جنوبی کوریا سے ناراضگی: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مشترکہ فوجی مشقیں محدود کرنے کا حکم

محمود احمد, August 17,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ جاری مجوزہ مشترکہ فوجی مشقوں کا دائرہ کار فوری طور پر محدود کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق انہوں نے یہ قدم جنوبی کوریا کی جانب سے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی امریکی کوششوں میں عدم تعاون اور مدد سے انکار کے بعد اٹھایا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں اور یہ مشترکہ فوجی مشقیں نہ صرف انتہائی مہنگی ہیں بلکہ شمالی کوریا کو ایک نامناسب اور دشمنانہ پیغام بھی دیتی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے گزشتہ دورِ صدارت کے دوران شمالی کوریا دھمکی آمیز رویے سے گریزاں رہا اور احترام کا مظاہرہ کرتا رہا۔ چونکہ اس وقت مشقوں کو مکمل طور پر منسوخ نہیں کیا جا سکتا، اس لیے انہوں نے وزیرِ دفاع (وزیرِ جنگ) پیٹ ہیگستھ کو ہدایت کی ہے کہ ان کے حجم اور دائرہ کار میں نمایاں کمی لائی جائے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے حال ہی میں جنوبی کورین صدر سے ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف امریکی مہم میں شمولیت کی درخواست کی تھی جسے انہوں نے رد کر دیا۔ واضح رہے کہ 11 روز پر مشتمل ان مشقوں میں 18 ہزار جنوبی کورین فوجیوں نے حصہ لینا تھا، جس پر شمالی کوریا نے بھی سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے جنگ کی تیاری قرار دیا تھا۔

چینی مصنوعات کی چالیس ممالک کے ذریعے امریکہ ترسیل کا الزام، صدر ٹرمپ کا رپورٹ جاری کرنے کا دعویٰ

محمود احمد, August 16,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر سنگین تجارتی دھوکہ دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ٹیرف اور ٹیکسوں سے بچنے کے لیے چینی مصنوعات کو بھارت، اسرائیل، کینیڈا، میکسیکو، اور یورپی یونین سمیت چالیس سے زائد مختلف ممالک کے ذریعے امریکہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر اپنے ایک معاون کی تیار کردہ خصوصی رپورٹ شیئر کی ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس مبینہ غیر قانونی ترسیل اور ری برانڈنگ کے ذریعے سالانہ چالیس ارب سے لے کر تین سو تین ارب ڈالر تک کی ٹیکس چوری کی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ سلسلہ سال دو ہزار اٹھارہ میں چین پر اضافی ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد سے تیزی سے بڑھا ہے، جس کے تحت چینی سامان پر دوبارہ لیبل لگائے جاتے ہیں، ان کی نئی پیکنگ اور تھوڑی بہت پروسیسنگ کی جاتی ہے، اور رسیدوں میں تبدیلی کر کے سامان کا اصل ماخذ چین کے بجائے کسی اور ملک کو ظاہر کر دیا جاتا ہے۔

امریکی انتظامیہ کی اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس غیر قانونی اور مبینہ تجارتی ہیر پھیر کی وجہ سے امریکہ میں اب تک تقریباً ساڑھے چار لاکھ روزگار کے مواقع اور ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں، جبکہ وفاقی ٹیکس اور سالانہ قومی مجموعی ملکی پیداوار کی مد میں امریکی معیشت کو اربوں ڈالر کا شدید نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین جن دیگر ملکوں کی سرحدوں اور تجارتی راستوں کو استعمال کر رہا ہے ان میں جاپان، جنوبی کوریا، برازیل، انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، ترکیہ، کمبوڈیا، لاؤس اور میانمار جیسے ممالک شامل ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اب مختلف ممالک پر براہِ راست ٹیرف لگانے کے ساتھ ساتھ ان تمام قانونی اور انتظامی خامیوں کو بند کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کر دی ہے جن کا فائدہ اٹھا کر غیر ملکی درآمد کنندگان امریکی ملازمین، مقامی صنعت کاروں اور ٹیکس دہندگان کو نقصان پہنچا کر اپنا سامان مارکیٹ میں کھپا رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر کے اس بیان اور جاری کردہ رپورٹ پر شدید تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔ ناقدین اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی خارجہ پالیسی اور ایران سے متعلق کشیدگی کی ناکامیوں اور معاشی دباؤ سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ٹیرف جنگ کا پرانا موقف دوبارہ استعمال کر رہے ہیں۔ عالمی امور اور معاشی مسائل کے نامور امریکی ماہر پروفیسر جیفری سیکس نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ معاشی بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کی مصنوعات اور ان کی عالمی سپلائی چین کے بغیر موجودہ دور میں دنیا کا نظام چلانا ممکن نہیں رہا، اور اگر امریکی یا بین الاقوامی تاجر سستی مصنوعات کے لیے کسی تیسرے ملک میں پروسیسنگ کرتے ہیں تو اس کا تمام تر ملبہ بیجنگ پر ڈالنا نامناسب ہے۔

