اقوامِ متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر من و عن عملدرآمد کے لیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے، وزیراعظم شہباز شریف

کاشف عباسی , JULY 10,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر من و عن عملدرآمد اور عالمی امن، سلامتی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے بین الاقوامی قوانین اور کثیرالجہتی معاہدوں کے احترام کے حوالے سے پاکستان کے مستقل اور غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔ جمعہ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے امیدوار میکی سال نے یہاں وزیراعظم ہاؤس میں ایک اہم تزویراتی ملاقات کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے میکی سال کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کے لیے پاکستان کے پائیدار عزم کو دہرایا اور عالمی امور کو مقتدر انداز میں چلانے کے لیے اقوامِ متحدہ کے مرکزی کردار کے لیے پاکستان کی مضبوط اور اصولی حمایت کا واضح اظہار کیا۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ اقوامِ متحدہ کی آئندہ آنے والی قیادت، ادارے کے تین بنیادی اور اہم ترین ستونوں، یعنی عالمی امن و سلامتی، اقتصادی ترقی اور انسانی حقوق کو متوازن انداز میں آگے بڑھانے کے لیے اپنا مؤثر تزویراتی کردار ادا کرے گی۔

ملاقات کے دوران، سیکریٹری جنرل کے امیدوار میکی سال نے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اور دیگر شعبوں کے لیے پاکستان کی دیرینہ، تاریخی اور گراں قدر خدمات کو مقتدر الفاظ میں سراہا۔ انہوں نے عالمی امن کے فروغ اور بین الاقوامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جاری کوششوں میں پاکستان کی اعلیٰ قیادت کے تعمیری اور مثبت کردار کی تعریف کی، اور اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی استحکام کے لیے پاکستان کا کردار ہمیشہ تزویراتی اہمیت کا حامل رہا ہے۔

یوکرین تنازع میں بڑھتی ہوئی کشیدگی امن کے امکانات کو مزید معدوم کر رہی ہے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا واشگاف موقف

محمود احمد, JULY 09,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

پاکستان نے عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین تنازع کی لڑائی میں حالیہ شدید اضافہ اور جنگ کے دائرۂ کار میں مسلسل توسیع نہ صرف متاثرہ علاقوں میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے، بلکہ فریقین کے درمیان فاصلے، عدم اعتماد اور تزویراتی کشیدگی کو بھی ہوا دے رہی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں پُرامن مذاکرات کے لیے سیاسی گنجائش تیزی سے سکڑ رہی ہے اور امن کے امکانات مزید معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔

مقتدر تفصیلات کے مطابق، یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے آج اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے یوکرین سے متعلق منعقدہ خصوصی اجلاس میں پاکستان کا قومی بیانیہ پیش کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اس تنازع نے جس خطرناک اور تشویشناک رخ کو اختیار کر لیا ہے، اسے فوری طور پر تبدیل کرنے کی تزویراتی ضرورت ہے، اور اس کا بہترین راستہ فوجی ذرائع کو اپنانے کے بجائے سنجیدہ مکالمے اور سفارت کاری میں مزید سرمایہ کاری کرنا ہے۔

سفیر عثمان جدون نے کونسل کو بتایا کہ واضح طور پر اس ضمن میں بنیادی ذمہ داری تمام متعلقہ فریقین پر عائد ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں ہم ایک بار پھر فوری اور مکمل جنگ بندی اور سنجیدہ و بامعنی مذاکرات کی بلا تاخیر بحالی کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور بنیادی اصولوں، تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات اور متعلقہ کثیرالجہتی معاہدوں سے ہم آہنگ، باہمی طور پر قابلِ قبول اور پُرامن تصفیہ ہی خطے میں دیرپا امن کے حصول کا واحد قابلِ عمل تزویراتی راستہ ہے۔

انہوں نے سلامتی کونسل کے اراکین کے سامنے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کے اندر اور باہر، جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل تلاش کرنے کی بارہا کی جانے والی مقتدر اپیلیں اب تک بدقسمتی سے مؤثر ثابت نہیں ہو سکیں ہیں۔ اپنے تزویراتی بیان کے اختتام پر سفیر عثمان جدون نے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس عالمی تنازع کے منصفانہ، جامع، پائیدار اور پُرامن حل کے لیے کی جانے والی تمام بین الاقوامی کوششوں کی بلا تفریق حمایت جاری رکھے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت کوئٹہ میں صوبائی اپیکس کمیٹی کا مقتدر اجلاس، بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ

کاشف عباسی , JULY 09,026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت کوئٹہ میں صوبائی اپیکس کمیٹی کا ایک اعلیٰ سطحی اور مقتدر اجلاس منعقد ہوا، جس میں بلوچستان کی مجموعی امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی تزویراتی جائزہ لیا گیا۔ قومی ایکشن پلان (نیشنل ایکشن پلان) کے اس اہم ترین اجلاس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے علاوہ وفاقی وزرا عطا تارڑ، احد چیمہ، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور قانون نافذ کرنے والے مقتدر اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران صوبے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام سے متعلق کئی اہم تزویراتی فیصلوں اور انتظامی اقدامات کی منظوری دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس میں مقتدر اظہارِ خیال کرتے ہوئے واضح کیا کہ دہشت گردی کے فتنے کے مکمل خاتمے کے لیے ریاست اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے گی اور آخری فسادی و دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ بلا تفریق جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں پولیس اور فوج کے جوانوں سمیت متعدد شہری شہید ہوئے ہیں، اور افواجِ پاکستان نے ملکی سلامتی کے لیے بڑی قربانیاں دے کر اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا ہے، جس پر پوری قوم سکیورٹی فورسز کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے۔ وزیراعظم کا واشگاف الفاظ میں کہنا تھا کہ ان مزموم واقعات میں ہمارے مشرقی ہمسائے کا ہاتھ ہے، جہاں سے دہشت گرد تنظیموں کو اسلحہ اور فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ یہ دہشت گرد افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں بھی دہشت گردی کی کارروائیوں میں خارجی ملوث ہیں، تاہم ملک کی سیاسی و عسکری قیادت فتنہ الخوارج کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے مکمل طور پر یکسو ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال مئی میں معرکہ حق کی کامیابی اور پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیاں دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہیں، مگر شہدا کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی اور پاکستان جلد ترقی و خوشحالی کا گہوارہ بنے گا۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے میڈیا کو بتایا تھا کہ گزشتہ 4 روز کے دوران صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی کے 3 بڑے واقعات رونما ہوئے، جن میں 42 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ سکیورٹی فورسز کی بھرپور جوابی کارروائی میں 54 خارجیوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ ان بزدلانہ حملوں کا بنیادی مقصد شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانا تھا اور یہ سب کچھ بھارت کی سرپرستی میں کروایا جا رہا ہے، تاہم بلوچستان کے بہادر عوام اور فورسز نے دشمن کے اس ایجنڈے کا دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے اسے ناکام بنا دیا ہے۔

