19 جولائی کو نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں ہونے والے فائنل میں فیفا صدر جیانی انفانٹینو اور صدر ٹرمپ ایک ساتھ میچ دیکھیں گے؛ مصروفیات کے باعث اب تک کسی میچ میں شرکت نہ کر سکے، وائٹ ہاؤس ٹاسک فورس کا بیان

محمود احمد june 24,2026

واشنگٹن (کھیلوں کی دنیا/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی (فیفا) کے صدر جیانی انفانٹینو نے ایک مقتدر اور سنسنی خیز اعلان کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے فائنل میچ میں خصوصی طور پر شرکت کریں گے اور چیمپیئن بننے والی فاتح ٹیم کو اپنے ہاتھوں سے فٹبال کی دنیا کی سب سے مقتدر اور قیمتی ٹرافی پیش کریں گے۔ عالمی اسپورٹس میڈیا کے مطابق، فٹبال ورلڈ کپ 2026ء کا فائنل معرکہ 19 جولائی کو نیو جرسی کے تاریخی ‘میٹ لائف اسٹیڈیم’ میں کھیلا جائے گا، جس پر اس وقت پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، تاریخ کا یہ سب سے بڑا ورلڈ کپ 11 جون سے امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں کامیابی سے جاری ہے، جس میں مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جا رہے ہیں اور ان میں سے 78 میچز کی میزبانی تنہا امریکا کے حصے میں آئی ہے۔ اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی گوناگوں تزویراتی اور سیاسی مصروفیات کے باعث اب تک ٹورنامنٹ کا کوئی بھی ابتدائی میچ دیکھنے اسٹیڈیم نہیں پہنچ سکے، تاہم فیفا کے سربراہ جیانی انفانٹینو نے اپنے حالیہ انٹرویو میں مقتدر یقین دہانی کروائی ہے کہ امریکی صدر فائنل کے تاریخی موقع پر اسٹیڈیم میں موجود ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اور صدر ٹرمپ نہ صرف مل کر اس فائنل معرکے سے لطف اندوز ہوں گے بلکہ اختتامی تقریب کو چار چاند بھی لگائیں گے۔

دوسری جانب، وائٹ ہاؤس کی ورلڈ کپ ٹاسک فورس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینڈریو جیولیانی نے میڈیا کو بتایا کہ صدر ٹرمپ اپنی شدید مصروفیات کے باوجود کھیلوں کے تمام بڑے عالمی ایونٹس میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور وہ اس فائنل کو یادگار بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ کھیلوں کے تجزیہ کاروں نے یاد دلایا کہ گزشتہ برس کلب ورلڈ کپ کی ٹرافی تقسیم کرنے کے دوران بھی صدر ٹرمپ اپنی منفرد باڈی لینگویج اور اسٹیج پر موجودگی کے باعث عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے تھے جس پر بعض بین الاقوامی کھلاڑی حیران بھی دکھائی دیے تھے۔ اب فٹبال کے سب سے بڑے اور میگا مقابلے کے فائنل میں ان کی شرکت ایک بار پھر کھیلوں کی دنیا اور عالمی سفارت کاری میں ایک نئی بحث کا آغاز کر سکتی ہے۔

سیاسی تہذیب کا جنازہ: عمران خان نے ہماری سیاست کو جتنا نقصان پہنچایا 78 سال میں کسی نے نہیں پہنچایا، وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں مقتدر خطاب

https://images.openai.com/static-rsc-4/kBaE8tfPIruAhvxerlL3nxnKUugXBJKztmiDdPjrdH0UWmLh4EVkzIcASfKHYiVcmCs9g5j4kjRF2Hybp0ne-MVBabgsfaGiK28hHHQynHLzxTLUVYb7uEQ04WB6aRBgJNYSl3KndapbUWyucvHNFMBHke5GruZGMzy_U97vU2gapfMeVNrCmlcdNm1R9g_G?purpose=fullsize

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

وفاقی وزیرِ دفاع اور مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی کے انتہائی اہم اور تندوتیز اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کے بانی عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے مقتدر الفاظ میں دعویٰ کیا کہ عمران خان نے ملکی سیاست، پارلیمانی نظام اور اخلاقی روایات کو جتنا نقصان پہنچایا ہے، پچھلے 78 سالہ ملکی تاریخ میں کسی اور شخصیت نے نہیں پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اپنی حکومت کے دوران اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی بدترین مثالیں قائم کیں اور سیاست سے رواداری کا مکمل خاتمہ کر دیا۔

وزیرِ دفاع نے ماضی کے حکومتی رویوں کا ذکر کرتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ جب ہم اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے تھے، تو پی ٹی آئی کے وزراء اور ارکانِ اسمبلی ہم سے ہاتھ ملانے اور بات کرنے تک سے کتراتے تھے، انہیں صرف یہ خوف لاحق رہتا تھا کہ کہیں ان کی ہم سے بات چیت دیکھ کر عمران خان ناراض نہ ہو جائیں۔ اپوزیشن بینچوں پر موجود پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور اپوزیشن الائنس کے رہنما کا حوالہ دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ محمود خان اچکزئی پی ٹی آئی کے ساتھ بیٹھے ہوئے بہت عجیب لگتے ہیں، کیونکہ محمود اچکزئی کی اپنی ایک طویل، محترم اور مقتدر جمہوری تاریخ ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی ایسی کوئی سیاسی یا آئینی روایت سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان شدید ترین سیاسی دشمنی کے دور میں بھی یہ خوبصورت روایت قائم تھی کہ ہم دن بھر کے سیاسی اختلافات کے باوجود رات کو کھانا ایک ساتھ کھاتے تھے۔

ماضی کی تلخیاں بھلا کر ملکی بقا کے لیے آگے بڑھنے کا فارمولا پیش کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے اعتراف کیا کہ ماضی میں اسپیکر کی مقتدر کرسی پر بیٹھ کر بھی پارٹی مفادات کے تحت یکطرفہ فیصلے دیے گئے، لیکن بعد میں ن لیگ اور پی پی پی نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا اور ملک کو ‘میثاقِ جمہوریت’ جیسا مقتدر تحفہ دیا۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں بالخصوص پی ٹی آئی کو ایک بار پھر دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آئیں ہم سب مل کر ماضی کی غلطیوں کو درست کریں اور ملک کے استحکام کے لیے ایک نئے میثاقِ جمہوریت پر دستخط کریں، تاہم اس مقتدر اور سنجیدہ عمل کے لیے پی ٹی آئی کے ارکان کو بھی اپنے ماضی کے طرزِ عمل اور رویوں پر گہرائی سے نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔

میڈیا بلیک آؤٹ: مولانا فضل الرحمان کے خطاب کے دوران پی ٹی وی اور لائیو اسٹریمنگ بند، اپوزیشن کا شدید احتجاج؛ عالمی سطح پر نیک نامی کمانے والی حکومت ملک کے اندر ساکھ گنوا رہی ہے، سربراہ جے یو آئی (ف)

https://images.openai.com/static-rsc-4/kRUjIXS1DgN4pIOmaZNFK1uOJTVtGr9zT5n-w0h8jyQV6cNLvo-zkxCF67NlUGBA5Siwbm8zn65tZymZXpjrF5Pquy1YDKsVSFI5sEGJFWYxjeT7z4s8br_WZZRy1ddTughjFU124BXUtxBHJT7zitX5-meXN9q7GJH-2D6UaVvbro6FLQp5YXq3VsuRealE?purpose=fullsize

