وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر بڑی کامیابی؛ ترک دنیا کی آئینی عدالتوں کی کانفرنس میں مبصر کی متفقہ رکنیت منظور

منصور احمد, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے بین الاقوامی آئینی عدالتی برادری میں ایک انتہائی مقتدر اور تزویراتی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ پاکستان کی نو تشکیل شدہ وفاقی آئینی عدالت کو “ترک دنیا کی آئینی عدالتوں کی کانفرنس میں متفقہ طور پر مبصر کی حیثیت سے مستقل رکنیت دے دی گئی ہے، جو کہ عالمی سطح پر ملکی عدالتی برادری کے بڑھتے ہوئے کردار اور مؤثر ترین روابط کا واضح ثبوت ہے۔

اتوار کے روز وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ آفیشل پریس ریلیز کے مطابق، ترک دنیا کی آئینی عدالتوں کی کانفرنس کا تزویراتی قیام 27 اپریل 2022ء کو استنبول (ترکیہ) میں عمل میں آیا تھا، جس کا بنیادی مقصد ترک ممالک کے مابین آئینی انصاف، قانون کی حکمرانی کو مستحکم کرنا اور عدالتی تجربات و بہترین آئینی فقہ کے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔ اس اہم تنظیم کے مستقل اور مکمل ارکان میں ترکیہ، آذربائیجان، قازقستان، کرغزستان اور ازبکستان کی سپریم و آئینی عدالتیں شامل ہیں۔

ترک تنظیم کی جانب سے پاکستان کو مبصر کی حیثیت سے شامل کرنے کے اس مقتدر فیصلے سے متعلق جمہوریہ آذربائیجان کی آئینی عدالت کے چیئرمین اور کے موجودہ ٹرم صدر فرہاد عبداللایف نے وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کے چیف جسٹس امین الدین خان کے نام ایک باضابطہ مکتوب ارسال کیا۔ اس خط میں تصدیق کی گئی کہ تنظیم کے دستور کے آرٹیکل 10.4 کے تحت تمام رکن ممالک کی عدالتوں نے پاکستان کی شمولیت کی متفقہ منظوری دی ہے۔ فرہاد عبداللایف نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی ممتاز آئینی مہارت اور اعلیٰ ساکھ تنظیم کی سرگرمیوں میں مثبت کردار ادا کرے گی اور یہ شمولیت ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط کرے گی۔

وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کے چیف جسٹس امین الدین خان نے اس مقتدر اور تاریخی پیش رفت کا شاندار خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان کی آئینی عدالتی روایت اور وفاقی آئینی عدالت پر بین الاقوامی برادری کے غیر متزلزل اعتماد کا مظہر قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے تادیبی بیان میں کہا کہ یہ رکنیت وفاقی آئینی عدالت کے قانون کی حکمرانی اور آئینی طرزِ حکمرانی کے فروغ کے عزم کی عکاس ہے۔ اس شمولیت سے پاکستان کو ترک دنیا کی عدالتوں کے ساتھ قریبی روابط استوار کرنے، علمی و ادارہ جاتی مکالمے میں شرکت اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے آئینی بالادستی اور بنیادی حقوق کے مؤثر تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے وسیع مواقع میسر آئیں گے۔

کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند کل پاکستان کا پہلا باضابطہ دورہ کریں گی؛ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سے تزویراتی مذاکرات متوقع

محمود احمد, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

پاکستان اور کینیڈا کے مابین سفارتی و اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی خصوصی دعوت پر کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند کل (20 جولائی) کو پاکستان کا اپنا پہلا مقتدر سرکاری دورہ کریں گی۔ وزارتِ خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد انیتا آنند کا یہ دورۂ پاکستان دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔

اتوار کے روز دفترِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ آفیشل پریس ریلیز کے مطابق، اس ہائی پروفائل دورے کے دوران نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور کینیڈین وزیرِ خارجہ کے مابین اعلیٰ سطح کے دوطرفہ مقتدر مذاکرات ہوں گے۔ ان تزویراتی مذاکرات میں پاکستان اور کینیڈا کے باہمی تعلقات کے تمام سفارتی، سیاسی اور معاشی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جبکہ دونوں رہنما تجارت، دوطرفہ سرمایہ کاری، اعلیٰ تعلیم، ہنر مند افرادی قوت کی منتقلی اور عوامی روابط کے کلیدی شعبوں میں تعاون کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے تادیبی روڈ میپ پر تبادلۂ خیال کریں گے۔ اس کے علاوہ باہمی دلچسپی کی موجودہ علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی دونوں وزرائے خارجہ اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ کینیڈا کی وزیرِ خارجہ اپنے قیام کے دوران ملکی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے بھی مقتدر ملاقاتیں کریں گی۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے دونوں ممالک کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اور کینیڈا کے مابین ہمیشہ سے انتہائی خوشگوار اور مخلصانہ دوطرفہ تعلقات قائم رہے ہیں، جن کی اصل اور مضبوط ترین بنیاد کینیڈا میں مقیم لاکھوں افراد پر مشتمل متحرک اور محنتی پاکستانی کمیونٹی ہے جو دونوں ممالک کو جوڑنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ کینیڈین وزیرِ خارجہ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے اور شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے مشترکہ تزویراتی عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

برسوں سے رائج ’ڈیوریشن آف اسٹیٹس‘( ڈی/ ایس) نظام کا مقتدر خاتمہ؛ عام غیر ملکی صحافیوں کا قیام 240 دن جبکہ چینی صحافیوں کے لیے صرف 90 دن کی مدت مقرر

محمود احمد, JULY 19,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بین الاقوامی میڈیا اور غیر ملکی صحافیوں کے لیے امریکی ‘آئی’ ویزا سے متعلق مروجہ قوانین میں ایک بہت بڑی اور تزویراتی تبدیلی کو حتمی شکل دے دی ہے. نئے منظور شدہ ضابطے کے تحت امریکہ میں برسوں سے رائج روایتی “ڈیوریشن آف اسٹیٹس” نظام کو باقاعدہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے اور اس کی جگہ اب ایک مقررہ مدت پر مبنی داخلے اور قیام کا بالکل نیا نظام نافذ کیا جا رہا ہے، جس سے غیر ملکی میڈیا ہاؤسز کے کام کا طریقہ کار براہِ راست متاثر ہوگا.

امریکی محکمہ داخلی سلامتی کی جانب سے جاری کردہ تادیبی دستاویزات کے مطابق، نئے ضوابط کے تحت عام غیر ملکی صحافیوں کو اب امریکہ میں داخلے کے بعد ‘آئی’ ویزا پر زیادہ سے زیادہ صرف 240 دن تک قیام کرنے کی قانونی اجازت ہوگی. دوسری جانب، بیجنگ اور واشنگٹن کے مابین جاری تزویراتی کشیدگی کے تناظر میں چینی صحافیوں کے لیے اس ویزا پر قیام کی انتہائی حد کو مزید سخت کرتے ہوئے صرف 90 دن مقرر کر دیا گیا ہے.

واضح رہے کہ اس مقتدر تبدیلی سے قبل، امریکی امیگریشن قوانین کے مطابق ‘آئی’ ویزا ہولڈرز کو مروجہ سہولت حاصل تھی، جس کے تحت وہ اس وقت تک بغیر کسی رکاوٹ کے امریکہ میں قیام پذیر رہ سکتے تھے جب تک وہ اپنے متعلقہ بین الاقوامی میڈیا ادارے کے لیے تسلیم شدہ صحافتی ذمہ داریاں انجام دیتے رہتے تھے. تاہم، اب اس نئے تادیبی ضابطے کے بعد تمام غیر ملکی صحافیوں کو تفویض کردہ مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے یا تو لازمی طور پر امریکہ چھوڑنا ہوگا یا پھر اپنے قیام میں قانونی توسیع کے لیے بیوروکریسی کے مروجہ طریقہ کار کے مطابق باقاعدہ درخواست دائر کرنا ہوگی.