منی لانڈرنگ کے الزامات پر ارجنٹائن فٹ بال ایسوسی ایشن کے خلاف امریکا میں تحقیقات کا آغاز

محمود احمد, JULY 09,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے ارجنٹائن کی قومی فٹ بال ٹیم کی نگران تنظیم ‘ارجنٹائن فٹ بال ایسوسی ایشن’ کے خلاف منی لانڈرنگ کے سنگین الزامات کے تحت باقاعدہ تزویراتی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ارجنٹائن کی فٹ بال ایسوسی ایشن امریکی حکام کی زد میں ایک ایسے نازک وقت پر آئی ہے جب اسے 7 جولائی کو مصر کے خلاف کھیلے گئے راؤنڈ آف 16 کے ناک آؤٹ میچ میں شدید ترین دھاندلیوں اور ریفری کی جانب سے ارجنٹائن کو جتوانے کے لیے یکطرفہ فیصلوں کے باعث عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اس متنازع ترین میچ کے بعد ارجنٹائن کی ٹیم، متعلقہ ریفری اور فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا پر دنیا بھر کے کھیلوں کے حلقوں کی جانب سے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

ارجنٹائن کے معتبر اور صفِ اول کے اخبار ‘لا ناسیون’ کی جانب سے جاری کردہ تزویراتی رپورٹ کے مطابق، ایف بی آئی اس وقت فلوریڈا میں قائم کمپنی ‘ٹور پروڈ انٹر ایل ایل سی’ کے مالیاتی امور اور لین دین کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے، جو امریکا میں ارجنٹائن کی فٹ بال ایسوسی ایشن کے تجارتی و مالیاتی معاملات کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی بینکوں کے ذریعے منتقل کی جانے والی تقریباً 26 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم اس وقت وفاقی ادارے کی تحقیقات کا اصل مرکز ہے۔ حکام اس تزویراتی پہلو کا سراغ لگا رہے ہیں کہ آیا یہ مالیاتی ٹرانزیکشنز امریکی قوانین خصوصاً منی لانڈرنگ کے انسداد سے متعلق ضوابط کے خلاف تو نہیں کی گئیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس مجموعی رقم میں سے تقریباً 5 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مختلف نجی کمپنیوں اور افراد کو ایسی مبہم روش کے تحت منتقل کیے گئے جن کی کوئی ٹھوس یا قانونی وجہ فی الحال سامنے نہیں آ سکی، جس کے بعد ایف بی آئی نے متعلقہ بینکوں کے ریکارڈز اور مالی دستاویزات کو قبضے میں لے کر جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔ تحقیقاتی دستاویزات کے مطابق، جن بینکوں کے ذریعے یہ بھاری فنڈز منتقل کیے گئے ان میں سٹی بینک، بینک آف امریکہ، جے پی مورگن چیز، پی این سی بینک اور سائنووس بینک شامل ہیں۔ تاہم، رپورٹس میں ان بینکوں پر کسی بدعنوانی کا الزام نہیں ہے بلکہ ان کا نام صرف ان ٹرانزیکشنز کو پروسیس کرنے کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، اس بڑی مالیاتی انکوائری کا دائرہ کار اب ارجنٹائن فٹ بال ایسوسی ایشن کے مقتدر عہدیداروں تک پھیل گیا ہے، جن میں ایسوسی ایشن کے صدر کلاڈیو تاپیا کا نام بھی شامل ہے۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا آغاز کسی فرد کو مجرم قرار دینے کے مترادف نہیں ہوتا، تاہم یہ کسی بڑے مجرمانہ نیٹ ورک کی نشاندہی کی طرف ایک اہم تزویراتی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، ارجنٹائن کی ٹیم فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنل راؤنڈ میں سوئٹزرلینڈ کے خلاف میچ کھیلنے کی تیاریوں میں مصروف ہے، مگر اس نئے مالیاتی اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد اس تزویراتی تنازع نے دنیا بھر کے کھیلوں کے پریس اور شائقین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔

فرانس کے خلاف کوارٹر فائنل سے قبل مراکش کو بڑا دھچکا، اسماعیل صیباری انجری کے باعث باہر

محمود احمد, JULY 09,2026

بوسٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

مراکش کے مقتدر اور اسٹار فٹ بالر اسماعیل صیباری فرانس کے خلاف فیفا ورلڈ کپ 2026 کے انتہائی اہم کوارٹر فائنل میچ سے باہر ہو گئے ہیں، جس کی باقاعدہ تصدیق ٹیم کے ہیڈ کوچ محمد اوہابی نے کی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق، بوسٹن کے جلیٹ اسٹڈیم میں شیڈول مقتدر میچ سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے مراکش کے فٹ بال کوچ نے بتایا کہ اسماعیل صیباری کے علاوہ ٹیم کے تمام کھلاڑی 100 فیصد فٹ اور پُرعزم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ میچ اسماعیل صیباری کے لیے بہت جلدی آ گیا ہے لیکن امید ہے کہ وہ اگلے میچوں تک مکمل فٹ ہو جائیں گے۔