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی کے انتہائی مقتدر اجلاس میں وفاقی حکومت، اسپیکر اور عسکری قیادت کے سیاسی کردار کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایوان میں ہلچل مچا دی ہے۔ تاہم، اس تندوتیز خطاب کے دوران ایک سنسنی خیز موڑ اس وقت آیا جب سرکاری ٹی وی کے چینل ‘پی ٹی وی پارلیمنٹ’ اور نیشنل اسمبلی کی آفیشل لائیو اسٹریمنگ کو اچانک اور مقتدر طور پر بند کر دیا گیا۔ ایوان کے اندر نصب اسکرینوں اور اسپیکرز پر بھی مولانا کی آواز کو دبا دیا گیا، جس پر اپوزیشن ارکان نے ڈیسک بجا کر شدید ترین احتجاج ریکارڈ کروایا۔

نشریات کی بندش سے قبل مولانا فضل الرحمان نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “جناب اسپیکر! کل آپ بھی ایوان میں ضرورت سے زیادہ بولے، کل آپ نے جو جذباتی گفتگو کی تھی، وہ آپ کے منصب کے شایانِ شان نہیں تھی اور آپ کو ایسی گفتگو سے گریز کرنا چاہئے تھا”۔ حکومتی بینچوں پر بیٹھی مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو ماضی کا آئینہ دکھاتے ہوئے امیر جے یو آئی (ف) نے کہا کہ جب میاں نواز شریف ہمارے ساتھ کنٹینر پر کھڑے ہوتے تھے، تو کیا وہ جلسوں میں آرمی چیف اور آئی ایس آئی کا نام نہیں لیتے تھے؟ کیا نواز شریف نے خود فوج کو ‘محکمہ زراعت’ کا مقتدر لقب نہیں دیا تھا؟ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت عالمی سطح پر (امریکا ایران معاہدے کے باعث) شاید نیک نامی کما رہی ہو، لیکن پاکستان کے اندر وہ اپنی تمام تر نیک نامی گنوا چکی ہے؛ پاکستان کی فوج کو سرحدوں کی حفاظت کرنی چاہئے، لیکن اسے ملک کے اندر سیاسی و انتظامی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

آزاد کشمیر کی حالیہ کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے عوامی ایکشن کمیٹی کے اس مقتدر فیصلے کا خیرمقدم کیا جس کے تحت انہوں نے مظفرآباد کی طرف اپنا لانگ مارچ فی الحال مؤخر کیا ہے۔ انہوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے شکوہ کیا کہ کل تک ہم عالمی فورمز پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا رونا روتے تھے، لیکن آج ہم خود اپنے آزاد کشمیر کے عوام کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں؟ وفاقی کابینہ کے رویے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایوان میں جو متنازع گفتگو کی، وہ ان کے منصب کے بالکل خلاف تھی۔ حکومت کی پالیسی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے مقتدر طنز کیا کہ آپ کی حکمتِ عملی سمجھ سے بالاتر ہے، کیونکہ آپ نے لڑائی کا ٹاسک خواجہ آصف کو اور صلح صفائی کا کام نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے حوالے کر رکھا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے اس مقتدر خطاب کو سنسر کیے جانے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر بھی سیاسی درجہ حرارت شدید بڑھ گیا ہے۔

وفاقی کابینہ میں دراڑیں: شہباز شریف کے چند وزراء ان کے کام میں آسانی کے بجائے مشکلات پیدا کر رہے ہیں، بلاول بھٹو زرداری کا قومی اسمبلی میں دھواں دھار خطاب

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں اور مسلم لیگ (ن) کے مقتدر وزراء کے رویے پر سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ایوانِ صدر اور پارلیمنٹ کے گلیاروں میں سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ قومی اسمبلی کے انتہائی اہم اجلاس میں تندوتیز اظہارِ خیال کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے مقتدر الفاظ میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے چند وزراء ایسے ہیں جو حکومت چلانے میں آسانی پیدا کرنے کے بجائے الٹا سیاسی اور انتظامی مشکلات کھڑی کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزراء کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو اور مشورے اتحادی حکومت کے لیے شدید سیاسی مسائل کا سبب بن رہے ہیں۔

آزاد کشمیر کی حالیہ صورتحال اور وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے متنازع بیان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے ایوان میں مقتدر سوال اٹھایا کہ ‘ایسا وزیر جو سرِعام یہ کہے کہ راولاکوٹ کے کشمیری، کشمیری نہیں ہیں اور پھر اتنی بڑی بات کہہ کر بھی اپنے الفاظ واپس نہ لے، تو وہ اب تک وفاقی کابینہ کا حصہ کیوں ہے؟’ انہوں نے ن لیگ کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جو وزیر ابھی تک اپنے اس توہین آمیز بیان پر کشمیریوں سے معافی مانگنے کو تیار نہیں، اس کی وجہ سے پی پی پی کو بطور اتحادی شدید سبکی کا سامنا ہے۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ میں عوام اور کشمیری بھائیوں کو کیا وضاحت دوں کہ ہم کس مجبوری کے تحت اس وزیر کے ساتھ وفاق میں بیٹھے ہوئے ہیں؟

بلدیاتی نظام اور جمہوریت پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ن لیگ کو لاہور اور اسلام آباد کی ضلعی حکومتوں کے انتخابات کروانے کا کھلا چیلنج دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت (سندھ) ہے، وہاں بلدیاتی نظام مکمل طور پر فعال ہے لیکن ن لیگ عوامی عدالت میں جانے سے بری طرح خوفزدہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ میں کسی بھی قسم کی آئینی ترمیم لانے سے پہلے ملک بھر میں بلدیاتی الیکشن کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔ کراچی کی سیاست اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے مطالبات پر تبصرہ کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ سندھ میں ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے لیے آئین میں ترمیم کی باتیں ن لیگ کی طرف سے کراچی کے لوگوں کو دیا جانے والا محض ایک ‘لالی پاپ’ ہے، اگر ایم کیو ایم واقعی کراچی کے حقوق کے معاملے میں سنجیدہ ہے تو وہ زبانی جمع خرچ کے بجائے فوری طور پر وفاقی حکومت سے الگ ہو کر اپنا مقتدر سیاسی وزن ثابت کرے۔

تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی خصوصی شرکت؛ اعزاز ایرانی صدر کی صحتِ عامہ، طبی تحقیق اور جراحی کے شعبے میں گراں قدر خدمات کے اعتراف میں دیا گیا

روزینہ اسماعیل.june 23,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

پاکستان کے مقتدر ترین طبی ادارے ‘کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف پاکستان’ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کو ان کی صحتِ عامہ، طبی تعلیم کی ترویج، کارڈیالوجی کے شعبے میں جدید تحقیق اور انسانیت کے لیے مخلصانہ و انتھک خدمات کے اعتراف میں شعبہ جراحیِ قلب (کارڈیوتھوراسک سرجری) میں اپنی سب سے اعلیٰ ‘اعزازی فیلو شپ’ تفویض کر دی ہے۔

