پاکستان اور ایتھوپیا کے مابین اعلیٰ تعلیم اور سائنسی تحقیق کے فروغ کے لیے تاریخی ”مشترکہ ریکٹرز فورم“ قائم، کامسٹیک کی سہولت کاری سے دونوں ممالک کے سرکردہ جامعاتی ادارے ایک پیج پر آ گئے، کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کا ایتھوپیا کے ہونہار طلبہ کے لیے 25 خصوصی اسکالرشپس کا بڑا اعلان

منصور احمد june 16,2026

اسلام آباد (ایجوکیشن ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

اسلامی تعاون تنظیم ( کی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (کامسٹیک) کی مخلصانہ سہولت کاری اور کوششوں سے پاکستان اور افریقی ملک ایتھوپیا کے درمیان اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق اور جدید تکنیکی تعاون کے فروغ کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی ”مشترکہ ریکٹرز فورم“ باقاعدہ طور پر قائم کر دیا گیا ہے، وفاقِ دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی تعلیمی تفصیلات کے مطابق اس سائنسی فورم میں دونوں برادر ممالک کے پانچ پانچ ممتاز ترین تعلیمی، طبی اور تحقیقی ادارے شامل کیے گئے ہیں اور اس کا بنیادی مقصد پاک ایتھوپیا تعلیمی روابط کو مضبوط بنانا، سائنس دانوں کے مابین مشترکہ تحقیق کو فروغ دینا اور عصرِ حاضر کے جدید سائنسی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینا ہے، اس عظیم الشان فورم کے قیام کا باضابطہ اور باہم اعلان او آئی سی-کامسٹیک، پاکستان اور ایتھوپیا کے اعلیٰ حکام کے درمیان منعقدہ ایک اہم مشترکہ ورچوئل (آن لائن) اجلاس کے دوران کیا گیا۔

کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے اس اعلیٰ سطحی اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ یہ نو منتخب فورم دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ تعلیم، جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحتِ عامہ (پبلک ہیلتھ)، سائنسی ریسرچ اور افرادی قوت کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں باہمی تعاون کو ایک نئی اور مضبوط جہت فراہم کرے گا، اس موقع پر پاکستان میں تعینات ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے اپنے ملک کی علم پر مبنی جدید معیشت، سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ اور تحقیق پر مبنی تعلیمی پالیسیوں کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی و سفارتی روابط کو مزید مستحکم کرنے کی اشد ضرورت پر زور دیا، تعلیمی ماہرین کے مطابق اس فورم کے تحت ایتھوپیا کی معروف جامعات اور ریسرچ اداروں کے ساتھ پاکستان کی ممتاز ترین یونیورسٹیوں کے درمیان طلبہ و اساتذہ کے تبادلے، مشترکہ سائنسی و طبی تحقیقی منصوبوں اور ادارہ جاتی اشتراک کو تیزی سے فروغ دیا جائے گا جبکہ اس پاک افریقہ مشن کو عملی شکل دینے کے لیے ایک مشترکہ تکنیکی کمیٹی بھی قائم کی جائے گی جو آئندہ کے تمام پروگراموں اور سرگرمیوں کی نگرانی اور رہنمائی کرے گی۔

اجلاس کے دوران پاکستان کی جانب سے خیر سگالی کے ایک بڑے جذبے کے طور پر کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کی انتظامیہ نے ایتھوپیا کے ہونہار طلبہ کے لیے ۲۵ بڑی اسکالرشپس کا باقاعدہ اعلان بھی کیا جس کا ایتھوپیا کے سفیر نے کھلے دل سے خیرمقدم کیا، جبکہ دوسری طرف کامسٹیک نے ایتھوپیا کی ان ممتاز جامعات کے ریکٹرز اور نمائندوں کو بہت جلد اسلام آباد کا سرکاری دورہ کرنے کی باضابطہ دعوت دی ہے تاکہ دوطرفہ تعلیمی و تحقیقی تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے، ملکی و بین الاقوامی تعلیمی ماہرین کے مطابق پاکستان کا یہ جرات مندانہ اقدام افریقہ کے ساتھ پاکستان کے علمی، تحقیقی اور سائنسی تعلقات کو ایک نئی بلندی پر لے جانے کی جانب ایک انتہائی اہم اور کلیدی پیش رفت ثابت ہو گا۔

پی ٹی آئی اور اپوزیشن اتحاد کا 16 جون کو اڈیالہ جیل کے باہر پاور شو کا فیصلہ، علیمہ خان نے احتجاجی اجتماع کا باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا، بانی چیئرمین عمران خان کے طبی معائنے اور بنیادی حقوق کے لیے ۱۰ ہزار سے زائد کارکنان جمع کرنے کا ہدف، محمود خان اچکزئی کی مشاورت سے پروگرام حتمی قرار

کاشف عباسی ,june 14,2026

راولپنڈی (پولیٹیکل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 14 جون 2026ء

پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اڈیالہ جیل راولپنڈی کے باہر ایک بہت بڑے احتجاجی اجتماع کے شیڈول کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف اور متحدہ اپوزیشن اتحاد کے زیرِ اہتمام سولہ جون بروز منگل جیل کے باہر ایک تاریخی اور بڑا عوامی پاور شو منعقد کیا جائے گا، راولپنڈی سے حاصل ہونے والی سیاسی تفصیلات کے مطابق میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے واضح کیا کہ یہ بڑا احتجاجی اجتماع خالصتاً عمران خان کے قانونی، آئینی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے اور اس کا بنیادی مقصد جیل میں ان کی صحت، فیملی و وکلاء سے ملاقاتوں پر عائد حالیہ پابندیوں اور دیگر بنیادی انسانی سہولیات سے متعلق مطالبات کو عالمی و قومی سطح پر اجاگر کرنا ہے، انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے تحریک کے سربراہ اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے ساتھ طویل مشاورت اور سیاسی جوڑ توڑ کے بعد اس احتجاجی پروگرام کو حتمی شکل دی ہے اور پارٹی کو یہ ہدف دیا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر ہر حال میں دس ہزار سے زائد پرجوش کارکنوں اور خان کے حامیوں کو جمع کیا جائے۔

جاری کردہ شیڈول کے مطابق یہ سیاسی احتجاج منگل کے روز دوپہر تین بجے سے شروع ہو کر شام سات بجے تک مسلسل جاری رہے گا، علیمہ خان کا کہنا تھا کہ یہ عوامی اجتماع سو فیصد پرامن ہو گا اور اس کا مقصد سڑکوں پر کسی قسم کی توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ یا انتظامیہ کے ساتھ تصادم کرنا ہرگز نہیں بلکہ صرف اپنے قائد کے آئینی اور قانونی مطالبات کے حق میں پرامن آواز بلند کرنا ہے، انہوں نے ایک مرتبہ پھر بانی پی ٹی آئی کی جیل میں صحت کے حوالے سے خطرناک انکشافات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی صحت خصوصاً ان کی آنکھوں کی موجودہ حالت انتہائی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے اور ان کا فوری اور تفصیلی طبی معائنہ کروانا اشد ضروری ہو چکا ہے، ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی یہ مخلصانہ مانگ ہے کہ عمران خان کا مکمل طبی معائنہ سرکاری ڈاکٹروں کے بجائے ان کے ذاتی اور ملک کے نامور ماہر ڈاکٹروں کی خصوصی نگرانی میں فی الفور کیا جائے، علیمہ خان نے ملکی اعلیٰ عدالتوں، بین الاقوامی و قومی انسانی حقوق کی تنظیموں اور تمام متعلقہ مقتدر اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم کے بنیادی حقوق، زندگی کے تحفظ اور صحت کے ان سنگین معاملات پر فوری توجہ دی جائے، دوسری جانب وفاقی یا صوبائی حکومت اور جیل انتظامیہ کی طرف سے علیمہ خان کے ان سنگین دعوؤں اور مطالبات پر تاحال کوئی باضابطہ یا سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم راولپنڈی کے سکیورٹی اداروں کی جانب سے اس ممکنہ بڑے احتجاج کے پیشِ نظر اڈیالہ جیل کے اردگرد صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور اضافی نفری تعینات کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

قومی بیٹر خوشدل شاہ کا پاکستان کرکٹ کے انتخابی نظام پر بڑا یوٹرن، صاحبزادہ فرحان کی مثال دے کر ڈومیسٹک کرکٹ کی عدم توجہی کا پول کھول دیا، پی ایس ایل میں پرفارم کرنے کے بعد ہی قومی ٹیم کے دروازے کھلنے کا انکشاف، ڈومیسٹک کے مستقل مزاج کھلاڑیوں کو بروقت مواقع دینے کا زوردار مطالبہ



محمود احمد june 14,2026

لاہور (اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 14 جون 2026ء

پاکستان کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹر خوشدل شاہ نے قومی ٹیم کے انتخابی معیار اور ڈومیسٹک کرکٹ کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر کھل کر گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ مایہ ناز بلے باز صاحبزادہ فرحان کئی برسوں سے ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل اور غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے تھے، تاہم اس طویل عرصے کے دوران ان کی شاندار کارکردگی کو سلیکٹرز اور بورڈ کی جانب سے وہ توجہ اور اہمیت نہیں ملی جس کے وہ حقیقی طور پر مستحق تھے، میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے خوشدل شاہ نے ملکی کرکٹ کے انتخابی ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کرکٹ حلقوں میں یہ غلط تاثر دیا جا رہا تھا کہ صاحبزادہ فرحان کو ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کے پہاڑ کھڑے کرنے کی بنیاد پر فوری طور پر قومی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، لیکن تلخ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے کیونکہ وہ گزشتہ چار سے پانچ سال سے فرسٹ کلاس اور ڈومیسٹک کرکٹ کے نمایاں ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے آ رہے تھے اور ہر سیزن میں مسلسل رنز بنا رہے تھے، اس کے باوجود ان کا نام قومی اسکواڈ کے لیے کبھی بھی سنجیدگی سے زیرِ غور نہیں لایا جا رہا تھا اور انہیں مستقل نظر انداز کیا جاتا رہا۔

