شہید ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو آئینی حقوق کا راستہ دکھایا، محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے جمہوریت کے لیے بے مثال قربانیاں دیں؛ مضبوط پارلیمان ہی عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمان ہے

admin, Author at Pakistan Peoples Party Parliamentarians - Page 12 of 19

کاشف عباسی ,june 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی، سینیٹر شیری رحمان نے “عالمی یومِ پارلیمان” کے مقتدر موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں واضح کیا ہے کہ یہ اہم دن جمہوری اداروں کی پائیدار مضبوطی، آئینی بالادستی اور عوامی نمائندگی کے مخلصانہ عزم کی تجدید کا دن ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے ملکی تاریخ کے ہر دور میں پارلیمنٹ کی خودمختاری اور جمہوری تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ہمیشہ تاریخی اور مقتدر کردار ادا کیا ہے۔

منگل کے روز عالمی یومِ پارلیمان پر وفاقی دارالحکومت سے جاری کردہ اپنے ایک اعلیٰ سطحی بیان میں سینیٹر شیری رحمان نے پیپلز پارٹی کی مقتدر قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کے غیور عوام کو حقیقی سیاسی شعور، بنیادی آئینی حقوق اور پارلیمانی بالادستی کا روشن راستہ دکھایا، جبکہ ان کے بعد محترمہ شہید بینظیر بھٹو نے بھی ملک میں جمہوریت کی بحالی، آئین کی بقا اور عوام کے مقتدر حقِ حکمرانی کے لیے ایسی بے مثال قربانیاں دیں جن کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔

انہوں نے تزویراتی نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک مضبوط اور خودمختار پارلیمان ہی عوامی امنگوں اور فلاح و بہبود کو مؤثر قانون سازی اور قومی پالیسی کے سانچے میں ڈھالنے کی حقیقی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر گہرا زور دیا کہ پارلیمان کے اندر اور باہر اختلافِ رائے کا دل سے احترام کرنا، بامقصد مکالمے کو فروغ دینا اور ہمیشہ آئینی راستہ اختیار کرنا ہی پائیدار جمہوری معاشروں کی اصل قوت اور پہچان ہوا کرتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں خواتین، نوجوانوں اور معاشرے کے دیگر تمام محروم طبقات کی پارلیمان کے اندر بامعنی شمولیت سے ہی ہمارا مجموعی جمہوری نظام مزید مستحکم اور فعال ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی عوامی حقوق، آئین کی سربلندی اور جمہوری اقدار کے مستقل فروغ کے اپنے اصولی عزم پر ہمیشہ ثابت قدم رہے گی۔ شیری رحمان نے بین الاقوامی روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر مختلف ممالک کے پارلیمانوں کے مابین تزویراتی تعاون، باہمی احترام اور مشترکہ کاوشیں ہی دنیا بھر میں پائیدار امن، ترقی اور افہام و تفہیم کی اصل بنیاد ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا یوکرین تنازع میں کشیدگی کے بڑھتے خطرات پر انتباہ، مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل پر زور

محمود احمد june 30,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

پاکستان نے یوکرین تنازع کے عالمی اور انسانی اثرات کو وسیع پیمانے پر انتہائی تباہ کن قرار دیتے ہوئے سخت خبردار کیا ہے کہ خطے میں غلط اندازوں اور عسکری کشیدگی میں مسلسل اضافے کا تزویراتی خطرہ بڑھتا جا رہا ہے، اور یہ خطرناک رجحان اب پہلے سے کہیں زیادہ واضح اور زیادہ تواتر کے ساتھ دنیا کے سامنے آ رہا ہے۔ بیلاروس کی خصوصی درخواست پر شہریوں پر مبینہ یوکرینی ڈرون حملوں کے مقتدر معاملے پر بلائے گئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان کا باقاعدہ قومی بیان پیش کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے مسلح ڈرونز کے مسلسل اور بلا جھجک استعمال سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی خطرات اور ان جدید عسکری ٹیکنالوجیز سے وابستہ انسانی چیلنجز کو مقتدر انداز میں اجاگر کیا۔

پاکستان کے روایتی اور غیر متزلزل اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی استثنا یا تفریق کے بغیر بین الاقوامی انسانی قوانین کے مسلمہ اصولوں کی سختی سے پابندی کریں۔ انہوں نے عالمی برادری پر واضح کیا کہ اس خونی تنازع کے حتمی خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کا واحد قابلِ عمل راستہ صرف اور صرف سفارت کاری اور بامقصد مذاکرات کی میز سے ہو کر گزرتا ہے۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان فوری اور مکمل جنگ بندی کی ناگزیر ضرورت پر مقتدر زور دیتا ہے اور تمام فریقوں سے مخلصانہ اپیل کرتا ہے کہ وہ ہٹ دھرمی چھوڑ کر سنجیدگی کے ساتھ دوبارہ سیاسی مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔

نائب مستقل مندوب نے مزید تشریح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی نظر میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور بنیادی اصولوں، تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات اور متعلقہ کثیرالجہتی معاہدوں سے ہم آہنگ، باہمی طور پر قابلِ قبول پُرامن تصفیہ ہی دیرپا امن کی جانب واحد تزویراتی راستہ ہے، اور پاکستان اس تنازع کے جامع، دیرپا اور پُرامن حل کے لیے کی جانے والی تمام بین الاقوامی سفارتی کوششوں کی حمایت مستقل جاری رکھے گا۔ انہوں نے بیلاروس میں شہری جانوں کے مبینہ ضیاع پر حکومتِ پاکستان اور عوام کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ اس طویل تنازع کی وجہ سے بے گناہ شہری آج بھی شدید جسمانی اور نفسیاتی اذیت کا سامنا کر رہے ہیں، جسے فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔

سندھ طاس کوئی عام دستاویز نہیں بلکہ چوبیس کروڑ پاکستانیوں کی لائف لائن اور بقا کا معاہدہ ہے، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا دوٹوک اعلان

منصور احمد june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹرز ٹریٹی) کے حوالے سے پاکستان کے مقتدر اور غیر متزلزل موقف کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس محض ایک روایتی کاغذ کا ٹکڑا یا عام معاہدہ نہیں بلکہ یہ ملک کے چوبیس کروڑ عوام کی لائف لائن اور ہماری قومی زندگیوں کی بقا کا ضامن ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی سیمینار سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی پوری شناخت، تمدن اور تاریخ دریائے سندھ کے پانیوں سے وابستہ ہے، ہمیں اپنی اس تاریخی شناخت پر دلی فخر ہے اور حکومت اس کے تحفظ کو ہر صورت برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے معاہدے کے تاریخی پسِ منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تقریباً چھ دہائیاں قبل خطے کے دو ممالک نے ایک غیر معمولی اور دور اندیش تزویراتی فیصلہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں دنیا کے چند پائیدار ترین آبی معاہدوں میں سے ایک وجود میں آیا۔ انہوں نے بھارت کو سخت پیغام دیتے ہوئے واضح کیا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت دو ممالک کے درمیان طے پانے والے ایسے مقتدر معاہدے کو کوئی بھی ایک فریق اپنی مرضی سے یکطرفہ طور پر معطل یا منسوخ کرنے کا کوئی مجاز نہیں رکھتا۔ پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی فورمز پر پُرامن روابط، تعمیری مذاکرات اور معاہدے کی روح پر مخلصانہ عملدرآمد کے پختہ عزم کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم اس سفارتی شرافت کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں قومی قیادت کا مقتدر عزم دہراتے ہوئے انتباہ کیا کہ اگر بالائی کنارے کی جانب سے پاکستان کا پانی روکنے یا اس کے قدرتی بہاؤ میں کسی بھی قسم کی تزویراتی دست برد کی کوشش کی گئی، تو ملک کی تمام سیاسی و عسکری قیادت پاکستان کے غیور عوام کا آبی حق بحال کرانے اور اس جارحیت کا انتہائی مؤثر، فوری اور دندان شکن جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے اپنے خطاب کے اختتام پر عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی برادری کے سامنے اپنا مقدمہ مضبوطی سے لڑتے ہوئے ہر صورت اس تاریخی معاہدے کے تقدس اور ملکی سالمیت کا تحفظ کرے گا اور آنے والی نسلوں کے حقوق پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔

قیدی وین سے حوالاتیوں کے فرار کیس میں تفتش تیز، سیکیورٹی پر تعینات سب انسپکٹر سمیت پانچ پولیس اہلکار حراست میں لے لیے گئے

منصور احمد june 30,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

چکیاں پوسٹ کے قریب قیدی وین سے خطرناک حوالاتیوں کے فرار ہونے کے سنسنی خیز واقعے کی تحقیقات میں مقتدر پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں غفلت برتنے اور مبینہ سہولت کاری کے شبہے میں سیکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات پانچ پولیس اہلکاروں کو باقاعدہ حراست میں لے لیا گیا ہے۔ تزویراتی ذرائع کے مطابق زیرِ حراست اہلکاروں میں سب انسپکٹر امتیاز، ہیڈ کانسٹیبل یاسر، کانسٹیبل محرم اور کانسٹیبل عزیر سمیت ڈیوٹی پر موجود دیگر اہلکار شامل ہیں، جنہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر کے واقعے کے مختلف محرکات پر تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

تحقیقاتی مقتدرہ کے مطابق، معاملے کی کڑی نگرانی کرتے ہوئے اڈیالہ گارڈ کے سیکیورٹی اہلکاروں کے موبائل فونز قبضے میں لے کر ان کے کال ریکارڈ کا فرانزک جائزہ شروع کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی اندرونی رابطے کا سراغ لگایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، فرار ہونے والے ملزمان سے عدالت میں پیشی کے دوران ملاقات کرنے والے مشکوک افراد اور ان کے لواحقین کی تمام تر تفصیلات بھی حاصل کر لی گئی ہیں تاکہ بیرونی سہولت کاروں کے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔ دوسری جانب، فرار کے فوری بعد ناکہ بندی کے دوران دوبارہ گرفتار کیے جانے والے چار ملزمان کو مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے سہالہ پولیس کے مقتدر حوالے کر دیا گیا ہے، تاہم پولیس تاحال فرار ہونے والے بقیہ دس مقتدر حوالاتیوں میں سے کسی ایک کو بھی دوبارہ پکڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

یاد رہے کہ گزشتہ شام کہوٹہ کچہری سے قانونی پیشی بھگتانے کے بعد اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے والے قیدی چکیاں پوسٹ کے قریب اس وقت وین سے فرار ہو گئے تھے جب انہوں نے سوچی سمجھی تزویراتی منصوبہ بندی کے تحت وین کے اندر تعینات ایک سیکیورٹی اہلکار کی آنکھوں میں مرچیں پھینکیں اور افراتفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہتھکڑیوں سمیت موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اس سنگین ترین واقعے کے فوری بعد راولپنڈی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی جانب سے مضافاتی علاقوں، جنگلات اور ممکنہ ٹھکانوں پر فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن اور چھاپہ مار کارروائیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی جواز بینک اکاؤنٹس بلاک یا فریز کرنے سے روک دیا

منصور احمد june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں ملک بھر کے تمام کمرشل اور شیڈولڈ بینکوں کے لیے مقتدر اور اہم ہدایات جاری کر دی ہیں، جس کے تحت اب کسی بھی بینک اکاؤنٹ کو بغیر قانونی جواز، مجاز اتھارٹی کی باقاعدہ منظوری اور مناسب تصدیق کے بلاک، فریز یا اس پر کسی بھی قسم کی آپریشنل پابندی عائد نہیں کی جا سکے گی۔ مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ غیر ارادی، عجلت پسندی یا محض احتیاطی پابندیوں کے نتیجے میں اکاؤنٹ ہولڈرز کو پہنچنے والے کسی بھی قسم کے مالی یا قانونی نقصان کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی شہری کے بینک اکاؤنٹ پر ڈیبٹ بلاک یا فریزنگ کا اقدام صرف اور صرف مروجہ قانون کے مطابق ہو۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نئے ہدایت نامے کے مطابق، ہر قسم کی ڈیبٹ بلاکنگ یا اکاؤنٹ فریزنگ اب صرف متعلقہ قانون کے دائرہ کار اور مجاز ادارے کے حتمی اختیار کے تحت ہی عمل میں لائی جا سکے گی۔ کسی بھی شہری کے اکاؤنٹ کے خلاف کوئی بھی تادیبی کارروائی کرنے سے پہلے بینک انتظامیہ پر قانونی اختیار اور متعلقہ دستاویزات کی مکمل اور جامع تصدیق کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ مرکزی بینک نے تمام بینکوں کو سخت پابند کیا ہے کہ وہ اپنے اداروں میں ایک ایسا جدید اور مؤثر اندرونی نظام تشکیل دیں جو اس بات کی مکمل ضمانت دے کہ کسی بھی کھاتہ دار پر محض شک یا احتیاطی بنیادوں پر ایسی پابندیاں عائد نہ ہوں جن سے اسے غیر ضروری مالی تنگی یا قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑے۔

یہ اہم ترین ہدایات اسلام آباد ہائیکورٹ کے مقتدر فیصلے کی روشنی میں جاری کی گئی ہیں، جہاں جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایک کیس کی سماعت کے دوران اسٹیٹ بینک کو بینک اکاؤنٹس بلاک کرنے کے حوالے سے ایک واضح، شفاف اور مربوط اندرونی طریقہ کار مرتب کرنے اور ملک بھر کے تمام بینکوں کو اس پر سختی سے عمل درآمد کروانے کا حکم دیا تھا۔ اسٹیٹ بینک نے عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی جامع رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ہے، جس میں نئے وضع کردہ ایس او پیز اور بینکوں کے لیے جاری کردہ تازہ ترین ہدایات کی مکمل تفصیلات سے عدالتِ عالیہ کو باقاعدہ آگاہ کر دیا گیا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے سندھ حکومت کی اٹھارہ اپیلیں مسترد کرتے ہوئے سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھ دیا؛ حکومت محض سنیارٹی کے تنازعات میں خود کو متاثرہ فریق قرار نہیں دے سکتی، منصف اور غیر جانبدار آجر کا کردار ادا کرے

کاشف عباسی ,june 29,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 جون 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک تاریخی اور مقتدر فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازمین کی بین السنیارٹی (باہمی سینیارٹی) کا حتمی تعین قانون اور مروجہ قواعد کے مطابق ہی کیا جائے گا، جبکہ حکومت محض سینیارٹی کے تنازعے میں خود کو متاثرہ فریق قرار دے کر مقدمہ بازی نہیں کر سکتی۔ رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری اور تفصیلی فیصلے کے مطابق، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل عدالتِ عظمیٰ کے تین رکنی مقتدر بنچ نے سندھ حکومت کی جانب سے دائر کردہ 18 سول پٹیشنز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے سندھ سروس ٹربیونل کا دو جون دو ہزار پچیس کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ “سندھ سول سرونٹس رولز 1975” کے رول 11 کے تحت پہلی سلیکشن میں منتخب ہونے والا ملازم بعد میں منتخب ہونے والے ملازم پر قانونی طور پر سینیارٹی کا برحق حق رکھتا ہے اور مشترکہ سینیارٹی لسٹ تیار کرتے وقت بھی اس بنیادی اصول کو کسی طور نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

