عالمی امن کا سنہری موقع: امریکہ اور ایران کے درمیان ایسے نتیجہ خیز مذاکرات کے منتظر ہیں جو مثبت نتائج لائیں، وزیرِ اعظم شہباز شریف

محمود احمد june 21,2026

برگن اسٹاک (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے مابین جاری تاریخی بات چیت کو عالمی تاریخ کا ایک بڑا تزویراتی موڑ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی امن کے مستقل قیام کے لیے یہ ایک انتہائی اہم اور سنہری موقع ہے، جہاں ہم سب مل کر دنیا بھر میں امن و استحکام کا ایک مضبوط اور پائیدار اتحاد قائم کر سکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق، سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مقتدر اعلیٰ سطحی مذاکرات کے پہلے سیشن کے اختتام پر وزیرِ اعظم پاکستان نے بین الاقوامی میڈیا سے خصوصی گفتگو کی۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس انتہائی پیچیدہ اور نازک امن معاہدے کو ممکن بنانے کے لیے پسِ پردہ ایک غیر معمولی، کلیدی اور مخلصانہ کردار ادا کیا ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت، جرات مندانہ سوچ اور براہِ راست مذاکرات کے فعال ویژن کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہی کی تزویراتی دور اندیشی کے باعث امریکہ اور ایران کا ایک میز پر بیٹھنا ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سرگرم سفارت کاری کو بھی سراہا اور قوی امید ظاہر کی کہ یہ نتیجہ خیز مذاکرات مشرقِ وسطیٰ اور پوری دنیا کے لیے مثبت معاشی و سیاسی نتائج لائیں گے۔

اس اہم مقتدر موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ جے ڈی وینس نے پاک فوج کے سربراہ کی اعلیٰ حکمتِ عملی کا اعتراف کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ایک بہترین سپہ سالار قرار دیا۔ امریکی نائب صدر نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شروع دن سے ہی اس امن مشن میں واشنگٹن کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہے ہیں، اور اس سنگین عالمی بحران کو ٹالنے کے لیے پاکستان نے جو غیر جانبدارانہ اور تعمیری کردار ادا کیا ہے، اسے عالمی سطح پر بھرپور طریقے سے سراہا گیا ہے۔ جے ڈی وینس نے پاک-امریکہ دیرینہ تعلقات کو ایک نیا رخ دیتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر میرے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتہائی قریبی اور قابلِ اعتماد دوست ہیں، اور دونوں ممالک کا باہمی سیکیورٹی تعاون خطے کی سلامتی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

امریکہ اور ایران کا پاکستان کی اعلیٰ قیادت پر بھرپور اعتماد، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عالمی مذاکراتی میز پر متحرک شرکت

محمود احمد june 21,2026

برگن اسٹاک (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

سوئٹزرلینڈ کے مقتدر شہر برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی میں کمی، پائیدار جنگ بندی اور خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے تاریخ ساز مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی پریس اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکہ اور ایران کے اعلیٰ اختیاراتی وفود ایک خصوصی بند کمرہ اجلاس میں آمنے سامنے بیٹھے، جہاں مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، فوری جنگ بندی، سفارتی چینلز کی بحالی اور مستقبل کے پائیدار امن فریم ورک کے مختلف تزویراتی پہلوؤں پر تفصیلی اور گہرائی سے بات چیت کی جا رہی ہے۔

باوثوق سفارتی ذرائع کے مطابق، ان انتہائی حساس اور معلق مذاکرات کو ممکن بنانے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ایک تاریخی، متوازن اور مؤثر ثالثی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کی غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی اور دونوں عالمی طاقتوں کے ساتھ یکساں مضبوط سفارتی رابطوں کو اس پورے مذاکراتی عمل میں مرکزی اور نمایاں اہمیت دی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، امریکہ اور ایران دونوں ممالک نے پاکستان کے مصالحتی کردار کو دل کھول کر سراہتے ہوئے اس اہم ترین امن مشن میں پاکستان کی فعال شمولیت اور رہنمائی پر اپنے غیر مشروط اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اس مقتدر امن مشن میں پاکستان کی تزویراتی نمائندگی وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خود کر رہے ہیں۔

عالمی سفارتی گیلری کے مطابق، امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر جیسے اہم ترین مقتدر مہرے شامل ہیں، جبکہ دوسری جانب ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جن کے ہمراہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور قومی سلامتی کے دیگر اعلیٰ حکام بھی مذاکرات کی میز پر موجود ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں پاکستان کے علاوہ برادر ملک قطر کا اعلیٰ سطحی وفد بھی سہولت کار کے طور پر شریک ہے۔ اس وقت پاکستان، قطر، امریکہ اور ایران پر مشتمل چار ملکی اسٹرٹیجک اجلاس میں مروجہ “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کے اہم نکات، مستقل جنگ بندی کے امکانات اور علاقائی استحکام کے آئندہ کے سفارتی لائحہ عمل پر باریک بینی سے تکنیکی مشاورت جاری ہے۔ عالمی سیاسی و سفارتی حلقوں کے مطابق، دو روایتی حریفوں کو ایک میز پر لانا پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی، موجودہ سیاسی قیادت اور قومی سلامتی کے اداروں کے لیے ایک شاندار اور تزویراتی کامیابی قرار دی جا رہی ہے، جبکہ دنیا بھر کی نظریں اب اس اجلاس کے باقاعدہ مشترکہ اعلامیے پر لگی ہوئی ہیں۔

برگن اسٹاک میں جے ڈی وینس اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، غیر رسمی گفتگو سوشل میڈیا پر زیرِ بحث

محمود احمد june 21,2026

برگن اسٹاک (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت علاقے برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تاریخی امن مذاکرات کے موقع پر پاکستان، امریکہ، ایران اور قطر کے اعلیٰ سطحی وفود کی مقتدر ملاقاتیں مسلسل جاری رہیں۔ اس دوران وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ایک خصوصی اور تزویراتی ملاقات کی، جس میں خطے میں پائیدار امن، امریکہ ایران مذاکرات، ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر پیش رفت اور سفارتی تعاون سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان نے اس پیچیدہ مذاکراتی عمل میں سہولت کاری اور رابطہ کاری کے لیے ایک کلیدی اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔

سفارتی ملاقاتوں کے اس پسِ منظر میں سوشل میڈیا پر اس بیٹھک سے متعلق ایک غیر رسمی گفتگو بھی تیزی سے گردش کر رہی ہے، جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے منسوب ایک جملہ خاصا زیرِ بحث بنا ہوا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی پریس گیلری اور باوثوق سفارتی ذرائع کے مطابق اس مبینہ جملے کی کسی بھی سرکاری امریکی یا پاکستانی مقتدر بیان سے آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور اسے محض سوشل میڈیا مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق برگن اسٹاک میں ہونے والی یہ اعلیٰ سطحی ملاقات انتہائی خوشگوار اور مقتدر ماحول میں ہوئی، جہاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت اور خطے میں امن کے قیام کے لیے جاری مخلصانہ سفارتی کوششوں کو دل کھول کر سراہا۔ پریس کانفرنس اور تجزیہ کاروں کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اس عالمی فورم پر موجودگی کو مذاکراتی عمل میں پاکستان کے فعال، اسٹرٹیجک اور بااثر کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے وفود کے درمیان ان مذاکرات کا بنیادی مقصد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر من و عن عملدرآمد، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور وسیع تر عالمی امن کے امکانات کو آگے بڑھانا ہے۔

سربراہی اجلاس: سوئٹزرلینڈ میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے اہم ملاقات، پاک-امریکہ وفود میں غیر معمولی گرمجوشی کا مظاہرہ

محمود احمد june 21,2026

زیورخ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

سوئٹزرلینڈ کے تفریحی مقام برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی امن مذاکرات کے باقاعدہ آغاز پر پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ایک انتہائی اہم اور مقتدر ملاقات ہوئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر عملدرآمد کے لیے سوئٹزرلینڈ کے جیو پولیٹیکل مذاکراتی مرکز میں ہونے والی اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین سٹرٹیجک تعلقات اور خطے کے امن پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر بھی موجود تھے، اور ملاقات میں اس وقت غیر معمولی سفارتی گرمجوشی دیکھی گئی جب اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شاندار استقبال کیا اور ان سے گرمجوشی سے بغل گیر ہوئے۔

