امریکہ کی حقیقی طاقت اس کی جامعات ہیں، پاکستان بھی علم پر مبنی معیشت کی بنیاد رکھ رہا ہے؛ احسن اقبال کا بوسٹن کا اہم دورہ

روزینہ اسماعیل, JULY 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے اپنے دورہ بوسٹن کے دوران امریکی تعلیمی اداروں، ممتاز محققین اور جدت طراز اداروں کے سربراہان سے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد ہائی ٹیک تعلیم، موسمیاتی لچک، معاشی ترقی، پبلک پالیسی اور اختراع کے شعبوں میں پاک امریکہ ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ پاکستان معیاری تعلیم، تحقیق اور جدید ایجادات میں سرمایہ کاری کے ذریعے علم پر مبنی معیشت کی بنیاد رکھ رہا ہے اور اس تزویراتی ہدف کے حصول کے لیے حکومت عالمی معیار کے اداروں کے ساتھ شراکت داری کو مزید وسعت دے گی۔

وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے جمعرات کو جاری پریس ریلیز کے مطابق، پروفیسر احسن اقبال نے بوسٹن یونیورسٹی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے عادل نجم اور ڈاکٹر کین لچن سے ملاقات کی۔ وفاقی وزیر نے حکومت کے فلیگ شپ منصوبے ‘امریکا پاکستان نالج کاریڈور’ پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس کے تحت 10 ہزار پاکستانی طلبہ کو دنیا کی بہترین جامعات سے پی ایچ ڈی کروانے کا ہدف ہے۔ انہوں نے ایک ایسے اشتراکی ماڈل کی تجویز پیش کی جس کے تحت پاکستانی محققین پاکستان کے ترقیاتی چیلنجز پر امریکی جامعات میں تحقیق کریں، جس میں تعلیمی اخراجات امریکی جامعات اور سفری و انتظامی اخراجات حکومتِ پاکستان برداشت کرے، جسے امریکی حکام نے بے حد سراہا۔ انہوں نے وفاقی سطح پر اعلیٰ تعلیم کے نصاب اور تدریس میں مصنوعی ذہانت کو مؤثر انداز میں شامل کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ بعد ازاں، انہوں نے پائیدار ترقیاتی پالیسی مرکز کا دورہ کیا اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ تحقیق پر اتفاق کیا۔

پروفیسر احسن اقبال نے ہارورڈ کینیڈی اسکول کے ‘گروتھ لیب’ کا بھی دورہ کیا، جہاں ‘اڑان پاکستان’ کے تحت ملک کی طویل المدتی معاشی حکمتِ عملی اور ایک کھرب ڈالر کی معیشت کے ہدف پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وفاقی وزیر نے گروتھ لیب کو پاکستان کی برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک لے جانے، صنعتی ترقی اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے قابلِ عمل سفارشات فراہم کرنے اور قومی ترقیاتی حکمتِ عملی کی تشکیل میں شراکت داری کی دعوت دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی آئندہ معاشی ترقی کی بنیاد صرف پیداواریت، اختراع اور برآمدات میں اضافہ پر ہوگی۔

وفاقی وزیر نے ہارورڈ یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے مشترکہ تحقیقی ادارے ‘جے پال’ کا بھی دورہ کیا اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال دھالیوال سے غربت میں کمی اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی پر تبادلہ خیال کیا۔ احسن اقبال نے یہاں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آزادانہ جائزہ لینے کی تجویز پیش کی تاکہ اس کی افادیت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ دورے کے آخری مرحلے میں انہوں نے کیمبرج انوویشن سینٹر اور وینچر کیفے کا دورہ کیا اور جامعات، صنعت اور سرمایہ کاروں کے مابین روابط کو پاکستانی معیشت کے لیے رول ماڈل بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

شہریوں پر حملوں، نسلی قتلِ عام اور جنسی تشدد پر گہری تشویش؛ سلامتی کونسل میں بریفنگ کے دوران پاکستان کے پولیٹیکل کوآرڈینیٹر گل قیصر سَرْوانی کا مقتدر خطاب

محمود احمد, JULY 16,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 16 جولائی 2026ء

پاکستان نے سوڈان کے شورش زدہ علاقے دارفور میں ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کی جانب سے نہتے شہریوں پر وحشیانہ حملوں، نسلی بنیادوں پر قتلِ عام، جنسی تشدد، جبری بے دخلی اور سویلین تنصیبات کی دانستہ تباہی سمیت دیگر سنگین مظالم کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں دارفور کی سنگین صورتحال سے متعلق بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی رپورٹ پر ہونے والی بریفنگ کے دوران پاکستان کے کونسلر اور پولیٹیکل کوآرڈینیٹر گل قیصر سَرْوانی نے وہاں کی بگڑتی ہوئی انسانی و سیکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے عالمی برادری کو سخت خبردار کیا کہ اگر آر ایس ایف نے العبید کے علاقے پر حملہ کیا تو اس سے مزید سنگین نوعیت کے بین الاقوامی انسانی جرائم کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

گل قیصر سَرْوانی نے تزویراتی نکتہ اجاگر کرتے ہوئے زور دیا کہ انسانیت کے خلاف ان سنگین جرائم کے اصل ذمہ دار عناصر کے ساتھ ساتھ ایسے جرائم کی مالی معاونت، سہولت کاری یا کسی بھی دوسرے طریقے سے مدد کرنے والے کرداروں کا بھی بلاتفریق اور مؤثر احتساب ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ احتساب کا کوئی بھی عمل تکمیلیت، قومی خودمختاری اور سوڈانی قیادت کی اپنی ملکیت کے اصولوں کے عین مطابق ہونا چاہیے، جبکہ پائیدار اور قابلِ اعتماد انصاف کے حصول کے لیے سوڈان کے اپنے قومی عدالتی اداروں کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔

انہوں نے سوڈان کی خودمختاری، قومی اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیرمتزلزل سفارتی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سوڈان کے برادر عوام امن، انصاف اور ایک باوقار زندگی گزارنے کے مستحق ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی سخت زور دیا کہ بین الاقوامی انصاف کو ہر معاملے میں بلاامتیاز، مکمل طور پر غیرجانبدارانہ اور دوہرے معیار کے بغیر نافذ کیا جانا چاہیے، کیونکہ کسی بھی قانون کی ساکھ اس کے مساوی اور یکساں اطلاق پر ہی منحصر ہوتی ہے۔