معاشی ماہرین نے مزید کہا کہ غلط معاشی پالیسیوں اور تجارتی جنگوں کی وجہ سے آج عام امریکی شہری کے لیے خوراک، بنیادی ضروریات، رہائش اور نقل و حرکت کی قیمتیں پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ ناقدین کا الزام ہے کہ حکومت کا تمام تر فوکس معاشی اصلاحات کے بجائے سیاسی مقاصد اور ٹیرف پالیسیوں کے ذریعے نجی فوائد حاصل کرنے پر مرثوز ہے، جس کی قیمت امریکی عوام کو مہنگائی اور بیروزگاری کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے۔ تاھم چین اور دیگر نامزد کردہ چالیس سے زائد ممالک کی حکومتوں کی جانب سے فی الحال اس امریکی رپورٹ اور صدر ٹرمپ کے ٹوئٹ پر کوئی باقاعدہ یا حتمی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا بیان محض ایک مذاق تھا: وائٹ ہاؤس کی ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر وضاحت

محمود احمد, August 15,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 15 اگست 2026ء

امریکی ایوانِ صدر (وائٹ ہاؤس) کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ درپیش تنازع کے تناظر میں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے سے متعلق دیا گیا بیان محض مذاق کے طور پر دیا تھا اور اس حوالے سے انتظامیہ کی کوئی باقاعدہ پالیسی یا منصوبہ بندی موجود نہیں ہے۔

امریکی جریدے کے معروف صحافی برائن شوارٹز نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ کے ذریعے بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے ایک انتہائی سینئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیویارک میں ایک تقریب اور تقریر کے دوران آبنائے ہرمز کو امریکہ کا علاقہ بنانے کے حوالے سے جو بات کی تھی، وہ سنجیدہ سیاسی یا دفاعی فیصلہ نہیں بلکہ محض ایک مزاحیہ جملہ تھا۔

وائٹ ہاؤس کے سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے سیکیورٹی یا دفاعی مشیروں کے ساتھ اس قسم کے کسی بھی ممکنہ قدم یا قبضے کے معاملے پر کوئی باقاعدہ ملاقات یا مشاورت نہیں کی۔ دوسری جانب صحافی برائن شوارٹز نے اپنا ذاتی مشاہدہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ نیویارک کی تقریب میں خود موجود تھے، جہاں یہ جملہ ادا کرنے کے بعد صدر ٹرمپ مسکرائے ضرور تھے لیکن ان کے انداز سے ایسا تاثر بھی ابھر رہا تھا جیسے وہ اپنے بیان کو سچ ثابت کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی حساس اور اہم ترین سمندری راستہ سمجھی جاتی ہے، اور صدر ٹرمپ کے اس متنازع بیان نے عالمی سفارتی اور صحافتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی تھی، جس پر اب وائٹ ہاؤس نے وضاحت جاری کر کے صورتحال کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔

خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز کی جغرافیائی و معاشی اہمیت

