-140) شاہراہ کے چاروں پیکیجز دسمبر 2026ء تک مکمل کرنے کا نیا ہدف مقرر؛ منصوبے کے لیے مالی سال 2026-27 میں 4.2 ارب روپے درکار

کاشف عباسی , JULY 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے درمیان مواصلاتی روابط اور سیاحت کو اہم فروغ دینے والی 153 کلومیٹر طویل چترال-بونی-مستوج-شندور شاہراہ (قومی شاہراہ N-140) کے تمام چاروں تعمیراتی پیکیجز کو دسمبر 2026ء تک مکمل کرنے کا نیا ہدف مقرر کر دیا گیا ہے۔ ‘ویلتھ پاکستان’ کو دستیاب ہونے والی اہم سرکاری دستاویزات کے مطابق، منصوبے کی بر وقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے مالی سال 2026-27 کے لیے مزید 4 ارب 20 کروڑ (4.2 ارب) روپے کی فنڈنگ درکار ہوگی۔ یاد رہے کہ مئی 2020ء میں اس سڑک کو وفاقی تحویل میں لے کر قومی شاہراہ این-140 کا درجہ دیا گیا تھا، جس کے بعد اس اہم شاہراہ کو چار مختلف تعمیراتی پیکیجز میں تقسیم کر کے باقاعدہ کام شروع کیا گیا۔ دستاویزات کے مطابق، اب تک اس بڑے ترقیاتی منصوبے پر مجموعی طور پر 6 ارب 59 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ مالی سال 2025-26 کے دوران 1.5 ارب روپے مختص کیے گئے تھے اور اسی سال 5.5 ارب روپے کی اضافی ضرورت بھی پیش آئی تھی۔

منصوبے کی انتظامی اور جسمانی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے تو ضلع لوئر چترال میں پریت سے بونی تک کا پیکیج 1 (38.965 کلومیٹر) چاروں حصوں میں سب سے آگے ہے، جس پر اب تک 47.54 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے۔ نومبر 2021ء میں شروع ہونے والے اس حصے کی لاگت 2.67 ارب سے بڑھا کر 2.74 ارب روپے کر دی گئی ہے اور اس کا ہدف بھی اب دسمبر 2026ء ہے۔ اسی ضلع میں واقع پیکیج 2 (پریت تا بونی، 39.723 کلومیٹر) پر 34.77 فیصد کام مکمل ہوا ہے اور اس کی تعدیل شدہ لاگت 2.81 ارب روپے رکھی گئی ہے۔ دونوں پیکیجز کی ابتدائی تکمیل کی تاریخ نومبر 2023ء تھی، جسے فنڈز اور انتظامی توازن کی خاطر بڑھایا گیا ہے۔

ضلع اپر چترال کے پیکیجز کا احوال بھی دستاویزات میں واضح کیا گیا ہے۔ پیکیج 3 (بونی تا شیداس، 36.14 کلومیٹر) پر نومبر 2021ء سے جاری کام میں 38.16 فیصد جسمانی پیش رفت حاصل کی جا چکی ہے اور اس کی لاگت 2.61 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ جبکہ آخری اور چوتھا پیکیج (شیداس تا شندور، 37.782 کلومیٹر) اگست 2022ء میں شروع ہوا تھا، جس پر اب تک 29.78 فیصد کام ہوا ہے اور اس کی لاگت 2.93 ارب روپے طے کی گئی ہے۔ شاہراہ این-140 کی دسمبر 2026ء تک حتمی تکمیل سے ناصرف چترال اور شندور کے دشوار گزار علاقوں میں سفر آسان اور محفوظ ہوگا بلکہ خطے میں سیاحت اور مقامی معیشت کو نئی جلا ملے گی۔

سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی قیادت میں محکمہ تحفظِ جنگلی حیات کا صوبائی کریک ڈاؤن: سوئے آصل کے نجی فارم سے چیتے کا بچہ بحفاظت بازیاب، طوطوں کی غیر قانونی تجارت میں ملوث ملزمان گرفتار

