چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان کا لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں سے خطاب: نوجوانوں کو ہنر مند بنانے اور روزگار کی فراہمی کے لیے بڑے اقدامات کا اعلان

کاشف عباسی , August 30,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ پارٹی کے مخلص اور محنتی کارکنان ہماری جماعت کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے روشن وژن کے تحت ملک بھر کے نوجوانوں کو معیارِ تعلیم، جدید فنی تربیت ، کاروبار، نجی سٹارٹ اپس اور روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے حلقے کے عوامی مسائل سے ہرگز غافل نہیں ہیں اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔

اتوار کے روز لاہور کے صوبائی حلقہ پی پی 172 میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے رانا مشہود احمد خان نے بتایا کہ ہر یونین کونسل کی سطح پر پارٹی تنظیم، یوتھ ونگ، لیبر ونگ، لائرز ونگ، تاجر ونگ اور خواتین ونگ کو مکمل طور پر بااختیار بنایا گیا ہے، جبکہ مختلف سرکاری محکموں کے لیے مقرر کیے گئے کوآرڈینیٹرز کے ذریعے شہریوں کے مسائل کی نشاندہی اور ان کے فوری حل کے لیے مسلسل رابطہ کاری کا نظام قائم کر دیا گیا ہے۔

اپنے خطاب کے دوران انہوں نے عالمی اور علاقائی ماحولیاتی بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تغیر اب پورے خطے کے لیے ایک سنگین اور حقیقی خطرہ بن چکا ہے۔ حالیہ شدید گرمی کی لہر، ہمالیائی گلیشیئرز کے پگھلنے، کلاڈ برسٹ اور غیر معمولی بارشوں نے عالمی سطح پر نئے اور درپیش چیلنجز پیدا کر دیے ہیں، جس کی حالیہ مثال چین اور نیپال کی سرحد پر آنے والے تباہ کن سیلابی ریلے ہیں۔ انہوں نے بجلی کی لوڈشیڈنگ اور ٹرانسفارمرز کی خرابی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گرمی میں اضافے سے سسٹم پر اضافی دباؤ آتا ہے، تاہم پی پی 172 میں تبدیل کیے جانے والے ٹرانسفارمرز کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے اور بجلی سے متعلق مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا رہا ہے۔

عوامی سہولیات اور بنیادی انفراسٹرکچر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یو سی 93 میں 146 سڑکوں کے سیوریج سسٹم کا کام مکمل ہونے کے بعد باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا ہے، جبکہ سڑکوں، گلیوں، بجلی اور سوئی گیس کی فراہمی کے منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ نوجوانوں کو جدید ہنر سکھانے کے لیے سبزہ زار میں قائم ٹیکنیکل ایجوکیشن کا ادارہ رواں سال دسمبر یا جنوری تک مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔ اس ادارے کے ذریعے وہ اپنے حلقے کے کم از کم 2,000 نوجوانوں کو چھ ماہ کے اندر مفت ٹریننگ دلا کر بیرونی ممالک میں روزگار کے مواقع فراہم کریں گے، جبکہ نجی تعاون سے کل 10,000 طلبہ و طالبات کو تربیت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

صحت کے شعبے میں بڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے رانا مشہود احمد خان نے سوڈیوال کے رانا عبدالرحیم ہسپتال میں 7 جبکہ حاجی ابراہیم ہسپتال میں مزید 4 ڈائیلاسز مشینیں فراہم کرنے کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان ہسپتالوں میں نایاب ادویات کی فراہمی اور آئندہ دو ماہ کے اندر مریضوں کے تمام طبی ٹیسٹ بالکل مفت کرانے کا انتظام مکمل کر لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ گلشن راوی میں لاہور کے جدید ترین فلٹریشن پلانٹس میں سے ایک کا افتتاح آئندہ ہفتے کیا جائے گا۔

بین الاقوامی تعلیمی اور سفارتی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ چین کے حالیہ دورے کے دوران 50 چینی یونیورسٹیوں اور 70 ٹیکنیکل و میڈیکل اداروں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جبکہ امریکہ کے دورے میں 25 امریکی اور 13 میڈیکل یونیورسٹیوں کے ساتھ اہم معاہدے طے پائے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ روز لاہور میں منعقدہ بین الاقوامی ہیلتھ کانفرنس اور ایکسپو میں 21 ممالک کے سفیروں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر مضبوط روابط قائم کر رہا ہے۔ رانا مشہود احمد خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے حلقے اور ملک کے نوجوانوں کی ترقی، تعلیم اور صحت کے لیے اپنے تمام سرکاری اور ذاتی وسائل کا استعمال جاری رکھیں گے۔

راسووا سیلاب کے بعد ملکی انفراسٹرکچر کی سب سے بڑی تباہی: 19 پل متاثر، 40 کلو میٹر طویل سڑک کو نقصان اور متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت

محمود احمد, August 30,2026

کاٹھمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

نیپال میں آنے والے تباہ کن اور اچانک سیلاب کے بعد شدید کٹاؤ کے باعث ملک کی انتہائی اہم اور مرکزی شاہراہ ‘پرتھوی ہائی وے’ کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جس سے اہم مواصلاتی رابطے منقطع ہو گئے ہیں۔ نیپال کے شعبہ روڈز (محکمہ سڑک جات) کے سربراہ و ڈائریکٹر جنرل وجے جائسی نے باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ راسووا کے علاقے میں آنے والے ہولناک سیلاب کے بعد یہ ملک کے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے (شاہراہیں اور پل) کو پہنچنے والا سب سے بڑا اور سنگین ترین نقصان ہے۔

محکمے کے ڈائریکٹر جنرل وجے جائسی کے مطابق گذشتہ بدھ کے روز آنے والے تباہ کن سیلاب کے فوراً بعد دھاڈنگ ضلع کے علاقے ‘کرشنابھیر’ میں زمین اور سڑک کے کٹاؤ کا سلسلہ شروع ہوا تھا، جبکہ اتوار کی صبح پہاڑوں سے آنے والے ایک اور شدید سیلابی ریلے نے تباہی پھیلاتے ہوئے صورتحال کو مزید تشویشناک اور سنگین بنا دیا ہے۔ شدید کٹاؤ کے باعث مرکزی شاہراہ کا بڑا حصہ دریا میں بہہ چکا ہے اور گاڑیوں کی آمد و رفت مکمل طور پر معطل ہو گئی ہے۔

حالات کی سنگینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے وجے جائسی نے مسافروں، ڈرائیورز اور ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر کے لیے فوری طور پر متبادل راستے اختیار کریں۔ محکمہ سڑک جات کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے محکمے کے 19 اہم پل متاثر یا تباہ ہوئے ہیں، جبکہ نواکوٹ سے سیافروبیسی اور رسووا گڑھی تک تقریباً 40 کلومیٹر طویل سڑک کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ محکمے نے ہنگامی ٹیمیں تشکیل دے کر بحالی کا کام شروع کر دیا ہے تاہم مسلسل بارشوں کے باعث سڑک کھودنے اور بحال کرنے میں شدید دشواری پیش آ رہی ہے۔

ملکی ڈیموں میں قابلِ استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ 11.39 ملین ایکڑ فٹ سے تجاوز کر گیا، سکھر بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 98 ہزار کیوسک سے زائد ریکارڈ

روزینہ اسماعیل, August 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ملک کے مختلف دریاؤں، اہم بیراجوں اور بنیادی آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج اور واٹر لیول سے متعلق تازہ ترین ہنگامی اعدادوشمار جاری کر دیے ہیں۔ واپڈا کی جانب سے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق ملک کے اہم ڈیموں میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ تربیلا ڈیم اپنی انتہائی ذخیرہ اندوزی کی حد کو چھو چکا ہے۔

واپڈا کے مطابق، دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج دونوں ایک لاکھ 82 ہزار 100 کیوسک ریکارڈ کیے گئے۔ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج 22 ہزار 400 کیوسک رہا، جبکہ خیرآباد پل پر پانی کی آمد اور اخراج ایک لاکھ 95 ہزار 600 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 19 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 7 ہزار 400 کیوسک رہا، جبکہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 72 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 50 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

ملک کے اہم بیراجوں کی صورتحال کے مطابق جناح بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 37 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 29 ہزار 500 کیوسک رہا۔ چشمہ بیراج پر آمد ایک لاکھ 98 ہزار 700 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 80 ہزار کیوسک، جبکہ تونسہ بیراج پر آمد ایک لاکھ 79 ہزار 700 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 58 ہزار 800 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ سندھ کے بیراجوں میں گدو بیراج پر آمد 2 لاکھ 44 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 8 ہزار 800 کیوسک، سکھر بیراج پر آمد 2 لاکھ 98 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 46 ہزار 200 کیوسک، اور کوٹری بیراج پر آمد ایک لاکھ 58 ہزار 400 کیوسک جبکہ اخراج ایک لاکھ 15 ہزار 700 کیوسک رہا۔ پنجاب میں تریموں بیراج پر آمد 28 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 17 ہزار 600 کیوسک، جبکہ پنجند بیراج پر آمد 46 ہزار کیوسک اور اخراج 31 ہزار 800 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

