دہشت گردی پاکستان کے امن اور استحکام کے خلاف گھناؤنی سازش ہے، بزدلانہ کارروائیاں قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی بنوں دھماکے کی شدید ترین مذمت، قیمتی جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات اور واقعے کی فوری تحقیقات کی ہدایت

کاشف عباسی ,june 20,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ہونے والے دہشت گردی کے بزدلانہ دھماکے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانی نقصان پر گہرے دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے، سرکار خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری مقتدر بیان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دھماکے کے نتیجے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے درجات کی بلندی، سوگوار لواحقین کے لیے صبرِ جمیل اور واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد و مکمل صحت یابی کے لیے خصوصی دعا کی ہے۔

وزیرِ اعظم نے بنوں واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام اور انتظامیہ کو ہنگامی احکامات جاری کیے ہیں کہ دھماکے کے تمام زخمیوں کو علاج معالجے کے لیے ہر ممکنہ اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں، جبکہ انہوں نے مقتدر سیکیورٹی اداروں کو واقعے کی فوری اور جامع تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کی بھی سخت ہدایت دی ہے، اپنے خصوصی تعزیتی بیان میں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کڑا رخ اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ دہشت گردی انسانیت، پاکستان کے امن، معاشی استحکام اور سی پیک سمیت دیگر قومی منصوبوں کے خلاف ایک انتہائی گھناؤنی بین الاقوامی سازش ہے، لیکن دشمن یاد رکھے کہ ایسی بزدلانہ کارروائیاں غیور پاکستانی قوم اور عسکری قیادت کے فولادی عزم کو ہرگز متزلزل نہیں کر سکتیں۔

وزیرِ اعظم نے ملکی سیکیورٹی پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بنوں دھماکے کے تمام دہشت گردوں، ماسٹر مائنڈز اور ان کے اندرونی و بیرونی سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی اور عبرتناک سزا دی جائے گی، انہوں نے کہا کہ ریاستِ پاکستان فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے مکمل اور جڑ سے خاتمے کے لیے سو فیصد پرعزم ہے، وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ملک و قوم کے تحفظ کی خاطر جانیں نچھاور کرنے والے شہداء کی عظیم قربانیاں پوری قوم کی مقتدر امانت ہیں، ان کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور دہشت گردی کے اس ناسور کے مکمل خاتمے تک ہماری بقا کی جدوجہد بلا امتیاز جاری رہے گی۔

فیفا ورلڈ کپ 2026ء؛ ٹورنٹو ایئرپورٹ پر جرمن فٹ بال ٹیم کی رن وے پر مجرموں کی طرح سخت تلاشی کی ویڈیو وائرل، مینوئل نوئر سمیت سٹار کھلاڑی شدید برہم، ”سرحدی قوانین سب کے لیے برابر ہیں، کوئی خصوصی رعایت نہیں ملے گی،“ کینیڈین حکام کا دوٹوک مؤقف

محمود احمد june 20,2026

ٹورنٹو/برلن (اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے سنسنی خیز مقابلوں کے دوران کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ایک نیا اور غیر معمولی بین الاقوامی تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جہاں جرمنی کی عالمی شہرت یافتہ فٹ بال ٹیم کو آئیوری کوسٹ کے خلاف اپنے انتہائی اہم میچ کے لیے روانگی سے قبل ٹورنٹو ایئرپورٹ پر انتہائی سخت، تضحیک آمیز اور غیر متوقع امیگریشن و سیکیورٹی مراحل سے گزرنا پڑا ہے، اسپورٹس میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جرمن ٹیم کا خصوصی طیارہ رن وے پر بالکل اسٹارٹ کھڑا ہے اور جہاز میں سوار ہونے سے عین قبل کینیڈین سرحدی حکام جرمن کھلاڑیوں اور ان کے سامان کی ایسے جامہ تلاشی لے رہے ہیں جیسے وہ کوئی عام مسافر یا مجرم ہوں۔

اس ہائی وولٹیج واقعے کے دوران جرمنی کے مقتدر اور تجربہ کار سٹار گول کیپر مینوئل نوئر کے تاثرات اور چہرے کے تاثرات سوشل میڈیا پر خاص طور پر توجہ کا مرکز بن گئے، وائرل تصاویر اور ویڈیوز میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ مینوئل نوئر رن وے پر ہونے والی اس طویل، وقت طلب اور سخت کسٹمز اسکریننگ کے عمل پر شدید ناخوش، پریشان اور غصے میں دکھائی دے رہے ہیں، جرمن میڈیا کے مطابق عالمی سطح کے مقتدر ایتھلیٹس کے ساتھ بین الاقوامی ایئرپورٹ پر عام مسافروں سے بھی زیادہ سخت اور تضحیک آمیز برتاؤ کرنے پر جرمن فٹ بال ایسوسی ایشن نے بھی کینیڈین امیگریشن حکام کے خلاف شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اسے ورلڈ کپ کے مروجہ پروٹوکولز کے منافی قرار دیا ہے۔

دوسری جانب اس وائرل ویڈیو پر دنیا بھر کے فٹ بال شائقین کی جانب سے کینیڈا پر شدید نکتہ چینی کی جا رہی ہے اور یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا فیفا ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے آئی ہوئی عالمی ٹیموں کو خصوصی سفارتی و سیکیورٹی رعایت ملنی چاہیے یا نہیں، تاہم اس کڑے عوامی و بین الاقوامی دباؤ کے بعد کینیڈین بارڈر سروسز اور ایئرپورٹ حکام نے اپنا سخت سٹرٹیجک مؤقف جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شمالی امریکہ کے سرحدی، کسٹمز اور سیکیورٹی قوانین ملک میں داخل ہونے اور یہاں سے جانے والے تمام افراد پر بلا تفریقِ رنگ، نسل اور رتبہ یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں، حکام کا کہنا تھا کہ پروازوں کی حفاظت اور کینیڈا کے حفاظتی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی عالمی کھلاڑی یا وی آئی پی شخصیت کو سیکیورٹی چیکس میں خصوصی رعایت دینا ناممکن ہے۔

پی سی بی کے نئے سینٹرل کنٹریکٹ کا فارمولا سامنے آگیا، یکم جولائی سے 30 جون 2027ء تک نافذ ہوگا، کنٹریکٹ کے حصول کے لیے میچز کھیلنے کی کڑی شرائط عائد، کھلاڑیوں کے لیے مختلف ٹریکس اور لاکھوں روپے ماہانہ معاوضوں سمیت میچ فیس کے نئے نرخ مقرر، کرکٹ ویب سائٹ کا سنسنی خیز دعویٰ

منصور احمد june 20,2026

لاہور (اسپورٹس رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے قومی کرکٹرز کے لیے نئے اور انقلابی سینٹرل کنٹریکٹ کا پورا خاکہ اور فارمولا منظرِ عام پر آگیا ہے، جس کے تحت نیا کنٹریکٹ یکم جولائی 2026ء سے لے کر 30 جون 2027ء تک کے لیے نافذ العمل ہوگا، مقتدر بین الاقوامی کرکٹ ویب سائٹ ’کرک انفو‘ کی سنسنی خیز رپورٹ کے مطابق پی سی بی نے اس بار کنٹریکٹ کی اہلیت کے لیے کڑا معیار مقرر کیا ہے، جس کے تحت اب سینٹرل کنٹریکٹ کے لیے صرف وہی کھلاڑی اہل تصور کیے جائیں گے جنہوں نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران پاکستان کی طرف سے کم از کم 4 ٹیسٹ میچز، 6 ون ڈے انٹرنیشنل یا پھر کم از کم 6 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے ہوں۔

رپورٹ کے مطابق نئے سینٹرل کنٹریکٹ نظام کے تحت کھلاڑیوں کی کارکردگی اور فارمیٹ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں مختلف منفرد ٹریکس (Tracks) میں تقسیم کیا گیا ہے، جن کے ماہانہ معاوضوں کی تفصیل درج ذیل ہے:

🏏 پی سی بی سینٹرل کنٹریکٹ 2026-27ء کے مختلف ٹریکس اور معاوضے:

کھلاڑیوں کے کیٹیگری ٹریکسفارمیٹ اور تفصیلمقررہ ماہانہ معاوضہ / وظیفہ
ٹریک اے (Track A)ٹاپ ٹیسٹ اسپیشلسٹ کرکٹرز40 لاکھ روپے
ٹریک اے بی (Track AB)ٹیسٹ اور ون ڈے فارمیٹ کے ٹاپ پلیئرز48 لاکھ روپے
ٹریک بی سی (Track BC)وائٹ بال اسپیشلسٹ کے ٹاپ کھلاڑی34 لاکھ روپے
ٹریک سی (Track C)ٹی ٹونٹی اسپیشلسٹ کھلاڑی26 لاکھ روپے
ٹریک ڈی (Track D)ابھرتے ہوئے (Emerging) نوجوان کرکٹرز10 لاکھ روپے