آبنائے ہرمز خلیجِ فارس کو خلیجِ عمان اور عرب سمندر سے ملاتی ہے، جہاں سے دنیا کے مجموعی پیٹرولیم کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت اور ایندھن کی قیمتوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے دیے گئے اس قسم کے بیان پر عالمی اور علاقائی سطح پر فوری ردِعمل دیکھنے میں آیا، تاہم وائٹ ہاؤس کے حکام نے واضح کر دیا ہے کہ امریکہ اس قسم کے کسی اقدام کا ارادہ نہیں رکھتا اور اسے ایک زبانی مذاق سے زیادہ کچھ نہ سمجھا جائے۔

امریکی پالیسی پر تجزیہ کاروں کی آراء

سیاسی و سفارتی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ صدر ٹرمپ کی غیر روایتی گفتگو کا انداز اکثر وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ اور ترجمانوں کے لیے چیلنجز پیدا کرتا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ کے قریبی ذرائع اور وائٹ ہاؤس اس بیان کو محض ایک مزاحیہ جملہ قرار دے کر معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن عالمی سطح پر حساس بحری راستوں کے حوالے سے امریکی صدر کا یہ بیان بین الاقوامی قانون اور علاقائی خود مختاری کے حوالے سے مزید سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

ایران حکومت کا تختہ الٹنے کا منصوبہ ناکام: موساد کے دو اعلیٰ عہدیدار برطرف، اسرائیلی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں شدید تناؤ

محمود احمد, August 09,2026

تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء

ایران کی حکومت کا تختہ الٹنے اور اندرونی مسلح بغاوت کا خفیہ منصوبہ ناکام ہونے کے بعد اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی “موساد” کے دو سینئر اور اعلیٰ عہدیداروں کو عہدوں سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے پر اسرائیل کی سیکیورٹی و انٹیلی جنس اسٹیبلشمنٹ میں شدید غم و غصہ اور ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

اسرائیلی نشریاتی ادارے کی تحریری رپورٹ کے مطابق اس خفیہ اور جامع منصوبے کا مقصد ایران میں مختلف اقلیتی گروہوں، بالخصوص کرد علیحدگی پسندوں کو استعمال کر کے تہران حکومت کے خلاف ملک گیر مظاہروں اور مسلح تصادم کو ہوا دینا تھا۔ امریکی جریدے ‘نیویارک ٹائمز’ کی سابقہ رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کی حتمی توثیق وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کی تھی، جنہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی اس آپریشن پر عملدرآمد کے لیے راضی کیا تھا۔

منصوبے کے تحت ایران کے ایک ہمسایہ عرب ملک کے عراق میں قائم سفارت خانے اور اربیل (عراقی کردستان) میں واقع اس کے قونصل خانے کو مرکزی لاجسٹک ہب بنایا گیا تھا، جہاں سے ایرانی مظاہرین اور مسلح گروہوں کو جدید اسلہ، فنڈز، گاڑیاں اور اسٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ ڈیوائسز فراہم کی جا رہی تھیں۔ تاہم، تہران اور اس کے اتحادیوں کے خفیہ اداروں کو پیشگی اطلاع مل گئی، جس کے بعد ایرانی فورسز نے سرحدی کرد علاقوں اور متعلقہ قونصل خانے کے قریب تابڑ توڑ حملے کر کے منصوبے کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا اور کرد گروہوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ‘فاکس نیوز’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے کردوں کو فراہم کیا گیا بھاری خطیر رقم اور جدید اسلہ ایران پہنچنے کے بجائے راستے ہی میں ضائع یا ہڑپ کر لیا گیا۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق نیتن یاہو نے اس بڑے سٹریٹجک بلنڈر کی سیاسی و نظامی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے تمام تر ملبہ انٹیلی جنس ایجنسی پر ڈالتے ہوئے موساد کے دو اعلیٰ ترین آفیسرز کو فارغ کر دیا ہے، جس سے ملک کے عسکری و سیاسی حلقوں میں اندرونی کھینچ تان اور تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

لاس اینجلس: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ کی ایک اور مبینہ سازش ناکام، مسلح ملزم گرفتار