الجیریا کے دارالحکومت میں یتیم خانے میں ہولناک آتشزدگی؛ دم گھٹنے اور جھلسنے سے 11 معصوم بچے جاں بحق، 19 افراد شدید زخمی

محمود احمد, JULY 16,2026

الجزائر (نیوز اینڈ نیوز) — 16 جولائی 2026ء

الجیریا کے دارالحکومت الجزائر میں واقع ایک یتیم خانے میں اچانک ہولناک آگ بھڑک اٹھے کے نتیجے میں 11 معصوم بچے جھلس کر جاں بحق جبکہ 19 دیگر افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، مقامی امدادی حکام نے سانحے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آگ اس قدر تیزی سے پھیلی کہ عمارت میں موجود بچوں کو باہر نکلنے کا موقع نہ مل سکا۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق، حادثے میں زخمی ہونے والے 19 افراد میں سے 10 افراد شدید طور پر جھلس گئے ہیں، 2 افراد کو دھویں کی وجہ سے سانس لینے میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 7 افراد اس اچانک آفت کے باعث شدید صدمے (شاک) کی حالت میں مبتلا ہو گئے۔ فائر فائٹرز اور ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا اور لاشوں و زخمیوں کو عمارت سے باہر نکالا۔

امدادی اداروں نے شدید زخمی ہونے والے 10 افراد کو جائے وقوعہ پر ہی ہنگامی ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا ہے، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یتیم خانے میں آگ لگنے کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے، تاہم پولیس اور متعلقہ سیکیورٹی اداروں نے واقعے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

آبنائے ہرمز میں حملوں کے بعد بھارت کا بڑا فیصلہ؛ بحری جہازوں پر بھارتی عملے کی تعیناتی روکنے کے احکامات جاری

کاشف عباسی , JULY 16,026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 16 جولائی 2026ء

عالمی سطح پر تجارتی اور بحری گزرگاہوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے پیشِ نظر، بھارت نے جہازوں کے مالکان اور آپریٹرز کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ حساس ترین سمندری راستے ‘آبنائے ہرمز’ سے گزرنے والے بحری جہازوں پر بھارتی عملے (سیلرز) کو تعینات کرنے سے مکمل گریز کریں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، بھارت کے جہاز رانی کے ڈائریکٹوریٹ جنرل نے بحری جہازوں کے مالکان، مینیجرز اور بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کو ہنگامی مراسلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئندہ احکامات تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی بحری جہاز پر بھارتی عملے کی تعیناتی کو روک دیا جائے۔

تزویراتی تفصیلات کے مطابق، بھارتی حکومت کی جانب سے یہ ہنگامی فیصلہ اس ہفتے آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس کے سمندری علاقے میں دو تجارتی بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں افسوسناک طور پر دو بھارتی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل کے آفیشل حکم نامے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خلیجِ فارس کے خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر، یہ انتہائی ضروری ہو گیا ہے کہ اس خطرناک زون میں کام کرنے والے بین الاقوامی بحری جہازوں پر اپنی خدمات انجام دینے والے بھارتی شہریوں کی زندگیوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے غیر معمولی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے گزشتہ ماہ جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا تھا کہ 28 فروری سے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے مابین جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے دوران، آبنائے ہرمز اور اس کے قریبی علاقوں میں ہونے والے مختلف حملوں کے نتیجے میں اب تک بحری جہازوں کے عملے کے کم از کم 14 ارکان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں وہ تین افراد بھی شامل ہیں جو رواں سال 9 جون کو عمان کے ساحل کے قریب سیٹبیلو آئل ٹینکر پر امریکی حملے کے دوران مارے گئے تھے۔ بھارتی وزارتِ جہاز رانی نے واضح کیا ہے کہ جب تک خطے میں بحری سلامتی کے حالات بہتر نہیں ہو جاتے، تب تک بھارتی عملے کی اس روٹ پر تعیناتی پر پابندی برقرار رہے گی۔

ایران اور امریکہ کے مابین مصالحتی کوششوں سے دستبرداری کا تاثر سراسر غلط؛ ترجمان دفتر خارجہ نے سفارتی رابطے جاری رکھنے کا اعلان کر دیا

منصور احمد, JULY 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 جولائی 2026ء

پاکستان نے ایران اور امریکہ کے مابین جاری امن کوششوں سے پیچھے ہٹنے یا دستبردار ہونے کے تمام تر تاثرات اور افواہوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فریقین کے درمیان ثالثی اور سفارتی رابطوں کا عمل بدستور جاری ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران میڈیا کو بتایا کہ پاکستان خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور باہمی مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنا متحرک اور اصولی کردار مستقل بنیادوں پر ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ تناؤ عارضی نوعیت کا ہے جبکہ پائیدار امن اور سنجیدہ مذاکرات ہی تمام تصفیہ طلب مسائل کا واحد حل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت آج بھی ایک مؤثر فریم ورک کے طور پر موجود ہے اور فریقین جب بھی مذاکرات کی راہ پر آئیں گے، اسی دستاویزی فریم ورک کی بنیاد پر امن کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔

ترجمان کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی سطح پر خودمختاری، علاقائی سالمیت اور تمام تنازعات کے پرامن سفارتی حل کی بھرپور حمایت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان اور قطر کے مشترکہ اعلامیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تکنیکی سطح پر مذاکرات کی فوری بحالی انتہائی ضروری ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی توانائی کے عالمی بحران، بین الاقوامی تجارت اور غذائی تحفظ کو بری طرح متاثر کر رہی ہے، جس کے پیشِ نظر آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی معمول کے مطابق بحالی ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان خطے کی صورتحال کو پرامن بنانے کے لیے تمام اہم ممالک سے قریبی رابطے میں ہے، اور حال ہی میں وزیراعظم پاکستان کی امیرِ قطر اور ایرانی صدر سے ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں بھی سفارتی تحمل اور امن کی فوری بحالی پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان اور امریکہ کے مابین ہونے والے تجارتی مذاکرات میں اہم اور مثبت پیش رفت کی بھی باقاعدہ تصدیق کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام دوطرفہ تجارتی حجم کو بڑھانے، عالمی مارکیٹ میں پاکستانی برآمدات میں تنوع لانے اور باہمی معاشی و تجارتی امور پر پائے جانے والے اختلافی نکات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لیے مسلسل تزویراتی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں جس کے جلد ہی مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے حوالے سے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہر ایسے اقدام سے مکمل گریز کریں جس سے خطے کے حالات مزید خراب ہوں۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے اور ‘اسلام آباد مفاہمت نامہ’ اس خطے میں امن کی حقیقی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام فریقین باہمی مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے اس سنگین تنازع کا پرامن حل تلاش کر لیں گے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ غیر یقینی صورتحال کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں، اور پاکستان اس حوالے سے اہم عالمی ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان نے ایرانی صدر سے ٹیلی فونک گفتگو میں انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا، جس پر ایرانی صدر نے پاکستان کے اس تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے عزم کو دہرایا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 1540 پر اپنی تفصیلی عملدرآمد رپورٹ جمع کرا دی ہے، جو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (ڈبلیو ایم ڈی) پر سخت کنٹرول سے متعلق ہے۔ پاکستان گزشتہ 22 برسوں سے ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق اپنی تمام بین الاقوامی ذمہ داریاں نہایت سنجیدگی سے پوری کر رہا ہے اور اس سلسلے میں اوسطاً ہر 3 سال بعد باقاعدگی سے اپنی رپورٹ پیش کرتا ہے۔ اس موقع پر طاہر اندرابی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی حریت قیادت کے خلاف دہائیوں پرانے واقعے پر دائر کی گئی حالیہ چارج شیٹ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان بھارتی ہتھکنڈوں کا واحد مقصد کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقِ خود ارادیت سے محروم کرنا ہے، اور یہ چارج شیٹ واضح کرتی ہے کہ بھارتی ریاستی ادارے محض اپنے سیاسی ایجنڈے کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت کے یہ یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات مقبوضہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو ہرگز تبدیل نہیں کر سکتے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کے پاکستان مخالف کردار کو بے نقاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ بھارت بلوچستان میں کھلم کھلا دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے، اور بلوچستان میں بے گناہ پاکستانیوں کی شہادتوں پر بھارتی میڈیا کا ہنسنا، قہقہے لگانا اور تالیاں بجانا ان کے انتہا پسندانہ عزائم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاک افغان تعلقات کے حوالے سے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے مابین سفارتی تعلقات میں اب تک کوئی تعطل دور (آئس بریک) نہیں ہوا ہے، اور جب تک کابل حکومت پاکستان مخالف دہشت گردوں کے خلاف عملی اور مؤثر کارروائی نہیں کرتی، تب تک کوئی پیش رفت ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا باقاعدہ رکن بننے کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان کے تنظیم کے دیگر تمام رکن ممالک کے ساتھ خوشگوار سفارتی تعلقات قائم ہوں۔ پریس بریفنگ کے اختتام پر ترجمان نے برادر ملک سعودی عرب کے حوالے سے پاکستان کے اصولی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی غیر مشروط اور مکمل حمایت کرتا ہے اور ریاض کے ساتھ طے پانے والے تمام دوطرفہ معاہدوں پر من و عن عملدرآمد کا پختہ عزم رکھتا ہے۔

رانا مشہود احمد خان کا خطاب؛ حکومتِ پاکستان کا سال 2030ء تک 10 لاکھ ماہرین تیار کرنے کا عزم، تاجکستانی وزیر عبدالرحمن زادہ اور سفیر عاصم افتخار کی شرکت

محمود احمد, JULY 16,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 16 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں پائیدار ترقی سے متعلق اعلیٰ سطحی سیاسی فورم کے موقع پر “مصنوعی ذہانت اور پائیدار ترقی کا مستقبل: جدت، شمولیت اور لچک” کے عنوان سے ایک مقتدر اعلیٰ سطحی مباحثے کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم ترین تقریب کا مشترکہ اہتمام پاکستان اور تاجکستان کے مستقل مشنز اور پاکستان کے وزیرِاعظم یوتھ پروگرام نے کیا۔ تقریب میں مختلف ممالک کے سفارت کاروں، اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ حکام، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ممتاز ماہرین، ماہرینِ تعلیم اور نوجوانوں کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اس امر پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے انقلابی فوائد دنیا بھر کے تمام انسانوں کے لیے یکساں طور پر قابلِ رسائی ہونے چاہئیں۔

مباحثے سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے چیئرمین وزیرِاعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی ترقی کو تیز کرنے کے لیے پاکستان کے انقلابی اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ حکومتِ پاکستان نے مالی سال 2026-27 کے دوران وزیرِاعظم یوتھ پروگرام کے لیے 40.58 ارب روپے کے خطیر فنڈز مختص کیے ہیں تاکہ نئی نسل کو جدید معاشی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک ملک بھر کے ہونہار طلبہ میں 6 لاکھ سے زائد لیپ ٹاپ تقسیم کیے جا چکے ہیں، 73 ہزار نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور ڈیٹا سائنس کی جدید ترین تربیت دی جا چکی ہے، جبکہ 2 لاکھ 17 ہزار سے زائد تکنیکی مہارت کے وظائف فراہم کیے گئے ہیں۔

رانا مشہود احمد خان نے پاکستان کے طویل المدتی تزویراتی وژن کا تذکرہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کے تحت سال 2030ء تک 10 لاکھ ماہرین اور 10 ہزار اساتذہ (ٹرینرز) تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مہارتوں کی ترقی میں سرمایہ کاری کر کے عالمی تفاوت کو ختم کرے۔ اس موقع پر جمہوریہ تاجکستان کے وزیر برائے اقتصادی ترقی و تجارت عالی جناب عبدالرحمن عبدالرحمن زادہ نے بھی خطاب کیا اور پائیدار ترقی میں مصنوعی ذہانت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ تاجکستان وسطی ایشیا کا پہلا ملک ہے جس نے 2040ء تک کے لیے قومی مصنوعی ذہانت حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔

تقریب کے پینل مباحثے میں اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی ماہر جینیفر لوئی، گوگل کے نمائندے ہاشم سید اور یوتھ ڈیلیگیٹ بسمہ قمر نے حصہ لیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ جہاں یہ ٹیکنالوجی ترقی کے بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہے، وہیں سائبر سیکیورٹی جیسے ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر ضابطہ کار بھی ناگزیر ہے۔

اپنے اختتامی خطاب میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات پر سخت زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل محض ٹیکنالوجی کی ترقی نہیں بلکہ انسانیت کی فلاح کو تشکیل دینا ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی کو یقینی نہ بنایا گیا تو یہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے مابین ڈیجیٹل خلیج کو مزید وسیع کر دے گی۔ سفیر عاصم افتخار نے کثیرالجہتی نظام کے تحت چار بنیادی ترجیحات پیش کیں، جن میں عالمی تفاوت کا خاتمہ، مواقع کو مساوی معاشی نتائج میں تبدیل کرنا، نوجوانوں کو تخلیق کار تسلیم کرنا اور مصنوعی ذہانت کو مکمل طور پر انسان دوست، اخلاقی، محفوظ اور جوابدہ بنانا شامل ہے۔

