دنیا کے سب سے بڑے بیٹری الیکٹرک طیارے کی پہلی کامیاب پرواز، ایندھن کا کل خرچ محض ایک کافی کے کپ کے برابر

محمود احمد, August 17,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

عالمی ہوابازی اور فضائی سفر کی صنعت میں ایک انتہائی اہم اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے، جہاں مکمل طور پر بیٹری اور بجلی سے چلنے والے دنیا کے سب سے بڑے طیارے نے امریکی ریاست نیویارک کے ایک اہم ہوائی اڈے سے اپنی پہلی اور کامياب آزمائشی پرواز کا کامیاب مظاہرہ مکمل کیا ہے۔ اس تاریخی اور حیرت انگیز پرواز کا سب سے منفرد اور دلچسپ پہلو اس میں استعمال ہونے والا ایندھن اور اس کا کل مالیاتی خرچ تھا، جو محض ایک عام کافی کے کپ کی قیمت کے برابر رہا۔

بین الاقوامیذرائع ابلاغ کی جاری کردہ تفصیلی رپورٹس کے مطابق امریکی خلائی اور ایوی ایشن صنعت کی نامور اور جدید ترین کمپنی “ہارٹ ایئرواسپیس” نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ ان کے خصوصی طور پر تیار کردہ تجرباتی ماڈل “ایکس ون” نے نیویارک کے پلیٹس برگ بین الاقوامی ہوائی اڈے پر قائم فلائٹ ٹیسٹ بیس سے کامیابی کے ساتھ پرواز کی اور اپنے آزمائشی مراحل کو کامیابی سے مکمل کیا۔ کل 27 منٹ کے اس تاریخی اور یادگار فضائی سفر کے دوران طیارے نے فضا میں 1100 فٹ کی بلندی حاصل کی، جبکہ اس دوران طیارے کے اندر نصب طاقتور برقی پروپلشن سسٹم نے ایک میگاواٹ سے بھی زائد کی زبردست پاور مسلسل فراہم کی۔

اس پوری پرواز کی سب سے حیران کن بات یہ رہی کہ یہ سفر مکمل طور پر جہاز میں نصب بیٹری سسٹم سے حاصل شدہ توانائی پر طے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس پورے 27 منٹ کے سفر میں مجموعی طور پر محض 5 امریکی ڈالر یعنی پاکستانی روپوں میں تقریباً چودہ سو روپے کے برابر کی برقی توانائی استعمال ہوئی۔ یہ خرچ عالمی سطح پر معروف برانڈ اسٹار بکس کے ایک کپ کافی (وینٹی کیپوچینو) کی عام قیمت کے بالکل برابر بنتا ہے۔ اس کامیاب آزمائش کے بعد ہوابازی کے ماہرین اور دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں میں خوشی اور حیرت کا عنصر پایا جا رہا ہے۔

کمپنی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر اینڈرس فورسلنڈ نے اس شاندار اور تاریخی پیشرفت پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس طیارے کی پہلی کامیاب پرواز کے ساتھ ہی ہم نے عالمی سطح پر تجارتی اور مسافر بردار پیمانے پر برقی پرواز کا عملی اور کامیاب تجربہ کر کے دکھا دیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ بیٹری اور بجلی کی قوت سے چلنے والے تجارتی مسافر طیارے آنے والے دور میں ایئر لائنز کی معاشی صورتحال کو بنیادی اور انقلابی بنیادوں پر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس جدت کی بدولت مسافروں کے لیے بھی ہوائی سفر کے مجموعی اخراجات میں نمایاں اور ریکارڈ حد تک کمی لائی جا سکے گی۔

تکنیکی ساخت اور بناوٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ہارٹ ایکس ون طیارہ 76 فٹ یعنی تقریباً 23 میٹر لمبا ہے، جبکہ اس کے پروں کا مجموعی پھیلاؤ 106 فٹ یعنی تقریباً 32 میٹر بنتا ہے۔ پرواز بھرنے کے وقت اس بھاری بھرکم طیارے کا کل وزن 25 ہزار پاؤنڈ سے بھی زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ انسانی تاریخ میں فضا میں بلند ہونے والا سب سے بڑا بیٹری برقی طیارہ بن چکا ہے۔ یہ طیارہ بنیادی طور پر کمپنی کے آئندہ آنے والے کمرشل اور تجارتی طیارے “ای ایس تھرٹی” کا ایک مکمل ماڈل ہے، جس کا مقصد برقی نظام، ایرو ڈائنامکس اور دورانِ پرواز کارکردگی کا عملی اور تجربی معائنہ کرنا ہے۔

کمپنی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ 30 نشستوں کی صلاحیت پر مشتمل یہ جدید تجارتی طیارہ سال 2031ء تک بین الاقوامی اور مقامی مسافر بردار سروس میں باقاعدہ طور پر شامل ہو جائے گا۔ ارزاں اور سستی توانائی سمیت انتہائی کم دیکھ بھال اور مرمتی اخراجات کی بدولت یہ طیارہ روایتی علاقائی اور مختصر پروازوں کے ماہانہ آپریشنل اخراجات میں 40 فیصد سے زائد کی نمایاں کمی لائے گا۔

عالمی ہوابازی کے شعبے سے وابستہ یونائیٹڈ ایئرلائنز، ایئر کینیڈا اور جے ایس ایکس جیسی عالمی درجے کی بڑی اور معروف ایئرلائنز اس انقلابی الیکٹرک طیارے کو خریدنے اور اپنی فضائی خطوط میں شامل کرنے کے لیے خریداروں کی فہرست میں سب سے پہلے پیش پیش ہو چکی ہیں۔ تکنیکی صلاحیتوں کی بات کی جائے تو یہ طیارہ صرف بیٹری موڈ پر 200 کلومیٹر اور ہائبرڈ یعنی مخلوط موڈ پر 800 کلومیٹر تک کا لمبا سفر طے کرنے کی مکمل صلاحیت رکھے گا، جبکہ اس کی فاسٹ چارجنگ کا کل وقت بھی محض 30 منٹ کے قریب ہوگا۔

انڈونیشیا کے یومِ آزادی پر صدر آصف علی زرداری کا انڈونیشیائی قیادت اور عوام کو مبارکباد کا پیغام

کاشف عباسی , August 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے انڈونیشیا کے یومِ آزادی کے موقع پر انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو، وہاں کی حکومت اور عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے۔ صدرِ مملکت نے اپنے تبریکی خط میں کہا کہ یہ تاریخی دن انڈونیشیا کے عوام کے عزم، ہمت اور آزادی کے لیے ان کے بانی رہنماؤں کی جدوجہد اور قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔

صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان مشترکہ تاریخ، باہمی اعتماد، ایک جیسے مذہبی اقدار اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر تعاون پر مبنی گہرے دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وقت کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، صحت، تعلیم اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے۔ صدر مملکت نے امید ظاہر کی کہ انڈونیشیائی صدر پرابوو سبیانتو کے گزشتہ سال کے دورۂ پاکستان کے بعد پیدا ہونے والا یہ تعاون مزید مضبوط ہوگا، اور انہوں نے انڈونیشیا کے عوام کی مزید ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔

بھارتی ریاست مہاراشٹر کے سرکاری بورڈنگ سکول میں آسیب کی افواہ، 600 طلبہ کا سکول سے انخلا

محمود احمد, August 17,2026

نیو دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

بھارتی ریاست مہاراشٹر کے ضلع ناشک کے علاقے ڈوما کے ایک سرکاری بورڈنگ سکول میں مبینہ طور پر “آسیب کا سایہ” اور مافوق الفطرت واقعات کی افواہوں کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا، جس کے نتیجے میں سکول میں زیرِ تعلیم 810 طلبہ و طالبات میں سے تقریباً 600 طلبہ نے ہاسٹل چھوڑ دیا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعے کا آغاز جولائی کے آخر میں اس وقت ہوا جب چار طالبات اچانک بے قابو ہو کر رونے اور بعد میں غیر معمولی طور پر ہنسنے لگیں، جبکہ کچھ بچوں نے پازیب کی آوازیں سننے کا دعویٰ بھی کیا۔

واقعے کے بعد پھیلنے والے خوف اور توہم پرستی کے باعث گاؤں کے لوگوں نے دعویٰ کیا کہ سکول کی تعمیر کے دوران ایک مہوا کے درخت کی کٹائی سے ارواح ناراض ہوئی ہیں، جبکہ کچھ نے اسے مقامی دیوتا کی ناراضگی سے جوڑا۔ دوسری جانب ماہرینِ صحت اور ماہرینِ نفسیات نے ہاسٹل اور سکول کا دورہ کرنے کے بعد کسی بھی قسم کے مافوق الفطرت عنصر کو مسترد کر دیا ہے۔ معالجین کا کہنا ہے کہ یہ شدید ذہنی دباؤ اور خوف سے پیدا ہونے والی “ماسریا ہسٹیریا” کی ایک کیفیت ہے۔ سکول کے ہیڈ ماسٹر سنجے چوہدری کے مطابق بچوں کی مسلسل کونسلنگ کی جا رہی ہے اور چند طلبہ واپس لوٹ آئے ہیں۔ تاہم، انتظامیہ کی جانب سے سائنسی حل کے ساتھ ساتھ پنڈتوں اور پجاریوں کو ہاسٹل بلانے پر میڈیا کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔

جنوبی کوریا سے ناراضگی: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مشترکہ فوجی مشقیں محدود کرنے کا حکم

محمود احمد, August 17,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ جاری مجوزہ مشترکہ فوجی مشقوں کا دائرہ کار فوری طور پر محدود کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق انہوں نے یہ قدم جنوبی کوریا کی جانب سے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی امریکی کوششوں میں عدم تعاون اور مدد سے انکار کے بعد اٹھایا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں اور یہ مشترکہ فوجی مشقیں نہ صرف انتہائی مہنگی ہیں بلکہ شمالی کوریا کو ایک نامناسب اور دشمنانہ پیغام بھی دیتی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے گزشتہ دورِ صدارت کے دوران شمالی کوریا دھمکی آمیز رویے سے گریزاں رہا اور احترام کا مظاہرہ کرتا رہا۔ چونکہ اس وقت مشقوں کو مکمل طور پر منسوخ نہیں کیا جا سکتا، اس لیے انہوں نے وزیرِ دفاع (وزیرِ جنگ) پیٹ ہیگستھ کو ہدایت کی ہے کہ ان کے حجم اور دائرہ کار میں نمایاں کمی لائی جائے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے حال ہی میں جنوبی کورین صدر سے ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف امریکی مہم میں شمولیت کی درخواست کی تھی جسے انہوں نے رد کر دیا۔ واضح رہے کہ 11 روز پر مشتمل ان مشقوں میں 18 ہزار جنوبی کورین فوجیوں نے حصہ لینا تھا، جس پر شمالی کوریا نے بھی سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے جنگ کی تیاری قرار دیا تھا۔

عالمی سطح پر اہم معدنیات کا بڑھتا ہوا انحصار اور جیو پولیٹیکل تبدیلیاں: آئی ایم ایف کا جائزہ

کاشف عباسی , August 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنے حالیہ بلاگ میں اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ماحول دوست و شفاف توانائی کی طرف منتقلی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی وسعت اور دفاعی صلاحیتوں کی ازسرِ نو ترتیب کے باعث عالمی سطح پر معدنیات کی اسٹریٹجک اہمیت میں ایک بار پھر بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق اہم اور نایاب معدنیات پر دنیا کے بڑھتے ہوئے انحصار نے عالمی سیاسی اور معاشی تناظر میں نئی جیو پولیٹیکل فالٹ لائنز کو جنم دیا ہے۔

بلاگ کے متن کے مطابق لیتھیم، کوبالٹ اور دیگر نایاب زمینوں سے حاصل ہونے والی معدنیات آج عالمی معیشت میں بالکل وہی کلیدی اور اسٹریٹجک مقام حاصل کر چکی ہیں جو ماضی میں خام تیل، کوئلہ اور سٹیل وغیرہ کو حاصل تھا۔ آئی ایم ایف نے مزید نشاندہی کی کہ بین الاقوامی سطح پر برآمدات پر پابندیاں، تجارتی کنٹرول اور دیگر جیو پولیٹیکل رکاوٹیں اس شعبے کو شدید متأثر کر رہی ہیں۔ مالیاتی ادارے کے مطابق یہی اہم معدنیات مستقبل میں دنیا کی اقتصادی، صنعتی، ٹیکنالوجیکل اور عسکری طاقت کے نئے معیار طے کریں گی۔

سیاست دانوں کو تعلیمی اداروں کی بہتری پر توجہ دینی چاہیے، کاکروچ جنتا پارٹی کی “سکول ٹھیک کرو” مہم کا آغاز

محمود احمد, August 16,2026

ممبئی (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے ریاست مہاراشٹر کے ضلع ہنگولی میں واقع اپنے آبائی گاؤں سنوک پیچری کے ایک سرکاری سکول سے باقاعدہ طور پر “سکول ٹھیک کرو” مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ بانی صدر نے طلباء سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی نظام کی بہتری وقت کی اہم ضرورت ہے اور عوامی سطح پر یہ شعور بیدار ہو چکا ہے کہ اب سیاست دانوں سے تعلیم کے بنیادی حق پر سوالات پوچھے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست میں ماضی و حال کی حکومتوں نے سرکاری سکولوں کی بدحالی کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی، جس کے باعث اب عوامی دباؤ کے ذریعے انہیں کام کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی ترجیحات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی بینروں، اشتہار بازی اور دیگر مہمات پر خرچ ہونے والے خطیر فنڈز اگر سرکاری سکولوں اور وہاں زیرِ تعلیم بچوں کی سہولیات پر خرچ کیے جاتے تو اس سے معاشرے کا مستقبل بہتر ہوتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب سیاست دان اپنے لیے نئی اور تجدید شدہ سرکاری عمارتیں تعمیر کر سکتے ہیں تو وہ اپنے ہی دیہات اور علاقوں میں معیاری تعلیمی ادارے کیوں قائم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسانوں اور مزدوروں کے بچوں کو بھی یکساں اور معیاری تعلیم کا پورا حق حاصل ہے اور پارٹی جلد ہی سرکاری ہسپتالوں کی بہتری کے لیے بھی ایسی ہی آگاہی مہم شروع کرے گی۔

