قومی کھیل کی بحالی کے لیے پی ایچ ایف کا بڑا فیصلہ: ایف آئی ایچ پرو لیگ میں ناقص کارکردگی پر شدید مایوسی کا اظہار، کھلاڑیوں، سلیکٹرز اور انتظامیہ کے لیے ‘زیرو ٹالرینس’ اور سخت احتساب کی پالیسی نافذ

محمود احمد june 28,2026

لاہور (کھیل رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے ایف آئی ایچ پرو لیگ کے آخری مرحلے میں قومی مینز ہاکی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی اور پوائنٹس ٹیبل پر سب سے آخری نمبر پر آنے پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ملکی ہاکی کے پورے ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مقتدر اور انقلابی اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ ترجمان پی ایچ ایف کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم ترین تزویراتی اور پالیسی بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ حالیہ نتائج ٹیم کی جسمانی فٹنس، جدید کھیل کی سمجھ بوجھ اور تزویراتی حکمتِ عملی کی شدید کمی کو ظاہر کرتے ہیں، جس کے بعد اب کھلاڑیوں، انتظامیہ اور سلیکٹرز کے لیے ‘زیرو ٹالرینس’ اور کڑے احتساب کی سخت ترین پالیسی نافذ العمل کر دی گئی ہے۔

فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی نے اپنے مقتدر بیان میں حقیقتِ حال کو سامنے لاتے ہوئے کہا کہ موجودہ مینجمنٹ نے محض چند ماہ قبل ہی فیڈریشن کا چارج سنبھالا تھا، جب کہ پرو لیگ کے پہلے دو مراحل گزشتہ برس کھیلے جا چکے تھے۔ نئی انتظامیہ نے آتے ہی تمام تر انتظامی اور لاجسٹک مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کر کے ٹیم کی پرو لیگ کے آخری مرحلے میں شرکت کو یقینی بنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیلنجز کے باوجود اسی اسکواڈ نے حال ہی میں ایف آئی ایچ ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر کے اپنی بنیادی صلاحیتوں کو ثابت کیا ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان کے جونیئر سیٹ اپ کی کارکردگی بھی نمایاں رہی ہے، جہاں انڈر-18 قومی ہاکی ٹیم نے جاپان میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے برانز میڈل (تیسری پوزیشن) اپنے نام کر کے ملک کا نام روشن کیا۔

صدر پی ایچ ایف نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اب وقتی حل یا عارضی فیصلوں کا وقت ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ ہاکی کی کھوئی ہوئی عالمی ساکھ بحال کرنے کے لیے 3 سے 4 سالہ جامع اسٹریٹجک پلان نافذ کیا جا رہا ہے، جس کے تحت اب سے قومی ٹیم میں سلیکشن اور سینٹرل کانٹریکٹس کو خالصتاً کارکردگی، فٹنس اور ڈسپلن کے سخت ترین معیار سے جوڑ دیا گیا ہے اور غیر معیاری فٹنس یا نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ آسٹریلیا، ہالینڈ (ڈچ) اور جرمنی جیسے ہاکی کے مقتدر مضبوط گڑھ سے تعلق رکھنے والے عالمی معیار کے بین الاقوامی کوچز اور ہائی پرفارمنس فٹنس ٹرینرز پر مشتمل پینل کو طویل المدتی بنیادوں پر پاکستان لایا جا رہا ہے تاکہ وہ ہمارے جونیئر اور سینئر سیٹ اپ کو جدید سائنسی اصولوں پر تیار کر سکیں۔

صدر محی الدین احمد وانی نے اپنے مقتدر عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس چار سالہ تزویراتی پلان کے تحت مردوں کے ساتھ ساتھ گرلز ہاکی کی ترقی پر بھی برابر مالی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ ملک بھر میں خواتین ایتھلیٹس کے لیے مخصوص جدید ٹریننگ کیمپس، لوکلائزڈ پاتھ ویز اور بین الاقوامی معیار کی کوچنگ کا انتظام کیا جائے گا تاکہ عالمی سطح کے لیے خواتین کا مضبوط اور مقتدر ٹیلنٹ تیار کیا جا سکے۔ ملکی شائقینِ ہاکی کے لیے ایک اور بڑی خوشخبری کا اعلان کرتے ہوئے صدر پی ایچ ایف نے بتایا کہ رواں سال جولائی میں جنوبی کوریا کی قومی ہاکی ٹیم ایک تاریخی دوطرفہ سیریز کے لیے پاکستان کا دورہ کرے گی، جس کے بعد ستمبر میں پاکستان ٹیم جنوبی کوریا کا جوابی دورہ کرے گی اور وہاں سے قومی ٹیم براہِ راست اپنی ایشین گیمز مہم کا آغاز کرے گی۔ انہوں نے سچائی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ہاکی میں اپنا کھویا ہوا مقام واپس حاصل کرنے کے لیے وقت اور صبر درکار ہے، اور پی ایچ ایف اس 4 سالہ سائیکل کا بھرپور فائدہ اٹھا کر آنے والی نسلوں کے لیے ایک پائیدار، شفاف اور ناقابلِ شکست نظام وضع کرے گی۔

پاکستان فٹبال فیڈریشن کا بڑا فیصلہ: عدیل رزکی یکم جولائی سے پی ایف ایف کے نئے ٹیکنیکل ڈائریکٹر مقرر، ملک میں فٹبال کی طویل المدتی ترقی کی حکمتِ عملی تیار کی جائے گی

محمود احمد june 27,2026

اسلام آباد (کھیل رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 27 جون 2026ء

پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) نے ملک میں فٹبال کے تکنیکی معیار کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور کھلاڑیوں کی استعداد کار کو بہتر بنانے کے لیے عدیل رزکی کو باقاعدہ طور پر نیا ٹیکنیکل ڈائریکٹر مقرر کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جو یکم جولائی سے اپنے مقتدر عہدے کا چارج سنبھالیں گے۔ پاکستان فٹبال فیڈریشن کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیے کے مطابق، عدیل رزکی ملکی سطح پر فٹبال کے تمام تر تکنیکی ترقیاتی پروگراموں کی فرنٹ لائن سے قیادت کریں گے۔

عدیل رزکی فٹبال کی دنیا کا ایک مقتدر نام اور یوئیفا اے لائسنس ہولڈر ہیں، جو اس سے قبل پاکستان ویمنز نیشنل فٹبال ٹیم کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے گراں قدر خدمات سرانجام دے چکے ہیں، جبکہ حال ہی میں انہوں نے مالدیپ میں منعقدہ ڈائمنڈ جوبلی انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ میں پاکستان مینز نیشنل ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں جہاں قومی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹائٹل اپنے نام کیا۔ وہ سال 2019ء کے بعد پی ایف ایف کے پہلے مستقل ٹیکنیکل ڈائریکٹر ہوں گے۔ اپنی اس نئی اور مقتدر ذمہ داری کے تحت وہ گراس روٹ فٹبال، ویمنز کرکٹ کی طرز پر ویمنز فٹبال، یوتھ ڈویلپمنٹ، کوچز کی جدید ایجوکیشن اور کھلاڑیوں کی طویل المدتی ترقی کے لیے تزویراتی حکمتِ عملی مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ کوچنگ اور تکنیکی امور پر پی ایف ایف کی ایگزیکٹو کمیٹی کو بھی اہم مشاورت فراہم کریں گے۔

پی ایف ایف کے مقتدر صدر سید محسن گیلانی نے اس تقرری پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی فٹبال فیڈریشن کی بنیاد اس کا ٹیکنیکل ڈویلپمنٹ ونگ ہوتا ہے اور ٹیکنیکل ڈائریکٹر اس پورے تانے بانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ عدیل رزکی کی تقرری پاکستان میں فٹبال کی مقتدر ترقی کے ایک بالکل نئے اور جدید مرحلے کا آغاز ثابت ہوگی۔ دوسری جانب، اپنی تقرری پر گہرے فخر کا اظہار کرتے ہوئے عدیل رزکی نے صدر محسن گیلانی کے اعتماد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ پاکستان میں ایک پائیدار، مربوط اور موثر فٹبال نظام کے قیام کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز، کلبوں اور اکیڈمیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم ترین تزویراتی منصب پر مکمل توجہ مرکوز کرنے کے لیے وہ ویمنز نیشنل ٹیم کے ہیڈ کوچ اور پی ایف ایف کانگریس کی رکنیت سے دستبردار ہو جائیں گے تاکہ ملکی فٹبال کے روشن مستقبل کے مشن کو پوری یکسوئی سے آگے بڑھایا جا سکے۔

