وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے اسلامی چیمبر آف کامرس اینڈ ڈویلپمنٹ (آئی سی سی ڈی) کے سیکرٹری جنرل شیخ یوسف حسن خلوّی نے اہم ملاقات کی ہے، جس میں اسلامی فنانس، حلال معیشت، اقتصادی تعاون اور نجی شعبے کے بین الاقوامی روابط پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق ملاقات میں پاکستانی کاروباری برادری کو عالمی بزنس نیٹ ورکس سے منسلک کرنے اور حلال فوڈ، حلال سیاحت، فیشن اور سروسز کی بین الاقوامی مارکیٹوں میں پاکستانی مصنوعات کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے پر گفتگو کی گئی۔ وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ پاکستان کو حلال معیشت کی مخصوص مصنوعات اور عالمی منڈیوں کی نشاندہی کرنی چاہیے تاکہ ملکی کاروبار ابھرتے ہوئے عالمی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔
آئی سی سی ڈی کے سیکرٹری جنرل نے مسلم کاروباری برادریوں کو نجی اور ادارہ جاتی شراکت داروں سے جوڑنے کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں پاکستان کے اسلامی مالیاتی نظام کو مزید مستحکم کرنے اور تجارتی طور پر قابلِ عمل مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی کانفرنسوں اور بزنس فورمز کے ذریعے پاکستانی تاجروں کو عالمی نیٹ ورکس سے جوڑنے پر اتفاق کیا گیا۔
واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک کے مختلف دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے باضابطہ اعدادوشمار جاری کر دیے ہیں۔ جمعہ کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 59 ہزار 900 کیوسک اور اخراج بھی 2 لاکھ 59 ہزار 900 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج 43 ہزار 500 کیوسک، خیرآباد پل پر آمد و اخراج 29 ہزار 500 کیوسک، جبکہ دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 40 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 7 ہزار کیوسک رہا۔ مزید برآں دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ 4 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 90 ہزار 400 کیوسک درج کیا گیا ہے۔
مختلف بیراجوں کی صورتحال بیان کرتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جناح بیراج میں پانی کی آمد 3 لاکھ 91 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 83 ہزار 200 کیوسک، چشمہ بیراج میں آمد 2 لاکھ 95 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 23 ہزار کیوسک، جبکہ تونسہ بیراج میں آمد 3 لاکھ 17 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 96 ہزار 900 کیوسک رہا۔ گدو بیراج پر آمد 3 لاکھ 22 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 82 ہزار 800 کیوسک، سکھر بیراج میں آمد 2 لاکھ 67 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 13 ہزار 400 کیوسک، کوٹری بیراج میں آمد ایک لاکھ 29 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 86 ہزار 600 کیوسک جبکہ تریموں بیراج پر آمد 26 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 14 ہزار 100 کیوسک اور پنجند میں آمد 42 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 27 ہزار 600 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
آبی ذخائر یعنی ریزروائرز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تربیلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1550 فٹ ہے جو اس کی انتہائی سطح کے برابر ہے اور یہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.580 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ منگلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1215 فٹ ہے جبکہ انتہائی سطح 1242 فٹ اور قابلِ استعمال ذخیرہ 5.234 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اسی طرح چشمہ میں پانی کی موجودہ سطح 647 فٹ ریکارڈ کی گئی جہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.212 ملین ایکڑ فٹ موجود ہے۔
وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے بتایا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی کا ہسپتال میں تفصیلی طبی معائنہ کرایا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم نے انہیں مکمل طور پر صحت مند قرار دیا، جس کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم “ایکس” (ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ 20 اور 21 اگست 2026ء کی درمیانی شب سخت اور مناسب سیکیورٹی انتظامات کے تحت بانی پی ٹی آئی کو پمز ہسپتال منتقل کیا گیا۔ معائنے کے لیے ماہرِ امراضِ چشم، ماہرِ امراضِ قلب اور فزیشن پر مشتمل مستند ڈاکٹروں کی ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ڈاکٹرز بھی شامل تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طبی معائنے اور علاج کے تمام تر مراحل کے دوران ان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان بھی موقع پر موجود رہیں۔
عطاء اللہ تارڑ نے مزید بتایا کہ پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے باہر اور راستے میں سیکیورٹی کی جو صورتحال پیدا کی گئی تھی، اسی پیشِ نظر بانی پی ٹی آئی کو پمز ہسپتال لے جایا گیا جہاں تمام تر ٹیسٹس اور معائنے میں وہ بالکل صحت مند پائے گئے۔ تمام عمل مکمل ہونے کے بعد 21 اگست کی صبح تقریباً 5 بجے انہیں واپس اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا۔ وفاقی وزیر نے اعادہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو پہلے بھی تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور آئندہ بھی ضرورت پڑنے پر فراہم کی جاتی رہیں گی۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیہ کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1 روپے 64 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 364 روپے 70 پیسے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے۔ اسی طرح موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی قیمت میں 27 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 337 روپے 78 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق نئی مقرر کردہ قیمتوں کا اطلاق جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات 12 بجے سے کر دیا گیا ہے اور یہ نئی قیمتیں اگلے حکم تک نافذ العمل رہیں گی۔
صوبہ پنجاب کے شہر چکوال میں 10 اور 11 جون کی درمیانی شب پیش آنے والے الم ناک فائرنگ کے واقعے سے متعلق انکوائری رپورٹ پراسیکیوٹر کے پاس جمع کروا دی گئی ہے، جس میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) پنجاب کے ایک اہلکار کو باضابطہ طور پر قصور وار قرار دے دیا گیا ہے۔ اس المناک حادثے میں پریتھ، آسٹریلیا سے آئے ہوئے ایک پاکستانی نژاد خاندان کی 9 سالہ بچی ہانیہ احمد جاں بحق جبکہ ان کے والد عدیل احمد اور 10 سالہ بھائی عفان احمد شدید زخمی ہوئے تھے۔
واقعات کے مطابق جون کی شروعات میں آسٹریلوی نژاد پاکستانی خاندان حج کی ادائیگی کے بعد چکوال میں اپنے عزیز و اقارب سے ملنے آیا ہوا تھا۔ حادثے کی شب جب خاندان اپنی کرائے کی گاڑی میں سی سی ڈی تھانے کی دیوار کے بالکل قریب پہنچا تو دو موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے اسلحے کے زور پر انہیں روک کر لوٹنے کی کوشش کی۔ اسی اثنا میں قریب موجود سی سی ڈی کے اہلکار موقع پر پہنچے اور صورتحال کا صحیح اندازہ لگائے بغیر بے دردی سے فائرنگ کر دی۔ پولیس نے بعد میں مؤقف اپنایا تھا کہ اہلکار نے غلط فہمی میں یہ سمجھتے ہوئے گاڑی پر فائر کر دیا کہ ملزمان اس میں فرار ہو رہے ہیں۔
واقعے کے فوری بعد آئی جی پنجاب پولیس اور سی سی ڈی سربراہ ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ایک ہفتے کے اندر رپورٹ مکمل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم تفصیلی چالان اور رپورٹ 28 جولائی کو پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ میں جمع کروائی گئی جس میں غلط فہمی، طاقت کے بےجا اور بے دریغ استعمال اور غیر پیشہ ورانہ رویے پر متعلقہ سی سی ڈی اہلکار کو واقعے کا مرکزی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ دوسری جانب متاثرہ والد عدیل احمد نے کارروائی پر اپنے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے مزید غیر جانبدارانہ اور سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کا سدِ باب ہو سکے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید (نشانِ حیدر) کی 55ویں برسی کے موقع پر مادرِ وطن کی دفاع اور حرمت کے لیے ان کی بے مثال اور تاریخی قربانی کو بھرپور الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
ایوانِ صدر کے پریس ونگ کی جانب سے جاری کردہ رسمی بیان میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید نے انتہائی کم عمری میں وطنِ عزیز کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے شجاعت، فرض شناسی اور حب الوطنی کی وہ لازوال مثال قائم کی ہے جو تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ چمکتی رہے گی۔
