نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد معجزانہ ریسکیو: زیرِ زمین سرنگ سے 9 دن بعد دو افراد زندہ نکال لیے گئے

محمود احمد, September 04,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے ہولناک واقعے کے بعد ٹریشولی 3ہائیڈرو پاور منصوبے کی زیرِ زمین سرنگ میں پھنسے دو افراد کو نو دن کی طویل اور کٹھن جدوجہد کے بعد معجزانہ طور پر زندہ نکال لیا گیا ہے، جسے عالمی و مقامی امدادی ٹیموں نے ایک غیر معمولی تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔

نیپالی سرکاری حکام کے مطابق سرنگ سے باحفاظت نکالے گئے دونوں افراد کی شناخت سنجے شاہ اور کبیر مہرجن کے نام سے ہوئی ہے جو مذکورہ ہائیڈرو پاور منصوبے کے ہی ملازم ہیں۔ دونوں افراد کو سرنگ سے نکالتے ہی فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے دارالحکومت کھٹمنڈو کے مرکزی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

اس پیچیدہ اور خطرناک امدادی کارروائی میں بھارت کے سرنگ حادثے میں شہرت پانے والے آسٹریلوی ماہرِ ارضیات اور عالمی ٹنلنگ انجینیئر آرنلڈ ڈکس نے انتہائی اہم تکنیکی رہنمائی فراہم کی۔ آرنلڈ ڈکس نے بتایا کہ ریسکیو عملے کے لیے سب سے بڑا چیلنج سرنگ کے اصل داخلی راستے کا تعین کرنا تھا، کیونکہ سیلاب کے ساتھ آنے والے دیوہیکل ملبے اور چٹانوں نے پورے علاقے کی جغرافیائی ساخت کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا تھا اور پرانا راستہ گہرے ملبے تلے دب چکا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ امدادی ٹیموں نے پرانی انجینیئرنگ ڈرائنگز، لینڈ میپس، جدید سیٹلائٹ تصاویر اور ہیلی کاپٹروں سے لی گئی ڈرون ویڈیو فوٹیج کی مدد سے ممکنہ راستے کا سائنسی تخمینہ لگایا، جس کے بعد مسلسل کھدائی کر کے کاوشوں کو بارآور بنایا گیا۔

آرنلڈ ڈکس نے اس کامیاب ریسکیو کو “معجزوں پر معجزہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ زیرِ زمین پاور سٹیشن کے بعض حصوں میں ہوائی جیبیں موجود تھیں جنہوں نے آکسیجن اور زندگی کی رمق کو برقرار رکھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دیگر لاپتا افراد کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔

امریکی فٹبال کلب انٹر میامی کا پیراگوئے کے سٹار مڈفیلڈر میٹیاس گالارزا سے باقاعدہ معاہدہ طے پا گیا

محمود احمد, September 04,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

امریکی میجر لیگ ساکر کے مشہور اور معروف کلب انٹر میامی نے پیراگوئے سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی مڈفیلڈر میٹیاس گالارزا کو ارجنٹائن کے تاریخی کلب ریور پلیٹ سے قرض کی بنیاد پر حاصل کر کے اپنی ٹیم کا حصہ بنا لیا ہے۔

انٹر میامی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ تفصیلات کے مطابق چوبیس سالہ میٹیاس گالارزا کو 2026ء کے میجر لیگ ساکر سیزن کے اختتام تک کے لیے قرض پر ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کی ایک اہم شق یہ بھی ہے کہ قرض کی مقررہ مدت مکمل ہونے پر انٹر میامی کے پاس انہیں مستقل طور پر خریدنے کا اختیار بھی موجود رہے گا۔

میٹیاس گالارزا نے سال 2022ء میں پیراگوئے کی قومی فٹبال ٹیم کی جانب سے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا باقاعدہ آغاز کیا تھا اور وہ اب تک اپنی قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے انیس بین الاقوامی میچز کھیل چکے ہیں۔ وہ سن دو ہزار چھبیس کے فیفا ورلڈ کپ کے عالمی مقابلے میں بھی پیراگوئے کی قومی ٹیم کے اہم رکن رہے، جہاں ان کی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے راؤنڈ آف سکسٹین تک رسائی حاصل کی تھی۔ اس عالمی ٹورنامنٹ کے دوران گالارزا نے ایک گول اسکور کیا جبکہ ایک گول میں اہم معاونت فراہم کی تھی۔

اپنے سابقہ کیریئر میں گالارزا ریور پلیٹ کے علاوہ ٹیلیرس اور امریکی کلب اٹلانٹا یونائیٹڈ کی جانب سے بھی میدان میں اتر چکے ہیں۔ انٹر میامی کے حکام کا کہنا ہے کہ گالارزا کی شمولیت سے ٹیم کے وسطی میدانی شعبے کو مزید مضبوطی اور تحرک حاصل ہوگا۔

انٹر میامی کی انتظامیہ نے یہ بات بھی واضح کی ہے کہ کھلاڑی کی اسکواڈ میں حتمی اور عملی شمولیت ان کے انٹرنیشنل ٹرانسفر سرٹیفکیٹ اور پی ون ویزا کی باضابطہ وصولی سے مشروط رہے گی۔

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کے بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: دو دنوں میں 48 عسکریت پسند ہلاک