محمود احمد, August 05,2026

لاس اینجلس (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

امریکی سیکورٹی اداروں نے سابق صدر اور ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر ایک اور مبینہ قاتلانہ سازش کو بروقت ناکام بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کیلیفورنیا میں ایک مسلح شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم کو لاس اینجلس کے علاقے میں واقع صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملکیت کے گالف کورس کے قریب سے حراست میں لیا گیا جہاں صدر ٹرمپ کو ریپبلکن پارٹی کے ایک چندہ جمع کرنے والے عشائیے میں شرکت کرنا تھی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں تفتیش کاروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 38 سالہ جینین جان ٹائیلے کو رانچو پالوس وردیس میں واقع ٹرمپ نیشنل گالف کورس کے احاطے سے ایک پستول اور غیر قانونی ممنوعہ گولہ بارود کے ساتھ پایا گیا۔ لاس اینجلس شیرف ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ملزم کو گالف کورس کے ارد گرد گھومتے ہوئے، تصاویر اور ویڈیوز بناتے ہوئے اور سیکورٹی پلاننگ کی باریک بینی سے نگرانی کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

حکام کے مطابق گرفتاری اتوار کی دوپہر کو عمل میں آئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ ان دنوں ریاست کیلیفورنیا کے دورے پر ہیں تاکہ اسی گالف کورس میں منعقدہ پارٹی کے فنڈ ریزنگ ایونٹ میں شرکت کر سکیں۔ ملزم ٹائیلے کو آتشیں اسلحہ چھپا کر رکھنے اور بکتر شکن و ممنوعہ گولہ بارود پاس رکھنے کے سنگین الزامات میں حراست میں رکھا گیا ہے۔

شیرف ڈیپارٹمنٹ کے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹائیلے کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب سادہ لباس میں ملبوس وفاقی اہلکاروں نے مقامی حکام کو گالف کورس کے قریب ایک مشکوک شخص کی موجودگی کی اطلاع دی۔ پولیس کی جانب سے سامنا کرنے پر انکشاف ہوا کہ ملزم ایل سیگونڈو پولیس ڈیپارٹمنٹ کو ڈکیتی کے ایک مقدمے میں بھی مطلوب تھا۔ ایل سیگونڈو کا علاقہ رانچو پالوس وردیس سے تقریباً 25 کلومیٹر شمال میں واقع ایک خوشحال ساحلی علاقہ ہے۔

پولیس کی جانب سے ملزم کی تلاشی لیے جانے پر اس کے پاس سے 16 گولیوں والی ایک میگزین برآمد ہوئی جو انتہائی خطرناک ‘ہالو پوائنٹ’ گولیوں سے بھری ہوئی تھی، جبکہ گالف کورس کی پارکنگ میں کھڑی اس کی گاڑی سے ایک اور بھرا ہوا پستول اور ہالو پوائنٹ گولیوں سے بھری مزید میگزین برآمد کی گئی۔ واضح رہے کہ ہالو پوائنٹ گولیاں ہدف سے ٹکراتے ہی پھیل جاتی ہیں جس سے جسمانی اعضا کو شدید ترین نقصان پہنچتا ہے، جبکہ ریاست کیلیفورنیا میں 10 سے زیادہ گولیوں والی میگزین پر قانونی پابندی عائد ہے۔

کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا سلسلہ برقرار رکھنا ضروری ہے، سعودی عرب

محمود احمد, August 05,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

سعودی عرب نے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی اور پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام فریقین کے مابین مذاکرات کا سلسلہ مسلسل برقرار رکھنے کی بنیادی اہمیت پر زور دیا ہے۔

عرب نیوز اور سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ اہم باضابطہ بیان جدہ میں منعقدہ وزرا کے ہفتہ وار کابینہ اجلاس کے بعد سامنے آیا، جو امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے سے متعلق پیش رفت کی رپورٹس کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے علاقائی سیکیورٹی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تمام سفارتی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