اسماعیل صیباری، جنہوں نے حال ہی میں ہالینڈ کے کلب پی ایس وی آئندھووین سے 50 ملین یورو (57 ملین ڈالر) کے عوض جرمن کلب بائرن میونخ میں شمولیت اختیار کی ہے، موجودہ فیفا ورلڈ کپ میں مراکش کے اہم ترین کھلاڑی رہے ہیں۔ انہوں نے گروپ اسٹیج کے تمام 3 میچوں میں شاندار گول کیے اور راؤنڈ آف 32 میں ہالینڈ کے خلاف پینلٹی شوٹ آؤٹ پر فیصلہ کن گول بھی داغا تھا، تاہم کینیڈا کے خلاف راؤنڈ آف 16 کے میچ میں وہ ہیمسٹرنگ انجری کا شکار ہو کر میدان سے باہر چلے گئے تھے۔

مراکش کی ٹیم 2022 کے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں فرانس کے ہاتھوں ملنے والی 0-2 کی شکست کا تزویراتی بدلہ لینے کے لیے میدان میں اترے گی۔ کوچ محمد اوہابی نے ان تجاویز کو مقتدر انداز میں مسترد کر دیا کہ کوارٹر فائنل تک پہنچنا ہی ان کی ٹیم کے لیے بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم کل کا میچ ہر حال میں جیتنا چاہتے ہیں اور سیمی فائنل میں جگہ بنانے کی پوری تزویراتی کوشش کریں گے۔ دوسری جانب مراکش اور ریال میڈرڈ کے مقتدر کھلاڑی ابراہیم ڈیاز کا کہنا تھا کہ وہ فرانس جیسی مضبوط ٹیم کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیار ہیں اور انہیں اپنی ٹیم پر پورا بھروسہ ہے۔ واضح رہے کہ اس میچ کی فاتح ٹیم سیمی فائنل میں اسپین یا بیلجیم کے مدِ مقابل آئے گی۔

پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات 56 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی ریکارڈ ترین سطح پر پہنچ گئیں، وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری

منصور احمد, JULY 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی مچھلی اور مچھلی سے تیار کی جانے والی مصنوعات کی برآمدات ریکارڈ 56 کروڑ 80 لاکھ امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ جمعرات کو جاری کردہ اپنے تزویراتی بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ تاریخی کامیابی حکومت کی بحری معیشت (بلیو اکانومی) کی اصلاحات، سمندری خوراک کی برآمدات میں اضافے اور بین الاقوامی معیار کے مطابق خوراک کی حفاظت اور اعلیٰ معیار کو یقینی بنانے کے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

وفاقی وزیر نے برآمدات کے باریک بین اعداد و شمار بتاتے ہوئے واضح کیا کہ برآمدات میں منجمد مچھلی سرفہرست رہی، جس سے 10 کروڑ 50 لاکھ 90 ہزار ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا، جبکہ منجمد اسکویڈ اور کٹل فش کی برآمدات 10 کروڑ 37 لاکھ 10 ہزار ڈالر، فش میل 8 کروڑ 31 لاکھ 20 ہزار ڈالر، جھینگا 6 کروڑ 21 لاکھ 40 ہزار ڈالر، کیکڑا 3 کروڑ 68 لاکھ 90 ہزار ڈالر، سارڈین 3 کروڑ 6 لاکھ 20 ہزار ڈالر، میکرل 2 کروڑ 26 لاکھ 70 ہزار ڈالر، فلیٹ فش 1 کروڑ 72 لاکھ 40 ہزار ڈالر، آکٹوپس 1 کروڑ 51 لاکھ 80 ہزار ڈالر اور سوریمی (قیمہ نما مچھلی کا گوشت) 1 کروڑ 46 لاکھ 30 ہزار ڈالر رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات کا بڑا حصہ چین، تھائی لینڈ، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات، جاپان، ویتنام، سعودی عرب، جنوبی کوریا، انڈونیشیا اور امریکہ بھیجا گیا۔

محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ خلیجی خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث علاقائی تجارت اور بحری نقل و حمل (لاجسٹکس) میں رکاوٹوں کے باوجود یہ ریکارڈ کامیابی حاصل کرنا پاکستان کے ماہی گیری کے شعبے، برآمدکنندگان اور متعلقہ اداروں کی استعداد کا ثبوت ہے۔ انہوں نے میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منصور علی وسان اور ان کی ٹیم کو بین الاقوامی معیار برقرار رکھنے اور برآمدی منڈیوں تک رسائی آسان بنانے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ وزارت بحری امور جلد ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کرے گی، جس میں ملک کے ٹاپ 10 فشریز ایکسپورٹرز کو وزیراعظم کی جانب سے تعریفی اسناد پیش کی جائیں گی۔ انہوں نے اس تاریخی کامیابی پر میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ، پاکستان فشریز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، فش پروسیسرز اور تمام متعلقہ فریقین کو مبارکباد پیش کی۔

بحری معیشت کے فروغ اور بین الاقوامی تجارت کی سہولت کے لیے کسٹمز نظام میں وسیع پیمانے پر اصلاحات نافذ، ممبر کسٹمز سید شکیل شاہ

محمود احمد, JULY 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ممبر کسٹمز سید شکیل شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم ٹاسک فورس کی سفارشات اور ایف بی آر میں جاری اصلاحات کے تحت بحری معیشت کے فروغ اور بین الاقوامی تجارت کو سہل بنانے کے لیے کسٹمز نظام میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کے نفاذ کا سلسلہ جاری ہے۔ وہ جمعرات کو یہاں وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے میری ٹائم افیئرز کے چیئرمین افتخار احمد راؤ اور سیکرٹری میری ٹائم افیئرز کے ہمراہ مشترکہ پریس بریفنگ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی میں میری ٹائم افیئرز کا بنیادی کردار ہے اور ٹاسک فورس کی نشاندہی پر بندرگاہوں سے متعلق متعدد اہم مسائل کے حل کے لیے مقتدر اقدامات کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں درآمدی سامان کی کلیئرنس کا دورانیہ 1 سال کے اندر 52.9 گھنٹوں سے کم ہو کر 18.3 گھنٹے رہ گیا ہے، جبکہ حکومت نے اس ہدف کو 12 گھنٹے تک لانے کا عزم کر رکھا ہے۔

