سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا بجلی کے بلوں میں شامل فکسڈ چارجز کے خلاف سخت ایکشن، فکسڈ چارجز کو غریب عوام کے لیے عذابِ الٰہی قرار دے کر فوری ختم کرنے کا بڑا مطالبہ، پارلیمنٹ لاجز میں اصل بجلی چھ ہزار جبکہ فکسڈ چارجز سات ہزار روپے لگانے پر سینیٹر کامل علی آغا پھٹ پڑے، اگلی اہم بیٹھک میں وزارتِ توانائی کے اعلیٰ حکام طلب، نئے بجٹ میں درآمدی ڈیوٹیز میں کمی سے حکومت کو ۱۴۳ ارب روپے کے ریونیو نقصان کا انکشاف

منصور احمد june 17,2026

اسلام آباد (پولیٹیکل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے بجلی کے ماہانہ بلوں میں شامل ظالمانہ فکسڈ چارجز کو غریب عوام کے لیے ایک بہت بڑا عذاب قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر یکمشت ختم کرنے کا بڑا مطالبہ کر دیا ہے، سینیٹ کمیٹی نے اس سنگین معاملے کا سخت ترین نوٹس لیتے ہوئے فکسڈ چارجز کے فوری خاتمے کے یک نکاتی ایجنڈے پر اگلی ہی ہٹنگ میں وزارتِ توانائی کے تمام اعلیٰ حکام اور مقتدر افسران کو جواب دہی کے لیے طلب کر لیا ہے، وفاقِ دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی پارلیمانی تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا ایک اہم ترین اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں بجلی کے بلوں میں ہونے والی اندھا دھند اوور بلنگ، نت نئے فکسڈ ٹیکسز اور آئندہ مالی سال کے نئے بجٹ میں کسٹمز ڈیوٹیز کے حوالے سے متعلقہ محکموں کی جانب سے تفصیلی بریفنگز دی گئیں، اجلاس کے دوران بجلی کے بلوں میں لگے انوکھے فکسڈ چارجز کا معاملہ اٹھاتے ہوئے سینیٹر کامل علی آغا شدید غصے میں پھٹ پڑے اور انہوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والا سچا واقعہ پورے ایوان کے سامنے رکھ کر حکومتی کارکردگی کا پول کھول دیا۔

سینیٹر کامل علی آغا نے کمیٹی کو بتایا کہ بجلی کے بلوں پر عائد فکسڈ چارجز اس وقت ملک کی غریب اور سفید پوش عوام کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں ہیں، انہوں نے انکشاف کیا کہ میرے اپنے پارلیمنٹ لاجز کے بل میں استعمال ہونے والے بجلی کے یونٹس کی اصل قیمت صرف ۶ ہزار ۲۰۰ روپے ہے لیکن اس بل کے اوپر حکومت نے ۶ ہزار ۸۰۰ روپے کے اضافی فکسڈ چارجز لگا دیے ہیں یعنی اصل استعمال شدہ بجلی کی قیمت سے بھی زیادہ ٹیکسز زبردستی وصول کیے جا رہے ہیں، انہوں نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ اس ظالمانہ نظام کی وجہ سے جو غریب بندہ پورے مہینے میں صرف ۱۰۰ یونٹس استعمال کر رہا ہے اسے ان فکسڈ چارجز کی وجہ سے مجبوراً ۴۰۰ یونٹ کے برابر بھاری رقم ادا کرنی پڑ رہی ہے جو غریب عوام کا معاشی قتل ہے، اجلاس کے دوسرے حصے میں سیکرٹری تجارت جواد پال نے کمیٹی کو نئے وفاقی بجٹ میں کسٹمز اور امپورٹ ڈیوٹیز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں درآمدی ٹیرف میں نمایاں کمی کی تجویز دی گئی ہے اور ڈیوٹیز میں اس بڑی کمی کی وجہ سے حکومت کو مجموعی طور پر ۱۴۳ ارب روپے سے زائد کا خطیر ریونیو نقصان خود برداشت کرنا پڑے گا۔

سیکرٹری تجارت نے بجٹ میں امپورٹڈ اشیاء پر ٹیکسوں کی نئی شرح کی تفصیلات بتاتے ہوئے سینیٹ کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ۲۰ فیصد سے زائد کسٹمز ڈیوٹی والی اشیاء پر زیادہ سے زیادہ شرح کو ۵0 فیصد تک ہی محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ اضافی کسٹمز ڈیوٹی میں مرحلہ وار کمی کی تجویز دی گئی ہے جس کے تحت اضافی کسٹمز ڈیوٹی کی شرح کو پہلے ۶ فیصد سے کم کر کے ۴ فیصد، پھر ۴ سے کم کر کے ۲ فیصد اور آخر میں ۲ فیصد سے بھی کم کر کے بالکل صفر یعنی ختم کر دیا جائے گا، تاہم ملکی صنعت کے تحفظ کے لیے بعض مخصوص امپورٹڈ اشیاء پر ۲ فیصد اضافی کسٹمز ڈیوٹی بدستور برقرار رہے گی، سینیٹ کمیٹی نے بجلی کے بلوں پر عوامی شکایات کو دور کرنے کے لیے اگلے اجلاس میں کڑی پوچھ گچھ کا فیصلہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر اکثر سرخیوں میں رہنے والے مفتی عبدالقوی کی نئی ویڈیو وائرل، ڈیجیٹل کنٹینٹ کریئٹر فریحہ فرخ کو اپنی پوتی قرار دے دیا، نازیبا کمنٹس اور تنقید کرنے والوں کو سخت وارننگ، میلی نگاہ ڈالنے والوں کو مفتی عبدالقوی کے سائے کا خوف دلا دیا، نوجوان نسل کو زبان میٹھی اور ذہن مثبت رکھنے کی نصیحت

کاشف عباسی ,june 17,2026

لاہور (ویب ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

سوشل میڈیا پر اپنے اچھوتے انداز، متنازعہ بیانات اور مختلف ویڈیوز کے باعث اکثر و بیشتر سرخیوں اور خبروں کی زینت بنے رہنے والے معروف مذہبی سکالر مفتی عبدالقوی کی سوشل میڈیا کی مشہور انفلواینسر فریحہ فرخ کے ساتھ ایک بالکل نئی اور اچھوتی ویڈیو وائرل ہو گئی ہے جس نے ڈیجیٹل صارفین کی تمام تر توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے، لاہور سے حاصل ہونے والی سوشل میڈیا تفصیلات کے مطابق معروف ڈیجیٹل کنٹینٹ کریئٹر فریحہ فرخ کے ساتھ بنائی گئی اس نئی ویڈیو میں مفتی عبدالقوی نے انہیں اپنی سگی ”پوتی“ قرار دے دیا ہے، اس وائرل ویڈیو میں انہوں نے فریحہ فرخ پر بلاوجہ تنقید کرنے والوں اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر نازیبا کمنٹس اور جملے کسنے والے صارفین کو سخت الفاظ میں ٹوکتے ہوئے کڑی وارننگ جاری کر دی ہے، مفتی عبدالقوی نے ویڈیو میں اپنے مخصوص اندازِ گفتگو میں واشگاف الفاظ میں کہا کہ یہ فریحہ میری پوتی ہے اور آج کے بعد اگر کسی بھی شخص نے میری اس پیاری پوتی پر ذرا سی بھی میلی نگاہ ڈالی تو وہ یہ بات اچھی طرح اپنے ذہن میں یاد رکھے کہ اب فریحہ کے سر پر سایہ ان کے دادا قبلہ مفتی عبدالقوی صاحب کا ہے اس لیے کوئی ان کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتا۔

انہوں نے کیمرے کے سامنے سوشل میڈیا صارفین کو کڑی تنبیہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ آج کے بعد میری اس پوتی کے لیے آپ میں سے کسی نے بھی اگر کوئی بھی غلط، نازیبا یا گھٹیا لفظ بولا یا کمنٹس میں لکھا تو یاد رکھیں مفتی عبدالقوی زندہ باد اور پوتی پائندہ باد، سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں اپنے روایتی اور دھیمے انداز میں بات کو آگے بڑھاتے ہوئے مفتی عبدالقوی نے ملک بھر کے نوجوانوں کو ایک اہم نصیحت بھی کی، ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو ہر حال میں اپنے ذہنوں کو صاف، نیک اور مثبت رکھنا چاہیے، آج کی بھٹکی ہوئی نوجوان نسل کے لیے میرا صرف ایک ہی مخلصانہ پیغام ہے کہ اپنا ذہن ہر معاملے میں مثبت رکھیں اور اپنی زبان کو ہمیشہ دوسروں کے لیے میٹھا بنائیں، مفتی عبدالقوی اور فریحہ فرخ کی اس نئی ویڈیو پر انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے ملے جلے ردعمل، طنز اور دلچسپ تبصروں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔

ڈی پی او حافظ آباد کا تبادلہ خالصتاً انتظامی فیصلہ ہے، گیٹ لاسٹ معاملے پر آئی جی پنجاب کی بڑی وضاحت، تبادلے اور تعیناتیاں پولیس ایڈمنسٹریشن کا معمول کا حصہ ہیں، پنجاب پولیس غیر جانبدارانہ کارروائیوں، سخت ڈسپلن اور عوامی خدمت پر فوکس برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، افواہیں دم توڑ گئیں