پشاور میں قونصل خانہ بند ہونے سے امریکہ کی خیبر پختونخوا میں دلچسپی ختم نہیں ہوئی: تھامس ایکرٹ

محمود احمد, August 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں آخری امریکی قونصل جنرل تھامس ایکرٹ نے کہا ہے کہ پشاور میں امریکی قونصل خانہ بند کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امریکہ کی خیبر پختونخوا کے خطے میں دلچسپی ختم ہو گئی ہے۔ اسلام آباد میں پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن اور انٹرنیشنل ریسرچ کونسل فار ریلیجئس افیئرز کی جانب سے منعقدہ ایک الوداعی تقریب اور ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قونصلر خدمات، تجارتی و کاروباری روابط کے فروغ، سیکیورٹی تعاون کی مضبوطی اور خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان کے عوام کے ساتھ شراکت داری استوار کرنے کی سفارتی کوششیں مستقبل میں بھی بدستور جاری رہیں گی۔

پشاور میں امریکی قونصل خانے کی باقاعدہ بندش کے بعد اب خیبر پختونخوا کے ساتھ تمام سفارتی اور عوامی روابط کی ذمہ داریاں باقاعدہ طور پر اسلام آباد میں واقع امریکی سفارت خانے کو منتقل کر دی گئی ہیں۔ تھامس ایکرٹ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر اور تجربہ کار سفارت کار ہیں جو اپریل دو ہزار تین سے امریکی وزارتِ خارجہ سے وابستہ ہیں۔ اپنے بائیس سالہ سفارتی کیریئر کے دوران انہوں نے گبون، ویتنام، برما اور قبرص میں اہم خدمات انجام دی ہیں، جبکہ وہ دو مرتبہ بغداد (عراق) میں سیکیورٹی آپریشنز کی نگرانی اور بغداد ایمبیسی سیکیورٹی فورسز کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کابل (افغانستان) میں عارضی ڈیوٹی کے دوران اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی کی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں بھی ادا کی تھیں۔

ہنگری میں پولینڈ کے سیاحوں کی بس کھائی میں جا گری، بارہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی

محمود احمد, August 16,2026

بوداپیسٹ (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

ہنگری میں پولینڈ کے سیاحوں سے بھری ایک مسافر بس کے کھائی میں گرنے سے بارہ افراد ہلاک اور درجنوں شدید زخمی ہو گئے۔ مقامی پولیس کے مطابق یہ دلخراش حادثہ اتوار کے روز اس وقت پیش آیا جب مسافر بس دارالحکومت بوداپیسٹ کو شمال مشرقی شہر نیریگ ہازا سے ملانے والی ایم تھری موٹروے پر جا رہی تھی کہ اچانک سڑک سے اتر کر گہری کھائی میں جا گری۔ بس میں سوار تمام مسافروں کا تعلق پولینڈ سے تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثہ ڈرائیور کو دورانِ ڈرائیونگ نیند کا جھونکا آنے کے باعث پیش آیا، تاہم پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بس ڈرائیور کو حراست میں لے کر باقاعدہ تحریری تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق ستائیس ٹن وزنی بس میں ستاؤن مسافر اور دو ڈرائیور سوار تھے۔ حادثے کے فوراً بعد امدادی ٹیموں نے کرینوں کی مدد سے بس کو اٹھا کر نیچے دبے افراد کو نکالا اور پینتیس مسافروں کو بحفاظت باہر نکال لیا۔

ہنگری کی ایمبولینس سروس کے مطابق دس شدید زخمی افراد کو فوری طبی امداد دیتے ہوئے قریب ترین ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں منتقل کیا گیا، جبکہ مزید سڑتیس افراد کو معمولی چوٹیں آئیں۔ ہنگری کے وزیراعظم پیٹر میگیار نے اس دردناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمی مسافروں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔

سرسبز پہاڑ اور شفاف پانی ہی پائیدار معاشی سرمایہ کاری ہیں: اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل یاسمین فواد

محمود احمد, August 16,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل یاسمین فواد نے چائنا میڈیا گروپ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ماحول اور معیشت کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ “سرسبز پہاڑ اور شفاف پانی” ہی دنیا کے لیے سب سے مستحکم اور پائیدار معاشی سرمایہ کاری ہیں۔ انہوں نے چین کے صدر شی جن پنگ کے پیش کردہ ماحولیاتی و معاشی تصور کی اہمیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ نظریہ کہ “سرسبز پہاڑ اور شفاف پانی انمول اثاثے ہیں”، دنیا کے تمام ترقیاتی شعبوں میں ایک نمایاں اور جدید سمت فراہم کرتا ہے۔

انٹرویو کے دوران یاسمین فواد نے خبردار کیا کہ ایک طرف قدرتی وسائل اور ماحول کو مسلسل تباہ کرنا اور دوسری طرف یہ توقع رکھنا کہ معاشی ترقی سے لازوال فائدے حاصل ہوں گے، بالکل ناممکن اور غیر منطقی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاشی ترقی کا یہ پرانا اور فرسودہ طریقہ صرف قلیل مدتی فوائد دے سکتا ہے، جبکہ طویل مدت میں دنیا کو اس کی انتہائی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی بحرانوں کا حل ہمارے سامنے موجود ہے اور دنیا کو اب بحران پیدا ہونے کے بعد کارروائی کا انتظار کرنے کے بجائے مضبوط عزم کے ساتھ فوری اور فعال اقدامات اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔

کابل میں امریکی سفارت خانہ دوبارہ کھولا جائے اور سرمایہ کاری کی جائے، افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کا مطالبہ

محمود احمد, August 16,2026

کابل (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

افغانستان کی طالبان عبوری حکومت کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولے اور افغانستان کی معیشت و بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرے۔ امریکی جریدے ‘دی نیویارک ٹائمز’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں افغان وزیرِ خارجہ نے کہا کہ طالبان حکومت امریکہ کے ساتھ جنگ کے باب کو ختم سمجھتی ہے اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات اور مثبت روابط کے ایک نئے باب کی خواہش مند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی افغان اپنی سرزمین پر کسی غیر ملکی فوج کی موجودگی برداشت نہیں کر سکتا، جبکہ طالبان انتظامیہ امریکہ میں بھی اپنا سفارتی مشن دوبارہ فعال کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے واضح کیا کہ افغان انتظامیہ کو غیر ملکی سرمائے کی اشد ضرورت ہے، اس لیے امریکہ سمیت دنیا کا کوئی بھی ملک افغانستان کے معدنی ذخائر اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں آزادانہ سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔ تاہم انٹرویو کے دوران انہوں نے اس سوال کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا کہ آیا خواتین کی تعلیم اور حقوق پر پابندیاں عالمی سطح پر طالبان حکومت کو تسلیم کرنے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے تحریری ردِعمل میں واضح کیا ہے کہ طالبان اپنے انسدادِ دہشت گردی کے وعدوں میں ناکام رہے ہیں اور افغانستان کو دہشت گرد گروہوں کے لیے لانچ پیڈ بننے سے نہیں روک سکے، لہٰذا فی الحال تعلقات کی بحالی کا کوئی امکان نہیں اور امریکہ صرف اپنے قومی مفاد کے تحت ہی طالبان سے رابطہ قائم رکھتا ہے۔