سید شکیل شاہ نے بتایا کہ ٹاسک فورس کی سفارشات پر ملک کی بندرگاہوں پر کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی کے لیے فیس لیس نظام نافذ کیا گیا ہے، جس سے فی گڈز ڈیکلریشن اوسط ریونیو 16 فیصد اضافے کے بعد 6.8 ملین روپے سے بڑھ کر 7.7 ملین روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ درآمدی ٹیکسوں کی مجموعی وصولی میں 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے بڑے بحری جہازوں کو ایندھن کی فراہمی (بنکرنگ) کے مقتدر قواعد تیار کر کے کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں پر نافذ کر دیے گئے ہیں، جس سے بحری تجارت میں اضافہ ہو گا۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے قوانین اپ گریڈ کیے ہیں اور اب آف ڈاک ٹرمینلز سمیت بندرگاہوں پر مجموعی طور پر 50 ہزار کنٹینرز ذخیرہ کرنے کی گنجائش حاصل کر لی گئی ہے۔ مزید برآں، مقامی شپ بلڈنگ کے فروغ کے لیے ویسلز پر کسٹمز ڈیوٹی کے بعد اب نئے مالی سال کے بجٹ میں سیلز ٹیکس بھی مکمل ختم کر دیا گیا ہے۔

ممبر کسٹمز نے تزویراتی تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹل اصلاحات کے تحت دریائے سندھ کے اطراف ملک بھر میں 35 ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز قائم کیے جا رہے ہیں جو مشکوک، اسمگل شدہ اور ٹیکس چوری میں ملوث کارگو کی نگرانی کریں گے۔ ان مقتدر اقدامات کی بدولت پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی وصولیوں میں 124 ارب روپے اور سگریٹ پر درآمدی ڈیوٹی کی مد میں 51 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوا ہے، جبکہ ٹائروں کی قانونی درآمد میں 42 فیصد، فیبرکس میں 41 فیصد، کاسمیٹکس میں 75 فیصد اور الیکٹرانکس کی درآمدات میں 105 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ نظام میں شفافیت لانے کے لیے فریٹ فارورڈنگ ایجنٹس کی رجسٹریشن کے لیے پیشہ ورانہ امتحان کا انعقاد اب انسٹی ٹیوٹ آف بائننس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی کرے گا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان سنگل ونڈو، پیشگی کارگو ڈیکلریشن، این ایل سی کے ساتھ کنٹینرز اسکیننگ کے جدید نظام اور ریئل ٹائم ٹریکنگ سسٹم کی بدولت پاکستان کے بحری و تجارتی شعبے کو عالمی معیار کے مطابق تیار کیا جا رہا ہے۔

ترکیہ سے واپسی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غیر متوقع فیصلہ، سکیورٹی خدشات کے باعث اپنا طیارہ تبدیل کر لیا

کاشف عباسی , JULY 09,026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد ترکیہ سے وطن واپسی کے دوران اپنا طیارہ غیر متوقع طور پر تبدیل کر لیا ہے، جس کی بنیادی وجہ سنگین سکیورٹی خطرات بتائی گئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ترکیہ میں منعقدہ نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے قطر کی حکومت کی طرف سے تحفتاً دیے گئے اپنے نئے طیارے میں انقرہ پہنچے تھے۔ تاہم، واپسی کے تزویراتی سفر کے لیے انہوں نے اچانک اس طیارے کو استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے پرانے اور آزمودہ ‘ایئر فورس ون’ طیارے کے ذریعے برطانیہ تک کا سفر مکمل کیا۔

برطانیہ پہنچنے کے بعد صدر ٹرمپ نے وہاں سے امریکا تک کا بقیہ سفر دوبارہ اسی قطری تحفے والے طیارے میں کیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک مقتدر بیان میں اس غیر متوقع تبدیلی کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے انقرہ سے برطانیہ کے علاقے ملڈن ہال میں واقع رائل ایئر فورس کے فوجی بیس تک کا سفر اپنے پرانے ‘ایئر فورس ون’ طیارے میں کیا، جبکہ اس تزویراتی دورانئے میں ان کا نیا طیارہ اسی ایئر بیس پر محفوظ کھڑا رہا اور وہاں تعینات امریکی سکیورٹی فوجیوں نے اس کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔

واضح رہے کہ امریکا کے اعلیٰ سکیورٹی حکام نے قطر کی طرف سے امریکی صدر کو تحفتاً دیے گئے اس جدید طیارے کی پہلے بھی کئی مرتبہ تفصیلی جانچ پڑتال کی ہے۔ انقرہ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا باقاعدہ اعتراف کیا کہ انہیں موجودہ صورتحال میں ممکنہ طور پر ایران کی جانب سے شدید سکیورٹی خطرات لاحق ہیں، جس کی وجہ سے یہ حفاظتی تزویراتی اقدامات اٹھائے گئے۔

چین میں رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران نئی توانائی کی گاڑیوں کی پیداوار، فروخت اور برآمدات میں مستحکم اضافہ ریکارڈ