بلوچستان زلزلہ: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا موسیٰ خیل میں جانی و مالی نقصانات پر گہرے دکھ کا اظہار، این ڈی ایم اے اور صوبائی حکومت کو فوری ریلیف اور ریسکیو آپریشن تیز کرنے کی ہدایت

کاشف عباسی ,june 27,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 27 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل اور گردونواح میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر گہرے دکھ، افسوس اور مقتدر ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور حکومتِ بلوچستان کو متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیاں ہنگامی بنیادوں پر تیز کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیرِ اعظم نے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور زلزلہ متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر ہر ممکن امداد فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے زلزلے کے مرکز اور شدید متاثرہ علاقے “کنگری” میں زخمی ہونے والے تمام افراد کو فی الفور بہترین اور مقتدر طبی سہولیات فراہم کرنے کی خصوصی ہدایت کی ہے اور زخمیوں کی جلد و کامل صحتیابی کے لیے دعا بھی کی ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کو پابند کیا ہے کہ ملبے تلے دبے افراد یا زخمیوں کو اسپتالوں تک منتقل کرنے کے عمل میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ اس کے ساتھ ہی وزیرِ اعظم نے زلزلے کے باعث گرنے والے یا جزوی طور پر متاثرہ گھروں کے مکینوں کو فوری طور پر عارضی پناہ گاہیں، راشن اور خیمے فراہم کرنے کے احکامات صادر کیے ہیں۔

اپنے مقتدر پیغام میں وزیرِ اعظم نے این ڈی ایم اے کے حکام کو واضح گائیڈ لائنز دیں کہ وہ موسیٰ خیل کے دور افتادہ علاقوں میں جاری ریسکیو و ریلیف آپریشن میں بلوچستان کی صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ کی بھرپور تزویراتی معاونت کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وفاقی اور صوبائی اداروں کا مشترکہ اور مؤثر ردِعمل ہی متاثرین کی تکالیف کو جلد از جلد کم کر سکتا ہے، لہٰذا ریلیف کے سامان کی ترسیل میں کسی قسم کی تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

عالمی فورم پر پاکستان کا اہم موقف: سوڈان میں شہریوں پر حملوں کی شدید مذمت، شہریوں کے فوری تحفظ اور سوڈانی قیادت میں سیاسی عمل پر زور

محمود احمد june 27,2026

اقوامِ متحدہ/نیویارک (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 27 جون 2026ء

پاکستان نے سوڈان میں جاری شدید خانہ جنگی پر عالمی فورم پر اپنا واضح تزویراتی موقف پیش کرتے ہوئے ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے نہتے شہریوں اور شہری تنصیبات پر کیے جانے والے حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور بڑے پیمانے پر انسانی مظالم کے فوری خطرے سے خبردار کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں سوڈان کی صورتحال پر منعقدہ اہم اجلاس سے پاکستان کا مقتدر قومی بیان دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے بگڑتی ہوئی سلامتی اور مقتدر انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تین برس سے زائد عرصے سے جاری اس بھیانک تنازعے کا سب سے زیادہ خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اسکولوں، ہسپتالوں، بازاروں اور عبادت گاہوں جیسی شہری زندگی کے لیے ناگزیر تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خاص طور پر “الابیض” کی صورتحال کو انتہائی نازک قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز کی بڑی تعداد میں عسکری کمک، زمینی حملے کے خدشات، اور دارفور سمیت سوڈان کے دیگر علاقوں میں اندھا دھند قتل، نسلی بنیادوں پر تشدد، جنسی جرائم اور جبری نقل مکانی جیسے سنگین مظالم کا ریکارڈ شدید تشویش کا باعث ہے، جو بڑے پیمانے پر انسانی المیے کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے آر ایس ایف پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر الابیض پر حملے بند کرے، بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری کرے اور ڈرونز و جدید ہتھیاروں کا استعمال روکے جس سے شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے پورے سوڈان میں ضرورت مند افراد تک محفوظ اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ امدادی کارکنوں اور سامان پر حملے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے اصرار کیا کہ سوڈان کی خودمختاری، وحدت، علاقائی سالمیت اور قومی اداروں کا تحفظ ہر صورت ناگزیر ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ایسے کسی بھی اقدام یا بیان سے گریز کریں جو سوڈان کے قومی اداروں کو کمزور کرے یا متوازی عسکری یا سیاسی ڈھانچوں کے قیام کی راہ ہموار کرے، کیونکہ ایسے اقدامات سے مسلح گروہوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور تنازع طول پکڑے گا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سوڈان کے تنازعے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور چونکہ سوڈان کے امن و استحکام کا افریقی اور عرب خطوں کی سلامتی سے گہرا تعلق ہے، اس لیے یہاں استحکام کی بحالی عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ذاتی نمائندے کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے عزم دہرایا کہ پاکستان سوڈان کو دوبارہ آئینی نظام کی جانب واپس لانے کے لیے اقوامِ متحدہ، افریقی یونین، عرب لیگ اور دیگر علاقائی شراکت داروں کی مقتدر کوششوں کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

قومی اتحاد کی فتح: قومی پیغامِ امن کمیٹی کا عاشورۂ محرم کے پرامن اختتام پر حکومت، مقتدر علماء اور سیکیورٹی اداروں کو شاندار خراجِ تحسین

کاشف عباسی ,june 26,2026

اسلام آباد (مذہبی و قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

قومی پیغامِ امن کمیٹی نے عاشورۂ محرم کے موقع پر ملک بھر میں مثالی امن و امان، رواداری اور بین المسالک ہم آہنگی کی فضا کو برقرار رکھنے پر تمام مکاتبِ فکر کے جید علماء، مشائخ، ذاکرین، مجالس کے منتظمین، پاک افواج، قانون نافذ کرنے والے مقتدر اداروں اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ کمیٹی کے مقتدر رہنماؤں نے کہا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ تزویراتی کاوشوں کے نتیجے میں محرم الحرام کے حساس ایام پرامن اور باہمی احترام کے ساتھ اختتام پذیر ہوئے، جو قومی یکجہتی کا عملی مظہر ہے۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے قومی پیغامِ امن کمیٹی اور چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی سمیت پیر سید نقیب الرحمن، مفتی عبد الرحیم، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مفتی کریم خان، ڈاکٹر آصف میر، علامہ عارف علوی، علامہ محمد حسین اکبر، علامہ توقیر عباس، مولانا عادل عطاری، حافظ محمد امجد، مولانا رمضان سیالوی، مولانا سمیع اللہ آغا، مولانا نعمان نعیم، حافظ مقبول احمد اور مولانا زاہد منصور نے ایک مشترکہ اور مقتدر بیان جاری کیا ہے۔ اس بیان میں پاک فوج اور چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی پولیس اور انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی انتھک کوششیں قابلِ ستائش ہیں، اور کمیٹی انتہا پسندی و فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے حکومت اور سلامتی کے اداروں کے ساتھ اپنا مقتدر کردار جاری رکھے گی۔

اپنے خصوصی پیغام میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور تمام مکاتبِ فکر کی ذمہ دارانہ قیادت کی بدولت یہ ایام محبت اور امن کے ماحول میں مکمل ہوئے۔ انہوں نے تزویراتی نقطہ نظر سے اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ خطے کی حالیہ صورتحال اور ایران اسرائیل تنازع کے تناظر میں دشمن عناصر نے پاکستان میں فرقہ وارانہ انتشار پیدا کرنے کی مقتدر کوشش کی تھی، تاہم علماء، مذہبی جماعتوں، حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی مشترکہ حکمتِ عملی نے ان مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے اس کامیابی کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے وژن کا ثمر قرار دیا۔

حافظ طاہر محمود اشرفی نے ضابطۂ اخلاق “پیغامِ پاکستان” کی خلاف ورزی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ملک بھر سے موصول ہونے والی شکایات کی تعداد مجموعی سرگرمیوں کے مقابلے میں ایک فیصد سے بھی کم ہے، جن پر قانون کے مطابق مقتدر کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ مقتدر جذبۂ اخوت پورے سال برقرار رہے گا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور دیگر وزراء کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کے مؤثر تعاون نے ثابت کر دیا کہ پاکستان کے تمام مسالک قومی سلامتی اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے ایک پیج پر متحد ہیں۔