آبی ذخائر کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ تربیلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ہے، جبکہ ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح اپنی انتہائی گنجائش یعنی 1550 فٹ تک پہنچ چکی ہے اور یہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.580 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ منگلا ڈیم میں (جس کا کم از کم لیول 1050 فٹ اور انتہائی سطح 1242 فٹ ہے) پانی کی موجودہ سطح 1219.30 فٹ تک پہنچ گئی ہے جہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.534 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اسی طرح چشمہ بیراج کے ذخیرے میں پانی کی موجودہ سطح 648.50 فٹ (انتہائی سطح 649 فٹ) ریکارڈ کی گئی ہے اور وہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.285 ملین ایکڑ فٹ موجود ہے۔

خواتین مسافروں کی طویل قطار پر اضافی سرچ کاؤنٹر کھولنے کا حکم، ڈراپ آف لین پر ٹریفک رش پر تشویش کا اظہار، توسیعی کام جلد مکمل کرنے کی ہدایت

منصور احمد, August 30,2026

اسلام آباد/لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے دفاع خواجہ محمد آصف نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا ایک اعلیٰ سطحی دورہ کیا، جہاں انہوں نے بین الاقوامی و اندرونِ ملک سفر کرنے والے مسافروں کے لیے کیے گئے سفری انتظامات کا باریک بینی سے معائنہ کیا اور ایئرپورٹ پر جاری اہم انفراسٹرکچر ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا موقع پر جائزہ لیا۔ ایئرپورٹ آمد پر قائم مقام چیف آپریٹنگ آفیسر و ایئرپورٹ منیجر اور دیگر اعلیٰ سول ایوی ایشن حکام نے وفاقی وزیر دفاع کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (PAA) کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق، دورے کے دوران وزیر دفاع نے ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس (ASF) کے سیکنڈ ہولڈ (انٹرنیشنل) ایریا کی چیکنگ کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر خواتین مسافروں کی طویل قطار کا فوری نوٹس لیتے ہوئے خواجہ آصف نے متعلقہ حکام کو کلیئرنس کے عمل کو تیز تر بنانے اور مسافروں کی سہولت کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اضافی سرچ کاؤنٹرز فوری طور پر کھول کر آپریشنل کرنے کی سخت ہدایت کی۔

وفاقی وزیر دفاع نے ایئرپورٹ پر نئے تعمیر شدہ امیگریشن ایریا کا بھی تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے امیگریشن کاؤنٹرز پر تعینات عملے کی کارکردگی اور وہاں جاری بقیہ تعمیراتی کام کی رفتار کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران قائم مقام چیف آپریٹنگ آفیسر و ایئرپورٹ منیجر نے وزیر دفاع کو جاری توسیعی و ترقیاتی کاموں، اور اس دوران مسافروں کی جلد پراسیسنگ اور دیگر سفری سہولیات کے لیے کیے گئے متبادل انتظامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

خواجہ آصف نے انٹرنیشنل ڈپارچر کے جوائنٹ سرچ ایریا سمیت دیگر مسافر سہولیات کا بھی معائنہ کیا اور مجموعی انتظامات پر اپنے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ بین الاقوامی مسافروں کے لیے خدمات کے اعلیٰ معیار کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔

بعد ازاں، وفاقی وزیر دفاع نے زیرِ تعمیر ڈومیسٹک ڈپارچر ایریا کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں جاری سول ورکس، مجوزہ جدید سہولیات اور منصوبے کی مجموعی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ایئرپورٹ کے بیرونی حصے میں ڈپارچر ڈراپ آف لین پر گاڑیوں اور ٹریفک کے شدید رش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خواجہ آصف نے ہدایت کی کہ مسافروں کی آسان اور محفوظ رسائی کو یقینی بنانے کے لیے اس لین کی نمایاں توسیع کا کام ترجیحی بنیادوں پر اور بلا تاخیر مکمل کیا جائے۔

کے پی ٹی کے تحت بھٹ آئی لینڈ کراچی میں 35 واں مفت میڈیکل کیمپ: 513 ساحلی رہائشیوں کو مفت طبی سہولیات، ادویات اور لیبارٹری ٹیسٹس کی فراہمی

روزینہ اسماعیل, August 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے ملک کی بین الاقوامی بندرگاہوں کو روزگار کے مواقع، ٹیکس محصولات کی جمع آوری، لاجسٹکس سپلائی چین، صنعتی و تجارتی سرگرمیوں، اور واٹر فرنٹ کی جدید تخلیقِ نو کے ذریعے بندرگاہی شہروں کی پائیدار ترقی میں فعال کردار ادا کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بندرگاہیں اور ساحلی شہر تاریخی و معاشی طور پر ایک دوسرے کے لازمی جزو ہیں، اور اس باہمی رشتے کو مزید مضبوط کرنے کی شدید ضرورت ہے۔

وزارتِ بحری امور کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق، وفاقی وزیر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بندرگاہی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والے اقتصادی فوائد کا دائرہ کار اکثر پورٹ کی حدوں سے نکل کر پورے ملک تک پھیل جاتا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ماحولیاتی اور سماجی اثرات عموماً پورٹ کے قریبی شہروں اور آبادیوں پر ہی مرتکز رہتے ہیں۔ شہری اقتصادی ترقی میں بندرگاہوں کے کلیدی کردار پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے آس پاس کی مقامی ساحلی کمیونٹیز کو صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں پورٹ اتھارٹیز کے روایتی کردار کو فعال طریقے سے بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کے “ہیلتھ کیئر بیونڈ باؤنڈریز” (حدود سے پار صحت کی سہولیات) کے وژن پر عملدرآمد کرتے ہوئے، کراچی پورٹ ٹرسٹ نے کراچی کے سمندری جزیرے ‘بھٹ آئی لینڈ’ میں اپنے 35 ویں مفت طبی کیمپ کا انعقاد کیا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ساحلی و جزیراتی آبادیوں تک معیاری طبی علاج کی رسائی کو ممکن بنانا تھا۔ کیمپ کے دوران کی ماہر طبی ٹیم نے جزیرے کے 513 غریب رہائشیوں کا تفصیلی معائنہ کیا اور انہیں مفت ادویات کے ساتھ ساتھ لیبارٹری ٹیسٹس کی سہولیات بھی فراہم کیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بھٹ آئی لینڈ کا میڈیکل کیمپ حکومتِ پاکستان کے اس جامع وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کے جوار میں مقیم کمزور آبادیوں کو پائیدار قومی ترقی کے فوائد میں برابر کا حصہ دار بنایا جا رہا ہے۔ پورٹ حکام کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، طبی کیمپ سے مستفید ہونے والوں میں 202 مرد، 201 خواتین اور 110 بچے شامل تھے، جبکہ موقع پر ہی 70 کے قریب ضروری لیبارٹری ٹیسٹ بھی سرانجام دیے گئے۔

طبی معائنے کے دوران ہیپاٹائٹس بی اور سی کی بروقت تشخیص کے لیے ایک خصوصی سکریننگ ڈرائیو بھی چلائی گئی تاکہ جزیرے کی پسماندہ آبادی میں متعدی بیماریوں کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ کیمپ کے اعداد و شمار کے مطابق، رپورٹ ہونے والے تقریباً 70 فیصد کیسز جلد سے متعلق بیماریوں سے متعلق تھے، جبکہ سانس کی تکالیف، معدے کی شکایات، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے دائمی مریض بھی پائے گئے۔ اس کے علاوہ کے سپیچ تھراپسٹ نے ماؤں کے لیے بچوں میں اعصابی عوارض اور بولنے کی تاخیر پر شعور بیدار کرنے کے سیشنز منعقد کیے، جس میں ابتدائی تشخیص اور تھراپی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کے پی ٹی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ ساحلی جزائر کے رہائشیوں کو ان کے گھر کی دہلیز پر صحت کی سہولیات فراہم کرنے کی مہم کو بلاتعطل جاری رکھے۔

نیپال سیلاب کے 2 روز بعد ملبے تلے دبے رہنے والی 5 سالہ بچی کے معجزانہ ریسکیو کی کہانی: ہسپتال میں والدین سے ملاقات، منیشا کی حالت اب مستحکم

محمود احمد, August 30,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

نیپال میں آنے والے قیامت خیز اور اچانک سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ کے دو روز بعد ملبے کے نیچے سے معجزانہ طور پر زندہ نکالی جانے والی پانچ سالہ بچی بالآخر دارالحکومت کے ہسپتال میں اپنے والدین سے جا ملی ہے۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں اور انتظامیہ کے مطابق ‘منیشا’ نامی بچی کی جسمانی و طبی حالت اب بالکل مستحکم ہے اور وہ کھٹمنڈو کے معروف ‘ٹیچنگ ہسپتال’ کے شعبۂ اطفال میں زیرِ علاج رہتے ہوئے تیزی سے صحت یاب ہو رہی ہے۔

