پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے کوئی مخصوص ٹائم لائن نہیں دی جا سکتی، میرٹ اور کارکردگی پر مبنی طویل مدتی اصلاحات کے نتائج وقت کے ساتھ آئیں گے، ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید کی پریس کانفرنس

منصور احمد june 19,2026

لاہور (خصوصی اسپورٹس رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے قومی کرکٹ کے ڈھانچے اور کارکردگی کے حوالے سے میڈیا کو مطلع کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ کی مجموعی بہتری اور بحالی کے لیے کوئی بھی مخصوص یا جادوئی ٹائم لائن نہیں دی جا سکتی، قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق مقتدر فاسٹ بولر عاقب جاوید نے سچائی پر مبنی دوٹوک گفتگو کی اور کہا کہ یہ کہنا سراسر غیر حقیقت پسندانہ اور ناانصافی ہوگا کہ چند ماہ کی مختصر محنت کے بعد قومی ٹیم آٹھ کھڑی ہوگی اور دنیا کی کوئی ٹیم اسے کبھی شکست نہیں دے سکے گی، ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کے نظام میں بہتری لانا ایک طویل مدتی اور مسلسل عمل ہے جس کے سٹرٹیجک نتائج بتدریج وقت کے ساتھ ہی سب کے سامنے آئیں گے۔

عاقب جاوید نے پی سی بی کی نئی حکمتِ عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی سی بی کی خصوصی ہدایت پر کھلاڑیوں کی سلیکشن کے پورے نظام میں انقلابی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، اب سلیکشن کے عمل کو 100 فیصد شفاف اور صرف میرٹ پر مبنی بنانا کرکٹ بورڈ کی اولین ترجیح ہے تاکہ ماضی کی خامیوں کو دور کیا جا سکے، انہوں نے واضح کیا کہ اب قومی ٹیم میں سفارش یا نام کے بجائے صرف وہی کھلاڑی گرین شرٹ پہننے کا حقدار ٹھہرے گا جو ڈومیسٹک اور بین الاقوامی سطح پر مستقل بنیادوں پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا، عاقب جاوید کے مطابق ڈومیسٹک کرکٹ کے بنیادی ڈھانچے (اسٹرکچر) میں بھی 3 بڑے فارمیٹس کے لحاظ سے تبدیلیاں کی گئی ہیں اور قومی سطح پر ٹیلنٹ کو نکھارنے کے لیے مختلف نئی کیٹیگریز بنا دی گئی ہیں۔

ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس نے پریس کانفرنس میں مزید صراحت کی کہ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی 20 فارمیٹس کی جدید سفارتی و عسکری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اب ہر فارمیٹ کے لیے بالکل الگ الگ فٹنس اور تکنیکی معیار (کرائٹیریا) مقرر کر دیے گئے ہیں تاکہ ہمارے کھلاڑی اپنی منفرد صلاحیتوں کے مطابق خود کو بین الاقوامی چیلنجز کے لیے تیار کر سکیں، عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ اس نئے اور کڑے نظام کی بدولت اب ہر ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑی کو پہلے دن سے ہی یہ واضح اندازہ ہوگا کہ قومی الیون میں مستقل جگہ بنانے کے لیے اسے اپنے کھیل کے کن مخصوص شعبوں میں مزید سخت محنت اور تکنیکی بہتری لانے کی ضرورت ہے، انہوں نے کرکٹ فینز سے صبر کی اپیل کرتے ہوئے قوی امید ظاہر کی کہ میرٹ، شفافیت اور مخلصانہ پالیسیوں کے یہ مثبت عسکری اثرات مستقبل قریب میں پاکستان کرکٹ کی مجموعی اور پائیدار بحالی کی صورت میں لازمی نظر آئیں گے۔

بھارت کی ہندوتوا حکومت اپنی کشمیر دشمن اور ظالمانہ پالیسیوں کے ذریعے تنازعۂ کشمیر کی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتی، جموں و کشمیر کے بارے میں بھارتی ہٹ دھرمی عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے، کل جماعتی حریت کانفرنس کا اسلام آباد سے مشترکہ اعلامیہ جاری

منصور احمد june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے سینئر ترین رہنماؤں نے مودی حکومت کی فاشسٹ پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ بھارت کی متعصب ہندوتوا حکومت اپنے تمام تر ظلم و ستم، سفاکانہ کشمیر دشمن ہتھکنڈوں اور ظالمانہ پالیسیوں کے باوجود عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعۂ کشمیر کی تاریخی و قانونی حقیقت کو کسی صورت تبدیل نہیں کر سکتی، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے مقتدر سینیئر رہنماؤں محمد فاروق رحمانی، حاجی سلطان بٹ اور چودھری شاہین اقبال نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے ایک اہم ترین مشترکہ ترین بیان جاری کرتے ہوئے دیرینہ تنازعۂ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے پر کڑا زور دیا ہے، حریت قیادت کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کے حوالے سے نئی دہلی کی ہٹ دھرمی اور ہٹلر شاہی پر مبنی جابرانہ پالیسی اب صرف جنوبی ایشیا کے خطے کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک ہولناک اور سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

حریت رہنماؤں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی تازہ ترین زمینی صورتحال پر گہرے افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ سفاک بھارتی افواج نے وادی میں کشمیری عوام کی حق پر مبنی اور پرامن جدوجہدِ آزادی کو بندوق کے زور پر دبانے کے لیے وحشیانہ ظلم و تشدد، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھروں پر آدھی رات کو چھاپوں، فوجی محاصروں اور تلاشی کی نام نہاد کارروائیوں سمیت جبری گرفتاریوں اور سیاسی انتقام کا کڑا سلسلہ حد سے زیادہ تیز کر دیا ہے، کشمیری قیادت نے جابر بھارتی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے حوالے سے اپنی نوآبادیاتی اور غاصبانہ پالیسی کو فی الفور ترک کرے اور کشمیری عوام کو ان کا بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت فراہم کرتے ہوئے اس دیرینہ مسئلے کے پرامن، منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے سفارتی راہ ہموار کرے، انہوں نے عالمی برادری کو مطلع کیا کہ بھارت نے حریت کی صفِ اول کی قیادت سمیت ہزاروں معصوم کشمیری نوجوانوں کو کالے قوانین کے تحت جھوٹے، من گھڑت اور بے بنیاد مقدمات میں ملوث کر کے تہاڑ جیل سمیت دیگر بدنام زمانہ بھارتی عقوبت خانوں اور جیلوں میں غیر قانونی طور پر قید کر رکھا ہے، لیکن ان تمام تر جابرانہ ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیری عوام کے لازوال جذبۂ حریت اور آزادی کی تڑپ کو ذرہ برابر بھی کمزور نہیں کیا جا سکا۔

مشترکہ اعلامیے میں حریت رہنماؤں نے اس فولادی عزم کا اعادہ کیا کہ مقبوضہ وادی کے چپے چپے پر گرنے والا کشمیری شہداء کا پاک خون اور ان کی عظیم قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی اور مظلوم کشمیری عوام اپنی اس منصفانہ جدوجہدِ آزادی کو اس کے منطقی انجام اور مکمل آزادی تک پہنچانے کے لیے ہر محاذ پر پرعزم ہیں، انہوں نے اقوامِ متحدہ ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور بااثر عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے بدترین مظالم، ماورائے عدالت قتل، انسانی حقوق کی سنگین ترین پامالیوں اور کشمیریوں کے سیاسی جبر کا فوری اور کڑا نوٹس لے، اور بھارت پر سفارتی و اقتصادی دباؤ ڈال کر تنازعۂ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے میں اپنا مؤثر اور تاریخی کردار ادا کرے تاکہ خطے کو مستقل تباہی سے بچایا جا سکے۔

وفاق کے ۵۰ سے زائد اداروں میں ملازمین کو بنیادی تنخواہ سے دگنی مراعات دینے کا سنسنی خیز انکشاف، بعض افسران کی تنخواہیں عام محکموں کے مقابلے میں ۲ سے ۳ گنا زیادہ ہونے کا انکشاف، وزارتِ خزانہ کے یکساں تنخواہ کے نظام کا اصول بری طرح متاثر

