اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا یوکرین تنازع میں کشیدگی کے بڑھتے خطرات پر انتباہ، مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل پر زور

محمود احمد june 30,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

پاکستان نے یوکرین تنازع کے عالمی اور انسانی اثرات کو وسیع پیمانے پر انتہائی تباہ کن قرار دیتے ہوئے سخت خبردار کیا ہے کہ خطے میں غلط اندازوں اور عسکری کشیدگی میں مسلسل اضافے کا تزویراتی خطرہ بڑھتا جا رہا ہے، اور یہ خطرناک رجحان اب پہلے سے کہیں زیادہ واضح اور زیادہ تواتر کے ساتھ دنیا کے سامنے آ رہا ہے۔ بیلاروس کی خصوصی درخواست پر شہریوں پر مبینہ یوکرینی ڈرون حملوں کے مقتدر معاملے پر بلائے گئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان کا باقاعدہ قومی بیان پیش کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے مسلح ڈرونز کے مسلسل اور بلا جھجک استعمال سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی خطرات اور ان جدید عسکری ٹیکنالوجیز سے وابستہ انسانی چیلنجز کو مقتدر انداز میں اجاگر کیا۔

پاکستان کے روایتی اور غیر متزلزل اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی استثنا یا تفریق کے بغیر بین الاقوامی انسانی قوانین کے مسلمہ اصولوں کی سختی سے پابندی کریں۔ انہوں نے عالمی برادری پر واضح کیا کہ اس خونی تنازع کے حتمی خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کا واحد قابلِ عمل راستہ صرف اور صرف سفارت کاری اور بامقصد مذاکرات کی میز سے ہو کر گزرتا ہے۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان فوری اور مکمل جنگ بندی کی ناگزیر ضرورت پر مقتدر زور دیتا ہے اور تمام فریقوں سے مخلصانہ اپیل کرتا ہے کہ وہ ہٹ دھرمی چھوڑ کر سنجیدگی کے ساتھ دوبارہ سیاسی مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔

نائب مستقل مندوب نے مزید تشریح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی نظر میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور بنیادی اصولوں، تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات اور متعلقہ کثیرالجہتی معاہدوں سے ہم آہنگ، باہمی طور پر قابلِ قبول پُرامن تصفیہ ہی دیرپا امن کی جانب واحد تزویراتی راستہ ہے، اور پاکستان اس تنازع کے جامع، دیرپا اور پُرامن حل کے لیے کی جانے والی تمام بین الاقوامی سفارتی کوششوں کی حمایت مستقل جاری رکھے گا۔ انہوں نے بیلاروس میں شہری جانوں کے مبینہ ضیاع پر حکومتِ پاکستان اور عوام کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ اس طویل تنازع کی وجہ سے بے گناہ شہری آج بھی شدید جسمانی اور نفسیاتی اذیت کا سامنا کر رہے ہیں، جسے فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔

سندھ طاس کوئی عام دستاویز نہیں بلکہ چوبیس کروڑ پاکستانیوں کی لائف لائن اور بقا کا معاہدہ ہے، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا دوٹوک اعلان

منصور احمد june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹرز ٹریٹی) کے حوالے سے پاکستان کے مقتدر اور غیر متزلزل موقف کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس محض ایک روایتی کاغذ کا ٹکڑا یا عام معاہدہ نہیں بلکہ یہ ملک کے چوبیس کروڑ عوام کی لائف لائن اور ہماری قومی زندگیوں کی بقا کا ضامن ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی سیمینار سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی پوری شناخت، تمدن اور تاریخ دریائے سندھ کے پانیوں سے وابستہ ہے، ہمیں اپنی اس تاریخی شناخت پر دلی فخر ہے اور حکومت اس کے تحفظ کو ہر صورت برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے معاہدے کے تاریخی پسِ منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تقریباً چھ دہائیاں قبل خطے کے دو ممالک نے ایک غیر معمولی اور دور اندیش تزویراتی فیصلہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں دنیا کے چند پائیدار ترین آبی معاہدوں میں سے ایک وجود میں آیا۔ انہوں نے بھارت کو سخت پیغام دیتے ہوئے واضح کیا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت دو ممالک کے درمیان طے پانے والے ایسے مقتدر معاہدے کو کوئی بھی ایک فریق اپنی مرضی سے یکطرفہ طور پر معطل یا منسوخ کرنے کا کوئی مجاز نہیں رکھتا۔ پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی فورمز پر پُرامن روابط، تعمیری مذاکرات اور معاہدے کی روح پر مخلصانہ عملدرآمد کے پختہ عزم کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم اس سفارتی شرافت کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں قومی قیادت کا مقتدر عزم دہراتے ہوئے انتباہ کیا کہ اگر بالائی کنارے کی جانب سے پاکستان کا پانی روکنے یا اس کے قدرتی بہاؤ میں کسی بھی قسم کی تزویراتی دست برد کی کوشش کی گئی، تو ملک کی تمام سیاسی و عسکری قیادت پاکستان کے غیور عوام کا آبی حق بحال کرانے اور اس جارحیت کا انتہائی مؤثر، فوری اور دندان شکن جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے اپنے خطاب کے اختتام پر عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی برادری کے سامنے اپنا مقدمہ مضبوطی سے لڑتے ہوئے ہر صورت اس تاریخی معاہدے کے تقدس اور ملکی سالمیت کا تحفظ کرے گا اور آنے والی نسلوں کے حقوق پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی جواز بینک اکاؤنٹس بلاک یا فریز کرنے سے روک دیا

منصور احمد june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں ملک بھر کے تمام کمرشل اور شیڈولڈ بینکوں کے لیے مقتدر اور اہم ہدایات جاری کر دی ہیں، جس کے تحت اب کسی بھی بینک اکاؤنٹ کو بغیر قانونی جواز، مجاز اتھارٹی کی باقاعدہ منظوری اور مناسب تصدیق کے بلاک، فریز یا اس پر کسی بھی قسم کی آپریشنل پابندی عائد نہیں کی جا سکے گی۔ مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ غیر ارادی، عجلت پسندی یا محض احتیاطی پابندیوں کے نتیجے میں اکاؤنٹ ہولڈرز کو پہنچنے والے کسی بھی قسم کے مالی یا قانونی نقصان کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی شہری کے بینک اکاؤنٹ پر ڈیبٹ بلاک یا فریزنگ کا اقدام صرف اور صرف مروجہ قانون کے مطابق ہو۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نئے ہدایت نامے کے مطابق، ہر قسم کی ڈیبٹ بلاکنگ یا اکاؤنٹ فریزنگ اب صرف متعلقہ قانون کے دائرہ کار اور مجاز ادارے کے حتمی اختیار کے تحت ہی عمل میں لائی جا سکے گی۔ کسی بھی شہری کے اکاؤنٹ کے خلاف کوئی بھی تادیبی کارروائی کرنے سے پہلے بینک انتظامیہ پر قانونی اختیار اور متعلقہ دستاویزات کی مکمل اور جامع تصدیق کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ مرکزی بینک نے تمام بینکوں کو سخت پابند کیا ہے کہ وہ اپنے اداروں میں ایک ایسا جدید اور مؤثر اندرونی نظام تشکیل دیں جو اس بات کی مکمل ضمانت دے کہ کسی بھی کھاتہ دار پر محض شک یا احتیاطی بنیادوں پر ایسی پابندیاں عائد نہ ہوں جن سے اسے غیر ضروری مالی تنگی یا قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑے۔

