وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، پروفیسر احسن اقبال نے نیویارک میں واقع یو این ڈی پی کے مرکزی ہیڈ کوارٹر میں یو این ڈی پی کے ایڈمنسٹریٹر الیگزینڈر ڈی کرو سے ایک اہم اور تزویراتی ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کے دوران پاکستان اور اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے مابین برسوں پر محیط دیرینہ شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جبکہ پاکستان کی کلیدی ترقیاتی ترجیحات بشمول ماحولیاتی لچک ، مصنوعی ذہانت کے لیے تیاری، گورننس میں اصلاحات، پائیدار ترقی کے اہداف کی لوکلائزیشن، ابتدائی بچپن کی نشوونما اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو آگے بڑھانے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔
موقر ملاقات کے دوران وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی تعاون کو پاکستان کی قومی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا، ادارہ جاتی استعداد کار کو مضبوط بنانا اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں تیزی لانے کے لیے جدید اور اختراعی شراکت داریوں کو متحرک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے یو این ڈی پی کے ساتھ مل کر ان شعبوں میں مربوط حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی جو پاکستان کے مستقبل کے معاشی و سماجی استحکام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اس موقع پر، وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے یو این ڈی پی کے ایڈمنسٹریٹر الیگزینڈر ڈی کرو کو پاکستان کا دورہ کرنے کی باضابطہ دعوت بھی دی۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور یو این ڈی پی کے مابین یہ تعاون مستقبل میں ملک کے ترقیاتی اہداف کو مزید مقتدر اور مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ پائیدار ترقی سے متعلق مقتدر ‘اعلیٰ سطحی سیاسی فورم’ میں پاکستان کی بھرپور نمائندگی کی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اس اہم فورم پر پاکستان کا قومی بیانیہ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے پائیدار ترقی کے لیے اقوامِ متحدہ کے طے کردہ ‘ایجنڈا 2030’ پر پاکستان کے غیر متزلزل اور تزویراتی عزم کا اعادہ کیا۔
اپنے مقتدر خطاب کے دوران پروفیسر احسن اقبال نے جامع اور پائیدار قومی ترقی کے لیے حکومتِ پاکستان کے عزم کو تفصیلی طور پر اجاگر کیا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ دنیا بھر میں ایک زیادہ پائیدار، لچکدار اور یکساں مواقع سے لیس منصفانہ مستقبل کی تعمیر کے لیے بین الاقوامی تعاون، باہمی اعتماد اور مشترکہ ذمہ داری کے اصولوں پر کاربند رہنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان چیلنجز کے باوجود عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے ہر ممکن تزویراتی کوششیں جاری رکھے گا۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، پروفیسر احسن اقبال نے نیویارک میں ناروے کے وزیر برائے بین الاقوامی ترقی مسٹر آسمنڈ گروور آکرسٹ سے ایک مقتدر ملاقات کی ہے۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ناروے کے مابین ماحولیاتی لچک (کلائمیٹ ریزیلینس)، پائیدار ترقی اور انسانی وسائل کی ترقی (ہیومن کیپیٹل ڈویلپمنٹ) کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید مستحکم اور نتیجہ خیز بنانے کے تزویراتی طریقوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
موقر ملاقات کے دوران وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے اس اہم حقیقت کو اجاگر کیا کہ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 1 فیصد سے بھی کم حصہ ڈالنے کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے شدید ترین متاثر ہونے والے دنیا کے چند سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماضی میں آنے والے تباہ کن سیلابوں نے پائیدار ترقی کے اہداف کی جانب پاکستان کی پیشرفت کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس نے موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے دوچار ممالک کی مدد کے لیے مخصوص عالمی مالیاتی میکانزم (گلوبل فنانسنگ میکانزم) کی اشد ضرورت کو مزید تقویت دی ہے۔
پروفیسر احسن اقبال نے ناروے کی سمندری مہارتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ‘بلیو اکانومی’ (آبی معیشت) کے شعبے میں شراکت داری کے نئے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا، اور پاکستان کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے اور ابتدائی بچپن کی نشوونما کو آگے بڑھانے کے لیے بہترین طریقوں اور تجربات کے تبادلے پر بھی بات چیت کی۔ ناروے کے وزیر برائے بین الاقوامی ترقی نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ مقتدر تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور جلد ہی پاکستان کا دورہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، جسے وفاقی وزیر احسن اقبال نے خوش آئند قرار دیا۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ (یمن) کی انتہائی حساس صورتحال پر پاکستان کا مقتدر اور اصولی مؤقف پیش کر دیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے اجلاس سے تزویراتی خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل خالد خیاری اور قائم مقام اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اندریکا رتواٹے کی تفصیلی بریفنگز پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان، اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مقاصد اور اصولوں کے عین مطابق یمن کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
