امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو نیا اور سخت ترین انتباہ: دوبارہ جوابی کارروائی کی تو امریکی ردِعمل ’سخت اور وسیع‘ ہو گا

محمود احمد, September 01,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری عسکری کشیدگی میں مزید شدّت لاتے ہوئے ایک باضابطہ بیان میں متنبہ کیا ہے کہ اگر تہران حکومت نے امریکی حملوں کے جواب میں کسی بھی قسم کی کارروائی کی تو اس بار واشنگٹن کا ردِعمل پہلے سے کہیں زیادہ ’سخت اور وسیع‘ ہو گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ تند و تیز بیان اس کے فوراً بعد سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی تھی کہ امریکی جنگی طیاروں نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے تزویراتی ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ منگل کی شب امریکہ کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب کے اہم اہداف پر کیے گئے فضائی حملے مکمل طور پر قانون کے مطابق اور ‘جائز’ تھے۔ انہوں نے تہران کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر جواب میں ایران نے کوئی بھی عسکری قدم اٹھایا یا امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو امریکہ دوبارہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس سے بڑا حملہ کرے گا۔

اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے علانیہ اعلان کیا تھا کہ وہ اردن میں قائم امریکی عسکری اڈوں پر پاسدارانِ انقلاب کے حالیہ حملوں کا بدلہ لیں گے اور اس کا ’سخت‘ جواب دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ایران نے اردن اور امارات میں امریکی تنصیبات پر ان حملوں کو اس سے قبل خلیج فارس کے جزیرے ‘لارک’ پر ہونے والے امریکی حملوں کا فطری اور دفاعی ردِعمل قرار دیا تھا۔

سیاسی و عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس نئے اور انتباہی بیان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں براہِ راست امریکی و ایرانی تصادم کا دائرہ کار مزید پھیلنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں پر زبردست فضائی حملے، بندر عباس اور چابہار سمیت متعدد ساحلی شہر دھماکوں سے گونج اٹھے

محمود احمد, September 01,2026

واشنگٹن/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

مشرقِ وسطیٰ میں عسکری کشیدگی میں انتہائی سنسنی خیز اور خطرناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی جنگی طیاروں نے منگل کے روز ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے مختلف اہم عسکری ٹھکانوں اور تنصیبات پر بمباری کی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ شدید فضائی حملے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں اور خطے میں تعینات امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے ردِعمل کے طور پر کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب، ایرانی نیوز ایجنسی ’فارس نیوز‘ کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق ایران کے ساحلی اور تزویراتی علاقوں کونارک، چابہار، بندر عباس، سیرک اور جزیرہ قشم میں انتہائی شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان تمام مقامات پر یکے بعد دیگرے کئی انفجارات ہوئے، تاہم خبر رساں ایجنسی نے ابھی تک ان دھماکوں کے عین مقام یا ہونے والے مالی و جانی نقصانات کی حتمی وضاحت نہیں کی ہے۔

عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز کے آس پاس ایرانی ساحلی شہروں اور جزائر کو ہدف بنایا جانا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکی افواج ایران کی ساحلی دفاعی صلاحیتوں اور پاسدارانِ انقلاب کے نیول اور میزائل انفراسٹرکچر کو ناکارہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں، جس سے اس خطے میں باقاعدہ وسیع پیمانے کی جنگ کے خطرات شدید ہو گئے ہیں۔

بشکیک میں ایس سی او اجلاس کے موقع پر پوتن کی مسعود پزشکیان سے ملاقات: مشکل وقت میں ایران کی ہر ممکن مدد جاری رکھنے کا روسی اعلان

محمود احمد, September 01,2026

بشکیک/ماسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ایران کی قیادت اور عوام کے عزم و ہمت کو سراہتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ماسکو انتظامیہ ’اس مشکل اور حساس دور‘ میں تہران کی ہر ممکن مدد کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔

یکم ستمبر کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے اہم موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ایک دباؤ سے بھرپور فضا میں ہونے والی باہمی ملاقات کے دوران صدر پوتن نے کہا کہ روس اپنے قومی مفادات، جغرافیائی سرحدوں اور خودمختاری کے دفاع میں ایرانی قوم کی جرات اور استقامت کی انتہائی قدر کرتا ہے۔

روسی خبر رساں ادارے ’تاس‘ کے مطابق روسی صدر نے ایرانی ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس انتہائی پیچیدہ اور مشکل دور میں ہم ایران کو درکار ہر قسم کی معاونت و سامان فراہم کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس موضوع پر دونوں ممالک کے حکام کے درمیان پیشگی تفصیل سے بات چیت ہو چکی ہے اور روس کی جانب سے ضروری عسکری و لاجسٹک سامان کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔

اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران صدر ولادیمیر پوتن نے روس اور ایران کے درمیان گہرے ہوتے تجارتی اور اقتصادی تعلقات کی موجودہ رفتار کو بھی سراہا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ خطے میں پھیلی موجودہ شدید ‘عسکری اور سیاسی صورتحال کے باوجود’ دونوں ممالک کے تجارتی و معاشی روابط مثبت سمت میں مسلسل پیش رفت کر رہے ہیں۔

روسی صدر کا کہنا تھا کہ باہمی تجارت میں یہ بہتری بنیادی طور پر ‘روس۔ایران بین الحکومتی کمیشن’ کی فعال اور مؤثر کارکردگی کا نتیجہ ہے، جو باقاعدگی کے ساتھ اپنے اجلاس منعقد کر رہا ہے اور جس کا تازہ ترین اور انتہائی اہم اجلاس حال ہی میں کامران ثابت ہوا ہے۔

پانی کو کبھی عسکری یا سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے: بشکیک میں ایس سی او اجلاس سے وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب

منصور احمد, September 01,2026

بشکیک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ پانی انسانی زندگی کا بنیادی ذریعہ ہے اور اسے کبھی بھی ہتھیار، دباؤ یا سیاسی مفادات کے حصول کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