امریکی امیگریشن حکام نے اس مقتدر فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ویزا قوانین میں اس تبدیلی کا بنیادی مقصد ملکی امیگریشن نظام میں یکسانیت لانا، غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانا اور امریکی قومی سلامتی کے تقاضوں کو پہلے سے زیادہ مضبوط کرنا ہے. بین الاقوامی میڈیا اور امیگریشن ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی اس نئی سخت پالیسی سے دنیا بھر کے غیر ملکی میڈیا اداروں، بالخصوص امریکہ میں طویل مدتی اسائنمنٹس اور بیوروز قائم کر کے کام کرنے والے مستقل صحافیوں کو اپنے ویزا اسٹیٹس، ٹیکسز اور ویزا کی بروقت توسیع کے معاملات کو پہلے سے کہیں زیادہ احتیاط اور تندہی کے ساتھ ترتیب دینا ہوں گے. یہ نئی ویزا پالیسی فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہے جس کے امریکہ میں کام کرنے والے صحافیوں کی رپورٹنگ پر گہرے اثرات متوقع ہیں.

عمران خان سرنڈر کرنے کو تیار نہیں تو عوام بھی سر نہیں جھکائیں گے، اب گھروں سے نکلنے کا وقت آ گیا ہے؛ علیمہ خان کا سوات میں مقتدر خطاب

کاشف عباسی , JULY 19,026

سوات (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے خیبر پختونخوا کے غیرت مند عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ملکی بقا اور حقیقی آزادی کی اس جاری تحریک میں فرنٹ لائن پر مزاحمت کریں اور پنجاب کے عوام کو بھی اپنے ساتھ لے کر آگے بڑھیں. انہوں نے واضح کیا کہ اب گھروں میں بیٹھنے کا نہیں بلکہ سڑکوں پر نکلنے کا وقت آ گیا ہے کیونکہ موجودہ قابض حکمرانوں نے تحریک انصاف کی 100 سے زائد انتخابی سیٹیں دانستہ چوری کی ہیں. سوات کے علاقے کبل چوک میں ایک مقتدر اور بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صائب الفاظ میں کہا کہ جب بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان بدترین حالات میں جیل میں ہونے کے باوجود سرنڈر کرنے کو تیار نہیں ہیں، تو پاکستان کے عوام بھی ان ظالموں کے سامنے کبھی اپنا سر نہیں جھکائیں گے.

علیمہ خان نے دورانِ خطاب انکشاف کیا کہ گزشتہ سال 2 دسمبر کو عمران خان نے جیل سے میری بہن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارا نصب العین ‘آزادی یا موت’ ہے. انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ عمران خان نے آزادی یا موت کی بات کی تھی لیکن میں آج اس مقتدر اسٹیج سے کہتی ہوں کہ ہمارا عزم ‘آزادی یا شہادت’ ہے. ہم بہنیں اب اپنے گھروں سے یہ حتمی اور تزویراتی فیصلہ کر کے نکل چکی ہیں کہ اگر اس حقیقی آزادی کی جدوجہد میں ہم مارے بھی گئے، تو اللہ تعالیٰ ہماری شہادت قبول فرمائے، لیکن ہم پیچھے نہیں ہٹیں گی. انہوں نے عوام کو مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایران کی قیادت اور عوام سے سیکھنا چاہیے، ایران کے لیڈروں نے ملک و قوم کی خاطر بڑی سے بڑی شہادتیں دی ہیں اور اپنے عوام کو ہمیشہ فرنٹ سے لیڈ کیا ہے کیونکہ ان کے لیڈر مخلص تھے اور حق کے لیے کھڑے ہیں.

انہوں نے کبل چوک کے اجتماع سے اپیل کی کہ پاکستان میں بھی اب فیصلہ کن تحریک شروع کی جائے، اور یہ تحریک ابھی اسی وقت شروع کی جائے، کیونکہ عوام اور ہم سب یہی چاہتے ہیں. عمران خان جیسے عظیم لیڈر کو، جو صرف قوم کی خاطر لازوال قربانیاں دے رہا ہے، انہوں نے ناحق اور جھوٹے مقدمات میں جیل میں قید کر رکھا ہے. علیمہ خان نے تادیبی حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ہم سڑکوں پر نکل کر ان مقتدر حلقوں اور حکومت پر دباؤ نہیں ڈالیں گے، تب تک یہ نہ تو عمران خان کا کوئی طبی علاج کروائیں گے اور نہ ہی ان کی قیدِ تنہائی کی مروجہ سختیوں کو ختم کریں گے. انہوں نے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اپنے اور پاکستان کے مستقبل کے لیے نکلیں، کیونکہ اب بس بہت ہو چکا ہے، عمران خان نے بھی جیل سے یہی پیغام دیا ہے کہ جب تک آپ لوگ اپنی حقیقی آزادی کے لیے خود گھروں سے باہر نہیں نکلیں گے، تب تک آپ کو غلامی سے آزادی نہیں مل سکتی.

اردن اور کویت میں امریکی عسکری اڈوں پر ایران کے تباہ کن میزائل و ڈرون حملے؛ 2 امریکی فوجی ہلاک، متعدد زخمی، بلیک ہاک اسکواڈرن تباہ

محمود احمد, JULY 19,2026

واشنگٹن/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین جنگی کشیدگی کے دوران ایران اور امریکہ کے مابین مقتدر عسکری ٹکراؤ نے ہولناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ امریکی جریدے “نیویارک ٹائمز” نے سینئر امریکی حکام کے حوالے سے تزویراتی انکشاف کیا ہے کہ اردن اور کویت میں واقع امریکی عسکری اڈوں پر ایران کے حالیہ بیلسٹک میزائل اور خودکش ڈرون حملوں میں دو امریکی فوجی ہلاک، ایک لاپتا اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ ان حملوں میں امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کے پورے اسکواڈرن، فائٹر جیٹس، بنکرز اور پیٹریاٹ ریڈار سسٹمز کو شدید ترین نقصان پہنچا ہے۔ امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ یہ مسلسل تتابعی حملے اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ ایرانی افواج کے پاس نہ صرف میزائلوں کا وافر ذخیرہ موجود ہے، بلکہ امریکی فضائی دفاعی نظام کو چکما دینے کی اس کی صلاحیت میں بھی مقتدر اضافہ ہو چکا ہے۔

امریکی عسکری حکام کی جاری کردہ تادیبی تفصیلات کے مطابق، گزشتہ 5 دنوں کے دوران ایرانی میزائلوں نے سب سے پہلے سعودی عرب میں واقع کنگ فیصل ایئر بیس کی رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا جس میں 5 امریکی اہلکار زخمی ہوئے۔ دوسرے حملے میں مشرقی اردن کے ایک خفیہ اڈے کو نشانہ بنا کر وہاں موجود بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز کے کئی اسکواڈرنز کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ اس کے بعد اردن کے موافق السلط ایئر بیس (ازرق) پر ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی بارش کی گئی جس کے نتیجے میں بنکروں میں پناہ لینے والے 20 امریکی فوجی زخمی ہوئے، جبکہ اسی اڈے پر دوبارہ ہونے والے حملے میں 2 امریکی فوجی ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے۔ امریکی عسکری کمانڈ “سینٹکام” نے 17 جولائی کو اردن میں ہونے والے ان حملوں میں اپنے 2 فوجیوں کی ہلاکت اور ایک اہلکار کے لاپتا ہونے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے الازرق ایئر بیس پر 2 فائٹر جیٹس، 3 امریکی طیارے، پارکنگ ریمپ اور جیٹ شیلٹرز کو کامیابی سے تباہ کیا ہے۔

