وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے ایک اعلیٰ سطحی اور اہم ملاقات کی، جس میں وزارتِ قومی صحت کے زیرِ انتظام چلنے والے مختلف ترقیاتی امور، عوامی بہتری کے پالیسی اقدامات اور درپیش چیلنجز پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی گئی۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے پنجشنبہ (جمعرات) کو جاری کردہ باضابطہ اور انتظامی اعلامیے کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران وفاقی وزیر برائے قومی صحت نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو وزارت کے تحت ملک بھر میں جاری صحت کے فلاحی و بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور عام شہریوں کو موثر طبی امداد کی فراہمی سے متعلق آگاہ کیا۔ ملاقات کے ماحول میں جہاں شعبہ صحت کی کارکردگی مرکزی نقطہ رہی، وہیں ملک کی مجموعی اور موجودہ سیاسی صورتِ حال اور حکومتی پالیسیوں پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی۔
ملاقات کے دوران وفاقی وزیر سید مصطفیٰ کمال نے وزیراعظم کو وزارتِ قومی صحت کی جانب سے ملک بھر میں مختلف وبائی و شدید بیماریوں کی روک تھام اور ان کے تدارک کے لیے اٹھائے گئے خصوصی اور ہنگامی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ پیش کی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ وفاقی سطح پر صحت کے نظام میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت، ہسپتالوں میں ادویات کی بلا تعطل فراہمی اور بنیادی مراکزی صحت کو بہتر بنانے کے لیے حکمتِ عملی پر کام جاری ہے۔ وزیراعظم نے ہیلتھ سیکٹر کی کارکردگی میں بہتری لانے اور بیماریوں کے کنٹرول کے لیے جاری اقدامات کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ عوام الناس کو معیاری، ارزاں اور جدید ترین طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کسر نہ چھوڑی جائے اور تمام جاری منصوبوں کو وقتِ مقررہ پر مکمل کیا جائے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک کے فوجداری نظامِ عدل، تعزیراتِ پاکستان کی تشریح اور قتلِ عمد کے مقدمات کی درجہ بندی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم، دور رس اور جامع قانونی اصول قائم کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے سنگِ میل فیصلے میں صراحت کے ساتھ قرار دیا ہے کہ اگر کسی بھی قتل کا ناخوشگوار واقعہ فریقین کے درمیان کسی دیرینہ و طویل دشمنی، سابقہ منصوبہ بندی یا ثابت شدہ قانونی و حتمی محرک کے بغیر محض موقع پر اچانک پیدا ہونے والی شدید اشتعال انگیزی یا کشیدگی کی کیفیت میں پیش آئے، تو ایسے مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی سخت ترین دفعہ 302(بی) کے تحت سزا دینے کے بجائے نسبتاً معتدل اور حالات کی مطابقت رکھنے والی دفعہ 302(سی) کا قانونی اطلاق کیا جانا بالکل جائز اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس اہم طے شدہ قانونی اصول کا اطلاق کرتے ہوئے ایک نوعمر ملزم محمد ناصر حسین کی جانب سے دائر کردہ جیل پٹیشن کو باقاعدہ اپیل میں تبدیل کیا اور اسے جزوی طور پر منظور کر لیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے ملزم کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کو باضابطہ طور پر منسوخ اور ختم کرتے ہوئے اسے 14 سال قید با مشقت کی سزا میں تبدیل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی جانب سے تحریر کردہ اس اہم اور تفصیلی فیصلے میں کیس کے تمام شواہد، قانونی پہلوؤں اور استغاثہ کے دلائل کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔
مقدمے کے باقاعدہ ریکارڈ اور استغاثہ کے مطابق یہ ناخوشگوار واقعہ سال 2018ء میں خانیوال کی تحصیل میان چنوں کی حدود میں پیش آیا تھا، جہاں ایک شدید گھریلو تنازع اور تکرار کے دوران اس وقت کے نوعمر و نابالغ ملزم نے چاقو کے دو پے در پے وار کر کے مقتول ظہور احمد کو شدید زخمی کر دیا تھا جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا تھا۔ واقعے کے بعد مقامی ٹرائل کورٹ نے تمام تر سماعت کے بعد ملزم محمد ناصر حسین کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302(بی) کے تحت قصوروار ٹھہراتے ہوئے عمر قید اور دو لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں اپیل دائر کیے جانے پر لاہور ہائیکورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو بالکل درست قرار دیتے ہوئے عمر قید کی اس سزا کو برقرار رکھا تھا، جس کے خلاف ملزم نے جیل کے ذریعے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں تفصیلی تجزیہ پیش کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگرچہ عینی شاہدین کی گواہی اور طبی معائنے کی رپورٹس سے ملزم کی جانب سے چاقو کے مہلک وار کا ارتکاب ثابت ہوتا ہے، تاہم کیس کے مجموعی عدالتی ریکارڈ کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں اور واضح ہے کہ فریقین کے مابین کوئی پرانی یا دیرینہ دشمنی سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ استغاثہ اپنے پیش کردہ مبینہ محرک کو بھی معقول اور ٹھوس شواہد کے ذریعے ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے اور یہ واضح ہوتا ہے کہ پورا واقعہ اچانک پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے نتیجے میں رونما ہوا۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلہ کن مشاہدے میں لکھا کہ ملزم، جو کہ جرم کے ارتکاب کے وقت قانونی طور پر نابالغ اور کم عمر تھا، اپنی والدہ کو مقتول کے ساتھ تلخ کلامی اور جھگڑتے ہوئے دیکھ کر شدید جذباتی و نفسیاتی صدمے اور اچانک اشتعال کا شکار ہو گیا۔ ملزم نے اس لمحے اپنا آپے سے باہر ہو کر ذہنی توازن کھو دیا اور کسی سابقہ سوچ یا منصوبہ بندی کے بغیر فوراً چاقو سے حملہ کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ محض ایک اچانک حادثاتی کشیدگی کا نتیجہ ہے، لہٰذا یہ ‘قتلِ عمد’ کی وہ سخت ترین قانونی صورت نہیں بنتی جس پر دفعہ 302(بی) کا اطلاق کیا جا سکے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ یہ مقدمہ قانوناً دفعہ 302(سی) کی تمام تر چاروں حدود و قیود میں پورا اترتا ہے، اسی بنا پر ملزم کی عمر قید کی سزا ختم کر کے 14 سال قید بامشقت تجویز کی جاتی ہے، جبکہ دو لاکھ روپے ہرجانہ، عدم ادائیگی پر اضافی قید اور ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 382-بی (جس کے تحت جیل میں گزاری گئی سابقہ مدت سزا میں شمار ہوتی ہے) کا فائد بحال رکھا گیا ہے۔
