اردن میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملہ: ڈونلڈ ٹرمپ کا شدید اور حتمی جوابی کارروائی کا اعلان

محمود احمد, August 31,2026

واشنگٹن/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ امریکہ اردن میں قائم اپنے عسکری اڈوں پر ہونے والے حالیہ ایرانی حملوں کا انتہائی ’سخت اور موثر جواب‘ دے گا۔ خبر رساں ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک ہنگامی ٹیلی فونک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایرانی عسکری اقدام پر واشنگٹن چپ نہیں بیٹھے گا اور اس کا جواب بھرپور کارروائی کی صورت میں سامنے آئے گا۔

امریکی صدر کا یہ تند و تیز بیان پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے اس باضابطہ دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی عسکری حملوں کے ردِعمل میں ایران نے اردن میں واقع دو اہم امریکی ایئر بیسز—’شاہ حسین’ اور ‘الازرق’—کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی میں وہاں موجود امریکی فوج کے ‘تکنیکی و دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے اور جنگی لڑاکا طیاروں کو بھاری نقصان’ پہنچا ہے۔

انٹرویو کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فضائی دفاعی نظام نے گزشتہ رات ایرانی میزائل حملے کے دوران ایک میزائل کو دانستہ طور پر گزرنے دیا کیونکہ وہ کسی امریکی ہدف کی سمت نہیں تھا اور اس سے کوئی خطرہ نہیں تھا، جبکہ دیگر تمام ایرانی میزائلوں کو فضا ہی میں کامیابی سے تباہ کر دیا گیا۔ دوسری جانب اردنی حکومت نے بھی اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس کی اپنی فضائی دفاعی فورسز نے اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 ایرانی میزائلوں کو کامیابی سے ناکارہ بنایا۔

عسکری کشیدگی اور سخت بیانات کے باوجود امریکی صدر نے سفارتی حل کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایرانی حکام واقعی ہم سے مذاکرات اور ملاقات کرنا چاہتے ہیں، لیکن میں نہیں جانتا کہ کسی پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے لیے ان پر آئندہ کے لیے اعتماد کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔‘

اس کے فوراً بعد اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک مفصل پوسٹ میں امریکی صدر نے ایرانی حکومت کو شدید ترین تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ ’ایران باضابطہ طور پر ایک بالکل ناکام ریاست بن چکا ہے اور اس کا وجود تقریباً ختم ہو چکا ہے! اس کے پاس اب نہ کوئی فعال بحریہ بچی ہے، نہ فضائیہ، اور نہ ہی کوئی معاشی قوت رکھنے والی کرنسی۔ وہ اپنے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو تنخواہیں دینے سے بھی قاصر ہے۔ ملک میں مہنگائی 300 فیصد کی تاریخی سطح تک پہنچ چکی ہے، اور اس کی موجودہ قیادت مکمل انتشار کا شکار ہے جو ملک کی مناسب نمائندگی کی صلاحیت کھو چکی ہے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان کے اختتام پر الزام عائد کیا کہ ’تہران حکومت کے پاس اب صرف امریکہ سے آنے والی فیک نیوز، اپنے ہی معصوم مظاہرین کو قتل کرنے کی سفاکانہ آمادگی (جس میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ان پر انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کے تحت عالمی عدالتوں میں مقدمہ چلنا چاہیے!)، اور بے بنیاد عسکری دعووں کی ایک لمبی فہرست ہی باقی رہ گئی ہے۔‘

وزیراعظم شہباز شریف کی بشکیک میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے اہم ملاقات: دوطرفہ تعلقات، تجارتی تعاون اور علاقائی امن پر تفصیلی گفتگو

محمود احمد, August 31,2026

بشکیک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے 25ویں اجلاس کے موقع پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقات کی ہے۔

پاکستانی وزیراعظم آفس سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان دہائیوں پر محیط قریبی، تاریخی اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے باہمی تجارتی و معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران رواں سال جون میں صدر مسعود پزشکیان کے دورۂ پاکستان کے موقع پر ہونے والے اہم فیصلوں اور معاہدوں پر جلد از جلد عملدرآمد کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے علاقائی روابط اور عوامی سطح پر تعلقات کے فروغ کے لیے جاری مختلف اقدامات کا تفصیلی جائزہ بھی لیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے اپنی تمام تر سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ اہم دورۂ تہران اور وہاں ایرانی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت کے ساتھ ہونے والے مثبت رابطوں سے دونوں ممالک اور خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی سازگار نتائج کی توقع ہے۔

وزیراعظم نے خطے میں امن کی بحالی کے لیے تمام فریقین کی جانب سے تحمل، بردباری اور مسلسل سفارتی رابطوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کے تحت طے پانے والی پیش رفت کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے فعال اور مثبت سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات مشترکہ تاریخ، ثقافت اور گہرے مذہبی رشتوں پر قائم ہیں۔ انہوں نے تجارتی و توانائی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے مسلم دنیا میں باہمی اتحاد اور یکجہتی پر زور دیا۔

ملاقات کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کو پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی باقاعدہ دعوت دی، جبکہ صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف کو دسمبر 2026ء میں تہران میں منعقد ہونے والے ‘اقتصادی تعاون تنظیم’ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی باضابطہ دعوت پیش کی۔

وزیر اعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے 25ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک پہنچ گئے

محمود احمد, August 31,2026

بشکیک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ کے 25ویں تاریخی سربراہی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک پہنچ گئے ہیں۔

وزیر اعظم کے دفتر سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق بشکیک کے ماناس بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچنے پر کرغزستان کی کابینہ کے چیئرمین (نائب وزیراعظم) عادلبیک قاسمالیف نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے اعلیٰ سطحی وفد کا گرمجوشی سے پرجوش استقبال کیا۔

ترجمان وزیراعظم کے مطابق اپنے اس اہم تین روزہ سرکاری دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے مرکزی سیشن سے خطاب کریں گے، جس میں علاقائی امن، سلامتی، تجارت، اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم مسائل پر پاکستان کا موقف پیش کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ شہباز شریف اجلاس میں شرکت کرنے والے مختلف ممالک کے سربراہانِ مملکت اور حکومت کے ساتھ اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔

اعلامیے کے مطابق ان اہم ملاقاتوں میں متعلقہ ممالک کے ساتھ پاکستان کے باہمی سفارتی تعلقات کی استواری، تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع، علاقائی تعاون اور مشترکہ دلچسپی کے اہم عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے 25ویں تاریخی سربراہی اجلاس کا آغاز: انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے اہم ملاقات

محمود احمد, August 31,2026

بشکیک (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے دو روزہ 25ویں سالگرہ کے تاریخی سربراہی اجلاس کے موقع پر انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی سیکیورٹی اور تجارتی راہداریوں سمیت خطے کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔

کرغزستان میں منعقد ہونے والے اس 25ویں سالگرہ کے یادگار اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے صدر ولادیمیر پوتن، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایک درجن سے زائد دیگر ممالک کے سربراہانِ مملکت و حکومت شرکت کر رہے ہیں۔ روس، چین، انڈیا، پاکستان، ایران، بیلاروس اور وسطی ایشیا کے چار ممالک اس اہم تنظیم کے باقاعدہ رکن ہیں، اور یہ سربراہی اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب تنظیم اپنے قیام کا ربع صدی کا سفر مکمل کر رہی ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ شنگھائی تعاون تنظیم کے اس ایونٹ کو کثیر قطبی عالمی نظامکے فروغ اور مغربی بلاک کے مقابلے میں خطے کے اتحاد کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

یہ اہم سربراہی اجلاس ایک ایسے انتہائی کشیدہ عالمی تناظر میں منعقد ہو رہا ہے جب روس کے یوکرین پر حملے کو ساڑھے چار سال کا طویل عرصہ بیت چکا ہے، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری ہمہ گیر عسکری جنگ کو چھ ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔ ایسے میں ایس سی او اجلاس کو عالمی جیو پولیٹکس میں ایک انتہائی حساس سفارتی موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

پبلک سروس گاڑیوں میں اوور لوڈنگ، زائد کرائے اور خطرناک ڈرائیونگ پر کیو آر کوڈ کے ذریعے فوری رپورٹنگ کی سہولت متعارف

منصور احمد, August 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس نے شاہراہوں پر محفوظ سفر کو یقینی بنانے اور عوامی تعاون کے فروغ کے لیے ایک جدید اور اہم مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد شہریوں کو موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر ٹریفک قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے میں ایک مؤثر اور ذمہ دار شراکت دار بنانا ہے۔

اس مہم کے تحت دورانِ سفر عام شہری کسی بھی قسم کی ٹریفک خلاف ورزی، بالخصوص پبلک سروس گاڑیوں (بَسوں اور ویگنوں) میں گنجائش سے زائد مسافر یا سامان بھرنے (اوور لوڈنگ)، مسافروں سے مقررہ نرخوں سے زائد کرایہ وصول کرنے، تیز رفتاری اور خطرناک یا غیر محتاط ڈرائیونگ کی فوری اطلاع موٹروے پولیس کو دے سکیں گے۔

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے حکام کے مطابق شہریوں کے لیے شکایت درج کروانے کے عمل کو انتہائی آسان اور فوری بنایا گیا ہے۔ شاہراہوں پر سفر کرنے والے مسافر اور شہری پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں پر چسپاں موٹروے پولیس کے خصوصی اسٹیکرز پر درج ‘کیو آر کوڈ’ کو اپنے موبائل فون سے اسکین کر کے فوری طور پر متعلقہ پورٹل تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور ثبوت کے ساتھ اپنی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔

موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ شہریوں کی بروقت اور ذمہ دارانہ اطلاع ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی فوری روک تھام، موٹرویز پر ہونے والے خوفناک حادثات میں کمی اور قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ ترجمان موٹروے پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ایک بہتر ٹریفک نظام اور شاہراہوں پر قانون کی عملداری کے لیے مہم کا فعال حصہ بنیں اور سفر کے دوران نظر آنے والی کسی بھی خلاف ورزی کو نظر انداز کرنے کے بجائے فوری رپورٹ کریں۔

جرمنی نے اسپین کو شکست دے کر ہاکی ورلڈ کپ 2026 کا تاج اپنے سر سجا لیا: پاکستان کا 4 بار عالمی چیمپئن بننے کا دیرینہ ریکارڈ برابر

منصور احمد, August 31,2026

ویورے/وایرے، بیلجیم (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

بیلجیم کے شہر ویورے کے تاریخی ‘بیلفیئس ہاکی اسٹیڈیم’ میں کھیلے گئے سنسنی خیز اور ہائی وولٹیج فائنل میں جرمنی نے اسپین کو 0-1 سے شکست دے کر ‘ایف آئی ایچ مینز ہاکی ورلڈ کپ 2026’ کا تاج اپنے سر سجا لیا ہے۔ اس تاریخی اور یادگار کامیابی کے ساتھ ہی جرمنی نے چوتھی بار عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر کے ہاکی کی تاریخ میں سب سے زیادہ ورلڈ کپ ٹائٹلز جیتنے کا پاکستان کا دہائیوں پر محیط دیرینہ ریکارڈ برابر کر دیا ہے۔

میچ کے ابتدائی پہلے اور دوسرے کوارٹر میں دونوں روایتی حریف ٹیموں نے ایک دوسرے پر شدید دباؤ برقرار رکھا لیکن کوئی بھی ٹیم گول کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی، جس کے باعث پہلا ہاف صفر صفر سے برابر رہا۔ تاہم، کھیل کے تیسرے کوارٹر میں جرمنی نے فیصلہ کن اور حتمی وار کیا۔ جرمن سٹار اسٹرائیکر مائیکل اسٹرٹ ہاف نے اسپین کے مضبوط دفاع کو توڑتے ہوئے ایک شاندار فیلڈ گول اسکور کیا جس نے جرمنی کو 0-1 کی اہم اور فائنل برتری دلا دی۔ چوتھے کوارٹر میں اسپین کی ٹیم نے کم بیک اور میچ برابر کرنے کے لیے تابڑ توڑ حملے کیے، لیکن جرمن گول کیپر اور ان کی چٹان جیسی دفاعی لائن نے اسپین کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