صدرِ مملکت نے مزید کہا کہ پاکستان کے سب سے کم عمر نشانِ حیدر حاصل کرنے والے راشد منہاس شہید کی عظیم اور بے لوث قربانی ہماری قومی تاریخ کا ایک روشن ترین باب ہے، جو آنے والی تمام نسلوں کو جرات، عزم، پختہ ارادے اور وطن سے لازوال وفاداری کا سبق دیتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پوری قوم اپنے اس عظیم سپوت، تمام شہدائے وطن اور ان کے خاندانوں کی قربانیوں کو ہمیشہ قدر، احترام اور فخر کی نظر سے دیکھتی ہے۔ صدرِ مملکت نے عزم ظاہر کیا کہ وطنِ عزیز کے دفاع کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کرنے والے تمام ہیرو ہمارے سر کا تاج ہیں جن کی عظیم خدمات اور قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے اپوزیشن چیمبر میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس سے ایک اہم سیاسی ملاقات کی ہے، جس کا باضابطہ مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے ترجمان اخوندزادہ حسین یوسفزئی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس اہم ملاقات میں اپوزیشن اور تحریکِ انصاف کی جانب سے سلمان اکرم راجہ، اسد قیصر، مصطفیٰ نواز کھوکھر، عامر ڈوگر، عادل بازئی اور اخوندزادہ حسین موجود تھے، جبکہ پیپلز پارٹی کے وفد میں بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، نوید قمر اور ندیم افضل چن شامل تھے۔
ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور پارلیمانی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن قیادت سے درخواست کی کہ وہ تمام اہم پارلیمانی کمیٹیوں میں شامل ہو کر اپنا فعال اور مثبت کردار ادا کریں، جس پر اپوزیشن رہنماؤں نے جواب دیا کہ وہ اس معاملے پر بانی پی ٹی آئی عمران خان سے مشاورت کرنے کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں فریقین نے پارلیمان کے اندر قانون سازی کے حوالے سے باہمی رابطوں کو مزید بڑھانے اور انتخابی اصلاحات میں متحرک کردار ادا کرنے پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت بانی پی ٹی آئی عمران خان کی الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی اور علاج کی فراہمی کو خوش آئند قرار دیا۔
واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک بھر کے مختلف دریاؤں، بیراجوں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ بدھ کے روز جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق مختلف بیراجوں اور ڈیموں میں پانی کا بہاؤ اور ذخیرہ مستحکم سطح پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔
واپڈا رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 34 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 33 ہزار 800 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر آمد و اخراج 30 ہزار 900 کیوسک اور خیرآباد پل پر آمد و اخراج 2 لاکھ 54 ہزار 100 کیوسک رہا۔ دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 29 ہزار 800 کیوسک جبکہ اخراج 7 ہزار کیوسک رہا۔ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر آمد 73 ہزار کیوسک اور اخراج 47 ہزار 800 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
مختلف بیراجوں کے اعداد و شمار کے مطابق جناح بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 46 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 38 ہزار 400 کیوسک رہا۔ چشمہ بیراج پر آمد 3 لاکھ 11 ہزار کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 2 ہزار 200 کیوسک، تونسہ بیراج پر آمد 3 لاکھ 36 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 15 ہزار 900 کیوسک جبکہ گدو بیراج پر آمد 3 لاکھ 7 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 68 ہزار 900 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ سکھر بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 22 ہزار 800 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 68 ہزار 900 کیوسک، کوٹری بیراج پر آمد ایک لاکھ 41 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 98 ہزار 900 کیوسک رہا۔ اس کے علاوہ تریموں کے مقام پر آمد 37 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 25 ہزار 100 کیوسک جبکہ پنجند پر آمد 45 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 30 ہزار 900 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
