امریکا ایران مذاکرات میں فیلڈ مارشل کا کلیدی کردار، دیگر شخصیات کو کریڈٹ دینے کی ضرورت نہیں: ہمایوں مہمند

کاشف عباسی ,june 22,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے تاریخ ساز امن بریک تھرو پر ملک کے سیاسی اور حکومتی حلقوں میں تزویراتی بحث تیز ہو گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مقتدر رہنما اور سینیٹر ہمایوں مہمند نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں کامیابی کے پیچھے بنیادی، کلیدی اور فیصلہ کن کردار صرف اور صرف چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تھا، اس لیے اس عظیم سفارتی کامیابی کا کریڈٹ کسی اور سیاسی شخصیت کو دینے کی قطعی ضرورت نہیں۔

نجی ٹی وی کے مقتدر ٹاک شو میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر ہمایوں مہمند کا کہنا تھا کہ خود امریکی نائب صدر جے ڈی وینس عالمی میڈیا کے سامنے اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ اس انتہائی پیچیدہ مذاکراتی عمل میں فیلڈ مارشل عاصم منیر شروع دن سے واشنگٹن کے ساتھ کھڑے رہے اور انہوں نے ہی اسے ممکن بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آرمی چیف کی ان انتھک اور کامیاب سفارتی کوششوں کو کسی بھی سیاسی مہرے کے کھاتے میں ڈالنا مناسب نہیں۔ سینیٹر ہمایوں مہمند نے ایران پر عائد عالمی پابندیوں میں ممکنہ نرمی یا خاتمے کے پاکستان پر اثرات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت سے پاکستان کو معاشی طور پر براہِ راست اور زبردست فائدہ پہنچے گا، جس سے پاک-ایران گیس پائپ لائن اور پیٹرولیم مصنوعات کی سستی درآمد کے امکانات روشن ہوں گے اور ملکی توانائی بحران پر ہمیشہ کے لیے قابو پایا جا سکے گا۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو ان منصوبوں میں شفافیت کو مقدم رکھنا ہو گا۔

دوسری جانب، وفاقی وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے بھی پروگرام میں حکومت کا تزویراتی مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے مابین یہ کامیاب مذاکرات پاکستان کے لیے نئے معاشی، سفارتی اور تزویراتی مواقع کا دروازہ کھول رہے ہیں۔ بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ تہران پر پابندیوں میں متوقع نرمی کے نتیجے میں پاک-ایران گیس پائپ لائن منصوبے، بجلی کی فراہمی اور دوطرفہ تجارت میں حائل تمام قانونی رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس مقتدر سفارتی موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کے ساتھ اپنے معاشی اور تجارتی روابط کو فوری طور پر نئی بلندیوں پر لے جانا چاہیے تاکہ ملکی معیشت کو پائیدار استحکام حاصل ہو سکے۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے سیاسی مبصرین کے مطابق، اگرچہ کریڈٹ لینے کی جنگ جاری ہے، تاہم تمام سیاسی و عسکری مہرے اس بات پر مکمل متفق ہیں کہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ پاکستان کی خوشحالی کا ضامن ہے۔

سفارت کاری کا بڑا معرکہ: الحمد للہ، پاکستان کو ایک بڑی تزویراتی کامیابی حاصل ہوئی ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر؛ امریکہ اور ایران کے درمیان 60 روز میں حتمی امن معاہدے کے روڈ میپ پر اتفاق

کاشف عباسی ,june 22,2026

راولپنڈی (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی مذاکراتی عمل میں ہونے والی بریک تھرو اور مثبت پیش رفت پر اپنا مقتدر ردِعمل دیتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ “الحمد للہ پاکستان کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، اور یہ تاریخی کامیابی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم اور مخلصانہ کوششوں سے ممکن ہوئی۔” فیلڈ مارشل کا یہ مقتدر بیان سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ کے تحت ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکراتی اجلاس کے انتہائی کامیاب اختتام اور مشترکہ اعلامیے کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں علاقائی سلامتی اور عالمی امن کے حوالے سے طویل عرصے بعد بڑی تزویراتی پیش رفت ہوئی ہے۔

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے بھی برگن اسٹاک میں مذاکرات کے پہلے مرحلے کی شاندار کامیابی پر گہرے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی تاریخ کا ایک عظیم اور تاریخی سنگِ میل قرار دیا ہے۔ اپنے خصوصی بیان میں وزیرِ اعظم پاکستان نے بتایا کہ یہ مقتدر مذاکرات انتہائی خوشگوار، مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئے، جن کے منطقی نتیجے میں دونوں روایتی حریف فریقین (واشنگٹن اور تہران) نے آئندہ 60 دنوں کے اندر ایک حتمی اور جامع امن معاہدے تک پہنچنے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر باقاعدہ اتفاق کر لیا ہے۔ وزیرِ اعظم کے مطابق، اس تاریخی امن عمل کی باقاعدہ نگرانی اور تیز رفتار پیش رفت کے لیے ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ مقتدر کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے، جبکہ تکنیکی اور تزویراتی سطح کے ذیلی مذاکرات بھی جلد شروع کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے امریکی اور ایرانی قیادت کے تعمیری و لچکدار رویے کو سراہتے ہوئے اس عمل میں معاونت کرنے والے تمام دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پسِ پردہ غیر معمولی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کی انتھک محنت، فولادی عزم اور مسلسل پسِ پردہ سفارتی رابطوں نے ہی اس ناممکن نظر آنے والی عالمی پیش رفت کو ممکن بنایا ہے۔ وزیرِ اعظم نے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزارتِ خارجہ کی مقتدر ٹیم اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی شبانہ روز خدمات کو بھی دل کھول کر سراہا۔ انہوں نے برادر ملک قطر اور میزبان ملک سوئٹزرلینڈ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول اور تکنیکی سہولیات فراہم کیں۔ عالمی سیاسی اور سفارتی حلقوں کے مطابق، اس تاریخ ساز کامیابی نے عالمی سطح پر پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عسکری و سیاسی قیادت کے تزویراتی وقار کو معراج بخش دی ہے، اور دنیا اب تنازعات کے حل کے لیے پاکستان کو ایک ناگزیر مصالحت کار کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

ملاوٹ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن: پنجاب فوڈ اتھارٹی کی بڑی کارروائی، لاہور میں جعلی دودھ تیار کرنے والا منظم گروہ گرفتار