اگرچہ وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران براہِ راست انڈیا کا نام نہیں لیا، تاہم ان کا اشارہ واضح طور پر نئی دہلی کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی اور عدم پاسداری کی کوششوں کی طرف تھا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پانی ہمارے پورے خطے میں انسانی زندگی اور بقا کی بنیاد ہے، جو لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو برقرار رکھتا ہے، ہماری زراعت و زمینوں کو سیراب کرتا ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بناتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارے مشترکہ آبی وسائل سے متعلق تمام تر معاہدے سنجیدہ، باہم طے شدہ اور پابند بین الاقوامی عہد ہیں، یہ کوئی ایسے معمولی سیاسی معاملات نہیں ہیں جنہیں کوئی بھی ملک اپنی مرضی یا پسند ناپسند کے مطابق نظر انداز کر دے۔

دہشت گردی اور علاقائی سیکیورٹی کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان علاقائی سطح پر دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے ہمیشہ کی طرح فعال اور کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پُرامن، مستحکم اور معاشی طور پر خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے۔ تاہم، انہوں نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا کہ اس حوالے سے کسی کے ذہن میں کوئی ابہام یا شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ جب تک دہشت گرد افغان سرزمین کا استعمال کرتے ہوئے بے گناہ پاکستانیوں اور دیگر ممالک کے شہریوں کا خون بہاتے رہیں گے، تب تک خطے میں پائیدار اور حقیقی امن ہماری پہنچ سے دور ہی رہے گا۔

پاکستان کا ڈیجیٹل انقلابی فریم ورک: 1 لاکھ 32 ہزار سے زائد نوجوانوں کی تربیت اور آئی ٹی برآمدات کو وسعت دینے کے لیے ریکارڈ اقدامات کا آغاز

منصور احمد, September 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

پاکستان کی حکومت نے ملکی ڈیجیٹل افرادی قوت کو عالمی معیار کے مطابق وسعت دینے اور آئی ٹی برآمدات میں تاریخی اضافہ حاصل کرنے کے لیے جامع اور ہمہ جہت اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ اس خصوصی فریم ورک کے تحت نیشنل سیمی کنڈکٹر ایچ آر ڈویلپمنٹ پروگرام (انسپائر) کا آغاز کیا گیا ہے جس میں 7 ہزار 200 پیشہ ور افراد کو تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں مزید 25 ہزار سے زائد نوجوانوں اور صنعتی شراکت داری کے ذریعے ایک لاکھ سے زائد طلبہ کو خصوصی ٹریننگ فراہم کی جائے گی۔

حکومت کو موصول ہونے والی سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے زیرِ انتظام انسپائر پروگرام کے ذریعے قائم سیمی کنڈکٹر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کلسٹرز سے 2 ہزار 200 انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ براہِ راست مستفید ہوں گے، جبکہ ملک گیر اپ سکلنگ پروگرامز کے تحت مزید 5 ہزار انجینئرز کو سیمی کنڈکٹر ڈیزائننگ اور ٹیکنالوجی کی جدید ترین تربیت دی جائے گی تاکہ ملک میں سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کی بنیاد رکھی جا سکے۔

اس کے ساتھ ہی وزیراعظم ‘سکل ٹیک پاکستان’ انیشی ایٹو کے تحت آئندہ تین سال کے دوران 25 ہزار سے زائد نوجوانوں کو مارکیٹ کی طلب کے مطابق مصنوعی ذہانت سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا اینالیٹکس اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کی عملی تربیت دی جائے گی۔ اس منصوبے میں بوٹ کیمپس، انٹرن شپس اور عالمی سرٹیفیکیشنز بھی شامل کی گئی ہیں تاکہ برآمدات کے لیے تیار باصلاحیت افرادی قوت تشکیل دی جا سکے۔

علاوہ ازیں، پی ایس ای بی نے عالمی کمپنی زیڈ ٹی ای پاکستان کے ساتھ یوتھ ڈویلپمنٹ کا بڑا معاہدہ طے کیا ہے جس کے تحت آرٹیفیشل انٹیلی جنس، فائیو جی اور مواصلاتی ٹیکنالوجیز میں آن لائن تعلیمی پروگرامز کے ذریعے ایک لاکھ طلبہ کو مکمل مفت تربیت فراہم کی جائے گی، جس کے لیے 100 ماسٹر ٹرینرز بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔

ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی مضبوطی کے لیے حکومت وزیراعظم نیشنل ٹیکنالوجی پارکس کی تعداد بڑھا کر 250 مراکز تک لے جا رہی ہے جبکہ اسلام آباد اور کراچی میں وسیع اسٹیٹ آف دی آرٹ آئی ٹی پارکس کا قیام آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ آئی ٹی برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے پی ایس ای بی کا ‘ون ونڈو پلیٹ فارم’ 24 گھنٹے خدمات فراہم کر رہا ہے جس کے ذریعے آن لائن رجسٹریشن، ویزا سہولت اور زرِ مبادلہ کی ترسیلات کے طریقہ کار کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تعاون سے انتہائی آسان اور شفاف بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان نے امریکی سرکاری خریداری کے طریقہ کار کو سمجھنے اور عالمی ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے اپنا پہلا ‘یو ایس ایس ایل ای ڈی’ پروکیورمنٹ ٹریننگ پروگرام بھی شروع کر دیا ہے۔

عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جیل سہولیات کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ کا اڈیالہ جیل انتظامیہ کو قیدِ تنہائی ختم کرنے کا بڑا حکم

کاشف عباسی , September 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

اسلام آباد ہائیکورٹ کے محترم جسٹس خادم حسین سومرو نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جیل سہولیات اور بنیادی حقوق سے متعلق دائر درخواستوں پر اہم اور تفصیلی فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت عالیہ نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو واضح حکم جاری کیا ہے کہ دونوں شخصیات کو کسی بھی صورت قیدِ تنہائی میں نہ رکھا جائے اور آئین و قانون کے مطابق تمام قانونی و بنیادی حقوق اور انسانی سہولیات بلا تاخیر فراہم کی جائیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق اڈیالہ جیل انتظامیہ کو باقاعدہ ہدایت کی گئی ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپس میں باقاعدہ ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے اپنے اہل خانہ، وکلاء اور عزیز و اقارب سے جیل قوانین کے مطابق تمام ملاقاتیں یقینی بنائی جائیں۔ اس کے علاوہ مطالعے کے لیے کتابیں، روزنامچے اور ٹیلی ویژن کی سہولت فوری طور پر بحال کرنے کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ عدالت نے یہ حکم بھی دیا کہ عمران خان کو جیل احاطے میں روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ ایسی کھلی جگہ پر واک اور قدم زنی کی اجازت دی جائے جہاں معمول کا انسانی میل جول ممکن ہو، جبکہ ان سے ملنے والے تمام افراد کا باقاعدہ اندراج اور ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔

عمران خان کے لیگل کونسل خالد یوسف چوہدری نے عدالتی فیصلے کی تفصیلات ذرائع ابلاغ کو بتاتے ہوئے تصدیق کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے تحت سابق وزیراعظم کو بیرونِ ملک مقیم اپنے بیٹوں سے آڈیو، ویڈیو اور واٹس ایپ کالز کے ذریعے مسلسل رابطے میں رہنے کی اجازت مل گئی ہے۔ تاہم، عدالت عالیہ نے فیصلے میں ایک اہم مشروط شق بھی شامل کی ہے کہ اگر ان ٹیلی فونک یا ویڈیو کالز کو ریکارڈ کر کے بعد میں کسی بھی قسم کے سیاسی مقاصد یا مہم جوئی کے لیے استعمال کیا گیا تو جیل حکام کے پاس یہ سہولت واپس لینے کا قانونی اختیار ہو گا۔

ہائیکورٹ نے اپنے جامع فیصلے میں اس قانونی نقطے کو بھی نمایاں کیا ہے کہ اگر جیل انتظامیہ عمران خان یا بشریٰ بی بی کو قانون یا عدالت کے تحت حاصل کسی بھی ریلیف یا سہولت سے محروم کرتی ہے، تو انتظامیہ کو اس محرومی کی باقاعدہ تحریری وجوہات اور قانونی جواز فراہم کرنا ہوں گے۔ عدالت عالیہ نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو پابند کیا ہے کہ وہ آئندہ 15 روز کے اندر ان تمام عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔

غیر ملکی جہازوں پر انحصار کم کرنے، مقامی شپنگ اور بندرگاہوں کو جدید بنانے کے لیے وزیراعظم ٹاسک فورس کے 99 نکاتی بحری روڈ میپ پر تیزی سے عملدرآمد جاری

منصور احمد, September 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

پاکستان کے وسیع سمندری وسائل کو ملک کی حقیقی معاشی طاقت میں تبدیل کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت بحری شعبے میں مکمل خود انحصاری کے لیے جامع اور ہنگامی اقدامات کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔

100 ارب ڈالر سے زائد کی بلیو اکانومی کی شاندار صلاحیت رکھنے والے پاکستان میں بندرگاہوں، شپنگ، شپ بلڈنگ، لاجسٹکس اور ماہی گیری کے شعبوں میں انقلابی اصلاحات کے ذریعے غیر ملکی انحصار کم کرنے اور قومی بحری صنعت کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر بلیو اکانومی کی اس استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے پالیسی ساز سطح پر اصلاحات کا عمل تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

پاکستان کے وسیع ساحلی اور سمندری خطے میں 100 ارب ڈالر سے زائد کی بحری معیشت کا حجم موجود ہے، تاہم افسوسناک طور پر ماضی میں ملک اپنے بحری وسائل اور قومی بحری اثاثوں سے مطلوبہ اور مناسب معاشی فوائد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ماضی کی پالیسیوں کی وجہ سے ملکی کارگو کی ایک بہت بڑی مقدار غیر ملکی جہازوں کے ذریعے منتقل ہوتی رہی جس کے باعث پاکستان کی قومی شپنگ انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ بندرگاہوں کی ڈریجنگ، ماہی گیری کی جدید کشتیوں کی تیاری اور دیگر اہم بحری خدمات میں بھی غیر ملکی کمپنیوں پر انحصار مسلسل برقرار رہا۔ اس بیرونی انحصار کے نتیجے میں پاکستان کو سالانہ اربوں ڈالر کے معاشی نقصانات اور زرِ مبادلہ کے نچوڑ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ہمارے قومی کارگو کی نقل و حمل میں پاکستانی شپنگ انڈسٹری کا حصہ تشویشناک حد تک محض 11 فیصد تک محدود رہا۔

انہی سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی قائم کردہ ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت 99 نکاتی بحری روڈ میپ پیش کیا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بحری شعبے کو جدید، مسابقتی اور مکمل خود انحصار بنانا ہے۔

اس جامع روڈ میپ کے تحت بندرگاہوں کی صلاحیت میں اضافہ، شپنگ لائنز، لاجسٹکس، شپ بلڈنگ اور ماہی گیری سمیت بحری معیشت کے تمام اہم ستونوں میں اصلاحات اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی کام کیا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت کا حتمی مقصد پاکستان کی بلیو اکانومی کی اس وسیع صلاحیت کو فعال بناتے ہوئے مقامی شپنگ صنعت کو مضبوط کرنا، قومی بحری اثاثوں سے پیداوار بڑھانا اور غیر ملکی ڈائریکٹ انحصار ختم کرنا ہے، تاکہ بحری شعبہ ملکی تجارت، روزگار کی فراہمی، بیرونی سرمایہ کاری اور پائیدار معاشی ترقی کا سب سے مؤثر ذریعہ بن کر ابھرے۔

بشکیک میں ایس سی او اجلاس کا موقع: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ازبک وزیر خارجہ بختیار سعیدوف سے اہم ملاقات

منصور احمد, September 01,2026

بشکیک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے موقع پر ازبکستان کے وزیرِ خارجہ بختیار سعیدوف سے ایک اہم ملاقات کی ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ سے جاری باضابطہ بیان کے مطابق اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان قائم قریبی، دوستانہ اور مسلسل بڑھتی ہوئی سٹریٹجک شراکت داری کا دہرایا اور تمام شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کا اعادہ کیا۔

ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے تمام تر شعبوں، خاص طور پر تجارتی، معاشی، علاقائی روابط اور سیکیورٹی تعاون کو مزید فعال اور مضبوط بنانے کے مختلف عملی طریقوں اور اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

امریکہ اور ایران میں عسکری کشیدگی پر اقوام متحدہ کا اظہارِ تشویش: انتونیو گوتریش کا فریقین سے شدید ترین تحمل کا مطالبہ

محمود احمد, September 01,2026

اقوام متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی شدید عسکری کشیدگی پر گہرے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔

چین کے خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفین دوجارک نے نیویارک میں ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہفتے کے اختتام پر ہونے والی فوجی کارروائیوں اور حملوں میں ناخوشگوار اضافہ انتہائی افسوسناک اور عالمی امن کے لیے خطرناک ہے۔

ترجمان کے مطابق سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے ایک بار پھر تمام متعلقہ فریقین سے شدید ترین تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عسکری ٹکراؤ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے، اسی لیے وہ تمام سفارتی سرگرمیوں اور دوطرفہ یا کثیرالجہتی مذاکرات کی فوری بحالی کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ صرف باہمی گفتگو اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ایک ایسا پائیدار حل تلاش کیا جا سکتا ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں مکمل استحکام، عدم تشدد اور تمام فریقوں کے مابین اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو سکے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ڈیرہ غازی خان کے ارکانِ صوبائی اسمبلی کی اہم ملاقات: سیاسی صورتحال، امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں پر گفتگو

منصور احمد, September 01,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے ارکانِ صوبائی اسمبلی نے ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کی ہے، جس میں خطے کی مجموعی سیاسی صورتحال، امن و امان کے قیام اور عوام کو درپیش مسائل سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب سے جاری باضابطہ بیان کے مطابق ملاقات کرنے والے وفد میں ارکانِ صوبائی اسمبلی احمد خان لغاری، علی احمد لغاری، اسامہ عبدالکریم، حنیف پتافی، اسامہ لغاری اور صلاح الدین خان شامل تھے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے تمام ارکانِ اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے متعلقہ انتخابیک حلقوں میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ اور معیار کی کڑی نگرانی خود یقینی بنائیں۔

ملاقات کے دوران ارکانِ صوبائی اسمبلی نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو ان کے حالیہ کامیاب دورۂ چین پر دل سے مبارکباد پیش کی اور ڈیرہ غازی خان میں جدید الیکٹرو بس سروس شروع کرنے پر انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ ارکانِ اسمبلی نے کہا کہ ڈی جی خان کے لیے الیکٹرو بس سروس ایک حقیقی گیم چینجر منصوبہ ثابت ہو رہا ہے اور وہاں کے عوام اس سہولت کی فراہمی پر پنجاب حکومت کے بے حد ممنون ہیں۔

ارکانِ اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی موثر اور حکمتِ عملی پر مبنی پالیسیوں کے باعث ڈی جی خان میں امن و امان کی صورتحال روز بروز بہتر ہو رہی ہے۔ خاص طور پر تاریخ میں پہلی بار کچے کے حساس اور پرخطر علاقوں میں سیکیورٹی کی صورتحال میں آنے والی نمایاں بہتری صوبے میں گڈ گورننس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے بتایا کہ ان کے دورۂ چین کا بنیادی مقصد پنجاب کو مصنوعی ذہانت کا علاقائی ہب بنانا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پنجاب میں بھی بہت جلد چینی طرز پر کینسر اور دیگر مہلک امراض کی قبل از وقت تشخیص کے لیے جدید ترین اور سائنسی طریقہ علاج متعارف کرایا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ڈیرہ غازی خان میں جدید الیکٹرو بسوں سے عام شہریوں کو پروقار سفر کرتے دیکھ کر انہیں دلی خوشی محسوس ہوتی ہے۔ صوبائی تاریخ میں پہلی بار لاہور کی طرز پر جنوبی پنجاب کے اضلاع اور دیگر تمام علاقوں میں بھی یکساں طور پر بڑے اور پائیدار ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈی جی خان سمیت پنجاب کے دیگر تمام شہروں میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت، ڈرینج سسٹم، صاف پانی کی فراہمی اور بیوٹی فکیشن کے بنیادی منصوبے تیزی سے جاری و ساریں ہیں۔

نیپال میں تبت کی سرحد کے قریب تباہ کن سیلاب سے ہلاکتیں 1,000 سے تجاوز کر گئیں، 3,900 سے زائد افراد لاپتہ

محمود احمد, September 01,2026

کاٹھمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

نیپال میں تبت کی سرحد کے قریب آنے والے انتہائی تباہ کن سیلاب کی وجہ سے املاک اور انسانی جانوں کا ہولناک نقصان ہوا ہے، جہاں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے کے مطابق سیلابی ریلوں کے باعث ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز جاری ہیں۔

حکام کے فراہم کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 3,900 سے زائد افراد لاپتہ ہیں، جن میں 600 سے زیادہ وہ محنت کش اور انجینئرز بھی شامل ہیں جن کے بارے میں شدید خدشہ ہے کہ وہ دریائے ترشولی کے کنارے قائم پن بجلی کے مختلف منصوبوں میں موجود مٹی اور کیچڑ سے بھری سرنگوں کے وسیع زیرِ زمین نیٹ ورک میں پھنسے ہوئے ہیں۔

سرنگوں کے اندر پھنسے ہوئے مزدوروں کو ساہس اور آکسیجن کی فراہم یقینی بنانے کے لیے ماہر انجینئرز خصوصی ایئر پمپس کا استعمال کر رہے ہیں۔ امدادی ٹیموں کا ایک ریسکیو دستہ کامیابی کے ساتھ ایک سرنگ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب بھی ہوا، تاہم اندر کسی شخص کو نہ پائے جانے کے بعد ٹیم کو واپس آنا پڑا۔

مقامی اور بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے 33 سالہ لاپتہ انجینئر اوروس بھنڈاری کی اہلیہ انوشیلا بھنڈاری نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صرف یہی ایک خواہش ہے کہ ان کے شوہر کو بحفاظت تلاش کیا جا سکے تاکہ وہ جلد گھر واپس آ جائیں۔ اوروس بھنڈاری پن بجلی منصوبے کی ایک سائٹ سے سیلابی ریلے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔

نیپال کے وزیرِاعظم بالیندر شاہ نے واقعے پر اہم پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان متاثرہ ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سائٹس سے اب تک 279 افراد کو بحفاظت ریسکیو کر کے نکال لیا گیا ہے۔

حالات کی حساسیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے امدادی کارروائیوں کی قیادت چین اور نیپال کے تربیت یافتہ فوجی اہلکاروں پر مشتمل ایک بین الاقوامی مشترکہ ٹیم کر رہی ہے، جبکہ انڈیا، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا کے تخصصی ماہرین بھی ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں میں مکمل طور پر حصہ لے رہے ہیں۔