پاکستان عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کا بانی رکن بنے گا؛ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کل چین روانہ ہوں گے

منصور احمد, JULY 15,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار عوامی جمہوریہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای کی خصوصی دعوت پر ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ 16 سے 17 جولائی تک شنگھائی (چین) کا تزویراتی دورہ کریں گے۔ اس دورے کے دوران دوطرفہ تزویراتی تعلقات، علاقائی تعاون کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم ترین امور پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ مقتدر تفصیلات کے مطابق، نائب وزیراعظم 16 جولائی کو ‘عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم’ کے باقاعدہ قیام کی دستخطی تقریب میں خصوصی شرکت کریں گے اور پاکستان کی جانب سے بانی رکن کی حیثیت سے اس تاریخی بین الاقوامی معاہدے پر باقاعدہ دستخط کریں گے۔ اس کے بعد، وہ 17 جولائی کو شنگھائی میں منعقد ہونے والی ‘عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس’ کی افتتاحی تقریب اور مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی سے متعلق اعلیٰ سطح کے مقتدر اجلاس میں بھی شریک ہوں گے۔ اس اہم کانفرنس کے موقع پر نائب وزیراعظم کی چینی وزیر خارجہ وانگ ای سے ایک اہم دوطرفہ ملاقات طے ہے، جبکہ وہ وہاں موجود دیگر ممالک کے ہم منصبوں سے بھی باہمی تعاون بڑھانے کے لیے ملاقاتیں کریں گے۔

اپنی ان تمام اہم سفارتی مصروفیات کے دوران نائب وزیراعظم ٹیکنالوجی کے شعبے میں، بالخصوص ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات اور ترقیاتی ضروریات پر مبنی پاکستان کا اصولی موقف پیش کریں گے۔ وہ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں موجود تفاوت کو کم کرنے، اس جدید ٹیکنالوجی تک تمام ممالک کی منصفانہ رسائی کو فروغ دینے اور استعداد کار میں اضافے پر زور دیں گے۔ اسحاق ڈار اس مقتدر امر کو بھی اجاگر کریں گے کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کے ثمرات کو دنیا بھر میں پائیدار ترقی، معاشی خوشحالی اور سب کے لیے مشترکہ فائدے کے لیے مؤثر طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مظالم اور قبضے کے باوجود فلسطینی اتھارٹی کی انتظامی و مالی اصلاحات قابلِ ستائش؛ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا برسلز اجلاس میں اعتراف

محمود احمد, JULY 15,2026

برسلز (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے جنرل سیکریٹریٹ نے اسرائیلی جارحیت، مسلسل فوجی قبضے اور سنگین ترین چیلنجز کے باوجود فلسطینی ریاست کی جانب سے کی جانے والی ادارہ جاتی، انتظامی اور مالی اصلاحات کی پیش رفت کو نمایاں الفاظ میں سراہا ہے۔ فلسطینی خبر رساں ادارے کے مطابق، او آئی سی کے معاون سیکریٹری جنرل برائے فلسطین و القدس امور سمیر بکر نے برسلز میں منعقدہ ایک مقتدر اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے اس موقف کا اظہار کیا۔ اس اہم اجلاس میں فلسطینی وزیرِ اعظم محمد مصطفیٰ، یورپی کمیشن کی کمشنر ڈوبراوکا شوئیکا اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کیلس بھی موجود تھیں۔ سمیر بکر نے واضح کیا کہ خطے میں دو ریاستی حل کو محفوظ بنانے اور اس پر پائیدار عمل درآمد کے لیے فلسطینی اتھارٹی کو ادارہ جاتی اور مالی طور پر مستحکم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

او آئی سی نے غاصب اسرائیل سے مقتدر مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے روکے گئے تمام ٹیکسوں کی آمدنی فوری طور پر اور بغیر کسی شرط کے جاری کرے۔ تنظیم نے عالمی برادری کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی اس وقت شدید ترین مالی بحران کا سامنا کر رہی ہے، جس کے باعث اس کے لیے اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کرنا اور مظلوم شہریوں کو صحت، تعلیم اور سماجی بہبود جیسی بنیادی عوامی خدمات فراہم کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ تنظیم نے تمام بین الاقوامی شراکت داروں اور امداد دینے والے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ریاستِ فلسطین کو فوری مالی امداد فراہم کریں اور فلسطینی معیشت کی دانستہ ناکہ بندی کے سنگین نتائج کا فوری نوٹس لیں۔

اپنے مقتدر بیان میں او آئی سی نے اقوامِ متحدہ کے فلسطینی مہاجرین کے بہبود کے ادارے کو اسرائیل کی جانب سے مسلسل نشانہ بنانے، غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی توسیع، فلسطینی اراضی کے الحاق، جبری بے دخلیوں اور غزہ کی طویل ترین ناکہ بندی کی بھی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ تنظیم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر سفارتی و معاشی دباؤ بڑھائے تاکہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر فوری عمل درآمد شروع کرے، جس میں غزہ پٹی سے اسرائیلی فورسز کا مکمل انخلا، تمام سرحدی گزرگاہوں کو کھولنا اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی شامل ہے۔ او آئی سی نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ تمام فلسطینی عوام اور فلسطینی سرزمین کی قانونی، سیاسی اور ادارہ جاتی وحدت کو ریاستِ فلسطین کی منتخب حکومت کی قیادت میں ہر قیمت پر برقرار رہنا چاہیے۔

عالمی سپلائی چینز مشترکہ مفادات کی زنجیر ہیں، مصنوعی طریقوں سے منقطع کرنے سے سب کا نقصان ہوگا، چین کا انتباہ

کاشف عباسی , JULY 15,026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

چین نے بین الاقوامی تجارتی نظام پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ دور میں عالمی سپلائی چینز (تجارتی ترسیل کے راستے) مشترکہ مفادات کی ایک ایسی پائیدار زنجیر بن چکی ہیں جس میں تمام فریق ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ بیجنگ کے مطابق، اس مربوط نظام میں کسی ایک فریق کی ترقی سب کے لیے فائدہ مند ہے، جبکہ کسی ایک کا بھی نقصان پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کرتا ہے۔ چینی بین الاقوامی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے مطابق، یہ مقتدر باتیں چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے بدھ کے روز روزانہ کی پریس کانفرنس کے دوران عالمی تجارت اور سپلائی چینز کے حساس مسئلے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہیں۔