کاشف عباسی ,june 17,2026

لاہور (بیورو رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

پنجاب پولیس کے محکمے میں اعلیٰ سطح پر ہونے والے حالیہ تبادلوں اور تعیناتیوں کے حوالے سے آئی جی پنجاب عبد الکریم کا ایک انتہائی اہم اور وضاحتی بیان سامنے آیا ہے، سوشل میڈیا، عوامی اور سیاسی حلقوں میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) حافظ آباد کے اچانک تبادلے کو لے کر کی جانے والی تیز چہ مگوئیوں، گیٹ لاسٹ معاملے اور مختلف قیاس آرائیوں کے بعد آئی جی پنجاب نے اس بڑے فیصلے کے اصل پسِ منظر کو مکمل طور پر واضح کر دیا ہے، لاہور سے حاصل ہونے والی دفتری تفصیلات کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب راؤ عبد الکریم نے ڈی پی او حافظ آباد کے حالیہ تبادلے کے حوالے سے پیدا ہونے والے تمام تر ابہام اور غلط فہمیوں کو دور کرتے ہوئے ایک باقاعدہ وضاحتی بیان جاری کیا ہے، اس سلسلے میں سینٹرل پولیس آفس سے جاری کردہ سرکاری اعلامیہ میں آئی جی پنجاب نے اپنے بیان میں دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ڈی پی او حافظ آباد کا تبادلہ کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ، اثر و رسوخ یا سیاسی محرک کا نتیجہ ہرگز نہیں ہے، بلکہ یہ خالصتاً پولیس ڈیپارٹمنٹ کا اپنا ایک اندرونی انتظامی فیصلہ ہے، یہ تبدیلی محکمہ پولیس کی اندرونی تنظیمی ضروریات، محکمانہ قواعد و ضوابط اور بہترین حکمتِ عملی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے عمل میں لائی گئی ہے جس کا کسی بیرونی واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پولیس فورس کے اندرونی نظم و نسق، چین آف کمانڈ اور ڈسپلن کے حوالے سے تفصیل سے بات کرتے ہوئے آئی جی پنجاب راؤ عبد الکریم کا کہنا تھا کہ پولیس ایڈمنسٹریشن کے اندر افسران کے ایک جگہ سے دوسری جگہ تبادلے اور نئی تعیناتیاں کرنا سروس کا ایک مستقل اور معمول کا حصہ ہیں، جن کا واحد مقصد فیلڈ میں پولیس کی مجموعی کارکردگی کو مزید بہتر اور فعال بنانا ہوتا ہے، انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس کا تمام تر فوکس اور توجہ مکمل طور پر غیر جانبدارانہ پولیسنگ، فورس کے اندر سخت ترین ڈسپلن کی برقرار سازی اور مظلوم شہریوں کو فوری انصاف و عوامی خدمت کی فراہمی پر مرکوز ہے، اور محکمہ ان بنیادی اصولوں پر ہمیشہ سختی سے کاربند رہے گا، پولیس ماہرین کے مطابق آئی جی پنجاب کے اس واشگاف اور بروقت بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ڈی پی او حافظ آباد کے تبادلے کے حوالے سے چلنے والی تمام من گھڑت افواہیں اور منفی پروپیگنڈا مکمل طور پر دم توڑ گیا ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے ٹیلی کام کمپنیوں کو شہریوں کی نجی املاک پر زبردستی ٹاورز اور مشینری لگانے کے غیرمعمولی اختیارات دینے کی تیاری، انکار یا رکاوٹ ڈالنے پر شہریوں کو ۵ کروڑ روپے تک کے بھاری جرمانے کا سنسنی خیز انکشاف، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بل پیش ہونے پر حکومتی و اپوزیشن سینیٹرز شدید حیران اور تشویش کا شکار، پلوشہ خان، افنان اللہ اور سعدیہ عباسی کے سخت اعتراضات کے بعد بل کی منظوری مؤخر

منصور احمد june 17,2026

اسلام آباد (پولیٹیکل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں موبائل کمپنیوں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک ایسا حیران کن ترمیمی بل متعارف کروایا گیا ہے جس کے تحت اب ٹیلی کیمونیکیشن کمپنیاں کسی بھی شہری کی ذاتی جائیداد، گھر، دکان، پلاٹ یا جگہ کو محض ۳۰ دن کے مختصر نوٹس پر خالی کروا کر وہاں اپنے ٹاورز اور بھاری مشینری نصب کر سکیں گی اور اس قانون کی خلاف ورزی، انکار یا رکاوٹ ڈالنے پر عام پاکستانی شہریوں کو ۵ کروڑ روپے تک کا بھاری فائن اور جرمانہ بھگتنا ہو گا، وفاقِ دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی سنسنی خیز پارلیمانی تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ کی جانب سے سینیٹ کے جاری سیشن میں ”پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) (ترمیمی) بل ۲۰۲۶“ پیش کیا گیا ہے، یہ بل قومی اسمبلی سے پہلے ہی کثرتِ رائے سے پاس ہو چکا ہے، تاہم جیسے ہی یہ بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کام کے سپرد کیا گیا تو سینیٹر پلوشہ خان کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس کے دوران اس کی ہوش رُبا شقوں پر حکومتی اور اپوزیشن ارکانِ کمیٹی دنگ رہ گئے اور انہوں نے اس پر شدید ترین تحفظات کا اظہار کر دیا۔

معلوم ہوا ہے کہ اس متنازع ترمیمی بل میں ایک بالکل نئی شق ”سیکشن ۲۷ بی“ شامل کی گئی ہے جس کے تحت اگر کوئی بھی غریب یا امیر مالکِ مکان، دکاندار، کرایہ دار، زمیندار یا کوئی نجی ادارہ ٹیلی کام کمپنیوں کو تیز انٹرنیٹ کی فائبر کیبل بچھانے یا موبائل ٹاورز و دیگر الیکٹرانک مشینری لگانے کے لیے حقوقِ راہداری دینے سے صاف انکار کرے گا، یا اس کام میں کسی بھی قسم کی تاخیر یا قانونی رکاوٹ کا سبب بنے گا، تو حکومتِ وقت اس عام شہری پر ۵ کروڑ روپے تک کا کمر توڑ جرمانہ عائد کرنے کی مجاز ہو گی، سینیٹر پلوشہ خان کی سربراہی میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں مسلم لیگ ن کے سینیٹر افنان اللہ، پیپلز پارٹی کی سینیٹر سعدیہ عباسی اور دیگر تمام اراکین نے بل کی سخت زبان اور شہریوں کی نجی املاک کے بنیادی حقوق پر گہرے اور تیکھے سوالات اٹھائے، سینیٹرز نے سخت مؤقف اپنایا کہ قانون کی آڑ میں کسی بھی پاکستانی شہری کو اس بات پر ہرگز مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنی نجی جائیداد، چھت یا گھر پر خطرناک شعاعیں خارج کرنے والے ٹیلی کام ٹاورز لگانے کی زبردستی اجازت دے، جب تک شہریوں کے حقوق کا واضح تحفظ اور باہمی رضامندی کا کوئی سو فیصد شفاف طریقہ کار سامنے نہیں لایا جاتا تب تک ایسی مبہم اور صوابدیدی شقوں کو ہرگز تسلیم نہیں کیا جائے گا جن سے عوام کا استحصال ہو۔

کمیٹی میں سینیٹرز کے اس شدید اور تگڑے احتجاج کے بعد وزارتِ آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے اعلیٰ حکام نے گھبرا کر بل کے مقاصد پر وضاحتیں پیش کیں اور اراکین کو یقین دہانی کرائی کہ اس نئے قانون کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ شہریوں کی نجی املاک پر زبردستی قبضہ کیا جائے یا ان کی اراضی چھینی جائے، ٹاورز اور فائبر کی تنصیب مروجہ ملکی قوانین اور باہمی تجارتی معاہدوں کے تحت ہی ہو گی، حکام نے عذر پیش کیا کہ اس بل کا بنیادی مقصد ملک میں انٹرنیٹ کی سست رفتار کو تیز کرنا، فائیو جی انٹرنیٹ سروسز کے لیے موبائل ٹاورز کی فائبر ائزیشن کا کام تیز کرنا اور وفاقی و صوبائی محکموں کے درمیان جاری روٹ کے دیرینہ تنازعات کو ختم کرنا ہے تاکہ ڈیجیٹل پاکستان کے اہداف حاصل کیے جا سکیں، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے معاملے کی سنگینی، عوامی حقوق اور حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بل پر مزید غور کرنے اور اس کا شق وار باریک بینی سے جائزہ لینے کے لیے اس کی منظوری کو اگلے اجلاس تک مستقل مؤخر کر دیا ہے تاکہ مبہم الفاظ کو تبدیل کر کے شہریوں کی نجی املاک کے تحفظ کو سو فیصد یقینی بنایا جا سکے۔

لاہور کے علاقے سندر میں انتطامیہ کی مجرمانہ غفلت کا ہولناک نتیجہ، سڑک پر کھلا مین ہول پانچ سالہ معصوم حسن کی زندگی نگل گیا، ریسکیو کی لاش نکالنے کی تصدیق، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا سخت نوٹس اور ہنگامی رپورٹ طلب، ضلعی انتطامیہ کے خلاف کارروائی کا حکم

