حوثی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی: سعودی عرب کا سخت ردِعمل، شدید مذمت

محمود احمد, September 08,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے جنوبی مملکت کے اہم شہروں ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں شہری آبادی اور حساس اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے سنگین واقعات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ان پرتشدد اور بزدلانہ حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 73 شہری زخمی ہو گئے ہیں۔

سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اور اہم اعلامیے کے مطابق، حوثی ڈرون اور میزائل حملوں کی زد میں آ کر جنوبی سعودی عرب کے مختلف اور اہم حصوں میں واقع توانائی اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کی عمارتیں متاثر ہوئی ہیں۔ سعودی حکام نے ان کارروائیوں کو خطے کے امن کے لیے ایک انتہائی خطرناک عسکری کشیدگی قرار دیتے ہوئے اپنے شہریوں، مقیم غیر ملکیوں اور قومی مفادات کی ہمہ وقت حفاظت کو یقینی بنانے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے اپنے تفصیلی بیان میں واضح کیا کہ حوثی ملیشیا نہ صرف زمینی اہداف بلکہ بحیرۂ احمر جیسے اہم ترین تجارتی راستے پر بھی تجارتی بحری جہازوں کو مسلسل اور منصوبہ بند طریقے سے نشانہ بنا رہی ہے، جس سے بین الاقوامی بحری آمدورفت اور آزادانہ سمندری تجارت کی سلامتی کو کھلے خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب نے حوثیوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان مخالفانہ کارروائیوں کا سلسلہ بند کریں اور تجارت کو مفلوج کرنے سے باز رہیں۔

اعلامیے کے مطابق، ریاض حکومت یمن کے ساتھ ساتھ اپنے تمام عرب اور اسلامی ہمسایہ ممالک کی سلامتی اور پائیدار استحکام کو داؤ پر لگانے والے حوثی گروپ کے کسی بھی جارحانہ قدم کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ بیان میں حوثیوں کی طرف سے خطے میں امن کی مسلسل کوششوں کو ناکام بنانے اور بات چیت کو معطل کرنے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

سعودی حکومت نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مملکت کو اپنی جغرافیائی خودمختاری کے تحفظ، قومی وسائل کی سلامتی اور ملک میں موجود تمام شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اور تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا پورا آئینی و بین الاقوامی حق حاصل ہے۔ ریاض نے باور کرایا کہ اپنی سرزمین پر حملوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس طرح کی کارروائیوں کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت میں بھرتیوں کا نظام جدید اور شفاف بنانے کی منظوری: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اصلاحاتی رپورٹ منظور کر لی

کاشف عباسی , September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وفاقی حکومت میں سرکاری ملازمین کی بھرتی کے موجودہ نظام میں اصلاحات لانے اور ‘نیشنل جاب پورٹل’ کو مزید جامع و مؤثر بنانے کے لیے قائم کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کا دوسرا اور حتمی اجلاس منعقد ہوا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، اس اہم اجلاس میں کمیٹی کی طرف سے وفاقی وزارتی و انتظامی محکموں میں بھرتیوں کے نظام کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور پورٹل کی تکنیکی صلاحیت کو مضبوط بنانے پر مبنی تفصیلی کام کا جائزہ لیا گیا۔ نائب وزیراعظم نے کمیٹی کی کارکردگی اور تجاویز کو سراہتے ہوئے حتمی رپورٹ کی منظوری دے دی۔

اس موقع پر اسحاق ڈار نے ہدایت کی کہ اجلاس کے دوران جن اہم تکنیکی و انتظامی امور پر غور و خوض کیا گیا، ان تمام قیمتی تجاویز کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا جائے تاکہ منظوری کے لیے حتمی مسودہ فوری طور پر وزیراعظم پاکستان کو پیش کیا جا سکے۔

نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان مجوزہ اصلاحات کا بنیادی مقصد وفاقی حکومت میں بھرتی کے عمل کو مکمل شفاف، میرٹ پر مبنی، تیز رفتار اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان تمام تر اصلاحات کے باوجود بھرتیوں کا حتمی اختیار حکومت کے پاس ہی برقرار رہے گا، تاہم تمام تر نظام کو جدید ڈیجیٹل سہولیات سے لیس کر کے زیادہ باصلاحیت اور فعال بنایا جائے گا۔

اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، وفاقی سیکرٹری کابینہ، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے اعلیٰ حکام اور دیگر متعلقہ وزراتوں و اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

پاکستان اور کویت کا دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا عزم: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی کویتی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو

منصور احمد,September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے ایک انتہائی اہم اور تفصیلی ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں دونوں برادر ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں کثیر الجہتی تعاون کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس اہم گفتگو میں پاکستان اور کویت کے تاریخی دوطرفہ تعلقات، تجارتی و معاشی شراکت داری، اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم شعبوں میں جاری پیش رفت کا جامع جائزہ لیا گیا۔

گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سیکیورٹی، خطے کی تازہ ترین صورتحال اور عالمی سطح پر ہونے والی اہم سیاسی و سفارتی پیش رفتوں کے حوالے سے اپنے خیالات اور مواقف کا تبادلہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں پائیدار امن، استحکام اور سلامتی کے فروغ کے لیے باہمی مشاورت کے عمل کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر اسحاق ڈار اور شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے اعلیٰ سطح پر سفارتی رابطوں اور تعمیری مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جبکہ رواں ماہ نیویارک میں منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ایک باقاعدہ دوطرفہ تفصیلی ملاقات کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان یہ حالیہ رابطہ پاکستان اور کویت کے درمیان دہائیوں پر محیط قریبی برادرانہ تعلقات، پائیدار اعتماد اور دوطرفہ تعاون کو ایک نئی بلندی پر لے جانے کے مشترکہ عزم کا واضح مظہر ہے۔

جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملے: بچوں اور طبی عملے کے اہلکار سمیت 12 افراد ہلاک، متعدد زخمی

محمود احمد, September 07,2026

بیروت (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

جنوبی لبنان کے تاریخی اور گنجان آباد قصبے کفر رمان پر اسرائیلی جیٹ طیاروں کی شدید بمباری کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں دو بچے، چار خواتین اور امدادی کاموں میں مصروف ایک طبی اہلکار بھی شامل ہے۔