سفیر عثمان جدون نے اپنے مقتدر خطاب میں سب سے پہلے برادر ملک سعودی عرب کی سلامتی کو ہدف بنانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، مملکتِ سعودی عرب پر حوثیوں کی جانب سے کیے گئے حالیہ بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے برادر مملکت سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اسلام آباد کی غیر متزلزل حمایت کا عزم دہرایا۔ پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ ایسے وقت میں جب یہ خطہ مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی اور باہم مربوط متعدد بحرانوں سے دوچار ہے، تمام متعلقہ فریقوں کو اپنے اختلافات باہمی بات چیت، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کے پختہ عزم کے ذریعے ہی حل کرنے ہوں گے۔
جناب صدر کو مخاطب کرتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے زور دیا کہ یمن میں جامع، شمولیتی اور پائیدار امن صرف ایک ایسے سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے جو یمنیوں کی اپنی قیادت اور ملکیت میں ہو، اور جسے اقوامِ متحدہ کی مکمل معاونت حاصل ہو۔ انہوں نے رواں سال کے اوائل میں قیدیوں کے تبادلے سے متعلق ہونے والے معاہدے کو ایک مثبت تزویراتی پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی مذاکرات ٹھوس نتائج دے سکتے ہیں، اس لیے تمام فریقوں کو اب ملک گیر پائیدار جنگ بندی اور جامع سیاسی تصفیے کے لیے تعمیری مذاکرات جاری رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یمن کے عوام کئی برسوں سے تنازع، معاشی تنگی اور بنیادی خدمات کے مسمار ہونے کا سامنا کر رہے ہیں، اور کشیدگی میں مزید اضافہ صرف انسانی مصائب بڑھانے کا سبب بنے گا۔
پاکستانی مندوب نے حوثیوں کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے عملے، انسانی ہمدردی کے اہلکاروں اور سفارتی عملے کی مسلسل من مانی حراست اور اقوامِ متحدہ کے دفاتر و اثاثوں پر غیر قانونی قبضے کی بھی شدید مذمت کی۔ انہوں نے ان اقدامات کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تمام زیرِ حراست بین الاقوامی اہلکاروں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا اور زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کے عملے، تنصیبات اور اثاثوں کے مراعات و استثنیٰ کا ہر حال میں مکمل احترام کیا جائے۔ آخر میں، انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام، مکالمے اور باہمی افہام و تفہیم کے فروغ کے لیے کی جانے والی تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے مسلم دنیا کو درپیش معاصر چیلنجز اور تزویراتی مسائل سے نمٹنے کے لیے مذہبی مکالمے کے حوالے سے مسلم ورلڈ لیگ (رابطہ عالمِ اسلامی) کی مقتدر کوششوں کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق، مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کی۔ اس مقتدر موقع پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، ارکین قومی اسمبلی فرح ناز اکبر، زیب جعفر اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ بھی موجود تھیں۔ سیکرٹری جنرل کے ہمراہ پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی بھی وفد میں شامل تھے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے ڈاکٹر العیسیٰ کا مقتدر سطح پر پرتپاک خیرمقدم کیا اور وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ خواتین سے متعلق نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس میں شرکت پر ان کا صمیمِ قلب سے شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے دینِ اسلام کے حقیقی، امن پسند اور معتدل تشخص کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے، امتِ مسلمہ میں اتحاد و یگانگت کو فروغ دینے اور دنیا بھر میں رواداری، اخوت اور بین المذاہب ہم آہنگی کا پیغام عام کرنے میں مسلم ورلڈ لیگ کے گراں قدر کردار کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ انہوں نے تنظیم کے تزویراتی اقدامات کے لیے پاکستان کی مسلسل اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلم دنیا کو درپیش موجودہ مسائل، بالخصوص ایران اور خلیجی برادر ممالک کے مابین علاقائی صورتحال، غزہ میں فلسطینیوں پر جاری مظالم اور دنیا بھر میں مسلم برادریوں کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلم ورلڈ لیگ کا پلیٹ فارم انتہائی ناگزیر ہے۔