کاشف عباسی ,june 22,2026

لاہور ( نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے صوبائی دارالحکومت لاہور کے گنجان آباد علاقے گوال منڈی میں ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے کیمیکلز اور سفوف کی مدد سے جعلی و مصنوعی دودھ تیار کرنے والے ایک انتہائی منظم اور خطرناک گروہ کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ہے۔ مقتدر کارروائی کے دوران مارکیٹ میں سپلائی کے لیے تیار کیا گیا تقریباً 50 لاکھ روپے مالیت کا جعلی دودھ، مضرِ صحت گاڑھا محلول اور دودھ کی تیاری میں استعمال ہونے والی بھاری مشینری برآمد کر کے مروجہ قوانین کے تحت ضبط کر لی گئی ہے۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سید موسیٰ رضا نے ویجیلنس اور ڈیری سیفٹی ٹیم کے ہمراہ ایک خفیہ اور معتبر اطلاع پر اس یونٹ پر چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران پاؤڈر اور مہلک کیمیکلز سے تیار شدہ 10 ہزار لیٹر جعلی دودھ اور 1500 لیٹر خطرناک گاڑھا محلول موقع پر ہی تلف کر دیا گیا، جبکہ دھندے میں ملوث ملزمان کو حراست میں لے کر ان کے خلاف تھانے میں مقتدر مقدمہ درج کروا دیا گیا ہے۔ فوڈ اتھارٹی کے مروجہ ریکارڈ کے مطابق، جائے وقوعہ سے 11 گھی کے ٹین، مکسنگ مشین، 6 بڑے ڈرم، 10 بیگ پاؤڈر، 2 چلرز، 2 فریزرز، وزن کرنے والے کانٹے اور گیس سلنڈرز برآمد ہوئے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق، یہ ملاوٹ مافیا ایک رہائشی علاقے کے اندر قائم خفیہ کارخانے میں رات کے اندھیرے میں یہ مصنوعی دودھ تیار کرتا تھا، جسے صبح سویرے شہر کی مختلف مقتدر دکانوں اور نامی گرامی مارکیٹوں میں خالص دودھ کے نام پر سپلائی کیا جاتا تھا۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی سید موسیٰ رضا نے میڈیا کو بتایا کہ ملزمان پاؤڈر، پانی، ناقص گھی اور ٹیکسٹائل کیمیکلز کی مدد سے زہریلا مائع تیار کر کے معصوم شہریوں اور بچوں کی صحت کے ساتھ ایک ہولناک کھیل کھیل رہے تھے۔ موبائل لیبارٹری کے ذریعے موقع پر کیے گئے سائنسی ٹیسٹ میں دودھ کے تمام نمونے انتہائی ناقص اور انسانی صحت کے لیے کینسر کا باعث قرار پائے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پنجاب بھر میں خالص خوراک کی فراہمی کے لیے بین الاقوامی معیار کے مطابق بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے ذریعے شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے اردگرد ایسی کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً فوڈ اتھارٹی کی ہیلپ لائن پر دیں۔

افغان طالبان رجیم کا جھوٹ ایک بار پھر بے نقاب، کابل میں دہشت گردوں کی مبینہ وی آئی پی میزبانی کے دعوے سامنے آگئے

محمود احمد june 22,2026

کابل/اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

افغان طالبان حکومت کی جانب سے سرحد پار کارروائیاں کرنے والے دہشت گرد گروہوں کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں اور مقتدر مراعات دینے سے متعلق الزامات اور حقائق ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کرنے والی تازہ ترین تصاویر و شواہد کے بعد یہ چونکا دینے والا دعویٰ سامنے آیا ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایک انتہائی معروف فائیو اسٹار ہوٹل میں پاکستان کو مطلوب کالعدم شدت پسند گروپس سے وابستہ ہائی پروفائل افراد کی کھلی موجودگی دیکھی گئی ہے۔

تزویراتی ذرائع کے مطابق، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان دستاویزی تصاویر میں بعض ایسے مسلح اور بااثر افراد کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے جن کے بارے میں مصدقہ طور پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد سنگین وارداتوں میں ملوث ‘حافظ گل بہادر گروپ’ سے وابستہ ہیں۔ تصاویر کے حوالے سے جیو پولیٹیکل ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کابل کے سب سے مقتدر اور معروف ‘انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل’ کے اندر کی ہیں، جہاں مبینہ طور پر یہ شدت پسند کمانڈرز نہ صرف سرکاری مہمانوں کی طرح قیام پذیر تھے بلکہ ہوٹل کے مختلف حصوں میں بلا خوف و خطر گھومتے پائے گئے۔ بعض بین الاقوامی رپورٹس میں یہ ہولناک دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ان مقتدر دہشت گردوں کو افغان انٹیلی جنس کی جانب سے خصوصی پروٹوکول، مالی سہولیات اور سخت وی آئی پی سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔

دفاعی اور قومی سلامتی کے مقتدر ماہرین کا کہنا ہے کہ کابل کے دل میں دہشت گرد کمانڈرز کی اس سطح پر موجودگی افغانستان میں موجود تخریب کار عناصر اور افغان حکومت کے اعلیٰ مہروں کے درمیان گہرے روابط کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایسے اقدامات دوطرفہ تعلقات اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کو شدید ترین نقصان پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں۔ اگرچہ افغان طالبان حکومت ماضی میں روایتی طور پر یہ دعویٰ کرتی آئی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی، تاہم ان تازہ ترین تصاویر کے منظرِ عام پر آنے کے بعد کابل کا یہ مؤقف دنیا بھر میں بری طرح بے نقاب ہو گیا ہے۔ علاقائی امور کے ماہرین نے زور دیا ہے کہ سرحد پار سیکیورٹی چیلنجز اور دہشت گردی کے اس منظم نیٹ ورک سے نمٹنے کے لیے افغان حکومت کو اب زبانی جمع خرچ کے بجائے ٹھوس، شفاف اور ذمہ دارانہ اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

ملزم سکیورٹی فورسز کو پنجگور میں کارروائی کے دوران مطلوبہ اسلحہ و بارود سمیت ہتھے چڑھا تھا؛ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف بڑی عدالتی پیش رفت

کاشف عباسی ,june 22,2026

تربت ( نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

انسدادِ دہشت گردی کی مقتدر عدالت تربت نے فتنہ الہندوستان کے نیٹ ورک اور دیگر کالعدم تنظیموں سے منسلک خطرناک سہولت کار ساجد احمد کو دہشت گردی، معاونت اور غیر قانونی اسلحہ ایکٹ کے مروجہ مقدمات میں مجموعی طور پر 14 سال سخت قیدِ بامشقت کی سزا کا حکم دے دیا ہے۔ عدالتی دستاویزات اور سرکاری سکیورٹی ذرائع کے مطابق، مجرم ساجد احمد کو حساس اداروں اور سکیورٹی فورسز نے ضلع پنجگور کے ایک حساس علاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ کامیاب کارروائی کے دوران گرفتار کیا تھا، جہاں تلاشی کے دوران اس کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید خودکار اسلحہ اور دھماکا خیز مواد برآمد ہوا تھا۔

