معاشی ترقی کی جانب مقتدر پیش رفت: ایس آئی ایف سی کی معاونت سے توانائی فراہمی اور ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے تاریخی قدم، وائٹ آئل پائپ لائن منصوبے کی منظوری

کاشف عباسی ,june 24,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی مؤثر اور مقتدر سہولت کاری کے نتیجے میں پاکستان میں توانائی کے عالمی رابطوں اور تیل کی ترسیل کے مجموعی نظام کو مزید مستحکم اور مضبوط بنا دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایس آئی ایف سی کے مقتدر تعاون اور مشترکہ کاوشوں سے ماچھیکے-تھلیاں-تارو جبہ وائٹ آئل پائپ لائن منصوبے کی باقاعدہ منظوری عمل میں آ چکی ہے۔ یہ تزویراتی وائٹ آئل پائپ لائن منصوبہ ملک کے جنوبی اور شمالی حصوں کے درمیان پیٹرولیم مصنوعات اور تیل کی محفوظ ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک راہداری فراہم کرے گا، جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

اس مقتدر منصوبے کے آغاز سے ملک بھر میں ایندھن کی بلا تعطل فراہمی کا نظام پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر اور تیز رفتار ہو جائے گا، جبکہ سڑکوں کے ذریعے تیل کی روایتی سپلائی کے مقابلے میں ترسیلی اخراجات میں بھی نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی۔ ماہرین کے مطابق ماچھیکے-تھلیاں-تارو جبہ وائٹ آئل پائپ لائن منصوبہ ملکی توانائی کے تحفظ کو ہر لحاظ سے مقتدر و مضبوط بنانے اور ملک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کے فروغ میں کلیدی اور تاریخی کردار ادا کرے گا۔

اس مقتدر پائپ لائن منصوبے کی تعمیر اور آپریشنز کے باعث ملک میں انجینئرز اور دیگر شعبہ جات کے لیے روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے مقامی معیشت کو سہارا ملے گا۔ اس کے ساتھ ہی، حکومتی سطح پر اس نوعیت کے بڑے منصوبوں کی کامیابی سے بین الاقوامی اور مقامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مقتدر تقویت ملے گی۔ واضح رہے کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) اس وقت ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور قومی اہمیت کے حامل کلیدی انفراسٹرکچر منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے میں اپنا انتہائی فعال اور مقتدر ترین کردار ادا کر رہی ہے۔

سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: حقِ شفعہ کا دعویٰ مسترد، ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال، ہائی کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (قانونی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے حقِ شفعہ سے متعلق ایک انتہائی اہم اور مقتدر مقدمے میں بڑا اصول وضع کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ دعویٰ شفعہ میں طلبِ مواثبت کی تاریخ، وقت اور مقام کا واضح طور پر ذکر کرنا قانونی طور پر لازمی ہے، بصورتِ دیگر ایسا کوئی بھی دعویٰ برقرار نہیں رہ سکتا۔ عدالتِ عظمیٰ نے اس مقتدر قانونی نکتے پر پشاور ہائی کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ کے سابقہ فیصلے یکسر کالعدم قرار دے دیے ہیں، جبکہ ٹرائل کورٹ کا دعویٰ مسترد کرنے کا ابتدائی فیصلہ مکمل طور پر بحال کر دیا ہے۔

تفصیلی تحریری فیصلے کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل تین رکنی مقتدر بنچ نے شیرزالی و دیگر بنام سعد اللہ خان مقدمے کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے، جسے جسٹس شاہد بلال حسن نے خود تحریر کیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق سعد اللہ خان نامی شہری نے کوہاٹ میں واقع چھ کنال اور آٹھ مرلہ اراضی کے انتقال کے خلاف حقِ شفعہ کا دعویٰ دائر کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ زمین کی فروخت کی اطلاع ملنے پر انہوں نے فوری طور پر طلبِ مواثبت اور بعد ازاں طلبِ اشہاد کی تمام قانونی کارروائی مکمل کی تھی، تاہم ٹرائل کورٹ نے ان کا دعویٰ اس مقتدر بنیاد پر مسترد کر دیا تھا کہ اصل درخواست میں طلبِ مواثبت کی مخصوص تاریخ اور مقام کا ذکر سرے سے غائب تھا۔ بعد ازاں اپیلیٹ کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر دعویٰ منظور کر لیا تھا، جس کے خلاف متاثرہ فریق نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے مقتدر فیصلے میں واضح الفاظ میں قرار دیا کہ حقِ شفعہ ایک انتہائی کمزور اور نازک حق ہے، جس کے استعمال کے لیے قانون میں مقرر کردہ تمام تقاضوں کی سختی سے پابندی کرنا بے حد ضروری ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے ریمارکس دیے کہ طلبِ مواثبت دراصل دعویٰ شفعہ کی بنیادی جڑ ہے اور اس کے مقررہ وقت، تاریخ اور مقام کا واضح ذکر اور پختہ ثبوت فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ اگر یہ بنیادی قانونی تقاضا ہی پورا نہ ہو تو بعد میں کی جانے والی تمام کارروائیاں اپنی قانونی حیثیت مکمل طور پر کھو دیتی ہیں۔

عدالت نے متعدد سابقہ عدالتی نظائر اور فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے مزید قرار دیا کہ بنیادی درخواست میں طلبِ مواثبت کی لازمی تفصیلات شامل نہ ہونا پورے دعوے کے لیے ایک مہلک نقص ہے، اور بعد میں پیش کیا جانے والا کوئی بھی ثبوت یا گواہی اس ابتدائی کمی کو کسی صورت پورا نہیں کر سکتی۔ سپریم کورٹ نے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ فروخت کی اطلاع ملنے کے ذرائع کی مکمل کڑی بھی ثابت نہیں کی جا سکی، جس سے طلبِ مواثبت کی قانونی حیثیت مزید مشکوک ہو جاتی ہے۔ عدالت نے نتیجتاً اپیل منظور کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے، اور ٹرائل کورٹ کا دعویٰ مسترد کرنے کا فیصلہ بحال کرتے ہوئے واضح کیا کہ حقِ شفعہ کے دعوؤں میں قانونی تقاضوں کی معمولی خلاف ورزی بھی دعویٰ کے مستقل خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔

خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری سے اقوام متحدہ کے وفد کی ملاقات، صحت، تعلیم اور موسمیاتی تبدیلی پر تعاون بڑھانے پر اتفاق

کاشف عباسی ,june 24,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

خاتونِ اول اور رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری سے ایوانِ صدر میں اقوامِ متحدہ کے پاکستان میں ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ اور عالمی ادارے کے مختلف ذیلی اداروں کے نمائندوں نے ایک مقتدر ملاقات کی ہے۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اس اہم ملاقات میں پاکستان اور اقوامِ متحدہ کے درمیان کثیرالجہتی تعاون، قومی ترقیاتی ترجیحات، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم، سماجی تحفظ، صحت اور پائیدار ترقی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ خاتونِ اول نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور ملک بھر میں پائیدار ترقیاتی اہداف اور عوامی صحت کے شعبوں میں عالمی ادارے کے فنڈز اور پروگراموں کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ دورانِ بریفنگ انہیں بتایا گیا کہ اقوامِ متحدہ 1947ء سے پاکستان میں فعال ہے اور اس وقت ملک بھر میں اس کے تقریباً چار ہزار ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ملاقات میں صحت عامہ بالخصوص انسدادِ پولیو مہم پر خصوصی گفتگو کی گئی، جہاں آصفہ بھٹو زرداری نے پولیو سے پاک پاکستان کے ہدف کے حصول کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ محمد یحییٰ نے پولیو کے خاتمے کے لیے خاتونِ اول کی مقتدر خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ آئندہ بارہ ماہ اس مقصد کے حصول کے لیے انتہائی تزویراتی اور اہم ہوں گے۔ خاتونِ اول نے صحت کے شعبے میں جدت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ مصنوعی ذہانت سمیت جدید ترین ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لایا جانا چاہیے تاکہ پولیو ویکسین کی ہر گھر تک رسائی کو سوفیصد یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے خواتین اور بچوں کی فلاح کے لیے جاری ’’بینظیر نشوونما پروگرام‘‘ کی اہمیت کو اجاگر کیا، جبکہ اقوام متحدہ کے وفد نے مقتدر بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان میں تقریباً 41 فیصد بچے نشوونما کی کمی کا شکار ہیں جو دنیا میں بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے اور یہ غذائی قلت بچوں کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔

ملاقات کے دوران موسمیاتی چیلنجز اور حالیہ برسوں کے سیلابوں کا تذکرہ کرتے ہوئے آصفہ بھٹو زرداری نے آفات سے نمٹنے اور بحالی کی کوششوں میں اقوامِ متحدہ کے تعاون کی تعریف کی۔ انہوں نے ’’لیونگ انڈس‘‘ اور ’’ری چارج پاکستان‘‘ جیسے مقتدر منصوبوں کو موسمیاتی موافقت اور طویل مدتی استحکام کے لیے کلیدی قرار دیا۔ سندھ میں سیلاب کے بعد صوبائی حکومت کے وسیع پیمانے پر جاری ہاؤسنگ منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اسے پائیدار کمیونٹیز کی تعمیر کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا۔ خاتونِ اول نے اقوامِ متحدہ کے وفد کو یقین دلایا کہ بچوں کی صحت، غذائیت، تعلیم اور خواتین کو بااختیار بنانے کے مقتدر مشن میں ان کی آواز عالمی ادارے کے ساتھ ہے۔ اس مقتدر ملاقات میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، رکن قومی اسمبلی شازیہ مری سمیت عالمی خوراک پروگرام، یونیسیف، عالمی ادارہ صحت، یو این ایف پی اے، یو این ایچ سی آر، آئی او ایم، یونیسکو اور یو این ویمن کے اعلیٰ نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ وفاق سے متعلق آڈٹ رپورٹس اسی مالی سال کے دوران پارلیمان میں پیش؛ گزشتہ ایک دہائی سے جاری تاخیر کے سلسلے کا خاتمہ، کاغذ سے پاک ماحول کی جانب مقتدر پیش رفت

کاشف عباسی ,june 24,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز قومی اسمبلی کے مقتدر اجلاس میں ایک بڑی ادارہ جاتی کامیابی حاصل کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان کے مالی سال 2024-25 کے تخصیصی حسابات اور آڈیٹر جنرل پاکستان کی جانب سے وفاقی حسابات سے متعلق آڈٹ سال 2025-26 کی آڈٹ رپورٹس باقاعدہ طور پر پیش کر دی ہیں۔ یہ تمام رپورٹس آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل 171 کے تحت قومی اسمبلی کے سرکاری کاروبار کے ایک لازمی اور مقتدر جز کے طور پر ایوان کے سامنے رکھی گئیں، جسے پاکستان میں عوامی مالیاتی نظم و نسق اور احتسابی نظام کی مضبوطی کی جانب ایک اہم ترین تزویراتی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ منفرد اور مقتدر ریکارڈ قائم ہوا ہے کہ وفاق سے متعلق آڈٹ رپورٹس کو بالکل اسی مالی سال کے دوران پارلیمان میں پیش کیا گیا ہے جس سے متعلق آڈٹ کا یہ پورا عمل انجام دیا گیا ہے۔ اس مقتدر پیش رفت سے نہ صرف آڈٹ رپورٹنگ کے روایتی نظام کو بروقت اور تیز رفتار بنانے کے عمل کو فروغ ملا ہے، بلکہ عوامی اخراجات پر پارلیمانی نگرانی کو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ موثر، فعال اور بامعنی بنانے میں بھی بھرپور مدد ملے گی۔ اس مقتدر موقع پر ایوان سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آڈٹ رپورٹس کی یہ بروقت پیشکش وفاقی حکومت کے اس پختہ عزم کا مظہر ہے کہ عوامی مالیات کے انتظام میں شفافیت، جوابدہی اور پارلیمانی نگرانی کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے اس اہم امر پر زور دیا کہ آڈٹ مشاہدات اس وقت زیادہ موثر اور سود مند ثابت ہوتے ہیں جب وہ بغیر کسی تاخیر کے بروقت پارلیمان کے سامنے پیش کیے جائیں تاکہ ان کی روشنی میں اصلاحی اقدامات بروقت اختیار کیے جا سکیں۔

وفاقی وزیرِ خزانہ نے اس تاریخی اور مقتدر کامیابی پر آڈیٹر جنرل پاکستان اور ان کی پوری ٹیم کی شاندار پیشہ ورانہ صلاحیتوں، محنت اور لگن کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران آڈٹ رپورٹس کی پیشکش میں ہونے والی طویل اور غیر ضروری تاخیر کے تناظر میں یہ پیش رفت ایک نمایاں ترین ادارہ جاتی کامیابی ہے، جو ملک میں عوامی احتساب کے نظام کو مزید موثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

رواں سال ایک اور مقتدر اور اہم ترین پیش رفت یہ بھی دیکھی گئی کہ یہ آڈٹ رپورٹس پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کو جدید ڈیجیٹل ذرائع سے فراہم کی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں معزز اراکینِ پارلیمان کو تمام تر رپورٹس بیک وقت الیکٹرانک صورت (ای فارم) میں دستیاب ہوئیں۔ یہ تزویراتی اقدام پارلیمانی امور میں ڈیجیٹلائزیشن، کارکردگی میں مقتدر بہتری اور کاغذ سے پاک ماحول کی جانب ایک انقلابی پیش رفت ہے جسے آئندہ بھی مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے گا۔ آڈٹ رپورٹس کی اس بروقت اور ڈیجیٹل فراہمی کو پاکستان میں مالیاتی شفافیت، موثر حکمرانی، ادارہ جاتی جوابدہی اور عوامی وسائل پر پارلیمان کی نگرانی کے نظام کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک بڑا اور مقتدر قدم مانا جا رہا ہے۔

نوجوان انجینئرز کے لیے شاندار موقع: پاکستان آرمی میں کیپٹن رینک پر ڈائریکٹ شارٹ سروس کمیشن کے تحت بھرتیاں شروع، آن لائن رجسٹریشن کا آغاز

منصور احمد june 24,2026

راولپنڈی (صنعی و عسکری رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

پاکستان آرمی نے ملک بھر کے لائق اور باصلاحیت ایروناٹیکل انجینئرز کے لیے ڈائریکٹ شارٹ سروس کمیشن کے تحت کیپٹن کے عہدے پر باقاعدہ اور مقتدر بھرتیوں کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ بھرتی کے مطابق جوائن پاک آرمی کی آفیشل ویب سائٹ پر آن لائن درخواستوں کی وصولی کا مقتدر عمل شروع ہو چکا ہے، جو کہ جولائی کے وسط تک کامیابی سے جاری رہے گا۔ اطلاعات کے مطابق یہ اہم بھرتیاں پاکستان آرمی کی مقتدر اور معروف ‘کور آف الیکٹریکل اینڈ مکینیکل انجینئرز’ (ای ایم ای) کے لیے کی جا رہی ہیں، جس کے تحت نوجوان انجینئرز کو پاک فوج کا حصہ بن کر ملک و ملت کی خدمت کرنے کا سنہری موقع فراہم کیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں جاری کردہ مقتدر اشتہار کے تحت جن مخصوص فیلڈز اور شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے انجینئرز اپلائی کرنے کے مکمل اہل ہیں، ان میں ایوی ایشن / ایوی اونکس انجینئرنگ، ایرواسپیس انجینئرنگ، الیکٹریکل انجینئرنگ اور مکینیکل انجینئرنگ کے شعبے شامل ہیں۔ عسکری ذرائع سے بتایا گیا ہے کہ اس مقتدر بھرتی مہم کے لیے رجسٹریشن کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے آن لائن درخواستیں جمع کرانے کا سلسلہ 22 جون 2026ء سے شروع ہو چکا ہے، اور بھرتی کے خواہشمند تمام اہل امیدوار 12 جولائی 2026ء سے پہلے اپنی آن لائن درخواستیں اور تعلیمی اسناد لازمی جمع کرواسکتے ہیں۔ تمام اہل امیدوار گھر بیٹھے پاکستان آرمی کی آفیشل ویب سائٹ پر جا کر آن لائن فارم آسانی سے پُر کر سکتے ہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ دور دراز علاقوں کے وہ امیدوار جن کے پاس انٹرنیٹ کی مناسب سہولت موجود نہیں ہے، ان کی سہولت کے لیے بھی مقتدر انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایسے تمام امیدوار ملک بھر کے مختلف بڑے اور چھوٹے شہروں بشمول لاہور، کراچی، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، ملتان اور فیصل آباد وغیرہ میں قائم اپنے قریبی ‘آرمی سلیکشن اینڈ ریکروٹمنٹ سینٹرز’ پر ذاتی طور پر تشریف لے جا کر بھی اپنی مقتدر رجسٹریشن کا عمل مکمل کروا سکتے ہیں۔ پاک فوج کے ان سلیکشن سینٹرز پر عملے کو امیدواروں کی رہنمائی کے لیے خصوصی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ رجسٹریشن کے عمل کو شفاف اور تیز رفتار بنایا جا سکے۔