ملاقات کے دوران تعلیم، بین المذاہب مکالمے اور انتہا پسندی و اسلامو فوبیا کے تدارک کے شعبوں میں پاکستان اور مسلم ورلڈ لیگ کے درمیان جاری تعاون پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ سیکرٹری جنرل ڈاکٹر العیسیٰ نے اپنے اور وفد کی شاندار مہمان نوازی پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عالمِ اسلام میں پاکستان کے قائدانہ و تزویراتی کردار کی تعریف کی اور پاکستان کے ساتھ تعلیمی اور انسانی امور میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ڈاکٹر العیسیٰ نے خطے میں امن کی حالیہ کوششوں میں وزیر اعظم کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر دستخط کے سلسلے میں نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک تزویراتی کوششوں اور گراں قدر خدمات کو بھی بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ ترجیحات اور پاک-مسلم ورلڈ لیگ مشترکہ منصوبوں کی جلد تکمیل پر قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 اپنے فیصلہ کن اور سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں پہلی مرتبہ عالمی فٹبال کی تاریخ میں سیمی فائنل کے مقابلے دنیا کی ان چار اعلیٰ ترین رینکنگ ٹیموں کے درمیان کھیلے جائیں گے جو فیفا کی آفیشل سائیڈ پر ہائیسٹ رینکنگ پر براجمان ہیں۔ اس مقتدر اور تاریخی مرحلے نے عالمی فٹبال شائقین کے دلوں کی دھڑکنیں تیز کر دی ہیں اور ماہرینِ کھیل کی جانب سے اسے ورلڈ کپ کی تاریخ کا مضبوط ترین اور ہائی پروفائل سیمی فائنل راؤنڈ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں روایتی حریف فائنل میں جگہ بنانے کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیں گے۔
موقر تزویراتی شیڈول کے مطابق، سیمی فائنل کے پہلے معرکے میں سابق عالمی چیمپئن فرانس کا روایتی سامنا اسپین سے ہوگا، جبکہ دوسرے سیمی فائنل میں دفاعی چیمپئن ارجنٹینا اور مقتدر انگلینڈ کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔ یہ چاروں ٹیمیں فیفا کی عالمی درجہ بندی میں سرفہرست ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی اور تکنیکی برتری کا مظاہرہ کرتے ہوئے آخری چار میں اپنی جگہ پکی کی ہے۔ فرانس نے اپنے مضبوط دفاع، برق رفتار حملوں اور بہترین اجتماعی کھیل کی بدولت حریفوں کو پے در پے شکست دی، جبکہ اسپین نے روایتی شارٹ پاسنگ (ٹیکی ٹاکا)، گیند پر مکمل کنٹرول اور جارحانہ تزویراتی انداز سے ہر مرحلے پر اپنی برتری ثابت کی ہے۔
دوسری جانب، ارجنٹینا نے کوارٹر فائنل کے انتہائی اہم مقابلے میں سوئٹزرلینڈ کو 3-1 سے عبرتناک شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی، جبکہ انگلینڈ نے اعصاب شکن مقابلے کے بعد ناروے کو 2-1 سے ہرا کر آخری چار ٹیموں میں اپنی نشست یقینی بنائی۔ فٹبال تجزیہ کاروں کے مطابق، فیفا رینکنگ کی ان چاروں بڑی طاقتوں کے سیمی فائنل تک پہنچنے سے اس بار عالمی ٹائٹل کی دوڑ غیر معمولی حد تک سخت اور دلچسپ ہو گئی ہے، کیونکہ ہر ٹیم کے پاس تجربہ کار اسٹار کھلاڑی، مضبوط بینچ اسٹرینتھ اور اعلیٰ معیار کی تکنیکی حکمت عملی موجود ہے، جس کے باعث فائنل سے قبل کسی بھی ایک ٹیم کو واضح فیورٹ قرار دینا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ یہ سیمی فائنل صرف چار ٹیموں کا مقابلہ نہیں بلکہ دنیا کے بہترین فٹبال فلسفوں اور جدید کھیل کی مہارت کا امتحان ہوگا، جس کے بعد جیتنے والی دو مقتدر ٹیمیں گرینڈ فائنل میں مدمقابل آئیں گی، جہاں دنیا کے نئے عالمی چیمپئن کا فیصلہ ہوگا۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جاری نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی معزز مندوبین نے مسلم ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مضبوط بنانے اور تعلیم، اقتصادی ترقی اور قیادت میں خواتین کی شرکت کو بڑھانے کے لیے جامع پالیسیوں کو فروغ دینے کی اشد ضرورت پر زور دیا ہے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے واضح کیا کہ خواتین کی مقتدر ترقی اسلامی دنیا میں پائیدار، جامع ترقی اور طویل مدتی معاشی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔
موقر تفصیلات کے مطابق، نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس کے اہم سیشن سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کی ترقی کی تنظیم (ڈبلیو ڈی او) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سارہ الشورا نے رکن ممالک کے درمیان تزویراتی تعاون کو مضبوط بنانے اور تعلیم، اقتصادی ترقی اور فیصلہ سازی کی قیادت میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے تنظیم کی جانب سے کی جانے والی مسلسل کوششوں اور فریم ورک پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اسی طرح، آٹھویں او آئی سی وزارتی کانفرنس کی خواتین کی مشاورتی کونسل کی صدر، سفیر نائلہ گبر نے گزشتہ وزارتی کانفرنس کے بعد ہونے والی تزویراتی پیشرفت کا احاطہ کیا اور او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان مضبوط ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے اس رفتار کو مستقل برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مسلم امہ میں خواتین کی تعلیم، معاشی بااختیار سازی اور قیادت میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی ترقی کے بغیر اسلامی دنیا میں طویل مدتی خوشحالی کا خواب ادھورا ہے۔
کانفرنس سے مصر کی قومی کونسل برائے خواتین کی صدر امل عمار نے بھی مقتدر خطاب کیا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں قوموں کی حقیقی خوشحالی انسانوں، بالخصوص خواتین میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے ہی شروع ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ مسلم دنیا میں پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور سماجی انصاف کے اہداف کے حصول کے لیے خواتین کو ہر سطح پر بااختیار بنانا اب محض ایک آپشن نہیں بلکہ ایک ناگزیر سٹریٹجک ضرورت بن چکی ہے جس پر تمام رکن ممالک کو مل کر ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے مقتدر ملاقات کر کے ان کے والد گرامی کے انتقال پر دلی تعزیت اور گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ تفصیلی اعلامیے کے مطابق، وزیر اعظم پیر کے روز ایک روزہ اہم دورے پر دوحہ پہنچے، جہاں انہوں نے ریاست قطر کے امیر کے والد شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے انتقال پر حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے قطر کی اعلیٰ قیادت اور برادر عوام سے بالمشافہ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس تزویراتی دورے میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی وزیر اعظم شہباز شریف کے ہمراہ موجود تھے۔