منگل کے روز وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ اس پروقار اور مقتدر تقریب میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خصوصی طور پر شرکت کی اور ایرانی صدر کو اس تاریخی اعزاز سے نوازے جانے کے لمحات کا مشاہدہ کیا۔ واضح رہے کہ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان بذاتِ خود طب کی دنیا میں ایک معتبر نام اور ہارٹ سرجری کے مایہ ناز ماہر سرجن ہیں، جن کی علمی و عملی خدمات کو دنیا بھر میں مقتدر مانا جاتا ہے۔

طبی و سفارتی ماہرین کے مطابق، پاکستان کی جانب سے ایرانی صدر کو اس اعلیٰ ترین اعزازی فیلو شپ کی تفویض سے پاکستان اور ایران کے مابین برادرانہ تعلقات میں ایک نئے سائنسی و طبی باب کا اضافہ ہوا ہے۔ اس مقتدر اقدام سے دونوں ممالک کے میڈیکل کالجز، جامعات اور طبی اداروں کے مابین اعلیٰ تعلیم کے فروغ، ادارہ جاتی سطح پر تعلیمی و تحقیقی تبادلوں، جدید کلینیکل ریسرچ، اور فیکلٹی سمیت ممتحنین کے باہمی تبادلوں کو زبردست تزویراتی تقویت ملے گی، جو مستقبل میں دونوں برادر ممالک کے ہیلتھ کیئر سسٹمز کو مزید مربوط بنانے میں اہم ترین سنگِ میل ثابت ہوگی۔

پاکستان اور ایران مشترکہ ترقی کے لیے پرعزم، مختلف شعبوں میں تعاون مزید مضبوط ہوگا: وزیراعظم

کاشف عباسی ,june 23,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دورہِ پاکستان پر آئے ہوئے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ساتھ وفود کی سطح پر ہونے والی ایک انتہائی اہم اور مقتدر ملاقات کے دوران واضح کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق کوئی بات شامل نہیں ہے اور نہ ہی یہ نکتہ کبھی ایجنڈے کا حصہ رہا ہے۔ وزیراعظم نے دوٹوک انداز میں کہا کہ بیلسٹک میزائل کے حوالے سے دنیا میں کوئی دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے؛ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ دنیا کے دیگر ممالک کے پاس تو بیلسٹک میزائل ہوں اور ایران کو اس حق سے محروم رکھا جائے، اس مقتدر نکتے پر عالمی سطح پر کسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کچھ شرپسند عناصر خطے میں جنگ کے شعلوں کو بجھنے نہیں دینا چاہتے اور وہ اس تاریخی امن عمل کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں۔

اس اعلیٰ سطحی تزویراتی ملاقات میں پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر (چیف آف آرمی اسٹاف) بھی شریک تھے۔ اپنے مقتدر ابتدائی کلمات میں وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے مابین اس تاریخی ثالثی کے لیے پاکستان پر بھرپور اعتماد کرنے پر ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی اخوت کو کبھی جوابدہ نہیں ہونا پڑتا، ہم ایران کو کبھی مایوس نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی ویژنری قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا جن کے زیرِ اثر ایران نے انتہائی وقار اور عزت کے ساتھ جنگ بندی کے اس مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔ وزیراعظم نے حالیہ کشیدگی کے دوران معصوم جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم نے ہمیشہ کی طرح اس مشکل صورتحال کا سامنا بھی انتہائی جرات، بہادری اور ہمت سے کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کے انتھک اور تزویراتی کردار کو مقتدر الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہماری مشترکہ کوششوں کے باعث آج یہ کامیابی ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے تکنیکی سطح کے طویل مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی کاوشوں کو بھی لاجواب قرار دیا۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے خطے میں امن کے قیام کے لیے تعاون فراہم کرنے پر برادر دوست ممالک بالخصوص سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور مصر کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ پاکستان اور ایران ہمیشہ کے لیے دوست اور بھائی ہیں جن کی خوشیاں اور غم سانجھے ہیں، اور دونوں ممالک صدر مسعود پزشکیان کی قیادت میں اقتصادی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور تعمیرِ نو سمیت تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کر کے مشترکہ ترقی کے ایک نئے مقتدر دور کا آغاز کریں گے۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط اور جنگ بندی پر صدر زرداری کی مبارکباد؛ یکطرفہ اقدامات کی مخالفت، مکالمے اور مسلم امہ کے اتحاد کے تحفظ کے لیے پاکستان کے اصولی عزم کا اعادہ

کاشف عباسی ,june 23,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے اسلامی جمہوریہ ایران کے نومنتخب صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے منگل کے روز ایوانِ صدر میں ایک انتہائی اہم، مقتدر اور اعلیٰ سطحی ملاقات کی ہے۔ حالیہ عالمی و علاقائی تنازعے کے خاتمے کے بعد صدر پزشکیان کا یہ پہلا سرکاری دورہِ پاکستان ہے، جس کا ایوانِ صدر میں پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔ اس مقتدر ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے مابین دیرینہ برادرانہ و تاریخی تعلقات، علاقائی امن و سلامتی کی بدلتی صورتحال، اقتصادی تعاون کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے تمام تزویراتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں ایران کی جانب سے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی، صدر کے دفتر کے سربراہ محسن حاجی میرزائی، وزیر داخلہ سکندر مومنی، سیاسی امور کے سربراہ سعید عباس موسوی اور پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم شامل تھے۔ دوسری جانب پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی و سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی، وزیر مملکت طلال چوہدری، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم حسین نے کی۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق، صدر آصف علی زرداری نے سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی تاریخی پیش رفت اور ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر دستخط ہونے پر صدر پزشکیان کو مقتدر الفاظ میں مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ جاری تکنیکی مذاکرات خطے میں مستقل امن کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔

صدر آصف علی زرداری نے ایران کے امن، استحکام، قومی اتحاد، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل اور اصولی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتا رہا ہے اور عالمی چیلنجز کے پائیدار حل کے لیے صرف مکالمے اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے مسلم امہ کے اتحاد اور خلیجی ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات برقرار رکھنے کے عزم کو دہرایا۔ صدر زرداری نے ایران کی مقتدر قیادت (آیت اللہ علی حسینی خامنہ ای) کی شہادت پر ایک بار پھر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان کی تدفین میں مقتدر سطح پر شرکت کرے گا۔ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے امن، جنگ بندی اور عالمی سطح پر مکالمے کے فروغ کے لیے پاکستان کے انتہائی مثبت، تعمیری اور مخلصانہ کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور حالیہ معاشی و سفارتی چیلنجز میں پاکستان کی جانب سے فراہم کی جانے والی مضبوط حمایت کا شکریہ ادا کیا۔ ملاقات کے اختتام پر صدر زرداری نے ایرانی صدر کے ذریعے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے لیے اپنی نیک تمنائیں اور گرمجوش سلام بھی پہنچایا۔