منصور احمد june 16,2026

لاہور (بیورو رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے سندر میں انتظامیہ کی شدید لاپرواہی اور مجرمانہ غفلت کے باعث ایک اور دلخراش اور انتہائی افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے جہاں ایک کھلا مین ہول معصوم بچے کی زندگی نگل گیا، حاصل ہونے والی لرزہ خیز تفصیلات کے مطابق پانچ سالہ معصوم بچہ حسن سڑک کنارے کھیلتے ہوئے اچانک بغیر ڈھکن کے کھلے ہوئے گہرے مین ہول میں جا گرا، واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو الیون ٹو ٹو کی ٹیمیں اور مقامی پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور امدادی آپریشن شروع کیا، ریسکیو اہلکاروں نے سخت تگ و دو کے بعد معصوم بچے حسن کو مین ہول کے گندے پانی سے باہر نکال لیا، تاہم وہ ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ چکا تھا اور جانبر نہ ہو سکا، معصوم بچے کی موت کی خبر گھر پہنچتے ہی کہرام مچ گیا اور پورے علاقے میں سوگ کی لہر دوڑ گئی۔

واقعے کے فوراً بعد مقامی پولیس نے موقع پر پہنچ کر واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات اور ضروری قانونی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، پولیس کی ابتدائی تفتیشی رپورٹ کے مطابق واسا اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مین ہول کا ڈھکن غائب ہونے اور اسے کھلا چھوڑنے کے باعث ہی یہ پُردرد حادثہ پیش آیا ہے، دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سندر میں معصوم بچے کے جاں بحق ہونے کے اس ہولناک واقعے کا سخت ترین نوٹس لیتے ہوئے کمشنر لاہور اور واسا حکام سے فوری طور پر تفصیلی اور ہنگامی رپورٹ طلب کر لی ہے، وزیراعلیٰ نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس سنگین غفلت کے ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور ان کے خلاف سخت قانونی ایکشن لیا جائے گا۔

شہری اور سماجی حلقوں نے اس دردناک واقعے پر واسا اور لاہور انتظامیہ کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک حادثہ نہیں بلکہ انتظامیہ کی جانب سے کیا گیا قتل قرار دیا ہے، شہریوں کا پرزور مطالبہ ہے کہ لاہور بھر میں موجود تمام کھلے مین ہولز اور دیگر خطرناک گٹروں کی فوری نشاندہی کر کے وہاں نئے ڈھکن لگائے جائیں اور غفلت برتنے والے ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور غریب کا معصوم بچہ اس طرح کے المناک اور اندوہناک واقعات کا شکار ہونے سے ہمیشہ کے لیے محفوظ رہ سکے۔

وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان کا ”فیوچر یوتھ لیڈرز کانفرنس 2026“ سے انقلابی خطاب، 68 فیصد نوجوان آبادی کو پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اور ایٹمی طاقت سے بڑی قوت قرار دے دیا، رواں سال 21 لاکھ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا ہدف، ڈیجیٹل یوتھ ہب کے ذریعے میرٹ پر روزگار اور تربیت فراہم کرنے کا تاریخی عزم

منصور احمد june 16,2026

فیصل آباد (ایجوکیشن اینڈ یوتھ ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے باصلاحیت نوجوان اس ملک کی سب سے بڑی طاقت، چمکتا ہوا اثاثہ اور روشن مستقبل کی اصل ضمانت ہیں جنہیں جدید علوم، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت)، ڈیجیٹل معیشت اور بین الاقوامی مارکیٹ کے مواقع سے جوڑ کر قومی ترقی کا حقیقی معمار بنایا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے نوجوان سچے عزم، جدید مہارت اور مستقل مزاجی کو اپنا شعار بنا لیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں عالمی قیادت حاصل کرنے سے نہیں روک سکتی اور وہ نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں بلکہ پاکستان کو بھی دنیا کے امیر اور ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا کر سکتے ہیں، صنعتی شہر فیصل آباد میں والنٹیئر فورس پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقدہ شاندار اور تاریخی ”فیوچر یوتھ لیڈرز کانفرنس 2026“ سے بطور مہمانِ خصوصی اپنے ولولہ انگیز خطاب میں رانا مشہود احمد خان کا کہنا تھا کہ پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کا اصل مقصد ملک کے نوجوانوں کو مروجہ روایتی تعلیم سے ہٹ کر جدید قیادت، مضبوط کردار سازی اور بے لوث قومی خدمت کے لیے تیار کرنا ہے کیونکہ کامیابی کا سفر ہمیشہ کڑی محنت، خود احتسابی اور مستقل مزاجی سے ہی شروع ہوتا ہے۔

چیئرمین یوتھ پروگرام نے عالمی مارکیٹ کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا کہ موجودہ دنیا اب روایتی معیشت سے نکل کر تیزی سے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن کے دور میں داخل ہو رہی ہے اور حکومتِ پاکستان بھی ان اہم ترین شعبوں میں جدید پالیسی سازی اور انقلابی عملی اقدامات کے ذریعے اپنے نوجوانوں کو عالمی معیار کی ہائی ٹیک مہارتیں فراہم کرنے پر پوری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا کام نوجوانوں کو بہترین مواقع، چمکتے ہوئے پلیٹ فارم اور اربوں روپے کے وسائل فراہم کرنا ہے، تاہم ان سنہرے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا اب نوجوانوں کی اپنی اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے، رانا مشہود احمد خان نے کانفرنس کے شرکاء کو بڑی خوشخبری سناتے ہوئے اہم انکشاف کیا کہ حکومت نے رواں سال 21 لاکھ نوجوانوں کو مختلف سرکاری پروگراموں، بلاسود قرضوں اور لیپ ٹاپ اسکیموں کے ذریعے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا بڑا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ تقریباً ۲۰ لاکھ نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ڈیجیٹل مہارتوں کی مفت بین الاقوامی تربیت فراہم کرنے اور لاکھوں افراد کے لیے باعزت روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے منصوبوں پر بھی دن رات کام جاری ہے۔

انہوں نے کلائمیٹ چینج (موسمیاتی تبدیلی) کو اس وقت کا سب سے بڑا اور خطرناک عالمی چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ گرین اکانومی، ماحولیاتی تحفظ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور پائیدار ترقی جیسے جدید شعبوں میں اب پاکستانی نوجوانوں کے لیے ملکی و بین الاقوامی سطح پر روزگار کے بے شمار مواقع موجود ہیں جنہیں حاصل کرنے کی ضرورت ہے، رانا مشہود احمد خان نے کانفرنس میں موجود طلبہ اور نوجوانوں پر سخت زور دیا کہ وہ فوری طور پر حکومت کے آفیشل ”ڈیجیٹل یوتھ ہب“ پر اپنی آن لائن رجسٹریشن مکمل کریں تاکہ انہیں اعلیٰ تعلیم، بہترین انٹرن شپس، روزگار اور جدید ترین ٹیکنیکل ٹریننگ تک رسائی کسی بھی سفارش کے بغیر خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر حاصل ہو سکے، انہوں نے عزم دہرایا کہ موجودہ حکومت ملک کے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت تمام پسماندہ علاقوں اور غریب طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو یکساں تعلیمی و معاشی مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ کوئی بھی ہونہار نوجوان وسائل کی کمی کی وجہ سے ترقی کے اس قومی سفر سے پیچھے نہ رہ جائے، انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام اس جملے پر کیا کہ پاکستان کا حال اور مستقبل اب مکمل طور پر نوجوانوں کے مضبوط ہاتھوں میں ہے، اس لیے یہ وقت رونے کا نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے، جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونے اور تعمیرِ وطن میں اپنا خون پسینہ بہانے کا ہے

پنجاب کا مالی سال 27-2026 کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اور پنشنرز کے لیے 3.5 فیصد اضافے کا بڑا اعلان، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی موجودگی میں اپوزیشن کا شدید ہنگامہ اور ”جعلی بجٹ نامنظور“ کے نعرے، محصولات کے اہداف میں 42 فیصد سے زائد کے ریکارڈ اضافے کی تجویز

منصور احمد june 16,2026

لاہور (بیورو رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

پنجاب حکومت نے مالی سال 27-2026 کا سالانہ بجٹ صوبائی اسمبلی کے ایوان میں پیش کر دیا ہے جس میں مہنگائی کے مارے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ۷ فیصد جبکہ بزرگ پنشنرز کی پنشن میں ۳.۵ فیصد اضافے کا باقاعدہ اعلان کیا گیا ہے، لاہور سے حاصل ہونے والی سنسنی خیز سیاسی اور معاشی تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا یہ اہم ترین بجٹ اجلاس اسپیکر ملک محمد احمد خان کی زیرِ صدارت مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ چالیس منٹ کی غیر معمولی تاخیر سے شروع ہوا جس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی خصوصی شرکت کی، بجٹ اجلاس کا آغاز ہوتے ہی ایوان میں اپوزیشن ارکان نے شدید ترین ہنگامہ آرائی کی اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی فوری رہائی کے حق میں فلک شگاف نعرے بازی شروع کر دی، جیسے ہی وزیرِ خزانہ نے بجٹ تقریر پڑھنا شروع کی تو اپوزیشن کے احتجاج میں مزید شدت اور تلخی آگئی اور اپوزیشن ارکان غصے میں اپنی نشستوں سے اٹھ کر اسپیکر ڈائس کے بالکل قریب جمع ہو گئے، اس دوران ”جعلی بجٹ نامنظور“ اور ”خان کو رہا کرو“ کے شدید نعرے پورے ایوان میں گونجتے رہے جبکہ کئی مشتعل اپوزیشن ارکان نے احتجاجاً بجٹ دستاویزات اور سرکاری کاغذات پھاڑ کر اسپیکر ڈائس کی فضا میں اچھال دیے جس سے ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا۔