یہ اہم ترین ہدایات اسلام آباد ہائیکورٹ کے مقتدر فیصلے کی روشنی میں جاری کی گئی ہیں، جہاں جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایک کیس کی سماعت کے دوران اسٹیٹ بینک کو بینک اکاؤنٹس بلاک کرنے کے حوالے سے ایک واضح، شفاف اور مربوط اندرونی طریقہ کار مرتب کرنے اور ملک بھر کے تمام بینکوں کو اس پر سختی سے عمل درآمد کروانے کا حکم دیا تھا۔ اسٹیٹ بینک نے عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی جامع رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ہے، جس میں نئے وضع کردہ ایس او پیز اور بینکوں کے لیے جاری کردہ تازہ ترین ہدایات کی مکمل تفصیلات سے عدالتِ عالیہ کو باقاعدہ آگاہ کر دیا گیا ہے۔

ضلع کشتواڑ کے اتھولی تھانے کی چاردیواری پھلانگ کر راشٹریہ رائفلز کے اہلکاروں کا لاٹھیوں اور اسلحے سے دھاوا؛ مودی حکومت میں ریاستی اداروں کے مابین بڑھتی ہوئی اندرونی کشیدگی اور کمزور انتظامی کنٹرول آشکار

محمود احمد june 29,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 جون 2026ء

بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں قابض مودی حکومت کے ریاستی ادارے آپس میں ہی دست و گریباں ہو گئے ہیں جہاں بھارتی فوج اور مقامی پولیس کے مابین شدید تصادم کی مقتدر رپورٹ سامنے آئی ہے۔ بھارتی جریدے ‘دی ہندو’ کی تفصیلات کے مطابق، یہ غیر معمولی واقعہ ضلع کشتواڑ کے علاقے اتھولی میں پیش آیا جہاں انتہا پسند مودی سرکار کے ناقص انتظامی کنٹرول کے باعث شکست خوردہ بھارتی فوج کے مسلح اہلکار تھانے کے اندر ہی غنڈہ گردی اور بربریت پر اتر آئے۔

مقدمے کی تفصیلات کے مطابق، سترہ راشٹریہ رائفلز کے لگ بھگ چالیس سے زائد فوجی اہلکار اتھولی تھانے کی باقاعدہ چار دیواری اور مرکزی دروازہ پھلانگ کر اندر داخل ہوئے، جہاں انہوں نے اسلحہ، لوہے کی سلاخوں اور لاٹھیوں کا آزادانہ استعمال کرتے ہوئے ڈیوٹی پر موجود پولیس افسران کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچایا۔ مقامی پولیس نے اس مجرمانہ حملے کے بعد اپنے ہی محکمے کے اعلیٰ افسران پر تشدد اور تھانے میں توڑ پھوڑ کے جرم میں بھارتی فوج کے یونٹ کمانڈنگ آفیسر یعنی کرنل، میجر اور نائب صوبیدار سمیت درجنوں فوجی اہلکاروں کے خلاف اقدامِ قتل اور سنگین حملے کی باقاعدہ ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ درج کردہ رپورٹ کے مطابق، فوجی اہلکاروں کا یہ حملہ پہلے سے طے شدہ تزویراتی منصوبہ بندی کا حصہ تھا جس کا بنیادی مقصد ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کو جانی نقصان پہنچانا تھا۔

واضح رہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں قابض فوج اور مقامی پولیس یا پیراملٹری فورسز کے مابین تصادم کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ ماضی قریب میں بھی ایسے متعدد واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ تزویراتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج اور پولیس کے مابین بڑھتا ہوا یہ تصادم مقبوضہ علاقے میں تعینات قابض فورسز کے اندرونی عدم استحکام، مقتدر دباؤ اور باہمی کشیدگی کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب، بھارتی فوج کی طرف سے وادی کشمیر اور مضافاتی اضلاع میں کی جانے والی یہ کھلی غنڈہ گردی اس بات کی پختہ دلیل ہے کہ مودی حکومت اپنے ہی ریاستی اور حفاظتی اداروں پر مکمل کنٹرول کھو چکی ہے جس سے پورے ملک کا انتظامی ڈھانچہ اندرونی طور پر کھوکھلا ہو رہا ہے۔

پاک سعودی وزرائے خارجہ کا رابطہ: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سعودی ہم منصب سے گفتگو، ہیلی کاپٹر حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

محمود احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور برادر ملک میں پیش آنے والے حالیہ ہیلی کاپٹر حادثے کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم کی طرف سے اس المکفوف واقعے میں چودہ قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت پیش کی۔ دفترِ خارجہ کی طرف سے سامنے آنے والے مقتدر بیان کے مطابق، سعودی وزیرِ خارجہ نے اس کڑے وقت میں پاکستانی قیادت اور عوام کے مخلصانہ اور برادرانہ جذبات کو مقتدر طور پر سراہا اور نائب وزیرِ اعظم کا شکریہ ادا کیا۔

ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں رونما ہونے والی حالیہ تزویراتی پیش رفت پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا اور ارد گرد کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پاکستان کے اس پختہ عزم کو دہرایا کہ ملک اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے طے شدہ اصولوں کے تحت خطے میں پائیدار امن کے قیام اور استحکام کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار مسلسل ادا کرتا رہے گا۔ رابطے کے دوران سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ وہ باہمی طور پر طے پانے والی مناسب تواریخ پر بہت جلد پاکستان کا باقاعدہ دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کا نائب وزیرِ اعظم نے گرمجوشی سے خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ اعلیٰ سطحی دورہ جلد عملی شکل اختیار کرے گا جس سے دونوں برادر ممالک کے مابین تعلقات کے نئے باب کا آغاز ہوگا۔

برادر ملک کے ساتھ معاشی روابط میں مقتدر پیش رفت: پاکستان نے سال دو ہزار تیس تک سعودی عرب میں دس لاکھ افرادی قوت بھیجنے کا ہدف مقرر کر دیا

منصور احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

پاکستان نے برادر ملک کے ساتھ لیبر موبیلٹی، انسانی سرمائے کی ترقی اور باہمی معاشی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے سال دو ہزار تیس تک سعودی عرب میں ریکارڈ دس لاکھ افرادی قوت بھیجنے کا تزویراتی ہدف مقرر کر دیا ہے، جو کہ ایک طویل المدتی افرادی قوت کی ترقی کی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ ہے۔ دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ تاریخی ہدف دونوں ممالک کے معاشی تعاون کے فریم ورک کے تحت تیار کردہ پندرہ سالہ ہیومن ریسورس ڈیپلائیمنٹ پلان کا حصہ ہے، جو پاکستانی افرادی قوت کو سعودی عرب کے وژن دو ہزار تیس کی جدید ضروریات کے مطابق مؤثر طریقے سے منظم کرتا ہے۔ اس جامع منصوبے کے تحت سالانہ بیرونِ ملک بھیجے جانے والے کارکنوں کی مجموعی تعداد کو سال دو ہزار انتالیس تک بڑھا کر پندرہ لاکھ دس ہزار تک پہنچانے کا مقتدر ہدف رکھا گیا ہے، جس کے لیے اعلیٰ تعلیم یافتہ، ہنرمند اور نیم ہنرمند افرادی قوت کی ایک منظم پائپ لائن تیار کی جائے گی، جبکہ اس عمل میں تعمیرات، ہوٹلنگ، سیاحت، صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ایوی ایشن اور انفراسٹرکچر کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

