اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط اور جنگ بندی پر صدر زرداری کی مبارکباد؛ یکطرفہ اقدامات کی مخالفت، مکالمے اور مسلم امہ کے اتحاد کے تحفظ کے لیے پاکستان کے اصولی عزم کا اعادہ

کاشف عباسی ,june 23,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے اسلامی جمہوریہ ایران کے نومنتخب صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے منگل کے روز ایوانِ صدر میں ایک انتہائی اہم، مقتدر اور اعلیٰ سطحی ملاقات کی ہے۔ حالیہ عالمی و علاقائی تنازعے کے خاتمے کے بعد صدر پزشکیان کا یہ پہلا سرکاری دورہِ پاکستان ہے، جس کا ایوانِ صدر میں پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔ اس مقتدر ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے مابین دیرینہ برادرانہ و تاریخی تعلقات، علاقائی امن و سلامتی کی بدلتی صورتحال، اقتصادی تعاون کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے تمام تزویراتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں ایران کی جانب سے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی، صدر کے دفتر کے سربراہ محسن حاجی میرزائی، وزیر داخلہ سکندر مومنی، سیاسی امور کے سربراہ سعید عباس موسوی اور پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم شامل تھے۔ دوسری جانب پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی و سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی، وزیر مملکت طلال چوہدری، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم حسین نے کی۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق، صدر آصف علی زرداری نے سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی تاریخی پیش رفت اور ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر دستخط ہونے پر صدر پزشکیان کو مقتدر الفاظ میں مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ جاری تکنیکی مذاکرات خطے میں مستقل امن کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔

صدر آصف علی زرداری نے ایران کے امن، استحکام، قومی اتحاد، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل اور اصولی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتا رہا ہے اور عالمی چیلنجز کے پائیدار حل کے لیے صرف مکالمے اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے مسلم امہ کے اتحاد اور خلیجی ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات برقرار رکھنے کے عزم کو دہرایا۔ صدر زرداری نے ایران کی مقتدر قیادت (آیت اللہ علی حسینی خامنہ ای) کی شہادت پر ایک بار پھر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان کی تدفین میں مقتدر سطح پر شرکت کرے گا۔ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے امن، جنگ بندی اور عالمی سطح پر مکالمے کے فروغ کے لیے پاکستان کے انتہائی مثبت، تعمیری اور مخلصانہ کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور حالیہ معاشی و سفارتی چیلنجز میں پاکستان کی جانب سے فراہم کی جانے والی مضبوط حمایت کا شکریہ ادا کیا۔ ملاقات کے اختتام پر صدر زرداری نے ایرانی صدر کے ذریعے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے لیے اپنی نیک تمنائیں اور گرمجوش سلام بھی پہنچایا۔

عالمی سفارت کاری میں بڑی پیش رفت: ایران اپنے جوہری پروگرام کے مکمل جائزے پر رضامند، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

محمود احمد june 23,2026

واشنگٹن (بین الاقوامی امور ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک تزویراتی بیان میں مقتدر دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے مکمل اور جامع جائزے پر باقاعدہ رضامند ہو گیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کے اس تفصیلی جائزے پر تیار نہ ہوتا تو تہران کے ساتھ مستقبل میں مزید کوئی مذاکرات ممکن نہ ہوتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے دی جانے والی اسی اہم یقین دہانی اور دیگر مقتدر رعایتوں کی بنیاد پر وہ اب آبنائے ہرمز کو دوبارہ تجارتی آمد و رفت کے لیے کھولنے کی اجازت دینے پر تیار ہوئے ہیں، جس کے بعد اب وہاں کوئی بحری ناکہ بندی برقرار نہیں رہے گی۔

امریکی صدر نے اپنی تزویراتی حکمتِ عملی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ خطے میں تمام امریکی جنگی جہاز بدستور اپنی پوزیشنز پر موجود رہیں گے تاکہ اگر مستقبل میں ناکہ بندی کی بحالی کی ضرورت پیش آئے تو فوری کارروائی کی جا سکے، تاہم موجودہ صورتحال میں دوبارہ ناکہ بندی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ صدر ٹرمپ نے منجمد اثاثوں کی بحالی کے حوالے سے مقتدر انکشاف کیا کہ امریکا کی جانب سے واگزار کیے جانے والے ایران کے منجمد فنڈز صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غذائی اجناس اور ادویات کی خریداری کے لیے ہی استعمال کیے جا سکیں گے، اور یہ خریداری لازمی طور پر صرف امریکا سے ہی کی جائے گی جس میں امریکا کے عظیم کسانوں سے مکئی، گندم اور سویابین کی درآمد شامل ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کو اس وقت ان غذائی اجناس کی اشد ضرورت تھی کیونکہ وہاں ایک انسانی بحران جنم لے رہا تھا، اور انہوں نے محسوس کیا کہ اس سے پہلے کہ بہت تاخیر ہو جائے، تہران کی یہ مدد کرنا ضروری تھا۔ انہوں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات انتہائی مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ امریکی صدر نے معاشی اشاریوں پر بات کرتے ہوئے ایک اور مقتدر بیان میں بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزشتہ روز 19 ملین بیرل تیل کی ریکارڈ سپلائی لائن بحال ہوئی ہے جو کہ اب تک کا سب سے بڑا حجم ہے، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مسلسل کم ہو رہی ہیں اور اب یہ دنیا پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ ہو چکی ہے۔

مذہبی ہم آہنگی کی مثال: غازی کوٹ میں 7 محرم الحرام کا مرکزی جلوس پُرامن طور پر اختتام پذیر

مانسہرہ (علاقائی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

غازی کوٹ مانسہرہ میں 7 محرم الحرام کا مرکزی ماتمی جلوس انتہائی سخت اور فول پروف سیکیورٹی انتظامات کے سائے میں اپنے روایتی و مقررہ راستوں سے گزرتا ہوا علی مسجد پہنچ کر پُرامن طور پر اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ ایامِ عزا کے دوران امن و امان کی مجموعی صورتحال کو برقرار رکھنے اور عزاداروں کے تحفظ کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے غیر معمولی اور ٹھوس اقدامات کیے گئے تھے۔

مقتدر سیکیورٹی پلان کے تحت جلوس کی گزرگاہوں اور امام بارگاہوں پر ساڑھے تین سو سے زائد پولیس افسران اور جوانوں کو فرنٹ لائن پر تعینات کیا گیا تھا، جبکہ ان کی معاونت کے لیے ایلیٹ فورس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ، اسپیشل برانچ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے حساس اداروں کے دستوں نے بھی اپنے تزویراتی فرائض انتہائی تندہی سے سرانجام دیے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) مانسہرہ محمد اظہر خان نے جلوس کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہی غازی کوٹ کے تمام حساس مقامات، جلوس کے روٹس اور امام بارگاہوں کا تفصیلی دورہ کر کے حفاظتی انتظامات کا خود جائزہ لیا اور فیلڈ فورس کو ہائی الرٹ رہنے کے احکامات جاری کیے۔