بجٹ کے پسِ منظر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پنجاب کابینہ نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس بجٹ کی باقاعدہ حتمی منظوری دی تھی، نئے بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے ریلیف اقدامات کے علاوہ صوبے کے مالیاتی و ریونیو اہداف میں بھی انتہائی نمایاں اور تاریخی اضافہ کیا گیا ہے، حکومت نے صوبائی خزانہ بھرنے کے لیے بورڈ آف ریونیو کے اہداف میں ۲۵ فیصد جبکہ محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کے ریونیو اہداف میں ۷۷ فیصد اضافے کی کڑی تجویز دی ہے، سرکاری بجٹ دستاویزات کے مطابق پنجاب کے اپنے محصولات (ٹیکسز) کے مجموعی اہداف میں ۴۲.۷ فیصد کا بڑا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ صوبائی حکومت کا سخت مؤقف ہے کہ یہ بجٹ عوام پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر ترقیاتی منصوبوں کی جلد تکمیل، عوامی فلاح و بہبود اور سخت مالی نظم و ضبط کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑی محنت سے تیار کیا گیا ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن لیڈر اور متحدہ اپوزیشن نے حکومت کے اس بجٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے عوامی توقعات کے برعکس اور غریب کش قرار دیا ہے، سیاسی مبصرین کے مطابق پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے پہلے ہی روز ہونے والا یہ شدید ہنگامہ اور ہولناک احتجاج آئندہ دنوں میں صوبائی سیاست کے درجہ حرارت اور ماحول کو مزید گرم کر سکتا ہے، جبکہ بجٹ تجاویز اور مختلف محکموں کے مطالباتِ زر پر تفصیلی اور گرما گرم بحث آئندہ آنے والے روزانہ کے اجلاسوں میں باقاعدہ جاری رہے گی۔

پی ٹی آئی اور اپوزیشن اتحاد کا 16 جون کو اڈیالہ جیل کے باہر پاور شو کا فیصلہ، علیمہ خان نے احتجاجی اجتماع کا باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا، بانی چیئرمین عمران خان کے طبی معائنے اور بنیادی حقوق کے لیے ۱۰ ہزار سے زائد کارکنان جمع کرنے کا ہدف، محمود خان اچکزئی کی مشاورت سے پروگرام حتمی قرار

کاشف عباسی ,june 14,2026

راولپنڈی (پولیٹیکل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 14 جون 2026ء

پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اڈیالہ جیل راولپنڈی کے باہر ایک بہت بڑے احتجاجی اجتماع کے شیڈول کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف اور متحدہ اپوزیشن اتحاد کے زیرِ اہتمام سولہ جون بروز منگل جیل کے باہر ایک تاریخی اور بڑا عوامی پاور شو منعقد کیا جائے گا، راولپنڈی سے حاصل ہونے والی سیاسی تفصیلات کے مطابق میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے واضح کیا کہ یہ بڑا احتجاجی اجتماع خالصتاً عمران خان کے قانونی، آئینی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے اور اس کا بنیادی مقصد جیل میں ان کی صحت، فیملی و وکلاء سے ملاقاتوں پر عائد حالیہ پابندیوں اور دیگر بنیادی انسانی سہولیات سے متعلق مطالبات کو عالمی و قومی سطح پر اجاگر کرنا ہے، انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے تحریک کے سربراہ اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے ساتھ طویل مشاورت اور سیاسی جوڑ توڑ کے بعد اس احتجاجی پروگرام کو حتمی شکل دی ہے اور پارٹی کو یہ ہدف دیا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر ہر حال میں دس ہزار سے زائد پرجوش کارکنوں اور خان کے حامیوں کو جمع کیا جائے۔

جاری کردہ شیڈول کے مطابق یہ سیاسی احتجاج منگل کے روز دوپہر تین بجے سے شروع ہو کر شام سات بجے تک مسلسل جاری رہے گا، علیمہ خان کا کہنا تھا کہ یہ عوامی اجتماع سو فیصد پرامن ہو گا اور اس کا مقصد سڑکوں پر کسی قسم کی توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ یا انتظامیہ کے ساتھ تصادم کرنا ہرگز نہیں بلکہ صرف اپنے قائد کے آئینی اور قانونی مطالبات کے حق میں پرامن آواز بلند کرنا ہے، انہوں نے ایک مرتبہ پھر بانی پی ٹی آئی کی جیل میں صحت کے حوالے سے خطرناک انکشافات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی صحت خصوصاً ان کی آنکھوں کی موجودہ حالت انتہائی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے اور ان کا فوری اور تفصیلی طبی معائنہ کروانا اشد ضروری ہو چکا ہے، ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی یہ مخلصانہ مانگ ہے کہ عمران خان کا مکمل طبی معائنہ سرکاری ڈاکٹروں کے بجائے ان کے ذاتی اور ملک کے نامور ماہر ڈاکٹروں کی خصوصی نگرانی میں فی الفور کیا جائے، علیمہ خان نے ملکی اعلیٰ عدالتوں، بین الاقوامی و قومی انسانی حقوق کی تنظیموں اور تمام متعلقہ مقتدر اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم کے بنیادی حقوق، زندگی کے تحفظ اور صحت کے ان سنگین معاملات پر فوری توجہ دی جائے، دوسری جانب وفاقی یا صوبائی حکومت اور جیل انتظامیہ کی طرف سے علیمہ خان کے ان سنگین دعوؤں اور مطالبات پر تاحال کوئی باضابطہ یا سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم راولپنڈی کے سکیورٹی اداروں کی جانب سے اس ممکنہ بڑے احتجاج کے پیشِ نظر اڈیالہ جیل کے اردگرد صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور اضافی نفری تعینات کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

چکوال میں افسوسناک واقعہ: حج سے لوٹنے والے آسٹریلوی نژاد پاکستانی خاندان پر فائرنگ، 9 سالہ بچی جاں بحق، سی سی ڈی اہلکار گرفتار

منصور احمد june 14,2026

چکوال(نیوز اینڈ نیوز) —14جون 2026ء

ضلع چکوال کی حدود میں پیش آنے والے ایک انتہائی دلدوز اور المناک واقعے نے نہ صرف ملک بھر بلکہ آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی برادری کو بھی شدید غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا ہے جہاں آسٹریلیا میں مستقل رہائش پذیر پاکستانی شہری عدیل احمد اپنی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ، بیٹے عفان اور 9 سالہ معصوم بیٹی ہانیہ احمد کے ہمراہ فریضۂ حج کی مقدس سعادت حاصل کرنے کے فوراً بعد محض دو روز قبل ہی پاکستان پہنچے تھے لیکن چکوال کے علاقے میں ان کی گاڑی کو مبینہ طور پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکاروں کی جانب سے فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں گاڑی میں موجود 9 سالہ معصوم ہانیہ احمد شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئیں جبکہ ان کے والد عدیل احمد اور بھائی عفان گولیوں کی زد میں آکر شدید زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، اس ہولناک واقعے کی اطلاع ملتے ہی آسٹریلیا میں آباد پاکستانی کمیونٹی میں شدید غم و غصہ اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور ذرائع کے مطابق آسٹریلوی حکام نے بھی واقعے کی سنگینی کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطح پر پاکستانی حکام سے رابطہ قائم کر کے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ مقامی پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور واقعے میں ملوث ایک سی سی ڈی اہلکار کو گرفتار کر کے حراست میں لے لیا ہے جس سے تفتیش جاری ہے، دوسری جانب ڈی پی او چکوال نے اس پورے واقعے کو انتہائی افسوسناک اور ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے میڈیا کو یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ملوث پائے جانے والے تمام ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا رعایت ہرگز نہیں برتی جائے گی جبکہ شہریوں، سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے بھی اس اندوہناک واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ معصوم بچی کے خون سے انصاف کیا جائے اور مستقبل میں ایسے سنگین و المناک سانحات کے مستقل سدباب کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طریقہ کار پر نظرثانی کی جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی ڈائمنڈ جوبلی انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ کی چیمپئن بننے پر پاکستان فٹبال ٹیم، کوچز اور انتظامیہ کو دلی مبارکباد، افغانستان کو فائنل میں دھول چٹانے پر قومی کھلاڑیوں کو زبردست خراجِ تحسین، تاریخی فتح کو ملک میں کھیلوں کے فروغ کے لیے اہم سنگِ میل قرار دے دیا

