لیونل میسی کا ریکارڈ توڑ کر ورلڈ کپ کی تاریخ میں تیز ترین 20 گول کرنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے؛ ناک آؤٹ میچز میں 12 گول کا نیا عالمی سنگِ میل

محمود احمد, JULY 10,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

فرانسیسی فٹ بال ٹیم کے مقتدر کپتان اور دنیا کے صفِ اول کے اسٹار فٹ بالر کیلین ایمباپے نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پہلے کوارٹر فائنل میں مراکش کے خلاف شاندار گول کر کے فٹ بال کی تاریخ میں متعدد نئے اور تاریخی عالمی اعزازات اپنے نام کر لیے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق، 27 سالہ فرانسیسی کپتان کیلین ایمباپے نے مراکش کے خلاف تزویراتی میچ کے 60 ویں منٹ میں ایک شاندار گول اسکور کیا، اور اس کے ساتھ ہی وہ فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں تیز ترین 20 گول مکمل کرنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔

تزویراتی اعداد و شمار کے مطابق، کیلین ایمباپے نے صرف 20 ورلڈ کپ میچز کھیل کر اپنے 20 گول مکمل کیے، اور اس مقتدر کارنامے کے ساتھ انہوں نے ارجنٹائن کے مایہ ناز فٹ بالر لیونل میسی کا تاریخی ریکارڈ بھی توڑ دیا، جنہوں نے یہ سنگِ میل 30 ورلڈ کپ میچز کھیل کر حاصل کیا تھا۔ ایمباپے نے یہ حیران کن کارنامہ اپنے تین ورلڈ کپ ایڈیشنز (2018، 2022 اور 2026) کے دوران انجام دیا۔ اس کے ساتھ ہی کیلین ایمباپے 27 سال اور 201 دن کی عمر میں ورلڈ کپ کی تاریخ میں 20 گول اسکور کرنے والے دنیا کے کم عمر ترین فٹ بالر بھی بن گئے ہیں۔ انہوں نے اب تک 2018 کے ورلڈ کپ میں 4، 2022 میں 8 اور رواں ٹورنامنٹ 2026 میں اب تک 8 گول اسکور کیے ہیں۔

اس شاندار کارکردگی کی بدولت کیلین ایمباپے فیفا ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ میچز میں سب سے زیادہ گول کرنے والے دنیا کے واحد کھلاڑی بن گئے ہیں، جہاں وہ ناک آؤٹ مرحلوں میں اب تک مجموعی طور پر 12 مقتدر گول اسکور کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ فرانس کی جانب سے بین الاقوامی فٹ بال میں 100 گولز میں براہِ راست کردار (گول کنٹریبیوشن) ادا کرنے والے پہلے فرانسیسی کھلاڑی بن گئے ہیں، جن کے نام اب 64 انفرادی گول اور 36 گول اسسٹ موجود ہیں۔ رواں ورلڈ کپ 2026 میں 8 گول اور 3 اسسٹ کے ساتھ کیلین ایمباپے 1966 کے بعد پہلے فٹ بالر بن گئے ہیں جنہوں نے دو مختلف ورلڈ کپ ایڈیشنز میں 10 سے زائد گول کنٹریبیوشنز ریکارڈ کیں۔ ناک آؤٹ مرحلے میں ان کے مجموعی 14 گول کنٹریبیوشنز بھی اب لیونل میسی کے برابر ہو گئے ہیں، جو گزشتہ 60 برسوں میں مشترکہ طور پر دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر من و عن عملدرآمد کے لیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے، وزیراعظم شہباز شریف

کاشف عباسی , JULY 10,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر من و عن عملدرآمد اور عالمی امن، سلامتی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے بین الاقوامی قوانین اور کثیرالجہتی معاہدوں کے احترام کے حوالے سے پاکستان کے مستقل اور غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔ جمعہ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے امیدوار میکی سال نے یہاں وزیراعظم ہاؤس میں ایک اہم تزویراتی ملاقات کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے میکی سال کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کے لیے پاکستان کے پائیدار عزم کو دہرایا اور عالمی امور کو مقتدر انداز میں چلانے کے لیے اقوامِ متحدہ کے مرکزی کردار کے لیے پاکستان کی مضبوط اور اصولی حمایت کا واضح اظہار کیا۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ اقوامِ متحدہ کی آئندہ آنے والی قیادت، ادارے کے تین بنیادی اور اہم ترین ستونوں، یعنی عالمی امن و سلامتی، اقتصادی ترقی اور انسانی حقوق کو متوازن انداز میں آگے بڑھانے کے لیے اپنا مؤثر تزویراتی کردار ادا کرے گی۔

ملاقات کے دوران، سیکریٹری جنرل کے امیدوار میکی سال نے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اور دیگر شعبوں کے لیے پاکستان کی دیرینہ، تاریخی اور گراں قدر خدمات کو مقتدر الفاظ میں سراہا۔ انہوں نے عالمی امن کے فروغ اور بین الاقوامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جاری کوششوں میں پاکستان کی اعلیٰ قیادت کے تعمیری اور مثبت کردار کی تعریف کی، اور اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی استحکام کے لیے پاکستان کا کردار ہمیشہ تزویراتی اہمیت کا حامل رہا ہے۔

یوکرین تنازع میں بڑھتی ہوئی کشیدگی امن کے امکانات کو مزید معدوم کر رہی ہے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا واشگاف موقف

محمود احمد, JULY 09,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

پاکستان نے عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین تنازع کی لڑائی میں حالیہ شدید اضافہ اور جنگ کے دائرۂ کار میں مسلسل توسیع نہ صرف متاثرہ علاقوں میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے، بلکہ فریقین کے درمیان فاصلے، عدم اعتماد اور تزویراتی کشیدگی کو بھی ہوا دے رہی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں پُرامن مذاکرات کے لیے سیاسی گنجائش تیزی سے سکڑ رہی ہے اور امن کے امکانات مزید معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔

مقتدر تفصیلات کے مطابق، یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے آج اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے یوکرین سے متعلق منعقدہ خصوصی اجلاس میں پاکستان کا قومی بیانیہ پیش کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اس تنازع نے جس خطرناک اور تشویشناک رخ کو اختیار کر لیا ہے، اسے فوری طور پر تبدیل کرنے کی تزویراتی ضرورت ہے، اور اس کا بہترین راستہ فوجی ذرائع کو اپنانے کے بجائے سنجیدہ مکالمے اور سفارت کاری میں مزید سرمایہ کاری کرنا ہے۔