ایرانی مسلح افواج نے مزید بتایا کہ انہوں نے امریکی بمباری کے جارحانہ جواب میں کویت میں موجود دو بڑے امریکی اڈوں کو بھی خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، ان حملوں میں کویت کے الادیراع اڈے پر موجود امریکی فوج کے مرکزی اسلحہ ڈپو اور علی السالم ایئر بیس پر نصب پیٹریاٹ ریڈار سسٹم اور ایئر سرویلنس ریڈار کو براہِ راست ہٹ کیا گیا ہے۔ کویتی فوج نے اگرچہ کچھ حملوں کو ناکام بنانے کی تصدیق کی ہے، تاہم جمعہ اور ہفتے کو ہونے والے ان حملوں سے کویت کے دو بجلی گھر اور تیل کی اہم تنصیبات شدید متاثر ہوئی ہیں، جس پر خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے ان حملوں کو “جنگی جرائم” قرار دیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی یہ تازہ ترین صورتحال اپریل میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد اب تک کی بلند ترین اور خطرناک ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ کو “ناقابلِ فراموش سبق” سکھانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ “شیطانِ بزرگ” (امریکہ) کی جانب سے 17 جون کو ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان طے شدہ مفاہمت کی یادداشت کے حوالے سے کی جانے والی وعدہ شکنی نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکی صدر کے دستخط کی کوئی ساکھ نہیں ہے۔ اس تزویراتی یادداشت کا مقصد ایرانی سرزمین پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کو روکنا اور 60 دنوں کے اندر حتمی امن معاہدے تک پہنچنا تھا، تاہم امریکہ کی وعدہ شکنی کے بعد ایران نے کویت، اردن اور بحرین میں امریکی تنصیبات پر حملوں کا آغاز کیا۔ اس عسکری بمباری کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا نظام مکمل طور پر معطل ہو چکا ہے، جس کے جواب میں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر دوبارہ سخت ترین بحری ناکہ بندی عائد کر دی ہے۔

پنجاب بار کونسل کی تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی؛ لا ڈگریوں کی تصدیق نہ کرانے والے 1133 وکلا کے لائسنس معطل

منصور احمد, JULY 19,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

پنجاب بار کونسل نے لا ڈگریوں کی تصدیق کے معاملے پر قانون کی بالادستی کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی اور مقتدر کارروائی عمل میں لائی ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن سے اپنی تعلیمی ڈگریوں کی تصدیق نہ کرانے والے 1133 وکلا کے لائسنس فوری طور پر معطل کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ شاہ عبداللطیف بھٹائی یونیورسٹی خیرپور سے ڈگریاں حاصل کرنے والے مزید 62 وکلا کے لائسنس بھی معطلی کی زد میں آئے ہیں۔ یہ مقتدر کارروائی چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل فخر حیات اعوان کی باضابطہ منظوری سے کی گئی ہے۔

پنجاب بار کونسل کے سیکرٹری کی جانب سے جاری کردہ تادیبی اعلامیے کے مطابق، جنرل ہاؤس کے فیصلوں کی روشنی میں مختلف جامعات سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے والے وکلا کو ایچ ای سی سے تصدیق شدہ دستاویزات جمع کرانے کے لیے نوٹسز جاری کیے گئے تھے اور انہیں 15 جولائی 2026ء تک کی آخری مہلت بھی دی گئی تھی۔ تاہم، مقررہ مدت گزرنے کے باوجود 1133 وکلا مطلوبہ تصدیق فراہم کرنے میں ناکام رہے، جس کے بعد ان کے لائسنس معطل کر دیے گئے۔ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ صرف 29 وکلا نے مقررہ وقت کے اندر اپنی ایچ ای سی سے تصدیق شدہ ڈگریاں جمع کروائیں، جبکہ 32 دیگر کیسز لائسنس کی بحالی کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی کو بھجوا دیے گئے ہیں۔

پنجاب بار کونسل نے شاہ عبداللطیف بھٹائی یونیورسٹی خیرپور (سندھ) سے متعلق جاری کڑی جانچ پڑتال کے دوران مزید 62 وکلا کے لائسنس معطل کیے ہیں، جبکہ گزشتہ ہفتے بھی اسی یونیورسٹی سے متعلقہ 125 وکلا کے لائسنس معطل کیے گئے تھے۔ اسی یونیورسٹی کی بنیاد پر پنجاب بار کونسل میں انٹی میشن جمع کرانے والے 128 افراد کو آخری موقع دیتے ہوئے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ 25 جولائی 2026ء کو اصل تعلیمی دستاویزات، متعلقہ ثبوت اور سے تصدیق شدہ ڈگری کے ساتھ ذاتی طور پر پیش ہوں۔ مقررہ تاریخ پر ثبوت پیش نہ کرنے والوں کے خلاف مقدمات کے اندراج سمیت سخت قانون کارروائی کی جائے گی۔

چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی فخر حیات اعوان نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی وکیل نے جعلی یا بوگس تصدیقی سرٹیفکیٹ یا کوئی بھی غلط دستاویز پیش کی تو مروجہ قانون کے تحت سخت ترین تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن وکلا کے لائسنس معطل ہوئے ہیں، وہ ایچ ای سی سے اپنی تصدیق کا عمل مکمل کرانے کے بعد ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل سے رجوع کر سکتے ہیں، جہاں ان کے کیسز کو میرٹ اور قانون کے مطابق نمٹایا جائے گا۔ فخر حیات اعوان کا کہنا تھا کہ اس تزویراتی کارروائی کا بنیادی مقصد وکالت کے مقدس شعبے میں مکمل شفافیت، اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار اور عدالتی نظام پر عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنا ہے، اور ڈگریوں کی جانچ پڑتال کا یہ عمل آئندہ بھی بلاتعطل جاری رہے گا۔

عالمی اے آئی کانفرنس؛ صدر شی جن پنگ کا کلیدی خطاب منصفانہ اور معقول عالمی گورننس سسٹم کے لیے اہم رہنمائی ہے، عالمی شخصیات

محمود احمد, JULY 19,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

چینی صدر شی جن پنگ کے “2026ء عالمی اے آئی کانفرنس اور عالمی اے آئی گورننس اعلیٰ سطحی اجلاس” کی افتتاحی تقریب سے کیے گئے کلیدی خطاب پر دنیا بھر کے متعدد ممالک کی مقتدر اور اہم سیاسی و سماجی شخصیات کا زبردست ردِعمل سامنے آیا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر شی جن پنگ کے خطاب میں وسیع تر بین الاقوامی تعاون کی ضرورت اور ڈیجیٹل و ذہین ٹیکنالوجی کے فرق کو کم کرنے پر جو تزویراتی زور دیا گیا ہے، وہ عالمی سطح پر انتہائی دُور رس اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دانشمندانہ خیالات مشترکہ طور پر ایک منصفانہ، متوازن اور معقول عالمی اے آئی گورننس سسٹم کی تشکیل کے لیے کلیدی اور اہم رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کے مقتدر محقق حارث ملک نے چینی صدر کے وژن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صدر شی جن پنگ کا یہ مؤقف انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ چین مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہمیشہ عالمی عوامی مفاد کے لیے اپنی خدمات اور وسائل فراہم کرنے کا حقیقی خواہاں رہا ہے۔ انہوں نے تادیبی طور پر واضح کیا کہ اس خطاب سے دنیا کو یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی پر صرف چند امیر، ترقی یافتہ یا بڑے ممالک کی اجارہ داری قائم نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس سائنسی ترقی کے حقیقی فوائد پوری انسانیت اور دنیا کے تمام چھوٹے بڑے ممالک، بالخصوص “گلوبل ساؤتھ” کے پسماندہ طبقات تک لازمی پہنچنے چاہئیں۔

برازیل سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی سیاسی معیشت کے ممتاز ماہر ایلان کاموسا نے چینی صدر کے بیانیے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا میں گلوبل ساؤتھ اور گلوبل نارتھ کے درمیان شدید معاشی و تکنیکی عدم توازن پایا جاتا ہے، خصوصاً مصنوعی ذہانت کی ترقی اور اس کی ریگولیشن کے میدان میں یہ واضح عدم توازن موجود ہے۔ ان کے مطابق گلوبل ساؤتھ کے ممالک اہم معدنیات، سستی توانائی اور خام ڈیٹا تو فراہم کرتے ہیں لیکن بین الاقوامی قواعد و ضوابط کی تشکیل کے مقتدر عمل میں انہیں اب بھی بڑی حد تک نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صدر شی جن پنگ کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے میدان میں جاری ان ناانصافیوں سے بچنے اور مساوی حقوق کی بات دراصل اسی دیرینہ مسئلے کی درست نشاندہی کرتی ہے، جو کہ ایک انتہائی منصفانہ مؤقف ہے اور عین وقت پر سامنے آیا ہے۔