مقدمے کے پسِ منظر کے مطابق، کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سندھ نے سال دو ہزار بارہ میں تیئس مختلف مضامین کے لیکچررز کی بھرتی کے لیے اشتہار دیا تھا، تاہم سندھ پبلک سروس کمیشن نے مختلف مضامین کے امیدواروں کی سفارشات انتظامی وجوہات کی بنا پر مختلف اوقات میں ارسال کیں۔ بعد ازاں، محکمہ تعلیم کی جانب سے بعض امیدواروں کی اصل سلیکشن تاریخ کو سینیارٹی لسٹ میں مدنظر نہ رکھنے پر متاثرہ ملازمین نے سندھ سروس ٹربیونل سے رجوع کیا تھا جس نے ان کے حق میں فیصلہ دیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں آبزرویشن دی کہ انگریزی کے لیکچررز کے معاملے میں صوبائی محکمہ نے پہلے سلیکشن کی بنیاد پر سینیارٹی درست طے کی، لیکن دیگر مضامین کے لیکچررز کو اسی یکساں قانونی اصول سے محروم رکھنا واضح طور پر امتیازی سلوک اور قواعد کے یکسر منافی تھا۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے مقتدر فیصلے میں مزید ریمارکس دیے کہ اگر کوئی متعلقہ ملازم ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف خود اپیل دائر نہیں کرتا، تو حکومت کو ایک “منصف اور غیر جانبدار آجر کے طور پر ٹربیونل کے فیصلے پر فوری عملدرآمد کرنا چاہیے، نہ کہ ایک حریف ملازم کی طرح عدالتوں میں مقدمہ بازی کو بلاوجہ طول دینا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے پر (متاثرہ فریق کے بغیر اپیل نہیں) کا مقتدر اصول پوری طرح لاگو ہوتا ہے، کیونکہ عدالت سے رجوع کرنے کا حق صرف اسی شخص کو ہے جس کے قانونی حقوق براہِ راست متاثر ہوئے ہوں۔ سپریم کورٹ نے “پروونس آف پنجاب بنام ڈاکٹر محمد افضل” کیس کے عدالتی نظیر کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دہانی کرائی کہ حکومت کو ملازمین کے مابین تنازعات میں مدِ مقابل فریق بننے سے گریز کرنا چاہیے۔ عدالت نے قرار دیا کہ سندھ سروس ٹربیونل کے فیصلے میں کوئی قانونی سقم، بے ضابطگی یا خلافِ قانون پہلو موجود نہیں، لہٰذا سندھ حکومت کی تمام درخواستیں خارج کی جاتی ہیں۔

عالمی یومِ پارلیمنٹیرین: پارلیمان جمہوری ملک کا بنیادی ستون اور عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمان ہے، سپیکر سردار ایاز صادق

منصور احمد june 29,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 جون 2026ء

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے واضح کیا ہے کہ پارلیمان کسی بھی جمہوری ریاست کا بنیادی ستون اور عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمان ہوتی ہے، جبکہ اس کی بالادستی ہی آئینی نظام کے استحکام، قانون کی حکمرانی اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کی واحد ضامن ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار “عالمی یومِ پارلیمنٹیرین” کے موقع پر جاری اپنے ایک مقتدر بیان میں کیا، جو اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام ہر سال تیس جون کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ سپیکر نے زور دیا کہ ایک فعال، شفاف اور مؤثر پارلیمان ہی ملک کو درپیش عوامی مسائل کے پائیدار حل اور طویل المدتی قومی ترقی کی مضبوط بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔

سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی جمہوری اقدار کے تحفظ، آئینی بالادستی، شفاف ترین قانون سازی اور مؤثر احتساب کے فروغ کے لیے اپنی تمام تر آئینی ذمہ داریوں کو تندہی سے انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون سازی کا بنیادی مقصد محض نئے قوانین کی منظوری دینا نہیں بلکہ ایک ایسا جامع، پائیدار اور عوام دوست قانونی فریم ورک تشکیل دینا ہے جو عام آدمی کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف کی فراہمی، معاشی ترقی اور قومی یکجہتی کو فروغ دے سکے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی کے اندر قانون سازی کے اس پورے عمل کو مزید نتیجہ خیز بنانے کے لیے پارلیمانی کمیٹیوں کے تزویراتی کردار کو پہلے سے زیادہ مضبوط کیا جا رہا ہے، جبکہ بدلتے ہوئے عالمی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، ڈیجیٹل نظام اور پارلیمانی اراکین کی استعدادِ کار میں اضافے کے ذریعے قانون سازی کے معیار کو بہتر بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی نے سیاسی و جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے عوام اور مقننہ کے مابین مؤثر ترین رابطے اور عوامی شمولیت کو ناگزیر قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ قانون سازی کے ساتھ ساتھ پارلیمان کی یہ بھی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ انتظامیہ کی مؤثر جواب طلبی کو یقینی بنائے اور اپنے حلقہ ہائے انتخاب کی بھرپور اور برحق نمائندگی کا فریضہ سر انجام دے۔ انہوں نے ملک کی تمام سیاسی قوتوں پر مقتدر زور دیا کہ وہ اعلیٰ قومی مفاد، جمہوری تسلسل اور پارلیمان کی مضبوطی کے لیے اپنے تمام تر باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر برداشت، باہمی تعاون اور مثبت سیاسی مکالمے کے کلچر کو فروغ دیں، کیونکہ ایک مضبوط پارلیمان ہی مستحکم اور خوشحال پاکستان کی واحد ضمانت ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر ملکی کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی “بین الپارلیمانی یونین” (آئی پی یو) کی ایک سرگرم رکن کی حیثیت سے جمہوریت، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، اور خواتین و نوجوانوں کی سیاسی عمل میں شمولیت کے لیے مؤثر پارلیمانی سفارت کاری کا استعمال کر رہی ہے اور عالمی امن و پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے بین الاقوامی فورمز کے ساتھ اشتراکِ عمل جاری رکھا جائے گا۔

سندھ طاس معاہدہ دوطرفہ تنازع نہیں بلکہ عالمی انصاف اور انسانی حقوق کا معاملہ ہے، وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کی تزویراتی پریس کانفرنس

منصور احمد june 29,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 جون 2026ء