ملاقات کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے مرحوم امیرِ والد کی دوراندیش قیادت، مدبرانہ بصیرت اور قطر کی غیرمعمولی ترقی کے ساتھ ساتھ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے پاکستان کے لیے مرحوم امیرِ والد کی گرمجوشی، شفقت اور دیرینہ محبت کو یاد کرتے ہوئے ان کے پاکستان کے متعدد یادگار دوروں کو بھی انتہائی قدر و منزلت سے یاد کیا۔ وزیر اعظم نے گہرے صدمے کی اس گھڑی میں قطر کی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی غیرمتزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور شاہی خاندان سمیت قطر کے برادر عوام کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف، سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف، نائب وزیر اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور پاکستانی وفد کا ذاتی طور پر دوحہ آ کر تعزیت کرنے پر صمیمِ قلب سے شکریہ ادا کیا اور اس مقتدر جذبے کو دونوں برادر ممالک اور عوام کے درمیان قائم گہرے اور تزویراتی برادرانہ تعلقات کا منہ بولتا مظہر قرار دیا۔
خاتونِ اول اور رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے پاکستانی طالب علم جیانت کمار کو ہارورڈ کرمسن بزنس مقابلے میں عالمی چیمپئن بننے کے مقتدر اعزاز پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے ایک تزویراتی پیغام میں خاتونِ اول نے کہا کہ اس شاندار اور بے مثال کامیابی سے نوجوان طالب علم نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام فخر سے روشن کر دیا ہے۔
موقر تفصیلات کے مطابق، کراچی گرامر اسکول سے تعلق رکھنے والے مقتدر طالب علم جیانت کمار نے ہارورڈ کرمسن بزنس مقابلے میں عالمی چیمپئن کا اعزاز حاصل کیا ہے، جو دنیا کے معتبر ترین پری کالج بزنس مقابلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس مقتدر مقابلے کے ججز پینل میں فارچیون 500 کمپنیوں کے اعلیٰ ترین انتظامی عہدیداران اور کاروباری ماہرین شامل ہوتے ہیں۔ دنیا بھر سے ایک ہزار سے زائد ماہر ٹیموں کے درمیان ہونے والے اس سخت ترین مقابلے میں، جہاں زیادہ تر عالمی ٹیمیں چار اراکین پر مشتمل تھیں، جیانت کمار نے کسی ٹیم کے بغیر بالکل اکیلے شرکت کرتے ہوئے یہ نمایاں اور تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ وہ اس عالمی مقابلے کے گلوبل فائنل کے لیے نہ صرف کوالیفائی کرنے والے بلکہ اسے جیتنے والے پہلے پاکستانی طالب علم بن گئے ہیں، جسے ملکی تاریخ میں پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا اور تاریخی اعزاز قرار دیا جا رہا ہے۔
چین نے عالمی سطح پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تزویراتی معاملے کو مناسب اور ذمہ دارانہ طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔ چینی میڈیا گروپ سی جے ٹی این کے مطابق، یہ بات چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لِین جیان نے پیر کے روز بیجنگ میں منعقدہ یومیہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز ایک انتہائی اہم عالمی آبی گزرگاہ ہے جسے بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے، اس لیے اس حساس تجارتی گزرگاہ سے محفوظ اور آزاد آمد و رفت کی جلد بحالی تمام متعلقہ فریقین کے بہترین معاشی و تزویراتی مفاد میں ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق پیدا ہونے والے تمام معاملات کو انتہائی ذمہ دارانہ انداز میں حل کیا جانا چاہیے، جبکہ اس حوالے سے عالمی برادری کے وسیع تر خدشات کو بھی مناسب طریقے سے دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے اس مقتدر عزم کا اظہار کیا کہ چین خطے کے امن اور سمندری تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے اس اہم معاملے پر متعلقہ ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ قریبی و مسلسل تزویراتی رابطے برقرار رکھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
چین کے اہم قمری تحقیقاتی مشن “چانگ ای-7” کے لیے تیار کیا گیا راکٹ “لانگ مارچ-5 وائی 14” ملک کے جنوبی صوبے ہائنان میں واقع وین چانگ خلائی لانچ مرکز پر پہنچا دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، چین کی قومی خلائی انتظامیہ (سی این ایس اے) نے اس تزویراتی پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ راکٹ کو اب لانچنگ سائٹ پر پہلے سے موجود چانگ ای-7 قمری تحقیقاتی خلائی جہاز کے ساتھ جوڑنے کا عمل شروع کیا جائے گا، جس کے بعد اس خلائی مشن کی روانگی سے قبل مختلف تکنیکی آزمائشیں اور حتمی معائنے مکمل کیے جائیں گے۔
