جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم کے انتقال پر گورنر خیبرپختونخوا کا اظہارِ تعزیت

منصور احمد, JULY 23,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم کے ناگہانی انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

گورنر ہاؤس پشاور کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تعزیتی پیغام میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے مرحوم کے غمزدہ اہل خانہ، جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت، کارکنان اور تمام سوگواران سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

گورنر خیبرپختونخوا نے مرحومات کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امیر العظیم ایک مدبر، باوقار اور اصول پسند سیاسی و مذہبی رہنما تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی ملک، قوم، جمہوری اقدار اور دینی تعلیمات کے فروغ و نفاذ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے مرحوم کی مغفرت اور بلندیٔ درجات کے لیے دعا کی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ امیر العظیم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو اس عظیم صدمے پر صبرِ جمیل کی توفیق دے۔

پاکستان ریلوے کی بحالی اور جدید کاری کے لیے 2033ء تک کے 10 سالہ سٹریٹجک روڈ میپ پر کام کا آغاز؛ ایم ایل-1 اور ایم ایل-3 شامل

کاشف عباسی , JULY 23,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

حکومتِ پاکستان نے ملک میں ریلوے کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، محفوظ بنانے اور ادارے کو مالی طور پر خودمختار و مستحکم کرنے کے لیے 2033ء تک کے 10 سالہ جامع سٹریٹجک روڈ میپ پر باقاعدہ کام شروع کر دیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی نے اسلام آباد میں ‘اُڑان پاکستان’ پروگرام کے تحت پاکستان ریلوے کی بحالی و اصلاحات سے متعلق منعقدہ خصوصی اعلیٰ سطحی گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر نے کانفرنس کے شرکاء کو بتایا کہ 10 سالہ روڈ میپ کے تحت مین لائن 1 (ML-1) اور مین لائن 3 (ML-3) کی اپ گریڈیشن، علاقائی مواصلاتی رابطوں کا فروغ اور ادارے کے تمام شعبوں کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن جیسے اہم منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔

محمد حنیف عباسی نے ریلوے کی شاندار مالیاتی پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا کہ مالی سال 2025-26ء کے دوران پاکستان ریلوے نے 115 ارب روپے کی تاریخ ساز اور ریکارڈ آمدنی حاصل کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ادارے کی مجموعی آمدن میں 24.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، مال برداری (فرائیٹ) کی آمدن 32 ارب سے بڑھ کر 41 ارب روپے تک پہنچ گئی، جبکہ پراپرٹی و لینڈ ریونیو میں 113 فیصد کی تاریخی ترقی ہوئی۔ اس کے علاوہ آپریٹنگ ریشو 96 فیصد سے بہتر ہو کر 84 فیصد پر آ گئی ہے۔

وزیر ریلوے نے فورم کے انعقاد پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے کی بحالی محض ٹرانسپورٹ کا ایک ذریعہ نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی ترقی کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ‘تھر کول ریلوے کنیکٹیوٹی’ منصوبے پر 60 فیصد سے زائد کام مکمل ہو چکا ہے اور اسے دسمبر 2026ء تک مکمل کر لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ای آر پی سسٹمز، ڈیجیٹل ٹکٹنگ، سمارٹ ریلوے سٹیشنز اور نجی شعبےکی شراکت داری سے پاکستان ریلوے کو جلد ہی قومی ترسیل و لاجسٹکس کی اصل ریڑھ کی ہڈی بنا دیا جائے گا۔

گلیشیئرز پگھلنے اور سیلابی ریلوں سے متاثرہ علاقوں میں فوری امداد و بحالی کے کام تیز کیے جائیں؛ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ہدایت

روزینہ اسماعیل, JULY 23,2026

گلگت (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے خطے میں جاری شدید بارشوں، گلیشیئرز کے پگھلنے اور سیلابی ریلوں کے باعث متاثرہ علاقوں میں ہنگامی امدادی اور بحالی کی سرگرمیوں کو مزید تیز کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔

اپنے ایک اہم بیان میں وزیراعلیٰ نے تمام متعلقہ محکموں، جی بی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کو چوبیس گھنٹے ہائی الرٹ پر رہنے کا حکم دیا تاکہ شہریوں کے جان و مال کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے محکمہ خوراک اور صحت کو خصوصی ہدایات دیں کہ متاثرہ اضلاع میں راشن، پینے کے صاف پانی، خیموں، ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی فوری و بلا تعطل فراہمی ممکن بنائی جائے۔ اس کے علاوہ، سیلابی ریلوں سے متاثر ہونے والے بنیادی ڈھانچے، پلوں، مرکزی شاہراہوں اور ذیلی رابطہ سڑکوں کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت اور آمد و رفت کی بحالی کے لیے بھاری مشینری کو فیلڈ میں متحرک کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

انہوں نے گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (جی بی ڈی ایم اے) کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ساتھ مسلسل اور مکمل رابطے میں رہنے کی تاکید کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت اس مشکل گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل متاثرین کی بحالی پر صرف کیے جائیں گے۔ تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو خود فیلڈ میں جا کر امدادی کاموں کی نگرانی کرنے اور روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ چیف منسٹر سیکرٹریٹ کو ارسال کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔

سندھ میں پی پی پی یونٹ کو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بنانے کا فیصلہ؛ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں اہم اجلاس