خوشدل شاہ کا کہنا تھا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کے ساتھ اس سوتیلی ماں جیسے سلوک کے بعد جب صاحبزادہ فرحان نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چمکدمک والے اسٹیج پر اپنی عمدہ اور جارحانہ کارکردگی دکھائی، تو اچانک تمام حکام اور سلیکٹرز کی توجہ ان کی جانب مبذول ہو گئی اور انہیں راتوں رات قومی ٹیم کا حصہ بنا دیا گیا، انہوں نے بورڈ کی پالیسیوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صرف پی ایس ایل کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے بجائے ڈومیسٹک کرکٹ میں سالہا سال مستقل مزاجی سے پرفارم کرنے والے محنتی کھلاڑیوں کو ہر حال میں بروقت بین الاقوامی مواقع ملنے چاہئیں تاکہ ان کی بے پناہ محنت، پسینے اور خداداد صلاحیتوں کا صحیح معنوں میں اعتراف ممکن ہو سکے، خوشدل شاہ کے اس دبنگ اور واضح بیان کے بعد ملک میں ایک بار پھر ڈومیسٹک کرکٹ کی افادیت اور قومی ٹیم کے انتخابی معیار پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جبکہ دوسری جانب کرکٹ شائقین اور ماہرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ اگر پاکستانی کرکٹ کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے تو محض چند ٹی ٹوئنٹی میچز کے بجائے فرسٹ کلاس اور ڈومیسٹک کے تپتے ہوئے میدانوں میں مستقل کارکردگی دکھانے والے ہیروز کو قومی سطح پر پہلی ترجیح دینا ہو گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا قومی کھلاڑیوں کی میچ فیسوں میں بھاری اضافے کا بڑا فیصلہ، سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے اب ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا لازمی شرط قرار، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے میرٹ کی بالادستی کے لیے 85 فیصد کمپیوٹرائزڈ اور ڈیٹا بیسڈ سلیکشن کا انقلابی نظام متعارف کروا دیا، سابق کپتان سرفراز احمد ملکی کرکٹ کا قیمتی اثاثہ ہیں

محمود احمد june 14,2026

لاہور (اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 14 جون 2026ء

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ملک میں کرکٹ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور کھلاڑیوں کی کارکردگی کو نکھارنے کے لیے قومی کرکٹرز کی میچ فیس میں نمایاں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے سینٹرل کنٹریکٹ کے موجودہ نظام میں دور رس اور اہم ترین تبدیلیاں نافذ کر دی ہیں، قذافی اسٹیڈیم لاہور میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کرکٹ بورڈ کے ان انقلابی فیصلوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ میچ فیس میں کیے جانے والے اس تاریخی اضافے کا باقاعدہ اطلاق ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی تینوں فارمیٹس پر یکساں ہو گا، تاہم اس کے ساتھ ہی بورڈ نے کھلاڑیوں کے لیے قانون سخت کرتے ہوئے یہ لازمی قرار دیا ہے کہ اب قومی ٹیم کے کسی بھی اسٹار کھلاڑی کے لیے مقامی ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے کی اولین اور بنیادی شرط ہو گی، انہوں نے دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کی کہ آئندہ جو بھی نامور کھلاڑی بورڈ کی جانب سے مقرر کردہ سخت معیار، فٹنس ٹیسٹ اور گراؤنڈ کارکردگی پر پورا نہیں اترے گا اسے کسی بھی صورت سینٹرل کنٹریکٹ کی فہرست میں شامل نہیں کیا جائے گا چہ جائیکہ وہ کتنا ہی بڑا کھلاڑی کیوں نہ ہو، چیئرمین پی سی بی کے مطابق اب کھلاڑیوں کے لیے پانچ مختلف اور جدید کیٹیگریز متعارف کروائی جا رہی ہیں اور ٹیسٹ، ون ڈے سمیت ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے لیے الگ الگ عسکری نوعیت کی حکمتِ عملی مرتب کی گئی ہے تاکہ ہر فارمیٹ کی تکنیکی ضروریات کے مطابق بہترین اور موزوں ترین کھلاڑیوں کا انتخاب میرٹ پر ممکن بنایا جا سکے۔

محسن نقوی نے کرکٹ شائقین کو بڑی خوشخبری سناتے ہوئے بتایا کہ قومی ٹیم میں سفارشی کلچر کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنے کے لیے سلیکشن کے پورے نظام کو زیادہ سے زیادہ جدید اور کمپیوٹرائزڈ کیا جا رہا ہے جس کے بعد اب ٹیم سلیکشن کے تقریباً ۸۵ فیصد فیصلے خالصتاً ڈیٹا، کھلاڑی کی فٹنس اور پچھلی کارکردگی کی بنیاد پر سافٹ ویئر کے ذریعے کیے جائیں گے جس سے ٹیم کے انتخاب میں سو فیصد شفافیت اور حقیقی میرٹ کو فروغ ملے گا، ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے واضح کیا کہ قیادت کے حوالے سے کوئی بھی حتمی فیصلہ کرنا میرا کام نہیں بلکہ یہ اختیار مکمل طور پر سلیکشن کمیٹی اور متعلقہ کرکٹ حکام کے پاس ہے، جبکہ آل راؤنڈر شاداب خان کی سفید گیند کی کرکٹ میں ممکنہ کپتانی سے متعلق خبروں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ فی الحال ایسی کسی بھی پیش رفت سے بالکل آگاہ نہیں ہیں، انہوں نے قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز وکٹ کیپر بیٹر سرفراز احمد کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں پاکستانی کرکٹ کا ایک انتہائی قیمتی اور ناقابلِ فراموش اثاثہ قرار دیا اور کہا کہ سرفراز احمد کی ملکی کرکٹ کے لیے خدمات اور ان کے وسیع تجربے کو کرکٹ بورڈ ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھے گا، کرکٹ مبصرین اور سابق مائیہ ناز کھلاڑیوں نے پی سی بی کے ان نئے اور کڑے فیصلوں کو قومی کرکٹ میں میرٹ کی بالادستی، کارکردگی میں تسلسل اور زوال پذیر ڈومیسٹک نظام کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی جانب ایک انتہائی کلیدی اور جرات مندانہ قدم قرار دیا ہے۔

چکوال میں افسوسناک واقعہ: حج سے لوٹنے والے آسٹریلوی نژاد پاکستانی خاندان پر فائرنگ، 9 سالہ بچی جاں بحق، سی سی ڈی اہلکار گرفتار

منصور احمد june 14,2026

چکوال(نیوز اینڈ نیوز) —14جون 2026ء

ضلع چکوال کی حدود میں پیش آنے والے ایک انتہائی دلدوز اور المناک واقعے نے نہ صرف ملک بھر بلکہ آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی برادری کو بھی شدید غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا ہے جہاں آسٹریلیا میں مستقل رہائش پذیر پاکستانی شہری عدیل احمد اپنی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ، بیٹے عفان اور 9 سالہ معصوم بیٹی ہانیہ احمد کے ہمراہ فریضۂ حج کی مقدس سعادت حاصل کرنے کے فوراً بعد محض دو روز قبل ہی پاکستان پہنچے تھے لیکن چکوال کے علاقے میں ان کی گاڑی کو مبینہ طور پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکاروں کی جانب سے فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں گاڑی میں موجود 9 سالہ معصوم ہانیہ احمد شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئیں جبکہ ان کے والد عدیل احمد اور بھائی عفان گولیوں کی زد میں آکر شدید زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، اس ہولناک واقعے کی اطلاع ملتے ہی آسٹریلیا میں آباد پاکستانی کمیونٹی میں شدید غم و غصہ اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور ذرائع کے مطابق آسٹریلوی حکام نے بھی واقعے کی سنگینی کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطح پر پاکستانی حکام سے رابطہ قائم کر کے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ مقامی پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور واقعے میں ملوث ایک سی سی ڈی اہلکار کو گرفتار کر کے حراست میں لے لیا ہے جس سے تفتیش جاری ہے، دوسری جانب ڈی پی او چکوال نے اس پورے واقعے کو انتہائی افسوسناک اور ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے میڈیا کو یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ملوث پائے جانے والے تمام ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا رعایت ہرگز نہیں برتی جائے گی جبکہ شہریوں، سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے بھی اس اندوہناک واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ معصوم بچی کے خون سے انصاف کیا جائے اور مستقبل میں ایسے سنگین و المناک سانحات کے مستقل سدباب کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طریقہ کار پر نظرثانی کی جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن پر بڑا پیغام، ہر بچے کو استحصال سے پاک اور تعلیم سے آراستہ کرنے کے قومی عزم کا اعادہ، دنیا بھر میں ۱۳ کروڑ ۸۰ لاکھ بچوں کی مزدوری پر تشویش کا اظہار، بینظیر انکم سپورٹ، بیت المال اور دانش اسکولز کے ذریعے مستحق بچوں کی کفالت کا اعلان

منصور احمد june 12,2026

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 12 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوامِ عالم کے ساتھ مل کر ہر بچے کو استحصال سے پاک اور تعلیم سے آراستہ تابناک مستقبل کی فراہمی کے لیے ہرممکن اقدامات کرنے کے پکے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان بچوں سے مشقت و مزدوری کے مکمل خاتمے کے لیے ایک انتہائی جامع اور مؤثر حکمتِ عملی پر پوری تندہی سے عمل پیرا ہے کیونکہ بچے ہمارے ملک کے مستقبل کے حقیقی معمار ہیں اور ان کے تابندہ مستقبل کے تحفظ اور صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے سرکاری سطح پر تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، اسلام آباد سے وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن (World Day Against Child Labour) کے موقع پر جاری کیے گئے خصوصی اور مخلصانہ پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ آج کے دن پاکستان دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر اس عہد کو دہراتا ہے کہ معصوم بچوں کے حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا، انہوں نے بتایا کہ اس سال عالمی سطح پر یہ اہم دن ”بچوں سے مشقت ناقابلِ قبول: بچوں کے لیے منصفانہ مواقع، نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار“ کے خوبصورت عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے، وزیراعظم نے بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا کہ آج کے اس جدید دور میں بھی دنیا بھر کے اندر تقریباً ۱۳ کروڑ ۸۰ لاکھ معصوم بچے مزدوری اور مشقت کرنے پر مجبور ہیں جن میں سے ۵ کروڑ ۴۰ لاکھ سے زائد بچے انتہائی خطرناک نوعیت کے کاموں میں مصروف ہیں جو کہ عالمی برادری کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے، ان کا کہنا تھا کہ بچوں سے مشقت و مزدوری کا مکمل سدِ باب ہماری قومی معاشی و سماجی ترقی اور معاشرتی انصاف کے لیے ناگزیر ہے کیونکہ قوموں کی حقیقی ترقی ان کی مستقبل کی افرادی قوت اور بچوں کی ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کے بہترین استعمال پر ہی منحصر ہوتی ہے۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی اس مقصد سے سچی وابستگی کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ہم نے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے متعلقہ کنونشنز کی باقاعدہ توثیق کر رکھی ہے جو ملازمت کی کم سے کم عمر اور بچوں سے مشقت کی بدترین اقسام کے خاتمے کے لیے بنائے گئے ہیں، اس وقت ملک کے اندر بچوں سے متعلق قانونی اصلاحات، قوانین کے مؤثر نفاذ، سماجی تحفظ، معیاری تعلیم اور غریب خاندانوں کی معاشی آسودگی جیسے پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ بچوں سے مشقت کی بنیادی جڑوں اور وجوہات کا ہمیشہ کے لیے تدارک کیا جا سکے، انہوں نے قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال (NCRC) کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ بچوں کے حقوق کی نگرانی اور اس حوالے سے قومی و بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عملدرآمد کے فروغ میں مصروفِ عمل ہے جبکہ وفاقی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن انسٹیٹیوٹ اور صوبائی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹیز، ویلفیئر بیوروز اور چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کے ذریعے کمزور، یتیم اور محروم بچوں کو مکمل تحفظ، مالی معاونت اور معاشرے میں باعزت بحالی کے شاندار مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، وزیراعظم نے تمام صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں نے بچوں سے مشقت کے تدارک کے لیے نمایاں قانونی اور انتظامی اقدامات کیے ہیں اور تمام صوبوں میں جبری مشقت کے قوانین کے تحت ضلعی نگرانی کمیٹیاں اور خصوصی یونٹس قائم کیے جا چکے ہیں جو لائقِ ستائش ہیں۔

