فیفا ورلڈکپ، آسٹریا کی اردن کو شکست، ارجنٹینا اور ناروے کی بھی شاندار فتوحات

محمود احمد june 17,2026

ویانا (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

بین الاقوامی فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے ایک انتہائی اہم اور سنسنی خیز میچ میں آسٹریا نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اردن کی ٹیم کو ۱ کے مقابلے میں ۳ گول سے شکست دے دی ہے، ویانا سے حاصل ہونے والی اسپورٹس رپورٹس کے مطابق میچ کے آغاز سے ہی آسٹریا کے فارورڈز نے اردن کے دفاعی حصار پر تابڑ توڑ حملے کیے، آسٹریا کی جانب سے پہلا گول اسکمڈ نے اسکور کر کے ٹیم کو برتری دلائی جبکہ دوسرا گول یزان العرب اور تیسرا فیصلہ کن گول مارکو نے نیٹ میں پہنچا کر اپنی ٹیم کی جیت کو یقینی بنا دیا، دوسری طرف اردن کی فٹبال ٹیم میچ میں وہ جاندار کارکردگی نہ دکھا سکی جس کی ان سے امید تھی اور ان کی جانب سے میچ کا واحد اور تسلی بخش گول علی الوان نے اسکور کیا، آسٹریا کے مضبوط دفاع کے باعث اردن کے کھلاڑی مزید کوئی گول کرنے میں ناکام رہے اور یوں آسٹریا نے یہ میچ آسانی سے اپنے نام کر لیا۔

عالمی کپ کے سلسلے میں کھیلے گئے دیگر میچز کی تفصیلات کے مطابق فٹبال کی دنیا کی سب سے مقبول ٹیم ارجنٹینا نے اپنے ایک یکطرفہ مقابلے میں الجزائر کی ٹیم کو ۰-۳ کے واضح فرق سے دھول چٹا دی ہے، ارجنٹینا کی اس فتح میں ان کے مایہ ناز کپتان اور لیجنڈری فٹبالر لیونل میسی نے روایتی جادوئی کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تینوں گول خود اسکور کیے اور میدان میں شاندار ہیٹرک مکمل کر کے اپنی ٹیم کو اہم کامیابی دلائی، اسی طرح ورلڈکپ کے ایک اور میچ میں ناروے کی ٹیم نے اسٹار فٹبالر ایرلنگ ہالینڈ کی طوفانی کارکردگی کی بدولت عراق کی ٹیم کو ۱ کے مقابلے میں ۴ گول کے بھاری مارجن سے عبرتناک شکست سے دوچار کیا ہے، ناروے کی اس بڑی جیت میں ایرلنگ ہالینڈ نے انفرادی طور پر ۲ شاندار گول داغ کر اپنی ٹیم کی پوزیشن کو مستحکم کیا جس کے سامنے عراقی دفاع بالکل ریت کی دیوار ثابت ہوا اور وہ پورے میچ میں صرف ایک ہی گول اسکور کر پائے۔

بلائنڈ کرکٹ سپر لیگ میں خیبرپختونخوا کی فتح، پنجاب اور بلوچستان کا میچ بے نتیجہ

محمود احمد june 17,2026

لاہور (اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل (پی بی سی سی) کے زیرِ اہتمام ایبٹ آباد میں جاری نویں ٹی ٹونٹی بلائنڈ کرکٹ سپر لیگ کے تیسرے روز کھیلے گئے پانچویں اہم میچ میں خیبرپختونخوا نے سندھ کی ٹیم کو ۵۵ رنز سے عبرتناک شکست دے دی ہے، اسپورٹس ذرائع کے مطابق سندھ کی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا جو کہ سودمند ثابت نہ ہوا اور خیبرپختونخوا نے مقررہ ۲۰ اوورز میں صرف ایک وکٹ کے نقصان پر ۲۷۹ رنز کا ہمالیہ جیسا بڑا اسکور کھڑا کر دیا، خیبرپختونخوا کی جانب سے بدر منیر نے شاندار اور طوفانی بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے محض ۶۷ گیندوں پر ۱۹ چوکوں اور ۵ چھکوں کی مدد سے ۱۴۷ رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی جبکہ اکمل حیات ناصر نے ۵۷ گیندوں پر ۷۷ رنز بنا کر ان کا بھرپور ساتھ دیا، ان دونوں اوپنرز نے پہلی وکٹ کی شراکت میں ۲۶۸ رنز کی ریکارڈ پارٹنرشپ قائم کی، ۲۸۰ رنز کے ہدف کے تعاقب میں سندھ کی ٹیم نے بھرپور مزاحمت تو کی لیکن وہ مقررہ ۲۰ اوورز میں ۶ وکٹوں پر ۲۲۴ رنز ہی بنا سکی، سندھ کی طرف سے محمد صفدر نے ۸۴ اور ظفر اقبال نے ۵۲ رنز کی اننگز کھیلی جبکہ خیبرپختونخوا کے بولر محمد ادریس سلیم نے ۳ اور جنید خان نے ۲ وکٹیں حاصل کیں، بدر منیر کو ان کی شاندار سنچری پر میچ کا بہترین کھلاڑی (پلیئر آف دی میچ) قرار دیا گیا۔

ایبٹ آباد میں کھیلے گئے دن کے دوسرے میچ میں پنجاب اور بلوچستان کے مابین سنسنی خیز مقابلہ شدید اور اچانک شروع ہونے والی بارش کے باعث بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا ہے، اس میچ میں بلوچستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا جس پر پنجاب کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ ۲۰ اوورز میں ۳ وکٹوں کے نقصان پر ۲۰۳ رنز کا جاندار اسکور بنایا، پنجاب کی جانب سے نثار علی نے ۵۸ گیندوں پر ۸۰ رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی جبکہ مطیع اللہ نے ۳۲ گیندوں پر ۶۳ رنز کی تیز رفتار اننگز سے ٹیم پوزیشن کو مضبوط کیا، بلوچستان کی طرف سے بولنگ میں محمد نعمان اور اسرار الحسن نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا، پنجاب کی اننگز جیسے ہی مکمل ہوئی تو ایبٹ آباد کا موسم اچانک تبدیل ہو گیا اور اتنی تیز موصلادھار بارش شروع ہو گئی کہ بلوچستان کی ٹیم اپنی اننگز کا آغاز بھی نہ کر سکی، کافی دیر انتظار کے بعد بھی جب موسم بہتر نہ ہوا اور گراؤنڈ کھیلنے کے قابل نہ رہا تو امپائرز نے میچ کو باقاعدہ منسوخ کرتے ہوئے ڈرا قرار دے دیا اور دونوں ٹیموں کو برابر پوائنٹس مل گئے۔

بلوچستان سے سندھ ایرانی تیل کی خطرناک سمگلنگ، پچاس ڈگری گرمی اور عسکری تنازعے کے سائے

کاشف عباسی ,june 17,2026

مستونگ (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے اور غریب ترین صوبے بلوچستان میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہونے کے باعث لاکھوں نوجوان پچاس ڈگری سینٹی گریڈ کی ہولناک گرمی اور مسلح تنازعات کے سائے میں ایران سے پیٹرولیم مصنوعات کی خطرناک سمگلنگ کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، مستونگ اور کوئٹہ کے سرحدی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق حالیہ مہینوں میں ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے جس سے عالمی مارکیٹ میں ایندھن مہنگا ہو گیا ہے اور اس سنگین صورتحال نے پاکستان میں سستے ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی طلب میں ریکارڈ اضافہ کر دیا ہے، بلوچستان کے ہزاروں سمگلروں کی طرح ”مزار“ نامی ایک مقامی موٹر سائیکل سوار (جس کا اصل نام سکیورٹی وجوہات پر پوشیدہ رکھا گیا ہے) نے بتایا کہ وہ اپنے بڑے خاندان کا واحد کفیل ہے اور شدید خشک سالی کے باعث کھیتی باڑی تباہ ہونے پر وہ مجبوراً اس جان لیوا کام کا حصہ بنا ہے، مزار نے مستونگ کے کھلے بازار سے اپنی خستہ حال موٹر سائیکل پر ۷۰ لیٹر پیٹرول سے بھرے پانچ بڑے پلاسٹک کے ڈبے خطرناک انداز میں لاد رکھے ہیں جن کا مجموعی وزن لگ بھگ ۲۷۲ کلوگرام بنتا ہے اور وہ اب یہ سستا ایندھن بیچنے کے لیے ۲۱۸ میل طویل سفر طے کر کے صوبہ سندھ کی غیر رسمی مارکیٹوں کی طرف روانہ ہو رہا ہے۔