اسٹرٹیجک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پی سی بی نے کھلاڑیوں کے مالیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ انہیں گلوبل لیگز کھیلنے کے لیے بھی بڑی رعایت دی ہے، کنٹریکٹ کے مطابق ٹریک سی میں شامل ٹی ٹونٹی اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کو اپنے ماہانہ معاوضے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ہونے والی لاتعداد کمرشل ٹی ٹونٹی لیگز کھیلنے کے لیے این او سی حاصل کرنے کی کھلی اجازت ہوگی، اس کے علاوہ نئے سینٹرل کنٹریکٹ میں ملک کے ابھرتے ہوئے نوجوان ڈومیسٹک کرکٹرز کے لیے خصوصی گنجائش اور حوصلہ افزائی رکھی گئی ہے جنہیں ٹریک ڈی کے تحت ماہانہ 10 لاکھ روپے بطور مقتدر وظیفہ دیے جائیں گے تاکہ ملک میں ٹیلنٹ کو نکھارا جا سکے۔

پی سی بی نے ماہانہ معاوضوں کے علاوہ قومی کھلاڑیوں کی میچ فیس کے حوالے سے بھی نئے اور پرکشش نرخ مقرر کر دیے ہیں، جس کے تحت اب کھلاڑیوں کو ایک ٹیسٹ میچ کھیلنے کی فیس 15 لاکھ روپے دی جائے گی، جبکہ ایک ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیلنے کا معاوضہ 7 لاکھ 50 ہزار روپے اور ایک ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچ کھیلنے کی فیس 5 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، کرکٹ مبصرین کے مطابق پی سی بی کا یہ نیا کنٹریکٹ فارمولا جہاں کھلاڑیوں کو معاشی طور پر مستحکم کرے گا، وہی کارکردگی دکھانے والے اور فٹ کھلاڑیوں کو ہی ٹیم میں برقرار رکھنے میں مقتدر ثابت ہوگا۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی تیز، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی ہنگامی اور انتہائی اہم دورے پر تہران روانہ، ایرانی اعلیٰ قیادت اور سفارتی مقتدر شخصیات سے ملاقاتیں شیڈول، ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی ’ارنا‘ نے دورے کی تصدیق کر دی

کاشف عباسی ,june 20,2026

اسلام آباد/تہران (سیاسی رپورٹر/انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

سپر پاور امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کے نتیجے میں طے پانے والے تاریخی امن معاہدے ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کے بعد خطے کی بدلتی ہوئی سٹرٹیجک صورتحال کو پائیدار بنانے کے لیے پاکستان نے ایک بار پھر اپنا فعال ترین سفارتی کردار ہنگامی بنیادوں پر تیز کر دیا ہے، اس سلسلے میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی ایک انتہائی اہم اور ہنگامی دورے پر ایران کے دارالحکومت تہران روانہ ہو گئے ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے اس مقتدر دورے کو مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن و امان کے قیام، عالمی سفارت کاری اور معاہدے کے خدوخال کو حتمی شکل دینے کے لحاظ سے انتہائی کلیدی اور سنسنی خیز اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے اس اعلیٰ سطح کے ہنگامی دورے کی حساسیت اور اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایران کے سرکاری میڈیا نے بھی اسے بریکنگ نیوز کے طور پر نمایاں کوریج دی ہے، ایران کی آفیشل اور مقتدر سرکاری نیوز ایجنسی ”ارنا“ نے پاکستانی وزیرِ داخلہ کی تہران آمد اور اس اعلیٰ سطح کے دورے کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے مطلع کیا ہے کہ محسن نقوی اپنے اس مقتدر دورے کے دوران ایرانی دارالحکومت تہران میں ایران کی اعلیٰ ترین حکومتی، عسکری اور سفارتی شخصیات سے خصوصی ملاقاتیں کریں گے، اس سٹرٹیجک دورے کا سب سے اہم، بنیادی اور حساس ترین محور ایران اور امریکہ کے درمیان جاری پسِ پردہ مذاکرات میں ہونے والی حالیہ پیشرفت، جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد اور ضامن کے طور پر پاکستان کی جانب سے کی جانے والی نئی سفارتی کوششیں ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق تہران میں ہونے والی ان مقتدر ملاقاتوں کے دوران پاک ایران دوطرفہ سیکیورٹی امور، سرحدی انتظام، خطے کی مجموعی جیو پولیٹیکل صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر تزویراتی امور پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا، یہ دورہ دراصل پاکستان کی اسی پائیدار خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت وہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کی قیادت میں خطے میں عالمی امن کا سب سے بڑا علمبردار بن کر ابھرا ہے، سیاسی و معاشی مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے، مستقل امن و امان کے قیام اور عالمی طاقتوں کے مابین سفارتی روابط کو فعال و محفوظ بنانے کے لیے پاکستان کا یہ برادرانہ اور مقتدر ثالثی کردار خطے کو ایک نئی اور محفوظ سمت کی طرف گامزن کر رہا ہے۔

پٹرول اور ڈیژل کی تاریخی سستا ہونے کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 48 روپے 29 پیسے فی لیٹر کی بھاری کمی، غریب اور متوسط طبقے کے لیے بڑا معاشی ریلیف، قیمتیں 282 روپے سے یکسر گر کر 233 روپے 90 پیسے پر آگئیں، وزارتِ خزانہ کا نوٹیفکیشن جاری

منصور احمد june 20,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

وفاقی حکومت نے پٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں میں ملکی تاریخ کے سب سے بڑے معاشی ریلیف پیکج کے فوراً بعد غریب اور پسماندہ علاقوں کے عوام کے لیے مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی پچھلے کئی ماہ کی سب سے بڑی اور نمایاں کٹوتی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے، وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت میں 48 روپے 29 پیسے کی بھاری کمی کی منظوری دی گئی ہے، حکومت کے اس غریب پرور فیصلے کے بعد مارکیٹ میں مٹی کے تیل کی قیمت 282 روپے 19 پیسے سے یکسر کم ہو کر 233 روپے 90 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جس کا فوری اطلاق ملک بھر میں نافذ العمل ہو چکا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمتوں میں یہ واضح اور بڑی کمی حکومت کی اسی وسیع تر سٹرٹیجک معاشی پالیسی اور ریلیف ایجنڈے کا تسلسل ہے جس کے تحت گزشتہ روز پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 74 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیژل کی قیمت میں 67 روپے کی ریکارڈ کٹوتی کر کے پٹرول 299 روپے اور ڈیژل 311 روپے کا کیا گیا تھا، وزارتِ خزانہ کے مقتدر ذرائع کا کہنا ہے کہ مٹی کے تیل کے نرخوں میں تقریباً 48 روپے سے زائد کا یہ ریلیف براہِ راست ملک کے ان پسماندہ، دیہی اور پہاڑی علاقوں کے متوسط و غریب طبقے تک پہنچے گا جو گیس کی عدم دستیابی کے باعث اسے آج بھی اپنے گھروں میں بنیادی ایندھن اور چولہا جلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، جس سے ان کے گھریلو بجٹ میں نمایاں بچت ہوگی۔

دوسری جانب معاشی ماہرین اور عوامی حلقوں نے پٹرولیم مصنوعات کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی اتنی بڑی کمی کا شدید خیرمقدم کیا ہے، تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پٹرول، ڈیژل اور اب مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اس مسلسل اور یکمشت بھاری ریلیف کے بعد اب ملک بھر میں مال برداری (لاجسٹکس) اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں واضح کمی آنا ناگزیر ہو چکی ہے، جس کے براہِ راست اور مثبت اثرات روزمرہ کی اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں پر پڑیں گے اور ملک میں جاری مہنگائی کی مجموعی شرح کو گراؤنڈ پر لانے میں بہت بڑی مدد ملے گی۔

”فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف عظیم ہیں، دونوں کے ورکنگ ریلیشنز شاندار ہیں، ایک آرمی چیف کو اپنے وزیرِ اعظم کا پورا احترام کرتے دیکھنا خوبصورت ترین منظر ہے“، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کو سنسنی خیز انٹرویو، ایران جنگ رکوانے میں پاکستان کی اسٹرٹیجک ثالثی کا اعتراف