جزیرہ لارک پر امریکی حملوں کے بعد تہران کا اردن اور امارات میں امریکی اڈوں پر جوابی حملہ؛ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت جواب دینے کا اعلان

محمود احمد, August 31,2026

تہران/واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

ایران کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف نے خطے کے تمام ممالک کو سخت اور واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی کے لیے ان کی سرزمین استعمال کی گئی تو تہران حکومت ایسے حملوں کا باعث بننے والے تمام ’ذرائع‘ کو بلا جھجھک نشانہ بنائے گی۔

ایرانی مسلح افواج کے جنرل سٹاف کی جانب سے جاری کردہ رسمی بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض علاقائی اور پڑوسی ممالک اپنے سابقہ علانیہ مؤقف اور وعدوں کے باوجود امریکہ کو ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کے لیے اپنی حدود اور سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ایران اپنے تمام پڑوسی ممالک کی سرحدوں اور خودمختاری کا احترام کرتا ہے، تاہم وہ اپنے خلاف ہونے والی ’کسی بھی جارحیت کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا‘ اور ایسے اقدامات کا پہلے سے ’مزید سخت جواب‘ دیا جائے گا۔

ایرانی عسکری حکام کے مطابق گزشتہ رات خطے میں کی جانے والی جوابی عسکری کارروائیاں بھی اسی واضح پالیسی کا تسلسل اور ردِعمل تھیں۔

یہ تند و تیز بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے اتوار کی شب خلیج فارس میں واقع تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم ایرانی جزیرے ‘لارک’ پر فضائی حملے کیے تھے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس امریکی کارروائی کے ردِعمل میں اس نے اردن اور متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی عسکری اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

دوسری جانب، ان جوابی حملوں پر ردِعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باضابطہ بیان میں کہا ہے کہ امریکہ ان تمام ایرانی حملوں کو ’بغیر جواب‘ دیے ہرگز نہیں چھوڑے گا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اردن اور امارات میں امریکی تنصیبات پر حملوں کی پاداش میں ایران کو امریکہ کی جانب سے انتہائی ‘سخت اور موثر جواب’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

نئے صوبوں کی غیر متوقع تقسیم تباہی کا باعث بن سکتی ہے: لاڑکانہ میں مولانا فضل الرحمان کی میڈیا سے گفتگو

کاشف عباسی , August 31,2026

لاڑکانہ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام اور ان کی تقسیم کا سوال پہلے بھی اٹھتا رہا ہے، صوبے بنتے رہتے ہیں لیکن اس وقت پاکستان میں ایسا کوئی سازگار ماحول ہے اور نہ ہی انتظامی تیاری۔ اگر ماحول اور تیاری کے بغیر صوبوں کی تقسیم کی گئی تو اس کا نتیجہ شدید تباہی کی صورت میں نکلے گا۔

لاڑکانہ میں صحافیوں سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو جو مالی و انتظامی وسائل مل چکے ہیں، وہ کچھ حلقوں سے ہضم نہیں ہو رہے اور غیر سیاسی لوگوں سے ایسی باتیں کروائی جا رہی ہیں جن کی کوئی سیاسی یا آئینی حیثیت نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ 2018ء اور 2024ء کے عام انتخابات کے نتائج کو بالکل تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی انتخابی عمل میں کسی بھی ادارے کی بالواسطہ یا بلاواسطہ مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں نے ہمیشہ اپنا اقتدار بچانے کے لیے حالات کے ساتھ سمجھوتے کیے، اگر تمام سیاستدان اپنے اصولوں پر ڈٹے رہیں اور غیر سیاسی مداخلت کو مل کر روکیں تو وہ خود طاقتور ہو سکتے ہیں۔

ملک میں امن و امان کی سنگین صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بدامنی نے عام عوام کی زندگی کو فلج کر کے رکھ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف طاقت کا استعمال بدامنی کے مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہے، بلکہ تمام متعلقہ فریقوں کی باہمی مشاورت سے ہی اس کا حقیقی حل نکالا جا سکتا ہے۔

سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ وہ کسی بھی سیاسی رہنما کو جیل میں رکھنے کے حامی نہیں ہیں اور تمام سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے، چاہے وہ شدید سیاسی مخالف ہی کیوں نہ ہو۔ انہوں نے سیاسی قیادت کو مشورہ دیا کہ کردار کشی کی سیاست کے بجائے مہذب انداز میں اختلافِ رائے کا اظہار کیا جائے۔

اپنی بات مکمل کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں کوئی حتمی یا آخری حد نہیں ہوتی؛ ہم نے ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف تاریخ کی سب سے بڑی تحریک بھی چلائی اور بعد میں ایم آر ڈی کے پلیٹ فارم سے ان کے ساتھ اتحادی کے طور پر بھی رہے۔

سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کا متفقہ فیصلہ پاکستان کے اصولی و قانونی مؤقف کی تاریخی فتح ہے: ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

منصور احمد, August 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ عالمی ثالثی عدالت کا متفقہ فیصلہ پاکستان کے اصولی، قانونی اور سفارتی مؤقف کی ایک بہت بڑی تاریخی کامیابی ہے، جس سے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل، ختم یا غیر مؤثر کرنے کی تمام تر کوششوں کو عالمی سطح پر واضح اور حتمی قانونی شکست ہوئی ہے۔

پیر کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے ایک اہم باضابطہ بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت نے اپنے فیصلے میں بالکل واضح کر دیا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل، منسوخ یا غیر مؤثر نہیں بنا سکتا۔ انہوں نے اجاگر کیا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور مکمل طور پر فعال و مؤثر ہے اور اس کی پاسداری پاکستان اور بھارت دونوں ممالک پر یکساں طور پر قانونی و بین الاقوامی لازمی ذمہ داری ہے۔

وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے خودمختاری، مبینہ معاہداتی خلاف ورزی، دہشت گردی اور دیگر من گھڑت بنیادوں پر پیش کیے جانے والے تمام دلائل عالمی ثالثی عدالت کے سامنے مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے۔ عدالت کے اس تاریخی فیصلے نے دنیا بھر پر ثابت کر دیا ہے کہ کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر اپنے طور پر طے شدہ بین الاقوامی معاہدوں سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ رتلے پن بجلی منصوبے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے عبوری اقدامات پاکستان کے موقف کی ایک اور اہم ترین تائید ہیں۔ عدالت نے رتلے پن بجلی منصوبے کی مخصوص متنازع تعمیراتی سرگرمیوں پر باقاعدہ پابندیاں عائد کی ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان اپنے قانونی و آبی حقوق پر بلا کم و کاست ثابت قدم رہا اور عالمی عدالت نے ہمارے موقف کی مکمل توثیق کر دی ہے۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اپنے بیان کے اختتام پر زور دیا کہ یہ فیصلہ صرف پاکستان کی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون اور عالمی معاہدوں کی پاسداری کی فتح ہے۔ سندھ طاس معاہدے کو کمزور کرنے کی تمام بھارتی کوششوں کو شدید ترین قانونی دھچکا لگا ہے اور پاکستان سفارتی محاذ پر مزید مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اپنی روایتی ہٹ دھرمی ترک کر کے عالمی قوانین، بین الاقوامی معاہدوں اور عدالت کے فیصلوں کا احترام کرے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ترکیہ میں اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں: دو طرفہ دفاعی تعاون اور علاقائی سکیورٹی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال

منصور احمد, August 31,2026

راولپنڈی/استنبول (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ترکیہ کے اہم سرکاری دورے کے دوران استنبول میں اعلیٰ ترین سطح کی سفارتی و عسکری ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران باہمی دلچسپی کے اہم امور، دوطرفہ دفاعی و تکنیکی تعاون اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے قیام کے دوران سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان ، ترکیہ کے وزیرِ قومی دفاع یاسر گلر اور چیف آف ترک جنرل سٹاف جنرل سلچوک بایراکتار اوغلو سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور علاقائی امن و امان سے متعلق سٹریٹجک امور پر گفتگو کی گئی۔

دورے کے دوران چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کے تحت قائم کردہ ‘سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی’ کے اہم اجلاس میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی، جس میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب تینوں ممالک شامل ہیں۔ اجلاس کے دوران تینوں اسلامی برادر ممالک نے سٹریٹجک روابط اور دفاعی تعاون کو مزید ادارہ جاتی اور مضبوط بنانے کے لیے مختلف عملی اقدامات اور مستقبل کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔

ترجمان کے مطابق یہ اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں اور مشترکہ اجلاس پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات اور تیزی سے بڑھتے ہوئے سٹریٹجک و دفاعی تعاون کی روشن عکاسی کرتے ہیں۔

19 ارب ڈالر کی ریکارڈ اسرائیلی دفاعی برآمدات کے دوران اہم پیش رفت؛ ترکی کے ساتھ کشیدگی کے پیشِ نظر یونان کا اپنے دفاعی نظام کو جدید بنانے کا فیصلہ

کاشف عباسی , August 31,2026

تل ابیب/ایتھنز (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

اسرائیل اور یونان کے درمیان ’اخیلس شیلڈ‘ نامی ایک تاریخی اور غیر معمولی دفاعی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اسرائیلی وزارتِ دفاع کے باضابطہ بیان کے مطابق اس معاہدے کے تحت یونان کو جدید ترین اسرائیلی ٹیکنالوجی پر مبنی ایک کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام فراہم کیا جائے گا، جو بیلسٹک میزائلوں سے لے کر جدید ڈرونز اور دیگر فضائی خطرات کا مؤثر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے اس معاہدے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور یونان کے مشترکہ تزویراتی مفادات ہیں اور دونوں ممالک کو خطے میں یکساں نوعیت کے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔

یہ اہم دفاعی معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی دفاعی برآمدات تاریخ کی بلند ترین اور ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال اسرائیل نے 19 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا دفاعی سازوسامان اور عسکری ٹیکنالوجی برآمد کی، جو کہ 2024ء کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد زیادہ ہے۔ عسکری ماہرین کے مطابق دنیا کے متعدد ممالک اسرائیلی اسلحے اور دفاعی سسٹمز میں دلچسپی اس لیے رکھتے ہیں کیونکہ اسے عملی جنگی حالات میں آزمایا جا چکا ہے اور اس کی کارکردگی کا براہِ راست مشاہدہ کیا گیا ہے۔

یونان اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات:

اگرچہ اسرائیل اور یونان کے درمیان گزشتہ ایک دہائی کے دوران دفاعی اور تکنیکی تعاون میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، تاہم پیر کے روز طے پانے والا یہ سمجھوتہ دونوں ممالک کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا اور اہم دفاعی معاہدہ تصور کیا جا رہا ہے۔

یونان اپنی مسلح افواج کو جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے، جبکہ مشرقی بحیرہ روم میں سمندری حدود سے متعلق تنازعات کے باعث اس کا اپنے ہمسائے اور نیٹو اتحادی ملک ترکی کے ساتھ طویل عرصے سے کشیدگی اور اختلاف چلا آ رہا ہے۔ اس سے قبل بھی یونان نے اسرائیلی کمپنی ایلبٹ سسٹمز کے ساتھ 1.65 ارب ڈالر کے ایک بڑے معاہدے کے تحت فضائی تربیتی مرکز قائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، جبکہ راکٹ لانچرز، اینٹی ٹینک میزائلوں اور ڈرونز کے حصول کے متعدد معاہدے بھی کیے جا چکے ہیں۔

یونانی وزیرِ دفاع نیکوس ڈینڈیاس نے معاہدے پر باقاعدہ دستخطوں کے بعد اپنے ردِعمل میں کہا کہ جدید دور کے تنازعات نے دفاع اور عسکری مزاحمت کے روایتی تصورات کو بالکل تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، بیلسٹک میزائل، سیٹلائٹ مواصلات، بغیر پائلٹ کے ڈرون سسٹمز، سائبر خطرات اور ہائبرڈ جنگ جیسے عوامل نے پرانے روایتی دفاعی نظریات کو مکمل طور پر غیرحقیقی بنا دیا ہے۔

اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مطابق اس جامع معاہدے میں ‘ڈیوڈز سلنگ’ اور ‘سپائیڈر’ سمیت متعدد عالمی معیار کے فضائی دفاعی نظام اور ایک نیا قومی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم شامل ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 30 ملین ڈالر مالیت کے ایک الگ معاہدے کے تحت رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز کے ‘ڈرون ڈوم’ سسٹمز بھی یونان کو فراہم کیے جائیں گے۔

