نائب مستقل مندوب عثمان جدون کا اقوامِ متحدہ کی پلجنگ کانفرنس سے مقتدر خطاب؛ یو این آر ڈبلیو اے کے دفاتر پر اسرائیلی قبضے اور قانون سازی کو مسترد کرتے ہوئے فنڈز میں اضافے کا اعلان

محمود احمد July 01,2026

اقوامِ متحدہ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

پاکستان نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے امدادی و تعمیرِ نو کے ادارے (یو این آر ڈبلیو اے) کے تزویراتی مینڈیٹ کے تحفظ اور اسے مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس مقتدر ادارے کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے کے لیے خاطر خواہ، مستقل اور قابلِ پیش گوئی مالی وسائل فراہم کیے جائیں۔ پاکستان نے یو این آر ڈبلیو اے کو نشانہ بنانے والی یکطرفہ اسرائیلی قانون سازی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کے سراسر منافی قرار دیا اور اس کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔ پاکستان نے یو این آر ڈبلیو اے کے دفاتر پر اسرائیلی چھاپوں اور ان پر زبردستی قبضے کے اقدامات کی بھی سخت مذمت کرتے ہوئے ادارے کے مینڈیٹ اور اس کی عملی خودمختاری کو کمزور کرنے کی ہر مذموم کوشش کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں یو این آر ڈبلیو اے کی تزویراتی معاونت کے لیے منعقدہ مقتدر پلجنگ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے بین الاقوامی قانون کے تحت یو این آر ڈبلیو اے کو حاصل تمام مراعات اور استثنیٰ کا مکمل احترام یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے گزشتہ سات دہائیوں کے دوران یو این آر ڈبلیو اے کی مقتدر خدمات کو شاندار خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ لاکھوں معصوم فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے ایک ناگزیر سہارا ہے، جو انتہائی دشوار اور جنگی حالات میں انہیں تعلیم، صحت، امداد، تحفظ اور پناہ جیسی بنیادی خدمات فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ یو این آر ڈبلیو اے محض ایک انسانی امدادی ادارہ نہیں بلکہ فلسطینی پناہ گزینوں کے حوالے سے منصفانہ اور پائیدار سیاسی حل تک بین الاقوامی برادری کی اجتماعی ذمہ داری کا عملی مظہر ہے۔

سفیر عثمان جدون نے اپنے تزویراتی خطاب میں اس بات پر گہرا زور دیا کہ جانیں بچانے والی امدادی خدمات انجام دینے والے انسانی ہمدردی کے کارکنوں کو کبھی بھی تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے موجودہ تنازع کے آغاز سے اب تک اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والے تین سو بانوے یو این آر ڈبلیو اے اہلکاروں کی ہلاکتوں کا عالمی سطح پر احتساب کرنے کا مقتدر مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یو این آر ڈبلیو اے کے مینڈیٹ کو فلسطینی پناہ گزینوں کے حتمی سیاسی تصفیے کے مسئلے سے کسی صورت الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق مسئلے کا حل ادارے کو ختم کرنا نہیں بلکہ غاصب اسرائیلی قبضے کا فوری خاتمہ، بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کو ممکن بنانا، اور انیس سو سڑسٹھ سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر دو ریاستی حل کو عملی شکل دینا ہے، جس میں القدس الشریف ایک آزاد اور خودمختار ریاستِ فلسطین کا مستقل دارالحکومت ہو۔

سفیر عثمان جدون نے عالمی برادری کو مقتدر حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یو این آر ڈبلیو اے اس وقت تقریباً بائیس کروڑ امریکی ڈالر کے سنگین بجٹ خسارے کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث لاکھوں ضرورت مند فلسطینی پناہ گزینوں کو بنیادی خدمات کی فراہمی شدید خطرے سے دوچار ہو چکی ہے۔ انہوں نے یو این آر ڈبلیو اے کے عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیت، غیر متزلزل عزم اور انتھک خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے کے لیے مستقل، پائیدار اور بڑھتی ہوئی مالی معاونت محض ایک ضرورت نہیں بلکہ بین الاقوامی برادری کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عثمان جدون نے پاکستان کی جانب سے ایک بڑے تزویراتی اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان رواں سال یو این آر ڈبلیو اے کے لیے اپنی مالی معاونت میں مقتدر اضافہ کرے گا اور انہوں نے تمام رکن ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی موجودہ مالی معاونت کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اسے مزید بڑھائیں۔

مالی سال کے اختتام پر پاکستان کی معیشت نے گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین شرح نمو حاصل کر لی، ملکی معیشت کا حجم چار سو باون اعشاریہ ایک ارب ڈالر تک پہنچ گیا، وزارتِ خزانہ

منصور احمد june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

وزارتِ خزانہ نے ملکی معیشت کے حوالے سے مقتدر اور انتہائی مثبت اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے اختتام پر پاکستان کی معیشت نے گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین شرح نمو حاصل کرتے ہوئے تین اعشاریہ سات فیصد کی رفتار سے ترقی کی ہے، جبکہ ملکی معیشت کا مجموعی حجم بڑھ کر چار سو باون اعشاریہ ایک ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ جون 2026ء کی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق، سال کے آغاز میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور عالمی مارکیٹ میں اجناس کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے باوجود حکومت نے بہترین تزویراتی حکمتِ عملی سے معاشی استحکام برقرار رکھا، جس کی بدولت زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں مجموعی طور پر شاندار ترقی کا رجحان دیکھنے میں آیا اور ملک کی اوسط مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں رہتے ہوئے مقررہ ہدف کے اندر برقرار رہی۔

رپورٹ کے مطابق جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران سخت مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں ریکارڈ اضافے اور صوبائی سرپلس کی بدولت مالیاتی خسارے میں واضح کمی آئی، جبکہ بنیادی مالیاتی سرپلس جی ڈی پی کے تین اعشاریہ پانچ فیصد تک پہنچ گیا۔ وزارتِ خزانہ نے بتایا کہ بیرونی شعبے کی کارکردگی بھی انتہائی مستحکم رہی جس میں سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر، آئی ٹی برآمدات، مستحکم شرح مبادلہ اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری نے کلیدی کردار ادا کیا، جس کے باعث جولائی تا مئی مالی سال 2025-26 کے دوران ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ دو سو پچپن ملین ڈالر سرپلس میں رہا۔ رپورٹ کے مطابق حکومت کے عالمی مالیاتی ادارے کے پروگراموں پر کامیاب عمل درآمد، اور عالمی ریٹنگ ایجنسیوں فچ اور موڈیز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں مقتدر بہتری کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں پاکستان نے چار سال بعد کامیاب یورو بانڈ جاری کیا، پانڈا بانڈ متعارف کرایا جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کے ایس ای-100 انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو کر ایشیا کی تیز ترین ترقی کرتی ہوئی مارکیٹوں میں شامل ہو گیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ زرعی شعبے نے سیلاب کے شدید نقصانات کے باوجود مالی سال 2025-26 میں دو اعشاریہ نو فیصد ترقی کی جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے اس شعبے کی شرح نمو کا تزویراتی ہدف تین اعشاریہ چھ فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب بڑے پیمانے کی صنعت نے جولائی تا اپریل کے دوران چھ اعشاریہ چار فیصد کی شاندار ترقی ریکارڈ کی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں اس شعبے میں ایک اعشاریہ پانچ فیصد کی منفی کمی ہوئی تھی۔ مہنگائی کے حوالے سے بتایا گیا کہ مئی 2026ء میں مہنگائی کی سالانہ شرح گیارہ اعشاریہ سات فیصد رہی جبکہ جولائی تا مئی کے دوران اوسط مہنگائی محض چھ اعشاریہ سات فیصد ریکارڈ کی گئی۔ وفاقی محصولات جولائی تا اپریل کے دوران پانچ اعشاریہ اٹھ فیصد اضافے کے ساتھ آٹھ ہزار چھ سو ایک ارب روپے تک پہنچ گئے جبکہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں جولائی تا مئی کے دوران نو اعشاریہ سات فیصد اضافے سے گیارہ ہزار دو سو اٹھائیس اعشاریہ اٹھ ارب روپے رہیں۔ اسی عرصے میں مجموعی حکومتی اخراجات میں نو اعشاریہ نو فیصد کی نمایاں کمی آئی جس کی بڑی وجہ سود کی ادائیگیوں میں اکیس اعشاریہ نو فیصد کی ریکارڈ کمی تھی۔