کاشف عباسی , JULY 22,026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے میں بنیادی ڈھانچے اور سرمایاکاری کی پیش رفت کو نئے مرحلے میں داخل کرنے کے لیے ‘پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ’یونٹ کو باقاعدہ طور پر ایک تجارتی اور خود مختار ‘پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی’ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ اہم فیصلہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیا گیا، جس میں معاونِ خصوصی برائے سرمایہ کاری سید قاسم نوید، چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکرٹری آغا واصف، چیئرمین پی اینڈ ڈی بورڈ نجم شاہ، سیکرٹری خزانہ فیاض جتوئی، سیکرٹری ٹرانسپورٹ اسد زمین اور دیگر سینیئر حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سندھ کا پی پی پی پروگرام ملک بھر میں ذیلی قومی سطح پر سب سے نمایاں پلیٹ فارم بن چکا ہے، جس کے تحت ٹرانسپورٹ، سڑکیں، اقتصادی زونز، آئی ٹی، صحت، تعلیم اور ماحولیات کے متعدد عالمی معیار کے منصوبے جاری ہیں۔ ‘دی اکانومسٹ’ کی رپورٹ کے مطابق سندھ کا پی پی پی ماڈل ایشیا میں چھٹے نمبر پر رہ چکا ہے۔ تاہم ماہر عملے کو برقرار رکھنے اور تجارتی لچک حاصل کرنے کے لیے اس ادارے کی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے طور پر تنظیمِ نو انتہائی ضروری تھی۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ مجوزہ ادارہ جاتی تبدیلی کے ذریعے آپریشنل رکاوٹیں دور کی جائیں اور ماہرین کی خدمات سے استفادہ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی سے کمپنی کو مالیاتی ذرائع حاصل کرنے، ضرورت کے مطابق ایکویٹی سرمایہ کاری کرنے اور آزادانہ تجارتی فیصلے کرنے کی لچک میسر آئے گی۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ احتساب پر سمجھوتہ کیے بغیر مضبوط طرزِ حکمرانی، شفافیت اور واضح قانونی نگرانی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ سرمایاکاروں کا اعتماد مزید مستحکم ہو اور صوبے میں عمومی و سماجی ترقی کا عمل مزید تیز ہو سکے۔

اوگرا کا 23 جولائی کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان؛ پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہو گیا

منصور احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

وفاقی حکومت کے نظرثانی شدہ پٹرولیم پرائسنگ میکنزم کے تحت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے 23 جولائی 2026ء سے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں میں ردوبدل کا رسمی نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے۔

اسی طرح عوام کے لیے موٹر اسپرٹ (پٹرول) کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

پٹرولیم ڈویژن کے مطابق نئی مقرر کردہ قیمتوں کا باقاعدہ اطلاق آج رات 12 بجے (23 جولائی) سے ملک بھر میں ہو جائے گا۔

اڑان پاکستان کے تحت اصلاحات کے لیے تجاویز کی تیاری جاری؛ معاشی استحکام سے پائیدار ترقی کے سفر کی جانب اہم پیش رفت

منصور احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ‘اڑان پاکستان’ فریم ورک کے تحت مختلف اہم شعبوں کی اصلاح اور ٹرانسفارمیشن کے لیے وسیع المشورہ عمل کے ذریعے جامع تجاویز مرتب کر کے متعلقہ اداروں کو بھیجی جا رہی ہیں، تاکہ ملک میں جاری اصلاحاتی کوششوں کو زیادہ نتیجہ خیز اور مؤثر بنایا جا سکے۔

سرکاری گفتگو کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان گزشتہ چار برسوں کے شدید اور مشکل معاشی دور سے نکل کر اب باقاعدہ معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو چکا ہے۔ تاہم، حکومت کا اصل اور حتمی ہدف ملک میں پائیدار اور مستحکم معاشی ترقی کا حصول ہے۔

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ برآمدات میں اضافہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کا بنیادی انجن ہوتا ہے، جبکہ کسی بھی ملک کی برآمدی صلاحیت کا براہِ راست تعلق ایک مؤثر، تیز رفتار اور کم لاگت لاجسٹکس نظام سے جڑا ہوتا ہے۔

مزید کہا گیا کہ توانائی اور ٹرانسپورٹیشن پیداواری لاگت کے دو سب سے اہم عوامل ہیں۔ تاہم، بدقسمتی سے ماضی میں پاکستان ریلوے جیسے اہم قومی ادارے کو مطلوبہ وسائل اور ضروری سرمایہ کاری سے محروم رکھا گیا، جس کے منفی اثرات اس کی مجموعی کارکردگی اور لاجسٹکس کی لاگت پر مرتب ہوئے۔ حکومت اب ریلوے اور ٹرانسپورٹیشن کے شعبے کی بحالی اور جدید کاری پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

شدید مون سون بارشوں اور مغربی ہوائوں کے باعث ملک بھر میں سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری؛ این ڈی ایم اے نے انتباہ جاری کر دیا

روزینہ اسماعیل, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 22 سے 24 جولائی کے دوران ملک میں شدید مون سون بارشوں اور مغربی ہوائوں کے سلسلے کے پیشِ نظر مختلف دریاؤں، ندی نالوں اور شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال کے لیے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

این ڈی ایم اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر، بلوچستان اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں تیز اور موسلادھار بارشوں کے باعث پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی، آبشاروں کے تیز بہاؤ اور شہری علاقوں میں سیلابی صورت حال پیدا ہونے کا شدید خدشہ ہے۔

ہائیڈرولوجیکل پیشن گوئی کے مطابق دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب جبکہ دریائے جہلم میں منگلا کے بالائی علاقوں میں درمیانے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں، دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران کم درجے کی سیلابی صورتحال جبکہ سوات، کابل، پنجکوڑہ اور چترال کے دریاؤں میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافے کی توقع ہے۔

این ڈی ایم اے نے راولپنڈی، جہلم، فیصل آباد، پشاور، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کے نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو اربن فلڈنگ کے پیشِ نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تمام متعلقہ صوبائی و ضلعی اداروں کو ایمرجنسی ٹیمیں الرٹ رکھنے، شاہراہوں کی بحالی کے لیے مشینری تیار رکھنے اور پانی کے بہاؤ پر مسلسل نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