کابینہ اجلاس کے دوران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اختتامِ ہفتہ پر ہونے والی اہم ٹیلی فونک گفتگو سے متعلق بھی وزرا کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق کابینہ نے سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والے کثیر القومی دفاعی بحری اتحاد میں دنیا بھر کے ممالک کی بڑھتی ہوئی حمایت اور شمولیت کا پرجوش خیرمقدم کیا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب اور 13 دیگر ممالک نے جمعرات کے روز ایک مشترکہ بحری اتحاد قائم کیا تھا جس کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ کی اہم بحری گزرگاہوں میں تجارتی جہاز رانی کو محفوظ بنانا ہے۔

سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق ‘ملٹی نیشنل میری ٹائم ڈیفنس اتحاد’ بحری سیکیورٹی کو فروغ دینے، عالمی سمندری راستوں کی حفاظت کرنے اور بحری نقل و حمل یا عالمی تجارت کے خلاف درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ یہ اقدام بحیرہ احمر، باب المندب اور خلیجِ عدن میں بحری گزرگاہوں اور توانائی کی ترسیل کے عالمی راستوں کو تحفظ فراہم کرنے کا ایک مضبوط اور کثیر الجہتی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

اسی اثنا میں، ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے ایران کے ساتھ جلد ایک معاہدہ طے پانے کے واضح امکانات ظاہر کیے ہیں جس کے تحت حساس ترین آبنائے ہرمز کو دوبارہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھولا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان سابقہ التوا کی یادداشت ناکام ہونے کے بعد ایران نے اس اہم بحری گزرگاہ کو بند کر دیا تھا، جسے اب دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی پیش رفت جاری ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایران جنگ کے حوالے سے 3 آپشنز زیرِ غور؛ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا بڑا دعویٰ

محمود احمد, JULY 27,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے روسی خبر رساں ادارے ’تاس‘ کی رپورٹ کے حوالے سے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ شدید ہوتی ہوئی عسکری کشیدگی کے تناظر میں مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے تین بنیادی اختیارات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ اخبار کے مطابق ان تین راستوں میں سے پہلا اختیار ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینا اور جنگ میں شدت لانا ہے، دوسرا اختیار ایران کی معیشت کو مفلوج کرنے کے لیے اس پر غیر معمولی اور انتہائی سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنا ہے، جبکہ تیسرا اختیار امریکہ کی جانب سے میدانِ جنگ میں اپنی “فتح” کا باقاعدہ اعلان کر کے جنگ سے مکمل دستبرداری اختیار کرنا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکی انتظامیہ اور پینٹاگون کے اعلیٰ حکام گزشتہ پانچ ماہ سے جاری اس خونریز تصادم کے باوجود اپنے طے شدہ اہداف حاصل کرنے میں مسلسل ناکام رہے ہیں، جن میں زبردست عسکری طاقت کے استعمال کے ذریعے ایران میں حکومت کی تبدیلی کا بنیادی مقصد بھی شامل تھا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ان تینوں آپشنز پر غور و خوض کے لیے وائٹ ہاؤس اور دفاعی اداروں کے درمیان اعلیٰ سطحی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین، صدر کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ متعدد اہم اور بند کمرہ اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔ ان تمام ملاقاتوں میں ماہرین اور عسکری حکام نے ان تینوں میں سے ہر ایک راستے کے ممکنہ نتائج، خطرات اور فائدے پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کے ایک حصے کا ماننا ہے کہ ایران پر مزید دباؤ بڑھایا جائے، جبکہ دوسرا فریق اس بات کا معترف ہے کہ ایران کے خلاف کھلی جنگ امریکہ کے لیے سفارتی، معاشی اور جیو پولیٹیکل سطح پر ایک دلدل ثابت ہو رہی ہے اور امریکہ کو فتح کا اعلان کر کے اس غیر سود مند لڑائی کو جلد از جلد ختم کر دینا چاہیے۔

