ویسٹ انڈیز کے خلاف شاندار فارم: بابر اعظم بطور قومی ٹیسٹ کپتان بہترین اوسط رکھنے والے بیٹر بن گئے

محمود احمد, August 09,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

پاکستان کی قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اور عالمی شہرت یافتہ بیٹر بابر اعظم نے کرکٹ کی دنیا میں ایک اور شاندار سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ وہ پاکستان کی ٹیسٹ تاریخ میں بطور قائد (کپتان) سب سے بہترین بیٹنگ اوسط رکھنے والے بیٹر بن گئے ہیں۔

حال ہی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اختتام پذیر ہونے والی ٹیسٹ سیریز میں کپتان بابر اعظم نے زبردست فارم کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 اننگز میں 96.50 کی بہترین اوسط سے مجموعی طور پر 193 رنز بنائے۔ وہ اس پورے سیریز کے سب سے کامیاب اور سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی رہے۔

سیریز کے پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بابر اعظم نے 23 رنز بنائے جبکہ دوسری اننگز میں ذمہ دارانہ نصف سنچری اسکور کی۔ دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں ان کی 88 رنز کی قائدانہ اننگز نے قومی ٹیم کو 43 رنز کی اہم اور کلیدی برتری دلائی۔ بعد ازاں سیریز کے آخری میچ کی آخری اننگز میں بابر نے محض 30 گیندوں پر 2 چھکوں اور 2 چوکوں کی مدد سے ناقابلِ شکست 24 رنز بنا کر پاکستان کو 75 رنز کا ہدف باآسانی دلا دیا۔

اعداد و شمار کے مطابق بابر اعظم اب تک بطور ٹیسٹ کپتان 22 میچز میں 53.33 کی اوسط سے 1,920 رنز بنا چکے ہیں، جن میں 4 شاندار سنچریاں اور 13 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ یہ بطور کپتان 1,000 یا اس سے زائد ٹیسٹ رنز بنانے والے کسی بھی پاکستانی بیٹر کی سب سے زیادہ اوسط ہے۔

بطور ٹیسٹ کپتان بہترین بیٹنگ اوسط کی اس تاریخی فہرست میں دوسرے نمبر پر سلیم ملک ہیں جنہوں نے 52.35 کی اوسط سے 1,047 رنز بنائے۔ سابق کپتان عمران خان 52.34 کی اوسط سے 2,408 رنز بنا کر تیسرے، انضمام الحق 52.10 کی اوسط سے 2,397 رنز بنا کر چوتھے، مصباح الحق 51.39 کی اوسط سے 4,214 رنز بنا کر پانچویں جبکہ جاوید میانداد 50.08 کی اوسط سے 2,354 رنز بنا کر چھٹے نمبر پر موجود ہیں۔

بابر اعظم کی اس ریکارڈ ساز کارکردگی پر کرکٹ کے ماہرین اور شائقین کی جانب سے انہیں بے حد سراہا جا رہا ہے۔

جیانی انفینٹینو کی خلاف مہم: فیفا کی صدر اور ادارے کو کمزور کرنے کی منظم کوششوں کی سخت مذمت

محمود احمد, August 09,2026

زیورخ (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے اپنے صدر جیانی انفینٹینو اور ادارے کی انتظامی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی منظم مہم اور الزامات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، فیفا کا یہ سخت موقف برطانوی اخبار ‘ڈیلی ٹیلی گراف’ کی اس خبر کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یوئیفا کے سابق جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے جیانی انفینٹینو کے دور میں ایک مبینہ دوست کو ادارے سے الگ ہوتے وقت رقم ادا کی گئی تھی۔ فیفا کے ترجمان نے ان تمام دعوؤں کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ محض قیاس آرائیوں اور الزام تراشی کو حقائق کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔

جیانی انفینٹینو کو ان دنوں ‘فیفا فارورڈ انٹرپرائز’ تجاویز کے بعد یوئیفا اور یورپین فٹبال ایسوسی ایشنز کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایک نئی کمپنی قائم کر کے اس کا 21 فیصد حصہ ایک پرائیویٹ انویسٹمنٹ فرم کو فروخت کیا جانا تھا۔ یورپی باڈیز کی مخالفت کے بعد یوئیفا نے جیانی انفینٹینو پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے جبکہ نارویجن فٹبال فیڈریشن کی صدر لیس کلیوینس نے ان سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

دوسری جانب فیفا نے اپنا واضح موقف اپنایا ہے کہ صدر جیانی انفینٹینو تمام 211 رکن ایسوسی ایشنز کے مکمل جمہوری مینڈیٹ سے منتخب ہوئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جو عناصر جمہوری عمل کے ذریعے کامیاب نہیں ہو سکے، وہ اب غلط معلومات اور بے بنیاد الزامات کا سہارا لے رہے ہیں۔

یورپی تنظیموں کی شدید مخالفت کے باوجود جیانی انفینٹینو کو افریقی فٹبال کنفیڈریشن کے تمام 54 ممالک، جنوبی امریکی کنفیڈریشن اور میکسیکن فٹبال فیڈریشن کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ فیفا نے اپنے باضابطہ بیان میں اعادہ کیا ہے کہ ادارہ آئینی و قانونی جانچ پڑتال کا خیرمقدم کرتا ہے لیکن حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے والی کسی بھی مہم کا پوری طاقت سے مقابلہ کیا جائے گا۔

ایرانی ویمن فٹبالرز فاطمہ پسندیدہ اور عاطفہ رمضانی زادہ کو آسٹریلیا کی شہریت مل گئی

محمود احمد, August 07,2026

تہران / برسبین (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

ایرانی ویمن فٹبال ٹیم کی دو اہم کھلاڑیوں فاطمہ پسندیدہ اور عاطفہ رمضانی زادہ نے باضابطہ طور پر آسٹریلیا کی شہریت حاصل کر لی ہے۔ دونوں کھلاڑیوں نے رواں برس کے آغاز میں ایرانی حکومت پر شدید تنقید کی تھی جس کے بعد سے وہ غیر یقینی صورتحال کا شکار تھیں۔

22 سالہ فاطمہ پسندیدہ اور 34 سالہ عاطفہ رمضانی زادہ نے ریاست کوئنزلینڈ کے شہر برسبین میں منعقدہ ایک سرکاری تقریب کے دوران آسٹریلیا کے وزیرِ امیگریشن ٹونی برک کے ہاتھوں شہریت کا حلف اٹھایا۔ اس موقع پر ان کے دوست احباب اور برسبین میں مقیم ایرانی برادری کے افراد نے بھی شرکت کی اور انہیں مبارکباد پیش کی۔

شہریت کا حلف اٹھانے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے عاطفہ رمضانی زادہ کا کہنا تھا کہ یہ دن ان کی زندگی کا ایک یادگار اور ناقابلِ فراموش لمحات میں سے ایک ہے، آسٹریلیا نے انہیں ایک نئی زندگی شروع کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے، تاہم ان کی ایرانی شناخت ہمیشہ ان کے وجود کا حصہ رہے گی۔ اسی طرح فاطمہ پسندیدہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی ماہ کی مشکلات اور تشویش کے بعد یہ دن ان کے لیے بے حد خوش آئند ہے اور وہ خود کو بے حد خوش نصیب محسوس کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ یہ دونوں کھلاڑی ان سات ایرانی فٹبالرز کے گروپ میں شامل تھیں جنہیں رواں برس مارچ میں ویمنز ایشین کپ کے دوران آسٹریلوی حکومت کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے جاری کیے گئے تھے۔ تاہم، دیگر پانچ خواتین کھلاڑیوں نے بعد ازاں اپنا ارادہ تبدیل کر کے ایران واپس جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