حفاظتی حکمتِ عملی کے مطابق، جلوس کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو خاردار تاریں لگا کر سیل کیا گیا تھا اور عزاداروں کی آمد کے لیے واک تھرو گیٹس نصب کیے گئے تھے، جہاں میٹل ڈیٹیکٹرز کے ذریعے جامع تلاشی کا عمل یقینی بنایا گیا۔ اس کے علاوہ، جلوس کی نقل و حرکت کی ڈیجیٹل نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کا مربوط نظام فعال رہا، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور سراغ رساں کتوں کی مدد سے جلوس کے راستوں کی پہلے سے مکمل اسکیننگ اور کلیئرنس کی گئی تاکہ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے کا سدِباب کیا جا سکے۔ جلوس کے کامیاب اور پُرامن انعقاد پر ڈی پی او محمد اظہر خان نے پولیس فورس، سیکیورٹی اداروں، جلوس کے منتظمین اور عزاداروں کے مابین بہترین باہمی تعاون کو سراہتے ہوئے عزم دہرایا کہ محرم الحرام کے بقیہ ایام خصوصاً یومِ عاشور پر بھی سیکیورٹی کے اسی مقتدر معیار کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ شہری پرسکون ماحول میں اپنے مذہبی فرائض ادا کر سکیں۔

پاک ایران تعلقات میں اہم پیش رفت: جنرل سید عاصم منیر کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مقتدر ملاقات، خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

کاشف عباسی ,june 23,2026

راولپنڈی (سفارتی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ایک انتہائی اہم اور مقتدر ملاقات کی ہے۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران مجموعی علاقائی صورتحال، امن کے پائیدار فروغ، سیکیورٹی چیلنجز اور خطے میں پائیدار استحکام سے متعلق تزویراتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے دوطرفہ برادرانہ تعاون کو مزید وسعت دینے پر مکمل اتفاق کیا۔

پاک فوج کے ترجمان کے مطابق، ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے خطے میں مکالمے کے آغاز، کشیدگی میں نمایاں کمی اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری، مخلصانہ اور ذمہ دارانہ کردار کو مقتدر الفاظ میں سراہا۔ ایرانی صدر نے علاقائی تنازعات کے پرامن حل اور مختلف عالمی و علاقائی فریقوں کے درمیان مفاہمت کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کی مسلسل اور کامیاب سفارتی کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاک ایران مضبوط تعلقات پورے خطے کے امن و امان اور معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

مقتدر ملاقات کے دوران آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل اور اصولی عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان دیرینہ دوطرفہ، دفاعی اور سفارتی تعلقات کو مشترکہ مفادات کے تحت مزید مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے تمام امور پر مستقبل میں بھی قریبی تزویراتی مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے عسکری ذرائع کے مطابق، اس اہم ملاقات سے دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین سرحدی سیکیورٹی اور علاقائی مفاہمت کے عمل کو مزید تقویت ملے گی۔

روحانیت اور کھیل کا حسین امتزاج: فیفا ورلڈکپ میں میچ سے قبل مصری فٹبال ٹیم کی قرآنی سورتیں پڑھنے کی ایمان افروز ویڈیو وائرل

محمود احمد june 23,2026

سیاٹل (کھیلوں کے امور ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں جاری فیفا ورلڈکپ کے سنسنی خیز اور تاریخی مقابلوں کے دوران جہاں میدان میں فٹبال کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے، وہاں مسلم کھلاڑیوں اور ٹیموں کی جانب سے خوبصورت اسلامی شعائر کی عکاسی بھی دنیا بھر کے شائقینِ کھیل کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ اڑتالیس ٹیموں پر مشتمل اس سب سے بڑے ورلڈکپ کی منفرد بات یہ ہے کہ اس میں چودہ مسلم ممالک کی ٹیمیں ایک ساتھ ایکشن میں دکھائی دے رہی ہیں۔

چند روز قبل ہسپانوی فٹبال ٹیم کے نوجوان مسلم اسٹار لامین یمال کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف شاندار گول اسکور کرنے کے بعد میدان میں سجدہِ شکر ادا کرنے کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر دھوم مچائی تھی۔ اب مصر کی قومی فٹبال ٹیم کی ایک اور انتہائی خوبصورت اور ایمان افروز ویڈیو وائرل ہو کر سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، جس نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل جیت لیے ہیں۔ مصر کی ٹیم کے کھلاڑی نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے انتہائی اہم اور فیصلہ کن مقابلے سے قبل ڈریسنگ روم میں قرآن پاک کی تلاوت اور کامیابی کے لیے گڑگڑا کر اجتماعی دعا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

موبائل فون سے بنائی گئی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹیم کے تمام ارکان نہایت عقیدت، یکسوئی اور خشوع و خضوع کے ساتھ کلامِ الٰہی کی تلاوت سن رہے ہیں اور میدانِ عمل میں اترنے سے قبل اپنے رب کے حضور کامیابی کے لیے دستِ دعا بلند کیے ہوئے ہیں۔ اس خوبصورت اور مقتدر منظر کو دنیا بھر کے شائقین کی جانب سے بے حد سراہا جا رہا ہے اور صارفین اسے کھیل اور روحانیت کے دلفریب امتزاج کی ایک بہترین مثال قرار دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر مداحوں کا کہنا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے کھیل کے میدان میں اترنے سے پہلے اللہ پر کامل بھروسہ کرنا اور اس سے نصرت مانگنا ایک انتہائی مثبت اور روشن پیغام ہے، جو دنیا بھر میں اسلام کے پُرامن تشخص کو اجاگر کر رہا ہے۔

ایتھوپیا کے ساتویں عام انتخابات: برسراقتدار ‘پراسپرٹی پارٹی’ کی تاریخی اور کلین سویپ کامیابی، قومی اسمبلی کی 438 نشستیں جیت لیں

منصور احمد june 23,2026

ادیس ابابا (بین الاقوامی امور ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

ایتھوپیا کے قومی الیکشن بورڈ نے ملک کے ساتویں عام انتخابات کے حتمی اور سرکاری نتائج کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت وزیرِ اعظم ابی احمد کی برسراقتدار ‘پراسپرٹی پارٹی’ نے ملک بھر میں زمین بوس کر دینے والی تاریخی اور کلین سویپ کامیابی حاصل کر لی ہے۔ دارالحکومت ادیس ابابا میں میڈیا کو آفیشل نتائج پر بریفنگ دینے کے لیے منعقدہ ایک مقتدر تقریب کے دوران انتخابی حکام نے بتایا کہ یہ انتخابات ایتھوپیا کے جمہوری سفر میں ایک عظیم اور یادگار سنگِ میل ثابت ہوئے ہیں جس میں 5 کروڑ 40 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز نے حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