جرمنی نے اس سے قبل 2002، 2006، اور 2023 میں عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا، اور اب 2026 کا ٹائٹل اپنے نام کر کے پاکستان کے ساتھ ہاکی تاریخ کی سب سے کامیاب ترین ٹیم ہونے کا شیئرڈ اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان نے یہ 4 عالمی ٹائٹلز 1971، 1978، 1982 اور 1994 میں جیتے تھے۔ اسپین کی ٹیم ورلڈ کپ کی تاریخ میں تیسری بار فائنل میں پہنچ کر سلور میڈل تک محدود رہی، اس سے قبل وہ 1971 اور 1998 میں بھی رنرز اپ رہی تھی۔

دوسری جانب، نیدرلینڈز میں کھیلے گئے ‘ویمنز ہاکی ورلڈ کپ’ کے فائنل میں ارجنٹائن نے بڑا اپ سیٹ کرتے ہوئے دفاعی چیمپئن نیدرلینڈز کو سخت مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ پر 1-3 سے ہرا کر تیسری بار ویمنز ورلڈ چیمپئن کا تاج پہن لیا۔

عالمی ہاکی فیڈریشن (FIH) کے صدر طیب اکرام نے دونوں ایونٹس کے فاتحین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ جرمنی کو ایک بار پھر مینز ورلڈ چیمپئن بننے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ یہ شاندار کامیابی غیر معمولی ٹیلنٹ، ذہنی مضبوطی اور انتھک محنت کا ثبوت ہے۔ انہوں نے اسپین کو سلور اور ارجنٹائن کو برانز میڈل جیتنے پر بھی مبارکباد دی۔

پاکستان کا 20 سالہ بہترین فنش:

پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم نے پول ڈی میں انگلینڈ (1-4) اور بھارت (3-5) سے شکست اور ویلز سے (3-3) ڈرا کے بعد کلاسیفیکیشن راؤنڈز میں زبردست کم بیک کیا۔ 11ویں پوزیشن کے میچ میں پاکستان نے جنوبی افریقا کے خلاف 1-3 کے خسارے سے نکل کر میچ 4-4 سے برابر کیا اور پھر پینلٹی شوٹ آؤٹ پر 4-3 سے تاریخی فتح حاصل کر کے ٹورنامنٹ میں 11ویں پوزیشن حاصل کی، جو گزشتہ 20 سالوں میں پاکستان کا بہترین ورلڈ کپ فنش ہے۔

دیگر پوزیشنز میں مینز میں ارجنٹائن نے کامیابی حاصل کر کے برانز میڈل جیتا، جبکہ ویمنز میں بیلجیم نے آسٹریلیا کو 0-1 سے ہرا کر برانز میڈل اپنے نام کیا۔ آسٹریلیا نے انگلینڈ کو 0-2 سے ہرا کر پانچویں جبکہ بیلجیم نے بھارت کو شوٹ آؤٹ پر 3-4 سے ہرا کر ساتواں نمبر حاصل کیا۔

سی پیک کا شاہکار ساہیوال کول پاور پلانٹ: 1.912 ارب ڈالر کی لاگت، 1320 میگاواٹ بجلی اور پاک چین تکنیکی پیش رفت کی مکمل کہانی

منصور احمد, August 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت قائم کردہ ’ساہیوال کول پاور پلانٹ‘ نے پاکستان کے توانائی کے شعبے میں انقلاب برپا کرتے ہوئے ملک کی مجموعی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ قادرآباد، ضلع ساہیوال میں واقع اس عظیم الشان پاور پروجیکٹ کی مجموعی پیداواری صلاحیت 1,320 میگاواٹ ہے، جو کہ 660 میگاواٹ کے دو جدید یونٹس پر مشتمل ہے۔ سی پیک کے باضابطہ ریکارڈز کے مطابق اس منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً 1.912 ارب ڈالر ہے۔

ساہیوال کول پاور پلانٹ ایک ایسے کٹھن اور بحرانی وقت میں ریکارڈ مدت کے اندر مکمل ہوا جب پاکستان شدید ترین پاور کرائسز اور ہولناک لوڈشیڈنگ کا شکار تھا، اور بجلی کی عدم دستیابی ملک کی صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کی تباہی کا باعث بن رہی تھی۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد قومی گرڈ کو بڑے پیمانے پر بلاتعطل اور مسلسل بجلی فراہم کر کے ملک کی بنیادی معاشی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔ یہ منصوبہ پاکستان میں جدید ’سپر کریٹیکل کوئلہ فائرڈ ٹیکنالوجی‘ کے استعمال کی پہلی اور سب سے بڑی مثال ہے۔ اس جدید ترین تکنیک اور نصب کیے گئے ماحولیاتی سسٹمز کے ذریعے پلانٹ کی ایندھن کارکردگی میں زبردست اضافہ ہوا جبکہ کاربن اور دیگر گیسوں کے اخراج کو عالمی معیار کے مطابق نمایاں حد تک کم رکھا گیا ہے۔

ساہیوال پاور پلانٹ کی اہمیت محض 1320 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے تک محدود نہیں، بلکہ اس منصوبے نے بڑے پیمانے کے توانائی پروجیکٹس کی منصوبہ بندی، تعمیر، آپریشنل مینجمنٹ اور پاک چین تکنیکی تعاون کے میدان میں گرانقدر تجربات فراہم کیے ہیں۔ ایسے دیو ہیکل بجلی گھر کو محفوظ انداز میں چلانے کے لیے انجینئرنگ، آپریشنز، مینٹیننس، فنانس، ماحولیاتی تحفظ اور سیکیورٹی سمیت تمام شعبوں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری قائم کی گئی ہے، جو قومی گرڈ کی پائیداری کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