صرف تشدد کا خاتمہ پائیدار امن کی ضمانت نہیں ہوتا، پائیدار امن باہر سے مسلط نہیں کیا جا سکتا بلکہ اسے مقامی قیادت کی سربراہی میں ہی تعمیر کرنا ہوتا ہے، اقوامِ متحدہ کے امن سازی کمیشن کے سالانہ اجلاس میں سفیر عثمان جدون کا کثیرالجہتی عزم اور پاکستان کا قومی بیان،

محمود احمد june 26,2026

اقوامِ متحدہ/نیویارک (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

پاکستان نے عالمی سطح پر امن و امان کے قیام کے لیے اپنا تزویراتی موقف پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دنیا بھر میں تنازعات کی روک تھام، امن قائم کرنا، امن برقرار رکھنا، امن سازی اور معاشی و سماجی ترقی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں بلکہ پائیدار امن اور خوشحالی کے لیے ایک جامع اور باہم مربوط عمل کے لازمی اجزاء ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے امن سازی کمیشن کے بیسویں سالانہ اجلاس، جس کا مقتدر موضوع “امن سازی @20: جدت، شمولیت اور مؤثر نتائج کے لیے شراکت داریاں” تھا، میں پاکستان کا مقتدر قومی بیان پیش کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے بین الاقوامی مندوبین کو بتایا کہ عالمی تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ صرف تشدد کا خاتمہ ہی مستقل اور پائیدار امن کی ضمانت نہیں ہوتا۔

نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے تنازعات کے بعد کی مقتدر صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امن اسی وقت دیرپا اور مستحکم ثابت ہو سکتا ہے جب متعلقہ معاشرے اس کے عملی اور معاشی ثمرات خود محسوس کریں، جب ریاستی اداروں پر عام عوام کا اعتماد بحال ہو، سماجی اعتماد فروغ پائے، روزگار اور ترقی کے مواقع میں اضافہ ہو اور لوگوں کی روزمرہ زندگی میں مثبت تبدیلی نمایاں طور پر نظر آئے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ پائیدار امن کے لیے مضبوط ریاستی اداروں، سماجی ہم آہنگی، تزویراتی اقتصادی مواقع اور بحالی کے ایک ایسے جامع عمل کی ضرورت ہے جس کی قیادت اور مکمل ملکیت خود متعلقہ ممالک اور وہاں کے مقامی شراکت داروں کے پاس ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ پائیدار امن کبھی بھی باہر سے مسلط نہیں کیا جا سکتا بلکہ اسے قومی قیادت کی سربراہی میں، بین الاقوامی برادری کے بھرپور تزویراتی تعاون کے ساتھ ہی تعمیر کرنا ہوتا ہے۔

سفیر عثمان جدون نے پاکستان کی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو امن سازی کے عمل کی بنیاد بننے والے کثیرالجہتی عزم کو درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز، خصوصاً مالی وسائل کی کمی اور معیاری و اصولی فریم ورک سے متعلق مسائل پر گہری تشویش ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے پیس بلڈنگ فنڈ کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ فنڈ سیاسی عزم کو زمینی سطح پر عملی نتائج میں تبدیل کرنے کا ایک نہایت اہم اور مقتدر ذریعہ ہے۔ اس فنڈ کی لچک، محرک کردار اور قومی ترجیحات کے مطابق فوری ردعمل کی صلاحیت اسے امن سازی کے وسیع تر بین الاقوامی ڈھانچے کا ایک ناگزیر جزو بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سن کر انتہائی حوصلہ افزائی ہوئی ہے کہ امن سازی کمیشن اور پیس بلڈنگ فنڈ سے مستفید ہونے والے ممالک نے خود گواہی دی ہے کہ اس فنڈ کی معاونت سے قائم شراکت داریوں نے مقامی آبادی کے لیے کس طرح مثبت اور بامعنی نتائج فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اپنے قیام کے بیس برس مکمل ہونے پر امن سازی کے اس نئے ڈھانچے کو اس بات پر نئے اعتماد کو فروغ دینا چاہیے کہ کثیرالجہتی تعاون آج کے دور میں بھی پائیدار امن کے حصول کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔

پاکستانی خواتین کے لیے تاریخی اعزاز: سلیمہ امتیاز ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں امپائرنگ کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون بن گئیں، اب تک 4 عالمی میچوں میں ذمہ داریاں نبھا چکیں

محمود احمد june 26,2026

اسلام آباد (کھیل رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

پاکستان کی مقتدر اور نامور امپائر سلیمہ امتیاز نے عالمی کرکٹ کی تاریخ میں ایک اور سنہری سنگِ میل عبور کرتے ہوئے آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں امپائرنگ کے فرائض سرانجام دینے والی پہلی پاکستانی خاتون ہونے کا تاریخی اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔ انگلینڈ کی سرزمین پر جاری ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے مقتدر مقابلوں کے دوران سلیمہ امتیاز اپنی شاندار پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بدولت اب تک چار ہائی پروفائل میچوں میں مختلف اہم ذمہ داریاں انتہائی کامیابی سے نبھا چکی ہیں، جس میں دو میچوں میں بطور آن فیلڈ امپائر، ایک میچ میں ٹیلی ویژن (تھرڈ) امپائر اور ایک مقابلے میں فورتھ امپائر کے مقتدر فرائض شامل ہیں۔

ورلڈ کپ کے اس بڑے تزویراتی اسٹیج پر ان کی بہترین کارکردگی کے باعث آئی سی سی نے ان کی آئندہ کی مقتدر ذمہ داریوں کا شیڈول بھی جاری کر دیا ہے۔ سلیمہ امتیاز ہفتہ کے روز لندن کے تاریخی اوول گراؤنڈ میں میزبان انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہونے والے سنسنی خیز میچ میں بطور ٹیلی ویژن امپائر اپنے فرائض ادا کریں گی، جبکہ اتوار کے روز دنیا کے معروف ترین لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں روایتی حریفوں بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جانے والے ہائی وولٹیج مقابلے میں فورتھ امپائر کی مقتدر کرسی سنبھالیں گی۔ واضح رہے کہ سلیمہ امتیاز ستمبر 2024ء میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے مقتدر انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ پینل میں شامل ہونے والی بھی پہلی پاکستانی خاتون بنی تھیں، جسے پاکستان میں خواتین کرکٹ آفیشلز کے لیے اب تک کا سب سے بڑا تزویراتی سنگِ میل تصور کیا جاتا ہے۔

اس تاریخی اور مقتدر کامیابی پر میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سلیمہ امتیاز نے کہا کہ آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیسے بڑے عالمی ایونٹ میں بطور امپائر ڈیبیو کرنا ان کی ذات اور پورے پاکستان کے لیے ایک انتہائی بلند اور یادگار اعزاز ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کا یہ مقتدر سفر پاکستان کی دیگر باصلاحیت خواتین اور نوجوان لڑکیوں کے لیے مشعلِ راہ بنے گا اور انہیں کھیل کے مختلف شعبوں بالخصوص امپائرنگ اور آفیشلز کی حیثیت سے عالمی سطح پر آگے بڑھنے کی بھرپور ترغیب دے گا۔ پاکستان کے مقتدر کرکٹ حلقوں، سابق کھلاڑیوں اور شائقینِ کرکٹ نے سلیمہ امتیاز کی اس بین الاقوامی کامیابی کو پاکستان کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے اسے عالمی کھیلوں کے افق پر پاکستانی خواتین کی بڑھتی ہوئی مقتدر نمائندگی کا ایک نہایت مثبت اور شاندار مظہر قرار دیا ہے۔

پاک روس میڈیا روابط میں تاریخی پیش رفت: روسی سرکاری میڈیا گروپ ‘روسیا سیگودنیا’ کا اسلام آباد میں کثیر المقاصد ادارتی مرکز قائم کرنے پر غور، اردو سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی جلد شروع کیا جائے گا

محمود احمد june 26,2026

اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

روسی حکومت کی ملکیت اور زیرِ انتظام کام کرنے والے دنیا کے بڑے میڈیا گروپس میں سے ایک، “روسیا سیگودنیا” نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک جدید اور کثیر المقاصد ادارتی مرکز قائم کرنے اور پاکستان بھر میں اپنے نامہ نگاروں کا ایک وسیع نیٹ ورک تشکیل دینے پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔ میڈیا گروپ کی 85 ویں سالگرہ کے مقتدر موقع پر روسیا سیگودنیا کے ڈائریکٹر جنرل دمتری کیسلیوف نے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کو ایک خصوصی اور تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ادارہ پاکستان میں اپنی موجودگی بڑھانے کے لیے بہت جلد اردو زبان میں ایک جامع سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی شروع کرنے جا رہا ہے۔ اس نئی میڈیا کوریج کے دوران بین الاقوامی امور کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ہونے والی اندرونی پیش رفت اور اہم ترین ترقیاتی منصوبوں کو خصوصی فوکس کیا جائے گا۔