منصور احمد june 19,2026

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

وفاقی حکومت کے ۵۰ سے زائد اہم ترین اداروں اور خودمختار سٹرٹیجک محکموں میں ملازمین اور اعلیٰ افسران کو ان کی بنیادی تنخواہ سے ۱۰۰ فیصد یعنی دگنی سے بھی زائد اضافی مراعات اور پرکشش الاؤنسز دیے جانے کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے، وفاقی دارالحکومت کے معتبر سرکاری ذرائع اور سینئر صحافی انصار عباسی کی بیوروکریسی کے حوالے سے تیار کردہ ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق تنخواہوں کے سرکاری ڈھانچے سے مکمل واقفیت رکھنے والے اعلیٰ مقتدر حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان مخصوص اداروں میں مجموعی ماہانہ تنخواہیں عام سرکاری وزارتوں اور محکموں میں کام کرنے والے بالکل اِسی گریڈ کے افسران کے مقابلے میں ۲ سے ۳ گنا تک کہیں زیادہ ہیں جس کے باعث سول سروس کے اندر شدید بے چینی اور مایوسی پھیل رہی ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ان غیر معمولی مراعات اور بھاری الاؤنسز حاصل کرنے والے بااثر ترین محکموں میں صدر سیکرٹریٹ، وزیرِ اعظم آفس ، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ، سینیٹ سیکرٹریٹ، سپریم کورٹ سمیت تمام اعلیٰ عدالتیں (حائی کورٹس)، قومی احتساب بیورو (نیب)، وفاقی انٹیلی جنس ادارے، ایف بی آر کے ٹیکس حکام اور مختلف خصوصی ٹربیونلز اور وفاقی عدالتوں کے ملازمین شامل ہیں، اعلیٰ سطح کے ان آئینی عہدوں اور انفورسمنٹ ایجنسیوں کے علاوہ زیادہ مراعات پانے والے دیگر اداروں میں وفاق کے زیرِ انتظام خصوصی تعلیمی، بحالی اور صحت کے بڑے ادارے، بینکنگ ٹربیونلز، وفاقی پولیس تنظیمیں (ایف آئی اے و موٹروے پولیس) اور دیگر خودمختار ریگولیٹری ادارے بھی شامل ہیں جنہیں خزانے سے اربوں روپے اضافی دیے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے وفاقی حکومت مختلف سیاسی و انتظامی وجوہات کی بنیاد پر منتخب من پسند اداروں کو خصوصی الاؤنسز کی منظوری دیتی رہی ہے جن میں کارکردگی کی ترغیبات، فیلڈ کی عملی ضروریات اور اعلیٰ ہنر مند عملے کو سرکاری ملازمت میں برقرار رکھنا شامل بتایا جاتا ہے لیکن اس کا بھیانک اور منفی نتیجہ ایک ہی حکومتی ڈھانچے اور ایک ہی ملک کے اندر متعدد متوازی تنخواہی نظاموں کی صورت میں نکلا ہے، صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ ایک عام وزارت یا اٹیچڈ محکمہ میں دن رات کام کرنے والا گریڈ ۲۰ کا سینیئر افسر اُس افسر کے مقابلے میں آدھی سے بھی کم تنخواہ حاصل کرتا ہے جو بالکل اِسی گریڈ ۲۰ میں کسی ایسے بااثر ادارے میں تعینات ہو جہاں کارکردگی یا خصوصی سیکیورٹی الاؤنسز دیے جاتے ہیں، مالیاتی ناقدین اور سینیئر بیوروکریٹس کا کہنا ہے کہ اس امتیازی پالیسی سے ملک کے یکساں بنیادی تنخواہ کے نظام کا بنیادی آئینی اصول بری طرح متاثر ہوا ہے اور وفاق میں ایک ایسی عجیب صورتحال پیدا ہوگئی ہے جسے کئی مقتدر بیوروکریٹس ”حکومت کے اندر ایک الگ حکومت“ قرار دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ چند سال قبل وزارتِ خزانہ نے اس بڑے معاشی فرق کو دور کرنے کے لیے صرف وفاقی سیکرٹریٹ کے اُن غریب ملازمین کے لیے ۱۵ سے ۲۵ فیصد تک ”ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس“ (DRA) متعارف کرایا تھا جو معمول کی پرانی تنخواہیں لے رہے تھے، اگرچہ یہ اقدام اس سرکاری اعتراف کا واضح ثبوت تھا کہ مختلف محکموں کے مابین تنخواہوں کا فرق حد سے زیادہ اور غیر منصفانہ حد تک بڑھ چکا ہے لیکن وفاقی سیکرٹریٹ کے باہر کام کرنے والے لاکھوں دیگر سرکاری ملازمین کو اس الاؤنس سے یکسر محروم رکھا گیا، حکومت نے اس وقت وفاقی سیکرٹریٹ کے ان افسران کو اضافی معاوضہ دے کر (جنہیں پہلے کوئی خصوصی مراعات حاصل نہیں تھیں) سول سروس میں بڑھتی ہوئی شدید بے چینی اور ہڑتالوں کو وقتی طور پر کم کرنے کی کوشش کی تھی تاہم زمینی حقائق یہ ہیں کہ وفاق کے بااثر اور طاقتور ادارے اب بھی حکومت اور وزارتِ خزانہ پر دباؤ ڈال کر اپنے ملازمین کے لیے نئے نئے ناموں سے مزید الاؤنسز اور شاہانہ مراعات حاصل کرتے جا رہے ہیں جس سے غریب ملک کے خزانے پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔

آج پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کریں گے، امریکہ ایران جنگ بندی سے اب خطے میں معاشی خوشحالی آئے گی اور مہنگائی کی سیاہ رات ختم ہونے کو ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف کا قومی اسمبلی میں تاریخی خطاب، فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کلیدی کردار کی تعریف

کاشف عباسی ,june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اہم ترین اجلاس میں مقتدر خطاب کرتے ہوئے غیور ملکی عوام کے لیے ایک بہت بڑی معاشی خوشخبری سنائی ہے کہ حکومت نے جو وعدہ کیا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوتے ہی اس کا پورا فائدہ عوام کو منتقل کیا جائے گا، اس کے تحت آج پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ اور تاریخی کمی کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا، پارلیمنٹ کے ایوان میں ارکانِ اسمبلی سے سٹریٹجک گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج سے ٹھیک ۳ مہینے پہلے جب مشرقِ وسطیٰ میں اچانک ہولناک جنگ چھڑی تھی تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کو یکدم آگ لگ گئی تھی جس کا براہِ راست معاشی بوجھ پاکستان کی غریب عوام کو اٹھانا پڑا، لیکن پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی حالیہ تاریخی جنگ بندی کے فوری بعد اب عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں انتہائی تیزی سے نیچے آ رہی ہیں اور یقیناً آنے والے دنوں میں اس میں مزید واضح کمی آئے گی، انہوں نے پُرعزم انداز میں کہا کہ اس عظیم امن معاہدے اور جنگ بندی کے باعث اب پورے خطے میں معاشی خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوگا، تیل کی قیمتیں مسلسل نیچے آ رہی ہیں اور اب مہنگائی کی وہ طویل سیاہ رات ہمیشہ کے لیے ختم ہونے کو ہے جس نے عوام کو پریشان کر رکھا تھا، ان کا کہنا تھا کہ اس کٹھن بحران کے وقت ہمارے معاشی وسائل حد سے زیادہ محدود تھے لیکن چونکہ آج تیل اور پٹرول کی ہفتہ وار قیمتوں کا باقاعدہ اعلان ہونا ہے، اس لیے حکومت آج عوام کو ایک بڑا ریلیف دینے جا رہی ہے۔

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کے بڑھتے ہوئے عالمی سفارتی اثر و رسوخ پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج امریکہ ایران امن معاہدے کے نفاذ کے بعد ساری دنیا میں پاکستان کا نام انتہائی عزت، تکریم اور وقار کے ساتھ گونج رہا ہے اور دنیا کے ہر خطے میں پاکستان کا سٹریٹجک وقار بلند ہوا ہے، انہوں نے ایوان کو سفارتی رابطوں سے مطلع کرتے ہوئے بتایا کہ کل شام ان کی ایران کے معزز صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے طویل تفصیلی بات چیت ہوئی ہے جس کے دوران ایرانی صدر نے جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ ثالثی پر بار بار ریاستِ پاکستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور انہوں نے خود کہا کہ وہ بہت جلد باضابطہ دورے پر پاکستان آئیں گے اور یہاں کی غیور عوام کا ذاتی طور پر شکریہ ادا کریں گے، وزیرِ اعظم نے قومی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملکی سلامتی اور قومی وحدت کے لیے ہم سب ایک ہیں اور ہمیشہ ایک رہیں گے، انہوں نے اس عظیم مشن کی کامیابی پر نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے جنیوا اور سفارتی محاذ پر بھرپور حصہ ڈالا جبکہ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی ایران کے حوالے سے پسِ پردہ اپنا پورا متحرک کردار احسن طریقے سے ادا کیا، شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف (اپوزیشن لیڈر) کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس حساس قومی معاملے پر حکومت کا ساتھ دیا۔

اپنے خطاب کے آخر میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے واشنگٹن اور تہران کو امن کی میز پر لانے کے حوالے سے سب سے بڑا انکشاف کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس ناممکن سفارتی کامیابی کو ممکن بنانے میں سب سے زیادہ کلیدی، تاریخی اور سٹریٹجک کردار پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ہے جن کی شب و روز کی انتھک محنت اور جرات مندانہ حکمتِ عملی نے پاکستان کو عالمی سطح پر امن کا ضامن بنا دیا، انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہمیں ذاتی طور پر اس تاریخی کامیابی کا کوئی سستا سیاسی کریڈٹ لینے کا بالکل شوق نہیں ہے بلکہ ہماری حکومت اور عسکری قیادت کے ذہنوں پر صرف اور صرف اپنی غیور قوم کو عالمی سطح پر سرخرو کرنے اور انہیں کریڈٹ دلوانے کا ایک مخلصانہ جوش و جذبہ سوار تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو سرخرو کیا۔

پاکستان کا لیبیا میں لیبیائی قیادت اور ملکیت پر مبنی سیاسی عمل کی حمایت کا اعادہ، سفیر عثمان جدون کا پائیدار امن کے لیے جامع لائحۂ عمل پر زور

محمود احمد june 18,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

پاکستان نے برادر اسلامی ملک لیبیا میں مستقل استحکام کے لیے خالصتاً لیبیائی قیادت اور ملکیت پر مبنی سیاسی عمل کے لیے اپنے اصولی اور مضبوط سفارتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اسے ملک میں پائیدار امن، قومی یکجہتی اور معاشی خوشحالی کے حصول کا واحد قابلِ عمل راستہ قرار دے دیا ہے، اقوامِ متحدہ کے صدر دفاتر سے حاصل ہونے والی بین الاقوامی سٹریٹجک تفصیلات کے مطابق پاکستان نے لیبیا میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی معاونتی مشن کی جانب سے تمام لیبیائی فریقین اور مسلح دھڑوں کے درمیان سیاسی مکالمے اور قومی مفاہمت کو فروغ دینے کی مسلسل کوششوں کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم ترین اجلاس میں لیبیا کی تازہ ترین سیکیورٹی صورتحال پر منعقدہ بریفنگ کے دوران خصوصی اظہارِ خیال کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے گہری امید ظاہر کی کہ ملک میں انتخابی انتظامات سے متعلق حالیہ مشاورت اور منظم اسٹرکچرڈ ڈائیلاگ کے عمل سے سامنے آنے والی تمام اہم تجاویز و سفارشات تمام فریقین میں اتفاقِ رائے کے فروغ، معطل قومی اداروں کے اتحادِ نو اور دیرینہ قومی مفاہمت کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھانے میں انتہائی معاون ثابت ہوں گی۔