یہ منصوبہ مقامی افرادی قوت کی فنی تربیت اور پاکستانی انجینئرز کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا بڑا ذریعہ بنا۔ پاکستانی انجینئرز اور ٹیکنیشنز نے چینی ماہرین کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کرتے ہوئے جدید پاور جنریشن ٹیکنالوجی کو چلانے اور سنبھالنے کا عملی تجربہ حاصل کیا، جس سے ملکی توانائی کے شعبے کی تکنیکی استعداد کو غیر معمولی تقویت ملی۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے توانائی کے مستقبل کے لیے شمسی، ہوائی اور پن بجلی کے ساتھ ساتھ ساہیوال پاور پلانٹ جیسی قابلِ اعتماد بیس لوڈ پاور کی موجودگی اشد ضروری ہے۔ یہ پروجیکٹ محض ایک بجلی گھر نہیں بلکہ سی پیک کے توانائی وژن، پائیدار بنیادی ڈھانچے اور پاکستان کی صنعتی و معاشی ترقی کا ایک تاریخی باب ہے۔

گوگل میپس کا بڑا اقدام: امریکی صارفین کے لیے جھیل اونٹاریو کا نام بدل کر ’’لیک امریکا‘‘ کر دیا گیا

محمود احمد, August 31,2026

واشنگٹن/اوٹاوا (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

عالمی ٹیک کمپنی گوگل نے امریکی صارفین کے لیے اپنی مشہور زمانہ سروس ‘گوگل میپس’ پر کینیڈا اور امریکہ کی مشترکہ سرحد پر واقع تاریخی جھیل ‘اونٹاریو’ کا باقاعدہ نام تبدیل کرکے ’’لیک امریکا‘‘ کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی پی اور بنگلہ دیش کی سرکاری نیوز ایجنسی بی ایس ایس کے مطابق، جغرافیائی نام میں یہ غیر معمولی تبدیلی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جھیل کا نام تبدیل کرنے کے حالیہ باضابطہ اعلان کے بعد کی گئی ہے۔

گوگل کی جانب سے جاری کردہ وضاحت میں بتایا گیا ہے کہ کینیڈا میں موجود صارفین کو ان کے موبائل فونز، ٹیبلیٹس اور کمپیوٹرز پر یہ جھیل بدستور اپنے روایتی نام ’’لیک اونٹاریو‘‘ کے نام سے ہی دکھائی دے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ نام 17ویں صدی سے مسلسل استعمال ہو رہا ہے اور اس کی تاریخی جڑیں خطے کی مقامی آبادی کی قدیم زبان اور تاریخ سے گہری جڑی ہوئی ہیں۔ تاہم امریکہ کے اندر گوگل میپس استعمال کرنے والے صارفین کو اب یہ جھیل “لیک امریکا” کے نام سے نظر آئے گی، جبکہ امریکہ اور کینیڈا سے باہر دنیا بھر کے دیگر ممالک کے صارفین کو دونوں نام بیک وقت دکھائی دیں گے۔ ٹیک کمپنی کا کہنا ہے کہ امریکہ میں جغرافیائی ناموں کی اپڈیٹ کے لیے وفاقی حکومت کے سرکاری ڈیٹا بیس ’’یو ایس جیوگرافک نیمز انفارمیشن سسٹم‘‘ کے ڈیٹا کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ دوسری جانب ٹیک کمپنی ‘ایپل’ نے اپنی ‘ایپل میپس’ ایپ پر جھیل کا اصل نام ’’لیک اونٹاریو‘‘ ہی برقرار رکھا ہوا ہے۔

جھیل کے نام کی اس اچانک تبدیلی پر کینیڈین حکام اور اعلیٰ قیادت نے شدید غم و غصے اور ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ کینیڈا کے اہم صوبے اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان حالیہ دنوں میں بڑھتی ہوئی شدید سفارتی اور تجارتی کشیدگی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس صورتحال کو ’’انتہائی افسوسناک‘‘ اور دونوں اتحادی ممالک کو ’’الٹی سمت میں لے جانے‘‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔

یہ جغرافیائی اور سفارتی تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور کینیڈا کے درمیان معاشی اور تجارتی جنگ اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی درآمدی و برآمدی مصنوعات پر بھاری جوابی محصولات عائد کر رکھے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کینیڈا کی آٹو انڈسٹری کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ اب کینیڈا کی ساختہ گاڑیاں، آٹو پارٹس یا کسی بھی قسم کی کینیڈین پروڈکٹس نہیں خریدنا چاہتا۔

صوبہ اونٹاریو کے وزیراعلیٰ ڈگ فورڈ نے ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ تجارتی جنگ دونوں ممالک کے لیے انتہائی تباہ کن ہوگی، لیکن اس کے منفی اثرات امریکہ پر کہیں زیادہ شدید پڑ سکتے ہیں کیونکہ کینیڈا امریکی گاڑیوں اور سپیئر پارٹس کا سب سے بڑا اور بنیادی خریدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کینیڈا نے امریکی گاڑیوں کا بائیکاٹ کیا تو امریکی آٹو فیکٹریاں بند ہونے کے دہانے پر پہنچ جائیں گی، اور کینیڈین مصنوعات پر ٹیرف لگانا دراصل امریکی عوام کی جیبوں پر ٹیکس کا اضافی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔

واضح رہے کہ ‘جھیل اونٹاریو’ شمالی امریکہ کی پانچ عظیم جھیلوں میں رقبے کے لحاظ سے سب سے چھوٹی جھیل شمار کی جاتی ہے اور یہ جغرافیائی طور پر کینیڈا کے صوبے اونٹاریو اور امریکی ریاست نیویارک کی سرحدوں کے درمیان واقع ہے۔

ایران کا متحدہ عرب امارات میں المنہاد ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ: صدر مسعود پزشکیان کی خطے میں بدامنی پر سخت تنبیہ

محمود احمد, August 31,2026

تہران/ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

ایران کی مسلح افواج نے جاری علاقائی کشیدگی کے دوران ایک اور بڑی عسکری کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کے بعد اب متحدہ عرب امارات میں واقع ‘المنہاد ایئر بیس’ پر موجود امریکی ہیلی کاپٹروں، دفاعی آلات اور فوجی اہلکاروں کی موجودگی کے مخصوص ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی فوجی ذرائع کے مطابق المنہاد ایئر بیس پر یہ کارروائی ڈرونز اور گائیڈڈ راکٹس کے ذریعے کی گئی، جس کا مقصد خطے میں امریکی فورسز کی لاجسٹک اور عسکری نقل و حرکت کو مفلوج کرنا ہے۔ دوسری جانب، اس کارروائی کے فوراً بعد ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ایک اہم بیان میں خطے کی تشویشناک صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’خطے میں عدم استحکام، جنگ کی شدت اور بدامنی کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے اور یہ صورتحال بلا تفریق تمام ممالک کے لیے سنگین مشکلات اور معاشی بحران پیدا کرے گی۔‘