سعودی عرب طویل عرصے سے پاکستانی محنت کشوں کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے اور بیورو آف امیگریشن کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے دوران بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹرڈ ہونے والے سات لاکھ باسٹھ ہزار سے زائد ملکی کارکنوں میں سے پانچ لاکھ تیس ہزار سے زائد یعنی تقریباً ستر فیصد افراد نے روزگار کے لیے سعودی عرب کا رخ کیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جانے والے پاکستانیوں کی تعداد کل افرادی قوت کا چھیانوے فیصد بنتی ہے۔ سعودی عرب کے وژن دو ہزار تیس کے تحت شروع ہونے والے میگا اور گیگا پروجیکٹس کی بدولت وہاں تعمیرات اور سروسز کے شعبوں میں روزگار کے بے پناہ نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، جنہیں پورا کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی قومی حکمتِ عملی کو سعودی مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق ڈھال لیا ہے، جس کے تحت نیوٹیک اور سعودی عرب کے فنی اداروں کے مابین کوالیفیکیشن کو ہم آہنگ کیا جا رہا ہے اور ڈیجیٹل لیبر مارکیٹ انٹیگریشن سمیت آجر سے منسلک بھرتی کے ماڈلز متعارف کرائے جا رہے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق پاکستان نے اس ڈیمانڈ ڈریون تربیتی انفراسٹرکچر، اسکل سٹیز اور مشترکہ تعلیمی اداروں کے قیام کے لیے سعودی عرب کی شراکت داری سے اڑتیس ارب ڈالر کا ایک بڑا سرمایہ کاری فریم ورک بھی تجویز کیا ہے، جس میں ستائیس ارب ڈالر تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم اور دس ارب ڈالر اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے لیے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ حالیہ عرصے میں اس تزویراتی اقدام کے تحت ستر سے زائد مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں اور انسانی وسائل کی نمائش کے بعد چار ہزار سات سو سے زائد کارکنوں کی فوری تعیناتی سمیت سعودی تکامل اور مساند جیسے مقتدر اداروں کے ساتھ تعاون بڑھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان مستقبل کے بین الاقوامی مواقع بالخصوص فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چونتیس کی تیاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی افرادی قوت کی طویل المدتی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس کے تحت سال دو ہزار چھبیس سے دو ہزار چونتیس کے درمیان انفراسٹرکچر، ہوا بازی، سیاحت اور متعلقہ شعبوں کے لیے تین سے چار لاکھ مقتدر کارکنوں کی خصوصی تربیت اور تعیناتی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ پاکستان کی ترجیحی ورک فورس پارٹنر کی حیثیت برقرار رہے اور ملک کو زیادہ ترسیلاتِ زر حاصل ہو سکیں۔

عالمی مالیاتی ادارے پر انحصار ختم کرنے کے لیے ملکی برآمدات اور جدید تیکنیک کا فروغ ناگزیر ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال

https://images.openai.com/static-rsc-4/9FH5xvDeYcPCfTKKZ96popFSxOjP8d34PbdXMf1x8myQdEpO6ofrSxNOmJuDF8-auksXU2CMI8qnSBCrsB3dLMh8hhdaiWWUnLM_92gHZGGvpnt5R1kX4sf4SEmarOYCjVJiIfb0VnoIcY9L1dBVavhxJMcBobUldwpL1Pygno8aXWzBV9mAGggzPdQN1hmZ?purpose=fullsize

کاشف عباسی ,june 28,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری، بقا اور تعمیر و ترقی کا حتمی فیصلہ اب معاشی محاذ، جدید تیکنیک اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں کامیابی سے مشروط ہے کیونکہ بیرونی قرضوں اور عالمی مالیاتی ادارے کے چنگل سے مستقل آزادی صرف برآمدات میں اضافے سے ہی ممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور کے ایک تربیتی مرکز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کیا جہاں ارکانِ قومی اسمبلی، سیاسی رہنما اور ادارے کے اعلیٰ حکام موجود تھے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے اڑان پاکستان پروگرام کے ذریعے نوجوان نسل کو جدید ترین انٹرنیٹ مہارتوں اور مصنوعی ذہانت سے آراستہ کر رہی ہے تاکہ عالمی معیشت میں ملک کا ایک منفرد مقام بنایا جا سکے۔ انہوں نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے حالیہ سفارتی کامیابیوں کا سہرا وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے سر باندھا جن کی تزویراتی قیادت میں پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کیا۔

امریکہ اور ایران کے مابین حالیہ تنازع کا ذکر کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ اگر یہ معرکہ طول پکڑ جاتا تو پوری دنیا شدید ترین معاشی بحران، ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور عالمی مہنگائی کی لپیٹ میں آ جاتی، مگر پاکستان نے اپنی مؤثر اور مقتدر سفارت کاری کے ذریعے عالمی امن قائم کرنے میں ایک تاریخی کردار ادا کیا جس کا اعتراف اب پوری دنیا کر رہی ہے۔ انہوں نے ماضی کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ سال دو ہزار تیرہ میں مسلم لیگ (ن) کو دہشت گردی اور لوڈشیڈنگ جیسے سنگین مسائل ورثے میں ملے تھے جن پر میاں نواز شریف کی قیادت میں قابو پایا گیا اور سال دو ہزار سترہ میں دنیا پاکستان کو بیس بڑی معیشتوں میں شامل دیکھ رہی تھی مگر بعد میں آنے والی حکومت نے ملکی ترقی کے اس سفر کو شدید نقصان پہنچایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیفالٹ کے سائے منڈلانے کے باوجود حکومت نے سیاست کے بجائے ریاست کو ترجیح دی جس کے نتیجے میں اڑتیس فیصد کی ریکارڈ مہنگائی اب محض چھ فیصد پر آ چکی ہے جبکہ بینکوں کی پالیسی شرح سود بھی تئیس فیصد سے کم ہو کر دس فیصد کی سطح پر آ گئی ہے، جو معاشی بحالی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے بیرونی ملک مقیم نوے لاکھ پاکستانیوں کی جانب سے سالانہ چالیس ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھیجنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مایوسی اور انتہا پسندی کا راستہ چھوڑ کر جدید مہارتیں سیکھیں کیونکہ ملکی ترقی کا راز پالیسیوں کے تسلسل اور محنت میں پنہاں ہے۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے تصدیق کی کہ امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ ہو چکا ہے اور بھارت پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کی جرات نہیں کر سکتا کیونکہ عالمی برادری بھی اس معاملے پر اس پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

مراکش کے اسماعیل صیباری سمیت متعدد مسلم کھلاڑیوں کو شراب کی برانڈنگ کے بغیر خصوصی ٹرافی اور بیک ڈراپ پیش؛ فیفا کی جانب سے کھلاڑیوں کے عقائد اور قانونی عمر کے احترام میں مقتدر پالیسی نافذ

محمود احمد june 28,2026

میامی (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے سال دو ہزار چھبیس کے جاری فیفا ورلڈ کپ کے دوران مسلم کھلاڑیوں کے مذہبی عقائد اور ثقافتی حساسیت کا مقتدر احترام کرتے ہوئے پلے آف دی میچ کی تقریب اور ٹرافی میں ایک انتہائی اہم اور تاریخی تبدیلی متعارف کرا دی ہے۔ اس نئی اور وضع کردہ پالیسی کے تحت منتخب مسلم اور مخصوص کھلاڑیوں کے لیے شراب کی برانڈنگ کے بغیر ایک بالکل الگ اور غیر جانبدار بیک ڈراپ اور خصوصی ٹرافی پیش کی جا رہی ہے۔ یہ بڑی تبدیلی اس وقت عالمی میڈیا کے سامنے نمایاں ہوئی جب مراکش کے اسٹار کھلاڑی اسماعیل صیباری نے اسکاٹ لینڈ کے خلاف کھیلے گئے میچ میں ٹورنامنٹ کا تیز ترین پہلا گول اسکور کر کے مین آف دی میچ کا مقتدر اعزاز حاصل کیا۔