پاکستانی نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل کے اراکین کے سامنے سٹریٹجک بیانیے پر روشنی ڈالتے ہوئے سیاسی، سلامتی، معاشی اور عدالتی شعبوں میں لیبیائی فریقین کے درمیان مسلسل روابط اور تعمیری شمولیت کی اہمیت پر کڑا زور دیا، انہوں نے مشرقی اور مغربی لیبیا کے مابین سیکیورٹی اداروں کے درمیان حالیہ اعتماد سازی کے مثبت اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے پُرعزم الفاظ میں ملکی استحکام کے تحفظ اور متحدہ قومی دفاعی اداروں کے قیام کے لیے جاری فیلڈ کوششوں کی مکمل حوصلہ افزائی کی، لیبیا کے داخلی اقتصادی استحکام کی بنیادی اہمیت کو دنیا بھر کے سامنے اجاگر کرتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے جاری مالیاتی سال ۲۰۲۶ء کے لیے متفقہ اخراجاتی فریم ورک پر اس کی اصل روح کے مطابق فوری عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ملک میں معاشی و مالیاتی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے اور لیبیا کی طویل المدتی اقتصادی ترقی کی بنیاد کو مستقل طور پر مضبوط کیا جائے، انہوں نے قانون کی بالادستی، عدالتی وحدت کے تحفظ اور آئینی نگرانی کے نظام کو مزید فعال و مضبوط بنانے کی تمام ملکی کوششوں کی بھی اصولی حمایت کا اعادہ کیا۔

اپنے تاریخی خطاب کے دوران پاکستانی مندوب نے لیبیا کے عالمی بینکوں میں منجمد کھربوں ڈالر کے اثاثوں کے تحفظ اور انہیں صرف اور صرف لیبیائی عوام کی فلاح و بہبود اور ملکی تعمیرِ نو کے لیے محفوظ رکھنے کی شدید ضرورت پر زور دیا اور اس اہم ترین معاشی ضمن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے سابقہ متعلقہ اقدامات اور قراردادوں پر بغیر کسی تاخیر کے بروقت عملدرآمد کا کڑا مطالبہ کیا، لیبیا کے ایک مکمل مستحکم، محفوظ اور متحد مستقبل کے لیے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مستقل عزم کو اعلیٰ سطح پر اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مستقبل میں بھی عالمی فورمز پر لیبیائی قیادت اور ملکیت پر مبنی ایسے تمام سیاسی و جمہوری عمل کی حمایت میں اپنا مثبت اور تعمیری کردار بدستور جاری رکھے گا جو برادر اسلامی ملک میں پائیدار امن، معاشی ترقی اور خوشحالی کی حقیقی راہ ہموار کرے۔

پاکستان کا اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز تقاریر کے خلاف مؤثر عالمی اقدامات کا مطالبہ، سفیر عاصم افتخار احمد کا اقوامِ متحدہ کے لائحۂ عمل کو جلد حتمی شکل دینے پر زور

محمود احمد june 18,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

پاکستان نے دنیا بھر میں نفرت انگیز تقاریر بالخصوص اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے جابرانہ رجحان کے خلاف مضبوط بین الاقوامی شراکت داریوں اور مربوط عالمی اقدامات کا کڑا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی برادری کو واشنگٹن اور تہران سمیت تمام دارالحکومتوں میں خبردار کیا ہے کہ نفرت، امتیازی سلوک اور کمزور و غیر محفوظ طبقات کے خلاف مسلسل اشتعال انگیزی سماجی ہم آہنگی، انسانی وقار اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے ایک مستقل اور ہولناک عسکری و سیاسی خطرہ بنی ہوئی ہے، اقوامِ متحدہ کے صدر دفاتر میں نفرت انگیز تقاریر کے انسداد کے پانچویں عالمی دن کے موقع پر منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جس کا مرکزی موضوع ”نفرت انگیز تقاریر کے انسداد میں شراکت داریوں کی طاقت“ تھا، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اسلاموفوبیا کو دنیا بھر میں نفرت انگیز تقاریر کی سب سے سنگین، متعصبانہ اور خطرناک ترین شکل قرار دیا، انہوں نے عالمی مندوبین کے سامنے واضح کیا کہ مسلمانوں، ان کی اسلامی شناخت، مقدس مذہبی شعائر اور عبادت گاہوں پر منظم حملے نیز مذہبی آزادیوں پر عائد جابرانہ پابندیاں مختلف مغربی اور غیر مسلم معاشروں میں عدم برداشت، شدید ہیجان اور محرومی کو فروغ دے رہی ہیں، واضح رہے کہ یہ اعلیٰ سطحی بین الاقوامی تقریب اقوامِ متحدہ میں مراکش کے مستقل مشن اور اقوامِ متحدہ کے خصوصی دفتر برائے انسدادِ نسل کشی و ذمہ داری برائے تحفظ کے باہمی اشتراک سے منعقد کی گئی تھی۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں اس بنیادی نقطے پر گہرا زور دیا کہ نفرت انگیز تقاریر ہماری مشترکہ انسانی اقدار پر ایک براہِ راست جابرانہ حملہ ہیں جو انسانی مساوات کو مجروح کرتی، پوری برادریوں کو غیر انسانی بناتی اور پُرامن و جامع معاشروں کی بنیادی جڑوں کو کمزور کرتی ہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ جدید ڈیجیٹل دور اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے اس سنگین خطرے کو مزید سو گنا بڑھا دیا ہے جہاں آن لائن پلیٹ فارمز کو منظم طریقے سے مسلمانوں کے خلاف نفرت، غلط معلومات اور کمزور طبقات کے خلاف اشتعال انگیزی پھیلانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ تاریخ اس سچائی کی گواہ ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کے منفی اثرات کبھی بھی قومی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے اور اگر انہیں بروقت نہ روکا گیا تو یہ بین الاقوامی امن و استحکام کو شدید خطرے میں ڈال کر بڑے عسکری جرائم اور مظالم کو جنم دے سکتے ہیں اور انتہائی ہولناک صورتوں میں نسل کشی جیسے بھیانک انسانی جرائم کا باعث بن سکتے ہیں، پاکستان کے مستقل مندوب نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ نفرت انگیز تقاریر اب دنیا کی مرکزی سیاست اور سماجی بیانیے کا باقاعدہ حصہ بنتی جا رہی ہیں جہاں مخصوص انتہا پسند رہنماؤں کی جانب سے شناخت کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے اور اقلیتوں و بے بس مسلمانوں کے خلاف خوف کے ماحول کو سیاسی و انتخابی مقاصد اور ووٹ بینک کے لیے بھڑکایا جاتا ہے کیونکہ بعض معاشروں میں اسلاموفوبیا پر مبنی یہ زہریلا بیانیہ وہاں کے مقامی طاقت کے ڈھانچوں اور مخصوص مفادات کے ساتھ جڑ کر مسلمانوں کے خلاف معاشی و سماجی امتیازی سلوک کو مزید گہرا کر رہا ہے۔

پاکستانی سفیر نے اس عالمی چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک اصولی، پُرعزم اور مستقبل بین بین الاقوامی حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انسانی وقار، مساوات اور آزادی کے فروغ کے لیے پاکستان کی ریاست اور عوام کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا، سفیر عاصم افتخار احمد نے نفرت انگیز تقاریر سے متعلق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی متعلقہ قراردادوں اور اقوامِ متحدہ کی آفیشل حکمتِ عملی اور لائحۂ عمل برائے انسدادِ نفرت انگیز تقاریر پر اس کی اصل روح کے مطابق مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا، انہوں نے اقوامِ متحدہ کے مقتدر ادارہ برائے اتحادِ تہذیبوں کی جانب سے اسلاموفوبیا کے انسداد کے لیے اقوامِ متحدہ کے مجوزہ لائحۂ عمل کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی سفارتی کوششوں کا بھرپور خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ تاریخی دستاویز نفرت انگیز تقاریر اور مذہبی عدم برداشت کی تمام شکلوں سے نمٹنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی موجودہ کوششوں کو مزید سٹرٹیجک تقویت دے گی، انہوں نے صراحت کی کہ پاکستان رکن ممالک اور اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر اسلاموفوبیا کے خلاف اپنی عالمی جدوجہد جاری رکھے گا کیونکہ یہ ہماری آئندہ نسلوں، مشترکہ اقدار اور انسانی تہذیب کے تحفظ کے لیے ایک عظیم اخلاقی اور سفارتی ذمہ داری ہے۔

پاکستان کی ثالثی میں امریکہ ایران تاریخی معاہدے کے بعد برطانیہ کی نئی ٹریول ایڈوائزری جاری، دبئی اور متحدہ عرب امارات کے سفر پر عائد تمام پابندیاں ختم، برطانوی شہری معمول کے مطابق سفر کر سکیں گے

منصور احمد june 18,2026

لندن (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

پاکستان کی کامیاب ترین مخلصانہ ثالثی کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی امن معاہدہ نافذ العمل ہونے کے فوری بعد برطانوی حکومت نے خطے کی صورتحال کو پرامن قرار دیتے ہوئے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے لیے اپنی آفیشل ٹریول ایڈوائزری کو بڑے پیمانے پر اپڈیٹ کر دیا ہے، لندن سے حاصل ہونے والی بین الاقوامی سفارتی تفصیلات کے مطابق برطانوی وزارتِ خارجہ (فارن آفس) نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ جنگی تنازع اور شدید کشیدگی کے باعث برطانوی شہریوں کو دبئی سمیت متحدہ عرب امارات کے تمام شہروں کے لیے جاری کردہ ”غیر ضروری سفر سے گریز“ کی سخت ترین ہدایت اور پابندی کو فوری طور پر واپس لے لیا ہے، برطانوی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اس نئی اور نرم ترین گائیڈ لائن کے تحت اب تمام برطانوی شہری اور کاروباری افراد پہلے کی طرح مکمل طور پر پرسکون ماحول میں معمول کے مطابق دبئی اور امارات کی دیگر ریاستوں کا آزادانہ سفر کر سکتے ہیں کیونکہ اب وہاں سیکیورٹی کا کوئی خطرہ موجود نہیں رہا، واضح رہے کہ یہ مثبت ترین عالمی پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب مقتدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک ہولناک تباہی سے بچانے کے لیے پاکستان کے تیار کردہ تاریخی امن مینو پر باقاعدہ طور پر الیکٹرانک دستخط کر دیے ہیں۔

