وزیراعظم شہباز شریف اور کرغز صدر صادر ژاپاروف کی موجودگی میں مشترکہ اعلامیہ اور دستاویزات کا تبادلہ؛ لاہور اور ’اوش‘ سسٹر سٹیز قرار، ٹرانزٹ ٹریڈ اور حوالگیِ ملزمان کا معاہدہ بھی شامل

کاشف عباسی , September 02,2026

بشکیک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

پاکستان اور کرغزستان نے باہمی سٹریٹجک تعلقات کو نئی بلندیوں پر پہنچاتے ہوئے تعلیم، صحت، ٹرانزٹ ٹریڈ، ماحولیاتی تبدیلی، سائنس و ٹیکنالوجی، ورچوئل اثاثوں اور سیکیورٹی سمیت متعدد اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر باضابطہ دستخط کر دیے ہیں۔

ان تاریخی معاہدوں اور ایم او یوز کی دستاویزات کے تبادلے کی پروقار تقریب بدھ کے روز کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں واقع صدارتی محل میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور جمہوریہ کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف کی خصوصی موجودگی شامل تھی، جہاں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے مشترکہ اعلامیے پر بھی دستخط کیے۔

دستاویزات کے تبادلے میں پاکستان اور کرغزستان کی حکومتوں کے درمیان انتہائی اہم ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ، ملزمان کی باہمی حوالگی کا معاہدہ اور فوجداری معاملات میں قانونی معاونت کا مسودہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کی وزارتِ داخلہ کے درمیان منشیات، نشہ آور اشیاء اور کیمیکلز کی غیر قانونی سمگلنگ کی روک تھام میں تعاون کا ایم او یو طے پایا۔

تجارتی و معاشی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے ‘کرغز پوسٹ’ اور ‘پاکستان پوسٹ’ کے درمیان پوسٹل سروسز اور ای کامرس کے شعبے میں باہمی تعاون، نیز فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور کرغزستان کے چیمبر آف کامرس کے درمیان شراکت داری کا معاہدہ شامل ہے۔ ایک اور اہم پیش رفت میں پاکستان کے تاریخی شہر لاہور اور کرغزستان کے اہم شہر ‘اوش’ کے درمیان ‘سسٹر سٹی’ تعلقات قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی اور کرغزستان کی قومی ایجنسی برائے ورچوئل ایسٹس و بلاک چین ٹیکنالوجیز کے درمیان ایم او یو پر دستخط کیے گئے۔ تعلیمی اور تحقیقی شعبے میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور کرغزستان کی وزارتِ صحت کے درمیان طبی تعلیم، اور وزارتِ وفاقی تعلیم پاکستان اور کرغزستان کی وزارتِ تعلیم کے درمیان تعاون کے معاہدے کیے گئے۔ علاوہ ازیں این ڈی یو پاکستان، آئی ایس ایس آئی اور کرغزستان کے سٹریٹجک انیشی ایٹو کے اداروں کے درمیان علمی ریسرچ کے ایم او یوز بھی شامل ہیں۔

پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے اپنے کرغز ہم منصبوں کے ساتھ دستخط شدہ دستاویزات کا تبادلہ کیا۔

انٹرپول کے ریڈ نوٹس پر بڑی کامیابی: اقدامِ قتل کے مقدمے میں 3 سال سے مطلوب خطرناک اشتہاری ملزم محمد سجاول ایئرپورٹ سے گرفتار

منصور احمد, September 02,2026

اسلام آباد/ملتان (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی امیگریشن نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے اقدامِ قتل کے سنگین مقدمے میں پنجاب پولیس کو گزشتہ 3 سال سے مطلوب خطرناک اشتہاری ملزم محمد سجاول کو ملک پہنچتے ہی ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ملزم کی بین الاقوامی سطح پر گرفتاری کے لیے انٹرپول کی جانب سے ریڈ نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

ایف آئی اے ملتان کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق گرفتار ملزم محمد سجاول سنگین فوجداری الزامات کے تحت سال 2023 سے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے تھانہ رجانہ کو مطلوب تھا، جہاں اس کے خلاف اقدامِ قتل اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج تھے۔

ترجمان نے بتایا کہ فرار ہونے کی کوششوں کے پیشِ نظر ملزم کا نام سٹاپ لسٹ میں شامل کیا گیا تھا جبکہ ایف آئی اے نیشنل سینٹرل بیورو انٹرپول نے اس کی گرفتاری یقینی بنانے کے لیے باضابطہ ریڈ نوٹس جاری کر رکھا تھا۔

ملزم بیرونِ ملک سے پاکستان پہنچا تو ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر قائم ایف آئی اے امیگریشن کاؤنٹر نے اسے فوری طور پر حراست میں لے لیا۔ یہ اہم گرفتاری انٹرپول اسلام آباد اور ایف آئی اے امیگریشن ملتان کے مابین بہترین حکمتِ عملی اور قریبی رابطے کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔ ابتدائی عمل درآمد اور امیگریشن کی کارروائی کے بعد ملزم کو مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے پنجاب پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

درخت ہمارا قومی اثاثہ اور نئی نسل کی بہترین آبیاری ہیں: سبی میں مون سون شجرکاری مہم کا باضابطہ آغاز، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طاہر ہمایوں کا پیغام

روزینہ اسماعیل, September 02,2026

سبی/کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی طاہر ہمایوں نے شجرکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ درخت ہمارا قومی اثاثہ ہیں اور ان کی آبیاری کرنا درحقیقت ہماری آنے والی نئی نسل کے محفوظ مستقبل کی آبیاری کے مترادف ہے۔ انہوں نے سبی کے تمام شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ جاری مون سون شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ شہر کو آلودگی سے بچا کر ایک پرفضا ماحول قائم کیا جا سکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں مون سون شجر کاری مہم کے باضابطہ افتتاح کے موقع پر میڈیا اور حاضرین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی طاہر ہمایوں نے خود پودا لگا کر اس مہم کا باقاعدہ آغاز کیا۔