کراچی میں وحشیانہ درندگی: 3 سالہ معصوم بچی مبینہ زیادتی اور بدترین تشدد کے بعد قتل، 8 گھنٹے بعد بوری بند لاش برآمد، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کی جانب سے اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی قائم

روزینہ اسماعیل.june 24,2026

کراچی (کرائم رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

روشنیوں کے شہر کراچی کے علاقے ملیر قائد آباد میں انسانیت سوز اور انتہائی دلخراش واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک 3 سالہ معصوم بچی کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد انتہائی بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے۔ مقتولہ کے والد کی مدعیت میں تھانے میں واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے اس گھناؤنے معاملے کا سخت ترین نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کے پتے لگانے کے لیے ایک ہائی لیول انویسٹی گیشن کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ معصوم بچی گھر سے باہر کھیلنے کے لیے نکلی تھی لیکن طویل وقت گزرنے کے باوجود واپس نہ آئی۔ گمشدگی کے تقریباً 8 گھنٹے بعد تلاشی کے دوران اس کی شدید تشدد زدہ لاش ایک بوری میں بند ملی۔ مقتولہ کے غمزدہ والد کی مدعیت میں تھانے میں درج کیے گئے اس مقدمے میں اغواء، قتل، جنسی زیادتی، بدترین جسمانی تشدد اور دیگر سنگین قانونی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ آئی جی سندھ نے کیس کی فوری، غیر جانبدارانہ اور شفاف ترین تفتیش کو یقینی بنانے کے لیے ڈی آئی جی ایسٹ کو اس خصوصی تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا ہے۔

اس اعلیٰ سطح کی ٹیم میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مقتدر افسران کو شامل کیا گیا ہے، جن میں ڈی آئی جی ایسٹ (سربراہ کمیٹی)، ایس ایس پی ایس آئی یو، ایس ایس پی ملیر، ایس ایس پی اسپیشل برانچ انٹیلی جنس، ایس پی انویسٹی گیشن ملیر، متعلقہ ڈی ایس پی، ایس آئی او اور تفتیشی افسر شامل ہیں۔ یہ خصوصی کمیٹی بچی کے اغواء، اس پر کیے جانے والے بدترین تشدد، مبینہ زیادتی اور قتل کے تمام پہلوؤں کا جدید سائنسی، تکنیکی اور باریک بینی سے جائزہ لے گی، اور ملزمان کی فوری گرفتاری کو یقینی بنانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی تفتیشی پیشرفت سے آئی جی سندھ کو باقاعدگی سے آگاہ رکھنے کی پابند ہوگی۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے اس گھناؤنے واقعے پر شدید برہمی اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ماتحت افسران کو دوٹوک احکامات جاری کیے ہیں کہ ایک ننھی جان کے ساتھ یہ ظلم کرنے والے وحشی عناصر کسی بھی رعایت یا نرمی کے مستحق نہیں ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سفاک ملزمان کی جلد سے جلد گرفتاری کے لیے پولیس اپنے تمام دستیاب وسائل اور جدید ترین انویسٹی گیشن ٹولز بروئے کار لائے تاکہ مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر کے سخت ترین سزا دلائی جا سکے، کیونکہ غمزدہ خاندان کو ہر صورت انصاف فراہم کرنا سندھ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔

سرکاری نرخ 309 روپے، مارکیٹ میں ایل پی جی 600 روپے کلو سے زائد میں فروخت

کاشف عباسی ,june 24,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

پاکستان بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں بلیک مارکیٹنگ اور اوور چارجنگ نے گھریلو صارفین کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، جہاں گیس مقتدر سرکاری نرخوں سے تقریباً دوگنی قیمت پر کھلے عام فروخت ہو رہی ہے۔ توانائی کے اس سنگین بحران اور مافیا کی لوٹ مار پر سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی وفاقی حکومت کی انرجی پالیسی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کڑی تنقید کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے جون کے رواں مہینے کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 309 روپے فی کلو مقرر کر رکھی ہے، لیکن اس کے برعکس ملک بھر کے بازاروں اور دکانوں میں گھریلو صارفین سے 600 روپے فی کلو سے بھی زائد وصول کیے جا رہے ہیں، یعنی غریب عوام سے فی کلو گیس پر تقریباً 300 روپے اضافی بٹورے جا رہے ہیں۔

صنعتی و تجارتی ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس وقت ملک بھر میں روزانہ کی بنیاد پر ایل پی جی کی مجموعی کھپت 60 لاکھ کلو سے زائد ہے، جس کا مقتدر مطلب یہ ہے کہ ہول سیلرز اور منافع خور مافیا روزانہ کی بنیاد پر عوام کی جیبوں پر 1.8 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈال رہا ہے۔ انڈسٹری ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ مارکیٹ میں ایل پی جی کی سپلائی کی مبینہ کمی کا مصنوعی خوف پھیلا کر ہول سیلرز نے ملی بھگت سے قیمتوں میں یہ اندھا دھند اضافہ کیا ہے، جس کی وجہ سے اب تک پاکستانی صارفین کو مجموعی طور پر 60 سے 70 ارب روپے کا مقتدر اور بڑا ٹیکہ لگایا جا چکا ہے، جبکہ متعلقہ ریگولیٹری ادارے اس اوور چارجنگ کو روکنے میں بری طرح ناکام نظر آتے ہیں۔

ملک میں توانائی کے اس شدید بحران اور بے لگام مہنگائی پر سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے حکومت کو مقتدر انداز میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں گیس کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی کے باوجود پاکستان میں گیس کے نرخ کم نہیں کیے گئے، جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت گیس اور تیل پر بھاری ٹیکس لگا کر پیسے کمانے کا تزویراتی طریقہ بند کرے اور انرجی کی قیمتوں میں فوری طور پر نمایاں کمی لائے، تاکہ ملک میں انڈسٹری اور زراعت کا پہیہ تیزی سے چل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب یہ دونوں پیداواری شعبے چلیں گے تو حکومت کو خود بخود ٹیکس بھی حاصل ہوگا اور ملک کے لاکھوں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مقتدر مواقع بھی میسر آئیں گے۔

شکیل نامی بچہ گزشتہ روز کھیلتے ہوئے غائب ہوا تھا جس کے اغوا کا مقدمہ درج تھا؛ سول ہسپتال میں گھنٹوں گزرنے کے باوجود پوسٹ مارٹم نہ ہونے پر لواحقین سڑکوں پر آ گئے، پولیس کی تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری

کاشف عباسی ,june 24,2026

فیصل آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد کے علاقے ٹھیکری والا میں ایک انتہائی دلخراش اور اندوہناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں گزشتہ روز سے لاپتہ ہونے والے 8 سالہ معصوم بچے کی لاش ایک قریبی مکان کے واش روم سے برآمد ہوئی ہے۔ شکیل نامی یہ بچہ کل گھر کے باہر کھیلتے ہوئے اچانک غائب ہو گیا تھا، جس کے بعد لواحقین کی درخواست پر پولیس تھانے میں اس کے اغوا کا مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔ مقتول بچے کے غمزدہ خاندان نے سنگین اور مقتدر الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے معصوم بچے کو مبینہ طور پر وحشیانہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد انتہائی بیدردی سے موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔

متاثرہ خاندان اور لواحقین کی تکالیف اور غم و غصے میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب سول ہسپتال فیصل آباد کی شدید مقتدر انتظامی غفلت اور لاپرواہی سامنے آئی۔ معصوم بچے کی لاش کو ہسپتال لائے ہوئے کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود پوسٹ مارٹم کا عمل شروع نہیں کیا جا سکا، جس پر مقتول کے لواحقین، رشتہ داروں اور اہل علاقہ نے پوسٹ مارٹم میں مجرمانہ تاخیر اور ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کے خلاف سول ہسپتال کے باہر لاش سڑک پر رکھ کر شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقتول کے غمزدہ والد اور رشتہ داروں نے روتے ہوئے فوری انصاف کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ہمارے معصوم بچے کو درندگی کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ہے، ہم دو گھنٹے سے زائد وقت سے لاش لیے ہسپتال کے باہر خوار ہو رہے ہیں لیکن یہاں کوئی ڈاکٹر تک دستیاب نہیں ہے، ہمیں صرف اور صرف انصاف چاہیے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پولیس نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوری کارروائی کرتے ہوئے جائے وقوعہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے اور وہاں سے اہم فرانزک شواہد اور نمونے اکٹھے کر لیے ہیں۔ پولیس حکام نے واقعے کی تمام پہلوؤں سے تفصیلی اور تزویراتی تفتیش کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ مقامی کمیونٹی اور لواحقین کی جانب سے ملوث سفاک ملزمان کی فوری گرفتاری اور ہسپتال کے غافل عملے کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا مقتدر مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ پولیس انتظامیہ کا اس مقتدر واقعے پر کہنا ہے کہ بچے کے ساتھ زیادتی کی باضابطہ تصدیق اور موت کی اصل تکنیکی وجہ کا حتمی تعین تفصیلی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا، جس کے بعد ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

آئی سی سی کی نئی رینکنگ جاری: ٹیسٹ بیٹرز میں بابر اعظم ایک درجہ تنزلی کے بعد 20ویں نمبر پر چلے گئے، جو روٹ دوبارہ نمبر ون بن گئے

محمود احمد june 24,2026

لاہور ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کھلاڑیوں کی تازہ ترین عالمی رینکنگ جاری کر دی ہے، جس کے تحت ٹیسٹ فارمیٹ میں انگلینڈ کے اسٹار بیٹر جو روٹ دو درجے مقتدر بہتری کے ساتھ ایک بار پھر دنیا کے نمبر ون ٹیسٹ بیٹر بن گئے ہیں۔ ان کی اس ترقی کے نتیجے میں انگلینڈ کے ہی ہیری بروک ایک درجہ تنزلی کے بعد دوسرے اور آسٹریلیا کے ٹریوس ہیڈ بھی ایک درجہ پیچھے ہٹ کر تیسرے نمبر پر براجمان ہو گئے ہیں۔

پاکستانی بیٹرز کے لیے تازہ رینکنگ مایوس کن رہی جہاں قومی ٹیم کے مقتدر بلے باز محمد رضوان اور بابر اعظم ایک ایک درجہ تنزلی کا شکار ہو کر بالترتیب 19 ویں اور 20 ویں نمبر پر چلے گئے ہیں، البتہ سعود شکیل نے دو درجے ترقی پا کر 22 ویں پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ نیوزی لینڈ کے بیٹرز کے لیے یہ رینکنگ شاندار ثابت ہوئی؛ راچن رویندرا دو درجے ترقی کے ساتھ دسویں، ڈیرل مچل پانچ درجے چھلانگ لگا کر 16 ویں، گلین فلپس 8 درجے بہتری کے بعد 31 ویں اور ہنری نکولس 13 درجے کی طوفانی ترقی کے ساتھ 40 ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔

🏏 ٹیسٹ بولرز اور آل راؤنڈرز رینکنگ

ٹیسٹ بولنگ کی دنیا میں ایک بڑا تلاطم دیکھا گیا ہے جہاں نیوزی لینڈ کے فاسٹ بولر میٹ ہنری 6 درجے کی مقتدر ترقی کے ساتھ دنیا کے نمبر ون ٹیسٹ بولر بن گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کے جسپریت بمرا (جو نومبر 2024ء سے نمبر ون پوزیشن پر قابض تھے) اور میٹ ہنری کے رینکنگ پوائنٹس 870 پر بالکل برابر ہو چکے ہیں۔ ٹیسٹ آل راؤنڈرز میں بھارت کے رویندرا جڈیجا کی پہلی پوزیشن بدستور مقتدر اور برقرار ہے۔

📊 ون ڈے (ODI) رینکنگ کی صورتحال

ون ڈے فارمیٹ کی بات کی جائے تو بیٹرز میں نیوزی لینڈ کے ڈیرل مچل کی پہلی پوزیشن برقرار ہے، جبکہ بھارت کے شبمن گل تین درجے مقتدر بہتری کے ساتھ دوسرے نمبر پر پہنچ گئے ہیں، جس کے باعث ویرات کوہلی ایک درجہ تنزلی کے بعد تیسرے نمبر پر چلے گئے ہیں۔ اس فارمیٹ میں پاکستان کے بابر اعظم کی بدستور چھٹی پوزیشن برقرار ہے۔

ون ڈے بولرز: افغانستان کے لیگ اسپنر راشد خان کی پہلی پوزیشن قائم ہے۔ پاکستان کے مسٹری اسپنر ابرار احمد دوسری اور فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نویں پوزیشن پر مضبوطی سے برقرار ہیں۔ بھارت کے ارش دیپ سنگھ 16 درجے کی شاندار بہتری کے ساتھ 22 ویں اور بنگلادیش کے مستفیض الرحمٰن 23 ویں نمبر پر آ گئے ہیں۔
ون ڈے آل راؤنڈرز: افغانستان کے عظمت اللہ عمرزئی پہلے اور زمبابوے کے سکندر رضا دوسرے نمبر پر برقرار ہیں، جبکہ بنگلادیش کے مہدی حسن میراز ایک درجہ ترقی کے بعد تیسری مقتدر پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

سیاسی تہذیب کا جنازہ: عمران خان نے ہماری سیاست کو جتنا نقصان پہنچایا 78 سال میں کسی نے نہیں پہنچایا، وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں مقتدر خطاب

https://images.openai.com/static-rsc-4/kBaE8tfPIruAhvxerlL3nxnKUugXBJKztmiDdPjrdH0UWmLh4EVkzIcASfKHYiVcmCs9g5j4kjRF2Hybp0ne-MVBabgsfaGiK28hHHQynHLzxTLUVYb7uEQ04WB6aRBgJNYSl3KndapbUWyucvHNFMBHke5GruZGMzy_U97vU2gapfMeVNrCmlcdNm1R9g_G?purpose=fullsize

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

وفاقی وزیرِ دفاع اور مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی کے انتہائی اہم اور تندوتیز اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کے بانی عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے مقتدر الفاظ میں دعویٰ کیا کہ عمران خان نے ملکی سیاست، پارلیمانی نظام اور اخلاقی روایات کو جتنا نقصان پہنچایا ہے، پچھلے 78 سالہ ملکی تاریخ میں کسی اور شخصیت نے نہیں پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اپنی حکومت کے دوران اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی بدترین مثالیں قائم کیں اور سیاست سے رواداری کا مکمل خاتمہ کر دیا۔