ان دونوں کھلاڑیوں کو شہریت ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب آسٹریلوی حکومت اپنے ویزا قوانین سخت کرنے اور امیگریشن کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ آسٹریلیا میں مقیم یہ دونوں ایرانی فٹبالرز اس وقت اے لیگ ویمنز کلب ‘برسبین روار’ کے ساتھ اپنی تربیت جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ آسٹریلیا میں ہی اپنے پیشہ ورانہ فٹبال کیریئر کو آگے بڑھانے کا عزم رکھتی ہیں۔

پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن نے سال 27-2026ء کے ایونٹس کیلنڈر کا باضابطہ اعلان کر دیا

محمود احمد, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن (پی سی ایف) نے مالی سال 27-2026ء کے لیے اپنا تفصیلی ایونٹس کیلنڈر جاری کر دیا ہے، جس کے تحت جولائی 2026ء سے جون 2027ء تک متعدد قومی و بین الاقوامی سائیکلنگ مقابلے، کورسز اور چیمپئن شپس منعقد کی جائیں گی۔

فیڈریشن کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق، جولائی 2026ء میں اسلام آباد کے اندر کمیسائر کورس اور 14 اگست کو تمام صوبائی ہیڈکوارٹرز میں یومِ آزادی کے حوالے سے سائیکل ریسز منعقد ہوں گی۔ اگست میں اسلام آباد میں کوچنگ کورس کے بعد، 19 تا 27 ستمبر کو کینیڈا کے شہر مونٹریال میں یو سی آئی روڈ ورلڈ چیمپئن شپ منعقد ہوگی۔ اکتوبر میں لاہور کے اندر دسویں روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ، جبکہ 6 تا 8 نومبر کو لاہور ہی میں 71ویں ٹریک چیمپئن شپ (سینئر و جونیئر) طے کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں، کراچی تا حیدرآباد سائیکل ریس نومبر میں اور دسمبر میں ‘ٹور آف اسلام آباد’ اور قائد اعظم ڈے ریسز ہوں گی۔

سال 2027ء کی شروعات میں جنوری میں ‘ٹور دے پشاور’ اور ایم ٹی بی چیمپئن شپ، فروری میں پشاور کے مقام پر 11ویں روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ اور مارچ میں لاہور میں انٹر پروونشل ٹریک چیمپئن شپ سمیت اسلام آباد میں ساؤتھ ایشین روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ کا انعقاد کیا جائے گا۔ اپریل 2027ء میں ‘ٹور دے گلیات’ اور ایشین کانٹینینٹل چیمپئن شپ کا انعقاد ہوگا جبکہ مئی و جون 2027ء میں اورڈوس (چین) میں ایشین روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ، گلگت میں ‘ٹور دی خنجراب’ اور جون 2027ء میں ناران ایم ٹی بی ریس طے کی گئی ہے۔

پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن کے صدر سید اظہر علی شاہ نے نمائندے کو بتایا کہ ایونٹس کی حتمی منظوری فنڈز کی دستیابی سے مشروط ہوگی، جبکہ قومی ٹیم کا انتخاب میرٹ کی بنیاد پر طے شدہ چیمپئن شپس میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔ منتخب سائیکلسٹس کی جدید بنیادوں پر تربیت کے لیے خصوصی قومی کیمپ بھی لگائے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے سائیکلسٹس میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، اور پچھلی دو سے تین ایشین چیمپئن شپس میں میڈلز جیت کر پاکستانی ایتھلیٹس نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر انہیں معیاری سهولیات اور بین الاقوامی ایکسپوژر ملتا رہے تو وہ عالمی سطح پر ملک کا نام مزید روشن کر سکتے ہیں۔

جونیئر ٹیم نے دو میچز قبل ہی سیریز اپنے نام کر لی؛ پی ایچ ایف کے صدر محی الدین احمد وانی کی کھلاڑیوں اور آفیشلز کو مبارکباد

محمود احمد, August 01,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

پاکستان انڈر 21 ہاکی ٹیم نے عمان کی سینئر قومی ہاکی ٹیم کے خلاف جاری پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے تیسرے مقابلے میں سنسنی خیز اور دلچسپ مقابلے کے بعد 3-4 سے تاریخی فتح حاصل کرتے ہوئے سیریز میں 0-3 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کر لی ہے۔ مسلسل تیسری کامیابی کے ساتھ ہی پاکستان کی جونیئر ٹیم نے سیریز کے دو میچز باقی رہتے ہوئے سیریز اپنے نام کر لی ہے۔

میچ کے دوران دونوں ٹیموں کے درمیان سخت اور کانٹے دار مقابلہ دیکھنے میں آیا، تاہم پاکستان کے نوجوان کھلاڑیوں نے منظم دفاع اور شاندار جارحانہ حکمتِ عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمان کی سینئر اور تجربہ کار ٹیم کو مسلسل دباؤ میں رکھا۔ پاکستان کی جانب سے مصطفیٰ نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو فیلڈ گول اسکور کیے، جبکہ عبداللہ نے ایک پینلٹی اسٹروک اور احمد نے ایک فیلڈ گول کر کے اپنی ٹیم کی فتح یقینی بنائی۔ عمان کی جانب سے البرہان نے دو پینلٹی اسٹروکس اور عمر بن حمد نے ایک فیلڈ گول اسکور کیا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی نے قومی انڈر 21 ہاکی ٹیم کو سیریز اپنے نام کرنے پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کھلاڑیوں اور تمام ٹیم آفیشلز کی کارکردگی کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کے یہ باصلاحیت نوجوان کھلاڑی آئندہ آنے والے بین الاقوامی مقابلوں میں بھی اسی جذبے، محنت اور اعتماد کے ساتھ کھیل کر پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کریں گے۔

کامن ویلتھ گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون باکسر فاطمہ زہرہ کو وزیراعلیٰ مریم نواز کی مبارکباد

محمود احمد, August 01,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے لیے کانسی کا تمغہ حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون باکسر فاطمہ زہرہ کو ان کی اس تاریخی کامیابی پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

ہفتہ کے روز لاہور سے جاری کردہ اپنے ایک خصوصی پریس بیانیے میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے قومی باکسر فاطمہ زہرہ کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کامن ویلتھ گیمز جیسے عالمی سطح کے بین الاقوامی ایونٹ میں میڈل جیت کر ملک کا نام روشن کرنا ایک شاندار اور تاریخی کارنامہ ہے جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “مجھے یہ دیکھ کر بے حد خوشی اور فخر محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان کی بیٹیاں زندگی کے ہر شعبے بالخصوص کھیل کے میدانوں میں آگے بڑھ کر اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ فاطمہ زہرہ کامن ویلتھ گیمز کی تاریخ میں باکسنگ کے کھیل میں پاکستان کے لیے میڈل جیتنے والی پہلی خاتون باکسر بن چکی ہیں، جو کہ پاکستان کی تمام نوجوان خواتین اور ابھرتی ہوئی کھلاڑیوں کے لیے مشعلِ راہ اور ایک بے مثال تحریک کا باعث ہے۔

فیفا کے تجارتی حصص پرائیویٹ انویسٹرز کو بیچنے کا متنازع منصوبہ: یورپی ممالک کا آنے والے ورلڈ کپ ٹورنامنٹس کے بائیکاٹ پر اتفاق