پاکستان، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں عوامی ریلیاں اور سیمینارز عالمی برادری اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دلائے،

روزینہ اسماعیل, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی جانب سے 19 جولائی 1947ء کو ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے مطالبے کی تاریخی اور تزویراتی قرارداد کی یاد میں اتوار کے روز ملک بھر سمیت دنیا بھر میں 78 واں “یومِ الحاقِ کشمیر” مقتدر انداز میں منایا گیا ہے۔ پاکستان، آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) اور دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم کشمیری تارکینِ وطن نے اس اہم دن کے موقع پر حقِ خودارادیت اور الحاقِ کشمیر کے حوالے سے اپنے دیرینہ و اصولی مؤقف کا بھرپور اعادہ کیا۔

اس تاریخی دن کی مناسبت سے جڑواں شہروں سمیت ملک بھر میں مختلف خصوصی تقریبات، عوامی ریلیوں، تزویراتی سیمینارز، کانفرنسوں اور بڑے عوامی اجتماعات کا انعقاد کیا گیا۔ تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں کو پاکستان اور کشمیر کے خوبصورت پرچموں سے سجایا گیا تھا، جبکہ سیاسی و مذہبی جماعتوں، سول سوسائٹی اور طلبہ تنظیموں نے 1947ء کی اصل قرارداد اور جموں و کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مکمل عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔ ان یادگاری تقریبات میں مقررین نے تحریکِ آزادی میں 1947ء کی قرارداد کی کلیدی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اس بات پر سخت زور دیا کہ تنازعہ کشمیر کا پرامن حل صرف اور صرف وہاں کے غیور عوام کی امنگوں اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔

واضح رہے کہ 1947ء میں سرینگر میں غازیٔ ملت سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ پر منعقدہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے اجلاس میں یہ تاریخی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی۔ الحاقِ پاکستان کی اس مقتدر قرارداد کی مضبوط تزویراتی دلیل یہ ہے کہ جموں و کشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی کا جغرافیائی تسلسل، پاکستان کے ساتھ مشترکہ ثقافتی، لسانی، نسلی و اقتصادی تعلقات اور پنجاب کی طرف بہنے والے دریاؤں کا رخ فطری طور پر پاکستان سے الحاق کا متقاضی ہے۔ اس تاریخی دستاویز میں بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت پر غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس وقت کے ڈوگرا حکمران مہاراجہ ہری سنگھ پر زور دیا گیا تھا کہ وہ 14 اگست 1947ء کو قیامِ پاکستان سے قبل ہی باقاعدہ پاکستان سے الحاق کا مقتدر اعلان کرے۔

پاکستان کا ہمیشہ سے یہ اصولی و قانونی مؤقف رہا ہے کہ جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت کا تعین کشمیری عوام کی آزادانہ مرضی سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں (بشمول قرارداد نمبر 47 مجریہ 1948ء) کے تحت ایک غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے ہونا چاہیے۔ پاکستان اس تنازعے کے حل کے لیے 1948ء اور 1949ء کی یو این سی آئی پی کی مقتدر قراردادوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ فریم ورک قرار دیتا ہے۔ اگست 2019ء میں مودی حکومت کی جانب سے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی غیر قانونی منسوخی کے بعد پاکستان نے مقبوضہ وادی میں بڑھتی ہوئی پابندیوں، حراستوں اور آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کی بھارتی کوششوں پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انسانی حقوق کی مقتدر بین الاقوامی تنظیموں بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور خود اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے اپنی رپورٹس میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی ہولناک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، شہری آزادیوں پر سفاکانہ پابندیوں اور من مانی نظر بندیوں کو دستاویزی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ پاکستان ہمیشہ بین الاقوامی فورمز پر مہاتما گاندھی اور جواہر لعل نہرو کے ان تاریخی بیانات کا حوالہ بھی دیتا ہے جس میں انہوں نے کشمیریوں کو جمہوری عمل کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ برٹرینڈ رسل، نیلسن منڈیلا، بل کلنٹن اور میری رابنسن جیسی عظیم عالمی شخصیات نے بھی ہمیشہ کشمیر کے پرامن حل اور وہاں انسانی حقوق کے تحفظ پر زور دیا ہے۔

لینڈ سلائیڈنگ، شہری و دریائی سیلاب اور گلیشائی جھیلوں کے پھٹنے سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بریفنگ؛ مون سون میں محفوظ سیاحت کے فروغ اور عوامی آگاہی مہم پر خصوصی زور، پریس ریلیز

روزینہ اسماعیل, JULY 19,2026

اسلام آباد/گلگت (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان کی خصوصی ہدایات پر ملک بھر میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے مقتدر قومی ادارے ‘نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی’ (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین نے گلگت بلتستان کا اہم دورہ کیا ہے، جہاں انہوں نے گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (جی بی ڈی ایم اے) کے ہیڈکوارٹرز میں مون سون 2026ء کی پیشگی تیاریوں کا ایک اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ اتوار کے روز این ڈی ایم اے کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ آفیشل پریس ریلیز کے مطابق، اس تزویراتی اجلاس کے دوران گلگت بلتستان کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حکام نے مون سون کے متوقع سیزن سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی تمام پیشگی تیاریوں، ہنگامی تادیبی منصوبہ بندی اور ریلیف کے لیے وسائل کی دستیابی پر تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس کے دوران گلگت بلتستان کے جغرافیائی حالات کے پیشِ نظر ممکنہ سیلابی صورتحال، شدید بارشوں کے باعث شہری و دریائی سیلاب، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ (پہاڑ کھسکنے) اور گلوبل وارمنگ کی وجہ سے گلیشائی جھیلوں کے پھٹنے سے پیدا ہونے والے سیلاب جیسے سنگین خطرات سے نمٹنے کے لیے کیے گئے مقتدر اقدامات کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے خطے کے تمام متعلقہ انتظامی و حفاظتی اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹنے کے لیے مقامی سطح پر آپسی کوآرڈینیشن اور رابطوں کو مزید مؤثر اور تیز بنانے کی سخت ہدایت جاری کیں۔

جائزہ اجلاس میں اس بات پر خصوصی طور پر زور دیا گیا کہ مون سون کے اس حساس سیزن کے دوران گلگت بلتستان آنے والے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے محفوظ سیاحت کے فروغ اور ان کی سفری سہولیات کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ وہ کسی ناگہانی آفت کا شکار نہ ہوں۔ اس کے ساتھ ہی، چیئرمین این ڈی ایم اے نے ممکنہ موسمی خطرات اور نقصانات سے بچاؤ کے لیے مقامی آبادی اور مسافروں کے لیے وسیع پیمانے پر عوامی آگاہی مہم چلانے کی ضرورت پر بھی سخت زور دیا تاکہ بروقت حفاظتی اقدامات کی بدولت جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔

پاکستانی نوجوانوں کے لیے بڑی خوشخبری؛ چین ہر سال 3 لاکھ فری لانسرز کو ڈیجیٹل اسکلز کی تربیت فراہم کرے گا، احسن اقبال