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹرز ٹریٹی) کے معاملے کو صرف پاکستان اور بھارت کے مابین دوطرفہ تنازع کے طور پر نہیں بلکہ عالمی انصاف، بنیادی انسانی حقوق اور زیریں کنارے واقع ممالک کے پانی تک رسائی کے برحق اصول کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ پاکستان کی معیشت، روزگار اور غذائی تحفظ کا بنیادی انحصار پانی اور زراعت پر ہے، اس لیے ملک اپنے مقتدر آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ پیر کے روز وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے یہ اہم معاملہ اقوامِ متحدہ، اس کے ذیلی اداروں اور بین الاقوامی ثالثی کے فورمز پر مؤثر انداز میں اٹھایا ہے جہاں ملکی موقف کی تائید کی گئی ہے، جبکہ آئندہ عالمی کانفرنس میں بھی انڈس واٹر ٹریٹی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت زیریں علاقوں کے آبی حقوق کا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑا جائے گا۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقے کے ایک متاثرہ کسان اقبال سولنگی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس کا پورا گاؤں سال دو ہزار دس، دو ہزار بارہ اور دو ہزار بائیس کے تباہ کن سیلابوں سے شدید متاثر ہوا جبکہ دیگر اوقات میں زمین اس قدر خشک ہو جاتی ہے کہ وہاں کاشتکاری ناممکن ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات کی بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ ساتھ بالائی کنارے سے پانی کے بہاؤ کا غیر منصفانہ کنٹرول بھی ہے۔ وفاق وزیر نے بتایا کہ پاکستان کی چالیس سے پچاس فیصد آبادی کا ذریعہ معاش زراعت ہے، قومی معیشت کا بیس سے پچیس فیصد حصہ اسی شعبے سے وابستہ ہے اور ملک کی غذائی سلامتی کا انحصار بھی پانی کی باقاعدہ دستیابی پر ہے۔ لہٰذا، یہ فیصلہ کسی دوسرے ملک کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کو پانی کب اور کتنا ملے۔ انہوں نے برسلز سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر اٹھائے گئے اپنے سوالات کو دہراتے ہوئے کہا کہ اگر بالائی کنارے پر واقع ممالک کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ زیریں کنارے والے ممالک کا پانی روک سکیں تو دنیا بھر کے سرحد پار دریا خطرے میں پڑ جائیں گے، کیونکہ یورپ یا دنیا کے دیگر خطوں میں مشترکہ دریاؤں پر قائم ممالک نے کبھی زیریں ممالک کا پانی اس طرح نہیں روکا۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو پہلے ہی شدید خدشات تھے کہ بھارت رن آف دی ریور ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کے ذریعے فصلوں کے اہم ترین موسم میں محدود مدت کے لیے پانی روک کر پاکستان کی زرعی پیداوار کو مقتدر نقصان پہنچا سکتا ہے، اور حالیہ واقعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مختصر مدت کے لیے بھی پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ زرعی سرگرمیوں کو شدید متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈیم صرف پانی ذخیرہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ پانی کی بروقت تقسیم اور زرعی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ناگزیر ہیں کیونکہ سیلاب کے دوران منگلا اور تربیلا جیسے کئی ڈیموں کے برابر پانی سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے جبکہ بوائی کے موسم میں کسان پانی کی قلت کا سامنا کرتے ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ پانی ذخیرہ کرنے اور آبی وسائل کے انتظام کے منصوبوں پر سیاست سے بالاتر ہو کر ایک مقتدر قومی اتفاقِ رائے پیدا کریں۔ دیامر بھاشا اور داسو ڈیم منصوبوں سے متعلق انہوں نے واضح کیا کہ اگر بین الاقوامی قرضے یا امداد نہ بھی ملی تو بھی حکومت اپنے وسائل سے ان کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے، جس کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ آبی منصوبوں کے لیے مختص کیا گیا ہے اور پانی سے متعلق امور پر تمام سیاسی جماعتوں سے تزویراتی مشاورت کا عمل مزید تیز کیا جائے گا۔

ریئل ٹائم ڈیٹا رپورٹنگ کے لیے الیکٹرانک کلائنٹ ریکارڈ سسٹم متعارف؛ دو سو تیرہ سروس فراہم کنندگان کی تربیت مکمل، سال دو ہزار چھبیس کے اختتام تک سو فیصد ڈیٹا کی فوری مانیٹرنگ کا ہدف

روزینہ اسماعیل.june 29,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 جون 2026ء

حکومت نے ملک بھر میں خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کی خدمات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک جامع تزویراتی ڈیجیٹلائزیشن پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس مقتدر اقدام کے تحت ریئل ٹائم ڈیٹا رپورٹنگ سسٹمز، فیلڈ عملے کی استعدادِ کار میں اضافے اور انقلابی قانونی اصلاحات متعارف کرانے کے عمل کو تیز کر دیا گیا ہے تاکہ صحتِ عامہ کی خدمات کی فراہمی اور نظام میں شفافیت کو مقتدر طور پر بہتر بنایا جا سکے۔ دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق، آبادی کی بہبود کے لیے “الیکٹرانک کلائنٹ ریکارڈ” (ای سی آر) سسٹم کا نفاذ روایتی کاغذی نظام کو جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ میں تبدیل کرنے کی جانب ایک بڑا سنگِ میل ہے۔

نئے مانیٹرنگ نظام کے تحت اب تک مجموعی طور پر 213 سروس فراہم کنندگان کو جدید سافٹ ویئر اور ای سی آر سسٹم کے استعمال پر تفصیلی تربیت دی جا چکی ہے، جو اب فیلڈ سے خدمات کی فراہمی سے متعلق تمام تر ڈیٹا ریئل ٹائم میں براہِ راست مرکزی سسٹم کو رپورٹ کر رہے ہیں۔ اس مقتدر اقدام کا بنیادی مقصد ڈیٹا کی درستگی کو یقینی بنانا، انتظامی شفافیت کو مضبوط کرنا اور تولیدی صحت کے پروگراموں کی مؤثر ترین نگرانی ممکن بنانا ہے۔ روایتی رپورٹنگ سے ڈیجیٹل ریکارڈ کی جانب یہ منتقلی پروگرام کے انتظام میں ایک بڑی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے، جس سے متعلقہ ادارے کارکردگی کا فوری جائزہ لے کر خدمات کی فراہمی میں موجود خامیوں کی بروقت نشاندہی اور تدارک کر سکیں گے۔ رپورٹ کے مطابق، حکومت کو قوی توقع ہے کہ رواں سال 2026 کے اختتام تک اس ای سی آر سسٹم کے ذریعے خدمات سے متعلق 100 فیصد ڈیٹا ریئل ٹائم میں منتقل ہو رہا ہوگا۔

دستاویزات میں یہ اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن کے آغاز میں فیلڈ عملے کو سافٹ ویئر کے استعمال اور تفہیم کے حوالے سے بعض تکنیکی مشکلات کا سامنا رہا، تاہم اس منتقلی کو آسان اور بلا تعطل بنانے کے لیے مسلسل ریفریشر تربیتی پروگرام اور تیکنیکی معاونت کا ایک مضبوط نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ جیسے جیسے پالیسی ساز اب آبادی کے مسائل کے حل کے لیے شواہد پر مبنی حکمتِ عملی اختیار کر رہے ہیں، ڈیٹا مینجمنٹ کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ڈیجیٹل اصلاحات کے ساتھ ساتھ حکومت تولیدی صحت کے حقوق کے تحفظ کے لیے “ری پروڈکٹیو ہیلتھ بل” بھی لا رہی ہے، جسے صوبائی کابینہ سے منظوری مل چکی ہے اور جلد ہی اسے حتمی قانون سازی کے لیے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اس مجوزہ قانون کا مقصد شہریوں کی رازداری، ذاتی معلومات کے تحفظ، باخبر انتخاب اور معیاری ادویات کی دستیابی جیسے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، عوامی آگاہی کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، سوشل میڈیا اور سرکاری ویب سائٹس کا مؤثر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ پالیسی سازوں اور عوام کے درمیان رابطے کو تیز کر کے ابھرتے ہوئے مسائل پر فوری تزویراتی فیصلے کیے جا سکیں۔

