پی آئی اے کا ملتان سے ریاض جانے والا مسافر طیارہ فضا میں ہائیڈرالک سسٹم فیل ہونے کے باعث حادثے سے بال بال بچ گیا، پائلٹ کی کمال مہارت اور اے ٹی سی کی مستعدی سے 160 سے زائد مسافروں سے بھرے طیارے کی کراچی ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ، تمام مسافر محفوظ، فنی خرابی دور کرنے کے بعد پرواز سعودی عرب روانہ

محمود احمد june 20,2026

کراچی (ایوی ایشن نیوز(نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

20 جون 2026ء پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا ملتان سے سعودی عرب جانے والا مسافر طیارہ فضا میں اچانک پیدا ہونے والی سنگین فنی خرابی کے بعد ایک ہولناک حادثے سے بال بال بچ گیا، میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض جانے والی پی آئی اے کی مقتدر پرواز پی کے 765 کو دورانِ پرواز فضا میں اچانک ایک بڑے تکنیکی بحران کا سامنا کرنا پڑا، تاہم خوش قسمتی سے کپتان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے باعث کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ فلائٹ آپریشنز ذرائع کے مطابق دورانِ پرواز طیارے کے انتہائی حساس اور اہم ترین ‘ہائیڈرالک سسٹم’ میں اچانک فنی خرابی پیدا ہوگئی جس سے طیارے کے کنٹرول پر اثر پڑنے کا خدشہ تھا، فضا میں خطرے کا احساس ہوتے ہی کپتان نے سیکنڈز ضائع کیے بغیر فوری طور پر کراچی ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ قائم کیا اور ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر ہنگامی لینڈنگ کی اجازت طلب کی۔

ایئر ٹریفک کنٹرول کراچی کی مقتدر مستعدی، ہائی الرٹ اور پائلٹ کی بہترین کارکردگی و اعصاب پر قابو پانے کی بدولت طیارے کو باحفاظت زمین پر اتارنے کی سٹرٹیجک تیاری کی گئی، معلوم ہوا ہے کہ اے ٹی سی کی جانب سے رن وے کلیئر ہونے کا گرین سگنل ملتے ہی کپتان نے کمالِ مہارت اور فلائنگ کنٹرول کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسافر طیارے کو صبح ساڑھے 9 بجے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر بحفاظت لینڈ کرا لیا، ایئرلائن حکام نے آفیشل تصدیق کی ہے کہ طیارے میں 160 سے زائد مقتدر مسافر سوار تھے اور تمام کے تمام بفضلِ خدا بالکل محفوظ اور خیریت سے ہیں، لینڈنگ کے فوراً بعد ایئرپورٹ پر فائر ٹینڈرز اور سیکیورٹی عملے نے طیارے کو گھیرے میں لے کر مسافروں کی دیکھ بھال اور طیارے کی تزویراتی چیکنگ کا عمل شروع کیا۔

ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہے کہ ہنگامی لینڈنگ کے فوراً بعد تمام مسافروں کو طیارے سے انتہائی منظم اور باحفاظت طریقے سے نکال کر ایئرپورٹ کے آرام دہ ٹرانزٹ لاؤنج میں منتقل کیا گیا جہاں پی آئی اے انتظامیہ کی جانب سے ان کی مقتدر مہمان نوازی کی گئی، دوسری جانب پی آئی اے کے سینیئر انجینئرز کی ٹیم نے فوری طور پر طیارے کا چارج سنبھالا اور رن وے کے قریب ہی ہائیڈرالک سسٹم میں موجود فالٹ کو درست کرنے کے لیے ہنگامی کام شروع کر دیا، پی آئی اے کے انجینئرز کی جانب سے طیارے کے انجن اور دیگر پرزوں کا مکمل تکنیکی معائنہ کرنے اور اس کی خرابی کو سو فیصد دور کرنے کے بعد طیارے کو پرواز کے لیے مقتدر فٹنس کلیئرنس دے دی گئی، جس کے بعد تمام مسافروں کو دوبارہ طیارے میں سوار کر کے کراچی ایئرپورٹ سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے لیے بحفاظت روانہ کر دیا گیا جہاں مسافروں نے پی آئی اے کے عملے اور کپتان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

بزرگ پینشنرز کیلئے ’چہرہ شناسی‘ کے ذریعے تصدیق کا نیا مقتدر ڈیجیٹل نظام متعارف، بزرگ شہری اب بینکوں کے چکر کاٹنے کے بجائے گھر بیٹھے تصدیق کر سکیں گے، ٹیکس افسران کے صوابدیدی اختیارات کے خاتمے کیلئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال اور زرعی مشینری پر امپورٹ ڈیوٹی یکسر ختم، وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی قومی اسمبلی میں اہم ترین تفصیلات

منصور احمد june 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 ؎جون 2026ء

وفاقی وزیرِ خزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے بزرگ شہریوں اور پینشنرز کے لیے ایک انقلابی اور مقتدر سہولت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملک میں ’چہرہ شناسی‘ کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق کا نیا اور جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرا دیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کے اہم ترین اجلاس میں مقتدر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اس جدید ٹیکنالوجی کے فعال ہونے کے بعد اب ضعیف العمر پینشنرز کو شدید گرمی یا بیماری میں خوار ہونے اور بینکوں کے طویل چکر کاٹنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ وہ گھر بیٹھے ہی اپنے موبائل فون یا پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے لائف سرٹیفکیٹ کی تصدیق کا عمل باآسانی مکمل کر سکیں گے، حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں خاطر خواہ اضافہ کر کے انہیں معاشی ریلیف فراہم کیا ہے جبکہ معیشت کو دستاویزی بنانے کے ساتھ ساتھ پہلے سے موجود ٹیکس گزاروں پر ٹیکس کا اضافی بوجھ کم کیا جا رہا ہے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے جامع اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جہاں ڈیجیٹلائزیشن اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے مقتدر استعمال سے ٹیکس افسران کے صوابدیدی اختیارات اور ہراسانی کو ختم کرنا حکومت کا بنیادی ہدف بن چکا ہے۔

ملکی معاشی ترقی کے اشاریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے وفاقی وزیرِ خزانہ نے سنسنی خیز اعداد و شمار پیش کیے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران ملکی معاشی اشاریوں میں نمایاں ترین بہتری آئی ہے اور اب ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ مسلسل سرپلس میں جا رہا ہے جبکہ بیرونِ ملک مقیم محبِ وطن پاکستانیوں نے گزشتہ ماہ 4.25 ارب ڈالر کا ریکارڈ زرمبادلہ پاکستان بھیجا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی نوجوان فری لانسرز نے بھی اپنی بے پناہ مہارت کے بل بوتے پر ایک سال میں 1.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر حاصل کر کے ملکی خزانے کو مضبوط کیا ہے۔ محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ اب حکومت کا بنیادی ہدف ملکی صنعت کو فروغ دے کر ایکسپورٹ لیڈ گروتھ حاصل کرنا ہے اور موجودہ حکومت نے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی خصوصی نگرانی میں صرف دو سال کی قلیل مدت میں 14 ارب ڈالر کے تاریخی ٹیکس محصولات حاصل کیے ہیں جو کہ ایک مقتدر قومی ریکارڈ ہے، انہوں نے کسانوں کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں زراعت کے شعبے کو جدید ترین بین الاقوامی خطوط پر استوار کرنے کے لیے جدید زرعی مشینری کی درآمد پر عائد تمام کسٹمز ڈیوٹی کو وفاقی بجٹ میں مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے جبکہ حکومت چین کے ساتھ سی پیک کے تحت زرعی شعبے میں سٹرٹیجک تعاون کو مزید توسیع دے رہی ہے اور اس مقتدر شراکت داری کے تحت اب تک 885 پاکستانی ہونہار طلبہ اور کسان چین کی اعلیٰ جامعات سے زراعت کے شعبے میں جدید ترین فیلڈ تربیت حاصل کر کے وطن واپس لوٹ چکے ہیں جو ملکی پیداوار بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

بجٹ کے بعد وزیرِ اعظم کی تبدیلی کی خبریں مکمل بے بنیاد اور من گھڑت ہیں، ملک دشمن عناصر ایسی افواہیں پھیلا کر پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں، میاں شہباز شریف بہترین انداز میں ملک چلا رہے ہیں، وفاقی مشیر رانا ثناء اللہ کی میڈیا سے مقتدر گفتگو

کاشف عباسی ,june 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 ؎جون 2026ء

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے بجٹ کے بعد وزیرِ اعظم پاکستان کی تبدیلی کے حوالے سے گردش کرنے والی تمام خبروں کو یکسر اور سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے انہیں ملک میں سیاسی و معاشی عدم استحکام پیدا کرنے کی ایک منظم سازش قرار دے دیا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا اور صحافیوں سے مقتدر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ملکی اقتدار یا وزیرِ اعظم کی تبدیلی کا ایسا کوئی بھی معاملہ حکومتی یا اتحادی سطح پر زیرِ غور نہیں ہے اور بعض مخصوص حلقے اور مفاد پرست لوگ ایسی بے بنیاد افواہیں پھیلا کر ملک میں سیاسی بے یقینی پیدا کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں ایسا کوئی معاملہ یا بحث سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ وفاقی مشیر رانا ثناء اللہ نے مقتدر لہجے میں بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اس وقت بہترین انداز میں ملک کو تمام اندرونی و بیرونی بحرانوں سے نکال کر ترقی کی راہ پر آگے لے کر جا رہے ہیں اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کے ساتھ مل کر ان کی کامیاب خارجہ پالیسی کے باعث عالمی سطح پر پاکستان کو جس عزت، وقار اور امن پسند ملک کا اعلیٰ مقام حاصل ہوا ہے، ایسے کامیاب اور تاریخی موقع پر اس نوعیت کی منفی بحث چھیڑنا صرف ملک دشمن عناصر کا ہی شیوہ ہو سکتا ہے۔

