اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کا فوری حل: بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی شکایات کے حل میں کامیابی کی شرح 83 فیصد تک پہنچ گئی، چیئرمین او پی ایف سید قمر رضا

محمود احمد june 26,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (او پی ایف) کے چیئرمین سید قمر رضا نے سمندر پار پاکستانیوں کی فلاح و بہبود اور ان کے مسائل کے فوری حل کے لیے متعارف کرائی گئی انقلابی اور مقتدر اصلاحات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ فاؤنڈیشن نے اپنے شکایتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کر دیا ہے، جس کی بدولت بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی شکایات کے حل میں کامیابی کی مقتدر شرح 83 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

جمعہ کے روز ایک مقامی ٹی وی چینل سے خصوصی اور مقتدر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین او پی ایف سید قمر رضا نے وضاحت کی کہ او پی ایف بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لیے کارکردگی، شفافیت اور خدمات کی فوری فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے اپنے انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل نظام کو مسلسل اپ گریڈ کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تارکینِ وطن کی سہولت کے لیے 24/7 واٹس ایپ، ای میل اور آن لائن پورٹل پر مشتمل ایک مربوط اور مقتدر شکایت سیل چست کیا گیا ہے، جہاں موصول ہونے والے مسائل پر فوری ایکشن لیا جاتا ہے۔

چیئرمین او پی ایف نے فاؤنڈیشن کے تعلیمی نیٹ ورک کے حوالے سے اہم معلومات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ او پی ایف اس وقت آزاد جموں و کشمیر سمیت پاکستان کے چاروں صوبوں میں 27 سے زائد مقتدر اسکولوں اور کالجوں کا انتظام کامیابی سے چلا رہی ہے۔ ان تمام تعلیمی اداروں میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی فیسوں میں 50 فیصد تک کی خطیر اور مقتدر رعایت بھی دی جا رہی ہے۔

سید قمر رضا نے مزید بتایا کہ او پی ایف بیرونِ ملک، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں مقیم محنتی پاکستانیوں کے لیے ملازمت کے عدم تحفظ اور کام کی جگہ کے خدشات جیسے سنگین مسائل کو حل کرنے کے لیے مقتدر سطح پر کوشاں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ او پی ایف کی مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیز اور دیگر فلاحی منصوبوں کو بھی تیز کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستانی کارکنوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرونِ ملک کسی پاکستانی کی وفات جیسے انتہائی نازک اور افسوسناک معاملات میں فاؤنڈیشن ان کے سوگوار خاندانوں کو بروقت مالی و انتظامی امداد کی فراہمی یقینی بناتی ہے، تاکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کا ملکی اداروں کے مقتدر تعاون پر اعتماد مزید مضبوط ہو سکے۔ او پی ایف ہر سطح پر مکمل شفافیت اور اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ سمندر پار پاکستانیوں کی خدمت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

منشیات سے پاک معاشرے کا عزم: پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسدادِ منشیات اور اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن منایا گیا، شعور بیدار کرنے کے لیے خصوصی تقاریب کا انعقاد

کاشف عباسی ,june 26,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

پاکستان سمیت دنیا بھر میں منشیات کے استعمال، اس کی روک تھام اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن جمعہ 26 جون کو مقتدر روایتی جوش و جذبے اور عزمِ نو کے ساتھ منایا گیا ہے۔ اس عالمی دن کو منانے کا بنیادی اور تزویراتی مقصد انسدادِ منشیات اور اسمگلنگ کے کثیر الجہتی خطرات کے حوالے سے عام شہریوں میں وسیع آگاہی اور شعور فراہم کرنا ہے تاکہ معاشرے سے منشیات کے استعمال کا خاتمہ، غیر قانونی بین الاقوامی تجارت کا سدِباب اور اس ممنوعہ کاروبار میں ملوث مجرمانہ نیٹ ورکس کی مکمل حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ اس وقت دنیا بھر میں نشے کے عادی افراد کی تعداد میں ہونے والا مسلسل اضافہ عالمی برادری کے لیے گہری تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔

پاکستان میں منشیات کی روک تھام کے لیے قانون نافذ کرنے والے مقتدر ادارے انتہائی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ملک میں اینٹی نارکوٹکس فورس ، پولیس اور پاکستان کوسٹ گارڈز سمیت مختلف متعلقہ ادارے مشترکہ اور انفرادی کارروائیوں کے دوران سالانہ اربوں اور کروڑوں روپے مالیت کی خطرناک منشیات برآمد کرتے ہیں اور اسمگلنگ میں ملوث سینکڑوں ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جاتا ہے۔ منشیات کی سپلائی لائن کاٹنے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں نشے کے مقتدر عادی افراد کے علاج اور ان کی بحالی کے لیے بھی حکومتی اور نجی سطح پر جامع اقدامات جاری ہیں، جن کا حتمی مقصد پاکستان کو منشیات سے پاک کر کے ایک صحت مند معاشرے کا قیام یقینی بنانا ہے۔

انسدادِ منشیات اور اس کی غیر قانونی اسمگلنگ کے اس عالمی دن کے مقتدر موقع پر ملک بھر میں سرکاری، غیر سرکاری، طبی، فلاحی، رفاعی اور نجی اداروں کے زیرِ اہتمام سیمینارز، واکس اور معلوماتی تقریبات کا بڑے پیمانے پر انعقاد کیا گیا۔ ان مقتدر تقاریب میں طبی ماہرین اور سماجی رہنماؤں نے منشیات کے جسمانی، معاشی اور معاشرتی نقصانات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مقررین نے عام آدمی بالخصوص نوجوان نسل میں اس ناسور کے خلاف شعور اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ معاشرے کے تمام طبقات مل کر اس موذی لت کے خلاف مضبوط ڈھال بن سکیں اور آنے والے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

انسانی وقار کا تحفظ: پاکستان سمیت دنیا بھر میں تشدد کے متاثرین کی حمایت کا عالمی دن منایا گیا، ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک کے خاتمے کے لیے عوامی شعور بیدار کرنے پر زور


اسلام آباد/ نیوز ڈیسک( نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

پاکستان سمیت دنیا بھر میں تشدد کے خلاف اور اس کا شکار ہونے والے متاثرین کی حمایت کا عالمی دن جمعہ 26 جون کو مقتدر انداز میں منایا گیا ہے۔ اس اہم ترین دن کو عالمی سطح پر منانے کا بنیادی مقصد تشدد سے متاثرہ بے گناہ افراد کی نفسیاتی و جسمانی بحالی، ان کے لیے قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا اور کائنات کے تمام انسانوں پر ہونے والے ہر قسم کے تشدد کے مکمل خاتمے کے لیے عوامی شعور کو بیدار کرنا ہے۔

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ تشدد تمام ہی انسانی معاشروں میں کسی نہ کسی مقتدر صورت اور کسی نہ کسی سطح پر ہمیشہ موجود رہا ہے، جو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ تشدد کے متاثرین کی حمایت کے اس عالمی دن کے مقتدر موقع پر دنیا بھر میں مہم جوئی کا حصہ بننے والے متاثرین اور ایسے دردناک واقعات میں معجزاتی طور پر بچ جانے والے افراد کو ان کی جرات پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ انسانی وقار کی بحالی کے لیے تشدد اور دیگر ظالمانہ، غیر انسانی یا رسوا کن سلوک اور سخت سزا کے خلاف اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام ایک مقتدر عالمی معاہدہ عمل میں لایا گیا تھا، جس کی تزویراتی اہمیت کے پیشِ نظر اب تک امریکہ سمیت دنیا کے 166 ممالک اس عالمی معاہدے کی باقاعدہ توثیق کر چکے ہیں۔

اس مقتدر دن کی مناسبت سے پاکستان اور دنیا بھر میں سرکاری، غیر سرکاری، فلاحی اور رفاعی اداروں کے زیرِ اہتمام خصوصی سیمینارز اور شعوری تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ ان مقتدر تقاریب میں مقررین نے معاشرے میں بڑھتے ہوئے تشدد کو روکنے، تشدد کے متاثرین کی مالی و اخلاقی تلافی کرنے، ان کی طبی و سماجی بحالی کے نظام کو مؤثر بنانے اور انسانوں پر وحشیانہ تشدد میں ملوث سنگدل عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر کڑی سزا دینے کے حوالے سے عملی اقدامات اٹھانے پر مقتدر آگاہی فراہم کی، تاکہ ایک پرامن اور متوازن معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔

جنرل اسمبلی کے اہم مباحثے میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا تزویراتی خطاب؛ دیرپا امن محض ایک وقتی واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے، سلامتی کی کامیابیوں کو معاشی بحالی سے جوڑنا ناگزیر، امن سازی فنڈ کی لچکدار مالی معاونت کی مقتدر حمایت، پریس ریلیز

محمود احمد june 26,2026

نیویارک/اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

پاکستان نے عالمی سطح پر دیرپا امن و امان کے قیام کے لیے ایک بار پھر تزویراتی موقف اپناتے ہوئے اس بات پر گہرا زور دیا ہے کہ دنیا بھر میں صرف روایتی امن مشنز کا بھیجنا کافی نہیں، بلکہ تنازعات کے آغاز ہی سے مستقل امن سازی کو عالمی عمل کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ امن مشنز سے امن سازی اور پھر متعلقہ ممالک کی قومی قیادت میں ترقی کے مرحلے تک مؤثر منتقلی کے لیے مستقل سیاسی عزم، مناسب مالی وسائل اور بین الاقوامی برادری کی مربوط معاونت ناگزیر ہے۔

امن سازی اور پائیدار امن سے متعلق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے مقتدر مباحثے میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ امن سازی کمیشن کے قیام کو بیس برس مکمل ہو چکے ہیں، جس کا بنیادی مقصد تنازعات سے نکلنے والے پسماندہ ممالک کو امن کے پائیدار استحکام اور دوبارہ جنگ کی طرف جانے سے بچانے میں معاونت فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے زمینی صورتحال کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا کہ آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نہ امن برقرار رکھنے کے مواقع پہلے جیسے رہے ہیں اور نہ ہی امن کی تعمیر کے، جبکہ دوسری جانب محدود ہوتے ہوئے وسائل پر رکن ممالک کا مقابلہ بھی بڑھتا جا رہا ہے؛ اس لیے ضروری ہے کہ ہم امن سازی کے وعدے کو پورا کرنے کے لیے مجموعی صورتحال کا سنجیدگی اور جامع انداز میں جائزہ لیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے مقتدر خطاب میں اسٹریٹجک نکتہ اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ امن کوئی ایک وقتی واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے، جو تنازعات کی روک تھام، قیامِ امن، امن مشنز، تنازعات کے بعد بحالی اور مستقل امن سازی پر مشتمل ہوتا ہے، اور یہ تمام مراحل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اور باہمی طور پر تقویت دینے والے ہیں۔ انہوں نے مصر اور سلووینیا کی سفارتی سہولت کاری میں مکمل ہونے والے “2025 پیس بلڈنگ آرکیٹیکچر ریویو” کے مقتدر نتائج کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ قومی ملکیت ، امن سازی کمیشن اور اقوامِ متحدہ کے مرکزی اداروں کے درمیان مضبوط روابط اور پورے یو این نظام میں بہتر ہم آہنگی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے مقتدر امن سازی فنڈ کے اہم کردار کو تسلیم کرتا ہے اور ان پروگراموں سے مستفید ہونے والے ممالک کے تجربات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بروقت اور لچکدار مالی و تکنیکی معاونت زمینی سطح پر حقیقی اور مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان، جو اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں فوجی دستے فراہم کرنے والے دنیا کے بڑے ممالک میں شامل ہے اور امن سازی کمیشن کا بانی رکن بھی ہے، نے خود اس امر کا مشاہدہ کیا ہے کہ سلامتی میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو ادارہ جاتی استحکام، قومی مفاہمت اور سماجی و معاشی بحالی کے ساتھ جوڑنا کس قدر ضروری ہے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان اس مشترکہ عالمی مقصد کے حصول کے لیے تمام رکن ممالک کے ساتھ مقتدر تعاون جاری رکھے گا۔

ٹیکس چوری اور جعل سازی کا ہائی پروفائل کیس: قطر میں مقیم پاکستانی کا بینک اکاؤنٹ خالی کرنے کے معاملے پر ایف بی آر کی بڑی وضاحت، واٹس ایپ پر جعلی احکامات بھیجنے کا سنسنی خیز انکشاف

منصور احمد june 25,2026

اسلام آباد (ٹیکس و معاشی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے قطر میں مقیم ایک مبینہ اوورسیز پاکستانی ارسلان آدم کے بینک اکاؤنٹ سے فنڈز کی منتقلی اور اکاؤنٹ خالی کیے جانے کے معاملے پر سوشل میڈیا اور پبلک ہلاکت خیز پروپیگنڈے کا مقتدر نوٹس لیتے ہوئے ایک انتہائی تفصیلی اور سنسنی خیز وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ یہ معاملہ کسی زیادتی کا نہیں بلکہ ٹیکس چوری اور سرکاری دستاویزات کی جعل سازی کا ایک سنگین کیس ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (ٹویٹر) پر جاری کردہ اپنے مقتدر اور تفصیلی ڈیجیٹل بیان میں ایف بی آر کے ترجمان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جناب ارسلان آدم عوامی سطح پر خود کو ایک غیر مقیم تارکینِ وطن (اوورسیز پاکستانی) کے طور پر پیش کر کے ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم سچ یہ ہے کہ سال 2017 اور 2018 کے اپنے آفیشل انکم ٹیکس گوشوارے فائل کرتے وقت انہوں نے خود اپنے دستخطوں سے اپنے آپ کو پاکستان میں مقیم شہری قرار دیا تھا۔ پاکستانی ٹیکس قانون کے تحت اس حیثیت کا حامل فرد اپنی ملکی و غیر ملکی تمام تر آمدنی پر مکمل ٹیکس دینے کا قانونی طور پر پابند ہوتا ہے۔

ایف بی آر کے مطابق، ارسلان آدم نے ہر سال 23.52 ملین روپے کی خطیر غیر ملکی آمدنی کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا، جبکہ قانون کے مطابق اس کی حد صرف 5 ملین روپے ہے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 122(9) کے تحت ایف بی آر کی جانب سے انہیں متعدد نوٹسز بھیجے گئے اور مقتدر سماعت کا مکمل و منصفانہ موقع فراہم کیا گیا، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے انکم دعووں کی تائید میں ایک بھی دستاویزی ثبوت یا بینکنگ ریکارڈ پیش کرنے میں مکمل ناکام رہے۔ ان کے اپنے اعلانات اور ثبوت فراہم نہ کرنے پر ایف بی آر نے قانون کے مطابق ان پر 30 ملین (3 کروڑ) روپے کا قانونی ٹیکس مطالبہ عائد کیا۔

بیان میں مزید انکشاف کیا گیا کہ جب ایف بی آر نے اس واجب الادا ٹیکس کی قانونی ریکوری کا عمل شروع کیا، تو جناب آدم نے اس مقتدر کارروائی کو روکنے کے لیے اپنے متعلقہ بینک کے سامنے ایف بی آر کے نام سے تیار کردہ بالکل جعلی اور من گھڑت احکامات پیش کیے، جو انہیں واٹس ایپ کے ذریعے بھیجے گئے تھے۔ ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ یہ احکامات بورڈ کی طرف سے کبھی جاری ہی نہیں کیے گئے، یہ ایف بی آر کے آفیشل آئی آر ایس سسٹم میں کہیں موجود نہیں ہیں اور نہ ہی ان پر کوئی آفیشل بارکوڈ درج ہے، جو کہ واضح جعل سازی ہے۔ اس جعل سازی کے ذریعے جب وہ ریکوری روکنے میں ناکام رہے تو انہوں نے مقتدر قانون سے بچنے کے لیے 24 جون 2026 کو کمشنر اپیلز کے سامنے ایک تاخیری اپیل دائر کی، یہ وہی دن تھا جس دن انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنا شکایتی خط وائرل کیا۔ ایف بی آر نے اعادہ کیا ہے کہ ادارہ قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنے اور قانون پسند شہریوں کی مدد کے لیے پرعزم ہے، تاہم جعل سازوں اور ٹیکس چوروں کے خلاف کسی دباؤ میں نہیں آئے گا۔