یہ تمام تر صورتِ حال اس تناظر میں پیدا ہوئی ہے جب روان سال 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے مشترکہ طور پر ایران کے متعدد علاقوں اور فوجی تنصیبات پر شدید حملے کیے تھے۔ اس واقعے کے بعد اگرچہ پاکستان کی مؤثر سفارتی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے اور عارضی فائر بندی قائم ہو گئی تھی، لیکن یہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ 8 جولائی کو امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر ایرانی حملے کا بہانہ بنا کر ایران پر دوبارہ حملے شروع کر دیے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی دن اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ اس کے فوری جواب میں ایران نے بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر اور اردن سمیت پورے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی عسکری اڈوں اور تنصیبات کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا، جس سے پورا خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ بعد ازاں 24 جولائی کو فریقین نے ایک بار پھر ایک دوسرے پر براہِ راست حملے عارضی طور پر روک دیے تھے۔

تاہم، حملے رکنے کے باوجود تہران کا موقف انتہائی سخت نظر آتا ہے۔ ایرانی عسکری قیادت اور پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ امریکی بمباری رکنے کے باوجود آبنائے ہرمز پر ان کا کنٹرول بلاشرکتِ غیرے برقرار ہے اور عالمی سطح پر تیل کی نقل و حمل کی اس اہم ترین شاہراہ پر وہ اپنی گرفت کمزور نہیں ہونے دیں گے۔ مزید برآں، ایرانی وزارتِ خارجہ نے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو منقطع کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ پہلے خود کھلی جارحیت کا مظاہرہ کرتا ہے اور پھر بات چیت کا ڈرامہ رچاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کا یہ سخت موقف اور واشنگٹن کا اپنے مقاصد میں ناکام ہونا، صدر ٹرمپ کو تیسرے اختیار کی طرف مائل کر سکتا ہے تاکہ وہ بغیر کسی بڑے معاشی اور جانی نقصان کے اس جنگ سے امریکی فوج کو نکال سکیں۔

امریکی دفاعی صنعت میں چینی نایاب معدنیات کا بحران؛ 2027 کی متبادل سپلائی چین کی آخری تاریخ پر عدم اطمینان کا خدشہ

محمود احمد, JULY 27,2026

واشنگٹن/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

امریکی دفاعی صنعت چین سے پاک نایاب معدنیات کی سپلائی چین قائم کرنے کی مقررہ آخری تاریخ کو پورا کرنے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہے، جس کے باعث تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کو بالآخر چینی نژاد معدنیات کے استعمال میں کچھ نرمی دینے یا استثنیٰ دینے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔

قانون اور آخری تاریخ

امریکی وفاقی قانون کے تحت یکم جنوری 2027ء سے ہر امریکی دفاعی ٹھیکیدار کے لیے لازم ہوگا کہ وہ سرٹیفائی کرے کہ اس کے نایاب ارتھ میگنٹس کی تیاری کے کسی بھی مرحلے — کان کنی سے لے کر حتمی میگنٹ کی تیاری تک — میں چین، روس، ایران یا شمالی کوریا کا کوئی کردار شامل نہیں۔ یہ پابندی سماریئم-کوبالٹ اور نیوڈیمیم میگنٹس پر لاگو ہوگی جو جدید لڑاکا طیاروں، میزائلوں کے راستہ متعین کرنے والے نظاموں اور جوہری آبدوزوں سمیت جدید ترین امریکی ہتھیاروں کے نظام میں استعمال ہوتے ہیں۔

صنعت کو درپیش مشکلات

ماہرین کے مطابق امریکہ میں گھریلو سطح پر نایاب معدنیات کی پروسیسنگ کی صلاحیت ابھی تک اس پیمانے پر موجود نہیں جو واشنگٹن کو درکار ہے۔ بڑے دفاعی ادارے اپنے ہزاروں ذیلی سپلائرز کا آڈٹ کر رہے ہیں تاکہ 2027ء کے مکمل تعمیل کے تقاضے پورے کیے جا سکیں، تاہم گھریلو “کان سے میگنٹ تک” سپلائی چین کی تعمیر میں طویل وقت درکار ہے اور چین کی مضبوط اجارہ داری اس عمل کو مزید مشکل بنا رہی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں ایک امریکی معدنیات کمپنی میں 400 ملین ڈالر کی حصص خریداری، ایک اور امریکی نایاب ارتھ کمپنی کو 1.6 ارب ڈالر کی امداد کا خط، اور 12 ارب ڈالر مالیت کا اسٹریٹجک ذخیرہ شامل ہے۔ اس کے باوجود امریکہ ہر سال چین سے تقریباً 10 ہزار ٹن نایاب ارتھ میگنٹس درآمد کرتا ہے، اور یہ طلب دفاعی و توانائی کے شعبوں میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔

استثنیٰ کا امکان

قانون کے تحت اگر کسی معدنیات کا غیر چینی متبادل دستیاب نہ ہو تو ٹھیکیدار استثنیٰ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ ایسے استثنیٰ نایاب ہی دیے جائیں گے۔ تاہم صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنوری 2027ء تک گھریلو پیداواری صلاحیت مطلوبہ سطح تک نہ پہنچ سکی تو کئی اہم دفاعی پروگراموں کو یا تو تاخیر کا سامنا کرنا پڑے گا یا پھر انہیں استثنیٰ کے عمل پر انحصار کرنا ہوگا — جسے قانون خود ایک غیرمعمولی اقدام کے طور پر دیکھتا ہے۔

پس منظر

یہ آخری تاریخ اصل میں سال 2024ء کے دفاعی اختیارات کے قانون کے تحت ایک سال کے لیے موخر کی گئی تھی تاکہ صنعت کو متبادل سپلائرز تلاش کرنے کے لیے مزید وقت مل سکے۔ تاہم اب وہ اضافی مہلت بھی ختم ہونے کے قریب ہے۔ اسی دوران چین کی جانب سے نایاب معدنیات کی برآمدات پر عائد پابندیوں کے باعث مغربی دفاعی، آٹوموبائل اور برقی آلات کی سپلائی چینز بھی شدید دباؤ کا شکار ہو چکی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکی دفاعی صنعت وقت پر خود کفیل سپلائی چین قائم کرنے میں ناکام رہی تو حکومت کو یا تو آخری تاریخ میں مزید توسیع دینی پڑے گی یا پھر بڑے پیمانے پر استثنیٰ جاری کرنا پڑ سکتا ہے — جو بالواسطہ طور پر چینی معدنیات پر انحصار جاری رکھنے کے مترادف ہوگا۔

امریکی بمباری کے باوجود آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول برقرار ہے، واشنگٹن سے اب کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے: ایران کا سخت اعلان

محمود احمد, JULY 27,2026

تہران/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

ایران کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت نے واضح اور سخت الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ بمباری کا سلسلہ روکے جانے کے باوجود، تہران خطے کی سب سے اہم اور حکمتِ عملی کے اعتبار سے حساس ترین سمندری شاہراہ ‘آبنائے ہرمز’ پر اپنا مکمل اور بلاشرکتِ غیرے کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایرانی حکام نے واضح کر دیا ہے کہ موجودہ حالات میں وہ واشنگٹن انتظامیہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے سفارتی یا میز کے مذاکرات میں بالکل بھی دلچسپی نہیں رکھتے۔

امریکی حملے اور تہران کا سخت مؤقف

حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں پیش آنے والے خوفناک فوجی تصادم اور امریکہ کی جانب سے ایران کے متعدد اہم اور حساس بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکایک بمباری کا سلسلہ روکنے کا حکم جاری کیا تھا۔ واشنگٹن کے اس اقدام کا مقصد خطے کو ایک مکمل اور تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں جانے سے بچانا اور سفارتی راستے تلاش کرنا بتایا گیا تھا۔ تاہم، تہران کی جانب سے اس امریکی پیش رفت پر انتہائی تند و تیز اور سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔

ایرانی عسکری حکام اور پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ “امریکہ کا یہ وہم ہے کہ وہ بمباری شروع کر کے اپنی مرضی سے اسے روک سکتا ہے اور پھر مذاکرات کا ڈرامہ رچا سکتا ہے۔ ایران پر مسلط کی جانے والی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہماری فورسز ہمہ وقت تیار ہیں اور امریکہ کی اس ناگہانی کارروائی نے سفارت کاری کے تمام بقایا امکانات کو ختم کر دیا ہے۔”