پنجاب میں مون سون بارشوں کا الرٹ: یکم سے چھ جولائی تک بیشتر اضلاع میں تیز آندھی اور ژالہ باری کی پیشگوئی، اربن فلڈنگ کا خطرہ

روزینہ اسماعیل.june 29,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 29 جون 2026ء

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے یکم جولائی سے چھ جولائی تک صوبے کے بیشتر اضلاع میں تیز آندھی، گرج چمک اور ژالہ باری کے ساتھ موسلا دھار بارشوں کا باقاعدہ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، مون سون کے اس نئے سلسلے کے تحت یکم جولائی سے صوبائی دارالحکومت لاہور، راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، فیصل آباد، خوشاب، سرگودھا، شیخوپورہ اور نارووال میں بادل برسنے کا امکان ہے۔ جبکہ تین سے چھ جولائی کے دوران ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، پاکپتن، ننکانہ صاحب، اوکاڑہ، قصور، نورپور تھل، بھکر، لیہ، میانوالی، بہاولپور، ڈی جی خان، ملتان، خانیوال اور لودھراں سمیت مضافاتی علاقوں میں بجلیاں چمکنے اور تیز آندھی چلنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

ترجمان نے تزویراتی الرٹ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس شدید بارش کے نتیجے میں راولپنڈی، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، لاہور اور فیصل آباد جیسے بڑے شہروں کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کا مقتدر خطرہ موجود ہے، جس کے لیے تمام محکموں کو پیشگی اقدامات مکمل کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عمر جاوید کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی اور مقتدر ہدایات کی روشنی میں صوبے بھر کے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہائی الرٹ مکتوب ارسال کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو مقتدر ہدایت کی ہے کہ وہ آسمانی بجلی اور تیز آندھی سے بچاؤ کے لیے گرج چمک کے دوران کھلے مقامات، درختوں یا بجلی کے کھمبوں کے نیچے جانے سے ہرگز گریز کریں اور محفوظ چھتوں تلے پناہ لیں۔ انہوں نے کسانوں کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی فصلوں اور مویشیوں کے حوالے سے تمام تر حفاظتی انتظامات موجودہ موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں، جبکہ شمالی علاقہ جات کا رخ کرنے والے سیاحوں کو دورانِ سفر مقتدر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اتھارٹی کے مطابق کسی بھی قسم کی سیلابی یا ہنگامی صورتحال میں شہری فوری رہنمائی اور مدد کے لیے پی ڈی ایم اے کی آفیشل ہیلپ لائن گیارہ انتیس پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

ضلع کشتواڑ کے اتھولی تھانے کی چاردیواری پھلانگ کر راشٹریہ رائفلز کے اہلکاروں کا لاٹھیوں اور اسلحے سے دھاوا؛ مودی حکومت میں ریاستی اداروں کے مابین بڑھتی ہوئی اندرونی کشیدگی اور کمزور انتظامی کنٹرول آشکار

محمود احمد june 29,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 جون 2026ء

بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں قابض مودی حکومت کے ریاستی ادارے آپس میں ہی دست و گریباں ہو گئے ہیں جہاں بھارتی فوج اور مقامی پولیس کے مابین شدید تصادم کی مقتدر رپورٹ سامنے آئی ہے۔ بھارتی جریدے ‘دی ہندو’ کی تفصیلات کے مطابق، یہ غیر معمولی واقعہ ضلع کشتواڑ کے علاقے اتھولی میں پیش آیا جہاں انتہا پسند مودی سرکار کے ناقص انتظامی کنٹرول کے باعث شکست خوردہ بھارتی فوج کے مسلح اہلکار تھانے کے اندر ہی غنڈہ گردی اور بربریت پر اتر آئے۔

مقدمے کی تفصیلات کے مطابق، سترہ راشٹریہ رائفلز کے لگ بھگ چالیس سے زائد فوجی اہلکار اتھولی تھانے کی باقاعدہ چار دیواری اور مرکزی دروازہ پھلانگ کر اندر داخل ہوئے، جہاں انہوں نے اسلحہ، لوہے کی سلاخوں اور لاٹھیوں کا آزادانہ استعمال کرتے ہوئے ڈیوٹی پر موجود پولیس افسران کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچایا۔ مقامی پولیس نے اس مجرمانہ حملے کے بعد اپنے ہی محکمے کے اعلیٰ افسران پر تشدد اور تھانے میں توڑ پھوڑ کے جرم میں بھارتی فوج کے یونٹ کمانڈنگ آفیسر یعنی کرنل، میجر اور نائب صوبیدار سمیت درجنوں فوجی اہلکاروں کے خلاف اقدامِ قتل اور سنگین حملے کی باقاعدہ ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ درج کردہ رپورٹ کے مطابق، فوجی اہلکاروں کا یہ حملہ پہلے سے طے شدہ تزویراتی منصوبہ بندی کا حصہ تھا جس کا بنیادی مقصد ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کو جانی نقصان پہنچانا تھا۔

واضح رہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں قابض فوج اور مقامی پولیس یا پیراملٹری فورسز کے مابین تصادم کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ ماضی قریب میں بھی ایسے متعدد واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ تزویراتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج اور پولیس کے مابین بڑھتا ہوا یہ تصادم مقبوضہ علاقے میں تعینات قابض فورسز کے اندرونی عدم استحکام، مقتدر دباؤ اور باہمی کشیدگی کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب، بھارتی فوج کی طرف سے وادی کشمیر اور مضافاتی اضلاع میں کی جانے والی یہ کھلی غنڈہ گردی اس بات کی پختہ دلیل ہے کہ مودی حکومت اپنے ہی ریاستی اور حفاظتی اداروں پر مکمل کنٹرول کھو چکی ہے جس سے پورے ملک کا انتظامی ڈھانچہ اندرونی طور پر کھوکھلا ہو رہا ہے۔

سندھ میں انسدادِ پولیو مہم کی مقتدر کامیابی: انتیس میں سے اٹھائیس ماحولیاتی نمونے منفی رپورٹ، وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کا بڑا اعلان

روزینہ اسماعیل.june 29,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 جون 2026ء

ملک سے پولیو وائرس کے جڑ سے خاتمے کی حکومتی کوششوں کے دوران صوبہ سندھ سے ایک مقتدر اور انتہائی حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں حالیہ ماحولیاتی نمونوں کے نتائج نے انسدادِ پولیو کی مؤثر حکمتِ عملی پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔ وفاقی وزیر برائے صحت سید مصطفیٰ کمال نے وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلیٰ سطحی بیان میں تصدیق کی ہے کہ سندھ بھر سے حاصل کیے گئے کل انتیس ماحولیاتی نمونوں میں سے اٹھائیس نمونے مکمل طور پر منفی رپورٹ ہوئے ہیں، جو کہ اگست دو ہزار تئیس کے بعد سے اب تک صوبے میں منفی ماحولیاتی نمونوں کی ریکارڈ کی جانے والی سب سے بڑی اور مقتدر تعداد ہے۔

وفاقی وزیر صحت کے مطابق کراچی ڈویژن میں پولیو وائرس کی پھیلاؤ کی شرح میں تاریخی کمی دیکھنے میں آئی ہے جہاں پہلی مرتبہ بارہ میں سے گیارہ ماحولیاتی نمونے یکسر منفی رپورٹ ہوئے ہیں۔ اسی طرح خوش آئند بات یہ ہے کہ سندھ کے دیگر تمام ڈویژنز سے حاصل کیے گئے تمام سترہ کے سترہ ماحولیاتی نمونے بھی مکمل طور پر منفی آئے ہیں جو کہ انسدادِ پولیو اقدامات کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سید مصطفیٰ کمال نے تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ قمبر اور کشمور جیسے دور دراز اضلاع میں ایک طویل عرصے کے بعد پولیو وائرس کی گردش کا تھم جانا اور بدین و میرپورخاص میں مسلسل دوسرے مہینے بھی ماحولیاتی نمونوں کا منفی آنا ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔

انہوں نے اپنے مقتدر عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کو پولیو سے پاک کرنے کے لیے تمام ملکی وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور اس سلسلے میں وفاقی و صوبائی اداروں، شراکت دار بین الاقوامی تنظیموں اور تمام متعلقہ فریقین کے باہمی اشتراک سے جامع مہمات چلائی جا رہی ہیں۔ وزیر صحت نے بتایا کہ رواں سال دو ہزار چھبیس کے دوران ملک میں دو قومی اور ایک ذیلی انسدادِ پولیو مہمات کامیابی سے مکمل کی جا چکی ہیں، جبکہ وائرس کی باقی ماندہ منتقلی کا جڑ سے خاتمہ یقینی بنانے کے لیے آئندہ ماہ جولائی دو ہزار چھبیس میں کراچی بھر میں ایک خصوصی انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پولیو فری پاکستان موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ملک کے ہر بچے کو اس معذوری سے تحفظ فراہم کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

گلستانِ جوہر میں پاکستان رینجرز کے دفتر پر بزدلانہ حملہ ناکام بنانے پر وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کا جوانوں کو زبردست خراجِ تحسین

محمود احمد june 28,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے صوبائی دارالحکومت کے علاقے گلستانِ جوہر میں پاکستان رینجرز کے دفتر پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کو سراہا ہے۔ اتوار کے روز کراچی سے جاری کردہ اپنے مقتدر بیان میں انہوں نے پاکستان رینجرز کے ان بہادر جوانوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آور دہشت گردوں کو موقع پر ہی جہنم واصل کر کے ان کی بڑی تخریب کاری کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔

سید مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ پاکستان رینجرز اور دیگر تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اعلیٰ پیشہ ورانہ استعداد اور بہادری پر پوری قوم کو ہمیشہ فخر رہے گا، کیونکہ یہ بزدل عناصر ایسی شرمناک کارروائیوں کے ذریعے ملک کا پائیدار امن سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ ریاست دشمن عناصر کے ایسے ناپاک عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور پوری پاکستانی قوم افواجِ پاکستان سمیت تمام حفاظتی اداروں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ وفاقی وزیر صحت نے اپنے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ ملک سے دہشت گردی کے اس ناسور کے مکمل اور حتمی خاتمے تک ریاستی اداروں کی ہر سطح پر ممکنہ حمایت اور سرپرستی کا یہ سلسلہ مستقل جاری رہے گا تاکہ امن و امان کی صورتحال پر کوئی آنچ نہ آئے۔

پاک سعودی وزرائے خارجہ کا رابطہ: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سعودی ہم منصب سے گفتگو، ہیلی کاپٹر حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

محمود احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور برادر ملک میں پیش آنے والے حالیہ ہیلی کاپٹر حادثے کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم کی طرف سے اس المکفوف واقعے میں چودہ قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت پیش کی۔ دفترِ خارجہ کی طرف سے سامنے آنے والے مقتدر بیان کے مطابق، سعودی وزیرِ خارجہ نے اس کڑے وقت میں پاکستانی قیادت اور عوام کے مخلصانہ اور برادرانہ جذبات کو مقتدر طور پر سراہا اور نائب وزیرِ اعظم کا شکریہ ادا کیا۔

ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں رونما ہونے والی حالیہ تزویراتی پیش رفت پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا اور ارد گرد کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پاکستان کے اس پختہ عزم کو دہرایا کہ ملک اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے طے شدہ اصولوں کے تحت خطے میں پائیدار امن کے قیام اور استحکام کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار مسلسل ادا کرتا رہے گا۔ رابطے کے دوران سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ وہ باہمی طور پر طے پانے والی مناسب تواریخ پر بہت جلد پاکستان کا باقاعدہ دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کا نائب وزیرِ اعظم نے گرمجوشی سے خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ اعلیٰ سطحی دورہ جلد عملی شکل اختیار کرے گا جس سے دونوں برادر ممالک کے مابین تعلقات کے نئے باب کا آغاز ہوگا۔

برادر ملک کے ساتھ معاشی روابط میں مقتدر پیش رفت: پاکستان نے سال دو ہزار تیس تک سعودی عرب میں دس لاکھ افرادی قوت بھیجنے کا ہدف مقرر کر دیا

منصور احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

پاکستان نے برادر ملک کے ساتھ لیبر موبیلٹی، انسانی سرمائے کی ترقی اور باہمی معاشی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے سال دو ہزار تیس تک سعودی عرب میں ریکارڈ دس لاکھ افرادی قوت بھیجنے کا تزویراتی ہدف مقرر کر دیا ہے، جو کہ ایک طویل المدتی افرادی قوت کی ترقی کی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ ہے۔ دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ تاریخی ہدف دونوں ممالک کے معاشی تعاون کے فریم ورک کے تحت تیار کردہ پندرہ سالہ ہیومن ریسورس ڈیپلائیمنٹ پلان کا حصہ ہے، جو پاکستانی افرادی قوت کو سعودی عرب کے وژن دو ہزار تیس کی جدید ضروریات کے مطابق مؤثر طریقے سے منظم کرتا ہے۔ اس جامع منصوبے کے تحت سالانہ بیرونِ ملک بھیجے جانے والے کارکنوں کی مجموعی تعداد کو سال دو ہزار انتالیس تک بڑھا کر پندرہ لاکھ دس ہزار تک پہنچانے کا مقتدر ہدف رکھا گیا ہے، جس کے لیے اعلیٰ تعلیم یافتہ، ہنرمند اور نیم ہنرمند افرادی قوت کی ایک منظم پائپ لائن تیار کی جائے گی، جبکہ اس عمل میں تعمیرات، ہوٹلنگ، سیاحت، صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ایوی ایشن اور انفراسٹرکچر کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

سعودی عرب طویل عرصے سے پاکستانی محنت کشوں کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے اور بیورو آف امیگریشن کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے دوران بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹرڈ ہونے والے سات لاکھ باسٹھ ہزار سے زائد ملکی کارکنوں میں سے پانچ لاکھ تیس ہزار سے زائد یعنی تقریباً ستر فیصد افراد نے روزگار کے لیے سعودی عرب کا رخ کیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جانے والے پاکستانیوں کی تعداد کل افرادی قوت کا چھیانوے فیصد بنتی ہے۔ سعودی عرب کے وژن دو ہزار تیس کے تحت شروع ہونے والے میگا اور گیگا پروجیکٹس کی بدولت وہاں تعمیرات اور سروسز کے شعبوں میں روزگار کے بے پناہ نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، جنہیں پورا کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی قومی حکمتِ عملی کو سعودی مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق ڈھال لیا ہے، جس کے تحت نیوٹیک اور سعودی عرب کے فنی اداروں کے مابین کوالیفیکیشن کو ہم آہنگ کیا جا رہا ہے اور ڈیجیٹل لیبر مارکیٹ انٹیگریشن سمیت آجر سے منسلک بھرتی کے ماڈلز متعارف کرائے جا رہے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق پاکستان نے اس ڈیمانڈ ڈریون تربیتی انفراسٹرکچر، اسکل سٹیز اور مشترکہ تعلیمی اداروں کے قیام کے لیے سعودی عرب کی شراکت داری سے اڑتیس ارب ڈالر کا ایک بڑا سرمایہ کاری فریم ورک بھی تجویز کیا ہے، جس میں ستائیس ارب ڈالر تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم اور دس ارب ڈالر اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے لیے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ حالیہ عرصے میں اس تزویراتی اقدام کے تحت ستر سے زائد مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں اور انسانی وسائل کی نمائش کے بعد چار ہزار سات سو سے زائد کارکنوں کی فوری تعیناتی سمیت سعودی تکامل اور مساند جیسے مقتدر اداروں کے ساتھ تعاون بڑھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان مستقبل کے بین الاقوامی مواقع بالخصوص فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چونتیس کی تیاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی افرادی قوت کی طویل المدتی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس کے تحت سال دو ہزار چھبیس سے دو ہزار چونتیس کے درمیان انفراسٹرکچر، ہوا بازی، سیاحت اور متعلقہ شعبوں کے لیے تین سے چار لاکھ مقتدر کارکنوں کی خصوصی تربیت اور تعیناتی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ پاکستان کی ترجیحی ورک فورس پارٹنر کی حیثیت برقرار رہے اور ملک کو زیادہ ترسیلاتِ زر حاصل ہو سکیں۔