آفیشل الیکشن کمیشن کے مقتدر ریکارڈ کے مطابق، پراسپرٹی پارٹی نے ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف پیپلز ریپریزنٹیٹوز) کی کل 486 ہدف شدہ نشستوں میں سے 438 پر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے، جس نے ایتھوپیا کے مروجہ آئین کے تحت پارٹی کو نئی وفاقی حکومت بنانے کا ایک زبردست اور واضح مینڈٹ فراہم کر دیا ہے۔ پراسپرٹی پارٹی کی علاقائی نشستوں کی تزویراتی تقسیم کے مطابق، پارٹی نے اورومیا سے 167، امہارا سے 117، جنوبی ایتھوپیا سے 35، وسطی ایتھوپیا سے 28، ادیس ابابا سے 20، صومالی ریجن سے 19، جنوب مغربی ایتھوپیا سے 17، سیداما سے 13، بینشانگول گوموز سے 8، افار سے 7، گمبیلا سے 3 جبکہ ڈائر داوا اور حراری سے 2، 2 نشستیں حاصل کیں۔ دوسری جانب، اپوزیشن اور آزاد امیدواروں بشمول ایتھوپین یونٹی پارٹی، افار پیپلز پارٹی، گوموز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، نیشنل موومنٹ آف امہارا اور نیو جنریشن پارٹی نے مجموعی طور پر بقیہ 48 پارلیمانی نشستیں سمیٹیں۔

پراسپرٹی پارٹی نے وفاق کے ساتھ ساتھ علاقائی کونسلوں (صوبائی اسمبلیوں) کے انتخابات میں بھی ملک گیر اور غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔ تزویراتی ڈیٹا کے مطابق، پراسپرٹی پارٹی نے اورومیا کونسل کی 528 میں سے 523 نشستیں، امہارا کی 277 میں سے 257، صومالی ریجن کی 252 میں سے 214، جنوبی ایتھوپیا کی 182، گمبیلا کی 176، سیداما کی 175، ڈائر داوا کی 161، بینشانگول گوموز کی 145، جنوب مغربی ایتھوپیا کی 144، وسطی ایتھوپیا کی 143، ادیس ابابا کی 134، افار کی 124 اور حراری کی 32 نشستیں اپنے نام کیں۔ یہ تاریخی انتخابی معرکہ حال ہی میں ملک بھر کے 1,139 انتخابی حلقوں میں لڑا گیا، جن میں 501 حلقے قومی اسمبلی اور 638 حلقے علاقائی کونسلوں کے لیے مختص تھے۔ افریقی یونین ($AU$) اور آئی جی اے ڈی سمیت تمام مقتدر بین الاقوامی مبصرین کے مشنز نے انتخابی عمل کو مکمل پرامن، منصفانہ اور شفاف قرار دیتے ہوئے اس کی توثیق کی ہے۔

اقوامِ متحدہ میں نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون کا سلامتی کونسل میں خطاب؛ فوجی برتری کے بجائے یوکرین بحران کے منصفانہ اور پُرامن سفارتی تصفیے پر زور

محمود احمد june 23,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (سفارتی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

پاکستان نے یوکرین میں طویل عرصے سے جاری خونریز تنازع کے مسلسل پھیلاؤ پر شدید اور گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور باہمی سفارت کاری کی بحالی پر زور دیا ہے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اس پیچیدہ عالمی بحران کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کا واحد قابلِ عمل راستہ صرف اور صرف بامعنی بات چیت اور مخلصانہ سفارتی کوششیں ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے یوکرین کی نازک صورتحال پر منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ تنازع کے حل کی جانب تاحال کوئی مثبت پیش رفت دیکھنے میں نہیں آ رہی، جبکہ مسلسل فوجی حملوں کے باعث نہ صرف جنگ میں ہولناک شدت آ رہی ہے بلکہ معصوم شہریوں کا انسانی بحران بھی روز بروز سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ جنگ کے دائرۂ کار میں مسلسل توسیع سے سویلین آبادی کی مشکلات میں ناقابلِ تلافی اضافہ ہوا ہے اور شہری بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے اس تزویراتی نقطے پر زور دیا کہ تمام متحارب فریق بین الاقوامی قانون، بالخصوص بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کریں۔ انہوں نے شہریوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، نہ کہ فوجی برتری کے حصول کی یکطرفہ کوششوں سے۔ انہوں نے فریقین کے مابین اعتماد سازی کے اقدامات اور بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس ضمن میں انہوں نے پاکستان کے اس مقتدر مطالبے کا اعادہ کیا کہ فوری اور مکمل جنگ بندی کی جائے اور امریکہ کی سہولت کاری میں جاری تزویراتی مذاکراتی عمل کو فوری دوبارہ شروع کیا جائے۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے مطابق، انہوں نے اعادہ کیا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں اور تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات کے مطابق پُرامن تصفیہ ہی اس تنازع کا واحد اور دیرپا حل ہے، اور پاکستان اس منصفانہ حل کے لیے تمام عالمی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

عالمی فورم پر پاکستان کا شام کے لیے مضبوط موقف: شامی قیادت میں سیاسی منتقلی کے عمل اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ

محمود احمد june 22,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (سفارتی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

پاکستان نے برادر اسلامی ملک شام میں ہونے والی حالیہ مثبت پیش رفت اور استحکام کی کوششوں کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے، وہاں جاری سیاسی منتقلی کے عمل اور بین الاقوامی برادری میں شام کے دوبارہ انضمام کے لیے اپنی غیر متزلزل سفارتی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کی انسانی و سیاسی صورتحال پر ہونے والے اہم بریفنگ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ حالیہ رپورٹس ملک کے پُرامن مستقبل اور تزویراتی بحالی کے حوالے سے ایک امید افزا رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔

پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب کے دوران اسرائیل کی جانب سے شام کی جغرافیائی خود مختاری کی مسلسل اور سنگین خلاف ورزیوں، بشمول غیر قانونی فوجی دراندازیوں، من مانی گرفتاریوں اور شامی املاک و ذرائع معاش کی تباہی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے مقبوضہ شامی جولان میں اسرائیل کے نئے پانچ سالہ آباد کاری توسیعی منصوبے کو بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے یکسر منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ انہوں نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو فوری طور پر ایسے تمام یکطرفہ اقدامات سے روکا جائے اور وہ 1974ء کے مروجہ معاہدۂ علیحدگی کی مکمل پاسداری کرے۔ سفیر عاصم افتخار نے ایک پیچیدہ علاقائی ماحول کے باوجود دانشمندی کے ساتھ قومی ترجیحات، بحالی اور تعمیرِ نو پر فوکس رکھنے پر موجودہ شامی قیادت کو زبردست الفاظ میں سراہا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے شام اور اقوامِ متحدہ کے درمیان بڑھتے ہوئے مقتدر تعاون کا خیرمقدم کیا اور شمال مشرقی شام میں مقامی انتظامی ڈھانچوں کے قومی اداروں میں تدریجی انضمام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات پورے ملک میں ریاستی عملداری کی بحالی اور قومی یکجہتی کے لیے سنگ میل ثابت ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ شامی عوام کی مرضی اور قیادت میں آگے بڑھنے والا سیاسی منتقلی کا عمل ہی خطے میں پائیدار امن کی بہترین ضمانت ہے۔ سلامتی کے چیلنجز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیا کہ داعش اور غیر ملکی دہشت گرد جنگجوؤں کے خطرات تاحال موجود ہیں، جس کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی مسلسل کوششیں ناگزیر ہیں۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے مطابق، پاکستانی مندوب نے شام کی ابتر انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ شام کی معاشی بحالی کے لیے مالی وسائل کی کمی کو فوری پورا کرے، جبکہ انہوں نے شامی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا عزم دہرایا۔