چینی ترجمان لین جیان نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ سیاسی یا مصنوعی طریقوں سے عالمی سپلائی چینز کو منقطع کرنے، تحفظ پسند تجارتی رکاوٹیں کھڑی کرنے اور سپلائی چینز کی زبردستی ازسرِنو تشکیل کی تمام کوششیں نہ صرف دنیا بھر میں بھاری معاشی اخراجات کا باعث بنیں گی بلکہ یہ مارکیٹ کے بنیادی اصولوں اور کاروباری اداروں کے آزادانہ انتخاب کے بھی سراسر خلاف ہیں۔ انہوں نے تزویراتی نکتہ اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان منفی اقدامات کے نتیجے میں عالمی برادری اور تمام شراکت دار فریقین کو تجارت میں بہت زیادہ قیمت ادا کرنی پڑے گی جبکہ ان کے حاصل ہونے والے معاشی فوائد انتہائی کم رہ جائیں گے۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بیجنگ کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ چین بین الاقوامی تجارت میں اعلیٰ معیار کے کھلے پن کی پالیسی کو مسلسل وسعت دیتا رہے گا۔ چین اپنی وسیع ترین عالمی مارکیٹ، مکمل صنعتی ڈھانچے اور دیگر نمایاں پیداواری برتریوں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے دنیا کو مستحکم انداز میں اعلیٰ معیار کی مصنوعات کی فراہمی جاری رکھے گا اور دنیا بھر کے کاروباری اداروں کو باہمی تعاون کے مزید نئے اور مقتدر مواقع فراہم کرتا رہے گا تاکہ عالمی معیشت کو بحرانوں سے بچایا جا سکے۔

ریاست یوٹاہ میں مسلم شہری پر چاقو سے قاتلانہ حملہ؛ امریکی مسلم تنظیم ‘کیر’ کا اسلام مخالف بیانیے اور نفرت انگیز جرائم کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ

محمود احمد, JULY 15,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

امریکہ میں مسلمانوں کے شہری حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم سب سے بڑی موقر تنظیم ‘کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز’ (کیر) نے ریاست یوٹاہ میں مبینہ مذہبی منافرت کی بنیاد پر ایک مسلمان شہری پر چاقو سے کیے گئے ہولناک حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ تنظیم نے امریکی حکام، سیاست دانوں اور سماجی رہنماؤں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسلام مخالف نفرت انگیز بیانات کی واضح اور دوٹوک مذمت کریں اور ایسی انتہا پسندانہ سوچ کو فروغ دینے والے عناصر کو معاشرے میں مکمل طور پر مسترد کریں۔

مقامی پولیس کے مطابق، گرفتار ملزم نے تفتیش کے دوران مبینہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ اس نے متاثرہ شخص کو محض اس کے اسلامی عقیدے اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق، متاثرہ مسلم شہری پر چاقو سے یکے بعد دیگرے کئی وار کیے گئے، جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہو گیا اور اسے نازک حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ملزم مبینہ طور پر مسلم برادری کو نشانہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر جانی نقصان پہنچانے والے مزید خوفناک حملوں کی بھی باقاعدہ منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ پولیس نے واقعے کی سنگینی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسے باقاعدہ ‘نفرت انگیز جرم’ (ہیٹ کرائم) کے طور پر رجسٹر کر کے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نہاد عوض نے اس ہولناک واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک تزویراتی بیان میں کہا کہ یہ بزدلانہ حملہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ اسلام مخالف نفرت انگیز بیانات کے معاشرے میں کتنے خطرناک اور حقیقی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب مسلمانوں کو مسلسل بدنام کیا جاتا ہے، انہیں ایک خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، یا انہیں مساوی حقوق اور انسانی وقار سے محروم سمجھا جاتا ہے، تو بعض انتہا پسند ذہن کے حامل افراد اسی زہریلے بیانیے کو عملی تشدد کی شکل دے دیتے ہیں۔ نہاد عوض نے مطالبہ کیا کہ امریکی رہنما اسلاموفوبیا اور مذہبی تعصب کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوں، اور انہوں نے زخمی شہری کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔

عالمی بحری راستوں پر حملے ناقابلِ قبول؛ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے پر اقوامِ متحدہ کے ادارے ‘آئی ایم او’ کی سخت مذمت

محمود احمد, JULY 15,2026

اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے ‘انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن’ (آئی ایم او) نے تجارتی لائف لائن سمجھے جانے والے اہم بحری راستے ‘آبنائے ہرمز’ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں آئل ٹینکروں پر ہونے والے حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ عالمی ادارے نے خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کو فوری طور پر ختم کرنے اور تجارتی جہاز رانی پر حملے روکنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ ادارے کے ترجمان نے ان واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ عالمی ادارہ متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر ان حملوں کی تفصیلات اور نقصانات کی تصدیق کر رہا ہے، اور اس خطرناک سلسلے کو فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔

موقر تفصیلات کے مطابق، خطے میں کشیدگی کے باعث سمندر میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں اور ان کے عملے کو بحفاظت نکالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر محفوظ راستے قائم کیے جا رہے ہیں۔ عالمی ادارے نے تمام متعلقہ فریقوں پر سفارتی تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مزید محاذ آرائی سے گریز کرنے پر زور دیا ہے تاکہ سمندری حدود میں کام کرنے والے کارکنوں کی جانوں اور بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جا سکے۔

دوسری جانب، اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے بھی اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتباہ جاری کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کی اطلاعات انتہائی خطرناک ہیں، کیونکہ اس کے براہِ راست اثرات خطے سے باہر نکل کر دنیا بھر کے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم بحری گزرگاہ سے خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی عالمی ترسیل جڑی ہوئی ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ دنیا بھر میں ایک نیا معاشی اور انسانی بحران پیدا کر دے گی۔ انہوں نے ایران اور امریکہ سے رپورٹ ہونے والے حملوں کو فوری طور پر روکنے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق جنگ بندی بحال کرنے کا مقتدر مطالبہ کیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس کا بڑا اقدام؛ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیلی وزیرِ اعظم کو شام اور لبنان سے فوجیں نکالنے کا حکم