وزارتِ خزانہ کے مقتدر تجزیے کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں جاری امن کوششوں کے باعث جغرافیائی کشیدگی میں کمی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نرمی سے درآمدی مہنگائی اور تیل کے درآمدی بل میں واضح کمی آئے گی، جبکہ جون 2026ء کے دوران مہنگائی گیارہ سے بارہ فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ وزارتِ خزانہ نے پرامید انداز میں واضح کیا ہے کہ پاکستان کی معیشت آئندہ بھی ترقی کی یہ شاندار رفتار برقرار رکھنے کی بھرپور تزویراتی صلاحیت رکھتی ہے؛ بڑے پیمانے کی صنعت، زرعی شعبے کی جاندار کارکردگی، مضبوط بیرونی کھاتوں، سخت مالیاتی نظم و ضبط اور بہتر معاشی اشاریوں کے باعث ملک کا معاشی استحکام مستقبل میں مزید مضبوط اور پائیدار ہوگا۔

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ بھارتی معطلی غیر قانونی اور جنوبی ایشیا کے امن کے لیے سنگین تزویراتی خطرہ ہے، اسلام آباد بین الاقوامی سیمینار کا مقتدر اعلامیہ

کاشف عباسی ,june 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت، وفاقی وزراء، بین الاقوامی قانونی ماہرین اور عالمی پالیسی تجزیہ کاروں نے بھارت کی جانب سے تاریخی سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر معطل کرنے کے فیصلے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سخت خبردار کیا ہے کہ نئی دہلی کے یہ جارحانہ اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں، بلکہ جنوبی ایشیا میں ایک ہولناک تزویراتی تصادم اور جنگ کے خطرات کو بھی ہوا دے رہے ہیں۔ منگل کے روز وفاقی دارالحکومت میں انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز کے زیرِ اہتمام وزارتِ اطلاعات و نشریات کے خصوصی اشتراک سے ’’سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک ذریعہ‘‘ کے عنوان سے ایک مقتدر بین الاقوامی سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں متفقہ طور پر واضح کیا گیا کہ 1960ء کا یہ معتبر معاہدہ ایک بین الاقوامی طور پر پابند تصفیہ ہے، جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل، منسوخ یا تبدیل کرنے کا قانونی اختیار نہیں رکھتا۔ سیمینار کے مختلف فیزز سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ عالمی موسمیاتی بحران کے اس نازک دور میں بھارت کی جانب سے معاہدے کے تحت لازمی آبی ڈیٹا کی فراہمی روکنا اور معائنہ جاتی سرگرمیوں کو التواء میں ڈالنا درحقیقت پانی کو بطور عسکری ہتھیار استعمال کرنے کی ایک مذموم اور خطرناک کوشش ہے، جو پاکستان کے چوبیس کروڑ سے زائد عوام کی زندگیوں، غذائی تحفظ اور روزگار کے لیے براہِ راست وجودی خطرہ ہے۔ ماہرین نے یاد دلایا کہ پاکستان کی اسی فیصد سے زائد قابلِ کاشت اراضی اور زرعی معیشت کا انحصار دریائے سندھ کے نظام پر ہے، اس لیے ڈیٹا کا تبادلہ اور معمول کے طریقہ کار انسانی سلامتی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہیں۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اپنے مقتدر خطاب میں کہا کہ بھارت نے اس تاریخی معاہدے کو معطل کر کے خطے کو ایک بڑے تنازعے کی بھٹی میں جھونک دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد پار دریا ممالک کو دور کرنے کے بجائے قریب لانے کا ذریعہ ہوتے ہیں، اور پاکستان نے اسی جذبے کے تحت ماضی میں نمایاں رعایتیں دے کر یہ معاہدہ برقرار رکھا تاکہ طویل المدتی پیش بینی اور استحکام میسر آ سکے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے کا سختی سے نوٹس لے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ پاکستان کی قدیم تہذیب اور شناخت کی بنیاد ہے اور پاکستانیوں کو اس کے پانیوں پر ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا موقف بالکل واضح ہے کہ اس معاہدے میں کسی قسم کی یکطرفہ ترمیم ممکن نہیں؛ یہ باہمی رضامندی سے وجود میں آیا تھا اور اس میں تبدیلی کے لیے بھی باہمی رضامندی ہی درکار ہے۔ اگر پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو ہماری قومی قیادت اور مسلح افواج عوام کے حق کے تحفظ کے لیے مؤثر اور دندان شکن جواب دینے کا کامل عزم رکھتی ہیں۔ یکطرفہ معطلی کی ناکام کوششوں سے بھارت کو خود عالمی فورمز پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کے ان غیر قانونی اقدامات کو پاکستان کے خلاف باقاعدہ جنگی اقدام تصور کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے تزویراتی موازنہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش کے ساتھ دنیا میں امن کا تصور ممکن نہیں، تو کوئی یہ کیسے توقع کر سکتا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے باوجود خطے میں امن اور استحکام قائم رہے گا؛ بھارت نے ہماری شہ رگ پر وار کر کے پانی کو ہتھیار بنایا ہے، جو کہ ایک وجودی حملہ ہے؛ پاکستان جنگ نہیں چاہتا، لیکن ہماری دفاعی صلاحیت کا مقصد ہی ایسے وجودی خطرات کو کچلنا ہے۔ انہوں نے پانی سمیت عالمی مشترکہ وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف ایک نئے بین الاقوامی کنونشن کا بھی پرزور مطالبہ کیا۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے اس بحران کو انصاف کا بحران قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت واضح کر چکی ہے کہ بھارت پاکستان کے مغربی دریاؤں پر یکطرفہ آبی ذخائر نہیں بنا سکتا، لیکن نئی دہلی عدالت کے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے؛ اگر یہ مضبوط ترین معاہدہ، جو تین جنگوں میں بھی قائم رہا، سبوتاژ ہو گیا تو دنیا کا کوئی بھی آبی معاہدہ محفوظ نہیں رہے گا۔

پاکستان کے انڈس واٹرز کمشنر سید مہر علی شاہ نے کہا کہ معاہدے کا آرٹیکل نو تنازعات کے حل کا واضح طریقہ کار دیتا ہے اور بھارت کا ڈیٹا روکنا خود اس کے اپنے دستخطوں کی توہین ہے۔ سابق وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان نے بھارت کی عسکری چالوں کو بے نقاب کرتے ہوئے بگلیہار اور سلال ڈیموں کے گیٹ بند کرنے اور مغربی دریاؤں پر آبی منصوبوں کی تیز رفتار غیر قانونی تعمیر کی تفصیلات پیش کیں۔ سابق نگراں وفاقی وزیر قانون احمر بلال صوفی نے بین الاقوامی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سرحدی دریا عالمی اثاثے ہیں، بھارت ان پر ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور اس کی جانب سے معطلی کا اعلان خود اس کے جرم کا اعتراف ہے، جس پر پاکستان کو تزویراتی جواب کا پورا قانونی حق حاصل ہے۔ سابق وزیر مملکت خارجہ حنا ربانی کھر نے آرٹیکل بارہ کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ معاہدے میں کسی بھی تبدیلی کا طریقہ کار طے ہے، بھارت عالمی غیر یقینی صورتحال کا فائدہ اٹھا کر مکر رہا ہے، لہٰذا پاکستان کو عالمی سفارت کاری کے تمام قانونی ذرائع بروئے کار لانے چاہئیں۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے سابق صدر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عامر ریاض نے نئی دہلی کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ایک پنج نکاتی حکمتِ عملی پیش کی، جس میں قانونی و سفارتی طریقہ کار، تکنیکی و آپریشنل تیاری، ڈومیسٹک واٹر مینجمنٹ سسٹم کی پائیداری، اپنی ریڈ لائنز کی واضح تعریف اور مربوط ڈیٹرنس یعنی مضبوط دفاعی ردِعمل کو بروئے کار لانا شامل ہے؛ کیونکہ بھارت دریائے سندھ پر دو، جہلم پر پانچ بشمول کشن گنگا اور چناب پر متعدد ڈیمز بنا کر پاکستان کو تنہا اور کمزور کرنے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے۔

سیمینار میں عالمی طاقتوں کے ماہرین نے بھی بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے موقف کی کھل کر تائید کی۔ بیجنگ میں سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کے نائب صدر پروفیسر وکٹر گائو نے بھارتی معطلی کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا اور تجویز دی کہ چین کو اس معاہدے کا حصہ بنا کر اسے سہ فریقی فریم ورک دیا جائے۔ انہوں نے بھارت کو یاد دلایا کہ وہ خود چین کے لیے زیریں کنارے کا ملک ہے؛ اگر بھارت نے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے پانی روکا، تو چین بالائی کنارے کا ملک ہونے کے ناطے بھارتی عزائم کا راستہ روک سکتا ہے۔ انہوں نے خطے میں امن کے لیے پاکستانی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں نوبل امن انعام کا مضبوط امیدوار قرار دیا۔ روسی ماہر ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے بالائی علاقوں میں بھارتی ڈیموں کی تعمیر کو خطے کے عدم استحکام کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے، اشتعال انگیز بیانات کے باوجود پاکستانی پالیسی سازوں کے مقتدر اور ذمہ دارانہ رویے کی تعریف کی۔ امریکہ سے تعلق رکھنے والی مصنفہ اور عالمی پالیسی ماہر لاری واٹکنز نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پاکستان کے خطوط کا جواب نہ دینا اور ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا روکنا بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور ویانا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اپنے اختتامی کلمات میں آئی آر ایس کے صدر جوہر سلیم نے واضح کیا کہ پائیدار امن صرف بین الاقوامی قوانین کے احترام اور اداروں کی قدر سے ہی ممکن ہے؛ دیرپا آبی تحفظ کا انحصار شفافیت اور پیش بینی پر ہے، اور آگے بڑھنے کا واحد مقتدر راستہ یہی ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر اس کے متن اور روح دونوں کے مطابق مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