کاشف عباسی ,june 11,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) —11 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سال دو ہزار چھبیس کے ڈائمنڈ جوبلی انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ کے سنسنی خیز فائنل معرکے میں روایتی حریف افغانستان کو عبرتناک شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کرنے پر پاکستان فٹبال ٹیم، تمام غیر ملکی و ملکی کوچز اور فٹبال انتظامیہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے، وفاق دارالحکومت اسلام آباد میں وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری ہونے والے باضابطہ اور خصوصی بیان کے مطابق قومی فٹبال ٹیم کے نام بھیجے گئے اپنے تہنیتی پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ چوہتر سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ حاصل ہونے والی یہ تاریخی اور لاجواب کامیابی اس وقت پوری پاکستانی قوم کے لیے ایک بہت بڑا باعثِ فخر اور عید کا تحفہ ہے کیونکہ پاکستان کی فٹبال ٹیم نے فائنل میچ کے دوران انتہائی شاندار کھیل، مضبوط عزم اور بہترین ٹیم ورک کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف روایتی حریف کو شکست دی بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام بھی فخر سے بلند کر دیا ہے، وزیراعظم نے اس فتح کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید کہا کہ یہ پاکستان کی پوری فٹبال تاریخ کا پہلا باضابطہ اور خودمختار بین الاقوامی فٹبال ٹورنامنٹ کا ٹائٹل ہے جو کہ مستقبل میں قومی کھیلوں کے فروغ، میدانوں کی آبادی اور ہمارے باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کے حوصلے بڑھانے کے لیے ایک انتہائی اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قومی ہیروز کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے اس قوی امید کا اعتراف کیا کہ ہماری یہ جوان بخت فٹبال ٹیم آئندہ بھی اسی سچے جذبوں، لگن اور سخت محنت کے ساتھ عالمی میدانوں میں کامیابیاں سمیٹتے ہوئے دنیا بھر میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم ہمیشہ بلند رکھے گی اور حکومتِ پاکستان ان باصلاحیت کھلاڑیوں کی ہر سطح پر سرپرستی جاری رکھے گی۔

وزیراعظم کے ’ڈیجیٹل پاکستان وژن‘ کے تحت بڑا انقلابی قدم، شادی رجسٹریشن کا روایتی نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل ماڈل میں تبدیل، نادرا اور ڈی سی آفس کا ریکارڈ منسلک، ایک ہی چھت تلے تمام سہولیات مفت دستیاب

منصور احمد june 10,2026

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

حکومتِ پاکستان نے ملک کو جدید ٹیکنالوجی سے ہمکنار کرنے اور عوامی سہولت کے لیے ایک اور سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جہاں وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کے تحت شادی رجسٹریشن کے دہائیوں پرانے روایتی و پیچیدہ نظام کو مستقل طور پر ایک جدید ترین ڈیجیٹل سروس ماڈل میں تبدیل کر دیا گیا ہے، اس انقلابی اقدام کا بنیادی مقصد شہریوں کو خوار کیے بغیر انتہائی تیز رفتار، آسان اور ایک ہی جگہ پر تمام قانونی سہولیات فراہم کرنا ہے، وفاقی دارالحکومت سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (NITB) نے شادی رجسٹریشن کے عمل کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے ایک نیا اور اچھوتا ماڈل متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت اب نکاح خوانی سے لے کر باقاعدہ میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کے حصول تک کی تمام تر قانونی خدمات ایک ہی مرکز پر یکجا کر دی گئی ہیں، اس سلسلے میں اسلام آباد کے معروف ”پاکستان آسان خدمت مرکز“ میں باقاعدہ طور پر ایک سٹیٹ آف دی آرٹ اور بالکل مفت ”میرج رجسٹریشن لاؤنج“ قائم کر دیا گیا ہے، جہاں شہری اب مختلف سرکاری دفاتر اور کونسلوں کے چکر کاٹے بغیر چند ہی منٹوں میں اپنی رجسٹریشن کا عمل آسانی سے مکمل کر سکیں گے۔

ایک ہی چھت تلے دستیاب ہونے والی سہولیات: نئے اور خودکار نظام کے تحت دارالحکومت کے شہریوں کو اب درج ذیل اہم ترین قانونی سہولیات ایک ہی جگہ پر فراہم کی جا رہی ہیں:

نکاح رجسٹرار (سرکاری طور پر تصدیق شدہ) کی فوری سہولت۔
نادرا کے مرکزی ڈیٹابیس سے ریکارڈ کی فوری اور خودکار اپڈیٹ۔
ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) آفس سے متعلقہ تمام ضروری قانونی کاغذی کارروائی۔
شادی کی مکمل رجسٹریشن کا پیپر لیس اور سو فیصد ڈیجیٹل پراسیس۔

وزارتِ داخلہ اور آئی ٹی حکام کے مطابق نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی اور دیگر تمام متعلقہ ضلعی اداروں کے ساتھ درخواست گزار کا ڈیٹا کمپیوٹرائزڈ لنک کے ذریعے فوری طور پر منسلک کر دیا جائے گا، جس کے بعد پرانے کاغذی فارمز، فائلوں کے کلچر، رشوت ستانی اور مہینوں کی تاخیر میں واضح طور پر بڑی کمی واقع ہوگی، اس اہم پیش رفت پر نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تاریخی اقدام پاکستان میں ڈیجیٹل گورننس کے فروغ اور عوام کو کم لاگت، باوقار اور تیز رفتار خدمات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا آئینہ دار ہے، حکام نے واضح کیا کہ: ۱۔ اس اسمارٹ سسٹم کے بعد اب شہریوں کو مختلف دور دراز دفاتر کے ذلت آمیز چکر لگانے سے ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے گی۔ ۲۔ شادی کے تمام قانونی اور شرعی مراحل اب ایک ہی چھت کے نیچے ایک ہی دن میں مکمل ہوں گے۔ ۳۔ پورے نظام کو ای-گورننس کے ذریعے انتہائی شفاف اور تیز ترین بنا دیا گیا ہے تاکہ انسانی مداخلت اور غلطی کا امکان ختم ہو سکے۔

منصوبے کا اصل مقصد: آئی ٹی ماہرین اور سماجی حلقوں نے حکومت کے اس اقدام کو خوب سراہا ہے، حکام کے مطابق یہ منصوبہ بالخصوص غریب اور کم آمدن والے خاندانوں کے لیے ایک بہت بڑی اور سستی ترین سہولت ثابت ہوگا، تاکہ نکاح اور سرکاری میرج سرٹیفکیٹ کی رجسٹریشن کے عمل میں غریب عوام کو ایجنٹ مافیا سے بچا کر مکمل آسانیاں اور شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔

مری ایکسپریس وے پر قیامت خیز منظر، سیاحوں کی تیز رفتار وین دیوار سے ٹکرا کر خوفناک آگ کی لپیٹ میں آ گئی، ۱۰ مسافر زندہ جھلس کر جاں بحق، متعدد زخمی، ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ

کاشف عباسی ,june 10,2026

مری(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

ملکہ کوہسار مری کی خوبصورت وادی کو غمی میں ڈوبو دینے والا ایک انتہائی ہولناک اور دلخراش ٹریفک حادثہ پیش آیا ہے، جہاں مری ایکسپریس وے پر پی ٹی ڈی سی ٹورسٹ اسپاٹ کے قریب سیاحوں کی مسافر وین میں خوفناک آگ لگنے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے بدقسمت افراد کی تعداد دس (10) تک پہنچ گئی ہے جبکہ متعدد دیگر مسافر شدید طور پر زخمی اور جھلس گئے ہیں، مری اور ریسکیو ذرائع سے حاصل ہونے والی سنسنی خیز اور افسوسناک تفصیلات کے مطابق یہ قیامت خیز حادثہ اس وقت پیش آیا جب خوبصورت موسم کا لطف اٹھانے کے لیے آنے والے سیاحوں سے بھری ایک ہائی ایس وین انتہائی تیز رفتاری کے باعث موڑ کاٹتے ہوئے بے قابو ہو گئی اور سڑک کی حفاظتی دیوار سے زوردار طریقے سے جا ٹکرائی، عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس شدید ترین ٹکر کے نتیجے میں گاڑی کا فیول ٹینک دھماکے سے پھٹ گیا اور پیٹرول لیک ہونے کے باعث پوری وین نے چند ہی سیکنڈز کے اندر ایک ہولناک آگ کے گولے کی شکل اختیار کر لی، ذرائع کے مطابق آگ اس قدر اچانک، تیز اور خوفناک تھی کہ وین کے اندر پھنسے ہوئے معصوم مسافروں کو باہر نکلنے کا معمولی سا موقع بھی نہ مل سکا اور وہ گاڑی کے اندر ہی زندہ جھلس گئے، جس کے باعث جانی نقصان میں انتہائی دردناک اضافہ ہوا، مری ایکسپریس وے پر لگی اس ہولناک آگ کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں ہنگامی بنیادوں پر سائرن بجاتی ہوئی فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، جن میں ریسکیو 1122 ، موٹروے پولیس کے چاک و چوبند دستے اور فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیاں شامل تھیں، فائر فائٹرز نے سخت جدوجہد کے بعد مسافر وین میں لگی بے قابو آگ پر قابو پایا اور ریسکیو اہلکاروں نے جلی ہوئی گاڑی کا ملبہ کاٹ کر لاشوں اور تڑپتے ہوئے زخمیوں کو نکال کر فوری طور پر قریبی سرکاری اسپتالوں میں منتقل کیا، جہاں زخمیوں کی نازک حالت کے پیشِ نظر ڈاکٹروں کی چھٹیاں منسوخ کر کے ہسپتال میں ہنگامی حالت (ایمرجنسی) نافذ کر دی گئی ہے، دوسری جانب نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس (NHMP) کے اعلیٰ حکام کے مطابق اگرچہ بظاہر حادثہ فیول ٹینک پھٹنے سے ہوا ہے، تاہم ابتدائی طور پر آگ لگنے کی دیگر ممکنہ وجوہات میں گاڑی کے انجن میں شارٹ سرکٹ یا مسافر گاڑیوں میں مروجہ قانون کے خلاف رکھے جانے والے غیر قانونی گیس سلنڈر کی موجودگی کو بھی خاص طور پر مدنظر رکھا جا رہا ہے، موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے کی سو فیصد اصل وجہ جاننے کے لیے ہائی لیول کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، واضح رہے کہ اس المناک اور بڑے حادثے کے باعث مری ایکسپریس وے پر گاڑیوں کی آمد و رفت اور ٹریفک کی روانی شدید طور پر متاثر ہوئی ہے جبکہ سیاحوں اور مقامی گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگ گئی ہیں جنہیں موٹروے پولیس متبادل راستوں پر منتقل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