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے بھر میں مون سون کے جاری نئے سلسلے سے متعلق تازہ ترین اطلاعات و احصائی اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ پنجاب کے بیشتر اضلاع میں تیز اور متعدل مون سون بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق صوبے بھر میں سب سے زیادہ بارش ضلع خوشاب کے علاقے نورپور تھل میں 52 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔ دوسری جانب صوبائی دارالحکومت لاہور کے مختلف علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ مائل بہ کرم بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا، جس کے تحت تاج پورہ میں 28 ملی میٹر، جوہر ٹاؤن میں 24 ملی میٹر، پانی والا تالاب کے علاقے میں 20 ملی میٹر، لکشمی چوک میں 16 ملی میٹر جبکہ مناواں میں 12 ملی میٹر تک بارش باضابطہ طور پر ریکارڈ کی گئی، جس سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔
صوبے کے دیگر اضلاع اور شہروں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو سیالکوٹ ایئرپورٹ کے علاقے میں 26 ملی میٹر، گوجرانوالہ میں 21 ملی میٹر، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 15 ملی میٹر، ملک کے معروف پہاڑی تفریحی مقام مری میں 7 ملی میٹر، جڑواں شہر راولپنڈی میں 5 ملی میٹر، جبکہ صنعتی شہر فیصل آباد اور حافظ آباد میں 4, 4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ گجرات، جھنگ، ساہیوال، بھکر، شیخوپورہ اور جہلم کے اضلاع میں بھی ہلکی اور ٹریس (Trace) بارش کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جدید سائنسی اور موسمیاتی ماڈلز کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی پنجاب کے بیشتر اضلاع میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ مزید مون سون بارشوں کا قومی امکان موجود ہے، اور بارشوں کا یہ چوتھا طاقتور سلسلہ 5 اگست 2026ء تک وقفے وقفے کے ساتھ تسلسل سے جاری رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
بارشوں کے متوقع خطرات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب محمد سیف انور جپہ نے اپنے ایک خصوصی بیان میں آگاہ کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی سخت اور واضح ہدایات کے پیشِ نظر تمام ڈویژنل کمشنرز، تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ریسکیو 1122 اور متعلقہ بلدیاتی اداروں کو چوبیس گھنٹے ہائی الرٹ رہنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ندی نالوں میں طغیانی اور شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام الناس سے پرزور اپیل کی ہے کہ شہری کچے، پرانے اور بوسیدہ مکانات و چھتوں کے نیچے ہرگز قیام نہ کریں۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ آسمانی بجلی، تیز گرج چمک اور طوفان کے دوران محفوظ مقامات پر رہیں اور بجلی کے کھمبوں و کھلے پانی سے دور رہیں۔ کسی بھی غیر متوقع یا ہنگامی صورتِ حال، ریسکیو یا امداد کے لیے شہری پی ڈی ایم اے کی کنٹرول روم ہیلپ لائن 1129 پر فوراً رابطہ کر سکتے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان سے گوجرانوالہ سمال چیمبر آف کامرس کے ایک اعلیٰ سطحی نمائندہ وفد نے اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی و تجارتی اداروں قومی برآمدات کے مسلسل فروغ، مقامی صنعت کی عالمی مسابقت، سستی فنانسنگ تک رسائی اور صنعتی شعبے کو درپیش ریگولیٹری چیلنجز پر انتہائی باریک بینی کے ساتھ تفصیلی تبادلہِ خیال کیا گیا۔ ترجمان وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ رسمی پریس ریلیز کے مطابق، وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایم ایز پاکستان کے مینوفیکچرنگ اور صنعتی شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ ادارے ملک میں نہ صرف لاکھوں افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ صنعتی ترقی کی رفتار بڑھانے اور بیرونی ملک برآمدات میں خاطر خواہ اضافے کے لیے بھی ایک مرکزی عنصر ثابت ہو رہے ہیں۔ وزیرِ تجارت نے اس بات پر زور دیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو ہر ممکن سطح پر مضبوط بنانا، ان کے مسائل حل کرنا اور ان کی سرپرستی کرنا موجودہ حکومت کی بنیادی معاشی ترجیحات میں شامل ہے۔
ملاقات کے دوران گوجرانوالہ سمال چیمبر آف کامرس کے وفد نے وفاقی وزیر کے سامنے افریقی براعظم کی ابھرتی ہوئی منڈیوں میں پاکستانی تاجروں کے لیے بزنس ٹو بزنس میٹنگز، روڈ شوز اور تجارتی وفود کے بھیجنے اور ان کے انعقاد کے لیے حکومتی تعاون کی باقاعدہ درخواست پیش کی تاکہ پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں کو بین الاقوامی سطح پر مضبوط تجارتی روابط قائم کرنے میں مدد مل سکے۔ اس پر وفاقی وزیرِ تجارت نے مثبت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افریقہ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور وہاں مسابقتی قیمت والی مصنوعات کی مسلسل طلب پاکستان کے مختلف شعبوں بالخصوص انجینئرنگ، میٹل انڈسٹری، گھریلو الیکٹرانک آلات اور لائٹ مینوفیکچرنگ کے لیے سنہری اور اہم تجارتی مواقع فراہم کرتی ہے۔ اس اجلاس کے دوران تاجروں کو درپیش کاروبار کی بلند لاگت توانائی کی بھاری قیمتوں، ٹیکسز کے ڈھانچے، سستی مالیات اور ورکنگ کیپیٹل تک دشوار رسائی اور دہائیوں پرانی صنعتی مشینری کو جدید ٹیکنالوجی سے بدلنے کے چیلنجز پر بھی انتہائی تعمیری اور مفید بات چیت ہوئی۔