استنبول تعلیمی سمٹ: پاکستان اور ترکیہ کے مابین تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور تعلیمی ٹیکنالوجی میں تزویراتی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق

روزینہ اسماعیل june 30,2026

استنبول/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے ترکیہ کے تاریخی شہر استنبول میں منعقدہ “ترکیہ ایجوکیشن ٹیکنالوجیز سمٹ اینڈ فیئر ( 2026)” کے مقتدر موقع پر ترکیہ کے وزیرِ قومی تعلیم یوسف تکین سے ایک اعلیٰ سطحی اور تزویراتی ملاقات کی، جس میں دونوں برادر ممالک کے مابین تعلیم، ہنرمندی، پیشہ ورانہ تربیت، تعلیمی ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں باہمی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر کامل اتفاق کیا گیا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلیمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم، زبانوں کی تدریس، ڈیجیٹل لرننگ، ثقافتی روابط اور دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان فعال اشتراکِ عمل کو فروغ دینے کے تمام تزویراتی پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

اس مقتدر ملاقات کے دوران ایک جامع تعلیمی تعاون کے معاہدے پر دستخط کرنے، تیز رفتار پیش رفت کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس قائم کرنے اور دونوں ممالک کے اہم تعلیمی اداروں کے مابین مؤثر و براہِ راست روابط کو فروغ دینے کا تزویراتی فیصلہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار، خصوصاً زبانوں کی تدریس کے شعبے میں تعاون کے وسیع امکانات پر گہری گفتگو کی۔ اس ضمن میں پاکستان میں ترک زبان اور ترکیہ میں اردو زبان کی ترویج و تدریس کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ترین ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی مشترکہ تیاری اور منصوبوں پر فوری کام شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا تاکہ عوامی روابط اور ثقافتی ہم آہنگی کو مزید مقتدر بنایا جا سکے۔

وزیرِ مملکت وجیہہ قمر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ترکیہ کے ساتھ اپنے تاریخی، برادرانہ اور دیرینہ تعلقات کو انتہائی مقتدر اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین پہلے سے موجود معاہدوں پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے اور جدید دور کے مطابق نئے تزویراتی فریم ورک تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، ہنرمندی، ڈیجیٹل لرننگ، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت اور تعلیمی جدت کے شعبوں میں یہ مشترکہ اقدامات دونوں ممالک کے نوجوانوں کے روشن مستقبل اور پائیدار ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

ترکیہ کے وزیرِ قومی تعلیم یوسف تکین نے پاکستان کے ساتھ تعلیمی تعاون کو غیر مشروط طور پر مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان گہرے تاریخی و تمدنی تعلقات کو مشترکہ تعلیمی منصوبوں، علمی روابط اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی اسٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔ اس مقتدر ملاقات میں پاکستان میں ترکیہ کے تعلیمی قونصلر، وزارتِ قومی تعلیم ترکیہ کے ڈائریکٹر جنرل برائے یورپی یونین و خارجہ امور سمیت دونوں ممالک کے اعلیٰ ترین حکام بھی موجود تھے۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مشترکہ تعلیمی اہداف کے حصول کے لیے قریبی و مسلسل رابطہ برقرار رکھا جائے گا اور طے شدہ تزویراتی اقدامات کو جلد از جلد عملی شکل دی جائے گی۔

سندھ طاس معاہدے کو سہ فریقی بنا کر چین کو شامل کیا جائے، پانی روکنے کی دھمکی انسانیت کے خلاف جرم ہے، چینی ماہر پروفیسر وکٹر گائو

کاشف عباسی ,june 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

بیجنگ کے مقتدر تھنک ٹینک “سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن” (سی سی جی) کے صدر اور عالمی امور کے نامور ماہر پروفیسر وکٹر گائو نے سندھ طاس معاہدے پر اس کی اصل روح کے مطابق مکمل عملدرآمد پر زور دیتے ہوئے ایک اہم تزویراتی تجویز پیش کی ہے کہ چین کو بھی اس تاریخی معاہدے کا حصہ بنایا جائے تاکہ اسے ایک مضبوط سہ فریقی فریم ورک کی شکل دی جا سکے۔ منگل کے روز اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سرحد پار دریاؤں کے پائیدار انتظام و انصرام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کی سرپرستی میں ایک جامع بین الاقوامی ضابطہ اخلاق مرتب کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

پروفیسر وکٹر گائو نے اپنے خطاب میں یاد دلایا کہ گزشتہ سال جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کا پانی روکنے کی تزویراتی دھمکی دی تھی، تو انہوں نے خود بھارتی ٹیلی وژن چینلز کو دیے گئے اپنے خصوصی انٹرویوز میں اس جارحانہ موقف کی کھل کر مخالفت کی تھی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ امن کے زمانے میں کروڑوں معصوم انسانوں کو پانی جیسی بنیادی نعمت سے محروم کرنے کی دھمکی دینا سراسر ’’انسانیت کے خلاف جرم‘‘ ہے، جبکہ جنگ کے دوران ایسا کوئی بھی اقدام اٹھانا باقاعدہ ’’جنگی جرمکے زمرے میں آتا ہے؛ اسی لیے انہوں نے نئی دہلی کو سختی سے مشورہ دیا تھا کہ وہ اس خطرناک راستے پر چلنے سے باز رہے۔

چینی ماہر نے بھارت کو خطے کے جغرافیائی حقائق کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پاکستان دریائے سندھ کے بہاؤ کے اعتبار سے زیریں (ڈاؤن اسٹریم) ملک ہے، تاہم بھارت بھی اس نظام میں آخری بالائی (اپ اسٹریم) ریاست نہیں ہے کیونکہ دریائے سندھ کا اصل منبع ہمالیائی خطہ (تبت) ہے۔ انہوں نے عظیم چینی فلسفی کنفیوشس کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کو ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیے جسے وہ خود اپنے خلاف برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ جب ایک بھارتی ٹی وی اینکر نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ بھارت کو دھمکی دے رہے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ “دوسروں کے ساتھ وہ سلوک نہ کرو جو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے”۔ انہوں نے مقتدر انداز میں واضح کیا کہ چین اور پاکستان کے باہمی احترام پر مبنی اسٹریٹجک تعلقات کا تقاضا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تقدس کو ہر صورت برقرار رکھا جائے اور چین-پاکستان قریبی تعاون کے ذریعے دریائے سندھ کے نظام میں پانی کے بلا تعطل بہاؤ کو یقینی بنایا جائے۔

پروفیسر وکٹر گائو نے اپنے تزویراتی جائزے میں بتایا کہ دنیا کے کم از کم 8 ممالک ایسے ہیں جو سطح مرتفع تبت سے نکلنے والے دریاؤں کے پانی پر انحصار کرتے ہیں، لہٰذا ان تمام ممالک کو مشترکہ طور پر سرحد پار آبی وسائل کے انتظام کے لیے ایک بین الاقوامی ضابطہ اخلاق تشکیل دینا چاہیے۔ خطے کی بدلتی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز حالیہ عرصے میں شدید کشیدگی کا مرکز رہی، تاہم امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی سفارتی معاہدے کے بعد اب یہ اہم بحری گزرگاہ دوبارہ مکمل طور پر کھل چکی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر پاکستان کے وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل خطے میں امن، استحکام اور سفارتی توازن کے لیے اسی مثبت سمت میں پیش رفت جاری رکھتے ہیں، تو وہ مستقبل میں نوبل امن انعام کے مضبوط ترین امیدوار بن سکتے ہیں۔

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ بھارتی معطلی غیر قانونی اور خطے کے لیے تزویراتی تباہی کا سبب بن سکتی ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا سیمینار سے مقتدر خطاب