اس عظیم الشان کامیابی پر پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے دنیا بھر کو باضابطہ مطلع کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کی اس تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دونوں ممالک کے صدور نے حتمی دستخط ثبت کر دیے ہیں جس کے بعد یہ جرات مندانہ معاہدہ پوری دنیا میں فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس سٹریٹجک معاہدے کی بنیادی اور اہم ترین شقوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے صراحت کی کہ اس امن فارمولے کے تحت ایران بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے لیے سٹریٹجک گزرگاہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ مکمل کھول رہا ہے جبکہ دوسری جانب سپر پاور امریکہ ایران کے خلاف خلیج میں جاری اپنی کڑی اور جابرانہ بحری ناکہ بندی کو فی الفور ختم کرنے پر مکمل راضی ہو گیا ہے، وزیرِ اعظم پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ وہ بطورِ ثالث اور ضامن اس تاریخی امریکہ ایران مفاہمتی یادداشت کی باقاعدہ توثیق کرتے ہیں اور اس سلسلے میں ۱۹ جون ۲۰۲۶ء سے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں دونوں ممالک کے مابین تکنیکی سطح کے اگلے اہم ترین مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہونے جا رہا ہے جس میں معاہدے کے تمام باریک نکات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا، بین الاقوامی معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے اس عظیم الشان امن معاہدے کے نفاذ کے ساتھ ہی وال اسٹریٹ سمیت دنیا بھر کی تمام بڑی اسٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی اور بہتری ریکارڈ کی جا رہی ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل (پٹرولیم) کی آسمان کو چھوتی ہوئی قیمتیں بھی یکدم نیچے گر گئی ہیں جس سے عالمی معیشت کو ایک بہت بڑا بریک تھرو اور ریلیف ملا ہے۔

بھارتی میڈیا اور صحافیوں کی بولتی بند، معاہدے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کے بطور ثالث دستخط نے نئی دہلی میں آگ لگا دی، ”اسلام آباد میمورنڈم“ کا متن منظرِ عام پر آنے سے مودی سرکار سکتے میں

محمود احمد june 18,2026

تہران/اسلام آباد (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کے تاریخی امن معاہدے کے حوالے سے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک دھماکہ خیز ٹوئٹ نے پاکستان کے خلاف مسلسل زہریلے پروپیگنڈے اور سازشوں میں مصروف بھارتی میڈیا اور نئی دہلی کے صحافتی حلقوں میں یکسر صفِ ماتم بچھا دی ہے، تہران اور واشنگٹن سے حاصل ہونے والی تازہ ترین سٹریٹجک رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والی باضابطہ مفاہمتی یادداشت کا اصل متن اور آفیشل کاپی پوری دنیا کے سامنے شیئر کر دی ہے جس پر پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے بطورِ ثالث اور ضامن واضح دستخط موجود ہیں، اس منظرِ عام پر آنے والی تاریخی دستخطی کاپی نے مودی سرکار اور ہندوستانی مبصرین کے تن بدن میں شدید آگ لگا دی ہے کیونکہ بھارتی میڈیا کے لیے یہ ہضم کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے کہ عالمی سطح پر جس پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کے لیے نئی دہلی نے اربوں ڈالر پانی کی طرح بہائے، وہی پاکستان آج حالیہ عالمی تاریخ کے سب سے بڑے اور اہم ترین امن معاہدے کو یقینی بنانے کا واحد ضامن اور مرکزی محور بن کر ابھرا ہے، ایرانی صدر کی اس تاریخی ٹوئٹ کے بعد دنیا بھر کے مقتدر سفارتی حلقوں میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور پاکستان کی عسکری قیادت کی اعلیٰ سفارتکاری کی زبردست تعریفیں کی جا رہی ہیں جبکہ دوسری جانب خطے میں امن کا روایتی دشمن بھارتی میڈیا مسلسل رونے دھونے اور مضحکہ خیز تاویلات پیش کرنے میں مصروف ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق بھارتی میڈیا کی جانب سے مودی سرکار کو خفت سے بچانے کے لیے گزشتہ ۲۴ گھنٹوں کے دوران مسلسل یہ مضحکہ خیز اور من گھڑت جھوٹا الزام عائد کیا جا رہا تھا کہ اس عالمی معاہدے کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے یکطرفہ جھوٹ بولا جا رہا ہے اور اس معاہدے کا نام سرے سے ”اسلام آباد میمورنڈم“ ہے ہی نہیں اور نہ ہی اس دستاویز میں پاکستان کا کوئی ذکر موجود ہے، تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے آفیشل اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی معاہدے کی لائیو تصویر نے بھارتی میڈیا کے اس مضحکہ خیز جھوٹ اور پراپوگنڈے کو سیکنڈوں میں یکسر بے نقاب کر دیا ہے کیونکہ صدارتی دستاویز پر جلی حروف میں ”اسلام آباد میمورنڈم“ ہی تحریر ہے جس کے نیچے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور بطورِ ثالث پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ڈیجیٹل دستخط صاف چمک رہے ہیں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے عالمی پیغام میں واشنگٹن کو کڑا پیغام دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ایک تاریخی دستاویز ہے اور ایک طاقتور و غیرت مند ایران کا واضح پیغام ہے کہ عالمی امن ہمیشہ صرف اور صرف باہمی احترام اور برابری کے سائے میں ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، انہوں نے فخر سے کہا کہ اس مفاہمتی یادداشت کا ایک ایک لفظ غیرت مند ایرانی قوم کی حقیقی آواز کا عکاس ہے اور ایرانی قوم نے کسی بھی بیرونی عسکری دھمکی، اقتصادی ناکہ بندی یا جابرانہ دباؤ کے سامنے اپنی عزتِ نفس اور قومی خود مختاری کا سودا نہیں کیا اور آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایرانی قوم کی بے مثال استقامت، ثابت قدمی اور تہران کی ذمہ دارانہ سٹرٹیجک سفارتکاری کا شاندار نتیجہ ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مابین طے پانے والے اس ۱۴ نکاتی امن معاہدے کی پاکستان نے بطورِ ثالث باقاعدہ توثیق کر دی ہے اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے تہنیتی پیغام میں واشنگٹن اور تہران کو مبارکباد دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ عظیم معاہدہ مشرقِ وسطیٰ اور خطے میں مستقل امن و معاشی استحکام کی سب سے مضبوط بنیاد ثابت ہوگا، انہوں نے عالمی دنیا پر واضح کیا کہ اس ناممکن سفارتی پیش رفت کو ممکن بنانے، دونوں ایٹمی و عسکری طاقتوں کو جنگ کی آگ سے نکالنے اور علاقائی استحکام کو آگے بڑھانے میں پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی رات دن کی انتھک مخفی محنت اور سٹرٹیجک حکمتِ عملی نے سب سے کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا ہے جسے تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا جبکہ وزیرِ اعظم نے اس شاندار کامیابی پر امریکی صدر ٹرمپ، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کو پاکستان کی ریاست اور عوام کی طرف سے دلی مبارکباد بھی پیش کی ہے۔

امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی مکمل طور پر ختم کر دی، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت 60 روزہ مدت کا باقاعدہ آغاز، 300 ارب ڈالر فنڈنگ کی خبریں جعلی پروپیگنڈا ہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کے اہم بیانات

کاشف عباسی ,june 18,2026

واشنگٹن (بین الاقوامی امور کے ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی امن معاہدے کے نفاذ کے ساتھ ہی امریکی افواج نے ایرانی بندرگاہوں کی طویل عرصے سے جاری سخت بحری ناکہ بندی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے، واشنگٹن سے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی جانب سے جاری کردہ آفیشل سٹریٹجک بیان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خصوصی اور براہِ راست ہدایت پر ایرانی بندرگاہوں اور تمام ساحلی علاقوں کی معاشی و عسکری ناکہ بندی فوری طور پر ہٹا لی گئی ہے، سینٹ کام نے واضح کیا ہے کہ خلیجِ عرب اور خلیجِ عمان میں ایرانی بندرگاہوں تک اب بحری آمد و رفت کا راستہ مکمل طور پر صاف ہے اور پٹرولیم و دیگر تجارتی سامان لانے اور لے جانے والے بین الاقوامی بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جا رہی تاہم تہران حکومت کی جانب سے امن معاہدے کی مکمل پاسداری کی حتمی یقین دہانی تک امریکی جنگی جہاز اور بحری بیڑے سیکیورٹی کے پیشِ نظر جنرل ایریا میں بدستور موجود رہیں گے، دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے ایک انتہائی اہم پیغام میں بین الاقوامی میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے کہ امریکہ ایران کو 300 ارب ڈالر کی خطیر رقم ادا کر رہا ہے، صدر ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ امریکہ ایران کو کوئی رقم نہیں دے رہا اور 300 ارب ڈالر کی فنڈنگ کی یہ تمام خبریں سراسر جعلی ہیں اور یہ ڈیموکریٹس کا پھیلاؤ ہوا مایوس کن سیاسی پروپیگنڈا ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس تاریخی امن معاہدے میں صرف اور صرف امریکہ کی شاندار کامیابی ہوئی ہے جس کے مثبت اثرات کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں یکدم نیچے آئی ہیں اور ملکی عوام کو چاہیے کہ وہ اپنی معاشی بہتری دیکھنے کے لیے امریکی اسٹاک مارکیٹ کے بہترین انڈیکس کو دیکھیں۔

مزید برآں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واشنگٹن میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے صراحت کی کہ ایران کا اس سخت ترین معاہدے پر دستخط کرنا دراصل سپر پاور امریکہ کی ایک بہت بڑی تاریخی جیت ہے اور یہ معاہدی بالخصوص امریکی عوام کے مفادات کی فتح ہے، انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے نفاذ کے ساتھ ہی ایران کی ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا ہے کیونکہ دستاویز کی اہم ترین شقوں میں واضح طور پر شامل ہے کہ ایران آئندہ ایسے کوئی بھی مہلک ہتھیار یا بیلسٹک میزائل تیار نہیں کرے گا جس سے دنیا کے امن یا کسی بھی ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو، نائب صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے مثبت رویے کو باریک بینی سے مانیٹر کرتے ہوئے ہی اسے مستقبل میں ریلیف فراہم کیا جائے گا اور اس معاشی ریلیف کا تمام تر انحصار تہران کے اپنے ذمہ دارانہ رویے، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کے ساتھ اس کے پرامن تعلقات پر ہوگا، انہوں نے واضح کیا کہ تہران حکومت کی روزمرہ کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ہی اس پر عائد اقتصادی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کی جائے گی اور پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی یہ ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ ہر لحاظ سے امریکی سیکیورٹی مفاد کے عین مطابق ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسرائیل اور حزب اللہ بھی اس عظیم امن معاہدے کا احترام کریں گے کیونکہ خطے میں جنگ اب کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور بعض میڈیا ہاؤسز کی جانب سے معاہدے کی شقوں کو انتہائی غلط اور گمراہ کن انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، انہوں نے مہم جوئی کا کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے اپنی سخت معاشی حکمتِ عملی سے ایران کو اس حد تک کمزور کر دیا کہ وہ اپنا جارحانہ رویہ تبدیل کر کے امن کی میز پر آنے پر مجبور ہوا لہٰذا یہ امریکہ ایران معاہدہ خطے کے وسیع تر امن کے لیے ایک بہترین تاریخی پیش رفت ہے۔