چینی مصنوعات کی چالیس ممالک کے ذریعے امریکہ ترسیل کا الزام، صدر ٹرمپ کا رپورٹ جاری کرنے کا دعویٰ

محمود احمد, August 16,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر سنگین تجارتی دھوکہ دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ٹیرف اور ٹیکسوں سے بچنے کے لیے چینی مصنوعات کو بھارت، اسرائیل، کینیڈا، میکسیکو، اور یورپی یونین سمیت چالیس سے زائد مختلف ممالک کے ذریعے امریکہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر اپنے ایک معاون کی تیار کردہ خصوصی رپورٹ شیئر کی ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس مبینہ غیر قانونی ترسیل اور ری برانڈنگ کے ذریعے سالانہ چالیس ارب سے لے کر تین سو تین ارب ڈالر تک کی ٹیکس چوری کی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ سلسلہ سال دو ہزار اٹھارہ میں چین پر اضافی ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد سے تیزی سے بڑھا ہے، جس کے تحت چینی سامان پر دوبارہ لیبل لگائے جاتے ہیں، ان کی نئی پیکنگ اور تھوڑی بہت پروسیسنگ کی جاتی ہے، اور رسیدوں میں تبدیلی کر کے سامان کا اصل ماخذ چین کے بجائے کسی اور ملک کو ظاہر کر دیا جاتا ہے۔

امریکی انتظامیہ کی اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس غیر قانونی اور مبینہ تجارتی ہیر پھیر کی وجہ سے امریکہ میں اب تک تقریباً ساڑھے چار لاکھ روزگار کے مواقع اور ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں، جبکہ وفاقی ٹیکس اور سالانہ قومی مجموعی ملکی پیداوار کی مد میں امریکی معیشت کو اربوں ڈالر کا شدید نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین جن دیگر ملکوں کی سرحدوں اور تجارتی راستوں کو استعمال کر رہا ہے ان میں جاپان، جنوبی کوریا، برازیل، انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، ترکیہ، کمبوڈیا، لاؤس اور میانمار جیسے ممالک شامل ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اب مختلف ممالک پر براہِ راست ٹیرف لگانے کے ساتھ ساتھ ان تمام قانونی اور انتظامی خامیوں کو بند کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کر دی ہے جن کا فائدہ اٹھا کر غیر ملکی درآمد کنندگان امریکی ملازمین، مقامی صنعت کاروں اور ٹیکس دہندگان کو نقصان پہنچا کر اپنا سامان مارکیٹ میں کھپا رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر کے اس بیان اور جاری کردہ رپورٹ پر شدید تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔ ناقدین اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی خارجہ پالیسی اور ایران سے متعلق کشیدگی کی ناکامیوں اور معاشی دباؤ سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ٹیرف جنگ کا پرانا موقف دوبارہ استعمال کر رہے ہیں۔ عالمی امور اور معاشی مسائل کے نامور امریکی ماہر پروفیسر جیفری سیکس نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ معاشی بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کی مصنوعات اور ان کی عالمی سپلائی چین کے بغیر موجودہ دور میں دنیا کا نظام چلانا ممکن نہیں رہا، اور اگر امریکی یا بین الاقوامی تاجر سستی مصنوعات کے لیے کسی تیسرے ملک میں پروسیسنگ کرتے ہیں تو اس کا تمام تر ملبہ بیجنگ پر ڈالنا نامناسب ہے۔

معاشی ماہرین نے مزید کہا کہ غلط معاشی پالیسیوں اور تجارتی جنگوں کی وجہ سے آج عام امریکی شہری کے لیے خوراک، بنیادی ضروریات، رہائش اور نقل و حرکت کی قیمتیں پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ ناقدین کا الزام ہے کہ حکومت کا تمام تر فوکس معاشی اصلاحات کے بجائے سیاسی مقاصد اور ٹیرف پالیسیوں کے ذریعے نجی فوائد حاصل کرنے پر مرثوز ہے، جس کی قیمت امریکی عوام کو مہنگائی اور بیروزگاری کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے۔ تاھم چین اور دیگر نامزد کردہ چالیس سے زائد ممالک کی حکومتوں کی جانب سے فی الحال اس امریکی رپورٹ اور صدر ٹرمپ کے ٹوئٹ پر کوئی باقاعدہ یا حتمی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

کینیڈا میں پاکستان کا 79واں یومِ آزادی اور قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی تقریبات

محمود احمد, August 15,2026

اوٹاوا (نیوز اینڈ نیوز) — 15 اگست 2026ء

کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں واقع پاکستان کے ہائی کمیشن سمیت مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل جنرلز کے زیرِ اہتمام پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کی انتہائی پروقار، عظمت والی اور روح پرور تقریبات منعقد کی گئیں۔ ان تاریخی تقریبات کا ایک اور نہایت اہم اور دلکش پہلو بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی خصوصی تقریبات کا باقاعدہ آغاز تھا، جس نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی برادری کے ملی جوش و جذبے کو دوبالا کر دیا۔

اوٹاوا میں پاکستان ہائی کمیشن کی چانسری میں مرکزی اور پُرجوش پرچم کشائی کی تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں کینیڈا بالخصوص گریٹر اوٹاوا کے علاقے سے تعلق رکھنے والی پاکستانی کمیونٹی کی معزز شخصیات، خواتین، بچوں، مقامی کینیڈین شہریوں اور پاکستان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے فوراً بعد پاکستان کے قومی ترانے کی دلکش اور باوقار دھن کے ساتھ ہی قومی پرچم فضا میں لہرایا گیا اور پورا احاطہ “پاکستان زندہ باد” کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا۔

صدر، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کے خصوصی پیغامات

تقریب کے ابتدائی مرحلے میں سفارتی مشن کے اعلیٰ حکام نے پاکستان کی اعلیٰ ترین القيادت کے یومِ آزادی کی مناسبت سے بھیجے گئے خصوصی اور فکر انگیز پیغامات تمام حاضرین کو پڑھ کر سنائے۔ جن میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے پیغامات شامل تھے۔ پیغامات میں ملکی آزادی کی تاریخ، بانیانِ پاکستان کی لائقِ تحسین قربانیوں، اوورسیز پاکستانیوں کے بے مثال معاشی و سفارتی کردار اور ملک و قوم کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے اصولوں پر کاربند رہنے کی اہمیت پر زور دیا گیا تھا۔