اسرائیل دنیا کا ساتواں بڑا اسلحہ برآمد کنندہ:

سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رواں سال جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل عالمی اسلحہ برآمدات کی فہرست میں برطانیہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا ساتواں بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ اسرائیلی دفاعی صنعت کی مجموعی عالمی برآمدات میں نصف سے زیادہ حصہ گائیڈڈ میزائلوں، راکٹوں اور جدید فضائی دفاعی نظاموں پر مشتمل ہے۔

پنجاب اسمبلی نے ‘انسدادِ دہشت گردی (پنجاب ترمیمی) بل 2026’ کثرتِ رائے سے منظور کر لیا

منصور احمد, August 31,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

پنجاب صوبائی اسمبلی نے انسدادِ دہشت گردی (پنجاب ترمیمی) بل 2026 باقاعدہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت دہشت گردی اور ہائی سیکیورٹی مقدمات کی سماعت کے دوران ججز، پراسیکیوٹرز، تفتیش کاروں، وکلاء اور گواہوں کی جان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی حفاظتی انتظامات اور جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کی راہ ہموار کی گئی ہے۔

یہ بل پارلیمانی سیکرٹری برائے پارلیمانی امور خالد محمود رانجھا نے ایوان میں پیش کیا۔ بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام ترامیم کثرتِ رائے سے مسترد کر دی گئیں۔ اپوزیشن ارکان نے کارروائی کے دوران ایوان سے واک آؤٹ کیا، جس کے باعث ان کی ترامیم بھی منظور نہ ہو سکیں اور ایوان نے بل کو اصل شکل میں پاس کر دیا۔

بل کے متن کے مطابق اس قانون کا بنیادی مقصد انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں زیرِ سماعت حساس مقدمات اور عدالتی کارروائیوں کو مکمل طور پر محفوظ بنانا اور ججز، وکلاء، پراسیکیوٹرز، پولیس افسران اور گواہوں کو درپیش سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے قانونی فریم ورک کو مضبوط کرنا ہے۔

اس قانون کے تحت انسدادِ دہشت گردی عدالتوں کو محفوظ ٹیکنالوجی، ویڈیو کانفرنسنگ اور الیکٹرانک لنکس کے ذریعے مقدمات کی سماعت اور دیگر عدالتی کارروائیاں انجام دینے کا کامل اختیار حاصل ہو گا۔ خصوصی سیکیورٹی اور لاجسٹک مسائل کی صورت میں مقدمات کی سماعت جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے کی جا سکے گی اور تمام عدالتی کارروائی کی آڈیو و ویڈیو ریکارڈنگ محفوظ کی جائے گی۔

اس کے علاوہ ججز، پراسیکیوٹرز، پولیس افسران اور گواہوں کو درپیش سنگین خطرات کے پیشِ نظر ان کی شناخت اور چہرہ یا آواز خفیہ رکھنے کے لیے وائس موڈیفکیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ بعض حساس مقدمات کی سماعت محفوظ اور مخصوص مقامات یعنی کیمرہ عدالتوں میں کی جا سکے گی اور وہاں رسائی صرف متعلقہ اور مجاز افراد تک محدود ہوگی۔

حکومت کا موقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف موجودہ قانونی فریم ورک ہائی سیکیورٹی مقدمات کی محفوظ سماعت کے لیے ناکافی تھا، اسی لیے جدید تقاضوں کے مطابق یہ نئی شقیں متعارف کرائی گئی ہیں۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان تمام تر حفاظتی اقدامات کے باوجود آئین کے تحت منصفانہ ٹرائل، انسانی وقار اور بنیادی شہری آزادیوں سے متعلق آئینی ضمانتیں برقرار رہیں گی۔

قانون کے تحت حکومت گریڈ 20 یا اس کے مساوی عہدے کے ایک افسر کو خصوصی سیکیورٹی مقدمات کے لیے نامزد کرے گی۔ یہ افسر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت کے بعد اس بات کا تعین کرے گا کہ کون سے مقدمات غیر معمولی حفاظتی اقدامات کے متقاضی ہیں۔ اس نامزد اتھارٹی کو متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کاری اور قانون پر عملدرآمد یقینی بنانے کے مکمل اختیارات حاصل ہوں گے جبکہ اس افسر کی شناخت اور تفصیلات بھی مکمل طور پر خفیہ رکھی جائیں گی۔

بلوچستان اسمبلی میں تیزاب گردی کے خلاف سخت قانون سازی کی متفقہ قرارداد منظور

محمود احمد, August 31,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

بلوچستان صوبائی اسمبلی نے صوبے بھر میں تیزاب پھینکنے کے دلخراش واقعات کی روک تھام اور ملزمان کو کڑی سزائیں دینے کے لیے مؤثر و جامع قانون سازی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک اہم قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔

یہ قرارداد خواتین پارلیمانی کاکس کی جانب سے ایوان میں پیش کی گئی، جسے تمام حکمران و اپوزیشن ارکان نے اتفاقِ رائے سے منظور کیا۔ قرارداد پیش کرتے ہوئے رکنِ صوبائی اسمبلی شاہدہ رؤف نے حال ہی میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ہونے والے تیزاب حملے کے بہیمانہ واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی صرف ایک فرد یا خاتون پر حملہ نہیں بلکہ خواتین کے بنیادی انسانی حقوق، عزتِ نفس اور باوقار زندگی کے حق پر بھی سنگین اور ناقابلِ برداشت حملہ ہے۔

قرارداد کے متن میں نشاندہی کی گئی کہ بلوچستان میں خواتین کے خلاف تیزاب گردی جیسے سنگین اور روح فرسا جرائم وقتاً فوقتاً پیش آتے رہے ہیں، تاہم ان کے مکمل سدباب اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے صوبائی سطح پر فی الوقت کوئی جامع اور مخصوص قانون موجود نہیں ہے۔ شاہدہ رؤف نے ایوان کو بتایا کہ یہی قانونی خلا ایسے گھناؤنے جرائم کے خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیزاب حملے متاثرہ افراد کی جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی صحت کے ساتھ ساتھ ان کی سماجی اور نجی زندگی پر بھی ناقابلِ تلافی اثرات مرتب کرتے ہیں، اس لیے فوری بنیادوں پر سخت قانون سازی ناگزیر ہو چکی ہے۔