ایوارڈ کی اس مخصوص تقریب کے دوران عام طور پر پسِ منظر میں موجود بیئر برانڈ کی تشہیر کو مکمل طور پر ہٹا کر اس کی جگہ ایک غیر جانبدار سپیریئر پلیئر آف دی میچ ڈیزائن اور فیفا ورلڈ کپ کی باقاعدہ برانڈنگ استعمال کی گئی۔ عالمی رپورٹس کے مطابق مراکش کے اسماعیل صیباری کے علاوہ مصر کے امام عاشور، اردن کے علی علوان، ایران کے رامین رضائیان، قطر کے مقتدر گول کیپر محمود ابو ندا اور آئیوری کوسٹ کے یان دیومانڈے کو بھی ان کے میچز میں شاندار کارکردگی پر اسی طرز کا غیر برانڈڈ ایوارڈ فراہم کیا گیا ہے۔

فیفا کے ترجمان نے اس حوالے سے باقاعدہ وضاحت جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کسی بھی منتخب کھلاڑی کی ذاتی درخواست پر بغیر برانڈنگ والا ایوارڈ اور پینل بیک ڈراپ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ ترجمان کے مطابق اسی یکساں پالیسی کا برحق اطلاق ان نوجوان کھلاڑیوں پر بھی سختی سے ہوتا ہے جو قانونی طور پر اپنے ممالک یا میزبان ملک میں شراب نوشی کی مقررہ عمر کو نہیں پہنچے ہوتے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل سال دو ہزار اٹھارہ کے ورلڈ کپ میں مصر کے مقتدر گول کیپر محمد الشناوی نے بھی شراب کی اسپانسرشپ سے منسلک پلیئر آف دی میچ ایوارڈ کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا جس کے بعد مسلم کھلاڑیوں کے حقوق اور عقائد کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر ایک بڑی مہم نے توجہ حاصل کی تھی۔

ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریبی اہم ترین تیل مرکز راس تنورہ کے علاقے میں کریش ہوا؛ حادثہ ایسے وقت پیش آیا جب چار ماہ کی معطلی کے بعد حال ہی میں تیل کی بین الاقوامی سپلائی دوبارہ بحال کی گئی تھی

محمود احمد june 28,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کا ایک ہیلی کاپٹر ساحلی علاقے کے قریب گر کر تباہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار تمام چودہ افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جبکہ یہ افسوسناک واقعہ ایک ایسے حساس وقت پر پیش آیا ہے جب سعودی عرب نے حال ہی میں خطے سے اپنے آئل ٹینکرز کی سپلائی دوبارہ بحال کی تھی۔ عالمی میڈیا کے مطابق آرامکو کمپنی کا یہ ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریبی اور اہم ترین تیل مرکز راس تنورہ کے علاقے میں ساحلِ سمندر کے قریب کریش ہوا، جس کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار عملے کے ارکان اور آرامکو کے ملازمین سمیت تمام چودہ افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ سکیورٹی اور ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔

معلوم ہوا ہے کہ یہ حادثہ سٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ سعودی عرب نے طویل عرصے یعنی تقریباً چار ماہ کی معطلی کے بعد ابھی حال ہی میں راس تنورہ کے ساحل سے اپنے آئل ٹینکرز کے ذریعے تیل کی بین الاقوامی سپلائی دوبارہ بحال کی تھی، جبکہ آرامکو حکام اور سعودی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ہیلی کاپٹر گرنے کی وجوہات اور اسباب کی جانچ پڑتال کے لیے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے اور ماہرین اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ حادثہ کسی تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا یا اس کے پیچھے خطے کی موجودہ بحری کشیدگی کا کوئی عنصر شامل ہے۔

ٹاپ 50 امریکی یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے والے اسکالرز کو سالانہ 19 ہزار 200 ڈالر وظیفہ اور ہیلتھ انشورنس ملے گی؛ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے کارکردگی اور بین الاقوامی رینکنگ کے لحاظ سے دو مقتدر زمرے متعارف کروا دیے

روزینہ اسماعیل.june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے اڑان پاکستان کے اعلیٰ اشتراک سے ملکی تاریخ کے ایک بڑے تزویراتی تعلیمی منصوبے یو ایس پاکستان نالج کوریڈور کے تحت امریکہ کی چوٹی کی سو نامور اور مقتدر یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی اسکالرشپ کے لیے باقاعدہ داخلوں کا اعلان کر دیا ہے۔ کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی پریس ریلیز کے مطابق، یہ اسکالرشپ پروگرام خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر اعلیٰ تعلیم اور بین الاقوامی تحقیق کے فروغ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کا مقصد پاکستان میں اعلیٰ پائے کے محققین اور ماہرین تیار کرنا ہے۔ کوالیفائی کرنے والے ہونہار طالب علموں کی مالی معاونت اور تعلیمی اخراجات کو سہل بنانے کے لیے کمیشن نے بین الاقوامی رینکنگ کے لحاظ سے دو مقتدر کیٹیگریز مقرر کی ہیں، جن کی تفصیلات کے مطابق درجہ اول کے تحت امریکہ کی ٹاپ پچاس عالمی جامعات میں براہِ راست پی ایچ ڈی میں داخلہ حاصل کرنے والے پاکستانی طالب علموں کو سالانہ انیس ہزار دو سو امریکی ڈالر کا بھاری وظیفہ دیا جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اسکالرز کی طبی سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے دو ہزار امریکی ڈالر سالانہ کی ہیلتھ انشورنس بھی فراہم کی جائے گی، جبکہ درجہ دوم میں عالمی درجہ بندی میں اکیاون سے لے کر سو نمبر پر آنے والی نامور امریکی جامعات شامل ہیں جس کے تحت منتخب ہونے والے اسکالرز کے لیے بارہ ہزار امریکی ڈالر سالانہ ٹیوشن فیس کی مد میں، بارہ ہزار امریکی ڈالر سالانہ وظیفہ، اور صحت کے تحفظ کے لیے دو ہزار امریکی ڈالر سالانہ ہیلتھ انشورنس مختص کی گئی ہے۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے مقتدر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام پاکستان اور امریکہ کے مابین تعلیمی و تحقیقی روابط کو مزید پائیدار اور مستحکم بنانے میں اہم تزویراتی کردار ادا کرے گا اور اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ملک بھر کے باصلاحیت اور اہل طلبہ و طالبات کو مقررہ ضوابط کے تحت جلد سے جلد درخواستیں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ تعلیمی و صنعتی شعبے میں عالمی معیار کی لیڈرشپ پیدا کی جا سکے۔

حرمین شریفین کی انتظامیہ کے مطابق غسلِ کعبہ کا متبرک عمل بروز منگل بمطابق 30 جون 2026ء کو نمازِ فجر کے فوراً بعد ادا کیا جائے گا؛ خادم الحرمین الشریفین کے خصوصی نمائندے اور مکہ مکرمہ کے گورنر بھی شریک ہوں گے

محمود احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

مکہ مکرمہ سے موصول ہونے والی معتبر اطلاعات کے مطابق، خانہ کعبہ کو غسل دینے کی روح پرور اور انتہائی باوقار تقریب 15 محرم الحرام 1448 ہجری، بروز منگل بمطابق 30 جون 2026ء کو علی الصبح نمازِ فجر کے فوراً بعد منعقد ہوگی۔ حرمین شریفین کی انتظامیہ نے اس متبرک اور تاریخی تقریب کے شیڈول کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے، جس کی تیاریاں مکہ مکرمہ میں حرمین انتظامیہ کی نگرانی میں عروج پر ہیں۔