کاشف عباسی , JULY 30,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی خصوصی ہدایات اور قیادت میں محکمہ تحفظِ جنگلی حیات و پارکس پنجاب نے صوبہ بھر میں تحویل اور تحفظ شدہ جنگلی جانوروں و پرندوں کی غیر قانونی خرید و فروخت اور ان کے ناجائز استعمال کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔ اس صوبائی کریک ڈاؤن کے دوران مختلف اضلاع میں کامیاب اور تیز رفتار عملی کارروائیاں انجام دی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں لاہور کے علاقے سوئے آصل کے ایک نجی بریڈنگ فارم سے چیتے کا بچہ بحفاظت بازیاب کرایا گیا جبکہ نایاب پرندوں کی غیر قانونی تجارت اور شکار میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کر کے متعدد ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق، پہلی بڑی اور اہم کارروائی لاہور کی تحصیل ماڈل ٹاؤن کے علاقے سوئے آصل میں کی گئی۔ ایک نجی بریڈنگ فارم میں چیتے کا کم سن بچہ غیر قانونی طور پر رکھنے کی باوثوق اطلاع ملنے پر ایڈیشنل چیف وائلڈ لائف رینجر سنٹرل زون مدثر حسن کی ہدایت پر کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ ڈپٹی چیف وائلڈ لائف رینجر لاہور ریجن سخی محمد جوئیہ کی سربراہی میں اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر لاہور محمد وسیم نے سفاری زو لاہور کی خصوصی ویٹرنری ٹیم کے ساتھ سرچ وارنٹ حاصل کرنے کے بعد نجی فارم پر چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران غیر قانونی طور پر رکھا گیا چیتے کا بچہ بحفاظت تحویل میں لے کر فوری طبی نگہداشت کے لیے سفاری زو لاہور منتقل کر دیا گیا، جبکہ قانون کی خلاف ورزی پر ملزم کے خلاف تھانہ کاہنہ میں باقاعدہ ایف آئی آر درج کروا کر قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

محکمہ وائلڈ لائف نے دوسری کامیاب کارروائی ضلع سیالکوٹ میں انجام دی، جہاں اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر سیالکوٹ عقیل امجد نے اپنی ٹیم کے ہمراہ گانیدار طوطوں کی غیر قانونی تجارت اور بلیک مارکیٹنگ میں ملوث ایک ملزم کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ کارروائی کے دوران ملزم کے قبضے سے 5 عدد نایاب گانیدار طوطے برآمد کیے گئے۔ ملزم کے خلاف مقالمی تھانے میں مقدمہ درج کراتے ہوئے برآمد شدہ تمام طوطوں کو فوراً قدرتی ماحول میں آزاد کر دیا گیا۔ اسی طرح وہاڑی میں اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر کلیم سرفراز نے اپنی ٹیم کے ساتھ سائفن کے علاقے میں چھاپہ مار کر بٹیر کے غیر قانونی شکار کے لیے استعمال ہونے والے 2 عدد نیٹنگ گئیرز برآمد کر کے قبضے میں لے لیے اور قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے۔ سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے تمام ٹیموں کی بروقت کارروائیوں کو سراہتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پنجاب میں جنگلی حیات کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کا جولائی 2026ء کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ جاری کرتے ہوئے اہم خطاب: “اڑان پاکستان” کے تحت ملکی معاشی استحکام کو پائیدار ترقی، روزگار اور عوامی خوشحالی میں بدلا جائے گا