منصور احمد june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ (انڈس واٹرز ٹریٹی) کو غیر قانونی طور پر معطل کر کے نہ صرف بین الاقوامی قانونی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ پورے خطے کو ایک ہولناک تنازعے کے خطرے سے بھی دوچار کر دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز وفاقی دارالحکومت میں انسٹیٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) کی جانب سے وزارتِ اطلاعات و نشریات کے خصوصی اشتراک سے منعقدہ بین الاقوامی سیمینار ’’سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک ذریعہ‘‘ کی اختتامی اور مقتدر نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ ٹرانس باؤنڈری دریا ممالک کے مابین فاصلے بڑھانے کے بجائے انہیں قریب لانے کا تزویراتی ذریعہ ہونے چاہئیں؛ پاکستان نے اسی مثبت جذبے کے تحت ماضی میں بڑی رعایتیں دے کر یہ معاہدہ کیا تھا تاکہ خطے میں طویل المدتی استحکام فراہم ہو سکے، تاہم بھارت کی جانب سے معاہدے کی معطلی اور مشترکہ آبی وسائل پر پاکستان کے ساتھ تعاون سے انکار انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ نئی دہلی کو پانی بطور ہتھیار استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہ دے۔

سیمینار کے مختلف سیشنز سے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی و سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزیرِ موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک اور سابق سینیئر وزراء نے بھی مقتدر خطاب کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کے تزویراتی عزائم کو بے نقاب کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی میں بھارت کے ہر غیر قانونی اقدام کو پاکستان کے خلاف “جنگی اقدام” (Act of War) تصور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش کے ساتھ دنیا میں امن کا تصور ممکن نہیں تو سندھ طاس کی معطلی پر خطے میں پائیدار امن کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ انہوں نے پانی سمیت عالمی مشترکہ وسائل کو عسکری و سیاسی مقاصد کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف ایک نئے بین الاقوامی کنونشن کا مطالبہ بھی کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ دریائے سندھ پر پاکستانیوں کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے اور بھارت کی غیر قانونی کوششوں سے عالمی سطح پر خود اس کی سبکی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے اسے صرف پانی کا نہیں بلکہ “انصاف کا بحران” قرار دیا جس سے پاکستان میں موسمیاتی چیلنجز سنگین ہو رہے ہیں۔

سیمینار کے دوران سابق وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر نے بھارت کی جانب سے بگلیہار اور سلال ڈیموں کے گیٹ بند کرنے اور مغربی دریاؤں پر آبی منصوبوں کی تیز رفتار غیر قانونی تعمیر کی تفصیلات پیش کیں۔ سابق وزیر مملکت خارجہ حنا ربانی کھر نے واضح کیا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کا فائدہ اٹھا کر بھارت اس مقتدر پابندِ معاہدہ سے بچ نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ معروف قانون دان احمر بلال صوفی نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت بھارت پانی پر ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور اس کی جانب سے معطلی کا اعلان خود معاہدے کی خلاف ورزی کا کھلا اعتراف ہے جس پر پاکستان کو تزویراتی جواب کا پورا حق حاصل ہے۔ سابق صدر این ڈی یو لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض اور پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ نے مقتدر شواہد پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت آرٹیکل IX کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو ہوا میں اڑا کر ڈیٹا کی فراہمی معطل کر چکا ہے۔

بین الاقوامی ماہرین نے بھی اس موقع پر پاکستانی موقف کی بھرپور تائید کی۔ بیجنگ سے آئے سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کے نائب صدر پروفیسر وکٹر گا نے سندھ طاس کی معطلی کو “انسانیت کے خلاف جرم” قرار دیتے ہوئے یاد دلایا کہ بھارت خود چین کے لیے زیریں کنارے کا ملک ہے؛ اگر بھارت نے پاکستان پر پانی روکنے کا تزویراتی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تو چین بالائی کنارے کا ملک ہونے کے ناطے بھارتی عزائم کو مؤثر طریقے سے روک سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف ورلڈ سولائزیشنز ماسکو کی ڈاکٹر روکسلانا زیگون نے بھارتی اشتعال انگیزی کے سامنے پاکستانی پالیسی سازوں کے مقتدر اور ذمہ دارانہ رویے کو سراہا۔ امریکی ماہر لاری واٹکنز نے بھی ڈیٹا روکنے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ آئی آر ایس کے صدر جوہر سلیم نے اپنے اختتامی کلمات میں واضح کیا کہ آگے بڑھنے کا واحد مقتدر راستہ سندھ طاس معاہدے پر اس کے متن اور روح کے مطابق مکمل عمل درآمد میں ہی مضمر ہے۔

بھارت کی جانب سے آبی اعدادوشمار روکنا اور پاکستانی خطوط کا جواب نہ دینا بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی ہے، امریکی ماہر لاری واٹکنز

منصور احمد june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

امریکی مصنفہ و عالمی پالیسی ماہر لاری واٹکنز نے واضح کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے دریائوں کے بہائو سے متعلق اہم ترین تزویراتی اعدادوشمار کو روکنا اور پاکستان کی باضابطہ تحریری مراسلت کا جواب نہ دینا بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، کیونکہ کوئی بھی ریاست کسی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل قرار دے کر اپنی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔ منگل کے روز وفاقی دارالحکومت کے جناح کنونشن سینٹر میں انسٹیٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) کے زیرِ اہتمام ’’سندھ طاس معاہدہ، امن اور علاقائی استحکام کا اہم ذریعہ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ (انڈس واٹرز ٹریٹی) بین الاقوامی سفارت کاری کی حقیقی و تاریخی کامیابیوں میں سے ایک ہے جو 60 برس سے زائد عرصے تک مؤثر انداز میں کام کرتا رہا ہے۔

لاری واٹکنز نے اپنے خطاب میں تزویراتی نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں دریائوں سے متعلق بین الاقوامی معاہدے بنیادی طور پر تنازعات کو روکنے کے لیے تشکیل دیے جاتے ہیں جبکہ اس ضمن میں قائم “مستقل انڈس کمیشن” عالمی معیار کے مطابق ایک غیر معمولی اور انتہائی قابلِ قدر ادارہ ہے، جس کے تحت مشترکہ معائنے اور تنازعات کے حل کا ایک مربوط، مرحلہ وار اور مقتدر نظام مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے حقائق کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں بھارت کو دریائے چناب کے پانی کے بہائو کے بارے میں متعدد باضابطہ خطوط ارسال کیے، تاہم بھارت نے دریائوں کے غیر مستقل بہائو کے بارے میں ضروری معلومات اور اعدادوشمار فراہم نہیں کیے اور پاکستان کی تحریری مراسلت کا کوئی جواب بھی نہیں دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ محض ایک روایتی، انتظامی یا تکنیکی شکایت نہیں ہے بلکہ دنیا کے دریائی نظاموں کا تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ ایسی صورتحال انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ جب آبی معلومات کا تبادلہ رک جائے تو فریقین کے مابین شدید بداعتمادی، غلط اندازے اور بالآخر عسکری و سیاسی کشیدگی جنم لیتی ہے۔

عالمی پالیسی ماہر نے زور دیا کہ کسی بھی بین الاقوامی آبی معاہدے کی اصل طاقت اور پائیداری رابطوں کے مستقل تسلسل میں مضمر ہوتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ بھارت نے چالبازی دکھاتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل قرار دیا ہے، تاہم اس کے باوجود دریائوں کے بہائو سے متعلق معلومات روکنا اور پڑوسی ملک کے مقتدر خطوط کا جواب نہ دینا بین الاقوامی عرفی قانون کے اصولوں کے یکسر خلاف ہے۔ لاری واٹکنز نے بین الاقوامی قوانین کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ “ویانا کنونشن برائے قانون معاہدات” کے مطابق تمام عالمی معاہدوں پر دستخط کنندگان کی جانب سے ہمیشہ نیک نیتی کے ساتھ عمل کیا جانا چاہیے، لہٰذا بھارت پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرے تاکہ خطے کا امن اور تزویراتی استحکام برقرار رہ سکے۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ کی 187ویں برسی کی مقتدر تقاریب اختتام پذیر، بھارتی سکھ یاتری پاکستان سے امن، محبت اور بین المذاہب ہم آہنگی کا پیغام لے کر وطن واپس روانہ

روزینہ اسماعیل.june 30,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے زیرِ اہتمام مہاراجہ رنجیت سنگھ کی 187ویں برسی کی مرکزی اور مقتدر تقاریب باقاعدہ اختتام پذیر ہو گئی ہیں، جس کے بعد بھارتی سکھ یاتری پاکستان سے امن، بے لوث محبت، مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کا مقتدر پیغام لے کر واپس اپنے وطن روانہ ہو گئے۔ واہگہ بارڈر پر صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور و پردھان پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی (پی ایس جی پی سی) سردار رمیش سنگھ اروڑہ، پی ایس جی پی سی کے معزز ممبران اور سیکرٹری متروکہ وقف املاک بورڈ ناصر مشتاق نے بھارتی سکھ یاتریوں کو روایتی مقتدر انداز میں الوداع کیا۔