لبنان کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق نبطیہ کے قریب کفر رمان میں ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 11 افراد موقع پر دم توڑ گئے جبکہ 8 شدید زخمی ہوئے، جن میں تین معصوم بچے اور ایک طبی امدادی کارکن شامل ہے۔ اس حملے کے فوراً بعد ایک اور کارروائی کے دوران سڑک پر جاتی ہوئی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں مزید ایک طبی اہلکار ہلاک اور دو افراد زخمی ہو گئے۔

اسرائیلی عسکری حکام نے فضائی کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے متعدد خفیہ اور متحرک ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی عسکری ترجمان کے مطابق یہ شدید کارروائیاں اسرائیلی فوجیوں پر حزب اللہ کی جانب سے بارود سے لدے دو ڈرون بھیجے جانے کے فوری جواب میں کی گئیں تاکہ درپیش خطرات کا خاتمہ کیا جا سکے۔

یہ خونریز فضائی حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جنوبی لبنان میں رواں سال جون میں طے پانے والے نازک جنگ بندی معاہدے کے باوجود سرحدی کشیدگی روز بروز سنگین صورتحال اختیار کرتی جا رہی ہے۔ لبنانی صدر جوزف عون نے اسرائیلی بمباری کو خطرناک ترین عسکری پیش رفت قرار دیتے ہوئے امریکہ اور بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت اور سفارتی اقدامات کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

لبنانی حکومت نے اسرائیل پر جنگ بندی کے معاہدے کی متواتر خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ اسرائیل ان کارروائیوں کو اپنا دفاعی حق قرار دے رہا ہے۔ سرحد پر بڑھتی ہوئی مسلسل پرتشدد کارروائیوں نے خطے میں ایک نئی، مکمل اور وسیع تر جنگ کے خدشات کو انتہائی شدید کر دیا ہے۔

امریکہ اور ایران جنگ کے اثرات سے معیشت کو بچانے کے لیے اقدامات جاری؛ آبنائے ہرمز پر انحصار ختم کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے پر کام تیز

محمود احمد, September 07,2026

ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ ان کا ملک توانائی کی برآمدات، عالمی تجارت اور ملکی معاشی سرگرمیوں کو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر متبادل راستے اور جدید بنیادی ڈھانچہ تیار کر رہا ہے۔

انور قرقاش نے ابوظہبی میں انعقاد پذیر ہِلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی واضح اور سخت الفاظ میں کہا کہ متحدہ عرب امارات کی توانائی کی عالمی برآمدات اور بنیادی تجارتی و معاشی سرگرمیوں کو علاقائی کشیدگی، بدامنی یا جنگی حالات کے باعث کسی بھی صورت یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔

صدارتی مشیر نے اپنے خطاب میں تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات اپنی مشرقی ساحلی پٹی پر واقع بندرگاہوں کی مجموعی استعداد کار میں غیر معمولی اضافہ کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پائپ لائنز، ریلوے نیٹ ورک اور نئے تجارتی راستوں کو بھی تیزی سے وسعت دی جا رہی ہے تاکہ توانائی کی منتقلی اور عالمی تجارت کے لیے ہر وقت آبنائے ہرمز کے متبادل راستے باآسانی دستیاب رہیں۔

ایران کے ساتھ مستقبل کے سفارتی تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انور قرقاش نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک فعال تعلق دوبارہ قائم تو کیا جا سکتا ہے، تاہم حالیہ عسکری حملوں اور پرتشدد واقعات کے بعد باہمی اعتماد کی مکمل بحالی میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

انہوں نے خلیجی عرب ریاستوں کی مجموعی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے درپیش سلامتی کے خطرے کے بارے میں اگرچہ خلیجی ممالک کے مابین عمومی اتفاقِ رائے موجود تھا، لیکن اس کے باوجود ایک مشترکہ، مضبوط اور مربوط عسکری و معاشی حکمتِ عملی اختیار کرنے میں خلیجی ریاستیں مطلوبہ حد تک کامیاب نہیں ہو سکیں۔

انور قرقاش کے مطابق موجودہ نازک صورتحال نے خلیجی ممالک کو اپنی سلامتی، بقا اور معاشی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے مزید خود انحصاری اور متبادل ذرائع پیدا کرنے کا شدید احساس دلایا ہے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری شدید کشیدگی نے پہلے ہی عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل اور تیل کی بین الاقوامی منڈیوں پر گہرا دباؤ بڑھا رکھا ہے۔

یمن میں لڑائی میں ایک بار پھر شدید تپش: حوثیوں کا سعودی عرب پر فضائی حملوں اور کروز میزائل کارروائیوں کا بڑا الزام

محمود احمد, September 07,2026

صنعا (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

یمن کے حوثی باغی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے متعدد صوبوں میں شدید فضائی حملے کیے ہیں اور کروز میزائلوں سے مختلف اہم اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ حوثیوں کے زیرِ انتظام کام کرنے والی سرکاری خبر رساں ایجنسی صبا کے مطابق ان تازہ فضائی اور میزائل حملوں کے دوران صوبہ الجوف، البیضا، مأرب اور تعز کے متعدد حساس مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی ہے۔

حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر ان شدید حملوں کا یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں زمینی جنگ ایک بار پھر انتہائی خونریز اور شدت اختیار کر گئی ہے۔ حوثی جنگجو اس وقت بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل آبنائے باب المندب سے متصل اہم اور تزویراتی علاقوں کی جانب تیزی سے پیش قدمی کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں جہاں انہیں شدید مقاومت کا سامنا ہے۔

موصولہ رپورٹوں کے مطابق گزشتہ چند روز سے حوثی جنگجوؤں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی باقاعدہ مسلح افواج کے درمیان گھمسان کا معرکہ جاری ہے۔ ان جھڑپوں میں اب تک دونوں جانب سے بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ یمنی حکومتی فورسز کو سعودی عرب کی مکمل سفارتی و عسکری حمایت حاصل ہے جبکہ خود کو انصار اللہ کہلوانے والے حوثی گروپ کو ایران کا قریبی اتحادی تصور کیا جاتا ہے۔