یہ طویل سفر انتہائی ہولناک اور جان لیوا خطرات سے گھرا ہوا ہے کیونکہ موسم گرما میں بلوچستان کا درجہ حرارت اکثر ۵۰ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے جس کی شدید تپش اور حرارت کی وجہ سے پلاسٹک کے یہ بڑے کنٹینرز پھول کر پھٹ جاتے ہیں اور تیل کے رساؤ سے ہونے والے دھماکوں میں کئی سمگلر زندہ جل کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، اس کے علاوہ یہ پورا علاقہ گذشتہ کئی دہائیوں سے پاکستانی فورسز اور علیحدگی پسند مسلح گروہوں کے مابین شدید جھڑپوں کی زد میں ہے جس کے باعث سڑکوں پر ہر وقت عسکری تنازعے کا خوف رہتا ہے، جاپانی خبر رساں ادارے ”نکئی ایشیا“ کے مطابق پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی ایک لیک رپورٹ کے مطابق ہر سال تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کا ایندھن ایران سے پاکستان سمگل کیا جاتا ہے اور بلوچستان کے لگ بھگ ۲۴ لاکھ افراد براہِ راست اس غیر قانونی کاروبار سے جڑے ہوئے ہیں، رواں سال مئی میں پاکستان کی پانچ بڑی آئل ریفائنریوں اور آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے حکومت کو ہنگامی خطوط لکھ کر آگاہ کیا تھا کہ اس اندھا دھند سمگلنگ کے باعث ملک میں قانونی ایندھن کی فروخت گزشتہ ۲۷ برس کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے جس سے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

اگرچہ پاکستان میں ایندھن کی یہ سمگلنگ سراسر غیر قانونی ہے جس کی سزا بھاری جرمانے، گاڑیوں کی ضبطی اور طویل قید ہے، تاہم کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر فدا حسین دشتی کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمی اس پسماندہ خطے کی معیشت کے لیے اب ناگزیر بن چکی ہے کیونکہ یہاں روزگار کے متبادل مواقع بالکل ختم ہو چکے ہیں، انہوں نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پاکستان کے کل رقبے کا ۴۴ فیصد ہونے اور معدنی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود دنیا کے غریب ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے جس کی وجہ سے شدید عوامی غم و غصہ پایا جاتا ہے، فدا حسین دشتی کے مطابق یہاں ایم اے کی ڈگری رکھنے والا تعلیم یافتہ نوجوان بھی نوکری نہ ملنے پر آخرکار موٹر سائیکل پر تیل کی سمگلنگ کے اسی پرخطر کاروبار کا حصہ بننے پر مجبور ہے کیونکہ ان کے پاس زندہ رہنے کا کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا۔

امریکہ ایران معاہدے پر نیتن یاہو مایوس، صدر ٹرمپ کا اسرائیل کو دانشمندی برتنے کا مشورہ


کاشف عباسی ,june 17,2026

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی معاہدے پر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو شدید مایوسی ہوئی ہے، جی سیون سمٹ کے موقع پر ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح الفاظ میں کہا کہ اب اسرائیل کو چاہیے کہ وہ لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے ساتھ بہتر برتاؤ کرے اور کوئی بھی اگلا فیصلہ کرتے ہوئے انتہائی دانشمندی کا مظاہرہ کرے، انہوں نے عالمی برادری کو مائیک پر بتایا کہ اس خطے میں امن کی بحالی اور اس تاریخی کامیابی کے پیچھے پاکستان اور قطر کا بہت بڑا ہاتھ ہے، پاکستانی وزیراعظم نے انہیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ایک ایسا بڑا کام ہونے جا رہا ہے جس پر کسی کو یقین نہیں آئے گا، صدر ٹرمپ نے اس عظیم ترین امن مشن اور سفارتی مذاکرات کے کامیاب انعقاد پر پاکستان، قطر اور سعودی عرب کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے اپنے تمام بین الاقوامی شراکت داروں کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کو بڑی خوشخبری سناتے ہوئے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ حتمی اور باقاعدہ معاہدہ رواں اتوار تک مکمل ہو جائے گا جس کے فوراً بعد خطے کے تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی ہو جائے گی اور بند پڑی آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے ہمیشہ کے لیے کھول دیا جائے گا، انہوں نے صاف کہا کہ اگر امریکہ ایران کے ساتھ یہ ڈیل نہ کرتا تو آبنائے ہرمز کا کھلنا ناممکن تھا، صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران اس بات پر مکمل راضی ہو چکا ہے کہ وہ مستقبل میں نہ تو کبھی ایٹم بم بنائے گا اور نہ ہی اسے حاصل کرنے کی کوشش کرے گا جبکہ امریکی سیٹلائٹ کے ذریعے ایران کی تمام جوہری تنصیبات اور یورینیم کے ذخائر کی چوبیس گھنٹے کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور ہم ان کے جوہری مواد کا سراغ لگا لیں گے، انہوں نے ایرانی حکام کو سخت اور زیرک مذاکرات کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگلے مرحلے میں ایرانی میزائل پروگرام اور اس سے وابستہ دیگر مسلح گروہوں کے معاملے پر بھی تفصیلی بات چیت ہو گی، پریس کانفرنس کے دوران روس یوکرین جنگ پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یوکرین سے زیادہ اس وقت روس اپنے فوجیوں سے محروم ہو رہا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یوکرین اور روس دونوں ہی یہ نہیں جانتے کہ آپس میں امن ڈیل کیسے کی جاتی ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ طے، 14 اہم نکات منظرِ عام پر آگئے

محمود احمد june 17,2026

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

امریکی میڈیا اور معتبر جریدے بلومبرگ نے امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والے اہم ترین ایم او یو فریم ورک کے 14 خفیہ اور انقلابی نکات کی مکمل تفصیلات جاری کر دی ہیں جس کے تحت لبنان سمیت تمام علاقائی محاذوں پر فوری جنگ بندی کی جائے گی اور حتمی معاہدے کے تحت ایران کے افزودہ جوہری مواد کے حوالے سے کڑی شقیں شامل کی جائیں گی، واشنگٹن سے حاصل ہونے والی عالمی سفارتی تفصیلات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان آئندہ ۶۰ روز کے اندر ایک بڑے حتمی معاہدے تک پہنچنے پر مکمل اتفاق ہو گیا ہے اور دونوں ممالک نے جوہری امور سمیت طویل عرصے سے عائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے پر ابتدائی رضامندی ظاہر کر دی ہے، طے پانے والے نکات کے مطابق خطے کے تمام فریقین ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت نہیں کریں گے جبکہ اگلے 30 دنوں کے اندر سمندری حدود اور تجارتی راستوں پر لگی بحری ناکہ بندی کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا جائے گا اور دفاعی توازن برقرار رکھنے کے لیے سٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز میں امریکی افواج کی تعداد میں مزید کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا، امریکہ نے تہران سے تمام معاشی پابندیاں مرحلہ وار اٹھانے کا پکا وعدہ کیا ہے جس کے بعد ایران کے منجمد اثاثے بحال ہو جائیں گے اور اسے عالمی مارکیٹ میں اپنے تیل کی برآمدات کی سو فیصد اجازت ہو گی جبکہ تجارت اور توانائی کے تمام بند روٹس بھی بحال کر دیے جائیں گے، امریکی نشریاتی ادارے سی این این کا دعویٰ ہے کہ امریکہ ایران کی معاشی بحالی کے لیے 300 ارب ڈالر کے خطیر مالیاتی پیکج کا اعلان بھی کرے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی سیون سمٹ کے اہم موقع پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ایک خصوصی ملاقات کی ہے، واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمارا بنیادی مقصد شروع دن سے ایران کو خطرناک جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنا تھا جسے ہم نے کامیابی سے حاصل کر لیا ہے، انہوں نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز جمعے کے روز تک بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھول دی جائے گی، ایران خود یہ مذاکرات چاہتا ہے تاکہ دنیا میں ایک نارمل اور پرامن ملک کی طرح رہ سکے، صدر ٹرمپ نے ایرانی محاصرے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے امریکی بحریہ کو مبارکباد دی اور کہا کہ ایران ابراہم اکارڈ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا مگر اب امید ہے کہ اس امن معاہدے میں مزید اسلامی ممالک بھی شامل ہوں گے، انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ایران کو کوئی زبردستی کی رقم ادا کرنے کا پابند نہیں ہے بلکہ وہ بہت جلد ایک بڑی پریس کانفرنس میں اس تاریخی معاہدے کا ایک ایک لفظ میڈیا کے سامنے لائیں گے تاکہ درست کوریج ہو سکے اور قوی امید ہے کہ ایران کے ساتھ اس ڈیل کا دوسرا مرحلہ بھی جلد ہی کامیابی سے مکمل ہو جائے گا۔