جے ڈی وینس نے خطے کی تازہ ترین عسکری صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ایران نے گزشتہ دو دنوں کے دوران آبنائے ہرمز میں کسی بھی بین الاقوامی یا تجارتی بحری جہاز کو نشانہ نہیں بنایا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں معاہدے کی پاسداری شروع کر چکا ہے اور صرف گزشتہ رات ہی اس اہم ترین بحری گزرگاہ سے ریکارڈ ۱۲.۵ ملین بیرل خام تیل لے کر متعدد جہاز بحفاظت گزرے ہیں، انہوں نے اعلان کیا کہ اسلام آباد معاہدے کے مطابق باقاعدہ جانچ پڑتال کا ۶۰ روزہ دورانیہ آج سے نافذ العمل ہو گیا ہے اور وائٹ ہاؤس بہت جلد اس مفاہمتی یادداشت کی تمام اہم شقوں اور سٹریٹجک فوائد پر امریکی کانگریس کو تفصیلی بریفنگ دے گا، اپنے آئندہ کے سفارتی شیڈول کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے کہا کہ ان کا سوئٹزرلینڈ جانے کا پروگرام ضرور ہے لیکن وہاں کب جانا ہے اس کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی کیونکہ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ایران کے ساتھ معاہدے کے انتہائی باریک تکنیکی نکات پر مزید اہم ترین بات چیت ہونی ہے اور قوی امکان ہے کہ وہ اس ہفتے کے آخر تک سوئٹزرلینڈ روانہ ہو جائیں لیکن ان کے اس دورے کا دارومدار جنیوا میں ایرانی وفد کی آمد پر ہے جو اتوار تک متوقع ہے، جے ڈی وینس نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ ایران جنیوا مذاکرات میں تمام شرائط کی مکمل تعمیل اور عملی اقدامات کے بعد ہی دنیا بھر میں موجود اپنے منجمد فنڈز تک رسائی حاصل کر سکے گا، اسرائیلی حکومت کی جانب سے آنے والے بیانات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنجمن نیتن یاہو کی کابینہ کے کچھ وزراء اس تاریخی معاہدے اور صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر بلاجواز تنقید کر رہے ہیں لیکن اسرائیلی کابینہ کو اس قسم کی تنقید کرنے سے پہلے زمینی حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہیے، امریکی نائب صدر نے اسرائیلی قیادت کو ایک انتہائی سخت اور واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی کابینہ کو یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کے گھروں کی حفاظت صرف اور صرف امریکی ہتھیاروں کی بدولت ہوتی ہے اور اسرائیل کا دفاع امریکی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے یقینی بنایا جاتا ہے کیونکہ تل ابیب اپنی بقا کے لیے جن جدید ترین ہتھیاروں کا استعمال کرتا ہے وہ سب امریکہ کے بنے ہوئے ہیں۔

”شکریہ وزیرِ اعظم شہباز شریف، شکریہ فیلڈ مارشل عاصم منیر“، امریکہ ایران امن معاہدے کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا پاکستانی قیادت سے تاریخی رابطہ

    کاشف عباسی ,june 18,2026

    اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کے تاریخی امن معاہدے پر الیکٹرانک دستخط مکمل ہونے کے فوراً بعد اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے ایک انتہائی اہم اور طویل ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیرِ اعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ اعلیٰ سطحی اعلامیے کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کو آج سہ پہر ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی جانب سے ایک خصوصی ٹیلیفون کال موصول ہوئی جو ۳۰ منٹ سے زائد وقت تک جاری رہی اور دونوں مقتدر رہنماؤں کے مابین تاریخی ”اسلام آباد امن معاہدے“ پر باقاعدہ دستخطوں کے عمل درآمد کے بعد یہ پہلا براہِ راست سفارتی رابطہ ہے، اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، ایران کی اعلیٰ ترین سٹریٹجک قیادت اور ایران کے تمام برادر عوام کو اس تاریخی امن معاہدے پر دستخط مکمل ہونے پر دلی مبارکباد پیش کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عظیم الشان معاہدہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ اور پورے خطے میں مستقل امن و استحکام کے قیام میں سنگِ میل ثابت ہوگا بلکہ جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد برادر ایرانی قوم کی تیز ترین تعمیرِ نو اور پاکستان و ایران کے مابین باہمی دلچسپی کے تمام اقتصادی، تجارتی و دفاعی شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور پائیدار بنانے کا باعث بھی بنے گا۔

    آفیشل اعلامیے کی تفصلیات کے مطابق وزیرِ اعظم پاکستان نے ایران کے سپریم لیڈر رہبرِ معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے لیے بھی اپنے گہرے احترام اور دلنشین نیک تمناؤں کا خصوصی پیغام پہنچایا، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جنگ کے خاتمے اور خطے کی معاشی خوشحالی کے لیے امن معاہدے پر دستخط کرنے کے ایرانی قیادت کے جرات مندانہ فیصلے کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے اگلے تکنیکی مرحلے کے لیے ایرانی ٹیم کی کامیابی کی دعا کی اور اس پختہ عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک سچے برادر اسلامی اور ہمسایہ ملک کی حیثیت سے عالمی فورمز سمیت ہر کٹھن شعبے میں ایران کی اخلاقی، سیاسی و اقتصادی حمایت جاری رکھے گا، دوسری جانب ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ایرانی قوم اور تہران حکومت کی جانب سے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مخلصانہ اور خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے تاریخی الفاظ استعمال کیے کہ ”شکریہ وزیرِ اعظم شہباز شریف، شکریہ فیلڈ مارشل عاصم منیر“، ایرانی صدر نے واشنگٹن اور تہران کو جنگ کی آگ سے نکالنے کے لیے پاکستان کی ان دونوں اعلیٰ ترین شخصیات کی انتھک سفارتی مہارت، غیر معمولی اخلاص اور اعلیٰ دانش مندی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بطورِ ثالث اس پورے عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں نہایت شاندار اور کلیدی کردار ادا کیا ہے جسے ایران کی ریاست ہمیشہ انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھے گی اور مشکل وقت میں پاکستان کی اس مثبت، تعمیری اور مخلصانہ حمایت کو ایران کی تاریخ میں ہمیشہ سنہرے حروف سے یاد رکھا جائے گا۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے برادر پاکستانی عوام کے لیے اپنی نیک خواہشات اور محبت کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ تہران باہمی دلچسپی کے تمام اہم شعبوں میں پاکستان کے ساتھ دوطرفہ سٹریٹجک تعلقات کو اب ایک نئی بلندی تک لے جانے کا شدید خواہاں ہے، اس تاریخی اور دوستانہ گفتگو کے اختتام پر دونوں ممالک کے رہنماؤں نے باہمی سہولت کے مطابق جلد از جلد ایک دوسرے کے دارالحکومتوں یعنی اسلام آباد اور تہران کے باقاعدہ سرکاری دورے کرنے پر مکمل اتفاق کیا تاکہ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امن و امان کے امور میں موجودہ بہترین تعاون اور مشترکہ منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھایا جا سکے جبکہ دونوں صدور نے آئندہ دنوں میں بھی خطے کی بدلتی صورتحال پر مسلسل اور قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کا دورۂ سوئٹزرلینڈ منسوخ، امریکہ ایران امن معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کے باعث فیصلہ

    کاشف عباسی ,june 18,2026

    اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا دورۂ سوئٹزرلینڈ ناگزیر وجوہات کی بنا پر یکسر منسوخ کر دیا گیا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی اعلیٰ سفارتی ذرائع کی تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باقاعدہ اور مستقل خاتمے کے لیے تیار کی گئی تاریخی ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ پر بطور ثالث دستخط کرنے اور دستخطوں کی یہ تقریب جنیوا کے بجائے الیکٹرانک طور پر ورچوئل انداز میں منعقد ہونے کے باعث دورہ منسوخ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا، شیڈول کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آج رات سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا روانہ ہونا تھا جہاں وہ اس معاہدے کی دستخطی تقریب میں ذاتی طور پر شرکت کرنے والے تھے تاہم دونوں بڑی عالمی طاقتوں کے صدور کے مابین ایم او یو پر مقررہ وقت سے پہلے ہی الیکٹرانک دستخط ہو جانے کے باعث اب جنیوا میں ہونے والی اس تقریب میں وزیرِ اعظم پاکستان کی جسمانی موجودگی ضروری نہیں رہی لہٰذا ان کے بیرونِ ملک دورے کا پورا شیڈول منسوخ کر دیا گیا اور جمعرات کے روز ہی وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اس تاریخی امن دستاویز پر بطور ثالث اپنے ڈیجیٹل دستخط ثبت کر دیے۔