پاکستان سے رخصتی کے موقع پر سکھ یاتریوں نے یہاں ملنے والی بے پناہ محبت، مقتدر عزت اور تاریخی مہمان نوازی پر والہانہ اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں قیام کے دوران انہیں بالکل اپنے گھر جیسا پرامن ماحول میسر آیا۔ انہوں نے گوردواروں کے بہترین اور جدید انتظامات، مثالی صفائی ستھرائی، تزئین و آرائش اور دیگر سفری و مذہبی سہولیات کو مقتدر سطح پر سراہا۔ یاتریوں نے متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے یاتریوں کی دن رات خدمت اور رہائش، لنگر، ٹرانسپورٹ، طبی سہولیات اور سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات فراہم کرنے پر حکومتِ پاکستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس گوردوارے مکمل محفوظ، انتہائی خوبصورت اور بہترین تزویراتی انداز میں سنبھالے جا رہے ہیں؛ دنیا بھر کے سکھ پاکستان کے ان مقدس مقامات کی یاترا کے مقتدر خواہشمند ہیں اور وہ یہاں سے واپس جا کر محبت، بھائی چارے اور بین المذاہب رواداری کا یہ سچا پیغام پوری دنیا میں پھیلائیں گے۔

صوبائی وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سکھ یاتری پاکستان سے محبت اور عقیدت کا مقتدر پیغام لے کر جا رہے ہیں جو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مثبت سفارت کاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حکومتِ پاکستان کے مقتدر وژن کے تحت اس وقت ملک بھر میں پچاس اہم گوردواروں کو تزئین و آرائش کے بعد اصل حالت میں بحال کیا جا رہا ہے، اور وہ ان تمام تعمیری معاملات میں بھرپور اور مخلصانہ تعاون پر چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ قمر الزمان اور ان کی پوری ٹیم کے بے حد شکر گزار ہیں۔

سیکرٹری بورڈ ناصر مشتاق نے الوداعی تقریب کے دوران بتایا کہ چیئرمین قمر الزمان کی خصوصی اور مقتدر ہدایات کی روشنی میں یاتریوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی گئی، جبکہ غیر معمولی گرمی کی شدت سے بچاؤ کے لیے راستوں میں خصوصی “ہیٹ سینٹرز” قائم کیے گئے اور واہگہ بارڈر پر بھارتی سکھ یاتریوں کی آمد و روانگی کے وقت ٹھنڈا منرل واٹر اور جوسز بھی وافر مقدار میں فراہم کیے گئے۔ انہوں نے عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان مذہبی سیاحت کے فروغ اور اقلیتوں کے مقدس مقامات کے مستقل تحفظ کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، اور دنیا بھر میں بسنے والے سکھ جب بھی چاہیں پاکستان آئیں، ہم ان کی مقتدر مہمان نوازی کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔ آج تمام سکھ یاتری انتہائی خوشگوار یادوں اور نیک تمناؤں کے ساتھ مقتدر طور پر اپنے وطن روانہ ہو گئے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا یوکرین تنازع میں کشیدگی کے بڑھتے خطرات پر انتباہ، مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل پر زور

محمود احمد june 30,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

پاکستان نے یوکرین تنازع کے عالمی اور انسانی اثرات کو وسیع پیمانے پر انتہائی تباہ کن قرار دیتے ہوئے سخت خبردار کیا ہے کہ خطے میں غلط اندازوں اور عسکری کشیدگی میں مسلسل اضافے کا تزویراتی خطرہ بڑھتا جا رہا ہے، اور یہ خطرناک رجحان اب پہلے سے کہیں زیادہ واضح اور زیادہ تواتر کے ساتھ دنیا کے سامنے آ رہا ہے۔ بیلاروس کی خصوصی درخواست پر شہریوں پر مبینہ یوکرینی ڈرون حملوں کے مقتدر معاملے پر بلائے گئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان کا باقاعدہ قومی بیان پیش کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے مسلح ڈرونز کے مسلسل اور بلا جھجک استعمال سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی خطرات اور ان جدید عسکری ٹیکنالوجیز سے وابستہ انسانی چیلنجز کو مقتدر انداز میں اجاگر کیا۔

پاکستان کے روایتی اور غیر متزلزل اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی استثنا یا تفریق کے بغیر بین الاقوامی انسانی قوانین کے مسلمہ اصولوں کی سختی سے پابندی کریں۔ انہوں نے عالمی برادری پر واضح کیا کہ اس خونی تنازع کے حتمی خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کا واحد قابلِ عمل راستہ صرف اور صرف سفارت کاری اور بامقصد مذاکرات کی میز سے ہو کر گزرتا ہے۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان فوری اور مکمل جنگ بندی کی ناگزیر ضرورت پر مقتدر زور دیتا ہے اور تمام فریقوں سے مخلصانہ اپیل کرتا ہے کہ وہ ہٹ دھرمی چھوڑ کر سنجیدگی کے ساتھ دوبارہ سیاسی مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔

نائب مستقل مندوب نے مزید تشریح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی نظر میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور بنیادی اصولوں، تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات اور متعلقہ کثیرالجہتی معاہدوں سے ہم آہنگ، باہمی طور پر قابلِ قبول پُرامن تصفیہ ہی دیرپا امن کی جانب واحد تزویراتی راستہ ہے، اور پاکستان اس تنازع کے جامع، دیرپا اور پُرامن حل کے لیے کی جانے والی تمام بین الاقوامی سفارتی کوششوں کی حمایت مستقل جاری رکھے گا۔ انہوں نے بیلاروس میں شہری جانوں کے مبینہ ضیاع پر حکومتِ پاکستان اور عوام کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ اس طویل تنازع کی وجہ سے بے گناہ شہری آج بھی شدید جسمانی اور نفسیاتی اذیت کا سامنا کر رہے ہیں، جسے فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔

سندھ طاس کوئی عام دستاویز نہیں بلکہ چوبیس کروڑ پاکستانیوں کی لائف لائن اور بقا کا معاہدہ ہے، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا دوٹوک اعلان

منصور احمد june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹرز ٹریٹی) کے حوالے سے پاکستان کے مقتدر اور غیر متزلزل موقف کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس محض ایک روایتی کاغذ کا ٹکڑا یا عام معاہدہ نہیں بلکہ یہ ملک کے چوبیس کروڑ عوام کی لائف لائن اور ہماری قومی زندگیوں کی بقا کا ضامن ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی سیمینار سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی پوری شناخت، تمدن اور تاریخ دریائے سندھ کے پانیوں سے وابستہ ہے، ہمیں اپنی اس تاریخی شناخت پر دلی فخر ہے اور حکومت اس کے تحفظ کو ہر صورت برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے معاہدے کے تاریخی پسِ منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تقریباً چھ دہائیاں قبل خطے کے دو ممالک نے ایک غیر معمولی اور دور اندیش تزویراتی فیصلہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں دنیا کے چند پائیدار ترین آبی معاہدوں میں سے ایک وجود میں آیا۔ انہوں نے بھارت کو سخت پیغام دیتے ہوئے واضح کیا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت دو ممالک کے درمیان طے پانے والے ایسے مقتدر معاہدے کو کوئی بھی ایک فریق اپنی مرضی سے یکطرفہ طور پر معطل یا منسوخ کرنے کا کوئی مجاز نہیں رکھتا۔ پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی فورمز پر پُرامن روابط، تعمیری مذاکرات اور معاہدے کی روح پر مخلصانہ عملدرآمد کے پختہ عزم کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم اس سفارتی شرافت کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں قومی قیادت کا مقتدر عزم دہراتے ہوئے انتباہ کیا کہ اگر بالائی کنارے کی جانب سے پاکستان کا پانی روکنے یا اس کے قدرتی بہاؤ میں کسی بھی قسم کی تزویراتی دست برد کی کوشش کی گئی، تو ملک کی تمام سیاسی و عسکری قیادت پاکستان کے غیور عوام کا آبی حق بحال کرانے اور اس جارحیت کا انتہائی مؤثر، فوری اور دندان شکن جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے اپنے خطاب کے اختتام پر عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی برادری کے سامنے اپنا مقدمہ مضبوطی سے لڑتے ہوئے ہر صورت اس تاریخی معاہدے کے تقدس اور ملکی سالمیت کا تحفظ کرے گا اور آنے والی نسلوں کے حقوق پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی جواز بینک اکاؤنٹس بلاک یا فریز کرنے سے روک دیا