کاشف عباسی , JULY 19,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

ملک میں ٹیکنالوجی اور نالج اکانومی کے مقتدر فروغ کے لیے پاک چین تعاون کے حوالے سے ایک انتہائی تزویراتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے انکشاف کیا ہے کہ دوست ملک چین ہر سال 3 لاکھ پاکستانی نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل اسکلز کی بین الاقوامی معیار کی تربیت فراہم کرے گا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیرِ اہتمام منعقدہ “تیسرے آئی ٹی فری لانسنگ ایوارڈز 2026ء” کی مقتدر تقریب کے دوران صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمٰن سہگل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس باوقار تقریب میں پنجاب کے وزیرِ خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن سمیت آئی ٹی شعبے کی مقتدر شخصیات نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اس وقت فری لانسنگ کے شعبے میں دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن چکا ہے اور ہمارے نوجوانوں کی ہنرمندی ملکی ڈیجیٹل معیشت اور برآمدات میں اضافے کا سب سے اہم تادیبی ذریعہ ہے۔ انہوں نے فری لانسرز اور آئی ٹی پروفیشنلز پر زور دیا کہ وہ عالمی منڈی میں اپنی مسابقت برقرار رکھنے کے لیے خود کو مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجیز سے ہم آہنگ کریں کیونکہ جدید دور میں کامیابی کے لیے بڑے دفاتر نہیں بلکہ علم اور ہنر ہی اصل سرمایہ ہے۔ اس موقع پر صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ حکومت اور نجی شعبہ باہمی اشتراک سے پاکستان کو خطے کا مضبوط ڈیجیٹل اکانومی ہب بنا سکتے ہیں اور “اڑان پاکستان” وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ہمارے فری لانسرز مقتدر صلاحیت رکھتے ہیں۔

پنجاب کے وزیرِ خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے اپنے خطاب میں لاہور چیمبر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ فری لانسنگ اب متبادل پیشہ نہیں بلکہ پاکستان کی ڈیجیٹل اکانومی کا ایک مضبوط اور اہم ستون بن چکی ہے، جو ہر سال کروڑوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ ملک میں لا کر قومی معیشت کو مستحکم کر رہی ہے۔ انہوں نے فری لانسرز کو ملک کا “ڈیجیٹل سفیر” قرار دیا۔ صوبائی وزیرِ خزانہ نے مقتدر یقین دہانی کرائی کہ پنجاب حکومت فری لانسرز کو بین الاقوامی ادائیگیوں میں درپیش رکاوٹیں دور کرنے اور عالمی معیار کا ادائیگی نظام فراہم کرنے کے لیے وفاق اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی متحرک قیادت میں صوبے میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی پارکس اور آئی ٹی زونز کے قیام پر بھرپور سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ پنجاب پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جس نے بڑے پیمانے پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس اقدامات کا آغاز کیا ہے تاکہ نوجوانوں کو صرف فری لانسر نہیں بلکہ اے آئی ڈویلپرز اور عالمی سطح کے ٹیکنالوجی لیڈرز بنایا جا سکے۔

پنجاب کے اہم دریاؤں اور ندی نالوں میں سیلاب کی وارننگ جاری؛ پی ڈی ایم اے نے ہائی الرٹ الرٹ جاری کر دیا

منصور احمد, JULY 19,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

مانسون کی حالیہ مقتدر لہر کے پیشِ نظر پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے صوبے کے مختلف دریاؤں، ندی نالوں اور بڑے شہروں کے لیے سیلاب کی ہنگامی وارننگ جاری کر دی ہے. ترجمان پی ڈی ایم اے کی جانب سے اتوار کے روز جاری کردہ الرٹ کے مطابق، 20 سے 24 جولائی کے دوران پنجاب کے تمام بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح اور صورتحال میں شدید اضافے کا تزویراتی خدشہ ہے، جس کے باعث متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کے احکامات دیے گئے ہیں.

آفیشل اعلامیے کے مطابق، دریائے راوی اور دریائے چناب سے ملحقہ برساتی نالوں بشمول بہیں، بسنتر، ڈیک، ایک، پلکھو، بھمبر، ہلسی اور ڈورا میں طغیانی اور سیلاب کی وارننگ جاری کی گئی ہے. اسی طرح دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر بھی پانی کے بڑے ریلے کے پیشِ نظر سیلابی الرٹ جاری کیا گیا ہے. ترجمان نے مزید بتایا کہ ڈیرہ غازی خان کے کوہِ سلیمان سے نکلنے والی رود کوہیوں میں بھی فلیش فلڈنگ (ایک دم آنے والے سیلاب) کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے، جبکہ لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سرگودھا، اوکاڑہ، ساہیوال، بہاولنگر اور راولپنڈی ڈویژن کے شہری علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کا قوی امکان ہے. اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے صوبہ بھر کے مقتدر کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، واسا حکام، ریسکیو 1122، لوکل گورنمنٹ، اور محکمہ آبپاشی، صحت، لائیو اسٹاک و ٹرانسپورٹ کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں.

ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہنگامی طور پر متحرک رہنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ضلعی ایمرجنسی کنٹرول رومز میں عملے کی 24 گھنٹے حاضری کو یقینی بنایا جائے. انہوں نے خصوصی تادیبی احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ریسکیو 1122 کی ڈیزاسٹر رسپانس ٹیموں کے پاس پٹرول اور ڈیزل کا اسٹاک وافر مقدار میں ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی آپریشن میں تاخیر نہ ہو. ڈی جی نے انتظامیہ کو پابند کیا کہ دریاؤں کے پاٹ (کچے کے علاقوں) میں موجود انسانی بستیوں اور مال مویشیوں کے فوری و محفوظ انخلا کو یقینی بنایا جائے اور فلڈ ریلیف کیمپوں میں خوراک، ادویات اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے. انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سرکاری احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی مدد یا اطلاع کے لیے پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر فوری رابطہ کریں.

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا باصلاحیت نوجوانوں کے لیے بڑا اقدام؛ پی ایچ ڈی طلبہ کے لیے مکمل فنڈڈ اسکالرشپ پروگرام متعارف

روزینہ اسماعیل, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

ملک میں اعلیٰ معیاری تحقیقی کلچر کے فروغ اور باصلاحیت نوجوان محققین کی تزویراتی حوصلہ افزائی کے لیے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے ایک بڑا مقتدر قدم اٹھایا ہے. یونیورسٹی انتظامیہ نے پی ایچ ڈی کے ہونہار طلبہ کے لیے میرٹ پر مبنی مکمل فنڈڈ اسکالرشپ پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے. اتوار کے روز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس انقلابی اقدام کا بنیادی مقصد مستحق اور قابل ترین طلبہ کو مالی مشکلات اور فیسوں کے بوجھ سے مکمل طور پر بے نیاز کرنا ہے تاکہ انہیں عالمی معیار کی جدید تحقیق کے لیے ایک بہترین اور سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے.

اس مقتدر پروگرام کے تحت منتخب ہونے والے پی ایچ ڈی سکالرز کو یونیورسٹی پالیسی کے مطابق ماہانہ معقول وظیفہ، مکمل ٹیوشن فیس کی معافی اور دیگر تمام منظور شدہ تعلیمی و تحقیقی اخراجات کی بھرپور مالی معاونت فراہم کی جائے گی، تاکہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں اور توجہ صرف اور صرف معیاری تحقیق اور علمی سرگرمیوں پر مرکوز رکھ سکیں. مزید برآں، اس اسکالرشپ پروگرام کے تحت محققین کو یونیورسٹی میں تدریسی تحقیقی اور دیگر علمی پراجیکٹس میں عملی طور پر حصہ لینے کے بہترین مواقع بھی دیے جائیں گے، جس سے انہیں مستقبل کے لیے عملی تدریسی تجربہ، جدید تحقیقی مہارت اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو عالمی معیار کے مطابق نکھارنے کا موقع ملے گا.

یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے اس اسکالرشپ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں اعلیٰ تحقیقی کلچر کا فروغ ان کی اولین ترین ترجیحات میں شامل ہے. انہوں نے واضح کیا کہ ایک مضبوط تحقیقی بنیاد ہی کسی بھی ملک کی پائیدار ترقی، نئی اختراعات اور علم پر مبنی معیشت کی حقیقی ضامن ہوتی ہے، اسی لیے یونیورسٹی نوجوانوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کر رہی ہے. انہوں نے مزید کہا کہ یہ فنڈڈ پروگرام محققین کو قومی ترقی، سماجی مسائل کے عملی حل اور جدید سائنسی تحقیق کے میدان میں مؤثر ترین کردار ادا کرنے کے قابل بنائے گا. وائس چانسلر نے خواہشمند طلبہ پر زور دیا کہ وہ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے فوری درخواست دیں. اسکالرشپ کے اہلیت کا معیار اور درخواست جمع کرانے کی تمام تر تفصیلات یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی ہیں.