سنسنی خیز اور معجزانہ ریسکیو آپریشن کے حوالے سے نیپال کی آرمڈ پولیس فورس کے اہلکار سنجو کھتری نے بتایا کہ ان کی ٹیم ضلع راسووا کے دشوار گزار علاقے ‘سیابروبیسی’ کے قریب سیلاب اور مٹی کے تودوں کی زد میں آنے والے تباہ شدہ مکانات کے ملبے میں زندہ بچ جانے والے شہریوں کی تلاش میں مصروف تھی۔ اس دوران سرچ ٹیم کو ملبے کے گہرے حصے سے کسی بلی کے پھنسے ہونے کی باریک اور مدہم آواز سنائی دی۔ امدادی ٹیموں نے جب شک کی بنیاد پر اس خاص حصے کی باریک بینی سے تلاشی لی اور وزنی ملبہ ہٹانا شروع کیا تو وہ وہاں معصوم منیشا کو ملبے تلے دبا دیکھ کر حیران رہ گئے۔ بچی کو محفوظ طریقے سے باہر نکالنے کی اس نازک کارروائی میں مسلسل دو گھنٹے لگے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو کے وقت منیشا شدید نڈھال تھی اور بمشکل ہی کسی سوال کا جواب دے پا رہی تھی۔ امدادی کارکنوں نے فوراً اسے ہیلی کاپٹر سے منتقل کرنے کی کوشش کی، تاہم خطے میں بادلوں اور خراب موسم کے باعث ہیلی کاپٹر کی اڑان ممکن نہ ہو سکی۔ جس کے بعد اسے قریبی ریسکیو کیمپ منتقل کر کے ابتدائی طبی امداد اور پانی دیا گیا۔ کچھ دیر بعد ہوش سنبھالنے پر اس کی نقاہت دور کرنے کے لیے چاول کا ابلا ہوا پانی پلایا گیا۔ شدید ذہنی صدمے کا شکار ہونے کے باوجود سنیچر کی دوپہر موسم بہتر ہوتے ہی اسے ایئر لفٹ کر کے کھٹمنڈو کے ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ہسپتال کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ تازہ ترین طبی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منیشا کی صحت میں واضح بہتری آ رہی ہے اور وہ خطرے سے باہر ہے۔

آئی بی ایف ہیوی ویٹ عالمی ٹائٹل فائٹ: فلپ ہرگووچ نے موسس اٹاؤما کو شکست دے کر ورلڈ چیمپئن شپ جیت لی

محمود احمد, August 30,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

کروشیا کے 34 سالہ تجربہ کار باکسر فلپ ہرگووچ نے دنیا کے ابھرتے ہوئے برطانوی ہیوی ویٹ باکسر موسس اٹاؤما کو ایک سنسنی خیز اور سخت مقابلے کے بعد 9ویں راؤنڈ میں شکست دے کر آئی بی ایف ہیوی ویٹ عالمی ٹائٹل اپنے نام کر لیا ہے۔ لندن کے مشہور او ٹو ایرینا میں کھیلے گئے اس عالمی مقابلے میں فلپ ہرگووچ نے اپنے تجربے کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے حریف کو ہرایا، جس کے ساتھ ہی 21 سالہ برطانوی فائٹر موسس اٹاؤما کے مسلسل 14 فتح مند مقابلوں کا سلسلہ ٹوٹ گیا اور انہیں اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کی پہلی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

میچ کے آغاز میں 21 سالہ موسس اٹاؤما نے انتہائی تیز رفتار اور پراعتماد باکسنگ کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ابتدائی راؤنڈز میں اپنے بائیں ہاتھ کے طاقتور اور درست وار سے فلپ ہرگووچ کو مسلسل دباؤ میں رکھا اور متعدد ابتدائی راؤنڈز میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ تاہم جیسے جیسے فائٹ آگے بڑھتی گئی، موسس اٹاؤما کی جسمانی رفتار میں کمی آتی گئی، ان کی سانسیں پھولنے لگیں اور رنگ میں ان کی ٹانگوں کی پھرتی برقرار نہ رہ سکی۔

دوسری جانب 34 سالہ کروشین فائٹر فلپ ہرگووچ نے مسلسل صبر اور تجربے کا مظاہرہ کرتے ہوئے حریف پر دباؤ بنائے رکھا اور ان کی تھکن کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ مقابلے کے 9ویں راؤنڈ میں جب اٹاؤما شدید تھکن اور دباؤ کا شکار تھے، ان کے کونے (کارنر) کی ٹیم نے رنگ میں تولیہ پھینک دیا، جس پر ریفری نے فوری طور پر فائٹ روک کر فلپ ہرگووچ کو ٹیکنیکل ناک آؤٹ کی بنیاد پر فاتح قرار دے دیا۔

فائٹ کے اختتام پر شدید تھکن اور ٹانگ پر چوٹ لگنے کے باعث موسس اٹاؤما کو سٹریچر پر رنگ سے باہر لے جایا گیا اور احتیاطی تدابیر کے طور پر طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کے معروف پروموٹر فرینک وارن نے تصدیق کی کہ اٹاؤما کی صحت کو یقینی بنانے اور ٹانگ کی چوٹ کے معائنے کے لیے انہیں ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔

باکسنگ کے ماہرین کے مطابق اس شکست کے باوجود موسس اٹاؤما کی صلاحیتوں پر کوئی سوالیہ نشان نہیں لگا ہے، بلکہ اس مقابلے نے یہ واضح کر دیا کہ ایک باصلاحیت فائٹر ہونے اور 12 راؤنڈز کی عالمی ٹائٹل فائٹ کے لیے درکار جسمانی فٹنس، تجربے اور حکمتِ عملی کے درمیان کتنا بڑا فرق ہوتا ہے۔ موسس اٹاؤما نے اپنی رفتار اور تکنیک سے ثابت کیا کہ وہ مستقبل کے ہیوی ویٹ ڈویژن کے سپر سٹار ہیں، تاہم فلپ ہرگووچ کے خلاف یہ فائٹ ان کے کیریئر کے لیے ایک انتہائی اہم اور سبق آموز پیش رفت ثابت ہوگی۔

نیپال میں سیلاب سے ہلاکتیں 734 ہو گئیں: 2,400 سے زائد افراد لاپتہ، 2,498 شہریوں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا

محمود احمد, August 30,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

جنوبی ایشیائی ملک نیپال میں تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے (لینڈ سلائیڈنگ) کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نیپال کے ‘نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی’ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اس قدرتی آفت کے باعث جاں بحق ہونے والے شہریوں کی کل تعداد بڑھ کر 734 ہو گئی ہے، جبکہ 2,400 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے بتایا کہ شدید متاثرہ اور کٹے ہوئے علاقوں سے ریسکیو ٹیموں نے اب تک 2,498 افراد کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، سیلابی ریلوں اور ملبے کی زد میں آ کر 219 افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں مختلف فیلڈ ہسپتالوں اور طبی مراکز میں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

نیپال کی دفاعی و پولیس فورسز اور امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق، تباہ شدہ سڑکوں اور پلوں کے باعث دور دراز دیہات تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم ریسکیو ٹیمیں ہیلی کاپٹرز اور سائنسی آلات کی مدد سے آپریشن کو تیز تر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ونسٹن سیلم اوپن ٹینس: اگناسیو بشے نے آرتھر فیری کو ہرا کر ٹائٹل جیت لیا، آرتھر فیری شکست کے باوجود برطانیہ کے نمبر ون ٹینس پلیئر بن گئے

روزینہ اسماعیل, August 30,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

برطانیہ کے ابھرتے ہوئے 24 سالہ ٹینس سٹار آرتھر فیری ونسٹن سیلم اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے فائنل میں پیرو کے نمائندہ کھلاڑی اگناسیو بشے کے ہاتھوں سٹریٹ سیٹس میں شکست کے بعد اپنے کیریئر کا پہلا اے ٹی پی ٹور ٹائٹل جیتنے کا خواب پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ نارتھ کیرولائنا، امریکہ میں کھیلے گئے اے ٹی پی 250 ایونٹ کے مردوں کے سنگلز کے فائنل مقابلے میں اگناسیو بشے نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے آرتھر فیری کو 3-6 اور 2-6 کے اسکور سے شکست دے کر فائنل مقابلہ اپنے نام کیا۔

جولائی میں تاریخی ومبلڈن اوپن کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر کے عالمی ٹینس کی دنیا میں تہلکہ مچانے والے آرتھر فیری کو ونسٹن سیلم اوپن کے اہم ترین مقابلے میں 0-2 سیٹس سے ناظرین کے سامنے ہار ماننا پڑی۔ اس شاندار اور یکطرفہ فتح کے بعد پیرو کے 22 سالہ کھلاڑی اگناسیو بشے نے اپنے پروفیشنل کیریئر کا دوسرا اے ٹی پی ٹائٹل اپنے نام کر لیا ہے، جبکہ اس فتح کے ساتھ ہی وہ ونسٹن سیلم اوپن کی تاریخ کے سب سے کم عمر چیمپئن بننے کا اعزاز بھی حاصل کر چکے ہیں۔ اس سے قبل اگناسیو بشے نے مئی میں ہیمبرگ میں کھیلے گئے ایونٹ میں امریکہ کے اسٹار پلیئر ٹامی پال کو شکست دے کر اے ٹی پی 500 ٹائٹل جیتا تھا۔