اس وقت حوثی گروپ دارالحکومت صنعا سمیت شمالی یمن کے تمام وسیع و عریض علاقوں پر قابض ہے، جبکہ یمنی حکومت کے حامی دستے ملک کے جنوبی اور مشرقی حصوں سمیت اہم ساحلی اور بندرگاہی علاقوں کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں۔ حالیہ لڑائی کا مرکزی نقطہ تعز، الحدیدہ کے مغربی اضلاع اور المَخا کے اطراف کا خطہ ہے، جو باب المندب کی اہم سمندری گزرگاہ تک براہِ راست رسائی فراہم کرتا ہے۔ یمنی حکومتی فورسز نے بھی حوثی ٹھکانوں پر جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے بعض اہم علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس تمام تر جنگی صورتحال کے پیشِ نظر حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف جوابی سمندری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے سعودی تیل بردار جہازوں اور ان کی نقل و حمل کو نشانہ بنانے کی کھلی دھمکیاں بھی دی ہیں۔ چونکہ آبنائے باب المندب دنیا بھر کی تیل اور تجارتی ترسیل کی اہم ترین شاہراہ ہے، اس لیے اس خطے میں جنگ کے پھیلنے سے عالمی جہاز رانی اور توانائی کے منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ فی الوقت سعودی حکام نے حوثیوں کے ان تازہ الزمات پر کوئی باقاعدہ تبصرہ یا آزادانہ تصدیق جاری نہیں کی ہے۔

1965ء کی جنگ میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن کا غرور خاک میں ملا دیا: یومِ فضائیہ پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا زبردست خراجِ تحسین

منصور احمد,September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے داخلہ محسن نقوی نے 7 ستمبر ‘یومِ فضائیہ’ کے موقع پر پاک فضائیہ کے شجاع شہداء اور غازیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 7 ستمبر 1965ء کا دن پاک فضائیہ کی غیر معمولی شجاعت، بے مثال جرات اور اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ مہارت کا ایک سنہری اور تاریخی دن ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق، یومِ فضائیہ کی مناسبت سے جاری کردہ اپنے خصوصی قومی پیغام میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران پاک فضائیہ کے شاہینوں نے جرات و بہادری کی ایسی تاریخ رقم کی جس نے دشمن کی تمام تر عددی اور تکنیکی برتری کا غرور خاک میں ملا دیا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے فضائی معرکے کے عظیم قومی ہیرو سکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم (مرحوم) کو خصوصاً زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم عالم کی شجاعت اور پیشہ ورانہ مہارت پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش اور روشن باب ہے۔ ایم ایم عالم نے محض ایک منٹ کے قلیل وقت میں دشمن بھارت کے 5 جدید جیٹ جنگی طیارے مار گرائے، جو کہ ایک ایسا عالمی اور تاریخی کارنامہ ہے جس کی دنیا کی ہوا بازی میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔

محسن نقوی نے اپنے پیغام میں زور دیتے ہوئے کہا کہ یومِ فضائیہ ہمارے تمام غازیوں اور شہداء کی لازوال قربانیوں کی یاد تازہ کرتا ہے اور پوری پاکستانی قوم اپنے ان سرفروش ہیروز کی قربانیوں کو ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ وطنِ عزیز کی فضائی سرحدوں کے پاسبان ہمہ وقت بیدار، پرعزم اور مستعد ہیں، جبکہ شہداء اور غازیوں نے اپنے مقدس خون سے پاکستان کے دفاع کو ہمیشہ کے لیے ناقابلِ تسخیر بنا دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاک فضائیہ کے تمام افسران، انجینئرز اور جوانوں کا جذبۂ حب الوطنی اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں پورِی قوم کے لیے قابلِ تقلید ہیں۔ قوم کو پاکستان ایئر فورس کی اعلیٰ تزویراتی و عملیاتی صلاحیتوں پر ہمیشہ کی طرح آج بھی بے پناہ فخر ہے۔

منشیات سازی اور اسمگلنگ کیس: مشہور مصری ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ اور 11 دیگر افراد کو سزائے موت کا حکم

محمود احمد, September 06,2026

قاہرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

مصر کے معروف سرکاری اخبار ’الاہرام‘ کے مطابق مصری عدالت نے ملک کی نامور اور معروف ٹیلی وژن اینکر سارہ خلیفہ اور ان کے 11 دیگر ساتھیوں کو منشیات کی خریدو فروخت اور سنگین جرائم سے متعلق الزامات ثابت ہونے پر باقاعدہ پھانسی (سزائے موت) کا حکم سنا دیا ہے۔

الاہرام کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق، سارہ خلیفہ اور ان کے دیگر مجرمانہ گروہ پر الزام تھا کہ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیکلز اور خام اجزاء کی غیر قانونی درآمد کی اور انہیں مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کا ایک منظم نیٹ ورک چلا رہے تھے۔ اس کے علاوہ ملزمان کے قبضے سے غیر قانونی آتشیں اسلحہ، جدید پسطول اور بھاری مقدار میں گولہ بارود بھی برآمد ہوا تھا۔

39 سالہ سارہ خلیفہ مصری میڈیا پر اپنے مقبول عام ٹی وی شو ’مشن امپاسبل‘ کی وجہ سے ملک گیر شہرت رکھتی ہیں، جس میں بنیادی طور پر سنسنی خیز جرائم اور ان کی تحقیقاتی رپورٹس پر بات کی جاتی تھی۔ سارہ خلیفہ اور ان کے مرکزی ساتھیوں نے عدالت کے سامنے اپنے اوپر عائد تمام سنگین الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق اسی کیس میں شامل دیگر 9 ملزمان کو عمر قید (25 سال قیدِ با مشقت) کی سزا سنائی گئی ہے، جبکہ عدم ثبوت کی بنا پر 7 افراد کو مقدمے سے مکمل طور پر بری کر دیا گیا ہے۔ سارہ خلیفہ کے قانونی دفاعی وکیل نے میڈیا کو بتایا کہ وہ اعلیٰ عدالت میں اس سزائے موت کے خلاف فوری اپیل دائر کریں گے۔

واضح رہے کہ اس ہائی پروفائل کیس کے فیصلے کا ابتدائی اعلان گزشتہ ماہ کیا گیا تھا، تاہم مصری قانون کے تحت سزائے موت کی حتمی توثیق سے قبل تمام قانونی دستاویزات کو مصر کے گرینڈ مفتی کی شرعی و مذہبی رائے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ گرینڈ مفتی سے شرعی منظوری ملنے کے بعد اب عدالت نے سزا کی باضابطہ توثیق کر دی ہے۔

نئی دہلی میں 5 منزلہ ہاسٹل کی عمارت زمین بوس: درجنوں طلبہ ملبے تلے دب گئے، ایک ہلاک اور متعدد زخمی