کاشف عباسی ,june 20,2026

واشنگٹن/اسلام آباد (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی امن معاہدے ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی منظرنامے پر پاکستانی قیادت کی غیر معمولی عسکری و سیاسی صلاحیتوں اور مثالی داخلی ہم آہنگی کو دنیا کے سامنے زبردست الفاظ میں سراہا ہے، واشنگٹن سے موصولہ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشہور امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کو دیے گئے ایک مقتدر اور خصوصی انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے سول اور عسکری تعلقات کو دنیا بھر کے جمہوری و دفاعی نظام کے لیے ایک شاندار اور بہترین اسٹرٹیجک مثال قرار دے دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے کی صورتحال پر کھل کر بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ سپر پاور امریکہ اور ایران کو ہولناک جنگ کے دہانے سے واپس لانے اور کائنات میں امن قائم کرانے میں پاکستان کا کردار سب سے اہم اور مخلصانہ تھا، انہوں نے پاکستانی طاقت کا کٹھ چٹھا کھولتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان میں فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ اور تعلقات کی کیمسٹری بہت لاجواب ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک عظیم سپہ سالار ہیں اور ان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف بھی ایک مقتدر لیڈر ہیں، دونوں کے آپس میں شاندار، مربوط اور پختہ تعلقات قائم ہیں۔“

ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے اندرونی سیاسی و عسکری ڈھانچے کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے مزید کہا کہ ”یہ منظر دیکھنا بین الاقوامی برادری کے لیے انتہائی خوبصورت اور قابلِ تقلید ہے کہ ملک کا ایک طاقتور فوجی سربراہ پوری طرح اور مخلصانہ طور پر اپنے آئینی وزیرِ اعظم کا احترام کرتا ہے اور ان کے ساتھ مل کر فیصلے کرتا ہے،“ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستانی قیادت نے ایران کے ساتھ یہ پیچیدہ مفاہمتی یادداشت طے کرنے میں واشنگٹن کی بہت بڑی اور تاریخی مدد کی، کیونکہ پاکستانی حکام تہران کے حکمرانوں اور ایرانیوں کی نفسیات کو بہت اچھے طریقے سے جانتے، پرکھتے اور سمجھتے تھے۔

امریکی صدر نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ ”ہم نے ایران کو فوجی اور دفاعی سطح پر پوری طرح جکڑ کر شکست دے دی تھی، لیکن اس انتہائی نازک اور سسپنس سے بھرپور موڑ پر پاکستان نے، جو کہ امریکہ کے بہت قریب اور دیرینہ دوست ہے، مجھ سے باقاعدہ اعلیٰ سطحی درخواست کی کہ ایران پر مزید ملٹری حملے نہ کیے جائیں، جس کے بعد پاکستان کے فولادی اصرار پر ہی ہم نے مذاکرات اور مستقل امن کا راستہ اختیار کیا،“ سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ انٹرویو ظاہر کرتا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی کامیاب خارجہ پالیسی نے نہ صرف دنیا کو تیسری جنگِ عظیم سے بچایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا عسکری و سیاسی وقار بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

گلگت بلتستان جنرل انتخابات 2026ء کے حتمی نتائج کا باضابطہ اعلان، الیکشن کمیشن نے 21 کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، پیپلز پارٹی جنرل نشستوں پر سب سے بڑی جماعت بن کر ابھر آئی، ن لیگ اور آزاد امیدوار بھی کامیاب، سپریم اپیلیٹ کورٹ کے حکم پر 3 حلقوں کے نتائج مؤخر

منصور احمد june 20,2026

گلگت (بیورو رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ گلگت بلتستان نے خطے میں ہونے والے حالیہ جنرل انتخابات 2026ء کے سرکاری نتائج کی روشنی میں نو منتخب اراکینِ اسمبلی کے ناموں کا باضابطہ اور مقتدر نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان کی جانب سے الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 98(1) اور الیکشن رولز 2017 کے قواعد 94 اور 96 کے تحت جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق عمومی (جنرل) نشستوں پر کامیاب ہونے والے 21 اراکین کی رکنیت کی باقاعدہ تصدیق کر دی گئی ہے، جبکہ قانونی و عدالتی چارہ جوئی کے باعث 3 حلقوں کے نتائج فی الوقت مؤخر کر دیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اسٹرٹیجک فہرست کے مطابق مختلف حلقوں سے کامیاب ہونے والے مقتدر اراکینِ اسمبلی کی تفصیل درج ذیل ہے:

🏛️ گلگت بلتستان اسمبلی کے کامیاب امیدواروں کی فہرست:

حلقہ نمبر اور نامکامیاب امیدوار کا نام
جی بی اے-1 گلگت-Iامجد حسین
جی بی اے-2 گلگت-IIحفیظ الرحمن
جی بی اے-3 گلگت-IIIسید سہیل عباس
جی بی اے-4 نگر-Iمحمد علی اختر
جی بی اے-5 نگر-IIذوالفقار علی مراد
جی بی اے-6 ہنزہنیک نام کریم
جی بی اے-7 سکردو-Iسید توقیر مہدی
جی بی اے-8 سکردو-IIمحمد کاظم
جی بی اے-10 سکردو-IVناصر علی خان
جی بی اے-11 کھرمنگاقبال حسن
جی بی اے-12 شگرعمران ندیم
جی بی اے-13 استور-Iرانا فرمان علی
جی بی اے-14 استور-IIرانا محمد فاروق
جی بی اے-16 دیامر-IIامام ملک
جی بی اے-18 دیامر-IVملک کفایت الرحمٰن
جی بی اے-19 غذر-Iسید جلال علی شاہ
جی بی اے-20 غذر-IIعبدالجہان
جی بی اے-21 غذر-IIIامان علی
جی بی اے-22 گانچھے-Iمحمد ابراہیم ثنائی
جی بی اے-23 گانچھے-IIانور علی
جی بی اے-24 گانچھے-IIIاسد شفیق

نوٹیفکیشن کے مطابق گلگت بلتستان کے ان اہم ترین جنرل انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز نے شاندار سیاسی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنرل نشستوں پر سب سے زیادہ کامیابیاں حاصل کی ہیں اور وہ ایوان میں سب سے بڑی پارلیمانی قوت بن کر سامنے آئی ہے، اس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ (ن)، مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم)، متعدد آزاد امیدواروں اور استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے امیدوار بھی بھاری اکثریت سے منتخب ہو کر نئی گلگت بلتستان اسمبلی کا حصہ بننے میں کامیاب رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مقتدر ذرائع نے واضح کیا ہے کہ مذکورہ تمام امیدواروں کی کامیابی کا باقاعدہ اعلان تمام قانونی، آئینی اور انتخابی تقاضوں کی سو فیصد تکمیل اور ریٹرننگ افسران کے حتمی مینوئل ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے بعد کیا گیا ہے، جس کے ساتھ ہی منتخب اراکین کی گزیٹڈ فہرست باضابطہ طور پر شائع کر دی گئی ہے، الیکشن کمیشن نے صراحت کی ہے کہ جہاں 21 ممبران کا نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے، وہیں باقی ماندہ 3 حلقوں کے ممبران کے نتائج سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کے حالیہ احکامات اور حکمِ امتناع کی روشنی میں روک دیے گئے ہیں، جن کا فیصلہ عدالتی احکامات کے بعد کیا جائے گا۔

”میں اور اٹلی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے“، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے توہین آمیز ریمارکس پر اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی کا کرارا جواب، احتجاجاً اطالوی نائب وزیرِ اعظم کا دورۂ امریکہ منسوخ، جی 7 سمٹ کے بعد واشنگٹن اور روم میں شدید سفارتی جنگ چھڑ گئی

محمود احمد june 19,2026

روم/واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

فرانس میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس کے سائیڈ لائنز پر شروع ہونے والا تنازع اب ایک ہولناک بین الاقوامی سفارتی بحران میں تبدیل ہو گیا ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زہریلے اور توہین آمیز بیانات کے خلاف اٹلی کی قیادت نے انتہائی کڑا اور مقتدر رخ اختیار کر لیا ہے، روم سے جاری ہونے والی بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو سرِعام “جھوٹا، من گھڑت اور خود ساختہ” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ جارجیا میلونی ان کے ساتھ تصویر کھچوانے کے لیے منت سماجت کر رہی تھیں، اطالوی وزیرِ اعظم نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں تہران نما عزم کے ساتھ واضح کیا کہ ”امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہر صورت یہ یاد رکھنا ہوگا کہ جارجیا میلونی اور ملک اٹلی دنیا میں کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔“

اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی کا مزید کہنا تھا کہ سپر پاور کے صدر کا یہ اڑیل بیان سراسر خود ساختہ کہانی پر مبنی ہے اور اس غیر ذمہ دارانہ رویے سے پوری اطالوی حکومت کو شدید مایوسی ہوئی ہے، انہوں نے کڑی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”میں اب تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ امریکی صدر اپنے دیرینہ اور مخلص یورپی اتحادیوں کے ساتھ اس طرح کا تضحیک آمیز برتاؤ آخر کیوں کرتے ہیں؟“ واضح رہے کہ یہ تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب جی 7 سربراہی اجلاس کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مقتدر انٹرویو کے دوران سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ”اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی میرے ساتھ تصویر بنوانے کے لیے مسلسل منتیں اور سماجت کر رہی تھیں، جس پر مجھے ان کی حالت دیکھ کر ترس آگیا اور میں نے فوٹو بنوا لی۔“

ٹرمپ کے اس انتہائی توہین آمیز اور تکبر سے بھرپور بیان پر پورے اٹلی میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، جس پر ہنگامی سفارتی ایکشن لیتے ہوئے اٹلی کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے امریکی صدر کے رویے کے خلاف سخت ترین احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے اپنا دورۂ امریکہ یکسر منسوخ کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، اطالوی وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے واشنگٹن کو کڑا پیغام بھیجتے ہوئے کہا کہ ”صدر ٹرمپ کی جانب سے ہماری وزیرِ اعظم جارجیا میلونی کے خلاف استعمال کیے گئے گھٹیا اور توہین آمیز الفاظ سے پورے اطالوی عوام اور ریاست کے وقار کو شدید ٹھیس پہنچی ہے، اس توہین کے بعد میں کسی صورت واشنگٹن نہیں جا سکتا،“ انہوں نے مطلع کیا کہ اسی احتجاجی فیصلے کے تحت وہ 21 اور 22 جون کو ہونے والا اپنا اہم ترین طے شدہ سرکاری دورۂ امریکہ منسوخ کر رہے ہیں، سیاسی مبصرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد صدر ٹرمپ کا یورپی اتحادیوں کے ساتھ یہ نیا محاذ واشنگٹن کو عالمی سیاست میں مزید تنہا کر سکتا ہے۔

”چینی صدر شی جن پنگ اور نریندر مودی دنیا کے دو مضبوط ترین رہنما ہیں، مودی فرشتے کی طرح نظر آتے ہیں لیکن مذاکرات میں بے رحم قاتل ہیں“، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جی 7 سمٹ کے بعد سنسنی خیز انٹرویو، ایران محاذ آرائی کے بعد صدارتی اختیارات کی حدود نہ ہونے کا دعویٰ

محمود احمد june 19,2026

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو اس وقت دنیا کے دو سب سے زیادہ مضبوط اور بااثر ترین عالمی رہنما قرار دے دیا ہے، واشنگٹن سے جاری بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس سے واپسی پر دیے گئے ایک انتہائی مقتدر اور سنسنی خیز انٹرویو میں امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ ان عالمی لیڈرز کی فہرست میں سرفہرست ہیں جنہیں وہ ذاتی طور پر سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں رہنماؤں کی نفسیات کا کٹھ چٹھا کھولتے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ کو “مکمل طور پر ایک کاروباری اور نفع نقصان دیکھنے والی شخصیت” جبکہ بھارتی وزیرِ اعظم مودی کو “ایک حد سے زیادہ سخت، پختہ اور ضدی انسان” قرار دیا۔

امریکی صدر نے فرانس میں میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس وقت ایک نیا پینڈورا باکس اور بحث چھیڑ دی جب انہوں نے تجارتی مذاکرات کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ایک ہی سانس میں ‘فرشتہ’ اور ‘قاتل’ قرار دے دیا، ڈونلڈ ٹرمپ کا کڑے الفاظ میں کہنا تھا کہ ”نریندر مودی دنیا کے سخت ترین اور مشکل ترین مذاکرات کاروں میں سے ایک ہیں، وہ دیکھنے میں بہت خوبصورت، دھیمے اور معصوم نظر آتے ہیں، بالکل ایک فرشتے کی طرح، لیکن جب بات اپنے ملکی مفاد اور تجارت کی ہو تو حقیقت میں وہ انتہائی سخت، ایک بے رحم قاتل کی طرح سودے بازی کرتے ہیں اور رتی برابر بھی گنجائش نہیں دیتے۔“ انٹرویو کے دوران امریکی صدر نے کسی بھی ایسے عالمی رہنما کا نام لینے سے صاف گریز کیا جسے وہ سیاسی یا سٹرٹیجک طور پر کمزور سمجھتے ہوں۔

انٹرویو کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے ایک اور سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ حالیہ بین الاقوامی واقعات، بشمول ایران کے ساتھ ہونے والی شدید فوجی و سفارتی محاذ آرائی اور اس کے بعد طے پانے والے تاریخی امن معاہدے نے ان کے اس یقین کو فولادی بنا دیا ہے کہ امریکی صدارتی اختیارات کی کوئی طے شدہ “حدود” نہیں ہیں اور ایک امریکی صدر دنیا کا نقشہ بدلنے کی طاقت رکھتا ہے، مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ مقتدر بیان ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ حالیہ کامیابی کے بعد خود کو عالمی سیاست کا سب سے طاقتور محور قرار دے رہے ہیں جبکہ چین اور بھارت کے ساتھ مستقبل میں سخت تجارتی معرکوں کی تیاری کا اشارہ بھی دے رہے ہیں۔

”اگر جنگ بروقت نہ روکی جاتی تو تیسری جنگ عظیم کے 200 فیصد امکانات تھے، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پوری دنیا کے مستقل امن کی دستاویز ہے“، وزیرِ اعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ کی ’اے آر وائی نیوز‘ میں مقتدر گفتگو، فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور شہباز شریف کو عظیم تاریخی ہیرو قرار دے دیا

کاشف عباسی ,june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور اور مقتدر سینیٹر رانا ثناء اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے مابین چھڑنے والی ہولناک جنگ کو اگر پاکستان اپنی دور اندیش سفارت کاری کے ذریعے بروقت نہ روکتا تو دنیا میں تیسری جنگِ عظیم (World War III) چھڑنے کے 200 فیصد امکانات موجود تھے، انٹرنیشنل پریس ایجنسی اور نجی ٹی وی چینل ’اے آر وائی نیوز‘ کے مقتدر پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی عالمی امن کے لیے سرانجام دی جانے والی لازوال خدمات کو تاریخ کے سنہری حروف میں لکھا جائے گا اور دنیا انہیں کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔

رانا ثناء اللہ نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی سٹرٹیجک اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کڑا مؤقف اختیار کیا کہ یہ امن معاہدہ محض ایک عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ پوری دنیا کے مستقل امن اور بقا کی ایک تاریخی دستاویز ہے، انہوں نے واضح کیا کہ یہ معرکہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان ایک محدود جنگ نہیں تھی بلکہ اس کی لپیٹ میں آکر پوری دنیا کا جغرافیائی نقشہ یکسر بدل سکتا تھا اور ہر طرف تباہی پھیل جاتی، لیکن پاکستان نے مخلصانہ کردار ادا کر کے انسانیت کی بھلائی کے لیے اس جنگ کو عین اسی نازک مرحلے پر روک دیا جہاں سے پوری کائنات کو تباہی کے دہانے سے بچا لیا گیا ہے۔

وزیرِ اعظم کے مشیر نے سفارتی کامیابی کا کٹھ چٹھا کھولتے ہوئے فخر سے بتایا کہ سپر پاور امریکہ اور ایران کے مابین اس عظیم الشان امن معاہدے کا سہرا سو فیصد پاکستان کے سر سجتا ہے، انہوں نے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ ”اس تاریخی دستاویز پر امریکہ اور ایران کے صدور نے باقاعدہ دستخط کیے ہیں، اور دنیا کی ان دونوں بڑی طاقتوں کے دستخطوں کو باضابطہ طور پر ‘ویریفائی’ اور ضامن کا کردار پاکستان نے ادا کیا ہے،“ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اس وقت وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر دونوں قوم کے عظیم ہیرو بن کر ابھرے ہیں اور غیور پاکستانی قوم اپنے ان مقتدر سپہ سالاروں پر ہمیشہ خون کے آخری قطرے تک فخر کرے گی، انہوں نے یاد دلایا کہ یہ تمام تاریخی و معاشی کامیابیاں معرکے کے فوراً بعد حاصل ہوئیں جو پاکستان کی عسکری و سفارتی طاقت کا عالمی لوہا ماننے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