بین الاقوامی سفارتی ذرائع کے مطابق برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ اختیاراتی وفود امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پہنچ چکے ہیں۔ ایرانی وفد کی قیادت وہاں کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف کر رہے ہیں، جسے ایرانی میڈیا میں ’میناب 168‘ کا خصوصی نام دیا گیا ہے، اس وفد میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، قومی سلامتی کونسل کے اہم عہدیدار علی باقری، مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی، کاظم غریب آبادی اور اسماعیل بقائی شامل ہیں، جبکہ امریکی وفد کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس خود کر رہے ہیں۔ عالمی امن کے اس مقتدر عمل میں سہولت کار کے طور پر قطر اور سوئٹزرلینڈ کے خصوصی نمائندے بھی کلیدی حیثیت میں شریکِ گفتگو ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اس اہم پیشرفت پر اپنا مقتدر مؤقف جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، ایران اور امریکہ کے درمیان طے شدہ امن مفاہمت پر عملدرآمد کی بھرپور تائید و حمایت کرتا ہے اور اس عالمی عمل کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار مستقل جاری رکھے گا۔ اس تاریخی عالمی سربراہی موقع پر وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی ایران، قطر، سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کے وفود کے ساتھ سائیڈ لائن پر انتہائی اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ ترجمان دفترِ خارجہ نے واضح کیا کہ اس سنگین عالمی بحران میں پاکستان کی سفارتی سہولت کاری اس کے اصولی، متوازن اور امن پسند مؤقف کی کھلی مظہر ہے، کیونکہ امریکہ اور ایران کے ابتدائی مذاکراتی ادوار کی کامیاب میزبانی اور پاکستان کے مسلسل مقتدر سفارتی رابطے ہی بالآخر دونوں فریقین کو ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کی میز پر لانے کا بنیادی باعث بنے ہیں۔

بجٹ اجلاس: قومی اسمبلی نے 4 ہزار 232 ارب روپے کے 89 مطالباتِ زر کی منظوری دے دی

کاشف عباسی ,june 21,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

مالی سال 27۔2026ء کے وفاقی بجٹ کو حتمی شکل دینے کے مراحل میں قومی اسمبلی نے ایک بڑی مقتدر پیشرفت کرتے ہوئے مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کے 4 ہزار 232 ارب روپے سے زائد مالیت کے 89 مطالباتِ زر کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اتوار کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ بجٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے مجموعی طور پر 4 ہزار 232 ارب 4 کروڑ روپے سے زائد کے یہ ڈیمانڈز ایوان کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیے، جن پر اپوزیشن کی جانب سے کوئی کٹوتی کی تحریک پیش نہ کیے جانے کے باعث ایوان نے انہیں کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔

بجٹ دستاویزات اور مروجہ ایجنڈے کے مطابق منظور کیے گئے ان مطالباتِ زر میں ملک کے تزویراتی اور دفاعی شعبوں کے لیے سب سے خطیر رقم مختص کی گئی ہے، جس کے تحت دفاعی خدمات کے لیے 3 ہزار ارب روپے کے ڈیمانڈ کی حتمی منظوری دی گئی ہے، جبکہ وزارتِ دفاع کے لیے 17 ارب 10 کروڑ، ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس کے لیے 21 ارب 65 کروڑ، کنٹونمنٹس و گیریژن کے لیے 17 ارب 58 کروڑ اور دفاعی پیداوار ڈویژن کے لیے 1 ارب 14 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایوان نے اٹامک انرجی کے شعبے کے لیے 22 ارب 57 کروڑ، پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے لیے 2 ارب 35 کروڑ 77 لاکھ اور انٹیلی جنس بیورو ڈویژن کے لیے 22 ارب 96 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔

تعلیمی و ترقیاتی شعبوں کے لیے بھی اربوں روپے کے فنڈز کو مقتدر تحفظ دیا گیا ہے، جس میں وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے لیے 42 ارب 74 کروڑ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے جاری اخراجات کے لیے 66 ارب 43 کروڑ اور ایچ ای سی کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے الگ سے 46 ارب روپے کی منظوری شامل ہے۔ پائیدار انفراسٹرکچر کے لیے واٹر ریسورسز (آبی وسائل) کے جاری و ترقیاتی منصوبوں کے لیے بالترتیب 55 ارب 25 کروڑ اور 47 ارب 83 کروڑ روپے منظور ہوئے، جبکہ ریلوے ڈویلپمنٹ کے لیے 40 ارب 65 کروڑ، مواصلات (کمیونیکیشن) کے لیے 59 ارب 25 کروڑ، اور آئی ٹی و ٹیلی کام ڈویلپمنٹ کے لیے 19 ارب 58 کروڑ روپے کے مطالباتِ زر منظور کیے گئے ہیں۔ دیگر اہم محکموں میں قومی احتساب بیورو کے لیے 7 ارب 73 کروڑ، قانون و انصاف کے لیے 11 ارب 12 کروڑ، اطلاعات و نشریات کے لیے 11 ارب 1 کروڑ اور قومی اسمبلی و سینیٹ کے انتظامی اخراجات کے لیے بالترتیب 9 ارب 3 کروڑ اور 3 ارب 21 کروڑ روپے کی آئینی منظوری دے دی گئی ہے۔

محرم الحرام کے دوران جلوسوں اور امام بارگاہوں کی سخت نگرانی؛ سیف سٹی کنٹرول روم کے عملے کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت

منصور احمد june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیف سٹی اسلام آباد عباس مہدی نے ‘محافظ محرم کنٹرول روم’ کے افسران و عملے کو ایک اہم اور مقتدر بریفنگ دی ہے، جس میں محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی نگرانی، مانیٹرنگ اور رسپانس میکنزم کو مزید فول پروف اور مضبوط بنانے کے لیے تزویراتی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اتوار کو سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کو تفصیلات بتاتے ہوئے سیف سٹی حکام نے کہا کہ اس اہم بریفنگ کا بنیادی فوکس جدید سیف سٹی سرویلنس کیمرہ سسٹم کے ذریعے وفاقی دارالحکومت کی تمام امام بارگاہوں اور جلوس کے مروجہ راستوں کی چوبیس گھنٹے موثر ترین نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔

عباس مہدی نے کنٹرول روم کے افسران کو سخت احکامات جاری کیے کہ وہ مسلسل چوکس رہیں اور اسلام آباد میں ہونے والے تمام مذہبی اجتماعات اور ماتمی جلوسوں کی جامع ترین کوریج کو مانیٹر کریں۔ حکام کے مطابق اس موقع پر ‘محافظ محرم ایپ’ کے ذریعے موصول ہونے والی شہریوں کی تمام ایمرجنسی کالز کو اولین ترجیح دینے اور ان پر سیکنڈز کے اندر فوری ایکشن لینے کی خصوصی ہدایات دی گئیں تاکہ بروقت ریسکیو اور عوامی مدد کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ بریفنگ کے دوران کنٹرول روم اور فیلڈ فارمیشنز کے درمیان موثر اسٹرٹیجک کوآرڈینیشن پر بھی زور دیا گیا تاکہ کسی بھی ابھرتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے، جبکہ فیلڈ مارشل ڈسپلن کے تحت عملے کو تمام دستیاب تکنیکی وسائل کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

محرم الحرام کے جلوسوں کے دوران ٹریفک پلان پر سختی سے عمل کیا جائے، مختص پارکنگ کا استعمال لازمی، سی ٹی او اسلام آباد