رانا ثناء اللہ نے سیاسی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہماری اتحادی حکومت نے ہمیشہ سیاسی ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کے لیے اپوزیشن کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کی مخلصانہ کوشش کی ہے اور ملک کی معاشی و جیو پولیٹیکل بقا کے لیے اب بھی ہمارے دروازے تمام سیاسی جماعتوں کے لیے کھلے ہیں۔ ن لیگی رہنماء نے ماضی کا کڑا موازنہ پیش کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ جب موجودہ حکمران جماعت خود اپوزیشن کے بنچوں پر بیٹھی تھی، تو اس وقت کی حکومت میں ان کے خلاف کسی بھی قومی معاملے پر مذاکرات کرنے کے بجائے صرف جھوٹے مقدمات قائم کیے جا رہے تھے اور انہیں بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا تھا، لیکن ہم اب کسی بھی قسم کے سیاسی بدلے یا کینے کے بجائے ملک کی وسیع تر معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے سب کو ساتھ لے کر چلنے کے پختہ قائل ہیں اور میاں شہباز شریف کی مقتدر قیادت میں یہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔

معاشی اور اقتصادی بحالی کیلئے قومی اتفاقِ رائے اہم، معاشی اعداد و شمار اور اشاریے اقوامِ متحدہ کے مروجہ بین الاقوامی معیار کے مطابق مرتب کئے گئے ہیں، وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا قومی اسمبلی میں مقتدر خطاب

منصور احمد june 20,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 20 ؎جون 2026ء

وفاقی وزیر خزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملکی معاشی اور اقتصادی بحالی کے لیے قومی اتفاقِ رائے نہایت اہمیت کا حامل ہے، معاشی اعدادوشمار اور اشاریے مروجہ طریقہ ہائے کار اور بین الاقوامی معیار کے مطابق مرتب کئے گئے ہیں، بجٹ میں تنخواہ دار طبقہ، زراعت، صنعت اور برآمدات پر مبنی نمو کیلئے جامع اقدامات کئے گئے ہیں، حکومت نے متوازن، ترقی دوست اور معیشت کو استحکام دینے والا بجٹ دیا ہے اور عوام کو ریلیف کی فراہمی کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ قومی اسمبلی کے مقتدر اجلاس میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ اور مالیاتی بل 2026-27ء پر عام بحث کو سمیٹتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ معزز اراکینِ قومی اسمبلی عظیم الدین زاہد اور خواجہ شیراز محمود نے بجٹ دستاویزات میں مبینہ تضادات کے حوالے سے استحقاق کی تحریک پیش کی، میں معزز اراکین کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے یہ معاملہ ایوان کے سامنے رکھا جہاں معزز اراکین کی جانب سے جی ڈی پی، فی کس آمدنی اور ان کے تعین کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ انہوں نے پوری ذمہ داری کے ساتھ ایوان کو یقین دلایا کہ پاکستان بیورو آف شماریات نے نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کی تیاری کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور تمام اعداد و شمار مالی سال 2015-16 کو بیس ایئر بنا کر اقوامِ متحدہ کے سسٹم آف نیشنل اکاؤنٹس کے مطابق مرتب کیے گئے ہیں، یہ اعداد و شمار نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں منظور کیے جاتے ہیں جس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، ماہرینِ معیشت، جامعات اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے شریک ہوتے ہیں۔

وزیرخزانہ نے واضح کیا کہ حقیقی جی ڈی پی معاشی سرگرمیوں میں ہونے والی حقیقی تبدیلی کو قیمتوں کے اثرات سے پاک کرکے ناپتی ہے، اسی لیے 3.7 فیصد شرح نمو کو 2015-16 کی مستقل قیمتوں پر شمار کیا گیا ہے جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ معیار ہے جبکہ دوسری جانب نامینل جی ڈی پی گروتھ موجودہ مارکیٹ قیمتوں پر شمار کی جاتی ہے اور اسے اوسط شرح مبادلہ کے ذریعے امریکی ڈالر میں تبدیل کیا جاتا ہے، اسی بنیاد پر مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی معیشت کا حجم تقریباً 452 ارب امریکی ڈالر رہنے کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے اور اسی طرح فی کس آمدنی کا تعین بھی موجودہ قیمتوں، مجموعی قومی آمدنی اور 2023 کی مردم شماری کے بعد جاری کردہ آبادی کے تخمینوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے لہٰذا نہ تو طریق کار تبدیل ہوا ہے اور نہ ہی اعداد و شمار مرتب کرنے کے اصول بدلے ہیں۔ خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے ایک بڑا انکشاف کیا کہ ہماری مشترکہ سول و عسکری کوششیں رنگ لائی ہیں اور خطے پر منڈلاتے جنگ کے بادل اب چھٹ چکے ہیں جبکہ امن کی فضا دوبارہ قائم ہوئی ہے، پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان موثر سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے مذاکرات کی راہ ہموار کی، دونوں ممالک کو ایک میز پر بٹھایا اور امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا جو پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک قابلِ فخر باب ہے اور اس پر وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، تمام سیاسی جماعتیں، پارلیمان اور پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔

انہوں نے بجٹ پر ہونے والی بحث میں بھرپور اور تعمیری انداز میں حصہ لینے پر تمام اراکینِ قومی اسمبلی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ بالخصوص قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے چیئرمین سید نوید قمر اور دونوں قائمہ کمیٹیوں کے معزز اراکین کے خصوصی طور پر شکر گزار ہیں جنہوں نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران نہایت محنت، خلوص اور ذمہ داری کے ساتھ بجٹ تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعدد مفید سفارشات پیش کیں جن میں سے کئی تجاویز کو فنانس بل 2026 کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ انہوں نے میڈیا کے نمائندوں، معاشی تجزیہ کاروں، ماہرینِ معیشت، کاروباری برادری اور مختلف چیمبرز آف کامرس کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے بجٹ پر مثبت اور تعمیری آرا دیں، اس کے ساتھ ہی وزیرخزانہ نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں قائم اتحادی حکومت میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین، بالخصوص میاں محمد نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری، خالد مقبول صدیق، چوہدری شجاعت حسین، عبدالعلیم خان اور خالد حسین مگسی کا دلی شکریہ ادا کیا جنہوں نے بجٹ کی تیاری کے دوران ان کی رہنمائی اور مشاورت کی جو ہمارے لیے نہایت اہم اور مفید ثابت ہوئی۔

وزیرخزانہ نے ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال بتاتے ہوئے سنسنی خیز اعداد و شمار پیش کیے کہ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں تقریباً 6.5 فیصد کی نمو ریکارڈ کی گئی ہے جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین شرح ہے اور اسی طرح ہمارا بیرونی شعبہ بھی مستحکم ہوا ہے جہاں گزشتہ مالی سال کی طرح رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران بھی کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں رہا جو معیشت کیلئے ایک انتہائی حوصلہ افزا اشارہ ہے، انہوں نے کہا کہ ہماری سمندر پار مقیم پاکستانی برادری نے بھی ایک بار پھر اپنی وطن دوستی کا بھرپور ثبوت دیا ہے اور گزشتہ ماہ انہوں نے 4.25 ارب امریکی ڈالر کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر پاکستان بھیجیں جبکہ مجھے پوری امید ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک ترسیلاتِ زر 41 ارب امریکی ڈالر کے ہدف سے بھی تجاوز کر جائیں گی جو ملکی تاریخ کا ایک نیا ریکارڈ ہوگا، اس کے ساتھ ہی ہمارا برآمدی شعبہ مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہے بالخصوص ویلیو ایڈڈ برآمدات جن میں گارمنٹس، ہوم ٹیکسٹائل اور آئی ٹی کا شعبہ شامل ہیں نمایاں ترقی کر رہے ہیں جہاں رواں مالی سال کے دوران آئی ٹی برآمدات میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ مجموعی آئی ٹی برآمدات 4.5 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے جو ایک نیا قومی ریکارڈ ہوگا اور اسی طرح ہمارے نوجوان فری لانسرز نے بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 1.6 ارب ڈالر کا ریکارڈ زرمبادلہ ملک میں لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ حکومت اور اس بجٹ کا بنیادی مقصد ایک ایسی برآمدات پر مبنی، پائیدار اور جامع معاشی ترقی کا حصول ہے جس سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو، سرمایہ کاری کو فروغ ملے اور ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں، ہم اکثر یہ شکایت سنتے رہے ہیں کہ پاکستان میں دستاویزی معیشت اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے افراد ہی زیادہ بوجھ برداشت کرتے ہیں لیکن اس حکومت نے اس سوچ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہم نے بوجھ ڈالنے کی بجائے ٹیکس کی وسعت اور گہرائی کی حکمت عملی اختیار کی ہے جس کے تحت موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے گا اور اس کی بنیاد کو مضبوط بنایا جائے گا، انہوں نے کہا کہ حکومت گزشتہ دو برس سے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات پر مسلسل کام کر رہی ہے اور انہی اصلاحات کے نتیجے میں ٹیکس پالیسی کو ٹیکس انتظامیہ سے الگ کیا گیا تاکہ پالیسی سازی اور اس کے نفاذ میں شفافیت اور موثریت پیدا ہو، اسی تسلسل میں حکومت ایک نیا ٹیکس آپریٹنگ ماڈل متعارف کرا رہی ہے جس کے تحت ٹیکس دہندگان اور ٹیکس افسران کے درمیان براہِ راست رابطے کو کم سے کم کر دیا جائے گا اور آڈٹ، تشخیص اور دیگر کارروائیاں زیادہ تر خودکار اور فیس لیس نظام کے ذریعے انجام دی جائیں گی، ان اصلاحات کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل رجسٹریشن اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ، ہراسانی کے امکانات میں کمی، شفافیت کا فروغ اور ٹیکس قوانین پر رضاکارانہ عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے، انہوں نے ریوینیو اہداف کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ 1988ء سے 2011ء تک کے 23 برس کے عرصے میں تقریباً 14 ارب امریکی ڈالر کے اضافی ٹیکس محصولات حاصل کیے گئے اور اسی طرح 2011ء سے 2024ء تک کے برسوں میں بھی تقریباً 14 ارب امریکی ڈالر کے اضافی محصولات جمع ہوئے لیکن اس کے برعکس موجودہ حکومت نے صرف گزشتہ دو برسوں کے دوران تقریباً 14 ارب امریکی ڈالر کے اضافی ٹیکس محصولات حاصل کیے ہیں جو ایک غیر معمولی کامیابی ہے اور یہ کامیابی وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ذاتی توجہ، واضح وژن اور ایف بی آر کی تنظیمِ نو واصلاحات کے لیے ان کی مسلسل رہنمائی کا نتیجہ ہے۔