افتتاحی تقریب میں عدلیہ اور قانون سے وابستہ متعدد اہم شخصیات نے شرکت کی۔ ایڈیشنل سیشن جج سبی عزیز احمد مینگل، جوڈیشل مجسٹریٹ شکیل احمد لاشاری، سپرنٹنڈنٹ سید فرید شاہ، شیر دل مرغزانی، سبی بار کے جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ سید نوید شاہ، عبدالواحد درانی ایڈووکیٹ، محمد انیس ایڈووکیٹ اور سبی پریس کلب کے صدر سعید الدین طارق نے بھی اپنے ہاتھوں سے پودے لگا کر اس قومی مہم میں اپنا حصہ ڈالا۔ اس موقع پر ناظم جنگلات سبی ڈویژن سید طارق شاہ اور محکمہ جنگلات کے دیگر اعلیٰ آفیسران بھی موجود تھے۔

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی طاہر ہمایوں کا مزید کہنا تھا کہ درخت لگانا ایک صدقہ جاریہ اور اخلاقی فریضہ ہے۔ درخت نہ صرف ماحول میں مثبت تبدیلی اور درجہ حرارت میں بہتری کا باعث بنتے ہیں بلکہ سخت گرمی میں سایہ اور آکسیجن بھی فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شجرکاری صرف ماحولیاتی تحفظ تک محدود نہیں بلکہ یہ آئندہ نسلوں کی صحت اور بہتر مستقبل کی ضامن ہے۔ شہر کے مختلف شاہراہوں اور مقامات پر درخت لگانے سے نہ صرف سبی کی قدرتی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا بلکہ شدید موسمیاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

پاک بحریہ کی کراچی میں عظیم الشان بحری جنگی مشق ‘سی سپارک-2026’ کا باضابطہ آغاز، آپریشنل صلاحیتوں اور جنگی تیاریوں کا بھرپور مظاہرہ

کاشف عباسی , September 02,2026

راولپنڈی/کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

پاکستان کے سیکیورٹی ماحول اور سمندری سرحدوں کے دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاک بحریہ کی کراچی میں تاریخی اور میجر میری ٹائم ایکسرسائز ‘سی سپارک-2026’ کا شاندار و باضابطہ آغاز ہو گیا ہے، جس میں پاک بحریہ اپنی مکمل جنگی تیاریوں، حربی حکمتِ عملی اور آپریشنل صلاحیتوں کا بھرپور عملی مظاہرہ کر رہی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے اس اہم جنگی مشق کی افتتاحی بریفنگ کی صدارت کی۔ اس موقع پر پاک مسلح افواج کے مختلف اہم شعبوں کے اعلیٰ اور سینئر عسکری افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

اس وسیع المیعاد مشق کے دوران پاکستان نیوی کی روایتی چیلنجز اور ابھرتے ہوئے تمام تر بحری خطرات کے خلاف جنگی صلاحیت کو سخت اور کٹھن جانچ کے عمل سے گزارا جا رہا ہے۔ مشق میں جدید ترین بحری جہازوں، آبدوزوں، جنگی طیاروں، بغیر پائلٹ ڈرون نظام (UAVs)، میرینز، کمانڈوز اور سپیشل فورسز کے ساتھ ساتھ پاک فوج اور پاک فضائیہ کے مشترکہ جنگی وسائل کو مکمل طور پر مربوط کیا گیا ہے۔

افتتاحی بریفنگ سے قبل چیف آف دی نیول سٹاف نے پاک بحریہ کے فلیٹ یونٹس کا تفصیلی دورہ کیا اور سمندر میں جاری آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔

تربیت میں مصروف افسران اور جوانوں سے اپنے جوشیلے خطاب میں نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے زور دے کر کہا کہ خطے کے تیزی سے بدلتے ہوئے سیکیورٹی ماحول میں غیر متزلزل جنگی تیاری، تینوں مسلح افواج کے درمیان مزید مؤثر انضمام، حالات کے مطابق خود کو فوری ڈھالنے کی صلاحیت اور زمینی و معلوماتی شعبوں میں اعلیٰ مؤثریت ہر صورت ناگزیر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مشق ‘سی اسپارک-2026’ کا بنیادی مقصد ملٹی ڈومین آپریشنز کی مشق کرنا ہے، جس میں سمندری، فضائی، زمینی، سائبر اور خلائی معاون صلاحیتوں کو ایک جگہ مربوط کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انفارمیشن انوائرنمنٹ میں آپریشنز پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے تاکہ سمندر میں فعال کارروائیوں کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھتے ہوئے معلوماتی جنگ میں دشمن پر فیصلہ کن برتری حاصل کی جا سکے۔

عالمی مالیاتی نظام میں فوری اصلاحات اور مصنوعی ذہانت کی مساوی رسائی ناگزیر ہے: بشکیک میں ایس سی او اجلاس سے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا خطاب

محمود احمد, September 02,2026

بشکیک (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے عالمی مالیاتی نظام میں بنیادی اور عاجلانہ اصلاحات کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ دنیا کے بیشتر ترقی پذیر ممالک بدستور نا قابلِ برداشت اور کمر توڑ غیر ملکی قرضوں کے شدید بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

اماراتی نیوز ایجنسی کے مطابق، اقوام متحدہ کے سربراہ نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلیٰ سطحی سربراہی اجلاس سے اہم خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو عالمی مالیاتی و معاشی ڈھانچے میں فوری اصلاحات لانا ہوں گی تاکہ عالمی سطح پر انصاف اور مساوات کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقی پذیر ممالک کو مفلوج کرنے والے ان بوجھل قرضوں کے سنگین مسئلے کا ایک پائیدار اور منصفانہ حل تلاش کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

اپنے خطاب کے دوران انتونیو گوتریش نے کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں پر زور دیا کہ وہ غریب اور درمیانی آمدنی والے ممالک کی معاشی ترقی کی کوششوں اور مالی معاونت کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ بڑا، مؤثر اور جرات مندانہ کردار ادا کریں۔

انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ اقوام متحدہ کے اپنے ڈھانچے اور ‘بریٹن ووڈز’ نظام سمیت تمام بین الاقوامی کثیرالجہتی اداروں میں انقلابی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں تاکہ ان اداروں کو آج کی جدید اور تلخ عالمی حقیقتوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے اور بین الاقوامی فیصلے سازی میں ترقی پذیر ممالک کی متناسب نمائندگی اور اثر و رسوخ میں حقیقی اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔

ٹیکنالوجی کے شعبے اور بالخصوص مصنوعی ذہانت کے ابھرتے ہوئے خطرات و فوائد پر گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی اور اس کے فوائد صرف چند امیر یا ٹیکنالوجی میں پیش رفتہ ممالک تک محدود نہیں رہنے چاہئیں، بلکہ اسے دنیا کے تمام ممالک اور ان کے شہریوں کے لیے یکساں طور پر کارآمد بنانا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے عالمی سطح پر مؤثر اور محفوظ حفاظتی ضوابط اور زیادہ جامع طرزِ حکمرانی کا طریقہ کار تشکیل دینا بے حد ضروری ہے۔

’تعاون کا مطلب جھکنا نہیں‘: میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شین بام کا ملک کی خودمختاری، وقار اور حریت کے دفاع کا سخت عزم

محمود احمد, September 02,2026

میکسیکو سٹی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شین بام نے اپنی قوم کی خودمختاری، قومی وقار اور آزادی کے تحفظ کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دنیا بھر کو واضح پیغام دیا ہے کہ ان کا ملک تمام ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعاون، مذاکرات اور مفاہمت کا خواش مند ہے، تاہم تعاون کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میکسیکو کسی کے سامنے جھکے اور نہ ہی دوستی کا مقصد اپنے بنیادی اصولوں سے دستبردار ہونا ہے۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، صدر کلاؤڈیا شین بام نے تاریخی ‘نیشنل پیلس’ میں اپنی حکومت کی دوسری باضابطہ سٹیٹ آف دی یونین تقریر کے دوران عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک انہیں میکسیکو کی صدر کے طور پر عوام کی خدمت کرنے کا اعزاز حاصل ہے، وہ ملک کی جغرافیائی و سیاسی خودمختاری، وقار اور حریت کا ثابت قدمی سے دفاع کرتی رہیں گی۔

اپنے اس اہم خطاب میں انہوں نے میکسیکو اور ہمسایہ ملک امریکہ کے سٹریٹجک تعلقات میں حائل شدو مد اور مشکلات، خصوصاً امریکہ کے اندر میکسیکن تارکینِ وطن کے ساتھ روا رکھے جانے والے نا روا سلوک کا کھلے عام اعتراف اور سخت الفاظ میں احاطہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی امیگریشن حراستی مراکز کی خراب صورتحال اور ناروا رویے کے باعث اب تک 17 میکسیکن شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ امریکہ بھر میں امیگریشن کارروائیوں اور چھاپوں کے دوران ہزاروں بے گناہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میکسیکو کی حکومت نے ان المناک واقعات پر واشنگٹن انتظامیہ کے سامنے رسمی شکایات درج کرائی ہیں اور تارکینِ وطن کے عالمی و انسانی حقوق کا مکمل احترام کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

امریکہ کی جانب سے میکسیکن شہریوں کی بڑے پیمانے پر جبری ملک بدری کے جواب میں صدر نے بتایا کہ ان کی حکومت نے (میکسیکو آپ کو گلے لگاتا ہے) کے نام سے ایک خاص ہنگامی پروگرام شروع کر رکھا ہے۔ اس اسکیم کے تحت اب تک 2 لاکھ 81 ہزار سے زائد ملک بدر یا واپس بھیجے گئے میکسیکن باشندوں کی بحالی کے لیے مدد فراہم کی جا چکی ہے، جنہیں فوری گرم کھانا، آبائی علاقوں تک محفوظ نقل و حمل، بہترین طبی و نفسیاتی نگہداشت اور شناختی دستاویزات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔

امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تجارت اور سرحد پر سیکیورٹی کے حساس معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے صدر کلاؤڈیا شین بام نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور گفت و شنید کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور انہیں امید ہے کہ جلد ہی باہمی مفاہمت پر مبنی پائیدار معاہدے طے پا جائیں گے۔ سیکیورٹی تعاون کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ان کے ملک نے امریکہ کے ساتھ ایسے تمام تر معاہدے مشترکہ ذمہ داری، خودمختاری کے احترام اور بغیر کسی ماتحتی کے باہمی اعتماد کی بنیاد پر کیے ہیں۔

آسٹریلیا کی تاریخی ‘ماؤنٹ لائل’ تانبے کی کان 15 سال بعد 2029 میں دوبارہ فعال کرنے کا اعلان، 350 ملین امریکی ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کی منظوری

محمود احمد, September 02,2026

کینبرا (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

آسٹریلیا کی خوبصورت جزیرہ ریاست تسمانیہ کے مغربی ساحل پر واقع تاریخی تانبے کی کان 15 سال طویل بندش کے بعد بالاخر سال 2029 میں دوبارہ اپنی پیداوار کا باقاعدہ آغاز کرے گی۔ اس تاریخی کان کو سال 2014 میں پیش آنے والے دو الگ الگ المناک حادثات میں 3 کان کنوں کی ہلاکت کے بعد مکمل طور پر سیل کر دیا گیا تھا۔

چین کے خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، حکومتِ تسمانیہ نے بدھ کے روز جاری کردہ ایک رسمی بیان میں جنوبی افریقہ کی بین الاقوامی مائننگ کمپنی ‘سبیانے سٹل واٹر’ کے اس فیصلہ کن اقدام کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت ماؤنٹ لائل تانبے کی کان سے 2029 تک تانبے کی پیداوار کا عمل دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔

تسمانیہ کے وزیر برائے کاروبار، صنعت اور قدرتی وسائل فیلکس ایلس نے اپنے باضابطہ بیان میں کہا کہ اس تاریخی کان میں پیداوار کی بحالی سے خطے میں 300 سے زائد بلاواسطہ نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس تاریخی منصوبے کا دوبارہ آغاز مغربی ساحلی خطے میں خطیر نئی سرمایہ کاری، بہترین اور پرکشش اجرت والی ملازمتیں اور ایک طویل مدتی معاشی اعتماد لے کر آئے گا۔

صنعتی منصوبے کے خدوخال کے مطابق، ماؤنٹ لائل کان کی بحالی اور جدید کاری پر عملی تعمیراتی کام 2027 کی پہلی ششماہی میں شروع ہونے کی توقع ہے، جس کے لیے جنوبی افریقی مائننگ کمپنی کی جانب سے تقریباً 490 ملین آسٹریلوی ڈالر (جو تقریباً 350 ملین امریکی ڈالر بنتے ہیں) کی بھاری سرمایہ کاری مختص کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ تانبے کی یہ مشہور کان 1890ء کی دہائی میں قائم کی گئی تھی اور اس نے آسٹریلیا کی کان کنی کی صنعت میں دہائیوں تک اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، سال 2014 میں کان کے اندر دو الگ الگ خوفناک حادثات کے نتیجے میں 3 محنت کشوں کی ہلاکت کے بعد حفاظت کے پیشِ نظر اس میں کام مکمل طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔

سعودی عرب کے سفارتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی: ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان وزیرِ خارجہ کی مشیر اور خصوصی ایلچی مقرر

روزینہ اسماعیل, September 02,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی سفارتی فیصلہ کرتے ہوئے سینئر ڈپلومیٹ ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان کو مذاکرات اور بین الاقوامی امن کوششوں کے لیے وزیرِ خارجہ کی خاص مشیر اور خصوصی ایلچی مقرر کر دیا ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق یہ اہم تقرری مملکت کی خارجہ پالیسی کے تحت عالمی سفارتی امور کو مزید مضبوط بنانے، مختلف خطوں میں باہمی مذاکرات کو فروغ دینے اور عالمی امن عمل کی حمایت کی مسلسل کوششوں کے حصے کے طور پر کی گئی ہے۔

خصوصی ایلچی مقرر کیے جانے کے بعد ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان کے دائرہ اختیار میں بین الاقوامی مذاکرات، تنازعات کی تسویہ کاری، عالمی امن کی کوششوں میں معاونت اور بین الاقوامی برادری میں سعودی عرب کی موثر سفارتی موجودگی و اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کرنا شامل ہو گا۔

ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان کو عالمی سفارت کاری، بین الاقوامی مذاکراتی عمل، پیچیدہ تنازعات کے حل اور کثیر الجہتی امور کا کثیر اور طویل تجربہ حاصل ہے۔ وہ اس سے قبل بھی سعودی وزارتِ خارجہ میں متعدد اعلیٰ اور ذمہ دارانہ عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں اور اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر سعودی عرب کی نمائندگی کا اعزاز رکھتی ہیں۔

حالیہ نئی تقرری سے قبل وہ وزارتِ خارجہ میں بطور وزیر کام کر رہی تھیں۔ انہوں نے سال 2017 سے وزارتِ خارجہ میں اعلیٰ مشیر اور بعد ازاں افریقی امور کے وزیرِ مملکت کے دفتر میں بطور مشیر خدمات انجام دیں۔ اس سے قبل سال 2012 میں بھی وہ وزیرِ خارجہ کے دفتر میں بطور مشیر اہم فرائض سرانجام دے چکی ہیں۔

ان کے شاندار سفارتی کیریئر میں سال 2012 سے 2017 کے درمیان نیویارک میں اقوامِ متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مشن کے ساتھ کام کرنے کا پانچ سالہ اہم تجربہ شامل ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عرب لیگ کے لیے سعودی مشن اور واشنگٹن ڈی سی میں سعودی سفارت خانے میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں، جہاں ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں امریکی کانگریس سے روابط اور سیاسی امور شامل تھے۔ انہوں نے مظلوم فلسطینیوں کے حقوق اور مسئلہ فلسطین کے پائیدار حل کے لیے سعودی عرب کی سفارتی پیش رفت میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

بھارت میں تاریخی گرمی کی لہر: اگست 1901 کے بعد سے اب تک کا گرم ترین مہینہ ریکارڈ

منصور احمد, September 02,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

پڑوسی ملک بھارت میں موسمیاتی تبدیلی کے مہلک اثرات شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں رواں سال کا اگست 1901 کے بعد سے لے کر اب تک کی 125 سالہ ریکارڈ شدہ تاریخ کا سب سے گرم ترین مہینہ ثابت ہوا ہے اور ملک کا اوسط درجہ حرارت 28.01 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے۔

بھارتی محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعداد و شمار کے مطابق اگست میں بھارت کا اوسط درجہ حرارت طویل مدتی اوسط سے 0.67 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اگست کے سب سے زیادہ اوسط درجہ حرارت کا سال 2023 میں قائم ہونے والا 28.0 ڈگری سینٹی گریڈ کا سابقہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگست کے دوران پورے بھارت میں مون سون کی بارشیں معمول سے 16 فیصد کم رہیں، جس کے باعث درجہ حرارت میں غیر معمولی اور مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بارشوں میں اس کمی اور حدت میں اضافے کی بنیادی وجہ سمندری و فضائی مظہر ’ال نینو‘ کا متحرک ہونا بتایا جا رہا ہے، جو دنیا بھر میں ہوا کے دباؤ اور بارش کے قدرتی نظام میں شدید تبدیلیاں لانے کا سبب بنتا ہے۔