منشیات کے خلاف جنگ میں پوری قوم متحد: پاکستان منشیات، ان کی غیر قانونی ترسیل اور نوجوانوں تک رسائی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے منشیات کے استعمال اور اس کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے مقتدر موقع پر پوری قوم بالخصوص والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، سماجی رہنماؤں اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ ہماری نسلِ نو کو اس کثیر الجہتی لعنت سے بچانے کے لیے فرنٹ لائن پر آ کر اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان منشیات کی نئی اقسام، اس کی بین الاقوامی ترسیل اور نوجوانوں تک اس کی رسائی کے تمام منسلک خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر سطح پر پرعزم اور ثابت قدم ہے۔

وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج پاکستان عالمی برادری کے ساتھ ہم آواز ہو کر منشیات کے سدِباب کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کے عزم کو دہراتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال کا عالمی موضوع ’’دیرینہ مسائل، نئے چیلنجز اور منشیات سے پاک مستقبل کے لیے اختراعی اقدامات‘‘ ہے، جو عالمی سطح پر اس مسئلے کی بدلتی اور سنگین نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے قومی استعداد میں اضافے، صوبائی و وفاقی اداروں میں ہم آہنگی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ انٹیلی جنس کے تبادلے کو وسعت دے رہی ہے، کیونکہ ان غیر قانونی نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے کے بغیر معاشرے کو محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔

وزیرِ اعظم نے اپنے مقتدر خطاب میں تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک بنانے کو حکومت کی اولین قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس طلب میں کمی، آگاہی مہم اور متاثرین کے علاج و بحالی کے لیے جامع و متوازن حکمتِ عملی کے تحت کام کر رہی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے منشیات خوروں اور اسمگلروں کے خلاف برسرِ پیکار اینٹی نارکوٹکس فورس کے ان بہادر شہداء کو خصوصی اور مقتدر خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے وطنِ عزیز کے مستقبل کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی سماجی برائیوں کے خلاف مؤثر روک تھام اور ایک صحت مند و منشیات سے پاک معاشرے کی تشکیل ہم سب کی مشترکہ آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں نئی بحری کشیدگی: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز کے لیے نئے بحری راستے کا اعلان، بغیر رابطے سفر کرنے والے جہازوں کو کارروائی کی سخت وارننگ

منصور احمد june 25,2026

تہران/واشنگٹن ( نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

تزویراتی اور تجارتی لحاظ سے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ “آبنائے ہرمز” میں ایک بار پھر شدید عالمی و سفارتی کشیدگی سر اٹھانے لگی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے بین الاقوامی تجارتی جہازوں کے گزرنے کے لیے باقاعدہ طور پر ایک بالکل نئے بحری راستے کا اعلان کر دیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب کے مقتدر ترجمان نے واضح الفاظ میں وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب سے تمام بحری جہازوں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ایرانی فورسز کے ساتھ مسلسل لائیو رابطے میں رہتے ہوئے اپنے مقتدر سفر کو یقینی بنائیں۔

ترجمان پاسدارانِ انقلاب نے دوٹوک لہجے میں خبردار کیا کہ ایرانی فورسز سے پیشگی رابطے اور مقتدر اجازت کے بغیر کسی بھی دوسرے پرانے یا متبادل راستے سے گزرنا ایران کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگا اور ایسا کرنا متعلقہ جہازوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق، خطے میں اب صرف وہی بحری راستہ محفوظ تصور کیا جائے گا جس کا ایران کی جانب سے باضابطہ اعلان کیا گیا ہے، اور ان نئی مقتدر ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی تجارتی یا فوجی جہاز کو ایرانی بحریہ کی جانب سے سخت تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب، خلیج میں منعقدہ ‘بحرین تعاون کونسل’ کے مقتدر موقع پر موجود امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے اس تزویراتی اقدام پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی بحری قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی بھی قسم کا کوئی ٹول ٹیکس، فیس یا ایرانی شرائط ہرگز قبول نہیں کی جائیں گی، کیونکہ بین الاقوامی آبی گزرگاہیں کسی ایک مخصوص ریاست کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتیں۔

مارکو روبیو نے خلیجی ممالک کے مقتدر رہنماؤں سے ہونے والی اہم ملاقاتوں کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک نے اس نئی صورتحال پر اپنے شدید تزویراتی خدشات سے آگاہ کیا ہے، اور عمان سمیت تمام خلیجی ریاستیں اس خطے میں کسی بھی قسم کے ٹول ٹیکس کے نفاذ کے سخت خلاف ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے عزم کا اعادہ کیا کہ امریکہ اپنے اتحادی خلیجی ممالک کی سلامتی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور آنے والے سفارتی عمل میں ان ممالک کو مکمل طور پر شامل رکھا جائے گا۔ انہوں نے ان افواہوں کو بھی یکسر مسترد کر دیا کہ امریکہ نے ایران کو کوئی رقم منتقل کی ہے یا کسی تعمیرِ نو کے منصوبے کا حصہ ہے، جس سے خطے میں تزویراتی تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

قراردادیں محض ارادوں کا اظہار نہیں بلکہ منشور کے تحت قانونی ذمہ داریاں ہیں، منتخب یا طویل عرصے تک عمل نہ ہونا کونسل کے اختیار کو کمزور کرتا ہے؛ مسئلہ فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر پر قراردادوں پر عمل نہ ہونا عالمی امن کے لیے بڑا دھچکا، مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا مقتدر خطاب

محمود احمد june 25,2026

نیویارک/اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

اقوامِ متحدہ میں پاکستان اور چین نے اپنی تزویراتی شراکت داری اور کثیرالجہتی سفارت کاری کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے مشترکہ طور پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک انتہائی مقتدر ‘آریا فارمولا’ اجلاس منعقد کیا ہے۔ اس خصوصی سفارتی بیٹھک نے دنیا بھر کے رکن ممالک کو ایک اہم اور تزویراتی موقع فراہم کیا ہے کہ وہ کھل کر اس امر پر غور کریں کہ سلامتی کونسل اپنی منظور شدہ قراردادوں کے مکمل، مؤثر اور بغیر کسی امتیاز کے یکساں عملدرآمد کو کس طرح ہر قیمت پر یقینی بنا سکتی ہے۔

اس مقتدر اجلاس کو اقوامِ متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل خالد خیاری، سیکیورٹی کونسل رپورٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر محترمہ شملہ کندیاہ، اور انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے مسٹر رچرڈ گوون نے اہم بریفنگز دیں۔ تمام مقررین نے اپنے مقالوں میں اس بات پر گہرا زور دیا کہ قراردادوں پر ان کی روح کے مطابق من و عن عملدرآمد کرنا ہی دراصل سلامتی کونسل کی ساکھ، عالمی اختیار اور اس کی افادیت کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کونسل کے فیصلوں کو زمینی حقائق میں تبدیل کرنے کے لیے قراردادوں کے ساتھ حقیقت پسندانہ مینڈیٹس، واضح طریقۂ کار، مسلسل لائیو نگرانی، مناسب مالی وسائل اور مضبوط سیاسی عزم کا ہونا ناگزیر ہے۔