منصور احمد june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں ملک بھر کے تمام کمرشل اور شیڈولڈ بینکوں کے لیے مقتدر اور اہم ہدایات جاری کر دی ہیں، جس کے تحت اب کسی بھی بینک اکاؤنٹ کو بغیر قانونی جواز، مجاز اتھارٹی کی باقاعدہ منظوری اور مناسب تصدیق کے بلاک، فریز یا اس پر کسی بھی قسم کی آپریشنل پابندی عائد نہیں کی جا سکے گی۔ مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ غیر ارادی، عجلت پسندی یا محض احتیاطی پابندیوں کے نتیجے میں اکاؤنٹ ہولڈرز کو پہنچنے والے کسی بھی قسم کے مالی یا قانونی نقصان کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی شہری کے بینک اکاؤنٹ پر ڈیبٹ بلاک یا فریزنگ کا اقدام صرف اور صرف مروجہ قانون کے مطابق ہو۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نئے ہدایت نامے کے مطابق، ہر قسم کی ڈیبٹ بلاکنگ یا اکاؤنٹ فریزنگ اب صرف متعلقہ قانون کے دائرہ کار اور مجاز ادارے کے حتمی اختیار کے تحت ہی عمل میں لائی جا سکے گی۔ کسی بھی شہری کے اکاؤنٹ کے خلاف کوئی بھی تادیبی کارروائی کرنے سے پہلے بینک انتظامیہ پر قانونی اختیار اور متعلقہ دستاویزات کی مکمل اور جامع تصدیق کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ مرکزی بینک نے تمام بینکوں کو سخت پابند کیا ہے کہ وہ اپنے اداروں میں ایک ایسا جدید اور مؤثر اندرونی نظام تشکیل دیں جو اس بات کی مکمل ضمانت دے کہ کسی بھی کھاتہ دار پر محض شک یا احتیاطی بنیادوں پر ایسی پابندیاں عائد نہ ہوں جن سے اسے غیر ضروری مالی تنگی یا قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑے۔

یہ اہم ترین ہدایات اسلام آباد ہائیکورٹ کے مقتدر فیصلے کی روشنی میں جاری کی گئی ہیں، جہاں جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایک کیس کی سماعت کے دوران اسٹیٹ بینک کو بینک اکاؤنٹس بلاک کرنے کے حوالے سے ایک واضح، شفاف اور مربوط اندرونی طریقہ کار مرتب کرنے اور ملک بھر کے تمام بینکوں کو اس پر سختی سے عمل درآمد کروانے کا حکم دیا تھا۔ اسٹیٹ بینک نے عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی جامع رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ہے، جس میں نئے وضع کردہ ایس او پیز اور بینکوں کے لیے جاری کردہ تازہ ترین ہدایات کی مکمل تفصیلات سے عدالتِ عالیہ کو باقاعدہ آگاہ کر دیا گیا ہے۔

ضلع کشتواڑ کے اتھولی تھانے کی چاردیواری پھلانگ کر راشٹریہ رائفلز کے اہلکاروں کا لاٹھیوں اور اسلحے سے دھاوا؛ مودی حکومت میں ریاستی اداروں کے مابین بڑھتی ہوئی اندرونی کشیدگی اور کمزور انتظامی کنٹرول آشکار

محمود احمد june 29,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 جون 2026ء

بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں قابض مودی حکومت کے ریاستی ادارے آپس میں ہی دست و گریباں ہو گئے ہیں جہاں بھارتی فوج اور مقامی پولیس کے مابین شدید تصادم کی مقتدر رپورٹ سامنے آئی ہے۔ بھارتی جریدے ‘دی ہندو’ کی تفصیلات کے مطابق، یہ غیر معمولی واقعہ ضلع کشتواڑ کے علاقے اتھولی میں پیش آیا جہاں انتہا پسند مودی سرکار کے ناقص انتظامی کنٹرول کے باعث شکست خوردہ بھارتی فوج کے مسلح اہلکار تھانے کے اندر ہی غنڈہ گردی اور بربریت پر اتر آئے۔

مقدمے کی تفصیلات کے مطابق، سترہ راشٹریہ رائفلز کے لگ بھگ چالیس سے زائد فوجی اہلکار اتھولی تھانے کی باقاعدہ چار دیواری اور مرکزی دروازہ پھلانگ کر اندر داخل ہوئے، جہاں انہوں نے اسلحہ، لوہے کی سلاخوں اور لاٹھیوں کا آزادانہ استعمال کرتے ہوئے ڈیوٹی پر موجود پولیس افسران کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچایا۔ مقامی پولیس نے اس مجرمانہ حملے کے بعد اپنے ہی محکمے کے اعلیٰ افسران پر تشدد اور تھانے میں توڑ پھوڑ کے جرم میں بھارتی فوج کے یونٹ کمانڈنگ آفیسر یعنی کرنل، میجر اور نائب صوبیدار سمیت درجنوں فوجی اہلکاروں کے خلاف اقدامِ قتل اور سنگین حملے کی باقاعدہ ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ درج کردہ رپورٹ کے مطابق، فوجی اہلکاروں کا یہ حملہ پہلے سے طے شدہ تزویراتی منصوبہ بندی کا حصہ تھا جس کا بنیادی مقصد ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کو جانی نقصان پہنچانا تھا۔

واضح رہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں قابض فوج اور مقامی پولیس یا پیراملٹری فورسز کے مابین تصادم کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ ماضی قریب میں بھی ایسے متعدد واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ تزویراتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج اور پولیس کے مابین بڑھتا ہوا یہ تصادم مقبوضہ علاقے میں تعینات قابض فورسز کے اندرونی عدم استحکام، مقتدر دباؤ اور باہمی کشیدگی کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب، بھارتی فوج کی طرف سے وادی کشمیر اور مضافاتی اضلاع میں کی جانے والی یہ کھلی غنڈہ گردی اس بات کی پختہ دلیل ہے کہ مودی حکومت اپنے ہی ریاستی اور حفاظتی اداروں پر مکمل کنٹرول کھو چکی ہے جس سے پورے ملک کا انتظامی ڈھانچہ اندرونی طور پر کھوکھلا ہو رہا ہے۔

پاک سعودی وزرائے خارجہ کا رابطہ: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سعودی ہم منصب سے گفتگو، ہیلی کاپٹر حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

محمود احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور برادر ملک میں پیش آنے والے حالیہ ہیلی کاپٹر حادثے کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم کی طرف سے اس المکفوف واقعے میں چودہ قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت پیش کی۔ دفترِ خارجہ کی طرف سے سامنے آنے والے مقتدر بیان کے مطابق، سعودی وزیرِ خارجہ نے اس کڑے وقت میں پاکستانی قیادت اور عوام کے مخلصانہ اور برادرانہ جذبات کو مقتدر طور پر سراہا اور نائب وزیرِ اعظم کا شکریہ ادا کیا۔

ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں رونما ہونے والی حالیہ تزویراتی پیش رفت پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا اور ارد گرد کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پاکستان کے اس پختہ عزم کو دہرایا کہ ملک اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے طے شدہ اصولوں کے تحت خطے میں پائیدار امن کے قیام اور استحکام کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار مسلسل ادا کرتا رہے گا۔ رابطے کے دوران سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ وہ باہمی طور پر طے پانے والی مناسب تواریخ پر بہت جلد پاکستان کا باقاعدہ دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کا نائب وزیرِ اعظم نے گرمجوشی سے خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ اعلیٰ سطحی دورہ جلد عملی شکل اختیار کرے گا جس سے دونوں برادر ممالک کے مابین تعلقات کے نئے باب کا آغاز ہوگا۔

برادر ملک کے ساتھ معاشی روابط میں مقتدر پیش رفت: پاکستان نے سال دو ہزار تیس تک سعودی عرب میں دس لاکھ افرادی قوت بھیجنے کا ہدف مقرر کر دیا

منصور احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

پاکستان نے برادر ملک کے ساتھ لیبر موبیلٹی، انسانی سرمائے کی ترقی اور باہمی معاشی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے سال دو ہزار تیس تک سعودی عرب میں ریکارڈ دس لاکھ افرادی قوت بھیجنے کا تزویراتی ہدف مقرر کر دیا ہے، جو کہ ایک طویل المدتی افرادی قوت کی ترقی کی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ ہے۔ دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ تاریخی ہدف دونوں ممالک کے معاشی تعاون کے فریم ورک کے تحت تیار کردہ پندرہ سالہ ہیومن ریسورس ڈیپلائیمنٹ پلان کا حصہ ہے، جو پاکستانی افرادی قوت کو سعودی عرب کے وژن دو ہزار تیس کی جدید ضروریات کے مطابق مؤثر طریقے سے منظم کرتا ہے۔ اس جامع منصوبے کے تحت سالانہ بیرونِ ملک بھیجے جانے والے کارکنوں کی مجموعی تعداد کو سال دو ہزار انتالیس تک بڑھا کر پندرہ لاکھ دس ہزار تک پہنچانے کا مقتدر ہدف رکھا گیا ہے، جس کے لیے اعلیٰ تعلیم یافتہ، ہنرمند اور نیم ہنرمند افرادی قوت کی ایک منظم پائپ لائن تیار کی جائے گی، جبکہ اس عمل میں تعمیرات، ہوٹلنگ، سیاحت، صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ایوی ایشن اور انفراسٹرکچر کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