سفیر عثمان جدون نے کونسل کو بتایا کہ واضح طور پر اس ضمن میں بنیادی ذمہ داری تمام متعلقہ فریقین پر عائد ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں ہم ایک بار پھر فوری اور مکمل جنگ بندی اور سنجیدہ و بامعنی مذاکرات کی بلا تاخیر بحالی کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور بنیادی اصولوں، تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات اور متعلقہ کثیرالجہتی معاہدوں سے ہم آہنگ، باہمی طور پر قابلِ قبول اور پُرامن تصفیہ ہی خطے میں دیرپا امن کے حصول کا واحد قابلِ عمل تزویراتی راستہ ہے۔

انہوں نے سلامتی کونسل کے اراکین کے سامنے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کے اندر اور باہر، جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل تلاش کرنے کی بارہا کی جانے والی مقتدر اپیلیں اب تک بدقسمتی سے مؤثر ثابت نہیں ہو سکیں ہیں۔ اپنے تزویراتی بیان کے اختتام پر سفیر عثمان جدون نے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس عالمی تنازع کے منصفانہ، جامع، پائیدار اور پُرامن حل کے لیے کی جانے والی تمام بین الاقوامی کوششوں کی بلا تفریق حمایت جاری رکھے گا۔

منی لانڈرنگ کے الزامات پر ارجنٹائن فٹ بال ایسوسی ایشن کے خلاف امریکا میں تحقیقات کا آغاز

محمود احمد, JULY 09,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے ارجنٹائن کی قومی فٹ بال ٹیم کی نگران تنظیم ‘ارجنٹائن فٹ بال ایسوسی ایشن’ کے خلاف منی لانڈرنگ کے سنگین الزامات کے تحت باقاعدہ تزویراتی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ارجنٹائن کی فٹ بال ایسوسی ایشن امریکی حکام کی زد میں ایک ایسے نازک وقت پر آئی ہے جب اسے 7 جولائی کو مصر کے خلاف کھیلے گئے راؤنڈ آف 16 کے ناک آؤٹ میچ میں شدید ترین دھاندلیوں اور ریفری کی جانب سے ارجنٹائن کو جتوانے کے لیے یکطرفہ فیصلوں کے باعث عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اس متنازع ترین میچ کے بعد ارجنٹائن کی ٹیم، متعلقہ ریفری اور فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا پر دنیا بھر کے کھیلوں کے حلقوں کی جانب سے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

ارجنٹائن کے معتبر اور صفِ اول کے اخبار ‘لا ناسیون’ کی جانب سے جاری کردہ تزویراتی رپورٹ کے مطابق، ایف بی آئی اس وقت فلوریڈا میں قائم کمپنی ‘ٹور پروڈ انٹر ایل ایل سی’ کے مالیاتی امور اور لین دین کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے، جو امریکا میں ارجنٹائن کی فٹ بال ایسوسی ایشن کے تجارتی و مالیاتی معاملات کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی بینکوں کے ذریعے منتقل کی جانے والی تقریباً 26 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم اس وقت وفاقی ادارے کی تحقیقات کا اصل مرکز ہے۔ حکام اس تزویراتی پہلو کا سراغ لگا رہے ہیں کہ آیا یہ مالیاتی ٹرانزیکشنز امریکی قوانین خصوصاً منی لانڈرنگ کے انسداد سے متعلق ضوابط کے خلاف تو نہیں کی گئیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس مجموعی رقم میں سے تقریباً 5 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مختلف نجی کمپنیوں اور افراد کو ایسی مبہم روش کے تحت منتقل کیے گئے جن کی کوئی ٹھوس یا قانونی وجہ فی الحال سامنے نہیں آ سکی، جس کے بعد ایف بی آئی نے متعلقہ بینکوں کے ریکارڈز اور مالی دستاویزات کو قبضے میں لے کر جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔ تحقیقاتی دستاویزات کے مطابق، جن بینکوں کے ذریعے یہ بھاری فنڈز منتقل کیے گئے ان میں سٹی بینک، بینک آف امریکہ، جے پی مورگن چیز، پی این سی بینک اور سائنووس بینک شامل ہیں۔ تاہم، رپورٹس میں ان بینکوں پر کسی بدعنوانی کا الزام نہیں ہے بلکہ ان کا نام صرف ان ٹرانزیکشنز کو پروسیس کرنے کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، اس بڑی مالیاتی انکوائری کا دائرہ کار اب ارجنٹائن فٹ بال ایسوسی ایشن کے مقتدر عہدیداروں تک پھیل گیا ہے، جن میں ایسوسی ایشن کے صدر کلاڈیو تاپیا کا نام بھی شامل ہے۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا آغاز کسی فرد کو مجرم قرار دینے کے مترادف نہیں ہوتا، تاہم یہ کسی بڑے مجرمانہ نیٹ ورک کی نشاندہی کی طرف ایک اہم تزویراتی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، ارجنٹائن کی ٹیم فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنل راؤنڈ میں سوئٹزرلینڈ کے خلاف میچ کھیلنے کی تیاریوں میں مصروف ہے، مگر اس نئے مالیاتی اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد اس تزویراتی تنازع نے دنیا بھر کے کھیلوں کے پریس اور شائقین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔

فرانس کے خلاف کوارٹر فائنل سے قبل مراکش کو بڑا دھچکا، اسماعیل صیباری انجری کے باعث باہر

محمود احمد, JULY 09,2026

بوسٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

مراکش کے مقتدر اور اسٹار فٹ بالر اسماعیل صیباری فرانس کے خلاف فیفا ورلڈ کپ 2026 کے انتہائی اہم کوارٹر فائنل میچ سے باہر ہو گئے ہیں، جس کی باقاعدہ تصدیق ٹیم کے ہیڈ کوچ محمد اوہابی نے کی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق، بوسٹن کے جلیٹ اسٹڈیم میں شیڈول مقتدر میچ سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے مراکش کے فٹ بال کوچ نے بتایا کہ اسماعیل صیباری کے علاوہ ٹیم کے تمام کھلاڑی 100 فیصد فٹ اور پُرعزم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ میچ اسماعیل صیباری کے لیے بہت جلدی آ گیا ہے لیکن امید ہے کہ وہ اگلے میچوں تک مکمل فٹ ہو جائیں گے۔

اسماعیل صیباری، جنہوں نے حال ہی میں ہالینڈ کے کلب پی ایس وی آئندھووین سے 50 ملین یورو (57 ملین ڈالر) کے عوض جرمن کلب بائرن میونخ میں شمولیت اختیار کی ہے، موجودہ فیفا ورلڈ کپ میں مراکش کے اہم ترین کھلاڑی رہے ہیں۔ انہوں نے گروپ اسٹیج کے تمام 3 میچوں میں شاندار گول کیے اور راؤنڈ آف 32 میں ہالینڈ کے خلاف پینلٹی شوٹ آؤٹ پر فیصلہ کن گول بھی داغا تھا، تاہم کینیڈا کے خلاف راؤنڈ آف 16 کے میچ میں وہ ہیمسٹرنگ انجری کا شکار ہو کر میدان سے باہر چلے گئے تھے۔