شہریوں کو حساس و پہاڑی علاقوں کا غیر ضروری سفر نہ کرنے اور بروقت آگاہی کے لیے ‘پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ’ موبائل ایپ سے رہنمائی حاصل کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

تاریخی اصول پر اُردو لغت کے نظرثانی شدہ ایڈیشن کی پہلی 3 جلدوں کی رونمائی؛ تمام 22 جلدوں کی اشاعت کے لیے ایم او یو پر دستخط

منصور احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے ‘تاریخی اصول پر اُردو لغت’ کے نظرثانی شدہ ایڈیشن کی پہلی تین جلدوں کی باقاعدہ رونمائی کرتے ہوئے اُردو زبان کے فروغ اور پاکستان کے لسانی و ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے حکومت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔

وزارت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، نیشنل لینگویج پروموشن ڈیپارٹمنٹ (این ایل پی ڈی) کے زیرِ اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ خوبصورت نستعلیق رسم الخط میں شائع ہونے والا یہ جدید ایڈیشن اُردو زبان کی ارتقاء کا مظہر اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی علمی سرمایہ ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ممتاز ماہرِ لسانیات اور برکاتی فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی کی مالی و علمی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز کے لیے نامزد کرنے کا باضابطہ اعلان کیا۔

تقریب کے دوران لغت کی تمام 22 جلدوں کی مکمل اشاعت کے لیے وفاقی حکومت اور برکاتی فاؤنڈیشن کے درمیان ایک اہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط بھی کیے گئے۔ وفاقی سیکرٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت اسد رحمان گیلانی اور ڈی جی این ایل پی ڈی پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تحقیقی معیار کے اعتبار سے یہ تاریخی لغت عالمی سطح کی ممتاز لغات کے ہم پلہ ہے، جس کی باقی ماندہ جلدوں پر کام اب مزید تیز رفتاری سے مکمل کیا جائے گا۔

تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی نے وفاقی وزیر کو لغت کی شائع شدہ جلدیں اور تبرکات پیش کیے، جبکہ وفاقی وزیر نے انہیں گراں قدر لسانی خدمات کے اعتراف میں تعریفی سند سے نوازا۔

المیزان فاؤنڈیشن میں مالیاتی نظم و ضبط اور ڈیجیٹل تبدیلی میں نمایاں پیش رفت؛ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی ایڈوائزری بورڈ کے اجلاس کی صدارت

کاشف عباسی , JULY 22,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ المیزان فاؤنڈیشن میں ادارہ جاتی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، ڈیجیٹل تبدیلی اور فلاحی خدمات کی فراہمی کے شعبوں میں نمایاں اور مثبت پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز سپریم کورٹ آف پاکستان میں المیزان فاؤنڈیشن کے ایڈوائزری بورڈ کے سالانہ جنرل اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اعلیٰ سطحی اجلاس میں ملک بھر کی تمام ہائی کورٹس کے معزز چیف جسٹس صاحبان نے شرکت کی۔ بورڈ نے سابقہ فیصلوں پر عمل درآمد، واجبات کی وصولی، ریکارڈ مینجمنٹ اور جدید طرزِ حکمرانی کے اقدامات کا جائزہ لیا اور ان کی کارکردگی کو سراہا۔

اجلاس کے دوران المیزان فاؤنڈیشن کے 2025ء تا 2030ء کے پانچ سالہ اسٹریٹجک اہداف اور مالی سال 2026-27ء کے سالانہ بجٹ کی باقاعدہ منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ فاؤنڈیشن کے قواعد و ضوابط، مالی اختیارات کے شیڈول، اینڈومنٹ و انویسٹمنٹ فنڈ رولز، ویلفیئر پالیسی اور گورننس اینڈ ایڈمنسٹریشن پالیسی 2026ء کا جدید ترین اصلاحاتی پیکیج بھی منظور کر لیا گیا۔

بورڈ نے اسلامی انٹرنیشنل میڈیکل کالج ٹرسٹ کے ساتھ مزید 25 سالہ تعاون کے معاہدے کی توثیق کا خیرمقدم کیا، جس کے تحت فاؤنڈیشن کو 148 فیصد زائد رائلٹی، میڈیکل پروگراموں میں سالانہ 43 وظائف اور جدید طبی سہولیات میسر آئیں گی۔ علاوہ ازیں المیزان فاؤنڈیشن کی حدود میں مجوزہ میڈیکل کمپلیکس کے قیام اور گزشتہ سالوں کے بیرونی مالیاتی آڈٹ کی منظوری دیتے ہوئے شفافیت کو مزید یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات کا ٹریفک پولیس ہیڈکوارٹرز کا دورہ؛ ٹریفک قوانین اور پولیس آپریشنز سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی

کاشف عباسی , JULY 22,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

مختلف یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات کے ایک وفد نے اسلام آباد ٹریفک پولیس ہیڈکوارٹرز کا تعلیمی دورہ کیا۔

ترجمان پولیس کے مطابق دورے کے دوران اسلام آباد ٹریفک پولیس ایجوکیشن ونگ کی ٹیم نے طلبہ کو پولیس کے مختلف شعبہ جات کی کارکردگی، روڈ سیفٹی اور ٹریفک کے قوانین سے متعلق تفصیلی آگاہی فراہم کی۔

اس موقع پر چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) اسلام آباد کائنات اظہر خان نے طلبہ کو اسلام آباد ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کی سہولت اور دارالحکومت میں ٹریفک کے نظام کو جدید بنانے کے لیے شروع کیے گئے عوام دوست پولیسنگ کے منصوبوں سے متعلق جامع معلومات فراہم کیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی پاسداری اور روڈ سیفٹی سے متعلق آگاہی کا فروغ ہماری ترجیحات میں شامل ہے اور اس حوالے سے نوجوان بالخصوص طلبہ و طالبات کا کردار انتہائی اہم ہے۔