منصور احمد, JULY 09,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

چین میں رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران نئی توانائی کی گاڑیوں (نیو انرجی وہیکلز) کی پیداوار، فروخت اور بین الاقوامی برآمدات میں مقتدر و مستحکم اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے چائنا ایسوسی ایشن آف آٹوموبائل مینوفیکچررز کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ ترین تزویراتی اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ رواں سال جنوری سے جون تک کے عرصے میں چین کی آٹوموبائل صنعت نے نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کے شعبے میں بے پناہ ترقی کا مظائرہ کیا ہے۔ جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس 6 ماہ کے عرصے کے دوران چین میں نئی توانائی کی گاڑیوں کی مجموعی پیداوار 74 لاکھ 38 ہزار یونٹس جبکہ فروخت 74 لاکھ 46 ہزار یونٹس رہی، جو بالترتیب گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 6.7 فیصد اور 7.3 فیصد زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق، صرف جون کے مہینے میں نئی فروخت ہونے والی گاڑیوں کی مارکیٹ میں نئی توانائی کی گاڑیوں کا حصہ مجموعی طور پر فروخت ہونے والی تمام گاڑیوں کا تقریباً 60 فیصد رہا، جو کہ ماحول دوست اور جدید گاڑیوں کی طرف ایک مقتدر تزویراتی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ عالمی برآمدات کے حوالے سے جاری کردہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ جنوری سے جون تک چین نے دنیا بھر کے مختلف ممالک کو مجموعی طور پر 50 لاکھ 96 ہزار گاڑیاں برآمد کیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 65.3 فیصد کا مقتدر اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ ان برآمد کی جانے والی گاڑیوں میں سے صرف نئی توانائی کی گاڑیوں کی برآمدات کا حجم 23 لاکھ 55 ہزار رہا، جو سالانہ بنیادوں پر 1.2 گنا مقتدر و تاریخی اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

ایران کی جانب سے امریکی فوجی حملوں اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی شدید مذمت، سلامتی کونسل کو خط ارسال

محمود احمد, JULY 09,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

ایران نے امریکا کی جانب سے ایک بار پھر کی جانے والی مبینہ جارحانہ کارروائیوں اور اقوامِ متحدہ کے منشور سمیت تمام بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق، اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے سفیر امیر سعید ایروانی نے گزشتہ روز اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش اور جولائی کے مقتدر مہینے کے لیے سلامتی کونسل کے صدر کو ایک باقاعدہ خط ارسال کیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا نے ایک بار پھر جنوبی ایران میں واقع شہری تنصیبات پر بڑے پیمانے پر فوجی حملے کیے ہیں۔ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے کی جانے والی یہ نئی جارحانہ کارروائیاں اقوامِ متحدہ کے منشور کی دفعہ ۲ (۴) کی کھلی خلاف ورزی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق ۱ کی سنگین ترین خلاف ورزی ہیں۔

ایرانی مندوب سفیر امیر سعید ایروانی نے اپنے مقتدر خط میں تزویراتی موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ سویلین اور شہری تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا اور ایران کی خودمختاری کے خلاف طاقت کا مسلسل و غیر قانونی استعمال بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین ترین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاندانہ اقدامات امریکا کی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے مکمل انحراف اور توہین کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایرانی مندوب نے اپنے مقتدر بیانیے میں اس بات کا پرزور اعادہ کیا کہ ایران یہ واضح کر دینا چاہتا ہے کہ امریکا کی طرف سے طاقت کے اس غیر قانونی استعمال، اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تمام تر سنگین نتائج اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کی تمام تر اخلاقی و قانونی ذمہ داری براہِ راست امریکا پر عائد ہوتی ہے۔

سندر انڈسٹریل سٹیٹ میں معروف سنیکس یونٹ پر چھاپہ، تازہ مصنوعات کے ساتھ زائد المیعاد چاکلیٹ، بسکٹس اور کیکس ذخیرہ کرنے پر یونٹ بند

منصور احمد, JULY 09,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے شہریوں کی صحت کے تحفظ کے لیے ایک مقتدر تزویراتی کریک ڈاؤن کرتے ہوئے لاکھوں روپے مالیت کی ۱۲ ہزار ۴۸۱ کلو گرام زائد المیعاد چاکلیٹ، بسکٹس، کیکس، کوکیز، براونی، رس اور دیگر مضرِ صحت اشیائے خورونوش موقع پر تلف کر دی ہیں۔ ترجمان پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ بڑی کارروائی ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی سید موسیٰ رضا کی خصوصی ہدایت پر اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آپریشنز اسد اللہ کی براہِ راست نگرانی میں سندر انڈسٹریل سٹیٹ میں واقع ایک معروف سنیکس یونٹ پر چھاپہ مار کر کی گئی۔ کارروائی کے دوران معلوم ہوا کہ یونٹ میں تازہ مصنوعات کے ساتھ ساتھ بہت بڑی مقدار میں زائد المیعاد اشیا کو بدنیتی سے ذخیرہ کیا گیا تھا، جس پر کارروائی کرتے ہوئے یونٹ کو فوری طور پر بند کر دیا گیا اور برآمد شدہ تمام مال تلف کر دیا گیا۔

ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی سید موسیٰ رضا نے مقتدر تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ چھاپے کے دوران موقع پر تیار شدہ اشیا کی تیاری کا ریکارڈ اور ضروری سپلائی دستاویزات سرے سے موجود نہیں تھیں، جبکہ زائد المیعاد اشیا کو بحفاظت تلف کرنے کے لیے کوئی مؤثر نظام اور مروجہ ضابطہ اخلاق بھی دستیاب نہیں تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ متعدد مصنوعات کو بغیر کسی لازمی رجسٹریشن اور لیبل منظوری کے فروخت کے لیے تیار رکھا گیا تھا۔ اس کے علاوہ گودام میں صفائی ستھرائی کے انتہائی ناقص انتظامات، حشرات کی بہتات اور خوراک تیار کرنے والے عملے کے طبی و تربیتی اسناد کی عدم موجودگی بھی پائی گئی۔ سابقہ سرکاری ہدایات پر عملدرآمد نہ کرنے اور فوڈ قوانین کی مختلف سنگین خلاف ورزیوں پر یہ سخت ترین انتظامی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ سید موسیٰ رضا کا واشگاف الفاظ میں کہنا تھا کہ غیر محفوظ اور مضرِ صحت خوراک فروخت کرنے والوں کو قانون کے مطابق سخت ترین نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے احکامات کے مطابق عوام کی صحت ہماری اولین ترجیح ہے اور خوراک کے معیار پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