ہاکی فیڈریشن کی سلیکشن کمیٹی ختم کرنے کی خبروں کی تردید؛ کھلاڑیوں کے انتخاب کا حتمی اختیار بدستور کمیٹی کے پاس رہے گا

محمود احمد, JULY 19,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان تمام خبروں اور افواہوں کی سختی سے تردید کر دی ہے جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ فیڈریشن نے موجودہ سلیکشن کمیٹی کو تحلیل کر کے تمام اختیارات غیر ملکی یا مقامی کوچز کے سپرد کر دیے ہیں۔ پی ایچ ایف کے آفیشل اعلامیے کے مطابق، موجودہ سلیکشن کمیٹی مکمل طور پر بااختیار ہے اور میرٹ کی بنیاد پر اپنے فرائض انجام دیتی رہے گی۔ ترجمان پی ایچ ایف نے واضح کیا کہ صدر محی الدین احمد وانی کی مقتدر کاوشوں سے بین الاقوامی کوچنگ پینل اس وقت پاکستان میں موجود ہے، جو جدید جی پی ایس سسٹم کے ذریعے کھلاڑیوں کی فٹنس اور کارکردگی کا تفصیلی و تزویراتی جائزہ لے رہا ہے۔

اعلامیے کے مطابق، اس بین الاقوامی کوچنگ پینل کی جانب سے تیار کی جانے والی تمام ڈیجیٹل اور تکنیکی رپورٹس باقاعدگی سے سلیکشن کمیٹی کو فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ کھلاڑیوں کے انتخاب کے عمل کو مزید شفاف، غیر جانبدار اور مؤثر بنایا جا سکے۔ ہاکی لیجنڈز پر مشتمل یہ مقتدر سلیکشن کمیٹی ان سائنسی رپورٹس اور پروفیشنل ڈویلپمنٹ کمیٹی کی اہم سفارشات کی روشنی میں خالصتاً میرٹ پر قومی ٹیم کا انتخاب کرے گی، جبکہ ٹیم کا حتمی اعلان روایتی طور پر پاکستان ہاکی فیڈریشن کے آفیشل پلیٹ فارم سے ہی کیا جائے گا۔ فیڈریشن نے واضح کیا کہ سلیکشن کمیٹی کو ختم نہیں کیا گیا بلکہ سلیکشن کے مجموعی نظام کو جدید بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا گیا ہے۔

پی ایچ ایف کی انتظامیہ نے تادیبی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ اس تزویراتی اقدام کا مقصد سلیکشن کمیٹی کو کمزور کرنا یا سائیڈ لائن کرنا نہیں بلکہ اسے ڈیٹا کی مدد سے مزید مضبوط، مؤثر اور فعال بنانا ہے۔ ترجمان نے پریس ریلیز میں مزید دہرایا کہ بین الاقوامی کوچز کو کھلاڑیوں کے انتخاب کا کوئی تنہا یا مکمل اختیار نہیں دیا جا رہا۔ ان کا کردار صرف اور صرف سلیکشن کمیٹی کو تکنیکی معاونت، ڈیٹا اور مشاورت فراہم کرنے تک محدود رہے گا، جبکہ قومی ہاکی ٹیم کے حتمی انتخاب کا آخری اور قانونی اختیار بدستور سلیکشن کمیٹی کے پاس ہی محفوظ رہے گا۔

آزاد کشمیر کے انتخابات تاریخ رقم کریں گے؛ پاکستان اور کشمیر کے لازوال رشتے کو چیلنج کیا جا رہا ہے، وزیرِ دفاع خواجہ آصف


Defense Minister Khawaja Muhammad Asif is addressing the workers convention of PML-N at Union Council Water Works

منصور احمد, JULY 19,2026

سیالکوٹ (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے واضح کیا ہے کہ آزاد کشمیر کے موجودہ انتخابات ایک نئی تاریخ رقم کریں گے کیونکہ یہ کشمیر کاز کے ساتھ سچی محبت، کشمیری شہدا کے خون کا حق مانگنے اور ان کے حقوق کی حفاظت کا الیکشن ہے. سیالکوٹ میں ایل اے 36 جموں 3 کے انتخابی کارکنوں کے ایک مقتدر اور بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس سیاسی و علاقائی پس منظر میں آج یہ الیکشن ہو رہے ہیں، اس سے قبل تاریخ میں کبھی ایسے ماحول میں الیکشن نہیں ہوئے، کیونکہ اس وقت پاکستان اور کشمیر کے لازوال رشتے کو منظم سازش کے تحت چیلنج کیا جا رہا ہے.

وزیرِ دفاع نے اپنی کشمیری شناخت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بنیادی طور پر کشمیری ہیں لیکن جنہوں نے آزادی کے لیے دو لاکھ جانوں کے نذرانے دیے، وہ ان کی خاک کے برابر بھی نہیں ہیں. انہوں نے وادی کے غیور عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ ویلی میں جو کشمیری اپنے ہاتھوں میں پاکستان کا پرچم اٹھا کر نعرے لگا رہے ہیں، انہیں بخوبی اندازہ ہے کہ اس کی کیا سنگین قیمت ادا کرنا پڑتی ہے. یہی وجہ ہے کہ وہ جیلوں میں کٹھن زندگی گزار رہے ہیں اور کشمیری خواتین قید و بند کی صعوبتیں کاٹ رہی ہیں. خواجہ آصف نے تزویراتی حقائق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ کسی کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ نہیں بولتے، سرحد پر بیٹھا جموں کا مہاجر لندن میں بیٹھ کر پاکستان اور پاک افواج کو گالیاں دینے والے بعض کشمیریوں سے کہیں بہتر ہے. انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جو سینہ تان کر پاکستان کی حفاظت کرتا ہے، اس کی عزت کی جائے.

پاک فوج کی قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ ہماری بہادر عسکری فورسز کو دانستہ نشانہ بنایا جاتا ہے جس نے گزشتہ دو چار سالوں میں وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے چار ہزار سے زائد مقتدر قربانیاں دی ہیں. انہوں نے ملکی خارجہ پالیسی کے باوقار کردار کا ذکر کرتے ہوئے تادیبی طور پر بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ شدید جنگ اور سفارتی کشیدگی میں پاکستان کا نام ایک معتبر ثالث کی حیثیت سے بین الاقوامی میڈیا اور ٹی وی پر مسلسل نظر آ رہا ہے، جو پاکستان کے باوقار کردار کا عکاس ہے. خواجہ آصف نے بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمان کو دہراتے ہوئے اپنے خطاب کا اختتام کیا کہ “کشمیر ہماری شہ رگ ہے” محض ایک نعرہ نہیں بلکہ یہ ہمارے دو قومی نظریے کی تزویراتی بنیاد ہے.

