مودی سرکار کی نفرت انگیز سیاست کے خلاف نوجوان باغی، ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ بھارتی نوجوانوں کی حقیقی آواز بن گئی، ہندو مسلم بیانیے کے بجائے تعلیم اور روزگار دینے کا مطالبہ، تحریک تیز کرنے کا اعلان

منصور احمد june 09,2026

نئی دہلی(نیوز اینڈ نیوز) — 09 جون 2026ء

بھارت میں مودی سرکار کی عوام دشمن تعلیمی و معاشی پالیسیوں کے خلاف نوجوانوں کی ایک منفرد اور بڑی احتجاجی تحریک کے طور پر ابھرنے والی ”کاکروچ جنتا پارٹی“ (سی جے پی) نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی پالیسیوں پر سخت اور تیکھی تنقید کرتے ہوئے دوٹوک مطالبہ کیا ہے کہ ملک کی سیاست کو مذہبی منافرت اور تقسیم کے بجائے خالصتاً تعلیم، روزگار کی فراہمی اور نوجوانوں کے حقیقی مسائل پر مرکوز کیا جائے، نئی دہلی اور بھارتی میڈیا کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مودی سرکار کو کڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے بھارتی سیاست کو جان بوجھ کر صرف ہندو مسلم کے زہریلے بیانیے تک محدود رکھا گیا ہے، تاکہ عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا سکے، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس نفرت انگیز سیاست کے باعث نوجوانوں کو درپیش بڑھتی ہوئی بے روزگاری، تعلیمی نظام کے سنگین مسائل اور روزگار کے مواقع کی بدترین کمی جیسے سب سے بنیادی اور اہم مسائل پسِ منظر میں چلے گئے ہیں، ابھیجیت دیپکے کا کہنا تھا کہ بھارت کی نئی اور باشعور نوجوان نسل اب مودی سرکار کے کھوکھلے نعروں کے بجائے اپنے مستقبل، تعلیم کی بہتری اور معقول ملازمتوں کے حوالے سے عملی و فوری اقدامات چاہتی ہے، انہوں نے مودی حکومت کو خبردار کیا کہ اگر تعلیمی نظام میں فوری اصلاحات نہ کی گئیں اور نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم نہ کیے گئے تو ملک بھر میں جاری احتجاجی سرگرمیوں کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے جس کی تمام تر ذمہ داری کٹھ پتلی سرکار پر عائد ہوگی، کاکروچ جنتا پارٹی کے مرکزی ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی وزیر تعلیم کے فوری استعفے کے اپنے اصولی مطالبے کے ساتھ ساتھ ملکی تعلیمی نظام میں انقلابی اصلاحات اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے بہت جلد ایک جامع اور تاریخی قومی ایجنڈا بھی عوام کے سامنے پیش کرے گی، واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں بھارت کے طول و عرض میں امتحانی پرچوں کے آؤٹ ہونے، پیپرز لیک اسکینڈلز اور نتائج میں بڑے پیمانے پر ہونے والے کرپشن و تنازعات کے بعد بھارت کے مختلف بڑے شہروں میں طلبہ اور نوجوانوں کی جانب سے مودی سرکار کے خلاف احتجاجی مظاہروں اور غصے میں روزبروز ہولناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، نئی دہلی کے سیاسی مبصرین کے مطابق نوجوانوں کے ان سلگتے ہوئے مسائل اور روزگار سے متعلق سخت مطالبات نے اس وقت بھارتی سیاست کے ایوانوں میں ایک نیا زلزلہ برپا کر دیا ہے اور مودی سرکار دفاعی پوزیشن پر آ گئی ہے، جبکہ دوسری جانب ملک کی مختلف سیاسی جماعتیں بھی اب انتخابی میدان میں نوجوان ووٹرز کے اس بڑھتے ہوئے انقلابی کردار کو انتہائی اہم قرار دینے پر مجبور ہو چکی ہیں، کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے اپنے فولادی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ نوجوانوں کی یہ تحریک ناصرف مودی کے فاشسٹ نظریات کا مقابلہ کرے گی بلکہ تعلیم، نظام میں مکمل شفافیت، میرٹ کی بحالی اور روزگار کے بہترین مواقع کے حصول کو ہی اپنی اس بڑی جدوجہد کا بنیادی محور بنائے رکھے گی۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی ہولناک رخ اختیار کر گئی، ایرانی کارروائی میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر تباہ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت ترین ردِعمل، واشنگٹن جواب دینے پر مجبور ہوگا، پائلٹس کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا

منصور احمد june 09,2026

واشنگٹن(نیوز اینڈ نیوز) — 09 جون 2026ء

آبنائے ہرمز کے انتہائی حساس سمندری علاقے میں امریکی اور ایرانی افواج کے مابین کشیدگی ایک نئے اور انتہائی ہولناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب پیش آنے والے حالیہ سنگین واقعے کے بعد اب امریکہ ایرانی جارحیت کا جواب دینے پر مجبور ہوگا، امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایرانی فورسز کی مبینہ کارروائی کے نتیجے میں امریکی فوج کا ایک جدید اور اربوں روپے مالیت کا اپاچی (Apache) گن شپ ہیلی کاپٹر مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، واشنگٹن اور امریکی میڈیا سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے جاری کردہ باضابطہ بیان میں بتایا کہ امریکی فوج کے اعلیٰ حکام نے انہیں گزشتہ شب پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کی تمام تفصیلات سے آگاہ کیا ہے، جس کے مطابق دورانِ گشت امریکی فوج کے ایک جدید ترین اپاچی گن شپ ہیلی کاپٹر کو سمندر میں نشانہ بنایا گیا، تاہم خوش قسمتی سے ہیلی کاپٹر میں سوار دونوں امریکی پائلٹس معجزانہ طور پر محفوظ رہے جنہیں جائے وقوعہ سے فوری طور پر بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے، امریکی صدر نے ایران کو کڑی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز جیسے بین الاقوامی اور حساس ترین علاقے میں امریکی فوجی اثاثوں کو براہِ راست نشانہ بنانا ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے اور امریکہ اس اشتعال انگیزی پر اب اپنی مرضی کے مطابق مناسب عسکری ردعمل دینے کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے، دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق خطے میں ۱۳ اپریل سے جاری بحری ناکہ بندی کے دوران امریکی نیوی کی جانب سے اب تک متعدد مشکوک بحری جہازوں کو روک کر ان کا رخ موڑا جا چکا ہے جبکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد لے جانے والے درجنوں دیگر جہازوں کو تصدیق کے بعد گزرنے کی باقاعدہ اجازت دی گئی ہے، امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اپاچی ہیلی کاپٹر کے اس حادثے کو پینٹاگون کی جانب سے ابتدائی طور پر ایک عام تکنیکی یا آپریشنل واقعہ قرار دینے کی کوشش کی جا رہی تھا، تاہم بعد ازاں خفیہ اداروں سے سامنے آنے والی نئی معلومات میں یہ سنسنی خیز دعویٰ کیا گیا کہ یہ ہیلی کاپٹر دراصل ایرانی فورسز کی بلااشتعال عسکری کارروائی کا نشانہ بنا تھا، نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر صحافیوں سے ہنگامی گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ واقعے میں کسی بھی امریکی فوجی اہلکار کی جان کو نقصان نہیں پہنچا، تاہم وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون اس تمام صورتحال کا انتہائی بغور جائزہ لے رہے ہیں، دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی سطح پر خام تیل کی ترسیل کی دنیا کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی اس نئی عسکری کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور پورے خطے کی سلامتی پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا ہوا، ایران کا اسرائیل پر بڑا اور اچانک میزائل حملہ، تل ابیب سمیت پورے اسرائیل میں فضائی حملوں کے سائرن بج اٹھے، بیروت پر اسرائیلی بمباری کے بعد پاسدارانِ انقلاب کا انتقام، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیتن یاہو کو فوری جوابی کارروائی سے روکنے کی ہدایت