تفتیشی حکام اور استغاثہ نے عدالت کے سامنے مضبوط شواہد پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم ریاست مخالف اور ملک دشمن نیٹ ورکس کے مقتدر مہروں سے براہِ راست رابطے میں تھا، جبکہ اس پر کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف کے لیے تزویراتی سہولت کاری کرنے، مقامی معصوم نوجوانوں کو ورغلا کر شدت پسند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے اور متعدد تخریبی منصوبوں میں معاونت فراہم کرنے کے سنگین الزامات ثابت ہوئے۔ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے ناقابلِ تردید سائنسی و دستاویزی شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ملزم کو قصوروار قرار دیتے ہوئے دہشت گردی کے مقدمے میں 14 سال قید کی سزا سنائی جبکہ ‘بلوچستان آرمز ایکٹ’ کے تحت بھی اضافی جرمانے اور قید کی مقتدر سزا عائد کی ہے۔

عدالتی فیصلے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اعلیٰ اداروں نے اس تزویراتی اقدام کو دہشت گردی کے سہولت کاروں اور فیلڈ نیٹ ورکس کے خلاف جاری آپریشنز میں ایک بڑی اور اہم ترین پیش رفت قرار دیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا واشگاف الفاظ میں کہنا ہے کہ ملک دشمن عناصر، تخریب کاروں اور ان کے مقامی و بین الاقوامی سہولت کاروں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے کسی بھی عنصر کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، اس فیصلے سے دہشت گردی کی سپلائی لائن کو توڑنے میں مدد ملے گی، جبکہ سکیورٹی اداروں نے امن و امان کی مقتدر صورتحال برقرار رکھنے کے لیے عوام سے کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دینے کی اپیل کی ہے۔

سیاحتی مقامات پر ہائی الرٹ: مری اور گلیات میں تیز بارشوں کا نیا سلسلہ متوقع، ریسکیو 1122 کے تمام وسائل متحرک

منصور احمد june 22,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

ملکہ کوہسار مری، گلیات اور ان کے مروجہ گرد و نواح میں آئندہ چند روز کے دوران گرج چمک، تیز تند ہواؤں اور موسلا دھار بارشوں کی نئی پیش گوئی کے پیشِ نظر پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 مری نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ خراب موسم اور ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹنے کے لیے تمام دستیاب ایمرجنسی وسائل، اسپیشلائزڈ ریسکیو ٹیموں اور کنٹرول روم کے عملے کو فیلڈ مارشل ڈسپلن کے تحت مکمل طور پر متحرک کر دیا گیا ہے۔ ریسکیو 1122 مری کے ترجمان کے مطابق، حالیہ موسمیاتی رپورٹس میں مختلف اوقات کے دوران شدید موسمی سرگرمیوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کے باعث مقتدر انتظامیہ کی جانب سے تمام حفاظتی اور قبل از وقت انتظامی اقدامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

ترجمان نے تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ خراب موسم کے دوران کسی بھی ناگہانی آفت یا حادثے کی صورت میں فوری رسپانس کو یقینی بنانے کے لیے فائر وہیکلز، جدید ایمبولینسز اور ہیوی ریسکیو اہلکاروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رکھا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق، ان شدید پہاڑی بارشوں کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ ، پتھر اور درخت گرنے، سڑکوں پر شدید پھسلن، ٹریفک حادثات اور نشیبی برساتی ندی نالوں میں اچانک طغیانی کے شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اسی تزویراتی تناظر میں مری آنے والے سیاحوں اور مقامی شہریوں کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طویل سفر سے مکمل گریز کریں اور ندی نالوں یا خطرناک چٹانی گزرگاہوں سے دور رہیں۔ ریسکیو 1122 نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری مدد کے لیے ہیلپ لائن 1122 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

خلیجی معیشت میں بڑا اقدام: کویت کا غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے 15 سالہ اقامہ متعارف، پاکستانی تاجر بھی مستفید ہو سکیں گے

محمود احمد june 22,2026

کویت سٹی ( نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

خلیجی ریاست کویت نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور عالمی کاروباری شخصیات کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے ایک تزویراتی اور تاریخی پیشرفت کرتے ہوئے 15 سالہ طویل مدتی اقامہ (ریذیڈنسی ویزا) باقاعدہ متعارف کرا دیا ہے۔ نئے مقتدر قانون کے تحت مروجہ شرائط پر پورا اترنے والے اہل غیر ملکی سرمایہ کار، ان کے کاروباری شراکت دار اور قریبی اہلِ خانہ اب کفیل (اسپانسر) کے روایتی نظام کے بغیر طویل مدت تک کویت میں رہائش اختیار کرنے اور اپنی تجارتی سرگرمیاں بلاروک ٹوک جاری رکھنے کے اہل ہوں گے۔

کویتی حکام کے مطابق، اس انقلابی اقدام کا بنیادی مقصد ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو متحرک کرنا، ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنانا اور کویت کو خلیجی خطے کے نمایاں مالیاتی و تجارتی مراکز کی صف میں شامل کرنا ہے۔ نئی پالیسی کے مقتدر ضوابط کے تحت وہ تمام غیر ملکی افراد درخواست دینے کے مجاز ہوں گے جو کویت میں حکومت سے منظور شدہ تزویراتی سرمایہ کاری منصوبوں اور فعال کاروباری سرگرمیوں سے وابستہ ہوں۔ کویتی وزارتِ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ اس خصوصی اقامے کی سہولت حاصل کرنے والوں میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے علاوہ تسلیم شدہ بین الاقوامی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران اور رجسٹرڈ کاروباری شراکت دار بھی شامل ہیں۔ پاکستانی سرمایہ کار اور کاروباری برادری بھی خلیج کی اس نئی پالیسی سے یکساں طور پر مستفید ہو سکیں گے۔

نئے مروجہ قواعد و ضوابط کے تحت سرمایہ کاروں کے لیے یہ لازمی ہوگا کہ ان کے کاروباری منصوبے ‘کویت ڈائریکٹ انویسٹمنٹ پروموشن اتھارٹی’ سے باقاعدہ تصدیق شدہ اور منظور شدہ ہوں، جبکہ مقامی کویتی شہریوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور حکومت کی مقرر کردہ کم از کم سرمایہ کاری کی مخصوص حد (تھریش ہولڈ) کو پورا کرنا بھی لازمی ہوگا۔ کویتی کابینہ کی منظوری کے بعد نافذ ہونے والی یہ نئی ویزا اصلاحات ملک کے طویل المدتی اقتصادی وژن کا ایک اہم حصہ ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد کویت بھی اب متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے خلیجی ممالک کی اس صف میں شامل ہو گیا ہے جو عالمی ٹیلنٹ اور سرمائے کو محفوظ اور مستحکم ماحول فراہم کر رہے ہیں، جس سے پاکستانی تاجروں کے لیے بھی مڈل ایسٹ میں کاروباری توسیع کے نئے اور مقتدر مواقع پیدا ہوں گے۔

عالمی امن کا سنہری موقع: امریکہ اور ایران کے درمیان ایسے نتیجہ خیز مذاکرات کے منتظر ہیں جو مثبت نتائج لائیں، وزیرِ اعظم شہباز شریف