آئیسکو کا 104 ملین روپے سے زائد کا کرپشن کیس؛ ایف آئی اے کی مؤثر پیروی پر 5 افسران کو 17، 17 سال قیدِ بامشقت کی سزا

کاشف عباسی , JULY 19,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سرکاری محکموں میں کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف ایک اور بڑی تزویراتی کامیابی حاصل کی ہے۔ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے 104.75 ملین روپے کے بھاری رشوت کیس میں ملوث 5 اعلیٰ اہلکاروں کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قیدِ بامشقت کی سخت سزا سنا دی گئی ہے، جبکہ خصوصی عدالت نے ملزمان سے برآمد ہونے والی تمام رقم کو فوری طور پر قومی خزانے میں ضبطگی کے بعد جمع کرانے کا مقتدر حکم جاری کیا ہے۔

ایف آئی اے کے ایک اعلیٰ اہلکار نے اتوار کے روز میڈیا کو تادیبی حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ہائی پروفائل کیس 30 اگست 2024ء کو ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کے ایک انتہائی کامیاب اور خفیہ چھاپے سے شروع ہوا تھا، جس کے دوران آئیسکو کے تین ڈویژنل اکاؤنٹس افسران اور دو آڈٹ افسران کو رشوت کا لین دین کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے 104.75 ملین روپے کی خطیر نقد رقم برآمد کی گئی تھی، جو کہ ملزمان کی جانب سے مبینہ طور پر سال 2019ء سے 2024ء تک کے طویل عرصے کے لیے اپنے حق میں سازگار آڈٹ رپورٹس تیار کروانے کے عوض بیرونی آڈٹ افسران کو رشوت کے طور پر ادا کی جا رہی تھی۔ اس کامیاب کارروائی کے بعد ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات اور انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947ء کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

کیس کی تفصیلی سماعتیں مکمل ہونے کے بعد، 17 جولائی 2026ء کو سپیشل جج سینٹرل راولپنڈی عبدالرحمان محمد عارف نے جرم ثابت ہونے پر نامزد ملزمان ذیشان علی اکبر، نذر حسین، اشتیاق احمد، جہانگیر احمد اور ثاقب ظہیر کو 17، 17 سال قیدِ بامشقت کی تاریخی سزا کا فیصلہ سنایا۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ یہ تاریخی سزا تفتیشی ٹیم کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر زوہیب نیازی کی پیشہ ورانہ تفتیش اور استغاثہ کی جانب سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر صلاح الدین کی عدالت میں مؤثر ترین پیروی کے باعث ممکن ہو سکی ہے، جس سے محکمے میں احتساب کی مقتدر مثال قائم ہوئی ہے۔

بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا فرمان ’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘ ہماری جدوجہد کی بنیاد ہے؛ سید علی گیلانی کا نعرہ پوری کشمیری قوم کی آواز ہے

منصور احمد, JULY 19,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے یومِ الحاقِ پاکستان کے مقتدر موقع پر کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 19 جولائی 1947ء کو سرینگر میں غازیٔ ملت سردار محمد ابراہیم خان کے رہائشی مکان پر منعقدہ تاریخی اجلاس میں الحاقِ پاکستان کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی. اتوار کو لاہور سے جاری کردہ اپنے ایک خصوصی تزویراتی بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ اس تاریخی اور فیصلہ کن اجلاس میں سرینگر، جموں، مظفرآباد اور میرپور سمیت ریاستِ جموں و کشمیر کے ہر چہار سو علاقے کے مقتدر نمائندے شریک ہوئے تھے، جس نے کشمیریوں کے مستقبل کا رخ متعین کیا.

حافظ نعیم الرحمان نے کشمیریوں کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام اپنے سیاسی و جغرافیائی حقوق کے لیے کل بھی متحد تھے اور آج بھی دشمن کی تمام تر سازشوں کے باوجود مکمل متحد ہیں. انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پوری پاکستانی قوم کشمیری عوام کی اصولی اور اخلاقی حمایت پر مضبوطی سے قائم اور ثابت قدم ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ پاکستانی عوام نے ہر کٹھن مرحلے میں اپنے مظلوم کشمیری بہن بھائیوں کی سیاسی و سفارتی حمایت کا حق بھرپور انداز میں ادا کیا ہے. امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے واشگاف الفاظ میں فرمایا تھا کہ “کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے”، اور آج مقبوضہ جموں و کشمیر کا ہر نوجوان اسی شہ رگ کی آزادی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے اور لازوال قربانیاں دے رہا ہے.

انہوں نے تحریکِ آزادی کے عظیم کشمیری رہنما سید علی گیلانی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا تاریخی نعرہ “ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے” دراصل کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری کشمیری قوم کا متفقہ نعرہ اور ایمان ہے. حافظ نعیم الرحمان نے عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں مودی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین اور ہولناک خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں، جنہیں فوری طور پر بند ہونا چاہیے. انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی لازوال جدوجہد اور خون رنگ لائے گا اور بہت جلد کشمیر کی تمام اکائیاں آزاد ہو کر پاکستان کا مستقل حصہ بنیں گی.

ایمباپے کا تاریخی عالمی ریکارڈ؛ لیونل میسی کو پیچھے چھوڑ کر فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے

محمود احمد, JULY 19,2026

میامی (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے سنسنی خیز اختتامی مراحل میں فرانسیسی فٹ بال کے لیے جہاں شکست کی مایوسی سامنے آئی، وہاں انفرادی طور پر فٹ بال کی تاریخ کا سب سے بڑا اور مقتدر ریکارڈ بھی قائم ہو گیا ہے۔ فرانس کے بین الاقوامی شہرہ آفاق فٹ بالر اور کپتان کیلین ایمباپے نے ارجنٹائن کے مایہ ناز کپتان لیونل میسی کا 21 گولز کا عالمی ریکارڈ توڑ کر فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی کا اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔ تاہم، اس تزویراتی اور تاریخی موقع پر فرانس کو تیسری پوزیشن کے پلے آف میچ میں انگلینڈ کے ہاتھوں 4-6 سے عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘شنہوا’ کے مقتدر حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق، کیلین ایمباپے نے انگلینڈ کے خلاف اس سنسنی خیز اور ہائی اسکورنگ مقابلے میں 2 شاندار گول داغ کر ورلڈ کپ مقابلوں میں اپنے مجموعی گولز کی تعداد 22 کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ رواں ٹورنامنٹ میں 10 گولز کے ساتھ گولڈن بوٹ کی ریس میں بھی لیونل میسی پر 2 گولز کی برتری حاصل کر کے سب سے آگے نکل گئے ہیں، جو ان کے دنیا کا سب سے مہلک اور بہترین سٹرائیکر ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسی یادگار میچ میں فرانس کے مائیکل اولیسے نے بھی 2 گولز میں معاونت فراہم کر کے ورلڈ کپ کی تاریخ کا ایک نیا منفرد ریکارڈ قائم کیا ہے۔ وہ اب ایک ہی ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ 7 گولز اسسٹ کرنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں، جنہوں نے برازیل کے لیجنڈری فٹ بالر پیلے کا ایک ورلڈ کپ میں 6 گولز اسسٹ کرنے کا دیرینہ عالمی ریکارڈ بھی پاش پاش کر دیا ہے۔

کیلین ایمباپے اور مائیکل اولیسے کی ان شاندار انفرادی اور تاریخی کامیابیوں کے باوجود فرانسیسی دفاعی لائن انگلینڈ کے مضبوط اور تتابعی حملوں کو روکنے میں ناکام رہی، جس کے باعث فرانسیسی ٹیم نے چوتھی پوزیشن پر ٹورنامنٹ کا اختتام کیا۔ عالمی فٹ بال کے مقتدر مبصرین اور ماہرین کا ماننا ہے کہ کیلین ایمباپے نے جس شاندار تسلسل اور شدید ذہنی دباؤ کے باوجود دنیا کے اس سب سے بڑے اسٹیج پر پرفارم کیا، اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ موجودہ دور کے سب سے سحر انگیز اور ناقابلِ شکست کھلاڑی ہیں جن کے قدموں تلے اب فٹ بال کی پوری تاریخ آچکی ہے۔ فرانس کی چوتھی پوزیشن پر ٹورنامنٹ ختم کرنے کی مایوسی کے باوجود ایمباپے کی یہ تاریخی انفرادی کامیابی فٹ بال شائقین کے دلوں پر ہمیشہ نقش رہے گی۔

فیفا ورلڈ کپ 2026ء؛ فاتح ٹیم کے لیے تاریخ کی سب سے بڑی 5 کروڑ ڈالر کی انعامی رقم مقرر، فائنل میں اسپین اور ارجنٹینا کا مقتدر ٹکراؤ

محمود احمد, JULY 19,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں کھیلے جا رہے تاریخ کے سب سے بڑے فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے اختتامی مراحل میں انعامی رقوم کی مقتدر تزویراتی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں. فیفا کی جانب سے دسمبر 2025ء میں کیے گئے اعلان کے مطابق، 48 ٹیموں پر مشتمل اس میگا ایونٹ کے لیے مجموعی انعامی فنڈ ریکارڈ 65 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر رکھا گیا ہے، جو تمام شریک ٹیموں میں ان کی پوزیشن اور کارکردگی کے مطابق تقسیم کیا جا رہا ہے. ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم کو تاریخ کی سب سے بڑی انعامی رقم یعنی 5 کروڑ ڈالر ملیں گے، جبکہ رنر اپ ٹیم کو 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر دیے جائیں گے. یہ خطیر رقم فیفا کی بڑھتی ہوئی مالی استعداد اور فٹ بال کی عالمی مقبولیت کی عکاسی کرتی ہے.