تاریخی خارجہ پالیسی اور تزویراتی کامیابی: امریکا ایران تاریخ ساز معاہدے پر پاکستان کے بطور ثالث دستخط، دنیا کے نامور اخبارات کے فرنٹ پیج پر پاکستان کا کردار نمایاں، وزیراعظم شہباز شریف کا قومی اسمبلی میں مقتدر خطاب

کاشف عباسی ,june 23,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے انتہائی مقتدر اور اہم اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی اور تزویراتی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے تاریخ ساز معاہدے پر پاکستان کے بطور ثالث دستخط کی تصویر آج دنیا کے سب سے بڑے اور ممتاز ترین اخبارات کے فرنٹ پیجز پر لگی ہوئی ہے۔ پاکستان کو عالمی سطح پر جو غیر معمولی عزت اور وقار ملا ہے، یہ اربوں روپے خرچ کر کے بھی ہم حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ یہ پاکستان کی مخلصانہ، انتھک اور عرق ریزی سے کی جانے والی کوششوں کا مقتدر نتیجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہوئی اور اب اگلے 60 دن کے تکنیکی مذاکرات بھی ان شاء اللہ مکمل کامیاب ہوں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایوان کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے تزویراتی مذاکرات کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کے لیے پاکستانی وفد نے دن رات گفتگو کا سلسلہ جاری رکھا۔ بالآخر صبح کے تقریباً ڈھائی تین بجے ایک مشترکہ اعلامیہ اور ایم او یو تیار کیا گیا جس کی تمام فریقین نے توثیق کی اور پاکستان نے اس پر بطور ثالث دستخط کیے۔ انہوں نے سپیکر سردار ایاز صادق، قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی اور پاکستان کے 24 کروڑ عوام کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ‘واشنگٹن پوسٹ’، ‘فنانشل ٹائمز’ اور ‘نیویارک ٹائمز’ جیسے بین الاقوامی جرائد نے پاکستان کے اس کلیدی کردار کو نمایاں کیا ہے۔ وزیراعظم نے یہ مقتدر اعلان بھی کیا کہ ان کے انتہائی پیارے بھائی اور ایران کے نومنتخب صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان ہماری خصوصی دعوت پر جلد پاکستان تشریف لا رہے ہیں، جس سے دونوں برادر ممالک کے تعلقات مزید تزویراتی بلندیوں کو چھوئیں گے۔

قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا کہ انہوں نے ایوان میں ڈیسک صادق اور مخلصانہ جذبوں کے ساتھ بجایا تھا کیونکہ آج پاکستان عالمی سطح پر معتبر ہو رہا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر کے اس مؤقف کو حقائق کے منافی قرار دیا کہ وفاق بلوچستان کو اس کا حق نہیں دے رہا۔ وزیراعظم نے مقتدر الفاظ میں دہرایا کہ چاروں صوبوں نے این ایف سی ایوارڈ میں رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے وسائل کا حصہ 100 فیصد بڑھایا ہے، جس میں تنہا پنجاب باقی صوبوں کے ساتھ مل کر سالانہ 11 ارب روپے کا حصہ ڈال رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک چاروں صوبے ترقی کی دوڑ میں برابر کے شریک نہیں ہوں گے، وہ پاکستان کی ترقی نہیں کہلا سکتی۔ خطاب کے آخر میں سیاسی گرما گرمی پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے اپوزیشن کو کرپشن اور انتخابی دھاندلی کے الزامات پر آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اگر اپوزیشن کو الیکشن کی تحقیقات کا اتنا ہی شوق ہے تو شروعات 2018ء کے الیکشن کی جادوگری اور بیلٹ باکس بھرنے کے مقتدر الزامات سے کرتے ہیں، جس کے بعد 2024ء کے الیکشن پر بھی بات ہو جائے گی، کیونکہ اگر بات نکلی تو پھر بہت دور تک جائے گی۔

سفاکیت کی انتہا: سرگودھا میں 7 سالہ معصوم بچی کے بہیمانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم گرفتار، ڈی این اے ٹیسٹ میچ کر گیا

کاشف عباسی ,june 23,2026

سرگودھا (کرائم رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

سرگودھا کے گنجان آباد علاقے کارخانہ بازار میں سات سالہ معصوم بچی کے بہیمانہ اور لرزہ خیز قتل کے واقعے میں ملوث مرکزی ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ کاؤنٹر ٹیررازم یا کرائم انویسٹی گیشن سے وابستہ ایک سینیئر سیکیورٹی اہلکار نے مقتدر میڈیا رپورٹس میں تصدیق کی ہے کہ ابتدائی ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج مرکزی ملزم سے سو فیصد میچ کر گئے ہیں، جس کے بعد ملزم نے دورانِ تفتیش معصوم لڑکی کے جنسی استحصال اور اسے بیدردی سے قتل کرنے کا باقاعدہ اعتراف بھی کر لیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق، مقتولہ بچی کے سوگوار والد کی مدعیت میں متعلقہ تھانے میں چار افراد کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم ارسلان کو دھر لیا ہے جبکہ مقدمے میں نامزد دیگر افراد کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا گیا ہے۔ درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق، اس لرزہ خیز واردات میں ایک مقامی کریانہ اسٹور کے مالک سمیت تین افراد کو مبینہ طور پر قتل کی مجرمانہ سازش تیار کرنے اور اس میں معاونت فراہم کرنے کے سنگین الزام کے تحت نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مقتدر مندرجات کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ دکان کے مالک محمد عباس کے ساتھ مقتولہ کے خاندان کی کسی بات پر ہونے والی تلخ کلامی کے بعد پیش آیا۔ الزام ہے کہ مرکزی ملزم ارسلان نے، جو گزشتہ دو سال سے اسی کریانہ اسٹور پر ملازمت کر رہا تھا، دیگر نامزد ملزمان کے ایما اور شہ پر بچی کو اغوا کیا اور قتل سے قبل اسے مبینہ طور پر شدید زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ارسلان کی گرفتاری کے بعد سازش میں ملوث باقی ملزمان سے کڑی تفتیش جاری ہے، اور تفصیلی پوسٹ مارٹم و حتمی فرانزک لیب رپورٹس موصول ہونے کے بعد کیس کو مقتدر عدالت میں چالان کی صورت پیش کیا جائے گا تاکہ معصوم بچی کے خون سے ہولی کھیلنے والے درندوں کو عبرتناک سزا دلائی جا سکے۔

قومی اسمبلی میں احتجاج: فاشسٹ حکومت نے اسلام آباد کو بند کر کے مفلوج کر دیا، فاٹا اور مالاکنڈ پر عائد ٹیکس فوری واپس لیا جائے، اسد قیصر

منصور احمد june 23,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وفاق پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فاشسٹ اور غیر قانونی حکومت نے سیکیورٹی کے نام پر دارالحکومت اسلام آباد کو ہر طرف سے بند کر رکھا ہے، جس کے باعث عوام شدید مشکلات اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اور بعد ازاں سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے مقتدر الفاظ میں کہا کہ سیکیورٹی کے نام پر آدھے سے زیادہ اسلام آباد کو مفلوج کر دیا گیا ہے، جو چند راستے کھلے ہیں وہاں ٹریفک کا شدید دباؤ ہے اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