محمود احمد, JULY 15,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سنگین صورتحال کے پیشِ نظر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ایک اہم رابطہ کر کے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل شام کی حدود سے اپنی تمام فوجیں فوری طور پر واپس بلائے، جبکہ انہوں نے لبنانی سرحدوں پر بھی اسی نوعیت کے اقدامات اٹھانے پر سخت زور دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘تاس’ نے ‘ایگزیوس’ کی رپورٹ کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ امریکی اور اسرائیلی اعلیٰ حکام نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی صدر نے 9 جولائی کو نیتن یاہو کے ساتھ ہونے والی ایک اہم ٹیلیفونک گفتگو کے دوران اس مقتدر موقف سے کھل کر آگاہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کو دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اسرائیل کو شام کی سرزمین سے اپنی افواج کو باہر نکالنا ہو گا اور لبنان کے محاذ پر بھی اسی پالیسی پر عمل کرنا ہو گا۔ ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے اس تزویراتی رابطے کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ شام کی حدود میں اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی مسلسل موجودگی خطے میں شدید ترین کشیدگی کا باعث بن رہی ہے، اور یہ پوزیشن حالات کو مزید بگاڑنے کی وجہ بن سکتی ہے کیونکہ وہاں کی مقامی قوتیں آپ کو اپنی سرزمین پر دیکھنا پسند نہیں کرتیں۔

ٹیکنالوجی کی دنیا میں نیا انقلاب: اوپن اے آئی کا بغیر اسکرین والا انوکھا گھریلو کمپیوٹر متعارف کرانے کا فیصلہ

روزینہ اسماعیل, JULY 15,2026

سان فرانسسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کام کرنے والی دنیا کی معروف کمپنی ‘اوپن اے آئی’ صارفین کے لیے ایک انتہائی جدید اور منفرد ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے، جس میں اسکرین کے بغیر کام کرنے والا موبائل اسمارٹ اسپیکر شامل ہے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کی جانب سے اس انوکھی ایجاد کو مصنوعی ذہانت کے نئے دور کا ایک جدید گھریلو کمپیوٹر قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی معاشی جریدے ‘بلوم برگ’ کی رپورٹ کے مطابق، یہ جدید ترین آلہ اس وقت تیاری کے مراحل میں ہے اور اسے گھروں میں ایک ایسے انسان نما مصنوعی ذہانت کے ساتھی کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا جو روزمرہ کے کاموں میں مدد فراہم کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق، یہ جدید ترین اسمارٹ اسپیکر گھر میں موجود دیگر تمام اسمارٹ برقی آلات کو کنٹرول کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس کی مدد سے مختلف قسم کی آڈیوز اور دیگر میڈیا فائلز چلائی جا سکیں گی۔ یہ مقتدر آلہ صارفین کے پوچھے گئے پیچیدہ سوالات کے فوری جوابات دینے، ان کے اہم پیغامات کا جواب بھیجنے اور مشہورِ زمانہ ‘چیٹ جی پی ٹی’ کی گفتگو کرنے کی جدید ترین صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی مکمل سہولت فراہم کرے گا، جس سے صارفین کو ایک بالکل نیا اور انوکھا تجربہ حاصل ہوگا۔

عرب لیگ کے نئے سربراہ نبیل فہمی کو اماراتی نائب وزیراعظم کا فون؛ نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر دلی مبارکباد، مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی پر اہم مشاورت

منصور احمد, JULY 15,2026

ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان نے عرب لیگ کے نو منتخب سیکرٹری جنرل نبیل فہمی سے ایک مقتدر ٹیلیفونک رابطہ قائم کیا ہے۔ اماراتی وزیر خارجہ نے نئے سربراہ کو مسلم امہ کے اس اہم ترین اور باوقار ادارے کی قیادت سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور عرب دنیا کے مفادات کے تحفظ اور مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

اماراتی نیوز ایجنسی کے مطابق، اس اہم گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور حالیہ تزویراتی تبدیلیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ رابطے کے دوران اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ رکن ممالک کے مابین باہمی روابط کو مضبوط بنا کر اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر خطے میں دیرپا امن، خوشحالی اور سیاسی استحکام کو یقینی بنایا جائے گا۔

بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملوں سے متعلق رپورٹنگ کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع؛ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے نئی قرارداد منظور کر لی

محمود احمد, JULY 15,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بحیرہ احمر کی موجودہ صورتحال اور وہاں ہونے والے حملوں سے متعلق مقتدر رپورٹنگ کی مدت میں مزید چھ ماہ کی تزویراتی توسیع کر دی ہے۔ اماراتی نیوز ایجنسی کے مطابق، سلامتی کونسل نے سال 2026 کی نئی قرارداد منظور کرتے ہوئے بحیرہ احمر میں تجارتی و بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں سے متعلق سیکرٹری جنرل کی جانب سے متواتر اور جامع رپورٹس پیش کرنے کی مدت میں توسیع کا مقتدر فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد اب یہ معلوماتی اور نگران عمل 15 جنوری 2027ء تک بدستور جاری رہے گا۔

موقر تفصیلات کے مطابق، سلامتی کونسل کے پندرہ میں سے 13 ارکان نے اس اہم قرارداد کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کیا، جبکہ دو مقتدر عالمی طاقتوں، چین اور روس نے اس رائے شماری کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔ سلامتی کونسل کے 10 ہزار 194 ویں اجلاس میں متفقہ طور پر منظور کی جانے والی یہ نئی قرارداد دراصل یمن اور بحیرہ احمر کی سیکیورٹی سے متعلق سلامتی کونسل کی سابقہ قراردادوں کا ہی ایک تسلسل ہے۔

اس منظور شدہ قرارداد کے تحت سال 2024 کی سابقہ قرارداد کی شق نمبر 10 میں شامل رپورٹنگ کی مدت کو باقاعدہ توسیع دی گئی ہے، تاکہ بحیرہ احمر کی تازہ ترین صورتحال، بحری راستوں کے تحفظ اور امن و امان کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی متواتر رپورٹس اور بریفنگز سلامتی کونسل کو مستقل بنیادوں پر فراہم کی جاتی رہیں اور خطے میں بحری تجارت کو محفوظ بنایا جا سکے۔

نایاب ترین قسم کے پھیلاؤ کے لیے تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج دستیاب نہیں؛ ہلاکتیں 754 تک پہنچ گئیں، عالمی ادارہ صحت کی تشویشناک رپورٹ