اجلاس سے اپنے مقتدر خطاب میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے دوٹوک اور مقتدر الفاظ میں کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادیں محض رسمی ارادوں کا اظہار نہیں ہوتیں بلکہ یہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت تمام رکن ممالک پر عائد ہونے والی سخت قانونی ذمہ داریاں ہیں۔ انہوں نے دنیا کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ قراردادوں پر من پسند طریقے سے (سلیکٹو) عمل کرنا یا طویل عرصے تک انہیں سرد خانے کی نذر رکھنا خود کونسل کے عالمی اختیار کو شدید کمزور کرتا ہے، دیرینہ تنازعات کے حل میں بڑی رکاوٹ بنتا ہے اور مظلوم انسانوں کے مصائب میں ہولناک اضافہ کرتا ہے، جیسا کہ اس وقت فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی مخدوش صورتحال میں صاف دیکھا جا سکتا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ مضبوطی سے لڑتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعے سے متعلق سلامتی کونسل کی مقتدر قراردادوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث یہ اہم بین الاقوامی مسئلہ آج بھی حل طلب ہے، جس کے باعث خطے اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور معصوم کشمیری عوام مسلسل بدترین انسانی مشکلات اور مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے سامنے متعدد مقتدر اور عملی تجاویز پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ غیر نافذ یا جزوی طور پر نافذ قراردادوں کا سالانہ بنیادوں پر باقاعدہ جائزہ لیا جائے، عملدرآمد کے واضح ڈیجیٹل اور سفارتی طریقے وضع کیے جائیں اور سیکریٹری جنرل کی مساعیِ جمیلہ کو کونسل کے فیصلوں کے ساتھ مربوط کیا جائے۔ اجلاس میں شریک سلامتی کونسل کے مستقل و غیر مستقل ارکان نے چین اور پاکستان کے اس مشترکہ اقدام کا زبردست خیرمقدم کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ کونسل کو اپنے فیصلوں کے مستقل اور غیر جانبدار نفاذ کو یقینی بنانا چاہیے، جس سے پاک چین کثیرالجہتی تعاون کا وقار مزید بلند ہوا ہے۔

پاکستان مشن کی میزبانی میں ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے عالمی تعاون اور سیاسی حمایت بڑھانے پر اعلیٰ سطحی مشاورت

محمود احمد june 24,2026

نیویارک/اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

اقوامِ متحدہ میں ایچ آئی وی/ایڈز سے متعلق منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے مقتدر موقع پر پاکستان نے عالمی صحت کے میدان میں ایک اور بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے قائم اقوامِ متحدہ کے ‘گروپ آف فرینڈز’ کے سیکریٹریٹ نے مشترکہ طور پر ایک انتہائی اہم سفارتی بریفنگ اور مقتدر مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا۔ اس مقتدر عالمی اجلاس کا عنوان “ہیپاٹائٹس کے خاتمے کی جانب پیش رفت: اعلیٰ سطحی سیاسی اقدام کے لیے رفتار پیدا کرنا” تھا، جس میں دنیا بھر سے وزارتِ صحت کے مقتدر نمائندگان، اقوامِ متحدہ کے سینیئر سفارت کاروں اور عالمی صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ممتاز رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اجلاس میں وائرل ہیپاٹائٹس کے خطرناک عالمی بوجھ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، جو اس وقت دنیا کی مہلک ترین دائمی بیماریوں میں شامل ہے اور ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 13 لاکھ سے زائد انسانی جانیں نگل لیتی ہے۔ اس مقتدر موقع پر مختلف جغرافیائی خطوں پر مشتمل ایک مشترکہ سیاسی روڈ میپ پر اصولی اتفاقِ رائے پیدا کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد سال 2028ء تک وائرل ہیپاٹائٹس کے مکمل خاتمے پر اقوامِ متحدہ کے ایک باضابطہ اور خود مختار اعلیٰ سطحی اجلاس کے انعقاد کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اجلاس کا باقاعدہ آغاز اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون کے مقتدر افتتاحی کلمات سے ہوا، جس کے بعد ‘کولیشن فار گلوبل ہیپاٹائٹس ایلیمینیشن’ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جان وارڈ نے وائرل ہیپاٹائٹس کے عالمی اثرات اور بین الاقوامی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے امکانات پر جامع بریفنگ دی۔

پاکستانی حکومت کی مقتدر قومی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے عالمی برادری کو بتایا کہ حکومتِ پاکستان نے ملک گیر سطح پر “وزیراعظم پروگرام برائے انسدادِ ہیپاٹائٹس سی” کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کے لیے عالمی ادارۂ صحت کے قریبی تعاون سے 25 کروڑ امریکی ڈالر کے بھاری مقتدر فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ اس پروگرام کا تزویراتی مقصد سال 2030ء تک ہیپاٹائٹس سی کو ملک میں صحتِ عامہ کے لیے خطرہ بننے سے مستقل طور پر روکنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس منصوبے کے تحت پورے پاکستان میں اسکریننگ، تشخیص اور علاج معالجے کی جدید ترین سہولیات عوام کو مکمل طور پر مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔ سفیر عثمان جدون نے مزید کہا کہ اس اہم پروگرام کی موثر نگرانی اور شفاف جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے خود وزیرِاعظم پاکستان قومی ٹاسک فورس کی براہِ راست مقتدر قیادت کر رہے ہیں، جس میں صحتِ عامہ کے ممتاز ملکی و بین الاقوامی ماہرین، معالجین اور محققین شامل ہیں۔

مشاورتی اجلاس کے دوران شرکاء نے عالمی ادارۂ صحت کی حال ہی میں جاری کردہ عالمی ہیپاٹائٹس رپورٹ اور 79ویں عالمی صحت اسمبلی کے وزارتی اعلامیے کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اجلاس میں شریک پاکستان، فرانس، جمہوریہ چیک، میکسیکو، پیرو، ترکیہ، منگولیا، چین، برازیل، ملائیشیا، اسپین اور فلپائن کے مقتدر نمائندوں نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ ہیپاٹائٹس کی روک تھام اور مکمل شفا کے مؤثر ذرائع موجود ہونے کے باوجود، اس بیماری کو عالمی سطح پر وہ مطلوبہ سیاسی توجہ اور مالی وسائل حاصل نہیں ہو رہے جس کی یہ مستحق ہے۔ شرکاء نے عزم ظاہر کیا کہ سال 2030ء تک ہیپاٹائٹس کے عالمی خاتمے کے اہداف کو پانے کے لیے مختلف جغرافیائی خطوں کی وسیع نمائندگی کے ساتھ ایک مضبوط عالمی اتحاد قائم کیا جائے گا، اور اس سلسلے میں غیر رسمی مقتدر مشاورت کا سلسلہ مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے گا۔

پاک روس اسٹریٹجک تعاون: پاکستان اور روس کے درمیان آفات سے نمٹنے، سرچ اینڈ ریسکیو اور صلاحیتی دائرہ کار کے اضافے کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق

کاشف عباسی ,june 24,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

پاکستان اور روس کے درمیان ہنگامی آفات سے نمٹنے، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز اور باہمی صلاحیتی دائرہ کار (کیپیسٹی بلڈنگ) کے اضافے کے لیے تزویراتی تعاون کو مزید مقتدر اور وسیع کرنے پر مکمل اتفاق ہو گیا ہے۔ بدھ کے روز نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ترجمان کی طرف سے جاری کردہ مقتدر پریس ریلیز کے مطابق، روس کے ایک اعلیٰ سطح کے دفاعی وفد نے این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا مقتدر دورہ کیا اور وہاں قائم جدید ترین ‘نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر’ کی کارکردگی کا تفصیلی معائنہ کیا۔

روس کے ڈپٹی چیف نیشنل ڈیفنس مینجمنٹ سینٹر، لیفٹیننٹ جنرل اسکوسکوف اولیگ ایوانوچ کی مقتدر سربراہی میں آنے والے اس وفد کو این ڈی ایم اے کے اعلیٰ حکام نے پاکستان میں آفات سے نمٹنے کے طریقہ کار، جدید ترین پیشگی آگاہی کے نظام (ارلی وارننگ سسٹم) اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے بروقت اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس مقتدر موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تکنیکی تعاون اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے تجربات کے باہمی تبادلے کی کلیدی اہمیت پر خصوصی زور دیا۔

روسی دفاعی وفد کو بریفنگ کے دوران این ای او سی کے صلاحیتی دائرہ کار، سیٹلائٹ پر مبنی پیشگی انتباہی نظام اور کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں قومی وسائل کے موثر اور مربوط استعمال پر انتہائی مقتدر اور جامع پریزنٹیشن دی گئی۔ اس دوران وفد کو سال 2026ء کے دوران پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درپیش ممکنہ ماحولیاتی خطرات کے حوالے سے بھی تفصیلی سائنسی ڈیٹا فراہم کیا گیا۔ بریفنگ کے بعد دونوں ممالک نے علاقائی خطرات کی درست تشخیص، ان کے بروقت تدارک اور ایک بین الاقوامی ‘گلوبل ڈیزاسٹر ریسورس نیٹ ورک’ کے قیام کے مقتدر عزم کا اعادہ کیا۔ روسی وفد نے پاکستان کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر اور یہاں آفات سے نمٹنے کے لیے رائج جدید ترین ڈیجیٹل نظام کی زبردست ستائش کی اور پاکستان کے ساتھ مل کر آفات سے بچاؤ کے لیے عملی اقدامات کو مزید موثر بنانے کا مقتدر عزم ظاہر کیا۔