وزیرخزانہ نے زرعی شعبہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور حکومت نے زراعت اور کسانوں کے لیے خاطر خواہ اقدامات اور ترقیاتی پیکجز کا اعلان کیا ہے جہاں زرعی پیداوار میں اضافہ اور چھوٹے کاشتکاروں کو سہولت دینے کے لیے ایک مربوط زرعی سکیم شروع کی گئی ہے جس کے تحت 300 ارب روپے کے بلاسود اور آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں جس سے تقریباً ساڑھے سات لاکھ چھوٹے کسان مستفید ہوں گے، اسی طرح زرعی شعبے میں مالی معاونت کے لیے 109 ارب روپے سے زائد کے قرضوں کی فراہمی کا منصوبہ ہے جبکہ کھاد خصوصاً یوریا پر تقریباً 10 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے اور وفاق کے تحت زراعت و لائیو اسٹاک کے منصوبوں کے لیے 4.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور مشینری تک رسائی دینے کے لیے سبسڈی اور رسک شیئرنگ کے تحت تقریباً 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ فصلوں اور لائیو اسٹاک کی انشورنس اسکیم کے لیے بھی اہم رقم رکھی گئی ہے، انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور چین کے درمیان زرعی تعاون کو مزید وسعت دی جا رہی ہے اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے اقدام کے تحت ایک ہزار پاکستانی طلبہ اور کسانوں کو چینی زرعی جامعات اور تحقیقی اداروں میں جدید مہارتوں کی تربیت دی جا رہی ہے جہاں اب تک اس پروگرام سے 800 سے زائد افراد مستفید ہو چکے ہیں جبکہ نجی شعبے کے اشتراک سے کولڈ اسٹوریج کے منصوبے بھی شروع کیے جا رہے ہیں جن پر تقریباً 7.1 ارب روپے لاگت آئے گی، اس کے ساتھ ساتھ تعمیرات اور ہاؤسنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے بجٹ میں متوازن اقدامات کیے گئے ہیں اور اسی سلسلے میں وزیراعظم اپنا گھر پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ وہ پاکستان کے عوام کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے معاشی استحکام کے سفر میں حکومت کا ساتھ دیا اور حکومت نے اپنے وعدے کے مطابق جب وسائل دستیاب ہوئے تو مختلف طبقات کو ریلیف فراہم کیا ہے جس کے تحت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، پنشنز اور کم از کم اجرت میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ پنشنرز کی سہولت کے لیے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کے نظام کو جدید بنایا گیا ہے تاکہ انہیں دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں اور اب فیس ریکگنیشن اور پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے تصدیق ممکن ہے، اسی طرح خواتین کی صحت سے متعلق ضروری اشیا اور بعض ادویات پر ٹیکس میں کمی اور بعض پر مکمل خاتمہ کیا گیا ہے، تعلیمی شعبہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے اعلی تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ٹینیور ٹریک سسٹم کے تحت یونیورسٹی اساتذہ بشمول پروفیسرز، ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کی تنخواہوں کو ریگولر ریٹس کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے اپنی ذاتی دلچسپی سے کفایت شعاری کی مثال قائم کرتے ہوئے تقریباً پانچ ارب روپے کی خطیر رقم بجٹ میں بچت ممکن بنائی، خطاب کے آخر میں انہوں نے سیکرٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر، ڈائریکٹر جنرل ٹیکس پالیسی آفس اور ان کے رفقا کا شکریہ ادا کیا اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے گزارش کی کہ وہ معیشت کی مزید ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں تاکہ ہم پاکستان کو ایک روشن اور تابناک مستقبل کی طرف لے جا سکیں۔

دہشت گردی پاکستان کے امن اور استحکام کے خلاف گھناؤنی سازش ہے، بزدلانہ کارروائیاں قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی بنوں دھماکے کی شدید ترین مذمت، قیمتی جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات اور واقعے کی فوری تحقیقات کی ہدایت

کاشف عباسی ,june 20,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ہونے والے دہشت گردی کے بزدلانہ دھماکے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانی نقصان پر گہرے دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے، سرکار خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری مقتدر بیان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دھماکے کے نتیجے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے درجات کی بلندی، سوگوار لواحقین کے لیے صبرِ جمیل اور واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد و مکمل صحت یابی کے لیے خصوصی دعا کی ہے۔

وزیرِ اعظم نے بنوں واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام اور انتظامیہ کو ہنگامی احکامات جاری کیے ہیں کہ دھماکے کے تمام زخمیوں کو علاج معالجے کے لیے ہر ممکنہ اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں، جبکہ انہوں نے مقتدر سیکیورٹی اداروں کو واقعے کی فوری اور جامع تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کی بھی سخت ہدایت دی ہے، اپنے خصوصی تعزیتی بیان میں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کڑا رخ اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ دہشت گردی انسانیت، پاکستان کے امن، معاشی استحکام اور سی پیک سمیت دیگر قومی منصوبوں کے خلاف ایک انتہائی گھناؤنی بین الاقوامی سازش ہے، لیکن دشمن یاد رکھے کہ ایسی بزدلانہ کارروائیاں غیور پاکستانی قوم اور عسکری قیادت کے فولادی عزم کو ہرگز متزلزل نہیں کر سکتیں۔

وزیرِ اعظم نے ملکی سیکیورٹی پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بنوں دھماکے کے تمام دہشت گردوں، ماسٹر مائنڈز اور ان کے اندرونی و بیرونی سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی اور عبرتناک سزا دی جائے گی، انہوں نے کہا کہ ریاستِ پاکستان فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے مکمل اور جڑ سے خاتمے کے لیے سو فیصد پرعزم ہے، وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ملک و قوم کے تحفظ کی خاطر جانیں نچھاور کرنے والے شہداء کی عظیم قربانیاں پوری قوم کی مقتدر امانت ہیں، ان کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور دہشت گردی کے اس ناسور کے مکمل خاتمے تک ہماری بقا کی جدوجہد بلا امتیاز جاری رہے گی۔

پی سی بی کے نئے سینٹرل کنٹریکٹ کا فارمولا سامنے آگیا، یکم جولائی سے 30 جون 2027ء تک نافذ ہوگا، کنٹریکٹ کے حصول کے لیے میچز کھیلنے کی کڑی شرائط عائد، کھلاڑیوں کے لیے مختلف ٹریکس اور لاکھوں روپے ماہانہ معاوضوں سمیت میچ فیس کے نئے نرخ مقرر، کرکٹ ویب سائٹ کا سنسنی خیز دعویٰ

منصور احمد june 20,2026

لاہور (اسپورٹس رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے قومی کرکٹرز کے لیے نئے اور انقلابی سینٹرل کنٹریکٹ کا پورا خاکہ اور فارمولا منظرِ عام پر آگیا ہے، جس کے تحت نیا کنٹریکٹ یکم جولائی 2026ء سے لے کر 30 جون 2027ء تک کے لیے نافذ العمل ہوگا، مقتدر بین الاقوامی کرکٹ ویب سائٹ ’کرک انفو‘ کی سنسنی خیز رپورٹ کے مطابق پی سی بی نے اس بار کنٹریکٹ کی اہلیت کے لیے کڑا معیار مقرر کیا ہے، جس کے تحت اب سینٹرل کنٹریکٹ کے لیے صرف وہی کھلاڑی اہل تصور کیے جائیں گے جنہوں نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران پاکستان کی طرف سے کم از کم 4 ٹیسٹ میچز، 6 ون ڈے انٹرنیشنل یا پھر کم از کم 6 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے ہوں۔

رپورٹ کے مطابق نئے سینٹرل کنٹریکٹ نظام کے تحت کھلاڑیوں کی کارکردگی اور فارمیٹ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں مختلف منفرد ٹریکس (Tracks) میں تقسیم کیا گیا ہے، جن کے ماہانہ معاوضوں کی تفصیل درج ذیل ہے:

🏏 پی سی بی سینٹرل کنٹریکٹ 2026-27ء کے مختلف ٹریکس اور معاوضے:

کھلاڑیوں کے کیٹیگری ٹریکسفارمیٹ اور تفصیلمقررہ ماہانہ معاوضہ / وظیفہ
ٹریک اے (Track A)ٹاپ ٹیسٹ اسپیشلسٹ کرکٹرز40 لاکھ روپے
ٹریک اے بی (Track AB)ٹیسٹ اور ون ڈے فارمیٹ کے ٹاپ پلیئرز48 لاکھ روپے
ٹریک بی سی (Track BC)وائٹ بال اسپیشلسٹ کے ٹاپ کھلاڑی34 لاکھ روپے
ٹریک سی (Track C)ٹی ٹونٹی اسپیشلسٹ کھلاڑی26 لاکھ روپے
ٹریک ڈی (Track D)ابھرتے ہوئے (Emerging) نوجوان کرکٹرز10 لاکھ روپے