منصور احمد, September 04,2026

راولپنڈی / کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس معلومات پر مبنی وسیع پیمانے کی کارروائیوں کے دوران گزشتہ دو روز میں مجموعی طور پر 48 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق گزشتہ 12 سے 24 گھنٹوں میں سیکیورٹی فورسز نے مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی کے اضلاع میں ‘فتنہ الخوارج’ (کالعدم تحریکِ طالبان) اور ‘فتنہ الہندوستان’ (بلوچ علیحدگی پسند گروپس) سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف متعدد آپریشنز کیے۔ ان تازہ کارروائیوں میں 36 عسکریت پسند اور شدت پسند ہلاک کیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق 4 ستمبر کو ضلع مستونگ میں ایک آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور فورسز کے ساتھ شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں 6 عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔

ضلع قلات میں بھی انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک اور کامیاب آپریشن کیا گیا، جہاں فورسز نے شدت پسندوں کے خفیہ ٹھکانے پر چھاپہ مارا اور فائرنگ کے تبادلے میں 2 عسکریت پسندوں کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔

علاوہ ازیں ضلع سبی کے علاقے بھاگ میں سیکیورٹی فورسز نے مقامی آبادی کے تعاون سے فوری ردِعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس سٹیشن بھاگ پر دہشت گردوں کے حملے کی ایک بڑی کوشش کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ اس کارروائی میں فائرنگ کے شدید تبادلے کے دوران 2 شدت پسند مارے گئے، جبکہ علاقے میں ممکنہ شرپسندوں کے خاتمے کے لیے سرچ آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سی ڈی اے کی فائر سیفٹی موک ڈرل: آتشزدگی سے نمٹنے کی عملی مشقیں مکمل

منصور احمد, September 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کی عمارت میں فائر سیفٹی اور ہنگامی حفاظتی تدابیر کے حوالے سے ایک خصوصی موک ڈرل کا باقاعدہ انعقاد کیا گیا ہے۔

سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس عملی مشق کا بنیادی مقصد کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعہ یا آتشزدگی کی صورتحال میں فوری کارروائی، مؤثر حفاظتی اقدامات اور ہنگامی ردِعمل کے پورے نظام کی صلاحیتوں کو آزمائشی بنیادوں پر جانچنا اور مزید مضبوط بنانا تھا۔

موک ڈرل کے دوران پارلیمنٹ ہاؤس کی اہم عمارت میں آتشزدگی کی فرضی صورتحال پیدا کی گئی اور امدادی کارروائیوں کا عملًا معائنہ کیا گیا۔ اس موقع پر آگ لگنے کی صورت میں عمارت کے اندر موجود افراد کے محفوظ انخلا، ریسکیو اداروں کو بلا تاخیر اطلاع دینے، آگ پر قابو پانے اور ضروری طبی امداد کی فراہمی جیسے تمام مرحلہ وار طریقہ کار کی مشقیں انجام دی گئیں۔

مشق میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سینیئر افسران، ملازمین اور سی ڈی اے کی فائر فائٹنگ و ریسکیو ٹیموں نے مکمل ہم آہنگی اور تعاون کے ساتھ حصہ لیا۔

حکام نے اس موقع پر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے موجود تمام موجودہ انتظامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ سی ڈی اے حکام کے مطابق ایسی فرضی اور عملی مشقوں کا مقصد ادارہ جاتی تیاریوں کو ہر وقت فعال رکھنا ہے تاکہ کسی بھی واقعی ایمرجنسی میں قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ اور مالی نقصانات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔

حوثی عسکریت پسندوں کا راکٹوں اور ڈرونز سے اچانک زمینی حملہ؛ جواب میں یمنی فورسز کی سخت جوابی کارروائی

محمود احمد, September 04,2026

صنعاء / تعز (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کے روز سے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور تعز شہر کے قریب حوثی جنگجوؤں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی سرکاری افواج کے درمیان شدید اور خونریز جھڑپیں جاری ہیں، جن میں دونوں جانب سے کم از کم 81 فوجی اور جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔

بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں تعینات یمنی فوج کے ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ حوثی حملوں کے خلاف لڑتے ہوئے ان کی فورسز کے 24 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ تعز کے محاذ پر موجود ایک اور فوجی حکمران نے مزید 15 یمنی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے (اے ایف پی) نے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں طبی اور ہسپتال کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یمنی سرکاری افواج کی جوابی کارروائی میں حوثی مسلح گروہ کے کم از کم 42 ارکان بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ خونی لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب حوثی فورسز نے تعز کے علاقے اور بحیرہ احمر کی ساحلی پٹی کے آس پاس قائم سرکاری فوج کے مواضع پر راکٹوں اور جدید ڈرونز کی مدد سے اچانک شدید زمینی حملہ کر دیا۔ یمنی فوج نے حملے کو ناکام بنانے کے لیے جوابی کارروائی کی، جس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان شدید گولا باری کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

بلوچستان کے ضلع قلات میں پاک فوج کا بڑا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن: 12 عسکریت پسند ہلاک

کاشف عباسی , September 04,2026

راولپنڈی / قلات (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان کے ضلع قلات میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ایک کامیاب کارروائی کے دوران 12 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے جمعے کے روز جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق یہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن 2 ستمبر کو قلات کے دشوار گزار علاقے میں انجام دیا گیا۔ آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں کے ٹھکانے کی مسلسل نگرانی اور نشاندہی کے بعد فورسز کی جانب سے انتہائی مہارت سے فوری ‘سرجیکل ایکشن’ کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے اس حتمی اور موثر سرجیکل ایکشن کے نتیجے میں ٹھکانے پر موجود تمام 12 عسکریت پسند موقع پر ہی مارے گئے، جبکہ ان کی کمین گاہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔

کارروائی کے دوران عسکریت پسندوں کے زیرِ استعمال بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، گولا بارود اور دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) بنانے کے لیے رکھے گئے بارودی مواد کے بڑے ذخیرے کو بھی قبضے میں لے کر موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔ ترجمان کے مطابق علاقے میں عسکریت پسندوں کے مکمل خاتمے کے لیے آپریشن اور معائنہ کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا اردنی ہم منصب کو کرارا جواب: جارحیت کا جواب نہ دینے کی منطق پر سوال اٹھا دیا

محمود احمد, September 04,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اردن کے وزیرِ خارجہ کے حالیہ بیانات پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ایران کو ایسے جارح کا جواب دینے کے لیے کب تک انتظار کرنا چاہیے جو نہ تو عرب ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور نہ ہی ایرانی سلامتی کا پاس رکھتا ہے۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک تفصیلی بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اردنی وزیرِ خارجہ کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان پر حقائق سے لاعلمی کا الزام عائد کیا۔ عباس عراقچی نے انکشاف کیا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی جانب سے کیے گئے ابتدائی اور ابتدائی نوعیت کے حملوں کے دوران مختلف عرب ممالک کی فضائی، زمینی اور آبی حدود کا استعمال کیا گیا تھا۔

یہ سفارتی لفظی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب اردن کی وزارتِ خارجہ نے کویت میں ایرانی کارروائیوں اور حملوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں “وحشیانہ” قرار دیا تھا۔ اردنی بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ اقدام قومی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی، خطے کی سلامتی و استحکام کے لیے شدید خطرہ اور بین الاقوامی قوانین سمیت اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

دوسری جانب قطر کی وزارتِ خارجہ نے بھی کویت کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے باضابطہ بیان میں متنبہ کیا تھا کہ اس قسم کے حملے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور امن و استحکام قائم کرنے کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ایران میں امریکی حملے کے دوران شادی کی تقریب میں شہریوں کی ہلاکت: امریکی سینٹرل کمانڈ نے باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا

محمود احمد, September 04,2026

واشنگٹن / تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

امریکی سینٹرل کمانڈ نے منگل کے روز ایران میں جاری امریکی فضائی حملوں کے دوران ایک شادی کی تقریب پر ہونے والی بمباری اور اس کے نتیجے میں متعدد عام شہریوں کی ہلاکت کی باضابطہ اور اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

امریکی جریدے ‘ایگزیوس’ کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے موقف اختیار کیا ہے کہ ابھی تک اس بات کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ یہ المناک واقعہ براہِ راست امریکی حملے کا نتیجہ تھا یا نہیں، تاہم اگر تحقیقات میں اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ چھ ماہ قبل امریکہ اور ایران کے درمیان شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے عام شہریوں کی ہلاکتوں کا سب سے بڑا واقعہ شمار ہوگا۔

ایگزیوس سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی حکام نے انکشاف کیا کہ سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے بدھ کے روز اس واقعے کا فوری طور پر اندرونی جائزہ لینے کے سخت احکامات جاری کر دیے ہیں۔

یہ پیشرفت عالمی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی اس رپورٹ کے فوراً بعد سامنے آئی ہے جس میں اسلحہ جات کے ماہرین کی تجزیاتی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ ایرانی شہر ‘کوہستک’ میں شادی کی تقریب پر ہونے والا ہولناک دھماکہ ممکنہ طور پر امریکی گائیڈڈ ہتھیار کے براہِ راست ٹکرانے کے باعث ہوا، اور یہ کسی ایرانی فضائی دفاعی میزائل کی غلط سمت یا بالواسطہ ٹکراؤ کا نتیجہ نہیں تھا۔

واضح رہے کہ اس چھ ماہ طویل جنگ کے دوران عام شہریوں کی ہلاکت کا سب سے بڑا اور ہولناک واقعہ جنگ کے بالکل پہلے دن پیش آیا تھا، جب ایرانی شہر کے ایک سکول پر امریکی فضائی حملے میں ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں بچوں کی اکثریت شامل تھی۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق سکول پر ہونے والے اس حملے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ بھی جلد مکمل کر کے عام کی جائے گی۔

آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں خلل سے عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور روزگار پر خطرناک اثرات مرتب ہوں گے: عالمی بینک کی اہم رپورٹ

محمود احمد, September 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی ممکنہ مسلح تنازعہ یا جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث بحری آمدورفت میں خلل کے اثرات صرف خلیجِ فارس تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں بڑھنے، پیداواری لاگت میں اضافے اور عالمی طلب میں شدید کمی کا خدشہ ہے۔

عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ جامع رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز خلیجِ فارس کو بحرِ ہند سے ملانے والی دنیا کی سب سے اہم اور حکمتِ عملی کے حامل آبی گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا بھر کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کے سب سے بڑے حصے کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی چینز، بین الاقوامی تجارت، صنعت اور عالمی ملازمتوں کے شعبے کو تباہ کن حد تک متاثر کر سکتی ہے۔

دنیا کے 80 ممالک کے اعداد و شمار پر مبنی ایک حالیہ تجزیے کے مطابق اس جغرافیائی بحران کے نتیجے میں 61 ممالک میں 90 فیصد سے زیادہ محنت کشوں اور کارکنوں کی حقیقی آمدنی میں واضح کمی واقع ہوگی۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کمبوڈیا، یوکرین اور ویتنام ان ممالک میں شامل ہیں جہاں کے مزدوروں اور صنعتوں کو سب سے زیادہ مالی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