منصور احمد june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) اسلام آباد کائنات اظہر خان نے محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس کے دوران بہترین نظم و ضبط اور ٹریفک قوانین کی مقتدر تعمیل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ زائرین اور شہری صرف اور صرف پارکنگ کی مخصوص جگہیں استعمال کریں، اسلام آباد ٹریفک پولیس (آئی ٹی پی) ٹریفک کی روانی کے لیے سیکیورٹی و ٹریفک پلان پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔ اتوار کو ایک مقامی میڈیا چینل سے مقتدر گفتگو کرتے ہوئے چیف ٹریفک آفیسر اسلام آباد نے محرم کے جلوسوں کے دوران منظم طرزِ عمل کی اہمیت اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ کی ہدایات پر عمل درآمد پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے تاکہ سڑکوں پر کسی بھی قسم کی تکلیف اور بھیڑ سے بچا جا سکے، ٹریفک پلان کی کسی بھی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور مذہبی اجتماعات کے دوران پریشانی سے بچنے کے لیے سخت انتظامی اقدامات کیے جائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں سی ٹی او کائنات اظہر خان نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور راولپنڈی و اسلام آباد کے درمیان انٹر سٹی نقل و حرکت میں اضافے کی وجہ سے خاص طور پر ویک اینڈ پر بڑی شاہراہوں پر ٹریفک کا شدید دباؤ دیکھنے کو ملتا ہے، جس کے لیے اسلام آباد پولیس ٹریفک بہاؤ کو منظم کرنے کے لیے فعال اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے موٹر سائیکل سواروں کو خصوصی مشورہ دیا کہ وہ مروجہ سپیڈ لین کی پابندی کریں، ہیلمٹ لازمی پہنیں اور لاپرواہی سے ڈرائیونگ کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے دارالحکومت میں قانون کے مقتدر نفاذ کے لیے سیف سٹی کیمروں کے تزویراتی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے خبردار کیا کہ سیف سٹی نیٹ ورک کے ذریعے ٹریفک کی تمام خلاف ورزیوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور ای چالاننگ کے ذریعے کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے، لہٰذا کسی بھی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی طرح یہاں بھی ٹریفک قوانین کا احترام کیا جائے تاکہ ایک محفوظ روڈ نیٹ ورک قائم ہو سکے۔

قومی اسمبلی نے اپوزیشن کے رکن اقبال آفریدی کی معطلی ختم کرنے کی تحریک منظور کر لی، پارلیمنٹ کے تقدس اور مہمانوں کے پاسز کے حوالے سے ضابطہ اخلاق پر سختی کا فیصلہ

کاشف عباسی ,june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

قومی اسمبلی نے اپوزیشن جماعت کے معطل رکنِ اسمبلی اقبال آفریدی کی رکنیت کی معطلی ختم کرنے کی مقتدر تحریک کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اتوار کو اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ بجٹ اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر خان نے اس حوالے سے تحریک پیش کرنے کی اجازت چاہی، جس پر ایوان کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد انہوں نے تحریک پیش کی اور قومی اسمبلی نے اسے کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔ اس سے قبل بیرسٹر گوہر خان نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ اپوزیشن کی تقاریر لائیو ٹیلی کاسٹ نہیں کی جا رہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈیلے ٹرانسمیشن کی جائے مگر اپوزیشن کا مؤقف عوام تک پہنچنا چاہیے، نیز اقبال آفریدی 11 جون سے معطل ہیں اور چونکہ بجٹ سیشن سال میں ایک بار آتا ہے، اس لیے ان کے حلقے کی نمائندگی کے لیے ان کی معطلی ختم کی جائے۔

بیرسٹر گوہر خان کے نکتہ اعتراض پر مقتدر رولنگ دیتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ جب بھی قومی مفاد کمپرومائز ہو گا اور ریاست، اعلیٰ عدلیہ یا مسلح افواج پر کوئی منفی بات کی جائے گی تو اسے آن ائیر جانے کی قطعی اجازت نہیں ہوگی۔ اسپیکر نے کہا کہ اقبال آفریدی کی رکنیت معطلی کو ختم کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں کیونکہ ان کا مقصد ہاؤس اور ایم این ایز کے وقار کا تحفظ کرنا ہے، تاہم اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ اقبال آفریدی کو باور کرائے کہ وہ آئندہ سیکورٹی پاسز کے بغیر کسی غیر متعلقہ شخص کو پارلیمنٹ میں نہیں لائیں گے اور پارلیمانی عملے یا دیگر اراکین کے ساتھ بدتمیزی سے گریز کریں گے۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے اراکینِ اسمبلی پر زور دیا کہ پارلیمنٹ کی لابیز صرف اراکین کے لیے ہوتی ہیں، وہاں غیر متعلقہ لوگوں کا داخلہ بند ہونا چاہیے کیونکہ ووٹنگ کے عمل کے دوران لابیز ایوان کا حصہ بن جاتی ہیں، اس لیے انہوں نے سارجنٹ ایٹ آرمز کو سخت ترین احکامات جاری کیے ہیں کہ ضابطے کی خلاف ورزی پر سیکیورٹی عملے کو معطل کر دیا جائے گا۔

اجلاس کے دوران وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایوان کے تقدس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایم این ایز کی جانب سے مہمانوں کے لیے بلاجواز کارڈز جاری کروانے کی مروجہ روایت اب ختم ہونی چاہیے، اراکین کا گیلریوں کی طرف اشارے کر کے بات کرنا قواعد کے خلاف ہے اور مہمانوں کی جانب سے اندر ویڈیوز بنانا ایوان کے تقدس کو پامال کرتا ہے، پارلیمنٹ کو مچھلی منڈی نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے عدلیہ کے حوالے سے کہا کہ ماضی میں ان سمیت 4 اراکینِ اسمبلی کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی ہو چکی ہے، آئین کے تحت حاضر سروس ججز کے کنڈکٹ کو ایوان میں نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ہاؤس کے وقار میں ہی ہم سب کا وقار ہے اور ججز پر تنقید کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، جبکہ پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے تجویز دی کہ پارلیمنٹ کے داخلہ راستوں پر صرف ایک مخصوص لین ایم این ایز کے لیے مختص ہونی چاہیے جس پر اسپیکر نے بتایا کہ یہ اقدام پہلے ہی نافذ ہے۔ دوسری جانب علی محمد خان نے پارلیمنٹ آنے والے مہمانوں کے لیے مناسب اور باعزت انتظامات کا مطالبہ کیا، جس کے بعد ایوان نے نئے کوڈ آف کنڈکٹ کی تشکیل کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو مل بیٹھنے کی مقتدر ہدایت جاری کی۔

وفاق اور صوبوں میں مالی تعاون خوش آئند، پنجاب کا بجٹ متوازن اور عوام دوست ہے، اشرف بھٹی

منصور احمد june 21,2026

اسلام آباد (انیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اشرف بھٹی نے وفاقی حکومت کو چاروں صوبوں کی جانب سے 1,035 ارب روپے کی خطیر گرانٹ فراہم کرنے کے مقتدر فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ قومی مالیاتی و معاشی چیلنجز، ملکی سکیورٹی صورتحال، قومی اہمیت کے بڑے ترقیاتی منصوبوں اور بیرونی قرضوں کی بروقت ادائیگی جیسے حساس معاملات میں وفاق کو مالی طور پر مستحکم اور مضبوط بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اتوار کو جاری کردہ اپنے ایک مقتدر اخباری بیان میں تجارتی رہنما اشرف بھٹی نے واضح کیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان یہ مالی تعاون قومی یکجہتی، معاشی بقا اور جیو پولیٹیکل استحکام کے لیے ایک انتہائی خوش آئند اور تزویراتی پیشرفت ہے۔

مرکزی صدر آل پاکستان انجمن تاجران نے کہا کہ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے ایک بہترین، متوازن اور عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے، جس میں خدمات (سروسز)، پراپرٹی اور موٹر وہیکل ٹیکس جیسے مروجہ ذرائع سے صوبائی ریونیو بڑھانے کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور انتظامی بہتری لانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ پہلے سے موجود کاروباری اور تاجر طبقے پر مزید کوئی اضافی بوجھ نہ پڑے۔ اشرف بھٹی کا مزید کہنا تھا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے طویل المدتی مالی اصلاحات ناگزیر ہیں اور صوبائی آمدنی بڑھا کر خود کفالت حاصل کرنا ہوگی، جبکہ ٹیکس نظام میں ڈیجیٹلائزیشن، شفافیت اور بہتر گورننس سے تاجر برادری کا نظام پر اعتماد بڑھے گا اور ملک میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

تعلیمی نظام کو عالمی معیار کے مطابق جدید بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، وائس چانسلر قائداعظم یونیورسٹی

روزینہ اسماعیل.june 21,2026

اسلام آباد (ایجوکیشن رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے مہارتوں، جدید اختراعات، مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال اور حکومت، اکیڈمیا و انڈسٹری کے مستحکم روابط پر مبنی تعلیمی انقلاب پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جدید، منظم اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تعلیمی ماحول ہی طلباء کو مستقبل کے عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کر سکتا ہے۔ سرکاری ٹی وی (پی ٹی وی نیوز) کے ساتھ خصوصی اور مقتدر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے عملی تحریر، مواصلاتی مہارتوں اور عالمی معیار کے مطابق نصابی اصلاحات پر بھرپور توجہ مرکوز کرتے ہوئے تعلیمی نظام کو دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو روایتی طریقوں سے آگے بڑھنا ہوگا اور طلباء کو بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے حقیقی دنیا کی عملی صلاحیتوں سے آراستہ کرنا ہوگا۔