آسٹریلیا کی ریاست کوئینزلینڈ میں ایک اسکول کے اندر مبینہ طور پر چاقو سے حملہ کر کے اپنے ہی ساتھی طالب علم کو شدید زخمی کرنے والے 15 سالہ لڑکے کو پولیس نے تزویراتی کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، ریاستی کوئینزلینڈ کی پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ افسوسناک واقعہ پیر کے روز کیرنز شہر کے ایک اسکول میں پیش آیا، جہاں دوپہر سے کچھ دیر قبل پولیس کو ہنگامی اطلاع موصول ہوئی کہ ایک 15 سالہ طالب علم کے پیٹ پر اسکول کے اندر ہی چاقو سے وار کیا گیا ہے۔
موقر تفصیلات کے مطابق، زخمی ہونے والے طالب علم کو حملے کے فوری بعد طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت اب مکمل طور پر خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔ ہولناک واقعے کے بعد مبینہ حملہ آور طالب علم، جس کی عمر بھی 15 سال ہے، جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا، تاہم پولیس نے تندہی سے تعاقب کرتے ہوئے واردات کے تقریباً 30 منٹ بعد ہی اسے قریبی علاقے سے دھر دبوچا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار لڑکے کو حراست میں لے کر تفتیش کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال قابو میں ہے اور عوام کے لیے اب کسی قسم کے مزید خطرے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی نویں خواتین وزارتی کانفرنس اتوار کے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تکنیکی سطح کے اجلاسوں کے آغاز کے ساتھ شروع ہو گئی ہے۔ اس دو روزہ موقر کانفرنس میں او آئی سی کے 57 رکن ممالک سے تقریباً 190 اہم نمائندے شریک ہیں، جن میں وزراء، اعلیٰ حکومتی افسران اور سفارت کار شامل ہیں۔ کانفرنس کے دوران مسلم امہ میں خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی شرکت کو بڑھانے اور رکن ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مضبوط کرنے کے تزویراتی طریقوں پر تفصیلی مباحثہ کیا جائے گا۔
موقر تفصیلات کے مطابق، یہ کانفرنس “او آئی سی ممالک میں خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی بااختیار سازی: چیلنجز اور آگے کا راستہ” کے اہم موضوع پر منعقد ہو رہی ہے۔ کانفرنس کا بنیادی فوکس خواتین کی تعلیم، صحت، روزگار، انٹرپرینیورشپ، مالیاتی خدمات، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مواقع تک رسائی کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ عوامی زندگی میں ان کی مکمل شرکت کی راہ میں حائل تزویراتی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ افتتاحی دن تکنیکی ماہرین اور اعلیٰ افسران کے تیاری کے سیشنز منعقد ہو رہے ہیں تاکہ پیر کے روز ہونے والے وزرا اجلاس کے لیے سفارشات کو حتمی شکل دی جا سکے۔
وزیر اعظم شہباز شریف پیر کے روز وزارتی سیشن کا باقاعدہ افتتاح کریں گے، جس کے ساتھ ہی پاکستان آئندہ دو سال کے لیے مصر سے او آئی سی خواتین وزارتی کانفرنس کی چیئرمین شپ باقاعدہ طور پر سنبھال لے گا۔ کانفرنس سے متعدد اعلیٰ پاکستانی رہنما خطاب کریں گے، جن میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شیزہ فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ اور قومی اسمبلی کی اراکین وجیہہ قمر اور صبا صادق شامل ہیں۔ یہ رہنما پاکستان کی خواتین کو بااختیار بنانے، تعلیم، معاشی شمولیت اور قیادت کو فروغ دینے کے لیے حکومتی اقدامات کو عالمی سطح پر اجاگر کریں گے۔ کانفرنس کا اختتام ’’اسلام آباد اعلامیہ‘‘ کی منظوری کے ساتھ متوقع ہے، جس میں مسلم ممالک میں خواتین کی پائیدار ترقی کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک پیش کیا جائے گا۔
دفاعی عالمی چیمپئن ارجنٹینا نے فٹ بال ورلڈ کپ 2026 کے ایک انتہائی سنسنی خیز، اعصاب شکن اور ڈرامائی کوارٹر فائنل مقابلے میں سخت مزاحمت کرنے والی سوئٹزرلینڈ کی ٹیم کو اضافی وقت میں 1-3 سے شکست دے کر مسلسل دوسری مرتبہ فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں رسائی حاصل کر لی ہے۔ کینساس سٹی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس ہائی وولٹیج مقتدر مقابلے میں مقررہ 90 منٹ تک دونوں ٹیمیں 1-1 سے برابر رہیں، تاہم سوئس اسٹرائیکر کو ملنے والے ریڈ کارڈ اور اضافی وقت میں ارجنٹائن کے شاندار حملوں نے میچ کا پاسا پلٹ دیا۔ سیمی فائنل میں اب ارجنٹینا کا تزویراتی ٹکراؤ روایتی حریف انگلینڈ سے ہوگا، جبکہ پہلے سیمی فائنل میں فرانس اور اسپین کی مقتدر ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔
پہلا ہاف: الیکسس میک ایلسٹر کا شاندار آغاز میچ کا آغاز ہوتے ہی دفاعی چیمپئن ارجنٹینا نے اپنے روایتی تزویراتی انداز میں جارحانہ کھیل پیش کیا۔ میچ کے محض 10ویں منٹ میں ارجنٹائن کے کپتان اور لیجنڈ فٹ بالر لیونل میسی نے ایک بہترین کارنر کک لی، جس پر الیکسس میک ایلسٹر نے ہوا میں اچھلتے ہوئے شاندار ہیڈر کے ذریعے گیند کو سوئس جال کی راہ دکھا کر اپنی ٹیم کو 0-1 کی مقتدر برتری دلا دی۔ اس ابتدائی دھچکے کے بعد بھی ارجنٹائن نے دباؤ برقرار رکھا، تاہم سوئٹزرلینڈ کے مقتدر گول کیپر گریگور کوبل چٹان بن گئے اور انہوں نے ارجنٹائن کے کئی یقینی گولز کے حملوں کو ناکام بنا کر پہلے ہاف میں اسکور مزید بڑھنے نہ دیا۔