عوامی ریلیف کی مقتدر فراہمی: بجٹ میں قوم سے کیے وعدے کے مطابق تنخواہ دار طبقے، کاروباری برادری اور عوام کو بھرپور ریلیف فراہم کیا، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی حکومت کی معاشی ٹیم کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں گفتگو

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے عام عوام اور ملکی کاروباری برادری کے لیے تزویراتی ریلیف کو خاص طور پر مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ مالی سال کا بجٹ تشکیل دینے پر حکومتی بالخصوص وزارتِ خزانہ کی پوری ٹیم کی زبردست پذیرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بجٹ میں قوم سے کیے ہوئے مقتدر وعدے کے مطابق تنخواہ دار طبقے، کاروباری برادری اور عام عوام کو ہر ممکن اور بھرپور ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔ وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے بدھ کے روز جاری کردہ مقتدر پریس ریلیز کے مطابق، وزیرِ اعظم نے حکومت کی اعلیٰ سطح کی معاشی ٹیم کے ساتھ منعقدہ ایک خصوصی اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، سیکریٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور پوری حکومتی ٹیم کی شبانہ روز کاوشوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

اس مقتدر موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ بجٹ میں محروم طبقات اور معیشت کے پہیے کو متحرک کرنے والے شعبوں کا خاص خیال رکھا گیا ہے، اور معاشی ٹیم کی اس حوالے سے تمام تر کوششیں بلاشبہ قابلِ ستائش ہیں۔ انہوں نے معاشی ٹیم کو سختی سے ہدایت کی کہ ملک کے حالیہ بہتر ہوتے ہوئے معاشی اشاریوں کے تمام ثمرات براہِ راست ملک کے ہر شہری اور نچلے طبقے تک شفاف طریقے سے پہنچائے جائیں گے۔ دوسری جانب، حکومتی معاشی ٹیم نے وزیرِ اعظم کی جانب سے ملنے والی اس مقتدر ستائش اور حوصلہ افزائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ملک کے محدود مالی وسائل کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی ایک انتہائی کامیاب کوشش کی ہے۔

معاشی ٹیم کے مقتدر ارکان نے بجٹ کی تیاری کے کٹھن عمل میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے بجٹ تجاویز کے حوالے سے ذاتی ملاقاتوں، عوامی ریلیف کے لیے واضح ہدایات اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے عوام کے ریلیف کے اقدامات منوانے کے حوالے سے خود دلچسپی لے کر تمام پیچیدہ معاملات سلجھانے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم کی براہِ راست ہدایت کے تحت بجٹ کی تیاری کے لیے متعدد طویل اجلاس منعقد کیے گئے اور تمام طبقاتِ فکر سے تفصیلی رہنمائی لی گئی تاکہ ایک بہترین اور متوازن بجٹ پیش کر کے غریب طبقات کا تحفظ کیا جا سکے۔ معاشی ٹیم نے وزیرِ اعظم کی مقتدر قیادت میں پاکستان کی پائیدار ترقی، معاشی خوشحالی اور مالیاتی استحکام کے لیے اپنے اقدامات اور عزم کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے کا پختہ اعادہ کیا۔

پاک سعودی برادرانہ تعلقات: پاکستان کی امن کوششوں کا مقصد خطے میں امن و استحکام کا فروغ ہے، سعودی عرب سمیت برادر ممالک کی حمایت نہایت اہم رہی ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف کی تبوک کے گورنر سے ٹیلیفون پر گفتگو

کاشف عباسی ,june 24,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کی تمام تر امن کوششوں کا واحد اور بنیادی مقصد خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کا فروغ ہے، جس میں سعودی عرب سمیت تمام مقتدر برادر ممالک کی مسلسل اور غیر مشروط حمایت ہمیشہ نہایت اہم اور کلیدی رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سعودی عرب کے تزویراتی صوبے تبوک کے گورنر شہزادہ فہد بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کیا، جنہوں نے بدھ کے روز وزیرِ اعظم شہباز شریف کو ٹیلیفون کیا۔ وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر پریس ریلیز کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ٹیلیفونک گفتگو نہایت گرمجوشی، مقتدر خیرسگالی اور روایتی برادرانہ ماحول میں ہوئی۔

اس مقتدر رابطے کے دوران گورنر تبوک نے عالمی سفارتی منظرنامے پر پاکستان کی تاریخی کامیابی کا اعتراف کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کے تاریخی حصول میں پاکستان کی غیر معمولی، انتھک اور کامیاب سفارتی کوششوں پر وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کو خصوصی طور پر مبارکباد پیش کی۔ وزیرِ اعظم نے تہنیتی کلمات پر گورنر تبوک کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں ثالثی اور امن کا خواہاں رہا ہے، اور اس عظیم مقصد کی تکمیل برادر ممالک کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھی۔

پاکستان اور مملکتِ سعودی عرب کے درمیان صدیوں پر محیط تاریخی اور سٹریٹجک برادرانہ تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان اور اس کے عوام سے گہری محبت، مقتدر لگن اور مستقل خیرسگالی کے جذبات پر پاکستان کی حکومت اور عوام کی طرف سے دلی تشکر کا اظہار کیا۔ گفتگو کے اختتام پر، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مزید مقتدر اور مستحکم بنانے کے لیے گورنر تبوک شہزادہ فہد بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود کو جلد سے جلد پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی پرخلوص دعوت بھی دی۔

آبی قلت سے نمٹنے کے لیے مقتدر پیش رفت: انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کا زیرِ زمین پانی کی بحالی اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے کا میڈیا وزٹ، کچنار پارک میں جدید ٹیکنالوجی کا مظاہرہ

روزینہ اسماعیل.june 24,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ نے وفاقی دارالحکومت کے کچنار پارک میں زیرِ زمین پانی کی بحالی اور بارش کے پانی کو مصنوعی طریقوں سے ذخیرہ کرنے کے اپنے مقتدر منصوبے کے حوالے سے ایک خصوصی میڈیا ایکسپوژر وزٹ کا اہتمام کیا ہے۔ اس منصوبے کو ملک میں شہری سیلابی صورتحال سے نمٹنے اور تیزی سے کم ہوتے ہوئے زیرِ زمین آبی وسائل کی قدرتی بحالی کے لیے ایک منفرد اور مقتدر ترین ماحولیاتی حل قرار دیا جا رہا ہے۔

اس مقتدر موقع پر ملک کے مقتدر پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کے نمائندوں نے منصوبے کے مقام کا تفصیلی دورہ کیا اور شہری آبی نظم و نسق کو جدید خطوط پر استوار کرنے سمیت موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے مقابلے میں لچک پیدا کرنے کے لیے متعارف کرائے گئے جدید ترین سائنسی اقدامات کا بچشمِ خود مشاہدہ کیا۔ دورے کے دوران انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے اسٹریٹجک پروگرام ڈائریکٹر برائے واٹر، فوڈ اینڈ ایکو سسٹمز ڈاکٹر محسن حفیظ نے صحافیوں کے وفد کو منصوبے کے بنیادی مقاصد، عملی طریقہ کار اور پائیدار شہری آبی تحفظ میں اس کے کلیدی کردار کے بارے میں مقتدر بریفنگ دی۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محسن حفیظ کا کہنا تھا کہ اس اہم منصوبے کا بنیادی مقصد برسات کے موسم میں بارش کے پانی کو ضائع ہونے سے بچا کر مقتدر تکنیک کے ذریعے براہِ راست زیرِ زمین آبی ذخائر تک پہنچانا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف شہروں میں سڑکوں پر پانی کے سطحی بہاؤ اور سیلابی خطرات میں واضح کمی آئے گی بلکہ زیرِ زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح کو دوبارہ بحال کرنے میں بھی بھرپور مدد ملے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام قدرتی حل کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ جدید ترین شہری انفراسٹرکچر کی ترقی کے وسیع تر قومی اقدامات کا ایک لازمی حصہ ہے۔