”اگر ہم نے فوری طور پر نیتن یاہو حکومت کو نہ بدلا تو اسرائیل کے خارجہ تعلقات مکمل طور پر تباہ ہو جائیں گے“، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی برہمی پر سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم اور اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ کا کڑا ردعمل، امریکہ ایران امن معاہدے پر دونوں اتحادیوں میں سفارتی دراڑیں نمایاں

محمود احمد june 19,2026

واشنگٹن/تل ابیب (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان حال ہی میں طے پانے والی تاریخی مفاہمتی یادداشت اور جنگ بندی کے بعد واشنگٹن اور تل ابیب کے مابین سٹرٹیجک تلخی برقرار ہے، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے کڑی نکتہ چینی کے بعد اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم اور موجودہ اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت کو سخت ترین الفاظ میں وارننگ جاری کر دی ہے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک مقتدر اور دوٹوک بیان میں یائر لیپڈ نے خبردار کیا ہے کہ ”پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران امریکی نائب صدر پریس کانفرنس میں اسرائیلی وزرا اسموٹریچ اور بین گویر پر شدید برہم ہوئے، جبکہ ہمارے وزیرِ خارجہ جدعون سار نے یورپی یونین کے وزیرِ خارجہ سے تعلقات منقطع کر لیے اور دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی نیتن یاہو کو لبنان میں غیر ذمہ داری دکھانے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے؛ اگر ہم نے اس انتہا پسند حکومت کو فوری طور پر اقتدار سے نہ ہٹایا تو اسرائیل کے بین الاقوامی خارجہ تعلقات دنیا بھر میں یکسر مٹ جائیں گے۔“

یہ سنگین سفارتی تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران اسرائیلی کابینہ کے بعض ارکان کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نئی امریکی خارجہ پالیسی پر کی جانے والی ذاتی و تند و تیز تنقید کا انتہائی سخت اور کرارا جواب دیا، جے ڈی وینس نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ”اگر میں خود اسرائیلی کابینہ کی کرسی پر بیٹھا ہوتا تو دنیا میں اپنے سب سے مخلص، طاقتور اور اہم ترین دفاعی اتحادی کو اس طرح سرِعام نشانہ بنانے کی حماقت کبھی نہ کرتا،“ انہوں نے اسرائیلی حکومت کو زمینی حقائق کا آئینہ دکھاتے ہوئے سنسنی خیز یاد دہانی کرائی کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران جاری رہنے والے ہولناک معرکوں میں اسرائیل کے دفاع اور سیکیورٹی میں استعمال ہونے والے کل ہتھیاروں کا دو تہائی حصہ خالصتاً امریکہ نے فراہم کیا ہے، جنہیں رات دن محنت کر کے امریکی ماہرین نے تیار کیا اور جس کے اربوں ڈالر کے فنڈز امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ممکن بنائے گئے تھے۔

امریکی نائب صدر نے کڑے الفاظ میں کہا کہ بعض اسرائیلی وزرا کے بیانات انتہائی افسوسناک اور اسپورٹس مین اسپرٹ کے منافی ہیں، کیونکہ وہ ایک ایسے امریکی صدر کو بلاجواز تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جو ہمیشہ سے اسرائیل کے لیے ہمدردانہ اور حفاظتی مؤقف رکھتا ہے، انہوں نے نیتن یاہو کے وزرا کو مقتدر مشورہ دیا کہ وہ خوابوں کی دنیا سے باہر نکلیں اور خطے کی نئی سٹرٹیجک تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ذمہ دارانہ بین الاقوامی طرزِ عمل اختیار کریں، واضح رہے کہ اسرائیلی کابینہ کے بعض سخت گیر ارکان امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان کی ثالثی سے ہونے والے امن معاہدے پر مسلسل آگ بگولا ہیں اور انہوں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا، تاہم سابق وزیرِ اعظم یائر لیپڈ، نفتالی بینیٹ اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے نیتن یاہو کی پالیسیوں کو اسرائیل کے لیے عالمی سفارتی تنہائی کا سبب قرار دے دیا ہے۔

مہنگائی کے مارے عوام کے لیے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف، پٹرول 74 روپے اور ڈیژل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر کی تاریخی کمی، وزیرِ اعظم نے حتمی منظوری دے دی، نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگا

منصور احمد june 19,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان نے قوم سے کیے گئے اپنے حالیہ وعدے کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ملکی تاریخ کے سب سے بڑے اور سنسنی خیز معاشی ریلیف کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 74 روپے کی ریکارڈ کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیژل کی قیمت میں بھی 67 روپے فی لیٹر کی بھاری کٹوتی کر دی گئی ہے، حکومت کے اس انقلابی اور عوامی فیصلے کے بعد پٹرول کی موجودہ فی لیٹر قیمت 373 روپے سے یکسر کم ہو کر 299 روپے کی سطح پر آگئی ہے، جبکہ ڈیژل کی قیمت بھی 378 روپے سے گھٹ کر 311 روپے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جس کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ملک بھر میں نافذ العمل ہوگا۔

وزارتِ خزانہ کے حکام کے مطابق اس مقتدر فیصلے کا بنیادی مقصد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تیز ترین گراوٹ کے براہِ راست اور حقیقی اثرات کو کسی بھی تاخیر کے بغیر غریب عوام کی دہلیز تک منتقل کرنا ہے، وزیرِ اعظم نے اس تاریخی ریلیف پیکج پر دستخط کرتے ہوئے اپنے خصوصی بیان میں واضح کیا ہے کہ عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے شکنجے سے آزاد کرانا اور ان پر موجود شدید معاشی دباؤ کو کم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترین ترجیح اور اخلاقی ذمہ داری ہے، انہوں نے کڑا رخ اختیار کرتے ہوئے تمام صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی احکامات جاری کیے ہیں کہ پٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں میں اس بھاری کمی کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور روزمرہ کی اشیائے ضروریہ (سبزی، پھل اور دالوں) کی قیمتوں میں بھی اسی تناسب سے فوری کمی لائی جائے تاکہ اس اسٹرٹیجک ریلیف کا فائدہ عام آدمی کو مل سکے۔

دوسری جانب معاشی ماہرین اور تجارتی حلقوں نے حکومت کے اس اقدام کو ملکی معیشت کے لیے ایک انتہائی خوش آئند اور پائیدار موڑ قرار دیا ہے، ماہرینِ معیشت کے مطابق پٹرولیم مصنوعات میں اتنی بڑی نوعیت کی کمی سے ٹرانسپورٹیشن اور لاجسٹکس کے اخراجات یکسر نیچے آئیں گے، جس کے نتیجے میں ملک میں جاری مہنگائی کی مجموعی شرح (Inflation) میں واضح اور بڑی کمی واقع ہوگی، عوامی حلقوں نے بھی پٹرول کی قیمت 300 روپے سے نیچے آنے پر شدید مسرت کا اظہار کیا ہے اور اسے مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی حالیہ کامیاب جنگ بندی اور سفارت کاری کا پہلا بڑا اور حقیقی معاشی ثمر قرار دیا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں مندی کے بعد پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 14,900 روپے کی تاریخی کمی، سونا 4 لاکھ 38 ہزار 036 روپے کی سطح پر آگیا، چاندی کی قیمتیں بھی یکایک گر گئیں، صرافہ مارکیٹ کی رپورٹ

روزینہ اسماعیل.june 19,2026

کراچی (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

بین الاقوامی بلین مارکیٹ اور مقامی صرافہ بازاروں میں پٹرولیم مصنوعات کے بعد اب سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بھی بڑے پیمانے پر غیر معمولی اور تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، آل پاکستان سپریم کونسل جیولرز ایسوسی ایشن اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 149 ڈالر کی زبردست مندی کے بعد 4,156 ڈالر کی سطح پر نیچے آگئی ہے، عالمی مارکیٹ میں ہونے والی اس بڑی گراوٹ کے براہِ راست اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں جس کے باعث پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت 14,900 روپے کی نمایاں کمی کے بعد 4 لاکھ 38 ؎ہزار 036 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔

صرافہ مارکیٹ کے مقتدر ذرائع کے مطابق فی تولہ سونے کے ساتھ ساتھ 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 13,410 روپے کی بڑی کٹوتی دیکھی گئی ہے جس کے بعد مقامی بازاروں میں 10 گرام سونا گھٹ کر 3 لاکھ 74 ہزار 205 روپے کی سطح پر آگیا ہے، معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے کامیاب معاہدے اور عالمی معیشت میں استحکام کی بحالی کے باعث سرمایہ کار اب سونے کی محفوظ پناہ گاہوں سے سرمایہ نکال کر دیگر تجارتی شعبوں میں لگا رہے ہیں، جس کی وجہ سے قیمتی دھاتوں کی قیمتیں تیزی سے نیچے آرہی ہیں اور عام خریداروں کے لیے ایک طویل عرصے بعد بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔

سونے کے ساتھ ساتھ ملکی صرافہ بازاروں میں چاندی کی قیمتوں کو بھی بڑا بریک لگا ہے، اعداد و شمار کے مطابق فی تولہ چاندی کی قیمت 413 روپے کی نمایاں کمی کے بعد 6,946 روپے کی سطح پر آگئی ہے، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 373 روپے کی بڑی گراوٹ کے ساتھ مارکیٹ میں 5,895 روپے کی سطح پر بند ہوئی، صرافہ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے باعث مارکیٹ میں خریداروں کا رش بڑھنے کا امکان ہے، تاہم آنے والے دنوں میں عالمی حالات کے مطابق قیمتوں میں مزید استحکام یا کمی متوقع ہے۔

امریکہ ایران جنگ بندی اور عالمی امن اعزاز پر پوری قوم اور عسکری و سیاسی قیادت مبارکباد کی مستحق ہے، پاکستان نے دنیا میں ذمہ دار اور پرامن ریاست کے طور پر لوہا منوایا، سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کا مقتدر بیان، بجٹ کو عوام دوست بنانے اور پٹرولیم قیمتوں میں فوری ریلیف دینے کا مطالبہ

روزینہ اسماعیل.june 19,2026

کراچی (اسٹاف رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور عالمی سطح پر امن کے فروغ سے متعلق پاکستان کو ملنے والے عظیم الشان “عالمی امن اعزاز” کے حصول پر ملک کی عسکری و سیاسی قیادت سمیت پوری پاکستانی قوم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے، پریس ریلیز کے مطابق کراچی سے جاری اپنے ایک مقتدر بیان میں سابق گورنر سندھ نے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور پوری قوم کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی کامیابی اجتماعی قومی کوششوں اور انتہائی مؤثر و دور اندیش سفارتی حکمتِ عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ڈاکٹر عشرت العباد خان نے ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کی کامیاب ثالثی کے نتیجے میں بہتر ہوتے سفارتی روابط اور اس تاریخی مفاہمت کو دنیا میں امن اور استحکام کے ایک نئے سنہری دور کی علامت قرار دیا، انہوں نے فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے طویل ترین مشکل حالات، لازوال قربانیوں اور مسلسل سفارتی جدوجہد کے ذریعے بین الاقوامی برادری میں خود کو ایک انتہائی ذمہ دار اور پرامن ریاست کے طور پر منوایا ہے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آج عالمی سفارتکاری میں ایک مقتدر اور مؤثر ترین کھلاڑی کا کردار ادا کر رہا ہے جو کہ 24 کروڑ عوام کے لیے باعثِ فخر ہے۔

سابق گورنر سندھ نے حکومتی معاشی پالیسیوں پر بات کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ان بین الاقوامی سٹرٹیجک کامیابیوں کے براہِ راست معاشی اثرات عام شہریوں کی دہلیز تک بھی لازمی پہنچنے چاہئیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہونے کے بعد ملک میں مہنگائی میں واضح کمی لائی جائے اور پٹرول، ڈیژل، گیس کی قیمتوں میں فوری و خاطر خواہ ریلیف سمیت توانائی کے شعبے میں مثبت تبدیلیاں لائی جائیں، ڈاکٹر عشرت العباد خان نے زیرِ بحث وفاقی بجٹ پر کڑا زور دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ کو ہر صورت عوام دوست بنایا جائے اور اس میں پارلیمنٹ کی تجویز کردہ ضروری ترامیم کے بعد ہی اسے منظور کیا جائے تاکہ تنخواہ دار اور غریب مزدور طبقے کو حقیقی معاشی ریلیف مل سکے۔

اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاکستان کی پائیدار ترقی صرف اور صرف سیاسی ہم آہنگی، ادارہ جاتی تعاون اور فولادی قومی اتحاد سے ہی ممکن ہے، جبکہ خطے میں درپیش بیرونی چیلنجز بالخصوص پاکستان کو نشانہ بنانے والی بھارتی پراکسی سرگرمیوں کو کچلنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر قومی حکمتِ عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اسی درست سمت میں پیش رفت جاری رکھتا ہے تو ملک خطے میں ایک مضبوط، معاشی طور پر مستحکم اور پرامن ایٹمی ریاست کے طور پر مزید نمایاں ہو کر ابھرے گا۔

فائبرائزیشن کی آڑ میں ٹیلی کام کمپنیوں کو شہریوں کے گھروں تک رسائی نہیں دی جا سکتی، متنازع بل کو کسی صورت منظور نہیں ہونے دیں گے، پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان کا کڑا مؤقف، بل میں کنفیوژن موجود ہے، گنجائش ہوئی تو تبدیلی کریں گے، وفاقی وزیر شزا فاطمہ کی وضاحت

کاشف عباسی ,june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی مقتدر سینیٹر پلوشہ خان نے انٹرنیٹ انفراسٹرکچر اور فائبرائزیشن کے نام پر لائے جانے والے نئے قانون پر سخت ترین سٹرٹیجک مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کنیکٹیوٹی اور ڈیجیٹلائزیشن کی آڑ لے کر نجی یا سرکاری ٹیلی کام کمپنیوں کو عام شہریوں کے گھروں اور نجی املاک تک رسائی کا بلاجواز اختیار کسی صورت نہیں دیا جا سکتا، اسلام آباد سے جاری اپنے ایک اہم ترین بیان میں سینیٹر پلوشہ خان نے دوٹوک الفاظ میں تہران نما عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ شکل میں اس متنازع بل کو سینیٹ سے کسی صورت منظور نہیں ہونے دیا جائے گا کیونکہ آئینِ پاکستان اور شہریوں کے بنیادی حقوق سے متصادم کوئی بھی قانون سازی کرنا ناممکن ہے، ان کا کہنا تھا کہ کنیکٹیوٹی کی مد میں معصوم عوام کا معاشی یا آئینی استحصال نہیں کیا جا سکتا اور مقتدر ماہرینِ قانون و ٹیکنالوجی کی حتمی رائے کے بغیر اس بل کا پاس ہونا قطعی ناممکن ہے۔

سینیٹر پلوشہ خان نے سیاسی منظرنامے کی صراحت کرتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ ”ہو سکتا ہے کہ کسی مخصوص سیاسی وجہ یا دباؤ کے باعث یہ بل قومی اسمبلی سے باآسانی نکل گیا ہو، مگر سینیٹ (ایوانِ بالا) میں اسے پیپلز پارٹی نے ہی سٹرٹیجک بنیادوں پر روکا ہے،“ انہوں نے مطلع کیا کہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوامی تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے سینیٹ میں ”پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل“ کو سخت مزاحمت کر کے رکوایا ہے، دوسری جانب اس بڑے سیاسی و عوامی دباؤ کے بعد وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ نے بھی حکومت کا پوزیشن واضح کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا ہے کہ ”پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026“ میں اگر عوامی مفاد یا قانونی ویزا کے تحت کسی بھی تبدیلی کی گنجائش ہوئی تو حکومت اپوزیشن کی مشاورت سے وہ تبدیلیاں ضرور کرے گی۔

ایک نجی ٹی وی چینل کے مقتدر پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے اعتراف کیا کہ بل پر مزید تفصیلی وضاحتوں کی کڑی ضرورت ہے اور اس حوالے سے ضروری ترامیم لائی جائیں گی، ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا یہ اعتراض بالکل ٹھیک ہے کہ زمین کے اوپر ٹیلی کام انفراسٹرکچر (ٹاورز اور تاروں) کی تنصیب اور نجی املاک کے حوالے سے بل کے مسودے میں کچھ سنگین کنفیوژن موجود ہے، جسے پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے ضرور دور کیا جائے گا، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی نے بل میں موجود بھاری جرمانوں کے حوالے سے اصرار کیا کہ قانون میں درج 5 کروڑ روپے تک کا جرمانہ صرف اور صرف اسی مخصوص صورت میں عائد ہوگا جب زمین یا جائیداد کے مالک اور ٹیلی کام کمپنی کے درمیان باہمی رضامندی سے باقاعدہ معاہدہ طے پا چکا ہو اور بعد میں مالکِ مکان کی جانب سے اس قانونی معاہدے کی صریح خلاف ورزی کی جائے، حکومت اس بل کے ذریعے کسی کے حقوق پامال نہیں کرنا چاہتی۔