    بین الاقوامی مبصرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین طویل عرصے سے جاری شدید ترین عسکری کشیدگی اور جنگی صورتحال کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششیں بالآخر رنگ لے آئی ہیں اور دونوں عالمی طاقتوں کو امن کی میز پر لانے کے بعد اب اس تاریخی امن دستاویز کو باقاعدہ ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کا نام دے کر دنیا بھر میں نافذ العمل کر دیا گیا ہے جس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس بڑے عالمی معاہدے کا مرکز، ضامن اور ثالث اسلامی جمہوریہ پاکستان بنا ہے، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا اس تاریخی دستاویز پر بطور ثالث اپنے دستخط ثبت کرنا عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ، جرات مندانہ خارجہ پالیسی اور بہترین امن پسند کردار کا ایک واضح ثبوت ہے، اس تاریخی امن یادداشت پر دونوں ممالک کی اعلیٰ ترین قیادت نے پہلے ہی اپنی مکمل سفارتی رضامندی ظاہر کرتے ہوئے الیکٹرانک دستخط مکمل کر لیے تھے اور اب اس مقتدر دستاویز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے باقاعدہ دستخط موجود ہیں جس کے بعد اس عالمی امن معاہدے کو دونوں حکومتوں کی اعلیٰ ترین سٹریٹجک سطح پر حتمی قانونی و آئینی حیثیت حاصل ہو گئی ہے جو خطے میں مستقل امن کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔

    آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی ۲۰۱۷ء کی تاریخی فتح کو ۹ سال مکمل، روایتی حریف بھارت کے خلاف شاندار کامیابی قومی کرکٹ کی تاریخ کا سنہرا باب، سرفراز احمد اور فخر زمان کے تاثرات

    منصور احمد june 18,2026

    لاہور (اسپورٹس رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کا ۱۸ جون ۲۰۱۷ء ایک انتہائی سنہرا اور لازوال باب ہے جب قومی کرکٹ ٹیم نے دنیا بھر کی تمام تر توقعات اور کرکٹ ماہرین کے تجزیوں کے یکسر برعکس گراؤنڈ پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل معرکے میں اپنے روایتی حریف بھارت کو ۱۸۰ رنز کے بھاری مارجن سے عبرتناک شکست دے کر پہلی بار یہ عالمی اعزاز اپنے نام کیا تھا، اس تاریخی اور ناقابلِ فراموش کامیابی کو آج پورے نو سال مکمل ہو گئے ہیں مگر اس شاندار فتح کی سحر انگیز یادیں آج بھی ملکی و بین الاقوامی شائقینِ کرکٹ کے دلوں میں پوری طرح تازہ ہیں، اس یادگار دن کے موقع پر قومی کرکٹ ٹیم کے اس وقت کے مایہ ناز کپتان سرفراز احمد نے اپنے خصوصی پریس بیان میں جذباتی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اوول کے تاریخی میدان میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کو فضا میں اٹھانا بلاشبہ ان کے پورے کرکٹ کیریئر کا یادگار ترین اور سنہرا لمحہ تھا، سابق کپتان کے مطابق یہ عظیم کامیابی کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ پوری ٹیم، محنتی کوچنگ سٹاف، اسپورٹنگ مینجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی کی مشترکہ اور مخلصانہ کاوشوں کا خوبصورت نتیجہ تھی جس نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا۔

    اس تاریخی فائنل معرکے میں بھارتی بالنگ لائن کے پرخچے اڑاتے ہوئے شاندار سنچری اسکور کرنے والے مایہ ناز اوپننگ بیٹر فخر زمان نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فائنل میچ میں کھیلی گئی جارحانہ اننگز اور وہ تاریخی دن آج بھی ان کی زندگی اور یادوں کا سب سے اہم حصہ ہیں کیونکہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی نے انہیں بطور انٹرنیشنل کرکٹر بہت کچھ سکھایا اور ان کے مجموعی کیریئر کو بنانے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا، دوسری جانب قومی ٹیم کے موجودہ مایہ ناز اسپنر ابرار احمد نے ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ۲۰۱۷ء کا یہ ہائی وولٹیج فائنل میچ اپنے گھر پر بیٹھ کر دیکھا تھا اور پاکستان کی تاریخی جیت پر انہیں بے حد خوشی محسوس ہوئی تھی، ان کے بقول جب کپتان سرفراز احمد عالمی ٹرافی لے کر کراچی پہنچے تو وہ دیوانہ وار ان کے گھر گئے تھے تاہم شائقین کے بے پناہ رش کی وجہ سے وہ اس وقت ٹرافی کو قریب سے دیکھنے میں یکسر ناکام رہے تھے لیکن آج ٹرافی کو اپنے بالکل قریب دیکھنا ان کے لیے ایک انتہائی خاص اور سحر انگیز لمحہ ہے، فاسٹ بولر خرم شہزاد نے اس حوالے سے بتایا کہ چیمپئنز ٹرافی کی تیاری کے لیے لگائے گئے تربیتی کیمپ کے دوران وہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی (این سی اے) میں پاکستان ٹیم کے نیٹ بولر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے اور ملکی ٹیم کی اس عظیم کامیابی کو وہ آج بھی فخر سے یاد کرتے ہیں۔

    عالمی اعزاز حاصل کرنے کی نویں سالگرہ کے موقع پر قومی ٹیم کے مایہ ناز آل راؤنڈر عامر جمال نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیتنا پوری پاکستانی قوم کے لیے ایک عظیم الشان فخر کا لمحہ تھا اور اس ایونٹ کے سیمی فائنل و فائنل کی سنسنی خیز یادیں آج بھی ناقابلِ فراموش ہیں، انہوں نے فائنل میچ کا ایک انتہائی نازک موڑ یاد کرتے ہوئے کہا کہ پچ پر جب بھارتی کپتان ویرات کوہلی کا ایک اہم کیچ ڈراپ ہوا تو پوری ٹیم اور شائقین شدید دباؤ کا شکار ہو گئے تھے تاہم اگلی ہی گیند پر شاداب خان کے ایک انتہائی شاندار اور ناقابلِ یقین کیچ نے پاکستان کو دوبارہ مقابلے میں مضبوط پوزیشن دلائی جس سے ٹیم کے حوصلے آسمان پر پہنچ گئے اور یوں روایتی حریف کے خلاف ایک تاریخی کامیابی کی راہ ہموار ہوئی۔

    سپریم کورٹ ملازمین کے یوٹیلیٹی الاؤنس میں ۱۰۰ فیصد تاریخی اضافہ، شہریوں کا شدید ردعمل، تمام مراعات ختم کرنے کا مطالبہ

    منصور احمد june 18,2026

    اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    چیف جسٹس آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے ملازمین اور افسران کے یوٹیلیٹی الاؤنس میں پورے ۱۰۰ فیصد اضافے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی عدالتی و انتظامی تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یوٹیلیٹی الاؤنس میں کیے جانے والے اس بھاری اضافے کا باقاعدہ اطلاق یکم جولائی ۲۰۲۶ء سے ہوگا، اعلامیے کے تفصیلی اعداد و شمار کے مطابق گریڈ ۱ سے ۶ تک کے ملازمین کا ماہانہ الاؤنس ۶ ہزار روپے سے بڑھا کر ۱۲ ہزار روپے جبکہ گریڈ ۷ سے ۱۰ تک کے ملازمین کا الاؤنس ۸ ہزار سے بڑھا کر ۱۶ ہزار روپے کر دیا گیا ہے، اسی طرح گریڈ ۱۱ سے ۱۵ تک کے ملازمین کا یوٹیلیٹی الاؤنس ۱۰ ہزار سے بڑھ کر سیدھا ۲۰ ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے، اعلامیے کے مطابق گریڈ ۱۶ کے افسران کا الاؤنس ۱۲ ہزار سے بڑھا کر ۲۴ ہزار روپے، گریڈ ۱۷ کے افسران کا یوٹیلیٹی الاؤنس ۱۵ ہزار سے بڑھ کر ۳۰ ہزار روپے جبکہ گریڈ ۱۸ کے افسران کا الاؤنس ۱۸ ہزار سے بڑھا کر ۳۶ ہزار روپے تک پہنچا دیا گیا ہے، اعلیٰ ترین افسران کی بات کی جائے تو گریڈ ۱۹ کے افسران کا الاؤنس ۲۱ ہزار سے بڑھا کر ۴۲ ہزار روپے، گریڈ ۲۰ کے افسران کا الاؤنس ۲۴ ہزار سے بڑھا کر ۴۸ ہزار روپے جبکہ گریڈ ۲۱ اور اس سے اوپر کے تمام اعلیٰ ترین افسران کا ماہانہ الاؤنس ۳۰ ہزار روپے سے بڑھا کر سیدھا ۶۰ ہزار روپے کر دیا گیا ہے، اس سرکاری اعلامیے میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ اس مخصوص یوٹیلیٹی الاؤنس میں گیس اور بجلی کے بھاری اخراجات شامل ہیں اور اس مد میں ہونے والے تمام اضافی اخراجات مالیاتی سال ۲۰۲۶-۲۷ کے منظور شدہ بجٹ سے ہی پورے کیے جائیں گے۔

    دوسری جانب معاشی بحران اور کمر توڑ مہنگائی کے پِسے ہوئے عام شہریوں نے سپریم کورٹ کے اس اعلامیے پر انتہائی شدید اور منفی ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور عدالتی انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے، شہریوں کا اپنے عوامی احتجاج میں کہنا ہے کہ ملک کے دیگر سرکاری ملازمین اور اعلیٰ حکام کی تنخواہوں میں پہلے ہی کئی سو گنا اضافہ کیا جا چکا ہے اور اب اس کٹھن صورتحال میں سپریم کورٹ کے ملازمین کے لیے یوٹیلیٹی الاؤنس کو دوگنا کرنا موجودہ ملکی حکومت کی اخراجات کم کرنے اور سادگی اختیار کرنے کی دعوے دار پالیسی کے سراسر خلاف ہے، شہریوں اور مختلف عوامی تنظیموں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاشی انصاف کا مظاہرہ کرتے ہوئے یا تو حکومت کو بلاتفریق تمام غریب پاکستانی شہریوں کے لیے بھی کم از کم ۶۰ ہزار روپے کے برابر ماہانہ خصوصی الاؤنس ادا کرنے کا فوری عدالتی حکم جاری کریں یا پھر ملک کی اعلیٰ ترین سیکیورٹی و حکومتی شخصیات سے لے کر نچلے درجے تک کے تمام سرکاری ملازمین کی ایسی تمام غیر ضروری پٹرول، گیس اور بجلی کی مراعات کو اس وقت تک کے لیے مکمل طور پر معطل اور ختم کیا جائے جب تک ملک موجودہ سنگین معاشی بحران اور بیرونی قرضوں کے چنگل سے مستقل طور پر باہر نہیں آجاتا کیونکہ اشرافیہ کو بھاری مراعات دینا غریب عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔

    محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات، وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی زیرِ صدارت جائزہ اجلاس میں 4 درجاتی حصار قائم کرنے کا حکم

    روزینہ اسماعیل.june 18,2026

    اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی زیرِ صدارت محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی اور دیگر اہم انتظامات سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک جدید خصوصی موبائل ایپلی کیشن ”محفوظ محرم“ متعارف کرانے کا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے، اسلام آباد سے حاصل ہونے والی انتظامی تفصیلات کے مطابق اس اہم اجلاس میں چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد پولیس نے محرم الحرام کے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے وزیرِ داخلہ کو تفصیلی بریفنگ دی، بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سیف سٹی اسلام آباد میں ایک مرکزی کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے جبکہ عزاداروں، مجالس اور ماتمی جلوسوں کی فول پروف حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ ۴ درجاتی حصار قائم کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے، انتظامیہ کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں تمام مجالس اور جلوسوں کا جامع سیکیورٹی آڈٹ مکمل کر لیا گیا ہے اور امن و نگہبان کمیٹیوں کو بھی فیلڈ میں مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے جبکہ اسلام آباد انتظامیہ امن و امان کی فضا برقرار رکھنے کے لیے تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، مجالس کے لائسنس ہولڈرز اور جلوسوں کے منتظمین سے مسلسل قریبی رابطے میں ہے۔

    اجلاس کے دوران خصوصی طور پر تیار کی گئی ”محفوظ محرم“ ایپلی کیشن کے بارے میں بتایا گیا کہ اس جدید سروس کے ذریعے اسلام آباد کے عام شہری گراؤنڈ پر کسی بھی مشتبہ شخص، مشکوک سرگرمی یا سیکیورٹی کے نامکمل انتظامات کی فوری اطلاع براہِ راست کنٹرول روم کو دے سکیں گے اور اس ایپ میں شہریوں کے لیے لائیو لوکیشن اور امیج شیئرنگ (تصاویر بھیجنے) کی خصوصی سہولت بھی میسر کی گئی ہے تاکہ فوری ایکشن لیا جا سکے، اس موقع پر وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پولیس حکام کو تمام چھوٹے بڑے جلوسوں اور مجالس کے داخلی و خارجی راستوں پر واک تھرو گیٹس نصب کرنے اور سخت ترین چیکنگ کا حکم دیا ہے جبکہ شہریوں کی سہولت کے لیے جامع متبادل ٹریفک پلان پر سو فیصد عملدرآمد کرنے کی کڑی ہدایت کی ہے، محسن نقوی نے واشگاف الفاظ میں رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ سیکیورٹی افسران دفاتر کے بجائے خود فیلڈ میں موجود رہیں اور ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کے لیے کھانے پینے کے معیاری انتظامات کو بروقت یقینی بنائیں، وزیرِ داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے طے کردہ ضابطہ اخلاق کی پابندی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور سوشل میڈیا یا فیلڈ میں کسی بھی قسم کے اشتعال انگیز مواد، وال چاکنگ اور نفرت انگیز تقریر کے خلاف ریاست کی جانب سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ریاست مخالف ٹویٹ کیس، صنم جاوید اور فلک جاوید پر فردِ جرم عائد نہ ہو سکی، علی امین گنڈاپور کے وارنٹ منسوخ

    کاشف عباسی ,june 18,2026

    لاہور (عدالتی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    لاہور کی مقامی عدالت میں ریاست مخالف ٹویٹ کیس میں نامزد پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) پنجاب کی سرگرم عہدیدار صنم جاوید اور ان کی ہمشیرہ فلک جاوید پر جیل حکام کی جانب سے عدم پیشی کے باعث تاحال فردِ جرم عائد نہ ہو سکی، عدالتی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق لاہور کی ایڈیشنل سیشن جج نصرت صدیقی کی عدالت میں اس ہائی پروفائل کیس کی باقاعدہ سماعت ہوئی مگر دونوں نامزد ملزمان کو جیل سے عدالت کے روبرو پیش نہیں کیا گیا جس کے باعث فردِ جرم عائد کرنے کی عدالتی کارروائی مکمل نہ ہو سکی، عدالت عالیہ نے ملزمان کی عدم پیشی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ۳ جولائی ۲۰۲۶ء تک ملتوی کر دی اور متعلقہ جیل انتظامیہ کو سخت ہدایت جاری کی کہ آئندہ تاریخِ سماعت پر دونوں خواتین ملزمان کی عدالت میں حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، واضح رہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے اس حساس مقدمے کا تفصیلی چالان پہلے ہی عدالت میں جمع کروایا جا چکا ہے۔

    دوسری جانب لاہور کی سیشن عدالت کے ڈیوٹی جج جاوید اقبال سپرا کی عدالت میں آڈیو لیک کیس کی اہم ترین سماعت کے دوران سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما علی امین گنڈاپور کے باقاعدہ عدالت کے سامنے سرنڈر (پیش) ہو جانے پر ان کے جاری کردہ ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری مستقل طور پر منسوخ کر دیے گئے ہیں، عدالتی کارروائی کے دوران علی امین گنڈاپور اور ان کے شریک ملزم اسد فاروق اپنے وکلاء کے ہمراہ ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوئے جہاں ان کے وکیل نے ٹھوس موقف اختیار کیا کہ محض ایک قانونی سماعت میں ناگزیر وجوہات کی بنا پر عدم پیشی کے باعث علی امین گنڈاپور کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے گئے تھے تاہم اب انہوں نے قانون کا احترام کرتے ہوئے عدالت کے سامنے خود کو سرنڈر کر دیا ہے اور وہ عدالت کے رحم و کرم پر ہیں، ڈیوٹی جج نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا جو بعد میں سناتے ہوئے علی امین گنڈاپور کے وارنٹ منسوخ کر دیے اور آڈیو لیک کیس کی مزید سماعت ۱۵ جولائی ۲۰۲۶ء تک کے لیے ملتوی کرنے کا باقاعدہ حکم جاری کر دیا۔

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں یکسر نیچے آ گئیں، پاکستان میں تاحال پٹرولیم مصنوعات سستی نہ ہو سکیں

    روزینہ اسماعیل.june 18,2026

    واشنگٹن/اسلام آباد (بین الاقوامی تجارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدور کے مابین تاریخی امن معاہدے کی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اور تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، واشنگٹن سے حاصل ہونے والی معاشی رپورٹس کے مطابق اس بڑے سٹریٹجک معاہدے کے نافذ ہوتے ہی امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی فی بیرل قیمت یکسر گر کر ۷۵ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ برطانوی خام تیل (برینٹ کروڈ) ۷۷ ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے، اسی طرح متحدہ عرب امارات کا مشہورِ زمانہ مربن خام تیل بھی عالمی منڈی میں ۷۴ ڈالر فی بیرل کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے، عالمی معاشی ماہرین کے مطابق اس امن معاہدے کے باعث جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر بڑی ایشیائی معیشتوں میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے جس کے نتیجے میں وہاں کے اسٹاک انڈیکسز میں زبردست بہتری اور تیزی ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں زمین پر آنے کے باوجود پاکستانی عوام کو اب تک اس کا کوئی ریلیف نہیں مل سکا ہے جس پر عوامی و تجارتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

    ملکی معاشی ذرائع کے مطابق پاکستانی حکومت نے دو ماہ کا وافر پٹرولیم ذخیرہ موجود ہونے کے باوجود رواں سال فروری کے مہینے میں ایران جنگ شروع ہوتے ہی ہنگامی بنیادوں پر ملک میں پٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کر دیا تھا لیکن اب عالمی منڈی میں قیمتیں انتہائی کم ہونے کے باوجود حکومت کی جانب سے قیمتوں میں کمی کرنے کے بجائے تاحال صرف داخلی مشاورت کا سست عمل جاری ہے، پٹرولیم سیکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کا ۷۴ اور ۷۵ ڈالر فی بیرل کی سطح پر آنا پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے امپورٹ بل میں اربوں ڈالر بچانے کا سنہری موقع ہے مگر اس کے باوجود اوگرا اور وزارتِ خزانہ کی جانب سے پٹرول سستا کرنے کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملکی صارفین تاحال مہنگا پٹرول خریدنے پر مجبور ہیں اور عوامی سطح پر حکومت سے فوری طور پر عالمی مارکیٹ کے تناسب سے پٹرولیم مصنوعات سستی کرنے کا پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

    مشکل وقت میں ملک کی خاطر صوبوں نے وفاق کو سپورٹ کیا، آئین کے دائرے میں رہ کر گرانٹ دیں گے، مراد علی شاہ