عالمی مالیاتی ادارے پر انحصار ختم کرنے کے لیے ملکی برآمدات اور جدید تیکنیک کا فروغ ناگزیر ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال

https://images.openai.com/static-rsc-4/9FH5xvDeYcPCfTKKZ96popFSxOjP8d34PbdXMf1x8myQdEpO6ofrSxNOmJuDF8-auksXU2CMI8qnSBCrsB3dLMh8hhdaiWWUnLM_92gHZGGvpnt5R1kX4sf4SEmarOYCjVJiIfb0VnoIcY9L1dBVavhxJMcBobUldwpL1Pygno8aXWzBV9mAGggzPdQN1hmZ?purpose=fullsize

کاشف عباسی ,june 28,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری، بقا اور تعمیر و ترقی کا حتمی فیصلہ اب معاشی محاذ، جدید تیکنیک اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں کامیابی سے مشروط ہے کیونکہ بیرونی قرضوں اور عالمی مالیاتی ادارے کے چنگل سے مستقل آزادی صرف برآمدات میں اضافے سے ہی ممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور کے ایک تربیتی مرکز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کیا جہاں ارکانِ قومی اسمبلی، سیاسی رہنما اور ادارے کے اعلیٰ حکام موجود تھے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے اڑان پاکستان پروگرام کے ذریعے نوجوان نسل کو جدید ترین انٹرنیٹ مہارتوں اور مصنوعی ذہانت سے آراستہ کر رہی ہے تاکہ عالمی معیشت میں ملک کا ایک منفرد مقام بنایا جا سکے۔ انہوں نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے حالیہ سفارتی کامیابیوں کا سہرا وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے سر باندھا جن کی تزویراتی قیادت میں پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کیا۔

امریکہ اور ایران کے مابین حالیہ تنازع کا ذکر کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ اگر یہ معرکہ طول پکڑ جاتا تو پوری دنیا شدید ترین معاشی بحران، ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور عالمی مہنگائی کی لپیٹ میں آ جاتی، مگر پاکستان نے اپنی مؤثر اور مقتدر سفارت کاری کے ذریعے عالمی امن قائم کرنے میں ایک تاریخی کردار ادا کیا جس کا اعتراف اب پوری دنیا کر رہی ہے۔ انہوں نے ماضی کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ سال دو ہزار تیرہ میں مسلم لیگ (ن) کو دہشت گردی اور لوڈشیڈنگ جیسے سنگین مسائل ورثے میں ملے تھے جن پر میاں نواز شریف کی قیادت میں قابو پایا گیا اور سال دو ہزار سترہ میں دنیا پاکستان کو بیس بڑی معیشتوں میں شامل دیکھ رہی تھی مگر بعد میں آنے والی حکومت نے ملکی ترقی کے اس سفر کو شدید نقصان پہنچایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیفالٹ کے سائے منڈلانے کے باوجود حکومت نے سیاست کے بجائے ریاست کو ترجیح دی جس کے نتیجے میں اڑتیس فیصد کی ریکارڈ مہنگائی اب محض چھ فیصد پر آ چکی ہے جبکہ بینکوں کی پالیسی شرح سود بھی تئیس فیصد سے کم ہو کر دس فیصد کی سطح پر آ گئی ہے، جو معاشی بحالی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے بیرونی ملک مقیم نوے لاکھ پاکستانیوں کی جانب سے سالانہ چالیس ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھیجنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مایوسی اور انتہا پسندی کا راستہ چھوڑ کر جدید مہارتیں سیکھیں کیونکہ ملکی ترقی کا راز پالیسیوں کے تسلسل اور محنت میں پنہاں ہے۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے تصدیق کی کہ امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ ہو چکا ہے اور بھارت پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کی جرات نہیں کر سکتا کیونکہ عالمی برادری بھی اس معاملے پر اس پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

مراکش کے اسماعیل صیباری سمیت متعدد مسلم کھلاڑیوں کو شراب کی برانڈنگ کے بغیر خصوصی ٹرافی اور بیک ڈراپ پیش؛ فیفا کی جانب سے کھلاڑیوں کے عقائد اور قانونی عمر کے احترام میں مقتدر پالیسی نافذ

محمود احمد june 28,2026

میامی (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے سال دو ہزار چھبیس کے جاری فیفا ورلڈ کپ کے دوران مسلم کھلاڑیوں کے مذہبی عقائد اور ثقافتی حساسیت کا مقتدر احترام کرتے ہوئے پلے آف دی میچ کی تقریب اور ٹرافی میں ایک انتہائی اہم اور تاریخی تبدیلی متعارف کرا دی ہے۔ اس نئی اور وضع کردہ پالیسی کے تحت منتخب مسلم اور مخصوص کھلاڑیوں کے لیے شراب کی برانڈنگ کے بغیر ایک بالکل الگ اور غیر جانبدار بیک ڈراپ اور خصوصی ٹرافی پیش کی جا رہی ہے۔ یہ بڑی تبدیلی اس وقت عالمی میڈیا کے سامنے نمایاں ہوئی جب مراکش کے اسٹار کھلاڑی اسماعیل صیباری نے اسکاٹ لینڈ کے خلاف کھیلے گئے میچ میں ٹورنامنٹ کا تیز ترین پہلا گول اسکور کر کے مین آف دی میچ کا مقتدر اعزاز حاصل کیا۔

ایوارڈ کی اس مخصوص تقریب کے دوران عام طور پر پسِ منظر میں موجود بیئر برانڈ کی تشہیر کو مکمل طور پر ہٹا کر اس کی جگہ ایک غیر جانبدار سپیریئر پلیئر آف دی میچ ڈیزائن اور فیفا ورلڈ کپ کی باقاعدہ برانڈنگ استعمال کی گئی۔ عالمی رپورٹس کے مطابق مراکش کے اسماعیل صیباری کے علاوہ مصر کے امام عاشور، اردن کے علی علوان، ایران کے رامین رضائیان، قطر کے مقتدر گول کیپر محمود ابو ندا اور آئیوری کوسٹ کے یان دیومانڈے کو بھی ان کے میچز میں شاندار کارکردگی پر اسی طرز کا غیر برانڈڈ ایوارڈ فراہم کیا گیا ہے۔