اسد قیصر نے وفاقی حکومت کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حکمرانوں کو بخوبی علم ہے کہ وہ عوامی مینڈیٹ کے بجائے فارم 47 کے سہارے اقتدار میں آئے ہیں۔ اسی لیے انہیں نہ عوام کی سہولت کی فکر ہے اور نہ ہی عوامی رائے کی کوئی پرواہ ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ جب ووٹ کے بغیر اقتدار مل جائے تو پھر عوام کی مشکلات، تکالیف اور روزمرہ زندگی کی پریشانیاں ان کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں، افسوس کہ عوام جتنی زیادہ تکلیف اٹھاتے ہیں، یہ حکومت اتنا ہی خود کو محفوظ اور مطمئن سمجھتی ہے۔

قومی اسمبلی میں ملکی معیشت اور صوبائی حقوق پر بات کرتے ہوئے اسد قیصر نے بتایا کہ گزشتہ دنوں ان کی وفاقی وزیرِ خزانہ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ٹیکس کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے ایک لازمی جزو ہے، تاہم فاٹا اور مالاکنڈ دہشت گردی سے شدید متاثرہ علاقے ہیں، وہاں کے حالات کو سمجھنا ہوگا۔ اس وقت افغانستان کے ساتھ تجارت تقریباً مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، غلط پالیسیوں کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں اور امن و امان کے حوالے سے سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔ انہوں نے گلہ کیا کہ حکومت نے ان علاقوں میں کوئی خاطر خواہ ترقیاتی کام نہیں کیے اور این ایف سی کے تحت فاٹا کے لیے 3 فیصد حصہ دینے کا جو مقتدر عہد کیا گیا تھا، وہ بھی آج تک پورا نہیں کیا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہم سب مالاکنڈ اور فاٹا کے غیور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایسے بدترین حالات میں ان مظلوم علاقوں سے ٹیکس کیسے لیا جا سکتا ہے؟ پی ٹی آئی رہنما نے انکشاف کیا کہ این ایف سی کے تحت ہمارے صوبوں کے 434 ارب روپے واجب الادا ہیں، جبکہ صوبوں کو پانی کے حصے میں بھی 19 فیصد کی نمایاں کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے ایوان سے فاٹا اور مالاکنڈ پر عائد تمام ٹیکسز کو فوری طور پر واپس لینے کا مقتدر مطالبہ کیا۔

عالمی سفارت کاری میں بڑی پیش رفت: ایران اپنے جوہری پروگرام کے مکمل جائزے پر رضامند، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

محمود احمد june 23,2026

واشنگٹن (بین الاقوامی امور ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک تزویراتی بیان میں مقتدر دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے مکمل اور جامع جائزے پر باقاعدہ رضامند ہو گیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کے اس تفصیلی جائزے پر تیار نہ ہوتا تو تہران کے ساتھ مستقبل میں مزید کوئی مذاکرات ممکن نہ ہوتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے دی جانے والی اسی اہم یقین دہانی اور دیگر مقتدر رعایتوں کی بنیاد پر وہ اب آبنائے ہرمز کو دوبارہ تجارتی آمد و رفت کے لیے کھولنے کی اجازت دینے پر تیار ہوئے ہیں، جس کے بعد اب وہاں کوئی بحری ناکہ بندی برقرار نہیں رہے گی۔

امریکی صدر نے اپنی تزویراتی حکمتِ عملی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ خطے میں تمام امریکی جنگی جہاز بدستور اپنی پوزیشنز پر موجود رہیں گے تاکہ اگر مستقبل میں ناکہ بندی کی بحالی کی ضرورت پیش آئے تو فوری کارروائی کی جا سکے، تاہم موجودہ صورتحال میں دوبارہ ناکہ بندی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ صدر ٹرمپ نے منجمد اثاثوں کی بحالی کے حوالے سے مقتدر انکشاف کیا کہ امریکا کی جانب سے واگزار کیے جانے والے ایران کے منجمد فنڈز صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غذائی اجناس اور ادویات کی خریداری کے لیے ہی استعمال کیے جا سکیں گے، اور یہ خریداری لازمی طور پر صرف امریکا سے ہی کی جائے گی جس میں امریکا کے عظیم کسانوں سے مکئی، گندم اور سویابین کی درآمد شامل ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کو اس وقت ان غذائی اجناس کی اشد ضرورت تھی کیونکہ وہاں ایک انسانی بحران جنم لے رہا تھا، اور انہوں نے محسوس کیا کہ اس سے پہلے کہ بہت تاخیر ہو جائے، تہران کی یہ مدد کرنا ضروری تھا۔ انہوں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات انتہائی مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ امریکی صدر نے معاشی اشاریوں پر بات کرتے ہوئے ایک اور مقتدر بیان میں بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزشتہ روز 19 ملین بیرل تیل کی ریکارڈ سپلائی لائن بحال ہوئی ہے جو کہ اب تک کا سب سے بڑا حجم ہے، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مسلسل کم ہو رہی ہیں اور اب یہ دنیا پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ ہو چکی ہے۔

مستقبل کا معاشی انقلاب: گوادر پورٹ پاکستان کو عالمی تجارتی سرگرمیوں کے مرکز میں بدل دے گا، گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل

منصور احمد june 23,2026

کوئٹہ ( نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں چین کے قائم مقام قونصل جنرل فینگ دہینگ سے ایک اہم اور مقتدر ملاقات کی ہے۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران پاک چین اقتصادی راہداری، گوادر پورٹ کی فعالیت، تعلیمی شعبے میں تعاون اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں چائنیز پولیٹیکل ڈائریکٹر فینگ دہینگ اور وانگ ژاؤشیانگ بھی موجود تھے۔ گفتگو کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے واضح کیا کہ گوادر پورٹ کی حقیقی ترقی اور فعالیت ایک خاموش معاشی انقلاب بن کر ابھرے گی اور یہ ایک ایسا گیٹ وے ہے جو پاکستان کو عالمی اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کے مرکز میں بدل دے گا۔

گورنر جعفر خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ وسطی ایشیا سے لے کر جنوبی ایشیا تک اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان ایک تزویراتی پل کا کردار ادا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جو پورے خطے کی معاشی منڈیوں، ثقافتوں اور صنعتوں کو آپس میں مربوط کرے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان اور چین کے سیاسی و سفارتی تعلقات کی پچھترویں سالگرہ منائی جا چکی ہے، جو دونوں ممالک کی پائیدار دوستی اور لازوال طاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ گورنر بلوچستان نے چینی حکام پر زور دیا کہ چین چونکہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی میں وسیع علم و تجربہ رکھتا ہے، اس لیے چین کی یہ مہارت بلوچستان کی نئی نسل کی فکری رہنمائی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے چینی حکومت سے پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے طلبہ کے لیے اسکالرشپس اور عالمی معیار کی تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کی مقتدر اپیل کی۔