وائس چانسلر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ قائداعظم یونیورسٹی پہلے ہی ملک کے صفِ اول کے تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے لیکن اس کی اعلیٰ تعلیمی کارکردگی کو برقرار رکھنے اور اس کے مزید فروغ کے لیے حکومت کی جانب سے زیادہ سے زیادہ مالی تعاون اور فنڈنگ کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجیز کو طلباء کے لیے صرف معاون ٹولز کے طور پر تعمیری طور پر اپنانا چاہیے تاکہ ان پر حد سے زیادہ انحصار پیدا کرنے کے بجائے سیکھنے کے نتائج کو بہتر بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں جدید لیبز اور انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کیمپس میں نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں، منشیات اور سگریٹ نوشی پر سخت ‘زیرو ٹالرینس پالیسی’ پر عمل پیرا ہے اور سیکھنے، کردار سازی و یونیورسٹی کے مقتدر معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ایک صحت مند تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

ملک کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے نئے اعدادوشمار جاری

منصور احمد june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

واپڈا نے ملک کے مختلف دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین اعدادوشمار جاری کر دیے ہیں۔ اتوار کو جاری کردہ سرکاری رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 1 لاکھ 29 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 45 ہزار 800 کیوسک، جبکہ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد 45 ہزار کیوسک اور اخراج بھی 45 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح خیرآباد پل پر پانی کی آمد 1 لاکھ 95 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 95 ہزار 600 کیوسک رہا، دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 29 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 37 ہزار کیوسک جبکہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 31 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 7 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مختلف بیراجوں کے مروجہ اعدادوشمار کے مطابق جناح بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 22 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 15 ہزار 400 کیوسک، چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 10 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 3 ہزار کیوسک، تونسہ بیراج میں پانی کی آمد 1 لاکھ 94 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 69 ہزار 200 کیوسک، گدو بیراج میں پانی کی آمد 1 لاکھ 52 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 15 ہزار 100 کیوسک، سکھر بیراج میں پانی کی آمد 1 لاکھ 7 ہزار کیوسک اور اخراج 64 ہزار 600 کیوسک، کوٹری بیراج میں پانی کی آمد 22 ہزار 300 کیوسک اور اخراج صفر کیوسک، تریموں بیراج میں پانی کی آمد 18 ہزار کیوسک اور اخراج 3 ہزار 400 کیوسک جبکہ پنجند بیراج میں پانی کی آمد 12 ہزار 600 کیوسک اور اخراج صفر کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ملک کے بڑے آبی ذخائر کی موجودہ صورتحال کے مطابق تربیلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ہے جبکہ ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح 1443.28 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، تربیلا میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550 فٹ ہے اور آج قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.816 ملین ایکڑ فٹ موجود ہے۔ منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ ہے جبکہ ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح 1171.55 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، منگلا میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242 فٹ ہے اور آج قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2.652 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اسی طرح چشمہ بیراج کا کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15 فٹ ہے جبکہ ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح 642.10 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، چشمہ میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 649 فٹ ہے اور آج قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.065 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پنجاب میں غیر قانونی شکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 11 ملزمان گرفتار؛ لاکھوں روپے جرمانہ

منصور احمد june 21,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی خصوصی اور سخت ہدایات پر صوبہ بھر میں محکمہ جنگلی حیات (وائلڈ لائف) کی ٹیمیں غیر قانونی شکار، ناجائز قبضہ اور نایاب پرندوں کی تجارت کرنے والے عناصر کے تعاقب میں بھرپور سرگرم عمل ہیں، اسی سلسلے میں ایک مقتدر کارروائی کے دوران وائلڈ لائف رینجرز نے جہلم، چکوال، راولپنڈی، خوشاب اور لودھراں کے اضلاع میں کریک ڈاؤن کر کے خرگوش، سور، تیتر، بٹیر اور نایاب طوطوں کے غیر قانونی شکار اور اسمگلنگ میں ملوث 11 ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق وائلڈ لائف ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی پر ان تمام ملزمان کے خلاف باقاعدہ قانونی چالان مرتب کر کے سوا چار لاکھ روپے سے زائد کا بھاری جرمانہ عائد کیا گیا ہے جبکہ کارروائی کے دوران بازیافت کیے گئے تمام معصوم جنگلی پرندوں کو بحفاظت واپس قدرتی ماحول میں آزاد کر دیا گیا ہے۔

محکمہ جنگلی حیات کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر چکوال مرزا عابد حسین نے وائلڈ لائف رینجرز کی مقتدر ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے جنگلی سور کے 2 غیر قانونی شکاریوں کو 75 ہزار روپے جبکہ بھورے تیتر کی غیر قانونی تجارتی سپلائی پر 1 بڑے ڈیلر کو 35 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔ اسی طرح اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر جہلم ارشد ناز نے رن وے کارروائی کے دوران خرگوش کے 1 شکاری کو 36 ہزار روپے، تیتر کے 1 شکاری کو 40 ہزار روپے جبکہ قیمتی طوطوں کی غیر قانونی بلیک مارکیٹ تجارت پر ملوث ملزم کو 15 ہزار روپے جرمانہ کر کے تمام کیسز کو مروجہ قوانین کے تحت موقع پر ہی نمٹا دیا۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ خوشاب میں بھی اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر رانا محمد اشفاق نے مقتدر کارروائی کے دوران جنگلی خرگوش کے 3 سرگرم غیر قانونی شکاریوں کو دھر لیا اور انہیں 1 لاکھ 50 ہزار روپے کا بھاری جرمانہ عائد کیا۔ جنوبی پنجاب کے ضلع لودھراں میں اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر نے قیمتی لو برڈز اور فنچز چڑیا کے غیر قانونی کاروبار اور اسمگلنگ میں ملوث 1 نوسرباز ملزم کو گرفتار کر کے 60 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جبکہ کالے تیتر پر غیر قانونی قبضہ جمانے والے 1 شخص کو 15 ہزار روپے محکمانہ معاوضے کی مد میں جرمانہ کیا گیا۔ دوسری جانب راولپنڈی میں اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر محمد عمران نے جنگلی پرندوں کو پھنسانے کے لیے بچھائے گئے تمام غیر قانونی نیٹ گیئرز (جال اور آلات) کو موقع پر ہی جلا کر خاکستر کر دیا اور ضبط کیے گئے تمام نایاب تیتروں کو فیلڈ مارشل اسٹرٹیجی کے تحت واپس کھلے آسمان اور قدرتی ماحول میں آزاد کر دیا تاکہ وائلڈ لائف پروٹیکشن کو یقینی بنایا جا سکے۔

بجٹ اجلاس: قومی اسمبلی آج سے 135 مطالباتِ زر پر بحث کا آغاز کرے گی، 9,126 ارب روپے سے زائد کے ملکی اخراجات کی حتمی منظوری متوقع، دفاع، پنشن اور سماجی تحفظ حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل

کاشف عباسی ,june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

مالی سال 27۔2026ء کے وفاقی بجٹ کو حتمی شکل دینے کے لیے قومی اسمبلی کا اہم ترین اور مقتدر اجلاس آج (اتوار) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو رہا ہے، جہاں وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب مختلف وزارتوں، ڈویژنز اور وفاقی محکموں کے جاری و ترقیاتی اخراجات کی منظوری کے لیے مجموعی طور پر 135 مطالباتِ زر ایوان کے سامنے پیش کریں گے۔ قومی اسمبلی سے 30 جون 2027ء کو ختم ہونے والے آئندہ مالی سال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ان مطالباتِ زر کی مقتدر منظوری حاصل کی جائے گی جس کے تحت 9,126 ارب روپے سے زائد کے ملکی اخراجات کی حتمی منظوری متوقع ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بجٹ اجلاس کے اسٹرٹیجک ایجنڈے کے مطابق رواں سال وفاقی حکومت کی بنیادی تزویراتی ترجیحات میں ملکی دفاع، سماجی تحفظ اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی فلاح و بہبود کو سرِ فہرست رکھا گیا ہے، اسی لیے ایوان میں پیش کیے جانے والے مطالباتِ زر میں سب سے اہم فوکس دفاعی خدمات, الاؤنسز کہن سالی، وفاقی پنشن اور مختلف مقتدر گرانٹس پر رکھا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق اس اہم ترین بحث کے دوران ملک میں توانائی کے شدید بحران سے نمٹنے کے لیے شعبہ بجلی (پاور سیکٹر) اور پٹرولیم کے جاری و ترقیاتی منصوبوں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا گیا ہے تاکہ صنعتی و معاشی پہیہ بلا تعطل چلایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ غریب پرور منصوبوں کے تسلسل کو پائیدار بنانے اور غریب عوام کو مروجہ ریلیف دینے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور پاکستان بیت المال کے اربوں روپے کے اخراجات کو بھی ایوانِ زیریں سے باقاعدہ منظور کروایا جائے گا۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مروجہ قواعد و ضوابط کے تحت اس مقتدر بحث کے دوران اپوزیشن بینچوں کی طرف سے قائدِ حزبِ اختلاف کی نگرانی میں مختلف وزارتوں کی کارکردگی پر سخت تنقید کی جائے گی اور متعدد تحریکاتِ تخفیف بھی پیش کی جائیں گی، جس کے بعد وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کی قیادت میں حکومتی اتحاد اور اپوزیشن کے مابین رائے دہی کے ذریعے تمام 135 ڈیمانڈز کی حتمی اور آئینی منظوری دی جائے گی جو ملکی معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