امریکا ایران مذاکرات میں فیلڈ مارشل کا کلیدی کردار، دیگر شخصیات کو کریڈٹ دینے کی ضرورت نہیں: ہمایوں مہمند

کاشف عباسی ,june 22,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے تاریخ ساز امن بریک تھرو پر ملک کے سیاسی اور حکومتی حلقوں میں تزویراتی بحث تیز ہو گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مقتدر رہنما اور سینیٹر ہمایوں مہمند نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں کامیابی کے پیچھے بنیادی، کلیدی اور فیصلہ کن کردار صرف اور صرف چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تھا، اس لیے اس عظیم سفارتی کامیابی کا کریڈٹ کسی اور سیاسی شخصیت کو دینے کی قطعی ضرورت نہیں۔

نجی ٹی وی کے مقتدر ٹاک شو میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر ہمایوں مہمند کا کہنا تھا کہ خود امریکی نائب صدر جے ڈی وینس عالمی میڈیا کے سامنے اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ اس انتہائی پیچیدہ مذاکراتی عمل میں فیلڈ مارشل عاصم منیر شروع دن سے واشنگٹن کے ساتھ کھڑے رہے اور انہوں نے ہی اسے ممکن بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آرمی چیف کی ان انتھک اور کامیاب سفارتی کوششوں کو کسی بھی سیاسی مہرے کے کھاتے میں ڈالنا مناسب نہیں۔ سینیٹر ہمایوں مہمند نے ایران پر عائد عالمی پابندیوں میں ممکنہ نرمی یا خاتمے کے پاکستان پر اثرات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت سے پاکستان کو معاشی طور پر براہِ راست اور زبردست فائدہ پہنچے گا، جس سے پاک-ایران گیس پائپ لائن اور پیٹرولیم مصنوعات کی سستی درآمد کے امکانات روشن ہوں گے اور ملکی توانائی بحران پر ہمیشہ کے لیے قابو پایا جا سکے گا۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو ان منصوبوں میں شفافیت کو مقدم رکھنا ہو گا۔

دوسری جانب، وفاقی وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے بھی پروگرام میں حکومت کا تزویراتی مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے مابین یہ کامیاب مذاکرات پاکستان کے لیے نئے معاشی، سفارتی اور تزویراتی مواقع کا دروازہ کھول رہے ہیں۔ بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ تہران پر پابندیوں میں متوقع نرمی کے نتیجے میں پاک-ایران گیس پائپ لائن منصوبے، بجلی کی فراہمی اور دوطرفہ تجارت میں حائل تمام قانونی رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس مقتدر سفارتی موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کے ساتھ اپنے معاشی اور تجارتی روابط کو فوری طور پر نئی بلندیوں پر لے جانا چاہیے تاکہ ملکی معیشت کو پائیدار استحکام حاصل ہو سکے۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے سیاسی مبصرین کے مطابق، اگرچہ کریڈٹ لینے کی جنگ جاری ہے، تاہم تمام سیاسی و عسکری مہرے اس بات پر مکمل متفق ہیں کہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ پاکستان کی خوشحالی کا ضامن ہے۔

سفارت کاری کا بڑا معرکہ: الحمد للہ، پاکستان کو ایک بڑی تزویراتی کامیابی حاصل ہوئی ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر؛ امریکہ اور ایران کے درمیان 60 روز میں حتمی امن معاہدے کے روڈ میپ پر اتفاق

کاشف عباسی ,june 22,2026

راولپنڈی (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی مذاکراتی عمل میں ہونے والی بریک تھرو اور مثبت پیش رفت پر اپنا مقتدر ردِعمل دیتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ “الحمد للہ پاکستان کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، اور یہ تاریخی کامیابی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم اور مخلصانہ کوششوں سے ممکن ہوئی۔” فیلڈ مارشل کا یہ مقتدر بیان سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ کے تحت ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکراتی اجلاس کے انتہائی کامیاب اختتام اور مشترکہ اعلامیے کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں علاقائی سلامتی اور عالمی امن کے حوالے سے طویل عرصے بعد بڑی تزویراتی پیش رفت ہوئی ہے۔

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے بھی برگن اسٹاک میں مذاکرات کے پہلے مرحلے کی شاندار کامیابی پر گہرے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی تاریخ کا ایک عظیم اور تاریخی سنگِ میل قرار دیا ہے۔ اپنے خصوصی بیان میں وزیرِ اعظم پاکستان نے بتایا کہ یہ مقتدر مذاکرات انتہائی خوشگوار، مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئے، جن کے منطقی نتیجے میں دونوں روایتی حریف فریقین (واشنگٹن اور تہران) نے آئندہ 60 دنوں کے اندر ایک حتمی اور جامع امن معاہدے تک پہنچنے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر باقاعدہ اتفاق کر لیا ہے۔ وزیرِ اعظم کے مطابق، اس تاریخی امن عمل کی باقاعدہ نگرانی اور تیز رفتار پیش رفت کے لیے ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ مقتدر کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے، جبکہ تکنیکی اور تزویراتی سطح کے ذیلی مذاکرات بھی جلد شروع کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے امریکی اور ایرانی قیادت کے تعمیری و لچکدار رویے کو سراہتے ہوئے اس عمل میں معاونت کرنے والے تمام دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پسِ پردہ غیر معمولی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کی انتھک محنت، فولادی عزم اور مسلسل پسِ پردہ سفارتی رابطوں نے ہی اس ناممکن نظر آنے والی عالمی پیش رفت کو ممکن بنایا ہے۔ وزیرِ اعظم نے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزارتِ خارجہ کی مقتدر ٹیم اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی شبانہ روز خدمات کو بھی دل کھول کر سراہا۔ انہوں نے برادر ملک قطر اور میزبان ملک سوئٹزرلینڈ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول اور تکنیکی سہولیات فراہم کیں۔ عالمی سیاسی اور سفارتی حلقوں کے مطابق، اس تاریخ ساز کامیابی نے عالمی سطح پر پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عسکری و سیاسی قیادت کے تزویراتی وقار کو معراج بخش دی ہے، اور دنیا اب تنازعات کے حل کے لیے پاکستان کو ایک ناگزیر مصالحت کار کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

الجزائر کے خلاف ہیٹ ٹرک سے جرمن لیجنڈ میروسلاو کلوزے کے 16 گولز کا ریکارڈ برابر؛ آسٹریا کے خلاف گروپ جے کے مقتدر میچ میں دنیا بھر کی نظریں میسی پر فوکس

محمود احمد june 22,2026

ڈلاس (اسپورٹس رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء فیفا ورلڈ کپ 2026ء

کے مقتدر میدانوں میں فٹ بال کی دنیا کے بے تاج بادشاہ اور دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی ایک ایسا تاریخی سنگِ میل عبور کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں جو فٹ بال کی تاریخ کا سب سے بڑا عالمی ریکارڈ قرار دیا جا رہا ہے۔ آسٹریا کے خلاف گروپ جے کے ہونے والے انتہائی اہم تزویراتی میچ میں میسی کی تیکھی نظریں اب فیفا ورلڈ کپ کی پوری تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے کے الیون الہی ریکارڈ پر مرکوز ہو چکی ہیں۔