مظفرآباد کے قریب پاک فوج کا ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، پرواز کے دوران اچانک تکنیکی خرابی حادثے کا سبب بنی، آئی ایس پی آر کی جانب سے جانی نقصان کی تصدیق، پاک فوج کا اعلیٰ سطح کا انکوائری بورڈ تشکیل

کاشف عباسی ,june 10,2026

مظفرآباد(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے فضائی علاقے میں پاک فوج کا ایک بڑا ملٹری ہیلی کاپٹر افسوسناک حادثے کا شکار ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں جانی نقصان کی انتہائی دردناک اطلاعات سامنے آئی ہیں، پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اور ہنگامی اعلامیے کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے نواحی علاقے کے قریب پاک فوج کا ایک ایم آئی-17 (Mi-17) ملٹری ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا، آئی ایس پی آر کے مطابق ابتدائی موصول ہونے والی اطلاعات سے پتہ چلا ہے کہ یہ ہیلی کاپٹر اپنی معمول کی پرواز پر تھا کہ اچانک فضا میں ہی اس کے اندر شدید ترین تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی، جس پر پائلٹس نے قابو پانے کی بھرپور کوشش کی تاہم ہیلی کاپٹر زمین دوز ہو گیا، مظفرآباد اور عسکری ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق اس ہولناک واقعے کے فوراً بعد پاک فوج کی خصوصی ریسکیو ٹیموں، آرمی ایوی ایشن کے ماہرین اور مقامی امدادی اداروں نے بغیر کوئی وقت گنوائے جائے وقوعہ پر پہنچ کر بڑے پیمانے پر امدادی آپریشن کا آغاز کر دیا ہے اور متاثرہ ملبے سے اہلکاروں کو نکالنے کا عمل تیزی سے جاری ہے، آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ ملٹری ہیلی کاپٹر کے اس دلخراش حادثے کی اصل اور حتمی وجوہات کا درست تعین کرنے کے لیے جی ایچ کیو کی ہدایت پر فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی انکوائری بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے، جو حادثے کے تمام تزویراتی و تکنیکی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اور تفصیلی تحقیقات مکمل کر کے اپنی حتمی رپورٹ جلد ہی عسکری قیادت کو پیش کرے گا، دوسری جانب پاک فوج کی اعلیٰ قیادت نے ہیلی کاپٹر حادثے پر گہرے دکھ، صدمے اور شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وطنِ عزیز کے لیے فرائض انجام دینے والے متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے، عسکری حکام کے مطابق جائے وقوعہ پر ابھی بھی امدادی کارروائیاں اور تحقیقات کا ابتدائی عمل پوری تندہی سے جاری ہے۔

راولپنڈی کی تحصیل گوجرخان میں تیزاب گردی کی ہولناک واردات، طلاق کی کارروائی کے دوران طیش میں آ کر بیوی نے شوہر پر تیزاب پھینک دیا، جھلس جانے والا شخص تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل، سفاک خاتون موقع سے گرفتار

منصور احمد june 10,2026

گوجرخان(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

ضلع راولپنڈی کی تحصیل گوجرخان میں تیزاب گردی کا ایک انتہائی افسوسناک اور ہولناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں مبینہ طور پر طلاق اور علیحدگی کے معاملے پر ایک خاتون نے غصے اور طیش میں آ کر اپنے ہی شوہر پر تیزاب پھینک دیا، جس کے نتیجے میں وہ بری طرح جھلس کر شدید زخمی ہو گیا، راولپنڈی پولیس اور گوجرخان کے مقامی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق متاثرہ شخص، جس کی شناخت کامران حسین کے نام سے ہوئی ہے، اپنی اہلیہ کے ساتھ گھریلو ناچاقی کے باعث علیحدگی اور طلاق کی باقاعدہ قانونی کارروائی کے سلسلے میں مقامی یونین کونسل کے دفتر آیا ہوا تھا، عینی شاہدین اور ابتدائی معلومات کے مطابق یونین کونسل کے اندر طلاق کی دفتری کارروائی مکمل ہونے کے بعد جیسے ہی کامران حسین دفتر کی عمارت سے باہر نکلا، تو وہاں پہلے سے گھات لگائے بیٹھی اس کی بدبخت اہلیہ نے مبینہ طور پر اچانک اس پر تیزاب سے حملہ کر دیا، اس اچانک حملے کے نتیجے میں تیزاب پڑنے سے کامران حسین کا جسم بری طرح جھلس گیا اور وہ درد سے چیلاتا ہوا زمین پر گر کر شدید زخمی ہو گیا، آس پاس موجود لوگوں نے خونخوار خاتون کو قابو کیا اور متاثرہ شخص کو فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹر (ٹی ایچ کیو) ہسپتال گوجرخان منتقل کیا، جہاں ڈاکٹرز کے مطابق اس کی حالت تشویشناک ہے اور اسے طبی امداد دی جا رہی ہے، دوسری جانب واقعے کی اطلاع ملتے ہی گوجرخان پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور موقع کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے کی کوشش کرنے والی سنگدل خاتون کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا، پولیس نے واقعے کا باقاعدہ ہنگامی مقدمہ درج کر کے ملزمہ کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، گوجرخان پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ اس گھناؤنے واقعے کے تمام پہلوؤں اور پسِ پردہ محرکات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق ملزمہ کو سخت سے سخت سزا دلوانے کے لیے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے۔

جھنگ میں فرسٹ ایئر کی طالبہ سے اجتماعی زیادتی کے کیس میں سنسنی خیز موڑ، واردات کے بعد ملزمان کے سابق ایم پی اے کے ڈیرے پر پناہ لینے کا انکشاف، سی سی ٹی وی فوٹیج منظرِ عام پر آنے اور عوامی دباؤ کے بعد ملزمان پولیس کے حوالے، سہولت کاروں کے خلاف بھی گھیرا تنگ

منصور احمد june 10,2026

جھنگ(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

پنجاب کے شہر جھنگ میں فرسٹ ایئر کی معصوم طالبہ ایشال فاطمہ کے اغواء اور اس کے ساتھ ہونے والی بدترین اجتماعی زیادتی کے ہولناک مقدمے میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جہاں پولیس کی جاری تحقیقات کے دوران یہ افسوسناک پیش رفت ہوئی ہے کہ واردات انجام دینے کے بعد سفاک ملزمان نے قانون کی گرفت اور فوری گرفتاری سے بچنے کے لیے علاقے کے ایک بااثر سابق رکنِ صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) کے پاس باقاعدہ پناہ حاصل کر رکھی تھی، جھنگ پولیس اور باوثوق تفتیشی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق پولیس کی جے آئی ٹی اور سائنسی بنیادوں پر ہونے والی تحقیقات سمیت ہسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے باریک بینی سے جائزے سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ملزمان متاثرہ طالبہ ایشال فاطمہ کو درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد انتہائی تشویشناک اور نیم مردہ حالت میں خاموشی سے ہسپتال لے کر آئے اور وہاں بدنامی اور پکڑے جانے کے خوف سے لڑکی کو تڑپتا ہوا چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گئے، بعد ازاں پولیس کی چھاپہ مار کارروائیوں سے بچنے کے لیے ان سنگدل ملزمان نے مبینہ طور پر جھنگ کی ایک بااثر اور نامور سیاسی شخصیت (سابق ایم پی اے) کی چھتری تلے پناہ لی، ذرائع کا کہنا ہے کہ جب یہ ہولناک معاملہ حد سے زیادہ سنگین نوعیت اختیار کر گیا اور ہسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ملک بھر میں شدید عوامی ردِعمل اور غصے کی لہر دوڑی، تو چاروں طرف سے بڑھتے ہوئے شدید دباؤ کے باعث مذکورہ سابق ایم پی اے نے بدنامی کے ڈر سے مبینہ طور پر ملزمان کو خود پولیس کے حوالے کر دیا، تاہم اس سنسنی خیز انکشاف کے بعد جھنگ کے شہری، مختلف سماجی تنظیموں اور عوامی حلقوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مقتدر حلقوں پر یہ سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ صریحاً جرم ثابت ہونے کے باوجود ان درندوں کو فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کرنے کے بجائے اپنے پاس پناہ کیوں دی گئی؟ دوسری جانب جھنگ پولیس کے اعلیٰ حکام کا اس حساس معاملے پر کہنا ہے کہ کیس کی سنگینی کے پیشِ نظر تمام زاویوں اور پہلوؤں سے میرٹ پر تفتیش جاری ہے اور اگر اس گھناؤنے جرم میں مذکورہ سابق ایم پی اے یا کسی بھی دوسری بااثر شخصیت کے براہِ راست یا بالواسطہ ملزمان کے سہولت کار ہونے کے ناقابلِ تردید شواہد سامنے آئے، تو قانون کی بالادستی قائم رکھتے ہوئے ان کے خلاف بھی سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، پولیس حکام کے مطابق تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور اس بھیانک واردات کے پورے نیٹ ورک سمیت تمام ممکنہ پسِ پردہ سہولت کاروں کے مکروہ کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مظلوم طالبہ ایشال فاطمہ کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔

حب میں پاکستان کی پہلی جدید گرین فیلڈ ریفائنری کا قیام، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے سپیک ریفائنری کے وفد کی اہم ملاقات، ایف بی آر امور اور ریگولیٹری منظوریوں کو جلد مکمل کرنے کی درخواست، ۲ ہزار ملازمتیں پیدا ہوں گی

منصور احمد june 10,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

پاکستان کو توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنانے اور صنعتی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کے لیے بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں ملک کی پہلی ڈیپ کنورژن گرین فیلڈ ریفائنری لگانے کے منصوبے پر پیش رفت تیز ہو گئی ہے، وفاقی دارالحکومت سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے سپیک ریفائنری پرائیویٹ لمیٹڈ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے خصوصی ملاقات کی، جس کی قیادت کمپنی کے مخلص اور سینیئر چیئرمین ظفر شیخ کر رہے تھے، اس اہم بیٹھک میں حب، بلوچستان میں پاکستان کی اس پہلی ڈیپ کنورژن گرین فیلڈ ریفائنری کے میگا منصوبے کے خدوخال اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات کے دوران وفد نے وفاقی وزیر تجارت کو منصوبے کی اب تک کی پیش رفت سے تفصیلی طور پر آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مجوزہ ریفائنری دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہوگی، جو ہر قسم کے خام تیل (Crude Oil) کو کامیابی سے پراسیس کر کے ملکی ضرورت کے مطابق اعلیٰ ترین معیار کی پیٹرولیم مصنوعات تیار کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، کمپنی کے چیئرمین ظفر شیخ اور وفد نے وفاقی حکومت سے مخلصانہ درخواست کی کہ گرین فیلڈ ریفائنری پالیسی کے تحت منصوبے کے لیے درکار تمام ریگولیٹری منظوریوں، بالخصوص فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے متعلقہ ٹیکس و کسٹمز کے دیرینہ امور کو جلد از جلد مکمل اور کلیئر کیا جائے تاکہ اس بڑے منصوبے کی بروقت تکمیل کو ہر صورت ممکن بنایا جا سکے، وفد کے مطابق اس گرین فیلڈ ریفائنری کے قیام سے حب اور اس کے گردونواح کے پسماندہ علاقوں میں رہنے والے مقامی نوجوانوں کے لیے تقریباً دو ہزار (2,000) سے زائد براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے شاندار مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ یہ منصوبہ مقامی صنعت کی ترقی، نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی کی پاکستان منتقلی اور علاقائی سطح پر معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرے گا، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اس بڑی سرمایہ کاری کا کھلے دل سے خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی بہترین اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت، آبادی کے لحاظ سے بڑی مقامی مارکیٹ اور علاقائی تجارتی راہداریوں (سی پیک وغیرہ) کی بدولت توانائی اور صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری کے بے شمار اور پرکشش مواقع فراہم کرتا ہے، انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ حب ریفائنری جیسے بڑے اور جدید منصوبے پاکستان کے پائیدار توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے، مہنگے درآمدی ایندھن پر ملکی انحصار کو کم کرنے، صنعتی انقلاب کو فروغ دینے اور مستقبل میں مزید ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے، سپیک ریفائنری کے وفد نے وفاقی وزیر کو مستقبل میں پیٹروکیمیکل صنعتوں کے باقاعدہ قیام اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی مقامی سطح پر تیاری سے متعلق اپنے وسیع وژن اور ماسٹر پلان سے بھی آگاہ کیا، جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے پاکستان کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو نئی جلا ملے گی اور ملکی برآمدات میں اربوں ڈالر کے اضافے کی نئی راہیں کھلیں گی۔

مہنگائی کے ستائے عوام اور پنشنرز کے لیے بڑی خوشخبری، حکومت کا قومی بچت اور سروا اسلامک اسکیموں پر منافع کی شرح میں شاندار اضافے کا اعلان، نئی شرحوں کا اطلاق آج سے نافذ العمل، بہبود اور پنشنرز اکائونٹ پر ماہانہ منافع بڑھ گیا

کاشف عباسی ,june 10,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

حکومتِ پاکستان نے ملک میں بچت کے رجحان کو فروغ دینے اور سرمایہ کاروں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے قومی بچت (نیشنل سیونگز) اسکیموں اور سروا اسلامک اسکیموں کے تحت مختلف سرمایہ کاری منصوبوں پر منافع کی شرح میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، اسلام آباد کے سرکاری ذرائع اور سینٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ان نئی اور زائد شرحوں کا باقاعدہ اطلاق ۱۰ جون ۲۰۲۶ء یعنی آج ہی سے پورے ملک میں فوری طور پر نافذ العمل کر دیا گیا ہے، جاری کردہ سرکاری اعلامیے کی تفصیلات کے مطابق اسپیشل سیونگز سرٹیفکیٹ اور اسپیشل سیونگز اکاؤنٹ پر پہلے پانچ منافع کی چھ ماہی ادائیگیوں کے لیے اب سالانہ شرح بارہ اعشاریہ چار (12.4) فیصد مقرر کی گئی ہے، جبکہ چھٹے اور آخری منافع کی ادائیگی کے لیے اس شرح کو مزید بڑھا کر تیرہ اعشاریہ چھ (13.6) فیصد کر دیا گیا ہے، اسی طرح ڈیفنس سیونگز سرٹیفکیٹ کے تحت سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے مختلف مدتوں کے لحاظ سے منافع کی شرح میں بھی واضح اضافہ کیا گیا ہے، جس کے تحت دسویں سال کی مدت مکمل ہونے تک مجموعی منافع دو سو سولہ (216) فیصد کی بلند ترین سطح تک پہنچ جائے گا، جو سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش موقع ہے، وزارتِ خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق ریگولر انکم سرٹیفکیٹ ہولڈرز کے لیے اب ایک لاکھ روپے کی بنیادی سرمایہ کاری کے عوض ہر ماہ ایک ہزار بیس (1,020) روپے کا منافع دیا جائے گا، جو مجموعی طور پر سالانہ بارہ اعشاریہ چوبیس (12.24) فیصد بنتا ہے، دوسری جانب معاشرے کے کمزور اور معزز طبقات کے لیے سب سے اہم ترین بہبود سیونگز سرٹیفکیٹ، پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ اور شہدا فیملی ویلفیئر اکاؤنٹ کے تحت اب ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری پر ماہانہ ایک ہزار ایک سو (1,100) روپے کا بڑا منافع مقرر کیا گیا ہے، جو کہ سالانہ بنیادوں پر تیرہ اعشاریہ بیس (13.20) فیصد کے برابر بنتا ہے، قومی بچت کے حکام کے مطابق مروجہ قوانین کے تحت بہبود سیونگز سرٹیفکیٹ خریدنے کی سہولت صرف بیواؤں، بزرگ شہریوں (سینیئر سیٹیزنز) اور خصوصی افراد (ڈس ایبلڈ پرسنز) کے لیے ہی دستیاب ہوگی، جبکہ پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ خالصتاً ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور شہدا فیملی ویلفیئر اکاؤنٹ ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ دینے والے عظیم شہدا کے پسماندگان اور اہل خانہ کے لیے مخصوص رہے گا، مختصر مدتی بچت سرٹیفکیٹس (ایس ٹی ایس سی) کے تحت سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے تین ماہ، چھ ماہ اور ایک سال کی مدت کے لیے بالترتیب گیارہ اعشاریہ چالیس (11.40) فیصد، گیارہ اعشاریہ چھیاسٹھ (11.66) فیصد اور گیارہ اعشاریہ ستتر (11.77) فیصد سالانہ منافع مقرر کر دیا گیا ہے، تاہم دوسری جانب حکومت نے روایتی عام سیونگ اکاؤنٹ پر منافع کی پرانی شرح کو بغیر کسی تبدیلی کے دس (10) فیصد سالانہ پر ہی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، معاشی ماہرین اور مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق ملک میں جاری معاشی صورتحال کے تناظر میں منافع کی شرح میں یہ حالیہ اضافہ عوام میں بچت کی حوصلہ افزائی کرنے، بینکنگ نظام میں مائع کاری بڑھانے اور خاص طور پر فکسڈ انکم پر گزارا کرنے والے سرمایہ کاروں کو مہنگائی کے دور میں بہتر منافع فراہم کرنے کے حکومتی اقدامات کا ایک مخلصانہ حصہ ہے۔

مالیاتی دباؤ اور سیاسی ترجیحات، قومی اقتصادی کونسل کا اہم ترین اجلاس آج طلب، ۴۷ کھرب روپے سے زائد کے ملکی ترقیاتی بجٹ کی تشکیلِ نو پر غور، ترقیاتی منصوبوں میں بڑی کٹوتیوں کا امکان

کاشف عباسی ,june 08,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) — 08 جون 2026ء