اس کے برعکس تیل برآمد کرنے والے ممالک جن میں نائجیریا، انگولا، آسٹریلیا، برونائی دارالسلام، قازقستان، ناروے اور روس شامل ہیں، اس بحران کے اثرات سے نسبتاً محفوظ رہیں گے کیونکہ ان ممالک میں 20 فیصد سے بھی کم کارکنوں کی آمدنی متاثر ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

عالمی بینک کے تجزیے کے مطابق توانائی کی قیمتیں بڑھنے سے ٹیکسٹائل، زراعت اور پلاسٹک کے شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، جبکہ خام تیل نکالنے کا شعبہ ان چند شعبوں میں شامل ہے جو بلند عالمی قیمتوں سے مستفید ہو سکتا ہے۔ چین کی الیکٹرانکس انڈسٹری اور زراعت کا شعبہ بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے کیونکہ کیمیائی کھادوں، زرعی ادویات، ایندھن اور نقل و حمل کی لاگت میں براہِ راست اضافہ ہو جائے گا۔

عالمی بینک نے دنیا بھر کی حکومتوں کو تجویز دی ہے کہ وہ مزدوروں کے روزگار کو بچانے کے لیے فنی تربیت اور دوبارہ مہارت حاصل کرنے کے پروگرامز شروع کریں، جبکہ خوراک درآمد کرنے والے کم آمدنی والے ممالک کو توانائی کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی صورت میں فوری طور پر سبسڈی، نقد امداد اور سماجی تحفظ کے پروگرامز فعال کرنے کی تیاری رکھنی چاہیے۔

دو سالوں میں 133 ارب روپے کی منشیات تلف؛ نوجوان نسل کو اس ناسور سے بچانا حکومت کی اولین ترجیح

کاشف عباسی , September 04,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت منشیات کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے محفوظ بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل اور سخت اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کیے گئے اپنے ایک اہم بیان میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بتایاکہ گزشتہ دو سال کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کامیاب اور موثر کارروائیوں کے نتیجے میں 133 ارب روپے سے زائد مالیت کی منشیات ضبط کر کے تلف کی جا چکی ہے، جو منشیات کے خلاف حکومت کے پختہ عزم اور اداروں کی بہترین کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں میں 1,638 کلوگرام آئس (کرسٹل) اور 620 کلوگرام چرس قبضہ میں لے کر تلف کی گئی، جبکہ دو سال کے عرصے میں 27 ہزار سے زائد غیر ملکی شراب اور بیئر کی بوتلیں اور کین بھی ضبط کر کے تلف کیے گئے۔

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ منشیات کے خلاف جاری یہ مہم محض ایک قانونی اقدام نہیں بلکہ بلوچستان کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی ایک جامع اور منظم جدوجہد ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ منشیات کی ترسیل، فروخت اور استعمال میں ملوث تمام عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے گی تاکہ صوبے کو ایک محفوظ، صحت مند اور منشیات سے پاک معاشرہ بنایا جا سکے جہاں نوجوان اپنی توانائیاں تعلیم، ہنر، کھیل اور مثبت سرگرمیوں میں استعمال کر سکیں۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا پمز کارڈیک سنٹر اور الیکٹرو فیزیالوجی کیتھ لیب کا اچانک دورہ: طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ

منصور احمد, September 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال کے کارڈیک سنٹر کا دورہ کیا اور وہاں دل کے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

اپنے دورے کے دوران وفاقی وزیر صحت نے کارڈیک سنٹر میں زیرِ علاج مریضوں اور ان کے لواحقین سے براہِ راست ملاقاتیں کیں اور علاج معالجے کے معیار، مفت ادویات کی دستیابی اور انتظامی امور سے متعلق درپیش مشکلات کے بارے میں دریافت کیا۔

مصطفیٰ کمال نے پمز ہسپتال میں قائم جدید ترین الیکٹرو فیزیالوجی کیتھ لیب کا بھی خصوصی معائنہ کیا جہاں انہوں نے دل کے امراض کے علاج کے لیے دستیاب جدید ترین آلات اور تکنیکی سہولیات کی صورتحال کا جائزہ لیا۔

اس موقع پر پمز انتظامیہ اور متعلقہ طبی حکام نے وفاقی وزیر صحت کو کیتھ لیب کی کل روزمرہ کی استعداد، جدید مشینری کے فعال ہونے اور آنے والے مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

وفاقی وزیر صحت نے ہسپتال انتظامیہ کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو معیاری اور جدید ترین طبی سہولیات کی بلا تاخیر فراہمی یقینی بنائی جائے اور ہسپتال آنے والے ہر مریض کے مسئلے کے فوری حل کو انتظامیہ اپنی اولین ترجیح بنائے۔

اقوام متحدہ اور کثیرالجہتی نظام کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گے: وزیراعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے امیدوار اولارا اوتونو سے ملاقات

روزینہ اسماعیل, September 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اعادہ کیا ہے کہ پاکستان عالمی امور اور کثیرالجہتی نظام میں اقوام متحدہ کے موثر اور فعال کردار کی مسلسل حمایت جاری رکھے گا، جبکہ موجودہ پیچیدہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم اور بین الاقوامی تعاون کو مزید مستحکم بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جمعہ کے روز جاری کیے گئے باضابطہ بیان کے مطابق، ان خیالات کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کے امیدوار سفیر اولارا اوتونو سے ایک اعلیٰ سطح کی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر یوگنڈا کے صدر کے خصوصی ایلچی اور سابق وزیراعظم روہاکانا روگونڈا بھی ان کے ہمراہ تھے۔

ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے بھی شرکت کی اور اہم سفارتی امور پر گفتگو کی گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے منشور، عالمی قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کے احترام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے بنیادی منشور سے مکمل وابستگی رکھتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ کے آئندہ منتخب ہونے والے سیکرٹری جنرل عالمی ادارے کے تینوں بنیادی ستونوں یعنی امن و سلامتی، اقتصادی و سماجی ترقی اور انسانی حقوق پر یکساں اور متوازن توجہ مرکوز کریں گے۔

سفیر اولارا اوتونو نے کثیرالجہتی نظام کے فروغ، اقوام متحدہ کے مشنز اور عالمی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی دہائیوں پر محیط اور تاریخی خدمات کو زبردست الفاظ میں سراہا اور پاکستان کی فعال عالمی قیادت پر تشکر کا اظہار کیا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی جانب سے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے معاملے میں مثبت پیش رفت کا خیرمقدم

روزینہ اسماعیل, September 04,2026

اقوام متحدہ / نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق معاملے میں ہونے والی اہم اور مثبت پیش رفت کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے اور شامی حکومت کی جانب سے اپنی سرزمین پر کیمیائی ہتھیاروں کی سرگرمیوں کا خاتمہ کرنے کے عزم کو سراہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان نے باقی ماندہ ستائیس میں سے انیس زیرِ التوا امور کے حل کے لیے فریقین کے درمیان مسلسل روابط اور باہمی تعاون کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق خصوصی بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے شامی عرب جمہوریہ کی جانب سے ارسال کردہ تازہ ترین مراسلات اور تعاون کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیاروں کی سرگرمیوں سے وابستہ مختلف مقامات اور حال ہی میں ظاہر کی گئی دو اہم ذخیرہ گاہوں کے جائزوں سے متعلق اہم تفصیلات فراہم کی ہیں۔

سفیر عثمان جدون نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شامی حکومت کی جانب سے حاصل کی جانے والی پیش رفت تحسین اور حوصلہ افزائی کی مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو حتمی انجام تک پہنچانے کے لیے آگے بڑھنے کا واحد راستہ شام اور کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم کے ٹیکنیکل سیکریٹریٹ کے درمیان قائم تعاون، باہمی اعتماد اور شفافیت کی فضا کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

پاکستانی مندوب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ضروری تکنیکی معاونت، ماہرانہ مشورے اور صلاحیتوں میں اضافے کے لیے شام کو تعاون فراہم کرے تا کہ باقی ماندہ امور جلد از جلد حل ہو سکیں۔ انہوں نے پاکستان کی طرف سے شام کی خودمختاری، قومی وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

سفیر عثمان جدون نے پاکستان کا اصولی موقف دہرااتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی بھی فرد، تنظیم یا فریق کی جانب سے دنیا میں کسی بھی مقام پر اور کسی بھی حالت میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کا عالمی معاہدہ بین الاقوامی تخفیفِ اسلحہ اور عدمِ پھیلاؤ کے نظام کا بنیادی ستون ہے، اور پاکستان اس کے بلا تفریق اور مؤثر نفاذ کا حامی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلسل تکنیکی تصدیق، آزادانہ جائزہ اور عالمی تعاون کے نتیجے میں تمام زیرِ التوا مسائل احسن طریقے سے حل ہو جائیں گے اور شام کا کیمیائی ہتھیاروں کا معاملہ کامیابی سے اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا۔

تہاڑ جیل سے بھیجے گئے آخری بیان میں سرلا بھٹ قتل کیس میں ملوث ہونے کی تردید؛ مشال ملک کو نکاح سے آزاد کرنے کا اعلان اور انڈین قیادت سے ماضی کے مذاکرات کے اہم انکشافات

محمود احمد, September 03,2026

سرینگر / نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے نامور کشمیری رہنما اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک نے سرینگر کی خصوص عدالت کے سامنے ایک انتہائی اہم اور تہلکہ خیز حلف نامہ پیش کرتے ہوئے اپنے خلاف قائم مقدمے کا مزید دفاع کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے اور عدالت سے استدعا کی ہے کہ انہیں فوری طور پر سزائے موت سنائی جائے۔

یہ غیر متوقع اور ڈرامائی پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی نے اپنی جدید ترین فردِ جرم میں یاسین ملک کو سن 1990ء میں پیش آنے والے سرلا بھٹ قتل کیس کا مرکزی منصوبہ ساز قرار دیا۔ اس کیس میں یاسین ملک پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے اسپتال میں کام کرنے والی نرس کے قتل کا حکم جاری کیا تھا۔

یاسین ملک کے قانون دان ابو عادل پنڈت نے سرینگر میں متعلقہ عدالت کے جج کے سامنے یہ دستی حلف نامہ جمع کرایا۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ان کی حال ہی میں نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں یاسین ملک سے تفصیلی ملاقات ہوئی تھی جہاں قید کے دوران انہوں نے یہ تحریر لکھی اور اسے عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا۔ اس قانونی دستاویز پر یاسین ملک کے انگوٹھے کے نشان کے ساتھ ساتھ تہاڑ جیل کے نائب ناظم کی باضابطہ مہر اور دستخط بھی ثبت ہیں، جبکہ بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی اور تہاڑ جیل کے حکام نے بھی اس تحریر کی مکمل تصدیق کی ہے۔