ملاقات کے دوران چین کے قائم مقام قونصل جنرل فینگ دہینگ نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی غیر معمولی سفارتی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تقریباً نصف صدی کے بعد امریکہ اور ایران دونوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ اس عظیم سفارتی کارنامے نے نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کا قد بلند کیا ہے بلکہ سفارت کاری کی تاریخ میں ایک نیا باب بھی رقم کیا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ چین پورے بلوچستان میں گوادر سے لے کر ژوب تک کے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے، معاشی سرگرمیوں میں اضافے اور یہاں کے لوگوں کا معیارِ زندگی بلند کرنے کے لیے سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔ گورنر بلوچستان نے چینی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا اور دونوں رہنماؤں نے عوامی سطح پر روابط کو مزید بڑھانے پر مکمل اتفاق کیا۔

اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، جہلم اور چکوال سرکل کے صارفین کے مسائل کا موقع پر ہی ازالہ کیا جائے گا؛ ترجمان آئیسکو کی جانب سے فیس بک آئی ڈی اور ٹیلی فون نمبر جاری

روزینہ اسماعیل.june 23,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے صارفین کے بجلی سے متعلقہ مسائل کے بارے میں بہتر اور براہِ راست آگاہی حاصل کرنے اور ان کے بروقت تدارک کے لیے چیف ایگزیکٹو آئیسکو کل بروز بدھ فیس بک لائیو اور ٹیلی فون پر آئیسکو ریجن کے تمام صارفین کی شکایات خود سنیں گے۔ آئیسکو کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، اس کھلی کچہری کا بنیادی مقصد صارفین کو بلا تعطل سفری صعوبتوں کے اپنے دہلیز پر ہی بجلی کے مسائل سے نجات دلانا ہے۔

ترجمان آئیسکو کے مطابق، چیف ایگزیکٹو آئیسکو انجینئر چوہدری خالد محمود کل صبح نو بجے سے لے کر دن گیارہ بجے تک اسلام آباد، راولپنڈی سٹی، راولپنڈی کینٹ، اٹک، جہلم، چکوال سرکلز اور ان کے تمام ملحقہ و گردونواح کے آئیسکو صارفین کے بجلی سے متعلقہ شکایات و مسائل سنیں گے۔ ان شکایات کے فوری اور بروقت حل کے لیے تادیبی و انتظامی احکامات موقع پر ہی متعلقہ فیلڈ دفاتر کو جاری کیے جائیں گے۔

آئیسکو کے تمام صارفین چیف ایگزیکٹو سے براہِ راست بات کرنے، اپنے بجلی کے مسائل کا اندراج کروانے اور ان کے فوری ازالے کے لیے کمپنی کی آفیشل فیس بک آئی ڈی اور باقاعدہ ٹیلی فون نمبر (0519253105) پر مقررہ اوقاتِ کار کے دوران رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔ ترجمان نے صارفین سے مقتدر اپیل کی ہے کہ وہ شکایات کے تیز رفتار اندراج اور کونسلنگ کے دوران اپنا اصل نام، بجلی کے بل پر درج چودہ ہندسوں کا ریفرنس نمبر اور اپنا فعال رابطہ نمبر لازمی فراہم کریں تاکہ ان کے مسائل کی کمپیوٹرائزڈ ٹریکنگ کی جا سکے۔

جعلی رسیدوں اور سیل چھپانے والوں کے خلاف کارروائی

منصور احمد june 23,2026

لاہور ( نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں ٹیکس چوری کا جڑ سے خاتمہ کرنے اور ریونیو بڑھانے کے لیے ایک انقلابی اور سخت ترین ڈیجیٹل سیکیورٹی پلان نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نئے فیصلے کے تحت پنجاب میں قائم تمام میرج ہالز، شادی مارکیز، لگژری فارم ہاؤسز اور بڑے انٹرنیشنل و لوکل فوڈ چینز کی مانیٹرنگ کے لیے خصوصی کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ ان تمام مقامات پر ہونے والی ہر سنگل ٹرانزیکشن اور کاروباری لین دین کا باقاعدہ اندراج کیا جائے گا تاکہ ٹیکس نیٹ کو شفاف بنایا جا سکے۔ یہ اہم فیصلے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت پنجاب ریونیو اتھارٹی کے حوالے سے منعقدہ ایک خصوصی اور اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیے گئے۔

اجلاس کے دوران یہ مقتدر فیصلہ بھی سامنے آیا کہ جو ریسٹورنٹس یا ہالز گاہکوں کو جعلی رسیدیں فراہم کرتے ہیں یا اپنی اصل سیل چھپا کر قومی خزانے کو نقصان پہنچاتے ہیں، ان کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن اور سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اجلاس میں بڑے ریسٹورنٹس میں کیش کی صورت میں رقم وصول کرنے پر مکمل پابندی عائد کرنے اور اس کی جگہ لازمی ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم انسٹال کرنے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ اگر پوری دنیا کیش اکانومی سے ڈیجیٹل اکانومی پر منتقل ہو سکتی ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکس چوری پر حکومت کی پالیسی زیرو ٹالرنس کی ہے، اب ٹیکس چوروں کو کیمرے کی آنکھ بھی دیکھے گی اور ہمارا جدید ڈیجیٹل سسٹم بھی پکڑے گا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے متعلقہ حکام کو ٹیکس وصولی اور سیکٹرل میپنگ کی ہر ہفتے باقاعدگی سے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ اجلاس کے دوران مالی سال 2026-27 کے لیے مجموعی طور پر 528 ارب 50 کروڑ روپے کا بھاری ریونیو ہدف مقرر کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب ریونیو کلیکشن میں گزشتہ عرصے کے دوران 38 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد ٹیکس وصولی 250 ارب سے بڑھ کر 346 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ پی آر اے کا دائرہ کار بھی 10 اضلاع سے بڑھا کر 26 اضلاع تک وسیع کر دیا گیا ہے اور ادارے میں انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ونگ، ٹیکس پیئر آڈٹ اور لیگل ونگ کا باقاعدہ قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔ وزیراعلیٰ نے پی آر اے کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے افسران کو شاباش دی اور ہیومن ریسورس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے میڈیا ونگ کو بھی متحرک کرنے کا حکم دیا تاکہ ٹیکس چوروں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی وجوہات جامع انداز میں عوام کے سامنے لائی جا سکیں۔

بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور جلوسوں کے راستوں سے خطرناک تاریں فوری ہٹانے کی مقتدر ہدایت؛ غفلت برتنے پر سخت کارروائی کا انتباہ

خیرپور نیوز ڈیسک ( نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

محرم الحرام کے مقدس اور حساس ایام کے دوران عزاداروں کی سہولت اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) کی انتظامیہ متحرک ہو گئی ہے۔ اس مقتدر سلسلے میں سیپکو کے چیف انجینئر آپریشن و آپریشن ڈائریکٹر انجینئر مشتاق حسین بڑدی نے خیرپور میں مختلف مرکزی امام بارگاہوں اور ماتمی جلوسوں کی روایتی گزرگاہوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس اہم موقع پر سپرنٹنڈنگ انجینئر عبدالحق سیال، شیعہ رابطہ کونسل کے مرکزی رہنما سعید احمد بلیدی اور سیپکو کے دیگر اعلیٰ افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔

دورے کے دوران چیف انجینئر آپریشن نے مختلف مجالس اور جلوسوں کے بانیان، متولیان اور پرمٹ ہولڈرز سے براہِ راست ملاقاتیں کیں اور محرم الحرام کے انتظامات، خصوصاً بجلی کی فراہمی کے حوالے سے ان کے مسائل سنے۔ انہوں نے موقع پر موجود متعلقہ سب ڈویژنز کے افسران کو ان مسائل کے فوری اور پائیدار حل کے لیے مقتدر احکامات جاری کیے۔ انجینئر مشتاق حسین بڑدی نے فیلڈ اسٹاف کو سخت ہدایت کی کہ ایامِ عزا کے دوران بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ مجالس اور ماتمی جلوسوں کے دوران عزاداروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے تکنیکی ٹیموں کو فوری طور پر جلوسوں کے راستوں سے نیچے لٹکتی ہوئی خطرناک تاریں ہٹانے، بجلی کے پولز (کھمبوں) کو کرنٹ سے محفوظ بنانے اور راستوں میں آنے والے میٹرز اور ٹرانسفارمرز کی مرمت و فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کا حکم دیا۔ چیف انجینئر کا کہنا تھا کہ محرم الحرام کے دوران فرائض کی انجام دہی میں کسی بھی قسم کی تکنیکی یا انتظامی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ اس موقع پر شیعہ رابطہ کونسل کے رہنماؤں نے سیپکو حکام کو جلوسوں اور مجالسِ عزا کے اوقات اور روٹس سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اور سیپکو انتظامیہ کے اس فعال مقتدر اقدام کو سراہا۔

پاک ایران تعلقات میں اہم پیش رفت: جنرل سید عاصم منیر کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مقتدر ملاقات، خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

کاشف عباسی ,june 23,2026

راولپنڈی (سفارتی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ایک انتہائی اہم اور مقتدر ملاقات کی ہے۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران مجموعی علاقائی صورتحال، امن کے پائیدار فروغ، سیکیورٹی چیلنجز اور خطے میں پائیدار استحکام سے متعلق تزویراتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے دوطرفہ برادرانہ تعاون کو مزید وسعت دینے پر مکمل اتفاق کیا۔

پاک فوج کے ترجمان کے مطابق، ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے خطے میں مکالمے کے آغاز، کشیدگی میں نمایاں کمی اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری، مخلصانہ اور ذمہ دارانہ کردار کو مقتدر الفاظ میں سراہا۔ ایرانی صدر نے علاقائی تنازعات کے پرامن حل اور مختلف عالمی و علاقائی فریقوں کے درمیان مفاہمت کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کی مسلسل اور کامیاب سفارتی کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاک ایران مضبوط تعلقات پورے خطے کے امن و امان اور معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

مقتدر ملاقات کے دوران آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل اور اصولی عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان دیرینہ دوطرفہ، دفاعی اور سفارتی تعلقات کو مشترکہ مفادات کے تحت مزید مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے تمام امور پر مستقبل میں بھی قریبی تزویراتی مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے عسکری ذرائع کے مطابق، اس اہم ملاقات سے دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین سرحدی سیکیورٹی اور علاقائی مفاہمت کے عمل کو مزید تقویت ملے گی۔

کاروباری شعبے کے لیے اہم تبدیلی: پراپرٹی کی خرید و فروخت پر عائد ایڈوانس ٹیکس میں کمی، فنانس بل میں حتمی منظوری

کاشف عباسی ,june 23,2026

لاہور (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

وفاقی حکومت کی جانب سے فنانس بل کی باقاعدہ منظوری کے بعد پراپرٹی کی خرید و فروخت پر عائد ایڈوانس ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے۔ اس مقتدر فیصلے کے تحت ملک بھر میں غیر منقولہ جائیداد (پراپرٹی) کے لین دین پر ٹیکس کی نئی شرحیں نافذ کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالیاتی سال کے آغاز سے ہی پورے ملک میں جائیداد کے خریداروں اور فروخت کنندگان سے اسی نئی مقررہ شرح کے مطابق ٹیکس کی وصولی کا آغاز کر دیا جائے گا۔

نئے منظور شدہ قانون کے مقتدر مروجہ ضوابط کے تحت، یکم جولائی سے جائیداد فروخت کرنے والے کسی بھی شخص سے سودے کی مجموعی رقم کا 2.75 فیصد ایڈوانس ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ دوسری جانب، جائیداد خریدنے والے شخص پر بھی پراپرٹی کی رائج الوقت فیئر مارکیٹ ویلیو کا 1.25 فیصد ایڈوانس ٹیکس لاگو ہوگا۔ معاشی ماہرین اور رئیل اسٹیٹ سے وابستہ حلقوں کے مطابق، ٹیکس کی شرح میں اس مقتدر تبدیلی سے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرگرمیوں اور کاروباری لاگت پر براہِ راست اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

پراپرٹی سیکٹر کے برعکس، فنانس بل کے تحت کارپوریٹ سیکٹر اور بینکاری کے شعبے پر ٹیکسوں کے بوجھ میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یکم جولائی سے نافذ العمل ہونے والی ترامیم کے مطابق، بینکنگ کمپنیوں اور فرٹیلائزر (کھاد) کے سیکٹر کی پندرہ کروڑ روپے سے زائد کی سالانہ آمدن پر 10 فیصد کی شرح سے بھاری ٹیکس عائد ہوگا، جبکہ ان کے علاوہ دیگر تمام کارپوریٹ کمپنیوں کی پچاس کروڑ روپے سے زائد کی آمدنی پر 8 فیصد کی شرح سے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر پر ٹیکس بڑھانے سے دستاویزی معیشت اور قومی خزانے کو مقتدر فائدہ پہنچے گا۔

ایوان میں گرما گرمی: وزیرِ اعظم کے خطاب کے انداز سے بالکل مزہ نہیں آیا، ملک کے گرد بربادی کا ماحول ہے، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی

منصور احمد june 23,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے خطاب کے بعد ایوان میں سخت اور تیکھا اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے ڈھائی سال پورے ہونے والے ہیں لیکن ملک کے ارد گرد بربادی کا ماحول ہے، جس کے تدارک کے لیے اب حکمرانوں کو اپنا روایتی رویہ اور لہجہ بدلنا ہوگا۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ وزیرِ اعظم نے جس انداز میں آج بات کی مجھے اس کا بالکل مزہ نہیں آیا، یاد رکھیں کہ اب آپ کے پاس وقت بہت کم ہے اور ہمارے چاروں طرف ایک بڑی بربادی پھیلی ہوئی ہے۔

محمود خان اچکزئی نے اسپیکر قومی اسمبلی کے حالیہ اقدامات اور کردار پر شدید سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسپیکر نے ایوان چلاتے ہوئے آئین اور قانون کا بالکل خیال نہیں رکھا، بلکہ انتہائی چابک دستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ہی چودہ ساتھی پارلیمنٹیرینز کو اسمبلی سے فارغ کر دیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ماضی اور حال میں ہمیشہ آئین کو روندنے کے لیے غیر جمہوری حکومتوں کا ساتھ دیا گیا۔ ملک میں حالیہ عدالتی سزاؤں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے انکشاف کیا کہ کوٹ لکھپت جیل میں قید ستر سال سے زائد عمر کے بزرگ قیدیوں کو سخت سزائیں دی گئی ہیں، جہاں پانچ افراد کو مجموعی طور پر دو سو چھیاسی سال قید کی سزا سنائی گئی۔ انہوں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ماہ رنگ بلوچ کو عمر بھر کی قید کی سزا سنانے کو سراسر زیادتی قرار دیا۔