کاشف عباسی , September 06,2026

نئی دہلی / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے جنوب مغربی علاقے ستیہ نکیتن میں اتوار کی دوپہر ایک خوفناک حادثہ پیش آیا ہے، جہاں دہلی یونیورسٹی کے قریب واقع ایک پانچ منزلہ رہائشی ہاسٹل کی عمارت اچانک زمین بوس ہو گئی۔ حادثے کے وقت عمارت میں درجنوں طلبہ اور مزدور موجود تھے، جن میں سے متعدد کے ملبے تلے دبے ہونے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ واقعہ اتوار کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً 1:30 بجے پیش آیا۔ ‘ہاسٹل ڈیز’ نامی اس عمارت کے گرنے کے وقت اس میں اندازً 50 کے قریب افراد موجود تھے۔ چونکہ اتوار کے روز دہلی یونیورسٹی میں تعطیل تھی، اس لیے زیادہ تر طلبہ اپنے کمروں میں ہی موجود تھے۔

مقامی پولیس اور این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امدادی کارروائیوں کے دوران اب تک کم از کم 1 شخص کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 6 افراد کو شدید زخمی حالت میں ملبے سے نکال لیا گیا ہے، جن میں سے 2 کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ موقع پر موجود ایک مقامی رکنِ اسمبلی نے میڈیا کو بتایا کہ ملبے تلے محصور بعض طلبہ فون کالز کے ذریعے اپنی موجودگی اور مدد کے لیے رابطے کر رہے ہیں۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق عمارت کے گرنے کی بنیادی وجہ اس کے تہہ خانے میں جاری تعمیراتی اور کھدائی کا کام بنا۔ عمارت کے قریب موجود ایک دکاندار نے بھارتی خبر رساں ادارے ‘اے این آئی’ کو بتایا کہ عمارت کی آمدنی بڑھانے کے لیے لیز ہولڈر نے نیچے ستونوں کے پاس کھدائی کروائی تھی، جس سے بنیادیں کمزور ہو گئیں اور پوری عمارت بیٹھ گئی۔ حادثے کے نتیجے میں متصل واقع ایک اور عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

دہلی کی وزیرِاعلیٰ ریکھا گپتا نے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملبے میں پھنسے افراد کو بحفاظت نکالنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں اور این ڈی آر ایف ہر ممکن کوششیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ احتیاطی تدابیر کے طور پر آس پاس کی دیگر تمام عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا ہے۔

دوسری جانب نیشنل سٹوڈنٹس یونین آف انڈیا نے حادثے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات اور غفلت کے ذمہ دار بلڈنگ مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق 40 سے 50 سال پرانی اس عمارت کے مالک اور ٹھیکیدار کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔

جنوب مغربی یمن میں حوثیوں اور حکومتی افواج کے درمیان خوفناک معرکہ آرائی: 140 سے زائد عسکری اہلکار ہلاک

محمود احمد, September 06,2026

تعز / عدن (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

یمن کے تزویراتی جنوب مغربی محاذوں پر ایران کے اتحادی حوثی جنگجوؤں اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی شدت میں ہولناک اضافہ ہو گیا ہے، جہاں ہفتے کی سہ پہر سے اتوار کی صبح کے درمیان ہونے والی خونریز لڑائی میں دونوں جانب سے 140 سے زائد فوجی اور عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق یمنی حکومت کے دو سینئر عسکری عہدیداروں نے تصدیق کی ہے کہ حوثیوں کے شدید میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں ان کی افواج کے کم از کم 84 اہلکار جاں بحق ہوئے ہیں۔ دوسری جانب حوثی تحریک (انصار اللہ) کے چار عسکری ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ اسی 24 گھنٹے کے عرصے کے دوران ان کے بھی 57 جنگجو مارے گئے ہیں۔

عسکری ماہرین کے مطابق بحیرہ احمر کے انتہائی اہم اور حساس داخلی راستے ‘آبنائے باب المندب’ اور اس سے ملحقہ ساحلی علاقوں پر مکمل سیکیورٹی اور ملٹری کنٹرول حاصل کرنے کے لیے جاری یہ جنگ گزشتہ دو ماہ کے دوران سب سے زیادہ مہلک اور خونی ثابت ہوئی ہے۔ یہ نیا خونریز مرحلہ 2022ء کے تاریخی جنگ بندی معاہدے کے حتمی طور پر ختم ہونے اور تعطل کا شکار ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی عسکریت پسندوں نے جمعرات کے روز ایک بڑے پیمانے پر جارحانہ عسکری آپریشن کا آغاز کیا تھا، جس کا بنیادی مقصد ‘موچا’ کی تاریخی و اہم بندرگاہ کے مواصلاتی و لوجسٹک رابطوں کو مکمل طور پر منقطع کرنا تھا۔ یہ بندرگاہ گزشتہ کئی ہفتوں سے مسلسل حملوں کی زد میں ہے اور حوثی فورسز آبنائے باب المندب کی جانب تیزی سے پیش قدمی کی کوشش کر رہی ہیں۔

مختلف عسکری اور طبی ذرائع کے فراہم کردہ مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق جمعرات سے شروع ہونے والے اس تازہ ترین معرکے میں اب تک مجموعی طور پر 300 سے زائد فوجی اور کئی عام شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھ ہیں، جبکہ درجنوں زخمی ہیں۔

خلیجِ فارس میں ‘آبنائے ہرمز’ کے ارد گرد بڑھتے ہوئے شدید جنگی خطرات اور ممکنہ بندش کے پیشِ نظر، دنیا میں خام تیل کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک سعودی عرب کی بحری برآمدات اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ‘آبنائے باب المندب’ کی تزویراتی اور معاشی اہمیت میں ریکارڈ اضافہ ہو چکا ہے۔

یاد رہے کہ خود کو ‘انصار اللہ’ کہلوانے والا حوثی گروپ اس وقت شمالی یمن، دارالحکومت صنعاء اور بحیرہ احمر کے مغربی ساحلی پٹی کے ایک بڑے رقبے پر قابض ہے، جبکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ یمنی صدارتی لیڈرشپ کونسل ملک کے مشرقی علاقوں، جنوبی ساحل اور اہم بندرگاہی شہر ‘عدن’ پر کنٹرول رکھتی ہے۔

جنوبی لبنان میں اسرائیلی ایئر فورس کی شدید بمباری: 4 افراد جاں بحق، خواتین اور بچوں سمیت 20 زخمی

محمود احمد, September 06,2026

بیروت (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فضائیہ کے بمبار طیاروں نے ہولناک بمباری کی ہے، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 4 افراد ہلاک جبکہ 20 سے زائد شہری شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