ٹورنامنٹ میں تیسری پوزیشن کے لیے کھیلے گئے ایک سنسنی خیز میچ میں انگلینڈ نے فرانس کو 4-6 سے شکست دے کر میدان مار لیا ہے. اس اہم کامیابی کے ساتھ ہی انگلینڈ کی ٹیم کو 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی خطیر انعامی رقم ملے گی، جبکہ چوتھی پوزیشن پر آنے والی فرانسیسی ٹیم کو 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر فراہم کیے جائیں گے. اب اس تاریخی عالمی کپ میں صرف فائنل کا مقتدر معرکہ باقی رہ گیا ہے، جہاں یورپین جائنٹ اسپین اور دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کی مضبوط ٹیمیں ٹرافی کے حصول کے لیے آمنے سامنے ہوں گی. واضح رہے کہ 2022ء کے ورلڈ کپ میں چیمپئن ارجنٹینا کو 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالر اور 2018ء میں فرانس کو 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ملے تھے.

فیفا کی جاری کردہ آفیشل تفصیلات کے مطابق، ٹورنامنٹ کے مختلف مراحل میں آؤٹ ہونے والی ٹیموں کے لیے بھی مقتدر انعامات رکھے گئے ہیں۔ کوارٹر فائنل تک رسائی پانے والی چار ٹیموں (ناروے، بیلجیئم، مراکش اور سوئٹزرلینڈ) کو فی ٹیم ایک کروڑ 90 لاکھ ڈالر دیے جائیں گے۔ 9ویں سے 16ویں نمبر پر رہنے والی ٹیموں بشمول میکسیکو، کولمبیا، برازیل، امریکا، پرتگال، کینیڈا، مصر اور پیراگوئے کو ایک کروڑ 50 لاکھ ڈالر فی ٹیم ملیں گے۔ مزید برآں، 17ویں سے 32ویں پوزیشن کی ٹیموں کو ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالر جبکہ 33ویں سے 48ویں نمبر پر آنے والی ٹیموں کو 90 لاکھ ڈالر انعام دیا جائے گا۔ فیفا نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایونٹ میں شامل ہر ٹیم کو تیاریوں کے اخراجات کے لیے آغاز میں ہی اضافی 15 لاکھ ڈالر فراہم کر دیے گئے تھے۔

تاریخی قراردادِ الحاقِ پاکستان؛ کشمیری عوام کے غیر متزلزل نظریاتی عزم اور سیاسی بصیرت کا مقتدر دن

منصور احمد, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

نظریۂ پاکستان اور تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے لازوال رشتے کے حوالے سے ایک انتہائی مقتدر اور تاریخی دن “یومِ الحاقِ پاکستان” آج شاندار عزائم کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ 19 جولائی 1947ء کو کشمیری عوام کے اجتماعی فیصلے کی اس تاریخی قرارداد نے ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا رخ ہمیشہ کے لیے متعین کر دیا تھا۔ تاریخِ کشمیر کا یہ وہ یادگار اور تزویراتی دن ہے جب آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے سری نگر کے مقام پر باضابطہ طور پر “قراردادِ الحاقِ پاکستان” منظور کر کے ریاست کے مستقبل کا حتمی فیصلہ عوام کی مرضی کے مطابق کیا تھا۔

یہ تاریخی قرارداد کشمیری عوام کی اعلیٰ اجتماعی سیاسی بصیرت، بے مثال قومی شعور اور پاکستان سے ان کی غیر متزلزل اور گہری نظریاتی وابستگی کا منہ بولتا اور ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ اس دور میں ڈوگرا راج کے سخت ترین ریاستی دباؤ اور ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیری قیادت کا پاکستان سے الحاق کا یہ فیصلہ خالصتاً عوامی امنگوں کا سچا مظہر بن کر سامنے آیا۔ یہ جمہوری اور اصولی فیصلہ نہ صرف کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی قانونی و اخلاقی بنیاد فراہم کرتا ہے، بلکہ آج بھی تحریکِ آزادیٔ کشمیر کی حقیقی روح اور بین الاقوامی فورمز پر پاکستانی بیانیے کا سب سے مضبوط تزویراتی استدلال ہے۔

کشمیریوں نے قیامِ پاکستان سے قبل ہی اپنی غیر معمولی سیاسی بصیرت سے مستقبل کا درست رخ متعین کر دیا تھا اور یہ واضح کر دیا تھا کہ ریاست کا الحاق کسی فردِ واحد کی صوابدید یا جاگیر نہیں، بلکہ صرف اور صرف کشمیری عوام کا بنیادی و جمہوری حق قرار پایا ہے۔ 19 جولائی کی یہ مقتدر قرارداد مسئلۂ کشمیر پر پاکستان کے قانونی اور اخلاقی مؤقف کی مضبوط ترین بنیاد ہے، جو کشمیریوں کے قومی تشخص اور لازوال نظریاتی وابستگی کی ایک زندہ علامت بن کر دنیا کے سامنے کھڑی ہے۔ کشمیری عوام آج بھی اسی تاریخی فیصلے پر قائم رہتے ہوئے اپنی آزادی کی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سمر کیمپ 2026ء؛ ڈی جی آئی ایس پی آر کی ملک بھر کے طلبہ و طالبات کے ساتھ خصوصی نشست، قومی سلامتی اور چیلنجز پر تفصیلی روشنی

منصور احمد, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے زیرِ اہتمام نوجوانوں میں قومی شعور کی بیداری اور ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ایک مقتدر اور اہم ترین پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر نے سمر کیمپ 2026ء میں شریک ملک بھر کے طلبہ و طالبات کے ساتھ ایک خصوصی تزویراتی نشست کا انعقاد کیا ہے۔ اتوار کے روز موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، اس منفرد تعلیمی و تربیتی نشست میں پاکستان بھر کے 18 سے زائد مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے نویں سے بارہویں جماعت کے 4 ہزار سے زائد طالب علموں نے بھرپور شرکت کی۔ اس خصوصی گفتگو کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملک کی مجموعی قومی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور پاکستان کو درپیش داخلی و بیرونی چیلنجز پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

سمر کیمپ 2026ء میں شریک طلبہ و طالبات نے سیشن کے اختتام پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نشست کی بدولت انہیں پاکستان کو درپیش پیچیدہ داخلی و بیرونی سیکیورٹی چیلنجز سے متعلق انتہائی مؤثر اور گہری آگہی حاصل ہوئی ہے۔ طلبا کا کہنا تھا کہ انہیں بلوچستان میں سرگرم بھارتی پراکسی “فتنہ الہندوستان” اور ملک بھر میں امن کو سبوتاژ کرنے والے “فتنہ الخوارج” کے دہشت گردانہ اور ناپاک کردار کے بارے میں بھی تادیبی حقائق سے آگاہ کیا گیا، جس سے دشمن کے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کو سمجھنے میں مدد ملی ہے۔

نشست کے دوران مقتدر طلبہ و طالبات نے اس بات پر سخت زور دیا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں غلط معلومات (ففتھ جنریشن وارفیئر) اور منفی پروپیگنڈا سوشل میڈیا کے ذریعے انتہائی تیزی سے پھیلایا جا رہا ہے، جس کے خلاف نوجوان نسل میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ سمر کیمپ میں شریک پاکستان کے مستقبل کے معماروں نے اس پختہ عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی اور ملک دشمن عناصر کے خلاف پوری پاکستانی قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