کاشف عباسی ,june 08,2026

یروشلم / تہران(نیوز اینڈ نیوز) — 08 جون 2026ء

مشرقِ وسطیٰ میں اپریل کے مہینے میں ہونے والی عارضی جنگ بندی کے بعد ایران نے پہلی بار اسرائیل پر براہِ راست بڑا میزائل حملہ کر دیا ہے، جس کے بعد پورے اسرائیل میں خوف و ہراس پھیل گیا اور فضائی حملوں کے سائرن بج اٹھے جبکہ صیہونی دفاعی نظام کو فوری طور پر انتہائی ہائی الرٹ کر کے متحرک کر دیا گیا، یروشلم اور تہران سے موصول ہونے والی جنگی تفصیلات کے مطابق اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ ملک کے مختلف مقامات پر ایران کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی روکنے کے لیے ان کے فضائی دفاعی نظام نے ہنگامی کارروائی کی، یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب اسرائیل نے اسی روز بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتے ہوئے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ میں ایک مبینہ عسکری کمانڈ سینٹر کو شدید بمباری کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اس اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں دو معصوم افراد جاں بحق جبکہ بیس (۲۰) سے زائد زخمی ہوئے، دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس میزائل حملے کی باقاعدہ ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے ایک ”انتباہی کارروائی“ قرار دیا ہے اور سخت وارننگ جاری کی ہے کہ اگر اسرائیل نے دوبارہ کسی قسم کی عسکری جارحیت کی تو اس کا اگلا جواب اس سے کہیں زیادہ سخت اور وسیع پیمانے پر دیا جائے گا، اسی تناظر میں ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور واشنگٹن کے ساتھ اہم مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرنے والے محمد باقر قالیباف نے مودی سرکار کی طرح اسرائیل کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بیروت پر بزدلانہ حملے کے لیے امریکہ نے اسرائیل کو باقاعدہ ”گرین سگنل“ دیا تھا، جس کے بعد اب خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کو ایران کے لیے ”جائز اہداف“ قرار دیا جا سکتا ہے، اس سنگین صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر سخت زور دیا ہے کہ وہ ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں فی الحال کسی بھی قسم کی فوری جوابی عسکری کارروائی سے مکمل گریز کریں، صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین اس وقت ایک مستقل امن معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ موجودہ نازک صورتحال مزید خراب ہو، تاہم کشیدگی کے باعث امریکی سفارت خانے نے یروشلم میں موجود اپنے تمام سفارتی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو فوری طور پر محفوظ مقامات اور زیرِ زمین بنکرز میں رہنے کی سخت ہدایت جاری کر دی ہے، اسی دوران خطے میں امن کی بحالی کے لیے سرگرم پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ایک اہم اور ہنگامی ملاقات کی، جس میں خطے کی ابتر صورتحال اور جاری امن عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، سفارتی ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا ایک مخلصانہ اور خصوصی پیغام بھی ایرانی قیادت تک پہنچایا ہے، دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اپریل کی جنگ بندی کے باوجود ایران اور اسرائیل کے مابین یہ عسکری تصادم ایک بار پھر انتہائی خطرناک موڑ اختیار کر چکا ہے، جس کے تباہ کن اثرات ناصرف پورے مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور خام تیل کی قیمتوں پر بھی براہِ راست مرتب ہونے کا شدید خدشہ ہے۔

بھارت میں امتحانی پرچے لیک ہونے کے خلاف لاکھوں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے، طنزیہ آن لائن تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھیجیت دیپکے کا وزیر تعلیم کے استعفے تک ملک گیر احتجاج کا اعلان، تعلیمی نظام مفلوج

روزینہ اسماعیل.june 06,2026

دہلی(نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

بھارت میں امتحانی پرچوں کے پے در پے لیک ہونے کے سنگین واقعات کے خلاف ملک بھر میں طلبہ کی ایک بہت بڑی تعداد نے شدید احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایک منفرد طنزیہ آن لائن تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھیجیت دیپکے نے مودی سرکار کے وزیر تعلیم سے فوری استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے پورے ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک چلانے کی کھلی دھمکی دے دی ہے، دہلی اور بھارتی میڈیا سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق ابھیجیت دیپکے نے نئی دہلی کے سب سے معروف احتجاجی مقام ”جنتر منتر“ پر ہزاروں بپھرے ہوئے طلبہ کے ساتھ ایک بہت بڑا مظاہرہ کیا، جہاں وہ امتحانی پرچوں کے آؤٹ ہونے اور ملکی تعلیمی نظام میں موجود مبینہ خامیوں و کرپشن کے خلاف دہائیاں دے رہے تھے، انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے باقاعدہ اعلان کیا کہ اگر مرکزی وزیر تعلیم نے اپنے عہدے سے فوری طور پر استعفیٰ نہ دیا تو آئندہ چند دنوں میں بھارت کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں اس احتجاجی تحریک کا دائرہ وسیع کر دیا جائے گا، امریکہ میں زیرِ تعلیم اس تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک اب ہر اس بھارتی طالب علم کی حقیقی آواز بن چکی ہے جو موجودہ ناقص تعلیمی نظام کی وجہ سے شدید متاثر ہوا ہے، انہوں نے مودی حکومت پر سنگین الزام لگایا کہ سرکار نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت طویل عرصے سے ملک کے نوجوانوں کو دیگر فضول مسائل میں الجھا کر رکھا ہوا ہے جبکہ اصل اور بنیادی مسائل جیسے تعلیم کی بہتری اور روزگار کی فراہمی کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے، واضح رہے کہ بھارت میں حالیہ مہینوں کے دوران متعدد بڑے امتحانی اسکینڈلز اور چوریاں سامنے آئی ہیں، جن میں سب سے بڑے میڈیکل داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونے کے بعد ملک کے لاکھوں ہونہار طلبہ کو ذہنی اذیت سے گزرتے ہوئے دوبارہ امتحان دینا پڑا، اسی طرح بھارتی تعلیمی بورڈ (سی بی ایس ای) کے امتحانی نظام میں بھی شدید تکنیکی خرابیوں کے باعث نتائج میں غیر معمولی تاخیر اور دیگر مسائل نے طلبہ اور ان کے والدین میں شدید تشویش اور غصہ پیدا کیا، ان مسلسل افسوسناک واقعات کے بعد اس وقت پورے بھارت میں طلبہ اور والدین کے اندر حکومت کے خلاف شدید ناراضی اور غم و غصہ دیکھا جا رہا ہے اور مختلف شہروں میں مودی سرکار کی تعلیمی پالیسیوں پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، تعلیمی ماہرین کے مطابق بار بار ہونے والے ان امتحانی لیکس اور پیپرز کی چوری نے بھارت کے پورے تعلیمی نظام کی شفافیت، ساکھ اور انتظامی کارکردگی کا جنازہ نکال دیا ہے۔

خطے کی ابتر صورتحال میں پاکستان کا بڑا سفارتی مشن، وزیر داخلہ محسن نقوی تہران کے اہم ترین دورے پر روانہ، سپریم لیڈر کو ملکی عسکری قیادت کا خصوصی پیغام پہنچانے کا فیصلہ، امریکہ ایران مذاکرات پر اہم مشاورت

کاشف عباسی ,june 06,2026

لاہور(نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ایک مرتبہ پھر برادر اسلامی ملک ایران کے ہنگامی اور اہم ترین دورے پر روانہ ہونے کی مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں وہ ایرانی اعلٰی قیادت کو پاکستان کی اعلٰی ترین سیاسی و عسکری قیادت کا خصوصی اور انتہائی حساس پیغام پہنچائیں گے، لاہور اور اسلام آباد کے سرکاری اور سفارتی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ اپنے اس تزویراتی دورے کے دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایک اہم اور خصوصی پیغام دیں گے، تہران روانگی سے عین قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر ملکی اعلٰی حکومتی و عسکری شخصیات سے انتہائی اہم مشاورت کی، جس میں پاک ایران دوطرفہ تعلقات، خلیج کی حالیہ سنگین علاقائی صورتحال اور ایران و امریکہ کے درمیان پسِ پردہ جاری مذاکرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، ان اعلٰی سطح کی ملاقاتوں میں خطے کی موجودہ نازک صورتحال، مشترکہ سکیورٹی چیلنجز اور سفارتی روابط کو مزید مضبوط و فعال بنانے کے امور تفصیلی طور پر زیرِ غور آئے، ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے وزیر داخلہ کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کے حوالے سے کچھ خصوصی اور اہم ہدایات بھی دی ہیں، جو وہ تہران پہنچ کر وہاں کی متعلقہ اعلٰی قیادت تک پہنچائیں گے، واضح رہے کہ پاکستان اس وقت خطے میں سفارتی روابط کو بہتر بنانے، جنگی بادلوں کو چھانٹنے اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے اور ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مختلف شعبوں میں وسعت دینے اور اعلٰی سطحی روابط کو برقرار رکھنے پر مسلسل زور دیا جا رہا ہے، دفاعی و سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کے اعلٰی ترین دورے خطے میں جاری موجودہ کشیدگی کو کم کرنے، مسلم امہ میں سفارتکاری کو فروغ دینے اور اعتماد سازی کے عمل کو آگے بڑھانے میں انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

بھارت بوکھلاہٹ کا شکار، اقوام متحدہ میں جموں و کشمیر پر بھارتی نمائندے کے ریمارکس کا پاکستان کی طرف سے کرارا اور دوٹوک جواب، گل قیصر سروانی نے بھارتی مؤقف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کشمیر کو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع قرار دے دیا