سالہ لیونل میسی نے رواں ورلڈ کپ کے اپنے پہلے ہی مقتدر گروپ میچ میں الجزائر کے خلاف جادوئی کھیل پیش کرتے ہوئے شاندار ہیٹ ٹرک اسکور کی تھی، جس کے بعد انہوں نے جرمنی کے سابق مقتدر اسٹرائیکر میروسلاو کلوزے کے ورلڈ کپ تاریخ میں سب سے زیادہ 16 گولز کرنے کے دیرینہ ریکارڈ کی برابری کر لی تھی۔ اب دنیائے فٹ بال کا یہ مایہ ناز کھلاڑی ورلڈ کپ تاریخ کا سب سے کامیاب گول اسکورر بننے سے صرف اور صرف ایک گول کی دوری پر کھڑا ہے۔ اگرچہ لیونل میسی حالیہ دنوں میں ہیمسٹرنگ انجری اور اپنے والد کی شدید علالت کے باعث گہرے ذہنی و جسمانی دباؤ کا شکار رہے ہیں، تاہم اس کے باوجود ان کا فیلڈ مارشل ڈسپلن اور میدان میں قائدانہ موجودگی ارجنٹائن کی مقتدر ٹیم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ارجنٹائن کے اسٹار مڈفیلڈر الیکسس میک ایلسٹر نے بھی پریس کانفرنس میں اعتراف کیا ہے کہ میسی کا گراؤنڈ میں ہونا ہی پوری ٹیم کے عزم اور اعتماد کو آسمان پر پہنچا دیتا ہے۔

سفارتی اور تکنیکی تجزیوں کے مطابق، آسٹریا کے خلاف یہ معرکہ ارجنٹائن کو اگلے ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ دلانے کے لیے فائنل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر ارجنٹائن یہ میچ مقتدر انداز میں جیت لیتا ہے اور دوسری جانب الجزائر اپنے میچ میں ناکام رہتا ہے تو ارجنٹائن گروپ جے میں پہلی پوزیشن کو باقاعدہ یقینی بنا لے گا۔ ڈلاس اسٹیڈیم سمیت دنیا بھر کے فٹ بال شائقین کی تمام تر نظریں اب لیونل میسی پر لگی ہوئی ہیں، جو نہ صرف اپنی ٹیم کو اگلے ٹائٹل دفاع کی طرف لے جانے کے لیے کوشاں ہیں بلکہ فٹ بال کی تاریخ کا ایک نیا اور ان مٹ باب رقم کرنے کے بالکل قریب ہیں۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ اسپورٹس ڈیسک کے مطابق، اگلا ایک گول میسی کے کیریئر کو لافانی بنا دے گا۔

افغان طالبان رجیم کا جھوٹ ایک بار پھر بے نقاب، کابل میں دہشت گردوں کی مبینہ وی آئی پی میزبانی کے دعوے سامنے آگئے

محمود احمد june 22,2026

کابل/اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

افغان طالبان حکومت کی جانب سے سرحد پار کارروائیاں کرنے والے دہشت گرد گروہوں کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں اور مقتدر مراعات دینے سے متعلق الزامات اور حقائق ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کرنے والی تازہ ترین تصاویر و شواہد کے بعد یہ چونکا دینے والا دعویٰ سامنے آیا ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایک انتہائی معروف فائیو اسٹار ہوٹل میں پاکستان کو مطلوب کالعدم شدت پسند گروپس سے وابستہ ہائی پروفائل افراد کی کھلی موجودگی دیکھی گئی ہے۔

تزویراتی ذرائع کے مطابق، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان دستاویزی تصاویر میں بعض ایسے مسلح اور بااثر افراد کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے جن کے بارے میں مصدقہ طور پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد سنگین وارداتوں میں ملوث ‘حافظ گل بہادر گروپ’ سے وابستہ ہیں۔ تصاویر کے حوالے سے جیو پولیٹیکل ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کابل کے سب سے مقتدر اور معروف ‘انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل’ کے اندر کی ہیں، جہاں مبینہ طور پر یہ شدت پسند کمانڈرز نہ صرف سرکاری مہمانوں کی طرح قیام پذیر تھے بلکہ ہوٹل کے مختلف حصوں میں بلا خوف و خطر گھومتے پائے گئے۔ بعض بین الاقوامی رپورٹس میں یہ ہولناک دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ان مقتدر دہشت گردوں کو افغان انٹیلی جنس کی جانب سے خصوصی پروٹوکول، مالی سہولیات اور سخت وی آئی پی سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔

دفاعی اور قومی سلامتی کے مقتدر ماہرین کا کہنا ہے کہ کابل کے دل میں دہشت گرد کمانڈرز کی اس سطح پر موجودگی افغانستان میں موجود تخریب کار عناصر اور افغان حکومت کے اعلیٰ مہروں کے درمیان گہرے روابط کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایسے اقدامات دوطرفہ تعلقات اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کو شدید ترین نقصان پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں۔ اگرچہ افغان طالبان حکومت ماضی میں روایتی طور پر یہ دعویٰ کرتی آئی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی، تاہم ان تازہ ترین تصاویر کے منظرِ عام پر آنے کے بعد کابل کا یہ مؤقف دنیا بھر میں بری طرح بے نقاب ہو گیا ہے۔ علاقائی امور کے ماہرین نے زور دیا ہے کہ سرحد پار سیکیورٹی چیلنجز اور دہشت گردی کے اس منظم نیٹ ورک سے نمٹنے کے لیے افغان حکومت کو اب زبانی جمع خرچ کے بجائے ٹھوس، شفاف اور ذمہ دارانہ اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

ملزم سکیورٹی فورسز کو پنجگور میں کارروائی کے دوران مطلوبہ اسلحہ و بارود سمیت ہتھے چڑھا تھا؛ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف بڑی عدالتی پیش رفت

کاشف عباسی ,june 22,2026

تربت ( نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

انسدادِ دہشت گردی کی مقتدر عدالت تربت نے فتنہ الہندوستان کے نیٹ ورک اور دیگر کالعدم تنظیموں سے منسلک خطرناک سہولت کار ساجد احمد کو دہشت گردی، معاونت اور غیر قانونی اسلحہ ایکٹ کے مروجہ مقدمات میں مجموعی طور پر 14 سال سخت قیدِ بامشقت کی سزا کا حکم دے دیا ہے۔ عدالتی دستاویزات اور سرکاری سکیورٹی ذرائع کے مطابق، مجرم ساجد احمد کو حساس اداروں اور سکیورٹی فورسز نے ضلع پنجگور کے ایک حساس علاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ کامیاب کارروائی کے دوران گرفتار کیا تھا، جہاں تلاشی کے دوران اس کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید خودکار اسلحہ اور دھماکا خیز مواد برآمد ہوا تھا۔