جام کمال خان نے گوجرانوالہ سے آئے ہوئے صنعتی وفد کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں صنعتی مسابقت کو عالمی معیارات کے مطابق بنانے، ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن کو فروغ دینے اور فنانسنگ تک بہترین و آسان رسائی کے ذریعے صنعتوں کی جدید کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے جامع اصلاحات پر سرگرمی سے کام کر رہی ہے۔ ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرِ تجارت نے بتایا کہ حکومت ملکی برآمد کنندگان کی سہولت، تجارتی خطرات کو کم کرنے اور برآمدی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے ایکسپورٹ فنانسنگ اور کریڈٹ گارنٹی کی سہولیات میں نمایاں تیزی لا رہی ہے۔ انہوں نے گوجرانوالہ کے تجارتی اور صنعتی اداروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی سپورٹ یافتہ فنانسنگ حاصل کرنے کے لیے تجارتی بینکوں سے فوری طور پر رجوع کریں اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ وزارتِ تجارت ان سہولیات اور فنانسنگ کے عمل میں برآمد کنندگان کو پیش آنے والے تمام حقیقی مسائل و رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کرے گی۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی (پی ایف اے) سرگودھا کی ٹیموں نے عوام الناس کو مضرِ صحت، بیماریوں سے آلودہ اور غیر معیاری خوراک و گوشت کی فراہمی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے تحت ایک بڑی اور موثر کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی سلاٹر ہاؤس کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ فوڈ اتھارٹی کی خصوصی تفتیشی ٹیم نے خفیہ اطلاع ملنے پر انتہائی بروقت اور تندہی سے کارروائی کرتے ہوئے پنج پیر نہانگ، ساہیوال کے علاقے میں خفیہ طور پر قائم کیے گئے اس غیر قانونی سلاٹر ہاؤس پر چھاپہ مارا جہاں بغیر کسی قانونی اجازت، بغیر کسی طبی معائنے اور حفظانِ صحت کے بنیادی اصولوں کو یکسر نظر انداز کر کے جانوروں کی ذبح کاری کی جا رہی تھی۔ اس چھاپے کے دوران فوڈ اتھارٹی نے موقع پر موجود تقریباً 800 کلو گرام غیر معیاری اور ناقص گوشت کو اپنی تحویل میں لے کر فوری طور پر باقاعدہ ڈمپنگ سائٹ پر لے جا کر تلف کر دیا تاکہ اسے شہریوں تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔
کارروائی کے دوران پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ساتھ موجود ماہر ویٹرنری ڈاکٹر نے موقع پر ہی تمام برآمد شدہ گوشت کی سائنسی اور طبی جانچ کی، جس کے بعد انہوں نے اس گوشت کو انسانی استعمال کے لیے انتہائی مضرِ صحت، غیر معائنہ شدہ اور انسانی زندگی کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر پنجاب فوڈ اتھارٹی سرگودھا نے کہا کہ ضلع سرگودھا میں عوام کی صحت سے کھیلنے والے عناصر، غیر قانونی سلاٹرنگ میں ملوث افراد اور ملاوٹ مافیا کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا سلسلہ بلاامتیاز جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص کو شہریوں کی زندگیوں اور صحت کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ایسے تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر پی ایف اے نے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ اپنے ارد گرد معیاری خوراک اور گوشت کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ کا ساتھ دیں اور کسی بھی قسم کی شکایت، غیر قانونی سلاٹرنگ یا ملاوٹ کی اطلاع فوری طور پر پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹول فری ہیلپ لائن 1223 پر درج کروائیں۔
خيبر پختونخوا میں امن و امان کی مجموعی صورتِ حال کو بہتر بنانے، علمائے کرام اور تعلیمی اداروں کے ذریعے معاشرتی ہم آہنگی اور تعلیمی ترقی کو فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات اور روابط کا سلسلہ تیز تر ہو گیا ہے۔ اسی سلسلے میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے معروف ممتاز عالمِ دین، الغزالی یونیورسٹی کراچی کے چانسلر اور جامعۃ الرشید کے مہتمم مفتی عبدالرحیم نے گورنر ہاؤس پشاور میں ایک اعلیٰ سطحی اور اہم ملاقات کی ہے۔ گورنر ہاؤس پشاور کے باضابطہ ترجمان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس اہم اور بابرکت ملاقات کے موقع پر ممبر بورڈ آف گورنرز الغزالی یونیورسٹی انجینئر مفتی عثمان یوسف بھی مفتی عبدالرحیم کے ہمراہ موجود تھے۔ ملاقات کے دوران خیبر پختونخوا میں امن و امان کے پائیدار قیام، معاشرے میں رواداری کو فروغ دینے اور نوجوانوں کو گمراہی سے بچا کر مثبت تعلیمی و فکری سرگرمیوں میں مصروف کرنے سے متعلق عملی اور ٹھوس اقدامات پر مفصل تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس بات پر شدید زور دیا کہ خطے کی موجودہ جغرافیائی اور سیکیورٹی صورتِ حال کے تناظر میں خیبر پختونخوا کے اندر امن، بھائی چارے اور معاشی و سماجی استحکام کا قیام وقت کی سب سے بڑی اور عاجلانہ ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بالخصوص صوبے میں قیامِ امن کی جدوجہد میں دینی مدارس اور جید علمائے کرام کا کردار انتہائی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ علمائے کرام اپنے جمعہ کے خطبات، دینی اجتماعات اور تعلیمی محافل کے ذریعے عوام میں اتحاد، یکجہتی، ملکی سلامتی اور قانون کی پاسداری کا شعور اجاگر کر سکتے ہیں۔ گورنر نے مفتی عبدالرحیم اور جامعۃ الرشید کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید عصری علوم کی ہم آہنگی وقت کا اہم تقاضا ہے تاکہ دینی و مذہبی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ ملک و قوم کی ترقی اور معاشی دوڑ میں مؤثر اور مثبت کردار ادا کر سکیں۔
اسی طرح الغزالی یونیورسٹی کراچی کے چانسلر اور جامعۃ الرشید کے مہتمم مفتی عبدالرحیم نے گورنر فیصل کریم کنڈی کو صوبے میں تعلیم کے فروغ اور بالخصوص بین المذاہب و بین المسلمین ہم آہنگی کی فضا قائم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں اور مختلف عملی تجویزات سے آراستہ کیا۔ مفتی عبدالرحیم نے کہا کہ پختونخوا کی سرزمیں تاریخی اعتبار سے امن و محبت کا گہوارہ رہی ہے اور تمام مکاتبِ فکر کو مل کر اس خطے کو دہشت گردی، شدت پسندی اور بدامنی کے سایوں سے پاک کرنے کے لیے اپنا قومی و دینی فریضہ نبھانا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیمی اداروں کا بنیادی مقصد ایسا باصلاحیت اور متوازن نوجوان طبقہ تیار کرنا ہے جو معاشرے کو جوڑنے اور ملکی سلامتی میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہے۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں قائدین نے صوبے کی تعمیر و ترقی، اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور پائیدار امن کے حصول کے لیے آئندہ بھی باہمی روابط اور مثبت مشاورت کے اس سلسلے کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک انتہائی اہم، تاریخی اور آئینی اصولوں پر مبنی فیصلے میں واضح اور حتمی طور پر قرار دیا ہے کہ ملک کی کوئی بھی عدالت یا کوئی بھی قانونی ٹریبونل اپنے عطا کردہ قانونی و آئینی دائرۂ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے ازخود (سوموٹو) کارروائی کا آغاز نہیں کر سکتا اور نہ ہی زیرِ سماعت درخواست میں شامل نہ ہونے والے زائد معاملات پر اپنے فیصلے جاری کرنے کا مجاز ہے۔ اعلیٰ عدلیہ نے واضح کیا کہ آئین اور قانون کے دائرے سے باہر نکل کر فیصلے صادر کرنا قانون کی حکمرانی کو متاثر کرتا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے فاضل جج جسٹس محمد علی مظہر اور فاضل خاتون جج جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے خیبر پختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز (ایم ٹی آئی) اپیلیٹ ٹریبونل کے ایک متنازع فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تمام اپیلیں باقاعدہ منظور کرتے ہوئے یہ اہم اور آئینی فیصلہ صادر کیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے جامع فیصلے میں صراحت کے ساتھ قرار دیا کہ ایم ٹی آئی اپیلیٹ ٹریبونل نے اپنے تفویض کردہ قانونی اختیارات اور حدود سے واضح تجاوز کیا ہے، کیونکہ قانون کے مطابق اس کے پاس ازخود (سوموٹو) اختیارات استعمال کرنے کا کوئی قانونی و انتظامی اختیار سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔
سپریم کورٹ نے اپنے اہم فیصلے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایم ٹی آئی اپیلیٹ ٹریبونل نے دو ڈاکٹروں کی جانب سے دائر کی گئی اپیلیں قانونی بنیادوں پر مسترد کر دینے کے باوجود ایک عجیب طریقہ اپنایا۔ ٹریبونل نے درخواستیں خارج کرنے کے ساتھ ہی 2015ء سے لے کر اب تک ہونے والی تمام تر ترقیوں (پروموشنز) کی تفصیلی جانچ پڑتال کرنے، متعدد دیرینہ ملازمین و افسران کو اچانک تنزلی (ڈیمووٹ) کرنے اور حکومت کی جانب سے ترمیم شدہ پروموشن پالیسی کو مکمل طور پر کالعدم قرار دینے جیسے انتہائی سنگین احکامات جاری کر دیے تھے۔ سپریم کورٹ نے اس پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ تمام تر معاملات اور پالیسی سے متعلقہ امور اصلاً اپیل کنندگان کی بنیادی درخواستوں کا حصہ ہی نہیں تھے اور نہ ہی متاثر ہونے والے درجنوں ملازمین کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ متاثرہ فریق کو سنے بغیر ان کے خلاف یکطرفہ فیصلہ سنانا آئین کے تحت منصفانہ ٹرائل، قدرتی انصاف اور انسان کے بنیادی حقوق کے شدید خلاف ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں آئینی شق کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 175(2) کے تحت کوئی بھی عدالت یا قانونی ٹریبونل صرف اور صرف وہی محدود اختیارات استعمال کرنے کی پابند ہے جو اسے آئین یا متعلقہ قانون و ایکٹ کے تحت فراہم کیے گئے ہوں۔ عدالت نے تشریح کی کہ پالیسی سازی، انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینا اور اداروں کے اندرونی قواعد و ضوابط بنانا صرف اور صرف متعلقہ انتظامی اداروں اور حکومتی محکموں کا صوابدیدی اختیار ہے، جس میں ٹریبونلز کا بلا جواز مداخلا درست نہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپیلیٹ ٹریبونل کا 22 مئی 2025ء کو دیا گیا فیصلہ مکمل طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس واپس متعلقہ حکام کو بھیج دیا اور ہدایت کی کہ ڈاکٹر یاسر رحمان خٹک اور ڈاکٹر نسرین کشور اپنی ترقی کے لیے نئے سرے سے باقاعدہ درخواست دیں، جن پر متعلقہ ادارہ تمام قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بلا تاخیر قانون کے مطابق شفاف فیصلہ صادر کرے۔
لاہور ہائیکورٹ نے بانی تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی بہن نورین نیازی کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے پیکا (پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز) ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں این سی سی آئی اے اور پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے سے روکتے ہوئے ان کی ایک ہفتے کے لیے باضابطہ حفاظتی ضمانت منظور کر لی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے فاضل جج جسٹس سردار اکبر ڈوگر نے نورین نیازی کی جانب سے دائر کردہ حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالتِ عالیہ نے نورین نیازی کی استدعا کو قانونی اور آئینی حق مانتے ہوئے ان کی ضمانت قبول کی اور انہیں واضح اور سخت ہدایت جاری کی کہ وہ اس ایک ہفتے کے اندر متعلقہ متعلقہ اور مجاز عدالت سے باقاعدہ رجوع کر کے قانونی طریقہ کار مکمل کریں۔
سماعت کے دوران درخواست گزار نورین نیازی کے وکلا نے موقف اختیار کیا تھا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے درخواست گزار کے خلاف پیکا ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے اور ان کی گرفتاری کا قوی خدشہ موجود ہے۔ وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ متعلقہ قانون سازی کی روشنی میں اور متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کے لیے موقع فراہم کرتے ہوئے عبوری اور حفاظتی ضمانت دیں تاکہ وہ قانون کے مطابق اپنے دفاع کے لیے رجوع کر سکیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے دلائل مکمل ہونے پر نورین نیازی کی درخواست کو منظور کر لیا اور انہیں گرفتاری سے تحفظ دیتے ہوئے ایک ہفتے کے لیے تحفظ فراہم کر دیا۔ عدالتی فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کے وکلا اور خاندان نے اس اقدام کو ریلیف اور قانون کی پاسداری کا اہم قدم قرار دیا ہے۔