محمود احمد june 21,2026

برگن اسٹاک (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے مابین جاری تاریخی بات چیت کو عالمی تاریخ کا ایک بڑا تزویراتی موڑ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی امن کے مستقل قیام کے لیے یہ ایک انتہائی اہم اور سنہری موقع ہے، جہاں ہم سب مل کر دنیا بھر میں امن و استحکام کا ایک مضبوط اور پائیدار اتحاد قائم کر سکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق، سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مقتدر اعلیٰ سطحی مذاکرات کے پہلے سیشن کے اختتام پر وزیرِ اعظم پاکستان نے بین الاقوامی میڈیا سے خصوصی گفتگو کی۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس انتہائی پیچیدہ اور نازک امن معاہدے کو ممکن بنانے کے لیے پسِ پردہ ایک غیر معمولی، کلیدی اور مخلصانہ کردار ادا کیا ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت، جرات مندانہ سوچ اور براہِ راست مذاکرات کے فعال ویژن کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہی کی تزویراتی دور اندیشی کے باعث امریکہ اور ایران کا ایک میز پر بیٹھنا ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سرگرم سفارت کاری کو بھی سراہا اور قوی امید ظاہر کی کہ یہ نتیجہ خیز مذاکرات مشرقِ وسطیٰ اور پوری دنیا کے لیے مثبت معاشی و سیاسی نتائج لائیں گے۔

اس اہم مقتدر موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ جے ڈی وینس نے پاک فوج کے سربراہ کی اعلیٰ حکمتِ عملی کا اعتراف کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ایک بہترین سپہ سالار قرار دیا۔ امریکی نائب صدر نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شروع دن سے ہی اس امن مشن میں واشنگٹن کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہے ہیں، اور اس سنگین عالمی بحران کو ٹالنے کے لیے پاکستان نے جو غیر جانبدارانہ اور تعمیری کردار ادا کیا ہے، اسے عالمی سطح پر بھرپور طریقے سے سراہا گیا ہے۔ جے ڈی وینس نے پاک-امریکہ دیرینہ تعلقات کو ایک نیا رخ دیتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر میرے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتہائی قریبی اور قابلِ اعتماد دوست ہیں، اور دونوں ممالک کا باہمی سیکیورٹی تعاون خطے کی سلامتی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

امریکہ اور ایران کا پاکستان کی اعلیٰ قیادت پر بھرپور اعتماد، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عالمی مذاکراتی میز پر متحرک شرکت

محمود احمد june 21,2026

برگن اسٹاک (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

سوئٹزرلینڈ کے مقتدر شہر برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی میں کمی، پائیدار جنگ بندی اور خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے تاریخ ساز مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی پریس اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکہ اور ایران کے اعلیٰ اختیاراتی وفود ایک خصوصی بند کمرہ اجلاس میں آمنے سامنے بیٹھے، جہاں مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، فوری جنگ بندی، سفارتی چینلز کی بحالی اور مستقبل کے پائیدار امن فریم ورک کے مختلف تزویراتی پہلوؤں پر تفصیلی اور گہرائی سے بات چیت کی جا رہی ہے۔

باوثوق سفارتی ذرائع کے مطابق، ان انتہائی حساس اور معلق مذاکرات کو ممکن بنانے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ایک تاریخی، متوازن اور مؤثر ثالثی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کی غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی اور دونوں عالمی طاقتوں کے ساتھ یکساں مضبوط سفارتی رابطوں کو اس پورے مذاکراتی عمل میں مرکزی اور نمایاں اہمیت دی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، امریکہ اور ایران دونوں ممالک نے پاکستان کے مصالحتی کردار کو دل کھول کر سراہتے ہوئے اس اہم ترین امن مشن میں پاکستان کی فعال شمولیت اور رہنمائی پر اپنے غیر مشروط اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اس مقتدر امن مشن میں پاکستان کی تزویراتی نمائندگی وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خود کر رہے ہیں۔

عالمی سفارتی گیلری کے مطابق، امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر جیسے اہم ترین مقتدر مہرے شامل ہیں، جبکہ دوسری جانب ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جن کے ہمراہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور قومی سلامتی کے دیگر اعلیٰ حکام بھی مذاکرات کی میز پر موجود ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں پاکستان کے علاوہ برادر ملک قطر کا اعلیٰ سطحی وفد بھی سہولت کار کے طور پر شریک ہے۔ اس وقت پاکستان، قطر، امریکہ اور ایران پر مشتمل چار ملکی اسٹرٹیجک اجلاس میں مروجہ “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کے اہم نکات، مستقل جنگ بندی کے امکانات اور علاقائی استحکام کے آئندہ کے سفارتی لائحہ عمل پر باریک بینی سے تکنیکی مشاورت جاری ہے۔ عالمی سیاسی و سفارتی حلقوں کے مطابق، دو روایتی حریفوں کو ایک میز پر لانا پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی، موجودہ سیاسی قیادت اور قومی سلامتی کے اداروں کے لیے ایک شاندار اور تزویراتی کامیابی قرار دی جا رہی ہے، جبکہ دنیا بھر کی نظریں اب اس اجلاس کے باقاعدہ مشترکہ اعلامیے پر لگی ہوئی ہیں۔

برگن اسٹاک میں جے ڈی وینس اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، غیر رسمی گفتگو سوشل میڈیا پر زیرِ بحث

محمود احمد june 21,2026

برگن اسٹاک (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت علاقے برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تاریخی امن مذاکرات کے موقع پر پاکستان، امریکہ، ایران اور قطر کے اعلیٰ سطحی وفود کی مقتدر ملاقاتیں مسلسل جاری رہیں۔ اس دوران وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ایک خصوصی اور تزویراتی ملاقات کی، جس میں خطے میں پائیدار امن، امریکہ ایران مذاکرات، ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر پیش رفت اور سفارتی تعاون سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان نے اس پیچیدہ مذاکراتی عمل میں سہولت کاری اور رابطہ کاری کے لیے ایک کلیدی اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔

سفارتی ملاقاتوں کے اس پسِ منظر میں سوشل میڈیا پر اس بیٹھک سے متعلق ایک غیر رسمی گفتگو بھی تیزی سے گردش کر رہی ہے، جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے منسوب ایک جملہ خاصا زیرِ بحث بنا ہوا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی پریس گیلری اور باوثوق سفارتی ذرائع کے مطابق اس مبینہ جملے کی کسی بھی سرکاری امریکی یا پاکستانی مقتدر بیان سے آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور اسے محض سوشل میڈیا مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق برگن اسٹاک میں ہونے والی یہ اعلیٰ سطحی ملاقات انتہائی خوشگوار اور مقتدر ماحول میں ہوئی، جہاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت اور خطے میں امن کے قیام کے لیے جاری مخلصانہ سفارتی کوششوں کو دل کھول کر سراہا۔ پریس کانفرنس اور تجزیہ کاروں کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اس عالمی فورم پر موجودگی کو مذاکراتی عمل میں پاکستان کے فعال، اسٹرٹیجک اور بااثر کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے وفود کے درمیان ان مذاکرات کا بنیادی مقصد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر من و عن عملدرآمد، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور وسیع تر عالمی امن کے امکانات کو آگے بڑھانا ہے۔