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے وزارتِ منصوبہ بندی کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ برائے جولائی 2026ء کے باضابطہ اجرا اور نئے مالی سال 2026-27 کے لیے اہداف و حکمتِ عملی کے آغاز پر میڈیا سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ غیر یقینی عالمی حالات، جغرافیائی کشیدگی، توانائی کی عالمی رسد میں رکاوٹوں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستان معاشی استحکام کے سفر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی اولین ترجیح مشکل فیصلوں سے حاصل ہونے والے معاشی استحکام کو ہر قیمت پر برقرار رکھتے ہوئے اسے پائیدار ترقی، سرمایہ کاری، روزگار اور عوامی خوشحالی میں تبدیل کرنا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ معاشی استحکام عوام کی قربانیوں، بہتر مالی نظم و ضبط اور مؤثر معاشی فیصلوں کا نتیجہ ہے، اور “اڑان پاکستان” کے تحت اس معاشی استحکام کو مشترکہ خوشحالی میں تبدیل کرنے کی رفتار مزید تیز کی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے معاشی حقائق پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی معیشت نے مضبوط بحالی کا مظاہرہ کیا اور شرحِ نمو 3.2 فیصد سے بڑھ کر 3.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس دوران زرعی شعبے کی شرحِ نمو 2.9 فیصد، صنعتی شعبے کی 3.5 فیصد جبکہ خدمات کے شعبے کی شرحِ نمو 4.1 فیصد رہی، جس سے مجموعی معاشی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری آئی۔ جولائی تا مئی لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں 5.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 22 میں سے 16 بڑے صنعتی شعبوں نے مثبت ترقی دکھائی اور گاڑیوں کی صنعت میں 58.8 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی قیمتوں کے دباؤ کے باوجود مہنگائی کی شرح مقررہ ہدف سے کم رہی، جبکہ ترسیلاتِ زر 8.6 فیصد اضافے کے ساتھ 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اشیا و خدمات کی مجموعی برآمدات 40.9 ارب ڈالر رہیں اور جاری کھاتوں کا خسارہ صرف 139 ملین ڈالر تک محدود رہا۔ بین الاقوامی اداروں نے بھی پاکستان کی معاشی اصلاحات اور زرمبادلہ ذخائر میں بہتری کا اعتراف کیا ہے۔ مالی سال 2026-27 کے لیے شرحِ نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ آئندہ معاشی ترقی کا انحصار پیداواری صلاحیت، برآمدات، سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور نجی شعبے کے فعال کردار پر ہوگا۔ حکومت قوتِ خرید کے تحفظ، غربت میں کمی، کمزور طبقات کی معاونت اور نوجوانوں کے لیے روزگار کی فراہمی کو اولیت دے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اوگرا کی مقررہ قیمتوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور ناجائز منافع خوری و ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ مالیاتی محاذ پر ایف بی آر کی محصولات 11.7 کھرب روپے سے بڑھ کر 13 کھرب روپے ہو گئیں، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 15.2 کھرب روپے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران سی ڈی ڈبلیو پی کے 21 اجلاسوں میں 192 منصوبوں کی منظوری دی گئی جبکہ 96 ایکنک کو بھیجے گئے، جن سے تقریباً 2 لاکھ 89 ہزار براہِ راست اور 4 لاکھ 24 ہزار بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور جائزہ کاری سے قومی خزانے کو 12.6 ارب روپے کی بچت ہوئی۔

تعلیم، نوجوانوں اور بین الاقوامی تعاون پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کو صنعتی انقلابات 4.0 اور 5.0 کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے نصاب کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور “یو ایس-پاکستان نالج کوریڈور” کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔ حالیہ دورۂ امریکہ کے دوران یونیورسٹی آف الینوائے نے پاکستان میں اپنا کیمپس قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اڑان پاکستان” کے تحت 2029ء تک قومی برآمدات کو 63 ارب ڈالر تک لے جانے کے ہدف پر کام جاری ہے، جبکہ پاکستان نے ترکیہ، ازبکستان اور ڈنمارک کے ساتھ زراعت، تعلیم، تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے اختتام پر کہا کہ جو معیشت چند برس قبل دیوالیہ پن کے دہانے پر تھی، وہ آج پائیدار بحالی اور استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