آئی سی سی ٹی ٹونٹی رینکنگ جاری، پاکستانی بلے بازوں اور بولرز کی بڑی تنزلی

منصور احمد june 17,2026

دبئی (اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے بدھ کے روز جاری کردہ تازہ ترین ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل رینکنگ میں پاکستانی کرکٹرز کو شدید تنزلی کا سامنا کرنا پڑا ہے، دبئی سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق بلے بازوں کی فہرست میں اوپنر صاحبزادہ فرحان ٹاپ تھری میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے والے واحد پاکستانی بلے باز ہیں جو بدستور تیسرے نمبر پر براجمان ہیں جبکہ ان کے علاوہ پاکستان کے باقی تمام نمایاں بلے بازوں کی رینکنگ گر گئی ہے، تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق صائم ایوب دو درجے گر کر ۳۶ ویں سے ۳۸ ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں، سابق کپتان بابر اعظم بھی تین درجے تنزلی کے بعد ۴۱ ویں نمبر پر چلے گئے ہیں جبکہ ٹی ٹونٹی ٹیم کے موجودہ کپتان سلمان علی آغا دو درجے گر کر ۴۳ ویں پوزیشن پر آ گئے ہیں، اسی طرح جارح مزاج بیٹر فخر زمان بھی ایک پوزیشن سے محروم ہو کر ۷۲ ویں نمبر پر چلے گئے ہیں، بیٹنگ رینکنگ میں بھارت کے ابھیشیک شرما پہلے اور ایشان کشن دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔

دوسری جانب اگر بولنگ رینکنگ کی بات کی جائے تو وہاں بھی زیادہ تر پاکستانی بولرز کا گراف نیچے گرا ہے، جہاں اسپنر محمد نواز ۱۱ ویں اور سلمان مرزا ۲۰ ویں نمبر پر برقرار ہیں، وہی مایہ ناز فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی ایک درجہ تنزلی کے بعد ۳۱ ویں پوزیشن پر چلے گئے ہیں، اسپنر عثمان طارق دو درجے گر کر ۶۱ ویں اور سفیان مقیم ایک درجہ تنزلی کے ساتھ ۶۸ ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں جبکہ صائم ایوب اور شاداب خان بالترتیب ۷۲ ویں اور ۷۴ ویں نمبر پر موجود ہیں، پاکستانی بولرز میں صرف حارث رؤف واحد کھلاڑی رہے جن کی رینکنگ میں بہتری آئی اور وہ ایک درجہ ترقی پا کر ۸۹ ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں، بولنگ کی عالمی رینکنگ میں افغانستان کے راشد خان پہلے اور بھارت کے ورون چکرا ورتھی دوسرے نمبر پر ہیں جبکہ پاکستان کے مسٹری اسپنر ابرار احمد بدستور تیسری پوزیشن پر مضبوطی سے براجمان ہیں۔

کلمہ طیبہ کے تقدس اور احترام کا شاندار عالمی مظاہرہ، فٹبال کی سب سے بڑی تنظیم فیفا نے سعودی عرب کے قومی پرچم کے لیے منفرد اور الگ پروٹوکول اختیار کر لیا، ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے دوران دیگر ممالک کے جھنڈوں کی طرح میدان کی گھاس پر بچھانے کے بجائے خصوصی طور پر بلند مقام پر آویزاں کرنے کا تاریخی فیصلہ، میامی اسٹیڈیم میں مسلم امہ کے جذبات کی لاج رکھ لی گئی، یوراگوئے اور سعودی عرب کے مابین سنسنی خیز مقابلہ ایک ایک گول سے برابر

منصور احمد june 17,2026

میامی، امریکہ (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

بین الاقوامی فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے میدانوں سے مسلم امہ اور دنیا بھر کے شائقین کے لیے ایک انتہائی خوبصورت اور ایمان افروز خبر سامنے آئی ہے جہاں فٹبال کی سب سے بڑی عالمی تنظیم (فیفا) نے کلمہ طیبہ کے غیر معمولی احترام اور تقدس کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی عرب کے قومی پرچم کے لیے اپنا دہائیوں پرانا روایتی پری میچ پروٹوکول یکسر تبدیل کر دیا ہے، امریکہ کے شہر میامی سے حاصل ہونے والی خصوصی کھیلوں کی تفصیلات کے مطابق فیفا فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے گروپ میچز کے دوران سعودی عرب کے قومی پرچم کو دیگر تمام ممالک کے جھنڈوں کی طرح میچ شروع ہونے سے قبل اسٹیڈیم کے گراؤنڈ پر بچھانے یا پھیلانے کے بجائے خصوصی طور پر ایک انتہائی بلند اور محترم مقام پر آویزاں کیا گیا جس نے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں اور کھیلوں کے شائقین کی توجہ اور دل جیت لیے ہیں، عام طور پر فیفا کے مروجہ انٹرنیشنل پری میچ پروٹوکول کے تحت میچ شروع ہونے سے قبل دونوں شریک ممالک کے دیو ہیکل پرچموں کو گراؤنڈ کی گھاس پر چٹائی کی طرح پھیلایا جاتا ہے تاہم سعودی عرب کے پرچم کے معاملے میں اس بار ایک بالکل منفرد، معزز اور مختلف طرزِ عمل اختیار کیا گیا جو کہ عالمی سطح پر مذہبی رواداری کی ایک بہترین مثال ہے۔

کھیلوں کے بین الاقوامی مبصرین کے مطابق فیفا کی جانب سے اس تاریخی تبدیلی کی بنیادی اور اصل وجہ سعودی عرب کے قومی پرچم پر درج مقدس ”کلمہ طیبہ“ ہے جو کہ دینِ اسلام کے بنیادی ترین عقیدے اور توحید و رسالت کی نمائندگی کرتا ہے، سعودی عرب کے ملکی قوانین، اسلامی شعائر اور دیرینہ مذہبی روایات کے مطابق کلمہ طیبہ والے اس قومی پرچم کو کسی بھی صورت زمین پر رکھنا، اس کے اوپر سے گزرنا، پاؤں لگانا یا اسے کسی بھی ایسے انداز میں استعمال کرنا جس سے ذرا سا بھی بے حرمتی یا بے توقیری کا تاثر پیدا ہو، انتہائی نامناسب اور سخت ممنوع سمجھا جاتا ہے، اسی شدید مذہبی حساسیت اور مسلمانوں کے پاک جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹورنامنٹ کی مرکزی انتظامیہ اور فیفا حکام نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سعودی پرچم کو زمین کی مٹی یا گھاس پر رکھنے کے بجائے اسٹیڈیم میں ایک مخصوص، معزز اور بلند مقام پر نصب کیا تاکہ اس کے تقدس، حرمت اور احترام کو سو فیصد برقرار رکھا جا سکے۔

دوسری جانب اگر میدان کے اندر کھیل کے مابین ہونے والے جوڑ کی بات کی جائے تو فیفا فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے اس انتہائی اہم میچ میں سعودی عرب اور عالمی شہرت یافتہ ٹیم یوراگوئے کے درمیان کھیلا گیا معرکہ سخت مقابلے کے بعد ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ہی ڈرا ہو گیا ہے، امریکہ کے مشہورِ زمانہ میامی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے گروپ ”ایچ“ کے اس اعصاب شکن اور سنسنی خیز میچ میں یوراگوئے اور سعودی عرب کے کھلاڑیوں نے ایک دوسرے کے گول پوسٹ پر تابڑ توڑ حملے کیے تاہم مقررہ وقت کے خاتمے تک دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ ۱-۱ گول سے برابر رہا اور دونوں ممالک کو ایک ایک پوائنٹ پر ہی اکتفا کرنا پڑا، اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں تماشائیوں نے جہاں سعودی فٹبال ٹیم کی جاندار پرفارمنس کو سراہا، وہی پرچم کے احترام میں فیفا کے اس بڑے فیصلے کی بھی کھل کر تعریف کی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا بحرالکاہل میں اپنی سب سے بڑی فوجی کمان کا نام دوبارہ تبدیل کرنے کا حیران کن فیصلہ، آٹھ سال بعد ”انڈو پیسیفک“ کا لفظ خارج کر کے پرانا نام ”یو ایس پیسیفک کمانڈ“ بحال کر دیا گیا، نام کی اس تبدیلی پر نئی دہلی کے سفارتی اور دفاعی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی، انڈین میڈیا کا امریکی فوجی نقشے میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھانے پر بھی واویلا، کیا امریکہ کو اب خطے میں انڈیا کی ضرورت نہیں رہی؟ عالمی منظرنامے پر نئی بحث چھڑ گئی

محمود احمد june 17,2026

واشنگٹن/نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی انتظامیہ کی جانب سے بحر الکاہل (پیسیفک) کے اسٹریٹجک خطے میں قائم اپنی سب سے بڑی اور اہم ترین عسکری کمان کا نام ایک بار پھر تبدیل کیے جانے کے غیر معمولی فیصلے نے پڑوسی ملک انڈیا کے دفاعی اور سیاسی ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیا ہے اور نئی دہلی میں اس معاملے پر شدید خدشات اور بحث کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے سنہ ۲۰۱۸ء میں اپنے پہلے دورِ حکومت کے دوران اس فوجی کمان کا نام تبدیل کر کے ”انڈو پیسیفک کمانڈ“ رکھا تھا جس کا مقصد نئی دہلی کو عالمی سطح پر بڑی اہمیت دینا تھا، تاہم اب ٹھیک آٹھ سال بعد امریکی حکومت نے اس نام سے ”انڈو“ کا لفظ مکمل طور پر خارج کرتے ہوئے اس کا پرانا نام یعنی ”یو ایس پیسیفک کمانڈ“ باضابطہ طور پر بحال کر دیا ہے، اگرچہ واشنگٹن کے بقول اس کمان کا پرانا نام بحال کرنے کا واحد مقصد اس کے ستر سالہ تاریخی ورثے کو شاندار خراجِ تحسین پیش کرنا ہے لیکن اس اچانک فیصلے پر انڈین دفاعی ماہرین اور میڈیا میں یہ گہرے تحفظات اور خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں کہ آیا دفاعی تعاون اور چین کا راستہ روکنے کے شعبے میں امریکہ نے اب انڈیا سے دوریاں اختیار کرنا شروع کر دی ہیں اور خطے میں اس کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔

اس سنسنی خیز دفاعی تبدیلی کے ساتھ ہی انڈین میڈیا میں اس حوالے سے بھی شدید واویلا مچایا جا رہا ہے کہ یو ایس پیسیفک کمانڈ کی ازسرِنو تشکیل کے بعد اس کے زیرِ اثر علاقوں کے حوالے سے جو سرکاری اور عسکری نقشہ جاری کیا گیا ہے اس میں پینٹاگون نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کو باقاعدہ طور پر پاکستان کا ہی حصہ ظاہر کیا ہے، اگرچہ اس امریکی فوجی نقشے میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو بھی انڈیا کے حصے کے طور پر ہی دکھایا گیا ہے لیکن پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کو گرین زون میں دکھانا نئی دہلی کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے، دوسری جانب امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) نے باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے اس نام کی تبدیلی کی تصدیق کی اور بتایا کہ یہ عظیم عسکری کمانڈ ستر برس قبل امریکی صدر ہیری ٹرومین نے قائم کی تھی جو کہ امریکہ کی تمام مشترکہ جنگی کمانڈز میں سب سے قدیم اور رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑی ہے، محکمۂ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یو ایس پیسیفک کمانڈ کا نام بحال کرنے کا مقصد اِس کمانڈ کے تاریخی عسکری ورثے کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے کیونکہ یہ نام بحرالکاہل میں خدمات انجام دینے والے تمام امریکی فوجیوں میں فخر اور اجتماعی جذبے کو فروغ دیتا ہے۔

امریکی پینٹاگون کے جاری کردہ وضاحتی بیان کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد علاقائی سکیورٹی کے مضبوط ڈھانچے کے قیام میں اس کمانڈ کے اہم ترین کردار سے لے کر کورین جنگ، ویتنام جنگ اور بے شمار انسانی ہمدردی پر مبنی بین الاقوامی کارروائیوں میں مشترکہ افواج کی بہترین ہم آہنگی تک یو ایس پیسیفک کمانڈ کا یہ تاریخی نام دہائیوں پر مشتمل عسکری ورثے اور دیرپا علاقائی شراکت داریوں کی بھرپور نمائندگی کرتا ہے، پیسیفک کمانڈ کی کلیدی ذمہ داریوں اور اس کی جغرافیائی حدود کے بارے میں محکمۂ دفاع نے واضح کیا کہ امریکہ کے مغربی ساحل کے قریب موجود سمندری پانیوں سے لے کر انڈیا کی مغربی سرحد تک کے تمام تر وسیع ترین علاقے بدستور اسی کمان کے زیرِ اثر اور کنٹرول میں رہیں گے اور اس نام کی تبدیلی کے باوجود اس کے زیرِ اثر علاقوں کی حدود میں کوئی عسکری تبدیلی نہیں کی جا رہی، امریکہ نے انڈیا کے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ کمانڈ کا بنیادی مشن اور علاقائی اتحادیوں و شراکت داروں کے ساتھ خطے کو آزاد اور کھلا برقرار رکھنے کے لیے اس کا غیر متزلزل عزم بالکل تبدیل نہیں ہوا، تاہم دفاعی مبصرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ قدم اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اب واشنگٹن اپنی خارجہ اور فوجی پالیسی میں انڈیا کو پہلے جیسی غیر معمولی اور زبردستی کی غیر مشروط اہمیت دینے کے موڈ میں دکھائی نہیں دیتا۔

پنجاب حکومت نے نئے بجٹ میں تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں پر چھری پھیر دی، مجموعی طور پر ۲۳۲ ارب روپے کی ہوش رُبا کٹوتی، تعلیم کے شعبے میں ترقیاتی فنڈز کو ۵۸ فیصد تک کم کر دیا گیا، تعلیمی و طبی ترقیاتی بجٹ ۱۸۱ ارب سے گھٹ کر صرف ۷۶ ارب ۳۰ کروڑ روپے پر آگیا، اتنی بڑی کٹوتیوں کے باوجود لاہور میں ۱۶۹ ارب روپے کی خطیر لاگت سے نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ سمیت ڈی جی خان، بہاولپور اور ملتان کے ہسپتالوں کے لیے اربوں روپے کے نئے منصوبوں کا اعلان

کاشف عباسی ,june 17,2026

لاہور (بیورو رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

پنجاب کے نئے مالی سال 2026/2027ء کے سالانہ بجٹ میں صوبائی حکومت نے عوام کو بڑا معاشی جھٹکا دیتے ہوئے صحت اور تعلیم جیسے بنیادی و اہم ترین شعبوں کے بجٹ میں اضافے کے بجائے نمایاں کمی کر دی ہے، روزنامہ دنیا اخبار میں سجاد کاظمی اور بلال چودھری کی شائع کردہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے نئے بجٹ میں صوبے کے دو سب سے اہم شعبوں کو شدید مالی دھچکا پہنچایا ہے، جہاں ایک طرف محکمہ صحت کے لیے ۵۰۰ ارب ۶۲ کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے جو صوبے کے مجموعی بجٹ کا ۱۰ فیصد سے زائد بنتا ہے، لیکن اس کے باوجود پچھلے مالی سال کے تقابل میں ایجوکیشن اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے بجٹ میں مجموعی طور پر ۲۳۲ ارب روپے کی بھاری کٹوتی کر دی گئی ہے، بجٹ دستاویزات کے اعداد و شمار کے مطابق تعلیم کے شعبے میں ترقیاتی فنڈز کو ۵۸ فیصد تک کم کر کے صرف ۶۳ ارب ۳۰ کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے، جو تعلیمی ترقیاتی بجٹ پہلے ۱۸۱ ارب روپے تھا اسے اب بے دردی سے کم کر کے صرف ۷۶ ارب ۳۰ کروڑ روپے تک محدود کر دیا گیا ہے یعنی اس مد میں ۱۰۴ ارب ۷۰ کروڑ روپے کی بہت بڑی کٹوتی کی گئی ہے، اس کے علاوہ تعلیم اور صحت کے غیر ترقیاتی بجٹ کو بھی نہیں بخشا گیا اور اسے ۴۵۰ ارب سے کم کر کے ۴۲۴ ارب ۳۲ کروڑ روپے مختص کیا گیا ہے جس میں تقریباً ۲۶ ارب روپے کی بڑی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

بجٹ میں اتنی بڑی کٹوتیوں اور معاشی جھٹکوں کے باوجود حکومت نے صوبے بھر کے لیے کئی نئے ہیلتھ منصوبوں کا اعلان بھی کیا ہے جن کے تحت صوبائی دارالحکومت لاہور میں ۱۶۹ ارب روپے کی خطیر لاگت سے اسٹیٹ آف دی آرٹ ”نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ“ شروع کیا جائے گا جس کے اندر چلڈرن ہسپتال، آرتھوپیڈک، برن اور سرجیکل یونٹس قائم کیے جائیں گے، اس کے ساتھ ہی کلثوم نواز کینسر ہسپتال ڈیرہ غازی خان کے لیے ۱۵ ارب ۲۱ کروڑ روپے، بہاولپور چلڈرن ہسپتال کے لیے ۲۳ ارب ۳۷ کروڑ روپے اور انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ کے لیے ۲۰ ارب روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں، مزید برآں لاہور اور سرگودھا کے کارڈیالوجی منصوبوں کے لیے ۲۸ ارب ۹۴ کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ صوبے بھر میں ۱۵ نئے کارڈیایک سرجری یونٹس کے قیام پر ۹ ارب ۳۰ کروڑ روپے خرچ ہوں گے، وزیراعلیٰ ہارٹ سرجری پروگرام کے لیے ۲۱ ارب ۳ کروڑ روپے اور ٹیچنگ ہسپتالوں میں جدید ترین ایم آر آئی مشینوں کی فراہمی کے لیے ۸ ارب ۳۱ کروڑ روپے اور نیورو کیتھ لیبز کے لیے ۱ ارب ۷۵ کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس بجٹ پر مکسڈ ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے کیونکہ ایک طرف فنڈز کاٹے گئے ہیں تو دوسری طرف اس نئے ہیلتھ فریم ورک کے تحت ۴۳۴ بنیادی مراکزِ صحت (بی ایچ یو) کی مکمل بحالی اور اپ گریڈیشن کے لیے ۹ ارب ۶۰ کروڑ روپے، جبکہ غریب مریضوں کو معیاری ادویات کی مفت فراہمی کے لیے ۱۵ ارب ۲۱ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، گردوں کے مریضوں کے لیے ڈائیلسز پروگرام کی مد میں ۶۶ ارب ۳ کروڑ روپے اور شوگر کے مریضوں کے لیے انسولین اور ضروری ادویات پر ۵ ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، حکومت نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کی بحالی کے لیے ۲ ارب ۴۵ کروڑ روپے، نشتر ہسپتال ملتان کی اپ گریڈیشن کے لیے ۵ ارب ۱۴ کروڑ روپے اور ایمرجنسی سروسز (Rescue 1122) کی توسیع و استعداد کار بڑھانے کے لیے تقریباً ۵ ارب روپے تجویز کیے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ سینیٹ اور صوبائی اسمبلی میں اس کٹوتی پر اپوزیشن کا ردعمل کیا سامنے آتا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نئے مالی سال کے لیے ۳.۵۶۲ کھرب روپے کا شاندار صوبائی بجٹ پیش کر دیا، سندھ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں ۷ فیصد کا بڑا اضافہ، محنت کشوں کی کم از کم ماہانہ اجرت بڑھا کر ۴۳ ہزار روپے مقرر، مشکل معاشی حالات کے باوجود صوبے کے عوام اور تاجر برادری پر کوئی بھی نیا ٹیکس عائد نہ کرنے کا تاریخی اعلان، ایڈہاک ریلیف الاؤنسز بنیادی تنخواہ میں ضم