اسٹرٹیجک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پی سی بی نے کھلاڑیوں کے مالیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ انہیں گلوبل لیگز کھیلنے کے لیے بھی بڑی رعایت دی ہے، کنٹریکٹ کے مطابق ٹریک سی میں شامل ٹی ٹونٹی اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کو اپنے ماہانہ معاوضے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ہونے والی لاتعداد کمرشل ٹی ٹونٹی لیگز کھیلنے کے لیے این او سی حاصل کرنے کی کھلی اجازت ہوگی، اس کے علاوہ نئے سینٹرل کنٹریکٹ میں ملک کے ابھرتے ہوئے نوجوان ڈومیسٹک کرکٹرز کے لیے خصوصی گنجائش اور حوصلہ افزائی رکھی گئی ہے جنہیں ٹریک ڈی کے تحت ماہانہ 10 لاکھ روپے بطور مقتدر وظیفہ دیے جائیں گے تاکہ ملک میں ٹیلنٹ کو نکھارا جا سکے۔

پی سی بی نے ماہانہ معاوضوں کے علاوہ قومی کھلاڑیوں کی میچ فیس کے حوالے سے بھی نئے اور پرکشش نرخ مقرر کر دیے ہیں، جس کے تحت اب کھلاڑیوں کو ایک ٹیسٹ میچ کھیلنے کی فیس 15 لاکھ روپے دی جائے گی، جبکہ ایک ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیلنے کا معاوضہ 7 لاکھ 50 ہزار روپے اور ایک ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچ کھیلنے کی فیس 5 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، کرکٹ مبصرین کے مطابق پی سی بی کا یہ نیا کنٹریکٹ فارمولا جہاں کھلاڑیوں کو معاشی طور پر مستحکم کرے گا، وہی کارکردگی دکھانے والے اور فٹ کھلاڑیوں کو ہی ٹیم میں برقرار رکھنے میں مقتدر ثابت ہوگا۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی تیز، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی ہنگامی اور انتہائی اہم دورے پر تہران روانہ، ایرانی اعلیٰ قیادت اور سفارتی مقتدر شخصیات سے ملاقاتیں شیڈول، ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی ’ارنا‘ نے دورے کی تصدیق کر دی

کاشف عباسی ,june 20,2026

اسلام آباد/تہران (سیاسی رپورٹر/انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

سپر پاور امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کے نتیجے میں طے پانے والے تاریخی امن معاہدے ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کے بعد خطے کی بدلتی ہوئی سٹرٹیجک صورتحال کو پائیدار بنانے کے لیے پاکستان نے ایک بار پھر اپنا فعال ترین سفارتی کردار ہنگامی بنیادوں پر تیز کر دیا ہے، اس سلسلے میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی ایک انتہائی اہم اور ہنگامی دورے پر ایران کے دارالحکومت تہران روانہ ہو گئے ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے اس مقتدر دورے کو مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن و امان کے قیام، عالمی سفارت کاری اور معاہدے کے خدوخال کو حتمی شکل دینے کے لحاظ سے انتہائی کلیدی اور سنسنی خیز اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے اس اعلیٰ سطح کے ہنگامی دورے کی حساسیت اور اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایران کے سرکاری میڈیا نے بھی اسے بریکنگ نیوز کے طور پر نمایاں کوریج دی ہے، ایران کی آفیشل اور مقتدر سرکاری نیوز ایجنسی ”ارنا“ نے پاکستانی وزیرِ داخلہ کی تہران آمد اور اس اعلیٰ سطح کے دورے کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے مطلع کیا ہے کہ محسن نقوی اپنے اس مقتدر دورے کے دوران ایرانی دارالحکومت تہران میں ایران کی اعلیٰ ترین حکومتی، عسکری اور سفارتی شخصیات سے خصوصی ملاقاتیں کریں گے، اس سٹرٹیجک دورے کا سب سے اہم، بنیادی اور حساس ترین محور ایران اور امریکہ کے درمیان جاری پسِ پردہ مذاکرات میں ہونے والی حالیہ پیشرفت، جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد اور ضامن کے طور پر پاکستان کی جانب سے کی جانے والی نئی سفارتی کوششیں ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق تہران میں ہونے والی ان مقتدر ملاقاتوں کے دوران پاک ایران دوطرفہ سیکیورٹی امور، سرحدی انتظام، خطے کی مجموعی جیو پولیٹیکل صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر تزویراتی امور پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا، یہ دورہ دراصل پاکستان کی اسی پائیدار خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت وہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کی قیادت میں خطے میں عالمی امن کا سب سے بڑا علمبردار بن کر ابھرا ہے، سیاسی و معاشی مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے، مستقل امن و امان کے قیام اور عالمی طاقتوں کے مابین سفارتی روابط کو فعال و محفوظ بنانے کے لیے پاکستان کا یہ برادرانہ اور مقتدر ثالثی کردار خطے کو ایک نئی اور محفوظ سمت کی طرف گامزن کر رہا ہے۔

پٹرول اور ڈیژل کی تاریخی سستا ہونے کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 48 روپے 29 پیسے فی لیٹر کی بھاری کمی، غریب اور متوسط طبقے کے لیے بڑا معاشی ریلیف، قیمتیں 282 روپے سے یکسر گر کر 233 روپے 90 پیسے پر آگئیں، وزارتِ خزانہ کا نوٹیفکیشن جاری

منصور احمد june 20,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

وفاقی حکومت نے پٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں میں ملکی تاریخ کے سب سے بڑے معاشی ریلیف پیکج کے فوراً بعد غریب اور پسماندہ علاقوں کے عوام کے لیے مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی پچھلے کئی ماہ کی سب سے بڑی اور نمایاں کٹوتی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے، وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت میں 48 روپے 29 پیسے کی بھاری کمی کی منظوری دی گئی ہے، حکومت کے اس غریب پرور فیصلے کے بعد مارکیٹ میں مٹی کے تیل کی قیمت 282 روپے 19 پیسے سے یکسر کم ہو کر 233 روپے 90 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جس کا فوری اطلاق ملک بھر میں نافذ العمل ہو چکا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمتوں میں یہ واضح اور بڑی کمی حکومت کی اسی وسیع تر سٹرٹیجک معاشی پالیسی اور ریلیف ایجنڈے کا تسلسل ہے جس کے تحت گزشتہ روز پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 74 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیژل کی قیمت میں 67 روپے کی ریکارڈ کٹوتی کر کے پٹرول 299 روپے اور ڈیژل 311 روپے کا کیا گیا تھا، وزارتِ خزانہ کے مقتدر ذرائع کا کہنا ہے کہ مٹی کے تیل کے نرخوں میں تقریباً 48 روپے سے زائد کا یہ ریلیف براہِ راست ملک کے ان پسماندہ، دیہی اور پہاڑی علاقوں کے متوسط و غریب طبقے تک پہنچے گا جو گیس کی عدم دستیابی کے باعث اسے آج بھی اپنے گھروں میں بنیادی ایندھن اور چولہا جلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، جس سے ان کے گھریلو بجٹ میں نمایاں بچت ہوگی۔

دوسری جانب معاشی ماہرین اور عوامی حلقوں نے پٹرولیم مصنوعات کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی اتنی بڑی کمی کا شدید خیرمقدم کیا ہے، تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پٹرول، ڈیژل اور اب مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اس مسلسل اور یکمشت بھاری ریلیف کے بعد اب ملک بھر میں مال برداری (لاجسٹکس) اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں واضح کمی آنا ناگزیر ہو چکی ہے، جس کے براہِ راست اور مثبت اثرات روزمرہ کی اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں پر پڑیں گے اور ملک میں جاری مہنگائی کی مجموعی شرح کو گراؤنڈ پر لانے میں بہت بڑی مدد ملے گی۔

”فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف عظیم ہیں، دونوں کے ورکنگ ریلیشنز شاندار ہیں، ایک آرمی چیف کو اپنے وزیرِ اعظم کا پورا احترام کرتے دیکھنا خوبصورت ترین منظر ہے“، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کو سنسنی خیز انٹرویو، ایران جنگ رکوانے میں پاکستان کی اسٹرٹیجک ثالثی کا اعتراف

کاشف عباسی ,june 20,2026

واشنگٹن/اسلام آباد (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی امن معاہدے ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی منظرنامے پر پاکستانی قیادت کی غیر معمولی عسکری و سیاسی صلاحیتوں اور مثالی داخلی ہم آہنگی کو دنیا کے سامنے زبردست الفاظ میں سراہا ہے، واشنگٹن سے موصولہ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشہور امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کو دیے گئے ایک مقتدر اور خصوصی انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے سول اور عسکری تعلقات کو دنیا بھر کے جمہوری و دفاعی نظام کے لیے ایک شاندار اور بہترین اسٹرٹیجک مثال قرار دے دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے کی صورتحال پر کھل کر بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ سپر پاور امریکہ اور ایران کو ہولناک جنگ کے دہانے سے واپس لانے اور کائنات میں امن قائم کرانے میں پاکستان کا کردار سب سے اہم اور مخلصانہ تھا، انہوں نے پاکستانی طاقت کا کٹھ چٹھا کھولتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان میں فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ اور تعلقات کی کیمسٹری بہت لاجواب ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک عظیم سپہ سالار ہیں اور ان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف بھی ایک مقتدر لیڈر ہیں، دونوں کے آپس میں شاندار، مربوط اور پختہ تعلقات قائم ہیں۔“

ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے اندرونی سیاسی و عسکری ڈھانچے کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے مزید کہا کہ ”یہ منظر دیکھنا بین الاقوامی برادری کے لیے انتہائی خوبصورت اور قابلِ تقلید ہے کہ ملک کا ایک طاقتور فوجی سربراہ پوری طرح اور مخلصانہ طور پر اپنے آئینی وزیرِ اعظم کا احترام کرتا ہے اور ان کے ساتھ مل کر فیصلے کرتا ہے،“ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستانی قیادت نے ایران کے ساتھ یہ پیچیدہ مفاہمتی یادداشت طے کرنے میں واشنگٹن کی بہت بڑی اور تاریخی مدد کی، کیونکہ پاکستانی حکام تہران کے حکمرانوں اور ایرانیوں کی نفسیات کو بہت اچھے طریقے سے جانتے، پرکھتے اور سمجھتے تھے۔

امریکی صدر نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ ”ہم نے ایران کو فوجی اور دفاعی سطح پر پوری طرح جکڑ کر شکست دے دی تھی، لیکن اس انتہائی نازک اور سسپنس سے بھرپور موڑ پر پاکستان نے، جو کہ امریکہ کے بہت قریب اور دیرینہ دوست ہے، مجھ سے باقاعدہ اعلیٰ سطحی درخواست کی کہ ایران پر مزید ملٹری حملے نہ کیے جائیں، جس کے بعد پاکستان کے فولادی اصرار پر ہی ہم نے مذاکرات اور مستقل امن کا راستہ اختیار کیا،“ سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ انٹرویو ظاہر کرتا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی کامیاب خارجہ پالیسی نے نہ صرف دنیا کو تیسری جنگِ عظیم سے بچایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا عسکری و سیاسی وقار بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

گلگت بلتستان جنرل انتخابات 2026ء کے حتمی نتائج کا باضابطہ اعلان، الیکشن کمیشن نے 21 کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، پیپلز پارٹی جنرل نشستوں پر سب سے بڑی جماعت بن کر ابھر آئی، ن لیگ اور آزاد امیدوار بھی کامیاب، سپریم اپیلیٹ کورٹ کے حکم پر 3 حلقوں کے نتائج مؤخر

منصور احمد june 20,2026

گلگت (بیورو رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ گلگت بلتستان نے خطے میں ہونے والے حالیہ جنرل انتخابات 2026ء کے سرکاری نتائج کی روشنی میں نو منتخب اراکینِ اسمبلی کے ناموں کا باضابطہ اور مقتدر نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان کی جانب سے الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 98(1) اور الیکشن رولز 2017 کے قواعد 94 اور 96 کے تحت جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق عمومی (جنرل) نشستوں پر کامیاب ہونے والے 21 اراکین کی رکنیت کی باقاعدہ تصدیق کر دی گئی ہے، جبکہ قانونی و عدالتی چارہ جوئی کے باعث 3 حلقوں کے نتائج فی الوقت مؤخر کر دیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اسٹرٹیجک فہرست کے مطابق مختلف حلقوں سے کامیاب ہونے والے مقتدر اراکینِ اسمبلی کی تفصیل درج ذیل ہے:

🏛️ گلگت بلتستان اسمبلی کے کامیاب امیدواروں کی فہرست:

حلقہ نمبر اور نامکامیاب امیدوار کا نام
جی بی اے-1 گلگت-Iامجد حسین
جی بی اے-2 گلگت-IIحفیظ الرحمن
جی بی اے-3 گلگت-IIIسید سہیل عباس
جی بی اے-4 نگر-Iمحمد علی اختر
جی بی اے-5 نگر-IIذوالفقار علی مراد
جی بی اے-6 ہنزہنیک نام کریم
جی بی اے-7 سکردو-Iسید توقیر مہدی
جی بی اے-8 سکردو-IIمحمد کاظم
جی بی اے-10 سکردو-IVناصر علی خان
جی بی اے-11 کھرمنگاقبال حسن
جی بی اے-12 شگرعمران ندیم
جی بی اے-13 استور-Iرانا فرمان علی
جی بی اے-14 استور-IIرانا محمد فاروق
جی بی اے-16 دیامر-IIامام ملک
جی بی اے-18 دیامر-IVملک کفایت الرحمٰن
جی بی اے-19 غذر-Iسید جلال علی شاہ
جی بی اے-20 غذر-IIعبدالجہان
جی بی اے-21 غذر-IIIامان علی
جی بی اے-22 گانچھے-Iمحمد ابراہیم ثنائی
جی بی اے-23 گانچھے-IIانور علی
جی بی اے-24 گانچھے-IIIاسد شفیق

نوٹیفکیشن کے مطابق گلگت بلتستان کے ان اہم ترین جنرل انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز نے شاندار سیاسی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنرل نشستوں پر سب سے زیادہ کامیابیاں حاصل کی ہیں اور وہ ایوان میں سب سے بڑی پارلیمانی قوت بن کر سامنے آئی ہے، اس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ (ن)، مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم)، متعدد آزاد امیدواروں اور استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے امیدوار بھی بھاری اکثریت سے منتخب ہو کر نئی گلگت بلتستان اسمبلی کا حصہ بننے میں کامیاب رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مقتدر ذرائع نے واضح کیا ہے کہ مذکورہ تمام امیدواروں کی کامیابی کا باقاعدہ اعلان تمام قانونی، آئینی اور انتخابی تقاضوں کی سو فیصد تکمیل اور ریٹرننگ افسران کے حتمی مینوئل ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے بعد کیا گیا ہے، جس کے ساتھ ہی منتخب اراکین کی گزیٹڈ فہرست باضابطہ طور پر شائع کر دی گئی ہے، الیکشن کمیشن نے صراحت کی ہے کہ جہاں 21 ممبران کا نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے، وہیں باقی ماندہ 3 حلقوں کے ممبران کے نتائج سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کے حالیہ احکامات اور حکمِ امتناع کی روشنی میں روک دیے گئے ہیں، جن کا فیصلہ عدالتی احکامات کے بعد کیا جائے گا۔

”اگر جنگ بروقت نہ روکی جاتی تو تیسری جنگ عظیم کے 200 فیصد امکانات تھے، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پوری دنیا کے مستقل امن کی دستاویز ہے“، وزیرِ اعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ کی ’اے آر وائی نیوز‘ میں مقتدر گفتگو، فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور شہباز شریف کو عظیم تاریخی ہیرو قرار دے دیا

کاشف عباسی ,june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور اور مقتدر سینیٹر رانا ثناء اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے مابین چھڑنے والی ہولناک جنگ کو اگر پاکستان اپنی دور اندیش سفارت کاری کے ذریعے بروقت نہ روکتا تو دنیا میں تیسری جنگِ عظیم (World War III) چھڑنے کے 200 فیصد امکانات موجود تھے، انٹرنیشنل پریس ایجنسی اور نجی ٹی وی چینل ’اے آر وائی نیوز‘ کے مقتدر پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی عالمی امن کے لیے سرانجام دی جانے والی لازوال خدمات کو تاریخ کے سنہری حروف میں لکھا جائے گا اور دنیا انہیں کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔

رانا ثناء اللہ نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی سٹرٹیجک اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کڑا مؤقف اختیار کیا کہ یہ امن معاہدہ محض ایک عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ پوری دنیا کے مستقل امن اور بقا کی ایک تاریخی دستاویز ہے، انہوں نے واضح کیا کہ یہ معرکہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان ایک محدود جنگ نہیں تھی بلکہ اس کی لپیٹ میں آکر پوری دنیا کا جغرافیائی نقشہ یکسر بدل سکتا تھا اور ہر طرف تباہی پھیل جاتی، لیکن پاکستان نے مخلصانہ کردار ادا کر کے انسانیت کی بھلائی کے لیے اس جنگ کو عین اسی نازک مرحلے پر روک دیا جہاں سے پوری کائنات کو تباہی کے دہانے سے بچا لیا گیا ہے۔

وزیرِ اعظم کے مشیر نے سفارتی کامیابی کا کٹھ چٹھا کھولتے ہوئے فخر سے بتایا کہ سپر پاور امریکہ اور ایران کے مابین اس عظیم الشان امن معاہدے کا سہرا سو فیصد پاکستان کے سر سجتا ہے، انہوں نے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ ”اس تاریخی دستاویز پر امریکہ اور ایران کے صدور نے باقاعدہ دستخط کیے ہیں، اور دنیا کی ان دونوں بڑی طاقتوں کے دستخطوں کو باضابطہ طور پر ‘ویریفائی’ اور ضامن کا کردار پاکستان نے ادا کیا ہے،“ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اس وقت وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر دونوں قوم کے عظیم ہیرو بن کر ابھرے ہیں اور غیور پاکستانی قوم اپنے ان مقتدر سپہ سالاروں پر ہمیشہ خون کے آخری قطرے تک فخر کرے گی، انہوں نے یاد دلایا کہ یہ تمام تاریخی و معاشی کامیابیاں معرکے کے فوراً بعد حاصل ہوئیں جو پاکستان کی عسکری و سفارتی طاقت کا عالمی لوہا ماننے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

مہنگائی کے مارے عوام کے لیے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف، پٹرول 74 روپے اور ڈیژل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر کی تاریخی کمی، وزیرِ اعظم نے حتمی منظوری دے دی، نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگا

منصور احمد june 19,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان نے قوم سے کیے گئے اپنے حالیہ وعدے کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ملکی تاریخ کے سب سے بڑے اور سنسنی خیز معاشی ریلیف کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 74 روپے کی ریکارڈ کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیژل کی قیمت میں بھی 67 روپے فی لیٹر کی بھاری کٹوتی کر دی گئی ہے، حکومت کے اس انقلابی اور عوامی فیصلے کے بعد پٹرول کی موجودہ فی لیٹر قیمت 373 روپے سے یکسر کم ہو کر 299 روپے کی سطح پر آگئی ہے، جبکہ ڈیژل کی قیمت بھی 378 روپے سے گھٹ کر 311 روپے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جس کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ملک بھر میں نافذ العمل ہوگا۔