فائنل میں شکست کے باوجود نارتھ کیرولائنا کے اس اے ٹی پی 250 ٹورنامنٹ کے فائنل تک پہنچنے کا کارنامہ انجام دینے والے پہلے برطانوی کھلاڑی بننے کی بدولت آرتھر فیری کی عالمی رینکنگ میں زبردست پیش رفت ہوئی ہے۔ اس تاریخی کارکردگی کی بدولت آرتھر فیری عالمی رینکنگ میں 33 ویں نمبر پر پہنچ جائیں گے اور اپنے تجربہ کار ہم وطن کیمرون نوری کو پیچھے چھوڑتے ہوئے برطانیہ کے باضابطہ نمبر ون ٹینس کھلاڑی بن جائیں گے۔

اس ایونٹ کے اختتام کے فوراً بعد اب آرتھر فیری سال کے آخری گرینڈ سلیم ’یو ایس اوپن‘ میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ ہوں گے، جہاں فلشنگ میڈوز کے مین ڈرا میں اپنے پہلے راؤنڈ کے میچ میں ان کا مقابلہ اٹلی کے 13ویں سیڈ لورینزو موسیٹی سے ہو گا۔ واضح رہے کہ آرتھر فیری یو ایس اوپن کے مین ڈرا میں شامل نو برطانوی ٹینس کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں، جبکہ برطانیہ کے اہم اسٹارز جیک ڈریپر اور ایما راڈوکانو فٹنس مسائل اور انجری کے باعث رواں سال اس میگا ایونٹ کا حصہ نہیں بن سکے ہیں۔

سعودی عرب کے صوبے نجران سے 18 لاکھ برس قدیم انسانی آبادی کے تاریخی آثار دریافت

کاشف عباسی , August 30,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

سعودی عرب کے جنوبی صوبے نجران کے تاریخی علاقے ‘شعب دحضہ’ سے تقریباً 18 لاکھ (1.8 ملین) برس قدیم انسانی آبادی کے نادر اور انتہائی اہم آثارِ قدیمہ دریافت ہوئے ہیں۔ سعودی ہیریٹیج کمیشن نے ان دریافت ہونے والے آثار کو جنوبی عرب کے خطے میں انسانوں کی ابتدائی آبادی اور براعظموں کے درمیان ان کی تاریخی ہجرت کے ابتدائی ادوار کا ایک نہایت اہم اور مستند سائنسی ثبوت قرار دیا ہے۔ کمیشن کے مطابق یہاں سے ملنے والے پتھر کے اوزار اور دیگر شواہد ابتدائی حجری دور کے ہیں، جن کی قدامت 12 لاکھ سے 18 لاکھ سال پرانی بتائی گئی ہے۔

سعودی ہیریٹیج کمیشن اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی تفصیلات کے مطابق، سنہ 1980ء میں وادی کے علاقے میں کیے جانے والے ایک ابتدائي سروے کے دوران ایک بلند سطح سے چکم دار اور سخت ‘کوارٹزائٹ’ کے پتھروں سے بنے 34 اوزاروں کا ایک قدیم مجموعہ حاصل ہوا تھا۔ ان اوزاروں میں مختلف نوعیت کے کٹر، کھرچنی، تیز دھار بلیڈ اور ہتھوڑے شامل ہیں، جنہیں اس دور کا قدیم انسان شکار کیے گئے جانوروں کا گوشت کاٹنے، ان کی ہڈیاں توڑنے، اور کھال اتار کر لباس یا عارضی پناہ گاہ بنانے جیسے روزمرہ کاموں کے لیے انتہائی مہارت سے استعمال کرتا تھا۔

سعودی ہیریٹیج کمیشن کے شعبہ آثارِ قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر العتیبی نے اس غیر معمولی دریافت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شعب دحضہ کا یہ مقام جزیرہ نمائے عرب میں انسانی موجودگی، آبادی کی ابتدا اور اس کے ارتقائی دور کے بارے میں تاریخ دانوں کو اہم اور نئی سائنسی معلومات فراہم کرتا ہے۔ اسی حوالے سے ‘نجران سوسائٹی فار ہسٹری اینڈ آرکیالوجی’ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دریافت ہونے والے اوزار اور ہتھیار اس بات کا روشن ثبوت ہیں کہ لاکھوں سال پہلے اس خطے میں رہنے والا قدیم انسان مقامی قدرتی وسائل کو اپنے مقصد کے لیے ڈھالنے میں بے پناہ مہارت، بصیرت اور ذہانت رکھتا تھا۔

ریو پارٹی کے قریب فائرنگ کے بعد سیکورٹی فورسز کا علاقے میں وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن، فوج کے ہیلی کاپٹرز اور بکتر بند گاڑیاں بھی کارروائی میں شامل

محمود احمد, August 30,2026

آؤراؤ/زیورخ (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

سوئٹزرلینڈ کے شمالی علاقے آؤراؤ میں ایک میوزک تقریب کے دوران رات گئے اچانک فائرنگ کا ہولناک واقعہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک شخص موقع پر ہلاک جبکہ پانچ افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ واقعہ کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ مقامی پولیس اور سیکورٹی اداروں نے فرار ہونے والے نامعلوم مسلح حملہ آور کی گرفتاری کے لیے وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا ہے۔ آؤرگاؤ کینٹونل پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک ہنگامی بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ نامعلوم ملزم کی تلاش اور اس کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن تیزی سے جاری ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق فائرنگ کے بنیادی محرکات اور واقعے کے درست اور حتمی حالات فی الحال واضح نہیں ہو سکے ہیں اور تفتیشی ٹیمیں تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہیں۔ سوئس میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے پولیس حکام نے کہا کہ فائرنگ کا یہ ہولناک واقعہ آؤراؤ کے علاقے شاخن میں گھوڑوں کی دوڑ کے میدان کے قریب پیش آیا، جو سوئٹزرلینڈ کے معروف شہر زیورخ سے تقریباً 46 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ اس مقام پر ہفتے کی رات سے شروع ہونے والی ایک ’ریو‘ پارٹیک منعقد کی جا رہی تھی جو اتوار کی صبح تک جاری رہنا تھی۔

واقعے کے فوراً بعد سیکورٹی فورسز نے گھوڑوں کی دوڑ کے میدان، شہر کے سوئمنگ پول اور ملحقہ کھیل کے میدان کے اطراف کے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سیل کر دیا ہے اور عام شہریوں کو حفاظتی تدابیر کے تحت وہاں جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پولیس کے مطابق احتیاطی تدابیر اور ملزم کے فرار کو روکنے کے لیے آؤراؤ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر بھی پولیس کی بھاری نفری اور ناظرین تعینات کر دیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پولیس انتظامیہ نے واقعے کے وقت موجود عینی شاہدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے موبائل فونز سے بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز تفتیش کی پیش رفت کے لیے حکام کے ساتھ شیئر کریں۔

اتوار کی صبح سامنے آنے والی المناک تصاویر اور مناظر میں علاقے میں پولیس، ایمبولینسز اور سیکورٹی اداروں کی بھاری نفری کو پیش رفت کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ایک بکتر بند گاڑی کے ذریعے مرکزی سڑک کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ سوئس نشریاتی ادارے ایس آر ایف کے مطابق پولیس اور فائر بریگیڈ کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ علاقائی ڈیزاسٹر رسپانس یونٹ کو بھی ہنگامی کارروائی میں شامل کر لیا گیا ہے، جبکہ علی الصبح سوئس فوج کے ایک ہیلی کاپٹر نے بھی مفرور ملزم کی نشاندہی کے لیے علاقے کا فضائی جائزہ لیا۔

سخت سفری اور میڈیا پابندیوں کے باعث تبت میں 546 لاپتہ شہریوں اور 226 غیر ملکی زائرین کی صورتحال پر پراسرار پردہ، سی سی ٹی وی کی محدود رپورٹس پر انحصار

منصور احمد, August 30,2026

پیکنگ/لھاسا (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

چین کا ہمالیائی خطہ تبت ایک بار پھر شدید قدرتی آفت، سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، تاہم چینی ریاست کے سخت ترین کنٹرول، میڈیا سنسرشپ اور معلومات کی رسائی پر عائد کڑی پابندیوں کی وجہ سے وہاں ہونے والی ہلاکتوں اور تباہی کا حقیقی اندازہ لگانا انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔ تبت چین کے ان حساس ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سنہ 1950ء کی دہائی میں چین کا کنٹرول قائم ہونے کے بعد سے ہی ریاستی اور انتظامی سطح پر انتہائی سخت سیاسی و سیکیورٹی کنٹرول نافذ ہے۔

تبت کے عوام طویل عرصے سے خطے کی مذہبی، ثقافتی اور سیاسی خودمختاری کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں، جس کے باعث چینی حکومت وہاں کسی بھی قسم کے عوامی احتجاج، تنظیم سازی یا بدامنی کو روکنے کے حوالے سے انتہائی محتاط اور سخت رویہ رکھتی ہے۔ اسی سیاسی و سیکیورٹی حساسیت اور ممکنہ بے چینی کے پیشِ نظر حالیہ ہولناک قدرتی آفت کے فوراً بعد چینی صدر شی جن پنگ نے خود آگے بڑھ کر ریسکیو اور ہنگامی امدادی کارروائیوں کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، چین کے وزیراعظم لی چیانگ بھی جمعرات کے روز خود متاثرہ تبت کے دشوار گزار خطے میں پہنچے۔ کسی بھی بڑی قدرتی آفت کے بعد چینی اعلیٰ قیادت کا اتنا فوری اور بلا تاخیر دورہ عالمی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک ایک انتہائی غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں پیدا ہونے والی انتظامی تشویش کا اندازہ ہوتا ہے۔