ڈاکٹر محسن حفیظ نے وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں پر سخت زور دیا کہ وہ ملک بھر کے بڑے شہروں میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے اور اسے زمین کا حصہ بنانے کے اس مقتدر نظام کو سرکاری سطح پر فروغ دیں اور اسے قانونی طور پر لازمی قرار دیں تاکہ پاکستان کو درپیش بڑھتی ہوئی آبی قلت اور پانی سے متعلق دیگر سنگین چیلنجز پر بروقت قابو پایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر خصوصی روشنی ڈالی کہ شدید موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی شہری آبادی کے موجودہ تناظر میں پاکستان کے طویل المدتی آبی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایسے تمام پائیدار طریقوں کو قومی سطح پر اپنانا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان مقتدر اقدامات کے بارے میں عوامی آگاہی میں اضافہ پائیدار آبی نظم و نسق کے طریقوں کو پاکستان کے تمام شہری علاقوں میں زیادہ وسیع پیمانے پر اپنانے کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

ملکی معیشت کے لیے بڑی عالمی کامیابی: بارکلیز کی رپورٹ سے عالمی سرمایہ کاروں کے پاکستان کی معاشی سمت پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی ہو رہی ہے، مشیرِ خزانہ خرم شہزاد

روزینہ اسماعیل.june 24,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

وفاقی وزیرِ خزانہ کے مقتدر مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ برطانیہ کے معروف بین الاقوامی مالیاتی ادارے بارکلیز نے پاکستان کے معاشی مستقبل پر گہرے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ملک کے خودمختار قرضوں کی درجہ بندی میں نمایاں بہتری کر دی ہے۔ بدھ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک مقتدر پیغام میں انہوں نے بتایا کہ بارکلیز نے پاکستان کی معیشت کے حوالے سے ہونے والی مثبت اور تعمیری پیشرفت کو باقاعدہ تسلیم کرتے ہوئے ملک کے خودمختار قرضوں کی درجہ بندی کو بڑھا کر ‘اوور ویٹ’ کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بڑے عالمی اقدام سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے پاکستان کی درست معاشی سمت پر بڑھتے ہوئے پختہ اعتماد کی واضح عکاسی ہو رہی ہے۔

بارکلیز کی جانب سے جاری کردہ اس تازہ ترین عالمی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن اور اندرونی مالیاتی نظم و ضبط میں حالیہ عرصے کے دوران نمایاں اور مقتدر بہتری آئی ہے، جس کے باعث ملک کے تمام اہم معاشی اشاریوں میں پائیدار استحکام دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مشیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں دوررس معاشی اصلاحات، فعال مالیاتی نظم و نسق اور بیرونی شعبے میں مقتدر بہتری کے ذریعے عالمی سرمایہ کاروں کا کھویا ہوا اعتماد بحال کرنے میں انتہائی اہم اور اسٹریٹجک پیشرفت کی ہے، جس کے مثبت نتائج اب سامنے آ رہے ہیں۔

خرم شہزاد نے مزید بتایا کہ اس مقتدر رپورٹ میں پاکستان کے جغرافیائی محلِ وقوع کو بھی غیر معمولی اور تزویراتی اہمیت دی گئی ہے۔ بارکلیز کے ماہرین کے مطابق، پاکستان اس وقت مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک انتہائی اہم تجارتی اور اقتصادی راہداری کی حیثیت رکھتا ہے، جو مستقبل قریب میں علاقائی تجارت، غیر ملکی سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر پاکستان موجودہ معاشی اصلاحات، سخت مالیاتی نظم و ضبط اور استحکام کی پالیسیوں پر اسی طرح عمل جاری رکھتا ہے، تو مستقبل میں عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے ملک کی کریڈٹ ریٹنگ میں مزید مقتدر بہتری کے قوی امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے اس کے دوررس فوائد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس عالمی پیشرفت کے نتیجے میں پاکستان کے لیے بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں سے نئے قرضوں کا حصول نسبتاً آسان اور انتہائی کم لاگت پر ممکن ہو سکتا ہے، جبکہ ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔ مشیرِ خزانہ نے تاکید کی کہ بارکلیز کی جانب سے پاکستان کے خودمختار قرضوں کی درجہ بندی میں یہ مقتدر بہتری اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان کی معاشی بنیادیں بتدریج مضبوط ہو رہی ہیں اور عالمی مالیاتی ادارے اور سرمایہ کار ملک کے معاشی امکانات کو زیادہ مثبت اور تزویراتی انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ یہ عالمی رپورٹ ایک ایسے مقتدر وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان معاشی استحکام، مالیاتی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مختلف اہم اقدامات پر سختی سے عمل پیرا ہے اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں ملک کی ساکھ میں بتدریج بہترین بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔

امریکا ایران مذاکرات تعطل کا شکار: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مذاکرات فوری ختم کرنے کی دھمکی، آبنائے ہرمز میں جہازوں سے ٹول ٹیکس کی وصولی پر تنازع شدت اختیار کر گیا

محمود احمد june 24,2026

واشنگٹن/اسلام آباد (بین الاقوامی امور ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

امریکا اور ایران کے درمیان جاری تزویراتی امن مذاکرات ایک بار پھر شدید خطرات سے دوچار ہو گئے ہیں، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مذاکراتی عمل فوری طور پر یکطرفہ ختم کرنے کی کھلی دھمکی دے دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک مقتدر بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ایران نے باقاعدہ طور پر امریکا کو مقتدر یقین دہانی کرائی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بین الاقوامی تجارتی جہازوں سے نہ تو کوئی ٹول ٹیکس لیا جا رہا ہے اور نہ ہی ان سے کسی قسم کی انشورنس فیس وصول کی جا رہی ہے۔

امریکی صدر نے ایران کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تہران کی جانب سے فراہم کردہ یہ معلومات اور تردید بعد میں غلط ثابت ہوئیں، تو امریکا اور ایران کے درمیان جاری تمام تر مذاکرات کو بغیر کسی تاخیر کے فوری طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مقتدر بیان میں مزید کہا کہ ایران کے بعض منجمد مالیاتی فنڈز اس وقت مکمل طور پر امریکی کنٹرول میں ہیں، اور ان فنڈز کو امریکی کسانوں کو ادائیگیاں کرنے کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران ان منجمد فنڈز کے ذریعے صرف امریکا سے ہی مکئی، گندم، سویابین اور دیگر مقتدر غذائی اجناس خریدنے کا مجاز ہو سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت ایران کو خوراک کی شدید ترین ضرورت ہے اور یہ تزویراتی خریداری صرف اور صرف امریکا سے ہی کی جائے گی۔

دوسری جانب، امریکی صدر کے اس دھمکی آمیز بیان اور دباؤ کے ہتھکنڈوں پر ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کا بھی ایک انتہائی اہم اور مقتدر ردِعمل سامنے آیا ہے، جس نے مذاکراتی عمل کے جاری رہنے کے حوالے سے تہران کے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی چیف مذاکرات کار نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کسی بیرونی طاقت کے زور پر نہیں، بلکہ ایران کے مضبوط تزویراتی مؤقف اور عوامی مزاحمت کے نتیجے میں ہی وجود میں آئی ہے۔

محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران نے انتہائی مشکل اور کٹھن حالات کے باوجود اپنے تمام تر قومی مفادات کا بھرپور دفاع کیا ہے اور پورے مذاکراتی عمل کے دوران اپنی مقتدر خودمختاری اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق، یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ یہ معاہدہ درحقیقت امریکا کی تسلط پسندانہ پالیسیوں کی ناکامی اور ایران کی عظیم سفارتی کامیابی کی ایک روشن علامت بن چکا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں پائیدار امن اور حقیقی استحکام کسی بھی بیرونی طاقت کی مداخلت کے ذریعے ہرگز ممکن نہیں ہے، بلکہ یہ صرف اور صرف خطے کے تمام ممالک کے باہمی تعاون اور مشترکہ کوششوں سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ علاقائی سلامتی اور استحکام کی مقتدر ذمہ داری خود خطے کے ممالک کو اپنے ہاتھوں میں سنبھالنی چاہیے۔