لبنانی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں کا بنیادی نشانہ جنوبی لبنان کے تاریخی شہر نباتیہ اور عرب سلیم کے رہائشی علاقے بنے۔ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق نباتیہ الفوقہ میں فضائی بمباری کے نتیجے میں دو افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوئے جبکہ عرب سلیم کے قریب ایک مکان پر حملے سے دو خواتین ہلاک ہو گئیں۔ زخمی ہونے والے 20 سے زائد افراد میں تین کمسن بچے اور کئی خواتین شامل ہیں جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

دوسری جانب، اسرائیلی فوج کے ترجمان نے فضائی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ کارروائی حزب اللہ کی جانب سے سرحد پار اسرائیلی عسکری اہلکاروں اور سیکیورٹی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے دو ہتھیار بردار ڈرون حملوں کا براہِ راست جواب ہے۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جنوبی لبنان میں بنیادی طور پر حزب اللہ کے عسکری مراکز اور زیرِ زمین ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

تاہم، لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے کارروائی سے قبل عرب سلیم کی ایک مخصوص عمارت کے آس پاس کے رہائشیوں کو ہنگامی بنیادوں پر علاقہ خالی کرنے کی تنبیہ جاری کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ حزب اللہ اس عمارت کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی جنگی طیاروں نے انتباہی نوٹس میں بتائی گئی عمارت کے بجائے اس کے متصل واقع ایک اور رہائشی گھر کو بم سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہاں موجود دو بے گناہ خواتین جاں بحق ہو گئیں، جبکہ بعد ازاں وارننگ والی عمارت کو بھی تباہ کر دیا گیا۔

لبنانی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ اس بربرانہ بمباری کے دوران نباتیہ شہر میں واقع تاریخی ‘غنڈور ہسپتال’ کے ایک بڑے حصے کو بھی شدید نقصان پہنچا، اگرچہ یہ ہسپتال گزشتہ کئی برسوں سے غیر فعال تھا۔ علاوہ ازیں، نباتیہ میں ہونے والے فضائی حملوں کے باعث متعدد قدیم اور تاریخی عمارتوں سمیت سرکاری مالیاتی، ریونیو اور زرعی دفاتر کی عمارتیں تباہ ہو گئیں اور شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان یہ تازہ ترین اور خطرناک فوجی تصادم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرحد کے دونوں اطراف کشیدگی عروج پر ہے اور فریقین کی جانب سے سابقہ سرحد پار سیکیورٹی معاہدوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات مسلسل عائد کیے جا رہے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں جنگی کارروائیوں کے بعد امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس ابراہم لنکن’ 5 روزہ قیام کے بعد تھائی لینڈ سے روانہ

محمود احمد, September 06,2026

بنکاک / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

امریکی بحریہ کا جوہری توانائی سے چلنے والا دیوہیکل طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس ابراہم لنکن’ پانچ دنوں کے مسلسل قیام، آرام اور ضروری لاجسٹک سہولیات کی فراہمی کے بعد اتوار کے روز تھائی لینڈ سے واپس روانہ ہو گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق، یو ایس ایس ابراہم لنکن بدھ کے روز تھائی لینڈ کے مشرقی ساحل پر واقع تزویراتی لیم چابانگ بندرگاہ پر پہنچا تھا، جہاں وہ عالمی سیاحتی مقام پٹایا کے سمندری ساحل کے قریب لنگر انداز رہا۔ اس اہم ساحلی قیام کا بنیادی مقصد جہاز پر موجود تقریباً 5 ہزار امریکی عسکری اہلکاروں کو مسلسل طویل جنگی خدمات کے بعد آرام، تفریح اور لاجسٹک سسٹمز کو بہتر بنانے کا موقع فراہم کرنا تھا۔

یو ایس ایس ابراہم لنکن کے کمانڈر کیپٹن ڈین کیلر نے تھائی لینڈ کی حکومت اور عوام کی جانب سے زبردست میزبانی اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تھائی لینڈ امریکی بحریہ کے لیے جنوب مشرقی ایشیاء میں ایک انتہائی اہم تزویراتی شراکت دار ہے، اور یہ حالیہ دورہ کسی مشترکہ فوجی مشق کے بجائے محض عملے کی بحالی اور ضروری لاجسٹک سہولیات کے حصول کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔

یہ سپر کیریئر جہاز تقریباً 286 دن کے تاریخی اور طویل ترین عرصے تک مسلسل کھلے سمندر میں رہنے کے بعد تھائی لینڈ پہنچا تھا۔ اس ریکارڈ سکیورٹی ڈیوٹی کے دوران ابراہم لنکن نے مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال اور ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیوں، فضائی حملوں اور سمندری ناکہ بندی سے متعلق اہم جنگی مشنز میں بنیادی اور مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

عام حالات میں امریکی بحریہ کے طیارہ بردار بحری جہازوں کی معمول کی سمندری تعیناتی چھ سے نو ماہ پر محیط ہوتی ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جنگی حالت اور کشیدگی کی بنا پر اس کی مدت میں ڈرامائی اضافہ کیا گیا تھا، جس کے باعث اسے دہائیوں کی طویل ترین مسلسل سمندری تعیناتیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب، اتنی طویل جنگی تعیناتی کے دوران جہاز پر موجود ہزاروں اہلکاروں کو درپیش سنگین مسائل اور نفسیاتی دباؤ کا معاملہ بھی امریکی ایوانوں میں گونج رہا ہے۔ امریکی کانگریس کے ارکان اور آزاد ذرائع نے جہاز پر خوراک کی کمی، صفائی ستھرائی کے ناکافی انتظامات اور مسلسل جنگی تناؤ کے باعث فوجیوں کی شدید ذہنی و نفسیاتی صحت پر گہرے تشویشناک اثرات کا اظہار کیا ہے۔ تھائی لینڈ میں مختصر وقفے کے بعد اب اس بحری جہاز اور اس کے عملے کو بالآخر وطن واپسی اور باقاعدہ بحالی کے مرحلے کا انتظار ہے۔

پاک چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ: بیجنگ کی پیکنگ یونیورسٹی میں دو روزہ بین الاقوامی علمی سیمینار کا انعقاد