محمود احمد, JULY 31,2026

زیورخ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

بین الاقوامی فٹ بال کی گورننگ باڈی (فیفا) کی جانب سے اپنے عالمی کپ اور دیگر اہم ترین ٹورنامنٹس کے تجارتی حصص نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی تجویز کے ردِعمل میں بڑا عالمی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ یورپی ممالک نے اس منصوبے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے آنے والے فیفا عالمی کپ مقابلوں کا مکمل بائیکاٹ کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ تاریخی اور حتمی فیصلہ یورپی فٹ بال تنظیم کی 55 رکن ایسوسی ایشنز کے ایک ہنگامی آن لائن اجلاس کے دوران کیا گیا۔ واضح رہے کہ آنے والے بڑے مقابلوں میں اگلے سال برازیل میں منعقد ہونے والا خواتین کا عالمی کپ اور 2030ء میں اسپین، پرتگال اور مراکش میں طے شدہ مردوں کا عالمی کپ شامل ہیں، جن پر اب بائیکاٹ کے گہرے بادل منڈلانے لگے ہیں۔

تنازع اس وقت شروع ہوا جب فیفا نے ایک نئی قائم کردہ تجارتی کمپنی میں اپنے اقلیتی حصص بیچنے کے منصوبے کی باضابطہ تصدیق کی۔ اس منصوبے کے تحت فیفا کا مقصد اپنے بڑے مقابلوں بشمول عالمی کپ اور کلب عالمی کپ کے تجارتی امور کو اس نئی کمپنی کے ذریعے چلانا اور 21 فیصد حصص کی فروخت کے ذریعے 4.2 ارب امریکی ڈالر اکٹھا کرنا ہے تاکہ یہ رقم رکن تنظیموں کو دستیاب کی جا سکے۔ اگرچہ فیفا نے واضح کیا کہ گورننگ باڈی کی حیثیت اور اکثریت کے حصص اسی کے پاس رہیں گے، تاہم اس تجویز کو شدید ترین عالمی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یورپی فٹ بال تنظیم نے موقف اپنایا ہے کہ یہ قدم اس سرخ لکیر کو عبور کرنے کے مترادف ہے جسے کھیل کے منتظم اداروں کو کبھی پار نہیں کرنا چاہیے۔

دیگر عالمی تنظیموں نے بھی فیفا کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ شمالی و وسطی امریکہ کی فٹ بال تنظیم نے قانونی اور شفاف طریقہ کار کی عدم موجودگی پر تشویش جتائی ہے جبکہ ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن نے مناسب مشاورت کے بغیر معاملے کے عام ہونے پر مایوسی ظاہر کی ہے۔ دوسری جانب افریقی فٹ بال کنفیڈریشن نے تجاویز کے مطالعے کی بات کی ہے۔ ان تمام تر اعتراضات کے باوجود فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے منصوبے کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے اسے جمہوری عمل اور تجارتی ترقی کا اگلا قدرتی قدم قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ یورپی ٹیمیں عالمی فٹ بال کی بڑی قوت ہیں، جنہوں نے 23 میں سے 13 عالمی کپ ٹائٹل جیتے ہیں جن میں حالیہ 19 جولائی 2026ء کو فائنل میں ارجنٹائن کو شکست دے کر چیمپئن بننے والی اسپین کی ٹیم بھی شامل ہے، جس کے بعد اس ممکنہ بائیکاٹ نے فیفا پر شدید معاشی و انتظامی دباؤ بڑھا دیا ہے۔

روس کے ماؤنٹ ایلبروس پر شدید برفانی طوفان؛ بوسنیا کے 5 کوہ پیما ہلاک

محمود احمد, JULY 27,2026

ماسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

روس کے ماؤنٹ ایلبروس پر شدید برفانی طوفان کے باعث بوسنیا اور ہرزیگووینا سے تعلق رکھنے والے 5 کوہ پیما ہلاک ہو گئے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کوہ پیما یورپ کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایلبروس سر کرنے کی مہم پر تھے کہ اچانک علاقے میں موسم انتہائی خراب ہو گیا اور شدید طوفان نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شدید برف باری، تیز ہواؤں اور انتہائی کم درجہ حرارت کے باعث کوہ پیماؤں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ امدادی کارروائیوں کے باوجود بوسنیا کے 5 کوہ پیماؤں کی جانیں نہ بچائی جا سکیں۔

ماؤنٹ ایلبروس کے بارے میں

ماؤنٹ ایلبروس روس کے قفقاز کے علاقے میں واقع ہے اور سطح سمندر سے 5,642 میٹر بلند ہے۔ اسے یورپ کی بلند ترین چوٹی تصور کیا جاتا ہے اور یہ دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کے لیے ایک مقبول لیکن انتہائی خطرناک مقام ہے۔

ماہرین کے مطابق ماؤنٹ ایلبروس پر موسم انتہائی تیزی سے تبدیل ہو سکتا ہے، اور اچانک آنے والے برفانی طوفان، شدید ہوائیں اور کم حدِ نگاہ کوہ پیماؤں کے لیے جان لیوا خطرات پیدا کر دیتے ہیں۔ تازہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلند پہاڑی علاقوں میں موسم کی شدت کو نظر انداز کرنا کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026ء: انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے آسٹریلیا کی قومی ٹیم کا تفصیلی پروفائل جاری کر دیا

محمود احمد, JULY 24,2026

لوزان (نیوز اینڈ نیوز) — 24 جولائی 2026ء

ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026ء کے باقاعدہ آغاز سے قبل عالمی ہاکی فیڈریشن (ایف آئی ایچ) نے ٹورنامنٹ میں شریک ٹیموں کی تعارفی سیریز کے تحت آسٹریلیا کی مردوں کی ہاکی ٹیم کا تفصیلی پروفائل جاری کر دیا ہے۔ عالمی درجہ بندی میں چوتھے نمبر پر براجمان آسٹریلوی ٹیم رواں برس بیلجیئم اور نیدرلینڈز میں مشترکہ طور پر منعقد ہونے والے ورلڈ کپ میں مضبوط ترین مدعی کے طور پر میدان میں اترے گی اور اس کا ہدف چوتھا عالمی ٹائٹل جیتنا ہوگا۔ واضح رہے کہ آسٹریلیا اس سے قبل 1986ء (لندن)، 2010ء (نئی دہلی) اور 2014ء (دی ہیگ) میں ورلڈ کپ کے معرکے اپنے نام کر چکا ہے۔

ورلڈ کپ سکواڈ میں حال ہی میں پرو لیگ میں بہترین کارکردگی دکھانے والے نائنتھن ایفرامز، جیک ویلچ، ٹم برانڈ اور جوئل رنٹالا جیسے نمایاں کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ٹیم کے کپتان اور پنالٹی کارنر اسپیشلسٹ 33 سالہ جیریمی ہیورڈ 260 بین الاقوامی میچوں میں 192 گول کا ریکارڈ رکھتے ہیں اور وہ 2014ء کی عالمی چیمپئن ٹیم کے واحد رکن ہیں جو موجودہ سکواڈ کا حصہ ہیں۔ ان کے علاوہ بلیک گوورز، ٹم ہاورڈ، ٹام کریگ، جوشوا بیلٹز اور لاچی شارپ بھی 100 سے زائد عالمی میچز کھیلنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ ایف آئی ایچ نے 25 سالہ مڈفیلڈر کائی ولوٹ کو آسٹریلیا کا اہم ترین کھلاڑی قرار دیا ہے جن پر تمام نظریں مرکوز رہیں گی۔