قائداعظم کے 150ویں یومِ پیدائش کی تقریبات، تصویری نمائش اور ڈاکیومنٹری

اس مبارک موقع پر بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی مناسبت سے سال بھر جاری رہنے والی خصوصی تقریبات کی افتتاحی مہم کا باقاعدہ آغاز بھی کیا گیا۔ اس سلسلے میں ہائی کمیشن کے احاطے میں قائداعظم محمد علی جناح کی بے مثال زندگی، قیادت اور قیامِ پاکستان کی تاریخی و بے باک جدوجہد پر مبنی ایک اعلیٰ معیار کی دستاویزی فلم پیش کی گئی، جسے حاضرین نے انتہائی دلچسپی سے دیکھا۔

علاوہ ازیں، بانیٔ پاکستان کی زندگی کے یادگار و تاریخی لمحات، تحریکِ پاکستان کے اہم موڑ اور پاکستان کے قائم ہونے سے لے کر اب تک کے تاریخی سنگِ میل پر مبنی ایک شاندار ڈیجیٹل تصویری نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا۔ تصویری نمائش نے نوجوان نسل اور بچوں کو اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں اور قائد کی بے مثال قیادت سے آگاہی حاصل کرنے کا نایاب اور بہترین موقع فراہم کیا۔

ہائی کمشنر محمد سلیم کا تقریب سے بصیرت افروز خطاب

تقریب کے مرکزی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کینیڈا میں پاکستان کے ہائی کمشنر محمد سلیم نے کینیڈا میں مقیم تمام پاکستانیوں اور پوری قوم کو یومِ آزادی کے پرمسرت موقع پر دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے رفقائے کار کی ناقابلِ فراموش خدمات اور لازوال ورثے کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

ہائی کمشنر نے اپنے خطاب میں اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان قائداعظم کے متعین کردہ وژن کے مطابق ایک پُرامن، جمہوریت پسند، ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کی تعمیر و تشکیل کے لیے اپنے عزم پر پوری طرح قائم و دائم ہے۔ ہائی کمشنر محمد سلیم کا کہنا تھا:

“پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی سطح پر امن، بات چیت، باہمی احترام اور ریاستوں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا ہے اور مستقبل میں بھی دنیا بھر میں امن و استحکام کے لیے اپنا مثبت اور مؤثر سفارتی کردار جاری رکھے گا۔”

انہوں نے کینیڈا اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات کی مظبوطی پر بات کرتے ہوئے کینیڈا میں مقیم اوورسیز پاکستانی کمیونٹی کی خدمات کو شاندار الفاظ میں سراہا۔ ہائی کمشنر نے کہا کہ کینیڈا میں آباد پاکستانی اپنے اخلاق، محنت، پیشے اور علمی صلاحیتوں کی بدولت نہ صرف کینیڈین معاشرے کی ترقی میں اپنا اہم ترین حصہ ڈال رہے ہیں بلکہ عوامی سطح کے روابط کو مضبوط بناتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان ایک پائیدار اور مضبوط پل کا کام بھی انجام دے رہے ہیں۔

پاک مساوات، مسلح افواج کو خراجِ تحسین اور جوانوں کا جذبہ

تقریب میں شرکت کرنے والے کینیڈین اور پاکستانی خاندانوں، بالخصوص نوجوانوں اور بچوں کی شمولیت نے تقریب کے ماحول کو حب الوطنی اور قومی یکجہتی کے رنگوں سے بھر دیا۔ شرکاء نے ملک کی سرحدوں کی حفاظت، ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاعِ وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والی پاکستان کی بہادر مسلح افواج اور غیور عوام کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔

تقریب کے شرکاء کا کہنا تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کا سال بھر جاری رہنے والا سلسلہ ہماری نئی اور آنے والی نسلوں کو بانیٔ پاکستان کے بلند اصولوں، دوراندیشی اور وژن سے رہنمائی حاصل کرنے کا ایک عظیم اور تحریکی موقع فراہم کرے گا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ بیرونِ ملک رہتے ہوئے بھی اپنے وطنِ عزیز کی معاشی و سماجی ترقی کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

اوٹاوا، ٹورنٹو، مونٹریال اور وینکوور میں یومِ آزادی کا جوش و خروش

اوٹاوا کے علاوہ مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور کے قونصلیٹ جنرلز میں بھی پرچم کشائی کی علیحدہ اور پروقار تقریبات منعقد کی گئیں، جہاں قونصل جنرلز نے پاکستانی پرچم لہرائے اور اپنی اپنی تحویل کے علاقوں میں رہنے والی پاکستانی کمیونٹی کو یکجا کیا۔ ان تمام تقریبات میں قائداعظم کے 150ویں یومِ پیدائش کے حوالے سے شمعیں روشن کی گئیں اور خصوصی تقریبات منعقد کی گئیں۔

تقریب کے اختتامی مرحلے پر ہائی کمشنر محمد سلیم نے سفارتی حکام، کمیونٹی کے معززین اور بچوں کے ساتھ مل کر یومِ آزادی اور قائد کے 150ویں یومِ پیدائش کی خوشی میں خصوصی کیک کاٹا۔ تقریب کے اختتام پر وطنِ عزیز کی ترقی، سلامتی اور پائیدار امن کے لیے اجتماعی دعائیں کی گئیں اور حاضرین کی تواضع روایتی پاکستانی کھانوں اور مٹھائیوں سے کی گئی۔

نیویارک میں روم میٹس کا عجیب و غریب تنازع وائرل: تالے، نگرانی کے کیمرے اور پیشاب کی بوتلوں کا معاملے پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ

محمود احمد, August 15,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 15 اگست 2026ء

امریکی شہر نیویارک کے علاقے بروکلین کے ایک کرائے کے اپارٹمنٹ میں روم میٹس کے درمیان پیدا ہونے والے عجیب و غریب اور غیر معمولی تنازع نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی ہے۔ باتھ روم پر تالے لگانے، نگرانی کے کیمرے نصب کرنے، مشترکہ جگہوں کے استعمال پر تلخ کلامی اور پیشاب کی بوتلوں جیسے ناخوشگوار واقعات پر مبنی اس کہانی کو لاکھوں صارفین دیکھ چکے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق 30 سالہ کائل بوبی ہاروی نومبر 2023ء میں بروکلین کے علاقے بش وِک میں واقع چار بیڈروم کے ایک اپارٹمنٹ میں بطور سب ٹیننٹ منتقل ہوئے تھے، جہاں وہ ماہانہ تقریباً 1050 ڈالر کرایہ ادا کرتے تھے۔ ابتدا میں حالات معمول کے مطابق رہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ باتھ روم، کچن اور فرنیچر کے استعمال پر رہائشیوں کے درمیان تنازعات نے شدید نوعیت اختیار کر لی۔