ڈائریکٹر جنرل دمتری کیسلیوف نے اپنے انٹرویو میں پاکستان کو ایک انتہائی اہم اور مقتدر شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ادارہ پاکستانی میڈیا اداروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین معلومات کے براہِ راست تبادلے کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم کی ضرورت پر زور دیا اور اس سلسلے میں “ماسکو-اسلام آباد میڈیا فورم” کا حوالہ دیا، جس میں دونوں ممالک کے سینئر حکام، سفارت کاروں اور پالیسی ماہرین نے شرکت کی تھی۔ انہوں نے اے پی پی، دی نیشن اور پاکستان آبزرور کے ساتھ گزشتہ سال اسلام آباد میں دستخط کی گئی مفاہمتی یادداشتوں اور پاکستان میں روسی نیوز ایجنسی “آر آئی اے نووستی” کے مستقل نمائندے کی موجودگی کو دوطرفہ صحافت کے لیے ایک مقتدر سنگِ میل قرار دیا۔ مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے انہوں نے خبروں کے مواد کے براہِ راست تبادلے، نیوز رومز تک باہمی رسائی، مشترکہ میڈیا فورمز، ماہرین کی کانفرنسوں اور دونوں ممالک کے صحافیوں کے لیے پریس دوروں کی تجویز پیش کی تاکہ اقتصادی، سائنسی اور ثقافتی شعبوں میں تفہیم کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

روسی میڈیا گروپ کے بین الاقوامی آپریشنز پر روشنی ڈالتے ہوئے دمتری کیسلیوف نے بتایا کہ روسیا سیگودنیا اپنے دو بڑے عالمی برانڈز “آر آئی اے نووستی” اور “سپوتنک” کے ذریعے درجنوں ممالک میں کام کر رہا ہے، جہاں سپوتنک 34 مختلف زبانوں میں خبریں، ریڈیو اور ملٹی میڈیا خدمات فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ میں ان کے سامعین میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور ان کا نیٹ ورک 100 سے زائد ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل نے واضح کیا کہ خبروں کی مقتدر پیداوار کے ساتھ ساتھ ان کا ادارہ عالمی سطح پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات اور “ڈیپ فیکس” جیسے ہیرا پھیری پر مبنی مواد کا مؤثر جواب دینے پر خصوصی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے تاکہ سامعین کے ساتھ اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔ انہوں نے حال ہی میں اٹلی، ایتھوپیا، بیجنگ اور بیروت میں کیے گئے توسیعی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب ان کی نظریں جنوبی ایشیا کی پھیلتی ہوئی مارکیٹ پر ہیں۔

انٹرویو کے آخر میں ڈائریکٹر جنرل نے پیشہ ورانہ تربیت کے بین الاقوامی پروگرام “سپوتنک پرو” کا تذکرہ کیا، جو 2018ء سے صحافیوں اور میڈیا طلباء کو جدید ورکشاپس فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی طلباء پہلے ہی اس پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں جبکہ حال ہی میں اے پی پی کے ایک صحافی نے ماسکو میں چار ہفتوں کا تربیتی ماڈیول مکمل کیا ہے۔ دمتری کیسلیوف نے جنوبی ایشیا کی اقتصادی اور آبادیاتی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ روس اور اس خطے کے درمیان تجارت، تعلیم اور ثقافت کے فروغ کے لیے کثیر لسانی صحافت ناگزیر ہے۔ انہوں نے خصوصی طور پر اردو، پنجابی، پشتو اور بنگالی جیسی علاقائی زبانوں میں نشریات کے آغاز کو ادارے کی اہم ترین ترجیح قرار دیا، جس سے پاک روس تعلقات میں ایک نیا اور مقتدر باب روشن ہوگا۔

عالمِ اسلام میں ابھرتے ہوئے اتحاد کا سہرا پاکستان کے تزویراتی کردار کو جاتا ہے، وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف

منصور احمد june 26,2026

سیالکوٹ (سیاسی و قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے مسلم امہ کے مابین بڑھتے ہوئے روابط پر اہم تزویراتی موقف اپنائے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکا جنگ اور حالیہ کشیدگی میں پاکستان نے جو کلیدی کردار ادا کیا ہے وہ تاریخ کے سنہری حروف میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، اور آج عالمِ اسلام میں ابھرتے ہوئے اس بے مثال اتحاد کا سہرا پاکستان کے سر جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اڈا پسروریاں میں میڈیا کے مقتدر نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے عاشورۂ محرم کے موقع پر سیالکوٹ کے مرکزی ماتمی جلوس میں شرکت کی اور جلوس کی قیادت سنبھالی۔ انہوں نے بیری والا چوک میں واقع مستری عبداللہ امام بارگاہ میں منعقدہ مجلسِ عزا میں بھی شرکت کی، جبکہ صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت محمد منشاء اللہ بٹ بھی ان کے ہمراہ فیلڈ میں موجود تھے۔

اڈ ا پسروریاں میں میڈیا سے مقتدر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ اس سال محرم الحرام ایک ایسے نازک وقت میں آیا ہے جب پورا خطہ حالیہ جنگ کے سنگین اثرات سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے ایرانی قوم کی غیر متزلزل استقامت کو زبردست سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سنتِ حسینی اور شہدائے کربلا کی ثابت قدمی کی یاد تازہ کر دی ہے۔ خواجہ آصف نے واضح کیا کہ عاشورۂ محرم کے موقع پر آج عالمِ اسلام کا جو تزویراتی اتحاد دیکھنے میں آ رہا ہے، اس کی مثال گزشتہ صدیوں میں بہت کم ملتی ہے اور اس مقتدر کامیابی کا سہرا پاکستان کے عزم و استقلال اور ایرانی عوام کی بے مثال ثابت قدمی کو جاتا ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ فلسطینیوں، ایرانیوں اور لبنانیوں کی لازوال قربانیاں رنگ لا رہی ہیں اور وہ وقت اب دور نہیں جب فلسطین ایک خود مختار اور آزاد ریاست بنے گا اور لبنان کے عوام بھی اسرائیلی ظلم و ستم سے ہمیشہ کے لیے نجات حاصل کر لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام گزشتہ اڑھائی سے تین برس سے جس قربانی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، وہ بھی درحقیقت کربلا کی ہی یاد تازہ کرتی ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ مسلم ممالک کا یہ اتحاد دائمی صورت اختیار کرے اور پوری امتِ مسلمہ ایک پرچم تلے متحد ہو جائے۔

اس مقتدر موقع پر ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) دوست محمد نے وفاق اور صوبے کے وزراء کو ضلع بھر میں محرم الحرام کے دوران کیے گئے امن و امان، ٹریفک، صفائی اور دیگر بلدیاتی انتظامات پر تفصیلی اور مقتدر بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی نے بریفنگ میں بتایا کہ 10 محرم الحرام کو ضلع بھر سے 87 ماتمی جلوس برآمد ہو رہے ہیں جن کے لیے رواں سال مثالی انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تمام جلوسوں اور مجالس کی مانیٹرنگ کے لیے 410 سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں اور ڈپٹی کمشنر آفس میں یکم محرم الحرام سے ایک مقتدر 24 گھنٹے فعال مانیٹرنگ روم قائم ہے جو صوبائی محکمہ داخلہ کے مرکزی سیل سے براہِ راست منسلک ہے۔ مزید برآں، جلوسوں کے راستوں میں سبیلیں اور شدید گرمی کے پیشِ نظر خصوصی ہیٹ اسٹروک کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں۔ ڈی پی او دوست محمد نے سیکیورٹی گراؤنڈز پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ محرم الحرام کے دوران فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے 2600 سے زائد پولیس اہلکار الرٹ ہو کر ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں، جہاں شہر میں تھری لیئر (تین درجاتی) سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے اور بلند عمارتوں کی روف ٹاپس پر بھی مسلح اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

حق و حریت کا ابدی بیانیہ: کربلا ناانصافی کے خلاف پکار رہا ہے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق اور امن کے لیے موثر اقدامات اٹھائے، مشعال حسین ملک