وزیرِ دفاع نے ماضی کے حکومتی رویوں کا ذکر کرتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ جب ہم اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے تھے، تو پی ٹی آئی کے وزراء اور ارکانِ اسمبلی ہم سے ہاتھ ملانے اور بات کرنے تک سے کتراتے تھے، انہیں صرف یہ خوف لاحق رہتا تھا کہ کہیں ان کی ہم سے بات چیت دیکھ کر عمران خان ناراض نہ ہو جائیں۔ اپوزیشن بینچوں پر موجود پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور اپوزیشن الائنس کے رہنما کا حوالہ دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ محمود خان اچکزئی پی ٹی آئی کے ساتھ بیٹھے ہوئے بہت عجیب لگتے ہیں، کیونکہ محمود اچکزئی کی اپنی ایک طویل، محترم اور مقتدر جمہوری تاریخ ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی ایسی کوئی سیاسی یا آئینی روایت سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان شدید ترین سیاسی دشمنی کے دور میں بھی یہ خوبصورت روایت قائم تھی کہ ہم دن بھر کے سیاسی اختلافات کے باوجود رات کو کھانا ایک ساتھ کھاتے تھے۔

ماضی کی تلخیاں بھلا کر ملکی بقا کے لیے آگے بڑھنے کا فارمولا پیش کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے اعتراف کیا کہ ماضی میں اسپیکر کی مقتدر کرسی پر بیٹھ کر بھی پارٹی مفادات کے تحت یکطرفہ فیصلے دیے گئے، لیکن بعد میں ن لیگ اور پی پی پی نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا اور ملک کو ‘میثاقِ جمہوریت’ جیسا مقتدر تحفہ دیا۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں بالخصوص پی ٹی آئی کو ایک بار پھر دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آئیں ہم سب مل کر ماضی کی غلطیوں کو درست کریں اور ملک کے استحکام کے لیے ایک نئے میثاقِ جمہوریت پر دستخط کریں، تاہم اس مقتدر اور سنجیدہ عمل کے لیے پی ٹی آئی کے ارکان کو بھی اپنے ماضی کے طرزِ عمل اور رویوں پر گہرائی سے نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔

میڈیا بلیک آؤٹ: مولانا فضل الرحمان کے خطاب کے دوران پی ٹی وی اور لائیو اسٹریمنگ بند، اپوزیشن کا شدید احتجاج؛ عالمی سطح پر نیک نامی کمانے والی حکومت ملک کے اندر ساکھ گنوا رہی ہے، سربراہ جے یو آئی (ف)

https://images.openai.com/static-rsc-4/kRUjIXS1DgN4pIOmaZNFK1uOJTVtGr9zT5n-w0h8jyQV6cNLvo-zkxCF67NlUGBA5Siwbm8zn65tZymZXpjrF5Pquy1YDKsVSFI5sEGJFWYxjeT7z4s8br_WZZRy1ddTughjFU124BXUtxBHJT7zitX5-meXN9q7GJH-2D6UaVvbro6FLQp5YXq3VsuRealE?purpose=fullsize

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی کے انتہائی مقتدر اجلاس میں وفاقی حکومت، اسپیکر اور عسکری قیادت کے سیاسی کردار کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایوان میں ہلچل مچا دی ہے۔ تاہم، اس تندوتیز خطاب کے دوران ایک سنسنی خیز موڑ اس وقت آیا جب سرکاری ٹی وی کے چینل ‘پی ٹی وی پارلیمنٹ’ اور نیشنل اسمبلی کی آفیشل لائیو اسٹریمنگ کو اچانک اور مقتدر طور پر بند کر دیا گیا۔ ایوان کے اندر نصب اسکرینوں اور اسپیکرز پر بھی مولانا کی آواز کو دبا دیا گیا، جس پر اپوزیشن ارکان نے ڈیسک بجا کر شدید ترین احتجاج ریکارڈ کروایا۔

نشریات کی بندش سے قبل مولانا فضل الرحمان نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “جناب اسپیکر! کل آپ بھی ایوان میں ضرورت سے زیادہ بولے، کل آپ نے جو جذباتی گفتگو کی تھی، وہ آپ کے منصب کے شایانِ شان نہیں تھی اور آپ کو ایسی گفتگو سے گریز کرنا چاہئے تھا”۔ حکومتی بینچوں پر بیٹھی مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو ماضی کا آئینہ دکھاتے ہوئے امیر جے یو آئی (ف) نے کہا کہ جب میاں نواز شریف ہمارے ساتھ کنٹینر پر کھڑے ہوتے تھے، تو کیا وہ جلسوں میں آرمی چیف اور آئی ایس آئی کا نام نہیں لیتے تھے؟ کیا نواز شریف نے خود فوج کو ‘محکمہ زراعت’ کا مقتدر لقب نہیں دیا تھا؟ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت عالمی سطح پر (امریکا ایران معاہدے کے باعث) شاید نیک نامی کما رہی ہو، لیکن پاکستان کے اندر وہ اپنی تمام تر نیک نامی گنوا چکی ہے؛ پاکستان کی فوج کو سرحدوں کی حفاظت کرنی چاہئے، لیکن اسے ملک کے اندر سیاسی و انتظامی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

آزاد کشمیر کی حالیہ کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے عوامی ایکشن کمیٹی کے اس مقتدر فیصلے کا خیرمقدم کیا جس کے تحت انہوں نے مظفرآباد کی طرف اپنا لانگ مارچ فی الحال مؤخر کیا ہے۔ انہوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے شکوہ کیا کہ کل تک ہم عالمی فورمز پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا رونا روتے تھے، لیکن آج ہم خود اپنے آزاد کشمیر کے عوام کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں؟ وفاقی کابینہ کے رویے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایوان میں جو متنازع گفتگو کی، وہ ان کے منصب کے بالکل خلاف تھی۔ حکومت کی پالیسی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے مقتدر طنز کیا کہ آپ کی حکمتِ عملی سمجھ سے بالاتر ہے، کیونکہ آپ نے لڑائی کا ٹاسک خواجہ آصف کو اور صلح صفائی کا کام نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے حوالے کر رکھا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے اس مقتدر خطاب کو سنسر کیے جانے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر بھی سیاسی درجہ حرارت شدید بڑھ گیا ہے۔

وفاقی کابینہ میں دراڑیں: شہباز شریف کے چند وزراء ان کے کام میں آسانی کے بجائے مشکلات پیدا کر رہے ہیں، بلاول بھٹو زرداری کا قومی اسمبلی میں دھواں دھار خطاب

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں اور مسلم لیگ (ن) کے مقتدر وزراء کے رویے پر سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ایوانِ صدر اور پارلیمنٹ کے گلیاروں میں سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ قومی اسمبلی کے انتہائی اہم اجلاس میں تندوتیز اظہارِ خیال کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے مقتدر الفاظ میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے چند وزراء ایسے ہیں جو حکومت چلانے میں آسانی پیدا کرنے کے بجائے الٹا سیاسی اور انتظامی مشکلات کھڑی کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزراء کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو اور مشورے اتحادی حکومت کے لیے شدید سیاسی مسائل کا سبب بن رہے ہیں۔

آزاد کشمیر کی حالیہ صورتحال اور وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے متنازع بیان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے ایوان میں مقتدر سوال اٹھایا کہ ‘ایسا وزیر جو سرِعام یہ کہے کہ راولاکوٹ کے کشمیری، کشمیری نہیں ہیں اور پھر اتنی بڑی بات کہہ کر بھی اپنے الفاظ واپس نہ لے، تو وہ اب تک وفاقی کابینہ کا حصہ کیوں ہے؟’ انہوں نے ن لیگ کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جو وزیر ابھی تک اپنے اس توہین آمیز بیان پر کشمیریوں سے معافی مانگنے کو تیار نہیں، اس کی وجہ سے پی پی پی کو بطور اتحادی شدید سبکی کا سامنا ہے۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ میں عوام اور کشمیری بھائیوں کو کیا وضاحت دوں کہ ہم کس مجبوری کے تحت اس وزیر کے ساتھ وفاق میں بیٹھے ہوئے ہیں؟