محرم الحرام کے دوران ضلع وہاڑی میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات، 1913 پولیس افسران و اہلکار ڈیوٹی پر تعینات، ڈرون اور سی سی ٹی وی کیمروں سے مجالس اور جلوسوں کی مانیٹرنگ، ڈی پی او تصور اقبال کی شہریوں سے تعاون کی اپیل

محمود احمد june 19,2026

وہاڑی (خصوصی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء محرم الحرام کے مقدس اور حساس مہینے کے موقع پر ضلع وہاڑی میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی کے انتہائی سخت اور غیر معمولی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق ضلعی پولیس انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ جامع سیکیورٹی پلان کے تحت ضلع بھر میں محرم الحرام کی تمام مجالس اور عزاداری کے جلوسوں کی حفاظت کے لیے مجموعی طور پر 1,913 اعلیٰ پولیس افسران، لیڈیز پولیس اور جوانوں کو سیکیورٹی ڈیوٹی پر ہائی الرٹ تعینات کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا سدِباب کیا جا سکے۔

سیکیورٹی پلان کی جدید اسٹرٹیجی کے مطابق تمام امام بارگاہوں، مجالس کے مقامات اور جلوسوں کے روایتی راستوں کی کڑی نگرانی کے لیے جدید ترین سی سی ٹی وی ( کیمروں، ڈرون کیمروں اور متحرک ڈیجیٹل سرویلنس وینز کا سہارا لیا جا رہا ہے، اس کے علاوہ سیکیورٹی انتظامات کو فول پروف بنانے اور فیلڈ میں مستعدی جانچنے کے لیے 6 مقتدر ویجیلنس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو چوبیس گھنٹے مسلسل مانیٹرنگ پر مامور رہیں گی، عسکری نوعیت کی حفاظتی تدابیر کے تحت حساس ترین مقامات اور جلوس کے راستوں میں آنے والی بلند عمارتوں پر ‘روف ٹاپ’ (چھتوں پر) ماہر نشانہ باز اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ شرپسند عناصر پر کڑی نظر رکھنے کے لیے سادہ لباس میں ملبوس اسپیشل برانچ کے اہلکار بھی عزاداروں کے روپ میں گراؤنڈ پر موجود رہیں گے۔

ڈی پی او وہاڑی تصور اقبال نے سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ مجالس اور جلوسوں کے راستوں پر واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹرز کے ذریعے تلاشی کا نظام لازمی بنایا گیا ہے، جبکہ زائرین اور عام شہریوں کی سہولت کے لیے ٹریفک کی بلا تعطل روانی برقرار رکھنے کی خاطر ٹریفک پولیس کی جانب سے متبادل روٹس (راستے) بھی مقرر کر دیے گئے ہیں، ڈی پی او وہاڑی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی پلان پر 100 فیصد عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور انہوں نے تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، منتظمین اور عام شہریوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ ملک و ملت کی سلامتی اور امن و امان کے قیام کے لیے مقامی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

لاہور ہائیکورٹ نے رہائشی علاقے میں قائم پلاسٹک فیکٹری کے خلاف پیرا کی کارروائی کو درست قرار دے دیا، فیکٹری ختم کرنے کا حکم برقرار، پیر کے روز فورس کی موجودگی میں آپریشن کرنے کی ہدایت

کاشف عباسی ,june 19,2026

لاہور (قانونی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم ترین فیصلے میں رہائشی علاقے میں قائم غیر قانونی پلاسٹک فیکٹری کے خلاف پنجاب انوائرمنٹل ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کی کارروائی کو سو فیصد درست اور قانونی قرار دیتے ہوئے فیکٹری کو فی الفور ختم کرنے کا حکم برقرار رکھا ہے، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس جاوید اقبال وینس نے نجی پلاسٹک فیکٹری کے مالک کی جانب سے دائر کردہ اپیل پر تفصیلی سماعت کی، کارروائی کے دوران چیف پراسیکیوٹر پیرا بیرسٹر مدثر اسحاق اپنے قانونی معاونین کے ہمراہ عدالتِ عالیہ میں پیش ہوئے۔

دورانِ سماعت پیرا کے مقتدر وکیل بیرسٹر مدثر اسحاق نے ٹھوس شواہد پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ رہائشی علاقے میں زہریلا دھواں اور ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والی فیکٹری کے خلاف عوامی شکایات موصول ہوئی تھیں، جن کی بنیاد پر کی جانے والی یہ کارروائی پیرا کے قانونی دائرہ اختیار اور ایکٹ کے تحت بالکل آئینی ہے، دوسری جانب فیکٹری کے وکیل نے دفاعی استدلال پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فیکٹری کو مستقل بند کرانا یا اس کا وجود ختم کرانا پیرا فورس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا بلکہ یہ مخصوص معاملہ خالصتاً محکمہ ماحولیات کا ہے اس لیے اتھارٹی کی کارروائی کو کالعدم قرار دیا جائے۔

عدالتِ عالیہ نے فریقین کے مقتدر دلائل اور سٹرٹیجک قوانین کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد فیکٹری انتظامیہ کی درخواست کو یکسر مسترد کر دیا، لاہور ہائیکورٹ نے پیرا فورس کے ایکشن کو قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے کڑا حکم جاری کیا کہ پیر کے روز پیرا فورس کی بھاری نفری کی موجودگی میں رہائشی علاقے سے اس پلاسٹک فیکٹری کو مکمل طور پر ختم کر کے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔

کامیاب سفارت کاری سے پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوا، معاشی ترقی کے لیے زراعت اور صنعت میں ہنگامی سرمایہ کاری ناگزیر ہے، آئی ایم ایف پر انحصار ختم کرنے کے لیے برآمدات بڑھائی جائیں، قومی اسمبلی میں بجٹ بحث کے دوران پیپلز پارٹی کی رہنما ڈاکٹر نفیسہ شاہ کا مقتدر خطاب

منصور احمد june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی مرکزی رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے ملک کی حالیہ خارجہ پالیسی، سٹرٹیجک فیصلوں اور خطے میں ہونی والی عظیم سفارتی کامیابیوں پر ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق قومی اسمبلی کے اہم ترین اجلاس میں جمعہ کے روز وفاقی بجٹ پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایم این اے ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ پاکستان نے اپنی بہترین، دور اندیش اور مخلصانہ سفارت کاری کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں امن کو جتوایا ہے، جس کی بدولت عالمی سطح پر ملک کا سفارتی وقار حد سے زیادہ بلند ہوا ہے اور جنگ و انتہا پسندی کے نظریات کو عبرتناک شکست ہوئی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ خلیجی ممالک (جی سی سی) کے ساتھ پاکستان کے موجودہ برادرانہ و اقتصادی تعلقات قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے تاریخی وژن کا تسلسل ہیں جو ملکی معیشت کو نئی اور پائیدار راہ پر گامزن کریں گے۔

ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے ملکی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے کڑے شکنجے سے مستقل نجات حاصل کرنے کے لیے پارلیمنٹ اور حکومت کے سامنے مقتدر تجاویز پیش کیں، انہوں نے اصرار کیا کہ پاکستان جیسے کثیر الآبادی والے ملک کی تیز رفتار معاشی ترقی کے لیے زراعت اور صنعت (انڈسٹری) کے شعبوں میں ہنگامی بنیادوں پر بھاری سرمایہ کاری کی جائے اور ملکی ترقی کے لیے وضع کردہ ’’اڑان پاکستان‘‘ وژن کے تحت تمام معاشی اہداف کو بروقت حاصل کیا جائے، پیپلز پارٹی کی رہنما نے قومی اسمبلی کے فلور پر کڑا زور دیا کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے اور ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے ملکی برآمدات (ایکسپورٹس) کے راستے میں حائل تمام بیوروکریٹک اور ٹیکس رکاوٹوں کو فی الفور دور کیا جائے۔

انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ ملکی معیشت کی حقیقی ریڑھ کی ہڈی یعنی کسانوں اور زمینداروں کو کھاد، بیج اور بجلی پر زیادہ سے زیادہ ریلیف اور جدید سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ملکی زرعی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ممکن ہو سکے، ڈاکٹر نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ کسان خوشحال ہوگا تو پاکستان معاشی طور پر مضبوط اور خودکفیل بنیادوں پر استوار ہو سکے گا، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ موجودہ سٹرٹیجک بجٹ میں ان کی پیش کردہ تجاویز کو شامل کر کے ملک کو معاشی خود مختاری کی طرف لے جایا جائے گا۔