دوسرا ہاف: سوئٹزرلینڈ کا کم بیک اور کارڈز کی برسات دوسرے ہاف میں سوئس ٹیم نے حکمتِ عملی تبدیل کی اور ارجنٹائن کے دفاع پر جوابی حملے شروع کیے۔ میچ کے 67ویں منٹ میں ریکارڈو روڈریگیز کے ایک پکے ہوئے پاس پر ڈین نڈوئے نے کوئی غلطی نہ کی اور گیند کو گول پوسٹ میں ڈال کر مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا۔ اس گول کے بعد کھیل میں تپش بڑھ گئی اور دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان میدان میں شدید جسمانی ٹکراؤ دیکھنے کو ملا۔ ریفری کو کھیل پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے متعدد مرتبہ کارڈز کا استعمال کرنا پڑا۔ میچ کے دوران سخت ٹیکلز اور فاؤلز پر ارجنٹائن اور سوئٹزرلینڈ کے متعدد کھلاڑیوں کو تادیبی کارروائی کے طور پر ییلو کارڈز (انتباہی کارڈ) دکھائے گئے۔
میچ کا سب سے متنازع لمحہ: بریل ایمبولو کا اخراج میچ کا سب سے بڑا تزویراتی موڑ اس وقت آیا جب سوئٹزرلینڈ کے اسٹار اسٹرائیکر بریل ایمبولو کو ڈیفنس ایریا میں ڈائیونگ کرنے پر ریفری نے دوسرا ییلو کارڈ دکھا دیا۔ چونکہ انہیں میچ میں پہلے بھی ایک ییلو کارڈ مل چکا تھا، اس لیے دوسرے ییلو کارڈ کے فوری بعد ریفری نے انہیں ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا۔ وی اے آر کے جائزے کے بعد بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا گیا، جس پر سوئس کھلاڑیوں اور ان کے ہیڈ کوچ نے شدید مقتدر احتجاج کیا۔ اس ریڈ کارڈ کے باعث سوئٹزرلینڈ کی ٹیم میچ کے نازک ترین موڑ پر صرف 10 کھلاڑیوں تک محدود ہو گئی اور یہی چیز ان کی شکست کی سب سے بڑی وجہ بنی۔
اضافی وقت: جولیان الواریز اور لاوتارو مارٹینیز کا فیصلہ کن وار مقررہ 90 منٹ تک اسکور 1-1 رہنے کے بعد میچ اضافی وقت میں داخل ہوا۔ ایک کھلاڑی کی برتری کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ارجنٹینا نے تزویراتی حملے تیز کیے۔ میچ کے 112ویں منٹ میں جولیان الواریز نے ڈی باکس کے باہر سے ایک ناقابلِ یقین لانگ رینج شاٹ مارا، جو سوئس گول کیپر گریگور کوبل کو چھکاتے ہوئے سیدھا نیٹ میں جا گھسا اور ارجنٹینا کو 1-2 کی برتری مل گئی۔ سوئٹزرلینڈ نے 10 کھلاڑیوں کے باوجود آخری لمحات میں برابری کے لیے پورا زور لگا دیا، لیکن میچ کے بالکل آخری لمحات (120+ منٹ) میں لاوتارو مارٹینیز نے ایک شاندار کاؤنٹر اٹیک پر ارجنٹائن کی جانب سے تیسرا گول اسکور کر کے سوئٹزرلینڈ کا عالمی کپ کا سفر تمام کر دیا اور ارجنٹینا کی 1-3 سے فتح پر مہر ثبت کر دی۔
فٹ بال کے سب سے بڑے تزویراتی میلے، 23ویں فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ایک انتہائی سنسنی خیز اور اعصاب شکن کوارٹر فائنل مقابلے میں انگلینڈ نے ناروے کو اضافی وقت میں 1-2 سے شکست دے کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ میامی کے مقتدر ہارڈ راک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس تاریخی میچ میں انگلش ٹیم کی فتح کے حقیقی ہیرو اسٹار مڈفیلڈر جوڈ بیلنگھم رہے، جنہوں نے اپنے شاندار کھیل اور دو یادگار گولز کی بدولت ٹیم کی کشتی کو پار لگایا۔
میچ کا آغاز دونوں ٹیموں کی جانب سے جارحانہ انداز میں ہوا، تاہم ناروے نے تزویراتی برتری حاصل کرتے ہوئے 36ویں منٹ میں آندریاس شیلڈروپ کے ایک خوبصورت گول کی بدولت 0-1 کی برتری حاصل کر کے اسٹیڈیم میں موجود انگلش مداحوں کو سکتے میں ڈال دیا۔ اس دباؤ کے باوجود انگلینڈ نے ہمت نہ ہاری اور اپنے حملے تیز کر دیے۔ پہلے ہاف کے اضافی وقت میں جوڈ بیلنگھم نے حریف ٹیم کے دفاع کو توڑتے ہوئے ایک شاندار گول داغ کر مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا۔ دوسرے ہاف میں دونوں مقتدر ٹیموں نے برتری حاصل کرنے کے لیے کئی خطرناک مووز بنائیں، لیکن دونوں جانب کا دفاع مضبوط ثابت ہوا اور مقررہ وقت تک اسکور 1-1 رہا، جس کے باعث میچ اضافی وقت میں داخل ہوگیا۔
اضافی وقت کے آغاز میں ہی، یعنی 93ویں منٹ میں، جوڈ بیلنگھم نے ایک مرتبہ پھر اپنی عالمی کلاس کا مظاہرہ کیا اور حریف گول کیپر کو چکمہ دیتے ہوئے گیند کو جال کی راہ دکھا کر انگلینڈ کو 1-2 کی فیصلہ کن برتری دلا دی۔ ناروے کی جانب سے دنیا کے بہترین اسٹرائیکرز میں شمار ہونے والے ارلنگ ہالینڈ پورے میچ میں انگلش دفاع کے لیے خطرہ بنے رہے، تاہم انگلینڈ کے تزویراتی بیک لائن نے انہیں گول کرنے کا کوئی واضح موقع نہ دیا۔ میچ کے آخری لمحات میں ناروے کا ایک ممکنہ گول بھی ہوا، لیکن وی اے آر کی مداخلت کے بعد اسے فاؤل قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔ اس فتح کے بعد اب سیمی فائنل میں انگلینڈ کا روایتی حریف ارجنٹینا سے بڑا تزویراتی ٹکراؤ ہوگا، جس پر دنیا بھر کے فٹ بال شائقین کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
یورپی یونین کے مالی تعاون اور مقتدر اشتراک سے 12 لاکھ یورو مالیت کا ایک نیا انقلابی منصوبہ ’’منزل‘‘ کامیابی سے شروع کر دیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد پاکستانی نوجوانوں کو روزگار، کاروباری مواقع، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی تزویراتی صلاحیت اور کمیونٹی قیادت کے لیے جامع طور پر بااختیار بنانا ہے۔ لاہور اور کراچی میں باقاعدہ طور پر شروع کیے گئے اس تزویراتی منصوبے کے تحت راولپنڈی، لاہور، میرپورخاص اور سانگھڑ میں تقریباً 4 ہزار مستحق نوجوان خواتین و مردوں کو براہِ راست معاشی و تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی، جبکہ 40 نوجوانوں کی قیادت میں قائم مقامی تنظیموں کی استعداد کار (کیپیسٹی بلڈنگ) بھی بڑھائی جائے گی۔