واضح رہے کہ خلیجی خطے میں ایران، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مابین جاری عسکری کشیدگی اب انتہائی خطرناک موڑ پر داخل ہو چکی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات اور اردن میں امریکی اڈوں پر مسلسل پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی افواج کے دعووں سے مشرقِ وسطیٰ میں ہمہ گیر جنگ کی لپیٹ میں آنے کے خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: نجی ہسپتال میں علاج کے لیے دائر اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی درخواستیں مسترد

منصور احمد, August 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نجی ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولت حاصل کرنے اور جیل سے بیرونِ ملک ٹیلی فونک رابطوں کی اجازت کے لیے دائر کی گئی اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی درخواستوں کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے نامور جج جسٹس محمد آصف نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا گیا اہم فیصلہ جاری کیا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق قیدیوں کو قانون اور جیل مینول کے مطابق ہی طبی و دیگر سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں، جس کے تحت نجی ہسپتال منتقل کرنے کا کوئی قانونی جواز فراہم نہیں کیا گیا۔

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ان تینوں قیدیوں نے اپنے وکلاء کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کی تھیں، جن میں استدعا کی گئی تھی کہ انہیں علاج معالجے کے لیے جیل سے باہر کسی نجی ہسپتال منتقل کیا جائے اور بیرونِ ملک مقیم اپنے اہلخانہ یا متعلقہ افراد سے ٹیلی فون پر بات چیت کرنے کی خصوصی سہولت فراہم کی جائے۔ تاہم، عدالتِ عالیہ نے ان تمام استدعاؤں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے درخواستوں کو باقاعدہ ڈسمس (مسترد) کر دیا۔

چین نے تباہ کن سیلاب کی ویڈیوز کی مبینہ سینسرشپ کا الزام مسترد کر دیا: معلومات ‘شفاف اور بروقت’ جاری کرنے کا دعویٰ

روزینہ اسماعیل, August 31,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

چین نے تبت کے سرحدی علاقوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد معلومات کی شفافیت سے متعلق اٹھنے والے بین الاقوامی سوالات کے جواب میں کہا ہے کہ حکومت آفت کی صورتحال سے متعلق تمام تر معلومات ’کھلے، شفاف اور بروقت انداز میں‘ عوام اور میڈیا کو جاری کر رہی ہے۔

اس سے قبل گزشتہ سنیچر کے روز برطانوی خبر رساں ادارے (بی بی سی) نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ نیپال اور تبت کے درمیان اہم ترین مرکزی سرحدی گزرگاہوں میں سے ایک ‘گییرونگ پورٹ’ میں پانی کے تیز اور تباہ کن بہاؤ سے ہونے والی تباہی کی ڈرامائی اور خوفناک ویڈیو کلپس کو چین کے اندر سوشل میڈیا سے ہٹایا اور سینسر کیا جا رہا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق اب تک چین کے مرکزی سرکاری ٹیلی ویژن کے اہم نیوز بلیٹن میں اس ہولناک واقعے کی صرف ایک ہی تصویر نشر کی گئی ہے۔

پیر کے روز بیجنگ میں ایک پریس بریفنگ کے دوران جب صحافیوں نے ویڈیو کی مبینہ سینسرشپ اور خبریں چھپانے کے حوالے سے سوال کیا تو چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ‘گو جیاکون’ نے سينسرشپ پر براہِ راست تبصرے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ’آفت سے نمٹنے اور امدادی کارروائیاں ہنگامی بنیادوں پر لیکن انتہائی منظم انداز میں جاری ہیں۔‘

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے عالمی میڈیا اور ناقدین پر سخت تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’چین کو بدنام کرنے یا قدرتی آفت کو بنیاد بنا کر صورتحال کو سنسنی خیز بنانے کی کسی بھی کوشش کو عوامی سطح پر کوئی حمایت حاصل نہیں ہوگی۔‘ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔

امریکی افواج کا جزیرہ لارک پر بڑا حملہ: ایران کے دو راکٹ لانچرز تباہ، جولائی کے بعد پہلا براہِ راست امریکی اقدام

محمود احمد, August 31,2026

واشنگٹن/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کی شب امریکی مسلح افواج کی جانب سے خلیجِ فارس میں واقع سٹریٹجک ‘جزیرہ لارک’ پر ایرانی فوج کے دو بڑے لانچرز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جولائی کے اواخر کے بعد سے یہ ایران کی سرزمین پر امریکہ کی جانب سے کیا جانے والا پہلا براہِ راست اور شدید ترین عسکری حملہ ہے۔

امریکی افواج کی یہ سرجیکل کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب حالیہ چند ہفتوں کے دوران ایران اور امریکہ کے مابین جاری براہِ راست عسکری تصادم کی شدت میں کچھ کمی آئی تھی اور دونوں فورسز کے درمیان جنگ ایک طرح کے تعطل کی کیفیت اختیار کر چکی تھی۔ ایک نامعلوم اعلیٰ امریکی فوجی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ انٹیلی جنس بیسڈ حملہ اس وقت کیا گیا جب پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار آبنائے ہرمز کے سمندری راستوں کی جانب بحری بارودی سرنگیں لے جانے والے گائیڈڈ راکٹ داغنے کی آخری تیاریوں میں المصروف تھے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں میں ایرانی فورسز کی جانب سے بچھائی گئی تمام بارودی سرنگیں یا تو مکمل طور پر ناکارہ بنا دی گئی ہیں یا امریکی بحریہ کے قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ امریکی صدر نے ایران کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں کوئی بھی جہاز، کشتی یا نجی ڈرون جو نئی بارودی سرنگ بچھانے کی کوشش کرے گا، اسے امریکی فورسز فوری طور پر تباہ کر دیں گی۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اس ہمہ گیر اور تباہ کن جنگ کو شروع ہوئے اب چھ ماہ کا طویل عرصہ بیت چکا ہے، جبکہ دنیا کی سب سے اہم تیل بردار گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کے عملی کنٹرول اور اسے بین الاقوامی بحری آمد و رفت کے لیے کھلا رکھنے کے معاملے پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان شدید ترین تنازع اور عسکری کشیدگی بدستور جاری ہے۔