پاک ایران ریلوے تعاون اور باہمی تجارت کے فروغ کا عزم؛ اسلام آباد، تہران، استنبول مال بردار ٹرین سروس کی بحالی پر تبادلۂ خیال

منصور احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی سے ایران کے وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران دونوں برادر ممالک کے درمیان ریلوے تعاون، سرحد پار رابطوں اور باہمی تجارت کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر ‘اسلام آباد-تہران-استنبول’ مال بردار ٹرین سروس کی بحالی پر گفتگو کے ساتھ ساتھ 1959ء کے دوطرفہ ریلوے معاہدے اور 2025ء کے تعاون کے فریم ورک کے تحت تکنیکی و تجارتی روابط کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

وفاقی وزیرِ ریلوے حنیف عباسی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ‘مین لائن تھری’ پاکستان اور ایران کے درمیان ریلوے رابطے کا بنیادی کوریڈور ہے۔ اس اہم ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن کا کام اسی مالی سال کے دوران شروع ہونے کی توقع ہے جو دسمبر 2029ء تک مکمل ہوگا، جس سے علاقائی تجارت کو غیر معمولی فروغ حاصل ہوگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی ریلوے کی درخواست پر تفتان ریلوے اسٹیشن کو باقاعدہ طور پر ‘کسٹمز کلیئرنس اسٹیشن’ کا درجہ دے دیا گیا ہے تاکہ سرحد پار مال برداری کا عمل آسان بنایا جا سکے۔

حنیف عباسی نے زاہدان سے تفتان کے ریلوے سیکشن کی بحالی پر ایرانی اقدامات کو سراہا اور حالیہ چیلنجز کے دوران ایرانی قوم اور قیادت کی استقامت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے گرمجوش میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاک ایران تعلقات تاریخی، مضبوط اور انتہائی گہرے ہیں جو گزشتہ دو سالوں میں مثالی سطح تک پہنچے ہیں۔ انہوں نے حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کی غیر متزلزل حمایت، بالخصوص وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مؤثر سفارتی کاوشوں اور مخلصانہ کوششوں کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ ایرانی وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ مشکل وقت میں پاکستان کے اس برادرانہ اور مخلصانہ کردار کو ایرانی قوم ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھے گی اور یاد رکھے گی۔

تجارتی سرگرمیوں میں تاریخی اضافے کے بعد پورٹس پر رش کم کرنے کے لیے پاکستان کسٹمز کے تاریخی اقدامات؛ کراچی ٹرمینلز پر کام تیز

محمود احمد, JULY 21,2026

اسلام آباد — 21 جولائی 2026ء

پاکستان کسٹمز نے کراچی کے دونوں بڑے کنٹینر ٹرمینلز پر تجارتی رش اور ازدحام کو واضح طور پر کم کرنے اور پورٹ آپریشنز کو تیز تر بنانے کے لیے کئی فیصلہ کن اور تاریخی اقدامات کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

کسٹمز حکام کے مطابق، جولائی کے دوران عالمی معاشی صورتحال میں بہتری اور خلیج فارس میں سیکیورٹی کشیدگی میں کمی کے باعث پاکستان کی بحری تجارت میں غیر معمولی اور ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، یکم جولائی سے 25 جولائی کے دوران دونوں بڑے ٹرمینلز پر مجموعی طور پر 56 بحری جہازوں نے لنگرانداز کیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 49 جہازوں کے مقابلے میں 14.3 فیصد زیادہ ہے۔ صرف جنوبی ایشیا ٹرمینل پر کنٹینرز کی نقل و حرکت 12 فیصد اضافے کے ساتھ 52 ہزار سے زائد کنٹینرز تک جا پہنچی ہے۔

اس تجارتی دباؤ سے نمٹنے کے لیے پاکستان کسٹمز نے اپنے سامان کی تلاشی اور کلیرنس کے آپریشنز کی رفتار میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ جولائی میں معائنہ شدہ سامان کی تعداد 4,298 تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال 4,007 تھی۔ اس کے علاوہ معائنے کے لیے نشان زد نئے شعبوں اور کوڈز میں تقریباً 20 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو تجارتی حجم کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان کسٹمز کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ تمام پورٹس پر عملے کی حاضری سو فیصد یقینی بنائی گئی ہے اور سامان کی بروقت کلیرنس کے لیے تمام پورٹس پر اتوار کو بھی باقاعدگی سے کام جاری رکھا جا رہا ہے۔ کسٹمز حکام روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ رواں ہفتے کے اختتام تک تمام رش کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔

بحری ٹاسک فورس کے تحت پاکستان کسٹمز نے پورٹ پر برسوں سے پھنسے 2,000 سے زائد طویل المدتی کنٹینرز کو پورٹ سے باہر نجی گوداموں میں منتقل کر دیا ہے جس سے ٹرمینلز پر وسیع جگہ خالی ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ تمام پورٹس پر جدید سکینرز کی تنصیب کی گئی ہے جس سے بغیر کسی جسمانی مداخلت اور رکاوٹ کے تیز ترین جائزہ ممکن ہو رہا ہے۔ بلا تاخیر جائزے کے جدید نظام نے پورٹ پر سامان کی کلیرنس کا وقت اور تاجروں کے لیے کاروبار کی لاگت کو نمایاں حد تک کم کر دیا ہے۔ کسٹمز حکام ‘تنگنائے ہرمز’ کی تازہ ترین بحری صورتحال پر بھی مسلسل کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوراً نمٹا جا سکے۔