ملک بھر میں آئندہ 12 سے 24 گھنٹے انتہائی اہم، این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے شدید موسمی صورتحال، گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارشوں، اربن فلڈنگ اور گلیشیئرز پگھلنے کے شدید خطرات کا الرٹ جاری کر دیا، صوبائی و ضلعی انتظامیہ ہائی الرٹ، سیاحوں کو شمالی علاقوں کے سفر سے گریز کی مقتدر ہدایت

روزینہ اسماعیل.june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے ملک بھر میں آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران غیر معمولی اور شدید موسمی تبدیلیوں کے پیشِ نظر ہائی وولٹیج الرٹ جاری کرتے ہوئے تمام مقتدر وفاقی، صوبائی اور ضلعی اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر الرٹ رہنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ این ڈی ایم اے کے مقتدر ترجمان کے مطابق ملک کے بیشتر حصوں میں تیز آندھی، گرج چمک، گرد آلود طوفان اور شدید موسمی پیش رفت کے ساتھ موسلا دھار بارشوں کا قوی امکان ہے جس کے باعث بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ (سڑکوں پر پانی جمع ہونا) اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے، لہٰذا تمام ریسکیو اور ایمرجنسی سروسز کو چوبیس گھنٹے ہائی الرٹ پر برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ اسٹرٹیجک ایڈوائزری کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، مری، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان اور بہاولپور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع شدید موسمی لہر کی زد میں آ سکتے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا کے اضلاع پشاور، سوات، چترال، دیر، مردان، کوہاٹ اور بنوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ دوسری جانب بلوچستان کے اضلاع تربت، کیچ اور خضدار سمیت سندھ کے بالائی اضلاع بالخصوص کراچی، سکھر، لاڑکانہ اور دادو میں شدید گرد آلود طوفان، تیز ہواؤں اور بعض مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

اتھارٹی نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی سلسلوں کے لیے ایک الگ اور انتہائی حساس الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور متوقع طوفانی بارشوں کے یکجا ہونے سے گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار تیز ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے مقتدر واقعات، اچانک سیلابی ریلے اور لینڈ سلائیڈنگ کا سنگین خطرہ موجود ہے، جس سے مقامی رابطہ سڑکیں اور شاہراہیں بلاک ہو سکتی ہیں۔ این ڈی ایم اے نے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کے وژن کے مطابق تمام متعلقہ پی ڈی ایم ایز کو ہدایت کی ہے کہ وہ حساس مقامات کی مسلسل مانیٹرنگ کریں جبکہ سیاحوں اور مسافروں کو سختی سے تاکید کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے مکمل گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ یا پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ موبائل ایپ کے ذریعے فوری رابطہ قائم کریں۔

پاکستانی کرنسی نوٹوں پر بانیٔ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کے ساتھ میاں محمد نواز شریف کی تصویر بھی شائع ہونی چاہیے، قائدِ اعظم نے پاکستان بنایا اور نواز شریف نے ملک کو ناقابلِ تسخیر ایٹمی قوت بنا کر بچایا، پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے ارشد ملک کا انوکھا اور مقتدر مطالبہ

محمود احمد june 20,2026

لاہور(نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

پنجاب اسمبلی کے اہم ترین اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی رکنِ اسمبلی (ایم پی اے) ارشد ملک کی جانب سے ملکی کرنسی کے حوالے سے ایک انتہائی انوکھا، منفرد اور مقتدر مطالبہ سامنے آیا ہے جس نے سیاسی و عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران مقتدر اظہارِ خیال کرتے ہوئے لیگی ایم پی اے ارشد ملک نے باقاعدہ مطالبہ پیش کیا کہ پاکستانی نوٹوں پر بانیٔ ملت قائدِ اعظم محمد علی جناح کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کی تصویر بھی لازمی طور پر شائع ہونی چاہیے۔ انہوں نے اپنے اس مطالبے کے حق میں سٹرٹیجک دلیل دیتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ بلا شبہ قائدِ اعظم محمد علی جناح نے اپنی بے پناہ جدوجہد سے یہ پیارا پاکستان بنایا تھا لیکن میاں محمد نواز شریف نے کڑے عالمی دباؤ کے باوجود 28 مئی 1998ء کو چاغی کے مقام پر ایٹمی دھماکے کر کے اس ملک کو دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی قوت بنایا اور ملک کا دفاع ناقابلِ تسخیر کر کے پاکستان کو ہمیشہ کے لیے بچا لیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں ہے جب مسلم لیگ (ن) کے کسی مقتدر رہنما کی جانب سے اپنے قائد کی محبت یا سیاسی وابستگی میں اس نوعیت کا کوئی بڑا یا متنازع بحث کا حامل بیان سامنے آیا ہو۔ اس سے قبل سال 2018ء کے عام انتخابات سے عین قبل جب میاں محمد نواز شریف لندن سے اپنی بیٹی مریم نواز کے ہمراہ وطن واپس لوٹ رہے تھے تو اس وقت مسلم لیگ (ن) کے مقتدر رہنما اور موجودہ وفاقی مشیر رانا ثناء اللہ خان کی جانب سے بھی ایک انتہائی متنازع اور سنسنی خیز بیان دیا گیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ “نواز شریف کا استقبال کرنا حج کرنے سے بھی بڑا کام ہے”۔ رانا ثناء اللہ کے اس مروجہ بیان پر اس وقت ملک بھر کے مذہبی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید ردِعمل اور نکتہ چینی دیکھنے کو ملی تھی اور اب پنجاب اسمبلی کے فلور پر ایم پی اے ارشد ملک کی جانب سے پاکستانی کرنسی نوٹوں پر میاں نواز شریف کی تصویر لگانے کے اس نئے اور انوکھے مطالبے نے سوشل میڈیا اور پریس گیلری میں ایک نیا ہنگامہ برپا کر دیا ہے جہاں مختلف حلقے اس پر اپنی اپنی آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔

پی آئی اے کا ملتان سے ریاض جانے والا مسافر طیارہ فضا میں ہائیڈرالک سسٹم فیل ہونے کے باعث حادثے سے بال بال بچ گیا، پائلٹ کی کمال مہارت اور اے ٹی سی کی مستعدی سے 160 سے زائد مسافروں سے بھرے طیارے کی کراچی ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ، تمام مسافر محفوظ، فنی خرابی دور کرنے کے بعد پرواز سعودی عرب روانہ

محمود احمد june 20,2026

کراچی (ایوی ایشن نیوز(نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

20 جون 2026ء پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا ملتان سے سعودی عرب جانے والا مسافر طیارہ فضا میں اچانک پیدا ہونے والی سنگین فنی خرابی کے بعد ایک ہولناک حادثے سے بال بال بچ گیا، میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض جانے والی پی آئی اے کی مقتدر پرواز پی کے 765 کو دورانِ پرواز فضا میں اچانک ایک بڑے تکنیکی بحران کا سامنا کرنا پڑا، تاہم خوش قسمتی سے کپتان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے باعث کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ فلائٹ آپریشنز ذرائع کے مطابق دورانِ پرواز طیارے کے انتہائی حساس اور اہم ترین ‘ہائیڈرالک سسٹم’ میں اچانک فنی خرابی پیدا ہوگئی جس سے طیارے کے کنٹرول پر اثر پڑنے کا خدشہ تھا، فضا میں خطرے کا احساس ہوتے ہی کپتان نے سیکنڈز ضائع کیے بغیر فوری طور پر کراچی ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ قائم کیا اور ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر ہنگامی لینڈنگ کی اجازت طلب کی۔