قرارداد کے ذریعے بلوچستان حکومت سے باقاعدہ سفارش کی گئی ہے کہ وہ موجودہ قوانین کا باریک بینی سے جائزہ لے کر ضروری ترامیم تجویز کرے یا تیزاب حملوں کی مکمل روک تھام کے لیے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ایک نیا اور جامع قانون متعارف کرائے۔

استنبول میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا پہلا اجلاس: پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کا سٹریٹیجک و دفاعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق

منصور احمد, August 31,2026

استنبول/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

ترکی کے تاریخی شہر استنبول میں پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور مسلح افواج کے سربراہان کا ایک اہم اور اعلیٰ سطحی مشترکہ اجلاس منعقد ہوا ہے۔ یہ اجلاس تینوں برادر اسلامی ممالک کے مابین طے پانے والے ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کے تحت قائم کردہ ‘سٹریٹیجک سیاسی و دفاعی کمیٹی’ کا پہلا باقاعدہ اجلاس تھا۔

اجلاس کے اختتام پر جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے کے مطابق، تینوں ممالک نے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سمیت پورے خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کے لیے مکہ معاہدے کے طے شدہ فریم ورک کے تحت مل کر کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب نے بین الاقوامی و علاقائی بحرانوں کے پرامن اور سفارتی حل کی حوصلہ افزائی کے لیے کشیدگی میں کمی اور فریقین کے مابین تحمل کے فروغ کی حمایت جاری رکھنے پر کامل اتفاق کیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق، تینوں مسلم ممالک نے مکہ معاہدے کے تحت اپنے سہ فریقی تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے اہم انتظامی اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔ اس اہم پیش رفت کا بنیادی مقصد باہمی یکجہتی کو مضبوط بنانا، مشترکہ دفاعی صلاحیت کو زیادہ موثر و فعال بنانا اور علاقائی امن کی عالمی کوششوں میں مثبت کردار ادا کرنا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب میں ایک ‘مستقل سیکریٹریٹ’ قائم کیا جائے گا جس کی انتظامی سربراہی سیکریٹری جنرل کے پاس ہوگی۔ اعلامیے میں باضابطہ طور پر یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ابتدائی تین برس کی مدت کے لیے سیکریٹری جنرل کا یہ بااثر عہدہ پاکستان کے پاس رہے گا۔

مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب دفاعی صنعت کے شعبے میں تعمیری تعاون، جدید ملٹری ٹیکنالوجی کی مشترکہ تیاری و پیداوار، اور مشترکہ جنگی مشقوں کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں اور مسلح افواج کے باہمی رابطہ کار کو مزید مضبوط اور جدید بنائیں گے۔ اعلامیے کے اختتام پر واضح کیا گیا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے پر منظم عملدرآمد کے ذریعے یہ تینوں پیش پیش ممالک خطے میں پائیدار امن، عدم تشدد اور استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔

اردن میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملہ: ڈونلڈ ٹرمپ کا شدید اور حتمی جوابی کارروائی کا اعلان

محمود احمد, August 31,2026

واشنگٹن/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ امریکہ اردن میں قائم اپنے عسکری اڈوں پر ہونے والے حالیہ ایرانی حملوں کا انتہائی ’سخت اور موثر جواب‘ دے گا۔ خبر رساں ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک ہنگامی ٹیلی فونک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایرانی عسکری اقدام پر واشنگٹن چپ نہیں بیٹھے گا اور اس کا جواب بھرپور کارروائی کی صورت میں سامنے آئے گا۔

امریکی صدر کا یہ تند و تیز بیان پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے اس باضابطہ دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی عسکری حملوں کے ردِعمل میں ایران نے اردن میں واقع دو اہم امریکی ایئر بیسز—’شاہ حسین’ اور ‘الازرق’—کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی میں وہاں موجود امریکی فوج کے ‘تکنیکی و دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے اور جنگی لڑاکا طیاروں کو بھاری نقصان’ پہنچا ہے۔

انٹرویو کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فضائی دفاعی نظام نے گزشتہ رات ایرانی میزائل حملے کے دوران ایک میزائل کو دانستہ طور پر گزرنے دیا کیونکہ وہ کسی امریکی ہدف کی سمت نہیں تھا اور اس سے کوئی خطرہ نہیں تھا، جبکہ دیگر تمام ایرانی میزائلوں کو فضا ہی میں کامیابی سے تباہ کر دیا گیا۔ دوسری جانب اردنی حکومت نے بھی اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس کی اپنی فضائی دفاعی فورسز نے اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 ایرانی میزائلوں کو کامیابی سے ناکارہ بنایا۔

عسکری کشیدگی اور سخت بیانات کے باوجود امریکی صدر نے سفارتی حل کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایرانی حکام واقعی ہم سے مذاکرات اور ملاقات کرنا چاہتے ہیں، لیکن میں نہیں جانتا کہ کسی پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے لیے ان پر آئندہ کے لیے اعتماد کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔‘

اس کے فوراً بعد اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک مفصل پوسٹ میں امریکی صدر نے ایرانی حکومت کو شدید ترین تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ ’ایران باضابطہ طور پر ایک بالکل ناکام ریاست بن چکا ہے اور اس کا وجود تقریباً ختم ہو چکا ہے! اس کے پاس اب نہ کوئی فعال بحریہ بچی ہے، نہ فضائیہ، اور نہ ہی کوئی معاشی قوت رکھنے والی کرنسی۔ وہ اپنے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو تنخواہیں دینے سے بھی قاصر ہے۔ ملک میں مہنگائی 300 فیصد کی تاریخی سطح تک پہنچ چکی ہے، اور اس کی موجودہ قیادت مکمل انتشار کا شکار ہے جو ملک کی مناسب نمائندگی کی صلاحیت کھو چکی ہے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان کے اختتام پر الزام عائد کیا کہ ’تہران حکومت کے پاس اب صرف امریکہ سے آنے والی فیک نیوز، اپنے ہی معصوم مظاہرین کو قتل کرنے کی سفاکانہ آمادگی (جس میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ان پر انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کے تحت عالمی عدالتوں میں مقدمہ چلنا چاہیے!)، اور بے بنیاد عسکری دعووں کی ایک لمبی فہرست ہی باقی رہ گئی ہے۔‘