سربراہی اجلاس: سوئٹزرلینڈ میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے اہم ملاقات، پاک-امریکہ وفود میں غیر معمولی گرمجوشی کا مظاہرہ

محمود احمد june 21,2026

زیورخ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

سوئٹزرلینڈ کے تفریحی مقام برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی امن مذاکرات کے باقاعدہ آغاز پر پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ایک انتہائی اہم اور مقتدر ملاقات ہوئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر عملدرآمد کے لیے سوئٹزرلینڈ کے جیو پولیٹیکل مذاکراتی مرکز میں ہونے والی اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین سٹرٹیجک تعلقات اور خطے کے امن پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر بھی موجود تھے، اور ملاقات میں اس وقت غیر معمولی سفارتی گرمجوشی دیکھی گئی جب اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شاندار استقبال کیا اور ان سے گرمجوشی سے بغل گیر ہوئے۔

بین الاقوامی سفارتی ذرائع کے مطابق برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ اختیاراتی وفود امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پہنچ چکے ہیں۔ ایرانی وفد کی قیادت وہاں کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف کر رہے ہیں، جسے ایرانی میڈیا میں ’میناب 168‘ کا خصوصی نام دیا گیا ہے، اس وفد میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، قومی سلامتی کونسل کے اہم عہدیدار علی باقری، مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی، کاظم غریب آبادی اور اسماعیل بقائی شامل ہیں، جبکہ امریکی وفد کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس خود کر رہے ہیں۔ عالمی امن کے اس مقتدر عمل میں سہولت کار کے طور پر قطر اور سوئٹزرلینڈ کے خصوصی نمائندے بھی کلیدی حیثیت میں شریکِ گفتگو ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اس اہم پیشرفت پر اپنا مقتدر مؤقف جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، ایران اور امریکہ کے درمیان طے شدہ امن مفاہمت پر عملدرآمد کی بھرپور تائید و حمایت کرتا ہے اور اس عالمی عمل کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار مستقل جاری رکھے گا۔ اس تاریخی عالمی سربراہی موقع پر وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی ایران، قطر، سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کے وفود کے ساتھ سائیڈ لائن پر انتہائی اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ ترجمان دفترِ خارجہ نے واضح کیا کہ اس سنگین عالمی بحران میں پاکستان کی سفارتی سہولت کاری اس کے اصولی، متوازن اور امن پسند مؤقف کی کھلی مظہر ہے، کیونکہ امریکہ اور ایران کے ابتدائی مذاکراتی ادوار کی کامیاب میزبانی اور پاکستان کے مسلسل مقتدر سفارتی رابطے ہی بالآخر دونوں فریقین کو ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کی میز پر لانے کا بنیادی باعث بنے ہیں۔

بجٹ اجلاس: قومی اسمبلی نے 4 ہزار 232 ارب روپے کے 89 مطالباتِ زر کی منظوری دے دی

کاشف عباسی ,june 21,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

مالی سال 27۔2026ء کے وفاقی بجٹ کو حتمی شکل دینے کے مراحل میں قومی اسمبلی نے ایک بڑی مقتدر پیشرفت کرتے ہوئے مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کے 4 ہزار 232 ارب روپے سے زائد مالیت کے 89 مطالباتِ زر کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اتوار کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ بجٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے مجموعی طور پر 4 ہزار 232 ارب 4 کروڑ روپے سے زائد کے یہ ڈیمانڈز ایوان کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیے، جن پر اپوزیشن کی جانب سے کوئی کٹوتی کی تحریک پیش نہ کیے جانے کے باعث ایوان نے انہیں کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔

بجٹ دستاویزات اور مروجہ ایجنڈے کے مطابق منظور کیے گئے ان مطالباتِ زر میں ملک کے تزویراتی اور دفاعی شعبوں کے لیے سب سے خطیر رقم مختص کی گئی ہے، جس کے تحت دفاعی خدمات کے لیے 3 ہزار ارب روپے کے ڈیمانڈ کی حتمی منظوری دی گئی ہے، جبکہ وزارتِ دفاع کے لیے 17 ارب 10 کروڑ، ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس کے لیے 21 ارب 65 کروڑ، کنٹونمنٹس و گیریژن کے لیے 17 ارب 58 کروڑ اور دفاعی پیداوار ڈویژن کے لیے 1 ارب 14 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایوان نے اٹامک انرجی کے شعبے کے لیے 22 ارب 57 کروڑ، پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے لیے 2 ارب 35 کروڑ 77 لاکھ اور انٹیلی جنس بیورو ڈویژن کے لیے 22 ارب 96 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔

تعلیمی و ترقیاتی شعبوں کے لیے بھی اربوں روپے کے فنڈز کو مقتدر تحفظ دیا گیا ہے، جس میں وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے لیے 42 ارب 74 کروڑ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے جاری اخراجات کے لیے 66 ارب 43 کروڑ اور ایچ ای سی کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے الگ سے 46 ارب روپے کی منظوری شامل ہے۔ پائیدار انفراسٹرکچر کے لیے واٹر ریسورسز (آبی وسائل) کے جاری و ترقیاتی منصوبوں کے لیے بالترتیب 55 ارب 25 کروڑ اور 47 ارب 83 کروڑ روپے منظور ہوئے، جبکہ ریلوے ڈویلپمنٹ کے لیے 40 ارب 65 کروڑ، مواصلات (کمیونیکیشن) کے لیے 59 ارب 25 کروڑ، اور آئی ٹی و ٹیلی کام ڈویلپمنٹ کے لیے 19 ارب 58 کروڑ روپے کے مطالباتِ زر منظور کیے گئے ہیں۔ دیگر اہم محکموں میں قومی احتساب بیورو کے لیے 7 ارب 73 کروڑ، قانون و انصاف کے لیے 11 ارب 12 کروڑ، اطلاعات و نشریات کے لیے 11 ارب 1 کروڑ اور قومی اسمبلی و سینیٹ کے انتظامی اخراجات کے لیے بالترتیب 9 ارب 3 کروڑ اور 3 ارب 21 کروڑ روپے کی آئینی منظوری دے دی گئی ہے۔

محرم الحرام کے دوران جلوسوں اور امام بارگاہوں کی سخت نگرانی؛ سیف سٹی کنٹرول روم کے عملے کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت

منصور احمد june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیف سٹی اسلام آباد عباس مہدی نے ‘محافظ محرم کنٹرول روم’ کے افسران و عملے کو ایک اہم اور مقتدر بریفنگ دی ہے، جس میں محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی نگرانی، مانیٹرنگ اور رسپانس میکنزم کو مزید فول پروف اور مضبوط بنانے کے لیے تزویراتی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اتوار کو سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کو تفصیلات بتاتے ہوئے سیف سٹی حکام نے کہا کہ اس اہم بریفنگ کا بنیادی فوکس جدید سیف سٹی سرویلنس کیمرہ سسٹم کے ذریعے وفاقی دارالحکومت کی تمام امام بارگاہوں اور جلوس کے مروجہ راستوں کی چوبیس گھنٹے موثر ترین نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔

عباس مہدی نے کنٹرول روم کے افسران کو سخت احکامات جاری کیے کہ وہ مسلسل چوکس رہیں اور اسلام آباد میں ہونے والے تمام مذہبی اجتماعات اور ماتمی جلوسوں کی جامع ترین کوریج کو مانیٹر کریں۔ حکام کے مطابق اس موقع پر ‘محافظ محرم ایپ’ کے ذریعے موصول ہونے والی شہریوں کی تمام ایمرجنسی کالز کو اولین ترجیح دینے اور ان پر سیکنڈز کے اندر فوری ایکشن لینے کی خصوصی ہدایات دی گئیں تاکہ بروقت ریسکیو اور عوامی مدد کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ بریفنگ کے دوران کنٹرول روم اور فیلڈ فارمیشنز کے درمیان موثر اسٹرٹیجک کوآرڈینیشن پر بھی زور دیا گیا تاکہ کسی بھی ابھرتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے، جبکہ فیلڈ مارشل ڈسپلن کے تحت عملے کو تمام دستیاب تکنیکی وسائل کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

محرم الحرام کے جلوسوں کے دوران ٹریفک پلان پر سختی سے عمل کیا جائے، مختص پارکنگ کا استعمال لازمی، سی ٹی او اسلام آباد

منصور احمد june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) اسلام آباد کائنات اظہر خان نے محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس کے دوران بہترین نظم و ضبط اور ٹریفک قوانین کی مقتدر تعمیل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ زائرین اور شہری صرف اور صرف پارکنگ کی مخصوص جگہیں استعمال کریں، اسلام آباد ٹریفک پولیس (آئی ٹی پی) ٹریفک کی روانی کے لیے سیکیورٹی و ٹریفک پلان پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔ اتوار کو ایک مقامی میڈیا چینل سے مقتدر گفتگو کرتے ہوئے چیف ٹریفک آفیسر اسلام آباد نے محرم کے جلوسوں کے دوران منظم طرزِ عمل کی اہمیت اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ کی ہدایات پر عمل درآمد پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے تاکہ سڑکوں پر کسی بھی قسم کی تکلیف اور بھیڑ سے بچا جا سکے، ٹریفک پلان کی کسی بھی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور مذہبی اجتماعات کے دوران پریشانی سے بچنے کے لیے سخت انتظامی اقدامات کیے جائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں سی ٹی او کائنات اظہر خان نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور راولپنڈی و اسلام آباد کے درمیان انٹر سٹی نقل و حرکت میں اضافے کی وجہ سے خاص طور پر ویک اینڈ پر بڑی شاہراہوں پر ٹریفک کا شدید دباؤ دیکھنے کو ملتا ہے، جس کے لیے اسلام آباد پولیس ٹریفک بہاؤ کو منظم کرنے کے لیے فعال اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے موٹر سائیکل سواروں کو خصوصی مشورہ دیا کہ وہ مروجہ سپیڈ لین کی پابندی کریں، ہیلمٹ لازمی پہنیں اور لاپرواہی سے ڈرائیونگ کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے دارالحکومت میں قانون کے مقتدر نفاذ کے لیے سیف سٹی کیمروں کے تزویراتی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے خبردار کیا کہ سیف سٹی نیٹ ورک کے ذریعے ٹریفک کی تمام خلاف ورزیوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور ای چالاننگ کے ذریعے کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے، لہٰذا کسی بھی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی طرح یہاں بھی ٹریفک قوانین کا احترام کیا جائے تاکہ ایک محفوظ روڈ نیٹ ورک قائم ہو سکے۔

قومی اسمبلی نے اپوزیشن کے رکن اقبال آفریدی کی معطلی ختم کرنے کی تحریک منظور کر لی، پارلیمنٹ کے تقدس اور مہمانوں کے پاسز کے حوالے سے ضابطہ اخلاق پر سختی کا فیصلہ

کاشف عباسی ,june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

قومی اسمبلی نے اپوزیشن جماعت کے معطل رکنِ اسمبلی اقبال آفریدی کی رکنیت کی معطلی ختم کرنے کی مقتدر تحریک کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اتوار کو اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ بجٹ اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر خان نے اس حوالے سے تحریک پیش کرنے کی اجازت چاہی، جس پر ایوان کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد انہوں نے تحریک پیش کی اور قومی اسمبلی نے اسے کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔ اس سے قبل بیرسٹر گوہر خان نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ اپوزیشن کی تقاریر لائیو ٹیلی کاسٹ نہیں کی جا رہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈیلے ٹرانسمیشن کی جائے مگر اپوزیشن کا مؤقف عوام تک پہنچنا چاہیے، نیز اقبال آفریدی 11 جون سے معطل ہیں اور چونکہ بجٹ سیشن سال میں ایک بار آتا ہے، اس لیے ان کے حلقے کی نمائندگی کے لیے ان کی معطلی ختم کی جائے۔

بیرسٹر گوہر خان کے نکتہ اعتراض پر مقتدر رولنگ دیتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ جب بھی قومی مفاد کمپرومائز ہو گا اور ریاست، اعلیٰ عدلیہ یا مسلح افواج پر کوئی منفی بات کی جائے گی تو اسے آن ائیر جانے کی قطعی اجازت نہیں ہوگی۔ اسپیکر نے کہا کہ اقبال آفریدی کی رکنیت معطلی کو ختم کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں کیونکہ ان کا مقصد ہاؤس اور ایم این ایز کے وقار کا تحفظ کرنا ہے، تاہم اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ اقبال آفریدی کو باور کرائے کہ وہ آئندہ سیکورٹی پاسز کے بغیر کسی غیر متعلقہ شخص کو پارلیمنٹ میں نہیں لائیں گے اور پارلیمانی عملے یا دیگر اراکین کے ساتھ بدتمیزی سے گریز کریں گے۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے اراکینِ اسمبلی پر زور دیا کہ پارلیمنٹ کی لابیز صرف اراکین کے لیے ہوتی ہیں، وہاں غیر متعلقہ لوگوں کا داخلہ بند ہونا چاہیے کیونکہ ووٹنگ کے عمل کے دوران لابیز ایوان کا حصہ بن جاتی ہیں، اس لیے انہوں نے سارجنٹ ایٹ آرمز کو سخت ترین احکامات جاری کیے ہیں کہ ضابطے کی خلاف ورزی پر سیکیورٹی عملے کو معطل کر دیا جائے گا۔