منصور احمد, September 05,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان قائم لازوال اور تزویراتی سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے تاریخی اور پرمسرت موقع پر چین کے دارالحکومت بیجنگ کی قدیم و معروف پیکنگ یونیورسٹی میں دو روزہ بین الاقوامی علمی و تحقیقی سیمینار کا پروقار آغاز ہو گیا ہے۔ اس اعلیٰ سطحی کانفرنس کا بنیادی مقصد گزشتہ ساڑھے سات دہائیوں پر محیط ہمہ جہت شراکت داری کا احاطہ کرنا اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق دوطرفہ تعلقات کو مزید پائیدار اور مستحکم بنانا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی اور چینی ذرائع ابلاغ کی تفصیلی رپورٹس کے مطابق “ورثہ، جدت اور مشترکہ کامیابی” کے خصوصی موضوع کے تحت منعقد ہونے والے اس سیمینار کی میزبانی پیکنگ یونیورسٹی کے مرکز برائے مطالعاتِ پاکستان اور دیگر اعلیٰ چینی و پاکستانی فکری و تحقیقی اداروں نے مشترکہ طور پر کی ہے۔ سیمینار میں دونوں ممالک کے نامور ماہرین، پالیسی سازوں، سفارت کاروں اور تعلیمی شخصیات نے شرکت کر کے پاک چین لازوال دوستی کے 75 سالہ تاریخی سفر کے تمام سیاسی، معاشی اور دفاعی پہلوؤں کا تفصیلی احاطہ کیا ہے، جبکہ بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں باہمی عملی تعاون کو مزید وسعت دینے کی حکمتِ عملی پر گہرا غور و خوض کیا جا رہا ہے۔

سیمینار کی مختلف علمی نشستوں کے دوران شرکا نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے اور جدید ترین فیز کے تحت زرعی اصلاحات و جدید کاری، سبز ترقی، ماحولیاتی پائیداری، صنعتی زونز و پارکس کے قیام، تیسرے فریق کے ساتھ مشترکہ مارکیٹنگ اور ہمہ گیر صنعتی تعاون جیسے اہم شعبوں میں نئی شراکت داریوں کے امکانات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ سی پیک کا اگلا مرحلہ دونوں ممالک کے معاشی و صنعتی افق کو نئی بلندیوں پر لے جانے اور علاقائی تجارتی رابطوں کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

علاوہ ازیں، موجودہ پیچیدہ علاقائی اور عالمی جیو پولیٹیکل صورتحال، بحرانوں اور ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان اعلیٰ ترین تزویراتی اعتماد کو برقرار رکھنے اور باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے یکجہتی پر زور دیا گیا۔ سیمینار میں تعلیم، زبان، ادب، آرٹ اور ثقافت کے تبادلوں کے ذریعے عوامی روابط کو مزید گہرا بنانے کے راستوں کی نشان دہی بھی کی گئی۔

عصری تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، سیمینار میں مصنوعی ذہانت بگ ڈیٹا، سائبر ٹیکنالوجی اور جدید سائنسی علوم کے اس دور میں دونوں دوست ممالک کے درمیان تعلیمی و علمی اداروں کے ناطوں کو بالکل نئی جدید جہت دینے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ دونوں اقوام اس جدید تکنیکی انقلاب کے ثمرات سے یکساں طور پر مستفید ہو سکیں۔

جزیرہ خارگ میں صورتحال بالکل معمول کے مطابق اور پرسکون ہے: ایرانی میڈیا کی تازہ وضاحت

محمود احمد, September 05,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

ایران کے اہم ترین خام تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارگ میں صورتحال بالکل معمول کے مطابق، محفوظ اور پرسکون ہے۔

ایرانی میڈیا اداروں کی جانب سے فراہم کردہ تازہ ترین تفصیلات کے مطابق اس سے قبل گردش کرنے والی ان رپورٹس کے بعد کہ امریکی فورسز نے جزیرہ خارگ کے قریب لنگر انداز ایک ایرانی آئل ٹینکر کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا ہے، اب صورتحال کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ اس مبینہ واقعے پر نہ تو ایرانی حکومت و دفاعی حکام نے کوئی باضابطہ بیان جاری کیا ہے اور نہ ہی امریکی حکام نے کوئی تبصرہ کیا ہے۔

ایران کی طلبہ خبر رساں ایجنسی نے جزیرہ خارگ اور اس کے ارد گرد کے ساحلی علاقوں کی تازہ ترین تصاویر اور فوٹیج جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ علاقے میں کسی قسم کی آگ، تباہی یا دھوئیں کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیے اور تمام تر معاشی و آپریشنل سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔

ادھر نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق مبینہ حملے اور دھماکوں کے وقت ایرانی آئل ٹینکر جزیرہ خارگ کے ساحل سے تقریباً چھ میل (11 کلومیٹر) کے فاصلے پر کھلے سمندر میں موجود تھا، تاہم جزیرے کی تنصیبات اور مقامی حدود مکمل طور پر محفوظ اور بحال ہیں۔

یمن کے جنوب مغربی علاقوں میں حوثیوں اور حکومتی فورسز میں خونریز جھڑپیں: 60 سے زائد افراد ہلاک

محمود احمد, September 05,2026

تعز / عدن (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

یمن کے جنوب مغربی اور ساحلی علاقوں میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان گھماسان کی جنگ چھڑ گئی ہے، جس کے نتیجے میں عام شہریوں سمیت 60 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ نے طبی اور عسکری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مسلسل کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس ہولناک تصادم میں یمنی حکومتی فورسز کے کم از کم 26 اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ انصار اللہ (حوثی) ذرائع نے اپنے 31 مسلح جنگجوؤں کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے۔

حکومت کے زیرِ انتظام اور محاصرے میں گھِرے شہر تعز میں طبی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ایک مسافر بس پر ناگہانی میزائل حملے کے نتیجے میں 6 عام شہری ہلاک اور 7 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ اگرچہ اس ہولناک حملے کی ذمہ داری کے حوالے سے آزادانہ ذرائع سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آ سکی ہے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ جنگ یمن کے مغربی اور جنوب مغربی پٹی پر بیک وقت کئی اہم محاذوں پر شدت اختیار کر چکی ہے۔ حوثی فورسز اس وقت ملک کے زیادہ تر شمالی علاقوں، دارالحکومت صنعاء اور بحیرۂ احمر کے مغربی ساحلی پٹی کے بڑے حصے پر قابض ہیں، جبکہ صدارتی لیڈرشپ کونسل کے زیرِ انتظام مشرقی اضلاع اور بندرگاہی شہر عدن سمیت جنوبی ساحلی علاقے شامل ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یمنی حکومتی فورسز نے تعز کے مغربی علاقوں میں سخت جوابی کارروائی کرتے ہوئے بعض اہم پہاڑی مقامات پر دوبارہ اپنا کنٹرول قائم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ پہاڑی سلسلے باب المندب اور بحیرۂ احمر کی اہم عالمی بحری گزرگاہوں اور تجارتی راستوں کی نگہبانی کے حوالے سے انتہائی تزویراتی اور ملٹری اہمیت رکھتے ہیں۔

یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی سفارتی کوششیں تیز: ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ماسکو پہنچ گئے

محمود احمد, September 05,2026

ماسکو / کیئو (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

یوکرین میں کئی سالوں سے جاری خونریز جنگ اور عسکری بحران کے خاتمے کے لیے عالمی سفارتی کوششوں میں اس وقت ایک غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دو قریبی اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اہم مذاکرات کے لیے روسی دارالحکومت ماسکو پہنچ گئے ہیں۔

روسی اور امریکی سفارتی حکام کے مطابق دونوں اعلیٰ سطحی امریکی ایلچی ہفتے کے روز ماسکو پہنچے، جہاں ہوائی اڈے پر روسی صدارتی ایلچی کریل دمترییف نے ان کا باضابطہ استقبال کیا۔ ماسکو میں روسی حکام اور صدر ولادیمیر پیوٹن سے اہم بات چیت کے بعد، دونوں ایلچیوں کا اتوار کے روز یوکرین کے دارالحکومت کیئو روانہ ہونے کا قوی امکان ہے، جہاں وہ جاری جنگ کے بعد پہلی مرتبہ یوکرینی قیادت کے ساتھ براہِ راست اور آمنے سامنے مذاکرات کریں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ وٹکوف اور کشنر یوکرین جنگ کے پائیدار خاتمے اور فوری جنگ بندی کے لیے ایک بالکل نئی سٹریٹجک تجویز اپنے ساتھ لے کر گئے ہیں۔ اگرچہ امریکی صدر نے فی الوقت اس امن فارمولے کی باریک تفصیلات اور شرائط کو ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے۔

یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکی وفد کی اس سفارتی آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیئو حکومت ان سے تعمیری بات چیت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک حقیقت پسندانہ، منصفانہ اور قابلِ عمل راستہ تلاش کیا جا سکے۔

یہ اہم سفارتی پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان سابقہ تمام امن مذاکرات طویل تعطل کا شکار ہیں اور دونوں جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں میں شدید تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ خطے میں جاری اس جنگ کے دوران سرحدی کنٹرول اور سیکیورٹی ضمانتوں پر دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں، جس کے باعث عالمی برادری اس امریکی مشن کو جنگ بندی کی بحالی کے لیے انتہائی اہم اور آخری کوشش کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

خلیجِ فارس میں ایران کے تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کے قریب آئل ٹینکر پر میزائل حملہ: چار میزائل لگنے کا دعویٰ

محمود احمد, September 05,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

ایران کے انتہائی اہم اور تزویراتی خام تیل کے برآمدی مرکز خارگ جزیرے کے قریب ہفتے کی صبح طاقتور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد ایرانی ذرائع ابلاغ نے ایک ایرانی آئل ٹینکر کو امریکی افواج کی جانب سے مبینہ طور پر میزائل حملے کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دی ہے۔

ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے ‘تسنیم’ کی رپورٹ کے مطابق خارگ جزیرے کے ساحل سے تقریباً 10 کلومیٹر کے فاصلے پر سمندر میں لنگر انداز ایک ایرانی آئل ٹینکر پر امریکی فورسز کی طرف سے چار میزائل داغے گئے۔ ابتدائی موصولہ اطلاعات کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں فی الحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے اور ٹینکر پر موجود تمام عملے کو باحفاظت نکالنے کا آپریشن ہنگامی بنیادوں پر شروع کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل ایرانی خبر رساں ادارے ‘فارس’ نے خارگ جزیرے کے ارد گرد سمندری حدود میں بیک وقت متعدد شدید دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی رپورٹ جاری کی تھی، تاہم شروعات میں دھماکوں کی حتمی وجہ اور نقصان کے بارے میں صورتحال واضح نہیں تھی اور نہ ہی ساحلی علاقے سے دھوئیں کے بادل دکھائی دیے تھے۔

واقعے کی سنگینی کے باوجود ایرانی انتظامیہ اور امریکی حکام کی جانب سے اس بابت ابھی تک کوئی باضابطہ تصدیقی یا تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی اس مبینہ کارروائی پر فوراً کسی قسم کے تبصرے سے گریز کیا ہے۔

خارگ جزیرے کی تزویراتی اور معاشی اہمیت:

خلیجِ فارس میں واقع خارگ جزیرہ ایران کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہاں ملک کا سب سے بڑا اور مرکزی خام تیل برآمدی ٹرمینل قائم ہے جہاں سے سمندری راستوں کے ذریعے عالمی منڈیوں کو تیل منتقل کیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حالیہ جنگ اور محاذ آرائی سے قبل ایران اپنی مجموعی خام تیل کی برآمدات کا تقریباً 90 فیصد حصہ اسی خارگ جزیرے کے ٹرمینل سے منتقل کرتا تھا، جس کے باعث اس تنصیب پر ہونے والا کوئی بھی حملہ نہ صرف ایرانی معیشت بلکہ عالمی توانائی کی رسد کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

ایران کا امریکی شہریوں سے جنگ کا پیادہ نہ بننے کا مطالبہ؛ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایرانی زیرِ زمین مرکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

محمود احمد, September 05,2026

تہران / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی شہریوں سے زوردار اپیل کی ہے کہ وہ اپنی حکومت کو اپنے وجود کو ایران کے ساتھ جاری فوجی محاذ آرائی میں ‘جنگ کا پیادہ’ بنانے کی ہرگز اجازت نہ دیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (ٹوئٹر) پر امریکی عوام کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ وہ خود کو ایک ایسی جنگ کا حصہ بنانے اور اس کے بھاری اخراجات ادا کرنے سے باز رہیں جس کا انہوں نے جمہوری طور پر کبھی انتخاب نہیں کیا تھا۔ انہوں نے امریکی شہریوں سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کو خطے میں بلاوجہ ‘کرائے کے سپاہی’ بننے سے روکیں۔

اسماعیل بقائی کے اس بیان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کے واضح عندیے نے خطے میں جاری شدید کشیدگی کو ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچا دیا ہے۔