تبت کی جغرافیائی اور سیاسی سرحدیں بیرونی دنیا کے لیے تقریباً بند ہیں۔ وہاں غیر ملکی شہریوں، سیاحوں اور بین الاقوامی امدادی اداروں کے داخلے کے لیے عام چینی ویزے کے علاوہ متعدد خصوصی اجازت نامے درکار ہوتے ہیں۔ غیر ملکی صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا کی تبت تک رسائی مکمل طور پر ممنوع یا انتہائی محدود ہے اور مقامی تبت شہریوں سے کسی بھی قسم کا رابطہ قائم کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ یہاں تک کہ نیپال کے راستے ہندوؤں اور بدھ مت پیروکاروں کے مقدس پہاڑ ‘کلاس پربت’ کی زیارت کے لیے جانے والے مذہبی زائرین کو بھی تبت میں داخلے کے لیے چار مختلف نوعیت کے الگ الگ اجازت نامے حاصل کرنا پڑتے ہیں، جن میں چینی فوج کی حاصل کردہ ملٹری کلیرنس بھی شامل ہے۔ اس کڑی ناکہ بندی کی وجہ سے تبت کے اندر آنے والے سیلاب کی اصل شدت اور نقصانات جاننے کے لیے دنیا کو صرف چینی سرکاری نشریاتی ادارے ‘سی سی ٹی وی’ کی محتاط رپورٹس پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔

چین کے سرکاری میڈیا سی سی ٹی وی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، سنیچر کی شام تک تبت میں مٹی کے تودے گرنے اور سیلاب کے باعث جاں بحق ہونے والے افراد کی باضابطہ تعداد 16 ہو چکی ہے، جبکہ 546 افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن میں مقدس مقامات کی زیارت اور ٹریکنگ کے لیے آئے ہوئے 226 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ لاپتہ شہریوں کی اتنی بڑی تعداد کے باوجود تبتی علاقوں میں اطلاعات کا شدید قحط ہے۔

نیپال اور تبت میں سیلابی ریلوں اور تباہ کاریوں کے مناظر سے چین کے عام عوام کی لاعلمی کا بنیادی سبب چین کا انتہائی مربوط اور طاقتور ڈیجیٹل و میڈیا سنسرشپ کا نظام ہے، جسے ‘دی گریٹ فائر وال آف چائنا’ کہا جاتا ہے۔ چین میں عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز مکمل طور پر بلاک ہیں اور مقامی ایپس پر تبت کے سیلاب، لاپتہ افراد یا مقامی شہریوں کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز کو الگورتھم کی مدد سے فوری حذف کر دیا جاتا ہے تاکہ ریاست کا مثبت امیج متاثر نہ ہو۔ اس کے علاوہ، چین میں کسی بھی قدرتی آفت کے وقت خبروں کو صرف سرکاری اداروں کے فلٹر شدہ بیانیے کے تحت جاری کیا جاتا ہے، جہاں تمام تر توجہ تباہی کے المناک مناظر کی بجائے حکومتی و عسکری امدادی کارروائیوں اور وزیراعظم کے دورے کو اجاگر کرنے پر ہوتی ہے۔ ساتھ ہی، تبت میں ہنگامی حالات کے دوران انٹرنیٹ سروسز کو مقامی سطح پر معطل یا انتہائی سست کر دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے مقامی باشندے اپنے رشتہ داروں یا دیگر صوبوں میں موجود شہریوں کو تصویریں اور ویڈیوز بھیجنے سے قاصر رہتے ہیں اور عام لوگ اصل حقائق سے بے خبر رہتے ہیں۔

نیپال اور تبت میں سیلاب کے بعد شدید خطرات: ماہرین کی اہم انتباہی رپورٹ، نئی مصنوعی جھیلوں کے پھٹنے کا خدشہ اور چین و نیپال کے درمیان فوری ڈیٹا شیئرنگ پر زور

محمود احمد, August 30,2026

کاٹھمنڈو/لھاسا (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

نیپال اور تبت کے سرحد پار علاقوں میں تباہ کن سیلاب کے بعد عالمی سطح پر سیلاب اور قدرتی آفات کے ماہرین نے انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطے میں فوری تشویش کی بات یہ ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب نے اب نئے اور غیر متوقع خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پہلی لہر کے بعد لینڈ سلائیڈنگ اور پہاڑی ملبے کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال آئندہ دنوں میں کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جس کے لیے دونوں ممالک کو فوری طور پر مشترکہ اور ہنگامی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

یونیورسٹی آف ریڈنگ میں سیلاب کی پیشگی وارننگ اور آفات کے خطرات پر تحقیق کرنے والے معروف بین الاقوامی ماہر جیف ڈا کوستا نے عالمی ابلاغی ادارے کو بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ قدرتی آفت کے نتیجے میں پہاڑوں سے بہہ کر آنے والے مٹی، پتھروں اور گلیشیائی ملبے نے کئی مقامات پر قدرتی دریاؤں کا راستہ روک دیا ہے۔ راستہ بلاک ہونے کی وجہ سے بالائی اور پہاڑی علاقوں میں پانی کے عارضی ذخائر اور نئی جھیلیں بن چکی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان جھیلوں کے اچانک پھٹنے کی صورت میں آنے والا دوسرا سیلاب اگرچہ حجم میں پہلے جتنا بڑا نہ بھی ہو، تب بھی وہ نیچے بستیوں پر انتہائی سنگین اور تباہ کن اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

جیف ڈا کوستا نے سائنسی نقطہ نظر سے آئندہ کے لائحہ عمل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب اس بات کی 24 گھنٹے مانیٹرنگ اور نگرانی کرنا انتہائی اہم اور ناگزیر ہو چکا ہے کہ علاقے میں بننے والی ان نئی جھیلوں اور پانی کو روکنے والی عارضی رکاوٹوں میں کس طرح کی تبدیلیاں آ رہی ہیں اور پانی کا دباؤ کس مقام پر سب سے زیادہ ہے تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ وہ کہاں پھٹ سکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت چین اور نیپال دونوں ممالک کے لیے بے حد ضروری ہے کہ وہ گلیشیئرز اور جھیلوں کی نگرانی سے متعلق حاصل ہونے والی تمام تر سیٹلائٹ اور زمینی معلومات ایک دوسرے کے ساتھ بلا تاخیر شیئر کریں۔

ماہرِ سیلاب ڈا کوستا کا کہنا تھا کہ ہمالیائی بالائی علاقوں میں پیدا ہونے والی کوئی بھی سیکیورٹی یا سیلابی صورتحال سرحد کے دوسری جانب نشیب میں رہنے والے لوگوں کو چند منٹوں میں انتہائی تیزی سے متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے جس رفتار سے پانی نیچے کی طرف بہتا ہے، معلومات اور الرٹس بھی اسی رفتار سے دونوں ملکوں کے درمیان منتقل ہونے چاہئیں تاکہ مقامی انتظامیہ اور آبادی زمینی سطح پر بروقت، درست اور عملی فیصلے کر کے انسانی جانوں کا تحفظ کر سکے۔

اپنی سائنسی تفتیش کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈا کوستا نے اشارہ دیا کہ موسمیاتی تبدیلی بھی اس قدرتی آفت کے پس منظر میں ایک اہم اور کلیدی عنصر کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ کرۂ ارض کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہمالیہ کے پورے سلسلے میں گلیشیئرز، ہزاروں سال سے جمی ہوئی برفانی زمین اور پہاڑی ڈھلوانوں کے قدرتی استحکام کو شدید متاثر کر رہا ہے جس سے مٹی کے تودے گرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بات بھی واضح کی کہ مزید سائنسی تحقیق اور تفصیلی تجزیے کے بغیر اس آفت کو سو فیصد اور براہِ راست صرف موسمیاتی تبدیلی سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔

گل پلازہ کراچی آتشزدگی: 72 افراد کی ہلاکت، انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں بدانتظامی اور اداروں کی غفلت کی نشاندہی

روزینہ اسماعیل, August 29,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

کراچی کے گنجان اور تجارتی مرکز ایم اے جناح روڈ پر واقع مشہور تجارتی مرکز ‘گل پلازہ’ میں رواں سال 17 جنوری 2026ء کو لگنے والی ہولناک اور قیامت خیز آگ محض ایک اتفاقی حادثہ نہیں تھی، بلکہ اس دلخراش سانحے کے پسِ پشت برسوں کی مجرمانہ بدانتظامی، عمارت میں کی جانے والی مبینہ غیر قانونی ساخت کاری و تبدیلیاں، حفاظتی ضوابط پر عملدرآمد میں مکمل ناکامی اور متعدد متعلقہ سرکاری و انتظامی اداروں کی جانب سے اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریوں سے مجرمانہ گریز جیسے سنگین عوامل کارفرما تھے۔