تفتیشی حکام اور استغاثہ نے عدالت کے سامنے مضبوط شواہد پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم ریاست مخالف اور ملک دشمن نیٹ ورکس کے مقتدر مہروں سے براہِ راست رابطے میں تھا، جبکہ اس پر کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف کے لیے تزویراتی سہولت کاری کرنے، مقامی معصوم نوجوانوں کو ورغلا کر شدت پسند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے اور متعدد تخریبی منصوبوں میں معاونت فراہم کرنے کے سنگین الزامات ثابت ہوئے۔ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے ناقابلِ تردید سائنسی و دستاویزی شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ملزم کو قصوروار قرار دیتے ہوئے دہشت گردی کے مقدمے میں 14 سال قید کی سزا سنائی جبکہ ‘بلوچستان آرمز ایکٹ’ کے تحت بھی اضافی جرمانے اور قید کی مقتدر سزا عائد کی ہے۔

عدالتی فیصلے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اعلیٰ اداروں نے اس تزویراتی اقدام کو دہشت گردی کے سہولت کاروں اور فیلڈ نیٹ ورکس کے خلاف جاری آپریشنز میں ایک بڑی اور اہم ترین پیش رفت قرار دیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا واشگاف الفاظ میں کہنا ہے کہ ملک دشمن عناصر، تخریب کاروں اور ان کے مقامی و بین الاقوامی سہولت کاروں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے کسی بھی عنصر کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، اس فیصلے سے دہشت گردی کی سپلائی لائن کو توڑنے میں مدد ملے گی، جبکہ سکیورٹی اداروں نے امن و امان کی مقتدر صورتحال برقرار رکھنے کے لیے عوام سے کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دینے کی اپیل کی ہے۔

فلپائن میں اسکول کے اندر اندھا دھند فائرنگ، 3 افراد ہلاک، 5 شدید زخمی؛ کم عمر ملزمان گرفتار

روزینہ اسماعیل.june 22,2026

منیلا (بین الاقوامی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

فلپائن کے شہر تکلوبان میں واقع ایک ہائی اسکول میں فائرنگ کے افسوسناک اور دلخراش واقعے میں 3 افراد موقع پر ہلاک جبکہ 5 زخمی ہو گئے۔ مقامی پولیس اور انتظامیہ کے مطابق، یہ لرزہ خیز واقعہ پیر کی صبح اس وقت پیش آیا جب اسکول میں معمول کے مطابق تدریسی سرگرمیاں جاری تھیں اور طلبہ کلاس رومز میں موجود تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، فائرنگ تکلوبان کے ‘سان ہوزے نیشنل ہائی اسکول’ میں صبح تقریباً 9 بجے ہوئی، جس کے نتیجے میں پورے تعلیمی ادارے میں شدید خوف و ہراس اور بھگدڑ مچ گئی۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس کی بھاری نفری اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور لاشوں و زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔

تکلوبان پولیس حکام نے مقتدر میڈیا کو بتایا کہ اس سفاکانہ حملے میں ملوث دونوں مشتبہ کم عمر ملزمان کو فوری کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، گرفتار ہونے والوں میں ایک 15 سالہ لڑکا شامل ہے جو اسی اسکول کا گریڈ 9 کا طالب علم بتایا جاتا ہے، اسے اسکول کی عمارت کے اندر سے ہی اسلحہ سمیت حراست میں لیا گیا، جبکہ اس کے دوسرے مشتبہ ساتھی کو اسکول سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران گھیراؤ کر کے دبوچا گیا۔ فائرنگ کے فوری بعد سوشل میڈیا پر واقعے کی مبینہ ویڈیوز گردش کرنے لگیں جن میں گولیوں کی آوازیں اور بچوں کی چیخ و پکار سنی جا سکتی ہے، تاہم پولیس حکام نے امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر عوام سے غیر مصدقہ معلومات اور افواہیں پھیلانے سے گریز کرنے کی مقتدر اپیل کی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، کم عمر حملے آوروں کی جانب سے اس انتہائی قدم اور فائرنگ کے اصل محرکات تاحال واضح نہیں ہو سکے ہیں، اور پولیس دہشت گردی، ذاتی عناد اور دیگر مختلف پہلوؤں سے تفتش کا دائرہ وسیع کر کے تحقیقات کر رہی ہے۔ واقعے کے بعد تکلوبان کے تمام تعلیمی اداروں اور اطراف کے حساس علاقوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، جبکہ مقامی صوبائی انتظامیہ نے متاثرہ خاندانوں سے دلی اظہارِ افسوس کرتے ہوئے اسپتال انتظامیہ کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے سیاسی مبصرین کے مطابق، اس واقعے نے فلپائن کے تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی انتظامات، گن کنٹرول قوانین اور طلبہ کے ذہنی رجحانات کے حوالے سے ایک نئی ملک گیر بحث کو جنم دے دیا ہے اور والدین کی جانب سے حکومت سے سخت ترین اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

خلیجی معیشت میں بڑا اقدام: کویت کا غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے 15 سالہ اقامہ متعارف، پاکستانی تاجر بھی مستفید ہو سکیں گے

محمود احمد june 22,2026

کویت سٹی ( نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

خلیجی ریاست کویت نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور عالمی کاروباری شخصیات کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے ایک تزویراتی اور تاریخی پیشرفت کرتے ہوئے 15 سالہ طویل مدتی اقامہ (ریذیڈنسی ویزا) باقاعدہ متعارف کرا دیا ہے۔ نئے مقتدر قانون کے تحت مروجہ شرائط پر پورا اترنے والے اہل غیر ملکی سرمایہ کار، ان کے کاروباری شراکت دار اور قریبی اہلِ خانہ اب کفیل (اسپانسر) کے روایتی نظام کے بغیر طویل مدت تک کویت میں رہائش اختیار کرنے اور اپنی تجارتی سرگرمیاں بلاروک ٹوک جاری رکھنے کے اہل ہوں گے۔

کویتی حکام کے مطابق، اس انقلابی اقدام کا بنیادی مقصد ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو متحرک کرنا، ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنانا اور کویت کو خلیجی خطے کے نمایاں مالیاتی و تجارتی مراکز کی صف میں شامل کرنا ہے۔ نئی پالیسی کے مقتدر ضوابط کے تحت وہ تمام غیر ملکی افراد درخواست دینے کے مجاز ہوں گے جو کویت میں حکومت سے منظور شدہ تزویراتی سرمایہ کاری منصوبوں اور فعال کاروباری سرگرمیوں سے وابستہ ہوں۔ کویتی وزارتِ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ اس خصوصی اقامے کی سہولت حاصل کرنے والوں میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے علاوہ تسلیم شدہ بین الاقوامی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران اور رجسٹرڈ کاروباری شراکت دار بھی شامل ہیں۔ پاکستانی سرمایہ کار اور کاروباری برادری بھی خلیج کی اس نئی پالیسی سے یکساں طور پر مستفید ہو سکیں گے۔