ایئر ٹریفک کنٹرول کراچی کی مقتدر مستعدی، ہائی الرٹ اور پائلٹ کی بہترین کارکردگی و اعصاب پر قابو پانے کی بدولت طیارے کو باحفاظت زمین پر اتارنے کی سٹرٹیجک تیاری کی گئی، معلوم ہوا ہے کہ اے ٹی سی کی جانب سے رن وے کلیئر ہونے کا گرین سگنل ملتے ہی کپتان نے کمالِ مہارت اور فلائنگ کنٹرول کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسافر طیارے کو صبح ساڑھے 9 بجے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر بحفاظت لینڈ کرا لیا، ایئرلائن حکام نے آفیشل تصدیق کی ہے کہ طیارے میں 160 سے زائد مقتدر مسافر سوار تھے اور تمام کے تمام بفضلِ خدا بالکل محفوظ اور خیریت سے ہیں، لینڈنگ کے فوراً بعد ایئرپورٹ پر فائر ٹینڈرز اور سیکیورٹی عملے نے طیارے کو گھیرے میں لے کر مسافروں کی دیکھ بھال اور طیارے کی تزویراتی چیکنگ کا عمل شروع کیا۔

ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہے کہ ہنگامی لینڈنگ کے فوراً بعد تمام مسافروں کو طیارے سے انتہائی منظم اور باحفاظت طریقے سے نکال کر ایئرپورٹ کے آرام دہ ٹرانزٹ لاؤنج میں منتقل کیا گیا جہاں پی آئی اے انتظامیہ کی جانب سے ان کی مقتدر مہمان نوازی کی گئی، دوسری جانب پی آئی اے کے سینیئر انجینئرز کی ٹیم نے فوری طور پر طیارے کا چارج سنبھالا اور رن وے کے قریب ہی ہائیڈرالک سسٹم میں موجود فالٹ کو درست کرنے کے لیے ہنگامی کام شروع کر دیا، پی آئی اے کے انجینئرز کی جانب سے طیارے کے انجن اور دیگر پرزوں کا مکمل تکنیکی معائنہ کرنے اور اس کی خرابی کو سو فیصد دور کرنے کے بعد طیارے کو پرواز کے لیے مقتدر فٹنس کلیئرنس دے دی گئی، جس کے بعد تمام مسافروں کو دوبارہ طیارے میں سوار کر کے کراچی ایئرپورٹ سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے لیے بحفاظت روانہ کر دیا گیا جہاں مسافروں نے پی آئی اے کے عملے اور کپتان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

بزرگ پینشنرز کیلئے ’چہرہ شناسی‘ کے ذریعے تصدیق کا نیا مقتدر ڈیجیٹل نظام متعارف، بزرگ شہری اب بینکوں کے چکر کاٹنے کے بجائے گھر بیٹھے تصدیق کر سکیں گے، ٹیکس افسران کے صوابدیدی اختیارات کے خاتمے کیلئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال اور زرعی مشینری پر امپورٹ ڈیوٹی یکسر ختم، وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی قومی اسمبلی میں اہم ترین تفصیلات

منصور احمد june 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 ؎جون 2026ء

وفاقی وزیرِ خزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے بزرگ شہریوں اور پینشنرز کے لیے ایک انقلابی اور مقتدر سہولت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملک میں ’چہرہ شناسی‘ کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق کا نیا اور جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرا دیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کے اہم ترین اجلاس میں مقتدر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اس جدید ٹیکنالوجی کے فعال ہونے کے بعد اب ضعیف العمر پینشنرز کو شدید گرمی یا بیماری میں خوار ہونے اور بینکوں کے طویل چکر کاٹنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ وہ گھر بیٹھے ہی اپنے موبائل فون یا پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے لائف سرٹیفکیٹ کی تصدیق کا عمل باآسانی مکمل کر سکیں گے، حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں خاطر خواہ اضافہ کر کے انہیں معاشی ریلیف فراہم کیا ہے جبکہ معیشت کو دستاویزی بنانے کے ساتھ ساتھ پہلے سے موجود ٹیکس گزاروں پر ٹیکس کا اضافی بوجھ کم کیا جا رہا ہے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے جامع اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جہاں ڈیجیٹلائزیشن اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے مقتدر استعمال سے ٹیکس افسران کے صوابدیدی اختیارات اور ہراسانی کو ختم کرنا حکومت کا بنیادی ہدف بن چکا ہے۔

ملکی معاشی ترقی کے اشاریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے وفاقی وزیرِ خزانہ نے سنسنی خیز اعداد و شمار پیش کیے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران ملکی معاشی اشاریوں میں نمایاں ترین بہتری آئی ہے اور اب ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ مسلسل سرپلس میں جا رہا ہے جبکہ بیرونِ ملک مقیم محبِ وطن پاکستانیوں نے گزشتہ ماہ 4.25 ارب ڈالر کا ریکارڈ زرمبادلہ پاکستان بھیجا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی نوجوان فری لانسرز نے بھی اپنی بے پناہ مہارت کے بل بوتے پر ایک سال میں 1.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر حاصل کر کے ملکی خزانے کو مضبوط کیا ہے۔ محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ اب حکومت کا بنیادی ہدف ملکی صنعت کو فروغ دے کر ایکسپورٹ لیڈ گروتھ حاصل کرنا ہے اور موجودہ حکومت نے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی خصوصی نگرانی میں صرف دو سال کی قلیل مدت میں 14 ارب ڈالر کے تاریخی ٹیکس محصولات حاصل کیے ہیں جو کہ ایک مقتدر قومی ریکارڈ ہے، انہوں نے کسانوں کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں زراعت کے شعبے کو جدید ترین بین الاقوامی خطوط پر استوار کرنے کے لیے جدید زرعی مشینری کی درآمد پر عائد تمام کسٹمز ڈیوٹی کو وفاقی بجٹ میں مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے جبکہ حکومت چین کے ساتھ سی پیک کے تحت زرعی شعبے میں سٹرٹیجک تعاون کو مزید توسیع دے رہی ہے اور اس مقتدر شراکت داری کے تحت اب تک 885 پاکستانی ہونہار طلبہ اور کسان چین کی اعلیٰ جامعات سے زراعت کے شعبے میں جدید ترین فیلڈ تربیت حاصل کر کے وطن واپس لوٹ چکے ہیں جو ملکی پیداوار بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

بجٹ کے بعد وزیرِ اعظم کی تبدیلی کی خبریں مکمل بے بنیاد اور من گھڑت ہیں، ملک دشمن عناصر ایسی افواہیں پھیلا کر پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں، میاں شہباز شریف بہترین انداز میں ملک چلا رہے ہیں، وفاقی مشیر رانا ثناء اللہ کی میڈیا سے مقتدر گفتگو

کاشف عباسی ,june 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 ؎جون 2026ء

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے بجٹ کے بعد وزیرِ اعظم پاکستان کی تبدیلی کے حوالے سے گردش کرنے والی تمام خبروں کو یکسر اور سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے انہیں ملک میں سیاسی و معاشی عدم استحکام پیدا کرنے کی ایک منظم سازش قرار دے دیا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا اور صحافیوں سے مقتدر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ملکی اقتدار یا وزیرِ اعظم کی تبدیلی کا ایسا کوئی بھی معاملہ حکومتی یا اتحادی سطح پر زیرِ غور نہیں ہے اور بعض مخصوص حلقے اور مفاد پرست لوگ ایسی بے بنیاد افواہیں پھیلا کر ملک میں سیاسی بے یقینی پیدا کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں ایسا کوئی معاملہ یا بحث سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ وفاقی مشیر رانا ثناء اللہ نے مقتدر لہجے میں بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اس وقت بہترین انداز میں ملک کو تمام اندرونی و بیرونی بحرانوں سے نکال کر ترقی کی راہ پر آگے لے کر جا رہے ہیں اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کے ساتھ مل کر ان کی کامیاب خارجہ پالیسی کے باعث عالمی سطح پر پاکستان کو جس عزت، وقار اور امن پسند ملک کا اعلیٰ مقام حاصل ہوا ہے، ایسے کامیاب اور تاریخی موقع پر اس نوعیت کی منفی بحث چھیڑنا صرف ملک دشمن عناصر کا ہی شیوہ ہو سکتا ہے۔