واقعے کے تقریباً آٹھ ماہ بعد سندھ ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں قائم ایک رکنی ‘کمیشن آف انکوائری’ نے اپنی 78 صفحات پر مشتمل جامع تفتیشی رپورٹ باضابطہ طور پر جاری کر دی ہے۔ رپورٹ میں اس تلخ اور دردناک حقیقت کی تصدیق کی گئی ہے کہ اس ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم 72 معصوم افراد دم گھٹنے، جھلسنے اور ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوئے جبکہ درجنوں افراد عمر بھر کی معذوری کا شکار ہوئے۔

انکوائری کمیشن نے واقعے کے دوران سندھ حکومت، بلدیہ عظمیٰ کراچی ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور ريسکیو اداروں کے کردار اور ردِعمل کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہوئے یہ بنیادی اور اہم سوال اٹھایا ہے کہ جس وقت سو سے زائد شہری عمارت کے اندر زہریلے دھوئیں، آگ کے شعلوں اور اندھیرے میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے، اس وقت انہیں بحفاظت باہر نکالنے اور بچانے کی بنیادی قانونی ذمہ داری آخر کس ادارے پر عائد ہوتی تھی؟ کمیشن کے سامنے پیش ہوتے ہوئے کراچی کے معروف شہری منصوبہ ساز عارف حسن نے اس وقت کے ڈزاسٹر ردِعمل اور فائر فائٹنگ کی صورتحال کو “انتظامی افراتفری اور فکری مفلوجیت” کا نام دیا۔

سندھ ہائی کورٹ کے کمیشن کے سامنے پیش ہونے والے متأثرین کے بیانات نے سماعت کے دوران دل دہلا دیے؛ ایک جاں بحق ہونے والے نوجوان کی عمر رسیدہ اور غمزدہ والدہ نے کمیشن کے سامنے روتے ہوئے بیان دیا کہ “سانحے کے وقت خاندان اور سرکاری انتظامیہ دونوں اس بھیانک منظر کے محض تماشائی بنے رہے، فرق صرف اتنا تھا کہ اندر جل کر مرنے والے ہمارے اپنے جگر کے ٹکڑے تھے”۔

کمیشن کے تفصیلی مندرجات کے مطابق، آگ ہفتہ 17 جنوری 2026ء کی دوپہر کو شارٹ سرکٹ اور عمارت میں غیر قانونی طور پر بنائے گئے کپڑے اور پلاسٹک کے گوداموں سے شروع ہوئی، جس نے سیڑھیوں کے راستوں پر تجاوزات ہونے کے باعث پوری ملٹی سٹوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر سفارش کی ہے کہ تمام قصوروار افسران، عمارت کے مالکان اور غفلت کے مرتکب ملازمین پر مجرمانہ غفلت کے مقدمات درج کیے جائیں اور شہر کی تمام تجارتی عمارات کا فوری سیفٹی آڈٹ کروایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

نیپال کے سیلاب میں تباہی کی انتہا: ہلاکتیں 675 ہو گئیں، لاشوں کو محفوظ رکھنا ناممکن ہونے پر اجتماعی تدفین شروع، 2,498 افراد ریسکیو

محمود احمد, August 29,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

جنوبی ایشیا کے پہاڑی ملک نیپال میں آنے والے قیامت خیز سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والی تباہ کاریوں اور ہلاکتوں میں مسلسل اور دردناک اضافہ جاری ہے۔ نیپال کے ‘نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی’ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ہنگامی اعداد و شمار کے مطابق، ملک بھر میں قدرتی آفت کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تصدیق شدہ تعداد بڑھ کر 675 ہو گئی ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے بتایا کہ سخت کوششوں اور سرچ آپریشن کے نتیجے میں اب تک 2,498 افراد کو خطرناک اور سیلابی علاقوں سے بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل یا ریسکیو کیا جا چکا ہے، جبکہ مختلف اضلاع میں 219 افراد شدید زخمی ہیں جنہیں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

نیپال کے آفت زدہ اضلاع میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے باعث اب ایک نیا اور دلخراش انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔ ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں اور مقتولین کے مرغزاروں میں سرد خانوں اور لاشوں کو محفوظ رکھنے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے، جبکہ مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے درجنوں لاشوں کی شناخت اور انہیں ورثا کے حوالے کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ گرم موسم اور نمی کے باعث لاشوں کے خراب ہونے کے شدید خطرے کے پیشِ نظر، مقامی انتظامیہ اور نیپالی حکام نے مختلف اضلاع میں برآمد ہونے والی لاشوں کی اجتماعی تدفین اور آخری رسومات کی ادائیگی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

نیپالی حکام اور ریسکیو اداروں کے مطابق، تباہ شدہ سڑکوں، ٹوٹے ہوئے پلوں اور پہاڑی راستوں پر مٹی کے تودے گرنے کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو دور دراز دیہات تک پہنچنے میں شدید ترین دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ پاک فوج، مقامی پولیس اور بین الاقوامی اداروں کی ہیلی کاپٹر سروسز ریسکیو آپریشن میں متحرک ہیں، تاہم ملبے کے نیچے دبے سینکڑوں لاپتہ افراد کی موجودگی کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ نیپالی حکومت نے بین الاقوامی برادری اور عالمی امدادی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ لاشوں کی تحفظ، شناختی کٹس اور ہنگامی طبی امداد کی فراہمی میں ہنگامی بنیادوں پر مدد کریں۔

امریکی بحری ناکہ بندی سے ایران کی درآمدات شدید متاثر، پیٹرول کی قلت کے باعث کوٹہ میں کمی اور قیمتوں میں اضافے کا قوی امکان

محمود احمد, August 29,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

ریاستہائے متحدہ امریکہ کی جانب سے عائد کردہ سخت اور بین الاقوامی بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران کی بین الاقوامی تجارت اور ضروری سامان کی درآمدات کا عمل شدید ترین مشکلات اور رکاوٹوں کا شکار ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ایرانی دارالحکومت تہران سمیت ملک بھر میں ایندھن، بالخصوص پیٹرول کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ (مجلس) کی اہم اقتصادی کمیٹی کے سینئر رکن جعفر قادری نے ملک کو درپیش اس سنگین معاشی صورتحال، ایندھن کے بحران اور بحری ناکہ بندی کے اثرات پر بات کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ایران اس وقت سنگین اقتصادی دباؤ کی زد میں ہے اور حکومت کے لیے پرانے نرخوں اور طریقہ کار پر پیٹرول کی بلاتعطل فراہمی جاری رکھنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کی اقتصادی کمیٹی کے رکن جعفر قادری کے فراہم کردہ اہم اور سنسنی خیز اعداد و شمار کے مطابق، ایران سالانہ بنیادوں پر جو مجموعی طور پر تقریباً 210 ملین (21 کروڑ) ٹن مختلف سامان و خام مال درآمد کرتا ہے، اس کی کل درآمدات کا تقریباً 83 فیصد حصہ جنوبی بحیرۂ چین اور متعلقہ بین الاقوامی بحری شاہراہوں کے راستے ایرانی بندرگاہوں تک پہنچتا ہے۔ تاہم، امریکی بحری جہازوں اور بحری ناکہ بندی کی وجہ سے اس سب سے اہم اور بنیادی تجارتی راستے میں شدید ترین رکاوٹیں کھڑی ہو چکی ہیں، جس کے باعث نہ صرف تیل کے ٹینکرز کی آمد و رفت منقطع ہوئی ہے بلکہ ایندھن کے دیگر بحری جہاز بھی ایرانی ساحلوں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔

جعفر قادری نے ملک کے اندرونی ایندھن کے اعداد و شمار پر روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا کہ ایران کو اس وقت یومیہ (روزانہ) کی بنیاد پر تقریباً 15 سے 20 ملین (ڈیڑھ سے دو کروڑ) لیٹر پیٹرول کے بدترین خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے معاشی حقیقت اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ بین الاقوامی بحران اور کرنسی کے دباؤ میں بیرونِ ملک سے محض ایک لیٹر پیٹرول درآمد کرنے پر ایرانی حکومت کو تقریباً 1 امریکی ڈالر کے برابر خطیر رقم خرچ کرنا پڑتی ہے، جو ملکی معیشت اور خزانوں پر ایک بھاری بوجھ بن چکی ہے۔

ایرانی رکنِ پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ امریکی ناکہ بندی، غیر ملکی زرِ مبادلہ کی کمی اور موجودہ نازک ترین حالات میں ماضی کی طرح شہریوں کو بلا پابندی اور بے تحاشا سبسڈی والے نرخوں پر پیٹرول فراہم کرتے رہنا معاشی منطق کے تمام اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بحران کو مزید سنگین بنانے والی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ سستے پیٹرول کا ایک بڑا اور اہم حصہ منظم سمگلنگ کے ذریعے سرحد پار دوسرے ممالک میں چلا جاتا ہے، جس سے ایرانی عوام کے حق پر ڈاکہ پڑ رہا ہے۔