ایران کا جزیرہ لارک پر حملے کے بعد شدید ردِعمل: امریکی و اسرائیلی اقدامات کا ’تباہ کن، تکلیف دہ اور سبق آموز‘ جواب دینے کا عزم

محمود احمد, August 31,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

ایران کی پارلیمان کی اہم اور سٹریٹجک ‘قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی’ کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے سٹریٹجک جزیرہ لارک پر ہونے والے حالیہ حملے پر انتہائی سخت اور تند و تیز ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس جارحانہ کارروائی کا تہران کی جانب سے حتمی اور لازمی جواب دیا جائے گا۔

ابراہیم عزیزی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک اہم بیان میں طاقتور لہجہ اپناتے ہوئے لکھا کہ “ہماری دفاعی قوتِ ارادی کو دوبارہ آزمانے” کی دشمنوں کی کوئی بھی نئی کوشش امریکہ اور اسرائیل کی ناکامیوں اور معاشی و جیو پولیٹیکل نقصان کی قیمت کو مزید شدید اور بھاری کر دے گی۔ انہوں نے واضح انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریہ اسلامی ایران اس جارحیت کا انتہائی “تباہ کن، تکلیف دہ اور عبرت ناک سبق آموز” جواب فراہم کرے گا۔

ایرانی رہنما کی جانب سے یہ سخت بیانات ایک ایسے کشیدہ وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے خلیجِ فارس میں واقع جزیرہ لارک پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں اپنے متعدد عسکری اہلکاروں اور عام شہریوں کی شہادت اور زخمی ہونے کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے بھی واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے حملے کے منصوبہ سازوں اور حملہ آوروں کے خلاف فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کرنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔

پاکستان اور ایتھوپیا کے بڑھتے ہوئے تعلقات: اسلام آباد میں پہلے ’ایتھوپیئن کافی کیفے‘ کا باقاعدہ افتتاح

منصور احمد, August 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

پاکستان اور ایتھوپیا کے مابین تجارتی، ثقافتی اور عوامی روابط کے فروغ میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ملک کے پہلے اختصاصی ’ایتھوپیئن کافی کیفے‘ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ دونوں برادر ممالک کے بڑھتے ہوئے دوطرفہ سفارتی تعلقات کے تناظر میں اسے ثقافتی پل کی تعمیر کی جانب ایک غیر معمولی اور اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

افتتاحی تقریب کے بعد روایتی ایتھوپیئن کافی کی مخصوص اور خوبصورت رسم بھی منعقد کی گئی، جس میں پاکستان میں مقیم ایتھوپیئن کمیونٹی، سفارتخانے کے اعلیٰ عملے، ممتاز شخصیات اور میڈیا کے نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے کہا کہ اس کیفے کا افتتاح پاکستان میں ایتھوپیئن کافی اور اس کی عظیم تاریخ کے باقاعدہ تعارف کی علامت ہے، جبکہ جڑواں شہروں (اسلام آباد و راولپنڈی) کی سطح پر یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد ایتھوپیئن کافی ہاؤس ہے۔ انہوں نے اجاگر کیا کہ ایتھوپیا کو انسانیت کی جائے پیدائش اور دنیا کی بہترین ‘عربیکا کافی’ کا اصل وطن ہونے کے باعث بجا طور پر “لینڈ آف اوریجنز” کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

ایتھوپیئن سفیر نے مزید بتایا کہ اس کیفے کا قیام اور اس کی ملکیت ایک ایتھوپیئن-پاکستانی جوڑے کے پاس ہونا اس اقدام کو عوامی سطح پر مزید دوآتشہ اور اہم بناتا ہے، جو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت اور برادری کی روشن عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کیفے کا باضابطہ نام “حبیشہ” رکھا گیا ہے، جو کہ ایتھوپیا کا قدیم اور تاریخی نام ہے۔ یہ نام پاکستانی عوام کے لیے بھی خاص روحانی و تاریخی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ مسلمان حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ اور حبشہ کے منصف مزاج بادشاہ نجاشی سے گہری اور تاریخی عقیدت رکھتے ہیں، جنہوں نے ہجرتِ حبشہ کے کٹھن وقت میں ابتدائی مسلمانوں کو اپنے ملک میں پناہ فراہم کی تھی۔ سفیر نے دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ثقافتی تبادلوں میں اضافے پر زور دیا۔

کیفے کے مالکان میں شامل نعیم ہاشمی نے تقریب کے موقع پر میڈیا کو بتایا کہ “حبیشہ کیفے” کے قیام کا بنیادی مقصد پاکستان اور ایتھوپیا کو ایک دوسرے کے مزید قریب لانے کے لیے ایک ایسا فعال پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں دونوں ممالک کے لوگ ایک دوسرے کے آرٹ، ثقافت، روایتی موسیقی، رسم و رواج اور سیاحتی مقاصد سے آگاہی حاصل کر سکیں اور ان کا آزادانہ تبادلہ کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کیفے محض بہترین کافی پیش کرنے کا مرکز نہیں، بلکہ پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان مضبوط ثقافتی اور عوامی روابط کے فروغ کا ایک اہم زریعہ ثابت ہو گا۔

شاہ چارلس رواں ہفتے پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم سے ملاقات کریں گے: بکنگھم پیلس نے تصدیق کر دی

محمود احمد, August 30,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

برطانیہ کے شاہی محل ’بکنگھم پیلس‘ نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ شاہ چارلس رواں ہفتے کے آخر میں انگلینڈ کے دورے پر موجود پاکستان کی قومی مردوں کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں اور آفیشلز سے ایک خصوصی اور اہم ملاقات کریں گے۔ شاہی ترجمان کے مطابق اس تاریخی ملاقات کی منصوبہ بندی کرکٹ سیریز کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہی حتمی طور پر طے کر لی گئی تھی۔