مراکش کی ٹیم 2022 کے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں فرانس کے ہاتھوں ملنے والی 0-2 کی شکست کا تزویراتی بدلہ لینے کے لیے میدان میں اترے گی۔ کوچ محمد اوہابی نے ان تجاویز کو مقتدر انداز میں مسترد کر دیا کہ کوارٹر فائنل تک پہنچنا ہی ان کی ٹیم کے لیے بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم کل کا میچ ہر حال میں جیتنا چاہتے ہیں اور سیمی فائنل میں جگہ بنانے کی پوری تزویراتی کوشش کریں گے۔ دوسری جانب مراکش اور ریال میڈرڈ کے مقتدر کھلاڑی ابراہیم ڈیاز کا کہنا تھا کہ وہ فرانس جیسی مضبوط ٹیم کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیار ہیں اور انہیں اپنی ٹیم پر پورا بھروسہ ہے۔ واضح رہے کہ اس میچ کی فاتح ٹیم سیمی فائنل میں اسپین یا بیلجیم کے مدِ مقابل آئے گی۔

بحری معیشت کے فروغ اور بین الاقوامی تجارت کی سہولت کے لیے کسٹمز نظام میں وسیع پیمانے پر اصلاحات نافذ، ممبر کسٹمز سید شکیل شاہ

محمود احمد, JULY 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ممبر کسٹمز سید شکیل شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم ٹاسک فورس کی سفارشات اور ایف بی آر میں جاری اصلاحات کے تحت بحری معیشت کے فروغ اور بین الاقوامی تجارت کو سہل بنانے کے لیے کسٹمز نظام میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کے نفاذ کا سلسلہ جاری ہے۔ وہ جمعرات کو یہاں وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے میری ٹائم افیئرز کے چیئرمین افتخار احمد راؤ اور سیکرٹری میری ٹائم افیئرز کے ہمراہ مشترکہ پریس بریفنگ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی میں میری ٹائم افیئرز کا بنیادی کردار ہے اور ٹاسک فورس کی نشاندہی پر بندرگاہوں سے متعلق متعدد اہم مسائل کے حل کے لیے مقتدر اقدامات کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں درآمدی سامان کی کلیئرنس کا دورانیہ 1 سال کے اندر 52.9 گھنٹوں سے کم ہو کر 18.3 گھنٹے رہ گیا ہے، جبکہ حکومت نے اس ہدف کو 12 گھنٹے تک لانے کا عزم کر رکھا ہے۔

سید شکیل شاہ نے بتایا کہ ٹاسک فورس کی سفارشات پر ملک کی بندرگاہوں پر کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی کے لیے فیس لیس نظام نافذ کیا گیا ہے، جس سے فی گڈز ڈیکلریشن اوسط ریونیو 16 فیصد اضافے کے بعد 6.8 ملین روپے سے بڑھ کر 7.7 ملین روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ درآمدی ٹیکسوں کی مجموعی وصولی میں 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے بڑے بحری جہازوں کو ایندھن کی فراہمی (بنکرنگ) کے مقتدر قواعد تیار کر کے کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں پر نافذ کر دیے گئے ہیں، جس سے بحری تجارت میں اضافہ ہو گا۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے قوانین اپ گریڈ کیے ہیں اور اب آف ڈاک ٹرمینلز سمیت بندرگاہوں پر مجموعی طور پر 50 ہزار کنٹینرز ذخیرہ کرنے کی گنجائش حاصل کر لی گئی ہے۔ مزید برآں، مقامی شپ بلڈنگ کے فروغ کے لیے ویسلز پر کسٹمز ڈیوٹی کے بعد اب نئے مالی سال کے بجٹ میں سیلز ٹیکس بھی مکمل ختم کر دیا گیا ہے۔

ممبر کسٹمز نے تزویراتی تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹل اصلاحات کے تحت دریائے سندھ کے اطراف ملک بھر میں 35 ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز قائم کیے جا رہے ہیں جو مشکوک، اسمگل شدہ اور ٹیکس چوری میں ملوث کارگو کی نگرانی کریں گے۔ ان مقتدر اقدامات کی بدولت پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی وصولیوں میں 124 ارب روپے اور سگریٹ پر درآمدی ڈیوٹی کی مد میں 51 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوا ہے، جبکہ ٹائروں کی قانونی درآمد میں 42 فیصد، فیبرکس میں 41 فیصد، کاسمیٹکس میں 75 فیصد اور الیکٹرانکس کی درآمدات میں 105 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ نظام میں شفافیت لانے کے لیے فریٹ فارورڈنگ ایجنٹس کی رجسٹریشن کے لیے پیشہ ورانہ امتحان کا انعقاد اب انسٹی ٹیوٹ آف بائننس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی کرے گا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان سنگل ونڈو، پیشگی کارگو ڈیکلریشن، این ایل سی کے ساتھ کنٹینرز اسکیننگ کے جدید نظام اور ریئل ٹائم ٹریکنگ سسٹم کی بدولت پاکستان کے بحری و تجارتی شعبے کو عالمی معیار کے مطابق تیار کیا جا رہا ہے۔

ترکیہ سے واپسی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غیر متوقع فیصلہ، سکیورٹی خدشات کے باعث اپنا طیارہ تبدیل کر لیا

کاشف عباسی , JULY 09,026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد ترکیہ سے وطن واپسی کے دوران اپنا طیارہ غیر متوقع طور پر تبدیل کر لیا ہے، جس کی بنیادی وجہ سنگین سکیورٹی خطرات بتائی گئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ترکیہ میں منعقدہ نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے قطر کی حکومت کی طرف سے تحفتاً دیے گئے اپنے نئے طیارے میں انقرہ پہنچے تھے۔ تاہم، واپسی کے تزویراتی سفر کے لیے انہوں نے اچانک اس طیارے کو استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے پرانے اور آزمودہ ‘ایئر فورس ون’ طیارے کے ذریعے برطانیہ تک کا سفر مکمل کیا۔

برطانیہ پہنچنے کے بعد صدر ٹرمپ نے وہاں سے امریکا تک کا بقیہ سفر دوبارہ اسی قطری تحفے والے طیارے میں کیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک مقتدر بیان میں اس غیر متوقع تبدیلی کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے انقرہ سے برطانیہ کے علاقے ملڈن ہال میں واقع رائل ایئر فورس کے فوجی بیس تک کا سفر اپنے پرانے ‘ایئر فورس ون’ طیارے میں کیا، جبکہ اس تزویراتی دورانئے میں ان کا نیا طیارہ اسی ایئر بیس پر محفوظ کھڑا رہا اور وہاں تعینات امریکی سکیورٹی فوجیوں نے اس کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔

واضح رہے کہ امریکا کے اعلیٰ سکیورٹی حکام نے قطر کی طرف سے امریکی صدر کو تحفتاً دیے گئے اس جدید طیارے کی پہلے بھی کئی مرتبہ تفصیلی جانچ پڑتال کی ہے۔ انقرہ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا باقاعدہ اعتراف کیا کہ انہیں موجودہ صورتحال میں ممکنہ طور پر ایران کی جانب سے شدید سکیورٹی خطرات لاحق ہیں، جس کی وجہ سے یہ حفاظتی تزویراتی اقدامات اٹھائے گئے۔

چین میں رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران نئی توانائی کی گاڑیوں کی پیداوار، فروخت اور برآمدات میں مستحکم اضافہ ریکارڈ

منصور احمد, JULY 09,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

چین میں رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران نئی توانائی کی گاڑیوں (نیو انرجی وہیکلز) کی پیداوار، فروخت اور بین الاقوامی برآمدات میں مقتدر و مستحکم اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے چائنا ایسوسی ایشن آف آٹوموبائل مینوفیکچررز کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ ترین تزویراتی اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ رواں سال جنوری سے جون تک کے عرصے میں چین کی آٹوموبائل صنعت نے نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کے شعبے میں بے پناہ ترقی کا مظائرہ کیا ہے۔ جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس 6 ماہ کے عرصے کے دوران چین میں نئی توانائی کی گاڑیوں کی مجموعی پیداوار 74 لاکھ 38 ہزار یونٹس جبکہ فروخت 74 لاکھ 46 ہزار یونٹس رہی، جو بالترتیب گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 6.7 فیصد اور 7.3 فیصد زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق، صرف جون کے مہینے میں نئی فروخت ہونے والی گاڑیوں کی مارکیٹ میں نئی توانائی کی گاڑیوں کا حصہ مجموعی طور پر فروخت ہونے والی تمام گاڑیوں کا تقریباً 60 فیصد رہا، جو کہ ماحول دوست اور جدید گاڑیوں کی طرف ایک مقتدر تزویراتی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ عالمی برآمدات کے حوالے سے جاری کردہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ جنوری سے جون تک چین نے دنیا بھر کے مختلف ممالک کو مجموعی طور پر 50 لاکھ 96 ہزار گاڑیاں برآمد کیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 65.3 فیصد کا مقتدر اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ ان برآمد کی جانے والی گاڑیوں میں سے صرف نئی توانائی کی گاڑیوں کی برآمدات کا حجم 23 لاکھ 55 ہزار رہا، جو سالانہ بنیادوں پر 1.2 گنا مقتدر و تاریخی اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

ایران کی جانب سے امریکی فوجی حملوں اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی شدید مذمت، سلامتی کونسل کو خط ارسال

محمود احمد, JULY 09,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

ایران نے امریکا کی جانب سے ایک بار پھر کی جانے والی مبینہ جارحانہ کارروائیوں اور اقوامِ متحدہ کے منشور سمیت تمام بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق، اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے سفیر امیر سعید ایروانی نے گزشتہ روز اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش اور جولائی کے مقتدر مہینے کے لیے سلامتی کونسل کے صدر کو ایک باقاعدہ خط ارسال کیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا نے ایک بار پھر جنوبی ایران میں واقع شہری تنصیبات پر بڑے پیمانے پر فوجی حملے کیے ہیں۔ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے کی جانے والی یہ نئی جارحانہ کارروائیاں اقوامِ متحدہ کے منشور کی دفعہ ۲ (۴) کی کھلی خلاف ورزی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق ۱ کی سنگین ترین خلاف ورزی ہیں۔

ایرانی مندوب سفیر امیر سعید ایروانی نے اپنے مقتدر خط میں تزویراتی موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ سویلین اور شہری تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا اور ایران کی خودمختاری کے خلاف طاقت کا مسلسل و غیر قانونی استعمال بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین ترین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاندانہ اقدامات امریکا کی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے مکمل انحراف اور توہین کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایرانی مندوب نے اپنے مقتدر بیانیے میں اس بات کا پرزور اعادہ کیا کہ ایران یہ واضح کر دینا چاہتا ہے کہ امریکا کی طرف سے طاقت کے اس غیر قانونی استعمال، اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تمام تر سنگین نتائج اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کی تمام تر اخلاقی و قانونی ذمہ داری براہِ راست امریکا پر عائد ہوتی ہے۔

برطانیہ میں مقیم پاکستانی برادری دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

محمود احمد, JULY 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر خزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کے مابین اقتصادی و تجارتی روابط کو مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، اور پاکستان برطانیہ کے ساتھ اپنی دیرینہ و پائیدار شراکت داری کو ہر شعبے میں مزید وسعت دینے کے لیے مکمل پرعزم ہے۔ انہوں نے یہ مقتدر باتیں جمعرات کو یہاں برطانیہ میں پاکستان کے نو تعینات ہائی کمشنر ٹیپو عثمان سے ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران کہیں۔ ملاقات میں باہمی اقتصادی مفادات کے امور، پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مالیاتی تعاون کے فروغ اور دوطرفہ تزویراتی شراکت داری کو نئی جہت دینے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے ہائی کمشنر کو نئی سفارتی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے یقین ظاہر کیا کہ ان کا وسیع سفارتی تجربہ برطانیہ میں پاکستان کی اقتصادی سفارت کاری کو مزید مؤثر بنانے میں اہم ثابت ہو گا۔

مقتدر ملاقات کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، بینکاری، ترسیلاتِ زر، کیپیٹل مارکیٹس اور مالیاتی خدمات کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ پاکستان کے روابط کو مزید مضبوط بنانے پر غور کیا گیا، جبکہ لندن کی عالمی مالیاتی مرکز کی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے مالیاتی وسائل اور کیپٹل مارکیٹس کے تزویراتی اہداف کے حصول میں اس کے کلیدی کردار پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیرِ خزانہ نے حکومت کی جانب سے مالی وسائل کے ذرائع کو متنوع بنانے، بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹوں تک رسائی بڑھانے اور ملکی مالیاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔ فریقین نے ڈیجیٹل فنانس، بلاک چین پر مبنی مالیاتی حل، ورچوئل اثاثوں اور ٹوکنائزیشن جیسے جدید مالیاتی ذرائع پر بھی بات چیت کی، جنہیں پاکستان کے وسیع تر ڈیجیٹل تبدیلی کے ایجنڈے کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔

ملاقات میں قرضوں کے مؤثر انتظام اور کیپٹل مارکیٹس کی ترقی کے لیے برطانیہ کے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کے ساتھ جاری تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ ہائی کمشنر ٹیپو عثمان نے وزیر خزانہ کو ادارہ جاتی سرمایہ کاروں سے روابط بڑھانے اور معروف مالیاتی اداروں کے اشتراک سے مستقبل میں برٹش مارکیٹ میں سرمایہ کاری سے متعلق روڈ شوز کے انعقاد کے امکانات سے بھی آگاہ کیا۔ وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ معاشی استحکام برقرار رکھنے، مالیاتی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے، کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے اور نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار معاشی ترقی کے لیے حکومت اپنی اصلاحات کی پالیسیوں پر بھرپور انداز میں عمل پیرا ہے۔ فریقین نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا، جبکہ ہائی کمشنر نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد، تاریخی روابط اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں جن میں مستقبل میں ترقی کے بے شمار امکانات موجود ہیں۔

پالیسیوں کا تسلسل، مصنوعی ذہانت اور اقتصادی سفارت کاری پاکستان کے معاشی مستقبل کے بنیادی ستون ہیں، پروفیسر احسن اقبال

کاشف عباسی , JULY 09,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پالیسیوں کا تسلسل، پائیدار امن، مصنوعی ذہانت، جدت طرازی اور اقتصادی سفارت کاری پاکستان کے معاشی مستقبل کے بنیادی ستون ہیں جبکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی قومی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جمعرات کو وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے جاری کردہ تزویراتی بیان کے مطابق، اپنے دورۂ کیلیفورنیا کے دوران پاکستانی کمیونٹی اور کاروباری شخصیات سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنے علم، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کی معاشی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام تر اختلافات سے بالاتر ہو کر ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کے جذبے کو فروغ دینا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے بتایا کہ اوپن کے بورڈ اراکین کے ساتھ ایک مقتدر ملاقات میں پاکستان کی اختراعی معیشت، ٹیکنالوجی اور کاروباری ترقی کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات پر اتفاق کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی سفارت کاری کو مزید مؤثر بناتے ہوئے بیرونِ ملک پاکستانی سفارتی مشنز کو تجارت، برآمدات اور ٹیکنالوجی تعاون کے مقتدر مراکز میں تبدیل کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے خصوصی مشاورتی گروپس قائم کیے جائیں گے جبکہ تعلیمی نصاب کو بھی مستقبل کے تزویراتی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سلیکون ویلی اور پاکستان کے نیشنل انوویشن سینٹرز کے درمیان شراکت داری کے ذریعے پاکستانی اسٹارٹ اپس کو عالمی منڈیوں تک براہِ راست رسائی فراہم کی جائے گی، کیونکہ پاکستانی انجینئرز اور آئی ٹی ماہرین عالمی معیار کی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔

اپنے دورے کی اہم کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ عالمی شہرت یافتہ ادارے ‘پلگ اینڈ پلے’ کے پاکستان میں باقاعدہ آغاز کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک مقتدر ‘لیٹر آف انٹینٹ’ پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔ اس تزویراتی شراکت داری کے تحت وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور کراچی کو انوویشن ہبز کے طور پر فروغ دیا جائے گا، جبکہ ملک کی ممتاز جامعات کے ۳۰۰ منتخب اسٹارٹ اپس کو عالمی معیار کے ایکسیلیریشن پروگرامز سے منسلک کیا جائے گا۔ پروفیسر احسن اقبال نے واضح کیا کہ اس اہم شراکت داری کے ذریعے پاکستانی اسٹارٹ اپس کو دنیا بھر کی ۶۰۰ سے زائد عالمی کمپنیوں سے مقتدر رابطے اور اسٹریٹجک تعاون کے بہترین مواقع میسر آئیں گے، جس سے پاکستان کی ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کو پائیدار فروغ حاصل ہوگا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے نیویارک میں اہم ملاقات

محمود احمد, JULY 09,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر داخلہ و انسدادِ منشیات محسن نقوی نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ایک اہم اور تزویراتی ملاقات کی ہے، جس کے دوران علاقائی صورتحال، بین الاقوامی امور، اور بالخصوص مغربی ایشیا میں جاری تنازعات کے خاتمے کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی مقتدر ثالثی کی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں اقوامِ متحدہ کے قیامِ امن مشنز میں پاکستان کی لازوال خدمات اور طویل المدتی تعاون کا بھی احاطہ کیا گیا۔ ترجمان وزارتِ داخلہ کے مطابق، اس اہم ملاقات کے دوران سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بین الاقوامی امن کی بحالی کے لیے پاکستان کی مخلصانہ اور مؤثر کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ عالمی و علاقائی چیلنجز کے باوجود وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے اور بے گناہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے انتہائی ذمہ دارانہ اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حقیقت پسندانہ مینڈیٹ اور درکار مالی و آپریشنل وسائل تمام عالمی امن مشنز کی کامیابی کے لیے بنیادی ضرورت ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عالمی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے عظیم مقصد کے حصول کے لیے اقوامِ متحدہ کے قیامِ امن میں پاکستان کے مستقل، فعال اور طویل المدتی تعاون پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔

دوسرے ہاف تک مصر کو دو صفر کی برتری حاصل تھی؛ ریفریز کے متنازع فیصلوں اور پنالٹی نہ دینے پر ارجنٹائن کی فتح کے خلاف سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل

محمود احمد, JULY 08,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 8 جولائی 2026ء

فٹبال عالمی کپ دو ہزار چھبیس کے مقتدر مقابلے اس وقت ایک بڑے تنازع کی زد میں آ گئے ہیں جب ٹاپ سولہ راؤنڈ کے ایک انتہائی اہم پری کوارٹر فائنل میچ میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن اور مصر کے درمیان کھیلے گئے مقابلے نے شدید متنازع صورتحال اختیار کر لی۔ تفصیلات کے مطابق، اس سنسنی خیز اور اعصاب شکن مقابلے میں ارجنٹائن نے مصر کو دو کے مقابلے میں تین گول سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں اپنی جگہ تو بنا لی ہے، لیکن میچ کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ کھیل کے دوسرے ہاف کے آدھے سے زیادہ وقت گزرنے تک مصر کی مضبوط ٹیم کو صفر کے مقابلے میں دو گول کی مقتدر برتری حاصل تھی، تاہم ارجنٹائن نے میچ کے آخری مختصر وقت میں اچانک تین پے در پے گول داغ کر میچ کا فیصلہ یکسر اپنے حق میں بدل دیا۔