جاری کردہ مقتدر تفصیلات کے مطابق، اس اہم منصوبے پر عملدرآمد ناروین چرچ ایڈ ، سول سوسائٹی سپورٹ پروگرام اور شراکت فاؤنڈیشن کے باہمی اشتراک سے کیا جا رہا ہے، جبکہ اس کی مکمل مالی معاونت یورپی یونین فراہم کر رہی ہے۔ منصوبے کا تزویراتی مقصد نوجوانوں کو صرف ترقیاتی پروگراموں کے روایتی مستفید افراد کے بجائے کامیاب کاروباری شخصیات، موسمیاتی تحفظ کے علمبردار، کمیونٹی رہنما اور مقامی طرزِ حکمرانی میں فعال شراکت دار بنانا ہے۔ اس پروگرام کے تحت نوجوانوں کو مارکیٹ کی جدید ضروریات سے ہم آہنگ مہارتیں، روزگار و کاروبار کے مواقع، قائدانہ صلاحیتوں کی تربیت اور مقامی سطح پر موسمیاتی مسائل کے پائیدار حل تیار کرنے میں مدد دی جائے گی۔ منصوبے میں خواتین، خصوصی افراد، خواجہ سرا برادری، مذہبی اقلیتوں اور معاشرتی طور پر محروم طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی شمولیت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین کے پاکستان میں قائم وفد کے قائم مقام سربراہ برائے تعاون ڈاکٹر سباستین لوریون نے کہا کہ یورپی یونین کو اس مقتدر منصوبے کی حمایت پر فخر ہے، کیونکہ جب نوجوانوں کو آواز، مواقع اور شناخت ملتی ہے تو معاشرے زیادہ مضبوط، جدید اور منصفانہ بنتے ہیں۔ ناروین چرچ ایڈ کے کنٹری ڈائریکٹر اسٹیفن کینٹ نے اپنے مقتدر خطاب میں کہا کہ “منزل” اس پختہ یقین پر مبنی ہے کہ نوجوان صرف ترقیاتی منصوبوں کے مستفید نہیں بلکہ تبدیلی کے حقیقی رہنما، اختراع کار اور دیرپا حل کے تزویراتی شراکت دار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نوجوانوں کی مہارتوں، تنظیموں اور سرکاری اداروں کے ساتھ روابط کو مضبوط بنا کر ایسے پائیدار حل میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے جن کے فوائد منصوبے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی مقامی آبادی کو مستقل حاصل ہوتے رہیں گے۔
ہیوسٹن / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے پاکستان کی تزویراتی تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے ’’اڑان پاکستان‘‘ کو ایک کھرب ڈالر کی معیشت کے حصول کا قومی روڈ میپ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ معاشی بحالی، قومی استحکام اور سفارتی کامیابیاں ملک کے روشن مستقبل کی مضبوط بنیاد بن چکی ہیں۔ وزارت کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، وفاقی وزیر احسن اقبال نے امریکا کی رائس یونیورسٹی میں طلبہ، اساتذہ، محققین اور پاکستانی برادری سے تزویراتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تین اہم قومی سنگ میل عبور کرنے کے بعد ترقی اور مواقع کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ‘آپریشن بنیانٌ مرصوص’ کی کامیاب تکمیل نے پاکستان کی تزویراتی بصیرت، قومی یکجہتی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کا بھرپور مظاہرہ کیا، جس سے ملک کے استحکام پر قومی اور بین الاقوامی اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقتدر کارروائی نے عالمی برادری کے سامنے بھارت کی جارحیت کو بے نقاب کیا، جبکہ پاکستان نے خطے میں امن، ذمہ داری اور تحمل پر مبنی اپنے مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔ پروفیسر احسن اقبال نے سنگاپور، جنوبی کوریا، چین اور خلیجی ممالک کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی سیاسی استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے حکومت کے اس مقتدر عزم کا اعادہ کیا کہ 2035ء تک پاکستان کو ایک کھرب ڈالر کی معیشت بنایا جائے گا۔
بعد ازاں، وفاقی وزیر نے ہیوسٹن میں جناح لائبریری میں پاکستانی نژاد امریکی برادری کے ہمراہ قائدِ اعظم محمد علی جناح اور شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی 150 ویں یومِ پیدائش کی مقتدر تقریبات میں شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے سال 2026ء کو ‘سالِ قائدِ اعظم’ قرار دیا ہے تاکہ بانیانِ پاکستان کی 150 ویں سالگرہ قومی و عالمی سطح پر شایانِ شان انداز میں منائی جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اڑان پاکستان کے ذریعے حکومت بانیانِ پاکستان کے وژن کو عملی شکل دے رہی ہے، جو علم پر مبنی معیشت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر مرکوز ہے۔ اس موقع پر قائداعظم اکیڈمی نے قومی خدمات کے اعتراف میں وفاقی وزیر احسن اقبال کو اپنا اعلیٰ ترین اعزاز “جناح کیپ” پیش کیا۔ اپنے دورے کے دوران وفاقی وزیر نے ابنِ سینا فاؤنڈیشن کے چیئرمین نصرالدین روپانی سے بھی ایک اہم تزویراتی ملاقات کی، جس میں زچہ و بچہ کی صحت اور انسانی ترقی کے اشاریوں کو بہتر بنانے کے لیے باہمی تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اقوامِ متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب سن لی نے یوکرین تنازع میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے پھیلاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کریں، جنگی شدت میں کمی لائیں اور جلد از جلد امن مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کریں۔ چینی خبر رساں ادارے ‘شنہوا’ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اور تزویراتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سن لی نے کہا کہ حالیہ عرصے میں دونوں فریقوں کی جانب سے زیادہ شدت اور بڑے دائرۂ کار میں فوجی حملے کیے جا رہے ہیں، جن کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا زیاں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