روزینہ اسماعیل, JULY 15,2026

کنشاسا (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

عالمی ادارہ صحت نے ہنگامی انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریہ کانگو کے مشرقی علاقوں میں مہلک ایبولا وائرس کے 80 فیصد نئے کیسز ایسے پراسرار ذرائع سے سامنے آ رہے ہیں جن کی منتقلی کا سلسلہ معلوم کرنا تاحال ممکن نہیں ہو سکا۔ مقتدر طبی ماہرین کے مطابق، یہ تشویشناک صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ مہلک ترین بیماری صحت کے حکام کی نگرانی اور رسائی سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے، جو خطے کے لیے ایک بڑے انسانی المیے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

اماراتی نیوز ایجنسی ‘وام’ کے مطابق، عالمی ادارہ صحت نے تزویراتی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں گزشتہ مئی سے ایبولا وائرس کی ایک انتہائی نایاب اور خطرناک قسم کی وبا پھیلی ہوئی ہے، جس کے تدارک کے لیے فی الحال دنیا میں کوئی بھی منظور شدہ سائنسی علاج یا ویکسین دستیاب نہیں ہے۔ افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے بھی اس بحران کی سنگینی کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ اب تک افریقی براعظم میں ریکارڈ کی جانے والی ایبولا کی تیز ترین اور بدترین ترین وبا بن چکی ہے۔

سرکاری سطح پر جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، کانگو میں اب تک ایبولا کے تصدیق شدہ کیسز کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2,011 ہو چکی ہے، جبکہ اس موذی وائرس کے باعث اب تک 754 افراد اپنی قیمتی جانیں ہار چکے ہیں۔ ملک کے قومی ادارہ صحت نے اپنی تازہ ترین مقتدر رپورٹ میں تشویشناک انکشاف کیا ہے کہ صرف پیر کے روز اتوری ، شمالی کیوو اور اوت-اوئیلے کے صوبوں میں مزید 54 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس نے مقامی طبی نظام کی کمزوریوں اور اس وبا کی ہولناکی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا خطاب؛ سلامتی کونسل کی مستقل نشستوں میں اضافے کی مخالفت، عالمی مالیاتی نظام میں فوری اصلاحات پر زور

محمود احمد, JULY 15,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ موجودہ اور ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کا واحد راستہ کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان نے ایک ایسے مؤثر، نمائندہ، جمہوری، جوابدہ اور منصفانہ عالمی نظام اور اداروں کی تشکیل پر زور دیا ہے جو دنیا کے معاشی و سلامتی کے مسائل کا پائیدار حل فراہم کر سکیں۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے غیر رسمی اجلاس بعنوان “پیکٹ فار دی فیوچر کا جائزہ: مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کثیرالجہتی نظام” سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے ‘پیکٹ فار دی فیوچر’ کے تحت کیے گئے عالمی وعدوں پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے مقتدر خطاب میں واضح کیا کہ ایک فعال اور مضبوط جنرل اسمبلی ہی دراصل ایک مؤثر اقوامِ متحدہ کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ میں جنرل اسمبلی کے کلیدی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کے ساتھ ساتھ جنرل اسمبلی کو مصنوعی ذہانت ، خلائی سرگرمیوں اور عالمی مشترکہ وسائل جیسے جدید ترین اور ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں بھی مرکزی اور تزویراتی کردار ادا کرنا چاہیے۔

بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مستقل مندوب نے ایک منصفانہ اور جمہوری عالمی اقتصادی نظم و نسق کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ترقی پذیر ممالک کے لیے رعایتی مالی وسائل تک آسان رسائی، قرضوں کے بوجھ میں بامعنی ریلیف اور عالمی برادری کے کیے گئے وعدوں پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ‘بورورز پلیٹ فارم’ کے قیام میں پاکستان کی بطور نائب چیئرمین خدمات کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے بین الاقوامی اقتصادی تعاون اور ہم آہنگی کے فروغ میں ای سی او ایس او سی کے چارٹر کے تحت حاصل اختیارات سے بھرپور استفادہ کرنے پر زور دیا۔

سلامتی کونسل میں اصلاحات کے حساس معاملے پر سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کے اصولی اور روایتی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کو زیادہ نمائندہ، جمہوری، شفاف، جوابدہ اور مؤثر بنانے کے لیے جامع اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ مستقل نشستوں میں اضافہ نہ تو سلامتی کونسل کو درپیش بنیادی مسائل کا حل ہے اور نہ ہی اسے اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کی وسیع حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اصلاحات کا مقصد بالخصوص ترقی پذیر اور چھوٹے ممالک سمیت پوری رکنیت کے اجتماعی مفادات کی بہتر عکاسی ہونا چاہیے، اور اس سلسلے میں بین الحکومتی مذاکرات ہی مناسب اور متفقہ فورم ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ اصل کامیابی کا معیار یہ ہوگا کہ آیا اقوامِ متحدہ کے ادارے مستقبل میں واقعی زیادہ نمائندہ، جوابدہ اور منصفانہ بن کر تمام رکن ممالک کی ضروریات پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔

اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا سلامتی کونسل سے مقتدر خطاب؛ افریقہ کے ساتھ پاکستان کی ہمہ جہت شراکت داری اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر زور

محمود احمد, JULY 15,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

پاکستان نے مغربی افریقہ اور ساحل خطے میں دیرپا امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے اپنی مضبوط اور اصولی حمایت کا صریح اعادہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مغربی افریقہ اور ساحل کے لیے اقوامِ متحدہ کے دفتر کی کارکردگی پر منعقدہ ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ خطے کو درپیش پیچیدہ سیاسی، سلامتی، انسانی اور سماجی و اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی ملکیت، مضبوط علاقائی تعاون اور مستقل بین الاقوامی مالی و سیاسی حمایت ناگزیر ہے۔ انہوں نے یو این او واس کے خصوصی نمائندے کی جامع بریفنگ کی تعریف کی اور خطے میں احتیاطی سفارت کاری، جامع سیاسی مکالمے اور باہمی تعاون کے فروغ میں ادارے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس کے آئندہ آزادانہ اسٹریٹجک جائزے کا خیرمقدم کیا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل اور تاریخی عزم کو دہراتے ہوئے ریاستوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے بنیادی اصول پر سختی سے زور دیا۔ افریقہ کے ساتھ پاکستان کے گہرے تعلقات کا تزویراتی تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے فخر سے اجاگر کیا کہ پاکستانی امن دستوں نے پورے افریقی براعظم میں اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے امن قائم کرنے اور امن کے استحکام کی مقتدر کوششوں میں ہمیشہ نمایاں اور امتیازی خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا، “افریقہ کے ساتھ ہماری شراکت داری دیرینہ، مضبوط اور ہمہ جہت ہے اور پاکستان اس براعظم کی خوشحالی کو اپنی ترجیحات میں شامل سمجھتا ہے۔”