بلدیاتی نظام اور جمہوریت پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ن لیگ کو لاہور اور اسلام آباد کی ضلعی حکومتوں کے انتخابات کروانے کا کھلا چیلنج دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت (سندھ) ہے، وہاں بلدیاتی نظام مکمل طور پر فعال ہے لیکن ن لیگ عوامی عدالت میں جانے سے بری طرح خوفزدہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ میں کسی بھی قسم کی آئینی ترمیم لانے سے پہلے ملک بھر میں بلدیاتی الیکشن کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔ کراچی کی سیاست اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے مطالبات پر تبصرہ کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ سندھ میں ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے لیے آئین میں ترمیم کی باتیں ن لیگ کی طرف سے کراچی کے لوگوں کو دیا جانے والا محض ایک ‘لالی پاپ’ ہے، اگر ایم کیو ایم واقعی کراچی کے حقوق کے معاملے میں سنجیدہ ہے تو وہ زبانی جمع خرچ کے بجائے فوری طور پر وفاقی حکومت سے الگ ہو کر اپنا مقتدر سیاسی وزن ثابت کرے۔

تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی خصوصی شرکت؛ اعزاز ایرانی صدر کی صحتِ عامہ، طبی تحقیق اور جراحی کے شعبے میں گراں قدر خدمات کے اعتراف میں دیا گیا

روزینہ اسماعیل.june 23,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

پاکستان کے مقتدر ترین طبی ادارے ‘کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف پاکستان’ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کو ان کی صحتِ عامہ، طبی تعلیم کی ترویج، کارڈیالوجی کے شعبے میں جدید تحقیق اور انسانیت کے لیے مخلصانہ و انتھک خدمات کے اعتراف میں شعبہ جراحیِ قلب (کارڈیوتھوراسک سرجری) میں اپنی سب سے اعلیٰ ‘اعزازی فیلو شپ’ تفویض کر دی ہے۔

منگل کے روز وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ اس پروقار اور مقتدر تقریب میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خصوصی طور پر شرکت کی اور ایرانی صدر کو اس تاریخی اعزاز سے نوازے جانے کے لمحات کا مشاہدہ کیا۔ واضح رہے کہ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان بذاتِ خود طب کی دنیا میں ایک معتبر نام اور ہارٹ سرجری کے مایہ ناز ماہر سرجن ہیں، جن کی علمی و عملی خدمات کو دنیا بھر میں مقتدر مانا جاتا ہے۔

طبی و سفارتی ماہرین کے مطابق، پاکستان کی جانب سے ایرانی صدر کو اس اعلیٰ ترین اعزازی فیلو شپ کی تفویض سے پاکستان اور ایران کے مابین برادرانہ تعلقات میں ایک نئے سائنسی و طبی باب کا اضافہ ہوا ہے۔ اس مقتدر اقدام سے دونوں ممالک کے میڈیکل کالجز، جامعات اور طبی اداروں کے مابین اعلیٰ تعلیم کے فروغ، ادارہ جاتی سطح پر تعلیمی و تحقیقی تبادلوں، جدید کلینیکل ریسرچ، اور فیکلٹی سمیت ممتحنین کے باہمی تبادلوں کو زبردست تزویراتی تقویت ملے گی، جو مستقبل میں دونوں برادر ممالک کے ہیلتھ کیئر سسٹمز کو مزید مربوط بنانے میں اہم ترین سنگِ میل ثابت ہوگی۔

پاکستان اور ایران مشترکہ ترقی کے لیے پرعزم، مختلف شعبوں میں تعاون مزید مضبوط ہوگا: وزیراعظم

کاشف عباسی ,june 23,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دورہِ پاکستان پر آئے ہوئے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ساتھ وفود کی سطح پر ہونے والی ایک انتہائی اہم اور مقتدر ملاقات کے دوران واضح کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق کوئی بات شامل نہیں ہے اور نہ ہی یہ نکتہ کبھی ایجنڈے کا حصہ رہا ہے۔ وزیراعظم نے دوٹوک انداز میں کہا کہ بیلسٹک میزائل کے حوالے سے دنیا میں کوئی دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے؛ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ دنیا کے دیگر ممالک کے پاس تو بیلسٹک میزائل ہوں اور ایران کو اس حق سے محروم رکھا جائے، اس مقتدر نکتے پر عالمی سطح پر کسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کچھ شرپسند عناصر خطے میں جنگ کے شعلوں کو بجھنے نہیں دینا چاہتے اور وہ اس تاریخی امن عمل کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں۔

اس اعلیٰ سطحی تزویراتی ملاقات میں پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر (چیف آف آرمی اسٹاف) بھی شریک تھے۔ اپنے مقتدر ابتدائی کلمات میں وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے مابین اس تاریخی ثالثی کے لیے پاکستان پر بھرپور اعتماد کرنے پر ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی اخوت کو کبھی جوابدہ نہیں ہونا پڑتا، ہم ایران کو کبھی مایوس نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی ویژنری قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا جن کے زیرِ اثر ایران نے انتہائی وقار اور عزت کے ساتھ جنگ بندی کے اس مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔ وزیراعظم نے حالیہ کشیدگی کے دوران معصوم جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم نے ہمیشہ کی طرح اس مشکل صورتحال کا سامنا بھی انتہائی جرات، بہادری اور ہمت سے کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کے انتھک اور تزویراتی کردار کو مقتدر الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہماری مشترکہ کوششوں کے باعث آج یہ کامیابی ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے تکنیکی سطح کے طویل مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی کاوشوں کو بھی لاجواب قرار دیا۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے خطے میں امن کے قیام کے لیے تعاون فراہم کرنے پر برادر دوست ممالک بالخصوص سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور مصر کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ پاکستان اور ایران ہمیشہ کے لیے دوست اور بھائی ہیں جن کی خوشیاں اور غم سانجھے ہیں، اور دونوں ممالک صدر مسعود پزشکیان کی قیادت میں اقتصادی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور تعمیرِ نو سمیت تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کر کے مشترکہ ترقی کے ایک نئے مقتدر دور کا آغاز کریں گے۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط اور جنگ بندی پر صدر زرداری کی مبارکباد؛ یکطرفہ اقدامات کی مخالفت، مکالمے اور مسلم امہ کے اتحاد کے تحفظ کے لیے پاکستان کے اصولی عزم کا اعادہ

کاشف عباسی ,june 23,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے اسلامی جمہوریہ ایران کے نومنتخب صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے منگل کے روز ایوانِ صدر میں ایک انتہائی اہم، مقتدر اور اعلیٰ سطحی ملاقات کی ہے۔ حالیہ عالمی و علاقائی تنازعے کے خاتمے کے بعد صدر پزشکیان کا یہ پہلا سرکاری دورہِ پاکستان ہے، جس کا ایوانِ صدر میں پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔ اس مقتدر ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے مابین دیرینہ برادرانہ و تاریخی تعلقات، علاقائی امن و سلامتی کی بدلتی صورتحال، اقتصادی تعاون کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے تمام تزویراتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں ایران کی جانب سے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی، صدر کے دفتر کے سربراہ محسن حاجی میرزائی، وزیر داخلہ سکندر مومنی، سیاسی امور کے سربراہ سعید عباس موسوی اور پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم شامل تھے۔ دوسری جانب پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی و سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی، وزیر مملکت طلال چوہدری، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم حسین نے کی۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق، صدر آصف علی زرداری نے سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی تاریخی پیش رفت اور ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر دستخط ہونے پر صدر پزشکیان کو مقتدر الفاظ میں مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ جاری تکنیکی مذاکرات خطے میں مستقل امن کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔

صدر آصف علی زرداری نے ایران کے امن، استحکام، قومی اتحاد، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل اور اصولی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتا رہا ہے اور عالمی چیلنجز کے پائیدار حل کے لیے صرف مکالمے اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے مسلم امہ کے اتحاد اور خلیجی ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات برقرار رکھنے کے عزم کو دہرایا۔ صدر زرداری نے ایران کی مقتدر قیادت (آیت اللہ علی حسینی خامنہ ای) کی شہادت پر ایک بار پھر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان کی تدفین میں مقتدر سطح پر شرکت کرے گا۔ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے امن، جنگ بندی اور عالمی سطح پر مکالمے کے فروغ کے لیے پاکستان کے انتہائی مثبت، تعمیری اور مخلصانہ کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور حالیہ معاشی و سفارتی چیلنجز میں پاکستان کی جانب سے فراہم کی جانے والی مضبوط حمایت کا شکریہ ادا کیا۔ ملاقات کے اختتام پر صدر زرداری نے ایرانی صدر کے ذریعے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے لیے اپنی نیک تمنائیں اور گرمجوش سلام بھی پہنچایا۔

تاریخی خارجہ پالیسی اور تزویراتی کامیابی: امریکا ایران تاریخ ساز معاہدے پر پاکستان کے بطور ثالث دستخط، دنیا کے نامور اخبارات کے فرنٹ پیج پر پاکستان کا کردار نمایاں، وزیراعظم شہباز شریف کا قومی اسمبلی میں مقتدر خطاب

کاشف عباسی ,june 23,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے انتہائی مقتدر اور اہم اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی اور تزویراتی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے تاریخ ساز معاہدے پر پاکستان کے بطور ثالث دستخط کی تصویر آج دنیا کے سب سے بڑے اور ممتاز ترین اخبارات کے فرنٹ پیجز پر لگی ہوئی ہے۔ پاکستان کو عالمی سطح پر جو غیر معمولی عزت اور وقار ملا ہے، یہ اربوں روپے خرچ کر کے بھی ہم حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ یہ پاکستان کی مخلصانہ، انتھک اور عرق ریزی سے کی جانے والی کوششوں کا مقتدر نتیجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہوئی اور اب اگلے 60 دن کے تکنیکی مذاکرات بھی ان شاء اللہ مکمل کامیاب ہوں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایوان کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے تزویراتی مذاکرات کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کے لیے پاکستانی وفد نے دن رات گفتگو کا سلسلہ جاری رکھا۔ بالآخر صبح کے تقریباً ڈھائی تین بجے ایک مشترکہ اعلامیہ اور ایم او یو تیار کیا گیا جس کی تمام فریقین نے توثیق کی اور پاکستان نے اس پر بطور ثالث دستخط کیے۔ انہوں نے سپیکر سردار ایاز صادق، قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی اور پاکستان کے 24 کروڑ عوام کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ‘واشنگٹن پوسٹ’، ‘فنانشل ٹائمز’ اور ‘نیویارک ٹائمز’ جیسے بین الاقوامی جرائد نے پاکستان کے اس کلیدی کردار کو نمایاں کیا ہے۔ وزیراعظم نے یہ مقتدر اعلان بھی کیا کہ ان کے انتہائی پیارے بھائی اور ایران کے نومنتخب صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان ہماری خصوصی دعوت پر جلد پاکستان تشریف لا رہے ہیں، جس سے دونوں برادر ممالک کے تعلقات مزید تزویراتی بلندیوں کو چھوئیں گے۔

قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا کہ انہوں نے ایوان میں ڈیسک صادق اور مخلصانہ جذبوں کے ساتھ بجایا تھا کیونکہ آج پاکستان عالمی سطح پر معتبر ہو رہا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر کے اس مؤقف کو حقائق کے منافی قرار دیا کہ وفاق بلوچستان کو اس کا حق نہیں دے رہا۔ وزیراعظم نے مقتدر الفاظ میں دہرایا کہ چاروں صوبوں نے این ایف سی ایوارڈ میں رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے وسائل کا حصہ 100 فیصد بڑھایا ہے، جس میں تنہا پنجاب باقی صوبوں کے ساتھ مل کر سالانہ 11 ارب روپے کا حصہ ڈال رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک چاروں صوبے ترقی کی دوڑ میں برابر کے شریک نہیں ہوں گے، وہ پاکستان کی ترقی نہیں کہلا سکتی۔ خطاب کے آخر میں سیاسی گرما گرمی پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے اپوزیشن کو کرپشن اور انتخابی دھاندلی کے الزامات پر آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اگر اپوزیشن کو الیکشن کی تحقیقات کا اتنا ہی شوق ہے تو شروعات 2018ء کے الیکشن کی جادوگری اور بیلٹ باکس بھرنے کے مقتدر الزامات سے کرتے ہیں، جس کے بعد 2024ء کے الیکشن پر بھی بات ہو جائے گی، کیونکہ اگر بات نکلی تو پھر بہت دور تک جائے گی۔

سفاکیت کی انتہا: سرگودھا میں 7 سالہ معصوم بچی کے بہیمانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم گرفتار، ڈی این اے ٹیسٹ میچ کر گیا

کاشف عباسی ,june 23,2026

سرگودھا (کرائم رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

سرگودھا کے گنجان آباد علاقے کارخانہ بازار میں سات سالہ معصوم بچی کے بہیمانہ اور لرزہ خیز قتل کے واقعے میں ملوث مرکزی ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ کاؤنٹر ٹیررازم یا کرائم انویسٹی گیشن سے وابستہ ایک سینیئر سیکیورٹی اہلکار نے مقتدر میڈیا رپورٹس میں تصدیق کی ہے کہ ابتدائی ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج مرکزی ملزم سے سو فیصد میچ کر گئے ہیں، جس کے بعد ملزم نے دورانِ تفتیش معصوم لڑکی کے جنسی استحصال اور اسے بیدردی سے قتل کرنے کا باقاعدہ اعتراف بھی کر لیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق، مقتولہ بچی کے سوگوار والد کی مدعیت میں متعلقہ تھانے میں چار افراد کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم ارسلان کو دھر لیا ہے جبکہ مقدمے میں نامزد دیگر افراد کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا گیا ہے۔ درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق، اس لرزہ خیز واردات میں ایک مقامی کریانہ اسٹور کے مالک سمیت تین افراد کو مبینہ طور پر قتل کی مجرمانہ سازش تیار کرنے اور اس میں معاونت فراہم کرنے کے سنگین الزام کے تحت نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مقتدر مندرجات کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ دکان کے مالک محمد عباس کے ساتھ مقتولہ کے خاندان کی کسی بات پر ہونے والی تلخ کلامی کے بعد پیش آیا۔ الزام ہے کہ مرکزی ملزم ارسلان نے، جو گزشتہ دو سال سے اسی کریانہ اسٹور پر ملازمت کر رہا تھا، دیگر نامزد ملزمان کے ایما اور شہ پر بچی کو اغوا کیا اور قتل سے قبل اسے مبینہ طور پر شدید زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ارسلان کی گرفتاری کے بعد سازش میں ملوث باقی ملزمان سے کڑی تفتیش جاری ہے، اور تفصیلی پوسٹ مارٹم و حتمی فرانزک لیب رپورٹس موصول ہونے کے بعد کیس کو مقتدر عدالت میں چالان کی صورت پیش کیا جائے گا تاکہ معصوم بچی کے خون سے ہولی کھیلنے والے درندوں کو عبرتناک سزا دلائی جا سکے۔

قومی اسمبلی میں احتجاج: فاشسٹ حکومت نے اسلام آباد کو بند کر کے مفلوج کر دیا، فاٹا اور مالاکنڈ پر عائد ٹیکس فوری واپس لیا جائے، اسد قیصر