آسٹریلوی ٹیم نے 2023-24ء کی ایف آئی ایچ پرو لیگ جیت کر ورلڈ کپ کے لیے براہ راست کوالیفائی کیا تھا، جبکہ اس ٹیم کے شاندار ریکارڈ میں تین ورلڈ کپ، ایک اولمپک گولڈ میڈل، 15 چیمپئنز ٹرافی اور سات کامن ویلتھ گیمز کے گولڈ میڈل شامل ہیں۔ نومبر 2024ء میں ذمہ داریاں سنبھالنے والے ہیڈ کوچ مارک ہیگر کا کہنا ہے کہ تجربہ کار اور نوجوان کھلاڑیوں کا باہمی امتزاج ٹیم کی بنیادی طاقت ہے۔ یاد رہے کہ ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026ء کا باقاعدہ آغاز 15 اگست سے ہوگا جہاں دنیا کی بہترین ٹیمیں مدمقابل آئیں گی۔

خواتین ٹینس ایسوسی ایشن (ڈبلیو ٹی اے) کا بڑا فیصلہ: خاتون کھلاڑیوں کے لیے جینیاتی (ڈی این اے) معائنہ لازمی قرار

محمود احمد, JULY 21,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

خواتین ٹینس ایسوسی ایشن نے ڈبلیو ٹی اے ٹورنامنٹس میں شرکت کرنے والی تمام خاتون کھلاڑیوں کے لیے جینیاتی معائنے (ڈی این اے ٹیسٹنگ) کو باقاعدہ طور پر لازمی قرار دے دیا ہے۔

‘بی بی سی’ کی رپورٹ کے مطابق، 21 جولائی 2026ء سے فوری طور پر نافذ العمل ہونے والی اس نئی پالیسی کے تحت تمام خاتون کھلاڑیوں کے چیک سواب، خون یا لعاب (سلیوا) کے نمونے حاصل کیے جائیں گے۔ اس ٹیسٹ کا بنیادی مقصد وائی کروموسوم پر موجود ‘ایس آر وائی’ جینیاتی مادے کی موجودگی کا پتہ لگانا ہے، جو جسمانی طور پر مردانہ خصوصیات اور نشوونما کا باعث بنتا ہے۔

ڈبلیو ٹی اے کی واضح کردہ ہدایات کے مطابق، کھلاڑیوں کا یہ جینیاتی ٹیسٹ ان کے پیشہ ورانہ کیریئر میں صرف ایک بار (لائف ٹائم) کیا جائے گا۔ ٹیسٹ کا رپورٹڈ نتیجہ منفی آنے کی صورت میں ہی کھلاڑیوں کو ایونٹس میں کھیلنے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ مثبت نتیجہ سامنے آنے کی صورت میں متعلقہ کھلاڑی کا تفصیلی طبی جائزہ لیا جائے گا۔ اس پالیسی کا احترام یقینی بنانے کے لیے تمام کھلاڑیوں سے ایک رسمی عہد نامے پر دستخط بھی کروائے جائیں گے اور ٹیسٹ کروانے سے انکار کی صورت میں سخت ڈسپلنری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

واضح رہے کہ سال 2024ء میں ڈبلیو ٹی اے کی سابقہ پالیسی کے تحت خواجہ سرا (ٹرانس جینڈر) خواتین کو اس شرط پر کھیلنے کی اجازت تھی کہ وہ اپنے ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کو مسلسل دو سال تک مقررہ حد سے کم رکھیں۔ تاہم، ڈبلیو ٹی اے انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اس نئی جینیاتی پالیسی کا بنیادی مقصد پیشہ ورانہ ٹینس میں تمام خاتون کھلاڑیوں کو مساوی مواقع، شفافیت اور منصفانہ کھیل کا یکساں ماحول فراہم کرنا ہے۔

فرانس کے کیلین ایمباپے نے نئی تاریخ رقم کر دی؛ دو بار عالمی کپ کا گولڈن بوٹ ایوارڈ جیتنے والے دنیا کے پہلے فٹ بالر بن گئے

محمود احمد, JULY 20,2026

ایسٹ ردرفورڈ، نیوجرسی (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

فرانس کے مایہ ناز فٹ بالر اور قومی ٹیم کے کپتان کیلین ایمباپے نے ایک سے زائد بار عالمی کپ کا ‘گولڈن بوٹ’ ایوارڈ حاصل کرنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بن کر فٹ بال کی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھوا دیا ہے۔ کیلین ایمباپے فٹ بال ورلڈ کپ کی تاریخ کے وہ پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں جنہوں نے دو مختلف ٹورنامنٹس میں سب سے زیادہ گول اسکور کرنے کا مقتدر اعزاز اپنے نام کیا ہے۔

چینی خبر رساں ادارے ‘شنہوا’ کے مطابق، 23 ویں فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں اسپین کے ہاتھوں ارجنٹائن کی 1-0 سے شکست کے بعد کیلین ایمباپے کی یہ تاریخی کامیابی باضابطہ طور پر سامنے آئی، کیونکہ فائنل معرکے میں ارجنٹائن کے اسٹار کھلاڑی لیونل میسی کوئی گول اسکور نہ کر سکے۔ چار سال قبل قطر میں کھیلے گئے ورلڈ کپ میں 8 گولز کے ساتھ یہ مقتدر اعزاز جیتنے والے کیلین ایمباپے نے اس بار امریکی سرزمین پر کھیلے گئے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے اکیلے 10 گول داغے اور مزید 4 گول کرنے میں اپنے ساتھی کھلاڑیوں کی معاونت کی۔ فرانس کی ٹیم اس میگا ایونٹ میں چوتھی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

دوسری جانب، ارجنٹائن کے مقتدر کپتان لیونل میسی کا اس ورلڈ کپ میں سفر 8 گول اور 4 گول اسسٹ کے ساتھ ختم ہوا۔ اگرچہ ارجنٹائن کو فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن 39 سالہ لیونل میسی اب بھی عالمی کپ کے بہترین کھلاڑی کو دیے جانے والے ‘گولڈن بال’ ایوارڈ کی دوڑ میں سب سے اہم نام سمجھے جا رہے ہیں۔ لیونل میسی پہلے ہی فٹ بال کی تاریخ میں 1978ء سے شروع ہونے والے اس مقتدر گولڈن بال ایوارڈ کو ایک سے زائد بار جیتنے والے دنیا کے واحد کھلاڑی ہیں اور اس بار بھی وہ اس اعزاز کو حاصل کرنے کے مضبوط امیدوار ہیں۔

اسپین نے ارجنٹائن کو 1-0 سے شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ 2026ء کا عالمی ٹائٹل جیت لیا

محمود احمد, JULY 20,2026

نیویارک/ایسٹ ردرفورڈ (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

اسپین کی قومی فٹ بال ٹیم نے فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے سنسنی خیز اور تزویراتی فائنل معرکے میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کو 1-0 سے شکست دے کر تاریخ کا ایک اور مقتدر عالمی اعزاز اپنے نام کر لیا ہے. امریکہ کی ریاست نیو جرسی کے تاریخی میٹ لائف اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میچ میں ہسپانوی ٹیم نے کھیل کے پہلے منٹ سے لے کر اختتامی سیٹی بجنے تک میچ پر اپنا مکمل کنٹرول برقرار رکھا اور شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا.

ورلڈ کپ کے اس تاریخی فائنل میں اسپین نے اپنی روایتی اور منظم حکمتِ عملی کے تحت میچ کے آغاز سے ہی ارجنٹائن پر شدید دباؤ بنائے رکھا. اسپین کی ٹیم پورے میچ میں مسلسل اور جارحانہ حملے کرتی رہی، تاہم ارجنٹائن کے گول کیپر نے انتہائی شاندار اور غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسپین کے کئی یقینی گولز کو ناکام بنایا اور ارجنٹائن کو بڑے نقصان سے بچائے رکھا. دوسری جانب، دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کی ٹیم فائنل کے اس اہم ترین معرکے میں اپنی وہ روایتی اور مقتدر فارم نہ دکھا سکی جس کے لیے وہ دنیا بھر میں جانی جاتی ہے اور ہسپانوی اٹیک کے سامنے بے بس نظر آئی.