اس انتہائی باوقار اور تاریخی تقریب میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے خصوصی نمائندے، مکہ مکرمہ کے گورنر، حرمین شریفین کے ائمہ کرام، مسلم ممالک کے اعلیٰ سفارتکار اور متعدد ملکی و غیر ملکی اہم شخصیات شرکت اور کعبہ شریف کو غسل دینے کی سعادت حاصل کریں گی۔ سعودی میڈیا کے مطابق، غسلِ کعبہ کا یہ متبرک عمل صدیوں پرانی اسلامی روایات، طے شدہ شرعی اصولوں اور جدید سائنسی و انتظامی پروٹوکولز کے تحت انتہائی عقیدت، احترام اور سخت سیکیورٹی کے حصار میں انجام دیا جاتا ہے، جس کے لیے خاص طور پر آبِ زم زم، خالص عرقِ گلاب اور قیمتی عود کی آمیزش تیار کی جاتی ہے۔

پاک بحرین سفارتی روابط: نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی بحرین کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی سے ٹیلیفونک گفتگو، ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کے بعد خطے کی صورتحال پر تبادلہ

محمود احمد june 28,2026

اسلام آباد (سفارتی و قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور بحرین کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی کے مابین ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے تزویراتی اہمیت کی حامل “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” پر دستخط کے بعد خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور سفارتی پیش رفت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

بحرین کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے گفتگو کے دوران نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے تاریخی سنگِ میل پر دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے علاقائی تنازعات کے حل اور باہمی مفاہمت کے حصول میں پاکستان کے تعمیری و کلیدی کردار کی تعریف کرتے ہوئے پختہ امید ظاہر کی کہ یہ بڑی پیش رفت خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور پائیدار استحکام کے قیام میں انتہائی معاون ثابت ہوگی۔ بحرینی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ وہ بہت جلد پاکستان کا باقاعدہ دورہ کریں گے تاکہ خطے میں جنگ بندی کے کامیاب حصول کے لیے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و کمانڈر ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی غیر معمولی اور انتھک کاوشوں پر ذاتی طور پر ان کا شکریہ ادا کر سکیں۔

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بحرینی ہم منصب کے تعریفی کلمات اور نیک جذبات پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خطے سمیت دنیا بھر میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے اصولی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ کی طرح خطے کے نازک مسائل کو مکالمے اور فعال سفارت کاری کے ذریعے پرامن طور پر حل کرنے کی پالیسی پر گامزن رہے گا اور اس ضمن میں برادر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر تعمیری کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

پاک چین اقتصادی شراکت داری میں تاریخی سنگِ میل: چینی سرمایہ کاری سے قائم کمپنی ‘سروس لانگ مارچ ٹائرز’ کی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پہلی لسٹنگ، نجی شعبے کی تاریخ کا سب سے بڑا آئی پی او

کاشف عباسی ,june 28,026۔

اسلام آباد (اقتصادی و تجارتی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

پاکستان اور چین کے درمیان کیپیٹل مارکیٹ تعاون میں ایک تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت دونوں برادر ممالک کی کیپیٹل مارکیٹس میں براہِ راست روابط بڑھنے سے دوطرفہ معاشی و تزویراتی شراکت داری مزید مضبوط اور پائیدار بنیادوں پر استوار ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں پاک-چین مشترکہ ٹائر کمپنی “سروس لانگ مارچ ٹائرز” نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اپنی تاریخی لسٹنگ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جسے ملکی مالیاتی تاریخ میں ایک مقتدر موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

سروس لانگ مارچ ٹائرز دراصل پاکستان کے معروف ’’سروسز گروپ‘‘ اور چین کی مقتدر ’’چاؤیانگ لانگ مارچ ٹائر کمپنی‘‘ کا ایک مشترکہ تزویراتی منصوبہ ہے۔ یہ پاکستان کی مالیاتی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ چینی سرمایہ کاری اور اشتراک سے قائم کسی صنعتی کمپنی نے پاکستانی اسٹاک مارکیٹ میں اپنی باقاعدہ عوامی لسٹنگ کی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان مالیاتی اور کارپوریٹ تعاون میں ایک مقتدر سنگِ میل ہے۔ کمپنی نے اس پبلک لسٹنگ کے ذریعے مارکیٹ سے ریکارڈ 28 ملین امریکی ڈالر حاصل کیے ہیں، جو پاکستان کے نجی شعبے کی تاریخ کا سب سے بڑا انیشل پبلک آفرنگ ثابت ہوا ہے۔ اس بھاری کثیر الجہتی سرمایہ کاری سے ملک میں مقامی سطح پر ٹائر سازی کی صنعتی صلاحیت میں گراں قدر اضافہ ہوگا، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ بچانے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ ملکی برآمدات کو بھی بھرپور فروغ حاصل ہوگا۔

اس مقتدر تزویراتی کامیابی کے بعد دونوں ممالک کی مالیاتی انتظامیہ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ کیپیٹل مارکیٹ کے دائرہ کار کو مزید وسعت دیں گے۔ اس سلسلے میں پاکستان اور چین ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز کی بنیاد پر مارکیٹ انفراسٹرکچر کو جدید بنانے اور مشترکہ سرمایہ کاری کی نئی مصنوعات، بالخصوص “اسلامی فنانس” کے شعبے میں تعاون کو مقتدر خطوط پر آگے بڑھائیں گے۔ معاشی ماہرین اور تجارتی حلقوں نے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اس نوعیت کی لسٹنگ دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور مالیاتی تعاون کے روشن مستقبل کی عکاس ہے، جو آنے والے دنوں میں مزید چینی کمپنیوں کو پاکستانی مارکیٹ کا رخ کرنے کی مقتدر ترغیب دے گی۔

عالمی فورم پر پاکستان کا اہم موقف: سوڈان میں شہریوں پر حملوں کی شدید مذمت، شہریوں کے فوری تحفظ اور سوڈانی قیادت میں سیاسی عمل پر زور

محمود احمد june 27,2026

اقوامِ متحدہ/نیویارک (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 27 جون 2026ء