جنوبی ایشیا اور خاص طور پر بھارت میں ال نینو کے اثرات کے باعث شدید خشک سالی اور حدت سے بھرپور موسم پیدا ہوتا ہے۔ ماحولیاتی سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ فوسل ایندھن (گیس، تیل اور کوئلے) کے کثرت سے استعمال سے پیدا ہونے والی گلوبل وارمنگ اور ال نینو کے ملاپ نے پہلے سے گرم ہوتی ہوئی زمین کے درجہ حرارت میں تباہ کن اضافہ کر دیا ہے، جس سے مستقبل میں مزید شدید ترین اور غیر معمولی موسمی حالات پیدا ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی آبادی کا حامل ملک بھارت ان شدید موسمیاتی تبدیلیوں اور گرمی کی لہروں کی زدمیں ہے، جہاں حالیہ برسوں کے دوران کئی ریاستوں اور اضلاع میں درجہ حرارت خطرناک اور نا قابلِ برداشت حد تک بڑھتا ہوا دیکھا گیا ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے اور عالمی سطح پر پائیدار امن کے حصول میں معاون ثابت ہوگا: بشکیک میں ترک صدر رجب طیب اردوان کا تاریخی اعلان

روزینہ اسماعیل, September 02,2026

بشکیک/انقرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اس عزم کی باضابطہ تصدیق کی ہے کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا تاریخی ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘‘ خطے سمیت عالمی سطح پر پائیدار امن اور استحکام کے حصول میں انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کرے گا۔

ترک صدر نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت و حکومت کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ علاقائی خود مختاری، ملکیت اور اجتماعی مزاحمت کی مضبوط بنیادوں پر قائم کیا جانے والا یہ سہ فریقی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے امن اور دفاعی توازن کی ضمانت بنے گا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، اس اہم معاہدے کی سیاسی اور دفاعی سٹریٹجک کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ مشترکہ اعلامیے میں اس بات کا اعادہ کیا گیا تھا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ دفاعی صنعت، اسلحہ سازی، مشترکہ پیداوار اور جدید ترین ملٹری ٹیکنالوجی کی ترقی کے شعبوں میں ایک دوسرے سے مکمل اور مضبوط تعاون قائم کریں گے۔

اعلامیے کے مطابق اس اشتراکِ عمل اور مشترکہ سرگرمیوں کا بنیادی مقصد تینوں مسلم ممالک کی دفاعی صلاحیتوں، حربی مہارت اور مسلح افواج کے باہمی توازن و استعداد کو آئندہ چیلنجز کے مقابلے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور جدید بنانا ہے۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا امریکہ کو ‘سخت سزا’ دینے کا عزم: ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیان کے بعد تہران کا بھرپور جوابی کارروائی کا اعلان

محمود احمد, September 01,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری عسکری ٹکراؤ انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے، جہاں ایرانی پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے منگل کو ہونے والی امریکی بمباری کے بعد باضابطہ اعلان کیا ہے کہ وہ اس امریکی جارحیت کا انتہائی ‘سخت’ اور دردناک جواب دیں گے۔

منگل کے روز پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں پر امریکی طیاروں کے حملوں کے فوراً بعد پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے تہران میں صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اس کی اس حماقت پر ’سخت سزا‘ دی جائے گی اور واشنگٹن اپنے ان نئے حملوں کے فیصلوں پر شدید پچھتائے گا۔

پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کے یہ تند و تیز اور جنگی بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب چند ہی لمحے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو متنبہ کیا تھا کہ اگر اس نے کوئی بھی جوابی کارروائی کی تو امریکہ کا اگلا ردِعمل پہلے سے کہیں زیادہ ‘سخت اور وسیع’ ہو گا۔

ایرانی عسکری حکام نے امریکہ کی اس تنبیہ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی قسم کا دباؤ یا دھمکی ایران کو اپنی خودمختاری، جغرافیائی سرحدوں اور قومی مفادات کے دفاع کے حق سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں قائم تمام امریکی تنصیبات اور امریکی فورسز پاسدارانِ انقلاب کے نشانوں پر ہیں اور وقت و مقام کا انتخاب ایران خود کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو نیا اور سخت ترین انتباہ: دوبارہ جوابی کارروائی کی تو امریکی ردِعمل ’سخت اور وسیع‘ ہو گا

محمود احمد, September 01,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری عسکری کشیدگی میں مزید شدّت لاتے ہوئے ایک باضابطہ بیان میں متنبہ کیا ہے کہ اگر تہران حکومت نے امریکی حملوں کے جواب میں کسی بھی قسم کی کارروائی کی تو اس بار واشنگٹن کا ردِعمل پہلے سے کہیں زیادہ ’سخت اور وسیع‘ ہو گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ تند و تیز بیان اس کے فوراً بعد سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی تھی کہ امریکی جنگی طیاروں نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے تزویراتی ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ منگل کی شب امریکہ کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب کے اہم اہداف پر کیے گئے فضائی حملے مکمل طور پر قانون کے مطابق اور ‘جائز’ تھے۔ انہوں نے تہران کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر جواب میں ایران نے کوئی بھی عسکری قدم اٹھایا یا امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو امریکہ دوبارہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس سے بڑا حملہ کرے گا۔

اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے علانیہ اعلان کیا تھا کہ وہ اردن میں قائم امریکی عسکری اڈوں پر پاسدارانِ انقلاب کے حالیہ حملوں کا بدلہ لیں گے اور اس کا ’سخت‘ جواب دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ایران نے اردن اور امارات میں امریکی تنصیبات پر ان حملوں کو اس سے قبل خلیج فارس کے جزیرے ‘لارک’ پر ہونے والے امریکی حملوں کا فطری اور دفاعی ردِعمل قرار دیا تھا۔

سیاسی و عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس نئے اور انتباہی بیان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں براہِ راست امریکی و ایرانی تصادم کا دائرہ کار مزید پھیلنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں پر زبردست فضائی حملے، بندر عباس اور چابہار سمیت متعدد ساحلی شہر دھماکوں سے گونج اٹھے