میچ کے پہلے ہاف میں ارجنٹائن کے گول کیپر کے بہترین دفاع کی بدولت مقابلہ بغیر کسی گول کے برابر رہا، تاہم دوسرے ہاف میں اسپین نے شاندار اور مربوط کمبینیشن پلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے بالاآخر ارجنٹائن کے دفاع کو توڑ ہی دیا اور فیصلہ کن گول اسکور کر دیا، جو میچ کے آخر تک فاتح گول ثابت ہوا. ارجنٹائن کی ٹیم نے آخری لمحات میں میچ برابر کرنے کی کوشش ضرور کی لیکن اسپین کے مضبوط دفاع نے ان کا کوئی بھی تادیبی حربہ چلنے نہ دیا. شاندار فتح کا مقتدر سائرن بجتے ہی اسپین کے کھلاڑی اور مداح جشن میں ڈوب گئے.

فیفا کی جانب سے مقررہ مروجہ انعامی رقم کے مطابق ورلڈ کپ 2026ء کی فاتح ٹیم اسپین کو 5 کروڑ امریکی ڈالر جبکہ رنر اپ رہنے والی ارجنٹائن کی ٹیم کو 3 کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالر کی بھاری انعامی رقم دی جائے گی. اسی طرح تیسری پوزیشن حاصل کرنے پر انگلینڈ کو 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر اور چوتھی پوزیشن پر فرانس کو 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے انعامات دیے جائیں گے. اس عالمی تاریخی فتح کے بعد اسپین نے ایک بار پھر دنیا کی بہترین فٹ بال ٹیم ہونے کا مقتدر تاج سر پر سجا لیا ہے، جبکہ ارجنٹائن کا مسلسل دوسری بار عالمی چیمپئن بننے کا تزویراتی خواب ادھورا رہ گیا.

ہاکی فیڈریشن کی سلیکشن کمیٹی ختم کرنے کی خبروں کی تردید؛ کھلاڑیوں کے انتخاب کا حتمی اختیار بدستور کمیٹی کے پاس رہے گا

محمود احمد, JULY 19,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان تمام خبروں اور افواہوں کی سختی سے تردید کر دی ہے جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ فیڈریشن نے موجودہ سلیکشن کمیٹی کو تحلیل کر کے تمام اختیارات غیر ملکی یا مقامی کوچز کے سپرد کر دیے ہیں۔ پی ایچ ایف کے آفیشل اعلامیے کے مطابق، موجودہ سلیکشن کمیٹی مکمل طور پر بااختیار ہے اور میرٹ کی بنیاد پر اپنے فرائض انجام دیتی رہے گی۔ ترجمان پی ایچ ایف نے واضح کیا کہ صدر محی الدین احمد وانی کی مقتدر کاوشوں سے بین الاقوامی کوچنگ پینل اس وقت پاکستان میں موجود ہے، جو جدید جی پی ایس سسٹم کے ذریعے کھلاڑیوں کی فٹنس اور کارکردگی کا تفصیلی و تزویراتی جائزہ لے رہا ہے۔

اعلامیے کے مطابق، اس بین الاقوامی کوچنگ پینل کی جانب سے تیار کی جانے والی تمام ڈیجیٹل اور تکنیکی رپورٹس باقاعدگی سے سلیکشن کمیٹی کو فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ کھلاڑیوں کے انتخاب کے عمل کو مزید شفاف، غیر جانبدار اور مؤثر بنایا جا سکے۔ ہاکی لیجنڈز پر مشتمل یہ مقتدر سلیکشن کمیٹی ان سائنسی رپورٹس اور پروفیشنل ڈویلپمنٹ کمیٹی کی اہم سفارشات کی روشنی میں خالصتاً میرٹ پر قومی ٹیم کا انتخاب کرے گی، جبکہ ٹیم کا حتمی اعلان روایتی طور پر پاکستان ہاکی فیڈریشن کے آفیشل پلیٹ فارم سے ہی کیا جائے گا۔ فیڈریشن نے واضح کیا کہ سلیکشن کمیٹی کو ختم نہیں کیا گیا بلکہ سلیکشن کے مجموعی نظام کو جدید بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا گیا ہے۔

پی ایچ ایف کی انتظامیہ نے تادیبی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ اس تزویراتی اقدام کا مقصد سلیکشن کمیٹی کو کمزور کرنا یا سائیڈ لائن کرنا نہیں بلکہ اسے ڈیٹا کی مدد سے مزید مضبوط، مؤثر اور فعال بنانا ہے۔ ترجمان نے پریس ریلیز میں مزید دہرایا کہ بین الاقوامی کوچز کو کھلاڑیوں کے انتخاب کا کوئی تنہا یا مکمل اختیار نہیں دیا جا رہا۔ ان کا کردار صرف اور صرف سلیکشن کمیٹی کو تکنیکی معاونت، ڈیٹا اور مشاورت فراہم کرنے تک محدود رہے گا، جبکہ قومی ہاکی ٹیم کے حتمی انتخاب کا آخری اور قانونی اختیار بدستور سلیکشن کمیٹی کے پاس ہی محفوظ رہے گا۔

ایمباپے کا تاریخی عالمی ریکارڈ؛ لیونل میسی کو پیچھے چھوڑ کر فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے

محمود احمد, JULY 19,2026

میامی (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے سنسنی خیز اختتامی مراحل میں فرانسیسی فٹ بال کے لیے جہاں شکست کی مایوسی سامنے آئی، وہاں انفرادی طور پر فٹ بال کی تاریخ کا سب سے بڑا اور مقتدر ریکارڈ بھی قائم ہو گیا ہے۔ فرانس کے بین الاقوامی شہرہ آفاق فٹ بالر اور کپتان کیلین ایمباپے نے ارجنٹائن کے مایہ ناز کپتان لیونل میسی کا 21 گولز کا عالمی ریکارڈ توڑ کر فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی کا اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔ تاہم، اس تزویراتی اور تاریخی موقع پر فرانس کو تیسری پوزیشن کے پلے آف میچ میں انگلینڈ کے ہاتھوں 4-6 سے عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘شنہوا’ کے مقتدر حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق، کیلین ایمباپے نے انگلینڈ کے خلاف اس سنسنی خیز اور ہائی اسکورنگ مقابلے میں 2 شاندار گول داغ کر ورلڈ کپ مقابلوں میں اپنے مجموعی گولز کی تعداد 22 کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ رواں ٹورنامنٹ میں 10 گولز کے ساتھ گولڈن بوٹ کی ریس میں بھی لیونل میسی پر 2 گولز کی برتری حاصل کر کے سب سے آگے نکل گئے ہیں، جو ان کے دنیا کا سب سے مہلک اور بہترین سٹرائیکر ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسی یادگار میچ میں فرانس کے مائیکل اولیسے نے بھی 2 گولز میں معاونت فراہم کر کے ورلڈ کپ کی تاریخ کا ایک نیا منفرد ریکارڈ قائم کیا ہے۔ وہ اب ایک ہی ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ 7 گولز اسسٹ کرنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں، جنہوں نے برازیل کے لیجنڈری فٹ بالر پیلے کا ایک ورلڈ کپ میں 6 گولز اسسٹ کرنے کا دیرینہ عالمی ریکارڈ بھی پاش پاش کر دیا ہے۔