محمود احمد june 06,2026

اقوام متحدہ، نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ پر جنرل اسمبلی کے اہم ترین مباحثے کے دوران بھارتی نمائندے کی ہٹ دھرمی اور بے بنیاد ریمارکس کے جواب میں پاکستان نے انتہائی سخت اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر اور علاقائی سلامتی سے متعلق اپنے تمام ٹھوس دلائل ایک بار پھر عالمی برادری کے سامنے پیش کر دیے ہیں، نیویارک سے موصول ہونے والی سرکاری دستاویزات کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے کونسلر اور پولیٹیکل کوآرڈینیٹر گل قیصر سرواَنی نے پاکستان کی طرف سے حاصل “حقِ جواب” کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے بھارتی مؤقف کو یکسر مسترد کیا اور کہا کہ بھارت ہمیشہ کی طرح اس بار بھی عالمی فورم پر حقائق کو مسخ کرنے اور دنیا کی توجہ اصل مظالم سے ہٹانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے، پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ کے تعارفی حصے کی حساس تیاری اور اسے تمام ملکوں کے اتفاقِ رائے سے منظور کرانے میں پاکستان کے مثبت اور مخلصانہ کردار کو عالمی سطح پر زبردست الفاظ میں سراہا گیا ہے، تاہم بھارتی نمائندے نے بوکھلاہٹ میں آ کر صرف ان اہم نکات پر منفی توجہ دی جو کشمیر تنازع سے متعلق سچے حقائق کو دنیا کے سامنے ظاہر کرتے ہیں، پاکستانی نمائندے نے سلامتی کونسل کے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس سرکاری رپورٹ میں واضح طور پر درج ہے کہ رپورٹنگ کے مخصوص عرصے میں بھارت پاکستان سوال سے متعلق بیس سے زائد اہم ترین مراسلات سلامتی کونسل کے سامنے باقاعدہ پیش کیے گئے، جبکہ ۵ مئی ۲۰۲۵ کو اسی اہم ایجنڈا آئٹم پر ایک خصوصی بند کمرہ مشاورت بھی منعقد کی گئی تاکہ خطے کی نازک صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے، گل قیصر سروانی نے کشمیر تنازع پر پاکستان کا سخت اور اصولی مؤقف دہراتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ دیرینہ تنازع ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر بدستور موجود ہے، اس لیے اسے کسی بھی طور پر بھارت کا کوئی ”اٹوٹ انگ“ قرار نہیں دیا جا سکتا، ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی پاس کردہ تاریخی قراردادوں کے تحت معصوم کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دینا عالمی برادری پر لازمی ہے، تاہم انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ آٹھ دہائیوں کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود ان مسلمہ قراردادوں پر اب تک عملدرآمد نہیں ہو سکا، پاکستان نے مقبوضہ و بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں جاری بدترین ریاستی جبر، انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں، بے گناہ شہریوں کی گرفتاریوں، بنیادی آزادیوں پر عائد سخت پابندیوں اور وہاں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے کی جانے والی آبادیاتی تبدیلیوں کے خطرناک بھارتی الزامات و اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے، اس سلسلے میں پاکستان نے اقوام متحدہ کے خصوصی طریقہ کار کی ۱۶ اکتوبر ۲۰۲۵ کی مشترکہ رپورٹ کا ناقابلِ تردید حوالہ بھی عالمی برادری کے سامنے رکھا، اپنے حقِ جواب کے دوران پاکستان نے بھارت پر جوابی الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے عالمی فورم پر بے نقاب کیا کہ نئی دہلی سرکار ناصرف پاکستان کے اندر دہشت گردی کی مبینہ طور پر مکمل سرپرستی کر رہی ہے اور بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں بدترین ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے، بلکہ اب بھارت کے کینیڈا اور امریکہ جیسے بیرون ممالک میں بھی ٹارگٹ کلنگ، ماورائے عدالت قتل اور دیگر ملکوں کو غیر مستحکم کرنے کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے بھیانک کردار دنیا کے سامنے آ چکے ہیں، اس کے ساتھ ہی بھارت خطے کا امن تباہ کرنے کے لیے سندھ طاس جیسے اہم بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی کی مذموم کوششیں بھی کر رہا ہے، پاکستان نے واضح قانونی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اقوام متحدہ کے منشور، خصوصاً آرٹیکل ۲۵ کے تحت سلامتی کونسل کی تمام قراردادوں پر مکمل عملدرآمد کرنے کا قانونی طور پر پابند ہے، لیکن وہ مسلسل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ان بین الاقوامی ذمہ داریوں کو یکسر نظر انداز کر رہا ہے، اپنے اختتامی مؤقف میں پاکستانی مندوب نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ حقائق سے فرار اختیار کرنے اور الزامات کی سستی سیاست چمکانے سے یہ سنگین مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا، جموں و کشمیر کے اس دیرینہ تنازع کا واحد اور پرامن حل صرف اور صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں و خواہشات کے مطابق رائے شماری کرانے میں ہی ممکن ہے، انہوں نے پاکستان کے فولادی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مظلوم کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو ہر عالمی فورم پر پوری قوت سے اجاگر کرتا رہے گا اور اس کے پرامن و منصفانہ حل کے لیے اپنی کوششوں سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔

سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ میں کشمیر اور فلسطین کے دیرینہ تنازعات کی گونج، پاکستان کا اقوام متحدہ میں جموں و کشمیر کے منصفانہ حل اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے عزم کا اعادہ، سلامتی کونسل میں اصلاحات اور ویٹو پاور پر نظرثانی کا مطالبہ

محمود احمد june 06,2026

اقوام متحدہ، نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

پاکستان نے عالمی فورم پر واضح کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سال ۲۲۰۵ کی سالانہ رپورٹ میں جموں و کشمیر اور فلسطین جیسے طویل عرصے سے لٹکے ہوئے دیرینہ تنازعات کی مسلسل اہمیت کو انتہائی واضح طور پر اجاگر کیا گیا ہے، جو عالمی اور علاقائی امن و سلامتی پر مسلسل گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں، نیویارک سے موصول ہونے والی سرکاری تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اہم اجلاس میں سلامتی کونسل کی یہ سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے صراحت سے کہا کہ یہ دونوں بڑے تنازعات طویل عرصے سے عالمی ادارے کے ایجنڈے کا حصہ چلے آ رہے ہیں اور ان کے منصفانہ حل کے بغیر دنیا میں پائیدار امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، انہوں نے رپورٹنگ کے عرصے کے حوالے سے بتایا کہ بھارت پاکستان سوال پر بیس سے زائد اہم مراسلات سلامتی کونسل کی توجہ حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ پیش کیے گئے، جبکہ مئی ۲۰۲۵ میں اس حساس موضوع پر ایک اہم بند کمرہ مشاورت بھی منعقد کی گئی، کشمیر تنازع پر پاکستان کا اصولی مؤقف پیش کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار نے زور دیا کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے حل طلب ہے اور سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر بدستور موجود ہے، پاکستان کے مطابق اس اہم مسئلے کا حتمی حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مظلوم کشمیری عوام کی امنگوں و خواہشات کے مطابق ہی ہونا چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا یہ پختہ مؤقف ہے کہ خطے میں پائیدار امن و استحکام جموں و کشمیر کے منصفانہ حل سے ہی مشروط ہے اور اس کے لیے کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دیا جانا ناگزیر ہے، پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب کے دوران مقبوضہ فلسطینی علاقوں خصوصاً غزہ میں جاری سنگین انسانی بحران پر بھی ملک کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد ۲۸۰۳ اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے ایک بڑی اور اہم پیش رفت ہے، تاہم اس پر اس کی روح کے مطابق مکمل عملدرآمد ہونا بے حد ضروری ہے، پاکستان نے اس موقع پر ایک بار پھر ایک آزاد، قابلِ عمل اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی اپنی روایتی اور مخلصانہ حمایت کا اعادہ کیا جس کا مستقل دارالحکومت القدس الشریف ہو، سلامتی کونسل کی مجموعی کارکردگی اور اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس رپورٹ میں افریقہ، مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور دنیا کے دیگر خطوں میں جاری مختلف تنازعات کے علاوہ کئی موضوعاتی مسائل جیسے معصوم شہریوں کا تحفظ اور مسائل کا پرامن حل بھی شامل کیا گیا ہے، انہوں نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ تاریخی قرارداد ۲۷۸۸ کا خاص حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد تنازعات کے ہمیشہ پرامن حل کے لیے بین الاقوامی اتفاقِ رائے کی ایک بہترین عکاس ہے، سفیر عاصم افتخار احمد نے عالمی برادری کو بتایا کہ پاکستان نے جولائی ۲۰۲۵ میں سلامتی کونسل کی اپنی صدارت کے دوران اس رپورٹ کے تعارفی حصے کی تیاری اور اس کی حساس مسودہ سازی کی اہم ذمہ داری انتہائی احسن طریقے سے انجام دی تھی اور اس کا بنیادی مقصد ایک جامع، مکمل غیر جانبدار اور عالمی اتفاقِ رائے پر مبنی شفاف رپورٹ تیار کرنا تھا، ملاقات اور خطاب کے آخری حصے میں پاکستان نے سلامتی کونسل کے ڈھانچے میں فوری اصلاحات، کام میں شفافیت اور جوابدہی کی سخت ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بعض بڑی طاقتوں کی جانب سے ویٹو کے استعمال پر بھی اب سنجیدہ غور ہونا چاہیے، انہوں نے پاکستان کا اصولی اور تاریخی مؤقف دہراتے ہوئے واضح کیا کہ ہماری پالیسی ”سب کے لیے اصلاحات، کسی کے لیے خصوصی مراعات نہیں“ کے اصول پر مبنی ہے، اور سیکیورٹی کونسل کی یہ اصلاحات کسی ایک ملک کے بجائے اقوام متحدہ کی وسیع تر رکنیت اور پوری دنیا کے مفاد میں ہونی چاہئیں۔

آبنائے ہرمز میں جنگ کے بادل، امریکہ اور ایران کے درمیان سنگین عسکری و معاشی تصادم، خلیجی ریاستوں کو ایرانی وزیر خارجہ کی کھلی دھمکی، روس کی جانب سے پاکستان کی ثالثی کوششوں کی بھرپور حمایت