محمود احمد june 17,2026

کراچی (بیورو رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی کے خصوصی اور ہنگامی اجلاس میں نئے مالی سال کا سالانہ بجٹ پیش کر دیا ہے، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، ریٹائرڈ افراد کی پنشن اور غریب مزدوروں کی کم از کم ماہانہ اجرت میں نمایاں اضافے سمیت عوامی و کاروباری طبقے کے لیے انتہائی اہم اور انقلابی ریلیف اعلانات کیے گئے ہیں، کراچی سے حاصل ہونے والی صوبائی بجٹ کی تفصیلی دستاویزات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی کے پروقار بجٹ اجلاس میں مالی سال 2026/2027ء کے لیے صوبے کا کل بجٹ پیش کیا، بجٹ تقریر کے دوران وزیراعلیٰ نے صوبے کے عوام، سرکاری ملازمین اور تاجر برادری کے لیے بڑے ریلیف اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے صوبائی معیشت اور ٹیکسوں کے حوالے سے اپنی حکومت کی عوام دوست پالیسی کو بالکل واضح کر دیا، معلوم ہوا ہے کہ نئے مالی سال کے لیے سندھ کے کل بجٹ کا مجموعی حجم ۳.۵۶۲ کھرب روپے فکس رکھا گیا ہے جبکہ صوبے کے غریب عوام اور کاروباری طبقے کے لیے اس نئے بجٹ میں کسی بھی قسم کا نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا جو کہ ایک بہت بڑی سفارتی و معاشی کامیابی ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہماری حکومت مشکل ترین ملکی معاشی حالات میں بھی عوام اور تاجر برادری کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہے۔

صوبائی حکومت نے مہنگائی کے اس دور میں سندھ کے سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ افراد کی بڑی دلی مراد پوری کرتے ہوئے صوبے کے تمام سرکاری ملازمین کی ماہانہ تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں ۷ فیصد یکمشت اضافے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے، اس کے ساتھ ہی ملازمین کی بنیادی تنخواہوں کے ڈھانچے اور اسٹرکچر کو مستقل بنیادوں پر بہتر بنانے کے لیے پرانے ایڈہاک ریلیف الاؤنس ۲۰۲۲ء اور ایڈہاک ریلیف الاؤنس ۲۰۲۵ء کو ہمیشہ کے لیے بنیادی تنخواہ (بیسک پے) کے اندر ہی ضم کرنے کا بھی ایک بڑا اور تاریخی فیصلہ کیا گیا ہے جس سے سرکاری ملازمین کو الاؤنسز کی مد میں مزید مالی فائدہ حاصل ہو گا، اس کے علاوہ صوبے کے غریب دیہاڑی دار اور نجی شعبے کے مزدور طبقے کو بڑی خوشخبری سناتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ سندھ بھر میں کسی بھی مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت کو اب ۴۰ ہزار روپے سے بڑھا کر ۴۳ ہزار روپے مقرر کر دیا گیا ہے، جس پر صوبے کے تمام نجی کارخانوں، فیکٹریوں اور سرکاری اداروں کو سختی سے عمل کرنا ہوگا اور خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ہو گی، سندھ اسمبلی میں یہ بھاری بجٹ پیش کیے جانے کے بعد اب اس پر اپوزیشن اور حکومتی اراکینِ اسمبلی کی جانب سے تفصیلی بحث اور شق وار منظوری کا باقاعدہ عمل شروع کیا جائے گا۔


اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہائپر اجلاس میں پاکستان کا بڑا اور جرات مندانہ مؤقف، یمن کے دیرینہ بحران کے مستقل حل کے لیے جامع سیاسی عمل اور بامعنی مذاکرات کو ناگزیر قرار دے دیا، مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا حوثی باغیوں سے اقوامِ متحدہ کے زیرِ حراست تمام بین الاقوامی اہلکاروں کو فوری رہا کرنے کا کڑا مطالبہ، عالمی برادری سے یمن کے غریب عوام کے لیے ہنگامی امدادی فنڈز بڑھانے کی اپیل

محمود احمد june 17,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کے سب سے بڑے انسانی المیے یعنی یمن بحران کے مستقل خاتمے اور وہاں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک بار پھر تمام تر جنگی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے جامع سیاسی عمل اور فریقین کے مابین براہِ راست مذاکرات کو ناگزیر قرار دے دیا ہے، اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز نیویارک سے حاصل ہونے والی اعلیٰ سطحی سفارتی تفصیلات کے مطابق اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل (سیکیورٹی کونسل) کے اہم اور ہنگامی اجلاس سے باضابطہ خطاب کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ یمن کے اس پیچیدہ تنازع کا دیرپا اور پائیدار حل صرف اور صرف غیر جانبدار سفارت کاری اور سیاسی مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے، انہوں نے سلامتی کونسل کے سامنے پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یمنی عوام اور ان کی اپنی مقامی قیادت کے زیرِ اثر چلنے والے سیاسی عمل کی پاکستان بھرپور حمایت کرتا ہے کیونکہ تمام مقامی یمنی فریقوں کے درمیان ہونے والے بامعنی اور سنجیدہ مذاکرات ہی اس تباہ حال ملک کو دوبارہ استحکام، خوشحالی اور مستقل امن کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔

پاکستانی مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یمن میں حالیہ کچھ عرصے کے دوران عسکری کشیدگی میں ہونے والی نمایاں کمی اور فریقین کے مابین اعتماد سازی کے ابتدائی اقدامات کو ایک انتہائی مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے دونوں جانب سے قیدیوں کے تبادلے کے حالیہ معاہدے کا کھلے دل سے خیرمقدم کیا ہے، پاکستان نے صدارتی قیادت کونسل کی اپنی اصولی حمایت کا عزم دہراتے ہوئے یمن کے معاملے پر مامور اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی کی انتھک سفارتی کوششوں اور تگ و دو کو بھی زبردست الفاظ میں سراہا، تاہم اس موقع پر پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے حوثی جنگجوؤں سے ایک بڑا اور سخت عالمی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حوثی اپنی تحویل اور زیرِ حراست لیے گئے اقوامِ متحدہ کے تمام معصوم اہلکاروں، سفارتکاروں اور دیگر بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے امدادی عملے کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کریں تاکہ جنگ زدہ علاقوں میں انسانی امدادی سرگرمیوں کو بغیر کسی خوف و خطر اور مؤثر انداز میں جاری رکھا جا سکے کیونکہ اس عملے کی بندش سے لاکھوں معصوم بچوں اور خواتین کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔

پاکستان نے سیکیورٹی کونسل کے ایوان میں یمن کی روز بروز بگڑتی ہوئی ہولناک انسانی اور اقتصادی صورتحال پر گہری تشویش اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے دنیا کو بتایا کہ لاکھوں کی تعداد میں یمنی شہری اس وقت بھی زندگی کی بنیادی ترین ضروریات، ادویات اور بیرونی انسانی امداد کے سخت محتاج ہیں، اس نازک موقع پر پاکستانی مندوب نے عالمی برادری اور امیر ممالک پر زور دیا کہ وہ یمن کے لیے مخصوص امدادی فنڈز میں فوری اور خطیر اضافہ کریں اور وہاں کی معاشی بحالی کے لیے بین الاقوامی تعاون کے دائرے کو مزید فروغ دیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں حالیہ مثبت سفارتی لہر اور کشیدگی میں کمی یہ ثابت کرتی ہے کہ گولی کے بجائے سفارت کاری کی اہمیت کتنی زیادہ ہے اور یہی عمل یمن میں مستقل امن کے امکانات کو دنیا بھر میں مزید مضبوط بنا سکتا ہے، انہوں نے سلامتی کونسل کے تمام مستقل ارکان سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ یمن میں امن و استحکام کی واپسی کے لیے اپنا متحد، غیر جانبدار اور مؤثر کردار ادا کریں، پاکستان نے ایک بار پھر پرامن، متحد، مستحکم اور خوشحال یمن کے قیام کے لیے اپنے اصولی عزم کو دہراتے ہوئے قوی امید ظاہر کی ہے کہ جاری عالمی سفارتی کوششیں یمنی عوام کو جنگ کی ہولناکیوں سے نجات دلا کر امن، ترقی اور خوشحالی کے حقیقی ثمرات فراہم کرنے میں ہر صورت مددگار ثابت ہوں گی۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی کا نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کا تاریخی دورہ، مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد سے اہم ملاقات، کرکٹ اسٹار کو عالمی ادارے کے امن مشنز اور پائیدار ترقی کے امور پر خصوصی بریفنگ، سفیر عاصم افتخار احمد کی جانب سے شاہد آفریدی کی فلاحی خدمات اور جارحانہ بیٹنگ کو شاندار خراجِ تحسین، کھیل کو عالمی سفارت کاری کا مؤثر ذریعہ قرار دے دیا، اعزاز میں پروقار عشائیہ

محمود احمد june 17,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق مایہ ناز کپتان، دنیا بھر میں بوم بوم کے نام سے مشہور لیجنڈری آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کی خصوصی اور باضابطہ دعوت پر نیویارک میں واقع اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کا ایک یادگار اور تفصیلی دورہ کیا ہے، نیویارک کے سفارتی ذرائع سے حاصل ہونے والی خصوصی تفصیلات کے مطابق اس اعلیٰ سطحی دورے کے دوران شاہد آفریدی کو اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کی تاریخی عمارت کے مختلف حصوں کا تفصیلی معائنہ کرایا گیا اور انہیں عالمی تنظیم کے طریقہ کار، دنیا بھر میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے مستقل فروغ، غریب ممالک کی پائیدار ترقی اور کثیرالجہتی تعاون کو بڑھانے میں اقوامِ متحدہ کے کلیدی کردار کے بارے میں اعلیٰ حکام کی جانب سے خصوصی بریفنگ دی گئی، ہیڈکوارٹرز میں قائم پاکستانی مشن میں ہونے والی اس باضابطہ ملاقات کے دوران مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے شاہد آفریدی کا والہانہ خیرمقدم کیا اور بین الاقوامی کرکٹ کے میدانوں میں پاکستان کے لیے ان کی طویل اور شاندار خدمات کو دل کھول کر سراہا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے شاہد آفریدی کے شاندار کرکٹ کیریئر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی روایتی جارحانہ، بے باک اور دلکش بیٹنگ، خطرناک اسپن بولنگ اور میدان میں طوفانی شاٹس کے ذریعے دنیا بھر کے کروڑوں کرکٹ شائقین کے دلوں پر راج کیا اور ہمیشہ ہراول دستے کے طور پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم پوری دنیا میں بلند کیا، پاکستانی سفیر نے کرکٹ کے میدان سے ہٹ کر شاہد آفریدی کی فلاحی اور انسانی خدمات کی سرگرمیوں، بالخصوص شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کے فلاحی کاموں کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی سماجی بہبود کی مخلصانہ کاوشوں نے ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی زندگیوں پر انتہائی مثبت اور گہرے اثرات مرتب کیے ہیں جو کہ سب کے لیے قابلِ فخر ہے، دورانِ گفتگو سفیر عاصم افتخار احمد نے اس اہم نقطے پر خاص طور پر زور دیا کہ موجودہ دور میں کھیل دراصل سپورٹس ڈپلومیسی (کھیل سفارت کاری) کا ایک سب سے مؤثر اور طاقتور ذریعہ بن چکے ہیں جو جغرافیائی سرحدوں اور نظریاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر مختلف قوموں اور عوام کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ کھیل کے میدان دنیا میں باہمی احترام، افہام و تفہیم، عالمی امن، خیرسگالی اور بین الاقوامی برادری کے درمیان جاندار تعاون کو بڑھانے کے لیے ایک بہترین اور متحرک پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے مایہ ناز آل راؤنڈر کو اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی روزمرہ کی سفارتی سرگرمیوں اور عالمی سطح پر پاکستان کے ٹھوس موقف کے بارے میں بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا، جن میں کثیرالجہتی بین الاقوامی نظام کے فروغ، مختلف تہذیبوں کے مابین مکالمے اور سفارت کاری کو آگے بڑھانے سمیت دنیا میں امن و سلامتی کے مستقل قیام کے لیے پاکستان کی مخلصانہ اور فعال کاوشیں شامل ہیں، اس موقع پر سابق کپتان شاہد آفریدی نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کے اس یادگار دورے کی دعوت دینے اور نیویارک آمد پر انتہائی پرتپاک میزبانی کا مظاہرہ کرنے پر سفیر عاصم افتخار احمد اور پاکستان مشن کے تمام عملے کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، شاہد آفریدی نے اقوامِ متحدہ کے فورم پر پاکستان کے مستقل مشن کی شاندار خدمات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مشن عالمی سطح پر اقوام کے درمیان باہمی افہام و تفہیم، مفید مکالمے اور کثیرالجہتی تعاون کے فروغ کے ساتھ ساتھ دیرینہ علاقائی تنازعات کے پرامن حل کے لیے ہمیشہ ایک قابلِ قدر اور جرات مندانہ کردار ادا کرتا آیا ہے، اس تاریخی دورے نے اس مشترکہ اور مضبوط سوچ کی واضح عکاسی کی ہے کہ کھیل اور روایتی سفارت کاری مل کر عوام اور مختلف اقوام کے درمیان باہمی روابط کو فولادی بنانے اور ایک زیادہ پُرامن، خوشحال اور تعاون پر مبنی عالمی ماحول کی تشکیل میں انتہائی کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں، بعد ازاں سفیر عاصم افتخار احمد نے شاہد آفریدی کے اعزاز میں نیویارک کے ایک پروقار مقام پر شاندار عشائیے کا اہتمام بھی کیا، اس الوداعی تقریب کے موقع پر اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون، پاکستان مشن کے تمام سینیئر افسران اور نیویارک کی چند دیگر اہم ترین شخصیات بھی موجود تھیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا بجلی کے بلوں میں شامل فکسڈ چارجز کے خلاف سخت ایکشن، فکسڈ چارجز کو غریب عوام کے لیے عذابِ الٰہی قرار دے کر فوری ختم کرنے کا بڑا مطالبہ، پارلیمنٹ لاجز میں اصل بجلی چھ ہزار جبکہ فکسڈ چارجز سات ہزار روپے لگانے پر سینیٹر کامل علی آغا پھٹ پڑے، اگلی اہم بیٹھک میں وزارتِ توانائی کے اعلیٰ حکام طلب، نئے بجٹ میں درآمدی ڈیوٹیز میں کمی سے حکومت کو ۱۴۳ ارب روپے کے ریونیو نقصان کا انکشاف

منصور احمد june 17,2026

اسلام آباد (پولیٹیکل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے بجلی کے ماہانہ بلوں میں شامل ظالمانہ فکسڈ چارجز کو غریب عوام کے لیے ایک بہت بڑا عذاب قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر یکمشت ختم کرنے کا بڑا مطالبہ کر دیا ہے، سینیٹ کمیٹی نے اس سنگین معاملے کا سخت ترین نوٹس لیتے ہوئے فکسڈ چارجز کے فوری خاتمے کے یک نکاتی ایجنڈے پر اگلی ہی ہٹنگ میں وزارتِ توانائی کے تمام اعلیٰ حکام اور مقتدر افسران کو جواب دہی کے لیے طلب کر لیا ہے، وفاقِ دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی پارلیمانی تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا ایک اہم ترین اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں بجلی کے بلوں میں ہونے والی اندھا دھند اوور بلنگ، نت نئے فکسڈ ٹیکسز اور آئندہ مالی سال کے نئے بجٹ میں کسٹمز ڈیوٹیز کے حوالے سے متعلقہ محکموں کی جانب سے تفصیلی بریفنگز دی گئیں، اجلاس کے دوران بجلی کے بلوں میں لگے انوکھے فکسڈ چارجز کا معاملہ اٹھاتے ہوئے سینیٹر کامل علی آغا شدید غصے میں پھٹ پڑے اور انہوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والا سچا واقعہ پورے ایوان کے سامنے رکھ کر حکومتی کارکردگی کا پول کھول دیا۔