آبی ذخائر (ڈیموں) میں پانی کی سطح کی صورتحال درج ذیل ہے:
تربیلا ڈیم اپنی انتہائی سطح 1550 فٹ تک بھر چکا ہے اور اس میں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.580 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ تربیلا کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ہے۔ منگلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1213.15 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ اس کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ اور انتہائی سطح 1242 فٹ ہے، جہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.105 ملین ایکڑ فٹ موجود ہے۔ اسی طرح چشمہ بیراج میں پانی کی موجودہ سطح 648.50 فٹ ہے (کم از کم لیول 638.15 فٹ اور انتہائی سطح 649 فٹ) اور یہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.285 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا۔
نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سال 2027ء میں پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی ہے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق اجلاس کے دوران چیئرمین کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے نائب وزیرِ اعظم کو دارالحکومت میں جاری مختلف بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) اور ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اسحاق ڈار نے جاری تیاریوں کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو تمام تر انتظامات اور ترقیاتی کاموں کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان عالمی سطح کے اس اہم اجلاس کی کامیاب اور اعلیٰ ترین معیار پر میزبانی کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سربراہی اجلاس کی کارروائی کو منظم، ہموار اور کامياب بنانے کے لیے تمام وزارتی و انتظامی اداروں کے درمیان مسلسل اور قریبی رابطہ ناگزیر ہے۔ اس اہم اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ، سیکرٹری داخلہ احمد رضا سرور، چیئرمین سی ڈی اے، نیشنل کوآرڈینیٹر ایس سی او اور دیگر متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے بدھ کے روز الوداعی ملاقات کی ہے۔ سعودی سفیر کے وزیرِ اعلیٰ آفس آمد پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
ترجمان وزیرِ اعلیٰ آفس کے مطابق ملاقات میں محمد نواز شریف اور مریم نواز نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین برادرانہ تعلقات کے فروغ، استحکام اور معاشی و سفارتی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی خدمات کو شاندار الفاظ میں سراہا۔ اس موقع پر سعودی سفیر نے پاکستان میں اپنے سفارتی قیام کو یادگار قرار دیتے ہوئے پاکستان اور پنجاب میں ملنے والی پرخلوص میزبانی پر نواز شریف اور مریم نواز کا شکریہ ادا کیا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پائیدار امن، تیز رفتار ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر روابط اور یکجہتی کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ بدھ کے روز ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوانِ صدر اسلام آباد میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران کیا۔
ملاقات کے دوران صدرِ مملکت کو بلوچستان کی مجموعی امن و امان کی صورتحال اور صوبے بھر میں جاری مختلف عوامی و معاشی ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ صدر آصف علی زرداری نے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے ناطے بلوچستان خصوصی توجہ اور وسائل کا پورا حقدار ہے۔ انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کی بلوچستان کی ترقی و خوشحالی میں رکاوٹ ڈالنے کی تمام تر ناپاک کوششوں کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا، اور وہ دن دور نہیں جب صوبے سے دہشت گردی کا مکمل جڑ سے خاتمہ ہو جائے گا۔
اس اہم ملاقات کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی خواتین ونگ کی صدر فریال تالپور اور بلوچستان کے سابق صوبائی وزیر میر علی حسن زہری بھی موجود تھے۔
وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے انسانی ہمدردی کے عالمی دن کے موقع پر دنیا بھر اور بالخصوص پاکستان میں خدمات انجام دینے والے امدادی کارکنان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اپنے ایک خصوصی پیغام میں انہوں نے کہا کہ سخت، مشکل اور انتہائی خطرناک حالات کے باوجود امدادی کارکنان کی خدمات بلا شبہ قابلِ تحسین ہیں، جو دنیا بھر میں انسانیت، باہمی ہمدردی اور بے لوث خدمت کی روشن ترین مثال قائم کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیرِ قانون نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی ہمدردی صرف کسی آفت کے وقت فوری امدادی سامان کی فراہمی کا نام نہیں ہے بلکہ یہ متاثرین کے وقار، مکمل تحفظ اور ان کے لیے انصاف کو یقینی بنانے کا بنیادی تقاضا بھی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات اور دیگر نادیدہ بحرانوں کے دوران متاثرہ افراد، بالخصوص خواتین، بچوں، معذور افراد اور دیگر معاشی یا سماجی طور پر کمزور طبقات کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ ہنگامی اور ہنگامی نوعیت کے حالات میں ریاست کی بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تمام متاثرہ افراد کو بلا کسی امتیاز کے مکمل تحفظ اور بنیادی سہولیات فراہم کرے۔
سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اپنے پیغام میں ریاستی اداروں، سول سوسائٹی کے تنظیموں، طبی عملے اور ہر سطح کے رضاکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بحران کی اس گھڑی میں کوئی بھی انسان بے یارومددگار نہ رہے، یہ ہم سب کی اجتماعی اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ سے انسانی حقوق، احترامِ انسانیت اور قانون کی حکمرانی کے اعلیٰ اصولوں پر قائم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک مؤثر انسانی ہمدردی کے نظام میں محض فوری امداد کے ساتھ ساتھ متاثرین کی مکمل بحالی، انہیں عدل و انصاف اور تمام بنیادی زندگی کی سہولیات تک رسائی فراہم کرنا شامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ انسانی ہمدردی عالمی سطح پر آپسی تعاون اور یکجہتی کا تقاضا کرتی ہے اور پاکستان مشکل کی ہر گھڑی میں تمام ضرورت مند انسانوں کے ساتھ کھڑا رہنے کے اپنے عزم پر سختی سے قائم ہے۔
پاکستان کے ضلع مہمند میں پولیس نے انڈیا کے یومِ آزادی کے موقع پر سوشل میڈیا پر انڈین پرچم کی تصاویر اور “جے ہند” کے الفاظ شیئر کرنے پر دو افراد کو گرفتار کر کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔
ایف آئی آرز کے مطابق دونوں ملزمان کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 123 اے اور 153 اے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ دفعات ریاست کی خودمختاری کی مخالفت کرنے، قومی وقار کو مجروح کرنے اور عوام میں اشتعال پھیلانے کے جرائم سے متعلق ہیں۔
ضلع مہمند کے علاقے غلنئی کے سٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) مراد خان نے اس معاملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے تصدیق کی کہ کوز گنداؤ اور کٹارکلے کے علاقوں کے رہائشی ان دونوں افراد نے 15 اگست کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر انڈیا کی یومِ آزادی کی مناسبت سے انڈین جھنڈے کی تصویر اور “جے ہند” کا نعرہ پوسٹ کیا تھا۔ اس پر پولیس نے فوری اقدام کرتے ہوئے دونوں کو حراست میں لے لیا۔
ایس ایچ او مراد خان نے مزید بتایا کہ 15 اگست کو کوز گنداؤ کے رہائشی شخص کو گرفتاری کے بعد مقامی عدالت کے سامنے پیش کر کے ایک دن کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا تھا، جس کے بعد عدالت نے پیر کے روز انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر مردان جیل بھیجنے کے احکامات جاری کر دیے۔ اسی طرح کے دوسرے مقدمے میں نامزد دوسرے ملزم کو بھی قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو سماجی اشاریوں میں کمزوری کے باعث قومی ترقی کے حوالے سے سنگین چیلنجز درپیش ہیں اور ماضی میں مختلف منصوبوں و اقدامات کے باوجود ملک تعلیم، صحت اور انسانی ترقی کے بنیادی شعبوں میں وہ فیصلہ کن پیش رفت حاصل نہیں کر سکا جو پائیدار قومی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اوورسیز سمر اسکالر انٹرن شپ اور وائی پی ڈی سی ریزیڈینڈینشل فیلوشپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے اس موقع پر ایک تاریخی اور منفرد منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وزارتِ منصوبہ بندی ایک بڑا قومی پروگرام تیار کر رہی ہے جس کے تحت دس لاکھ پاکستانی نوجوانوں کو سماجی متحرک کار کے طور پر منظم کیا جائے گا تاکہ نچلی سطح پر عوامی شمولیت کے ذریعے تعلیمی اور صحتی اشاریوں میں بامعنی اور پائیدار بہتری لائی جا سکے۔