سعودی عرب طویل عرصے سے پاکستانی محنت کشوں کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے اور بیورو آف امیگریشن کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے دوران بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹرڈ ہونے والے سات لاکھ باسٹھ ہزار سے زائد ملکی کارکنوں میں سے پانچ لاکھ تیس ہزار سے زائد یعنی تقریباً ستر فیصد افراد نے روزگار کے لیے سعودی عرب کا رخ کیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جانے والے پاکستانیوں کی تعداد کل افرادی قوت کا چھیانوے فیصد بنتی ہے۔ سعودی عرب کے وژن دو ہزار تیس کے تحت شروع ہونے والے میگا اور گیگا پروجیکٹس کی بدولت وہاں تعمیرات اور سروسز کے شعبوں میں روزگار کے بے پناہ نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، جنہیں پورا کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی قومی حکمتِ عملی کو سعودی مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق ڈھال لیا ہے، جس کے تحت نیوٹیک اور سعودی عرب کے فنی اداروں کے مابین کوالیفیکیشن کو ہم آہنگ کیا جا رہا ہے اور ڈیجیٹل لیبر مارکیٹ انٹیگریشن سمیت آجر سے منسلک بھرتی کے ماڈلز متعارف کرائے جا رہے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق پاکستان نے اس ڈیمانڈ ڈریون تربیتی انفراسٹرکچر، اسکل سٹیز اور مشترکہ تعلیمی اداروں کے قیام کے لیے سعودی عرب کی شراکت داری سے اڑتیس ارب ڈالر کا ایک بڑا سرمایہ کاری فریم ورک بھی تجویز کیا ہے، جس میں ستائیس ارب ڈالر تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم اور دس ارب ڈالر اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے لیے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ حالیہ عرصے میں اس تزویراتی اقدام کے تحت ستر سے زائد مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں اور انسانی وسائل کی نمائش کے بعد چار ہزار سات سو سے زائد کارکنوں کی فوری تعیناتی سمیت سعودی تکامل اور مساند جیسے مقتدر اداروں کے ساتھ تعاون بڑھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان مستقبل کے بین الاقوامی مواقع بالخصوص فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چونتیس کی تیاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی افرادی قوت کی طویل المدتی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس کے تحت سال دو ہزار چھبیس سے دو ہزار چونتیس کے درمیان انفراسٹرکچر، ہوا بازی، سیاحت اور متعلقہ شعبوں کے لیے تین سے چار لاکھ مقتدر کارکنوں کی خصوصی تربیت اور تعیناتی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ پاکستان کی ترجیحی ورک فورس پارٹنر کی حیثیت برقرار رہے اور ملک کو زیادہ ترسیلاتِ زر حاصل ہو سکیں۔

عالمی مالیاتی ادارے پر انحصار ختم کرنے کے لیے ملکی برآمدات اور جدید تیکنیک کا فروغ ناگزیر ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال

https://images.openai.com/static-rsc-4/9FH5xvDeYcPCfTKKZ96popFSxOjP8d34PbdXMf1x8myQdEpO6ofrSxNOmJuDF8-auksXU2CMI8qnSBCrsB3dLMh8hhdaiWWUnLM_92gHZGGvpnt5R1kX4sf4SEmarOYCjVJiIfb0VnoIcY9L1dBVavhxJMcBobUldwpL1Pygno8aXWzBV9mAGggzPdQN1hmZ?purpose=fullsize

کاشف عباسی ,june 28,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری، بقا اور تعمیر و ترقی کا حتمی فیصلہ اب معاشی محاذ، جدید تیکنیک اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں کامیابی سے مشروط ہے کیونکہ بیرونی قرضوں اور عالمی مالیاتی ادارے کے چنگل سے مستقل آزادی صرف برآمدات میں اضافے سے ہی ممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور کے ایک تربیتی مرکز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کیا جہاں ارکانِ قومی اسمبلی، سیاسی رہنما اور ادارے کے اعلیٰ حکام موجود تھے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے اڑان پاکستان پروگرام کے ذریعے نوجوان نسل کو جدید ترین انٹرنیٹ مہارتوں اور مصنوعی ذہانت سے آراستہ کر رہی ہے تاکہ عالمی معیشت میں ملک کا ایک منفرد مقام بنایا جا سکے۔ انہوں نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے حالیہ سفارتی کامیابیوں کا سہرا وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے سر باندھا جن کی تزویراتی قیادت میں پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کیا۔

امریکہ اور ایران کے مابین حالیہ تنازع کا ذکر کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ اگر یہ معرکہ طول پکڑ جاتا تو پوری دنیا شدید ترین معاشی بحران، ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور عالمی مہنگائی کی لپیٹ میں آ جاتی، مگر پاکستان نے اپنی مؤثر اور مقتدر سفارت کاری کے ذریعے عالمی امن قائم کرنے میں ایک تاریخی کردار ادا کیا جس کا اعتراف اب پوری دنیا کر رہی ہے۔ انہوں نے ماضی کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ سال دو ہزار تیرہ میں مسلم لیگ (ن) کو دہشت گردی اور لوڈشیڈنگ جیسے سنگین مسائل ورثے میں ملے تھے جن پر میاں نواز شریف کی قیادت میں قابو پایا گیا اور سال دو ہزار سترہ میں دنیا پاکستان کو بیس بڑی معیشتوں میں شامل دیکھ رہی تھی مگر بعد میں آنے والی حکومت نے ملکی ترقی کے اس سفر کو شدید نقصان پہنچایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیفالٹ کے سائے منڈلانے کے باوجود حکومت نے سیاست کے بجائے ریاست کو ترجیح دی جس کے نتیجے میں اڑتیس فیصد کی ریکارڈ مہنگائی اب محض چھ فیصد پر آ چکی ہے جبکہ بینکوں کی پالیسی شرح سود بھی تئیس فیصد سے کم ہو کر دس فیصد کی سطح پر آ گئی ہے، جو معاشی بحالی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے بیرونی ملک مقیم نوے لاکھ پاکستانیوں کی جانب سے سالانہ چالیس ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھیجنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مایوسی اور انتہا پسندی کا راستہ چھوڑ کر جدید مہارتیں سیکھیں کیونکہ ملکی ترقی کا راز پالیسیوں کے تسلسل اور محنت میں پنہاں ہے۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے تصدیق کی کہ امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ ہو چکا ہے اور بھارت پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کی جرات نہیں کر سکتا کیونکہ عالمی برادری بھی اس معاملے پر اس پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

مراکش کے اسماعیل صیباری سمیت متعدد مسلم کھلاڑیوں کو شراب کی برانڈنگ کے بغیر خصوصی ٹرافی اور بیک ڈراپ پیش؛ فیفا کی جانب سے کھلاڑیوں کے عقائد اور قانونی عمر کے احترام میں مقتدر پالیسی نافذ

محمود احمد june 28,2026

میامی (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے سال دو ہزار چھبیس کے جاری فیفا ورلڈ کپ کے دوران مسلم کھلاڑیوں کے مذہبی عقائد اور ثقافتی حساسیت کا مقتدر احترام کرتے ہوئے پلے آف دی میچ کی تقریب اور ٹرافی میں ایک انتہائی اہم اور تاریخی تبدیلی متعارف کرا دی ہے۔ اس نئی اور وضع کردہ پالیسی کے تحت منتخب مسلم اور مخصوص کھلاڑیوں کے لیے شراب کی برانڈنگ کے بغیر ایک بالکل الگ اور غیر جانبدار بیک ڈراپ اور خصوصی ٹرافی پیش کی جا رہی ہے۔ یہ بڑی تبدیلی اس وقت عالمی میڈیا کے سامنے نمایاں ہوئی جب مراکش کے اسٹار کھلاڑی اسماعیل صیباری نے اسکاٹ لینڈ کے خلاف کھیلے گئے میچ میں ٹورنامنٹ کا تیز ترین پہلا گول اسکور کر کے مین آف دی میچ کا مقتدر اعزاز حاصل کیا۔

ایوارڈ کی اس مخصوص تقریب کے دوران عام طور پر پسِ منظر میں موجود بیئر برانڈ کی تشہیر کو مکمل طور پر ہٹا کر اس کی جگہ ایک غیر جانبدار سپیریئر پلیئر آف دی میچ ڈیزائن اور فیفا ورلڈ کپ کی باقاعدہ برانڈنگ استعمال کی گئی۔ عالمی رپورٹس کے مطابق مراکش کے اسماعیل صیباری کے علاوہ مصر کے امام عاشور، اردن کے علی علوان، ایران کے رامین رضائیان، قطر کے مقتدر گول کیپر محمود ابو ندا اور آئیوری کوسٹ کے یان دیومانڈے کو بھی ان کے میچز میں شاندار کارکردگی پر اسی طرز کا غیر برانڈڈ ایوارڈ فراہم کیا گیا ہے۔