نئے مروجہ قواعد و ضوابط کے تحت سرمایہ کاروں کے لیے یہ لازمی ہوگا کہ ان کے کاروباری منصوبے ‘کویت ڈائریکٹ انویسٹمنٹ پروموشن اتھارٹی’ سے باقاعدہ تصدیق شدہ اور منظور شدہ ہوں، جبکہ مقامی کویتی شہریوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور حکومت کی مقرر کردہ کم از کم سرمایہ کاری کی مخصوص حد (تھریش ہولڈ) کو پورا کرنا بھی لازمی ہوگا۔ کویتی کابینہ کی منظوری کے بعد نافذ ہونے والی یہ نئی ویزا اصلاحات ملک کے طویل المدتی اقتصادی وژن کا ایک اہم حصہ ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد کویت بھی اب متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے خلیجی ممالک کی اس صف میں شامل ہو گیا ہے جو عالمی ٹیلنٹ اور سرمائے کو محفوظ اور مستحکم ماحول فراہم کر رہے ہیں، جس سے پاکستانی تاجروں کے لیے بھی مڈل ایسٹ میں کاروباری توسیع کے نئے اور مقتدر مواقع پیدا ہوں گے۔

تاریخی فتح: فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے نیوزی لینڈ کو پچھاڑ دیا، فٹبال تاریخ کا 92 سالہ انتظار ختم

محمود احمد june 22,2026

ہیوسٹن (اسپورٹس رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

اسٹار فارورڈ محمد صلاح کی شاندار کارکردگی کی بدولت مصر کی ورلڈ کپ تاریخ میں پہلی فتح؛ گروپ جی میں چار پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست

مصر کی قومی فٹبال ٹیم نے فیفا ورلڈ کپ کے مقتدر اسٹیج پر شاندار اور جارحانہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کو 1-3 سے عبرتناک شکست دے کر ٹورنامنٹ کی تاریخ میں اپنی پہلی مقتدر فتح حاصل کر لی ہے۔ مصری ٹیم کی یہ الٹ پھیر کامیابی ملک کی فٹبال تاریخ کا ایک یادگار اور سنہری باب قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ سال 1934ء میں ورلڈ کپ میں پہلی بار شرکت کرنے کے بعد سے اب تک مصر کو پہلی مرتبہ عالمی سطح پر کسی میچ میں فتح نصیب ہوئی ہے، جس سے ان کا 92 سالہ طویل انتظار ختم ہو گیا ہے۔

کھیل کے پہلے ہاف میں نیوزی لینڈ نے پراعتماد آغاز کیا اور میچ کے ابتدائی منٹوں میں ایک خوبصورت کارنر کک پر فن سرمین کے شاندار ہیڈر کی بدولت 0-1 کی برتری حاصل کر لی۔ پہلے 45 منٹ کے اختتام تک مصر ایک گول کے خسارے میں تھا، تاہم دوسرے ہاف میں مصری ٹیم نے فیلڈ مارشل اسٹرٹیجی کے تحت انتہائی جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے مقابلے کا رخ مکمل طور پر بدل دیا۔ میچ کے 58ویں منٹ میں مصطفیٰ زیکو نے محمد ہانی کے فلائی کراس پر بہترین ہیڈر کے ذریعے گول داغ کر مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا، جس کے چند ہی منٹ بعد مصری کپتان اور عالمی شہرت یافتہ اسٹار فارورڈ محمد صلاح نے حریف دفاع کو جلا دیتے ہوئے مصر کو 1-2 کی برتری دلا دی۔

میچ کے آخری لمحات میں محمد صلاح نے ایک بار پھر جادوئی کھیل پیش کرتے ہوئے گول کرنے کا خوبصورت موقع پیدا کیا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے محمود تریزیگیہ نے توازن کے ساتھ ہیڈر کے ذریعے گیند کو جال کی راہ دکھا کر تیسرا گول اسکور کیا اور مصری فتح پر حتمی مہر ثبت کر دی۔ صلاح کی اس مقتدر کارکردگی نے نہ صرف ٹیم کو تاریخی کامیابی دلائی بلکہ ورلڈ کپ کے اگلے ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی کی امیدوں کو بھی روشن کر دیا ہے۔ اس فتح کے بعد مصر دو میچوں میں چار پوائنٹس کے ساتھ گروپ جی میں سرفہرست آ گیا ہے جبکہ نیوزی لینڈ ایک پوائنٹ کے ساتھ آخری پوزیشن پر ہے۔ میچ کے اختتام پر ہیوسٹن اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں مصری شائقین نے قومی پرچم لہرا کر جشن منایا، جبکہ مصر کی نظریں اب اپنے اگلے گروپ میچ پر مرکوز ہیں۔

برطانیہ میں بڑا سیاسی بھونچال: برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کا استعفیٰ، کنگ چارلس کو فیصلے سے مطلع کر دیا

منصور احمد june 22,2026

لندن (بین الاقوامی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے اپنی ہی جماعت لیبر پارٹی کے اندر سے شدید اور مسلسل بڑھتے ہوئے تزویراتی دباؤ کے بعد بالآخر ٹیلی ویژن پر براہِ راست خطاب کرتے ہوئے اپنے مقتدر عہدے سے استعفیٰ دینے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، کیئر اسٹارمر کا یہ اچانک اور بڑا فیصلہ ان کے سیاسی حریف اینڈی برنم کی جانب سے نارتھ ویسٹ انگلینڈ میں ضمنی الیکشن کے دوران پارلیمنٹ کی نشست پر حاصل کی جانے والی فیصلہ کن فتح کے فوراً بعد سامنے آیا ہے۔ 63 سالہ سابق وکیل اور لیبر پارٹی کے سربراہ کیئر اسٹارمر حالیہ چند ماہ میں متعدد داخلی پالیسیوں، معاشی فیصلوں اور مختلف سیاسی اسکینڈلز کے باعث برطانوی ووٹرز اور عوامی سرویز میں اپنی مروجہ مقبولیت بری طرح کھو چکے تھے۔

ٹیلی ویژن پر جذباتی اور براہِ راست خطاب کرتے ہوئے کیئر اسٹارمر نے مقتدر عوام کو بتایا کہ انہوں نے بکنگھم پیلس میں کنگ چارلس کو اپنے اس فیصلے سے باقاعدہ مطلع کر دیا ہے، جبکہ انہوں نے لیبر پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملک اور پارٹی کے مقتدر وقار کی خاطر نئے قائد کے انتخاب کا عمل فوری شروع کریں، جس کے لیے کاغذاتِ نامزدگی 9 جولائی سے جمع کروائے جا سکیں گے۔ واضح رہے کہ سال 2024ء کے عام انتخابات میں کیئر اسٹارمر نے کنزرویٹو پارٹی کے 14 سالہ طویل اقتدار کا خاتمہ کرتے ہوئے، 1997ء کے بعد لیبر پارٹی کو برطانوی تاریخ کی سب سے بڑی پارلیمانی اکثریت دلوائی تھی، مگر وہ تبدیل ہوتے جیو پولیٹیکل حالات اور عوامی مینڈیٹ کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے۔ ان کے اس استعفے اور ٹائم ٹیبل کے اعلان کے ساتھ ہی برطانیہ میں نئے وزیرِ اعظم کی دوڑ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔

عالمی امن کا سنہری موقع: امریکہ اور ایران کے درمیان ایسے نتیجہ خیز مذاکرات کے منتظر ہیں جو مثبت نتائج لائیں، وزیرِ اعظم شہباز شریف