”وزیرِ اعظم صاحب! پٹرول کی قیمت میں 10، 20 روپے کی کمی سے عوام کو نہ ٹرخائیں، ‘خاطر خواہ کمی’ وہی ہوگی جو جنگ سے پہلے تھی“، سینئر صحافی غریدہ فاروقی کا ایکس (X) پر کڑا بیان، جنگ بندی کے بعد پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف کے حکومتی دعووں پر اپوزیشن اور میڈیا کا ردعمل

منصور احمد june 19,2026

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان کی کامیاب ترین ثالثی اور تاریخی جنگ بندی کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونی والی تیز ترین کمی کا فائدہ غریب عوام تک پہنچانے کے حکومتی دعووں پر ملک کے مقتدر صحافتی و سیاسی حلقوں نے کڑا رخ اختیار کر لیا ہے، تفصیلات کے مطابق ملک کی معروف اور سینئر اینکر پرسن و صحافی غریدہ فاروقی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے ایک انتہائی سخت اور سٹرٹیجک بیان میں وزیرِ اعظم پاکستان کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ”وزیرِ اعظم صاحب! پٹرول کی ملکی قیمت میں ‘خاطر خواہ کمی’ صرف اور صرف وہی تسلیم کی جائے گی کہ پٹرول کی فی لیٹر قیمت کو یکسر اسی سطح پر واپس لایا جائے جو مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ چھڑنے سے قبل ملک میں رائج تھی،“ غریدہ فاروقی نے حکومتی معاشی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کڑے الفاظ میں کہا کہ محض 10، 20 یا 50 روپے وغیرہ کی اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر کمی کر کے حکومت پپسے ہوئے عوام کو ٹرخانے کی کوشش نہ کرے اور آئی ایم ایف کے دباؤ یا اپنے ریونیو کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے غریب عوام کی جیبوں پر مزید ڈاکا ڈالنا بند کرے۔

دوسری جانب وزیرِ اعظم پاکستان نے قوم سے اپنے ایک مقتدر اور تاریخی خطاب میں مہنگائی کے مارے عوام کو خوشخبری سناتے ہوئے سنسنی خیز اعلان کیا ہے کہ آج پٹرول اور ڈیژل کی ہفتہ وار قیمتوں کا باقاعدہ جائزہ لیا جا رہا ہے اور حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بڑی اور “خاطر خواہ کمی” کا باضابطہ اعلان کرنے جا رہی ہے، وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ آج سے ٹھیک 3 مہینے قبل جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہولناک جنگ چھڑی تھی تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو یکایک آگ لگ گئی تھی جس کا براہِ راست بوجھ پاکستان پر بھی پڑا، لیکن پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کے نتیجے میں ہونے والی تاریخی جنگ بندی کے بعد اب بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بہت تیزی سے نیچے آرہی ہیں اور یقیناً آنے والے دنوں میں اس میں مزید بڑی کمی واقع ہوگی، انہوں نے پُرعزم انداز میں کہا کہ اس تاریخی جنگ بندی سے اب پورے خطے میں معاشی خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوگا، تیل کی قیمتیں مسلسل نیچے آرہی ہیں اور مہنگائی کی وہ سیاہ رات اب ہمیشہ کے لیے ختم ہونے کو ہے جس نے محدود وسائل کے باعث ہماری معیشت کو جکڑ رکھا تھا۔

وزیرِ اعظم نے عالمی محاذ پر ملنے والی اس سٹرٹیجک کامیابی پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کی بدولت پوری دنیا میں ملک کا نام انتہائی عزت و وقار سے گونج رہا ہے اور دنیا کے ہر خطے میں پاکستان کا سفارتی وقار بلند ہوا ہے، انہوں نے انکشاف کیا کہ ”کل شام میری ایران کے صدر سے تفصیلی فون پر بات چیت ہوئی، جس کے دوران ایرانی صدر نے اس بحران کو ٹالنے اور جنگ بندی کرانے پر بار بار پاکستان کی حکومت اور مسلح افواج کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، اور انہوں نے خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ بہت جلد خود پاکستان کا باضابطہ دورہ کر کے یہاں کے غیور عوام کا شکریہ ادا کریں گے،“ وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ اس نازک قومی و بین الاقوامی معاملے پر ہماری پوری سیاسی و عسکری قیادت اور قومی وحدت ایک پیج پر ہے، انہوں نے اس کامیابی میں بھرپور حصہ ڈالنے پر نائب وزیرِ اعظم، وزیرِ داخلہ محسن نقوی (جنہوں نے ایران کے حوالے سے اپنا پورا کلیدی سفارتی کردار ادا کیا) اور قائدِ حزبِ اختلاف (اپوزیشن لیڈر) کا خصوصی شکریہ ادا کیا، اپنے خطاب کے آخر میں وزیرِ اعظم نے دوٹوک الفاظ میں اعتراف کیا کہ خطے کو اس ہولناک جنگ سے بچانے اور اس عظیم عالمی کامیابی کو ممکن بنانے میں سب سے زیادہ کلیدی اور سٹرٹیجک کردار فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا ہے، وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ ہمیں اس کامیابی کا کوئی ذاتی کریڈٹ لینے کا شوق نہیں ہے بلکہ پوری قوم کو عالمی سطح پر کریڈٹ دلوانے کا ایک جوش اور جذبہ ہمارے ذہنوں پر سوار تھا جو خدا کے فضل سے پورا ہو گیا۔

ایرانی فٹبال فیڈریشن کا سفری پابندیوں کے خلاف فیفا سے رجوع کرنے کا اعلان، میکسیکو سے لاس اینجلس روانگی کی اجازت نہ ملنے پر شدید احتجاج، ورلڈکپ شیڈول متاثر

محمود احمد june 19,2026

میامی، امریکہ (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

جاری فیفا فٹبال ورلڈکپ 2026 کے دوران کھیل کے میدان سے باہر ایک نیا بڑا سفارتی اور انتظامی تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جہاں ایرانی فٹبال فیڈریشن نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ عالمی کپ کے دوران اپنی ٹیم پر عائد کی جانے والی مبینہ سفری پابندیوں اور ویزا و سفری رکاوٹوں کے خلاف فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی “فیفا” سے باضابطہ رجوع کر رہی ہے، بین الاقوامی اسپورٹس رپورٹس کے مطابق ایرانی فٹبال فیڈریشن نے امریکی انتظامیہ کے رویے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکہ میں عائد ان غیر لچکدار سفری پابندیوں کے باعث ایرانی نیشنل ٹیم کے کوچنگ اسٹاف کے سٹرٹیجک منصوبے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور عالمی کپ جیسے بڑے ایونٹ کی تیاریوں میں جان بوجھ کر غیر ضروری رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔

ایرانی فٹبال فیڈریشن کے مقتدر حکام نے تفصیلات سے مطلع کرتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ میکسیکو میں قائم ایرانی ٹیم کے بین الاقوامی تربیتی کیمپ سے اتوار کے روز ٹیم کو لاس اینجلس (امریکہ) روانگی کی باقاعدہ اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا گیا، جس کی وجہ سے نہ صرف کھلاڑیوں کا سفری شیڈول بری طرح پامال ہوا بلکہ ٹیم کے تمام انتظامی امور اور لاجسٹکس بھی شدید متاثر ہوئے ہیں، ایرانی فیڈریشن نے فیفا کے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کڑا مؤقف اختیار کیا ہے کہ فیفا ورلڈکپ جیسے عظیم اور عالمی یکجہتی کے ایونٹ میں شریک دنیا کی تمام پوزیشن ہولڈر ٹیموں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت مساوی سفری سہولیات، پروٹوکول اور آزادانہ نقل و حرکت فراہم کی جانی چاہیے اور کسی بھی میزبان ملک کو اس میں سیاست چمکانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، اس سنگین معاملے پر ایرانی وفد فیفا سے فوری، ہنگامی اور مؤثر مداخلت کی درخواست کرے گا۔

واضح رہے کہ تاریخ کے اس سب سے بڑے فیفا ورلڈکپ 2026 کی مشترکہ میزبانی امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا مل کر کر رہے ہیں، لیکن امریکہ اور ایران کے مابین دیرینہ سیاسی کھچاؤ اور حال ہی میں طے پانے والے نازک امن معاہدے کے نفاذ کے ابتدائی مراحل کے دوران اس اسپورٹس ویزا تنازع نے فٹبال ورلڈکپ کے پرامن انعقاد اور امریکی انتظامیہ کے اسپورٹس مین اسپرٹ کے دعووں پر ایک بڑا سیکیورٹی و انتظامی سوالیہ نشان لگا دیا ہے جس پر فیفا کا ردعمل آنا ابھی باقی ہے۔