کاشف عباسی ,june 06,2026

واشنگٹن / تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

عالمی توانائی کی سب سے اہم شاہراہ، آبنائے ہرمز اور خلیجی پانیوں میں عسکری و سفارتی کشیدگی خطرناک ترین حد تک برقرار ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے مابین الزامات کی بوچھاڑ، جوابی معاشی پابندیوں اور سمندری حدود میں جنگی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تہران اور واشنگٹن سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ان ایرانی دعووں کو مخلصانہ طور پر مسترد اور ان کی شدید تردید کر دی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ خلیج میں امریکی بحری ڈسٹرائرز پر ایران کی جانب سے ”انتباہی فائرنگ“ کی گئی ہے، سینٹکام کا مؤقف ہے کہ ایسی کوئی کارروائی یا فائرنگ سرے سے ہوئی ہی نہیں اور امریکی بحری افواج بین الاقوامی قوانین کے تحت خطے کے پانیوں میں اپنی معمول کی دفاعی سرگرمیاں پوری قوت سے جاری رکھے ہوئے ہیں، دوسری جانب سمندری صورتحال اس وقت مزید ابتر ہو گئی جب عمان کی ایک حساس بندرگاہ کے قریب مبینہ دھماکے کے بعد تیل کی لوڈنگ کا عمل عارضی طور پر معطل کرنا پڑا، تاہم بعد میں آئل آپریشنز کو دوبارہ معمول پر لایا گیا، لیکن اس خوفناک پیش رفت کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، اسی دوران امریکی بحریہ نے بحرِ ہند میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے پابندیوں کے شکار ایک ایسے بڑے بحری ٹینکر کو روکنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے جس پر ایرانی تیل کی غیر قانونی تجارت سے متعلق سنگین الزامات عائد تھے، اس امریکی کارروائی پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو آخری وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی عسکری جارحیت یا مہم جوئی کی گئی تو امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے والی تمام خلیجی ریاستیں ایران کے لیے ”جائز اہداف“ بن جائیں گی اور انہیں نشانہ بنایا جائے گا، انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ خطے کی موجودہ صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں ہے اور یہاں طاقت کے توازن کو کسی بھی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کشیدگی کے اس ماحول میں امریکی محکمہ خزانہ نے بھی ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ایرانی تیل اور ایل پی جی (مائع پٹرولیم گیس) کی غیر قانونی تجارت میں مبینہ طور پر ملوث متعدد بااثر افراد، عالمی اداروں اور بحری ٹینکرز پر نئی اور سخت ترین معاشی پابندیاں عائد کر دی ہیں اور ان خفیہ نیٹ ورکس میں مختلف ممالک اور آف شور کمپنیوں کے تانے بانے بھی سامنے آئے ہیں، اس سنگین صورتحال کے سفارتی پہلو کا جائزہ لیا جائے تو روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس نازک موڑ پر پاکستان کی مخلصانہ ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات کی کھل کر حمایت کا اظہار کیا ہے جبکہ دوسری جانب عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی (آئی اے ای اے) کے سربراہ نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری فریم ورک پر سفارتی پیش رفت متوقع ہے، دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کی مجموعی صورتحال اب فہرست میں نہایت حساس اور فیصلہ کن دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں ایک طرف عسکری کشیدگی اور سخت معاشی پابندیاں عروج پر ہیں تو دوسری طرف پسِ پردہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، تاہم خطے میں ہونے والی کسی بھی قسم کی چھوٹی سی عسکری چنگاری کا عالمی توانائی کی منڈی اور دنیا بھر کی معیشت پر براہِ راست اور تباہ کن اثر پڑ سکتا ہے۔

افریقہ کے لیے پاکستان کا اہم سفارتی متبادل، ایتھوپیا اور پاکستان کے درمیان معاشی و تجارتی تعاون کے فروغ کے لیے پارلیمانی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا کی ملاقات

منصور احمد june 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جون 2026ء

وفاقی جمہوریہ ایتھوپیا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان نے باہمی تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، ہوا بازی (ایوی ایشن) اور ثقافتی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو تیزی سے فروغ دینے کے لیے دونوں ممالک کے مابین پارلیمانی روابط کو مزید مضبوط اور فعال بنانے پر مکمل اتفاق کر لیا ہے، اسلام آباد سے جاری ہونے والی سرکاری تفصیلات کے مطابق یہ اہم ترین سفارتی اتفاقِ رائے جمعہ کے روز وفاقی دارالحکومت میں ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا اور چیئرمین سینیٹ پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کے درمیان ہونے والی ایک اعلٰی سطح کی ملاقات میں سامنے آیا، اس اہم ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے دوطرفہ سفارتی تعلقات کا تفصیلی جائزہ لیا، باہمی تعاون کے نئے امکانات پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا اور مستقبل میں تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا مخلصانہ اعادہ کیا، ملاقات میں ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے دونوں ممالک کے مابین تاریخی، ثقافتی اور باہمی اقدار پر مبنی دیرینہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستان کو ایک بڑی پیشکش کی کہ ایتھوپیا اس وقت افریقی یونین کا مرکزی ہیڈکوارٹر اور پورے افریقی براعظم کا ایک انتہائی اہم ترین تجارتی دروازہ ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان افریقہ میں اپنے سفارتی روابط، باہمی تجارت اور معاشی اثر و رسوخ کو مزید وسعت دے سکتا ہے، دوسری جانب چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے ایتھوپیا میں حالیہ برسوں کے دوران جاری رہنے والی تیز رفتار معاشی ترقی، اقتصادی نمو اور حکومت کے اصلاحاتی اقدامات کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے ثقافتی وفود کے تبادلے اور مذہبی سیاحت کو دوطرفہ تعلقات کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے، انہوں نے پاکستان کی بہترین زرعی صلاحیتوں اور تجربے کا ذکر کرتے ہوئے زور دیا کہ ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کو حاصل کرنے کے لیے دونوں ممالک کو زراعت سمیت مختلف تکنیکی شعبوں میں اپنی مہارت اور تجربات کا مخلصانہ تبادلہ کرنا چاہیے، اس اہم بیٹھک کے اختتام پر دونوں فریقین نے پارلیمانی فرینڈشپ گروپس کے فوری قیام اور دونوں ممالک کے پارلیمانی وفود کے باقاعدہ تبادلوں پر بھی اتفاق کیا تاکہ ادارہ جاتی اور سفارتی تعلقات کو مزید پائیدار بنایا جا سکے، جبکہ دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ باہمی تعاون کے فروغ کے ذریعے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، ہوا بازی اور ثقافتی شعبوں میں تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جائے گا۔

غزہ میں سنگین غذائی بحران کا خاتمہ، سعودی عرب اور عالمی ادارہ صحت کے مابین ہسپتالوں میں غذائی خدمات کو مضبوط بنانے کا تاریخی معاہدہ طے پا گیا، لاکھوں فلسطینیوں کو فوری طبی ریلیف اور مفت کھانا فراہم کیا جائے گا

روزینہ اسماعیل.june 05,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جون 2026ء

سعودی عرب اور عالمی ادارہ صحت نے جنگ زدہ غزہ کی پٹی میں بنیادی صحت کے مراکز اور ہسپتالوں کے اندر غذائی خدمات کو مستحکم و فعال بنانے کے لیے ایک مشترکہ ایگزیکٹو پروگرام پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں، ریاض سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ بڑا انسانی ہمدردی کا منصوبہ غزہ میں مظلوم فلسطینی عوام کی ہنگامی امداد کے لیے جاری سعودی عوامی مہم کا ایک اہم حصہ ہے جس کے تحت لاکھوں متاثرہ افراد کو مفت طبی اور غذائی سہولیات فراہم کی جائیں گی، اس دستخط شدہ منصوبے کے تحت تقریباً دو لاکھ اٹھاون ہزار دو سو تئیس فلسطینی براہِ راست مستفید ہوں گے جبکہ گیارہ لاکھ بہتر ہزار چار سو سڑسٹھ افراد کو بالواسطہ فائدہ پہنچے گا، پروگرام کا بنیادی اور تزویراتی مقصد غزہ میں صحت اور غذائیت کی گرتی ہوئی صورتحال کو ہنگامی بنیادوں پر بہتر بنانا ہے، خاص طور پر ایسے صدمہ زدہ مریضوں، خواتین اور معصوم بچوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی جو شدید غذائی قلت اور پیچیدہ طبی مسائل کا شکار ہیں، اس مہم کے لیے شدید غذائی قلت کے فوری علاج کے لیے خصوصی طبی کٹس فراہم کی جائیں گی اور ہسپتالوں سمیت تمام متحرک صحت مراکز کو غذائی سپلیمنٹس، ضروری وٹامنز، معدنیات، خصوصی غذائی مرکبات اور وریدی غذا یعنی بوتل کے ذریعے دی جانے والی غذائیت کے محلول کے ساتھ ساتھ دیگر تمام ضروری طبی سامان اور جدید آلات بھی وافر مقدار میں دستیاب کیے جائیں گے، یہ انقلابی منصوبہ شاہ سلمان امدادی مرکز اور عالمی ادارہ صحت کے باہمی تعاون سے جاری وسیع تر انسانی امدادی پروگراموں کا حصہ ہے جس کا اصل ہدف فلسطین میں تباہ حال صحت کے شعبے کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا، طبی خدمات کے گرتے ہوئے معیار کو بہتر بنانا اور غذائی بحران سے شدید متاثرہ خاندانوں کی بروقت مدد کرنا ہے، دوسری جانب سعودی حکام نے مزید بتایا کہ شاہ سلمان امدادی مرکز کے زیرِ نگرانی قائم مرکزی باورچی خانہ غزہ میں بے گھر اور شدید متاثرہ فلسطینی خاندانوں کے لیے روزانہ کی بنیاد پر تازہ اور گرم کھانوں کی مسلسل تقسیم کا سلسلہ بھی پوری تندہی سے جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ سرگرمی بھی سعودی عرب کی جانب سے اپنے فلسطینی بھائیوں کی مخلصانہ امداد اور انسانی ہمدردی کی ان عظیم کوششوں کا تسلسل ہے جس کا واحد مقصد جنگ اور بدترین بحران سے متاثرہ بے گناہ شہریوں کو ان کی دہلیز پر فوری اور عملی ریلیف فراہم کرنا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اب عالمی برادری کو زبانی دعووں سے نکل کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے، عالمی یومِ ماحولیات پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اہم ترین پیغام