وزیراعظم نے اپنے پیغام میں اس حقیقت کا مخلصانہ اعتراف کیا کہ ملک میں جاری غربت ہی بچوں سے مشقت کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ ہے، اسی لیے حکومت باعزت روزگار کے مواقع کی فراہمی سمیت معاونت کے سماجی تحفظ کے پروگرامز اور تعلیمی وظائف کی اسکیموں کو وسائل کی شدید کمی کے باوجود انتہائی مؤثر انداز میں چلا رہی ہے جن میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ”وسیلہ تعلیم“ اقدام اور پاکستان بیت المال کے قائم کردہ ”چائلڈ لیبر اسکولز“ غریب بچوں کے لیے قابلِ ذکر خدمات سر انجام دے رہے ہیں، اس کے ساتھ ہی انہوں نے ”دانش اسکولز“ کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان ورلڈ کلاس اسکولوں کے ذریعے ملک کے طول و عرض میں ہزاروں مستحق اور یتیم بچے اعلیٰ تعلیم کے زیور سے بالکل مفت آراستہ ہو کر اپنے روشن مستقبل کی جانب تیزی سے پیش قدمی کر رہے ہیں، انہوں نے آئی ایل او، یونیسیف، یورپی یونین اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا جن کے مسلسل تعاون سے ملک میں لیبر گورننس کی جانب پیش رفت تیز ہو رہی ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے خطاب کے آخر میں ملک کے تمام آجروں، محنت کشوں، والدین، اساتذہ، سول سوسائٹی کی تنظیموں، مذہبی رہنماؤں، نجی شعبے اور بالخصوص ذرائع ابلاغ (میڈیا) سے پرزور اپیل کی کہ وہ معصوم بچوں کو ہر قسم کے استحصال سے محفوظ رکھنے کے اس عظیم اور مقدس قومی مقصد میں حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں کیونکہ یہ ہم سب کی مشترکہ سماجی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، انہوں نے کہا کہ آئیے ہم سب مل کر ایک ایسے پڑھتے لکھتے پاکستان کی تعمیر کریں جہاں ہر بچہ تعلیم یافتہ، محفوظ اور بااختیار ہو اور اسے قومی ترقی اور خوشحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے مساوی اور بہترین مواقع میسر آ سکیں۔

پاکستان کی مسقط پلان آف ایکشن کی بھرپور حمایت، نفرت انگیز تقاریر، نسل کشی پر اکسانے اور سنگین جرائم کے خاتمے کے لیے مؤثر اور اختراعی عالمی فریم ورک قرار، اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا افتتاحی تقریب سے دبنگ خطاب، سلطنتِ عمان اور عالمی برادری کو کامیاب تکمیل پر مبارکباد

محمود احمد june 12,2026

اقوام متحدہ، نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) —12جون 2026ء

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے مسقط پلان آف ایکشن کی بھرپور اور غیر مشروط حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اسے دنیا بھر میں نفرت انگیز تقاریر، نسل کشی پر اکسانے اور دیگر سنگین ترین انسانی جرائم کی روک تھام کے لیے ایک انتہائی مؤثر اور اختراعی عالمی فریم ورک قرار دیا ہے، اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں مسقط پلان آف ایکشن کی پروقار اور اعلیٰ سطح کی افتتاحی تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ یہ عظیم الشان منصوبہ دنیا بھر کی روایتی اور مقامی برادریوں کے رہنماؤں کی سماجی ساکھ، اخلاقی حیثیت اور عوامی اعتماد کو بہترین طریقے سے بروئے کار لا کر امن، باہمی مکالمے اور مصالحتی عمل کو فروغ دیتا ہے، پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ قبائلی عمائدین، روایتی سردار اور مقامی برادریوں کے رہنما تاریخی طور پر تنازعات کے حل، منصفانہ مصالحت اور مقامی نظم و نسق کو برقرار رکھنے میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں اور آج کے اس جدید دور میں بھی یہ مقتدر شخصیات امن سازی، تنازعات کے پرامن خاتمے اور انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہی ہیں، انہوں نے دنیا بھر میں عدم برداشت، امتیازی رویوں اور نفرت انگیز تقاریر میں ہونے والے ہولناک اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس عالمی چیلنج کے تدارک کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی اور مخلصانہ عالمی تعاون کی اشد ضرورت ہے کیونکہ نفرت انگیز تقاریر اور نسل کشی جیسے بھیانک جرائم کے محرکات انتہائی پیچیدہ نوعیت کے ہیں، لہٰذا ان کے مؤثر سدباب کے لیے اب قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مربوط اور یکجا اقدامات کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

واضح رہے کہ مسقط پلان آف ایکشن اقوامِ متحدہ کی سرپرستی اور سلطنتِ عمان کی خصوصی کاوشوں سے تیار کیا گیا ایک ایسا بین الاقوامی فریم ورک ہے جس کا بنیادی مقصد روایتی اور مقامی آبادیوں کے بااثر رہنماؤں کے کردار کو عالمی سطح پر مضبوط بنا کر نفرت انگیز تقاریر اور نسل کشی کی روک تھام کو عملی طور پر ممکن بنانا ہے، اس تاریخی منصوبے کی افتتاحی تقریب میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سمیت متعدد عالمی رہنماؤں، سربراہان اور نامور سفارتکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، تقریب کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب نے ملک کی خارجہ پالیسی کو پیش کرتے ہوئے عزم دہرایا کہ پاکستان اپنے تمام بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر نفرت انگیز نظریات کے خاتمے، مستقل امن کے فروغ اور مساوات پر مبنی پُر امن معاشروں کے قیام کے لیے اپنا تعمیری کام ہمیشہ جاری رکھے گا، سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب کے آخر میں سلطنتِ عمان کی اعلیٰ قیادت، اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسدادِ نسل کشی اور پیس میکرز نیٹ ورک کی انتظامیہ کو مسقط پلان آف ایکشن کی شاندار تیاری اور اس کی کامیاب تکمیل پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد بھی پیش کی۔

پاکستان اور چائلڈ مائنڈ انسٹی ٹیوٹ کے درمیان بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کے شعبے میں اسٹریٹجک شراکت داری پر اتفاق، نیویارک میں اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران ذہنی صحت کے قومی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ تعاون پر اہم پیش رفت، وفاقی وزیرِ مملکت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ کی عالمی ماہرین کو اکتوبر میں اسلام آباد آمد کی باضابطہ دعوت

منصور احمد june 12,2026

نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) —12جون 2026ء

پاکستان اور چائلڈ مائنڈ انسٹی ٹیوٹ کے تحت قائم ایس این ایف گلوبل سینٹر فار چائلڈ اینڈ ایڈولیسنٹ مینٹل ہیلتھ نے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کے شعبے میں اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے پر باقاعدہ اتفاق کر لیا ہے جس کے تحت ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ نوجوان نسل کے نفسیاتی و ذہنی مسائل کے حل کے لیے عالمی معیار کے ماڈلز متعارف کروائے جائیں گے، نیویارک سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق یہ اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے امریکہ کے سرکاری دورے کے دوران نیویارک میں واقع ایس این ایف گلوبل سینٹر کا تفصیلی دورہ کیا جہاں ان کے ہمراہ وزارتِ قومی صحت کے سینئر مشیر ڈاکٹر ملک محمد صافی اور ڈاکٹر سید عثمان ہمدانی بھی موجود تھے، دورے کے دوران پاکستانی وفد نے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کے لیے عالمی سطح پر اپنائے جانے والے کامیاب ترین ماڈلز کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور اس بات پر تفصیلی غور کیا کہ ان بین الاقوامی تجربات کو پاکستان میں کس طرح مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکتا ہے جبکہ وفد کو ایس این ایف گلوبل سینٹر کے اعلیٰ ماہرین نے ادارے کے تحقیقی، تربیتی اور ڈیجیٹل پروگراموں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی جن کا بنیادی مقصد کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں ذہنی صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔

پاکستانی وفد اور عالمی ماہرین کے مابین ہونے والی اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں چند اہم ترین شعبوں میں مشترکہ تعاون کو فوری طور پر آگے بڑھانے پر بات چیت ہوئی جن کے تحت اب دونوں فریقین مل کر بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت سے متعلق مشترکہ تحقیق کریں گے، ملک میں ذہنی صحت کے قومی ڈیٹا سسٹمز کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور جدید ترین ڈیجیٹل ذہنی صحت پروگرامز تیار کیے جائیں گے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے اسکولوں اور بنیادی صحت کے مراکز میں ذہنی صحت کی خدمات کا انضمام کیا جائے گا تاکہ نچلی سطح پر بچوں کی کونسلنگ کی جا سکے اور پاکستانی ماہرین سمیت نوجوان محققین کے لیے عالمی فیلوشپ پروگرامز، خصوصی تربیت، رہنمائی اور افرادی قوت کی استعداد میں اضافے کے منصوبے شروع کیے جائیں گے، ملاقات کے دوران پاکستانی وفد نے عالمی ادارے کو بتایا کہ یہ جدید ماڈل پاکستان کی مجوزہ قومی ذہنی صحت پالیسی، نیشنل ہب آف ایکسیلنس فار مینٹل ہیلتھ اور ملک بھر میں بچوں اور نوجوانوں کے لیے ذہنی صحت کی خدمات کے فروغ کے سرکاری منصوبوں سے مکمل مطابقت رکھتا ہے جس پر دونوں فریقوں نے اتفاق کیا کہ اس ابتدائی رابطے کو فوری عملی شکل دینے کے لیے ایک باضابطہ ادارہ جاتی معاہدے کی جانب پیش رفت کی جائے گی جس کے تحت تحقیق، تربیت، پالیسی سازی اور اختراعات میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا، وفاقی وزیرِ مملکت برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے چائلڈ مائنڈ انسٹی ٹیوٹ، ایس این ایف گلوبل سینٹر اور انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار چائلڈ اینڈ ایڈولیسنٹ سائکیاٹری اینڈ الائیڈ پروفیشنز کے نمائندوں کو رواں سال یکم اور دو اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہونے والی عالمی یومِ ذہنی صحت کی بڑی تقریب میں شرکت کی باضابطہ دعوت بھی دی تاکہ اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کا تھیلیسیمیا کے خلاف تاریخی اور انقلابی اقدام، شادی سے پہلے خون کا ٹیسٹ لازمی قرار دینے پر شدید زور، قومی اسمبلی سے لازمی اسکریننگ بل بھاری اکثریت سے پاس، نوزائیدہ بچوں کو موذی مرض سے بچانے کے لیے ملک کی پہلی موبائل وین کا باقاعدہ افتتاح

منصور احمد june 11,2026

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 11 جون 2026ء

پاکستان میں معصوم بچوں کو تھیلیسیمیا جیسے جان لیوا اور موذی مرض سے مستقل نجات دلانے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک بہت بڑا اور تاریخی فیصلہ کر لیا ہے جس کے تحت وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ملک میں تھیلیسیمیا کے مسلسل بڑھتے ہوئے کیسز پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شادی سے قبل اسکریننگ ٹیسٹ کو قانونی طور پر لازمی قرار دینے پر سب سے زیادہ زور دیا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان کی تاریخ کی پہلی ”تھیلیسیمیا موبائل وین“ کی پروقار افتتاحی تقریب سے مخلصانہ خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پاکستان میں اس وقت تھیلیسیمیا کے کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد انتہائی خطرناک اور تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے اور حکومت سمیت پورے معاشرے کی مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے ہر سال معصوم بچے اس دردناک بیماری کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں، انہوں نے اصرار کیا کہ شادی سے پہلے کا یہ لازمی ٹیسٹ کم از کم مردوں کے لیے فوری طور پر قانونی شکل میں نافذ ہونا چاہیے کیونکہ جب دو کیریئرز یعنی اس بیماری کے جراثیم رکھنے والے مرد اور عورت کی آپس میں شادی ہوتی ہے تو ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچے میں تھیلیسیمیا میجر کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے، اسی طرح قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اہم اجلاس میں خصوصی شرکت کے دوران وفاقی وزیر نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کمپلسری تھیلیسیمیا اسکریننگ بل کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وزارت اس بل کو ملک بھر میں نافذ کرنے کے لیے تیار ہے اور قانون میں یہ شق لازمی شامل ہونی چاہیے کہ شادی کے بندھن میں بندھنے والے ہر دلہے کا تھیلیسیمیا ٹیسٹ ہو اور اگر دلہا پازیٹو آ جائے تو دلہن کا بھی فوری ٹیسٹ کروایا جائے کیونکہ ہم صرف اور صرف اس سخت قانون سازی کے ذریعے ہی اپنی آنے والی نسلوں اور معصوم بچوں کو تھیلیسیمیا کی معذوری سے بچا سکتے ہیں، اس کے ساتھ ہی انہوں نے مریضوں کی سہولت کے لیے ایک اور بڑا اعلان کیا کہ اب بون میرو ٹرانسپلانٹ جیسے مہنگے اور پیچیدہ علاج سے پہلے لی جانے والی تمام سرکاری منظوریاں اور شرطیں فوری ختم کر دی گئی ہیں تاکہ بچوں کا بروقت علاج ممکن ہو سکے۔

طبی ماہرین اور وزارتِ صحت کے ذرائع کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت کی انتھک کوششوں کے بعد اب نیشنل اسمبلی نے اس تاریخی بل کو باقاعدہ پاس کر دیا ہے جس کے بعد اب اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کمپلسری تھیلیسیمیا اسکریننگ ایکٹ کے تحت چند انتہائی اہم اور سخت ترین قوانین لاگو کر دیے گئے ہیں جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں: ۱۔ اب وفاقی دارالحکومت میں شادی سے پہلے دلہا اور دلہن دونوں کے لیے تھیلیسیمیا کی بلڈ اسکریننگ کروانا قانونی طور پر لازمی ہو گا۔ ۲۔ تھیلیسیمیا کے موجودہ مریضوں کے تمام خون کے قریبی رشتہ داروں کو باقاعدہ طبی کونسلنگ کے ذریعے مشورہ دیا جائے گا کہ وہ بھی شادی سے قبل اپنا بلڈ ٹیسٹ لازمی کروائیں۔ ۳۔ ایسی تمام حاملہ خواتین جو اس مرض کی کیریئر ہیں اور ان کے شوہر بھی کیریئر پائے گئے ہیں تو اس جوڑے کی باقاعدہ اجازت کے ساتھ حمل کے دوران ہی اینٹینٹل ٹیسٹ کیا جائے گا تاکہ بچے کی صحت کا قبل از وقت پتہ چل سکے۔ ۴۔ ملک بھر میں ہونے والے ان تمام ٹیسٹوں کے نتائج کو ایک مرکزی ڈیٹا بینک میں رجسٹر کیا جائے گا تاکہ ملک میں تمام کیریئرز کا ایک باقاعدہ اور محفوظ ریکارڈ موجود رہے۔ ۵۔ تمام غیر سرکاری اداروں اور تھیلیسیمیا سینٹرز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے مجموعی بجٹ کا کم از کم دس فیصد حصہ لازمی طور پر پیدائش سے پہلے کی تشخیص یعنی پری نیٹل ڈائیگنوسس کی جدید سہولیات پر خرچ کریں گے۔

طبی مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق تھیلیسیمیا بنیادی طور پر خون کی ایک موروثی اور خطرناک بیماری ہے جس کی تین بڑی اقسام مائنر، میجر اور انٹرمیڈیا ہیں، جن میں سے میجر کی قسم میں مبتلا معصوم بچوں کو زندہ رہنے کے لیے زندگی بھر مہینے میں ایک سے دو بار باہر سے نیا خون لگوانا پڑتا ہے جس پر ہزاروں روپے کی مہنگی ادویات کا ماہانہ خرچہ آتا ہے جبکہ اس بیماری کی تشخیص محض ایک انتہائی سادہ اور سستے خون کے ٹیسٹ سی بی سی اور ایچ بی اے ٹو لیول کے ذریعے باآسانی ہو جاتی ہے، اس بیماری کا مستقل علاج صرف خون کی منتقلی اور بون میرو ٹرانسپلانٹ ہے لیکن بدقسمتی سے اس کے لیے ڈونر ملنا انتہائی مشکل عمل ہے کیونکہ پچاس ہزار افراد میں سے محض ایک شخص کا بون میرو میچ کرتا ہے، اسی حساس صورتحال کے پیشِ نظر وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ملک بھر کے والدین کے نام اپنے ایک اہم ترین پیغام میں اپیل کی ہے کہ یہ تمام والدین کی اولین اور بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی شادیوں سے قبل یہ ٹیسٹ کروا کر اپنے بچوں کو تھیلیسیمیا جیسی عمر بھر کی اذیت سے بچائیں کیونکہ یہ اب صرف صحت کا ایک عام مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ہمارے پورے خاندان، آنے والی نسلوں اور پورے معاشرے کی بقا اور حفاظت کا انتہائی سنگین معاملہ ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی ڈائمنڈ جوبلی انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ کی چیمپئن بننے پر پاکستان فٹبال ٹیم، کوچز اور انتظامیہ کو دلی مبارکباد، افغانستان کو فائنل میں دھول چٹانے پر قومی کھلاڑیوں کو زبردست خراجِ تحسین، تاریخی فتح کو ملک میں کھیلوں کے فروغ کے لیے اہم سنگِ میل قرار دے دیا

کاشف عباسی ,june 11,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) —11 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سال دو ہزار چھبیس کے ڈائمنڈ جوبلی انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ کے سنسنی خیز فائنل معرکے میں روایتی حریف افغانستان کو عبرتناک شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کرنے پر پاکستان فٹبال ٹیم، تمام غیر ملکی و ملکی کوچز اور فٹبال انتظامیہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے، وفاق دارالحکومت اسلام آباد میں وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری ہونے والے باضابطہ اور خصوصی بیان کے مطابق قومی فٹبال ٹیم کے نام بھیجے گئے اپنے تہنیتی پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ چوہتر سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ حاصل ہونے والی یہ تاریخی اور لاجواب کامیابی اس وقت پوری پاکستانی قوم کے لیے ایک بہت بڑا باعثِ فخر اور عید کا تحفہ ہے کیونکہ پاکستان کی فٹبال ٹیم نے فائنل میچ کے دوران انتہائی شاندار کھیل، مضبوط عزم اور بہترین ٹیم ورک کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف روایتی حریف کو شکست دی بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام بھی فخر سے بلند کر دیا ہے، وزیراعظم نے اس فتح کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید کہا کہ یہ پاکستان کی پوری فٹبال تاریخ کا پہلا باضابطہ اور خودمختار بین الاقوامی فٹبال ٹورنامنٹ کا ٹائٹل ہے جو کہ مستقبل میں قومی کھیلوں کے فروغ، میدانوں کی آبادی اور ہمارے باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کے حوصلے بڑھانے کے لیے ایک انتہائی اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قومی ہیروز کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے اس قوی امید کا اعتراف کیا کہ ہماری یہ جوان بخت فٹبال ٹیم آئندہ بھی اسی سچے جذبوں، لگن اور سخت محنت کے ساتھ عالمی میدانوں میں کامیابیاں سمیٹتے ہوئے دنیا بھر میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم ہمیشہ بلند رکھے گی اور حکومتِ پاکستان ان باصلاحیت کھلاڑیوں کی ہر سطح پر سرپرستی جاری رکھے گی۔