چینی مندوب نے واضح کیا کہ چین شہریوں اور سویلین تنصیبات پر ہونے والے ہر قسم کے حملوں کی مقتدر الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور تمام متعلقہ فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے حملے بند کریں۔ انہوں نے واشگاف کیا کہ حالیہ دنوں میں فریقین فوجی محاذ آرائی اور جوابی کارروائیوں کے ایک خطرناک چکر میں پھنس چکے ہیں، جس سے نہ صرف عام شہری شدید مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں بلکہ نفرت اور کشیدگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث امن مذاکرات کی راہ مزید دشوار بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کریں۔
سن لی نے اپنے خطاب میں کہا کہ فریقین کو سیاسی عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلد از جلد مذاکرات بحال کرنے چاہییں اور ایک جامع، دیرپا اور قابلِ عمل امن معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ چونکہ دونوں فریقوں کو اپنے اپنے سکیورٹی خدشات لاحق ہیں، اس لیے اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں کے مطابق ایک ایسا مشترکہ تزویراتی حل تلاش کیا جانا چاہیے جو دونوں جانب کے سکیورٹی مفادات کا احترام کرے اور خطے میں متوازن، مؤثر اور پائیدار سکیورٹی نظام کے قیام کو یقینی بنائے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ چین یوکرین بحران کے سیاسی حل کے لیے اپنے غیر جانبدار اور منصفانہ مؤقف پر قائم ہے اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر اس بحران کے جلد حل کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
امریکا نے افغان طالبان رجیم کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کو یرغمال بنا کر سیاسی مفادات حاصل کرنے کا معاملہ ایک بار پھر عالمی سطح پر اٹھا دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان الزبتھ اسٹکنی نے افغان رجیم پر شدید تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغان طالبان اب بھی غیر ملکی شہریوں کو ”یرغمال بنانے کی پالیسی“ پر عمل پیرا ہیں، جو کہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ترجمان نے مطالبہ کیا کہ افغان طالبان اس “ہوسٹیج ٹیکنگ پالیسی” کے تحت قید تمام بے قصور امریکی شہریوں کو فوری طور پر رہا کریں۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان کے مطابق، افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکا کے اہم ترین قومی مفادات میں شامل ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ الزبتھ اسٹکنی نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے انسانی حقوق کی بدترین صورتحال پر طالبان رجیم کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کے دورِ حکومت میں خواتین کے حقوق کی صورتحال انتہائی خوفناک ہے، لہٰذا طالبان رجیم خواتین اور معصوم بچیوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں فوری طور پر بند کرے۔
عالمی مبصرین اور ماہرین کے مطابق، افغان طالبان رجیم کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کو یرغمال بنا کر انہیں سیاسی دباؤ اور تزویراتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا عالمی قوانین اور سفارتی اصولوں کی کھلی منافی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی انتہا پسندی، دہشت گردوں کی مبینہ سرپرستی اور بنیادی انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں نے اسے دنیا بھر میں شدید سفارتی تنہائی کا شکار کر دیا ہے، جس سے نکلنے کے لیے انہیں اپنے مقتدر رویوں پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔
پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے لیے حکومت کی جانب سے دی گئی آخری ڈیڈ لائن ختم ہو گئی ہے، جس کے بعد کارآمد ویزے کے بغیر مقیم کسی بھی افغان شہری کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے گا۔ وفاقی حکومت نے ملک میں بغیر قانونی دستاویزات، اوور اسٹے کیسز اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی بیدخلی (ڈی پورٹیشن) کے عمل میں مزید تزویراتی تیزی لانے کا مقتدر فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت اب افغان شہریوں کی گرفتاریوں کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر وفاقی وزارتِ داخلہ کو تفصیلی رپورٹ بھیجی جائے گی۔
مقتدر تفصیلات کے مطابق، وفاقی وزارتِ داخلہ کو روزانہ کی بنیاد پر بھیجی جانے والی اس رپورٹ میں بغیر ویزے کے پکڑے گئے افغان شہریوں کی درست تعداد، ان کے خلاف اب تک کی گئی قانونی کارروائی اور ان کی موجودہ حیثیت کے تمام تزویراتی کوائف شامل ہوں گے۔ وفاقی وزارتِ داخلہ نے اس مقتدر مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے 28 جون 2026ء کو چاروں صوبائی چیف سیکریٹریز، چیف سیکریٹری گلگت بلتستان، چیف سیکریٹری آزاد کشمیر اور چیف کمشنر اسلام آباد کو ان فیصلوں پر سختی سے عمل درآمد کرنے کے لیے باقاعدہ خط لکھا تھا۔
وزارتِ داخلہ کے اس مقتدر خط میں تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، متعلقہ پولیس حکام اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کو اس فیصلے پر من و عن عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ضروری اور ہنگامی ہدایات جاری کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد اب کسی بھی غیر قانونی تارکِ وطن کو ملک میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور قانون کے مطابق سخت تزویراتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