سینیٹر کامل علی آغا نے کمیٹی کو بتایا کہ بجلی کے بلوں پر عائد فکسڈ چارجز اس وقت ملک کی غریب اور سفید پوش عوام کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں ہیں، انہوں نے انکشاف کیا کہ میرے اپنے پارلیمنٹ لاجز کے بل میں استعمال ہونے والے بجلی کے یونٹس کی اصل قیمت صرف ۶ ہزار ۲۰۰ روپے ہے لیکن اس بل کے اوپر حکومت نے ۶ ہزار ۸۰۰ روپے کے اضافی فکسڈ چارجز لگا دیے ہیں یعنی اصل استعمال شدہ بجلی کی قیمت سے بھی زیادہ ٹیکسز زبردستی وصول کیے جا رہے ہیں، انہوں نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ اس ظالمانہ نظام کی وجہ سے جو غریب بندہ پورے مہینے میں صرف ۱۰۰ یونٹس استعمال کر رہا ہے اسے ان فکسڈ چارجز کی وجہ سے مجبوراً ۴۰۰ یونٹ کے برابر بھاری رقم ادا کرنی پڑ رہی ہے جو غریب عوام کا معاشی قتل ہے، اجلاس کے دوسرے حصے میں سیکرٹری تجارت جواد پال نے کمیٹی کو نئے وفاقی بجٹ میں کسٹمز اور امپورٹ ڈیوٹیز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں درآمدی ٹیرف میں نمایاں کمی کی تجویز دی گئی ہے اور ڈیوٹیز میں اس بڑی کمی کی وجہ سے حکومت کو مجموعی طور پر ۱۴۳ ارب روپے سے زائد کا خطیر ریونیو نقصان خود برداشت کرنا پڑے گا۔

سیکرٹری تجارت نے بجٹ میں امپورٹڈ اشیاء پر ٹیکسوں کی نئی شرح کی تفصیلات بتاتے ہوئے سینیٹ کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ۲۰ فیصد سے زائد کسٹمز ڈیوٹی والی اشیاء پر زیادہ سے زیادہ شرح کو ۵0 فیصد تک ہی محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ اضافی کسٹمز ڈیوٹی میں مرحلہ وار کمی کی تجویز دی گئی ہے جس کے تحت اضافی کسٹمز ڈیوٹی کی شرح کو پہلے ۶ فیصد سے کم کر کے ۴ فیصد، پھر ۴ سے کم کر کے ۲ فیصد اور آخر میں ۲ فیصد سے بھی کم کر کے بالکل صفر یعنی ختم کر دیا جائے گا، تاہم ملکی صنعت کے تحفظ کے لیے بعض مخصوص امپورٹڈ اشیاء پر ۲ فیصد اضافی کسٹمز ڈیوٹی بدستور برقرار رہے گی، سینیٹ کمیٹی نے بجلی کے بلوں پر عوامی شکایات کو دور کرنے کے لیے اگلے اجلاس میں کڑی پوچھ گچھ کا فیصلہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر اکثر سرخیوں میں رہنے والے مفتی عبدالقوی کی نئی ویڈیو وائرل، ڈیجیٹل کنٹینٹ کریئٹر فریحہ فرخ کو اپنی پوتی قرار دے دیا، نازیبا کمنٹس اور تنقید کرنے والوں کو سخت وارننگ، میلی نگاہ ڈالنے والوں کو مفتی عبدالقوی کے سائے کا خوف دلا دیا، نوجوان نسل کو زبان میٹھی اور ذہن مثبت رکھنے کی نصیحت

کاشف عباسی ,june 17,2026

لاہور (ویب ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

سوشل میڈیا پر اپنے اچھوتے انداز، متنازعہ بیانات اور مختلف ویڈیوز کے باعث اکثر و بیشتر سرخیوں اور خبروں کی زینت بنے رہنے والے معروف مذہبی سکالر مفتی عبدالقوی کی سوشل میڈیا کی مشہور انفلواینسر فریحہ فرخ کے ساتھ ایک بالکل نئی اور اچھوتی ویڈیو وائرل ہو گئی ہے جس نے ڈیجیٹل صارفین کی تمام تر توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے، لاہور سے حاصل ہونے والی سوشل میڈیا تفصیلات کے مطابق معروف ڈیجیٹل کنٹینٹ کریئٹر فریحہ فرخ کے ساتھ بنائی گئی اس نئی ویڈیو میں مفتی عبدالقوی نے انہیں اپنی سگی ”پوتی“ قرار دے دیا ہے، اس وائرل ویڈیو میں انہوں نے فریحہ فرخ پر بلاوجہ تنقید کرنے والوں اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر نازیبا کمنٹس اور جملے کسنے والے صارفین کو سخت الفاظ میں ٹوکتے ہوئے کڑی وارننگ جاری کر دی ہے، مفتی عبدالقوی نے ویڈیو میں اپنے مخصوص اندازِ گفتگو میں واشگاف الفاظ میں کہا کہ یہ فریحہ میری پوتی ہے اور آج کے بعد اگر کسی بھی شخص نے میری اس پیاری پوتی پر ذرا سی بھی میلی نگاہ ڈالی تو وہ یہ بات اچھی طرح اپنے ذہن میں یاد رکھے کہ اب فریحہ کے سر پر سایہ ان کے دادا قبلہ مفتی عبدالقوی صاحب کا ہے اس لیے کوئی ان کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتا۔

انہوں نے کیمرے کے سامنے سوشل میڈیا صارفین کو کڑی تنبیہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ آج کے بعد میری اس پوتی کے لیے آپ میں سے کسی نے بھی اگر کوئی بھی غلط، نازیبا یا گھٹیا لفظ بولا یا کمنٹس میں لکھا تو یاد رکھیں مفتی عبدالقوی زندہ باد اور پوتی پائندہ باد، سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں اپنے روایتی اور دھیمے انداز میں بات کو آگے بڑھاتے ہوئے مفتی عبدالقوی نے ملک بھر کے نوجوانوں کو ایک اہم نصیحت بھی کی، ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو ہر حال میں اپنے ذہنوں کو صاف، نیک اور مثبت رکھنا چاہیے، آج کی بھٹکی ہوئی نوجوان نسل کے لیے میرا صرف ایک ہی مخلصانہ پیغام ہے کہ اپنا ذہن ہر معاملے میں مثبت رکھیں اور اپنی زبان کو ہمیشہ دوسروں کے لیے میٹھا بنائیں، مفتی عبدالقوی اور فریحہ فرخ کی اس نئی ویڈیو پر انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے ملے جلے ردعمل، طنز اور دلچسپ تبصروں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔

ڈی پی او حافظ آباد کا تبادلہ خالصتاً انتظامی فیصلہ ہے، گیٹ لاسٹ معاملے پر آئی جی پنجاب کی بڑی وضاحت، تبادلے اور تعیناتیاں پولیس ایڈمنسٹریشن کا معمول کا حصہ ہیں، پنجاب پولیس غیر جانبدارانہ کارروائیوں، سخت ڈسپلن اور عوامی خدمت پر فوکس برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، افواہیں دم توڑ گئیں

کاشف عباسی ,june 17,2026

لاہور (بیورو رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

پنجاب پولیس کے محکمے میں اعلیٰ سطح پر ہونے والے حالیہ تبادلوں اور تعیناتیوں کے حوالے سے آئی جی پنجاب عبد الکریم کا ایک انتہائی اہم اور وضاحتی بیان سامنے آیا ہے، سوشل میڈیا، عوامی اور سیاسی حلقوں میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) حافظ آباد کے اچانک تبادلے کو لے کر کی جانے والی تیز چہ مگوئیوں، گیٹ لاسٹ معاملے اور مختلف قیاس آرائیوں کے بعد آئی جی پنجاب نے اس بڑے فیصلے کے اصل پسِ منظر کو مکمل طور پر واضح کر دیا ہے، لاہور سے حاصل ہونے والی دفتری تفصیلات کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب راؤ عبد الکریم نے ڈی پی او حافظ آباد کے حالیہ تبادلے کے حوالے سے پیدا ہونے والے تمام تر ابہام اور غلط فہمیوں کو دور کرتے ہوئے ایک باقاعدہ وضاحتی بیان جاری کیا ہے، اس سلسلے میں سینٹرل پولیس آفس سے جاری کردہ سرکاری اعلامیہ میں آئی جی پنجاب نے اپنے بیان میں دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ڈی پی او حافظ آباد کا تبادلہ کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ، اثر و رسوخ یا سیاسی محرک کا نتیجہ ہرگز نہیں ہے، بلکہ یہ خالصتاً پولیس ڈیپارٹمنٹ کا اپنا ایک اندرونی انتظامی فیصلہ ہے، یہ تبدیلی محکمہ پولیس کی اندرونی تنظیمی ضروریات، محکمانہ قواعد و ضوابط اور بہترین حکمتِ عملی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے عمل میں لائی گئی ہے جس کا کسی بیرونی واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پولیس فورس کے اندرونی نظم و نسق، چین آف کمانڈ اور ڈسپلن کے حوالے سے تفصیل سے بات کرتے ہوئے آئی جی پنجاب راؤ عبد الکریم کا کہنا تھا کہ پولیس ایڈمنسٹریشن کے اندر افسران کے ایک جگہ سے دوسری جگہ تبادلے اور نئی تعیناتیاں کرنا سروس کا ایک مستقل اور معمول کا حصہ ہیں، جن کا واحد مقصد فیلڈ میں پولیس کی مجموعی کارکردگی کو مزید بہتر اور فعال بنانا ہوتا ہے، انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس کا تمام تر فوکس اور توجہ مکمل طور پر غیر جانبدارانہ پولیسنگ، فورس کے اندر سخت ترین ڈسپلن کی برقرار سازی اور مظلوم شہریوں کو فوری انصاف و عوامی خدمت کی فراہمی پر مرکوز ہے، اور محکمہ ان بنیادی اصولوں پر ہمیشہ سختی سے کاربند رہے گا، پولیس ماہرین کے مطابق آئی جی پنجاب کے اس واشگاف اور بروقت بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ڈی پی او حافظ آباد کے تبادلے کے حوالے سے چلنے والی تمام من گھڑت افواہیں اور منفی پروپیگنڈا مکمل طور پر دم توڑ گیا ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے ٹیلی کام کمپنیوں کو شہریوں کی نجی املاک پر زبردستی ٹاورز اور مشینری لگانے کے غیرمعمولی اختیارات دینے کی تیاری، انکار یا رکاوٹ ڈالنے پر شہریوں کو ۵ کروڑ روپے تک کے بھاری جرمانے کا سنسنی خیز انکشاف، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بل پیش ہونے پر حکومتی و اپوزیشن سینیٹرز شدید حیران اور تشویش کا شکار، پلوشہ خان، افنان اللہ اور سعدیہ عباسی کے سخت اعتراضات کے بعد بل کی منظوری مؤخر