افغان رجیم کی اندرونی صفوں میں بڑی دراڑ: امیرِ طالبان کا اپنے ہی کمانڈر جمعہ خان فاتح کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کا حکم، بدخشاں میں خانہ جنگی کا خطرہ

محمود احمد june 24,2026

کابل (بین الاقوامی امور ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

افغان طالبان رجیم کی اندرونی صفوں میں ایک بہت بڑی اور مقتدر دراڑ پیدا ہو گئی ہے، جہاں امیرِ طالبان نے اپنے ہی ایک بااثر مقامی کمانڈر کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کا باقاعدہ حکم جاری کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے انتہائی قیمتی معدنیاتی وسائل پر قبضے کی اندرونی جنگ نے اب ایک سنگین عسکری و سیاسی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے، اور افغان طالبان کی مرکزی قیادت اور مقامی تاجک کمانڈر جمعہ خان فاتح کے درمیان معدنیات کی تقسیم کے مقتدر معاملے پر اختلافات پچھلے چند دنوں میں حد سے زیادہ شدت اختیار کر گئے ہیں۔ اس سنگین صورتحال کے بعد طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ نے مقامی کمانڈر جمعہ خان فاتح کو باقاعدہ طور پر باغی قرار دے کر ان کے خلاف فوری اور سخت ترین فوجی کارروائی کا مقتدر حکم دے دیا ہے۔

افغان میڈیا کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، افغان طالبان کی اسپیشل فورسز کا ایک بہت بڑا اور مقتدر قافلہ جمعہ خان فاتح کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنے کے لیے بدخشاں کے دور افتادہ ضلع شغنان کی طرف تیز رفتاری سے روانہ ہو چکا ہے۔ کمانڈر جمعہ خان فاتح کی گرفتاری کے اس مقتدر مشن کے لیے ہمویز گاڑیوں اور بھاری ٹرکوں سمیت پچاس عسکری گاڑیوں پر مشتمل طالبان رجیم کا ایک انتہائی مسلح اور بھاری دستہ متحرک کیا گیا ہے۔ دوسری جانب افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ اس سخت فوجی کارروائی کے ردِعمل میں کمانڈر جمعہ خان فاتح نے بھی اپنے تمام مقامی افراد اور حامیوں کو طالبان رجیم کے خلاف فوری طور پر ہتھیار اٹھانے اور علاقے کی قیمتی کانوں کا کنٹرول مکمل طور پر اپنے ہاتھوں میں لینے کا مقتدر حکم دے دیا ہے۔

حساس اداروں کی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، جمعہ خان فاتح نے کابل کی طالبان رجیم کے خلاف باقاعدہ اور منظم عسکری کارروائیوں کی تزویراتی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے، اور وہ یہ مقتدر دعویٰ بھی کر چکے ہیں کہ طالبان رجیم کے خلاف مزاحمت کے لیے ان کے پاس صوبہ بدخشاں میں دس ہزار اور ضلع نسی میں پچیس سو سے زائد تجربہ کار جنگجو بالکل تیار بیٹھے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں اور مبصرین کے مطابق، افغانستان کے ان ناراض اور بااثر کمانڈروں کی جانب سے کی جانے والی یہ عسکری مزاحمت دراصل طالبان رجیم کے نظریاتی خاتمے اور اندرونی گرفت کمزور ہونے کی شروعات ہے، جو مستقبل قریب میں پورے ملک کو ایک بار پھر شدید اور خونریز خانہ جنگی کی ہولناک دلدل میں دھکیل دے گی۔ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغان رجیم کی جابرانہ پالیسیوں اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف بڑھتی ہوئی یہ عسکری بغاوتیں مرکزی کمانڈ کے کھوکھلے ہونے اور گہرے داخلی انتشار کا واضح ثبوت ہیں۔

آئی سی سی کی نئی رینکنگ جاری: ٹیسٹ بیٹرز میں بابر اعظم ایک درجہ تنزلی کے بعد 20ویں نمبر پر چلے گئے، جو روٹ دوبارہ نمبر ون بن گئے

محمود احمد june 24,2026

لاہور ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کھلاڑیوں کی تازہ ترین عالمی رینکنگ جاری کر دی ہے، جس کے تحت ٹیسٹ فارمیٹ میں انگلینڈ کے اسٹار بیٹر جو روٹ دو درجے مقتدر بہتری کے ساتھ ایک بار پھر دنیا کے نمبر ون ٹیسٹ بیٹر بن گئے ہیں۔ ان کی اس ترقی کے نتیجے میں انگلینڈ کے ہی ہیری بروک ایک درجہ تنزلی کے بعد دوسرے اور آسٹریلیا کے ٹریوس ہیڈ بھی ایک درجہ پیچھے ہٹ کر تیسرے نمبر پر براجمان ہو گئے ہیں۔

پاکستانی بیٹرز کے لیے تازہ رینکنگ مایوس کن رہی جہاں قومی ٹیم کے مقتدر بلے باز محمد رضوان اور بابر اعظم ایک ایک درجہ تنزلی کا شکار ہو کر بالترتیب 19 ویں اور 20 ویں نمبر پر چلے گئے ہیں، البتہ سعود شکیل نے دو درجے ترقی پا کر 22 ویں پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ نیوزی لینڈ کے بیٹرز کے لیے یہ رینکنگ شاندار ثابت ہوئی؛ راچن رویندرا دو درجے ترقی کے ساتھ دسویں، ڈیرل مچل پانچ درجے چھلانگ لگا کر 16 ویں، گلین فلپس 8 درجے بہتری کے بعد 31 ویں اور ہنری نکولس 13 درجے کی طوفانی ترقی کے ساتھ 40 ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔

🏏 ٹیسٹ بولرز اور آل راؤنڈرز رینکنگ

ٹیسٹ بولنگ کی دنیا میں ایک بڑا تلاطم دیکھا گیا ہے جہاں نیوزی لینڈ کے فاسٹ بولر میٹ ہنری 6 درجے کی مقتدر ترقی کے ساتھ دنیا کے نمبر ون ٹیسٹ بولر بن گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کے جسپریت بمرا (جو نومبر 2024ء سے نمبر ون پوزیشن پر قابض تھے) اور میٹ ہنری کے رینکنگ پوائنٹس 870 پر بالکل برابر ہو چکے ہیں۔ ٹیسٹ آل راؤنڈرز میں بھارت کے رویندرا جڈیجا کی پہلی پوزیشن بدستور مقتدر اور برقرار ہے۔

📊 ون ڈے (ODI) رینکنگ کی صورتحال

ون ڈے فارمیٹ کی بات کی جائے تو بیٹرز میں نیوزی لینڈ کے ڈیرل مچل کی پہلی پوزیشن برقرار ہے، جبکہ بھارت کے شبمن گل تین درجے مقتدر بہتری کے ساتھ دوسرے نمبر پر پہنچ گئے ہیں، جس کے باعث ویرات کوہلی ایک درجہ تنزلی کے بعد تیسرے نمبر پر چلے گئے ہیں۔ اس فارمیٹ میں پاکستان کے بابر اعظم کی بدستور چھٹی پوزیشن برقرار ہے۔

ون ڈے بولرز: افغانستان کے لیگ اسپنر راشد خان کی پہلی پوزیشن قائم ہے۔ پاکستان کے مسٹری اسپنر ابرار احمد دوسری اور فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نویں پوزیشن پر مضبوطی سے برقرار ہیں۔ بھارت کے ارش دیپ سنگھ 16 درجے کی شاندار بہتری کے ساتھ 22 ویں اور بنگلادیش کے مستفیض الرحمٰن 23 ویں نمبر پر آ گئے ہیں۔
ون ڈے آل راؤنڈرز: افغانستان کے عظمت اللہ عمرزئی پہلے اور زمبابوے کے سکندر رضا دوسرے نمبر پر برقرار ہیں، جبکہ بنگلادیش کے مہدی حسن میراز ایک درجہ ترقی کے بعد تیسری مقتدر پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