منصور احمد june 23,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وفاق پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فاشسٹ اور غیر قانونی حکومت نے سیکیورٹی کے نام پر دارالحکومت اسلام آباد کو ہر طرف سے بند کر رکھا ہے، جس کے باعث عوام شدید مشکلات اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اور بعد ازاں سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے مقتدر الفاظ میں کہا کہ سیکیورٹی کے نام پر آدھے سے زیادہ اسلام آباد کو مفلوج کر دیا گیا ہے، جو چند راستے کھلے ہیں وہاں ٹریفک کا شدید دباؤ ہے اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

اسد قیصر نے وفاقی حکومت کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حکمرانوں کو بخوبی علم ہے کہ وہ عوامی مینڈیٹ کے بجائے فارم 47 کے سہارے اقتدار میں آئے ہیں۔ اسی لیے انہیں نہ عوام کی سہولت کی فکر ہے اور نہ ہی عوامی رائے کی کوئی پرواہ ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ جب ووٹ کے بغیر اقتدار مل جائے تو پھر عوام کی مشکلات، تکالیف اور روزمرہ زندگی کی پریشانیاں ان کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں، افسوس کہ عوام جتنی زیادہ تکلیف اٹھاتے ہیں، یہ حکومت اتنا ہی خود کو محفوظ اور مطمئن سمجھتی ہے۔

قومی اسمبلی میں ملکی معیشت اور صوبائی حقوق پر بات کرتے ہوئے اسد قیصر نے بتایا کہ گزشتہ دنوں ان کی وفاقی وزیرِ خزانہ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ٹیکس کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے ایک لازمی جزو ہے، تاہم فاٹا اور مالاکنڈ دہشت گردی سے شدید متاثرہ علاقے ہیں، وہاں کے حالات کو سمجھنا ہوگا۔ اس وقت افغانستان کے ساتھ تجارت تقریباً مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، غلط پالیسیوں کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں اور امن و امان کے حوالے سے سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔ انہوں نے گلہ کیا کہ حکومت نے ان علاقوں میں کوئی خاطر خواہ ترقیاتی کام نہیں کیے اور این ایف سی کے تحت فاٹا کے لیے 3 فیصد حصہ دینے کا جو مقتدر عہد کیا گیا تھا، وہ بھی آج تک پورا نہیں کیا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہم سب مالاکنڈ اور فاٹا کے غیور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایسے بدترین حالات میں ان مظلوم علاقوں سے ٹیکس کیسے لیا جا سکتا ہے؟ پی ٹی آئی رہنما نے انکشاف کیا کہ این ایف سی کے تحت ہمارے صوبوں کے 434 ارب روپے واجب الادا ہیں، جبکہ صوبوں کو پانی کے حصے میں بھی 19 فیصد کی نمایاں کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے ایوان سے فاٹا اور مالاکنڈ پر عائد تمام ٹیکسز کو فوری طور پر واپس لینے کا مقتدر مطالبہ کیا۔

مستقبل کا معاشی انقلاب: گوادر پورٹ پاکستان کو عالمی تجارتی سرگرمیوں کے مرکز میں بدل دے گا، گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل

منصور احمد june 23,2026

کوئٹہ ( نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں چین کے قائم مقام قونصل جنرل فینگ دہینگ سے ایک اہم اور مقتدر ملاقات کی ہے۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران پاک چین اقتصادی راہداری، گوادر پورٹ کی فعالیت، تعلیمی شعبے میں تعاون اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں چائنیز پولیٹیکل ڈائریکٹر فینگ دہینگ اور وانگ ژاؤشیانگ بھی موجود تھے۔ گفتگو کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے واضح کیا کہ گوادر پورٹ کی حقیقی ترقی اور فعالیت ایک خاموش معاشی انقلاب بن کر ابھرے گی اور یہ ایک ایسا گیٹ وے ہے جو پاکستان کو عالمی اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کے مرکز میں بدل دے گا۔

گورنر جعفر خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ وسطی ایشیا سے لے کر جنوبی ایشیا تک اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان ایک تزویراتی پل کا کردار ادا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جو پورے خطے کی معاشی منڈیوں، ثقافتوں اور صنعتوں کو آپس میں مربوط کرے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان اور چین کے سیاسی و سفارتی تعلقات کی پچھترویں سالگرہ منائی جا چکی ہے، جو دونوں ممالک کی پائیدار دوستی اور لازوال طاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ گورنر بلوچستان نے چینی حکام پر زور دیا کہ چین چونکہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی میں وسیع علم و تجربہ رکھتا ہے، اس لیے چین کی یہ مہارت بلوچستان کی نئی نسل کی فکری رہنمائی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے چینی حکومت سے پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے طلبہ کے لیے اسکالرشپس اور عالمی معیار کی تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کی مقتدر اپیل کی۔

ملاقات کے دوران چین کے قائم مقام قونصل جنرل فینگ دہینگ نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی غیر معمولی سفارتی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تقریباً نصف صدی کے بعد امریکہ اور ایران دونوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ اس عظیم سفارتی کارنامے نے نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کا قد بلند کیا ہے بلکہ سفارت کاری کی تاریخ میں ایک نیا باب بھی رقم کیا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ چین پورے بلوچستان میں گوادر سے لے کر ژوب تک کے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے، معاشی سرگرمیوں میں اضافے اور یہاں کے لوگوں کا معیارِ زندگی بلند کرنے کے لیے سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔ گورنر بلوچستان نے چینی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا اور دونوں رہنماؤں نے عوامی سطح پر روابط کو مزید بڑھانے پر مکمل اتفاق کیا۔

اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، جہلم اور چکوال سرکل کے صارفین کے مسائل کا موقع پر ہی ازالہ کیا جائے گا؛ ترجمان آئیسکو کی جانب سے فیس بک آئی ڈی اور ٹیلی فون نمبر جاری

روزینہ اسماعیل.june 23,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے صارفین کے بجلی سے متعلقہ مسائل کے بارے میں بہتر اور براہِ راست آگاہی حاصل کرنے اور ان کے بروقت تدارک کے لیے چیف ایگزیکٹو آئیسکو کل بروز بدھ فیس بک لائیو اور ٹیلی فون پر آئیسکو ریجن کے تمام صارفین کی شکایات خود سنیں گے۔ آئیسکو کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، اس کھلی کچہری کا بنیادی مقصد صارفین کو بلا تعطل سفری صعوبتوں کے اپنے دہلیز پر ہی بجلی کے مسائل سے نجات دلانا ہے۔

ترجمان آئیسکو کے مطابق، چیف ایگزیکٹو آئیسکو انجینئر چوہدری خالد محمود کل صبح نو بجے سے لے کر دن گیارہ بجے تک اسلام آباد، راولپنڈی سٹی، راولپنڈی کینٹ، اٹک، جہلم، چکوال سرکلز اور ان کے تمام ملحقہ و گردونواح کے آئیسکو صارفین کے بجلی سے متعلقہ شکایات و مسائل سنیں گے۔ ان شکایات کے فوری اور بروقت حل کے لیے تادیبی و انتظامی احکامات موقع پر ہی متعلقہ فیلڈ دفاتر کو جاری کیے جائیں گے۔

آئیسکو کے تمام صارفین چیف ایگزیکٹو سے براہِ راست بات کرنے، اپنے بجلی کے مسائل کا اندراج کروانے اور ان کے فوری ازالے کے لیے کمپنی کی آفیشل فیس بک آئی ڈی اور باقاعدہ ٹیلی فون نمبر (0519253105) پر مقررہ اوقاتِ کار کے دوران رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔ ترجمان نے صارفین سے مقتدر اپیل کی ہے کہ وہ شکایات کے تیز رفتار اندراج اور کونسلنگ کے دوران اپنا اصل نام، بجلی کے بل پر درج چودہ ہندسوں کا ریفرنس نمبر اور اپنا فعال رابطہ نمبر لازمی فراہم کریں تاکہ ان کے مسائل کی کمپیوٹرائزڈ ٹریکنگ کی جا سکے۔