آبنائے ہرمز کی عالمی و اقتصادی اہمیت

آبنائے ہرمز دنیا میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی نقل و حمل کے لیے سب سے اہم ترین سمندری راستہ قرار دیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر استعمال ہونے والے کل خام تیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی تنگ سمندری راستے سے گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

ایران کی جانب سے اس گزرگاہ پر اپنے کنٹرول کا سختی سے اعادہ کرنے اور امریکی بحری جہازوں و خلیجی تیل بردار جہازوں کو کسی بھی وقت کارروائی کا نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں شدید ہاہاکار مچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں معمولی نوعیت کی رکاوٹ یا بلاکبندی کا سامنا بھی ہوتا ہے تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی، جس کا براہِ راست اثر ایشیائی اور یورپی معیشتوں پر پڑے گا۔

مذاکرات کی منسوخی اور سفارتی تعطل

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک طرف جہاں سخت پالیسیاں اپنائی جا رہی ہیں تو دوسری جانب ایک نئے معاہدے یا مذاکرات کی تجویز بھی پیش کی جاتی رہی ہے۔ تاہم، ایرانی سپریم لیڈر اور حکومت کی جانب سے اس پر قطعی اور حتمی انکار آ چکا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پریس کانفرنس کے دوران امریکہ پر وعدہ خلافی اور بین الاقوامی قوانین کی شدید خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ:

“امریکہ پہلے خود حملے کرتا ہے، ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچاتا ہے اور پھر مذاکرات کی پیشکش کا ڈھونگ رچاتا ہے۔ ہم ایسے دباؤ اور دھمکیوں کے سائے میں واشنگٹن سے کوئی گفتگو نہیں کریں گے۔ اب بات چیت کا باب مکمل طور پر بند ہو چکا ہے۔”

عالمی برادری اور علاقائی صورتِ حال

ایران کے اس حتمی اور سخت موقف نے عالمی برادری بالخصوص اقوامِ متحدہ ، یورپی یونین اور ایشیائی ممالک کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ تمام بڑی عالمی طاقتیں دوٹوک انداز میں زور دے رہی ہیں کہ تہران اور واشنگٹن دونوں تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ عالمی اقتصادی نظام اور توانائی کے سپلائی سلسلے میں کوئی بڑا بحران جنم نہ لے سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کا یہ سخت اور جارحانہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تہران اپنے دفاعی نظام کو مضبوط تر سمجھتے ہوئے امریکی دباؤ کے سامنے قطعی طور پر جھکنے کو تیار نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز میں امریکی بحری بیڑے اور ایرانی فورسز کی موجودگی کی وجہ سے صورتِ حال مزید باریک اور حساس موڑ اختیار کر سکتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر مزید حملے روکنے کا حکم؛ 13 دن سے جاری روزانہ کی ملٹری کارروائیاں معطل

محمود احمد, JULY 25,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز فوج کو ایران میں فی الوقت کوئی نیا حملہ نہ کرنے کا باضابطہ حکم جاری کیا ہے، جس کے بعد پچھلے دو ہفتوں سے ایران پر جاری روزانہ کی امریکی بمباری کا سلسلہ تھم گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ گزشتہ 13 دنوں سے ایران کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر فوجی کارروائیوں کی منظوری دے رہے تھے، تاہم ان کا نیا حکم سامنے آنے کے بعد یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ عارضی وقفہ ہے یا کوئی مستقل جنگ بندی۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ دوبارہ کارروائی کا حکم دیتے ہیں تو امریکی فوج فوری طور پر متحرک ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے اور فوج اب بھی بڑے پیمانے پر ممکنہ جنگی عملیات کے لیے متحرک اور تیار حالت میں ہے۔ دوسری جانب، وائٹ ہاؤس نے اس پیش رفت اور خبر کے بارے میں تبصرہ کرنے کی درخواست پر فی الحال کوئی جواب نہیں دیا ہے۔