محمود احمد june 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 05 جون 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر اپنے ایک خصوصی، تفصیلی اور تزویراتی پیغام میں موسمیاتی بحران کے مقابلے کے لیے عالمی اور علاقائی سطح پر اجتماعی کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کی اشد ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کرہ ارض کے تحفظ اور ماحولیاتی مسائل کے مؤثر مقابلے کے لیے تمام اجتماعی اقدامات کو ہر ممکن حد تک مضبوط بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، انہوں نے عالمی فورمز پر پاکستان کا مقدمہ لڑتے ہوئے اس بات کو ایک بار پھر واضح طور پر اجاگر کیا کہ پاکستان عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں انتہائی کم حصے دار ہونے کے باوجود موسمیاتی تبدیلیوں اور ان کے تباہ کن اثرات سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطوں اور ممالک کی فہرست میں شامل ہے، اس کے باوجود ملک مسلسل آنے والے ریکارڈ توڑ اور تباہ کن سیلابوں، شمالی علاقہ جات میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے عمل، زرعی زمینوں کو بنجر کرنے والی شدید خشک سالی، گرمیوں کے موسم میں ریکارڈ توڑ شدید گرمی کی لہروں (ہیٹ ویوز) اور ملک بھر میں پینے اور زراعت کے پانی کے بڑھتے ہوئے شدید دباؤ جیسے سنگین ترین وجودی چیلنجز کے مقابلے میں بے پناہ ثابت قدمی، ہمت اور قومی عزم کا مظاہرہ کر رہا ہے، سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی، دنیا سے مختلف جانداروں اور حیاتیاتی تنوع میں خطرناک حد تک ہونے والی کمی اور مجموعی طور پر ماحولیاتی تنزلی جیسے باہم جڑے ہوئے پیچیدہ عالمی مسائل سے نمٹنے کے لیے اب روایتی طریقوں سے ہٹ کر بین الاقوامی تعاون اور مشترکہ فنڈنگ کو مزید وسعت دینا ناگزیر ہو چکا ہے اور اس عالمی مہم کے ضمن میں “مشترکہ مگر مختلف ذمہ داریوں اور متعلقہ صلاحیتوں” کے عالمی سطح پر مانے گئے اصول کو ہمیشہ مخلصانہ طور پر پیشِ نظر رکھا جانا چاہیے تاکہ متاثرہ ممالک کو ان کا جائز حق مل سکے، انہوں نے حکومت کی داخلی پالیسیوں کی تفصیل بتاتے ہوئے واضح کیا کہ قومی سطح پر حکومتِ پاکستان ماحولیاتی تحفظ اور شجرکاری کو اپنی تمام تر ریاستی اور وفاقی پالیسی ترجیحات کا ایک مرکزی اور لازمی جزو بنانے کے لیے مخلصانہ طور پر کوشاں ہے جہاں اس طویل المدتی منصوبے کے سلسلے میں موجودہ حکومت کا ایک اہم ترین اور تاریخی سنگِ میل یہ ہے کہ اب صاف, صحت مند اور پائیدار ماحول کے حق کو ملک کے ہر شہری کا بنیادی آئینی حق تسلیم کیا گیا ہے، نائب وزیراعظم نے حکومتی اقدامات کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ اور ہم آہنگ رہائشی منصوبوں کی تعمیر، ماحول کو آلودگی سے بچانے کے لیے صاف و گرین توانائی کی جانب تیز تر منتقلی اور بڑے شہروں میں ماحول دوست و پائیدار تعمیراتی طریقوں کے فروغ کے لیے عملی اور ٹھوس زمینی اقدامات کر رہا ہے، تاہم موسمیاتی بحران کی روز بہ روز بڑھتی ہوئی سنگینی اس امر کی سختی سے متقاضی ہے کہ عالمی برادری محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے مشترکہ، مادی اور مؤثر اقدامات کو یقینی بنائے، اپنے اس تفصیلی پیغام کے آخر میں انہوں نے آذربائیجان کی حکومت کا عالمی یومِ ماحولیات دو ہزار چھبیس کی شاندار اور کامیاب میزبانی کرنے پر خصوصی اور مخلصانہ شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان عالمی ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو یکجا کرنے، ماحولیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم اور تعمیری عالمی مکالمے کے فروغ میں آذربائیجان کی موجودہ قائدانہ کاوشوں اور سفارتی کردار کو انتہائی قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات آٹھ دہائیوں سے مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں، امریکی سفارتخانے میں ڈھائی سویں سالگرہ کی تقریب سے وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب

محمود احمد june 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جون 2026ء

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین آٹھ دہائیوں پر محیط تاریخی تعلقات انسدادِ دہشت گردی، باہمی تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، تعلیم، صحت اور توانائی سمیت متعدد اہم شعبوں میں انتہائی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔ اسلام آباد میں واقع امریکی سفارتخانے میں امریکہ کی ڈھائی سویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک پروقار تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی انتظامیہ اور وہاں کے عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی، جبکہ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ دنیا کے ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے قیامِ پاکستان کے بعد اسے فوری طور پر تسلیم کیا تھا اور دونوں ممالک کے تعلقات ہمیشہ باہمی احترام، اعتماد اور اسٹریٹجک تعاون پر مبنی رہے ہیں، اسی طرح دونوں ممالک کے مابین تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط میں وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جہاں دس لاکھ سے زائد پاکستانی نژاد امریکی شہری دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں ایک اہم اور متحرک پل کا کردار ادا کر رہے ہیں، انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت لگ بھگ اسی بڑی امریکی کمپنیاں پاکستان میں کامیابی سے کاروبار کر رہی ہیں جبکہ ہزاروں پاکستانیوں نے امریکی جامعات سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے اور وہ مختلف شعبوں میں اپنی بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف نے جنوبی ایشیا کے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے امریکی صدر کے مثبت کردار کو کھل کر سراہا اور کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین شدید کشیدگی کے دوران جنگ بندی کرانے میں امریکی کوششوں کو پاکستان ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عالمی تاریخ میں ہمیشہ امن کے ایک سچے داعی کے طور پر یاد رکھا جائے گا، سفارتی تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے مابین ایک مخلص اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر اپنا بھرپور سفارتی کردار ادا کر رہا ہے تاکہ خطے میں کسی بھی ممکنہ جنگ کو روک کر پائیدار امن قائم کیا جا سکے اور انہوں نے اس اہم ترین مشن اور علاقائی استحکام کے سلسلے میں سپہ سالار جنرل عاصم منیر کی انتھک سفارتی کوششوں کو بھی خصوصی طور پر سراہا اور عزم ظاہر کیا کہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے پاکستان ہمیشہ اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا، وزیراعظم نے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں تربیلا ڈیم، زرعی ترقی کے منصوبوں، تعلیمی وظائف اور مختلف سماجی فلاحی پروگراموں میں امریکی مالی و تکنیکی تعاون کا مخلصانہ ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس طویل شراکت داری نے پاکستان کی مجموعی ترقی میں ہمیشہ ایک کلیدی کردار ادا کیا ہے اور انہوں نے قوی امید ظاہر کی کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات مزید گہرے ہوں گے اور دونوں ممالک مشترکہ تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔

عالمی سیاست میں بہت بڑی پیش رفت، امریکہ اور ایران تاریخی معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ گئے، رواں ہفتے کے آخر تک حتمی اعلان متوقع، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا انکشاف