مظفرآباد/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر اور استحکامِ پاکستان پارٹی آزاد جموں و کشمیر کے مرکزی صدر سردار تنویر الیاس خان نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی پی پی خطے کے آئندہ الیکشن اور سیاسی منظرنامے میں ریاست کی تیسری سب سے بڑی اور مضبوط قوت بن کر ابھرے گی اور اقتدار کے ایوانوں میں شامل ہو کر عوام کے گوناگوں مسائل کو حل کرے گی۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ان کی جماعت اس وقت وفاق اور گلگت بلتستان کی حکومتوں میں بطور سیاسی اتحادی باوقار طریقے سے شامل ہے اور اب آزاد کشمیر کے اقتدار میں بھی عملی طور پر شریک ہونے جا رہی ہے۔ یہاں جاری ہونے والے ایک اہم پریس ریلیز اور باضابطہ سیاسی اعلامیے کے مطابق سردار تنویر الیاس خان نے آزاد کشمیر کے حلقہ ایل اے-25 کے آزاد امیدوارِ اسمبلی وقار انجم ایڈووکیٹ کی جانب سے یونین کونسل لوئر گریس کے خوبصورت گاؤں جندر سیری میں منعقدہ ایک بہت بڑے عوامی اور شمولیتی جلسے میں خصوصی شرکت کی، جہاں آئی پی پی کے سینئر رہنما کمانڈر شفیق الرحمٰن نے انہیں روایتی کشمیری چغہ اور ٹوپی کا تحفہ پیش کیا۔
عوامی تقریب کے دوران آزاد امیدوار وقار انجم ایڈووکیٹ نے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان کو نیلم ویلی اور بالخصوص لوئر گریس کے عوام کو درپیش بنیادی سہولیات، سڑکوں، پانی اور صحت کے مسائل سے تفصیل کے ساتھ آراستہ کیا اور اپنی، اپنے خاندان، ہزاروں کارکنان اور حامیوں کی جانب سے سابق وزیراعظم کی قیادت اور ویژن پر کامل اور غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن سے باضابطہ طور پر دستبردار ہونے اور استحکامِ پاکستان پارٹی میں شمولیت کا حتمی اعلان کر دیا۔ سردار تنویر الیاس خان نے وقار انجم ایڈووکیٹ اور ان کے تمام ساتھیوں کو آئی پی پی کا روایتی مفلر پہنا کر جماعت میں خوش آمدید کہا اور مبارکباد پیش کی۔
شمولیتی تقریب کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے افسوس کا اظہار کیا کہ وادیِ نیلم دنیا کی قدرتی ترین اور خوبصورت ترین وادی ہونے کے باوجود حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کے باعث آج بھی بنیادی سہولیات کے معاملے میں دیگر اضلاع سے سو سال پیچھے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ انہوں نے جندر سیری کے عوام کے لیے فرسٹ ایڈ سینٹر، بڑے واٹر ٹینک اور مقامی مدرسے کو پانی کی بلا تعطل فراہمی کے تمام اخراجات اپنی ذاتی جیب اور ذاتی حیثیت سے ادا کرنے کا فوری اعلان کیا۔ سردار تنویر الیاس خان نے کہا کہ نیلم کے قدرتی اور سیاحتی وسائل صرف نیلم کے ہی عوام پر خرچ ہوں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی پارٹی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مل کر مستقبل میں حکومت قائم کرے گی اور عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کیے جائیں گے۔ انہوں نے ووٹرز پر زور دیا کہ ووٹ ایک قومی اور شرعی امانت ہے جسے سوچ سمجھ کر استعمال کریں اور دعویٰ کیا کہ آنے والے دنوں میں آزاد کشمیر کے ہر ضلع اور ہر حلقے میں صرف آئی پی پی کا پرچم نظر آئے گا۔ تقریب میں پارٹی کے سینیئر رہنماؤں بشمول ڈاکٹر سردار ظفر اقبال، سردار امتیاز شاہین، چوہدری اختر ایوب، شفیق الرحمٰن، سدھیر مغل اور دیگر قائدین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اور کشمیری عوام کی فلاح کے لیے کام کرنے کے عزم کو دہرایا۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سنیر سینیٹر اسحاق ڈار اور ترکیہ کے وزیرِ خارجہ خاقان فدان کے درمیان آج ایک انتہائی اہم ٹیلیفونک رابطہ قائم ہوا، جس میں دونوں برادر اسلامی ممالک کی قیادت نے بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کی ابتر ہوتی ہوئی سیکیورٹی، خطے کی جغرافیائی و سیاسی صورتِ حال اور بین الاقوامی و علاقائی اہمیت کے دیگر تنازعات پر تفصیلی اور گہرا تبادلہ خیال کیا۔ ترجمان دفترِ خارجہ اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ رسمی بیان کے مطابق، دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی اس اہم گفتگو میں سرفہرست موضوعِ بحث مقبوضہ فلسطین بالخصوص پٹیِ غزہ اور مغربی کنارے کی خونریز صورتِ حال رہی۔ دونوں رہنماؤں نے غاصب اسرائیلی افواج کی جانب سے معصوم فلسطینی عوام، رہائشی علاقوں اور عام بنیادی ڈھانچے پر مسلسل جاری وحشیانہ فوجی کارروائیوں اور کارپٹ بمباری پر انتہائی رنج و غم، غصے اور گہری تشویش کا اظہار کیا۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید آگاہ کیا کہ گفتگو کے دوران پاکستان اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مشرقی یروشلم (القدس) میں قبلہِ اول یعنی تاریخی مسجدِ اقصی کی بار بار ہونے والی نجس پامالی، مقدس مقامات کی بے حرمتی اور مقبوضہ علاقوں میں دن بہ دن مزید تباہ کن شکل اختیار کرتی ہوئی انسانی بنیادوں پر غذائی و طبی صورتِ حال پر شدید ترین تحفظات کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے معاہدوں کی سنگین خلاف ورزیاں عالمی برادری کی جانب سے فوری عملی مداخلت کی تقاضا کرتی ہیں۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ان کے ترک ہم منصب خاقان فدان نے مظلوم فلسطینیوں کے دیرینہ، قانونی اور ناگزیر حقوق، بشمول آزاد اور خودمختار ریاستِ فلسطین کے قیام کی مکمل، واضح اور غیر متزلزل حمایت کا دلی عزم دہرایا۔
ٹیلی فون پر ہونے والی اس اعلیٰ سطحی گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحران سے نمٹنے کے لیے ممکنہ سفارتی اور کثیرالجہتی اقدامات پر بھی پیش رفت کی گئی۔ ترجمان کے مطابق، پاکستان اور ترکیہ کی اعلیٰ قیادت نے فلسطین کے حوالے سے جاری بحران کا سیاسی و سفارتی حل تلاش کرنے اور صیہونی مظالم کو روکنے کے لیے عرب اور اسلامی ممالک کا ایک فوری اور ہنگامی مشترکہ اجلاس منعقد کرنے کے حوالے سے برادر ملک اردن کی جانب سے پیش کردہ تجویز کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا اور اس پر مفصل غور کیا۔ دونوں نے اتفاق کیا کہ امتِ مسلمہ اور بالخصوص مسلم اکثریتی ممالک کے وزرائے خارجہ کو ایک مشترکہ لائحہ عمل پر متفق ہو کر بین الاقوامی سطح پر اور اقوامِ متحدہ کے فورمز پر ایک موثر اور واحد آواز بن کر سامنے آنا چاہیے تاکہ مظلوم فلسطینی شہریوں کی نسل کشی کو فوری روکا جا سکے اور خطے میں پائیدار اور عادلانہ امن کا قیام ممکن ہو سکے۔
واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک کے تمام اہم دریاؤں کی بہاؤ کی تازہ صورتِ حال اور تربیلا، منگلا اور چشمہ کے آبی ذخائر (ڈیموں) میں پانی کی موجودہ سطح کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر باضابطہ اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ ترجمان واپڈا کے مطابق ملک کے آبی بنیادی ڈھانچے اور دریاؤں میں پانی کی آمد و اخراج کے عمل کو متوازن انداز میں مانیٹر کیا جا رہا ہے تاکہ زراعت اور ایندھن کی پیداوار کی ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کیا جا سکے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق ملک کے سب سے بڑے ڈیم تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 2 لاکھ 43 ہزار 900 کیوسک جبکہ پانی کا اخراج 2 لاکھ 15 ہزار 200 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح دریائے سندھ پر قائم دوسرے اہم مقام یعنی چشمہ بیراج پر پانی کی مجموعی آمد 2 لاکھ 42 ہزار 900 کیوسک درج کی گئی ہے، جبکہ وہاں سے پانی کا اخراج 2 لاکھ 20 ہزار 400 کیوسک جاری ہے۔
دیگر اہم دریاؤں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں اس وقت پانی کی آمد 51 ہزار 700 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ وہاں سے اخراج کو کنٹرول کرتے ہوئے محض 8 ہزار کیوسک رکھا گیا ہے تاکہ منگلا ریزروائر کو بھرنے کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔ سیالکوٹ کے قریب ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 95 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 83 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ ہوا ہے۔ مزید برآں، پختونخوا کے اہم ترین آبی گزرگاہ یعنی نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد اور اخراج یکساں طور پر 41 ہزار 700 کیوسک کی سطح پر برقرار ہے۔ تمام دریاؤں میں پانی کے اس مسلسل اور مستحکم بہاؤ سے ملک کے نہری نظام کو مسلسل پانی کی فراہمی ممکن بنائی جا رہی ہے، جس سے آنے والی فصلوں اور زراعت کے شعبے کو شدید فائدہ پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
واپڈا ترجمان کی جانب سے ملکی ڈیموں اور ریزروائرز میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کے متعلق بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تربیلا ریزروائر میں اس وقت پانی کی سطح 1535 فٹ تک پہنچ چکی ہے اور اس میں پانی کا مجموعی ذخیرہ 47 لاکھ 28 ہزار ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دوسرے بڑے ڈیم منگلا ریزروائر میں پانی کی سطح 1194.30 فٹ درج کی گئی ہے، جہاں پانی کی ذخیرہ شدہ مقدار 38 لاکھ 91 ہزار ایکڑ فٹ ہے، جبکہ چشمہ ریزروائر میں پانی کی سطح 648.50 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور وہاں 2 لاکھ 85 ہزار ایکڑ فٹ پانی کا ذخیرہ موجود ہے۔ ترجمان واپڈا نے واضح کیا کہ ان تینوں مرکزی آبی ذخائر میں اس وقت قابلِ استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ 89 لاکھ 4 ہزار ایکڑ فٹ ہو چکا ہے۔ آبی ماہرین کا ماننا ہے کہ مانسون کے موسم اور پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کے باعث ڈیموں میں پانی کا یہ خاطر خواہ اضافہ ملک میں توانائی کی پیداوار اور زرعی پانی کے مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
خیبر پختونخوا پولیس نے مردان میں امن و امان کی صورتِ حال کو برقرار رکھنے اور عوام الناس میں خوف و ہراس پھیلانے والے عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھتے ہوئے ایک اہم اور بروقت کامیابی حاصل کی ہے۔ تھانہ خرکی مردان پولیس نے منگل کے روز علاقے میں فوری اور تیز رفتار کارروائی کرتے ہوئے ایک ایک دوسرے پر سرِعام فائرنگ کرنے والے اور علاقے کا امن برباد کرنے والے دونوں فریقین سے تعلق رکھنے والے مجموعی طور پر تین مرکزی ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے ان کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔ پولیس کی اس بروقت کارروائی سے علاقے میں کوئی بڑا جانی نقصان ہونے سے بچ گیا اور صورتِ حال کو فوراً کنٹرول میں لے لیا گیا۔
ترجمان مردان پولیس کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، تھانہ خرکی کی حدود میں دو فریقین کے مابین تنازع کے باعث فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس سے مقامی رہائشیوں اور بازار میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لیا اور دونوں جانب سے فائرنگ میں ملوث افراد کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار کیے گئے ملزمان میں سے پہلے فریق کا تعلق تازہ گرام کے رہائشی روزی شاہ ولد ہمیش گل اور اس کے بیٹے عبید ولد روزی شاہ سے ہے، جبکہ دوسرے فریق سے تازہ گرام ہی کا رہائشی گوہر ولد مکمل شاہ شامل ہے۔ پولیس نے موقع پر کارروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمان کے قبضے سے 3 عدد جدید پستول اور 53 عدد زندہ کارتوس برآمد کر کے باضابطہ طور پر اپنی تحویل میں لے لیے ہیں۔
پولیس ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والے ملزمان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت تھانہ خرکی میں مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور معاملے کی گہرائی سے مزید قانونی تفتیش و کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ مردان پولیس کی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں امن و امان کے قیام کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا اور ہوائی فائرنگ، باہمی تنازعات کی بنا پر قانون ہاتھ میں لینے اور عام شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پولیس ترجمان نے واضح کیا کہ قانون شکن عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور سخت ترین قانونی اقدامات کا سلسلہ آئندہ بھی بلا تعطل جاری رہے گا تاکہ شہری خود کو مکمل طور پر محفوظ محسوس کر سکیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا ایک انتہائی اعلیٰ سطحی اور اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کے توانائی کے شعبے کو جدید ترجیحات کے مطابق ڈھالنے کے لیے ‘پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023’ میں کی گئی اہم ترامیم کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی۔ وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہونے والے اس خصوصی اجلاس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، پروفیسراحسن اقبال کے علاوہ متعلقہ وزارتی وفاقی سیکرٹریز اور توانائی انڈسٹری کے اعلیٰ ترین سرکاری حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کے اندر آئل ریفائنریز کی موجودہ کارکردگی، توانائی کی پیداوری صلاحیت، براؤن فیلڈ ریفائنریز کے بنیادی ڈھانچے اور آئل سیکٹر میں متوقع عالمی سرمایہ کاری سے متعلق امور کا تفصیلی اور باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس بات پر شدید زور دیا کہ پاکستان میں موجود تمام آئل ریفائنریز کی جدید ترین تکنیکی بنیادوں پر اپ گریڈیشن اب کوئی اختیاری معاملہ نہیں بلکہ وقت کی شدید اور عاجلانہ ضرورت بن چکی ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ جدید تقاضوں اور عالمی معیار سے ہم آہنگ ریفائنریز پاکستان کے پائیدار توانائی تحفظ کے جامع نظام کا ایک مرکزی اور اہم ترین ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات پر مبنی یہ اقدام نہ صرف ملک کی مجموعی توانائی کی ضروریات کو زیادہ مؤثر، مستحکم اور بہتر انداز میں پورا کرے گا بلکہ گرانقدر غیر ملکی زرِ مبادلہ کا خرچ کم کر کے درآمدی ایندھن پر پاکستان کا انحصار نمایاں طور پر گھٹانے میں مدددگار ثابت ہوگا۔ مزید برآں، اس سے ملک بھر میں ماحول دوست اور اعلیٰ معیار کا صاف ایندھن فراہم کرنے کا دیرینہ مقصد بھی حاصل کیا جا سکے گا، جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
اجلاس میں شریک اعلیٰ حکام نے وزیراعظم اور کمیٹی کے دیگر اراکین کو پاکستان میں توانائی کی صورتِ حال پر تفصیلی بریفنگ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ ملک کی موجودہ ریفائنریز کی پیداواری گنجائش کو بڑھانے اور فرنس آئل جیسی کم معیار کی ایندھن مصنوعات کو بتدریج ختم کرنے کے لیے ان کی اپ گریڈیشن ناگزیر ہو چکی ہے۔ بریفنگ میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ ترامیم کے تحت اب یورو-4 اور بالخصوص اعلیٰ ترین یورو-5 معیار کے پٹرول اور ڈیزل کی مقامی سطح پر پیداوار کو یقینی بنایا جائے گا۔ یہ اقدام پاکستان کے عالمی ماحولیاتی معاہدوں اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق بین الاقوامی وعدوں کی تکمیل کے لیے انتہائی ضروری ہے، جس سے ملک میں جان لیوا اور شدید فضائی آلودگی میں نمایاں کمی لائی جا سکے گی اور عام عوام کو بین الاقوامی معیار کا ایندھن میسر آئے گا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے توانائی کے نگران ادارے اویل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی مجموعی کارکردگی کو بین الاقوامی سانچے میں ڈھالنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ کی فوری اور حقیقی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اوگرا میں بنیادی نوعیت کی انتظامی و قانونی اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔ اس کا بنیادی مقصد آئل اینڈ گیس کے شعبے میں تجارتی مسابقت، شفافیت اور غیر ملکی و مقامی سرمایہ کاری کے لیے ماحول کو مکمل طور پر سازگار بنانا ہے۔ وزیراعظم نے واضح اور سخت احکامات جاری کیے کہ نئی آئل ریفائننگ پالیسی کی منظوری کے بعد اس کے ہر شق پر فوری، مؤثر اور طے شدہ وقت کے اندر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور اس سلسلے میں کسی بھی وزارت، ادارے یا انتظامی افسر کی طرف سے کسی بھی قسم کی غفلت، سستی یا تاخیر کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے تمام تمام سٹیک ہولڈرز کو قریبی رابطہ اور باہمی مشاورت کے ذریعے اصلاحاتی عمل تیز کرنے کا پابند کیا۔
مستقبل کی اسٹریٹجک ضروریات اور سرمایہ کاری کے حجم کو وسیع کرنے کے لیے، وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے براؤن فیلڈ ریفائنریز کے حوالے سے اس ترمیمی پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 کی تشہیر اور آگاہی کے لیے قطر، برادر اسلامی ملک سعودی عرب اور دیگر اہم خلیجی ممالک میں خصوصی روڈ شوز منعقد کرنے کے واضح احکامات دیے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر براؤن فیلڈ ریفائنریز میں معاشی و تکنیکی اصلاحات متعارف کروانے پر وفاقی وزیر برائے پٹرولیم اور ان کی پوری ماہر ٹیم کی دن رات کی محنت اور شاندار کارکردگی کو کھلے دل سے سراہا۔ اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے وزارتِ پٹرولیم اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ ہنگامی صورتِ حال یا عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے ملک کے اندر پٹرولیم مصنوعات کے اسٹریٹجک ذخائر کا حجم جلد از جلد بڑھانے کے لیے جامع عمل درآمدی منصوبہ بندی تشکیل دیں تاکہ ملک کو توانائی کے کسی بھی غیر متوقع بحران سے محفوظ رکھا جا سکے۔
کالعدم دہشت گرد تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے درندوں نے سفاکیت اور درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضلع آوران سے بلوچستان کی بیٹی اور حاملہ خاتون روبینہ کو اغوا کے بعد شدید جنسی زیادتی اور بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا۔ رپورٹس کے مطابق مقتولہ روبینہ کی مسخ شدہ لاش 25 جولائی کو آوران کے علاقے کبری کور نالہ سے برآمد ہوئی، جسے اکبر ولد غنی اور بی ایل ایف کے مسلح دہشت گردوں نے 20 اور 21 جولائی کی درمیانی شب اغوا کیا تھا اور چار دن تک محبوس رکھنے کے بعد لاش پھینک کر فرار ہو گئے۔ مقتولہ کے والد نے شدید غم و غصے اور دُہائی دیتے ہوئے کہا کہ نام نہاد حقوق کی جنگ لڑنے والی اس تنظیم نے ان کی معصوم اور حاملہ بیٹی پر یہ ظلم کیوں ڈھایا۔ سیاسی و سماجی ماہرین اور عام شہریوں کا کہنا ہے کہ حقوق کے ڈرامے رچانے والے یہ عناصر حقیقت میں بلوچ عوام اور وہاں کی خواتین کے کھلے دشمن ہیں جن کا بلوچ روایت، غیرت اور انسانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور بلوچستان میں خوف و ہراس پھیلانے والے یہ درندے اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے تحت حج 2027 کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے، جس کے دوران رجسٹرڈ عازمینِ حج کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 65 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2 لاکھ 64 ہزار افراد نے سرکاری حج سکیم جب کہ 1 لاکھ 1 ہزار عازمین نے پرائیویٹ حج سکیم کے ذریعے فریضہ حج کی ادائیگی میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب سے سب سے زیادہ 1 لاکھ 68 ہزار افراد نے رجسٹریشن کروائی ہے، جبکہ سندھ سے 1 لاکھ 7 ہزار، خیبرپختونخوا سے 55 ہزار، اسلام آباد سے 17 ہزار، بلوچستان سے 13 ہزار، آزاد کشمیر سے 3 ہزار اور گلگت بلتستان سے 14 سو شہریوں نے آن لائن پورٹل کے ذریعے اندراج مکمل کیا۔ وزارت نے مزید انکشاف کیا ہے کہ مستقبل کی منصوبہ بندی کے تحت حج 2028 کے لیے 6 ہزار جبکہ 2029 اور 2030 کے لیے بھی 4 ہزار عازمین پہلے ہی رجسٹر ہو چکے ہیں۔ وزارتِ مذہبی امور نے واضح کیا ہے کہ رجسٹریشن کا عمل مکمل کیے بغیر کوئی بھی شخص آئندہ سالوں میں حج کی ادائیگی کے لیے اہل نہیں ہوگا۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمتی کارروائیوں میں شدید تیزی آ گئی ہے۔ افغانستان فریڈم فرنٹ کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق بغلان کے ضلع دوشی میں طالبان کے ایک اہم عسکری قافلے پر راکٹ حملہ کیا گیا، جو کابل سے بدخشان کی جانب مزید نفری اور عسکری سامان لے جا رہا تھا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں 7 طالبان اہلکار موقع پر ہلاک جبکہ 6 شدید زخمی ہو گئے۔ اے ایف ایف نے تصدیق کی ہے کہ حملے میں ان کے کسی جنگجو کا نقصان نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشان کے ضلع زیبک میں بھی طالبان کے خلاف شدید جھڑپیں اور حملے ہوئے جہاں گزشتہ دو دنوں میں طالبان کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیبک یونٹ کے کمانڈر ملا شاداب اور بارڈر کمپنیوں کی قیادت کرنے والے 3 دیگر اہم کمانڈر مولوی گل احمدی، ملا فرید اللہ اور قاری عمری لازری شامل ہیں۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے عالمی یومِ مینگرووز کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان کے مینگرووز جنگلات بحیرہ عرب کے ساحلی تحفظ، ماہی گیری کے فروغ، اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے قدرتی ڈھال کا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے روشنی ڈالی کہ پاکستان اس وقت دنیا میں مینگرووز رقبے کے لحاظ سے 7ویں نمبر پر ہے اور مسلسل شجرکاری کے ذریعے 4th یا 5th پوزیشن حاصل کر سکتا ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان کی مینگرووز کاربن مارکیٹ سے سالانہ 2 کروڑ سے 5 کروڑ ڈالر (حدود 50 ملین ڈالر) تک آمدن حاصل ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ درخت عام خشکی کے پودوں سے چار گنا زیادہ کاربن جذب کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ اور صوبائی ادارے قبضہ مافیا سے ساحلی زمینیں واگزار کرا کر شجرکاری اور صفائی مہمات جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ ماحولیاتی فعال پسند الماس کاسمانی کو سفیر مقرر کر کے 1 لاکھ مزید پودے لگانے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔
راولپنڈی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 جولائی 2026ء
اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے منشیات کی ترسیل کے خلاف ملک بھر میں 3 کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کرتے ہوئے 3 منشیات فروشوں کو گرفتار کر لیا، جن کے قبضے سے 36.8 کلو گرام منشیات برآمد کی گئی جس کی عالمی و مقامی مارکیٹ میں قدر 3.3 ملین روپے سے زائد ہے- ترجمان اے این ایف کے مطابق پہلی کارروائی کراچی میں شاہراہِ فیصل پر واقع ایک کورئیر کے دفتر میں کی گئی، جہاں آسٹریلیا بھیجے جانے والے پارسل کے جوتوں میں چھپائی گئی 210 گرام افیون تحویل میں لی گئی۔ دوسری کارروائی کالا شاہ کاکو ٹول پلازہ کے قریب کی گئی جہاں گاڑی سے 16.8 کلو گرام چرس اور 3 کلو گرام کرسٹل میتھ (آئس) برآمد کر کے 3 ملزمان کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ تیسری کارروائی میں مانسہرہ کے علاقے بالاکوٹ روڈ کے قریب موٹر سائیکل سے 16.8 کلو گرام چرس برآمد کی گئی۔ ترجمان کے مطابق تمام ملزمان کے خلاف منشیات کے انسداد سے متعلق ایکٹ 1997 کے تحت مقدمات درج کر کے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈ ‘آپریشن العزم’ کے تحت بلوچستان بھر میں دہشت گردی کے خلاف موثر اور ٹارگٹڈ کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان کے علاقوں کلی کند عمرانی، خڈکوچہ اور مستونگ سمیت مختلف مقامات پر کارروائیوں کے دوران بھارت کے بھیجے گئے ‘فتنة الہندوستان’ سے تعلق رکھنے والے عناصر کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ آپریشن العزم کے دوران اب تک فتنہ الہندوستان کے 16 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے جبکہ ان کے متعدد ٹھکانے اور کمین گاہیں مکمل طور پر تباہ کر کے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد قبضہ میں لے لیا گیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور پائیدار امن و امان کے قیام تک یہ کارروائیاں بلاتعطل جاری رہیں گی۔
گرین پاکستان انیشی ایٹوکے زیرِ اہتمام ملک بھر میں بنجر زمینوں کی بحالی، جدید زرعی نظام کی ترسیل اور سرمایہ کاری کے نئے و وسیع مواقع تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔ غیر ملکی دورانیہ مکمل کر کے وطن واپس لوٹنے والے اوورسیز پاکستانی سرمایہ کار غلام مصطفیٰ نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ گرین پاکستان انیشی ایٹو نے انہیں ‘رکھ غلاماں’ میں زمین فراہم کی جہاں وہ اس وقت 1100 ایکڑ رقبے پر گندم، چنا اور کینولا کی جدید کاشت کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رکھ غلاماں کی 10 ہزار ایکڑ بنجر زمین میں سے پچھلے دو سال کے مختصر عرصے میں 50 فیصد رقبے کو دوبارہ قابلِ کاشت بنا دیا گیا ہے۔ غلام مصطفیٰ کے مطابق جی پی آئی کے تعاون سے فارم پر سینٹرل پیوٹ ایریگیشن سسٹمز، جدید درآمدی ٹریکٹرز اور جدید زرعی مشینری استعمال کی جا رہی ہے جبکہ پی ایچ ڈی زرعی ماہرین اور ٹیکنو کریٹس مسلسل رہنمائی اور فارم کا معائنہ فراہم کر رہے ہیں، جو اوورسیز پاکستانیوں کو اپنی سرزمین میں محفوظ اور منافع بخش سرمایہ کاری کا بہترین ماحول فراہم کر رہا ہے۔