احسن اقبال نے بتایا کہ اس قومی اقدام کا باقاعدہ آغاز 9 نومبر کو کیا جائے گا اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف خود اس کا افتتاح کریں گے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد پاکستان کے اہم ترین سماجی مسائل سے نمٹنے کے لیے ملک کی نوجوان آبادی کی صلاحیتوں اور توانائیوں کو بروئے کار لانا ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ملک میں تقریباً ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جنہیں تعلیم کے دائرے میں لانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس کے علاوہ شرح خواندگی میں اضافہ کرنا، بچوں میں غذائی قلت اور کم نشوونما جیسے خطرناک مسائل پر قابو پانا بھی اس پروگرام کا بنیادی حصہ ہے۔ وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں اس وقت تقریباً 40 فیصد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جو ہمارے انسانی وسائل کی معیاری ترقی کے لیے ایک بہت بڑا اور لمحہ فکریہ چیلنج ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ دس لاکھ نوجوان رضاکار اپنے اپنے علاقوں، محلو ں اور برادریوں میں جا کر نہ صرف اسکول سے باہر بچوں کی نشاندہی کریں گے بلکہ انہیں تعلیم کی طرف لانے، صحت بخش طرزِ زندگی کو فروغ دینے، منشیات اور تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے خلاف شعور اجاگر کرنے اور صحت و غذائیت سے متعلق آگاہی پھیلانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان نوجوانوں کو ماحولیاتی تحفظ کے لیے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر شجرکاری مہمات میں بھی متحرک کیا جائے گا تاکہ وہ قومی ترقی کی ترجیحات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے ایک مضبوط پل کا کام کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اس اتنی بڑی طاقت کو قومی تعمیر کے عمل میں فعال شراکت دار بنائے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔
اپنے خطاب میں معاشی سمت کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا طویل مدتی ہدف صرف عارضی معاشی استحکام حاصل کرنا نہیں بلکہ سال 2035ء تک پاکستان کو ایک کھرب ڈالر یعنی ون ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانا ہے۔ انہوں نے ماضی کی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی ملک میں سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل رہا، پاکستان نے تیز رفتار ترقی کی۔ سن 2013ء میں ملک کو درپیش شدید توانائی بحران اور دہشت گردی کے باوجود 2017ء تک قومی بجلی کی پیداوار میں 11 ہزار میگاواٹ سے زائد کا اضافہ کیا گیا اور سی پیک کے تحت 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری لائی گئی جس سے بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہوا۔ تاہم 2018ء کی سیاسی تبدیلی سے ترقی کا یہ سفر متاثر ہوا لیکن موجودہ حکومت دوبارہ سے شراکتی ماڈل کے تحت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
وفاقی وزیر نے ملک کے دفاعی اور سفارتی محاذوں پر کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق کے دوران پاکستان نے اپنی قومی یکجہتی اور عزم کا بھرپور مظاہرہ کیا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں مسلح افواج نے ملک کا کامیاب دفاع کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع میں جنگ بندی کے لیے تعمیمی سفارتی کردار ادا کیا جبکہ مکہ دفاعی معاہدے نے خطے میں پاکستان کو ایک ذمہ دار اور اہم ملک کے طور پر قائم کیا۔ احسن اقبال نے زور دیا کہ دفاع اور سفارت کاری میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اب ہمیں “معرکہ حق” کی کامیابی کو “معرکہ ترقی” میں تبدیل کرنا ہوگا اور اس مقصد کے لیے ملک میں سیاسی و سماجی استحکام اور امن کا قیام ناگزیر ہے کیونکہ اندرونی انتشار کا شکار کوئی بھی ملک پائیدار ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔
علامہ محمد اقبال کے تصورِ شاہین کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان شاہین کی مانند بلند ہمت، خوددار، جرات مند اور علم و عمل کی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں، اور انہیں اپنی اس قوت سے پاکستان کو دوبارہ سائنسی و فکری قیادت کی اس منزل پر پہنچانا ہے جو کبھی مسلم دنیا کا طرہ امتیاز تھی۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ وائی پی ڈی سی پروگرام کو دانستہ طور پر ہر قسم کی سیاسی تقسیم سے بالاتر رکھا گیا ہے تاکہ مختلف زبانوں، ثقافتوں، علاقوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے تمام نوجوان صرف ایک مشترکہ قومی شناخت یعنی “پاکستانی” ہونے کے ناطے متحد ہو کر ملک کی سلامتی، اتحاد اور ترقی کے لیے اپنا متحرک کردار ادا کر سکیں۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آئی ٹی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنی “گوگل” پاکستانی نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافے اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے اپنے پروگراموں کا دائرہ کار مزید وسعت دے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں گوگل کے 9 رکنی وفد سے ملاقات کے دوران کیا، جس کی قیادت گورنمنٹ افیئرز اینڈ پبلک پالیسی کے نائب صدر ولسن وائٹ کر رہے تھے جبکہ امریکی سفارت خانے کی ناظم الامور نٹالی بیکر بھی ان کے ہمراہ تھیں۔
وزیرِ اعظم نے وفد کو حکومت کے “ڈیجیٹل نیشن پاکستان” وژن اور قومی ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی تشکیل کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے پاکستان میں گوگل کے مستقل دفتر کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس قدم سے دونوں کے درمیان شراکت داری کو نئی تقویت ملے گی۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف، ولسن وائٹ اور نٹالی بیکر نے مشترکہ طور پر پاکستان میں گوگل کے دفتر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔
گوگل کے نائب صدر ولسن وائٹ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں مقامی سطح پر قائم کردہ کروم بک اسمبلی لائن کی کارکردگی انتہائی شاندار ہے اور یہاں اسمبل ہونے والی کروم بکس کو خطے کے دیگر ممالک میں برآمد کرنے کے روشن امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوگل پاکستان کی باصلاحیت یوتھ کے لیے آئی ٹی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور گیمنگ کے شعبوں میں تربیتی پروگراموں کو مزید وسیع کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
اجلاس کے دوران ایوان کی کارروائی ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ کی زیرِ صدارت ہوئی۔ معمول کے ایجنڈے پر کارروائی مکمل ہونے کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ کی دوپہر 2 بج کر 30 منٹ تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔
قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران مختلف امور ایوان کے ایجنڈے کا حصہ رہے۔ اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی اسپیکر نے آئندہ نشست کے لیے مقررہ وقت کا اعلان کیا، جس کے بعد ایوان کی کارروائی ملتوی کر دی گئی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کا دوبارہ انعقاد بدھ، 19 اگست 2026ء کو دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر ہوگا، جہاں ایوان کے معمول کے پارلیمانی امور اور دیگر اہم معاملات پر کارروائی جاری رہنے کا امکان ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: یہ خبر 18 اگست 2026ء کو قومی اسمبلی کی کارروائی کے اختتام اور اجلاس کے اگلے روز تک ملتوی کیے جانے سے متعلق ہے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق معمول کا ایجنڈا مکمل ہونے کے بعد ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے اجلاس بدھ کی دوپہر اڑھائی بجے تک ملتوی کیا۔
ماخذ: قومی اسمبلی کی کارروائی، اے پی پی/اردو پوائنٹ
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ ترین انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران زیارت، ہرنائی اور سوراب میں 9 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز کو زیارت اور ہرنائی کے درمیانی پہاڑی سلسلے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع ملی تھی۔ اس اطلاع پر ایک بڑا آپریشن کیا گیا جس میں فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کا محاصرہ کر کے مؤثر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں 8 دہشت گرد مارے گئے اور ان کا خفیہ ٹھکانہ مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