فیفا کے ترجمان نے اس حوالے سے باقاعدہ وضاحت جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کسی بھی منتخب کھلاڑی کی ذاتی درخواست پر بغیر برانڈنگ والا ایوارڈ اور پینل بیک ڈراپ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ ترجمان کے مطابق اسی یکساں پالیسی کا برحق اطلاق ان نوجوان کھلاڑیوں پر بھی سختی سے ہوتا ہے جو قانونی طور پر اپنے ممالک یا میزبان ملک میں شراب نوشی کی مقررہ عمر کو نہیں پہنچے ہوتے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل سال دو ہزار اٹھارہ کے ورلڈ کپ میں مصر کے مقتدر گول کیپر محمد الشناوی نے بھی شراب کی اسپانسرشپ سے منسلک پلیئر آف دی میچ ایوارڈ کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا جس کے بعد مسلم کھلاڑیوں کے حقوق اور عقائد کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر ایک بڑی مہم نے توجہ حاصل کی تھی۔

ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریبی اہم ترین تیل مرکز راس تنورہ کے علاقے میں کریش ہوا؛ حادثہ ایسے وقت پیش آیا جب چار ماہ کی معطلی کے بعد حال ہی میں تیل کی بین الاقوامی سپلائی دوبارہ بحال کی گئی تھی

محمود احمد june 28,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کا ایک ہیلی کاپٹر ساحلی علاقے کے قریب گر کر تباہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار تمام چودہ افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جبکہ یہ افسوسناک واقعہ ایک ایسے حساس وقت پر پیش آیا ہے جب سعودی عرب نے حال ہی میں خطے سے اپنے آئل ٹینکرز کی سپلائی دوبارہ بحال کی تھی۔ عالمی میڈیا کے مطابق آرامکو کمپنی کا یہ ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریبی اور اہم ترین تیل مرکز راس تنورہ کے علاقے میں ساحلِ سمندر کے قریب کریش ہوا، جس کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار عملے کے ارکان اور آرامکو کے ملازمین سمیت تمام چودہ افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ سکیورٹی اور ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔

معلوم ہوا ہے کہ یہ حادثہ سٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ سعودی عرب نے طویل عرصے یعنی تقریباً چار ماہ کی معطلی کے بعد ابھی حال ہی میں راس تنورہ کے ساحل سے اپنے آئل ٹینکرز کے ذریعے تیل کی بین الاقوامی سپلائی دوبارہ بحال کی تھی، جبکہ آرامکو حکام اور سعودی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ہیلی کاپٹر گرنے کی وجوہات اور اسباب کی جانچ پڑتال کے لیے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے اور ماہرین اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ حادثہ کسی تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا یا اس کے پیچھے خطے کی موجودہ بحری کشیدگی کا کوئی عنصر شامل ہے۔

ملتان اور مضافات میں شدید گرمی کی لہر، پارہ 42 ڈگری سے تجاوز کر گیا، آئندہ چوبیس گھنٹوں میں گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان

کاشف عباسی ,june 28,026

ملتان (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

ملتان اور اس کے مضافاتی علاقوں میں شدید گرمی کی لہر برقرار ہے جہاں پارہ بیالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ محکمہ موسمیات نے آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسم خشک رہنے اور تیز گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مقتدر حکام کی جانب سے اتوار کے روز جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملتان شہر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت بیالیس اعشاریہ ایک اور کم سے کم بتیس اعشاریہ دو سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ موسم کی دیگر تفصیلات کے مطابق صبح آٹھ بجے ہوا میں نمی کا تناسب چوان فیصد جبکہ شام پانچ بجے یہ تناسب اڑتیس فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے گرمی کی شدت زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ کل بروز سوموار کے روز شہرِ اولیاء میں طلوعِ آفتاب صبح پانچ بجکر تیرہ منٹ پر ہوگا جبکہ غروبِ آفتاب شام سات بجکر اکیس منٹ پر ہوگا۔

عدالت نے بریت کے فیصلے کو دوہرے قرینہ بے گناہی کا حامل قرار دے کر سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم کر دیا؛ استغاثہ جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا، محض فضائی ٹکٹ جاری کرنا مجرمانہ سازش کا ثبوت نہیں

کاشف عباسی ,june 28,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک اہم تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ کسی بھی ملزم کی بریت کا فیصلہ دوہرے قرینہ بے گناہی کا حامل ہوتا ہے، اس لیے اپیل کے دوران ایسے فیصلے کو صرف اسی صورت میں کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے جب قانون یا دستیاب شواہد کی کوئی واضح اور سنگین غلطی ثابت ہو۔ عدالت عظمیٰ نے اسی بنیادی اصول کی بنیاد پر جعلی پاسپورٹ اور سفری دستاویزات کے کیس میں نامزد ملزم الطاف یوسف کی بریت کو مستقل طور پر بحال کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا پرانا فیصلہ یکسر کالعدم قرار دے دیا ہے۔ رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل عدالت عظمیٰ کے دو رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ فوجداری نظامِ انصاف کا بنیادی ترین اصول یہی ہے کہ جرم ثابت ہونے تک ہر شخص بے گناہ تصور کیا جاتا ہے، جبکہ استغاثہ پر یہ بھاری ذمہ داری لازم ہے کہ وہ ملزم کے خلاف عائد تمام الزامات کو ہر قسم کے شک و شبہے سے بالاتر ہو کر ثابت کرے۔

عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اس مخصوص مقدمے میں استغاثہ یہ ثابت کرنے میں مکمل ناکام رہا کہ ملزم کو ان جعلی سفری دستاویزات کے بارے میں پہلے سے کوئی علم تھا یا اس نے دھوکہ دہی اور اس جعل سازی کے عمل میں جان بوجھ کر کوئی معاونت فراہم کی تھی۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ملزم کی جانب سے بطور ٹریول ایجنٹ صرف فضائی ٹکٹ جاری کرنا کسی بھی صورت کسی مجرمانہ سازش یا فراڈ میں ملوث ہونے کا حتمی ثبوت نہیں بنتا۔ سپریم کورٹ نے قانونِ شہادت کی تشریح کرتے ہوئے مزید کہا کہ شریک ملزم کا پولیس کے سامنے دیا گیا کوئی بھی بیان قانون کی نظر میں قابلِ قبول نہیں ہوتا، جبکہ اس شریک ملزم کا بیان ضابطۂ فوجداری کی دفعہ ایک سو چونسٹھ کے تحت کسی مجسٹریٹ کے سامنے بھی ریکارڈ نہیں کرایا گیا تھا، اس لیے ایسے کسی بیان کو ملزم کے خلاف ثبوت کے طور پر ہرگز استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اپنی آبزرویشن میں واضح کیا کہ سندھ ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے بریت کے فیصلے کو کالعدم کرتے وقت کوئی بھی مضبوط قانونی یا حقائق پر مبنی وجہ بیان نہیں کی تھی اور نہ ہی دستیاب شواہد کا کوئی آزادانہ جائزہ لیا تھا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ نے ریکارڈ کا بالکل درست تجزیہ کرتے ہوئے ملزم کو بری کیا تھا، اس لیے اس مقتدر فیصلے میں مداخلت کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں تھی۔ عدالت نے اپنے مختصر حکم کی وجوہات بیان کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا سترہ اکتوبر دو ہزار بائیز کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کراچی کی جانب سے اکیس جون دو ہزار چھ کو دیا گیا ملزم الطاف یوسف کی بریت کا اصل فیصلہ بحال کر دیا ہے۔