پاکستان نے سوڈان میں جاری شدید خانہ جنگی پر عالمی فورم پر اپنا واضح تزویراتی موقف پیش کرتے ہوئے ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے نہتے شہریوں اور شہری تنصیبات پر کیے جانے والے حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور بڑے پیمانے پر انسانی مظالم کے فوری خطرے سے خبردار کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں سوڈان کی صورتحال پر منعقدہ اہم اجلاس سے پاکستان کا مقتدر قومی بیان دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے بگڑتی ہوئی سلامتی اور مقتدر انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تین برس سے زائد عرصے سے جاری اس بھیانک تنازعے کا سب سے زیادہ خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اسکولوں، ہسپتالوں، بازاروں اور عبادت گاہوں جیسی شہری زندگی کے لیے ناگزیر تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خاص طور پر “الابیض” کی صورتحال کو انتہائی نازک قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز کی بڑی تعداد میں عسکری کمک، زمینی حملے کے خدشات، اور دارفور سمیت سوڈان کے دیگر علاقوں میں اندھا دھند قتل، نسلی بنیادوں پر تشدد، جنسی جرائم اور جبری نقل مکانی جیسے سنگین مظالم کا ریکارڈ شدید تشویش کا باعث ہے، جو بڑے پیمانے پر انسانی المیے کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے آر ایس ایف پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر الابیض پر حملے بند کرے، بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری کرے اور ڈرونز و جدید ہتھیاروں کا استعمال روکے جس سے شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے پورے سوڈان میں ضرورت مند افراد تک محفوظ اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ امدادی کارکنوں اور سامان پر حملے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے اصرار کیا کہ سوڈان کی خودمختاری، وحدت، علاقائی سالمیت اور قومی اداروں کا تحفظ ہر صورت ناگزیر ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ایسے کسی بھی اقدام یا بیان سے گریز کریں جو سوڈان کے قومی اداروں کو کمزور کرے یا متوازی عسکری یا سیاسی ڈھانچوں کے قیام کی راہ ہموار کرے، کیونکہ ایسے اقدامات سے مسلح گروہوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور تنازع طول پکڑے گا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سوڈان کے تنازعے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور چونکہ سوڈان کے امن و استحکام کا افریقی اور عرب خطوں کی سلامتی سے گہرا تعلق ہے، اس لیے یہاں استحکام کی بحالی عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ذاتی نمائندے کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے عزم دہرایا کہ پاکستان سوڈان کو دوبارہ آئینی نظام کی جانب واپس لانے کے لیے اقوامِ متحدہ، افریقی یونین، عرب لیگ اور دیگر علاقائی شراکت داروں کی مقتدر کوششوں کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

صرف تشدد کا خاتمہ پائیدار امن کی ضمانت نہیں ہوتا، پائیدار امن باہر سے مسلط نہیں کیا جا سکتا بلکہ اسے مقامی قیادت کی سربراہی میں ہی تعمیر کرنا ہوتا ہے، اقوامِ متحدہ کے امن سازی کمیشن کے سالانہ اجلاس میں سفیر عثمان جدون کا کثیرالجہتی عزم اور پاکستان کا قومی بیان،

محمود احمد june 26,2026

اقوامِ متحدہ/نیویارک (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

پاکستان نے عالمی سطح پر امن و امان کے قیام کے لیے اپنا تزویراتی موقف پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دنیا بھر میں تنازعات کی روک تھام، امن قائم کرنا، امن برقرار رکھنا، امن سازی اور معاشی و سماجی ترقی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں بلکہ پائیدار امن اور خوشحالی کے لیے ایک جامع اور باہم مربوط عمل کے لازمی اجزاء ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے امن سازی کمیشن کے بیسویں سالانہ اجلاس، جس کا مقتدر موضوع “امن سازی @20: جدت، شمولیت اور مؤثر نتائج کے لیے شراکت داریاں” تھا، میں پاکستان کا مقتدر قومی بیان پیش کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے بین الاقوامی مندوبین کو بتایا کہ عالمی تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ صرف تشدد کا خاتمہ ہی مستقل اور پائیدار امن کی ضمانت نہیں ہوتا۔

نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے تنازعات کے بعد کی مقتدر صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امن اسی وقت دیرپا اور مستحکم ثابت ہو سکتا ہے جب متعلقہ معاشرے اس کے عملی اور معاشی ثمرات خود محسوس کریں، جب ریاستی اداروں پر عام عوام کا اعتماد بحال ہو، سماجی اعتماد فروغ پائے، روزگار اور ترقی کے مواقع میں اضافہ ہو اور لوگوں کی روزمرہ زندگی میں مثبت تبدیلی نمایاں طور پر نظر آئے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ پائیدار امن کے لیے مضبوط ریاستی اداروں، سماجی ہم آہنگی، تزویراتی اقتصادی مواقع اور بحالی کے ایک ایسے جامع عمل کی ضرورت ہے جس کی قیادت اور مکمل ملکیت خود متعلقہ ممالک اور وہاں کے مقامی شراکت داروں کے پاس ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ پائیدار امن کبھی بھی باہر سے مسلط نہیں کیا جا سکتا بلکہ اسے قومی قیادت کی سربراہی میں، بین الاقوامی برادری کے بھرپور تزویراتی تعاون کے ساتھ ہی تعمیر کرنا ہوتا ہے۔

سفیر عثمان جدون نے پاکستان کی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو امن سازی کے عمل کی بنیاد بننے والے کثیرالجہتی عزم کو درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز، خصوصاً مالی وسائل کی کمی اور معیاری و اصولی فریم ورک سے متعلق مسائل پر گہری تشویش ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے پیس بلڈنگ فنڈ کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ فنڈ سیاسی عزم کو زمینی سطح پر عملی نتائج میں تبدیل کرنے کا ایک نہایت اہم اور مقتدر ذریعہ ہے۔ اس فنڈ کی لچک، محرک کردار اور قومی ترجیحات کے مطابق فوری ردعمل کی صلاحیت اسے امن سازی کے وسیع تر بین الاقوامی ڈھانچے کا ایک ناگزیر جزو بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سن کر انتہائی حوصلہ افزائی ہوئی ہے کہ امن سازی کمیشن اور پیس بلڈنگ فنڈ سے مستفید ہونے والے ممالک نے خود گواہی دی ہے کہ اس فنڈ کی معاونت سے قائم شراکت داریوں نے مقامی آبادی کے لیے کس طرح مثبت اور بامعنی نتائج فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اپنے قیام کے بیس برس مکمل ہونے پر امن سازی کے اس نئے ڈھانچے کو اس بات پر نئے اعتماد کو فروغ دینا چاہیے کہ کثیرالجہتی تعاون آج کے دور میں بھی پائیدار امن کے حصول کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔

پاکستانی خواتین کے لیے تاریخی اعزاز: سلیمہ امتیاز ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں امپائرنگ کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون بن گئیں، اب تک 4 عالمی میچوں میں ذمہ داریاں نبھا چکیں

محمود احمد june 26,2026

اسلام آباد (کھیل رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

پاکستان کی مقتدر اور نامور امپائر سلیمہ امتیاز نے عالمی کرکٹ کی تاریخ میں ایک اور سنہری سنگِ میل عبور کرتے ہوئے آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں امپائرنگ کے فرائض سرانجام دینے والی پہلی پاکستانی خاتون ہونے کا تاریخی اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔ انگلینڈ کی سرزمین پر جاری ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے مقتدر مقابلوں کے دوران سلیمہ امتیاز اپنی شاندار پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بدولت اب تک چار ہائی پروفائل میچوں میں مختلف اہم ذمہ داریاں انتہائی کامیابی سے نبھا چکی ہیں، جس میں دو میچوں میں بطور آن فیلڈ امپائر، ایک میچ میں ٹیلی ویژن (تھرڈ) امپائر اور ایک مقابلے میں فورتھ امپائر کے مقتدر فرائض شامل ہیں۔

ورلڈ کپ کے اس بڑے تزویراتی اسٹیج پر ان کی بہترین کارکردگی کے باعث آئی سی سی نے ان کی آئندہ کی مقتدر ذمہ داریوں کا شیڈول بھی جاری کر دیا ہے۔ سلیمہ امتیاز ہفتہ کے روز لندن کے تاریخی اوول گراؤنڈ میں میزبان انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہونے والے سنسنی خیز میچ میں بطور ٹیلی ویژن امپائر اپنے فرائض ادا کریں گی، جبکہ اتوار کے روز دنیا کے معروف ترین لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں روایتی حریفوں بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جانے والے ہائی وولٹیج مقابلے میں فورتھ امپائر کی مقتدر کرسی سنبھالیں گی۔ واضح رہے کہ سلیمہ امتیاز ستمبر 2024ء میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے مقتدر انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ پینل میں شامل ہونے والی بھی پہلی پاکستانی خاتون بنی تھیں، جسے پاکستان میں خواتین کرکٹ آفیشلز کے لیے اب تک کا سب سے بڑا تزویراتی سنگِ میل تصور کیا جاتا ہے۔