فیفا کے ترجمان نے اس حوالے سے باقاعدہ وضاحت جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کسی بھی منتخب کھلاڑی کی ذاتی درخواست پر بغیر برانڈنگ والا ایوارڈ اور پینل بیک ڈراپ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ ترجمان کے مطابق اسی یکساں پالیسی کا برحق اطلاق ان نوجوان کھلاڑیوں پر بھی سختی سے ہوتا ہے جو قانونی طور پر اپنے ممالک یا میزبان ملک میں شراب نوشی کی مقررہ عمر کو نہیں پہنچے ہوتے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل سال دو ہزار اٹھارہ کے ورلڈ کپ میں مصر کے مقتدر گول کیپر محمد الشناوی نے بھی شراب کی اسپانسرشپ سے منسلک پلیئر آف دی میچ ایوارڈ کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا جس کے بعد مسلم کھلاڑیوں کے حقوق اور عقائد کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر ایک بڑی مہم نے توجہ حاصل کی تھی۔

ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریبی اہم ترین تیل مرکز راس تنورہ کے علاقے میں کریش ہوا؛ حادثہ ایسے وقت پیش آیا جب چار ماہ کی معطلی کے بعد حال ہی میں تیل کی بین الاقوامی سپلائی دوبارہ بحال کی گئی تھی

محمود احمد june 28,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کا ایک ہیلی کاپٹر ساحلی علاقے کے قریب گر کر تباہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار تمام چودہ افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جبکہ یہ افسوسناک واقعہ ایک ایسے حساس وقت پر پیش آیا ہے جب سعودی عرب نے حال ہی میں خطے سے اپنے آئل ٹینکرز کی سپلائی دوبارہ بحال کی تھی۔ عالمی میڈیا کے مطابق آرامکو کمپنی کا یہ ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریبی اور اہم ترین تیل مرکز راس تنورہ کے علاقے میں ساحلِ سمندر کے قریب کریش ہوا، جس کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار عملے کے ارکان اور آرامکو کے ملازمین سمیت تمام چودہ افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ سکیورٹی اور ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔

معلوم ہوا ہے کہ یہ حادثہ سٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ سعودی عرب نے طویل عرصے یعنی تقریباً چار ماہ کی معطلی کے بعد ابھی حال ہی میں راس تنورہ کے ساحل سے اپنے آئل ٹینکرز کے ذریعے تیل کی بین الاقوامی سپلائی دوبارہ بحال کی تھی، جبکہ آرامکو حکام اور سعودی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ہیلی کاپٹر گرنے کی وجوہات اور اسباب کی جانچ پڑتال کے لیے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے اور ماہرین اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ حادثہ کسی تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا یا اس کے پیچھے خطے کی موجودہ بحری کشیدگی کا کوئی عنصر شامل ہے۔

ٹاپ 50 امریکی یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے والے اسکالرز کو سالانہ 19 ہزار 200 ڈالر وظیفہ اور ہیلتھ انشورنس ملے گی؛ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے کارکردگی اور بین الاقوامی رینکنگ کے لحاظ سے دو مقتدر زمرے متعارف کروا دیے

روزینہ اسماعیل.june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے اڑان پاکستان کے اعلیٰ اشتراک سے ملکی تاریخ کے ایک بڑے تزویراتی تعلیمی منصوبے یو ایس پاکستان نالج کوریڈور کے تحت امریکہ کی چوٹی کی سو نامور اور مقتدر یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی اسکالرشپ کے لیے باقاعدہ داخلوں کا اعلان کر دیا ہے۔ کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی پریس ریلیز کے مطابق، یہ اسکالرشپ پروگرام خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر اعلیٰ تعلیم اور بین الاقوامی تحقیق کے فروغ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کا مقصد پاکستان میں اعلیٰ پائے کے محققین اور ماہرین تیار کرنا ہے۔ کوالیفائی کرنے والے ہونہار طالب علموں کی مالی معاونت اور تعلیمی اخراجات کو سہل بنانے کے لیے کمیشن نے بین الاقوامی رینکنگ کے لحاظ سے دو مقتدر کیٹیگریز مقرر کی ہیں، جن کی تفصیلات کے مطابق درجہ اول کے تحت امریکہ کی ٹاپ پچاس عالمی جامعات میں براہِ راست پی ایچ ڈی میں داخلہ حاصل کرنے والے پاکستانی طالب علموں کو سالانہ انیس ہزار دو سو امریکی ڈالر کا بھاری وظیفہ دیا جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اسکالرز کی طبی سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے دو ہزار امریکی ڈالر سالانہ کی ہیلتھ انشورنس بھی فراہم کی جائے گی، جبکہ درجہ دوم میں عالمی درجہ بندی میں اکیاون سے لے کر سو نمبر پر آنے والی نامور امریکی جامعات شامل ہیں جس کے تحت منتخب ہونے والے اسکالرز کے لیے بارہ ہزار امریکی ڈالر سالانہ ٹیوشن فیس کی مد میں، بارہ ہزار امریکی ڈالر سالانہ وظیفہ، اور صحت کے تحفظ کے لیے دو ہزار امریکی ڈالر سالانہ ہیلتھ انشورنس مختص کی گئی ہے۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے مقتدر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام پاکستان اور امریکہ کے مابین تعلیمی و تحقیقی روابط کو مزید پائیدار اور مستحکم بنانے میں اہم تزویراتی کردار ادا کرے گا اور اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ملک بھر کے باصلاحیت اور اہل طلبہ و طالبات کو مقررہ ضوابط کے تحت جلد سے جلد درخواستیں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ تعلیمی و صنعتی شعبے میں عالمی معیار کی لیڈرشپ پیدا کی جا سکے۔

حرمین شریفین کی انتظامیہ کے مطابق غسلِ کعبہ کا متبرک عمل بروز منگل بمطابق 30 جون 2026ء کو نمازِ فجر کے فوراً بعد ادا کیا جائے گا؛ خادم الحرمین الشریفین کے خصوصی نمائندے اور مکہ مکرمہ کے گورنر بھی شریک ہوں گے

محمود احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

مکہ مکرمہ سے موصول ہونے والی معتبر اطلاعات کے مطابق، خانہ کعبہ کو غسل دینے کی روح پرور اور انتہائی باوقار تقریب 15 محرم الحرام 1448 ہجری، بروز منگل بمطابق 30 جون 2026ء کو علی الصبح نمازِ فجر کے فوراً بعد منعقد ہوگی۔ حرمین شریفین کی انتظامیہ نے اس متبرک اور تاریخی تقریب کے شیڈول کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے، جس کی تیاریاں مکہ مکرمہ میں حرمین انتظامیہ کی نگرانی میں عروج پر ہیں۔

اس انتہائی باوقار اور تاریخی تقریب میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے خصوصی نمائندے، مکہ مکرمہ کے گورنر، حرمین شریفین کے ائمہ کرام، مسلم ممالک کے اعلیٰ سفارتکار اور متعدد ملکی و غیر ملکی اہم شخصیات شرکت اور کعبہ شریف کو غسل دینے کی سعادت حاصل کریں گی۔ سعودی میڈیا کے مطابق، غسلِ کعبہ کا یہ متبرک عمل صدیوں پرانی اسلامی روایات، طے شدہ شرعی اصولوں اور جدید سائنسی و انتظامی پروٹوکولز کے تحت انتہائی عقیدت، احترام اور سخت سیکیورٹی کے حصار میں انجام دیا جاتا ہے، جس کے لیے خاص طور پر آبِ زم زم، خالص عرقِ گلاب اور قیمتی عود کی آمیزش تیار کی جاتی ہے۔

پاک بحرین سفارتی روابط: نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی بحرین کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی سے ٹیلیفونک گفتگو، ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کے بعد خطے کی صورتحال پر تبادلہ

محمود احمد june 28,2026

اسلام آباد (سفارتی و قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور بحرین کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی کے مابین ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے تزویراتی اہمیت کی حامل “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” پر دستخط کے بعد خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور سفارتی پیش رفت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

بحرین کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے گفتگو کے دوران نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے تاریخی سنگِ میل پر دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے علاقائی تنازعات کے حل اور باہمی مفاہمت کے حصول میں پاکستان کے تعمیری و کلیدی کردار کی تعریف کرتے ہوئے پختہ امید ظاہر کی کہ یہ بڑی پیش رفت خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور پائیدار استحکام کے قیام میں انتہائی معاون ثابت ہوگی۔ بحرینی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ وہ بہت جلد پاکستان کا باقاعدہ دورہ کریں گے تاکہ خطے میں جنگ بندی کے کامیاب حصول کے لیے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و کمانڈر ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی غیر معمولی اور انتھک کاوشوں پر ذاتی طور پر ان کا شکریہ ادا کر سکیں۔

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بحرینی ہم منصب کے تعریفی کلمات اور نیک جذبات پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خطے سمیت دنیا بھر میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے اصولی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ کی طرح خطے کے نازک مسائل کو مکالمے اور فعال سفارت کاری کے ذریعے پرامن طور پر حل کرنے کی پالیسی پر گامزن رہے گا اور اس ضمن میں برادر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر تعمیری کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