آزاد کشمیر کا الیکشن جیتے تو شہباز شریف سے کہوں گا مجھے یہاں کا وزیراعظم بنا دیں؛ مظفرآباد جلسے میں نواز شریف کی خواہش کا اظہار

منصور احمد, JULY 21,2026

مظفرآباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد و صدر محمد نواز شریف نے مظفرآباد میں ایک بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے خلوصِ دل سے خواہش ظاہر کی ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں الیکشن جیت گئی تو وہ وزیرِ اعظم شہباز شریف سے کہیں گے کہ انہیں آزاد کشمیر کا وزیرِ اعظم بنا دیا جائے۔

مظفرآباد کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ اگر وہ آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم نہ بن سکے تو پھر بھی ہر 3 ماہ بعد باقاعدگی سے مظفرآباد آئیں گے اور خود جائزہ لیں گے کہ ہماری حکومت کے منشور پر عمل درآمد ہو رہا ہے یا نہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ “نواز شریف جو کہتا ہے، اسے پورا کرتا ہے” اور اگر ہماری حکومت آئی تو پچھلی تمام محرومیوں کا ازالہ کر کے دکھائیں گے۔

اس موقع پر انہوں نے مظفرآباد کے عوام کے لیے فوری طور پر 10 جدید ‘گرین بسیں’ چلانے کا اعلان کیا اور بتایا کہ چند ہی دنوں میں یہ بسیں مظفرآباد پہنچ جائیں گی۔ اس کے علاوہ انہوں نے خطے میں صحت کی بہترین سہولیات کے لیے 15 موبائل اسپتال فراہم کرنے اور آزاد کشمیر کے مجموعی ترقیاتی بجٹ میں 10 گنا اضافہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ وہ خون، نسل، روح اور دل و دماغ سے کشمیری ہیں۔ انہوں نے عوام کو بشارت دی کہ اب انہیں دور دراز علاج کے لیے اسپتال نہیں جانا پڑے گا بلکہ “اسپتال پہیوں پر چل کر خود ان کے پاس آئے گا”۔ مریم نواز نے مزید اعلان کیا کہ پنجاب کی طرز پر ‘اپنی چھت، اپنا گھر’ کا فلاحی منصوبہ مظفرآباد میں بھی شروع کیا جائے گا۔

پاکستان پارلیمانی سفارتکاری اور تجارتی روابط کے ذریعے کینیڈا کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے؛ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا خطاب

کاشف عباسی , JULY 21,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان پارلیمانی سفارتکاری، دوطرفہ تجارت اور عوامی روابط کو وسعت دے کر کینیڈا کے ساتھ اپنی 8 دہائیوں پر محیط دیرینہ اور استوار دوستی کو ایک نئے اقتصادی و سیاسی باب میں داخل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند کے پہلے سرکاری دورۂ پاکستان کے موقع پر ان کے اعزاز میں منعقدہ پرُتپاک استقبالیہ تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب اور بعد ازاں کینیڈین وفد سے تفصیلی ملاقات کے دوران چیئرمین سینیٹ نے دونوں ممالک کے تاریخی و دوستانہ تعلقات کا اعادہ کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے انیتا آنند کی عوامی خدمت، قانون دان کے طور پر خدمات اور سیاسی قیادت کی تعریف کی۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے تجارتی پیش رفت، بالخصوص 12 جنوری 2026ء کو کراچی بندرگاہ پر کینیڈین کینولا کی پہلی کھیپ کی آمد اور دوطرفہ اقتصادی مذاکرات کے مثبت نتائج کو سراہا۔

سید یوسف رضا گیلانی نے زور دے کر کہا کہ دوطرفہ تجارت اور غذائی سلامتی کے شعبے میں کینیڈا پاکستان کا انتہائی قابلِ اعتماد اور تزویراتی شراکت دار ہے۔ انہوں نے کینیڈا کو بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس میں فعال شرکت کی باضابطہ دعوت دی اور پاکستان کے اندر اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے فریم ورک کے تحت کان کنی، نایاب معدنیات، صاف ٹیکنالوجی، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیکسٹائل میں کینیڈین سرمایہ کاری کی پرزور حوصلہ افزائی کی، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ و تحفظ کے معاہدے پر جاری پیش رفت کو بھی خوش آئند قرار دیا۔

چیئرمین سینیٹ نے کینیڈا میں مقیم متحرک اور فعال پاکستانی کمیونٹی کی معاشی و سماجی خدمات کو سراہتے ہوئے تعلیمی وظائف، اعلیٰ تعلیم اور صحت عامہ خصوصاً پولیو کے خاتمے اور زچہ و بچہ کی صحت کے منصوبوں میں کینیڈین تعاون کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ انہوں نے نوبیل امن انعام یافتہ کینیڈین رہنما لیسٹر بی پیئرسن کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن صرف اقوام کے درمیان بہتر باہمی فہم و ادراک اور مشترکہ اعتماد سے ہی ممکن ہے۔

ملاقات کے دوران چیئرمین سینیٹ نے مسئلہ جموں و کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ اس بین الاقوامی تنازع کا حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی آرزوؤں کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں بھی دیرپا امن کے لیے سفارتی ذرائع اور مکالمے کو واحد حل قرار دیا۔

ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی کی پاکستان مونومنٹ آمد، یادگارِ شہدا پر حاضری اور پھولوں کی چادر چڑھائی

منصور احمد, JULY 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے وفاقی دارالحکومت میں قائم ‘پاکستان مونومنٹ’ کا دورہ کیا اور یادگارِ شہدا پر حاضری دے کر وطنِ عزیز کی دفاع و سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا۔