ایک اور کارروائی میں ضلع سوراب کے علاقے حاجیکہ گاؤں میں سکیورٹی فورسز نے دشت کٹائی اور حاجیکہ کے درمیان ناکہ بندی کر کے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا۔ اس کامیاب آپریشن کے دوران مزید ایک دہشت گرد ہلاک ہوا۔ مارے جانے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود، میگزین، دستی بم، واکی ٹاکی، موٹر سائیکل اور دیگر سامان برآمد کیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کی لعنت کے مکمل خاتمے اور صوبے میں دیرپا امن کے قیام تک یہ بلاتعطل کارروائیاں جاری رہیں گی۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ مسلمانوں نے ایک دور میں علم، تحقیق اور سائنسی جستجو میں پوری دنیا کی قیادت کی ہے، لیکن جو تہذیب کسی زمانے میں علمی دنیا کی رہنما تھی وہ آج دوسروں کی محتاج نظر آتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی عظیم علمی روایت کو دوبارہ زندہ کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارتِ منصوبہ بندی میں منعقدہ محفلِ میلاد النبی ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وفاقی وزیر نے تاریخی حقائق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بغداد اور اندلس کے عظیم علمی مراکز، رصد گاہوں اور مسلم سائنس دانوں نے فلکیات، طب، ریاضی، اور کیمیا کے شعبوں میں جدید تحقیق کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلمانوں کی یہ سائنسی و علمی ترقی کوئی اتفاقی امر نہیں تھا، بلکہ یہ قرآنِ کریم کی اس بنیادی تعلیم اور دعوت سے جڑا ہوا تھا جس میں انسان کو کائنات میں مشاہدہ کرنے، عقل کے استعمال اور غور و فکر کی بار بار ہدایت کی گئی ہے۔
پروفیسر احسن اقبال نے موجودہ دور کی جدید سائنسی ایجادات اور جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایسی انسانی کوششیں کائنات کے اسرار جاننے کی سائنسی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ ہم تحقیق و دریافت کے میدان میں پیچھے کیوں رہ گئے۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ ماضی کے کارناموں پر صرف فخر کرنے کے بجائے نئی نسل میں سوال کرنے، مشاہدہ کرنے اور تخلیقی سوچ بیدار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قوم پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔
پنجاب کے اکثر دریاؤں میں پانی کی آمد و اخراج معمول کے مطابق ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دریائے چناب، جہلم، راوی اور ستلج میں پانی کی سطح بالکل نارمل ہے، جبکہ ڈیرہ غازی خان کی رود کوہیوں میں بھی فی الحال کوئی طغیانی نہیں ہے۔ تاہم دریائے سندھ میں کالا باغ، تونسہ اور چشمہ کے مقام پر اس وقت نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق کالا باغ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 33 ہزار کیوسک، چشمہ کے مقام پر 3 لاکھ 18 ہزار کیوسک اور تونسہ کے مقام پر 3 لاکھ 38 ہزار کیوسک درج کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ضلع نارووال کے نالہ بسنتر، نالہ ایک اور نالہ پلکھو میں بھی نچلے درجے کی طغیانی کی صورتحال ہے۔ ڈیموں کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو تربیلا ڈیم 100 فیصد بھر چکا ہے جبکہ منگلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ 70 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا موجودہ چھٹا سپیل 21 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاکڑ نے شہریوں سے موسم اور پانی کی صورتحال کے پیش نظر محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ دریاؤں، نہروں اور ندی نالوں کے قریب سیر و تفریح سے مکمل طور پر گریز کریں اور اپنے بچوں کو ندی نالوں یا دریاؤں میں نہانے کی ہرگز اجازت نہ دیں۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے اسلام آباد میں اہم ملاقات کی، جس کے دوران انہوں نے وزیرِ اعظم کو آئندہ حج کی تیاریوں، انتظامی امور اور وزارت کی جانب سے اٹھائے گئے مختلف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے حج انتظامات کی پیش رفت اور عازمینِ حج کو دی جانے والی سہولیات کے فریم ورک سے آگاہ کیا۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئندہ حج کے موقع پر تمام پاکستانی عازمین کو بہترین اور معیار کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں اور وزارتِ مذہبی امور کو تاکید کی کہ حج آپریشنز سے متعلق تمام ضروری اور انتظامی اقدامات کو وقت سے پہلے اور بااحسن طریقہ مکمل کیا جائے تاکہ عازمین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