تہاڑ جیل سے بھیجے گئے اس طویل حلف نامے کو یاسین ملک نے عدالتی نظام کے سامنے اپنا حتمی اور آخری بیان قرار دیا ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ مذہبی استخارے، تلاوت اور اپنے موجودہ نامساعد حالات پر طویل غور و فکر کے بعد انہوں نے یہ حتمی فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے خلاف دائر کیے گئے اس مقدمے کی مزید کوئی قانونی پیروی یا دفاع نہیں کریں گے۔ انہوں نے عدالت پر واضح کیا کہ ان کے اس فیصلے کو کسی بھی صورت میں جرم کا اعتراف یا سرکاری و تحقیقاتی اداروں کے الزامات کی تسلیم سے تعبیر نہ کیا جائے، کیونکہ وہ اس قتل میں کسی بھی طور پر ملوث نہیں ہیں، بلکہ وہ اس نظامِ عدل سے مایوس ہو کر خود کے لیے سزائے موت کی مانگ کر رہے ہیں۔

اس حلف نامے کا ایک انتہائی دردناک اور سنسنی خیز پہلو یہ ہے کہ قیدِ تنہائی کاٹنے والے کشمیری رہنما نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مقیم اپنی اہلیہ مشال ملک کو بھی اس تحریر کے ذریعے نکاح سے آزاد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اپنی شریکِ حیات کو مزید کسی بندھن یا انتظار کی صعوبت میں نہیں رکھنا چاہتے، اس لیے وہ انہیں مکمل طور پر آزاد کرتے ہیں۔

حلف نامے کے متن کے مطابق بھارت کے تحقیقاتی افسران نے جون دو ہزار چھبیس کے پہلے ہفتے میں تہاڑ جیل میں یاسین ملک سے کئی گھنٹے تفتیش کی تھی۔ اس تفتیش کے دوران ان سے ایک ایسے دستی نوٹ کے بارے میں سوالات پوچھے گئے جو مبینہ طور پر دہائیوں قبل جائے وقوعہ سے ملا تھا اور جس کی بنیاد پر ان پر اس قتل کی ہدایت دینے کا الزام لگایا گیا۔ یاسین ملک نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد اور گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا اس واقعے سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔

حلف نامے میں یاسین ملک نے ماضی کے کئی پردے بھی چاک کیے ہیں اور بھارت کی سابق حکومتی قیادت کے ساتھ اپنے تعلقات کی تفصیلی معلومات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سال دو ہزار میں جیل سے رہائی کے بعد اس وقت کی بھارتی حکومت نے ان کے ساتھ باقاعدہ بات چیت اور مذاکراتی عمل کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت کی بھارتی قیادت کے نمائندوں بشمول اجیت دوول اور دیگر اعلیٰ سلامتی و استخباراتی حکام نے ان سے متعدد ملاقاتیں کی تھیں اور انہی رابطوں کے نتیجے میں بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کی راہ ہموار کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے امریکہ میں اپنے علاج و معالجے کے سلسلے میں بھارتی حکومت کی جانب سے کی جانے والی مالی امداد کی تفصیلات بھی اس حلف نامے میں درج کی ہیں۔

یاسین ملک کے اس قدم نے کشمیری سیاست اور قانون دانوں کے حلقوں میں ایک نیا زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک اہم رہنما کی طرف سے مقدمے کے دفاع سے انکار اور سزائے موت کا مطالبہ کرنا بھارت کے قضائی اور تحقیقاتی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ حریت پسند حلقوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ یاسین ملک کا یہ بیانیہ ان کی ثبات قدمی اور مسلسل جدوجہد کی علامت ہے۔

فی الوقت سرینگر کی عدالت اور بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی نے اس حلف نامے کو اپنے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے اور اس کیس کی اگلی سماعت پر اس قانونی نقطے کا جائزہ لیا جائے گا کہ جب ملزم خود اپنا دفاع کرنے سے انکار کر دے اور سزائے موت کی استدعا کرے تو ایسی صورت میں کارروائی کو کس سمت میں آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

پاکستان اور آسٹریلیا کا زراعت، جدید تحقیق اور زرعی حیاتیاتی تحفظ کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

محمود احمد, September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

پاکستان اور آسٹریلیا نے زراعت، جدید زرعی تحقیق، موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مقاومت، زرعی حیاتیاتی تحفظ ، اور واٹر مینجمنٹ کے شعبوں میں دوطرفہ سٹریٹجک تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔

وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے جاری باضابطہ اعلامیے کے مطابق، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین سے آسٹریلین سینٹر فار انٹرنیشنل ایگریکلچرل ریسرچ کی جنرل منیجر ڈاکٹر سوزی نیومین اور آسٹریلوی ہائی کمشنر نے اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے 1984ء سے جاری پاک آسٹریلیا زرعی تحقیقی شراکت داری کو سراہتے ہوئے زور دیا کہ سائنس اور تحقیق کو محض دستاویزات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی، قابلِ توسیع اور کسان دوست حل میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے خصوصاً آبی انتظام، فصلوں کی بہتری، باغبانی اور زرعی ویلیو چینز میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے پر زور دیا۔

گفتگو میں پاکستان کی زرعی اور باغبانی مصنوعات کی آسٹریلین مارکیٹ تک رسائی اور نباتاتی صحت کے بین الاقوامی معیارات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کیڑوں کی جدید شناخت، مالیکیولر تشخیص، ڈی این اے بارکوڈنگ، جی آئی ایس پر مبنی نگرانی، اور ٹڈی دل سے نمٹنے کے لیے ماحول دوست نظام تشکیل دینے کی تجاویز پیش کیں۔