اس تاریخی اور مقتدر کامیابی پر میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سلیمہ امتیاز نے کہا کہ آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیسے بڑے عالمی ایونٹ میں بطور امپائر ڈیبیو کرنا ان کی ذات اور پورے پاکستان کے لیے ایک انتہائی بلند اور یادگار اعزاز ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کا یہ مقتدر سفر پاکستان کی دیگر باصلاحیت خواتین اور نوجوان لڑکیوں کے لیے مشعلِ راہ بنے گا اور انہیں کھیل کے مختلف شعبوں بالخصوص امپائرنگ اور آفیشلز کی حیثیت سے عالمی سطح پر آگے بڑھنے کی بھرپور ترغیب دے گا۔ پاکستان کے مقتدر کرکٹ حلقوں، سابق کھلاڑیوں اور شائقینِ کرکٹ نے سلیمہ امتیاز کی اس بین الاقوامی کامیابی کو پاکستان کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے اسے عالمی کھیلوں کے افق پر پاکستانی خواتین کی بڑھتی ہوئی مقتدر نمائندگی کا ایک نہایت مثبت اور شاندار مظہر قرار دیا ہے۔

پاک روس میڈیا روابط میں تاریخی پیش رفت: روسی سرکاری میڈیا گروپ ‘روسیا سیگودنیا’ کا اسلام آباد میں کثیر المقاصد ادارتی مرکز قائم کرنے پر غور، اردو سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی جلد شروع کیا جائے گا

محمود احمد june 26,2026

اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

روسی حکومت کی ملکیت اور زیرِ انتظام کام کرنے والے دنیا کے بڑے میڈیا گروپس میں سے ایک، “روسیا سیگودنیا” نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک جدید اور کثیر المقاصد ادارتی مرکز قائم کرنے اور پاکستان بھر میں اپنے نامہ نگاروں کا ایک وسیع نیٹ ورک تشکیل دینے پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔ میڈیا گروپ کی 85 ویں سالگرہ کے مقتدر موقع پر روسیا سیگودنیا کے ڈائریکٹر جنرل دمتری کیسلیوف نے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کو ایک خصوصی اور تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ادارہ پاکستان میں اپنی موجودگی بڑھانے کے لیے بہت جلد اردو زبان میں ایک جامع سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی شروع کرنے جا رہا ہے۔ اس نئی میڈیا کوریج کے دوران بین الاقوامی امور کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ہونے والی اندرونی پیش رفت اور اہم ترین ترقیاتی منصوبوں کو خصوصی فوکس کیا جائے گا۔

ڈائریکٹر جنرل دمتری کیسلیوف نے اپنے انٹرویو میں پاکستان کو ایک انتہائی اہم اور مقتدر شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ادارہ پاکستانی میڈیا اداروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین معلومات کے براہِ راست تبادلے کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم کی ضرورت پر زور دیا اور اس سلسلے میں “ماسکو-اسلام آباد میڈیا فورم” کا حوالہ دیا، جس میں دونوں ممالک کے سینئر حکام، سفارت کاروں اور پالیسی ماہرین نے شرکت کی تھی۔ انہوں نے اے پی پی، دی نیشن اور پاکستان آبزرور کے ساتھ گزشتہ سال اسلام آباد میں دستخط کی گئی مفاہمتی یادداشتوں اور پاکستان میں روسی نیوز ایجنسی “آر آئی اے نووستی” کے مستقل نمائندے کی موجودگی کو دوطرفہ صحافت کے لیے ایک مقتدر سنگِ میل قرار دیا۔ مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے انہوں نے خبروں کے مواد کے براہِ راست تبادلے، نیوز رومز تک باہمی رسائی، مشترکہ میڈیا فورمز، ماہرین کی کانفرنسوں اور دونوں ممالک کے صحافیوں کے لیے پریس دوروں کی تجویز پیش کی تاکہ اقتصادی، سائنسی اور ثقافتی شعبوں میں تفہیم کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

روسی میڈیا گروپ کے بین الاقوامی آپریشنز پر روشنی ڈالتے ہوئے دمتری کیسلیوف نے بتایا کہ روسیا سیگودنیا اپنے دو بڑے عالمی برانڈز “آر آئی اے نووستی” اور “سپوتنک” کے ذریعے درجنوں ممالک میں کام کر رہا ہے، جہاں سپوتنک 34 مختلف زبانوں میں خبریں، ریڈیو اور ملٹی میڈیا خدمات فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ میں ان کے سامعین میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور ان کا نیٹ ورک 100 سے زائد ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل نے واضح کیا کہ خبروں کی مقتدر پیداوار کے ساتھ ساتھ ان کا ادارہ عالمی سطح پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات اور “ڈیپ فیکس” جیسے ہیرا پھیری پر مبنی مواد کا مؤثر جواب دینے پر خصوصی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے تاکہ سامعین کے ساتھ اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔ انہوں نے حال ہی میں اٹلی، ایتھوپیا، بیجنگ اور بیروت میں کیے گئے توسیعی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب ان کی نظریں جنوبی ایشیا کی پھیلتی ہوئی مارکیٹ پر ہیں۔

انٹرویو کے آخر میں ڈائریکٹر جنرل نے پیشہ ورانہ تربیت کے بین الاقوامی پروگرام “سپوتنک پرو” کا تذکرہ کیا، جو 2018ء سے صحافیوں اور میڈیا طلباء کو جدید ورکشاپس فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی طلباء پہلے ہی اس پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں جبکہ حال ہی میں اے پی پی کے ایک صحافی نے ماسکو میں چار ہفتوں کا تربیتی ماڈیول مکمل کیا ہے۔ دمتری کیسلیوف نے جنوبی ایشیا کی اقتصادی اور آبادیاتی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ روس اور اس خطے کے درمیان تجارت، تعلیم اور ثقافت کے فروغ کے لیے کثیر لسانی صحافت ناگزیر ہے۔ انہوں نے خصوصی طور پر اردو، پنجابی، پشتو اور بنگالی جیسی علاقائی زبانوں میں نشریات کے آغاز کو ادارے کی اہم ترین ترجیح قرار دیا، جس سے پاک روس تعلقات میں ایک نیا اور مقتدر باب روشن ہوگا۔

زلزلے کی تباہ کاریوں کے بعد چین کا وینزویلا کے لیے ہنگامی انسانی امداد کا اعلان: وزارتِ خارجہ اور ریڈ کراس کی جانب سے الگ الگ فنڈز اور امداد فراہم کی جائے گی