محمود احمد, September 01,2026

واشنگٹن/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

مشرقِ وسطیٰ میں عسکری کشیدگی میں انتہائی سنسنی خیز اور خطرناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی جنگی طیاروں نے منگل کے روز ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے مختلف اہم عسکری ٹھکانوں اور تنصیبات پر بمباری کی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ شدید فضائی حملے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں اور خطے میں تعینات امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے ردِعمل کے طور پر کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب، ایرانی نیوز ایجنسی ’فارس نیوز‘ کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق ایران کے ساحلی اور تزویراتی علاقوں کونارک، چابہار، بندر عباس، سیرک اور جزیرہ قشم میں انتہائی شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان تمام مقامات پر یکے بعد دیگرے کئی انفجارات ہوئے، تاہم خبر رساں ایجنسی نے ابھی تک ان دھماکوں کے عین مقام یا ہونے والے مالی و جانی نقصانات کی حتمی وضاحت نہیں کی ہے۔

عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز کے آس پاس ایرانی ساحلی شہروں اور جزائر کو ہدف بنایا جانا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکی افواج ایران کی ساحلی دفاعی صلاحیتوں اور پاسدارانِ انقلاب کے نیول اور میزائل انفراسٹرکچر کو ناکارہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں، جس سے اس خطے میں باقاعدہ وسیع پیمانے کی جنگ کے خطرات شدید ہو گئے ہیں۔

بشکیک میں ایس سی او اجلاس کے موقع پر پوتن کی مسعود پزشکیان سے ملاقات: مشکل وقت میں ایران کی ہر ممکن مدد جاری رکھنے کا روسی اعلان

محمود احمد, September 01,2026

بشکیک/ماسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ایران کی قیادت اور عوام کے عزم و ہمت کو سراہتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ماسکو انتظامیہ ’اس مشکل اور حساس دور‘ میں تہران کی ہر ممکن مدد کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔

یکم ستمبر کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے اہم موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ایک دباؤ سے بھرپور فضا میں ہونے والی باہمی ملاقات کے دوران صدر پوتن نے کہا کہ روس اپنے قومی مفادات، جغرافیائی سرحدوں اور خودمختاری کے دفاع میں ایرانی قوم کی جرات اور استقامت کی انتہائی قدر کرتا ہے۔

روسی خبر رساں ادارے ’تاس‘ کے مطابق روسی صدر نے ایرانی ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس انتہائی پیچیدہ اور مشکل دور میں ہم ایران کو درکار ہر قسم کی معاونت و سامان فراہم کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس موضوع پر دونوں ممالک کے حکام کے درمیان پیشگی تفصیل سے بات چیت ہو چکی ہے اور روس کی جانب سے ضروری عسکری و لاجسٹک سامان کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔

اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران صدر ولادیمیر پوتن نے روس اور ایران کے درمیان گہرے ہوتے تجارتی اور اقتصادی تعلقات کی موجودہ رفتار کو بھی سراہا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ خطے میں پھیلی موجودہ شدید ‘عسکری اور سیاسی صورتحال کے باوجود’ دونوں ممالک کے تجارتی و معاشی روابط مثبت سمت میں مسلسل پیش رفت کر رہے ہیں۔

روسی صدر کا کہنا تھا کہ باہمی تجارت میں یہ بہتری بنیادی طور پر ‘روس۔ایران بین الحکومتی کمیشن’ کی فعال اور مؤثر کارکردگی کا نتیجہ ہے، جو باقاعدگی کے ساتھ اپنے اجلاس منعقد کر رہا ہے اور جس کا تازہ ترین اور انتہائی اہم اجلاس حال ہی میں کامران ثابت ہوا ہے۔

پانی کو کبھی عسکری یا سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے: بشکیک میں ایس سی او اجلاس سے وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب

منصور احمد, September 01,2026

بشکیک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ پانی انسانی زندگی کا بنیادی ذریعہ ہے اور اسے کبھی بھی ہتھیار، دباؤ یا سیاسی مفادات کے حصول کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

اگرچہ وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران براہِ راست انڈیا کا نام نہیں لیا، تاہم ان کا اشارہ واضح طور پر نئی دہلی کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی اور عدم پاسداری کی کوششوں کی طرف تھا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پانی ہمارے پورے خطے میں انسانی زندگی اور بقا کی بنیاد ہے، جو لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو برقرار رکھتا ہے، ہماری زراعت و زمینوں کو سیراب کرتا ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بناتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارے مشترکہ آبی وسائل سے متعلق تمام تر معاہدے سنجیدہ، باہم طے شدہ اور پابند بین الاقوامی عہد ہیں، یہ کوئی ایسے معمولی سیاسی معاملات نہیں ہیں جنہیں کوئی بھی ملک اپنی مرضی یا پسند ناپسند کے مطابق نظر انداز کر دے۔

دہشت گردی اور علاقائی سیکیورٹی کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان علاقائی سطح پر دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے ہمیشہ کی طرح فعال اور کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پُرامن، مستحکم اور معاشی طور پر خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے۔ تاہم، انہوں نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا کہ اس حوالے سے کسی کے ذہن میں کوئی ابہام یا شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ جب تک دہشت گرد افغان سرزمین کا استعمال کرتے ہوئے بے گناہ پاکستانیوں اور دیگر ممالک کے شہریوں کا خون بہاتے رہیں گے، تب تک خطے میں پائیدار اور حقیقی امن ہماری پہنچ سے دور ہی رہے گا۔

پاکستان کا ڈیجیٹل انقلابی فریم ورک: 1 لاکھ 32 ہزار سے زائد نوجوانوں کی تربیت اور آئی ٹی برآمدات کو وسعت دینے کے لیے ریکارڈ اقدامات کا آغاز