منصور احمد june 26,2026

اسلام آباد (کشمیر امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

جیل میں بند مقتدر حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ اور ممتاز کشمیری رہنما مشعال حسین ملک نے عالمی برادری پر پرزور انداز میں دباؤ ڈالتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے، انصاف کی فراہمی اور دیرپا امن کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر بامعنی اور موثر اقدامات اٹھائے۔ محرم الحرام کے مقتدر موقع پر جاری کیے گئے اپنے ایک خصوصی ویڈیو پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ کربلا کا لازوال پیغام پوری دنیا میں جاری ظلم و جبر کے خلاف ڈٹ جانے اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کا ابدی درس دیتا ہے۔

مشعال حسین ملک نے معرکہ کربلا کے نظریاتی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظیم قربانی سچائی، انصاف، صبر اور استقامت کی ایک ایسی لازوال علامت ہے جو دنیا بھر میں اپنے وقار اور آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والی مظلوم قوموں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سید الشہداء کی یہ بے مثال قربانی جرات، صداقت اور مقتدر انصاف کے لیے غیر متزلزل عزم کے اعلیٰ ترین انسانی نظریات کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کربلا کا پیغام وقت اور جغرافیائی حدود سے بالاتر ہے، جو محکوم اور مظلوم قوموں کو امید، حوصلہ اور طاقت دیتا ہے اور انسانیت کو یہ سکھاتا ہے کہ کس طرح پورے وقار اور استقامت کے ساتھ ظلم کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مقبوضہ وادی کی مقتدر صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے لوگ کئی دہائیوں سے اپنے بنیادی حقوق اور انصاف کے حصول کے لیے بے پناہ مشکلات، مظالم اور لازوال قربانیوں کو برداشت کرتے ہوئے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ مشعال حسین ملک نے اصرار کیا کہ محرم الحرام کا یہ مقدس مہینہ امتِ مسلمہ سمیت وسیع تر عالمی برادری کو اس مقتدر ذمہ داری کی یاد دلاتا ہے کہ وہ ہر حال میں مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوں، آپس میں اتحاد، رواداری اور ہمدردی کو فروغ دیں اور معاشرے میں انصاف کے اصولوں کو برقرار رکھیں۔ انہوں نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ غاصبانہ طاقت ہمیشہ عارضی ہوتی ہے جبکہ سچائی، الٰہی قربانی اور اصولوں کی غیر متزلزل عملداری ہمیشہ ابدی رہتی ہے اور دنیا بھر کی آنے والی نسلوں کو حق پر جینے کا حوصلہ دیتی رہے گی۔

انسانی وقار کا تحفظ: تشدد، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے، فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے عوام بدترین ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 26,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے تشدد، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کو کسی بھی مہذب معاشرے میں سراسر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسے مکروہ اقدامات انسانی حقوق اور انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین اور اسلامی تعلیمات کے بھی مکمل منافی ہیں۔ تشدد کے متاثرین کی حمایت کے عالمی دن کے موقع پر جاری کردہ اپنے مقتدر پیغام میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں تشدد کا شکار ہونے والے مظلوموں سے پرخلوص انداز میں یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر تشدد کی ہر شکل کے خاتمے، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان انسان کے تقدس و وقار سے متعلق اسلامی اقدار کی رہنمائی اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی روشنی میں تمام افراد کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے متاثرین کی بحالی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی نوعیت کے معاشرتی تشدد کے متاثرین بہترین طبی، نفسیاتی، قانونی اور سماجی معاونت کے قانونی حقدار ہیں، جبکہ تشدد کے مرتکب عناصر کا کڑا احتساب یقینی بنانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے متعلقہ قوانین کے مؤثر نفاذ، قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات اور ریاستی تحفظ و نگرانی کے نظام کو مزید مستحکم بنایا جا رہا ہے۔ اپنے پیغام میں وزیرِ اعظم نے غیر ملکی قابضین کی طرف سے منظم انداز میں تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے عوام ریاستی جبر و استبداد، قابضین کے بدترین تشدد اور توہین آمیز و غیر انسانی سلوک کا سامنا کر رہے ہیں، اور ان قابضین کے جرائم کی مذمت اور ان کی جوابدہی اب مشترکہ عالمی ذمہ داری بن چکی ہے۔

وزیرِ اعظم نے عالمی برادری کی توجہ خاص طور پر بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری دہائیوں پر محیط ریاستی دہشت گردی کے متاثرین کی مشکلات و مصائب کی جانب مبذول کرائی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر متعدد مستند رپورٹوں میں مقبوضہ کشمیر میں من مانی گرفتاریوں، دورانِ حراست وحشیانہ تشدد، جبری گمشدگیوں، اجتماعی سزاؤں اور سیاسی اختلافِ رائے کو دبانے کے بھارتی اقدامات پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے، جو کہ وہاں منظم تشدد کی عالمی تصدیق ہے۔ وزیرِ اعظم نے اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب عناصر کا احتساب یقینی بنائیں۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ پاکستان کشمیری عوام کی غیر ملکی تسلط کے خلاف جدوجہد کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ان کے حقِ خودارادیت کی بھرپور تائید کرتا ہے۔

مذہبی عقیدت اور پرامن فضاء: ملک بھر میں یومِ عاشور انتہائی احترام و غم کے ساتھ منایا گیا، پوری قوم کا شہدائے کربلا کو زبردست خراجِ عقیدت

منصور احمد june 26,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

ملک بھر میں نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے جانثار رفقاء کی عظیم قربانیوں کی یاد میں یومِ عاشور (10 محرم الحرام) انتہائی عقیدت و احترام، گہرے غم اور مقتدر روحانی جذبے کے ساتھ منایا گیا ہے۔ شہریوں، جید مذہبی اسکالرز، عوامی اور سیاسی رہنماؤں نے معرکہ کربلا کے عظیم شہداء کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے حق، انصاف اور اسلام کے لازوال پیغام کے لیے ان کی لازوال قربانیوں کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔ اس مقتدر دن کی مناسبت سے مختلف قومی میڈیا چینلز پر خصوصی معلوماتی نشریات، انٹرویوز اور مقتدر پیغامات نشر کیے گئے، جن میں ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف صبر، بے مثال قربانی اور ثابت قدمی کے ابدی اسباق کی ترویج کی گئی۔

ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں مقتدر علماء کرام اور مذہبی اسکالرز نے سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے باوفا ساتھیوں کے صداقت کے لیے غیر متزلزل اور تاریخی موقف کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ وفاقی و صوبائی دارالحکومتوں سمیت ملک بھر میں سخت اور مقتدر حفاظتی انتظامات کے تحت روایتی تعزیہ، علم اور ذوالجناح کے ماتمی جلوس نکالے گئے، جبکہ مساجد، امام بارگاہوں اور مجالس کے مقامات پر قرآن خوانی، رقت آمیز خصوصی دعاؤں اور مقتدر مذہبی اجتماعات میں لاکھوں عزادار شریک ہوئے۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں شہریوں نے اپنے وفات پا جانے والے پیاروں کے ایصالِ ثواب اور فاتحہ خوانی کے لیے مقامی قبرستانوں کا بھی رخ کیا۔

ملک بھر کے شہریوں، زائرین اور کمیونٹی رہنماؤں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے کیے گئے مقتدر انتظامات کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بہتر حفاظتی اقدامات اور جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کی تعریف کی، جسے مرکزی جلوسوں کے پرامن اور محفوظ انعقاد کو یقینی بنانے اور ملک بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے چست کیا گیا تھا۔ سیاسی و سماجی شخصیات نے شہدائے کربلا کو عقیدت کے پھول پیش کرتے ہوئے اس دن کو رہتی دنیا تک جرات، قربانی اور سچائی کی ایک لازوال اور مقتدر یاد دہانی قرار دیا۔

مختلف شہروں میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عام شہریوں کا کہنا تھا کہ پرامن حکومتی انتظامات اور نظم و ضبط کے بہترین ماحول نے انہیں مکمل آسانی اور مقتدر عقیدت کے ساتھ عاشورہ کے مراسم ادا کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا۔ شہریوں نے اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں سیکیورٹی کا انتظام انتہائی قابلِ ستائش تھا اور ہر چیز کو تزویراتی طور پر منظم کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ محفوظ ماحول سے پوری طرح مطمئن ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یومِ عاشورہ لوگوں کے مابین باہمی اتحاد، رواداری، صبر اور ایمان کو فروغ دینے کا ابدی درس دیتا ہے، اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقتدر اسوہ اور آفاقی پیغام کائنات میں انصاف، حریت اور انسانیت کے لیے ہمیشہ ایک روشن مشعلِ راہ رہے گا۔

اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کا فوری حل: بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی شکایات کے حل میں کامیابی کی شرح 83 فیصد تک پہنچ گئی، چیئرمین او پی ایف سید قمر رضا

محمود احمد june 26,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (او پی ایف) کے چیئرمین سید قمر رضا نے سمندر پار پاکستانیوں کی فلاح و بہبود اور ان کے مسائل کے فوری حل کے لیے متعارف کرائی گئی انقلابی اور مقتدر اصلاحات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ فاؤنڈیشن نے اپنے شکایتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کر دیا ہے، جس کی بدولت بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی شکایات کے حل میں کامیابی کی مقتدر شرح 83 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

جمعہ کے روز ایک مقامی ٹی وی چینل سے خصوصی اور مقتدر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین او پی ایف سید قمر رضا نے وضاحت کی کہ او پی ایف بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لیے کارکردگی، شفافیت اور خدمات کی فوری فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے اپنے انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل نظام کو مسلسل اپ گریڈ کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تارکینِ وطن کی سہولت کے لیے 24/7 واٹس ایپ، ای میل اور آن لائن پورٹل پر مشتمل ایک مربوط اور مقتدر شکایت سیل چست کیا گیا ہے، جہاں موصول ہونے والے مسائل پر فوری ایکشن لیا جاتا ہے۔

چیئرمین او پی ایف نے فاؤنڈیشن کے تعلیمی نیٹ ورک کے حوالے سے اہم معلومات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ او پی ایف اس وقت آزاد جموں و کشمیر سمیت پاکستان کے چاروں صوبوں میں 27 سے زائد مقتدر اسکولوں اور کالجوں کا انتظام کامیابی سے چلا رہی ہے۔ ان تمام تعلیمی اداروں میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی فیسوں میں 50 فیصد تک کی خطیر اور مقتدر رعایت بھی دی جا رہی ہے۔

سید قمر رضا نے مزید بتایا کہ او پی ایف بیرونِ ملک، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں مقیم محنتی پاکستانیوں کے لیے ملازمت کے عدم تحفظ اور کام کی جگہ کے خدشات جیسے سنگین مسائل کو حل کرنے کے لیے مقتدر سطح پر کوشاں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ او پی ایف کی مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیز اور دیگر فلاحی منصوبوں کو بھی تیز کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستانی کارکنوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرونِ ملک کسی پاکستانی کی وفات جیسے انتہائی نازک اور افسوسناک معاملات میں فاؤنڈیشن ان کے سوگوار خاندانوں کو بروقت مالی و انتظامی امداد کی فراہمی یقینی بناتی ہے، تاکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کا ملکی اداروں کے مقتدر تعاون پر اعتماد مزید مضبوط ہو سکے۔ او پی ایف ہر سطح پر مکمل شفافیت اور اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ سمندر پار پاکستانیوں کی خدمت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

منشیات سے پاک معاشرے کا عزم: پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسدادِ منشیات اور اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن منایا گیا، شعور بیدار کرنے کے لیے خصوصی تقاریب کا انعقاد

کاشف عباسی ,june 26,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

پاکستان سمیت دنیا بھر میں منشیات کے استعمال، اس کی روک تھام اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن جمعہ 26 جون کو مقتدر روایتی جوش و جذبے اور عزمِ نو کے ساتھ منایا گیا ہے۔ اس عالمی دن کو منانے کا بنیادی اور تزویراتی مقصد انسدادِ منشیات اور اسمگلنگ کے کثیر الجہتی خطرات کے حوالے سے عام شہریوں میں وسیع آگاہی اور شعور فراہم کرنا ہے تاکہ معاشرے سے منشیات کے استعمال کا خاتمہ، غیر قانونی بین الاقوامی تجارت کا سدِباب اور اس ممنوعہ کاروبار میں ملوث مجرمانہ نیٹ ورکس کی مکمل حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ اس وقت دنیا بھر میں نشے کے عادی افراد کی تعداد میں ہونے والا مسلسل اضافہ عالمی برادری کے لیے گہری تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔

پاکستان میں منشیات کی روک تھام کے لیے قانون نافذ کرنے والے مقتدر ادارے انتہائی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ملک میں اینٹی نارکوٹکس فورس ، پولیس اور پاکستان کوسٹ گارڈز سمیت مختلف متعلقہ ادارے مشترکہ اور انفرادی کارروائیوں کے دوران سالانہ اربوں اور کروڑوں روپے مالیت کی خطرناک منشیات برآمد کرتے ہیں اور اسمگلنگ میں ملوث سینکڑوں ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جاتا ہے۔ منشیات کی سپلائی لائن کاٹنے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں نشے کے مقتدر عادی افراد کے علاج اور ان کی بحالی کے لیے بھی حکومتی اور نجی سطح پر جامع اقدامات جاری ہیں، جن کا حتمی مقصد پاکستان کو منشیات سے پاک کر کے ایک صحت مند معاشرے کا قیام یقینی بنانا ہے۔

انسدادِ منشیات اور اس کی غیر قانونی اسمگلنگ کے اس عالمی دن کے مقتدر موقع پر ملک بھر میں سرکاری، غیر سرکاری، طبی، فلاحی، رفاعی اور نجی اداروں کے زیرِ اہتمام سیمینارز، واکس اور معلوماتی تقریبات کا بڑے پیمانے پر انعقاد کیا گیا۔ ان مقتدر تقاریب میں طبی ماہرین اور سماجی رہنماؤں نے منشیات کے جسمانی، معاشی اور معاشرتی نقصانات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مقررین نے عام آدمی بالخصوص نوجوان نسل میں اس ناسور کے خلاف شعور اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ معاشرے کے تمام طبقات مل کر اس موذی لت کے خلاف مضبوط ڈھال بن سکیں اور آنے والے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

انسانی وقار کا تحفظ: پاکستان سمیت دنیا بھر میں تشدد کے متاثرین کی حمایت کا عالمی دن منایا گیا، ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک کے خاتمے کے لیے عوامی شعور بیدار کرنے پر زور


اسلام آباد/ نیوز ڈیسک( نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

پاکستان سمیت دنیا بھر میں تشدد کے خلاف اور اس کا شکار ہونے والے متاثرین کی حمایت کا عالمی دن جمعہ 26 جون کو مقتدر انداز میں منایا گیا ہے۔ اس اہم ترین دن کو عالمی سطح پر منانے کا بنیادی مقصد تشدد سے متاثرہ بے گناہ افراد کی نفسیاتی و جسمانی بحالی، ان کے لیے قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا اور کائنات کے تمام انسانوں پر ہونے والے ہر قسم کے تشدد کے مکمل خاتمے کے لیے عوامی شعور کو بیدار کرنا ہے۔

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ تشدد تمام ہی انسانی معاشروں میں کسی نہ کسی مقتدر صورت اور کسی نہ کسی سطح پر ہمیشہ موجود رہا ہے، جو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ تشدد کے متاثرین کی حمایت کے اس عالمی دن کے مقتدر موقع پر دنیا بھر میں مہم جوئی کا حصہ بننے والے متاثرین اور ایسے دردناک واقعات میں معجزاتی طور پر بچ جانے والے افراد کو ان کی جرات پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ انسانی وقار کی بحالی کے لیے تشدد اور دیگر ظالمانہ، غیر انسانی یا رسوا کن سلوک اور سخت سزا کے خلاف اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام ایک مقتدر عالمی معاہدہ عمل میں لایا گیا تھا، جس کی تزویراتی اہمیت کے پیشِ نظر اب تک امریکہ سمیت دنیا کے 166 ممالک اس عالمی معاہدے کی باقاعدہ توثیق کر چکے ہیں۔

اس مقتدر دن کی مناسبت سے پاکستان اور دنیا بھر میں سرکاری، غیر سرکاری، فلاحی اور رفاعی اداروں کے زیرِ اہتمام خصوصی سیمینارز اور شعوری تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ ان مقتدر تقاریب میں مقررین نے معاشرے میں بڑھتے ہوئے تشدد کو روکنے، تشدد کے متاثرین کی مالی و اخلاقی تلافی کرنے، ان کی طبی و سماجی بحالی کے نظام کو مؤثر بنانے اور انسانوں پر وحشیانہ تشدد میں ملوث سنگدل عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر کڑی سزا دینے کے حوالے سے عملی اقدامات اٹھانے پر مقتدر آگاہی فراہم کی، تاکہ ایک پرامن اور متوازن معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔

ملک میں آبی صورتحال مستحکم: واپڈا نے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے مقتدر اعداد و شمار جاری کر دیے

روزینہ اسماعیل.june 26,2026

اسلام آباد (معاشی و آبی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک بھر کے تمام بڑے دریاؤں، ڈیموں اور تزویراتی آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین اور مقتدر اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ جمعہ کے روز جاری کردہ آفیشل رپورٹ کے مطابق، ملک کے آبی نظام میں پانی کا بہاؤ مستحکم ہے اور ڈیموں میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

واپڈا کی جانب سے جاری کردہ مقتدر اعداد و شمار کے مطابق مختلف دریاؤں اور پلوں پر پانی کی لائیو صورتحال درج ذیل جدول کی صورت میں ریکارڈ کی گئی ہے:

مقام / دریاپانی کی آمد (کیوسک)پانی کا اخراج (کیوسک)
دریائے سندھ (تربیلا ڈیم)1,39,1001,36,800
دریائے کابل (نوشہرہ)40,10040,100
خیرآباد پل1,72,9001,72,900
دریائے جہلم (منگلا ڈیم)37,90060,000
دریائے چناب (مرالہ)29,5008,500
جناح بیراج1,84,3001,77,800
چشمہ بیراج1,77,2001,75,000
تونسہ بیراج1,77,5001,59,000
گدو بیراج1,49,8001,11,000
سکھر بیراج1,06,10058,100
کوٹری بیراج43,400صفر
تریموں بیراج19,0003,400
پنجند بیراج12,400صفر

🏔️ بڑے ڈیموں اور آبی ذخائر کی موجودہ مقتدر سطح

تربیلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ہے، جبکہ موجودہ پانی کی سطح 1437.18 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550 فٹ ہے اور اس وقت قابلِ استعمال پانی کا مقتدر ذخیرہ 0.645 ملین ایکڑ فٹ موجود ہے۔

منگلا کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ ہے، جبکہ پانی کی موجودہ مقتدر سطح 1165.10 فٹ تک پہنچ چکی ہے۔ یہاں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی حد 1242 فٹ ہے اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2.347 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

چشمہ کا کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15 فٹ، جبکہ موجودہ سطح 640.10 فٹ ہے۔ پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 640.10 فٹ، پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 649 فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.028 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ ہوا ہے۔

جنرل اسمبلی کے اہم مباحثے میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا تزویراتی خطاب؛ دیرپا امن محض ایک وقتی واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے، سلامتی کی کامیابیوں کو معاشی بحالی سے جوڑنا ناگزیر، امن سازی فنڈ کی لچکدار مالی معاونت کی مقتدر حمایت، پریس ریلیز

محمود احمد june 26,2026

نیویارک/اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

پاکستان نے عالمی سطح پر دیرپا امن و امان کے قیام کے لیے ایک بار پھر تزویراتی موقف اپناتے ہوئے اس بات پر گہرا زور دیا ہے کہ دنیا بھر میں صرف روایتی امن مشنز کا بھیجنا کافی نہیں، بلکہ تنازعات کے آغاز ہی سے مستقل امن سازی کو عالمی عمل کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ امن مشنز سے امن سازی اور پھر متعلقہ ممالک کی قومی قیادت میں ترقی کے مرحلے تک مؤثر منتقلی کے لیے مستقل سیاسی عزم، مناسب مالی وسائل اور بین الاقوامی برادری کی مربوط معاونت ناگزیر ہے۔

امن سازی اور پائیدار امن سے متعلق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے مقتدر مباحثے میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ امن سازی کمیشن کے قیام کو بیس برس مکمل ہو چکے ہیں، جس کا بنیادی مقصد تنازعات سے نکلنے والے پسماندہ ممالک کو امن کے پائیدار استحکام اور دوبارہ جنگ کی طرف جانے سے بچانے میں معاونت فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے زمینی صورتحال کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا کہ آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نہ امن برقرار رکھنے کے مواقع پہلے جیسے رہے ہیں اور نہ ہی امن کی تعمیر کے، جبکہ دوسری جانب محدود ہوتے ہوئے وسائل پر رکن ممالک کا مقابلہ بھی بڑھتا جا رہا ہے؛ اس لیے ضروری ہے کہ ہم امن سازی کے وعدے کو پورا کرنے کے لیے مجموعی صورتحال کا سنجیدگی اور جامع انداز میں جائزہ لیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے مقتدر خطاب میں اسٹریٹجک نکتہ اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ امن کوئی ایک وقتی واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے، جو تنازعات کی روک تھام، قیامِ امن، امن مشنز، تنازعات کے بعد بحالی اور مستقل امن سازی پر مشتمل ہوتا ہے، اور یہ تمام مراحل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اور باہمی طور پر تقویت دینے والے ہیں۔ انہوں نے مصر اور سلووینیا کی سفارتی سہولت کاری میں مکمل ہونے والے “2025 پیس بلڈنگ آرکیٹیکچر ریویو” کے مقتدر نتائج کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ قومی ملکیت ، امن سازی کمیشن اور اقوامِ متحدہ کے مرکزی اداروں کے درمیان مضبوط روابط اور پورے یو این نظام میں بہتر ہم آہنگی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے مقتدر امن سازی فنڈ کے اہم کردار کو تسلیم کرتا ہے اور ان پروگراموں سے مستفید ہونے والے ممالک کے تجربات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بروقت اور لچکدار مالی و تکنیکی معاونت زمینی سطح پر حقیقی اور مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان، جو اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں فوجی دستے فراہم کرنے والے دنیا کے بڑے ممالک میں شامل ہے اور امن سازی کمیشن کا بانی رکن بھی ہے، نے خود اس امر کا مشاہدہ کیا ہے کہ سلامتی میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو ادارہ جاتی استحکام، قومی مفاہمت اور سماجی و معاشی بحالی کے ساتھ جوڑنا کس قدر ضروری ہے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان اس مشترکہ عالمی مقصد کے حصول کے لیے تمام رکن ممالک کے ساتھ مقتدر تعاون جاری رکھے گا۔

ٹیکس چوری اور جعل سازی کا ہائی پروفائل کیس: قطر میں مقیم پاکستانی کا بینک اکاؤنٹ خالی کرنے کے معاملے پر ایف بی آر کی بڑی وضاحت، واٹس ایپ پر جعلی احکامات بھیجنے کا سنسنی خیز انکشاف

منصور احمد june 25,2026

اسلام آباد (ٹیکس و معاشی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے قطر میں مقیم ایک مبینہ اوورسیز پاکستانی ارسلان آدم کے بینک اکاؤنٹ سے فنڈز کی منتقلی اور اکاؤنٹ خالی کیے جانے کے معاملے پر سوشل میڈیا اور پبلک ہلاکت خیز پروپیگنڈے کا مقتدر نوٹس لیتے ہوئے ایک انتہائی تفصیلی اور سنسنی خیز وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ یہ معاملہ کسی زیادتی کا نہیں بلکہ ٹیکس چوری اور سرکاری دستاویزات کی جعل سازی کا ایک سنگین کیس ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (ٹویٹر) پر جاری کردہ اپنے مقتدر اور تفصیلی ڈیجیٹل بیان میں ایف بی آر کے ترجمان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جناب ارسلان آدم عوامی سطح پر خود کو ایک غیر مقیم تارکینِ وطن (اوورسیز پاکستانی) کے طور پر پیش کر کے ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم سچ یہ ہے کہ سال 2017 اور 2018 کے اپنے آفیشل انکم ٹیکس گوشوارے فائل کرتے وقت انہوں نے خود اپنے دستخطوں سے اپنے آپ کو پاکستان میں مقیم شہری قرار دیا تھا۔ پاکستانی ٹیکس قانون کے تحت اس حیثیت کا حامل فرد اپنی ملکی و غیر ملکی تمام تر آمدنی پر مکمل ٹیکس دینے کا قانونی طور پر پابند ہوتا ہے۔