رانا ثناء اللہ نے سیاسی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہماری اتحادی حکومت نے ہمیشہ سیاسی ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کے لیے اپوزیشن کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کی مخلصانہ کوشش کی ہے اور ملک کی معاشی و جیو پولیٹیکل بقا کے لیے اب بھی ہمارے دروازے تمام سیاسی جماعتوں کے لیے کھلے ہیں۔ ن لیگی رہنماء نے ماضی کا کڑا موازنہ پیش کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ جب موجودہ حکمران جماعت خود اپوزیشن کے بنچوں پر بیٹھی تھی، تو اس وقت کی حکومت میں ان کے خلاف کسی بھی قومی معاملے پر مذاکرات کرنے کے بجائے صرف جھوٹے مقدمات قائم کیے جا رہے تھے اور انہیں بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا تھا، لیکن ہم اب کسی بھی قسم کے سیاسی بدلے یا کینے کے بجائے ملک کی وسیع تر معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے سب کو ساتھ لے کر چلنے کے پختہ قائل ہیں اور میاں شہباز شریف کی مقتدر قیادت میں یہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔

معاشی اور اقتصادی بحالی کیلئے قومی اتفاقِ رائے اہم، معاشی اعداد و شمار اور اشاریے اقوامِ متحدہ کے مروجہ بین الاقوامی معیار کے مطابق مرتب کئے گئے ہیں، وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا قومی اسمبلی میں مقتدر خطاب

منصور احمد june 20,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 20 ؎جون 2026ء

وفاقی وزیر خزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملکی معاشی اور اقتصادی بحالی کے لیے قومی اتفاقِ رائے نہایت اہمیت کا حامل ہے، معاشی اعدادوشمار اور اشاریے مروجہ طریقہ ہائے کار اور بین الاقوامی معیار کے مطابق مرتب کئے گئے ہیں، بجٹ میں تنخواہ دار طبقہ، زراعت، صنعت اور برآمدات پر مبنی نمو کیلئے جامع اقدامات کئے گئے ہیں، حکومت نے متوازن، ترقی دوست اور معیشت کو استحکام دینے والا بجٹ دیا ہے اور عوام کو ریلیف کی فراہمی کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ قومی اسمبلی کے مقتدر اجلاس میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ اور مالیاتی بل 2026-27ء پر عام بحث کو سمیٹتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ معزز اراکینِ قومی اسمبلی عظیم الدین زاہد اور خواجہ شیراز محمود نے بجٹ دستاویزات میں مبینہ تضادات کے حوالے سے استحقاق کی تحریک پیش کی، میں معزز اراکین کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے یہ معاملہ ایوان کے سامنے رکھا جہاں معزز اراکین کی جانب سے جی ڈی پی، فی کس آمدنی اور ان کے تعین کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ انہوں نے پوری ذمہ داری کے ساتھ ایوان کو یقین دلایا کہ پاکستان بیورو آف شماریات نے نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کی تیاری کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور تمام اعداد و شمار مالی سال 2015-16 کو بیس ایئر بنا کر اقوامِ متحدہ کے سسٹم آف نیشنل اکاؤنٹس کے مطابق مرتب کیے گئے ہیں، یہ اعداد و شمار نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں منظور کیے جاتے ہیں جس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، ماہرینِ معیشت، جامعات اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے شریک ہوتے ہیں۔

وزیرخزانہ نے واضح کیا کہ حقیقی جی ڈی پی معاشی سرگرمیوں میں ہونے والی حقیقی تبدیلی کو قیمتوں کے اثرات سے پاک کرکے ناپتی ہے، اسی لیے 3.7 فیصد شرح نمو کو 2015-16 کی مستقل قیمتوں پر شمار کیا گیا ہے جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ معیار ہے جبکہ دوسری جانب نامینل جی ڈی پی گروتھ موجودہ مارکیٹ قیمتوں پر شمار کی جاتی ہے اور اسے اوسط شرح مبادلہ کے ذریعے امریکی ڈالر میں تبدیل کیا جاتا ہے، اسی بنیاد پر مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی معیشت کا حجم تقریباً 452 ارب امریکی ڈالر رہنے کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے اور اسی طرح فی کس آمدنی کا تعین بھی موجودہ قیمتوں، مجموعی قومی آمدنی اور 2023 کی مردم شماری کے بعد جاری کردہ آبادی کے تخمینوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے لہٰذا نہ تو طریق کار تبدیل ہوا ہے اور نہ ہی اعداد و شمار مرتب کرنے کے اصول بدلے ہیں۔ خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے ایک بڑا انکشاف کیا کہ ہماری مشترکہ سول و عسکری کوششیں رنگ لائی ہیں اور خطے پر منڈلاتے جنگ کے بادل اب چھٹ چکے ہیں جبکہ امن کی فضا دوبارہ قائم ہوئی ہے، پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان موثر سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے مذاکرات کی راہ ہموار کی، دونوں ممالک کو ایک میز پر بٹھایا اور امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا جو پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک قابلِ فخر باب ہے اور اس پر وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، تمام سیاسی جماعتیں، پارلیمان اور پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔

انہوں نے بجٹ پر ہونے والی بحث میں بھرپور اور تعمیری انداز میں حصہ لینے پر تمام اراکینِ قومی اسمبلی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ بالخصوص قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے چیئرمین سید نوید قمر اور دونوں قائمہ کمیٹیوں کے معزز اراکین کے خصوصی طور پر شکر گزار ہیں جنہوں نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران نہایت محنت، خلوص اور ذمہ داری کے ساتھ بجٹ تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعدد مفید سفارشات پیش کیں جن میں سے کئی تجاویز کو فنانس بل 2026 کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ انہوں نے میڈیا کے نمائندوں، معاشی تجزیہ کاروں، ماہرینِ معیشت، کاروباری برادری اور مختلف چیمبرز آف کامرس کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے بجٹ پر مثبت اور تعمیری آرا دیں، اس کے ساتھ ہی وزیرخزانہ نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں قائم اتحادی حکومت میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین، بالخصوص میاں محمد نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری، خالد مقبول صدیق، چوہدری شجاعت حسین، عبدالعلیم خان اور خالد حسین مگسی کا دلی شکریہ ادا کیا جنہوں نے بجٹ کی تیاری کے دوران ان کی رہنمائی اور مشاورت کی جو ہمارے لیے نہایت اہم اور مفید ثابت ہوئی۔