اقراء یونیورسٹی اور سرسید یونیورسٹی کے مابین تعلیمی، تحقیقی اور اختراعی شعبوں میں باہمی تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

روزینہ اسماعیل, JULY 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

اقراء یونیورسٹی اور سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ایک مقتدر تزویراتی پیش رفت کرتے ہوئے اپنے اپنے دفاتر برائے تحقیق، جدت اور تجارتی روابط کے ذریعے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں۔ اس مقتدر معاہدے کے تحت دونوں نامور جامعات کے درمیان تعلیمی، تحقیقی اور اختراعی شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ جاری کردہ آفیشل پریس ریلیز کے مطابق، اس شراکت داری کا بنیادی تزویراتی مقصد دونوں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے درمیان مشترکہ تحقیق، جدید جدت طرازی، علم کے تبادلے، صلاحیت سازی اور صنعت و جامعہ کے روابط کو مزید پائیدار اور مضبوط بنانا ہے۔

معاہدے کی تفصیلات کے مطابق، اس مقتدر شراکت داری کے تحت دونوں جامعات کے اساتذہ، محققین اور طلبہ کے لیے مشترکہ تحقیقی منصوبوں، جدید تربیتی پروگراموں، ورکشاپس، سیمینارز اور دیگر علمی و فکری سرگرمیوں کے انعقاد کے وسیع مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ یہ مفاہمتی یادداشت دونوں جامعات کے درمیان ایک مضبوط اور دیرپا تعلیمی شراکت داری کا آغاز ہے، جس کے ذریعے اعلیٰ سطح پر تحقیق، اختراع اور تجارتی سرگرمیوں کو فعال فروغ حاصل ہو گا۔ مقتدر حکام کا کہنا ہے کہ اس تزویراتی اشتراکِ عمل سے نہ صرف دونوں اداروں میں اعلیٰ تعلیم کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی بلکہ ملک میں جدید ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت اور قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے ایک نئی راہ ہموار ہو گی۔

عوام کو پرامن ماحول کی فراہمی اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا؛ وفد کی وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ سے ملاقات

منصور احمد, JULY 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثناء اللہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے ایک مقتدر اور اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی ہے، جس میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے آئندہ انتخابات، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حالیہ احتجاج کے بعد پیدا ہونے والی امن و امان کی صورتحال اور مجموعی سیاسی منظرنامے پر تفصیلی تزویراتی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق، اس مقتدر ملاقات کے دوران آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے متعدد مقتدر رہنماؤں نے باقاعدہ طور پر پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے کا تزویراتی اعلان کیا۔

ملاقات کے دوران وفد نے وفاقی وزیر کو آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی و انتظامی صورتحال سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا، اور اس کے ساتھ ہی مسلم لیگ (ن) کی آئندہ انتخابی مہم، عوامی رابطہ مہم اور پارٹی کی تنظیمی تیاریوں کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اس مقتدر موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ عوام کو اپنی آزادانہ رائے کے مطابق اپنے مقتدر نمائندے منتخب کرنے کے لیے ایک سازگار، محفوظ اور پرامن ماحول کی فراہمی تزویراتی طور پر ناگزیر ہے۔ انہوں نے وفد کو آزاد کشمیر میں مکمل شفاف، غیر جانبدار اور پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی پختہ یقین دہانی کرائی۔ رانا ثناء اللہ نے اپنے مقتدر بیانیے میں مزید کہا کہ عوام کے مقدس ووٹ کا تحفظ اور پورے انتخابی عمل کی ساکھ کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا، اور مسلم لیگ (ن) ایک بھرپور عوامی رابطہ مہم کے ذریعے آزاد کشمیر کے تمام انتخابی حلقوں میں پوری قوت کے ساتھ حصہ لے گی۔

قائداعظم یونیورسٹی اور یولرن کے مابین تعلیمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں باہمی تعاون بڑھانے پر غور

روزینہ اسماعیل, JULY 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

قائد اعظم یونیورسٹی کے نو تعینات وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال سے یولرن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) وسیم احمد نے ایک مقتدر ملاقات کی ہے، جس میں تعلیمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں باہمی تعاون کے وسیع امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ قائد اعظم یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق، اس مقتدر ملاقات کے دوران دونوں جانب سے یونیورسٹی میں ڈیجیٹل تعلیم کے جدید فروغ اور ٹیکنالوجی سے مربوط تدریسی نظام کو مزید مؤثر و پائیدار بنانے کے لیے مشترکہ تزویراتی اقدامات پر غور کیا گیا۔

اس موقع پر تعلیمی ٹیکنالوجی، جدید ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارمز اور جامعات کی تدریسی و تحقیقی سرگرمیوں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو تیز تر کرنے کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے مقتدر الفاظ میں کہا کہ قائد اعظم یونیورسٹی اپنے طلبہ کو بین الاقوامی معیار اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم کی فراہمی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، جبکہ تعلیمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں کسی بھی مقتدر ادارے کے ساتھ مؤثر شراکت داری اس اعلیٰ مقصد کے حصول میں انتہائی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس پختہ عزم کا اظہار کیا کہ تعلیمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں باہمی تعاون کو فروغ دے کر طلبہ کے لیے جدید ڈیجیٹل تعلیمی مواقع فراہم کیے جائیں گے اور مستقبل میں اس تزویراتی اشتراک کے مختلف پہلوؤں پر پیش رفت مستقل جاری رکھی جائے گی۔

برطانیہ میں مقیم پاکستانی برادری دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