جعفر قادری نے تہران حکومت اور ایرانی انتظامیہ کے متوقع سخت فیصلے کے بارے میں اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اب پیٹرول کی ملکی طلب اور محدود دستیابی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی اور سخت قسم کے کنٹرولنگ اقدامات نافذ کرنا ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان متوقع اور اضطراری اقدامات میں شہریوں کے لیے ایندھن کے ماہانہ کوٹے میں نمایاں کمی کرنا یا پیٹرول کی سرکاری قیمتوں میں ردوبدل اور اضافہ شامل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ اس بحرانی وقت میں حکومت کے لیے انتہائی ضروری ہو چکا ہے کہ وہ دستیاب محدود قومی وسائل کا مؤثر اور محتاط استعمال یقینی بنائے، ایندھن کی بارڈر سمگلنگ کو ہر قیمت پر روکے، اور صرف اندرونِ ملک اور ہنگامی ضروریات کو ترجیح دے

بین الاقوامی فیڈریشن کے سربراہ ڈیوڈ فشر کا متاثرہ علاقوں کا جائزہ، ریڈ کراس کا عالمی امدادی نیٹ ورک متحرک، ہنگامی صورتحال کے پیش نظر امدادی کارروائیاں تیز کرنے کا اعلان

محمود احمد, August 29,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

جنوبی ایشیائی ملک نیپال میں بدھ کے روز آنے والے قیامت خیز سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد اب ایک اور ممکنہ سیلابی ریلے کے شدید اور سنگین خطرات نے جنم لے لیا ہے، جس پر بین الاقوامی امدادی اداروں اور ریسکیو تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کی بین الاقوامی فیڈریشن کے سربراہ ڈیوڈ فشر نے نیپال کی موجودہ نازک صورتحال اور موسمیاتی خطرات پر بات کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ان کا ادارہ ملک میں کسی بھی وقت دوبارہ آنے والے دوسرے سیلاب کے خطرے کے حوالے سے انتہائی فکر مند ہے اور تمام ٹیموں کو اعلیٰ الرٹ پر رکھ دیا گیا ہے۔

جمعی کے روز دارالحکومت کھٹمنڈو میں بین الاقوامی پریس کے نمائندوں اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیوڈ فشر نے متاثرہ علاقوں کے زمینی حقائق اور اعداد و شمار سے آگاہ کیا۔ ان کے فراہم کردہ مستند ڈیٹا کے مطابق، بدھ کے روز گلیشیئر اور شدید بارشوں کے بعد آنے والی ہولناک قدرتی تباہی سے اب تک نیپال کے مختلف اضلاع میں تقریباً 93 ہزار سے زائد افراد براہِ راست اور شدید طور پر متاثر ہو چکے ہیں۔ ان متاثرین میں سے ہزاروں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں اور کھلے آسمان تلے بنیادی انسانی ضروریات، بشمول ادویات، خوراک اور پینے کے صاف پانی سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اس ایمرجنسی اور انسانی بحران سے فوری طور پر نمٹنے کے لیے ریڈ کریسنٹ اور ریڈ کراس نے ہنگامی بنیادوں پر بین الاقوامی عطیہ دہندگان، این جی اوز اور عالمی برادری سے تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ سوئس فرانک —جو کہ امریکی ڈالر میں تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ ڈالر بنتے ہیں—فراہم کرنے کی باقاعدہ اپیل جاری کر دی ہے۔ ریڈ کریسنٹ کا کہنا ہے کہ اس خطیر رقم کا بنیادی اور اولین مقصد متاثرین کے لیے فوری جان بچانے والی ہنگامی امدادی کارروائیاں، عارضی پناہ گاہوں کا قیام، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، اور ممکنہ دوسرے سیلاب کے پیشِ نظر پیشگی دفاعی اقدامات کو ممکن بنانا ہے۔

ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ فیڈریشن کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم رسمی اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ نیپال میں درپیش ہنگامی صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارے کے تمام عالمی امدادی نیٹ ورک کو فوری طور پر متحرک کر دیا گیا ہے۔ عالمی ٹیمیں سامانِ زیست اور طبی امداد کے ہمراہ نیپال کے دور دراز اور کٹے ہوئے علاقوں میں پہنچ رہی ہیں۔ اعلامیے میں زور دیا گیا ہے کہ اگر دوسرے ممکنہ سیلاب کا خطرہ حقیقت بنتا ہے تو اس کے اثرات پہلے سے شدید متاثرہ 93 ہزار سے زائد آبادی کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، جس کے لیے دنیا کو بلا تاخیر مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنا ہوگی۔

اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کا منشیات سمگلنگ کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن: ایک کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی 75.57 کلوگرام منشیات برآمد، 3 ملزمان گرفتار

منصور احمد, August 29,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

اینٹی نارکوٹکس فورس نے ملک بھر میں منشیات کی سمگلنگ اور غیر قانونی سپلائی کے نیٹ ورکس کے خلاف اپنی جاری وسیع پیمانے کی مہم اور کریک ڈاؤن کو تیز کرتے ہوئے متعدد کامیاب اور اہم کارروائیوں کے نتیجے میں ایک کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی 75.57 کلوگرام سے زائد منشیات برآمد کر کے 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ اے این ایف ہیڈکوارٹرز کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ کارروائیاں ملک کے مختلف بین الاقوامی ایئرپورٹس، سرحدی اضلاع اور کوریئر سروسز کے دفاتر میں انٹیلی جنس معلومات اور چیکنگ کے جدید نظام کی مدد سے انجام دی گئیں۔

ہفتے کے روز ترجمان اے این ایف کی جانب سے جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان کے مطابق، پہلی کارروائی اسلام آباد کے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر عمل میں لائی گئی جہاں جدہ روانہ ہونے والے ایک مسافر کی مشکوک حرکات کا جائزہ لینے اور ابتدائی سکیننگ کے بعد اس کے پیٹ سے 126 گرام وزنی، کوکین سے بھرے 17 کیپسولز برآمد کیے گئے۔ دوسری کارروائی کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کی گئی، جہاں بحرین جانے والے مسافر کے سامان کی تلاشی کے دوران اس کے بیگ کی تہوں سے 627 گرام اعلیٰ کوالٹی کی ہیروئن برآمد ہوئی۔ بعد ازاں گرفتار مسافر کی فوری نشاندہی پر اے این ایف کی ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے اس کے ایک اور ساتھی اور نیٹ ورک کے ملزم کو گرفتار کر کے اس کے قبضہ سے 200 گرام آئس (میتھمفیٹامائن) برآمد کی۔

ترجمان اے این ایف نے مزید بتایا کہ اندرونِ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھی اہم کارروائیاں کی گئی ہیں۔ اینٹی نارکوٹکس فورس نے ضلع چاغی کے علاقے دالبندین میں ایک مشکوک گاڑی کو روک کر تلاشی لی، جس کی خفیہ جگہوں میں چھپائی گئی 75 کلوگرام افیون برآمد کر کے منشیات کی بڑی کھیپ کو سمگل ہونے سے بچا لیا گیا۔ اس کے علاوہ، سپینی روڈ کوئٹہ میں واقع ایک کوریئر کمپنی کے دفتر میں بیرونِ ملک بھیجے جانے والے ایک پارسل کی باریک بینی سے تفتیش کے دوران کاسمیٹکس کی مصنوعات اور ڈبوں میں مہارت سے چھپائی گئی 1.4 کلوگرام چرس برآمد کی گئی۔

دریں اثناء، پشاور کے یونیورسٹی روڈ پر قائم کوریئر سروس کے دفتر میں بھی اے این ایف نے کامیاب سرچ آپریشن کیا۔ تفتیش کے دوران بیرونِ ملک ارسال کیے جانے والے ایک واٹر پمپ کے مکینیکل حصوں میں سے 35 گرام افیون اور 180 گرام وزنی ایکسٹیسی کی 260 گولیاں برآمد کی گئیں۔ ترجمان اے این ایف کا کہنا ہے کہ تمام گرفتار ملزمان، برآمد شدہ منشیات اور گاڑی کو قبضے میں لے کر انسدادِ منشیات ایکٹ 1997 کے تحت باقاعدہ مقدمات درج کر لیے گئے ہیں، جبکہ تمام نیٹ ورکس کے ماسٹر مائنڈز کا سراغ لگانے کے لیے اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کی قدرتی آفات اور گلوبل وارمنگ کے خطرات پر اہم گفتگو: پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے مربوط پالیسیوں اور بین الاقوامی معاونت پر زور

کاشف عباسی , August 29,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان کو لاحق موسمیاتی تبدیلی، شدید موسموں اور قدرتی آفات کے درپیش خطرات کے حوالے سے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اس وقت پاکستان کی پائیدار بقا، زراعت اور قومی معیشت کے لیے ایک سب سے بڑا اور سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو بار بار آنے والے تباہ کن سیلابوں، گلیشیئرز پگھلنے کے واقعات، اور خشکسالی جیسے خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر ایک جامع، مربوط اور طویل المدتی حکمتِ عملی نافذ کرنا ہوگی۔