عمان کے ساحل پر آئل ٹینکر پر امریکی فوج کی ہلاکت خیز کارروائی، دو بھارتی ملاح جاں بحق اور ایک لاپتہ، نئی دہلی کا شدید ترین احتجاج، بھارت نے امریکی سفارت خانے کے قائم مقام سربراہ کو طلب کر لیا، خلیج عمان میں تجارتی جہازوں پر حملوں سے عالمی سطح پر شدید کشیدگی

محمود احمد june 11,2026

نئی دہلی / مسقط(نیوز اینڈ نیوز) —11 جون 2026ء

عمان کے ساحل کے قریب خام تیل لے جانے والے ایک بڑے آئل ٹینکر پر امریکی فوج کی جانب سے کی جانے والی ہلاکت خیز کارروائی کے نتیجے میں دو بھارتی ملاحوں کی افسوسناک ہلاکت اور ایک ملاح کے سمندر میں لاپتہ ہونے پر بھارت میں شدید غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور بھارت نے اس واقعے پر انتہائی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے نئی دہلی میں تعینات امریکی سفارت خانے کے قائم مقام سربراہ کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے شدید ترین سفارتی احتجاج ریکارڈ کرایا ہے، نئی دہلی اور مسقط کے سفارتی و عسکری ذرائع سے حاصل ہونے والی سنسنی خیز تفصیلات کے مطابق عمان کے سمندری ساحل کے قریب سیٹبیلو نامی آئل ٹینکر پر ہونے والے اس ہولناک حملے کے بعد جہاز کے عملے میں شامل متعدد افراد بری طرح متاثر ہوئے ہیں تاہم امدادی کارروائی کے دوران اکیس ملاحوں کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے اور اس واقعے کے فوراً بعد بھارتی حکومت نے اپنے معصوم شہریوں کی ہلاکت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی حکومت سے اس پورے واقعے کی اعلیٰ سطح پر مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے، دوسری جانب اس خونریز کارروائی پر اپنا باضابطہ عسکری موقف پیش کرتے ہوئے یونائیٹڈ اسٹیٹس سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ آئل ٹینکر برادر ملک ایران سے خام تیل لے جا رہا تھا اور مبینہ طور پر خطے میں عائد بین الاقوامی پابندیوں اور امریکی ناکہ بندی کی کھلی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا تھا اس لیے امریکی فوج کے سرکاری بیان کے مطابق اس مشکوک بحری جہاز کو رکنے کے لیے متعدد بار وائرلیس پر سخت وارننگ دی گئی تاہم جہاز کے عملے کی جانب سے امریکی ہدایات پر عمل نہ کرنے اور جہاز کی رفتار تیز کرنے کے بعد مجبورا ایک امریکی جنگی طیارے نے کارروائی کرتے ہوئے جہاز کے مرکزی انجن کو نشانہ بنایا جس کے بعد وہاں ہلاکتیں ہوئیں، اس کارروائی کے ردعمل میں بھارت کی وزارتِ خارجہ نے سخت ترین تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی سفیر کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور بھارتی حکام نے سمندر میں لاپتہ ہونے والے ملاح کی فوری تلاش اور متاثرہ خاندانوں کو تمام ضروری معلومات فراہم کرنے کا بھی دبنگ مطالبہ کیا ہے، واضح رہے کہ یہ خطرناک واقعہ ایک ایسے نازک وقت میں پیش آیا ہے جب چند روز قبل ہی عمان کے ساحل کے قریب ایک اور آئل ٹینکر میریویکس کو بھی اسی طرح نشانہ بنایا گیا تھا تاہم خوش قسمتی سے اس جہاز پر موجود چوبیس بھارتی ملاحوں کو بعد میں محفوظ طریقے سے نکال لیا گیا تھا، بحری امور کے ماہرین کے مطابق خلیج عمان اور بحیرہ عرب کے ان انتہائی اہم ترین عالمی تجارتی راستوں پر حالیہ دنوں میں بڑھنے والی عسکری کشیدگی اب عالمی تجارت اور دنیا بھر میں توانائی کی ترسیل کے لیے نئے اور ہولناک خطرات پیدا کر رہی ہے جبکہ سمندری راستوں پر بڑھتے ہوئے ان فوجی اقدامات نے بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں اور بڑے تجارتی اداروں کو بھی شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی فضائی کمپنی اتحاد ایئر ویز کا کابل کے لیے پروازیں دگنی کرنے کا بڑا اعلان، پندرہ جولائی سے ابوظبی اور افغانستان کے درمیان روزانہ اضافی پروازیں چلیں گی، زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے یورپ جانے والے مسافروں کو شاندار سفری سہولیات کی فراہمی

منصور احمد june 11,2026

متحدہ عرب امارات کی نامور اور سرکاری فضائی کمپنی اتحاد ایئر ویز نے پندرہ جولائی دو ہزار چھبیس سے اپنے مرکزی ہیڈ کوارٹر ابوظبی اور افغان دارالحکومت کابل کے درمیان مسافر پروازوں کی تعداد میں بڑا اضافہ کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان فضائی آپریشن کو مزید وسیع کیا جائے گا، اماراتی نیوز ایجنسی کے مطابق اتحاد ایئرلائن نے مسافروں کے بے پناہ رش کے پیشِ نظر پروازوں کی موجودہ تعداد کو اب باقاعدہ طور پر دگنی کر دیا ہے اور اس نئے شیڈول کے تحت اب یومیہ ایک اضافی پرواز مستقل طور پر چلائی جائے گی، فضائی کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ پروازوں کے دائرہ کار میں یہ نئی توسیع افغانستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان براہِ راست سفر کرنے والے تجارتی مسافروں اور بالخصوص ابوظبی کے جدید ترین زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے راستے یورپ، امریکہ اور دنیا کے دیگر بڑے ممالک کا سفر کرنے والے بین الاقوامی مسافروں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھ کر کی گئی ہے کیونکہ کابل سے چلنے والی یہ پروازیں زاید ایئرپورٹ کو ایک بڑے فضائی مرکز کے طور پر استعمال کریں گی، ایئرلائن کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اس اہم روٹ پر مسافروں کے آرام و آسائش کو برقرار رکھنے کے لیے جدید ترین ایئربس اے تین سو بیس طیارے استعمال کیے جا رہے ہیں جن کے اندر آٹھ بزنس کلاس اور ایک سو پچاس اکانومی کلاس کی نشستیں موجود ہیں، اس اقدام سے دونوں خطوں کے مابین فضائی روابط اور تجارتی سرگرمیوں میں مزید تیزی آئے گی۔

پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن نے کرکٹ تاریخ کے تمام مالیاتی ریکارڈ پاش پاش کر دیے، پاکستان کرکٹ بورڈ کو ساڑھے سات ارب روپے سے زائد کا تاریخی منافع، ٹیموں کی تعداد آٹھ کرنے کا فیصلہ ترین فیصلہ ثابت ہوا، پی سی بی نے سینیٹ کمیٹی میں باقاعدہ تفصیلات پیش کر دیں

کاشف عباسی ,june 11,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) —11 جون 2026ء

پاکستان سپر لیگ کے سال دو ہزار چھبیس میں ہونے والے شاندار ایڈیشن نے ملک میں کرکٹ کی تاریخ کے تمام سابقہ مالیاتی ریکارڈ پاش پاش کر دیے ہیں جہاں پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس مرتبہ سات ارب چوّن کروڑ روپے سے زائد کی ریکارڈ توڑ آمدنی اور منافع حاصل ہوا ہے جبکہ لیگ میں ٹیموں کی تعداد بڑھا کر آٹھ کرنے کے انقلابی اقدام کی بدولت بورڈ کا مجموعی منافع دو ارب روپے سے اچانک چھلانگ لگا کر ساڑھے سات ارب روپے کی خطیر رقم تک جا پہنچا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان سپر لیگ کے سال دو ہزار چھبیس کے تمام اخراجات، مجموعی آمدن اور خالص منافع کی باضابطہ اور تفصیلی رپورٹ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اہم اجلاس میں پیش کر دی ہے، سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی پی سی بی کی اس سرکاری رپورٹ کی تفصیلات کے مطابق اس سال پاکستان سپر لیگ کے کامیاب انعقاد پر مجموعی طور پر دو ارب چونسٹھ کروڑ چوّن لاکھ روپے سے زائد کے اخراجات آئے جبکہ اس کے مقابلے میں لیگ کے مختلف تجارتی و نشریاتی ذرائع سے ہونے والی مجموعی آمدن دس ارب انیس کروڑ باون لاکھ روپے سے زائد ریکارڈ کی گئی ہے، اس طرح تمام اخراجات نکالنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کو ٹیکس کی ادائیگی سے قبل خالصتاً سات ارب چوّن کروڑ اٹھانوے لاکھ روپے سے زائد کا تاریخی منافع حاصل ہوا ہے جو کہ ایک نیا عالمی ریکارڈ ہے، کرکٹ بورڈ کے مالیاتی تقابل کے مطابق گزشتہ سال دو ہزار پچیس کے ایڈیشن کے دوران بورڈ کو محض دو ارب روپے کا منافع ہوا تھا جبکہ سال دو ہزار چوبیس کے ایڈیشن کے دوران پی سی بی کو دو ارب چھیالیس کروڑ روپے کا منافع حاصل ہوا تھا تاہم اس سال ٹیموں کی تعداد آٹھ تک بڑھانے اور سنسنی خیز مقابلوں کی بدولت منافع میں یہ بے پناہ اور تاریخی اضافہ ممکن ہوا ہے جس پر سینیٹ کمیٹی کے ارکان نے بھی بورڈ کی انتظامیہ کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان نے بین تہذیبی مکالمے کو عصرِ حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کی کلید قرار دے دیا، باہمی تعاون اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی مؤثر ترین ذرائع ہیں، مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا چین کے زیرِ اہتمام اعلیٰ سطحی تقریب سے خطاب