پاکستانی مستقل مندوب نے مغربی افریقہ اور ساحل کے علاقوں میں دہشت گردی اور پُرتشدد انتہا پسندی کے مسلسل بڑھتے ہوئے خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس لعنت کے مؤثر تدارک کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض عسکری کارروائیاں کافی نہیں، بلکہ اس مقصد کے لیے ایک ایسی جامع حکمتِ عملی درکار ہے جو مؤثر سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو جنم دینے والی بنیادی وجوہات اور معاشی محرومیوں کے خاتمے پر بھی یکساں توجہ دے۔ انہوں نے علاقائی تعاون کے فروغ کی اہمیت کے ضمن میں ایکوواس اور کنفیڈریشن آف ساحل اسٹیٹس کے درمیان جاری روابط کا خیرمقدم کیا اور باہمی اعتماد کی بحالی کے لیے مسلسل مکالمے کی حوصلہ افزائی کی۔

اپنے مقتدر خطاب کے آخر میں سفیر عاصم افتخار احمد نے امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کے باہمی گہرے تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے کو درپیش انسانی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنی امداد اور سرمایہ کاری کی حمایت جاری رکھے، بالخصوص انسانی امدادی سرگرمیوں کے لیے درکار عالمی مالی وسائل کی مسلسل کمی کا فوری نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ “دیرپا امن اور سلامتی کا انحصار پائیدار ترقی، مضبوط اداروں اور نوجوانوں کے لیے بہتر معاشی مواقع کی فراہمی پر ہے”۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن، معاشی استحکام اور تعمیرِ نو کے فروغ کے لیے تمام مخلصانہ عالمی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

سعودی عرب پر حملے قابلِ مذمت اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہیں، وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا سخت ردِعمل

کاشف عباسی , JULY 14,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب پر کیے گئے حالیہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے برادر ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل اور تزویراتی حمایت کا صریح اعادہ کیا ہے۔ منگل کے روز سماجی رابطے کی مقتدر ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک خصوصی اور اہم بیان میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان گزشتہ رات برادر ملک مملکتِ سعودی عرب پر کیے گئے صریح حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

وزیر اعظم نے اپنے تزویراتی بیان میں واضح کیا کہ ایسے بزدلانہ اور قابلِ مذمت اقدامات مملکتِ سعودی عرب کی خودمختاری، خود مختار حیثیت اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں، اور ان سے خطے کے پہلے سے نازک امن و استحکام کو مزید شدید نقصان پہنچنے کا سنگین خدشہ ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان برادر ملک سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے لیے اپنی اصولی اور غیر متزلزل حمایت کا عزم دہراتا ہے اور اس انتہائی نازک وقت میں اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ مکمل اور بے لوث یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اپنے مقتدر پیغام کا اختتام کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر خطے میں امن، استحکام، دیرپا سلامتی اور باہمی افہام و تفہیم کے فروغ کے لیے کی جانے والی تمام مخلصانہ، تعمیری اور سفارتی کوششوں کی بھرپور مقتدر حمایت جاری رکھے گا، کیونکہ سعودی عرب کا امن درحقیقت پورے خطے کے امن و سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔

وی اے آر کا متنازع استعمال اور جانبداری کے الزامات: فیفا ورلڈ کپ میں ریفرینگ پر بحران شدت اختیار کر گیا، سابق ریفری کرسٹینا انکل کے تحفظات

محمود احمد, JULY 14,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

فیفا ورلڈ کپ میں ریفری کے متنازع فیصلوں اور ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (وی اے آر) کے غیر متوقع استعمال پر جاری عالمی تنازع نے ایک نیا تزویراتی موڑ اختیار کر لیا ہے، جہاں سابق نامور فیفا ریفری کرسٹینا انکل نے نئے ریفرینگ پروٹوکول پر اپنے گہرے اور مقتدر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔ ارجنٹائن کی سیمی فائنل تک رسائی کے سفر کے دوران مختلف میچز میں ریفرینگ کے فیصلوں پر حریف ٹیموں اور ان کے مینیجرز نے شدید ترین اعتراضات اٹھائے ہیں، جس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ تاثر بھی تیزی سے گردش کر رہا ہے کہ ٹورنامنٹ میں لیونل میسی کی ٹیم (ارجنٹائن) کو منظم طریقے سے فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔

موقر تفصیلات کے مطابق، کوارٹر فائنل کے ایک انتہائی اہم اور سنسنی خیز مقابلے میں سوئٹزرلینڈ کے مقتدر فارورڈ بریل ایمبولو کو مبینہ ڈائیونگ کی پاداش میں دوسرا پیلا کارڈ (یلو کارڈ) دکھا کر میدان سے باہر بھیجنے کے متنازع ترین فیصلے نے دنیا بھر کے ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ سوئس کوچ مرات یاکین نے اس فیصلے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر ‘ناقابلِ قبول’ قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے سابق ریفری کرسٹینا انکل نے واضح کیا کہ نئے وی اے آر پروٹوکول کے تحت فیلڈ ریفری کے بنیادی اور تزویراتی فیصلے تک تبدیل کیے جا رہے ہیں، جو کہ وی اے آر ٹیکنالوجی کے اصل مقصد اور حقیقی روح سے صریحاً انحراف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس انتہائی پیچیدہ نظام کو مکمل اور جامع آزمائش (ٹرائل) کے بغیر ورلڈ کپ جیسے بڑے اسٹیج پر نافذ کرنے کی وجہ سے شائقینِ فٹ بال اور تجزیہ کاروں کے شکوک و شبہات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب، فیفا کے اعلیٰ حکام نے جانبداری اور ارجنٹائن کی حمایت کے تمام تر الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنے مقتدر ریفری سربراہ پیئرلوئیجی کولینا کے سابقہ پالیسی بیان کا حوالہ دیا ہے جس میں فیصلوں کی شفافیت پر زور دیا گیا تھا۔ کرسٹینا انکل کا ماننا ہے کہ اگرچہ ٹورنامنٹ کے بیشتر فیصلے تکنیکی طور پر درست محسوس ہوئے، تاہم حالیہ پے در پے تنازعات اور مختلف کھلاڑیوں کے خلاف اپنائی گئی متضاد سزاؤں کی روش نے فیفا کے پورے امپائرنگ نظام پر شائقین کا اعتماد بری طرح متاثر کیا ہے۔