ہفتے کے روز دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے اپنے صدارتی خطاب کے دوران وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان کی جغرافیائی نازکی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے عالمی اخراج میں پاکستان کا حصہ انتہائی معمولی اور 1 فیصد سے بھی کم ہے، تاہم اس کے باوجود پاکستان عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں نمایا ں اور پیش پیش ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سنگین اور تباہ کن چیلنج سے نمٹنے کے لیے نہ صرف پاکستان کے اندر تمام متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو قریبی اور باہم مربوط طریقے سے کام کرنا ہوگا، بلکہ اس مقصد کے لیے عالمی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مالی وسائل کی ہنگامی فراہمی بھی بے حد ضروری ہے۔

وفاقی وزیر نے دنیا کے ترقی یافتہ اور باوسائل ممالک پر اپنے اخلاقی و عالمی فرائض کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے ہولناک اثرات کو کم کرنے اور ان سے بچاؤ کے لیے اجتماعی اور عالمی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جن عالمی طاقتوں اور خطوں کے پاس اس قدرتی بحران سے نمٹنے کی مالی صلاحیت، جدید انفراسٹرکچر اور وسائل موجود ہیں، انہیں عالمی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے پاکستان جیسے متاثرہ ممالک کا ساتھ دینا چاہیے اور اس حوالے سے اپنا عملی کردار بلاتاخیر ادا کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان عالمی سفارتی محاذ پر “موسمیاتی انصاف” کے حصول کے لیے اپنا مقدمہ انتہائی بھرپور، مضبوط اور دلائل کے ساتھ پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسماتی آفات کے نتیجے میں کھربوں روپے کے معاشی اور جانی نقصانات اٹھانے والے دنیا کے ترقی پذیر ممالک کو عالمی برادری، اقوام متحدہ اور عالمی مالیاتی اداروں کی بھرپور اور بلا مشروط مالی و تکنیکی معاونت درکار ہے تاکہ وہ قدرتی آفات کی شدت اور تباہ کاریوں سے اپنے بنیادی انفراسٹرکچر کا پائیدار تحفظ کر سکیں۔

اپنے خطاب کے دوران ڈاکٹر مصدق ملک نے ملک کے اندر ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی موافقت کو یقینی بنانے کے لیے ہمہ گیر مربوط پالیسیوں کی فوری تشکیل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کے بعد ہونے والے تباہ کن نقصانات میں کمی لانے کے لیے مقامی دیہی و شہری آبادیوں کی استعداد کار کو بڑھانا ہوگا، جبکہ آفت آنے سے قبل ہی پیشگی اطلاع کے جدید نظام اور باقاعدہ پیشگی تیاری و منصوبہ بندی کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا اور یقینی بنانا ناگزیر ہے تاکہ معصوم انسانی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے اپنے بیان کا اختتام اس عزم اور پیغام کے ساتھ کیا کہ موسمیاتی تبدیلی محض کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ اور انتہائی ہنگامی عالمی چیلنج ہے۔ اس خطرے پر قابو پانے کے لیے جہاں پاکستان کی سطح پر اندرونی طور پر ہنگامی بنیادوں پر اداروں کی اصلاحات اور شجرکاری جیسے اقدامات ضروری ہیں، وہی عالمی سطح پر بین الاقوامی تعاون، مالی وسائل کا تبادلہ اور اقوامِ عالم کی مشترکہ و مخلصانہ کوششوں کو فروغ دینا وقت کی سب سے بڑی اور اہم ضرورت ہے۔

حکومت ایکسپلوریشن اور ریفائننگ سیکٹر میں تاریخی اصلاحات، بانڈڈ اسٹوریج اور اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے: علی پرویز ملک کا کاروباری برادری سے خطاب

منصور احمد, August 29,2026

اسلام آباد/کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کراچی کے اپنے اہم ترین دورے کے دوران اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی قیادت اور پاکستان کے سب سے بڑے قومی ایندھن فراہم کنندہ ادارے پاکستان اسٹیٹ آئل کی اعلیٰ انتظامیہ سے الگ الگ اور تفصیلی ملاقاتیں کی ہیں۔ ان اہم اجلاسوں کے دوران ملک کی مجموعی توانائی سلامتی پیٹرولیم کے شعبے میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے اور منافع بخش مواقع، ایندھن کی سپلائی چین کے استحکام، بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور حکومت کی جانب سے کی جانے والی جاری تزویراتی اصلاحات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دفتر کے دورے کے موقع پر وفاقی وزیر پیٹرولیم نے چیمبر کی سینئر قیادت، مختلف ملٹی نیشنل انڈسٹریز سے وابستہ نمایاں شخصیات، غیر ملکی سرمایہ کاروں کے نمائندگان اور میڈیا کے نمائندوں سے تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے شرکا کو وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں تیل و گیس کی تلاش ریفائنری کے بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری اور پیٹرولیم شعبے میں سرمایہ کاری دوست ماحولیات کے قیام کے لیے کیے جانے والے ہمہ گیر اقدامات اور پالیسی ترامیم سے تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ملک کو درپیش توانائی کے چیلنجز کا تدارک کرنے کے لیے بانڈڈ اسٹوریج اور اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کے قیام کی اہمیت اور ان پر پیش رفت کو خصوصی طور پر اجاگر کیا۔

وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے اجلاس کے تمام شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان کا بنیادی مقصد ایک ایسا جدید اور متحرک پیٹرولیم شعبہ تشکیل دینا ہے جو عالمی سطح پر زیادہ مسابقتی، سرمائے کی فراہمی کے لیے انتہائی سازگار اور ملک کی طویل المدتی و پائیدار توانائی ضروریات سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اپ اسٹریم (ایکسپلوریشن)، مڈ اسٹریم (ریفائننگ) اور ڈاؤن اسٹریم مارکیٹس میں دور رس اصلاحات نافذ کر رہی ہے، جبکہ انڈسٹری سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل اور پائیدار رابطے کے ذریعے عملی نوعیت کے درپیش مسائل حل کیے جا رہے ہیں تاکہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال اور مستحکم بنایا جا سکے۔

اجلاس کے دورانکے ارکان اور سینئر قیادت نے صنعت کے نقطہ نظر کو پیش کرتے ہوئے زور دیا کہ پالیسی، قوانین اور ٹیکس کے نظام میں مسلسل اور طویل المدتی تسلسل، مکمل شفافیت اور سرمایہ کاروں کو مناسب سیکیورٹی کی فراہمی وہ بنیادی عوامل ہیں جو عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط بنا سکتے ہیں۔ کے صدر یوسف حسین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم کا شعبہ پاکستان کی معاشی سرگرمیوں، اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کے ڈھانچے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر کی جانب سے کاروباری برادری کے ساتھ اس مثبت اور مسلسل رابطے کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جاری مذاکرات صنعتی مسائل کے حل اور حکومت کے اصلاحاتی اہداف کے حصول میں اہم ثابت ہوں گے۔

اسی اجلاس میں کے چیف ایگزیکٹو اور سیکرٹری جنرل محمد عبدالعلیم نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پیش گوئی کے قابل اور مستحکم ریگولیٹری ماحول کی اہمیت پر خصوصی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور انڈسٹری کے درمیان مسلسل دوطرفہ رابطوں اور زیر التوا معاشی و قانونی معاملات کے بروقت اور شفاف حل سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد مزید بڑھے گا جس سے پیٹرولیم انڈسٹری میں اربوں ڈالر کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ کی جانب سے حکومت کے ساتھ توانائی کی سلامتی اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے اس مثبت مکالمے کو آئندہ بھی جاری رکھنے کے مکمل عزم کا اعادہ کیا گیا۔

بعد ازاں، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کراچی میں واقع پی ایس او ہاؤس کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پاکستان اسٹیٹ آئل کی اعلیٰ انتظامیہ سے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران قومی توانائی سلامتی کے تحفظ، پیٹرولیم پروڈکٹس کی سپلائی چین کے مسلسل استحکام، اسٹریٹجک اسٹوریج کی گنجائش میں توسیعی منصوبوں، اور ادارے کی جدید ترین ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن سمیت متعدد بنیادی امور پر باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ ملک میں ایندھن کی سپلائی کے لاجسٹک انفراسٹرکچر کو جدید بنانے اور ایندھن کی کارکردگی و پائیداری کو عالمی معیار پر لانے کے لیے بھی تجاویز زیرِ غور آئیں۔

وزیر داخلہ و پیٹرولیم کے اس دورے کے دوران علی پرویز ملک نے عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود ملک بھر میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل اور ہموار فراہمی کو یقینی بنانے پر پی ایس او کی پیشہ ورانہ کارکردگی کی بھرپور تعریف کی اور قومی پیٹرولیم سپلائی چین کے استحکام میں کمپنی کے کلیدی کردار کو سراہا۔ وفاقی وزیر نے اعادہ کیا کہ حکومت پیٹرولیم شعبے کو ری سائیکل کرنے، اسے جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے اور انفراسٹرکچر کو وسعت دینے کے لیے ادارے کو اپنی مکمل اور بلا مشروط حمایت فراہم کرتی رہے گی۔ انہوں نے پی ایس او کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ اسٹریٹجک ذخائر کی گنجائش بڑھانے کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، جدید مانیٹرنگ اور آٹومیشن سے بھرپور استفادہ کریں تاکہ ایندھن کی ترسیل کے وقت اور آپریشنل اخراجات میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