    محمود احمد june 18,2026

    کراچی ( /نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واضح کیا ہے کہ موجودہ ملکی و عالمی معاشی صورتحال کے باعث مالی سال ۲۰۲۶-۲۷ کا بجٹ گزشتہ برسوں سے یکسر مختلف نوعیت کا ہے، مشکل گھڑی میں ملک کی خاطر تمام صوبوں نے وفاقی حکومت کو بھرپور سپورٹ کیا ہے تاہم تمام فریقین نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا ہے کہ ہر فیصلہ ملکی آئین کے مطابق کیا جائے گا کیونکہ آئین میں نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کو مکمل تحفظ حاصل ہے اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے کی رقم میں کسی قسم کی کٹوتی یا کمی نہیں کی جا سکتی، کراچی میں صوبائی وزراء ناصر حسین شاہ، مکیش کمار چاولہ اور جام خان شورو کے ہمراہ ایک پُر ہجوم پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت صوبے میں مسلسل ۱۸واں بجٹ پیش کر رہی ہے اور سندھ میں سرمایہ کاری، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی سرگرمیوں کا فروغ ہمیشہ ہماری اولین ترجیحات میں شامل رہا ہے، انہوں نے انکشاف کیا کہ ابتدا میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے میں کمی کی تجویز زیر غور آئی تھی تاہم صوبوں نے اپنے آئینی حقوق کا بھرپور دفاع کیا جس کے بعد وفاق، چاروں صوبائی حکومتوں اور اتحادی جماعتوں نے آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے آرٹیکل ۱۶۴ کے تحت مسئلہ حل کیا جس کے مطابق صوبائی حکومتیں قومی دفاع اور یکجہتی کے پیش نظر وفاق کو گرانٹ فراہم کر سکتی ہیں۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے بجٹ کی اندرونی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کی وصولیوں کا مجموعی ہدف ۱۵.۲۶۴ ٹریلین روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ ۱۳.۳۵ ٹریلین روپے کی وصولی تک صوبوں کو ان کا پورا مقررہ حصہ ملے گا اور اس سے زائد وصول ہونے والی رقم صوبے وفاق کو گرانٹ کی صورت میں دیں گے، انہوں نے بتایا کہ صوبائی بجٹ کا کل حجم ۳ ہزار ۵۲۵ ارب روپے ہے جبکہ ہمارے اخراجات ۲ ہزار ۵۶۰ ارب روپے ہیں، بجٹ میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے ۵۴ ارب ۲۵ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو صوبے کی مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہوں گے، ان کا کہنا تھا کہ سندھ کو وفاقی محصولات کی مد میں مئی تک ۴۴۱ ارب روپے کے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ صوبائی وصولیوں میں بھی ۵۲ ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ان تمام مالی چیلنجز کے باوجود مجموعی طور پر صوبائی بجٹ میں تقریباً ۳۰۰ ارب روپے کا خسارہ موجود ہے، مراد علی شاہ نے کسانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی تھوڑی سی سپورٹ سے صوبے میں گندم کی پیداوار ۱.۴ ملین ٹن کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے جبکہ صوبائی ٹیکس وصولی ۶۲۳ ارب روپے ہو چکی ہے، انہوں نے ملازمین کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں کم از کم ماہانہ اجرت ۴۳ ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں ۷ فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے اور سندھ حکومت آئینی تقاضوں کے مطابق صوبے کے حقوق کا تحفظ جاری رکھے گی۔

    آئی سی سی ون ڈے رینکنگ جاری، ڈیرل مچل سرفہرست، ابرار احمد بولرز میں دوسرے نمبر پر برقرار

    منصور احمد june 18,2026

    لاہور (اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے ون ڈے کرکٹ کی تازہ ترین آفیشل پلیئرز رینکنگ جاری کر دی گئی ہے جس کے مطابق نیوزی لینڈ کے مایہ ناز بیٹر ڈیرل مچل بدستور بیٹنگ فہرست میں دنیا کے پہلے نمبر کے بیٹر بنے ہوئے ہیں، لاہور سے حاصل ہونے والی اسپورٹس تفصیلات کے مطابق آئی سی سی کی نئی رینکنگ کے تحت بھارتی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز بیٹر ویرات کوہلی دنیا کے دوسرے بہترین بیٹر کے طور پر اپنی پوزیشن پر مضبوطی سے براجمان ہیں جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم اس نئی ون ڈے رینکنگ میں چھٹے نمبر پر موجود ہیں، دوسری جانب اگر دنیا کے بہترین بولرز کی ون ڈے رینکنگ پر نظر ڈالی جائے تو وہاں افغانستان کے مایہ ناز لیگ اسپنر راشد خان نے شاندار انداز میں اپنی پہلی پوزیشن کو برقرار رکھا ہوا ہے جبکہ پاکستان کے جادوئی اسپنر ابرار احمد اپنی حالیہ بہترین کارکردگی کی بدولت عالمی بولرز کی فہرست میں دوسرے نمبر پر موجود ہیں، اسی طرح پاکستان کے مایہ ناز فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے بھی شاندار کارکردگی کے بل بوتے پر رینکنگ میں ایک درجہ ترقی حاصل کر لی ہے جس کے بعد وہ دنیا کے ٹاپ ٹین بولرز کی فہرست میں نویں پوزیشن سنبھالنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

    امریکہ ایران جنگ کا باقاعدہ خاتمہ، وزیراعظم شہباز شریف نے بطور ثالث تاریخی ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ پر دستخط کر دیے

    کاشف عباسی ,june 18,2026

    اسلام آباد (قومی سرخی/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    امریکہ اور ایران کے مابین طویل عرصے سے جاری شدید ترین کشیدگی، معاشی محاصرے اور ہولناک جنگی صورتحال کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مخلصانہ اور انتھک سفارتی کوششیں آخرکار رنگ لے آئی ہیں اور دونوں عالمی طاقتوں کو امن کی میز پر لانے کے بعد اب اس تاریخی امن دستاویز کو باقاعدہ ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کا نام دے کر نافذ کر دیا گیا ہے، دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی اعلیٰ سطحی سفارتی تفصیلات کے مطابق اس تاریخی بین الاقوامی معاہدے کی سب سے خاص اور اہم ترین بات یہ ہے کہ اس عظیم امن مشن کا مرکز، میزبان اور ضامن خود پاکستان بنا ہے، پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس تاریخی دستاویز پر بطور ثالث باقاعدہ اپنے دستخط ثبت کر دیے ہیں جو کہ عالمی منظرنامے پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ، جرات مندانہ پوزیشن اور امن پسند برادرانہ کردار کا ایک ناقابلِ تردید اور روشن ترین ثبوت ہے۔

    سرکاری باوثوق ذرائع کے مطابق اس تاریخی امن یادداشت پر دونوں ممالک کی اعلیٰ ترین قیادت نے پہلے ہی اپنی حتمی رضامندی ظاہر کرتے ہوئے دستخط کے مراحل مکمل کر لیے تھے، ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے باقاعدہ دستخط موجود ہیں جس کے بعد اس انقلابی معاہدے کو دونوں حکومتوں کی اعلیٰ ترین سطح پر حتمی قانونی و بین الاقوامی حیثیت حاصل ہو گئی ہے، سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والا یہ سٹریٹجک معاہدہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور امن کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہو گا جس سے بند پڑی سمندری تجارتی گزرگاہیں ہمیشہ کے لیے بحال ہو جائیں گی اور اس تاریخی کامیابی سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار اور سفارتی قد کاٹھ آسمان کو چھونے لگا ہے جس پر عالمی برادری پاکستان کی اعلیٰ قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کر رہی ہے۔

    انسانی ہمدردی کے اقدامات سخاوت نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہیں، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا دبنگ موقف

    محمود احمد june 18,2026

    اقوامِ متحدہ، نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    پاکستان نے عالمی برادری کو آئینہ دکھاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دنیا اس وقت غیر معمولی وسعت اور پیچیدگی کے حامل سنگین ترین انسانی بحران سے دوچار ہے جہاں لاکھوں بے گناہ انسان مختلف جنگی تنازعات، غیر ملکی قبضے، موسمیاتی آفات، بدترین غربت اور غذائی عدم تحفظ کے باعث زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں، نیویارک سے موصولہ اعلیٰ سطحی سفارتی رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل کے انسانی امور سے متعلق اجلاس کے عمومی مباحثے میں پاکستان کا ٹھوس موقف پیش کرتے ہوئے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ عالمی سطح پر انسانی امداد فراہم کرنا کوئی سخاوت، خیرات یا احسان کا عمل نہیں ہے بلکہ یہ انسانی ضمیر کا اولین تقاضا اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت سب کی مشترکہ قانونی و اخلاقی ذمہ داری ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارا اصل امتحان انتہائی سادہ ہے کہ کیا عالمی امداد دنیا میں کسی بھی تعصب اور بلا امتیاز، سیاسی مقاصد سے پاک ہو کر اور بغیر کسی تاخیر یا رکاوٹ کے ہر سچے ضرورت مند تک پہنچ رہی ہے یا نہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ مستقل مالی قلت اور فنڈز کی کمی کے باعث مجبور امدادی اداروں کو مظلوموں کے لیے خوراک، رہائش، ادویات اور تحفظ جیسی بنیادی ترین انسانی ضروریات کے درمیان مشکل ترین فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں جو کہ عالمی برادری کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔

    پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے عالمی انسانی امداد کے پورے نظام کو زیادہ مؤثر، شفاف اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے سلامتی کونسل اور دنیا کے سامنے پانچ اہم ترین تجاویز پیش کیں، انہوں نے سب سے پہلے اس بات پر زور دیا کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی مسلح تنازعات اور جابرانہ غیر ملکی قبضے کی صورتحال ہے وہاں بین الاقوامی انسانی قوانین کا احترام ہر صورت یقینی بنایا جائے اور طاقتور ممالک کی جانب سے ان قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کو معمول سمجھنے، جواز پیش کرنے یا نظرانداز کرنے کا منافقانہ رویہ اب مستقل طور پر ترک کرنا ہوگا، انہوں نے دوسری تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہر جنگی صورتحال میں محصورین تک محفوظ، تیز رفتار، مستقل اور بلا رکاوٹ انسانی رسائی کو یقینی بنایا جائے، تیسری تجویز میں انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کو بکھراؤ سے بچا کر براہِ راست ان مقامات پر پہنچایا جائے جہاں ضرورت سب سے زیادہ ہو، چوتھی تجویز کے تحت انہوں نے زور دیا کہ ہنگامی امداد عارضی طور پر جانیں تو بچاتی ہے لیکن طویل المدتی استحکام کے لیے اس امداد کو ترقیاتی منصوبہ بندی، موسمیاتی موافقت اور آفات سے بچاؤ کی قومی حکمت عملیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا لازمی ہے اور خصوصاً کمزور ممالک میں قبل از وقت انتباہی نظام (ارلی وارننگ سسٹم) کو مضبوط بنانا ہو گا، پانچویں تجویز میں انہوں نے واضح کیا کہ انسانی ضروریات میں مستقل کمی لانے کے لیے سیاسی عزم کے ذریعے طویل تنازعات کی بنیادی وجوہات کو حل کرنا ہو گا اور یہ حل اقوامِ متحدہ کے منشور اور سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق صرف مکالمے، سفارت کاری اور پرامن ذرائع سے ہی نکالا جا سکتا ہے، اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عاصم افتخار نے دنیا کو جرات مندانہ پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آج کے اس بدترین انسانی بحران میں ہماری کامیابی کا حقیقی معیار ہمارے کاغذوں پر کیے گئے بڑے بڑے وعدے نہیں بلکہ زمین پر ہماری عملی کارکردگی ہو گی۔