اجلاس کے دوران وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایوان کے تقدس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایم این ایز کی جانب سے مہمانوں کے لیے بلاجواز کارڈز جاری کروانے کی مروجہ روایت اب ختم ہونی چاہیے، اراکین کا گیلریوں کی طرف اشارے کر کے بات کرنا قواعد کے خلاف ہے اور مہمانوں کی جانب سے اندر ویڈیوز بنانا ایوان کے تقدس کو پامال کرتا ہے، پارلیمنٹ کو مچھلی منڈی نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے عدلیہ کے حوالے سے کہا کہ ماضی میں ان سمیت 4 اراکینِ اسمبلی کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی ہو چکی ہے، آئین کے تحت حاضر سروس ججز کے کنڈکٹ کو ایوان میں نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ہاؤس کے وقار میں ہی ہم سب کا وقار ہے اور ججز پر تنقید کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، جبکہ پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے تجویز دی کہ پارلیمنٹ کے داخلہ راستوں پر صرف ایک مخصوص لین ایم این ایز کے لیے مختص ہونی چاہیے جس پر اسپیکر نے بتایا کہ یہ اقدام پہلے ہی نافذ ہے۔ دوسری جانب علی محمد خان نے پارلیمنٹ آنے والے مہمانوں کے لیے مناسب اور باعزت انتظامات کا مطالبہ کیا، جس کے بعد ایوان نے نئے کوڈ آف کنڈکٹ کی تشکیل کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو مل بیٹھنے کی مقتدر ہدایت جاری کی۔

وفاق اور صوبوں میں مالی تعاون خوش آئند، پنجاب کا بجٹ متوازن اور عوام دوست ہے، اشرف بھٹی

منصور احمد june 21,2026

اسلام آباد (انیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اشرف بھٹی نے وفاقی حکومت کو چاروں صوبوں کی جانب سے 1,035 ارب روپے کی خطیر گرانٹ فراہم کرنے کے مقتدر فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ قومی مالیاتی و معاشی چیلنجز، ملکی سکیورٹی صورتحال، قومی اہمیت کے بڑے ترقیاتی منصوبوں اور بیرونی قرضوں کی بروقت ادائیگی جیسے حساس معاملات میں وفاق کو مالی طور پر مستحکم اور مضبوط بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اتوار کو جاری کردہ اپنے ایک مقتدر اخباری بیان میں تجارتی رہنما اشرف بھٹی نے واضح کیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان یہ مالی تعاون قومی یکجہتی، معاشی بقا اور جیو پولیٹیکل استحکام کے لیے ایک انتہائی خوش آئند اور تزویراتی پیشرفت ہے۔

مرکزی صدر آل پاکستان انجمن تاجران نے کہا کہ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے ایک بہترین، متوازن اور عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے، جس میں خدمات (سروسز)، پراپرٹی اور موٹر وہیکل ٹیکس جیسے مروجہ ذرائع سے صوبائی ریونیو بڑھانے کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور انتظامی بہتری لانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ پہلے سے موجود کاروباری اور تاجر طبقے پر مزید کوئی اضافی بوجھ نہ پڑے۔ اشرف بھٹی کا مزید کہنا تھا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے طویل المدتی مالی اصلاحات ناگزیر ہیں اور صوبائی آمدنی بڑھا کر خود کفالت حاصل کرنا ہوگی، جبکہ ٹیکس نظام میں ڈیجیٹلائزیشن، شفافیت اور بہتر گورننس سے تاجر برادری کا نظام پر اعتماد بڑھے گا اور ملک میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

تعلیمی نظام کو عالمی معیار کے مطابق جدید بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، وائس چانسلر قائداعظم یونیورسٹی

روزینہ اسماعیل.june 21,2026

اسلام آباد (ایجوکیشن رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے مہارتوں، جدید اختراعات، مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال اور حکومت، اکیڈمیا و انڈسٹری کے مستحکم روابط پر مبنی تعلیمی انقلاب پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جدید، منظم اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تعلیمی ماحول ہی طلباء کو مستقبل کے عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کر سکتا ہے۔ سرکاری ٹی وی (پی ٹی وی نیوز) کے ساتھ خصوصی اور مقتدر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے عملی تحریر، مواصلاتی مہارتوں اور عالمی معیار کے مطابق نصابی اصلاحات پر بھرپور توجہ مرکوز کرتے ہوئے تعلیمی نظام کو دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو روایتی طریقوں سے آگے بڑھنا ہوگا اور طلباء کو بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے حقیقی دنیا کی عملی صلاحیتوں سے آراستہ کرنا ہوگا۔

وائس چانسلر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ قائداعظم یونیورسٹی پہلے ہی ملک کے صفِ اول کے تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے لیکن اس کی اعلیٰ تعلیمی کارکردگی کو برقرار رکھنے اور اس کے مزید فروغ کے لیے حکومت کی جانب سے زیادہ سے زیادہ مالی تعاون اور فنڈنگ کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجیز کو طلباء کے لیے صرف معاون ٹولز کے طور پر تعمیری طور پر اپنانا چاہیے تاکہ ان پر حد سے زیادہ انحصار پیدا کرنے کے بجائے سیکھنے کے نتائج کو بہتر بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں جدید لیبز اور انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کیمپس میں نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں، منشیات اور سگریٹ نوشی پر سخت ‘زیرو ٹالرینس پالیسی’ پر عمل پیرا ہے اور سیکھنے، کردار سازی و یونیورسٹی کے مقتدر معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ایک صحت مند تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

ملک کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے نئے اعدادوشمار جاری

منصور احمد june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

واپڈا نے ملک کے مختلف دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین اعدادوشمار جاری کر دیے ہیں۔ اتوار کو جاری کردہ سرکاری رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 1 لاکھ 29 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 45 ہزار 800 کیوسک، جبکہ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد 45 ہزار کیوسک اور اخراج بھی 45 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح خیرآباد پل پر پانی کی آمد 1 لاکھ 95 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 95 ہزار 600 کیوسک رہا، دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 29 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 37 ہزار کیوسک جبکہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 31 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 7 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مختلف بیراجوں کے مروجہ اعدادوشمار کے مطابق جناح بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 22 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 15 ہزار 400 کیوسک، چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 10 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 3 ہزار کیوسک، تونسہ بیراج میں پانی کی آمد 1 لاکھ 94 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 69 ہزار 200 کیوسک، گدو بیراج میں پانی کی آمد 1 لاکھ 52 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 15 ہزار 100 کیوسک، سکھر بیراج میں پانی کی آمد 1 لاکھ 7 ہزار کیوسک اور اخراج 64 ہزار 600 کیوسک، کوٹری بیراج میں پانی کی آمد 22 ہزار 300 کیوسک اور اخراج صفر کیوسک، تریموں بیراج میں پانی کی آمد 18 ہزار کیوسک اور اخراج 3 ہزار 400 کیوسک جبکہ پنجند بیراج میں پانی کی آمد 12 ہزار 600 کیوسک اور اخراج صفر کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ملک کے بڑے آبی ذخائر کی موجودہ صورتحال کے مطابق تربیلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ہے جبکہ ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح 1443.28 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، تربیلا میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550 فٹ ہے اور آج قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.816 ملین ایکڑ فٹ موجود ہے۔ منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ ہے جبکہ ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح 1171.55 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، منگلا میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242 فٹ ہے اور آج قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2.652 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اسی طرح چشمہ بیراج کا کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15 فٹ ہے جبکہ ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح 642.10 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، چشمہ میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 649 فٹ ہے اور آج قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.065 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پنجاب میں غیر قانونی شکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 11 ملزمان گرفتار؛ لاکھوں روپے جرمانہ