بکنگھم پیلس سے جاری کردہ ایک رسمی اور سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شاہ چارلس بحیثیت ’سربراہِ دولتِ مشترکہ‘ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کا اپنی سرکاری رہائش گاہ ’کلیرنس ہاؤس‘ کے سرسبز باغات میں پرجوش استقبال کریں گے۔ یہ یادگار اور روایتی ملاقات انگلینڈ کے خلاف جاری انگلش سمر سیریز کے دوسرے اور تیسرے ٹیسٹ میچ کے درمیانی وقفے میں منعقد کی جائے گی۔

سفارتی اور سپورٹس ذرائع کے مطابق دولتِ مشترکہ کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے شاہ چارلس اس موقع پر پاکستانی کرکٹرز اور بورڈ آفیشلز کے لیے اعزازی استقبالیہ کا اہتمام کریں گے، جسے دونوں ممالک کے مابین کھیل، ثقافت اور بین الاقوامی تعلقات کو مزید فروغ دینے کی جانب ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران کا کاظم غریب آبادی کا بڑا اعلان: تہران اور مسقط کے درمیان آبنائے ہرمز میں عارضی سمندری راہداری پر اتفاق، مکمل بحالی امریکی اقدامات سے مشروط

محمود احمد, August 30,2026

تہران/مسقط/ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اعلان کیا ہے کہ تہران اور سلطنتِ عمان (مسقط) کے مابین سٹریٹجک آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی سمندری راستے سے بحری جہازوں کی آمد و رفت کو ممکن بنانے کے لیے ایک عارضی سمندری راہداری کے قیام پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران اس دنیا کی سب سے اہم آبی گزرگاہ کو اس وقت تک مکمل اور باضابطہ طور پر نہیں کھولے گا جب تک امریکہ کو اس کے سیکیورٹی و معاشی وعدوں اور ذمہ داریوں پر عمل درآمد کا پابند نہیں بنا لیا جاتا۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سخت موقف اپنائے ہوئے زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی ٹریفک کے لیے بدستور بند ہے اور فی الوقت اگر کوئی تجارتی یا تیل بردار جہاز اس آبی راستے سے گزرتا ہے تو یہ صرف اور صرف ایران کی پیشگی اطلاع اور باضابطہ اجازت سے ہی ممکن ہو پاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عارضی راہداری کا مقصد صرف محدود انسانی اور ضروری مقاصد کی بحالی ہے، لیکن گزرگاہ کے مکمل تحفظ کا انحصار واشنگٹن کے رویے پر منحصر ہے۔

دوسری جانب، مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی معاشی پیش رفت کے تحت متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ملک میں قائم ’بینک مصر‘ کی تمام اماراتی شاخوں کا تفصیلی اور ہنگامی معائنہ مکمل کر لیا ہے۔ اماراتی مرکزی بینک کا یہ اقدام واشنگٹن کی جانب سے عائد کردہ تازہ ترین سخت اقتصادی پابندیوں کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے تحت ‘بینک مصر’ کو امریکی ڈالر اور مالیاتی نظام سے منقطع کر دیا گیا ہے۔ امریکی مالیاتی حکام کے مطابق مصر کے اس مرکزی بینک پر پابندی کا فیصلہ ایران پر سیاسی و معاشی دباؤ کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی وسیع تر عالمی پالیسی کا حصہ ہے۔

پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ترکی پہنچ گئے: مکہ دفاعی معاہدے کے پہلے تاریخی اجلاس میں شرکت متوقع

منصور احمد, August 30,2026

راولپنڈی/استنبول (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اپنے ایک اہم سرکاری دورے پر ترکی کے دارالحکومت انقرہ اور استنبول پہنچ گئے ہیں۔ آئی ایس پی آر نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے اس اعلیٰ سطحی عسکری دورے کی آمد کے علاوہ مزید تکنیکی تفصیلات باضابطہ طور پر جاری نہیں کی ہیں، تاہم عالمی دفاعی حلقوں میں اس دورے کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

آرمی چیف کا یہ دورہ ایک ایسے اہم موڑ پر ہو رہا ہے جب ‘مکہ دفاعی معاہدے’ کے تحت تشکیل دی گئی سٹریٹجک کمیٹی کا پہلا تاریخی اجلاس کل ترکی میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔ اس افتتاحی اجلاس میں معاہدے کے تمام رکن ممالک ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے اعلیٰ ترین عسکری اور سیاسی نمائندوں کی شرکت کی مکمل توقع ہے۔ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار بھی پہلے ہی سے ترکی کے دورے پر موجود ہیں اور وہاں مختلف اہم سفارتی مصروفیات، دوطرفہ میٹنگز اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ فی الوقت پاکستانی حکام نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کے مزید تفصیلات یا مکہ معاہدے کے اجلاس کے ایجنڈے کو خفیہ رکھا ہے۔

سفارتی و دفاعی ذرائع کے مطابق مکہ دفاعی معاہدے میں مستقبل کے اندر مزید اہم مسلم ممالک کی شمولیت کا امکان بھی زیرِ غور لایا جا رہا ہے اور اس تناظر میں عرب جمہوریہ مصر کا نام سرفہرست لیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اس اتحاد میں اسلامی جمہوریہ ایران کا نام بھی بعض دفاعی خبروں میں سامنے آیا ہے، تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ کے سرکاری ترجمان کے مطابق تہران کی جانب سے فی الحال اس تین ملکی سیکیورٹی اتحاد میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے کوئی باضابطہ یا رسمی درخواست پیش نہیں کی گئی ہے۔

مکہ دفاعی معاہدے کے باضابطہ اعلان کے بعد سے ہی بین الاقوامی دفاعی ماہرین اور سیاسی تجزیہ کاروں کی جانب سے اس کی ساخت اور اہداف کے بارے میں متنوع آرا سامنے آ رہی ہیں۔ بعض عالمی ماہرین اس سہ فریقی بلاک کو ایک ’سنی اتحاد‘ یا ’اسلامی نیٹو‘ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کے نزدیک یہ دفاعی شراکت داری خطے کے اہم کھلاڑیوں یعنی ایران اور اسرائیل کے لیے ایک واضح سیاسی و سیکیورٹی پیغام فراہم کرتی ہے۔ کچھ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ معاہدہ بنیادی طور پر ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کی جانب سے اپنے سلامتی و دفاعی امور کے لیے امریکہ پر روایتی انحصار کم کرنے کی ایک وسیع تر اور خود مختار حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا تاریخی اجلاس کل استنبول میں منعقد ہو گا: ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کی عسکری و سفارتی قیادت متحرک