ارجنٹائن کی اس اچانک فتح اور واپسی میں عالمی فٹبال ایسوسی ایشن کے ریفریز کا کردار انتہائی مشکوک اور جانبدارانہ نظر آیا۔ میچ کے دوران مصر کی ٹیم کی جانب سے کیا گیا ایک بالکل واضح اور درست گول نہ صرف فاؤل قرار دے کر منسوخ کر دیا گیا، بلکہ کھیل کے بالکل اختتامی اور فیصلہ کن لمحات سے ٹھیک پہلے مصری ٹیم کو ایک واضح اور یقینی پنالٹی دینے سے بھی صاف محروم کر دیا گیا۔ اس کے برعکس، مقتدر میچ کے دوران ارجنٹائن کے کھلاڑیوں کی جانب سے کیے جانے والے کئی سنگین فاؤلز کو فیلڈ ریفریز نے یکسر نظر انداز کیا۔ اس میچ کی متنازع ترین ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جس کے بعد دنیا بھر کے فٹبال صارفین سمیت خود ارجنٹائن کے بعض کھلاڑی اور کوچ بھی ریفریز کے ان ناقص فیصلوں پر کڑی تنقید کرتے نظر آ رہے ہیں۔ عالمی فٹبال کے مداحوں کی جانب سے اس پورے میچ کو جان بوجھ کر ارجنٹائن کے حق میں فکس قرار دے کر شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔

انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر ٹرمپ کی میڈیا سے مقتدر گفتگو؛ نیٹو کارکردگی پر شدید عدم اطمینان، اسپین کے ساتھ تجارت بند کرنے کا حکم

کاشف عباسی , JULY 08,026

انقرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 8 جولائی 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتہائی اہم اور تزویراتی اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی مفاہمت کی یادداشت اب مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، اور امریکی افواج نے گزشتہ رات ایران کے اندر ایک بڑی فوجی کارروائی کی ہے۔ ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس کے مقتدر موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایران، نیٹو اتحاد اور اسپین کے حوالے سے انتہائی سخت اور اہم بیانات جاری کیے۔ صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ گزشتہ روز ایران نے سعودی عرب اور دیگر ممالک کے تجارتی بحری جہازوں پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں ہم نے گزشتہ رات ایران کے انتہائی خطرناک لوگوں پر بہت طاقتور حملے کیے ہیں۔ انہوں نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیمار ذہنیت لوگ ہیں، ہم نے ایران کے معاملے میں پہلے ہی بہت زیادہ وقت ضائع کر دیا ہے، اس لیے اب مفاہمت کا وقت ختم ہو چکا ہے اور ہمیں آگے بڑھ کر اپنا کام کرنا ہوگا۔

امریکی صدر نے میڈیا کو بتایا کہ انقرہ میں نیٹو چیف کے ساتھ ان کے انتہائی تعمیری مذاکرات ہوئے ہیں، جس میں بنیادی طور پر ایران کو نیوکلیئر ہتھیاروں سے پاک کرنے کے تزویراتی ہدف پر بات چیت کی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل یا برقرار نہیں رکھ سکتا۔ تاہم، صدر ٹرمپ نے نیٹو اتحاد پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے امریکہ کا ایک مشکل ترین پارٹنر قرار دیا اور کہا کہ وہ نیٹو کی کارکردگی سے بالکل خوش نہیں ہیں کیونکہ اس مقتدر فوجی اتحاد نے ایران کے خلاف امریکی مہم میں مطلوبہ مدد فراہم نہیں کی۔

اس موقع پر امریکی صدر نے اسپین کے خلاف ایک انتہائی سخت اور غیر متوقع موقف اپناتے ہوئے اسے نیٹو کا ایک خوفناک شراکت دار قرار دیا۔ انہوں نے مقتدر اعلان کیا کہ انہوں نے اپنے وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو فوری طور پر اسپین کے ساتھ تمام تر دوطرفہ تجارت بند کرنے کا قطعی حکم دے دیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر کے اس سخت ترین معاشی اقدام کے پیچھے تزویراتی عوامل کارفرما ہیں؛ رواں سال مارچ میں اسپین کی حکومت نے باقاعدہ اعلان کیا تھا کہ امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی آپریشنز کے لیے اسپین کی سرزمین پر موجود مشترکہ فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور اس کے ساتھ ہی اسپین نے ممکنہ جنگ میں شامل امریکی جنگی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بھی مکمل طور پر بند کر دی تھیں۔

جنیوا کانفرنس کے دوران ڈاکٹر عبداللہ الغامدی اور یونیسکو کے مقتدر عہدے دار کے درمیان اہم ملاقات؛ عالمی سطح پر اخلاقی ضوابط کی پالیسی پر تبادلہ خیال، پریس ریلیز

محمود احمد, JULY 08,2026

جنیوا (نیوز اینڈ نیوز) — 8 جولائی 2026ء

سعودی عرب کی مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سے متعلق امور کے لیے قائم مقتدر ادارے کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الغامدی اور یونیسکو کے مقتدر نمائندے کے مابین سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ایک اہم اور تزویراتی ملاقات ہوئی ہے۔ یہ مقتدر ملاقات مصنوعی ذہانت اور حکومت سے متعلق عالمی مکالمے کے سلسلے میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر سائیڈ لائنز میں ہوئی۔ ملاقات کے دوران دونوں اعلیٰ عہدے داروں نے سعودی عرب اور یونیسکو کے مابین مصنوعی ذہانت کی جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں باہمی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جبکہ مصنوعی ذہانت کے پس منظر میں عالمی سطح پر اخلاقی ضوابط کی مقتدر پالیسی اور اس سے جڑے اہم امور کو بھی زیرِ بحث لایا گیا۔

ڈاکٹر عبداللہ الغامدی نے یونیسکو کی جانب سے اس سلسلے میں بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی مخلصانہ کوششوں کو مقتدر الفاظ میں سراہا، اور ساتھ ہی مملکتِ سعودی عرب کی طرف سے بین الاقوامی سطح پر ادا کیے جانے والے کلیدی کردار اور عالمی معیار کے قائم کردہ مرکز کا خصوصی ذکر کیا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کے اس مقتدر ادارے کو یونیسکو کی جنرل کانفرنس نے دوسرے درجے کے مرکز کے طور پر منظور کیا تھا، جو عالمی سطح پر اس جدید ٹیکنالوجی کی تحقیق و ترقی کے تزویراتی امور میں مدد دینے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر الغامدی نے سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی ان مقتدر کوششوں پر بھی روشنی ڈالی جو بین الاقوامی سطح پر مصنوعی ذہانت کے اصولوں اور پریکٹس کے لیے کی جا رہی ہیں، جس کے تحت اب تک ۶۰ سے زائد کمپنیوں کے لیے مصنوعی ذہانت کے مقتدر اصول واضح کیے جا چکے ہیں۔