محمود احمد june 26,2026

بیجنگ/اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

چین نے لاطینی امریکی ملک وینزویلا میں آنے والے حالیہ تباہ کن زلزلوں کے بعد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر متاثرہ افراد کے لیے ہنگامی انسانی امداد فراہم کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ جمعہ کے روز بیجنگ میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران چینی وزارتِ خارجہ کے مقتدر ترجمان، گوو جیاکن نے اس اہم فیصلے کی تفصیلات شیئر کیں۔ ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ چینی حکومت اور ریڈ کراس سوسائٹی آف چائنا الگ الگ اور آزادانہ بنیادوں پر وینزویلا کے زلزلہ زدگان کی امداد اور بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر نقد اور مقتدر تکنیکی و انسانی امداد فراہم کریں گے۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز وینزویلا میں آنے والے دو پے در پے طاقتور زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم 235 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ عمارتیں گرنے کی وجہ سے سینکڑوں افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ شدید متاثرہ علاقوں میں مقامی اور بین الاقوامی امدادی ٹیمیں ملبے کو ہٹانے اور زندگیاں بچانے کے لیے دن رات مقتدر ریسکیو کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ چینی ترجمان کا کہنا تھا کہ اس مشکل گھڑی میں بیجنگ حکومت اور چینی عوام وینزویلا کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہ ہنگامی امداد وہاں زمینی سطح پر جاری امدادی کاموں کو تیز کرنے اور متاثرین کی فوری مقتدر تلافی میں معاون ثابت ہوگی۔

عالمِ اسلام میں ابھرتے ہوئے اتحاد کا سہرا پاکستان کے تزویراتی کردار کو جاتا ہے، وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف

منصور احمد june 26,2026

سیالکوٹ (سیاسی و قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے مسلم امہ کے مابین بڑھتے ہوئے روابط پر اہم تزویراتی موقف اپنائے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکا جنگ اور حالیہ کشیدگی میں پاکستان نے جو کلیدی کردار ادا کیا ہے وہ تاریخ کے سنہری حروف میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، اور آج عالمِ اسلام میں ابھرتے ہوئے اس بے مثال اتحاد کا سہرا پاکستان کے سر جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اڈا پسروریاں میں میڈیا کے مقتدر نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے عاشورۂ محرم کے موقع پر سیالکوٹ کے مرکزی ماتمی جلوس میں شرکت کی اور جلوس کی قیادت سنبھالی۔ انہوں نے بیری والا چوک میں واقع مستری عبداللہ امام بارگاہ میں منعقدہ مجلسِ عزا میں بھی شرکت کی، جبکہ صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت محمد منشاء اللہ بٹ بھی ان کے ہمراہ فیلڈ میں موجود تھے۔

اڈ ا پسروریاں میں میڈیا سے مقتدر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ اس سال محرم الحرام ایک ایسے نازک وقت میں آیا ہے جب پورا خطہ حالیہ جنگ کے سنگین اثرات سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے ایرانی قوم کی غیر متزلزل استقامت کو زبردست سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سنتِ حسینی اور شہدائے کربلا کی ثابت قدمی کی یاد تازہ کر دی ہے۔ خواجہ آصف نے واضح کیا کہ عاشورۂ محرم کے موقع پر آج عالمِ اسلام کا جو تزویراتی اتحاد دیکھنے میں آ رہا ہے، اس کی مثال گزشتہ صدیوں میں بہت کم ملتی ہے اور اس مقتدر کامیابی کا سہرا پاکستان کے عزم و استقلال اور ایرانی عوام کی بے مثال ثابت قدمی کو جاتا ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ فلسطینیوں، ایرانیوں اور لبنانیوں کی لازوال قربانیاں رنگ لا رہی ہیں اور وہ وقت اب دور نہیں جب فلسطین ایک خود مختار اور آزاد ریاست بنے گا اور لبنان کے عوام بھی اسرائیلی ظلم و ستم سے ہمیشہ کے لیے نجات حاصل کر لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام گزشتہ اڑھائی سے تین برس سے جس قربانی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، وہ بھی درحقیقت کربلا کی ہی یاد تازہ کرتی ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ مسلم ممالک کا یہ اتحاد دائمی صورت اختیار کرے اور پوری امتِ مسلمہ ایک پرچم تلے متحد ہو جائے۔

اس مقتدر موقع پر ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) دوست محمد نے وفاق اور صوبے کے وزراء کو ضلع بھر میں محرم الحرام کے دوران کیے گئے امن و امان، ٹریفک، صفائی اور دیگر بلدیاتی انتظامات پر تفصیلی اور مقتدر بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی نے بریفنگ میں بتایا کہ 10 محرم الحرام کو ضلع بھر سے 87 ماتمی جلوس برآمد ہو رہے ہیں جن کے لیے رواں سال مثالی انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تمام جلوسوں اور مجالس کی مانیٹرنگ کے لیے 410 سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں اور ڈپٹی کمشنر آفس میں یکم محرم الحرام سے ایک مقتدر 24 گھنٹے فعال مانیٹرنگ روم قائم ہے جو صوبائی محکمہ داخلہ کے مرکزی سیل سے براہِ راست منسلک ہے۔ مزید برآں، جلوسوں کے راستوں میں سبیلیں اور شدید گرمی کے پیشِ نظر خصوصی ہیٹ اسٹروک کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں۔ ڈی پی او دوست محمد نے سیکیورٹی گراؤنڈز پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ محرم الحرام کے دوران فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے 2600 سے زائد پولیس اہلکار الرٹ ہو کر ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں، جہاں شہر میں تھری لیئر (تین درجاتی) سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے اور بلند عمارتوں کی روف ٹاپس پر بھی مسلح اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

انسانی وقار کا تحفظ: تشدد، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے، فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے عوام بدترین ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 26,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے تشدد، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کو کسی بھی مہذب معاشرے میں سراسر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسے مکروہ اقدامات انسانی حقوق اور انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین اور اسلامی تعلیمات کے بھی مکمل منافی ہیں۔ تشدد کے متاثرین کی حمایت کے عالمی دن کے موقع پر جاری کردہ اپنے مقتدر پیغام میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں تشدد کا شکار ہونے والے مظلوموں سے پرخلوص انداز میں یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر تشدد کی ہر شکل کے خاتمے، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان انسان کے تقدس و وقار سے متعلق اسلامی اقدار کی رہنمائی اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی روشنی میں تمام افراد کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے متاثرین کی بحالی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی نوعیت کے معاشرتی تشدد کے متاثرین بہترین طبی، نفسیاتی، قانونی اور سماجی معاونت کے قانونی حقدار ہیں، جبکہ تشدد کے مرتکب عناصر کا کڑا احتساب یقینی بنانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے متعلقہ قوانین کے مؤثر نفاذ، قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات اور ریاستی تحفظ و نگرانی کے نظام کو مزید مستحکم بنایا جا رہا ہے۔ اپنے پیغام میں وزیرِ اعظم نے غیر ملکی قابضین کی طرف سے منظم انداز میں تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے عوام ریاستی جبر و استبداد، قابضین کے بدترین تشدد اور توہین آمیز و غیر انسانی سلوک کا سامنا کر رہے ہیں، اور ان قابضین کے جرائم کی مذمت اور ان کی جوابدہی اب مشترکہ عالمی ذمہ داری بن چکی ہے۔

وزیرِ اعظم نے عالمی برادری کی توجہ خاص طور پر بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری دہائیوں پر محیط ریاستی دہشت گردی کے متاثرین کی مشکلات و مصائب کی جانب مبذول کرائی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر متعدد مستند رپورٹوں میں مقبوضہ کشمیر میں من مانی گرفتاریوں، دورانِ حراست وحشیانہ تشدد، جبری گمشدگیوں، اجتماعی سزاؤں اور سیاسی اختلافِ رائے کو دبانے کے بھارتی اقدامات پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے، جو کہ وہاں منظم تشدد کی عالمی تصدیق ہے۔ وزیرِ اعظم نے اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب عناصر کا احتساب یقینی بنائیں۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ پاکستان کشمیری عوام کی غیر ملکی تسلط کے خلاف جدوجہد کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ان کے حقِ خودارادیت کی بھرپور تائید کرتا ہے۔