محمود احمد june 11,2026

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اختلافات سے بالاتر ہو کر باہمی افہام و تفہیم، تعاون اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کو مؤثر ترین ذرائع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ کے اس نازک مرحلے پر جب عالمی امن اور ہم آہنگی کو متعدد چیلنجز درپیش ہیں بین تہذیبی مکالمے کی اہمیت کو کسی بھی طور کم نہیں سمجھا جا سکتا، چین کے مستقل مشن کے زیرِ اہتمام اقوامِ متحدہ میں بین تہذیبی مکالمے کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ مکالمے کی روح ہی وہ قوت ہے جس نے انسانی تہذیب کو باہمی احترام، اعتماد کے فروغ اور مشترکہ ترقی و پیش رفت کی راہ متعین کرنے کے قابل بنایا ہے، انہوں نے عالمی برادری کو بتایا کہ پاکستان جو مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے صدیوں سے مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور مذاہب کے امتزاج اور باہمی تعامل کا مرکز رہا ہے اس لیے بین المذاہب ہم آہنگی، پُرامن بقائے باہمی، تنوع، تکثیریت اور مکالمے کی اقدار نہ صرف پاکستانی تہذیب کی نمایاں خصوصیات ہیں بلکہ یہی اقدار ہماری خارجہ پالیسی کی رہنمائی بھی کرتی ہیں، مستقل مندوب نے سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے ارکان کو یاد دلایا کہ اسی جذبے کے تحت پاکستان نے فلپائن کے ساتھ مل کر امن کے لیے بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے، افہام و تفہیم اور تعاون کے فروغ سے متعلق ایک اہم قرارداد کا معاون پیش کنندہ بننے کا اعزاز حاصل کیا جسے حال ہی میں بیس مئی کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اتفاقِ رائے سے منظور کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والی اقوامِ متحدہ ہمیشہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ رہی ہے کہ بین الاقوامی امن اور تہذیبوں کے درمیان مکالمہ ایک دوسرے سے گہرا اور اٹوٹ تعلق رکھتے ہیں، سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے اختتامی کلمات میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک پُرعزم شراکت دار کے طور پر اقوامِ متحدہ اور تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر تہذیبوں، ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان مکالمے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں مستقل جاری رکھے گا تاکہ عالمی امن، ہم آہنگی اور خوشحالی کے مشترکہ مقاصد کو کامیابی سے آگے بڑھایا جا سکے، انہوں نے اس موقع پر چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، جنرل اسمبلی کے صدر اور اقوامِ متحدہ کے اتحادِ تہذیبوں کے اعلیٰ نمائندے جناب میگوئل اینخیل موراتینوس کے تعریفی پیغامات کو بھی سراہا جبکہ جمہوریہ کولمبیا کے صدر جناب گستاوو پیٹرو کے خطاب کا بھی والہانہ خیرمقدم کرتے ہوئے ان کے خیالات کو دنیا کے لیے قابلِ قدر قرار دیا۔

مشرقِ وسطیٰ کے نازک حالات پر سلامتی کونسل میں پاکستان کا بڑا بیان، سفیر عاصم افتخار احمد کا کثیرالجہتی سفارت کاری، ثالثی اور فوری جنگ بندی پر زور، غزہ میں تین برس سے جاری اسرائیلی جارحیت اور تباہی پر شدید تشویش، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششیں تاحال جاری رکھنے کا اعلان

محمود احمد june 11,2026

اقوام متحدہ، نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) —11جون 2026ء

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی حل کے فروغ اور ثالثی کے موضوع پر منعقدہ کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطے کی صورتحال کو نہایت نازک اور مسلسل غیر یقینی قرار دیا ہے، انہوں نے سلامتی کونسل کے ارکان کو بتایا کہ پورے خطے میں حل طلب تنازعات طویل المدتی کشمکش کی صورت اختیار کر چکے ہیں جبکہ تشدد کے مسلسل ادوار اب معمول بنتے جا رہے ہیں کیونکہ بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزی، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد میں ناکامی اور حقیقی سیاسی عمل کے فقدان نے پائیدار امن، استحکام اور سلامتی کے حصول کے امکانات کو شدید نقصان پہنچایا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ایسے نازک مرحلے پر سیاسی حل کے فروغ اور پیش رفت کو یقینی بنانا اقوام متحدہ کے منشور کے تحت ہماری بنیادی ذمہ داری ہے کیونکہ عرب اسرائیل تنازع سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین اور اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے، انہوں نے زمینی صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں تقریباً تین برس سے جاری تباہ کن جنگ اور اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں انسانی المیہ انتہائی ہولناک صورت اختیار کر چکا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کی مربوط سفارتی کاوشوں اور پاکستان سمیت آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے گروپ کی حمایت سے غزہ امن منصوبہ اور سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر دو ہزار آٹھ سو تین وجود میں آئے تھے، تاہم جنگ بندی کے باوجود فلسطینیوں کے خلاف خلاف ورزیاں اور ہلاکتیں بدستور جاری ہیں جبکہ دوسری جانب مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے غیر قانونی پھیلاؤ اور یکطرفہ اقدامات پر مبنی ایک منظم پالیسی دو ریاستی حل کے امکانات کو مسلسل کمزور کر رہی ہے، پاکستانی سفیر نے لبنان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں جنگ بندی کے خاتمے سے متعلق فریم ورک اور سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر سترہ سو ایک کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں اور اسرائیل کی بے دریغ بمباری کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ افراد جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں جبکہ جنوبی لبنان پر غیر قانونی قبضے کا دائرہ مسلسل وسیع ہوتا جا رہا ہے، اس کے علاوہ شام اپنی نئی قیادت اور جرات مندانہ سیاسی فیصلوں کے ذریعے بتدریج استحکام کی جانب پیش رفت کی کوشش کر رہا ہے تاہم اسے اب بھی اپنے جنوبی علاقوں میں جاری قبضے جیسے چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ یمن کی صورتحال بھی عالمی برادری کی سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ایک جامع اور یمنی قیادت پر مبنی سیاسی عمل ہی وہاں پائیدار امن قائم کر سکتا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پاکستان مغربی ایشیا اور وسیع تر خلیجی خطے میں حالیہ پیش رفت کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے کیونکہ اس جنگ کے علاقائی اور عالمی امن سمیت بین الاقوامی معیشت بالخصوص توانائی اور غذائی تحفظ پر مرتب ہونے والے اثرات بالکل واضح ہیں، انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ جنگ بندی کے حصول اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے پاکستان نے ترکیہ، مصر، سعودی عرب اور دیگر شراکت داروں بالخصوص قطر اور چین کے ساتھ مل کر بھرپور سفارتی اور ثالثی کوششیں کیں اور ہماری فوری ترجیح سفارت کاری کے عمل کو جاری رکھنا، مکمل جنگ بندی کو یقینی بنانا اور آبنائے ہرمز میں معمول کی صورتحال کی بحالی ہونی چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور ان مشکل حالات میں پاکستان نے خلیج تعاون کونسل کے برادر رکن ممالک کے ساتھ اپنی مسلسل اور غیر متزلزل حمایت اور مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے، انہوں نے کونسل کے سامنے پاکستان کے اصولی موقف کو پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تنازعات کی بنیادی وجوہات کا مؤثر اور منصفانہ حل تلاش نہ کیا جائے کیونکہ مسئلۂ فلسطین خطے میں دیرپا امن کے قیام کی تمام کوششوں کا مرکزی محور ہے اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی بنیاد پر ایک وقت کے تعین کے ساتھ ناقابلِ واپسی سیاسی عمل کو آگے بڑھایا جانا چاہیے جو انیس سو سڑسٹھ سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک خودمختار، آزاد اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام پر منتج ہو جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، عاصم افتخار احمد نے مزید انکشاف کیا کہ پاکستان کی امن کے لیے طویل المدتی وابستگی عملی اقدامات کی صورت میں عیاں ہے اور پاکستان غزہ امن منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں مسلسل سرگرم عمل ہے جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور مکالمے کے فروغ کے لیے ثالثی اور سہولت کاری کی مخلصانہ کوششوں میں بھی معاونت کر رہا ہے اور یہ سفارتی کوششیں آج بھی پوری تندہی سے جاری ہیں، انہوں نے اپنے خطاب کے آخر میں کونسل پر زور دیا کہ آج مشرقِ وسطیٰ کو امن کی جتنی ضرورت ہے اتنی ہی ضرورت باقی دنیا کو بھی ہے اس لیے سفارت کاری کو محاذ آرائی پر، مکالمے کو تقسیم پر اور بین الاقوامی قانون کو وقتی مفادات پر ہر صورت ترجیح دی جائے کیونکہ یہی دیرپا امن کا واحد راستہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو فوری طور پر جوہری معاہدے پر دستخط کرنے کا مشورہ، ایرانیوں کی جانب سے امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنانے اور بم برآمد ہونے کا سنسنی خیز دعویٰ، سیکیور امریکہ ایکٹ منظور جبکہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں پاکستان کی درخواست پر وقفہ دینے کا اعتراف

محمود احمد june 10,2026

واشنگٹن(نیوز اینڈ نیوز) — 10جون 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ایک سنسنی خیز عسکری دعویٰ کیا ہے کہ ایرانیوں نے حال ہی میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنا کر مار گرایا ہے جبکہ تہران کو عقل کے ناخن لیتے ہوئے فوری طور پر نئے جوہری معاہدے پر دستخط کر دینے چاہئیں کیونکہ یہ خود اس کے اپنے مفاد میں ہے، واشنگٹن ڈی سی میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا اور موجودہ مجوزہ معاہدہ ایرانی حکومت کے لیے ایک آخری اور بہتر موقع ہے، پریس بریفنگ کے دوران ہیلی کاپٹر حملے سے متعلق اہم عسکری تفصیلات بتاتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایرانیوں نے جس امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا اس کے اندر ایک انتہائی بڑا بم موجود تھا اور یہ محض خوش قسمتی تھی کہ تباہی کے بعد وہ بم دھماکے سے نہیں پھٹا ورنہ خطے میں صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین اور قابو سے باہر ہو سکتی تھی، انہوں نے واضح کیا کہ امریکی عسکری اثاثے پر ہونے والے اس حملے کے بعد ایران کے خلاف سخت ترین جوابی کارروائی کرنا ناگزیر اور ضروری سمجھا گیا تھا، اس موقع پر امریکی صدر نے ملک کے اندرونی تحفظ کے حوالے سے سیکیور امریکہ ایکٹ پر باقاعدہ دستخط کرنے کا بھی بڑا اعلان کیا اور کہا کہ اس نئے قانون کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرحدی سیکیورٹی فورسز کو مزید جدید وسائل اور فنڈز فراہم کیے جائیں گے کیونکہ ان کی حکومت امیگریشن اور بارڈر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنا رہی ہے اور سرحدی نگرانی سخت کر کے غیر قانونی داخلوں کی مکمل روک تھام کی گئی ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی اس اہم گفتگو کے دوران پاکستان کا خاص طور پر حوالہ دیتے ہوئے ایک اور بڑا انکشاف کیا اور دعویٰ کیا کہ بعض نازک مواقع پر پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی خصوصی درخواست پر ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں کچھ دیر کے لیے وقفہ دیا گیا تھا جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھنے والی شدید عسکری کشیدگی کے دوران جنگ بندی کروانے اور امن قائم کرنے کی کوششوں میں بھی امریکی کردار انتہائی کلیدی رہا ہے، امریکی صدر نے آخر میں اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے حوالے سے اپنے اصولی موقف پر سختی سے قائم ہے اور ایران کو کسی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے اب مخلصانہ طور پر سفارتی حل کی طرف بڑھنا چاہیے۔