محمود احمد june 04,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 04 جون 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حیران کن اور تزویراتی انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اعلٰی سطح کے مذاکرات اب فیصلہ کن اور آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور قوی امکان ہے کہ رواں ہفتے کے اختتام (ویک اینڈ) تک دونوں ممالک کے مابین ایک تاریخی معاہدہ طے پا جائے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ دونوں ممالک طویل کشیدگی کے بعد اب معاہدے کے بالکل قریب ہیں اور ان کی دلی خواہش ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید تناؤ کا خاتمہ صرف اور صرف سفارتی اور سیاسی طریقے سے ہی ممکن بنایا جائے۔
آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایرانی جوہری پروگرام پر سخت شرائط
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممکنہ معاہدے کے چیدہ چیدہ نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ:
بحری آمدورفت کی بحالی: اس ممکنہ معاہدے کے فوری بعد عالمی تجارتی شاہراہ ‘آبنائے ہرمز’ میں بین الاقوامی بحری جہازوں کی آمدورفت اور تیل کی ترسیل مکمل طور پر معمول پر آ سکے گی۔
جوہری ہتھیاروں پر پابندی: انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں اعادہ کیا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سخت نگرانی: ایران کی تمام تر جوہری سرگرمیوں سے متعلق معاملات اور ان کی سخت نگرانی اس نئے معاہدے کا سب سے اہم اور مرکزی حصہ ہیں۔
سفارت کاری کو ترجیح: خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام کے لیے فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل کو ہی اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
لبنان کی صورتحال اور حزب اللہ کی جانب سے یقین دہانی کا دعویٰ
امریکی صدر نے مشرقِ وسطیٰ کے دیگر بحرانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے بھرپور کوشش کی جا رہی ہے کہ لبنان کے داخلی حالات اور آبنائے ہرمز کے معاملات کو ایک دوسرے سے بالکل الگ تھلگ رکھا جائے تاکہ مختلف نوعیت کے بین الاقوامی تنازعات کے حل میں کوئی نئی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔ انہوں نے ایک بڑا دعویٰ بھی کیا کہ لبنانی عسکری تنظیم حزب اللہ کی جانب سے یہ اہم یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ فی الحال اسرائیل پر کوئی بڑا حملہ نہیں کرے گی، جس کے بعد خطے میں جنگ کے بادل چھٹنے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
امریکی کانگریس میں بحث اور ٹرمپ کی کڑی تنقید
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ایوانِ نمائندگان (کانگریس) میں ان کی انتظامیہ کے خلاف پیش کی جانے والی اس حالیہ قرارداد پر کڑی تنقید کی جس میں ایران کے خلاف صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ: واشنگٹن کے بعض مخصوص سیاسی حلقے ملکی مفاد کو پسِ پشت ڈال کر صرف ذاتی مفاد کے لیے ان کی کامیاب خارجہ پالیسیوں کی بلاوجہ مخالفت کر رہے ہیں۔
امریکہ کو کسی بھی نئی اور لاحاصل جنگ میں دھکیلنے کے بجائے سفارت کاری اور پرامن مذاکرات کو ایک موقع دیا جانا چاہیے۔
ان کی موجودہ انتظامیہ دن رات صرف مذاکرات کے ذریعے ہی دیرینہ عالمی تنازعات کے پرامن خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔
ممکنہ معاہدے پر دنیا بھر کی نظریں
امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اس متوقع معاہدے پر اس وقت عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ اس تاریخی پیش رفت کے براہِ راست اثرات مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سلامتی، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں (توانائی منڈیوں) اور بین الاقوامی سفارت کاری پر مرتب ہوں گے۔ اگر یہ معاہدہ اگلے دو روز میں طے پا جاتا ہے تو یہ دونوں ممالک کے مابین دہائیوں پر محیط حالیہ کشیدگی کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی اور اہم سفارتی پیش رفت تصور کی جائے گی۔

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے عالمی تعاون بڑھایا جائے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا تنظیم برائے انسدادِ کیمیائی ہتھیار کے فریم ورک کے تحت استعدادِ کار میں اضافے پر زور

محمود احمد june 04,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جون 2026ء

پاکستان نے دنیا کے کسی بھی خطے، کسی بھی فرد، کسی بھی جگہ اور کسی بھی صورت میں مہلک کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی سخت ترین الفاظ میں مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا بین الاقوامی کنونشن عالمی تخفیفِ اسلحہ اور پائیدار امن کے نظام کا ایک بنیادی ستون ہے۔

پاکستان کا اصولی موقف اور شامی حکومت کے عزم کی تعریف مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی صورتحال سے متعلق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک خصوصی بریفنگ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان اس عالمی کنونشن کی عالمگیریت اور اس کے مکمل، مؤثر اور بغیر کسی امتیاز کے نفاذ کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے شام کی حکومت کی جانب سے تنظیم برائے انسدادِ کیمیائی ہتھیار کے ساتھ مکمل تعاون کے عزم کو سراہا اور کہا کہ یہ تعاون کیمیائی ہتھیاروں کے ممکنہ باقیات کے خاتمے کے عمل کو تیز کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہو رہا ہے۔

زیرِ التوا امور، سکیورٹی چیلنجز اور رکاوٹیں سفیر عثمان جدون نے تنظیم برائے انسدادِ کیمیائی ہتھیار کے ڈائریکٹر جنرل کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ چھبیس میں سے انیس زیرِ التوا امور اب بھی حل طلب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنیکل سیکرٹریٹ ان مقامات کی نشاندہی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے جو کنونشن کے تحت قابلِ اعلامیہ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سیکرٹریٹ نے ضروریات اور خلا کے جائزے کے تحت ان کمزوریوں کی ایک غیر حتمی فہرست بھی تیار کی ہے جو شامی حکام کی فراہمی اور ان کی دستیاب استعداد کے درمیان موجود ہیں۔ تاہم، پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ شام کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور بعض اہم علاقوں پر دیگر قوتوں کے قبضے کی کیفیت اس عمل کے بروقت اور مؤثر نفاذ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔

شامی حکام کی استعدادِ کار میں اضافے کا مطالبہ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا:

“یہ امر انتہائی ضروری ہے کہ شامی حکام کو درپیش زمینی رکاوٹوں اور اندرونی چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے ان کی انتظامی و عسکری استعدادِ کار میں اضافہ کیا جائے اور ان کے ساتھ عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے۔”

انہوں نے واضح کیا کہ یہ تعاون کئی بڑے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے انتہائی اہم ہے، جن میں مشتبہ مقامات کی نوعیت، ادارہ جاتی محدودیتیں، اور شامی قومی ٹیموں کی کیمیائی گولہ بارود کو سنبھالنے، ان کی نقل و حمل اور انہیں محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے سے متعلق محدود تکنیکی صلاحیت اور تجربہ شامل ہیں۔

برادر ممالک ترکیہ اور قطر کی کوششوں کی تعریف نائب مستقل مندوب نے ان تمام عالمی فریقین کی بھی کھل کر تعریف کی جو شامی حکام کی استعداد بڑھانے اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں اپنا تکنیکی تعاون فراہم کر رہے ہیں۔ اس اہم ترین مہم کے حوالے سے انہوں نے برادر مسلم ممالک ترکیہ اور قطر کی سفارتی اور تزویراتی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا۔

اخری میں انہوں نے ٹیکنیکل سیکرٹریٹ پر زور دیا کہ وہ کنونشن کے مطابق اپنی آزادانہ تصدیقی ذمہ داریاں پوری دیانت داری سے جاری رکھے تاکہ شام میں موجود مشتبہ کیمیائی ہتھیاروں اور ان کے پھیلاؤ کے کسی بھی ممکنہ خطرے کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں فریقین کے درمیان جاری مثبت روابط مزید مضبوط بنیاد فراہم کریں گے تاکہ تمام حل طلب امور جلد از جلد نمٹائے جا سکیں اور اس اہم فائل کو ہمیشہ کے لیے بند کیا جا سکے۔

افغان طالبان قیادت اور مقامی عسکری رہنماؤں میں شدید اختلافات، امیرِ اعلیٰ کا نیا اور سخت حکم نامہ جاری

منصور احمد june 03,2026

کابل (نیوز اینڈ نیوز) — 03 جون 2026ء

بین الاقوامی میڈیا کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، افغانستان کے دور دراز اور تزویراتی طور پر اہم صوبہ بدخشاں میں امارتِ اسلامیہ کی مرکزی قیادت اور بعض بااثر مقامی عسکری رہنماؤں (کمانڈروں) کے درمیان داخلی اختلافات انتہائی شدت اختیار کر گئے ہیں۔ اس ابھرتی ہوئی سنگین صورتحال پر مکمل انتظامی کنٹرول برقرار رکھنے اور داخلی انتشار کو روکنے کے لیے طالبان کے امیرِ اعلیٰ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ایک نیا اور ہنگامی حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔

معدنی وسائل کی تقسیم اور عوامی احتجاج کے بعد وفد کا قیام ذرائع کے مطابق، صوبہ بدخشاں میں قیمتی معدنی وسائل کی مالیت، مقامی انتظامی امور پر گرفت اور حالیہ عوامی احتجاج کے تناظر میں مرکزی حکومت اور مقامی رہنماؤں کے مابین شدید کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ اس صورتحال کے بعد، ناراض مقامی عسکری کمانڈروں اور دیگر اعلیٰ حکام کے مالی و عسکری اثاثوں کی سخت جانچ پڑتال (اسکروٹنی) کے لیے وائٹ ہاؤس نما مرکزی دارالحکومت کی جانب سے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی وفد مقرر کر دیا گیا ہے جو معاملے کی بیخ کنی کرے گا۔

مرکزی فیصلوں کی پابندی اور حکم عدولی پر سخت ترین کارروائی کا انتباہ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ امیرِ اعلیٰ کے نئے حکم نامے میں تمام مقامی کمانڈروں اور انتظامی مقتدرہ کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کابل کی مرکزی قیادت کے تمام فیصلوں پر بلا چوں چراں عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی حکم عدولی، خود مختار فیصلے یا سرکشی کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف سخت ترین تادیبی اور عسکری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مزید برآں، بدخشاں میں امن و امان کی نازک صورتحال کو سنبھالنے کے لیے قندھار اور کابل سے اضافی سکیورٹی اہلکار اور عسکری دستے بھی روانہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

مقامی عہدیداروں کی حراست اور غیریقینی صورتحال کچھ غیر ملکی رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ بدخشاں کے بعض اہم مقامی طالبان عہدیداروں اور عسکری رہنماؤں کو مرکزی احکامات کی خلاف ورزی پر باقاعدہ حراست میں لے کر نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم زمینی حالات اور آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی مکمل اور قطعی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