کاشف عباسی , August 30,2026

استنبول/انقرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والے تاریخی ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کے تحت تشکیل دی گئی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا افتتاحی اجلاس 31 اگست کو استنبول میں منعقد ہو رہا ہے۔ ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم رسمی بیان کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں تینوں دوست اور برادر اسلامی ممالک کی اعلیٰ ترین سیاسی، سفارتی اور عسکری قیادت ایک ہی میز پر جمع ہو کر خطے کی صورتحال اور مشترکہ دفاع پر تفصیلی غوروخوص کرے گی۔

ترک وزارت خارجہ کی تفصیلات کے مطابق اس تاریخی اجلاس میں ترکی کی جانب سے وزیر خارجہ ہاکان فیدان وزیر برائے قومی دفاع یاشار گولر اور ترک مسلح افواج کے سربراہ جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سمیت پاکستان اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔ پاکستان کی نمائندگی کے لیے افواجِ پاکستان کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار پہلے ہی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ استنبول پہنچ چکے ہیں۔

سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم کردہ سہ فریقی تعاون کے فریم ورک کے عین مطابق منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس اجلاس کے بنیادی ینڈے میں شریک ممالک کے درمیان سٹریٹجک، دفاعی، سیکیورٹی، انٹیلی جنس اور جیو پولیٹیکل امور پر باہمی مشاورت اور آپریشنل صلاحیتوں میں اضافہ شامل ہے۔

ترکی کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا یہ پہلا باضابطہ اجلاس ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی و سفارتی تعلقات کو نہ صرف ایک جدید اور مضبوط تر نہج پر استوار کرے گا بلکہ اسے مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک انتہائی اہم اور سٹریٹجک قدم بھی ثابت ہو گا۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی استنبول میں ترک ہم منصب حاقان فیدان سے اہم ملاقات: دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال

محمود احمد, August 30,2026

استنبول/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے استنبول میں ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان سے ایک اعلیٰ سطحی اور اہم ملاقات کی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے مابین ہونے والی اس ملاقات میں پاک ترکی دوطرفہ برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے، خطے کی تازہ ترین جیو پولیٹیکل صورتحال اور باہمی دلچسپی کے متعدد اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری بیان کے مطابق اس ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دفاعی، سفارتی اور معاشی شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر کامل اتفاق کیا گیا۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اس وقت ترکی کے اعلیٰ سطحی سرکاری دورے پر موجود ہیں، جہاں وہ تاریخی ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کے تحت تشکیل دی جانے والی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے افتتاحی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

اس اہم سٹریٹجک اجلاس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے دفاعی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کے فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی اس اعلیٰ سطحی سیاسی و دفاعی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی پہنچ چکے ہیں۔ اس کمیٹی کے انعقاد کو پاکستان، ترکی اور دیگر اتحادی ممالک کے درمیان سیکیورٹی، مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے اور خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے ایک غیر معمولی اور سنگِ میل پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی سٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کو وینزویلا کے تیل سے بھرنے کا اعلان: تیل کو امریکی عوام کے لیے ‘تحفہ’ قرار دے دیا

محمود احمد, August 30,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم پالیسی بیان میں اعلان کیا ہے کہ وینزویلا سے حاصل ہونے والے خام تیل کو امریکہ کے خالی ہوتے ہوئے سٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو کو دوبارہ بھرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری کردہ ایک پیغام میں وینزویلا کے تیل کو امریکی عوام کے لیے ایک “تحفہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سٹریٹجک تیل کے ذخائر کو ہنگامی بنیادوں پر دوبارہ بھرنے کا باقاعدہ عمل بہت جلد شروع کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ امریکہ کے سٹریٹجک تیل کے ذخائر حالیہ برسوں کے دوران عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی میں آنے والی شدید رکاوٹوں، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اضافے سے نمٹنے کے لیے ریکارڈ سطح پر استعمال کیے گئے ہیں، جس کے باعث ان کی مجموعی مقدار میں تاریخی کمی واقع ہوئی ہے۔ تازہ ترین سرکاری اعدادوشمار کے مطابق امریکی سٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں 21 اگست تک تیل کا ذخیرہ تقریباً 290 ملین بیرل تک گر گیا تھا، جو کہ گزشتہ 44 برسوں کی کم ترین سطحوں میں شمار ہوتا ہے۔ امریکہ نے یوکرین پر روس کے حملے اور ایران سے متعلق علاقائی کشیدگی کے دوران، جو بائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں کے ادوارِ حکومت میں تجارتی اور معاشی استحکام کے لیے ذخائر سے بڑے پیمانے پر خام تیل مارکیٹ میں جاری کیا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ جمعے کو یہ رسمی اعلان کیا تھا کہ وینزویلا کی طویل عرصے سے تباہ حال اور معاشی دباؤ کا شکار تیل کی صنعت کی بحالی و پیداوار کے لیے ایک تاریخی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ تاہم، توانائی کے بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے تحت وینزویلا سے امریکہ تک تیل کی فوری اور بڑی مقدار میں سپلائی اتنی آسان نہیں ہوگی۔ ماہرین کے مطابق وینزویلا میں تیل کی پیداوار کو مؤثر اور نمایاں سطح تک بڑھانے کے لیے جدید بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی بحالی، ڈرلنگ ریگز اور وسیع مالیاتی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہوگی۔

فی الوقت معاشی اور ایندھن کی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بات مکمل طور پر واضح نہیں ہے کہ وینزویلا کے ساتھ طے پانے والا یہ نیا توانائی معاہدہ امریکی تیل کے ذخائر کو کتنی تیزی سے بھرنے میں مدد دے سکے گا اور آیا قلیل مدت کے دوران امریکی عوام کے لیے ایندھن اور پیٹرولیم مصنوعات کی مقامی قیمتوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