عدم پھیلاؤ سے متعلق سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں سفیر عاصم افتخار احمد کا بڑا بیان، مشرقِ وسطیٰ کی ابھرتی ہوئی صورتحال اور نئے تناؤ پر گہری تشویش کا اظہار، تہران اور واشنگٹن کے درمیان چار دہائیوں بعد اعلیٰ ترین سطح کے براہِ راست ”اسلام آباد مذاکرات“ کا انکشاف، پاکستان کی جانب سے دونوں فریقین کو تحمل اور ضبط کا مظاہرہ کرنے کی مخلصانہ اپیل

محمود احمد june 10,2026

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عدم پھیلاؤ اور 1737 کمیٹی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطے میں جاری نازک صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جو نئے سرے سے شروع ہونے والی کشیدگی اور بڑھتے ہوئے شدید تناؤ سے عبارت ہے، انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ گزشتہ چند روز کے واقعات نے واضح طور پر اس صورتحال کی سنگینی، مزید عسکری کشیدگی کے خطرات اور اس امر کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ سفارتی کوششیں جلد از جلد نتیجہ خیز ثابت ہوں کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ تشدد میں اضافہ اس حقیقت کی ایک واضح یاد دہانی ہے کہ کمزور اور غیر مستحکم جنگ بندی کس قدر سنگین خطرات اور ناقابلِ برداشت نتائج کو جنم دے سکتی ہے، پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ علاقائی اور بین الاقوامی امن، سلامتی اور خوشحالی کے مفاد میں تشدد اور عدم استحکام کے اس جاری سلسلے کا خاتمہ اب ناگزیر ہو چکا ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ سفارت کاری کے تعطل اور دشمنی کے آغاز نے ایرانی جوہری معاملے پر جاری غور و خوض کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں اس پیچیدہ مسئلے پر فریقین کے درمیان فاصلے مزید بڑھ گئے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے اہم تصدیقی مینڈیٹ میں بھی خلل پیدا ہوا ہے، انہوں نے تمام تصفیہ طلب مسائل بشمول ایرانی جوہری معاملے کے پُرامن حل کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا پختہ یقین ہے کہ سفارتی روابط اور مسلسل مکالمہ ہی ایسے بنیادی اصول ہونے چاہییں جن کی رہنمائی میں تمام متنازع امور کا باہمی مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کیا جائے اور یہ عمل متعلقہ فریقوں کے حقوق اور ذمہ داریوں کے مطابق آگے بڑھایا جائے، سفیر عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے سامنے یہ اہم انکشاف کیا کہ پاکستان نے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر جنگ کے خاتمے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بڑی سفارتی کوششوں کا آغاز کیا ہے اور ہم کشیدگی میں کمی، جنگ بندی کے قیام اور خطے میں وسیع تر استحکام کے فروغ کے لیے تعمیری سفارتی روابط جاری رکھے ہوئے ہیں، انہوں نے دونوں فریقوں کی جانب سے پاکستان پر بھرپور اعتماد کے اظہار کو سراہا جنہوں نے جنگ بندی کے حصول کے لیے مذاکرات میں شرکت کی اور ”اسلام آباد مذاکرات“ کا حصہ بنے جو کہ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصے میں اعلیٰ ترین سطح کا پہلا براہِ راست رابطہ اور تاریخی مکالمہ تھا، پاکستانی سفیر نے واضح کیا کہ واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ قیادت کی سطح پر مسلسل روابط کے ذریعے نیز خطے اور اس سے باہر موجود اپنے دیگر اہم شراکت داروں بالخصوص سعودی عرب، مصر، ترکیہ، قطر اور چین سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مسلسل مشاورت کے ذریعے اسلام آباد نے ہمیشہ مکالمے کی حوصلہ افزائی کی ہے اور پیغامات کے تبادلے میں سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول اور ضروری مواقع پیدا کرنے کی مخلصانہ کوشش کی ہے، عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ان مخلصانہ کوششوں کا واحد مقصد دشمنی کی شدت کو کم کرنا، معصوم انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنانا اور سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا موقع فراہم کرنا ہے کیونکہ ہمارا یہ طرزِ عمل علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن کے لیے پاکستان کے مستقل عزم کا مظہر ہے جو اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان جغرافیائی و سیاسی چیلنجز سے نمٹنے اور پیچیدہ تنازعات کے حل کے لیے اصولی، مکالمہ پر مبنی اور تعمیری سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، انہوں نے اپنے خطاب کے آخر میں سلامتی کونسل کے ارکان کو بتایا کہ جب ہم اپنے دوستوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس تنازع کے پُرامن اور سفارتی حل کی تلاش کے لیے خلوصِ نیت اور انتھک محنت سے کوشاں ہیں اور بالخصوص جب حتمی مقصد کے حصول کا مرحلہ قریب دکھائی دے رہا ہے تو ہم تمام فریقوں سے مخلصانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ تحمل اور ضبط کا مظاہرہ کریں اور امن کو مزید ایک موقع دیں، لہذا آئیے ہم سب امن اور سفارت کاری کے راستے پر گامزن رہیں کیونکہ اسی راستے میں کامیابی کے روشن امکانات موجود ہیں اور یہی وہ واحد امید ہے جس سے بین الاقوامی برادری وابستہ ہے۔

سلامتی کونسل میں پاکستان کا یوکرین تنازع کے حل کے لیے سفارت کاری اور جنگ بندی پر زور، عسکری ذرائع دیرپا امن کی ضمانت نہیں دے سکتے، زاپوریژژیا جوہری بجلی گھر کے اطراف حملوں پر شدید تشویش کا اظہار، اقوام متحدہ کے منشور کی پاسداری کا مطالبہ

محمود احمد june 10,2026

اقوام متحدہ، نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے یوکرین تنازع میں بڑھتی ہوئی ہولناک کشیدگی اور جنگی محاذ کے خطرناک پھیلاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارت کاری، مکالمہ اور باہمی مذاکرات ہی واحد اور مؤثر ترین راستہ ہیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے یوکرین سے متعلق منعقدہ ہنگامی اجلاس میں پاکستان کی جانب سے مخلصانہ خطاب کرتے ہوئے عثمان جدون نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ عسکری ذرائع اور جنگی ہتھیار کبھی بھی دنیا میں دیرپا امن کی ضمانت نہیں دے سکتے بلکہ اس مہم جوئی سے صرف اور صرف معصوم انسانی جانوں کے ضیاع اور متاثرہ شہری آبادی کے مصائب و مشکلات میں مزید خوفناک اضافہ ہوتا ہے، انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے فوری قیام کے لیے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری اور مکمل جنگ بندی پر اتفاق کریں تاکہ سفارت کاری کو مؤثر انداز میں آگے بڑھنے کا پورا موقع مل سکے، پاکستان کے نائب مستقل مندوب نے امید ظاہر کی کہ تمام متعلقہ فریق جلد از جلد امریکہ کی سہولت کاری میں جاری مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کریں گے اور انتہائی تعمیری انداز میں اس امن عمل کا حصہ بنیں گے کیونکہ پاکستان شروع سے ہی یوکرین تنازع کے پُرامن حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی غیر جانبدارانہ حمایت کرتا آیا ہے اور آئندہ بھی اسی اصولی مؤقف پر سختی سے قائم رہے گا، سفیر عثمان جدون نے کہا کہ امن کی جانب حقیقی پیش رفت کے لیے یہ بات سب سے زیادہ ضروری ہے کہ تمام فریق اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں اور مقاصد کی مکمل پاسداری کریں اور ایک ایسا عالمی سطح پر قابلِ قبول حل تلاش کریں جو تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات کو مدنظر رکھتا ہو، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ حملوں اور جوابی عسکری کارروائیوں کے تسلسل نے تنازع زدہ علاقوں میں مزید تباہی اور انسانی مشکلات کو جنم دیا ہے جبکہ بے گناہ شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچہ اس جنگ سے سب سے زیادہ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، اس موقع پر پاکستان نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی حالیہ رپورٹ پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا جس میں زاپوریژژیا جوہری بجلی گھر کے اطراف ہونے والے حالیہ حملوں اور اس کی سلامتی کو لاحق سنگین ایٹمی خطرات کی واضح نشاندہی کی گئی ہے، سفیر عثمان جدون نے امید ظاہر کی کہ تمام فریقین زاپوریژژیا نیوکلیئر پاور پلانٹ کے گرد موجود جنگ بندی اور حفاظتی انتظامات سے متعلق ہونے والی مفاہمت پر مکمل اور ذمہ دارانہ عمل درآمد جاری رکھیں گے، پاکستان نے تمام فریقین پر دوبارہ زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور خصوصاً بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی عالمی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں اور ایسے تمام اقدامات سے سختی سے گریز کریں جو شہری آبادی اور اہم ترین جوہری تنصیبات کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں کیونکہ عالمی برادری بارہا انسانی قوانین کے احترام کا مطالبہ کر چکی ہے اور موجودہ صورتحال میں ان اصولوں کی پابندی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے، پاکستان نے ایک بار پھر عالمی فورم پر واضح کیا کہ یوکرین تنازع کا پائیدار حل میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ صرف مذاکرات کی میز پر ہی ممکن ہے اور عالمی امن کے لیے سفارت کاری کو ہر ممکن موقع دیا جانا چاہیے۔

روس-یوکرین تنازع پر پاکستان کا مؤقف انتہائی ذمہ دارانہ اور قابلِ تحسین ہے، روسی سفیر البرٹ پی خوریف کی اسلام آباد میں اہم پریس بریفنگ، یوکرین پر نیوکلیئر پاور پلانٹ، زچگی ہسپتال اور مسافر بس پر ہولناک حملوں کے سنگین الزامات