ملک کے بدلتے ہوئے سیاسی و مالی حقائق کے پیشِ نظر ترقیاتی بجٹ کی تشکیلِ نو کے لیے قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطح کا اجلاس آج پیر کے روز وزیراعظم پاکستان کی زیرِ صدارت منعقد ہو رہا ہے، جس میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے وفاقی اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں پر مشتمل تقریباً ۴۷ کھرب ۱۵ ارب (۴.۷۱۵ کھرب) روپے کے مجموعی ترقیاتی پروگرام کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، وفاقی دارالحکومت کے باوثوق ذرائع کے مطابق شدید مالیاتی دباؤ، سیاسی ترجیحات اور مختلف سرکاری اداروں کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے وفاقی اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کیے جانے کا قوی امکان ہے، واضح رہے کہ قومی اقتصادی کونسل ملک کا اعلیٰ ترین اقتصادی فیصلہ ساز فورم ہے جو وزیراعظم، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وفاقی وزراء پر مشتمل ہوتا ہے، ذرائع کے مطابق آج ہونے والے اس اہم اجلاس کے چار نکاتی ایجنڈے میں سالانہ منصوبہ 2025-26 کا تفصیلی جائزہ، سالانہ منصوبہ 2026-27 کی حتمی منظوری اور چاروں صوبوں کے اہم سماجی و اقتصادی اشاریوں پر بریفنگ شامل کی گئی ہے، اجلاس کے دوران پبلک سیکٹر انویسٹمنٹ (پی ایس آئی) پروگرام 2025-26 کا جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ مالی سال کے لیے مجوزہ سرمایہ کاری منصوبوں پر بھی تفصیلی غور کیا جائے گا، اس کے علاوہ رواں مالی سال کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں اب تک کی گئی مختلف ترامیم، نئے اضافوں اور تقریباً ۱۷۵ ارب روپے کی بڑی کٹوتی کی باقاعدہ توثیق کرنا بھی کونسل کے ایجنڈے کا ایک اہم حصہ ہے، وفاقی ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی پی ایس ڈی پی کا کل حجم ۱.۳ کھرب روپے سے تجاوز کر سکتا ہے، جبکہ دوسری جانب ملک میں مالی وسائل کی محدود دستیابی اور تنگی کے باعث صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگراموں (اے ڈی پیز) کے حجم میں نمایاں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، اجلاس میں ملک بھر میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں کی اب تک کی پیش رفت کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، کیونکہ اس وقت ملک کے متعدد میگا منصوبے لاگت اور تکمیل کی مدت میں غیر معمولی اور نمایاں اضافے کا شکار ہو چکے ہیں، حکام کے مطابق ان بڑے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے اور روزبروز بڑھتے ہوئے اضافی اخراجات پر قابو پانے کے لیے ایک نئی اور سخت حکمتِ عملی مرتب کرنے پر غور کیا جائے گا، معاشی ماہرین کے مطابق قومی اقتصادی کونسل میں آج کیے جانے والے یہ بڑے فیصلے آئندہ پیش کیے جانے والے وفاقی بجٹ 2026-27 کی اصل سمت کا تعین کرنے میں سب سے اہم اور کلیدی کردار ادا کریں گے، خاص طور پر ایک ایسے نازک وقت میں جب حکومت کو ملکی ترقیاتی اخراجات، سخت مالیاتی نظم و ضبط اور اپنے اتحادیوں کے سیاسی تقاضوں کے درمیان ایک مشکل توازن قائم کرنے کا بڑا چیلنج درپیش ہے۔

وفاقی بجٹ 2026-27ء، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان زرداری ہاؤس میں اہم مشاورتی اجلاس، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی پی پی پی کی تجاویز بجٹ میں شامل کرنے کی یقین دہانی، وزیراعظم شہباز شریف آج تیسرے دور میں شریک ہوں گے

کاشف عباسی ,june 08,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) — 08 جون 2026ء

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے حکومت کی اہم اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو باقاعدہ یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں پارٹی کی جانب سے پیش کردہ تمام تجاویز اور سفارشات پر سنجیدگی سے غور کر کے انہیں شامل کیا جائے گا، وفاقی دارالحکومت سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق یہ یقین دہانی اتوار کے روز پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین ہونے والے ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس میں کرائی گئی، جو زرداری ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، اس اہم بیٹھک میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پارٹی وفد کی خود قیادت کی، جس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، سینیٹر شیری رحمان اور رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر جیسی اہم سیاسی شخصیات شامل تھیں، سفارتی و سیاسی ذرائع کے مطابق دونوں بڑی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان وفاقی بجٹ، نئے ترقیاتی منصوبوں، صوبوں کے جائز مالی حقوق اور ملک بھر میں عوامی ریلیف کے مختلف اقدامات پر تفصیلی اور تعمیری تبادلہ خیال کیا گیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اہم اجلاس اصل میں ہفتہ کے روز ہونا تھا، تاہم گلگت بلتستان کے انتخابات سے متعلق گوں نا گوں مصروفیات کے باعث پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی خصوصی درخواست پر اسے اتوار تک کے لیے مؤخر کر دیا گیا تھا، اب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین بجٹ مشاورت کا تیسرا اہم دور پیر یعنی آج متوقع ہے، جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف بھی لاہور سے اپنی واپسی کے فوراً بعد خود شرکت کریں گے، سیاسی مبصرین کے مطابق وفاقی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے قبل اتحادی جماعتوں کے درمیان جاری یہ مسلسل مشاورت حکومتی اتحاد کے مستقبل کے استحکام اور بجٹ کی بلا رکاوٹ منظوری کے لیے انتہائی اہم اور کلیدی قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے غریب عوام کو ریلیف دینے، ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم اور صوبائی حقوق سے متعلق متعدد سخت اور اہم تجاویز حکومت کے سامنے رکھی گئی ہیں۔

آزاد کشمیر میں سنگین عسکری تصادم، کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران فائرنگ سے ۴ پولیس اہلکار شہید اور متعدد زخمی، راولاکوٹ ہسپتال پر حملے کو آئی جی پی نے ”کھلی دہشت گردی“ قرار دے دیا، بلاول بھٹو کی شدید تشویش

کاشف عباسی ,june 08,2026

مظفرآباد(نیوز اینڈ نیوز) — 08 جون 2026ء

آزاد جموں و کشمیر میں حالات انتہائی کشیدہ اور ناگفتہ بہ ہو چکے ہیں، جہاں نئی نویلی کالعدم قرار دی گئی تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے احتجاج کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے مابین ہونے والے شدید ترین خونی تصادم اور جھڑپوں میں کم از کم ۴ پولیس اہلکار شہید جبکہ بیس (۲۰) سے زائد شدید زخمی ہو گئے ہیں، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے پولیس حکام کے مطابق راولاکوٹ شہر میں احتجاجی مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم اس وقت انتہائی ہولناک اور شدت اختیار کر گیا جب مشتعل افراد کے مسلح جتھوں نے مختلف مقامات پر پولیس کو سیدھی فائرنگ کا نشانہ بنایا، آزاد کشمیر پولیس کے سربراہ انسپکٹر جنرل لیاقت علی ملک کے دفتر سے جاری ہونے والے باضابطہ اور ہنگامی بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ چاروں پولیس اہلکار اس وقت جامِ شہادت نوش کر گئے جب مشتعل مظاہرین نے راولاکوٹ کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) پر منظم انداز میں دھاوا بولا اور حملہ کر دیا، آئی جی پولیس کے بیان کے مطابق فرائض پر مامور ان شہید اہلکاروں کو مظاہرین کی جانب سے ممنوعہ آتشیں اسلحے اور شاٹ گن سے نشانہ بنایا گیا، جسے پولیس کے اعلیٰ حکام نے ”کھلی دہشت گردی“ قرار دیتے ہوئے امن و امان تباہ کرنے والے ان تمام ذمہ دار شرپسند عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین عسکری و قانونی کارروائی کا فولادی عزم ظاہر کیا ہے، دوسری جانب سرکاری و مقامی ذرائع کے مطابق پولیس کی جوابی کارروائی اور تصادم کے نتیجے میں مظاہرین میں شامل کم از کم دو افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ درجنوں دیگر افراد شدید زخمی ہیں جنہیں طبی امداد دی جا رہی ہے، تاہم مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کا خدشہ ہے کہ علاقے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، اس خونریز واقعے کے بعد انتظامیہ کی جانب سے پورے علاقے میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ تمام اہم ترین سرکاری تنصیبات، چوکوں اور حکومتی عمارتوں کے گرد پولیس اور ایلیٹ فورس کی اضافی نفری تعینات کر کے گشت بڑھا دیا گیا ہے، ادھر اس سنگین صورتحال کے دوران آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے آئینی ترامیم سے متعلق صدارتی ریفرنس کی اہم سماعت کی، جس کے دوران عدالتِ عظمیٰ نے سخت ریمارکس دیے کہ آئین کے اندر تبدیلیاں یا ترامیم کوئی ایسی رعایت یا حلوہ نہیں ہیں جنہیں کسی بھی حکومت سے ڈرا دھمکا کر یا زبردستی احتجاج کے ذریعے حاصل کیا جائے، دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کی اس بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وہاں امن و امان کی بحالی کے لیے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے فوری اور خصوصی رابطہ کریں گے، واضح رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کے لیے مخصوص اسمبلی نشستوں کو ختم کرنے کے خلاف ۹ جون کو مظفرآباد کی جانب ایک بڑے لانگ مارچ اور غیر معینہ مدت کے دھرنے کا اعلان کر رکھا تھا، جس کے بعد امن و امان کے پیشِ نظر حکومت نے ایکشن لیتے ہوئے اس تنظیم کو انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت باقاعدہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