منصور احمد, September 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

پاکستان کی حکومت نے ملکی ڈیجیٹل افرادی قوت کو عالمی معیار کے مطابق وسعت دینے اور آئی ٹی برآمدات میں تاریخی اضافہ حاصل کرنے کے لیے جامع اور ہمہ جہت اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ اس خصوصی فریم ورک کے تحت نیشنل سیمی کنڈکٹر ایچ آر ڈویلپمنٹ پروگرام (انسپائر) کا آغاز کیا گیا ہے جس میں 7 ہزار 200 پیشہ ور افراد کو تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں مزید 25 ہزار سے زائد نوجوانوں اور صنعتی شراکت داری کے ذریعے ایک لاکھ سے زائد طلبہ کو خصوصی ٹریننگ فراہم کی جائے گی۔

حکومت کو موصول ہونے والی سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے زیرِ انتظام انسپائر پروگرام کے ذریعے قائم سیمی کنڈکٹر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کلسٹرز سے 2 ہزار 200 انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ براہِ راست مستفید ہوں گے، جبکہ ملک گیر اپ سکلنگ پروگرامز کے تحت مزید 5 ہزار انجینئرز کو سیمی کنڈکٹر ڈیزائننگ اور ٹیکنالوجی کی جدید ترین تربیت دی جائے گی تاکہ ملک میں سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کی بنیاد رکھی جا سکے۔

اس کے ساتھ ہی وزیراعظم ‘سکل ٹیک پاکستان’ انیشی ایٹو کے تحت آئندہ تین سال کے دوران 25 ہزار سے زائد نوجوانوں کو مارکیٹ کی طلب کے مطابق مصنوعی ذہانت سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا اینالیٹکس اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کی عملی تربیت دی جائے گی۔ اس منصوبے میں بوٹ کیمپس، انٹرن شپس اور عالمی سرٹیفیکیشنز بھی شامل کی گئی ہیں تاکہ برآمدات کے لیے تیار باصلاحیت افرادی قوت تشکیل دی جا سکے۔

علاوہ ازیں، پی ایس ای بی نے عالمی کمپنی زیڈ ٹی ای پاکستان کے ساتھ یوتھ ڈویلپمنٹ کا بڑا معاہدہ طے کیا ہے جس کے تحت آرٹیفیشل انٹیلی جنس، فائیو جی اور مواصلاتی ٹیکنالوجیز میں آن لائن تعلیمی پروگرامز کے ذریعے ایک لاکھ طلبہ کو مکمل مفت تربیت فراہم کی جائے گی، جس کے لیے 100 ماسٹر ٹرینرز بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔

ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی مضبوطی کے لیے حکومت وزیراعظم نیشنل ٹیکنالوجی پارکس کی تعداد بڑھا کر 250 مراکز تک لے جا رہی ہے جبکہ اسلام آباد اور کراچی میں وسیع اسٹیٹ آف دی آرٹ آئی ٹی پارکس کا قیام آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ آئی ٹی برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے پی ایس ای بی کا ‘ون ونڈو پلیٹ فارم’ 24 گھنٹے خدمات فراہم کر رہا ہے جس کے ذریعے آن لائن رجسٹریشن، ویزا سہولت اور زرِ مبادلہ کی ترسیلات کے طریقہ کار کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تعاون سے انتہائی آسان اور شفاف بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان نے امریکی سرکاری خریداری کے طریقہ کار کو سمجھنے اور عالمی ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے اپنا پہلا ‘یو ایس ایس ایل ای ڈی’ پروکیورمنٹ ٹریننگ پروگرام بھی شروع کر دیا ہے۔

عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جیل سہولیات کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ کا اڈیالہ جیل انتظامیہ کو قیدِ تنہائی ختم کرنے کا بڑا حکم

کاشف عباسی , September 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

اسلام آباد ہائیکورٹ کے محترم جسٹس خادم حسین سومرو نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جیل سہولیات اور بنیادی حقوق سے متعلق دائر درخواستوں پر اہم اور تفصیلی فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت عالیہ نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو واضح حکم جاری کیا ہے کہ دونوں شخصیات کو کسی بھی صورت قیدِ تنہائی میں نہ رکھا جائے اور آئین و قانون کے مطابق تمام قانونی و بنیادی حقوق اور انسانی سہولیات بلا تاخیر فراہم کی جائیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق اڈیالہ جیل انتظامیہ کو باقاعدہ ہدایت کی گئی ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپس میں باقاعدہ ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے اپنے اہل خانہ، وکلاء اور عزیز و اقارب سے جیل قوانین کے مطابق تمام ملاقاتیں یقینی بنائی جائیں۔ اس کے علاوہ مطالعے کے لیے کتابیں، روزنامچے اور ٹیلی ویژن کی سہولت فوری طور پر بحال کرنے کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ عدالت نے یہ حکم بھی دیا کہ عمران خان کو جیل احاطے میں روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ ایسی کھلی جگہ پر واک اور قدم زنی کی اجازت دی جائے جہاں معمول کا انسانی میل جول ممکن ہو، جبکہ ان سے ملنے والے تمام افراد کا باقاعدہ اندراج اور ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔

عمران خان کے لیگل کونسل خالد یوسف چوہدری نے عدالتی فیصلے کی تفصیلات ذرائع ابلاغ کو بتاتے ہوئے تصدیق کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے تحت سابق وزیراعظم کو بیرونِ ملک مقیم اپنے بیٹوں سے آڈیو، ویڈیو اور واٹس ایپ کالز کے ذریعے مسلسل رابطے میں رہنے کی اجازت مل گئی ہے۔ تاہم، عدالت عالیہ نے فیصلے میں ایک اہم مشروط شق بھی شامل کی ہے کہ اگر ان ٹیلی فونک یا ویڈیو کالز کو ریکارڈ کر کے بعد میں کسی بھی قسم کے سیاسی مقاصد یا مہم جوئی کے لیے استعمال کیا گیا تو جیل حکام کے پاس یہ سہولت واپس لینے کا قانونی اختیار ہو گا۔