ملاقات میں اے سی آئی اے آر کے مالی تعاون سے ‘جنوبی دریائے سندھ کے طاس میں آبی لچک اور دیہی روزگار میں بہتری’ کے جاری منصوبے کا جائزہ بھی لیا گیا۔ آسٹریلوی وفد نے پاکستانی اداروں کے ساتھ تکنیکی تبادلے اور کسانوں کے عملی فائدے کے لیے نتائج پر مبنی تحقیقی منصوبوں کو آگے بڑھانے کے مکمل عزم کا اعادہ کیا۔

خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور پاک افغان تعلقات پر اہم مشاورت: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے پاکستانی سفیر عبید الرحمٰن نظامانی کی ملاقات

کاشف عباسی , September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

نائب وزیراعظم و وفاقی وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے افغانستان میں پاکستان کے سفیر عبید الرحمٰن نظامانی نے وزارتِ خارجہ اسلام آباد میں ایک اہم اور اعلیٰ سطح کی ملاقات کی ہے۔

وزارتِ خارجہ کی جانب سے جمعرات کے روز جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، اس ملاقات کے دوران پاک افغان باہمی تعلقات، سفارتی امور اور خطے کی مجموعی اور بالخصوص تیزی سے بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ملاقات کے دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور پاکستانی سفیر کے درمیان بارڈر مینجمنٹ، انسدادِ دہشت گردی اور پاکستان کے قومی سلامتی سے جڑے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے افغان امور پر پاکستانی سفارتخانے کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ علاقائی صورتحال بالخصوص امن، استحکام اور سیکیورٹی پر اثر انداز ہونے والے تمام تر معاملات پر مسلسل اور گہری نظر رکھی جائے تا کہ قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

عوام کو صحت کی اعلیٰ سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح: وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ہیلتھ سیکٹر اصلاحات میں تیزی

منصور احمد, September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ عوام الناس کو صحت عامہ کی جدید اور معیاری سہولیات فراہم کرنا حکومت کی سرِ فہرست ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے ملک میں ہیلتھ کیئر اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت جمعرات کو اسلام آباد میں مجوزہ ‘جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر’ اور ‘فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک فیز 2 ایکسٹینشن’ کی تعمیر و پیشرفت کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس کے دوران وفاقی دارالحکومت کے باشندوں کو فوری اور معیاری طبی علاج کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک بڑا فیصلہ کیا گیا۔ فیصلے کے تحت اسلام آباد کے سیکٹرجی/ 11″ میں زیرِ تعمیر فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک ایکسٹینشن کو جناح میڈیکل کمپلیکس کے پہلے فیز کے طور پر شروع اور فعال کیا جائے گا تاکہ ہسپتال کی تعمیر میں تاخیر کو ختم کر کے اسے فوری شہریوں کی خدمت کے لیے کھولا جا سکے۔

وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو حتمی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جناح میڈیکل کمپلیکس کے اس پہلے فیز کی تعمیر کو ہر صورت مارچ 2027ء تک مکمل کیا جائے۔ انہوں نے تاکید کی کہ اس ہسپتال کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید اور ‘سٹیٹ آف دی آرٹ’ بنایا جائے اور اس میں اعلیٰ ترین اور ہائی ٹیک میڈیکل مشینری کی تنصیب کو یقینی بنایا جائے۔

اس کے ساتھ ہی وزیراعظم شہباز شریف نے شفافیت قائم رکھنے کے لیے ہدایت کی کہ منصوبے کی تعمیراتی پیشرفت کے ساتھ ساتھ مسلسل تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کو یقینی بنایا جائے۔ اس اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیرِ توانائ سردار اویس احمد خان لغاری اور دیگر سینئر سرکاری حکام نے شرکت کی۔

اعلیٰ تعلیم میں مصنوعی ذہانت کا انضمام وقت کی اہم ضرورت: بین الصوبائی تعلیمی اداروں کے اجلاس سے چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر کا خطاب

کاشف عباسی , September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا ہے کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز خصوصاً مصنوعی ذہانت کا اعلیٰ تعلیم کے نظام میں مؤثر انضمام پاکستانی جامعات اور طلبہ کو مستقبل کے چیلنجز اور عالمی مواقع کے لیے تیار کرنے کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں وفاقی و صوبائی تعلیمی اداروں کے ایک اعلیٰ سطح کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں پنجاب ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر اقرار احمد خان، سندھ ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے محکمۂ اعلیٰ تعلیم کے اعلیٰ نمائندگان کے علاوہ ایچ ای سی کے کوالٹی ایشورنس اور ریسرچ اینڈ انوویشن ڈویژن کے حکام نے شرکت کی۔

چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے زور دیا کہ اعلیٰ تعلیمی شعبے کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے وفاق اور تمام صوبائی کمیشنز کے درمیان باہمی تعاون اور مربوط حکمتِ عملی کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ باقاعدہ مشاورت اور بہتر رابطہ کاری سے ہی ملک بھر میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو یکساں اور بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے جامعات پر زور دیا کہ وہ اپنے اساتذہ اور طلبہ کو مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کریں، جبکہ تحقیق، جدت اور تجارتی و کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد پاکستانی یونیورسٹیوں کو عالمی سائنسی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ رکھنا ہے تاکہ وہ ابھرتی ہوئی علمی اور ڈیجیٹل معیشت میں اپنا موثر کردار ادا کر سکیں۔

اجلاس کے تمام شرکاء نے اعلیٰ تعلیمی پالیسیوں پر وسیع تر اتفاقِ رائے قائم رکھنے، مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور باقاعدہ رابطوں کے سلسلہ کو قائم رکھنے پر مکمل اتفاق کیا۔

پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ اور معیشت کے لیے بڑا پیش رفت: قومی پرائیویٹ ایکویٹی پالیسی فریم ورک کی تیاری تیزی سے جاری

کاشف عباسی , September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

حکومتِ پاکستان نے ملکی و بین الاقوامی طویل مدتی سرمائے کو متحرک کرنے اور کاروباری شعبے کو پیداواری سرمائے کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ‘قومی پرائیویٹ ایکویٹی پالیسی فریم ورک’ پر کام تیز کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں قومی پرائیویٹ ایکویٹی پالیسی فریم ورک کی تیاری کے لیے قائم کی گئی اعلیٰ سطح کمیٹی کے دوسرے اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اس پالیسی کا بنیادی مقصد صرف نئے مالیاتی ڈھانچے بنانا نہیں بلکہ حقیقی سرمائے کو عملی اور پیداواری سرمایہ کاری میں تبدیل کرنا ہونا چاہیے۔

اجلاس کے آغاز میں کمیٹی ارکان کی جانب سے پاکستان کی طرف سے عالمی مارکیٹ میں 3 ارب ڈالر مالیت کے یورو بانڈز کے انتہائی کامیاب اجرا اور عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد پر وزیر خزانہ کو مبارکباد پیش کی گئی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی کیپٹل مارکیٹ کا یہ مثبت ردِعمل پاکستان کی معاشی سمت پر عالمی اعتماد کا بین ثبوت ہے اور اس سے ملک کے طویل مدتی فنانسنگ ذرائع کو وسیع کرنے کا بہترین ماحول میسر آیا ہے۔

اجلاس کے دوران سٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پرائیویٹ ایکویٹی اور وینچر کیپیٹل کے لیے تیار کردہ قانونی، ٹیکس اور ضابطہ کاری ورک سٹریمز کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں بینکوں، ڈی ایف آئیز انشورنس کمپنیوں اور پنشن فنڈز جیسے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی پرائیویٹ ایکویٹی میں شمولیت، سرمائے کے اخراج و آمد کو آسان بنانے اور انٹرنیشنل فنانشل رپورٹنگ سٹینڈرڈز کے مطابق اکاؤنٹنگ طریقہ کار وضع کرنے پر غور کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ ایکویٹی ڈھانچوں کے لیے “ٹیکس نیوٹرلٹی” اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ویلیو ایشن طریقہ ہائے کار اپنانے پر اتفاق کیا گیا تا کہ ٹیکس کا دوہرا بوجھ پڑے بغیر حقیقی شفاف سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ ایک مضبوط اور شفاف ایکوسسٹم کے قیام سے نہ صرف مقامی فنڈ مینجمنٹ کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ملکی پیداواریت کو بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔

اس اعلیٰ سطح اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، مشیر نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال اور نجی و سرکاری شعبے کے سینئر نمائندگان نے شرکت کی۔

مکہ معاہدہ اجتماعی دفاع اور علاقائی استحکام کا تاریخی سنگِ میل ہے: وفاقی وزیر احسن اقبال کا جامعہ لاہور کی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب

منصور احمد, September 03,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا تاریخی ‘مکہ معاہدہ’ تینوں اسلامی ممالک کے اجتماعی دفاع اور خطے میں پائیدار استحکام کی جانب ایک انتہائی اہم سنگِ میل ہے، تاہم اس معاہدے کی طویل المدتی کامیابی اور افادیت کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ اس سٹریٹجک تعاون کو معاشی طاقت، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کی ترقی میں کس حد تک تبدیل کیا جاتا ہے۔

جامعہ لاہور میں “مکہ معاہدہ اور طاقت کی نئی تشکیل” کے عنوان سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کی بین الاقوامی کانفرنس سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی سیاسی و معاشی منظرنامہ ایک بڑی تاریخی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں یک قطبی عالمی نظام زوال پذیر ہے اور ایک نیا کثیر قطبی نظام وجود میں آ رہا ہے۔

پروفیسر احسن اقبال نے 7 اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تینوں میں سے کسی بھی ایک ملک پر مسلح حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اتحاد کسی بھی ریاست کے خلاف نہیں اور نہ ہی کوئی نیا محاذ کھولنے کا مقصد رکھتا ہے، بلکہ یہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت طاقت کے ذریعے امن، یکجہتی اور دفاعی صلاحیت کو یقینی بناتا ہے۔

وفاقی وزیر نے تینوں ممالک کی صلاحیتوں کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی مالیاتی و توانائی کی قوت، ترکیہ کی صنعتی و دفاعی بنیاد اور پاکستان کی اعلیٰ عسکری صلاحیت، جغرافیائی رابطے اور عظیم الشان نوجوان آبادی مل کر اس اتحاد کو لازوال طاقت فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ترکی کی ٹیکنالوجی، سعودی سرمایہ کاری اور پاکستانی انسانی وسائل کو یکجا کر کے اسے وسیع تر معاشی اور تکنیکی شراکت داری میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔

پاکستان کی قومی پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی اگلی بڑی جدوجہد “معرکۂ ترقی” ہے، جس کے تحت ‘اڑان پاکستان’ منصوبے کے ذریعے 2035ء تک ملکی معیشت کو 1 ٹریلین ڈالر اور 2047ء تک 3 ٹریلین ڈالر تک پہنچانے کا حدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کوانٹم کمپیوٹنگ، بائیوٹیکنالوجی اور خلائی سائنسز میں مہارت حاصل کریں کیونکہ جنگی طیارے سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں لیکن جامعات قوموں کے مستقبل کا دفاع کرتی ہیں۔