کیلین ایمباپے اور مائیکل اولیسے کی ان شاندار انفرادی اور تاریخی کامیابیوں کے باوجود فرانسیسی دفاعی لائن انگلینڈ کے مضبوط اور تتابعی حملوں کو روکنے میں ناکام رہی، جس کے باعث فرانسیسی ٹیم نے چوتھی پوزیشن پر ٹورنامنٹ کا اختتام کیا۔ عالمی فٹ بال کے مقتدر مبصرین اور ماہرین کا ماننا ہے کہ کیلین ایمباپے نے جس شاندار تسلسل اور شدید ذہنی دباؤ کے باوجود دنیا کے اس سب سے بڑے اسٹیج پر پرفارم کیا، اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ موجودہ دور کے سب سے سحر انگیز اور ناقابلِ شکست کھلاڑی ہیں جن کے قدموں تلے اب فٹ بال کی پوری تاریخ آچکی ہے۔ فرانس کی چوتھی پوزیشن پر ٹورنامنٹ ختم کرنے کی مایوسی کے باوجود ایمباپے کی یہ تاریخی انفرادی کامیابی فٹ بال شائقین کے دلوں پر ہمیشہ نقش رہے گی۔

فیفا ورلڈ کپ 2026ء؛ فاتح ٹیم کے لیے تاریخ کی سب سے بڑی 5 کروڑ ڈالر کی انعامی رقم مقرر، فائنل میں اسپین اور ارجنٹینا کا مقتدر ٹکراؤ

محمود احمد, JULY 19,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں کھیلے جا رہے تاریخ کے سب سے بڑے فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے اختتامی مراحل میں انعامی رقوم کی مقتدر تزویراتی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں. فیفا کی جانب سے دسمبر 2025ء میں کیے گئے اعلان کے مطابق، 48 ٹیموں پر مشتمل اس میگا ایونٹ کے لیے مجموعی انعامی فنڈ ریکارڈ 65 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر رکھا گیا ہے، جو تمام شریک ٹیموں میں ان کی پوزیشن اور کارکردگی کے مطابق تقسیم کیا جا رہا ہے. ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم کو تاریخ کی سب سے بڑی انعامی رقم یعنی 5 کروڑ ڈالر ملیں گے، جبکہ رنر اپ ٹیم کو 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر دیے جائیں گے. یہ خطیر رقم فیفا کی بڑھتی ہوئی مالی استعداد اور فٹ بال کی عالمی مقبولیت کی عکاسی کرتی ہے.

ٹورنامنٹ میں تیسری پوزیشن کے لیے کھیلے گئے ایک سنسنی خیز میچ میں انگلینڈ نے فرانس کو 4-6 سے شکست دے کر میدان مار لیا ہے. اس اہم کامیابی کے ساتھ ہی انگلینڈ کی ٹیم کو 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی خطیر انعامی رقم ملے گی، جبکہ چوتھی پوزیشن پر آنے والی فرانسیسی ٹیم کو 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر فراہم کیے جائیں گے. اب اس تاریخی عالمی کپ میں صرف فائنل کا مقتدر معرکہ باقی رہ گیا ہے، جہاں یورپین جائنٹ اسپین اور دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کی مضبوط ٹیمیں ٹرافی کے حصول کے لیے آمنے سامنے ہوں گی. واضح رہے کہ 2022ء کے ورلڈ کپ میں چیمپئن ارجنٹینا کو 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالر اور 2018ء میں فرانس کو 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ملے تھے.

فیفا کی جاری کردہ آفیشل تفصیلات کے مطابق، ٹورنامنٹ کے مختلف مراحل میں آؤٹ ہونے والی ٹیموں کے لیے بھی مقتدر انعامات رکھے گئے ہیں۔ کوارٹر فائنل تک رسائی پانے والی چار ٹیموں (ناروے، بیلجیئم، مراکش اور سوئٹزرلینڈ) کو فی ٹیم ایک کروڑ 90 لاکھ ڈالر دیے جائیں گے۔ 9ویں سے 16ویں نمبر پر رہنے والی ٹیموں بشمول میکسیکو، کولمبیا، برازیل، امریکا، پرتگال، کینیڈا، مصر اور پیراگوئے کو ایک کروڑ 50 لاکھ ڈالر فی ٹیم ملیں گے۔ مزید برآں، 17ویں سے 32ویں پوزیشن کی ٹیموں کو ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالر جبکہ 33ویں سے 48ویں نمبر پر آنے والی ٹیموں کو 90 لاکھ ڈالر انعام دیا جائے گا۔ فیفا نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایونٹ میں شامل ہر ٹیم کو تیاریوں کے اخراجات کے لیے آغاز میں ہی اضافی 15 لاکھ ڈالر فراہم کر دیے گئے تھے۔

قومی ہاکی ٹیم کے ورلڈ کپ اسکواڈ کا انتخاب اب غیر ملکی کوچز کریں گے، پاکستان ہاکی فیڈریشن کا بڑا فیصلہ

منصور احمد, JULY 14,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے ہاکی ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں ایک انتہائی مقتدر اور تزویراتی فیصلہ کرتے ہوئے قومی ٹیم کے ورلڈ کپ اسکواڈ کے حتمی انتخاب کا تمام تر اختیار غیر ملکی کوچز کے سپرد کر دیا ہے۔ فیڈریشن نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ورلڈ کپ جیسے بڑے اور معتبر عالمی ایونٹ کے لیے کھلاڑیوں کی فٹنس پر کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق، غیر ملکی کوچز تربیتی کیمپ میں شریک تمام کھلاڑیوں کے سخت اور جدید فٹنس ٹیسٹ مکمل کرنے کے بعد ایک جامع تکنیکی رپورٹ مرتب کریں گے، اور اسی رپورٹ کی بنیاد پر موزوں ترین ورلڈ کپ اسکواڈ کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے مقتدر حکام کا مؤقف ہے کہ صرف وہی کھلاڑی قومی اسکواڈ کا حصہ بن پائیں گے جو مکمل طور پر فٹ ہوں گے اور غیر ملکی کوچز کے مقرر کردہ مطلوبہ جسمانی و تکنیکی معیار پر سو فیصد پورا اتریں گے۔

اس وقت اسلام آباد میں قومی ہاکی ٹیم کا اہم تربیتی کیمپ کامیابی سے جاری ہے، جہاں غیر ملکی کوچز روزانہ کی بنیاد پر دو سخت ترین سیشنز میں کھلاڑیوں کی فٹنس، تکنیک اور جسمانی استعداد کار کا تفصیلی اور مقتدر جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ورلڈ کپ کے لیے ایک ناقابلِ شکست الیون تیار کی جا سکے۔

وی اے آر کا متنازع استعمال اور جانبداری کے الزامات: فیفا ورلڈ کپ میں ریفرینگ پر بحران شدت اختیار کر گیا، سابق ریفری کرسٹینا انکل کے تحفظات

محمود احمد, JULY 14,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

فیفا ورلڈ کپ میں ریفری کے متنازع فیصلوں اور ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (وی اے آر) کے غیر متوقع استعمال پر جاری عالمی تنازع نے ایک نیا تزویراتی موڑ اختیار کر لیا ہے، جہاں سابق نامور فیفا ریفری کرسٹینا انکل نے نئے ریفرینگ پروٹوکول پر اپنے گہرے اور مقتدر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔ ارجنٹائن کی سیمی فائنل تک رسائی کے سفر کے دوران مختلف میچز میں ریفرینگ کے فیصلوں پر حریف ٹیموں اور ان کے مینیجرز نے شدید ترین اعتراضات اٹھائے ہیں، جس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ تاثر بھی تیزی سے گردش کر رہا ہے کہ ٹورنامنٹ میں لیونل میسی کی ٹیم (ارجنٹائن) کو منظم طریقے سے فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔

موقر تفصیلات کے مطابق، کوارٹر فائنل کے ایک انتہائی اہم اور سنسنی خیز مقابلے میں سوئٹزرلینڈ کے مقتدر فارورڈ بریل ایمبولو کو مبینہ ڈائیونگ کی پاداش میں دوسرا پیلا کارڈ (یلو کارڈ) دکھا کر میدان سے باہر بھیجنے کے متنازع ترین فیصلے نے دنیا بھر کے ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ سوئس کوچ مرات یاکین نے اس فیصلے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر ‘ناقابلِ قبول’ قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے سابق ریفری کرسٹینا انکل نے واضح کیا کہ نئے وی اے آر پروٹوکول کے تحت فیلڈ ریفری کے بنیادی اور تزویراتی فیصلے تک تبدیل کیے جا رہے ہیں، جو کہ وی اے آر ٹیکنالوجی کے اصل مقصد اور حقیقی روح سے صریحاً انحراف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس انتہائی پیچیدہ نظام کو مکمل اور جامع آزمائش (ٹرائل) کے بغیر ورلڈ کپ جیسے بڑے اسٹیج پر نافذ کرنے کی وجہ سے شائقینِ فٹ بال اور تجزیہ کاروں کے شکوک و شبہات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب، فیفا کے اعلیٰ حکام نے جانبداری اور ارجنٹائن کی حمایت کے تمام تر الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنے مقتدر ریفری سربراہ پیئرلوئیجی کولینا کے سابقہ پالیسی بیان کا حوالہ دیا ہے جس میں فیصلوں کی شفافیت پر زور دیا گیا تھا۔ کرسٹینا انکل کا ماننا ہے کہ اگرچہ ٹورنامنٹ کے بیشتر فیصلے تکنیکی طور پر درست محسوس ہوئے، تاہم حالیہ پے در پے تنازعات اور مختلف کھلاڑیوں کے خلاف اپنائی گئی متضاد سزاؤں کی روش نے فیفا کے پورے امپائرنگ نظام پر شائقین کا اعتماد بری طرح متاثر کیا ہے۔

فیفا ورلڈ کپ میں تاریخ رقم، پہلی بار سیمی فائنل میں دنیا کی چار ٹاپ رینکنگ ٹیمیں آمنے سامنے

محمود احمد, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

فیفا ورلڈ کپ 2026 اپنے فیصلہ کن اور سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں پہلی مرتبہ عالمی فٹبال کی تاریخ میں سیمی فائنل کے مقابلے دنیا کی ان چار اعلیٰ ترین رینکنگ ٹیموں کے درمیان کھیلے جائیں گے جو فیفا کی آفیشل سائیڈ پر ہائیسٹ رینکنگ پر براجمان ہیں۔ اس مقتدر اور تاریخی مرحلے نے عالمی فٹبال شائقین کے دلوں کی دھڑکنیں تیز کر دی ہیں اور ماہرینِ کھیل کی جانب سے اسے ورلڈ کپ کی تاریخ کا مضبوط ترین اور ہائی پروفائل سیمی فائنل راؤنڈ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں روایتی حریف فائنل میں جگہ بنانے کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیں گے۔

موقر تزویراتی شیڈول کے مطابق، سیمی فائنل کے پہلے معرکے میں سابق عالمی چیمپئن فرانس کا روایتی سامنا اسپین سے ہوگا، جبکہ دوسرے سیمی فائنل میں دفاعی چیمپئن ارجنٹینا اور مقتدر انگلینڈ کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔ یہ چاروں ٹیمیں فیفا کی عالمی درجہ بندی میں سرفہرست ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی اور تکنیکی برتری کا مظاہرہ کرتے ہوئے آخری چار میں اپنی جگہ پکی کی ہے۔ فرانس نے اپنے مضبوط دفاع، برق رفتار حملوں اور بہترین اجتماعی کھیل کی بدولت حریفوں کو پے در پے شکست دی، جبکہ اسپین نے روایتی شارٹ پاسنگ (ٹیکی ٹاکا)، گیند پر مکمل کنٹرول اور جارحانہ تزویراتی انداز سے ہر مرحلے پر اپنی برتری ثابت کی ہے۔

دوسری جانب، ارجنٹینا نے کوارٹر فائنل کے انتہائی اہم مقابلے میں سوئٹزرلینڈ کو 3-1 سے عبرتناک شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی، جبکہ انگلینڈ نے اعصاب شکن مقابلے کے بعد ناروے کو 2-1 سے ہرا کر آخری چار ٹیموں میں اپنی نشست یقینی بنائی۔ فٹبال تجزیہ کاروں کے مطابق، فیفا رینکنگ کی ان چاروں بڑی طاقتوں کے سیمی فائنل تک پہنچنے سے اس بار عالمی ٹائٹل کی دوڑ غیر معمولی حد تک سخت اور دلچسپ ہو گئی ہے، کیونکہ ہر ٹیم کے پاس تجربہ کار اسٹار کھلاڑی، مضبوط بینچ اسٹرینتھ اور اعلیٰ معیار کی تکنیکی حکمت عملی موجود ہے، جس کے باعث فائنل سے قبل کسی بھی ایک ٹیم کو واضح فیورٹ قرار دینا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ یہ سیمی فائنل صرف چار ٹیموں کا مقابلہ نہیں بلکہ دنیا کے بہترین فٹبال فلسفوں اور جدید کھیل کی مہارت کا امتحان ہوگا، جس کے بعد جیتنے والی دو مقتدر ٹیمیں گرینڈ فائنل میں مدمقابل آئیں گی، جہاں دنیا کے نئے عالمی چیمپئن کا فیصلہ ہوگا۔

فیفا ورلڈ کپ: سوئس دیوار پاش پاش، دفاعی چیمپئن ارجنٹینا نے سوئٹزرلینڈ کو اعصاب شکن مقابلے کے بعد ہرا کر سیمی فائنل کا ٹکٹ کٹا لیا

محمود احمد, JULY 12,2026

کینساس سٹی (نیوز اینڈ نیوز) — 12 جولائی 2026ء

دفاعی عالمی چیمپئن ارجنٹینا نے فٹ بال ورلڈ کپ 2026 کے ایک انتہائی سنسنی خیز، اعصاب شکن اور ڈرامائی کوارٹر فائنل مقابلے میں سخت مزاحمت کرنے والی سوئٹزرلینڈ کی ٹیم کو اضافی وقت میں 1-3 سے شکست دے کر مسلسل دوسری مرتبہ فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں رسائی حاصل کر لی ہے۔ کینساس سٹی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس ہائی وولٹیج مقتدر مقابلے میں مقررہ 90 منٹ تک دونوں ٹیمیں 1-1 سے برابر رہیں، تاہم سوئس اسٹرائیکر کو ملنے والے ریڈ کارڈ اور اضافی وقت میں ارجنٹائن کے شاندار حملوں نے میچ کا پاسا پلٹ دیا۔ سیمی فائنل میں اب ارجنٹینا کا تزویراتی ٹکراؤ روایتی حریف انگلینڈ سے ہوگا، جبکہ پہلے سیمی فائنل میں فرانس اور اسپین کی مقتدر ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔

پہلا ہاف: الیکسس میک ایلسٹر کا شاندار آغاز میچ کا آغاز ہوتے ہی دفاعی چیمپئن ارجنٹینا نے اپنے روایتی تزویراتی انداز میں جارحانہ کھیل پیش کیا۔ میچ کے محض 10ویں منٹ میں ارجنٹائن کے کپتان اور لیجنڈ فٹ بالر لیونل میسی نے ایک بہترین کارنر کک لی، جس پر الیکسس میک ایلسٹر نے ہوا میں اچھلتے ہوئے شاندار ہیڈر کے ذریعے گیند کو سوئس جال کی راہ دکھا کر اپنی ٹیم کو 0-1 کی مقتدر برتری دلا دی۔ اس ابتدائی دھچکے کے بعد بھی ارجنٹائن نے دباؤ برقرار رکھا، تاہم سوئٹزرلینڈ کے مقتدر گول کیپر گریگور کوبل چٹان بن گئے اور انہوں نے ارجنٹائن کے کئی یقینی گولز کے حملوں کو ناکام بنا کر پہلے ہاف میں اسکور مزید بڑھنے نہ دیا۔

دوسرا ہاف: سوئٹزرلینڈ کا کم بیک اور کارڈز کی برسات دوسرے ہاف میں سوئس ٹیم نے حکمتِ عملی تبدیل کی اور ارجنٹائن کے دفاع پر جوابی حملے شروع کیے۔ میچ کے 67ویں منٹ میں ریکارڈو روڈریگیز کے ایک پکے ہوئے پاس پر ڈین نڈوئے نے کوئی غلطی نہ کی اور گیند کو گول پوسٹ میں ڈال کر مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا۔ اس گول کے بعد کھیل میں تپش بڑھ گئی اور دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان میدان میں شدید جسمانی ٹکراؤ دیکھنے کو ملا۔ ریفری کو کھیل پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے متعدد مرتبہ کارڈز کا استعمال کرنا پڑا۔ میچ کے دوران سخت ٹیکلز اور فاؤلز پر ارجنٹائن اور سوئٹزرلینڈ کے متعدد کھلاڑیوں کو تادیبی کارروائی کے طور پر ییلو کارڈز (انتباہی کارڈ) دکھائے گئے۔

میچ کا سب سے متنازع لمحہ: بریل ایمبولو کا اخراج میچ کا سب سے بڑا تزویراتی موڑ اس وقت آیا جب سوئٹزرلینڈ کے اسٹار اسٹرائیکر بریل ایمبولو کو ڈیفنس ایریا میں ڈائیونگ کرنے پر ریفری نے دوسرا ییلو کارڈ دکھا دیا۔ چونکہ انہیں میچ میں پہلے بھی ایک ییلو کارڈ مل چکا تھا، اس لیے دوسرے ییلو کارڈ کے فوری بعد ریفری نے انہیں ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا۔ وی اے آر کے جائزے کے بعد بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا گیا، جس پر سوئس کھلاڑیوں اور ان کے ہیڈ کوچ نے شدید مقتدر احتجاج کیا۔ اس ریڈ کارڈ کے باعث سوئٹزرلینڈ کی ٹیم میچ کے نازک ترین موڑ پر صرف 10 کھلاڑیوں تک محدود ہو گئی اور یہی چیز ان کی شکست کی سب سے بڑی وجہ بنی۔

اضافی وقت: جولیان الواریز اور لاوتارو مارٹینیز کا فیصلہ کن وار مقررہ 90 منٹ تک اسکور 1-1 رہنے کے بعد میچ اضافی وقت میں داخل ہوا۔ ایک کھلاڑی کی برتری کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ارجنٹینا نے تزویراتی حملے تیز کیے۔ میچ کے 112ویں منٹ میں جولیان الواریز نے ڈی باکس کے باہر سے ایک ناقابلِ یقین لانگ رینج شاٹ مارا، جو سوئس گول کیپر گریگور کوبل کو چھکاتے ہوئے سیدھا نیٹ میں جا گھسا اور ارجنٹینا کو 1-2 کی برتری مل گئی۔ سوئٹزرلینڈ نے 10 کھلاڑیوں کے باوجود آخری لمحات میں برابری کے لیے پورا زور لگا دیا، لیکن میچ کے بالکل آخری لمحات (120+ منٹ) میں لاوتارو مارٹینیز نے ایک شاندار کاؤنٹر اٹیک پر ارجنٹائن کی جانب سے تیسرا گول اسکور کر کے سوئٹزرلینڈ کا عالمی کپ کا سفر تمام کر دیا اور ارجنٹینا کی 1-3 سے فتح پر مہر ثبت کر دی۔

فیفا ورلڈ کپ: انگلینڈ نے ناروے کا خواب چکنا چور کر دیا، جوڈ بیلنگھم کے دو شاندار گولز کی بدولت سیمی فائنل میں رسائی

محمود احمد, JULY 12,2026

میامی (نیوز اینڈ نیوز) — 12 جولائی 2026ء

فٹ بال کے سب سے بڑے تزویراتی میلے، 23ویں فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ایک انتہائی سنسنی خیز اور اعصاب شکن کوارٹر فائنل مقابلے میں انگلینڈ نے ناروے کو اضافی وقت میں 1-2 سے شکست دے کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ میامی کے مقتدر ہارڈ راک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس تاریخی میچ میں انگلش ٹیم کی فتح کے حقیقی ہیرو اسٹار مڈفیلڈر جوڈ بیلنگھم رہے، جنہوں نے اپنے شاندار کھیل اور دو یادگار گولز کی بدولت ٹیم کی کشتی کو پار لگایا۔

میچ کا آغاز دونوں ٹیموں کی جانب سے جارحانہ انداز میں ہوا، تاہم ناروے نے تزویراتی برتری حاصل کرتے ہوئے 36ویں منٹ میں آندریاس شیلڈروپ کے ایک خوبصورت گول کی بدولت 0-1 کی برتری حاصل کر کے اسٹیڈیم میں موجود انگلش مداحوں کو سکتے میں ڈال دیا۔ اس دباؤ کے باوجود انگلینڈ نے ہمت نہ ہاری اور اپنے حملے تیز کر دیے۔ پہلے ہاف کے اضافی وقت میں جوڈ بیلنگھم نے حریف ٹیم کے دفاع کو توڑتے ہوئے ایک شاندار گول داغ کر مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا۔ دوسرے ہاف میں دونوں مقتدر ٹیموں نے برتری حاصل کرنے کے لیے کئی خطرناک مووز بنائیں، لیکن دونوں جانب کا دفاع مضبوط ثابت ہوا اور مقررہ وقت تک اسکور 1-1 رہا، جس کے باعث میچ اضافی وقت میں داخل ہوگیا۔

اضافی وقت کے آغاز میں ہی، یعنی 93ویں منٹ میں، جوڈ بیلنگھم نے ایک مرتبہ پھر اپنی عالمی کلاس کا مظاہرہ کیا اور حریف گول کیپر کو چکمہ دیتے ہوئے گیند کو جال کی راہ دکھا کر انگلینڈ کو 1-2 کی فیصلہ کن برتری دلا دی۔ ناروے کی جانب سے دنیا کے بہترین اسٹرائیکرز میں شمار ہونے والے ارلنگ ہالینڈ پورے میچ میں انگلش دفاع کے لیے خطرہ بنے رہے، تاہم انگلینڈ کے تزویراتی بیک لائن نے انہیں گول کرنے کا کوئی واضح موقع نہ دیا۔ میچ کے آخری لمحات میں ناروے کا ایک ممکنہ گول بھی ہوا، لیکن وی اے آر کی مداخلت کے بعد اسے فاؤل قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔ اس فتح کے بعد اب سیمی فائنل میں انگلینڈ کا روایتی حریف ارجنٹینا سے بڑا تزویراتی ٹکراؤ ہوگا، جس پر دنیا بھر کے فٹ بال شائقین کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