معاملہ اس وقت انتہائی سنگین ہوا جب اپارٹمنٹ کے واحد قابلِ استعمال باتھ روم پر مبینہ طور پر تالا اور ڈکٹ ٹیپ لگا کر اسے بند کر دیا گیا۔ ایک اور روم میٹ جو میڈینا کے مطابق باتھ روم تک رسائی نہ ملنے کے باعث مجبوراً بعض افراد کو بوتلوں میں پیشاب کرنا پڑا۔ علاوہ ازیں، گھر میں ایک نگرانی کا کیمرہ بھی نصب کیا گیا جس کا رخ روم میٹس کے کمروں کے دروازوں کی طرف تھا۔ ہاروی نے ان تمام واقعات کی ویڈیوز بنا کر کے نام سے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا شروع کر دیں، جنہیں 20 ملین (2 کروڑ) سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے اور صارفین اسے ایک حقیقی زندگی کا ریئلٹی شو قرار دے رہے ہیں۔

دوسری جانب اپارٹمنٹ کے بنیادی لیز ہولڈر اسٹیفن پُلیڈو نے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے الٹا ہاروی اور دیگر رہائشیوں کے خلاف ہراسانی کی پولیس شکایات درج کرائی ہیں۔ جون میں ہاروی کو اپارٹمنٹ خالی کرنے کا نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا جسے انہوں نے غیر قانونی قرار دے کر قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ معاملہ اب نیویارک کی مقامی عدالتوں میں کرایہ داری اور رہائشی حقوق کے ایک قانونی و دیوانی تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا بیان محض ایک مذاق تھا: وائٹ ہاؤس کی ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر وضاحت

محمود احمد, August 15,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 15 اگست 2026ء

امریکی ایوانِ صدر (وائٹ ہاؤس) کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ درپیش تنازع کے تناظر میں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے سے متعلق دیا گیا بیان محض مذاق کے طور پر دیا تھا اور اس حوالے سے انتظامیہ کی کوئی باقاعدہ پالیسی یا منصوبہ بندی موجود نہیں ہے۔

امریکی جریدے کے معروف صحافی برائن شوارٹز نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ کے ذریعے بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے ایک انتہائی سینئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیویارک میں ایک تقریب اور تقریر کے دوران آبنائے ہرمز کو امریکہ کا علاقہ بنانے کے حوالے سے جو بات کی تھی، وہ سنجیدہ سیاسی یا دفاعی فیصلہ نہیں بلکہ محض ایک مزاحیہ جملہ تھا۔

وائٹ ہاؤس کے سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے سیکیورٹی یا دفاعی مشیروں کے ساتھ اس قسم کے کسی بھی ممکنہ قدم یا قبضے کے معاملے پر کوئی باقاعدہ ملاقات یا مشاورت نہیں کی۔ دوسری جانب صحافی برائن شوارٹز نے اپنا ذاتی مشاہدہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ نیویارک کی تقریب میں خود موجود تھے، جہاں یہ جملہ ادا کرنے کے بعد صدر ٹرمپ مسکرائے ضرور تھے لیکن ان کے انداز سے ایسا تاثر بھی ابھر رہا تھا جیسے وہ اپنے بیان کو سچ ثابت کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی حساس اور اہم ترین سمندری راستہ سمجھی جاتی ہے، اور صدر ٹرمپ کے اس متنازع بیان نے عالمی سفارتی اور صحافتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی تھی، جس پر اب وائٹ ہاؤس نے وضاحت جاری کر کے صورتحال کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔

خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز کی جغرافیائی و معاشی اہمیت

آبنائے ہرمز خلیجِ فارس کو خلیجِ عمان اور عرب سمندر سے ملاتی ہے، جہاں سے دنیا کے مجموعی پیٹرولیم کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت اور ایندھن کی قیمتوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے دیے گئے اس قسم کے بیان پر عالمی اور علاقائی سطح پر فوری ردِعمل دیکھنے میں آیا، تاہم وائٹ ہاؤس کے حکام نے واضح کر دیا ہے کہ امریکہ اس قسم کے کسی اقدام کا ارادہ نہیں رکھتا اور اسے ایک زبانی مذاق سے زیادہ کچھ نہ سمجھا جائے۔

امریکی پالیسی پر تجزیہ کاروں کی آراء

سیاسی و سفارتی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ صدر ٹرمپ کی غیر روایتی گفتگو کا انداز اکثر وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ اور ترجمانوں کے لیے چیلنجز پیدا کرتا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ کے قریبی ذرائع اور وائٹ ہاؤس اس بیان کو محض ایک مزاحیہ جملہ قرار دے کر معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن عالمی سطح پر حساس بحری راستوں کے حوالے سے امریکی صدر کا یہ بیان بین الاقوامی قانون اور علاقائی خود مختاری کے حوالے سے مزید سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

نیویارک میں پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کی شاندار تقریب: اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کا پرچم کشائی کے بعد تقریب سے خطاب

محمود احمد, August 14,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 14 اگست 2026ء

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور قونصلیٹ جنرل آف پاکستان، نیویارک کے مشترکہ اور باہمی اہتمام سے چانسلری کی عمارت میں ملک کے 79ویں یومِ آزادی کی مناسبت سے ایک انتہائی شاندار، والہانہ اور پروقار پرچم کشائی کی تقریب منعقد کی گئی۔ اس تاریخی اور اہم تقریب میں امریکہ بالخصوص نیویارک اور گرد و نواح میں مقیم پاکستانی برادری، سفارتی اہلکاروں، خواتین، بچوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے انتہائی جوش و جذبے اور ملی یکجہتی کے ساتھ شرکت کی۔

تقریب کا باقاعدہ اور پروقار آغاز پاکستان کے قومی ترانے کی دلکش اور روح پرور دھن سے ہوا، جس کے ساتھ ہی اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے تمام حاضرین کی موجودگی میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا۔ اس موقع پر چانسلری کا احاطہ پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ پرچم کشائی کے فوراً بعد تقریب میں موجود تمام ارکان اور معزز مہمانوں نے ملکی سلامتی، پائیدار ترقی، استحکام اور امن و امان کے لیے خصوصی اجتماعی دعا کی۔

بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور تحریکِ پاکستان کو خراجِ عقیدت

تقریب کے باقاعدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس دن کی تاریخی اہمیت، پاکستان کے بنیادی نظریہ اور قومی مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال قیادت، اصول پسندی اور دوراندیشی کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک غیر معمولی مدبر اور تاریخی ریاست ساز قرار دیا۔ سفیر عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ قائداعظم نے نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کی تاریخی جدوجہد کی باوقار قیادت کی بلکہ عالمی نقشے پر ایک آزاد، خود مختار اور باوقار قومی ریاست کی بنیاد بھی رکھی۔

اپنے خطاب کے دوران سفیر عاصم افتخار احمد نے مشہور و معروف امریکی مؤرخ اور سوانح نگار اسٹینلے وولپرٹ کے قائداعظم محمد علی جناح کے بارے میں تاریخی قول کا بالخصوص حوالہ دیا۔ انہوں نے اسٹینلے وولپرٹ کے الفاظ کو دہراتے ہوئے کہا:

“بہت کم افراد تاریخ کے دھارے کا رخ نمایاں طور پر بدلتے ہیں۔ اس سے بھی کم لوگ دنیا کے نقشے میں تبدیلی لاتے ہیں۔ اور شاید ہی کسی کو ایک قومی ریاست کے قیام کا اعزاز حاصل ہوتا ہے۔ محمد علی جناح نے یہ تینوں عظیم الشان کارنامے تنہا انجام دیے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ قائداعظم کے متعین کردہ اصول—اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط—آج بھی پاکستانی قوم کے لیے ایک روشن مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور انہی اصولوں پر کاربند رہ کر ہم دنیا میں پیش آنے والے کسی بھی چیلنج پر آسانی سے قابو پا سکتے ہیں۔

1947ء سے 2026ء تک کا شاندار قومی سفر اور مسلح افواج کو سلام

سفیر عاصم افتخار احمد نے 14 اگست 1947ء سے لے کر آج یعنی 14 اگست 2026ء تک کے قومی سفر کی کٹھن راہوں کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اپنے قیام کے بعد سے متعدد سخت، جیو پولیٹیکل اور معاشی چیلنجز کا سامنا کیا ہے، لیکن پاکستانی قوم نے ہر مشکل گھڑی میں غیر معمولی استقامت، اتحاد اور عالی ہمتی کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے وطنِ عزیز کی سرحدوں کے دفاع اور شہریوں کی تحفظ کی خاطر دن رات کوشاں پاکستان کی مسلح افواج کی جرات، شجاعت اور مسلسل ثابت قدمی کو دل کھول کر سراہا۔ سفیر عاصم افتخار نے مئی 2025ء میں بھارت کے ساتھ پیش آنے والی حالیہ شدید کشیدگی اور سرحدی ناخوشگوار صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہماری افواج نے مئی 2025ء کے دوران جس بے مثال طاقت، پیشہ ورانہ مہارت، حکمتِ عملی اور دفاعی عزم کا مظاہرہ کیا، اس نے پوری دنیا پر ثابت کر دیا کہ پاکستان کی سرحدیں مکمل طور پر محفوظ اور ناقابل تسخیر ہیں۔ انہوں نے شہدائے وطن کو سلام پیش کیا جن کی عظیم قربانیوں کی بدولت آج ملک آزاد اور محفوظ فضا میں سانس لے رہا ہے۔

پاکستانی خواتین، نوجوانوں اور بین الاقوامی سفارت کاری میں کامیابی

پاکستانیوں کی عالمی سطح پر حاصل کردہ کامیابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں بالخصوص شعبہ سائنس، تکنیکی جدت، کھیلوں، فن و ثقافت اور سفارت کاری میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی شخصیات کی تعریف کی۔ انہوں نے تقریب میں موجود سفارتی مشن سے منسلک ممتاز خواتین محترمہ صائمہ سلیم اور محترمہ علینہ مجید کی خدمات کو بالخصوص سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مسلسل محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں مستقل مشن میں سب کے لیے باعثِ فخر اور مشعلِ راہ ہیں۔

عالمگیر امن کے قیام اور بین الاقوامی سفارت کاری میں پاکستان کے مثبت کردار پر بات کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ عالمی سطح پر رونما ہونے والے تنازعات کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ امن کا راستہ اپنایا ہے۔ انہوں نے حالیہ ایران تنازع کے دوران پاکستان کے مثبت اور مؤثر ثالثانہ کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے اور عالمی سطح پر پائیدار امن اور استقامت کے لیے ہمیشہ ذمہ دارانہ سفارت کاری کی پاسداری کی ہے۔

کشمیر اور فلسطین کے لیے غیر متزلزل اخلاقی و سفارتی حمایت

سلامتی کونسل اور اقوامِ متحدہ کے فورمز کا حوالہ دیتے ہوئے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے تاریخی اور اصولی موقف پر سختی سے قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے غیر ملکی تسلط میں محصور عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کے لیے پاکستان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رہے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، انہوں نے مظلوم فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ جب تک مقبوضہ عرب علاقوں اور فلسطین کے عوام کو ان کا جائز اور قانونی حقِ خودارادیت نہیں مل جاتا، پاکستان عالمی سطح پر ان کی آواز بلند کرتا رہے گا۔

قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی کا خطاب اور پاک امریکہ تعلقات

تقریب سے قونصل جنرل پاکستان نیویارک عامر احمد اتوزئی نے بھی ایک فکر انگیز اور تفصیلی خطاب کیا۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح، مصورِ پاکستان علامہ محمد اقبال اور تحریکِ پاکستان کے تمام شہداء و مجاہدین کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی ایک انمول نعمت اور عظیم الشان ورثہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بھاری قومی ذمہ داری بھی ہے۔

قونصل جنرل نے امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد برادری کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملک کا اصل سرمایہ اور ہمارا فخر ہیں۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی نہ صرف معاشی ترسیلاتِ زر، براہ راست سرمایہ کاری، خیراتی کاموں اور اپنے تعلیمی و معاشی تجربات کے ذریعے ملکی ترقی میں اہم ترین حصہ ڈال رہے ہیں، بلکہ وہ پاکستان اور امریکہ کے کے درمیان ایک مضبوط، پائیدار اور ناقابلِ شکست سفارتی و ثقافتی پل کا کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے یومِ آزادی کو صرف ایک روایتی جشن تک محدود رکھنے کے بجائے ایک مضبوط، خوشحال، مساوی اور جدت پسند پاکستان کی تعمیر کے لیے اپنے عزم کو دہرانے کا دن قرار دیا۔ قونصل جنرل نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ آئندہ دو دہائیوں کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو علم، ٹیکنالوجی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سے آراستہ کریں، تاکہ جب پاکستان اپنی آزادی کے سو سال مکمل کرے تو وہ دنیا کی صفِ اول کی قوموں میں شامل ہو۔

پیغامات کی خواندگی اور بچوں کے ساتھ کیک کاٹنے کی تقریب

تقریب کے ابتدائی مرحلے میں چانسلری کے سینئر افسران ذوالفقار علی، عمر شیخ اور محمد فہیم نے بالترتیب صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے یومِ آزادی کی مناسبت سے بھیجے گئے خصوصی، فکر انگیز اور تہنیتی پیغامات تمام حاضرین کو پڑھ کر سنائے۔ پرچم کشائی اور پورے پروگرام کی باقاعدہ نظامت و کارروائی کے فرائض قونصلر جواد اجمل نے انتہائی خوش اسلوبی سے انجام دیے۔

تقریب کے اختتامی مرحلے پر سفیر عاصم افتخار احمد نے قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی، ڈپٹی مستقل مندوب سفیر عثمان جدون، سفارتی افسران اور تقریب میں موجود بچوں کے ساتھ مل کر یومِ آزادی کا کیک کاٹا۔ بچوں سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار نے انہیں پاکستان کا تابناک مستقبل قرار دیا اور کہا کہ یہ ہماری اجتماعی قومی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ایک ایسا پاکستان سونپیں جو ہمیشہ روشن، پائیدار اور خود مختار رہے۔ تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء کے لیے پرکلف روایتی پاکستانی refreshments کا انتظام بھی کیا گیا تھا، جہاں برادری کے افراد نے ایک دوسرے کو گلے مل کر جشنِ آزادی کی مبارکباد دی۔