منصور احمد june 21,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی خصوصی اور سخت ہدایات پر صوبہ بھر میں محکمہ جنگلی حیات (وائلڈ لائف) کی ٹیمیں غیر قانونی شکار، ناجائز قبضہ اور نایاب پرندوں کی تجارت کرنے والے عناصر کے تعاقب میں بھرپور سرگرم عمل ہیں، اسی سلسلے میں ایک مقتدر کارروائی کے دوران وائلڈ لائف رینجرز نے جہلم، چکوال، راولپنڈی، خوشاب اور لودھراں کے اضلاع میں کریک ڈاؤن کر کے خرگوش، سور، تیتر، بٹیر اور نایاب طوطوں کے غیر قانونی شکار اور اسمگلنگ میں ملوث 11 ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق وائلڈ لائف ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی پر ان تمام ملزمان کے خلاف باقاعدہ قانونی چالان مرتب کر کے سوا چار لاکھ روپے سے زائد کا بھاری جرمانہ عائد کیا گیا ہے جبکہ کارروائی کے دوران بازیافت کیے گئے تمام معصوم جنگلی پرندوں کو بحفاظت واپس قدرتی ماحول میں آزاد کر دیا گیا ہے۔

محکمہ جنگلی حیات کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر چکوال مرزا عابد حسین نے وائلڈ لائف رینجرز کی مقتدر ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے جنگلی سور کے 2 غیر قانونی شکاریوں کو 75 ہزار روپے جبکہ بھورے تیتر کی غیر قانونی تجارتی سپلائی پر 1 بڑے ڈیلر کو 35 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔ اسی طرح اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر جہلم ارشد ناز نے رن وے کارروائی کے دوران خرگوش کے 1 شکاری کو 36 ہزار روپے، تیتر کے 1 شکاری کو 40 ہزار روپے جبکہ قیمتی طوطوں کی غیر قانونی بلیک مارکیٹ تجارت پر ملوث ملزم کو 15 ہزار روپے جرمانہ کر کے تمام کیسز کو مروجہ قوانین کے تحت موقع پر ہی نمٹا دیا۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ خوشاب میں بھی اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر رانا محمد اشفاق نے مقتدر کارروائی کے دوران جنگلی خرگوش کے 3 سرگرم غیر قانونی شکاریوں کو دھر لیا اور انہیں 1 لاکھ 50 ہزار روپے کا بھاری جرمانہ عائد کیا۔ جنوبی پنجاب کے ضلع لودھراں میں اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر نے قیمتی لو برڈز اور فنچز چڑیا کے غیر قانونی کاروبار اور اسمگلنگ میں ملوث 1 نوسرباز ملزم کو گرفتار کر کے 60 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جبکہ کالے تیتر پر غیر قانونی قبضہ جمانے والے 1 شخص کو 15 ہزار روپے محکمانہ معاوضے کی مد میں جرمانہ کیا گیا۔ دوسری جانب راولپنڈی میں اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر محمد عمران نے جنگلی پرندوں کو پھنسانے کے لیے بچھائے گئے تمام غیر قانونی نیٹ گیئرز (جال اور آلات) کو موقع پر ہی جلا کر خاکستر کر دیا اور ضبط کیے گئے تمام نایاب تیتروں کو فیلڈ مارشل اسٹرٹیجی کے تحت واپس کھلے آسمان اور قدرتی ماحول میں آزاد کر دیا تاکہ وائلڈ لائف پروٹیکشن کو یقینی بنایا جا سکے۔

بجٹ اجلاس: قومی اسمبلی آج سے 135 مطالباتِ زر پر بحث کا آغاز کرے گی، 9,126 ارب روپے سے زائد کے ملکی اخراجات کی حتمی منظوری متوقع، دفاع، پنشن اور سماجی تحفظ حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل

کاشف عباسی ,june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

مالی سال 27۔2026ء کے وفاقی بجٹ کو حتمی شکل دینے کے لیے قومی اسمبلی کا اہم ترین اور مقتدر اجلاس آج (اتوار) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو رہا ہے، جہاں وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب مختلف وزارتوں، ڈویژنز اور وفاقی محکموں کے جاری و ترقیاتی اخراجات کی منظوری کے لیے مجموعی طور پر 135 مطالباتِ زر ایوان کے سامنے پیش کریں گے۔ قومی اسمبلی سے 30 جون 2027ء کو ختم ہونے والے آئندہ مالی سال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ان مطالباتِ زر کی مقتدر منظوری حاصل کی جائے گی جس کے تحت 9,126 ارب روپے سے زائد کے ملکی اخراجات کی حتمی منظوری متوقع ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بجٹ اجلاس کے اسٹرٹیجک ایجنڈے کے مطابق رواں سال وفاقی حکومت کی بنیادی تزویراتی ترجیحات میں ملکی دفاع، سماجی تحفظ اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی فلاح و بہبود کو سرِ فہرست رکھا گیا ہے، اسی لیے ایوان میں پیش کیے جانے والے مطالباتِ زر میں سب سے اہم فوکس دفاعی خدمات, الاؤنسز کہن سالی، وفاقی پنشن اور مختلف مقتدر گرانٹس پر رکھا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق اس اہم ترین بحث کے دوران ملک میں توانائی کے شدید بحران سے نمٹنے کے لیے شعبہ بجلی (پاور سیکٹر) اور پٹرولیم کے جاری و ترقیاتی منصوبوں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا گیا ہے تاکہ صنعتی و معاشی پہیہ بلا تعطل چلایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ غریب پرور منصوبوں کے تسلسل کو پائیدار بنانے اور غریب عوام کو مروجہ ریلیف دینے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور پاکستان بیت المال کے اربوں روپے کے اخراجات کو بھی ایوانِ زیریں سے باقاعدہ منظور کروایا جائے گا۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مروجہ قواعد و ضوابط کے تحت اس مقتدر بحث کے دوران اپوزیشن بینچوں کی طرف سے قائدِ حزبِ اختلاف کی نگرانی میں مختلف وزارتوں کی کارکردگی پر سخت تنقید کی جائے گی اور متعدد تحریکاتِ تخفیف بھی پیش کی جائیں گی، جس کے بعد وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کی قیادت میں حکومتی اتحاد اور اپوزیشن کے مابین رائے دہی کے ذریعے تمام 135 ڈیمانڈز کی حتمی اور آئینی منظوری دی جائے گی جو ملکی معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