وزیراعظم کا چین کے مختلف علاقوں میں تباہ کن طوفان، شدید بارشوں اور مٹی کے تودے گرنے سے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار

کاشف عباسی , JULY 08,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 8 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چین کے مختلف علاقوں میں تباہ کن طوفان، شدید بارشوں، بگولوں اور مٹی کے تودے گرنے کے باعث ہونے والے قیمتی جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔ بدھ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر جاری کردہ اپنے ایک مقتدر تزویراتی بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ وہ چین کے گوانگ شی ژوانگ خودمختار علاقے سمیت ہوبے اور گانسو صوبوں میں حالیہ تباہ کن موسمیاتی آفات سے ہونے والے قیمتی جانی نقصان پر انتہائی رنجیدہ ہیں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے غیور پاکستانی عوام اور اپنی حکومت کی طرف سے چینی صدر شی جن پنگ، چین کی حکومت، وہاں کے عوام اور بالخصوص اس آفت کے نتیجے میں متاثر ہونے والے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے اپنے مقتدر بیان میں مزید کہا کہ اس انتہائی مشکل گھڑی میں ہم اپنے عظیم اور دیرینہ چینی بہن بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے آفات کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی اور متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی و ریسکیو کارروائیوں کی مکمل کامیابی کے لیے بھی خصوصی دعا کی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی نیویارک میں سری لنکن ہم منصب آنند وجے پالا سے اہم ملاقات؛ سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق

محمود احمد, JULY 08,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 8 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر داخلہ و انسداد منشیات محسن نقوی نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں سری لنکا کے وزیر داخلہ آنند وجے پالا سے ایک مقتدر ملاقات کی ہے، جس کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس تزویراتی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے انسدادِ منشیات کے حوالے سے مؤثر کوآرڈینیشن قائم کرنے اور پولیس ٹریننگ کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید بڑھانے کا مقتدر فیصلہ کیا ہے۔

ملاقات میں غیر قانونی امیگریشن اور جعلی پاسپورٹ پر سفر کرنے والے جرائم پیشہ عناصر کی روک تھام کے لیے بھی اشتراکِ کار کو تیز کرنے پر مکمل اتفاق کیا گیا، جس کے تحت دونوں ملکوں کے امیگریشن شعبے کے سربراہان فی الفور ایک دوسرے سے رابطہ قائم کریں گے۔ دونوں وزرائے داخلہ نے عالمی سطح پر جرائم پیشہ افراد کے نیٹ ورکس اور منی لانڈرنگ کے جڑ سے خاتمے کے لیے ایک مشترکہ مفاہمتی یادداشت پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس مقتدر تعاون کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھانے کے لیے دونوں ممالک کی وزارتوں کے مابین ایک ’’جوائنٹ ورکنگ گروپ‘‘ تشکیل دینے اور شہریوں کو ویزا سے متعلق درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

یکطرفہ اقتصادی اقدامات خودمختار مساوات اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے منافی ہیں؛ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا مقتدر خطاب

محمود احمد, JULY 08,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 8 جولائی 2026ء

پاکستان نے عالمی فورم پر کیوبا کے حق میں مقتدر آواز اٹھاتے ہوئے وہاں عائد اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی پابندیوں کے فوری خاتمے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان پابندیوں کا خاتمہ نہ صرف کیوبا کے غیور عوام کو درپیش شدید انسانی مشکلات اور مصائب میں کمی لانے میں مقتدر حد تک مددگار ثابت ہوگا، بلکہ انہیں ترقی اور خوشحالی کے بنیادی حق سے مستفید ہونے کا مساوی موقع بھی فراہم کرے گا، جبکہ اس اقدام سے کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی اشتراکِ عمل کے اصولوں کو بھی پائیدار تقویت ملے گی۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں “ریاستہائے متحدہ امریکہ کی جانب سے کیوبا پر عائد اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی پابندیوں کے خاتمے کی ضرورت” کے اہم عنوان سے ہونے والے دوسرے مقتدر مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کیوبا اور اس کے عوام پر عائد طویل پابندیوں کے منفی اثرات پر پاکستان کی گہری تشویش کا کھل کر اظہار کیا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کے کثیرالجہتی نظام اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں سے اپنے دیرینہ و مقتدر عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ خودمختار مساوات اور باہمی احترام پر مبنی بین الاقوامی تعاون اور کثیرالجہتی روابط ہی اصل میں عالمی نظام کی مضبوط بنیاد ہیں۔ انہوں نے تزویراتی انداز میں اس بات پر زور دیا کہ یکطرفہ اقتصادی اقدامات، خصوصاً جب انہیں ترقی پذیر ممالک کے خلاف امتیازی انداز میں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے، تو یہ ان تمام بنیادی عالمی اصولوں سے کھلم کھلا متصادم ہو جاتے ہیں، جن کی اجازت بین الاقوامی قانون ہرگز نہیں دیتا۔

پاکستانی مندوب نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور زریں اصولوں، بالخصوص دنیا کی تمام ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے غیر مشروط احترام کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے منشور کے باب ششم کے مقتدر قوانین کے مطابق تمام تر بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا اور تمام متعلقہ فریقوں پر یہ واضح کیا کہ وہ آپسی مسائل کے پائیدار حل کے لیے باہمی مکالمے اور سفارت کاری کے مؤثر راستے کو اپنائیں اور اس سلسلے میں اپنی مخلصانہ کوششیں مستقل جاری رکھیں۔

طویل تنازعات اور غیر ملکی قبضے کے شکار علاقوں میں مظالم بین الاقوامی برادری کی سب سے بڑی ناکامی ہیں؛ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا مقتدر خطاب

محمود احمد, JULY 07,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 07 جولائی 2026ء