ایف بی آر کے مطابق، ارسلان آدم نے ہر سال 23.52 ملین روپے کی خطیر غیر ملکی آمدنی کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا، جبکہ قانون کے مطابق اس کی حد صرف 5 ملین روپے ہے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 122(9) کے تحت ایف بی آر کی جانب سے انہیں متعدد نوٹسز بھیجے گئے اور مقتدر سماعت کا مکمل و منصفانہ موقع فراہم کیا گیا، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے انکم دعووں کی تائید میں ایک بھی دستاویزی ثبوت یا بینکنگ ریکارڈ پیش کرنے میں مکمل ناکام رہے۔ ان کے اپنے اعلانات اور ثبوت فراہم نہ کرنے پر ایف بی آر نے قانون کے مطابق ان پر 30 ملین (3 کروڑ) روپے کا قانونی ٹیکس مطالبہ عائد کیا۔

بیان میں مزید انکشاف کیا گیا کہ جب ایف بی آر نے اس واجب الادا ٹیکس کی قانونی ریکوری کا عمل شروع کیا، تو جناب آدم نے اس مقتدر کارروائی کو روکنے کے لیے اپنے متعلقہ بینک کے سامنے ایف بی آر کے نام سے تیار کردہ بالکل جعلی اور من گھڑت احکامات پیش کیے، جو انہیں واٹس ایپ کے ذریعے بھیجے گئے تھے۔ ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ یہ احکامات بورڈ کی طرف سے کبھی جاری ہی نہیں کیے گئے، یہ ایف بی آر کے آفیشل آئی آر ایس سسٹم میں کہیں موجود نہیں ہیں اور نہ ہی ان پر کوئی آفیشل بارکوڈ درج ہے، جو کہ واضح جعل سازی ہے۔ اس جعل سازی کے ذریعے جب وہ ریکوری روکنے میں ناکام رہے تو انہوں نے مقتدر قانون سے بچنے کے لیے 24 جون 2026 کو کمشنر اپیلز کے سامنے ایک تاخیری اپیل دائر کی، یہ وہی دن تھا جس دن انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنا شکایتی خط وائرل کیا۔ ایف بی آر نے اعادہ کیا ہے کہ ادارہ قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنے اور قانون پسند شہریوں کی مدد کے لیے پرعزم ہے، تاہم جعل سازوں اور ٹیکس چوروں کے خلاف کسی دباؤ میں نہیں آئے گا۔

حق و صداقت کا ابدی معیار: واقعہ کربلا اصلاحِ امت، احیائے سنتِ نبوی ﷺ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے عظیم مقصد کے لیے قربانی کا نام ہے، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے یومِ عاشور (10 محرم الحرام) کے مقتدر اور فکر انگیز موقع پر امتِ مسلمہ اور پاکستانی قوم کے نام اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ معرکہ کربلا دراصل اصلاحِ امت، احیائے سنتِ نبوی ﷺ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے عظیم و آفاقی مقصد کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کا نام ہے۔ وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، انہوں نے واضح کیا کہ نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے جانثار رفقاء کی یہ عظیم قربانی نوعِ انسانی کو ایمان، صبر و استقامت، ایثار، حق پسندی اور اصلاحِ معاشرہ کے بے مثال اسباق سے روشناس کراتی ہے، جو ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں عدل و انصاف، صبر و برداشت اور ذمہ داری کے اوصاف کو ہر ممکن فروغ دیں۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے مقتدر پیغام میں تاریخی و اخلاقی حقائق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اصولوں اور مقتدر اقدار کی پاسداری ہی کسی بھی باوقار اور مہذب معاشرے کی مضبوط بنیاد ہوتی ہے۔ سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بے مثل طرزِ عمل سے کائنات کے سامنے یہ ثابت کر دیا کہ حق و صداقت، عدل و انصاف اور انسانی عظمت کے تحفظ کے لیے میدانِ جنگ میں کٹ جانا درحقیقت ظلم و جبر، ناانصافی اور باطل کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے کہیں زیادہ افضل اور اعلیٰ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ دور میں اختلافات، نفرت اور انتشار کے فرسودہ رویوں کے بجائے باہمی احترام، بین المسالک رواداری اور یکجہتی جیسی مقتدر اقدار کی مضبوطی ہی ہمارا اولین قومی پیشِ نظر ہونا چاہیے۔

اپنے مقتدر خطاب میں وزیرِ اعظم نے ملک بھر کے جید علماء کرام، مشائخ عظام، ذاکرین، ذرائع ابلاغ (میڈیا) اور نوجوان نسل سے پرزور اپیل کی کہ وہ یومِ عاشور کے حقیقی اور تزویراتی پیغام کو علمی بنیادوں پر اجاگر کریں، معاشرے میں بین المسالک احترام و ہم آہنگی کی فضاء کو برقرار رکھیں اور ہر قسم کی اشتعال انگیزی اور نفرت آمیز بیانیے کا سدِباب کریں۔ انہوں نے قوم کو عہد کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آئیے آج یہ پختہ عزم کریں کہ شہدائے کربلا کی مقتدر قربانی کی روشنی میں حق و انصاف کے ساتھ اپنی وابستگی کو مزید مضبوط کریں گے، معاشرے کے کمزور و محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے اور اپنے کردار و عمل سے ایک مضبوط، متحد اور پرامن قوم کی تعمیر میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ وزیرِ اعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ دنیا بھر میں امن و استحکام اور پوری امتِ مسلمہ کو اتحاد، اتفاق اور خیر و برکت سے نوازے۔

حق و باطل کا تزویراتی معرکہ: یومِ عاشور ہمیں صبر، استقامت، ایثار، حق گوئی اور اصولوں پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتا ہے، واقعہ کربلا ایک زندہ درسگاہ ہے، صدر مملکت آصف علی زرداری

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے یومِ عاشور کے مقتدر اور تاریخی موقع پر امتِ مسلمہ اور پاکستانی قوم کے نام اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ عاشورہ کا دن اسلامی تاریخ کا ایک عظیم، جرات مندانہ اور انتہائی بامعنی دن ہے، جو ہمیں صبر، استقامت، ایثار، حق گوئی اور اصولوں پر ثابت قدم رہنے کا ابدی درس دیتا ہے۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری کردہ مقتدر پیغام کے مطابق، صدرِ مملکت نے واضح کیا کہ اگرچہ یہ دن کئی اہم تاریخی واقعات کی یاد تازہ کرتا ہے، تاہم تاریخِ اسلام میں اس کی سب سے نمایاں اور مقتدر نسبت نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اہل بیتِ اطہار اور ان کے رفقائے وفا کی اس لازوال قربانی سے ہے جو 61 ہجری میں میدانِ کربلا میں پیش آئی۔

صدر آصف علی زرداری نے واقعہ کربلا کے تزویراتی اور نظریاتی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ معرکہ کربلا محض کوئی روایتی تاریخی سانحہ نہیں بلکہ انسانیت کے لیے ایک دائمی پیغام اور ایک زندہ درسگاہ ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مقتدر عمل سے امتِ مسلمہ کو یہ ابدی تعلیم دی کہ حق، عدل، دیانت اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے اپنے پورے خاندان سمیت ہر قسم کی قربانی تو دی جا سکتی ہے لیکن باطل، ظلم، جابرانہ ملوکیت اور ناانصافی کے سامنے کبھی سر تسلیم خم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سید الشہداء کی اس بے مثال جدوجہد کا اصل مقصد امت کی اصلاح اور دینِ محمدی ﷺ کی حقیقی و اخلاقی اقدار کا تحفظ کرنا تھا۔

صدرِ مملکت نے قوم پر زور دیا کہ آج ہمیں بطور قوم یہ مقتدر عہد کرنا چاہیے کہ ہم حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اسوۂ حسنہ اور سیرت سے حق پسندی، اخلاقی جرأت، صبر و تحمل، اعلیٰ ترین ایثار اور خدمتِ خلق کے اوصاف کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کا لازمی حصہ بنائیں۔ انہوں نے تمام پاکستانیوں سے پرزور مقتدر اپیل کی کہ وہ عاشورہ کے ان مقدس ایام میں ملک بھر میں امن، رواداری، بین المسالک احترام اور بھائی چارے کی فضاء کو ہر ممکن فروغ دیں، کسی بھی قسم کی افواہوں اور اشتعال انگیز رویوں سے مکمل اجتناب برتیں اور قومی وحدت و یکجہتی کے استحکام کے لیے اپنا مثبت اور فعال کردار ادا کریں۔ اپنے پیغام کے اختتام پر صدرِ مملکت نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں واقعہ کربلا کے حقیقی و تزویراتی پیغام کو سمجھنے، اس سے رہنمائی حاصل کرنے اور اپنی زندگیوں کو حق، عدل، صبر اور تقویٰ کے اصولوں کے مطابق استوار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