منصور احمد june 10,2026

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

اس وقت روس اور یوکرین کے درمیان جاری خونی جنگ اپنے خطرناک ترین اور وحشیانہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں پاکستان میں تعینات روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے وفاق دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ہنگامی پریس بریفنگ کے دوران یوکرین کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مغربی دنیا اور یوکرینی حکومت پر سنگین الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے جبکہ دوسری جانب انہوں نے روس اور یوکرین کے اس شدید تنازع پر پاکستان کی ریاست کے اب تک کے اسٹریٹجک اور سفارتی کردار کی کھل کر تعریف کی ہے، روسی سفیر کا کہنا تھا کہ اس جنگ کے آغاز ہی سے پاکستان کا موقف ہمیشہ انتہائی متوازن، تعمیری، حقیقت پسندانہ اور ذمہ دارانہ رہا ہے جسے ماسکو کی اعلیٰ قیادت انتہائی قابلِ تحسین اور قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے کیونکہ پاکستان نے مغربی ممالک کے شدید دباؤ کے باوجود بین الاقوامی سطح پر جس بہترین غیر جانبدارانہ اور سنجیدہ حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا ہے وہ عالمی امن کے لیے ایک بہترین مثال ہے، روسی سفیر نے پریس بریفنگ کے دوران یوکرین کی عسکری کارروائیوں کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دنوں کے دوران یوکرینی افواج کی جانب سے سویلین آبادی پر وحشیانہ گولہ باری کی گئی جس کے تحت پُر امن شہری علاقوں کو بلا اشتعال نشانہ بنایا گیا اور دنیا کے حساس ترین نیوکلیئر پاور پلانٹ کے بالکل قریب قائم رہائشی علاقوں، بچوں کے اسکولوں اور ایک زچگی ہسپتال پر دانستہ طور پر راکٹ برسائے گئے جبکہ نیوکلیئر پاور یونٹ پر ایک خطرناک خودکش ڈرون حملہ بھی کیا گیا جس کے نتیجے میں پلانٹ کے انتہائی اہم مشین ہال کی بیرونی کنکریٹ کی دیوار میں تقریباً تیس سینٹی میٹر کا گہرا سوراخ ہو گیا تاہم خوش قسمتی سے کوئی بڑا جانی یا تابکاری کا نقصان نہیں ہوا لیکن روس نے ان واقعات کو اقوامِ متحدہ کے سامنے انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کی یہ بزدلانہ عسکری مہم جوئی کسی بھی وقت دنیا میں ایک بہت بڑے اور ناقابلِ تلافی ایٹمی حادثے کا سبب بن سکتی ہے، روسی سفیر نے بریفنگ میں دیگر دلدوز واقعات کا ذکر کرتے ہوئے یوکرینی حکومت پر سویلین ہلاکتوں کے مزید الزامات عائد کیے اور بتایا کہ ایک علاقے میں یوکرینی ڈرون حملے کی زد میں آ کر ایک معصوم پانچ سالہ بچہ بے دردی سے ہلاک ہو گیا جبکہ ایک دوسرے مقام پر مسافروں سے بھری ایک پبلک بس کو راکٹ کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بس میں سوار سات عام شہری موقع پر ہی جاں بحق اور گیارہ افراد شدید زخمی ہو گئے جبکہ اس سے قبل ایک تعلیمی ادارے پر ہونے والے ڈرون حملے میں گریجویشن کے آخری مرحلے کے اکیس معصوم طلبا بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں اٹھارہ نوجوان لڑکیاں شامل تھیں، روس نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ اب یہ جنگ ایک بالکل نئے اور تباہ کن فوجی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور روسی افواج کی کارروائیاں اب مزید وسیع اور بے رحم ہوں گی جس کے تحت یوکرین کے تمام فوجی صنعتی کمپلیکس اور اسلحہ خانوں پر حملے شروع کر دیے گئے ہیں اور اب روس یوکرین کے دارالحکومت کے اندر قائم مرکزی کمانڈ کنٹرول اور اعلیٰ فیصلہ سازی کے صدارتی و عسکری مراکز کو براہِ راست نشانہ بنا کر تباہ کر دے گا اور ان فضائی حملوں میں روس نے اپنے جدید ترین اور ہائپر سونک میزائل سسٹمز کا بے دریغ استعمال شروع کر دیا ہے جنہیں روکنے میں یوکرینی فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے، روسی سفیر نے امریکہ اور نیٹو سمیت تمام مغربی ممالک پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ عالمی برادری یوکرین کی اس بربریت اور معصوم بچوں کے قتلِ عام کو دیدہ و دانستہ نظر انداز کر رہی ہے اور الٹا یوکرین کو مزید خطرناک فوجی امداد فراہم کر کے جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک امن مذاکرات کی تمام کوششوں کو خود اپنے ہاتھوں سے مٹی میں ملا رہے ہیں جبکہ یوکرینی اور مغربی میڈیا ہاؤسز اس اندوہناک واقعے پر غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور انہوں نے حقیقت دیکھنے کے لیے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے سے بھی صاف انکار کر دیا ہے، روسی سفیر کا کہنا تھا کہ ماسکو نے پاکستان سمیت دنیا کے تمام دوست ممالک کو سفارتی روابط کے ذریعے ان تمام تر زمینی حقائق اور یوکرینی جارحیت سے تفصیلی طور پر آگاہ کر دیا ہے تاکہ عالمی سطح پر سچائی سامنے آ سکے۔

روس کا یوکرین پر ہولناک الزامات کے ساتھ بڑے عسکری حملوں کا اعلان، سٹاروبیلسک یونیورسٹی پر ڈرون حملے میں ۲۱ طلبا جاں بحق، کییف میں فیصلہ سازی کے مراکز کو اڑانے کی دھمکی، زرکون اور کنژال میزائلوں کا استعمال

منصور احمد june 10,2026

ماسکو(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

روس اور یوکرین کے درمیان جاری خونی جنگ اب اپنے خطرناک ترین اور وحشیانہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں پاکستان میں تعینات روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے یوکرین کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال پر ایک ہنگامی پریس بریفنگ دیتے ہوئے سٹاروبیلسک کے علاقے میں ہونے والے حالیہ ہولناک ڈرون حملے اور اس کے بعد کی روسی عسکری جوابی کارروائیوں پر شدید ترین ردِعمل کا اظہار کیا ہے اور مغربی دنیا سمیت یوکرینی حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، ماسکو اور بین الاقوامی میڈیا مانیٹرنگ ڈیسک سے حاصل ہونے والی سنسنی خیز تفصیلات کے مطابق روسی سفیر نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ماہ ۲۲ مئی کو سٹاروبیلسک کے پُر امن علاقے میں یوکرین کی مسلح افواج (AFU) نے ایک بزدلانہ ڈرون حملہ کر کے وہاں قائم ایک معصوم تعلیمی ادارے کو براہِ راست نشانہ بنایا، جسے انہوں نے صریحاً بین الاقوامی ”دہشت گردی“ قرار دیا ہے، روسی سفیر کی جانب سے پریس بریفنگ میں فراہم کردہ دلدوز تفصیلات کے مطابق:
یوکرینی حملے میں تدریسی یونیورسٹی کے ۲۱ زیرِ تعلیم طلبا موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
ملبے تلے دب جانے اور دھماکے کی زد میں آنے سے ۶۰ سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے۔
جاں بحق ہونے والے مظلوم طلبا میں ۱۸ نوجوان لڑکیاں اور ۳ لڑکے شامل تھے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ تمام جاں بحق و متاثرہ طلبا کی عمریں ۲۳ سال سے کم تھیں۔
یہ تمام نوجوان طلبا مذکورہ تدریسی یونیورسٹی کے گریجویشن کے آخری مرحلے سے منسلک تھے اور اپنا مستقبل بنانے کے سفر پر تھے۔
روسی سفیر البرٹ پی خوریف نے کریملن کا دوٹوک موقف دہراتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران شہری آبادی اور تعلیمی اداروں کو وحشیانہ انداز میں نشانہ بنانا تمام بین الاقوامی قوانین اور جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے، انہوں نے یوکرین کے اس اقدام کو روس کی جانب سے طے کردہ ”ریڈ لائن عبور کرنے“ کے مترادف قرار دیتے ہوئے انتہائی خوفناک ردِعمل کا واضح عندیہ دیا ہے، روسی سفیر نے واشنگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ اب یہ جنگ ایک بالکل نئے اور تباہ کن فوجی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور روسی افواج کی کارروائیاں اب مزید وسیع اور بے رحم ہو سکتی ہیں، اسی تناظر میں روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ جنگی بیانات کے مطابق:
۱۔ یوکرین کے تمام فوجی صنعتی کمپلیکس، اسلحہ خانوں اور توانائی کے مراکز پر مرحلہ وار تباہ کن حملے شروع کر دیے گئے ہیں۔
۲۔ روس اب یوکرین کے دارالحکومت کییف کے اندر قائم مرکزی کمانڈ کنٹرول اور اعلیٰ فیصلہ سازی کے صدارتی و عسکری مراکز کو براہِ راست نشانہ بنا کر تباہ کر سکتا ہے۔
۳۔ ان فضائی حملوں میں روس نے اپنے جدید ترین اور ناقابلِ شکست ہائپر سونک میزائل سسٹمز جیسے کہ اسکندر ، کنژال ، اور زرکون سمیت دیگر جدید ترین ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال شروع کر دیا ہے۔
روسی حکومت کے دعوے کے مطابق مغربی ممالک کی جانب سے فراہم کردہ یوکرینی فضائی دفاعی نظام روس کے ان مہلک ہائپر سونک میزائلوں کے متعدد حملوں کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے، روسی سفیر نے امریکہ اور نیٹو سمیت تمام مغربی ممالک پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ عالمی برادری یوکرین کی اس بربریت اور معصوم طلبا کے قتلِ عام کو دیدہ و دانستہ نظر انداز کر رہی ہے اور الٹا یوکرین کو مزید خطرناک فوجی امداد فراہم کر کے جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک امن مذاکرات کی تمام کوششوں کو خود اپنے ہاتھوں سے مٹی میں ملا رہے ہیں جبکہ یوکرینی اور بعض مغربی میڈیا ہاؤسز اس اندوہناک واقعے پر غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں، روسی حکام کے مطابق عالمی برادری کے سامنے سچ لانے کے لیے مختلف ممالک کے صحافیوں کو خود سٹاروبیلسک کی تباہ شدہ یونیورسٹی کا دورہ کروایا گیا ہے، جس میں تقریباً ۲۰ ممالک کے ۵۱ غیر ملکی صحافی شریک تھے، تاہم بعض بڑے مغربی میڈیا ہاؤسز نے تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سچائی کو دیکھنے اور دورے میں شرکت کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
ادارتی نوٹ: یہ ہنگامی رپورٹ خالصتاً روسی سفیر اور ماسکو کے باضابطہ بیانات، دعوؤں اور الزامات پر مبنی ہے، جبکہ آزاد بین الاقوامی ذرائع اور یوکرینی حکام کی جانب سے ان دعوؤں کی مکمل تصدیق یا موقف اس سے مختلف ہو سکتا ہے۔