پاکستان مونومنٹ پہنچنے پر وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایرانی وزیرِ داخلہ کا پرُتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر فیڈرل کانسٹیبلری کے چاق و چوبند دستے نے معزز مہمان کو باقاعدہ سلامی پیش کی۔ ایرانی وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے یادگارِ شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی، فاتحہ خوانی کی اور شہدا کی عظیم اور بے مثال قربانیوں کے اعتراف میں احتراماً کچھ دیر خاموشی اختیار کی۔

بعد ازاں، معزز مہمان کو پاکستان مونومنٹ کے تاریخی پس منظر، منفرد فنِ تعمیر اور پاکستان کے بھرپور ثقافتی ورثے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ایرانی وزیرِ داخلہ نے یادگارِ شہدا اور پاکستان مونومنٹ کی تاریخی، قومی اور فنکارانہ اہمیت کو بے حد سراہا۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے شکر پڑیاں کی پہاڑی سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی دلکش خوبصورتی اور سرسبز مارگلہ پہاڑی سلسلے کا نظارہ بھی کیا۔

دورے کے موقع پر آئی جی فیڈرل کانسٹیبلری ریاض نذیر گاڑا اور ڈی آئی جی اسلام آباد سمیت دیگر اعلیٰ سول اور پولیس افسران بھی موجود تھے۔

پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ نارمل، کالا باغ اور خانکی کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

روزینہ اسماعیل, JULY 21,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کے حوالے سے تازہ ترین صورتِ حال جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ فی الوقت نارمل ہے، تاہم دریائے سندھ میں کالا باغ اور دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتِ حال درج کی گئی ہے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق، دریائے سندھ میں کالا باغ کے مقام پر پانی کی آمد دو لاکھ 69 ہزار کیوسک اور اخراج دو لاکھ 62 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ 13 ہزار کیوسک اور اخراج ایک لاکھ six ہزار کیوسک ہے، جبکہ تربیلا، تونسہ اور چشمہ کے مقامات پر پانی کا بہاؤ مکمل طور پر نارمل سطح پر ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ، تریموں، پنجند اور قادر آباد کے مقامات پر بھی بہاؤ فی الحال نارمل ہے۔ اس کے علاوہ دریائے راوی میں جسڑ، شاہدرہ، ہیڈ سدھنائی اور بلوکی، جبکہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا، سلیمانکی اور ہیڈ اسلام پر بھی صورتِ حال کنٹرول میں ہے۔ تاہم، دریائے راوی اور چناب سے ملحقہ قدرتی نالوں بشمول بسنتر، ڈیک، ایک، پلکھو، بھمبر، ہلسی اور ڈورا میں سیلاب کا خطرہ موجود ہے اور وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں فی الحال پانی کا بہاؤ نارمل ہے، لیکن ناگہانی سیلاب (فلیش فلڈنگ) کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

پی ڈی ایم اے کی رپورٹ میں انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ 24 جولائی تک پنجاب کے مختلف دریاؤں میں پانی کی سطح میں مزید اضافے کا امکان ہے، جبکہ لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سرگودھا، اوکاڑہ، ساہیوال، بہاولنگر اور راولپنڈی ڈویژن کے شہری علاقوں میں بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے دریاؤں کے کچے کے علاقوں اور پاٹ میں مقیم شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومتِ پنجاب کی جانب سے ممکنہ متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس فعال کر دیے گئے ہیں جہاں تمام بنیادی سہولیات، خوراک اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خراب موسم اور سیلابی صورتِ حال کے پیشِ نظر تمام احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔

پاک-کینیڈا تاریخی مشترکہ اعلامیہ جاری؛ تجارت، صاف توانائی، کان کنی اور زراعت میں تزویراتی تعاون کے فروغ پر مکمل اتفاق

محمود احمد, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

پاکستان اور کینیڈا نے دوطرفہ سفارتی، معاشی اور عوامی روابط میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین شراکت داری کو نئی تزویراتی بلندیوں پر لے جانے کے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی مشترکہ اعلامیے کے مطابق، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی خصوصی دعوت پر کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے ۲۰ جولائی ۲۰۲۶ء کو پاکستان کا اہم سرکاری دورہ کیا، جو کہ ان کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلا باضابطہ دورۂ پاکستان ہے۔ وزارتِ خارجہ میں دونوں رہنماؤں کے مابین ون آن ون ملاقات اور وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات ہوئے جس میں دوطرفہ تعلقات اور عالمی و علاقائی امور کا احاطہ کیا گیا۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق، نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کینیڈین ہم منصب کو خطے میں جاری تنازعات کے حل کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے پاکستان کے اس سفارتی کردار کو سراہا جس کے نتیجے میں تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت طے پائی۔ دونوں وزراء نے پائیدار جنگ بندی اور اس یادداشت کے تحت کیے گئے تمام وعدوں پر عمل درآمد پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے فروری ۲۰۲۶ء میں منعقد ہونے والے دوطرفہ مشاورتی اجلاس کے چھٹے دور کو انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے تزویراتی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔ ملاقات میں کینیڈا میں مقیم ۳ لاکھ سے زائد پاکستانی نژاد افراد اور ۹ ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ کی گراں قدر خدمات کو سراہتے ہوئے پارلیمانی، ثقافتی اور عوامی روابط کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

معاشی اور تجارتی شعبے میں دونوں وزراء نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ و فروغ کے معاہدے پر ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور مذاکرات جلد مکمل کرنے کے لیے باقاعدہ رابطے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، جبکہ پاک-کینیڈا مشترکہ ورکنگ گروپ برائے تجارت و سرمایہ کاری کو بھی دوبارہ فعال کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ توانائی کے شعبے میں کینیڈین کمپنی جے سی ایم پاور کے ۲۴۰ میگاواٹ دھابیجی ہائبرڈ ونڈ سولر منصوبے کو تمام ضروری ریگولیٹری منظوری ملنے کا خیرمقدم کیا گیا، جو کے الیکٹرک کے اشتراک سے پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔ غذائی تحفظ کے حوالے سے دونوں رہنماؤں نے کینیڈین کینولا کی درآمد کے لیے نباتاتی صحت کی شرائط پر مبنی ایک نئے پروٹوکول پر دستخط کیے، جبکہ پاکستان کی نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اور کینیڈین فوڈ انسپیکشن ایجنسی کے مابین تکنیکی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔

اعلامیے کے آخر میں واضح کیا گیا کہ فریقین نے عالمی سپلائی چینز میں اہم معدنیات کی تزویراتی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کان کنی کے شعبے اور معدنی تلاش میں کینیڈا کی مہارت سے فائدہ اٹھانے پر اتفاق کیا، جس کے تحت وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے سینیٹر اسحاق ڈار کو ۲۰۲۷ء میں کینیڈا میں منعقد ہونے والی پی ڈی اے سی کانفرنس میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی۔ علاقائی امن و سلامتی، خاص طور پر افغانستان کی صورتحال اور دہشت گردی کے خطرات پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے کینیڈین وزیرِ خارجہ نے اعلان کیا کہ کینیڈا اقوامِ متحدہ اور انٹرپول کے ذریعے پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ تعلیم، صحت اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے نئے ترقیاتی منصوبوں کی معاونت بھی کی جائے گی۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک-کینیڈا تعلقات اب ایک بالکل نئے اور مستحکم دور میں داخل ہو چکے ہیں۔

فیکٹری کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور اسٹیل پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ غیر قانونی؛ سپریم کورٹ نے محکمہ ان لینڈ ریونیو کی اپیل منظور کر لی

کاشف عباسی , JULY 20,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ٹیکس قوانین کے حوالے سے ایک انتہائی مقتدر اور تزویراتی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ فیکٹری یا کسی بھی صنعتی ڈھانچے کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور اسٹیل پر ٹیکس کی واپسی یا ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ قانون کے مطابق بالکل قابلِ قبول نہیں ہے، جبکہ سیلز ٹیکس قوانین کی تشریح سے متعلق معاملات محض حقائق کا تنازع نہیں بلکہ انتہائی اہم اور بنیادی قانونی سوالات ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے محکمہ ان لینڈ ریونیو کی اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ اور اپیلیٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو کے سابقہ فیصلوں کو سراسر کالعدم قرار دے کر محکمے کا اصل فیصلہ بحال کر دیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل تین رکنی مقتدر بینچ نے کمشنر ان لینڈ ریونیو زون ٹو، لارج ٹیکس پیئرز یونٹ کراچی کی جانب سے باوانی شوگر ملز لمیٹڈ کے خلاف دائر سول اپیل کا تفصیلی محفوظ فیصلہ جاری کیا۔ جسٹس عرفان سعادت خان کی جانب سے تحریر کردہ 12 صفحات پر مشتمل اس تزویراتی فیصلے کے مطابق، ٹیکس دہندہ کمپنی نے جولائی سے دسمبر 2013ء کے دوران اپنی فیکٹری کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور اسٹیل پر ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ کیا تھا، جسے محکمہ ان لینڈ ریونیو نے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء اور متعلقہ سرکاری نوٹیفیکیشنز کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا؛ تاہم بعد میں اپیلیٹ ٹریبونل اور سندھ ہائی کورٹ نے محکمے کے خلاف کمپنی کے حق میں فیصلے دیے تھے جنہیں اب سپریم کورٹ نے تادیبی طور پر معطل کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے مقتدر فیصلے میں اہم قانونی نکات واضح کرتے ہوئے قرار دیا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء کی متعلقہ دفعہ بنیادی طور پر صرف قابلِ ٹیکس اشیاء کی فراہمی پر لاگو ہوتی ہے، جبکہ فیکٹریوں اور دیگر غیر منقولہ تعمیرات کو کسی صورت قابلِ ٹیکس اشیاء قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے صائب الفاظ میں کہا کہ قانون کے تحت تعمیراتی سامان، خصوصاً سیمنٹ اور اسٹیل پر ٹیکس کی واپسی کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی کیونکہ یہ سامان مستقل طور پر غیر منقولہ جائیداد کا حصہ بن جاتا ہے۔ مزید برآں، عدالت نے واضح کیا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت ٹیکس کے دعوے کے لیے تمام کاروباری ادائیگیاں مقررہ بینکنگ چینل کے ذریعے ہونا ایک لازمی اور تادیبی شرط ہے، اور اس شرط پر عمل نہ ہونے کی صورت میں ٹیکس کا دعویٰ خود بخود خارج ہو جاتا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے یہ مقتدر قانونی اصول بھی دہرایا کہ قانون کے کسی نکتے پر فریق یا اس کے وکیل کی جانب سے نادانی میں کیا گیا اعتراف عدالت کو پابند نہیں کرتا کیونکہ قانون کے خلاف کوئی عذر قبول نہیں ہو سکتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کی درست اور شفاف تشریح کرنا عدالت کی آئینی ذمہ داری ہے، اس لیے کسی سرکاری نمائندے کی قانونی رعایت کو بنیاد بنا کر آئین و قانون سے انحراف نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے رولنگ دی کہ سندھ ہائی کورٹ اور اپیلیٹ ٹریبونل نے معاملے کو محض حقائق کا تنازع قرار دے کر فاش غلطی کی، چنانچہ دونوں بنیادی قانونی سوالات محکمہ ان لینڈ ریونیو کے حق میں اور ٹیکس دہندہ شوگر مل کے خلاف طے کرتے ہوئے کمپنی کا دعویٰ مستقل طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔

حفظِ مراتب (وارنٹ آف پریسیڈنس) میں ترامیم کے لیے وزیرِ اعظم کی جانب سے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل؛ وفاقی وزیرِ قانون کمیٹی کے چیئرمین مقرر

منصور احمد, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان نے ملک میں سرکاری و آئینی عہدوں کے حفظِ مراتب (وارنٹ آف پریسیڈنس) میں مجوزہ ترامیم پر تفصیلی غور و خوض کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی مقتدر کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق، وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کو اس اہم تزویراتی کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ اس کمیٹی کو بنیادی طور پر یہ مقتدر مینڈیٹ تفویض کیا گیا ہے کہ وہ وارنٹ آف پریسیڈنس کی موجودہ قانونی حیثیت کا گہرائی سے جائزہ لے اور سپریم کورٹ کے تاریخی ’مصطفیٰ امپیکس کیس‘ کے فیصلے کی روشنی میں ترامیم کے لیے مجاز اتھارٹی کا تعین کرے۔

اس اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کے ڈھانچے میں وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور، وفاقی وزیر برائے قومی صحت و خدمات اور مشیرِ وزیرِ اعظم برائے پی ایم او کو بطور ارکان شامل کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ انتظامی امور کو منظم کرنے کے لیے سیکریٹری کیبنٹ ڈویژن کمیٹی کے رکن اور سیکریٹری ہوں گے جبکہ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بھی اس کمیٹی کا حصہ ہیں۔ کمیٹی کو یہ خصوصی اور تادیبی اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ اپنی قانونی، آئینی اور انتظامی معاونت کے لیے کسی بھی وفاقی وزارت، ڈویژن یا ریاستی ادارے کے اعلیٰ افسر یا متعلقہ قانونی ماہر کو کمیٹی میں شامل کر سکتی ہے۔

کمیٹی کے تزویراتی دائرہ کار میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکریٹریٹ اور اس کے چیئرمین کی جانب سے دی گئی سابقہ سفارشات پر تفصیلی نظرثانی کرنا بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ کمیٹی ایسے ٹھوس اور شفاف قواعد و ضوابط تیار کرے گی جن کے تحت مستقبل میں کسی بھی سرکاری یا آئینی عہدے کو اس مقتدر لسٹ میں شامل، تبدیل یا حذف کیا جا سکے اور وارنٹ آف پریسیڈنس کو وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کرنے کے لیے ایک مستقل اور خودکار طریقہ کار بھی تجویز کیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن کے تحت کیبنٹ ڈویژن اس کمیٹی کو تمام سیکریٹریٹ سپورٹ فراہم کرے گی، جبکہ کمیٹی کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ملکی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے ہر صورت 14 روز کے اندر اپنی حتمی سفارشات اور ترمیمی مسودہ وزیرِ اعظم کو پیش کرے۔

ملک بھر میں شدید بارشوں اور برف پگھلنے کے باعث دریاؤں میں طغیانی؛ بھارت نے غیر قانونی ڈیموں کے اسپل ویز کھول دیے

منصور احمد, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

پاکستان بھر میں جاری حالیہ شدید بارشوں، شمالی علاقوں میں برف پگھلنے کی رفتار تیز ہونے اور بھارت کی جانب سے روایتی آبی جارحیت کے تحت ڈیموں کے اسپل ویز کھولے جانے کے باعث ملک کے تمام بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہونے لگی ہے. متعلقہ تزویراتی اداروں اور واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کی جانب سے صورتحال کی مسلسل کڑی نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ دریاؤں میں پانی کا مجموعی بہاؤ اس وقت 4 لاکھ 54 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے.

ملکی سیلابی صورتحال کے تادیبی حقائق کے مطابق، مودی حکومت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر قائم کیے گئے ڈیموں کے اسپل ویز کھول دیے ہیں، جس کے باعث دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھنا شروع ہو گیا ہے اور اس وقت وہاں ایک لاکھ 30 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے. دوسری جانب، دریائے سندھ میں بھی پانی کی آمد میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں تربیلا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 32 ہزار کیوسک، کالا باغ پر 2 لاکھ 43 ہزار کیوسک، چشمہ بیراج پر 2… لاکھ 47 ہزار کیوسک، تونسہ بیراج پر 2 لاکھ 10… لاکھ کیوسک، گڈو بیراج پر 1 لاکھ 64 ہزار کیوسک اور سکھر بیراج کے مقام پر 1 لاکھ 10… لاکھ کیوسک پانی کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے. اس کے علاوہ دریائے جہلم میں بھی پانی کی آمد میں تیزی آئی ہے اور منگلا ڈیم پر پانی کا بہاؤ 57 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے، جبکہ ملکی ڈیموں میں پانی کا مجموعی ذخیرہ اس وقت 61 لاکھ ایکڑ فٹ تک جا پہنچا ہے.

ادھر اسکردو اور گلگت بلتستان کے دیگر شمالی علاقوں میں شدید گرمی کے باعث گلیشیئرز اور برف پگھلنے کا عمل انتہائی تیزی سے جاری ہے. اسکردو میں غیر معمولی گرمی کی وجہ سے درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خطے میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور شدید لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں. اس ہنگامی صورتحال اور ممکنہ سیلابی خطرات کے پیشِ نظر دریائے سندھ میں تربیلا ڈیم کے اسپل ویز کو باقاعدہ کھول دیا گیا ہے اور متعلقہ حکام نے تزویراتی فیصلہ کیا ہے کہ شمالی علاقوں سے آنے والے تمام بڑے سیلابی ریلوں کو محفوظ اور تادیبی انداز میں تربیلا ڈیم میں ذخیرہ کیا جائے گا تاکہ ڈاؤن اسٹریم کے میدانی علاقوں کو ممکنہ تباہی اور سیلابی نقصانات سے ہر صورت محفوظ رکھا جا سکے.