وزارتِ خزانہ کے حکام کے مطابق اس مقتدر فیصلے کا بنیادی مقصد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تیز ترین گراوٹ کے براہِ راست اور حقیقی اثرات کو کسی بھی تاخیر کے بغیر غریب عوام کی دہلیز تک منتقل کرنا ہے، وزیرِ اعظم نے اس تاریخی ریلیف پیکج پر دستخط کرتے ہوئے اپنے خصوصی بیان میں واضح کیا ہے کہ عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے شکنجے سے آزاد کرانا اور ان پر موجود شدید معاشی دباؤ کو کم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترین ترجیح اور اخلاقی ذمہ داری ہے، انہوں نے کڑا رخ اختیار کرتے ہوئے تمام صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی احکامات جاری کیے ہیں کہ پٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں میں اس بھاری کمی کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور روزمرہ کی اشیائے ضروریہ (سبزی، پھل اور دالوں) کی قیمتوں میں بھی اسی تناسب سے فوری کمی لائی جائے تاکہ اس اسٹرٹیجک ریلیف کا فائدہ عام آدمی کو مل سکے۔

دوسری جانب معاشی ماہرین اور تجارتی حلقوں نے حکومت کے اس اقدام کو ملکی معیشت کے لیے ایک انتہائی خوش آئند اور پائیدار موڑ قرار دیا ہے، ماہرینِ معیشت کے مطابق پٹرولیم مصنوعات میں اتنی بڑی نوعیت کی کمی سے ٹرانسپورٹیشن اور لاجسٹکس کے اخراجات یکسر نیچے آئیں گے، جس کے نتیجے میں ملک میں جاری مہنگائی کی مجموعی شرح (Inflation) میں واضح اور بڑی کمی واقع ہوگی، عوامی حلقوں نے بھی پٹرول کی قیمت 300 روپے سے نیچے آنے پر شدید مسرت کا اظہار کیا ہے اور اسے مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی حالیہ کامیاب جنگ بندی اور سفارت کاری کا پہلا بڑا اور حقیقی معاشی ثمر قرار دیا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں مندی کے بعد پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 14,900 روپے کی تاریخی کمی، سونا 4 لاکھ 38 ہزار 036 روپے کی سطح پر آگیا، چاندی کی قیمتیں بھی یکایک گر گئیں، صرافہ مارکیٹ کی رپورٹ

روزینہ اسماعیل.june 19,2026

کراچی (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

بین الاقوامی بلین مارکیٹ اور مقامی صرافہ بازاروں میں پٹرولیم مصنوعات کے بعد اب سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بھی بڑے پیمانے پر غیر معمولی اور تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، آل پاکستان سپریم کونسل جیولرز ایسوسی ایشن اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 149 ڈالر کی زبردست مندی کے بعد 4,156 ڈالر کی سطح پر نیچے آگئی ہے، عالمی مارکیٹ میں ہونے والی اس بڑی گراوٹ کے براہِ راست اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں جس کے باعث پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت 14,900 روپے کی نمایاں کمی کے بعد 4 لاکھ 38 ؎ہزار 036 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔

صرافہ مارکیٹ کے مقتدر ذرائع کے مطابق فی تولہ سونے کے ساتھ ساتھ 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 13,410 روپے کی بڑی کٹوتی دیکھی گئی ہے جس کے بعد مقامی بازاروں میں 10 گرام سونا گھٹ کر 3 لاکھ 74 ہزار 205 روپے کی سطح پر آگیا ہے، معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے کامیاب معاہدے اور عالمی معیشت میں استحکام کی بحالی کے باعث سرمایہ کار اب سونے کی محفوظ پناہ گاہوں سے سرمایہ نکال کر دیگر تجارتی شعبوں میں لگا رہے ہیں، جس کی وجہ سے قیمتی دھاتوں کی قیمتیں تیزی سے نیچے آرہی ہیں اور عام خریداروں کے لیے ایک طویل عرصے بعد بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔

سونے کے ساتھ ساتھ ملکی صرافہ بازاروں میں چاندی کی قیمتوں کو بھی بڑا بریک لگا ہے، اعداد و شمار کے مطابق فی تولہ چاندی کی قیمت 413 روپے کی نمایاں کمی کے بعد 6,946 روپے کی سطح پر آگئی ہے، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 373 روپے کی بڑی گراوٹ کے ساتھ مارکیٹ میں 5,895 روپے کی سطح پر بند ہوئی، صرافہ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے باعث مارکیٹ میں خریداروں کا رش بڑھنے کا امکان ہے، تاہم آنے والے دنوں میں عالمی حالات کے مطابق قیمتوں میں مزید استحکام یا کمی متوقع ہے۔

امریکہ ایران جنگ بندی اور عالمی امن اعزاز پر پوری قوم اور عسکری و سیاسی قیادت مبارکباد کی مستحق ہے، پاکستان نے دنیا میں ذمہ دار اور پرامن ریاست کے طور پر لوہا منوایا، سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کا مقتدر بیان، بجٹ کو عوام دوست بنانے اور پٹرولیم قیمتوں میں فوری ریلیف دینے کا مطالبہ

روزینہ اسماعیل.june 19,2026

کراچی (اسٹاف رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور عالمی سطح پر امن کے فروغ سے متعلق پاکستان کو ملنے والے عظیم الشان “عالمی امن اعزاز” کے حصول پر ملک کی عسکری و سیاسی قیادت سمیت پوری پاکستانی قوم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے، پریس ریلیز کے مطابق کراچی سے جاری اپنے ایک مقتدر بیان میں سابق گورنر سندھ نے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور پوری قوم کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی کامیابی اجتماعی قومی کوششوں اور انتہائی مؤثر و دور اندیش سفارتی حکمتِ عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ڈاکٹر عشرت العباد خان نے ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کی کامیاب ثالثی کے نتیجے میں بہتر ہوتے سفارتی روابط اور اس تاریخی مفاہمت کو دنیا میں امن اور استحکام کے ایک نئے سنہری دور کی علامت قرار دیا، انہوں نے فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے طویل ترین مشکل حالات، لازوال قربانیوں اور مسلسل سفارتی جدوجہد کے ذریعے بین الاقوامی برادری میں خود کو ایک انتہائی ذمہ دار اور پرامن ریاست کے طور پر منوایا ہے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آج عالمی سفارتکاری میں ایک مقتدر اور مؤثر ترین کھلاڑی کا کردار ادا کر رہا ہے جو کہ 24 کروڑ عوام کے لیے باعثِ فخر ہے۔

سابق گورنر سندھ نے حکومتی معاشی پالیسیوں پر بات کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ان بین الاقوامی سٹرٹیجک کامیابیوں کے براہِ راست معاشی اثرات عام شہریوں کی دہلیز تک بھی لازمی پہنچنے چاہئیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہونے کے بعد ملک میں مہنگائی میں واضح کمی لائی جائے اور پٹرول، ڈیژل، گیس کی قیمتوں میں فوری و خاطر خواہ ریلیف سمیت توانائی کے شعبے میں مثبت تبدیلیاں لائی جائیں، ڈاکٹر عشرت العباد خان نے زیرِ بحث وفاقی بجٹ پر کڑا زور دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ کو ہر صورت عوام دوست بنایا جائے اور اس میں پارلیمنٹ کی تجویز کردہ ضروری ترامیم کے بعد ہی اسے منظور کیا جائے تاکہ تنخواہ دار اور غریب مزدور طبقے کو حقیقی معاشی ریلیف مل سکے۔

اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاکستان کی پائیدار ترقی صرف اور صرف سیاسی ہم آہنگی، ادارہ جاتی تعاون اور فولادی قومی اتحاد سے ہی ممکن ہے، جبکہ خطے میں درپیش بیرونی چیلنجز بالخصوص پاکستان کو نشانہ بنانے والی بھارتی پراکسی سرگرمیوں کو کچلنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر قومی حکمتِ عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اسی درست سمت میں پیش رفت جاری رکھتا ہے تو ملک خطے میں ایک مضبوط، معاشی طور پر مستحکم اور پرامن ایٹمی ریاست کے طور پر مزید نمایاں ہو کر ابھرے گا۔

فائبرائزیشن کی آڑ میں ٹیلی کام کمپنیوں کو شہریوں کے گھروں تک رسائی نہیں دی جا سکتی، متنازع بل کو کسی صورت منظور نہیں ہونے دیں گے، پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان کا کڑا مؤقف، بل میں کنفیوژن موجود ہے، گنجائش ہوئی تو تبدیلی کریں گے، وفاقی وزیر شزا فاطمہ کی وضاحت

کاشف عباسی ,june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی مقتدر سینیٹر پلوشہ خان نے انٹرنیٹ انفراسٹرکچر اور فائبرائزیشن کے نام پر لائے جانے والے نئے قانون پر سخت ترین سٹرٹیجک مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کنیکٹیوٹی اور ڈیجیٹلائزیشن کی آڑ لے کر نجی یا سرکاری ٹیلی کام کمپنیوں کو عام شہریوں کے گھروں اور نجی املاک تک رسائی کا بلاجواز اختیار کسی صورت نہیں دیا جا سکتا، اسلام آباد سے جاری اپنے ایک اہم ترین بیان میں سینیٹر پلوشہ خان نے دوٹوک الفاظ میں تہران نما عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ شکل میں اس متنازع بل کو سینیٹ سے کسی صورت منظور نہیں ہونے دیا جائے گا کیونکہ آئینِ پاکستان اور شہریوں کے بنیادی حقوق سے متصادم کوئی بھی قانون سازی کرنا ناممکن ہے، ان کا کہنا تھا کہ کنیکٹیوٹی کی مد میں معصوم عوام کا معاشی یا آئینی استحصال نہیں کیا جا سکتا اور مقتدر ماہرینِ قانون و ٹیکنالوجی کی حتمی رائے کے بغیر اس بل کا پاس ہونا قطعی ناممکن ہے۔