انتظامی ڈھانچے کے اختلافات پر ماہرین کی آراء سیاسی، علاقائی اور افغان امور کے بین الاقوامی ماہرین کے مطابق، بدخشاں کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال طالبان حکومت کے اندرونی انتظامی، سیاسی اور مقامی سطح پر پائے جانے والے گہرے اختلافات کی واضح عکاسی کرتی ہے۔ دوسری جانب، عالمی برادری اور علاقائی ممالک کی جانب سے طالبان حکومت کے اس معاملے پر باقاعدہ سرکاری موقف اور آئندہ کے اقدامات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

یہ اہم ترین پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مذکورہ صوبے میں گزشتہ کئی روز سے عوامی سطح پر حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید احتجاج اور مقامی آبادی کی جانب سے عسکری ردعمل کی خبریں بھی مسلسل گردش کر رہی ہیں۔

ایران کے ساتھ حتمی معاہدے کا وقت آ گیا ہے، پینتالیس سالہ رویہ اب مزید برداشت نہیں ہو گا: امریکی سربراہِ مملکت

محمود احمد june 03,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

امریکی سربراہِ مملکت (صدر) ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سنگین صورتحال پر اپنا ایک اور بڑا اور تاریخی موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ایران کے ساتھ ایک حتمی اور مستقل تجارتی و سیاسی معاہدہ کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔ انہوں نے واضح اور کڑے الفاظ میں انتباہ جاری کیا کہ گزشتہ سینتالیس (47) سال سے جاری ایرانی حکومت کا جارحانہ رویہ اب واشنگٹن کے لیے مزید کسی صورت برداشت کے قابل نہیں رہا۔

صوتی مکالمے میں اہم ترین اعتراف اور عسکری کارروائیاں انٹرنیٹ پر نشر ہونے والے ایک خصوصی صوتی مکالمے (پوڈکاسٹ انٹرویو) میں تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے امریکی سربراہِ مملکت نے دعویٰ کیا کہ اگر حالیہ دنوں میں ایران کی فوجی تنصیبات پر براہِ راست حملے نہ کیے جاتے، تو وہ محض چند ہی ہفتوں کے اندر خطرناک ترین جوہری ہتھیار (ایٹم بم) تیار کرنے میں مکمل طور پر کامیاب ہو سکتا تھا۔ ان کے مطابق، حالیہ امریکی و اتحادی عسکری کارروائیوں کے بعد تہران کی قیادت کو ایک انتہائی واضح اور دوٹوک پیغام پہنچا دیا گیا ہے۔

بدلتے معاشی و عسکری حالات اور سیاسی حکمتِ عملی ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی موجودہ خارجہ پالیسیوں پر ہونے والی داخلی اور خارجی تنقید کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سیاست کے حالات ہمیشہ انتہائی تیزی سے بدلتے ہیں اور اسی بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق مقتدر حکومتوں کے فیصلے بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات اپنے سب سے بڑے دشمن کو الجھن اور غیریقینی صورتحال میں رکھنا بھی ایک گہری اور کامیاب جنگی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ ہوتا ہے۔

جوہری صلاحیت کی روک تھام کا بڑا دعویٰ انہوں نے پریس کے سامنے ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرایا کہ ایران خفیہ طور پر مکمل جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا، تاہم وقت پر کیے جانے والے امریکی اقدامات اور سخت فیصلوں کے باعث ہی اس کی اس ایٹمی پیش رفت کو کامیابی سے روکا گیا ہے۔

ایرانی قیادت سے ملاقات اور حتمی معاہدے کا امکان امریکی سربراہِ مملکت نے مستقبل کے حوالے سے ایک بڑا اشارہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ان تمام تر عسکری تلخیوں کے باوجود ایران کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں ایک جامع اور حتمی امن معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مستقبل میں ایرانی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ان کی براہِ راست ملاقات کا واضح امکان بھی موجود ہے۔

ان کے مطابق، ایرانی حکومت کو اب ہر حال میں اپنے دیرینہ علاقائی رویے اور عسکری پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنی ہو گی کیونکہ موجودہ نازک صورتحال میں مشرقِ وسطیٰ کے پورے خطے میں جاری جنگی کشیدگی کو کم کرنا عالمی برادری اور خود ایران کے لیے بے حد ضروری ہو چکا ہے۔

کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر فضائی حملے، اہم تنصیبات کو نقصان، ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ

منصور احمد june 03,2026

کویت سٹی (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

خلیجی ملک کویت سے اس وقت کی سب سے بڑی اور ہولناک فوجی بریکنگ نیوز سامنے آئی ہے۔ کویت کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ بیان کے مطابق، ملکی فضائی دفاعی نظام نے رات گئے دشمن کی طرف سے کیے جانے والے خطرناک فضائی ہتھیاروں (میزائلوں) اور بغیر پائلٹ کے اڑنے والے جنگی طیاروں (ڈرونز) کے حملوں کو کامیابی سے روکتے ہوئے متعدد بیرونی اہداف کو فضا میں ہی مار گرایا اور تباہ کر دیا۔

دھماکوں کی گونج اور فضائی دفاعی نظام کی ہنگامی کارروائی وزارتِ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رات گئے دارالحکومت میں سنے جانے والے انتہائی زوردار اور لرزہ خیز دھماکے دراصل کویتی دفاعی نظام کی جوابی کارروائی کا نتیجہ تھے، جن کے ذریعے ملک کی حدود میں داخل ہونے والے دشمن کے تباہ کن فضائی ہتھیاروں اور بارود بردار بغیر پائلٹ کے طیاروں کو گرایا گیا۔

بین الاقوامی ہوائی اڈے پر شدید نقصان اور ہنگامی حالت کا نفاذ دوسری جانب، کویت کی شہری ہوا بازی کی انتظامیہ (سول ایوی ایشن) نے اس سنگین عسکری واقعے کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان فضائی حملوں کے فوری بعد کویت کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مکمل طور پر ہنگامی حالت (ایمرجنسی) نافذ کر دی گئی ہے اور امدادی ٹیموں کو طلب کر لیا گیا ہے۔

ایرانی فضائی ہتھیاروں سے تباہی اور شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات شہری ہوا بازی کی انتظامیہ کے مطابق، پڑوسی ملک ایران کی حدود سے داغے جانے والے ان فضائی ہتھیاروں اور بغیر پائلٹ کے جنگی طیاروں کے براہِ راست حملوں کے باعث کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی متعدد اہم ترین عمارتی و تکنیکی تنصیبات کو شدید مالی نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہوائی اڈے پر موجود کئی افراد کے زخمی ہونے کی افسوسناک اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

تمام ملکی و غیر ملکی پروازیں معطل، طیاروں کا رخ موڑ دیا گیا اعلیٰ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ مسافروں اور عملے کے تحفظ کے لیے فوری طور پر سخت حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں، جن کے تحت ہوائی اڈے پر آنے اور وہاں سے جانے والی تمام ملکی و بین الاقوامی پروازیں اگلے سرکاری نوٹس تک مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہوا میں موجود بعض مسافر طیاروں کا رخ متبادل اور محفوظ ہوائی اڈوں کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔

سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ، شہریوں کو سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کا حکم کویت کے اعلیٰ انتظامی حکام نے ملک کے تمام شہریوں اور وہاں مقیم تارکینِ وطن کو موجودہ نازک صورتحال پر گہری نظر رکھنے اور افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی تاکید کی ہے۔ اس وقت ملک کے تمام سکیورٹی اور عسکری ادارے کسی بھی دوسرے ممکنہ حملے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر ہائی الرٹ ہیں

لبنان میں شفا خانوں پر حملے جاری، خواتین اور لڑکیاں شدید ترین انسانی بحران کا شکار: اقوامِ متحدہ کی ہنگامی رپورٹ

محمود احمد june 03,2026

بیروت / نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

اقوامِ متحدہ کے آبادی سے متعلق ذیلی ادارے نے دنیا بھر کو شدید خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے ملک لبنان میں خواتین اور کم عمر لڑکیاں اس وقت ایک ہولناک اور بڑھتے ہوئے انسانی بحران کا سامنا کر رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، خطے میں عارضی جنگ بندی کے دعوؤں کے باوجود وہاں کے مقامی طبی مراکز اور علاج گاہوں پر حملوں کا سلسلہ تھم نہیں سکا ہے۔

خوف و بے یقینی کا ماحول اور کمزور طبقے شدید مشکلات میں عالمی ادارے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق، پورے لبنان میں اس وقت شدید خوف، معاشی و سیاسی بے یقینی اور عسکری کشیدگی کی سنگین صورتحال برقرار ہے، جس کے باعث ملک کے عام شہری اور خصوصاً خواتین، نوزائیدہ بچے اور لڑکیاں شدید ترین مشکلات اور ذہنی دباؤ سے دوچار ہیں۔

مقدس طبی مراکز اور محفوظ پناہ گاہوں کی تباہی رپورٹ میں اس لرزہ خیز حقیقت کا انکشاف کیا گیا ہے کہ حالیہ فضائی و زمینی حملوں میں عام شہریوں کی جان بچانے والے طبی مراکز اور خواتین کے لیے قائم کردہ ان محفوظ مقامات کو شدید ترین نقصان پہنچایا گیا ہے، جو براہِ راست اقوامِ متحدہ کے مالی اور انتظامی تعاون سے چلائے جا رہے تھے۔ جنوبی لبنان کے اضلاع میں خواتین کے لیے زچگی کی طبی سہولیات پہلے ہی انتہائی محدود تھیں اور اب ان شفا خانوں پر ہونے والے تازہ حملوں سے صورتحال خطرناک حد تک خراب ہو چکی ہے۔

حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی زندگیاں داؤ پر اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے مطابق، زچگی کے مخصوص کمروں اور شفا خانوں کی تباہی کے باعث حاملہ خواتین اور پیدا ہونے والے نوزائیدہ بچوں کی قیمتی زندگیاں شدید ترین خطرے میں آ گئی ہیں۔ جنگ کی ہولناکی کے باعث اس وقت ہزاروں کی تعداد میں حاملہ خواتین اپنے گھر بار چھوڑ کر کھلے آسمان تلے بے گھر ہو چکی ہیں اور وہ زچگی کے دوران ملنے والی بنیادی طبی سہولیات اور ادویات سے بھی مکمل طور پر محروم ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی تصدیق اور نظامِ صحت کا مفلوج ہونا دوسری جانب، عالمی ادارہ صحت نے بھی اس ابتر صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں طبی مراکز اور ڈاکٹروں پر ہونے والے مسلسل حملوں کے باعث لبنان کا پورا مقامی نظامِ صحت اس وقت شدید ترین دباؤ کا شکار ہے۔ ملک کے بہت سے بڑے شفا خانے اب انتہائی محدود وسائل اور بجلی و ادویات کی شدید قلت کے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے دنیا کی بڑی طاقتوں اور عالمی برادری سے اس انسانی المیے پر فوری توجہ دینے اور مداخلت کرنے کی درد مندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ حملے فوری طور پر نہ روکے گئے، تو لبنان میں جاری یہ انسانی بحران آنے والے دنوں میں مزید سنگین اور بے قابو ہو سکتا ہے۔

امریکہ نے پاکستان سمیت دنیا کے ساٹھ ممالک پر نئے تجارتی ٹیکس عائد کر دیے، عالمی معیشت میں ہلچل

محمود احمد june 03,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

امریکی حکومت نے ایک بہت بڑا معاشی فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت سمیت دنیا کے ساٹھ (60) اہم تجارتی شراکت دار ممالک سے آنے والے سامان پر دس (10) سے ساڑھے بارہ (12.5) فیصد تک نئے درآمدی ٹیکس (ٹیرف) نافذ کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے اس غیر متوقع فیصلے کو عالمی تجارت اور معاشی نظام کے لیے ایک انتہائی سخت اور دور رس قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

جبری مشقت کے قوانین پر عملدرآمد میں ناکامی کا الزام امریکی حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ سخت معاشی فیصلہ ایک طویل تحقیقاتی عمل کے بعد کیا گیا ہے۔ امریکی مقتدر حلقوں نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ ساٹھ ممالک اپنے ہاں جبری مشقت (مزدوروں سے زبردستی کام لینے) کے مروجہ طریقوں سے تیار ہونے والی مصنوعات کی روک تھام کے لیے مؤثر قوانین بنانے اور ان پر سختی سے عملدرآمد کروانے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ اسی بنیاد پر ان ممالک سے امریکہ آنے والی تمام برآمدات پر اضافی درآمدی ڈیوٹی اور ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

پاکستان، برطانیہ اور یورپی یونین سمیت بڑے شراکت دار ہدف پر رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی اس نئی اور کڑی تجارتی پالیسی کی زد میں آنے والے ساٹھ ممالک میں پاکستان، بھارت، برطانیہ، یورپی یونین کے رکن ممالک، کینیڈا اور جاپان جیسے امریکہ کے سب سے بڑے اور مستقل تجارتی شراکت دار شامل ہیں۔ یہ تمام ممالک ہر سال امریکہ کو مجموعی طور پر اربوں ڈالرز مالیت کی اشیاء برآمد کرتے ہیں، جس کے باعث عالمی ماہرینِ معیشت کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نئی پالیسی سے پورے عالمی تجارتی نظام پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکی مارکیٹ میں منصفانہ مسابقت اور مزدوروں کا تحفظ امریکی محکمہ تجارت نے اپنے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ یہ ہنگامی اقدام امریکی مارکیٹ میں منصفانہ کاروباری مسابقت کو یقینی بنانے اور جبری مشقت کے خلاف عالمی سطح پر دباؤ بڑھانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارت جاری رکھنا جو مزدوروں کے حقوق پر مؤثر اقدامات نہیں کرتے، خود امریکی معیشت، مقامی کارخانوں اور امریکی محنت کشوں کے مفادات کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔

عالمی تجارتی نظام میں شفافیت لانے کا دعویٰ امریکی نمائندہ برائے تجارت نے بھی واشنگٹن کے اس بڑے اقدام کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاشی ٹیکس کا اصل مقصد عالمی تجارتی نظام میں شفافیت، برابری اور انصاف کو فروغ دینا ہے تاکہ امریکی مصنوعات اور وہاں کے مقامی محنت کشوں کو بین الاقوامی سطح پر ہونے والے غیر منصفانہ مقابلے سے مستقل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

برآمدی صنعتوں پر دباؤ اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا خطرہ دوسری جانب، بین الاقوامی معاشی مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکہ کے اس یکطرفہ فیصلے سے عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ، غیریقینی صورتحال اور مختلف بلاکس کے درمیان تجارتی کشیدگی میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے کے بعد پاکستان سمیت تمام متاثرہ ممالک کی مقامی برآمدی صنعتوں پر مالی دباؤ بڑھے گا اور ان کے لیے امریکی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات سستے داموں بیچنا اب ممکن نہیں رہے گا۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسی ویں اجلاس کے صدر کا تاریخی انتخاب، بنگلہ دیش کے سفارتکار خلیل الرحمان کامیاب

محمود احمد june 02,2026

نیویارک / ڈھاکہ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جون 2026ء

عالمی سفارت کاری کے میدان میں جنوبی ایشیا کے لیے بڑی کامیابی سامنے آئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسی ویں (81ویں) سالانہ اجلاس کے صدر کے معرکہ آرا انتخاب میں بنگلہ دیش کے سینیئر اور مایہ ناز سفارتکار خلیل الرحمان حتمی طور پر کامیاب قرار پائے ہیں۔ وہ ستمبر 2026ء سے لے کر ستمبر 2027ء تک قائم رہنے والے اس اہم ترین عالمی اجلاس کے صدر کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دیں گے۔

جنرل اسمبلی میں ریکارڈ رائے شماری اور سو فیصد حاضری اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر نیویارک میں جنرل اسمبلی کے صدر کے منصب کے لیے ہونے والی اس ہنگامی رائے شماری کے دوران دنیا بھر کے ممالک کی جانب سے مجموعی طور پر ایک سو نوے (190) ووٹ ڈالے گئے۔ اس تاریخی انتخاب کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ دنیا کا کوئی بھی رکن ملک اس اہم ووٹنگ کے عمل سے نہ تو غیر حاضر رہا اور نہ ہی کسی نے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا، بلکہ تمام ممالک نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

انتخابی نتائج اور دونوں امیدواروں کے ووٹوں کا موازنہ دنیا کے اس سب سے بڑے سفارتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ انتخابی نتائج کے مطابق، دونوں ممالک کے مابین سخت جوڑ پڑا جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

خلیل الرحمان (بنگلہ دیش): 99 ووٹ حاصل کیے
اینڈریاس کاکوریس (قبرص): 91 ووٹ حاصل کیے

    اقوامِ متحدہ کے قوانین کے مطابق، صدارت کی کرسی حاصل کرنے کے لیے امیدوار کو سادہ اکثریت کے تحت کم از کم چھیانوے (96) ووٹ درکار تھے، جس کے مقابلے میں بنگلہ دیش کے خلیل الرحمان نے ننانوے (99) ووٹ حاصل کر کے میدان مار لیا۔ بین الاقوامی سیاسی ماہرین اس انتخاب کو اس لحاظ سے انتہائی سنسنی خیز اور اہم قرار دے رہے ہیں کہ دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلہ غیر معمولی طور پر سخت رہا اور ہار جیت کا فیصلہ محض آٹھ (8) ووٹوں کے معمولی فرق سے ہوا۔

    نئے صدر کی آئینی ذمہ داریاں اور عالمی منصب بنگلہ دیشی سفارتکار خلیل الرحمان رواں سال ستمبر 2026ء میں شیڈول کے مطابق جنرل اسمبلی کے اکیاسی ویں اجلاس کی صدارت کا باقاعدہ حلف اٹھا کر چارج سنبھالیں گے اور پورے ایک سال تک اس معتبر عالمی منصب پر فائز رہیں گے۔ ان کی کلیدی ذمہ داریوں میں جنرل اسمبلی کے تمام اہم ترین اجلاسوں کی صدارت کرنا، کائنات کے مختلف خطوں میں جاری جنگوں اور بحرانوں کے خاتمے کے لیے رکن ممالک کے درمیان قریبی سفارتی مشاورت کو فروغ دینا اور نازک عالمی امور پر عالمی برادری کے اندر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں اپنا فعال کردار ادا کرنا شامل ہوگا۔

    اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی عالمی حیثیت واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اس وقت کرہ ارض کے تقریباً تمام خودمختار اور آزاد ممالک پر مشتمل دنیا کا سب سے بڑا اور معتبر ترین عالمی فورم ہے۔ یہ وہ تاریخی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر میں پائیدار امن کے قیام، علاقائی سلامتی کے تحفظ، موسمیاتی و پائیدار ترقی، انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے اور بین الاقوامی برادری کے درمیان باہمی معاشی و عسکری تعاون سمیت تمام بڑے اور سنگین عالمی معاملات پر تفصیلی غور و خوض کے بعد مشترکہ فیصلے کیے جاتے ہیں۔