اپوزیشن لیڈر نے وفاق سے گلہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی آسمان پر نہیں بلکہ بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا اور پنجاب کا مجموعہ ہے، تو پھر خیبرپختونخوا کو برابر کا پاکستان کیوں نہیں سمجھا جاتا؟ انہوں نے شکوہ کیا کہ آزاد کشمیر کے عوام بنیادی ضروریات اور آٹے کے لیے چیخ رہے ہیں لیکن اس پر وزیرِ اعظم کا رویہ مایوس کن تھا۔ انہوں نے وزیرِ اعظم کو مشورہ دیا کہ وہ خود بلوچ قیادت کو بلائیں اور یقین دہانی کروائیں کہ بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق وہاں کے بچوں کا ہے، اور یہی حق سندھ اور خیبرپختونخوا کے عوام کو بھی دیا جائے۔ خطاب کے آخر میں انہوں نے ایوان کو یاد دلایا کہ ہم سب نے آئینِ پاکستان کی حفاظت کا حلف لیا ہے، اس لیے پارلیمنٹ کو مضبوط بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس ایک بہترین فوج موجود ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر شدید افسوس کا اظہار کیا کہ تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان تاحال جیل میں قید ہیں۔

لاہور میں پہلی الیکٹرک ٹرام کا منصوبہ ایک بار پھر تاخیر کا شکار، پنجاب حکومت نے روٹ تبدیل کر کے کینال روڈ کو نکال دیا

منصور احمد june 23,2026

لاہور (خصوصی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

لاہور کے شہریوں کے لیے جدید اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے والا پنجاب حکومت کا پہلا الیکٹرک ٹرام منصوبہ ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ حکومتِ پنجاب نے ٹرام کے پرانے روٹ میں تزویراتی تبدیلی کرتے ہوئے اس منصوبے سے شہر کی اہم ترین شاہراہ کینال روڈ کو مکمل طور پر خارج کر دیا ہے۔ حکام کی جانب سے جاری کردہ نئی تفصیلات کے مطابق، الیکٹرک ٹرام کا نیا روٹ اب جن مقتدر علاقوں پر مشتمل ہوگا، ان میں سی بی ڈی، گلبرگ، جیل روڈ اور استنبول چوک شامل ہیں۔

سرکاری حکام کا اس اہم فیصلے کے حوالے سے کہنا ہے کہ کینال روڈ کو روٹ سے نکالنے کا مقتدر فیصلہ خالصتاً تکنیکی امور اور ماحولیاتی تحفظ کو مدِ نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ اگر ٹرام کینال روڈ پر چلائی جاتی تو اس کے لیے سڑک کے دونوں اطراف موجود پرانے اور گھنے درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی کرنا پڑتی، جس سے لاہور کے پہلے سے متاثرہ ماحول کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔ لہٰذا، شہر کے گرین کور اور قیمتی درختوں کو بچانے کے لیے روٹ کو تبدیل کرنا ناگزیر سمجھا گیا۔

یاد رہے کہ یہ جدید الیکٹرک ٹرام پہلی بار جولائی 2025ء میں چین سے لاہور پہنچی تھی، جس کے بعد اگست 2025ء میں ایکسپو سینٹر لاہور میں عوام اور مقتدر شخصیات کے لیے اس کی باقاعدہ نمائش کی گئی تھی۔ اس ٹرام کا کامیابی سے آزمائشی سفر بھی کیا جا چکا ہے، تاہم بار بار روٹ کی تبدیلی، فنڈز کی دستیابی اور دیگر تکنیکی وجوہات کے باعث اس عوامی منصوبے کے باقاعدہ آغاز اور افتتاح کی حتمی ٹائم لائن ابھی تک واضح نہیں ہو سکی ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو اس جدید سفر کے لیے مزید انتظار کرنا پڑے گا۔

تمام اقساط اسی مالیاتی سال کے اندر ادا کرنا لازمی ہوگا؛ ڈیجیٹل نان کمپلائنس پر سزاؤں اور قانونی کارروائیوں میں بھی کمی کا مقتدر فیصلہ

کاشف عباسی ,june 23,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

وفاقی حکومت نے نیشنل اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی اہم سفارشات پر فنانس بل میں چند انتہائی مقتدر ترامیم شامل کرتے ہوئے قومی اسمبلی سے فنانس بل کی باقاعدہ منظوری حاصل کر لی ہے۔ ان ترامیم کا بنیادی مقصد عوام اور موبائل صارفین پر سے یکمشت ٹیکسوں کا بھاری بوجھ کم کرنا اور متعلقہ کاروباری شعبوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ٹیم اور وزارتِ خزانہ کے اعلیٰ حکام نے طویل تزویراتی مشاورت کے بعد ان عوامی ترامیم کو حتمی شکل دی، جس کے بعد ایوان نے اپوزیشن کی کٹوتی کی تحاریک کو مسترد کرتے ہوئے مالیاتی بل کی شق وار منظوری دے دی۔

قائمہ کمیٹی کی منظور شدہ سفارش کے مطابق، اب بیرونِ ملک سے لائے جانے والے یا امپورٹڈ موبائل فونز پر عائد بھاری ٹیکسز کی یکمشت ادائیگی کے بجائے قسطوں کا باقاعدہ نظام متعارف کروایا جا رہا ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے موبائل ڈیوائس رجسٹریشن سسٹم کے تحت بلاک یا رجسٹرڈ ہونے والے فونز کا ٹیکس اب صارفین آسان اقساط میں ادا کر سکیں گے۔ تاہم، اس مقتدر قانون کے تحت یہ لازمی شرط رکھی گئی ہے کہ تمام اقساط اسی مالیاتی سال کے اندر ادا کرنا ہوں گی جس مالیاتی سال میں وہ فون پاکستان میں امپورٹ یا داخل کیا گیا ہو۔ اس کے علاوہ، ڈیجیٹل نان کمپلائنس یعنی ڈیجیٹل قوانین کی عدم تعمیل پر عائد سخت سزاؤں اور قانونی کارروائیوں کے حجم میں بھی نمایاں کمی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے فنانس بل قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں ایوان میں پیش کرنے کی مقتدر اجازت چاہی۔ اسپیکر کی جانب سے باقاعدہ اجازت ملنے پر انہوں نے یہ تاریخی رپورٹ ایوان کے سامنے پیش کی، جس کی اکثریت رائے سے منظوری دے دی گئی۔ معاشی اور تکنیکی ماہرین کے مطابق، پی ٹی اے ٹیکس قسطوں میں کرنے کے اس فیصلے سے ملک میں موبائل فونز کی قانونی رجسٹریشن کے رجحان میں مقتدر اضافہ ہوگا اور متوسط طبقے کو اپنے قیمتی فونز بحال کروانے میں انتہائی آسانی پیدا ہوگی۔