سینیٹر پلوشہ خان نے سیاسی منظرنامے کی صراحت کرتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ ”ہو سکتا ہے کہ کسی مخصوص سیاسی وجہ یا دباؤ کے باعث یہ بل قومی اسمبلی سے باآسانی نکل گیا ہو، مگر سینیٹ (ایوانِ بالا) میں اسے پیپلز پارٹی نے ہی سٹرٹیجک بنیادوں پر روکا ہے،“ انہوں نے مطلع کیا کہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوامی تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے سینیٹ میں ”پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل“ کو سخت مزاحمت کر کے رکوایا ہے، دوسری جانب اس بڑے سیاسی و عوامی دباؤ کے بعد وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ نے بھی حکومت کا پوزیشن واضح کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا ہے کہ ”پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026“ میں اگر عوامی مفاد یا قانونی ویزا کے تحت کسی بھی تبدیلی کی گنجائش ہوئی تو حکومت اپوزیشن کی مشاورت سے وہ تبدیلیاں ضرور کرے گی۔

ایک نجی ٹی وی چینل کے مقتدر پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے اعتراف کیا کہ بل پر مزید تفصیلی وضاحتوں کی کڑی ضرورت ہے اور اس حوالے سے ضروری ترامیم لائی جائیں گی، ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا یہ اعتراض بالکل ٹھیک ہے کہ زمین کے اوپر ٹیلی کام انفراسٹرکچر (ٹاورز اور تاروں) کی تنصیب اور نجی املاک کے حوالے سے بل کے مسودے میں کچھ سنگین کنفیوژن موجود ہے، جسے پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے ضرور دور کیا جائے گا، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی نے بل میں موجود بھاری جرمانوں کے حوالے سے اصرار کیا کہ قانون میں درج 5 کروڑ روپے تک کا جرمانہ صرف اور صرف اسی مخصوص صورت میں عائد ہوگا جب زمین یا جائیداد کے مالک اور ٹیلی کام کمپنی کے درمیان باہمی رضامندی سے باقاعدہ معاہدہ طے پا چکا ہو اور بعد میں مالکِ مکان کی جانب سے اس قانونی معاہدے کی صریح خلاف ورزی کی جائے، حکومت اس بل کے ذریعے کسی کے حقوق پامال نہیں کرنا چاہتی۔

محرم الحرام کے دوران ضلع وہاڑی میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات، 1913 پولیس افسران و اہلکار ڈیوٹی پر تعینات، ڈرون اور سی سی ٹی وی کیمروں سے مجالس اور جلوسوں کی مانیٹرنگ، ڈی پی او تصور اقبال کی شہریوں سے تعاون کی اپیل

محمود احمد june 19,2026

وہاڑی (خصوصی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء محرم الحرام کے مقدس اور حساس مہینے کے موقع پر ضلع وہاڑی میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی کے انتہائی سخت اور غیر معمولی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق ضلعی پولیس انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ جامع سیکیورٹی پلان کے تحت ضلع بھر میں محرم الحرام کی تمام مجالس اور عزاداری کے جلوسوں کی حفاظت کے لیے مجموعی طور پر 1,913 اعلیٰ پولیس افسران، لیڈیز پولیس اور جوانوں کو سیکیورٹی ڈیوٹی پر ہائی الرٹ تعینات کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا سدِباب کیا جا سکے۔

سیکیورٹی پلان کی جدید اسٹرٹیجی کے مطابق تمام امام بارگاہوں، مجالس کے مقامات اور جلوسوں کے روایتی راستوں کی کڑی نگرانی کے لیے جدید ترین سی سی ٹی وی ( کیمروں، ڈرون کیمروں اور متحرک ڈیجیٹل سرویلنس وینز کا سہارا لیا جا رہا ہے، اس کے علاوہ سیکیورٹی انتظامات کو فول پروف بنانے اور فیلڈ میں مستعدی جانچنے کے لیے 6 مقتدر ویجیلنس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو چوبیس گھنٹے مسلسل مانیٹرنگ پر مامور رہیں گی، عسکری نوعیت کی حفاظتی تدابیر کے تحت حساس ترین مقامات اور جلوس کے راستوں میں آنے والی بلند عمارتوں پر ‘روف ٹاپ’ (چھتوں پر) ماہر نشانہ باز اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ شرپسند عناصر پر کڑی نظر رکھنے کے لیے سادہ لباس میں ملبوس اسپیشل برانچ کے اہلکار بھی عزاداروں کے روپ میں گراؤنڈ پر موجود رہیں گے۔

ڈی پی او وہاڑی تصور اقبال نے سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ مجالس اور جلوسوں کے راستوں پر واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹرز کے ذریعے تلاشی کا نظام لازمی بنایا گیا ہے، جبکہ زائرین اور عام شہریوں کی سہولت کے لیے ٹریفک کی بلا تعطل روانی برقرار رکھنے کی خاطر ٹریفک پولیس کی جانب سے متبادل روٹس (راستے) بھی مقرر کر دیے گئے ہیں، ڈی پی او وہاڑی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی پلان پر 100 فیصد عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور انہوں نے تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، منتظمین اور عام شہریوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ ملک و ملت کی سلامتی اور امن و امان کے قیام کے لیے مقامی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

لاہور ہائیکورٹ نے رہائشی علاقے میں قائم پلاسٹک فیکٹری کے خلاف پیرا کی کارروائی کو درست قرار دے دیا، فیکٹری ختم کرنے کا حکم برقرار، پیر کے روز فورس کی موجودگی میں آپریشن کرنے کی ہدایت

کاشف عباسی ,june 19,2026

لاہور (قانونی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم ترین فیصلے میں رہائشی علاقے میں قائم غیر قانونی پلاسٹک فیکٹری کے خلاف پنجاب انوائرمنٹل ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کی کارروائی کو سو فیصد درست اور قانونی قرار دیتے ہوئے فیکٹری کو فی الفور ختم کرنے کا حکم برقرار رکھا ہے، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس جاوید اقبال وینس نے نجی پلاسٹک فیکٹری کے مالک کی جانب سے دائر کردہ اپیل پر تفصیلی سماعت کی، کارروائی کے دوران چیف پراسیکیوٹر پیرا بیرسٹر مدثر اسحاق اپنے قانونی معاونین کے ہمراہ عدالتِ عالیہ میں پیش ہوئے۔

دورانِ سماعت پیرا کے مقتدر وکیل بیرسٹر مدثر اسحاق نے ٹھوس شواہد پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ رہائشی علاقے میں زہریلا دھواں اور ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والی فیکٹری کے خلاف عوامی شکایات موصول ہوئی تھیں، جن کی بنیاد پر کی جانے والی یہ کارروائی پیرا کے قانونی دائرہ اختیار اور ایکٹ کے تحت بالکل آئینی ہے، دوسری جانب فیکٹری کے وکیل نے دفاعی استدلال پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فیکٹری کو مستقل بند کرانا یا اس کا وجود ختم کرانا پیرا فورس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا بلکہ یہ مخصوص معاملہ خالصتاً محکمہ ماحولیات کا ہے اس لیے اتھارٹی کی کارروائی کو کالعدم قرار دیا جائے۔

عدالتِ عالیہ نے فریقین کے مقتدر دلائل اور سٹرٹیجک قوانین کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد فیکٹری انتظامیہ کی درخواست کو یکسر مسترد کر دیا، لاہور ہائیکورٹ نے پیرا فورس کے ایکشن کو قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے کڑا حکم جاری کیا کہ پیر کے روز پیرا فورس کی بھاری نفری کی موجودگی میں رہائشی علاقے سے اس پلاسٹک فیکٹری کو مکمل طور پر ختم کر کے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔

کامیاب سفارت کاری سے پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوا، معاشی ترقی کے لیے زراعت اور صنعت میں ہنگامی سرمایہ کاری ناگزیر ہے، آئی ایم ایف پر انحصار ختم کرنے کے لیے برآمدات بڑھائی جائیں، قومی اسمبلی میں بجٹ بحث کے دوران پیپلز پارٹی کی رہنما ڈاکٹر نفیسہ شاہ کا مقتدر خطاب

منصور احمد june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی مرکزی رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے ملک کی حالیہ خارجہ پالیسی، سٹرٹیجک فیصلوں اور خطے میں ہونی والی عظیم سفارتی کامیابیوں پر ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق قومی اسمبلی کے اہم ترین اجلاس میں جمعہ کے روز وفاقی بجٹ پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایم این اے ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ پاکستان نے اپنی بہترین، دور اندیش اور مخلصانہ سفارت کاری کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں امن کو جتوایا ہے، جس کی بدولت عالمی سطح پر ملک کا سفارتی وقار حد سے زیادہ بلند ہوا ہے اور جنگ و انتہا پسندی کے نظریات کو عبرتناک شکست ہوئی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ خلیجی ممالک (جی سی سی) کے ساتھ پاکستان کے موجودہ برادرانہ و اقتصادی تعلقات قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے تاریخی وژن کا تسلسل ہیں جو ملکی معیشت کو نئی اور پائیدار راہ پر گامزن کریں گے۔

ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے ملکی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے کڑے شکنجے سے مستقل نجات حاصل کرنے کے لیے پارلیمنٹ اور حکومت کے سامنے مقتدر تجاویز پیش کیں، انہوں نے اصرار کیا کہ پاکستان جیسے کثیر الآبادی والے ملک کی تیز رفتار معاشی ترقی کے لیے زراعت اور صنعت (انڈسٹری) کے شعبوں میں ہنگامی بنیادوں پر بھاری سرمایہ کاری کی جائے اور ملکی ترقی کے لیے وضع کردہ ’’اڑان پاکستان‘‘ وژن کے تحت تمام معاشی اہداف کو بروقت حاصل کیا جائے، پیپلز پارٹی کی رہنما نے قومی اسمبلی کے فلور پر کڑا زور دیا کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے اور ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے ملکی برآمدات (ایکسپورٹس) کے راستے میں حائل تمام بیوروکریٹک اور ٹیکس رکاوٹوں کو فی الفور دور کیا جائے۔

انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ ملکی معیشت کی حقیقی ریڑھ کی ہڈی یعنی کسانوں اور زمینداروں کو کھاد، بیج اور بجلی پر زیادہ سے زیادہ ریلیف اور جدید سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ملکی زرعی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ممکن ہو سکے، ڈاکٹر نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ کسان خوشحال ہوگا تو پاکستان معاشی طور پر مضبوط اور خودکفیل بنیادوں پر استوار ہو سکے گا، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ موجودہ سٹرٹیجک بجٹ میں ان کی پیش کردہ تجاویز کو شامل کر کے ملک کو معاشی خود مختاری کی طرف لے جایا جائے گا۔

”وزیرِ اعظم صاحب! پٹرول کی قیمت میں 10، 20 روپے کی کمی سے عوام کو نہ ٹرخائیں، ‘خاطر خواہ کمی’ وہی ہوگی جو جنگ سے پہلے تھی“، سینئر صحافی غریدہ فاروقی کا ایکس (X) پر کڑا بیان، جنگ بندی کے بعد پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف کے حکومتی دعووں پر اپوزیشن اور میڈیا کا ردعمل

منصور احمد june 19,2026

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان کی کامیاب ترین ثالثی اور تاریخی جنگ بندی کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونی والی تیز ترین کمی کا فائدہ غریب عوام تک پہنچانے کے حکومتی دعووں پر ملک کے مقتدر صحافتی و سیاسی حلقوں نے کڑا رخ اختیار کر لیا ہے، تفصیلات کے مطابق ملک کی معروف اور سینئر اینکر پرسن و صحافی غریدہ فاروقی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے ایک انتہائی سخت اور سٹرٹیجک بیان میں وزیرِ اعظم پاکستان کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ”وزیرِ اعظم صاحب! پٹرول کی ملکی قیمت میں ‘خاطر خواہ کمی’ صرف اور صرف وہی تسلیم کی جائے گی کہ پٹرول کی فی لیٹر قیمت کو یکسر اسی سطح پر واپس لایا جائے جو مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ چھڑنے سے قبل ملک میں رائج تھی،“ غریدہ فاروقی نے حکومتی معاشی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کڑے الفاظ میں کہا کہ محض 10، 20 یا 50 روپے وغیرہ کی اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر کمی کر کے حکومت پپسے ہوئے عوام کو ٹرخانے کی کوشش نہ کرے اور آئی ایم ایف کے دباؤ یا اپنے ریونیو کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے غریب عوام کی جیبوں پر مزید ڈاکا ڈالنا بند کرے۔

دوسری جانب وزیرِ اعظم پاکستان نے قوم سے اپنے ایک مقتدر اور تاریخی خطاب میں مہنگائی کے مارے عوام کو خوشخبری سناتے ہوئے سنسنی خیز اعلان کیا ہے کہ آج پٹرول اور ڈیژل کی ہفتہ وار قیمتوں کا باقاعدہ جائزہ لیا جا رہا ہے اور حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بڑی اور “خاطر خواہ کمی” کا باضابطہ اعلان کرنے جا رہی ہے، وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ آج سے ٹھیک 3 مہینے قبل جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہولناک جنگ چھڑی تھی تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو یکایک آگ لگ گئی تھی جس کا براہِ راست بوجھ پاکستان پر بھی پڑا، لیکن پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کے نتیجے میں ہونے والی تاریخی جنگ بندی کے بعد اب بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بہت تیزی سے نیچے آرہی ہیں اور یقیناً آنے والے دنوں میں اس میں مزید بڑی کمی واقع ہوگی، انہوں نے پُرعزم انداز میں کہا کہ اس تاریخی جنگ بندی سے اب پورے خطے میں معاشی خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوگا، تیل کی قیمتیں مسلسل نیچے آرہی ہیں اور مہنگائی کی وہ سیاہ رات اب ہمیشہ کے لیے ختم ہونے کو ہے جس نے محدود وسائل کے باعث ہماری معیشت کو جکڑ رکھا تھا۔

وزیرِ اعظم نے عالمی محاذ پر ملنے والی اس سٹرٹیجک کامیابی پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کی بدولت پوری دنیا میں ملک کا نام انتہائی عزت و وقار سے گونج رہا ہے اور دنیا کے ہر خطے میں پاکستان کا سفارتی وقار بلند ہوا ہے، انہوں نے انکشاف کیا کہ ”کل شام میری ایران کے صدر سے تفصیلی فون پر بات چیت ہوئی، جس کے دوران ایرانی صدر نے اس بحران کو ٹالنے اور جنگ بندی کرانے پر بار بار پاکستان کی حکومت اور مسلح افواج کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، اور انہوں نے خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ بہت جلد خود پاکستان کا باضابطہ دورہ کر کے یہاں کے غیور عوام کا شکریہ ادا کریں گے،“ وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ اس نازک قومی و بین الاقوامی معاملے پر ہماری پوری سیاسی و عسکری قیادت اور قومی وحدت ایک پیج پر ہے، انہوں نے اس کامیابی میں بھرپور حصہ ڈالنے پر نائب وزیرِ اعظم، وزیرِ داخلہ محسن نقوی (جنہوں نے ایران کے حوالے سے اپنا پورا کلیدی سفارتی کردار ادا کیا) اور قائدِ حزبِ اختلاف (اپوزیشن لیڈر) کا خصوصی شکریہ ادا کیا، اپنے خطاب کے آخر میں وزیرِ اعظم نے دوٹوک الفاظ میں اعتراف کیا کہ خطے کو اس ہولناک جنگ سے بچانے اور اس عظیم عالمی کامیابی کو ممکن بنانے میں سب سے زیادہ کلیدی اور سٹرٹیجک کردار فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا ہے، وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ ہمیں اس کامیابی کا کوئی ذاتی کریڈٹ لینے کا شوق نہیں ہے بلکہ پوری قوم کو عالمی سطح پر کریڈٹ دلوانے کا ایک جوش اور جذبہ ہمارے ذہنوں پر سوار تھا جو خدا کے فضل سے پورا ہو گیا۔

پاکستان میں 9000 افراد کے بینک اکاؤنٹس میں 750 ارب روپے موجود ہونے کا سنسنی خیز انکشاف، اتنی بھاری رقم کے باوجود انکم ٹیکس صفر ظاہر کیا گیا، 98.9 فیصد ٹیکس فائلرز آمدن چھپاتے ہیں، چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ

کاشف عباسی ,june 19,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین راشد لنگڑیال نے ملکی تاریخ میں ٹیکس چوری اور معاشی بے ضابطگیوں کے حوالے سے ایک انتہائی چونکا دینے والا اور سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں صرف 9000 امیر ترین افراد کے بینک اکاؤنٹس میں اس وقت مجموعی طور پر 750 ارب روپے کے بھاری اموال اور بینک ڈپازٹس موجود ہیں، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اہم ترین اجلاس میں مقتدر بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے انکشاف کیا کہ ان 9000 کھرب پتی افراد نے اتنی بڑی دولت رکھنے کے باوجود اپنے انکم ٹیکس گوشواروں (ریٹرنز) میں اپنی آمدنی کو بالکل صفر ظاہر کر رکھا ہے جو کہ ملکی معیشت کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے۔

قائمہ کمیٹی کے سامنے ٹیکس چوروں کا کڑا کٹھ چٹھا کھولتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر نے مزید بتایا کہ پاکستان میں ٹیکس کا نظام کس قدر پامال ہو چکا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کے 98.9 فیصد ٹیکس ریٹرن فائلرز جان بوجھ کر اپنی حقیقی آمدن کو قانون سے چھپاتے اور حد سے زیادہ کم ظاہر کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ کڑوا سچ اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارے ٹیکسیشن کے پورے ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر سٹرٹیجک بے ضابطگیاں اور خامیاں موجود ہیں جن کا فائدہ اٹھا کر بااثر اشرافیہ ٹیکس نیٹ سے صاف بچ نکلتی ہے اور سارا بوجھ غریب عوام پر آ گرتا ہے۔

راشد لنگڑیال نے اس سنگین صورتحال سے نمٹنے اور کڑی مانیٹرنگ کے لیے ایف بی آر کے نئے انقلابی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اب ملک میں روایتی نظام کو یکسر بدل کر ایک جدید اور خودکار “فیس لیس ٹیکسیشن سسٹم” متعارف کرانے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے، اس ڈیجیٹل نظام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہوگی کہ اس میں ٹیکس افسر اور ٹیکس دہندہ (اسیسٹی) کے درمیان کسی بھی قسم کا کوئی براہِ راست رابطہ یا ملاقات نہیں ہو سکے گی جس سے رشوت ستانی اور ملی بھگت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا۔ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ارکان کو مطلع کیا گیا کہ جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے اب ٹیکس نیٹ کو ہر صورت مؤثر اور وسیع بنانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں تاکہ معاشی نظام میں شفافیت کو 100 فیصد یقینی بنا کر اربوں روپے کی ہونی والی اس منظم ٹیکس چوری کو آہنی ہاتھوں سے روکا جا سکے۔