ہائیکورٹ نے اپنے جامع فیصلے میں اس قانونی نقطے کو بھی نمایاں کیا ہے کہ اگر جیل انتظامیہ عمران خان یا بشریٰ بی بی کو قانون یا عدالت کے تحت حاصل کسی بھی ریلیف یا سہولت سے محروم کرتی ہے، تو انتظامیہ کو اس محرومی کی باقاعدہ تحریری وجوہات اور قانونی جواز فراہم کرنا ہوں گے۔ عدالت عالیہ نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو پابند کیا ہے کہ وہ آئندہ 15 روز کے اندر ان تمام عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔

غیر ملکی جہازوں پر انحصار کم کرنے، مقامی شپنگ اور بندرگاہوں کو جدید بنانے کے لیے وزیراعظم ٹاسک فورس کے 99 نکاتی بحری روڈ میپ پر تیزی سے عملدرآمد جاری

منصور احمد, September 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

پاکستان کے وسیع سمندری وسائل کو ملک کی حقیقی معاشی طاقت میں تبدیل کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت بحری شعبے میں مکمل خود انحصاری کے لیے جامع اور ہنگامی اقدامات کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔

100 ارب ڈالر سے زائد کی بلیو اکانومی کی شاندار صلاحیت رکھنے والے پاکستان میں بندرگاہوں، شپنگ، شپ بلڈنگ، لاجسٹکس اور ماہی گیری کے شعبوں میں انقلابی اصلاحات کے ذریعے غیر ملکی انحصار کم کرنے اور قومی بحری صنعت کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر بلیو اکانومی کی اس استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے پالیسی ساز سطح پر اصلاحات کا عمل تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

پاکستان کے وسیع ساحلی اور سمندری خطے میں 100 ارب ڈالر سے زائد کی بحری معیشت کا حجم موجود ہے، تاہم افسوسناک طور پر ماضی میں ملک اپنے بحری وسائل اور قومی بحری اثاثوں سے مطلوبہ اور مناسب معاشی فوائد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ماضی کی پالیسیوں کی وجہ سے ملکی کارگو کی ایک بہت بڑی مقدار غیر ملکی جہازوں کے ذریعے منتقل ہوتی رہی جس کے باعث پاکستان کی قومی شپنگ انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ بندرگاہوں کی ڈریجنگ، ماہی گیری کی جدید کشتیوں کی تیاری اور دیگر اہم بحری خدمات میں بھی غیر ملکی کمپنیوں پر انحصار مسلسل برقرار رہا۔ اس بیرونی انحصار کے نتیجے میں پاکستان کو سالانہ اربوں ڈالر کے معاشی نقصانات اور زرِ مبادلہ کے نچوڑ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ہمارے قومی کارگو کی نقل و حمل میں پاکستانی شپنگ انڈسٹری کا حصہ تشویشناک حد تک محض 11 فیصد تک محدود رہا۔

انہی سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی قائم کردہ ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت 99 نکاتی بحری روڈ میپ پیش کیا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بحری شعبے کو جدید، مسابقتی اور مکمل خود انحصار بنانا ہے۔

اس جامع روڈ میپ کے تحت بندرگاہوں کی صلاحیت میں اضافہ، شپنگ لائنز، لاجسٹکس، شپ بلڈنگ اور ماہی گیری سمیت بحری معیشت کے تمام اہم ستونوں میں اصلاحات اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی کام کیا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت کا حتمی مقصد پاکستان کی بلیو اکانومی کی اس وسیع صلاحیت کو فعال بناتے ہوئے مقامی شپنگ صنعت کو مضبوط کرنا، قومی بحری اثاثوں سے پیداوار بڑھانا اور غیر ملکی ڈائریکٹ انحصار ختم کرنا ہے، تاکہ بحری شعبہ ملکی تجارت، روزگار کی فراہمی، بیرونی سرمایہ کاری اور پائیدار معاشی ترقی کا سب سے مؤثر ذریعہ بن کر ابھرے۔

بشکیک میں ایس سی او اجلاس کا موقع: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ازبک وزیر خارجہ بختیار سعیدوف سے اہم ملاقات

منصور احمد, September 01,2026

بشکیک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے موقع پر ازبکستان کے وزیرِ خارجہ بختیار سعیدوف سے ایک اہم ملاقات کی ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ سے جاری باضابطہ بیان کے مطابق اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان قائم قریبی، دوستانہ اور مسلسل بڑھتی ہوئی سٹریٹجک شراکت داری کا دہرایا اور تمام شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کا اعادہ کیا۔

ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے تمام تر شعبوں، خاص طور پر تجارتی، معاشی، علاقائی روابط اور سیکیورٹی تعاون کو مزید فعال اور مضبوط بنانے کے مختلف عملی طریقوں اور اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

امریکہ اور ایران میں عسکری کشیدگی پر اقوام متحدہ کا اظہارِ تشویش: انتونیو گوتریش کا فریقین سے شدید ترین تحمل کا مطالبہ

محمود احمد, September 01,2026

اقوام متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی شدید عسکری کشیدگی پر گہرے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔

چین کے خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفین دوجارک نے نیویارک میں ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہفتے کے اختتام پر ہونے والی فوجی کارروائیوں اور حملوں میں ناخوشگوار اضافہ انتہائی افسوسناک اور عالمی امن کے لیے خطرناک ہے۔

ترجمان کے مطابق سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے ایک بار پھر تمام متعلقہ فریقین سے شدید ترین تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عسکری ٹکراؤ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے، اسی لیے وہ تمام سفارتی سرگرمیوں اور دوطرفہ یا کثیرالجہتی مذاکرات کی فوری بحالی کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ صرف باہمی گفتگو اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ایک ایسا پائیدار حل تلاش کیا جا سکتا ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں مکمل استحکام، عدم تشدد اور تمام فریقوں کے مابین اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو سکے۔