محمود احمد june 21,2026

برگن اسٹاک (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے مابین جاری تاریخی بات چیت کو عالمی تاریخ کا ایک بڑا تزویراتی موڑ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی امن کے مستقل قیام کے لیے یہ ایک انتہائی اہم اور سنہری موقع ہے، جہاں ہم سب مل کر دنیا بھر میں امن و استحکام کا ایک مضبوط اور پائیدار اتحاد قائم کر سکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق، سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مقتدر اعلیٰ سطحی مذاکرات کے پہلے سیشن کے اختتام پر وزیرِ اعظم پاکستان نے بین الاقوامی میڈیا سے خصوصی گفتگو کی۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس انتہائی پیچیدہ اور نازک امن معاہدے کو ممکن بنانے کے لیے پسِ پردہ ایک غیر معمولی، کلیدی اور مخلصانہ کردار ادا کیا ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت، جرات مندانہ سوچ اور براہِ راست مذاکرات کے فعال ویژن کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہی کی تزویراتی دور اندیشی کے باعث امریکہ اور ایران کا ایک میز پر بیٹھنا ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سرگرم سفارت کاری کو بھی سراہا اور قوی امید ظاہر کی کہ یہ نتیجہ خیز مذاکرات مشرقِ وسطیٰ اور پوری دنیا کے لیے مثبت معاشی و سیاسی نتائج لائیں گے۔

اس اہم مقتدر موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ جے ڈی وینس نے پاک فوج کے سربراہ کی اعلیٰ حکمتِ عملی کا اعتراف کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ایک بہترین سپہ سالار قرار دیا۔ امریکی نائب صدر نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شروع دن سے ہی اس امن مشن میں واشنگٹن کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہے ہیں، اور اس سنگین عالمی بحران کو ٹالنے کے لیے پاکستان نے جو غیر جانبدارانہ اور تعمیری کردار ادا کیا ہے، اسے عالمی سطح پر بھرپور طریقے سے سراہا گیا ہے۔ جے ڈی وینس نے پاک-امریکہ دیرینہ تعلقات کو ایک نیا رخ دیتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر میرے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتہائی قریبی اور قابلِ اعتماد دوست ہیں، اور دونوں ممالک کا باہمی سیکیورٹی تعاون خطے کی سلامتی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

امریکہ اور ایران کا پاکستان کی اعلیٰ قیادت پر بھرپور اعتماد، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عالمی مذاکراتی میز پر متحرک شرکت

محمود احمد june 21,2026

برگن اسٹاک (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

سوئٹزرلینڈ کے مقتدر شہر برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی میں کمی، پائیدار جنگ بندی اور خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے تاریخ ساز مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی پریس اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکہ اور ایران کے اعلیٰ اختیاراتی وفود ایک خصوصی بند کمرہ اجلاس میں آمنے سامنے بیٹھے، جہاں مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، فوری جنگ بندی، سفارتی چینلز کی بحالی اور مستقبل کے پائیدار امن فریم ورک کے مختلف تزویراتی پہلوؤں پر تفصیلی اور گہرائی سے بات چیت کی جا رہی ہے۔

باوثوق سفارتی ذرائع کے مطابق، ان انتہائی حساس اور معلق مذاکرات کو ممکن بنانے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ایک تاریخی، متوازن اور مؤثر ثالثی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کی غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی اور دونوں عالمی طاقتوں کے ساتھ یکساں مضبوط سفارتی رابطوں کو اس پورے مذاکراتی عمل میں مرکزی اور نمایاں اہمیت دی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، امریکہ اور ایران دونوں ممالک نے پاکستان کے مصالحتی کردار کو دل کھول کر سراہتے ہوئے اس اہم ترین امن مشن میں پاکستان کی فعال شمولیت اور رہنمائی پر اپنے غیر مشروط اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اس مقتدر امن مشن میں پاکستان کی تزویراتی نمائندگی وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خود کر رہے ہیں۔

عالمی سفارتی گیلری کے مطابق، امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر جیسے اہم ترین مقتدر مہرے شامل ہیں، جبکہ دوسری جانب ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جن کے ہمراہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور قومی سلامتی کے دیگر اعلیٰ حکام بھی مذاکرات کی میز پر موجود ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں پاکستان کے علاوہ برادر ملک قطر کا اعلیٰ سطحی وفد بھی سہولت کار کے طور پر شریک ہے۔ اس وقت پاکستان، قطر، امریکہ اور ایران پر مشتمل چار ملکی اسٹرٹیجک اجلاس میں مروجہ “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کے اہم نکات، مستقل جنگ بندی کے امکانات اور علاقائی استحکام کے آئندہ کے سفارتی لائحہ عمل پر باریک بینی سے تکنیکی مشاورت جاری ہے۔ عالمی سیاسی و سفارتی حلقوں کے مطابق، دو روایتی حریفوں کو ایک میز پر لانا پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی، موجودہ سیاسی قیادت اور قومی سلامتی کے اداروں کے لیے ایک شاندار اور تزویراتی کامیابی قرار دی جا رہی ہے، جبکہ دنیا بھر کی نظریں اب اس اجلاس کے باقاعدہ مشترکہ اعلامیے پر لگی ہوئی ہیں۔

برگن اسٹاک میں جے ڈی وینس اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، غیر رسمی گفتگو سوشل میڈیا پر زیرِ بحث

محمود احمد june 21,2026

برگن اسٹاک (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت علاقے برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تاریخی امن مذاکرات کے موقع پر پاکستان، امریکہ، ایران اور قطر کے اعلیٰ سطحی وفود کی مقتدر ملاقاتیں مسلسل جاری رہیں۔ اس دوران وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ایک خصوصی اور تزویراتی ملاقات کی، جس میں خطے میں پائیدار امن، امریکہ ایران مذاکرات، ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر پیش رفت اور سفارتی تعاون سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان نے اس پیچیدہ مذاکراتی عمل میں سہولت کاری اور رابطہ کاری کے لیے ایک کلیدی اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔

سفارتی ملاقاتوں کے اس پسِ منظر میں سوشل میڈیا پر اس بیٹھک سے متعلق ایک غیر رسمی گفتگو بھی تیزی سے گردش کر رہی ہے، جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے منسوب ایک جملہ خاصا زیرِ بحث بنا ہوا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی پریس گیلری اور باوثوق سفارتی ذرائع کے مطابق اس مبینہ جملے کی کسی بھی سرکاری امریکی یا پاکستانی مقتدر بیان سے آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور اسے محض سوشل میڈیا مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق برگن اسٹاک میں ہونے والی یہ اعلیٰ سطحی ملاقات انتہائی خوشگوار اور مقتدر ماحول میں ہوئی، جہاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت اور خطے میں امن کے قیام کے لیے جاری مخلصانہ سفارتی کوششوں کو دل کھول کر سراہا۔ پریس کانفرنس اور تجزیہ کاروں کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اس عالمی فورم پر موجودگی کو مذاکراتی عمل میں پاکستان کے فعال، اسٹرٹیجک اور بااثر کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے وفود کے درمیان ان مذاکرات کا بنیادی مقصد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر من و عن عملدرآمد، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور وسیع تر عالمی امن کے امکانات کو آگے بڑھانا ہے۔