محمود احمد, JULY 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر خزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کے مابین اقتصادی و تجارتی روابط کو مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، اور پاکستان برطانیہ کے ساتھ اپنی دیرینہ و پائیدار شراکت داری کو ہر شعبے میں مزید وسعت دینے کے لیے مکمل پرعزم ہے۔ انہوں نے یہ مقتدر باتیں جمعرات کو یہاں برطانیہ میں پاکستان کے نو تعینات ہائی کمشنر ٹیپو عثمان سے ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران کہیں۔ ملاقات میں باہمی اقتصادی مفادات کے امور، پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مالیاتی تعاون کے فروغ اور دوطرفہ تزویراتی شراکت داری کو نئی جہت دینے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے ہائی کمشنر کو نئی سفارتی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے یقین ظاہر کیا کہ ان کا وسیع سفارتی تجربہ برطانیہ میں پاکستان کی اقتصادی سفارت کاری کو مزید مؤثر بنانے میں اہم ثابت ہو گا۔

مقتدر ملاقات کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، بینکاری، ترسیلاتِ زر، کیپیٹل مارکیٹس اور مالیاتی خدمات کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ پاکستان کے روابط کو مزید مضبوط بنانے پر غور کیا گیا، جبکہ لندن کی عالمی مالیاتی مرکز کی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے مالیاتی وسائل اور کیپٹل مارکیٹس کے تزویراتی اہداف کے حصول میں اس کے کلیدی کردار پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیرِ خزانہ نے حکومت کی جانب سے مالی وسائل کے ذرائع کو متنوع بنانے، بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹوں تک رسائی بڑھانے اور ملکی مالیاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔ فریقین نے ڈیجیٹل فنانس، بلاک چین پر مبنی مالیاتی حل، ورچوئل اثاثوں اور ٹوکنائزیشن جیسے جدید مالیاتی ذرائع پر بھی بات چیت کی، جنہیں پاکستان کے وسیع تر ڈیجیٹل تبدیلی کے ایجنڈے کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔

ملاقات میں قرضوں کے مؤثر انتظام اور کیپٹل مارکیٹس کی ترقی کے لیے برطانیہ کے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کے ساتھ جاری تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ ہائی کمشنر ٹیپو عثمان نے وزیر خزانہ کو ادارہ جاتی سرمایہ کاروں سے روابط بڑھانے اور معروف مالیاتی اداروں کے اشتراک سے مستقبل میں برٹش مارکیٹ میں سرمایہ کاری سے متعلق روڈ شوز کے انعقاد کے امکانات سے بھی آگاہ کیا۔ وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ معاشی استحکام برقرار رکھنے، مالیاتی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے، کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے اور نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار معاشی ترقی کے لیے حکومت اپنی اصلاحات کی پالیسیوں پر بھرپور انداز میں عمل پیرا ہے۔ فریقین نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا، جبکہ ہائی کمشنر نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد، تاریخی روابط اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں جن میں مستقبل میں ترقی کے بے شمار امکانات موجود ہیں۔

محققین، اساتذہ، طلبہ اور لائبریرینز کو تحقیقی مواد تک رسائی کی جدید حکمت عملیوں سے آگاہ کیا جائے گا؛ مکمل شرکت پر سرٹیفکیٹ بھی ملے گا

روزینہ اسماعیل, JULY 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان کے زیر اہتمام محققین، اساتذہ، طلبہ اور لائبریرینز کے لیے ’’پاور یوزر اِن لوکیٹنگ ٹیکنیکل ریسورسز: این اِن ڈیپتھ ڈائیو ود آئی ای ای ای ایکسپلور ڈیجیٹل لائبریری‘‘ کے عنوان سے ایک خصوصی و مقتدر ویبینار ۱۴ جولائی ۲۰۲۶ء کو دوپہر ۲ بجے منعقد ہو گا۔ ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیے کے مطابق، اس آن لائن سیشن کا بنیادی تزویراتی مقصد تمام شرکا کو اعلیٰ معیار کے تحقیقی مضامین، تکنیکی لٹریچر، بین الاقوامی معیارات (سٹینڈرڈز) اور دیگر علمی و تحقیقی مواد تک مؤثر اور تیز ترین انداز میں رسائی حاصل کرنے کی جدید حکمت عملیوں سے تفصیلی طور پر آگاہ کرنا ہے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اس مقتدر ویبینار کے دوران آئی ای ای ای ایکسپلور ڈیجیٹل لائبریری کے مؤثر استعمال، مطلوبہ تحقیقی مواد کی درست تلاش، جدید ترین سرچ تکنیکوں اور محققین کی انفرادی و مقتدر تحقیقی صلاحیتوں میں بہتری لانے کے حوالے سے ماہرین کی جانب سے تفصیلی رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ملک بھر کے محققین، جامعات کے اساتذہ، طلبہ اور لائبریری کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد کو اس معلوماتی ویبینار میں بھرپور شرکت کی مقتدر دعوت دی ہے۔ ایچ ای سی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس پورے آن لائن سیشن میں مکمل وقت کے لیے شریک ہونے والے تمام رجسٹرڈ شرکا کو ادارے کی جانب سے باقاعدہ شرکت کا مقتدر سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا جائے گا۔

پالیسیوں کا تسلسل، مصنوعی ذہانت اور اقتصادی سفارت کاری پاکستان کے معاشی مستقبل کے بنیادی ستون ہیں، پروفیسر احسن اقبال

کاشف عباسی , JULY 09,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پالیسیوں کا تسلسل، پائیدار امن، مصنوعی ذہانت، جدت طرازی اور اقتصادی سفارت کاری پاکستان کے معاشی مستقبل کے بنیادی ستون ہیں جبکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی قومی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جمعرات کو وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے جاری کردہ تزویراتی بیان کے مطابق، اپنے دورۂ کیلیفورنیا کے دوران پاکستانی کمیونٹی اور کاروباری شخصیات سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنے علم، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کی معاشی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام تر اختلافات سے بالاتر ہو کر ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کے جذبے کو فروغ دینا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے بتایا کہ اوپن کے بورڈ اراکین کے ساتھ ایک مقتدر ملاقات میں پاکستان کی اختراعی معیشت، ٹیکنالوجی اور کاروباری ترقی کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات پر اتفاق کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی سفارت کاری کو مزید مؤثر بناتے ہوئے بیرونِ ملک پاکستانی سفارتی مشنز کو تجارت، برآمدات اور ٹیکنالوجی تعاون کے مقتدر مراکز میں تبدیل کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے خصوصی مشاورتی گروپس قائم کیے جائیں گے جبکہ تعلیمی نصاب کو بھی مستقبل کے تزویراتی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سلیکون ویلی اور پاکستان کے نیشنل انوویشن سینٹرز کے درمیان شراکت داری کے ذریعے پاکستانی اسٹارٹ اپس کو عالمی منڈیوں تک براہِ راست رسائی فراہم کی جائے گی، کیونکہ پاکستانی انجینئرز اور آئی ٹی ماہرین عالمی معیار کی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔

اپنے دورے کی اہم کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ عالمی شہرت یافتہ ادارے ‘پلگ اینڈ پلے’ کے پاکستان میں باقاعدہ آغاز کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک مقتدر ‘لیٹر آف انٹینٹ’ پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔ اس تزویراتی شراکت داری کے تحت وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور کراچی کو انوویشن ہبز کے طور پر فروغ دیا جائے گا، جبکہ ملک کی ممتاز جامعات کے ۳۰۰ منتخب اسٹارٹ اپس کو عالمی معیار کے ایکسیلیریشن پروگرامز سے منسلک کیا جائے گا۔ پروفیسر احسن اقبال نے واضح کیا کہ اس اہم شراکت داری کے ذریعے پاکستانی اسٹارٹ اپس کو دنیا بھر کی ۶۰۰ سے زائد عالمی کمپنیوں سے مقتدر رابطے اور اسٹریٹجک تعاون کے بہترین مواقع میسر آئیں گے، جس سے پاکستان کی ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کو پائیدار فروغ حاصل ہوگا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے نیویارک میں اہم ملاقات

محمود احمد, JULY 09,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر داخلہ و انسدادِ منشیات محسن نقوی نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ایک اہم اور تزویراتی ملاقات کی ہے، جس کے دوران علاقائی صورتحال، بین الاقوامی امور، اور بالخصوص مغربی ایشیا میں جاری تنازعات کے خاتمے کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی مقتدر ثالثی کی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں اقوامِ متحدہ کے قیامِ امن مشنز میں پاکستان کی لازوال خدمات اور طویل المدتی تعاون کا بھی احاطہ کیا گیا۔ ترجمان وزارتِ داخلہ کے مطابق، اس اہم ملاقات کے دوران سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بین الاقوامی امن کی بحالی کے لیے پاکستان کی مخلصانہ اور مؤثر کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ عالمی و علاقائی چیلنجز کے باوجود وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے اور بے گناہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے انتہائی ذمہ دارانہ اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حقیقت پسندانہ مینڈیٹ اور درکار مالی و آپریشنل وسائل تمام عالمی امن مشنز کی کامیابی کے لیے بنیادی ضرورت ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عالمی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے عظیم مقصد کے حصول کے لیے اقوامِ متحدہ کے قیامِ امن میں پاکستان کے مستقل، فعال اور طویل المدتی تعاون پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔

سیاسی و اقتصادی مفادات کے فروغ کے لیے مؤثر رابطہ کاری اور فعال خارجہ پالیسی پر کاربند رہنے کے عزم کا اعادہ؛ نائب وزیراعظم کی ہدایات

کاشف عباسی , JULY 09,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے آئندہ کی اہم ترین سفارتی مصروفیات کا جائزہ لینے کے لیے سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ اور وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ یہاں دفترِ خارجہ میں ایک مقتدر اجلاس کی صدارت کی ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ تزویراتی بیان کے مطابق، اجلاس میں پاکستان کے بین الاقوامی سفارتی ایجنڈے اور آنے والے ہفتوں میں طے شدہ اعلیٰ سطحی دوروں اور مذاکرات کی تیاریوں کا تفصیلی احاطہ کیا گیا۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مقتدر الفاظ میں ہدایت کی کہ عالمی سطح پر پاکستان کے سیاسی اور اقتصادی مفادات کے بھرپور فروغ کے لیے تمام محکموں کے درمیان مکمل تیاری اور مؤثر رابطہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے اس موقع پر پاکستان کی فعال خارجہ پالیسی کی ترجیحات کو واضح کرتے ہوئے معاشی و اقتصادی سفارت کاری، تزویراتی شراکت داریوں کو وسعت دینے، کثیرالجہتی بین الاقوامی تعاون کے فروغ، اور علاقائی استحکام و عالمی امن کے لیے پاکستان کی ثابت قدم حمایت پر مبنی مستقل عزم کا اعادہ کیا۔

ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل لاہور کی بڑی کارروائی، کاپی رائٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر تین ملزمان گرفتار

منصور احمد, JULY 09,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کارپوریٹ کرائم سرکل لاہور نے کاپی رائٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے خلاف ایک مقتدر کارروائی کرتے ہوئے جعلی مصنوعات کی تیاری اور فروخت میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے لاہور زون کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، گرفتار کیے جانے والے ملزمان میں شاہد رشید، محمد اختر اور وحید عاصم شامل ہیں، جنہیں لاہور کے مختلف مقتدر علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران حراست میں لیا گیا۔

ترجمان نے کارروائی کی تفاصیل بتاتے ہوئے مقتدر الفاظ میں کہا کہ ان چھاپوں کے دوران ملزمان کے قبضے سے ملک کی معروف اور رجسٹرڈ کمپنیوں کے برانڈز کی بھاری تعداد میں تیار کردہ جعلی مصنوعات برآمد کی گئی ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یہ ملزمان نامور کمپنیوں کے نام اور پیکجنگ کا غیر قانونی استعمال کرتے ہوئے جعلی مصنوعات کی تیاری اور انہیں مارکیٹ میں فروخت کرنے کے مقتدر نیٹ ورک میں ملوث تھے۔ ایف آئی اے حکام نے ملزمان کو باقاعدہ گرفتار کر کے ان کے خلاف قانون کے مطابق مقدمات درج کر لیے ہیں اور نیٹ ورک کے دیگر عناصر کی نشاندہی کے لیے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