تازہ امریکی بیانات اور دھمکیوں میں صدر ٹرمپ نے ایران کے نطنز ایٹمی مرکز کے قریب واقع انتہائی محفوظ اور گہرے زیرِ زمین مقام ‘کوہِ کلنگ گاز لا’ کو نشانہ بنانے کا اشارہ دیا ہے۔ یہ مقام کئی سالوں سے تعمیر کیا جانے والا ایک انتہائی مضبوط اور بم پروف کمپلیکس ہے، جسے پہاڑوں کی گہرائی کے باعث روایتی فضائی حملوں سے تباہ کرنا ناممکن حد تک مشکل تصور کیا جاتا ہے۔

ایران اس مقام پر کسی بھی قسم کی خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق امریکی اور اسرائیلی دعوؤں اور الزامات کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔ ایرانی ترجمان نے اپنے حالیہ بیان میں بھی واضح کیا کہ کوہِ کلنگ میں کوئی جوہری یا ایٹمی سرگرمی انجام نہیں دی جا رہی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری اس سنگین فوجی تنازع کو کم اہمیت دیتے ہوئے اسے ایک ‘چھوٹا معاملہ’ قرار دیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کو مکمل جنگ کے بجائے ایک محدود ‘فوجی تصادم’ کہنا زیادہ مناسب ہوگا جو امریکہ کے لیے ایک محدود نوعیت کا آپریشن ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری ان حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ اور غیر مستحکم بنی ہوئی ہے۔

نیویارک کے سرکاری سکولوں میں کم عمر طلبہ کے لیے جنریٹو اے آئی پر ایک سال کی پابندی کا اعلان

محمود احمد, September 05,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی نے شہر کے تمام سرکاری سکولوں میں کم عمر اور چھوٹی جماعتوں کے طلبہ کے لیے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال پر ایک سال کی عارضی پابندی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

حکومت کی اس نئی اور جامع تعلیمی پالیسی کے تحت 2-K سے لے کر آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے کلاس رومز اور تعلیمی تدریس کے دوران استعمال ہونے والے تمام جنریٹو اے آئی ٹولز کے استعمال کو روک دیا گیا ہے۔ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے حکام کے مطابق اس فیصلے سے نیویارک سٹی کے تقریباً 6 لاکھ طالب علم براہِ راست متاثر ہوں گے۔

میئر زوہران ممدانی نے پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے بچوں کو سیکھنے، تربیت حاصل کرنے اور اپنی تخلیقی صلاحیتیں پروان چڑھانے کے لیے مصنوعی انٹیلی جنس کی بجائے اپنے اساتذہ، زبانی گفتگو اور براہِ راست انسانی تعلق کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیکنالوجی کے ہر جگہ موجود ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسے تعلیمی سفر کے ابتدائی اور حساس مرحلے میں بھی استعمال کیا جائے۔

نئی پالیسی کے تحت تمام جماعتوں کے طلبہ کے لیے ایسے اے آئی چیٹ بوٹس پر بھی سخت پابندی عائد کر دی گئی ہے جو دوست، ساتھی یا ذہنی معاونت کے طور پر کام کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں تیسری سے پانچویں جماعت کے لیے روزانہ زیادہ سے زیادہ 30 منٹ اور چھٹی سے آٹھویں جماعت کے لیے 45 منٹ اسکرین ٹائم کی حد مقرر کی گئی ہے۔

دوسری جانب ہائی سکول کے طلبہ کو اے آئی سے مکمل طور پر الگ نہیں رکھا جائے گا۔ انہیں سال میں دو مرتبہ ‘اے آئی لٹریسی’ کی تربیت دی جائے گی جس میں اس کے فوائد، تعصب اور غلط معلومات کے خطرات شامل ہوں گے۔ ہائی سکول سطح پر صرف پانچ منظور شدہ اے آئی پروگراموں کو استاد کی نگرانی میں ہفتے میں زیادہ سے زیادہ 45 منٹ کے لیے استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ معیار پر پورا نہ اترنے والے 38 پروگراموں کے اے آئی فیچرز کو فوری بند کر دیا گیا ہے۔

نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد معجزانہ ریسکیو: زیرِ زمین سرنگ سے 9 دن بعد دو افراد زندہ نکال لیے گئے

محمود احمد, September 04,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے ہولناک واقعے کے بعد ٹریشولی 3ہائیڈرو پاور منصوبے کی زیرِ زمین سرنگ میں پھنسے دو افراد کو نو دن کی طویل اور کٹھن جدوجہد کے بعد معجزانہ طور پر زندہ نکال لیا گیا ہے، جسے عالمی و مقامی امدادی ٹیموں نے ایک غیر معمولی تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔

نیپالی سرکاری حکام کے مطابق سرنگ سے باحفاظت نکالے گئے دونوں افراد کی شناخت سنجے شاہ اور کبیر مہرجن کے نام سے ہوئی ہے جو مذکورہ ہائیڈرو پاور منصوبے کے ہی ملازم ہیں۔ دونوں افراد کو سرنگ سے نکالتے ہی فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے دارالحکومت کھٹمنڈو کے مرکزی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

اس پیچیدہ اور خطرناک امدادی کارروائی میں بھارت کے سرنگ حادثے میں شہرت پانے والے آسٹریلوی ماہرِ ارضیات اور عالمی ٹنلنگ انجینیئر آرنلڈ ڈکس نے انتہائی اہم تکنیکی رہنمائی فراہم کی۔ آرنلڈ ڈکس نے بتایا کہ ریسکیو عملے کے لیے سب سے بڑا چیلنج سرنگ کے اصل داخلی راستے کا تعین کرنا تھا، کیونکہ سیلاب کے ساتھ آنے والے دیوہیکل ملبے اور چٹانوں نے پورے علاقے کی جغرافیائی ساخت کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا تھا اور پرانا راستہ گہرے ملبے تلے دب چکا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ امدادی ٹیموں نے پرانی انجینیئرنگ ڈرائنگز، لینڈ میپس، جدید سیٹلائٹ تصاویر اور ہیلی کاپٹروں سے لی گئی ڈرون ویڈیو فوٹیج کی مدد سے ممکنہ راستے کا سائنسی تخمینہ لگایا، جس کے بعد مسلسل کھدائی کر کے کاوشوں کو بارآور بنایا گیا۔

آرنلڈ ڈکس نے اس کامیاب ریسکیو کو “معجزوں پر معجزہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ زیرِ زمین پاور سٹیشن کے بعض حصوں میں ہوائی جیبیں موجود تھیں جنہوں نے آکسیجن اور زندگی کی رمق کو برقرار رکھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دیگر لاپتا افراد کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