وزیرخزانہ نے ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال بتاتے ہوئے سنسنی خیز اعداد و شمار پیش کیے کہ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں تقریباً 6.5 فیصد کی نمو ریکارڈ کی گئی ہے جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین شرح ہے اور اسی طرح ہمارا بیرونی شعبہ بھی مستحکم ہوا ہے جہاں گزشتہ مالی سال کی طرح رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران بھی کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں رہا جو معیشت کیلئے ایک انتہائی حوصلہ افزا اشارہ ہے، انہوں نے کہا کہ ہماری سمندر پار مقیم پاکستانی برادری نے بھی ایک بار پھر اپنی وطن دوستی کا بھرپور ثبوت دیا ہے اور گزشتہ ماہ انہوں نے 4.25 ارب امریکی ڈالر کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر پاکستان بھیجیں جبکہ مجھے پوری امید ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک ترسیلاتِ زر 41 ارب امریکی ڈالر کے ہدف سے بھی تجاوز کر جائیں گی جو ملکی تاریخ کا ایک نیا ریکارڈ ہوگا، اس کے ساتھ ہی ہمارا برآمدی شعبہ مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہے بالخصوص ویلیو ایڈڈ برآمدات جن میں گارمنٹس، ہوم ٹیکسٹائل اور آئی ٹی کا شعبہ شامل ہیں نمایاں ترقی کر رہے ہیں جہاں رواں مالی سال کے دوران آئی ٹی برآمدات میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ مجموعی آئی ٹی برآمدات 4.5 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے جو ایک نیا قومی ریکارڈ ہوگا اور اسی طرح ہمارے نوجوان فری لانسرز نے بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 1.6 ارب ڈالر کا ریکارڈ زرمبادلہ ملک میں لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ حکومت اور اس بجٹ کا بنیادی مقصد ایک ایسی برآمدات پر مبنی، پائیدار اور جامع معاشی ترقی کا حصول ہے جس سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو، سرمایہ کاری کو فروغ ملے اور ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں، ہم اکثر یہ شکایت سنتے رہے ہیں کہ پاکستان میں دستاویزی معیشت اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے افراد ہی زیادہ بوجھ برداشت کرتے ہیں لیکن اس حکومت نے اس سوچ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہم نے بوجھ ڈالنے کی بجائے ٹیکس کی وسعت اور گہرائی کی حکمت عملی اختیار کی ہے جس کے تحت موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے گا اور اس کی بنیاد کو مضبوط بنایا جائے گا، انہوں نے کہا کہ حکومت گزشتہ دو برس سے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات پر مسلسل کام کر رہی ہے اور انہی اصلاحات کے نتیجے میں ٹیکس پالیسی کو ٹیکس انتظامیہ سے الگ کیا گیا تاکہ پالیسی سازی اور اس کے نفاذ میں شفافیت اور موثریت پیدا ہو، اسی تسلسل میں حکومت ایک نیا ٹیکس آپریٹنگ ماڈل متعارف کرا رہی ہے جس کے تحت ٹیکس دہندگان اور ٹیکس افسران کے درمیان براہِ راست رابطے کو کم سے کم کر دیا جائے گا اور آڈٹ، تشخیص اور دیگر کارروائیاں زیادہ تر خودکار اور فیس لیس نظام کے ذریعے انجام دی جائیں گی، ان اصلاحات کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل رجسٹریشن اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ، ہراسانی کے امکانات میں کمی، شفافیت کا فروغ اور ٹیکس قوانین پر رضاکارانہ عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے، انہوں نے ریوینیو اہداف کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ 1988ء سے 2011ء تک کے 23 برس کے عرصے میں تقریباً 14 ارب امریکی ڈالر کے اضافی ٹیکس محصولات حاصل کیے گئے اور اسی طرح 2011ء سے 2024ء تک کے برسوں میں بھی تقریباً 14 ارب امریکی ڈالر کے اضافی محصولات جمع ہوئے لیکن اس کے برعکس موجودہ حکومت نے صرف گزشتہ دو برسوں کے دوران تقریباً 14 ارب امریکی ڈالر کے اضافی ٹیکس محصولات حاصل کیے ہیں جو ایک غیر معمولی کامیابی ہے اور یہ کامیابی وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ذاتی توجہ، واضح وژن اور ایف بی آر کی تنظیمِ نو واصلاحات کے لیے ان کی مسلسل رہنمائی کا نتیجہ ہے۔

وزیرخزانہ نے زرعی شعبہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور حکومت نے زراعت اور کسانوں کے لیے خاطر خواہ اقدامات اور ترقیاتی پیکجز کا اعلان کیا ہے جہاں زرعی پیداوار میں اضافہ اور چھوٹے کاشتکاروں کو سہولت دینے کے لیے ایک مربوط زرعی سکیم شروع کی گئی ہے جس کے تحت 300 ارب روپے کے بلاسود اور آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں جس سے تقریباً ساڑھے سات لاکھ چھوٹے کسان مستفید ہوں گے، اسی طرح زرعی شعبے میں مالی معاونت کے لیے 109 ارب روپے سے زائد کے قرضوں کی فراہمی کا منصوبہ ہے جبکہ کھاد خصوصاً یوریا پر تقریباً 10 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے اور وفاق کے تحت زراعت و لائیو اسٹاک کے منصوبوں کے لیے 4.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور مشینری تک رسائی دینے کے لیے سبسڈی اور رسک شیئرنگ کے تحت تقریباً 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ فصلوں اور لائیو اسٹاک کی انشورنس اسکیم کے لیے بھی اہم رقم رکھی گئی ہے، انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور چین کے درمیان زرعی تعاون کو مزید وسعت دی جا رہی ہے اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے اقدام کے تحت ایک ہزار پاکستانی طلبہ اور کسانوں کو چینی زرعی جامعات اور تحقیقی اداروں میں جدید مہارتوں کی تربیت دی جا رہی ہے جہاں اب تک اس پروگرام سے 800 سے زائد افراد مستفید ہو چکے ہیں جبکہ نجی شعبے کے اشتراک سے کولڈ اسٹوریج کے منصوبے بھی شروع کیے جا رہے ہیں جن پر تقریباً 7.1 ارب روپے لاگت آئے گی، اس کے ساتھ ساتھ تعمیرات اور ہاؤسنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے بجٹ میں متوازن اقدامات کیے گئے ہیں اور اسی سلسلے میں وزیراعظم اپنا گھر پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ وہ پاکستان کے عوام کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے معاشی استحکام کے سفر میں حکومت کا ساتھ دیا اور حکومت نے اپنے وعدے کے مطابق جب وسائل دستیاب ہوئے تو مختلف طبقات کو ریلیف فراہم کیا ہے جس کے تحت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، پنشنز اور کم از کم اجرت میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ پنشنرز کی سہولت کے لیے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کے نظام کو جدید بنایا گیا ہے تاکہ انہیں دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں اور اب فیس ریکگنیشن اور پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے تصدیق ممکن ہے، اسی طرح خواتین کی صحت سے متعلق ضروری اشیا اور بعض ادویات پر ٹیکس میں کمی اور بعض پر مکمل خاتمہ کیا گیا ہے، تعلیمی شعبہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے اعلی تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ٹینیور ٹریک سسٹم کے تحت یونیورسٹی اساتذہ بشمول پروفیسرز، ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کی تنخواہوں کو ریگولر ریٹس کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے اپنی ذاتی دلچسپی سے کفایت شعاری کی مثال قائم کرتے ہوئے تقریباً پانچ ارب روپے کی خطیر رقم بجٹ میں بچت ممکن بنائی، خطاب کے آخر میں انہوں نے سیکرٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر، ڈائریکٹر جنرل ٹیکس پالیسی آفس اور ان کے رفقا کا شکریہ ادا کیا اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے گزارش کی کہ وہ معیشت کی مزید ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں تاکہ ہم پاکستان کو ایک روشن اور تابناک مستقبل کی طرف لے جا سکیں۔

دہشت گردی پاکستان کے امن اور استحکام کے خلاف گھناؤنی سازش ہے، بزدلانہ کارروائیاں قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی بنوں دھماکے کی شدید ترین مذمت، قیمتی جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات اور واقعے کی فوری تحقیقات کی ہدایت

کاشف عباسی ,june 20,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ہونے والے دہشت گردی کے بزدلانہ دھماکے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانی نقصان پر گہرے دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے، سرکار خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری مقتدر بیان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دھماکے کے نتیجے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے درجات کی بلندی، سوگوار لواحقین کے لیے صبرِ جمیل اور واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد و مکمل صحت یابی کے لیے خصوصی دعا کی ہے۔

وزیرِ اعظم نے بنوں واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام اور انتظامیہ کو ہنگامی احکامات جاری کیے ہیں کہ دھماکے کے تمام زخمیوں کو علاج معالجے کے لیے ہر ممکنہ اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں، جبکہ انہوں نے مقتدر سیکیورٹی اداروں کو واقعے کی فوری اور جامع تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کی بھی سخت ہدایت دی ہے، اپنے خصوصی تعزیتی بیان میں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کڑا رخ اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ دہشت گردی انسانیت، پاکستان کے امن، معاشی استحکام اور سی پیک سمیت دیگر قومی منصوبوں کے خلاف ایک انتہائی گھناؤنی بین الاقوامی سازش ہے، لیکن دشمن یاد رکھے کہ ایسی بزدلانہ کارروائیاں غیور پاکستانی قوم اور عسکری قیادت کے فولادی عزم کو ہرگز متزلزل نہیں کر سکتیں۔

وزیرِ اعظم نے ملکی سیکیورٹی پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بنوں دھماکے کے تمام دہشت گردوں، ماسٹر مائنڈز اور ان کے اندرونی و بیرونی سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی اور عبرتناک سزا دی جائے گی، انہوں نے کہا کہ ریاستِ پاکستان فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے مکمل اور جڑ سے خاتمے کے لیے سو فیصد پرعزم ہے، وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ملک و قوم کے تحفظ کی خاطر جانیں نچھاور کرنے والے شہداء کی عظیم قربانیاں پوری قوم کی مقتدر امانت ہیں، ان کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور دہشت گردی کے اس ناسور کے مکمل خاتمے تک ہماری بقا کی جدوجہد بلا امتیاز جاری رہے گی۔