19 جولائی کو نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں ہونے والے فائنل میں فیفا صدر جیانی انفانٹینو اور صدر ٹرمپ ایک ساتھ میچ دیکھیں گے؛ مصروفیات کے باعث اب تک کسی میچ میں شرکت نہ کر سکے، وائٹ ہاؤس ٹاسک فورس کا بیان

محمود احمد june 24,2026

واشنگٹن (کھیلوں کی دنیا/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی (فیفا) کے صدر جیانی انفانٹینو نے ایک مقتدر اور سنسنی خیز اعلان کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے فائنل میچ میں خصوصی طور پر شرکت کریں گے اور چیمپیئن بننے والی فاتح ٹیم کو اپنے ہاتھوں سے فٹبال کی دنیا کی سب سے مقتدر اور قیمتی ٹرافی پیش کریں گے۔ عالمی اسپورٹس میڈیا کے مطابق، فٹبال ورلڈ کپ 2026ء کا فائنل معرکہ 19 جولائی کو نیو جرسی کے تاریخی ‘میٹ لائف اسٹیڈیم’ میں کھیلا جائے گا، جس پر اس وقت پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، تاریخ کا یہ سب سے بڑا ورلڈ کپ 11 جون سے امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں کامیابی سے جاری ہے، جس میں مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جا رہے ہیں اور ان میں سے 78 میچز کی میزبانی تنہا امریکا کے حصے میں آئی ہے۔ اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی گوناگوں تزویراتی اور سیاسی مصروفیات کے باعث اب تک ٹورنامنٹ کا کوئی بھی ابتدائی میچ دیکھنے اسٹیڈیم نہیں پہنچ سکے، تاہم فیفا کے سربراہ جیانی انفانٹینو نے اپنے حالیہ انٹرویو میں مقتدر یقین دہانی کروائی ہے کہ امریکی صدر فائنل کے تاریخی موقع پر اسٹیڈیم میں موجود ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اور صدر ٹرمپ نہ صرف مل کر اس فائنل معرکے سے لطف اندوز ہوں گے بلکہ اختتامی تقریب کو چار چاند بھی لگائیں گے۔

دوسری جانب، وائٹ ہاؤس کی ورلڈ کپ ٹاسک فورس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینڈریو جیولیانی نے میڈیا کو بتایا کہ صدر ٹرمپ اپنی شدید مصروفیات کے باوجود کھیلوں کے تمام بڑے عالمی ایونٹس میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور وہ اس فائنل کو یادگار بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ کھیلوں کے تجزیہ کاروں نے یاد دلایا کہ گزشتہ برس کلب ورلڈ کپ کی ٹرافی تقسیم کرنے کے دوران بھی صدر ٹرمپ اپنی منفرد باڈی لینگویج اور اسٹیج پر موجودگی کے باعث عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے تھے جس پر بعض بین الاقوامی کھلاڑی حیران بھی دکھائی دیے تھے۔ اب فٹبال کے سب سے بڑے اور میگا مقابلے کے فائنل میں ان کی شرکت ایک بار پھر کھیلوں کی دنیا اور عالمی سفارت کاری میں ایک نئی بحث کا آغاز کر سکتی ہے۔

تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی خصوصی شرکت؛ اعزاز ایرانی صدر کی صحتِ عامہ، طبی تحقیق اور جراحی کے شعبے میں گراں قدر خدمات کے اعتراف میں دیا گیا

روزینہ اسماعیل.june 23,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

پاکستان کے مقتدر ترین طبی ادارے ‘کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف پاکستان’ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کو ان کی صحتِ عامہ، طبی تعلیم کی ترویج، کارڈیالوجی کے شعبے میں جدید تحقیق اور انسانیت کے لیے مخلصانہ و انتھک خدمات کے اعتراف میں شعبہ جراحیِ قلب (کارڈیوتھوراسک سرجری) میں اپنی سب سے اعلیٰ ‘اعزازی فیلو شپ’ تفویض کر دی ہے۔

منگل کے روز وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ اس پروقار اور مقتدر تقریب میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خصوصی طور پر شرکت کی اور ایرانی صدر کو اس تاریخی اعزاز سے نوازے جانے کے لمحات کا مشاہدہ کیا۔ واضح رہے کہ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان بذاتِ خود طب کی دنیا میں ایک معتبر نام اور ہارٹ سرجری کے مایہ ناز ماہر سرجن ہیں، جن کی علمی و عملی خدمات کو دنیا بھر میں مقتدر مانا جاتا ہے۔

طبی و سفارتی ماہرین کے مطابق، پاکستان کی جانب سے ایرانی صدر کو اس اعلیٰ ترین اعزازی فیلو شپ کی تفویض سے پاکستان اور ایران کے مابین برادرانہ تعلقات میں ایک نئے سائنسی و طبی باب کا اضافہ ہوا ہے۔ اس مقتدر اقدام سے دونوں ممالک کے میڈیکل کالجز، جامعات اور طبی اداروں کے مابین اعلیٰ تعلیم کے فروغ، ادارہ جاتی سطح پر تعلیمی و تحقیقی تبادلوں، جدید کلینیکل ریسرچ، اور فیکلٹی سمیت ممتحنین کے باہمی تبادلوں کو زبردست تزویراتی تقویت ملے گی، جو مستقبل میں دونوں برادر ممالک کے ہیلتھ کیئر سسٹمز کو مزید مربوط بنانے میں اہم ترین سنگِ میل ثابت ہوگی۔

پاکستان اور ایران مشترکہ ترقی کے لیے پرعزم، مختلف شعبوں میں تعاون مزید مضبوط ہوگا: وزیراعظم

کاشف عباسی ,june 23,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دورہِ پاکستان پر آئے ہوئے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ساتھ وفود کی سطح پر ہونے والی ایک انتہائی اہم اور مقتدر ملاقات کے دوران واضح کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق کوئی بات شامل نہیں ہے اور نہ ہی یہ نکتہ کبھی ایجنڈے کا حصہ رہا ہے۔ وزیراعظم نے دوٹوک انداز میں کہا کہ بیلسٹک میزائل کے حوالے سے دنیا میں کوئی دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے؛ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ دنیا کے دیگر ممالک کے پاس تو بیلسٹک میزائل ہوں اور ایران کو اس حق سے محروم رکھا جائے، اس مقتدر نکتے پر عالمی سطح پر کسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کچھ شرپسند عناصر خطے میں جنگ کے شعلوں کو بجھنے نہیں دینا چاہتے اور وہ اس تاریخی امن عمل کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں۔

اس اعلیٰ سطحی تزویراتی ملاقات میں پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر (چیف آف آرمی اسٹاف) بھی شریک تھے۔ اپنے مقتدر ابتدائی کلمات میں وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے مابین اس تاریخی ثالثی کے لیے پاکستان پر بھرپور اعتماد کرنے پر ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی اخوت کو کبھی جوابدہ نہیں ہونا پڑتا، ہم ایران کو کبھی مایوس نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی ویژنری قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا جن کے زیرِ اثر ایران نے انتہائی وقار اور عزت کے ساتھ جنگ بندی کے اس مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔ وزیراعظم نے حالیہ کشیدگی کے دوران معصوم جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم نے ہمیشہ کی طرح اس مشکل صورتحال کا سامنا بھی انتہائی جرات، بہادری اور ہمت سے کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کے انتھک اور تزویراتی کردار کو مقتدر الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہماری مشترکہ کوششوں کے باعث آج یہ کامیابی ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے تکنیکی سطح کے طویل مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی کاوشوں کو بھی لاجواب قرار دیا۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے خطے میں امن کے قیام کے لیے تعاون فراہم کرنے پر برادر دوست ممالک بالخصوص سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور مصر کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ پاکستان اور ایران ہمیشہ کے لیے دوست اور بھائی ہیں جن کی خوشیاں اور غم سانجھے ہیں، اور دونوں ممالک صدر مسعود پزشکیان کی قیادت میں اقتصادی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور تعمیرِ نو سمیت تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کر کے مشترکہ ترقی کے ایک نئے مقتدر دور کا آغاز کریں گے۔