پاکستان اور مصر کے وزرائے خارجہ کا رابطہ: مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی کی یومِ آزادی پر مبارکباد، دوطرفہ روابط مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

کاشف عباسی , August 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 اگست 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کو مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے جمعہ کے روز ٹیلی فون کر کے پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر خصوصی مبارکباد پیش کی ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مصری وزیرِ خارجہ نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت، حکومت اور تمام عوام کے لیے مسلسل امن، پائیدار ترقی اور خوشحالی کی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور مصر کے درمیان دہائیوں پر محیط قریبی، تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے، اعلیٰ سطحی تبادلوں کو برقرار رکھنے اور ادارہ جاتی روابط کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

علاوہ ازیں، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ نے علاقائی و بین الاقوامی اہم امور پر بھی مفصل تبادلہ خیال کیا اور مستقبل میں بھی باہمی اور عالمی فورمز پر قریبی رابطہ و مشاورت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

تہران میں پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کی شاندار تقریب: سفیر عمران احمد صدیقی کا قومی پرچم لہرانے کے بعد تقریب سے خطاب

منصور احمد, August 14,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 14 اگست 2026ء

ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع ‘پاکستان ہاؤس’ میں ملک کے 79ویں یومِ آزادی کی مناسبت سے پروقار اور پرجوش پرچم کشائی کی تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب میں تہران میں مقیم پاکستانی برادری، سفارتی حکام اور ان کے اہل خانہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تقریب کا باقاعدہ آغاز پاکستان کے قومی ترانے کی دھن کے ساتھ ہوا، جس کے بعد ایران میں پاکستان کے سفیر عالی مرتبت عمران احمد صدیقی نے قومی پرچم لہرایا۔ اس موقع پر سفیر نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے یومِ آزادی کی مناسبت سے خصوصی پیغامات پڑھ کر سنائے۔

حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عمران احمد صدیقی نے پاکستانی برادری کو جشنِ آزادی کی مبارکباد دی اور تقریب میں ان کی بھرپور شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ایران کی سماجی و معاشی ترقی اور دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں مقیم پاکستانیوں کے کردار کو سراہا۔ سفیر نے دونوں ممالک کی قیادت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ باہمی تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا، جس میں پاکستانی کمیونٹی کا کردار انتہائی کلیدی ہے۔

تقریب کے دوران پاکستان ایمبیسی انٹرنیشنل اسکول اینڈ کالج تہران کے بچوں نے ملکی محبت سے لبریز ملی نغمے پیش کر کے حاضرین سے داد وصول کی۔ تقریب میں تحریکِ پاکستان اور ملک کے دفاع کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کے لیے خصوصی اجتماعی دعا کی گئی، جبکہ آخر میں یومِ آزادی کی خوشی میں کیک بھی کاٹا گیا۔

ابوظہبی میں پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کی پروقار تقریب: سفیر شفقت علی خان نے قومی پرچم لہرا دیا

محمود احمد, August 14,2026

ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 14 اگست 2026ء

متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفارتخانے ابوظہبی میں پاکستان کا 79واں یومِ آزادی نہایت قومی جوش و جذبے اور ملی یکجہتی کے ساتھ منایا گیا۔ اس پرمسرت موقع پر سفارتخانے کے احاطے میں پروقار پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں امارات میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد اور ان کے اہل خانہ نے شرکت کی۔

پاکستان کے سفیر شفقت علی خان نے قومی پرچم لہرایا، جس کے بعد قومی ترانہ پیش کیا گیا۔ تقریب کے دوران صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے خصوصی تہنیتی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیر شفقت علی خان نے تمام شرکا کو یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کی اور ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کیے۔ انہوں نے امارات میں مقیم 22 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کی محنت اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی شہری یو اے ای کی ترقی کے ساتھ ساتھ اپنی ترسیلاتِ زر کے ذریعے پاکستان کی معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ سفیر نے کمیونٹی کو دونوں برادر ممالک کے درمیان ایک مضبوط اور پائیدار پل قرار دیا۔

انہوں نے متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے پاکستانیوں کی بہترین مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا اور کمیونٹی کو مقامی قوانین کی مکمل پاسداری کا درس دیا تاکہ ذمہ دار شہری کا تاثر برقرار رہے۔ تقریب کے دوران شیخ خلیفہ بن زاید عرب پاکستان اسکول کے بچوں نے دلکش ملی نغمے پیش کیے اور سفیر شفقت علی خان کے ہمراہ یومِ آزادی کا کیک کاٹا۔

پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی پر اماراتی قیادت کا صدر مملکت اور وزیراعظم کو تہنیتی پیغام: برادرانہ تعلقات اور نیک خواہشات کا اظہار

منصور احمد, August 14,2026

ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 14 اگست 2026ء

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے پرمسرت موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو خصوصاً مبارکباد کا تہنیتی پیغام بھیجا ہے۔

اماراتی نیوز ایجنسی کے مطابق متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم اور نائب صدر، نائب وزیراعظم و صدارتی دفتر کے سربراہ شیخ منصور بن زاید آل نہیان نے بھی صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو قومی دن کی مبارکباد کے پیغامات ارسال کیے۔ اماراتی اعلیٰ قیادت نے اپنے پیغامات میں پاکستان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان قائم لازوال اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

دوسری جانب، شیخ محمد بن راشد آل مکتوم اور شیخ منصور بن زاید آل نہیان نے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کو بھی یومِ آزادی کے حوالے سے الگ الگ تہنیتی پیغامات بھیجے۔

اماراتی قیادت کی جانب سے پاکستان کی اعلیٰ سیاسی قیادت کو یومِ آزادی پر یوں پرخلوص مبارکباد دینا دونوں ممالک کے درمیان قائم گہرے، مضبوط اور کثیرالجہتی دوستانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی قیادت باہمی تعاون، معاشی شراکت داری اور برادرانہ روابط کو مزید وسعت دینے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔

یومِ آزادی قومی سفر پر غور و فکر اور کامیابیوں کے جشن کا دن ہے: پیرس میں پاکستان کی سفیر ممتاز زہرا بلوچ کا پیغام

محمود احمد, August 14,2026

پیرس (نیوز اینڈ نیوز) — 14 اگست 2026ء

فرانس میں پاکستان کی سفیر ممتاز زہرا بلوچ نے پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے پرمسرت موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ یہ تاریخی دن قومی سفر پر غور و فکر کرنے، حاصل کردہ کامیابیوں کا جشن منانے اور ایک روشن مستقبل کی سمت گامزن رہنے کا بہترین موقع ہے۔

پیرس میں واقع پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے جمعہ کے روز سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر جاری کردہ پیغام میں سفیر ممتاز زہرا بلوچ نے قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 79 برسوں میں پاکستانی قوم نے بے پناہ چیلنجز کے باوجود ایک شاندار اور طویل سفر طے کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج کے دن ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک زیادہ روشن، پرامن، خوشحال اور مضبوط مستقبل کی تعمیر و ترقی کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں اور تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