پاکستان نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک مضبوط اور تزویراتی موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ‘ذمہ داری برائے تحفظ’ کے فریم ورک کی سب سے بڑی ناکامی ان مخصوص حالات میں کھل کر نمایاں ہوتی ہے جہاں دہائیوں پرانے طویل تنازعات اور غیر ملکی غاصبانہ قبضے اب بھی جاری ہوں، اور بین الاقوامی برادری کی مسلسل توجہ کے باوجود معصوم انسانوں پر مظالم کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری رہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں “ذمہ داری برائے تحفظ اور نسل کشی، جنگی جرائم، نسلی تطہیر اور انسانیت کے خلاف جرائم کی روک تھام” کے مقتدر عنوان سے منعقدہ اہم مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ دنیا کا کیا گیا “دوبارہ کبھی نہیں” کا تاریخی وعدہ آج بھی ادھورا ہے، کیونکہ عالمی سطح پر اجتماعی مظالم کے شکار لاچار متاثرین کو نہ تو کوئی ذمہ داری میسر آ سکی ہے، نہ تحفظ اور نہ ہی انصاف مل پایا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ نسل کشی، جنگی جرائم، نسلی تطہیر اور انسانیت کے خلاف جرائم انسانیت کے بدترین اور سنگین ترین جرائم میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سال دو ہزار پانچ کے عالمی سربراہی اجلاس میں ‘ذمہ داری برائے تحفظ’ کا یہ مقتدر اصول ایسے ہی سنگین ترین انسانی جرائم کی بیخ کنی اور روک تھام کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ تاہم، دو دہائیوں سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود آج یہ پورا فریم ورک شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جبکہ دنیا بھر میں مختلف تنازعات کی تعداد غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے۔ ان کے مطابق، اجتماعی مظالم کی روک تھام کا مشترکہ اور تزویراتی مقصد اکثر اوقات عالمی سطح پر بے عملی، حقیقت سے انکار، انتخابی رویوں اور ادارہ جاتی جمود کی نذر ہو جاتا ہے۔

سال دو ہزار پانچ کے عالمی سربراہی اجلاس کے نتائج پر مشتمل مقتدر دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے سفیر عاصم نے کہا کہ ذمہ داری برائے تحفظ کا بنیادی تصور ریاستوں کی اپنی اندرونی ذمہ داری اور بین الاقوامی برادری کی مجموعی اجتماعی ذمہ داری کے درمیان ایک توازن پر مبنی تھا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جو ممالک ماضی میں متنازع نظریات کے تحت کارروائیوں کے سخت حامی تھے، آج وہ رکن ممالک کی متفقہ اجتماعی ذمہ داری کو پوری کرنے سے صاف گریزاں ہیں۔ انہوں نے مقتدر فورم کو بتایا کہ دنیا میں قابض طاقتیں سنگین ترین جرائم کے ارتکاب کے باوجود جوابدہی سے مکمل محفوظ رہتی ہیں، جبکہ بعض دیگر حالات میں حکومتوں کی جانب سے اپنے عوام کے تحفظ اور مستقل امن کی بحالی کی مخلصانہ کوششوں کو بیرونی سیاسی و اقتصادی دباؤ، بیرونی مداخلت اور باغی و دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کے ذریعے جان بوجھ کر کمزور کیا جاتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے مقتدر انداز میں زور دیا کہ اگر اس اصول کو ایک معتبر انسانی اصول کے طور پر زندہ رکھنا ہے، تو اس پر اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق، یکساں، مستقل اور کسی بھی دوہرے معیار کے بغیر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے اجتماعی مظالم کی روک تھام کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی اختیار کرنے کا مطالبہ کیا، جس میں ابتدائی انتباہی نظام، امن مشنز اور امن سازی کی کوششوں میں مستقل سرمایہ کاری شامل ہو۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود طویل المدتی اور دیریںہ تنازعات کو متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانونی اصولوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔ مزید برآں، انہوں نے نفرت انگیز تقاریر، غیر ملکیوں سے نفرت، اسلاموفوبیا اور دیگر انتہا پسند نظریات کا مؤثر مقابلہ کرنے کو ناگزیر قرار دیا، کیونکہ یہی عوامل دنیا میں امتیازی سلوک، تشدد اور اجتماعی مظالم کو جنم دیتے ہیں۔ اپنے اختتامی کلمات میں سفیر عاصم نے عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر ان مقتدر مقاصد کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں مستقل جاری رکھے گا۔

سنسنی خیز مقابلے کے بعد ارجنٹائن فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے اگلے مرحلے میں داخل؛ مصری ٹیم کی بھرپور مزاحمت

محمود احمد, JULY 07,2026

ٹیکساس (نیوز اینڈ نیوز) — 7 جولائی 2026ء فیفا ورلڈ کپ 2026ء

کے تزویراتی اور مقتدر مقابلے اب اپنے انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ٹاپ 16 راؤنڈ کے ایک انتہائی اہم اور سنسنی خیز پری کوارٹر فائنل میچ میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن نے مصر کی مضبوط ٹیم کو ایک سخت اور اعصاب شکن مقابلے کے بعد 2-3 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ اس مقتدر کامیابی کے ساتھ ہی ارجنٹائن نے عالمی کپ کی ٹرافی اپنے نام برقرار رکھنے کی دوڑ میں قدم مضبوطی سے جما لیے ہیں، جبکہ دوسری جانب مصر کی ٹیم مقتدر کھیل پیش کرنے کے باوجود ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی ہے اور اس کا عالمی کپ کا سفر یہیں اختتام پذیر ہو گیا۔

دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا یہ پری کوارٹر فائنل مقابلہ فٹبال کے شائقین کے لیے سحر انگیز ثابت ہوا۔ میچ کے آغاز ہی سے دونوں جانب سے جارحانہ فٹبال کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ ارجنٹائن نے میچ کے ابتدائی لمحات میں گیند پر اپنا کنٹرول قائم کرتے ہوئے مصری دفاع پر پے در پے حملے کیے اور گول اسکور کر کے برتری حاصل کی، تاہم مصری فارورڈز نے بھی شاندار جوابی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ارجنٹائن کے مضبوط دفاع کو توڑا اور گول برابر کر کے میچ میں سنسنی پھیلا دی۔ مصر کی جانب سے دکھائی جانے والی اس بھرپور تزویراتی مزاحمت نے ارجنٹائن کے مقتدر کھلاڑیوں کو دباؤ میں لائے رکھا اور دونوں ٹیمیں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے آخر تک لڑتی رہیں۔

میچ کے فیصلہ کن اور آخری لمحات میں ارجنٹائن کے مقتدر فارورڈز نے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے ایک بہترین موو بنائی اور مصری گول کیپر کو چکمہ دیتے ہوئے تیسرا اور فیصلہ کن گول داغ کر اپنی ٹیم کی جیت یقینی بنا دی۔ اس آخری گول نے میچ کا فیصلہ ارجنٹائن کے حق میں کر دیا۔ مصر نے میچ برابر کرنے کی آخری وقت تک کوشش کی لیکن وہ ارجنٹائن کے مقتدر دفاع کو دوبارہ نہ توڑ سکے۔ اس سنسنی خیز فتح کے بعد ارجنٹائن کی ٹیم اور اسٹیڈیم میں موجود ان کے ہزاروں شائقین نے جشن منایا، جبکہ مصری کھلاڑی اس شاندار مقابلے کے بعد دلبرداشتہ نظر آئے۔