منصور احمد june 17,2026

اسلام آباد (پولیٹیکل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں موبائل کمپنیوں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک ایسا حیران کن ترمیمی بل متعارف کروایا گیا ہے جس کے تحت اب ٹیلی کیمونیکیشن کمپنیاں کسی بھی شہری کی ذاتی جائیداد، گھر، دکان، پلاٹ یا جگہ کو محض ۳۰ دن کے مختصر نوٹس پر خالی کروا کر وہاں اپنے ٹاورز اور بھاری مشینری نصب کر سکیں گی اور اس قانون کی خلاف ورزی، انکار یا رکاوٹ ڈالنے پر عام پاکستانی شہریوں کو ۵ کروڑ روپے تک کا بھاری فائن اور جرمانہ بھگتنا ہو گا، وفاقِ دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی سنسنی خیز پارلیمانی تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ کی جانب سے سینیٹ کے جاری سیشن میں ”پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) (ترمیمی) بل ۲۰۲۶“ پیش کیا گیا ہے، یہ بل قومی اسمبلی سے پہلے ہی کثرتِ رائے سے پاس ہو چکا ہے، تاہم جیسے ہی یہ بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کام کے سپرد کیا گیا تو سینیٹر پلوشہ خان کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس کے دوران اس کی ہوش رُبا شقوں پر حکومتی اور اپوزیشن ارکانِ کمیٹی دنگ رہ گئے اور انہوں نے اس پر شدید ترین تحفظات کا اظہار کر دیا۔

معلوم ہوا ہے کہ اس متنازع ترمیمی بل میں ایک بالکل نئی شق ”سیکشن ۲۷ بی“ شامل کی گئی ہے جس کے تحت اگر کوئی بھی غریب یا امیر مالکِ مکان، دکاندار، کرایہ دار، زمیندار یا کوئی نجی ادارہ ٹیلی کام کمپنیوں کو تیز انٹرنیٹ کی فائبر کیبل بچھانے یا موبائل ٹاورز و دیگر الیکٹرانک مشینری لگانے کے لیے حقوقِ راہداری دینے سے صاف انکار کرے گا، یا اس کام میں کسی بھی قسم کی تاخیر یا قانونی رکاوٹ کا سبب بنے گا، تو حکومتِ وقت اس عام شہری پر ۵ کروڑ روپے تک کا کمر توڑ جرمانہ عائد کرنے کی مجاز ہو گی، سینیٹر پلوشہ خان کی سربراہی میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں مسلم لیگ ن کے سینیٹر افنان اللہ، پیپلز پارٹی کی سینیٹر سعدیہ عباسی اور دیگر تمام اراکین نے بل کی سخت زبان اور شہریوں کی نجی املاک کے بنیادی حقوق پر گہرے اور تیکھے سوالات اٹھائے، سینیٹرز نے سخت مؤقف اپنایا کہ قانون کی آڑ میں کسی بھی پاکستانی شہری کو اس بات پر ہرگز مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنی نجی جائیداد، چھت یا گھر پر خطرناک شعاعیں خارج کرنے والے ٹیلی کام ٹاورز لگانے کی زبردستی اجازت دے، جب تک شہریوں کے حقوق کا واضح تحفظ اور باہمی رضامندی کا کوئی سو فیصد شفاف طریقہ کار سامنے نہیں لایا جاتا تب تک ایسی مبہم اور صوابدیدی شقوں کو ہرگز تسلیم نہیں کیا جائے گا جن سے عوام کا استحصال ہو۔

کمیٹی میں سینیٹرز کے اس شدید اور تگڑے احتجاج کے بعد وزارتِ آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے اعلیٰ حکام نے گھبرا کر بل کے مقاصد پر وضاحتیں پیش کیں اور اراکین کو یقین دہانی کرائی کہ اس نئے قانون کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ شہریوں کی نجی املاک پر زبردستی قبضہ کیا جائے یا ان کی اراضی چھینی جائے، ٹاورز اور فائبر کی تنصیب مروجہ ملکی قوانین اور باہمی تجارتی معاہدوں کے تحت ہی ہو گی، حکام نے عذر پیش کیا کہ اس بل کا بنیادی مقصد ملک میں انٹرنیٹ کی سست رفتار کو تیز کرنا، فائیو جی انٹرنیٹ سروسز کے لیے موبائل ٹاورز کی فائبر ائزیشن کا کام تیز کرنا اور وفاقی و صوبائی محکموں کے درمیان جاری روٹ کے دیرینہ تنازعات کو ختم کرنا ہے تاکہ ڈیجیٹل پاکستان کے اہداف حاصل کیے جا سکیں، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے معاملے کی سنگینی، عوامی حقوق اور حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بل پر مزید غور کرنے اور اس کا شق وار باریک بینی سے جائزہ لینے کے لیے اس کی منظوری کو اگلے اجلاس تک مستقل مؤخر کر دیا ہے تاکہ مبہم الفاظ کو تبدیل کر کے شہریوں کی نجی املاک کے تحفظ کو سو فیصد یقینی بنایا جا سکے۔

لاہور کے علاقے سندر میں انتطامیہ کی مجرمانہ غفلت کا ہولناک نتیجہ، سڑک پر کھلا مین ہول پانچ سالہ معصوم حسن کی زندگی نگل گیا، ریسکیو کی لاش نکالنے کی تصدیق، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا سخت نوٹس اور ہنگامی رپورٹ طلب، ضلعی انتطامیہ کے خلاف کارروائی کا حکم

منصور احمد june 16,2026

لاہور (بیورو رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے سندر میں انتظامیہ کی شدید لاپرواہی اور مجرمانہ غفلت کے باعث ایک اور دلخراش اور انتہائی افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے جہاں ایک کھلا مین ہول معصوم بچے کی زندگی نگل گیا، حاصل ہونے والی لرزہ خیز تفصیلات کے مطابق پانچ سالہ معصوم بچہ حسن سڑک کنارے کھیلتے ہوئے اچانک بغیر ڈھکن کے کھلے ہوئے گہرے مین ہول میں جا گرا، واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو الیون ٹو ٹو کی ٹیمیں اور مقامی پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور امدادی آپریشن شروع کیا، ریسکیو اہلکاروں نے سخت تگ و دو کے بعد معصوم بچے حسن کو مین ہول کے گندے پانی سے باہر نکال لیا، تاہم وہ ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ چکا تھا اور جانبر نہ ہو سکا، معصوم بچے کی موت کی خبر گھر پہنچتے ہی کہرام مچ گیا اور پورے علاقے میں سوگ کی لہر دوڑ گئی۔

واقعے کے فوراً بعد مقامی پولیس نے موقع پر پہنچ کر واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات اور ضروری قانونی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، پولیس کی ابتدائی تفتیشی رپورٹ کے مطابق واسا اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مین ہول کا ڈھکن غائب ہونے اور اسے کھلا چھوڑنے کے باعث ہی یہ پُردرد حادثہ پیش آیا ہے، دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سندر میں معصوم بچے کے جاں بحق ہونے کے اس ہولناک واقعے کا سخت ترین نوٹس لیتے ہوئے کمشنر لاہور اور واسا حکام سے فوری طور پر تفصیلی اور ہنگامی رپورٹ طلب کر لی ہے، وزیراعلیٰ نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس سنگین غفلت کے ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور ان کے خلاف سخت قانونی ایکشن لیا جائے گا۔

شہری اور سماجی حلقوں نے اس دردناک واقعے پر واسا اور لاہور انتظامیہ کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک حادثہ نہیں بلکہ انتظامیہ کی جانب سے کیا گیا قتل قرار دیا ہے، شہریوں کا پرزور مطالبہ ہے کہ لاہور بھر میں موجود تمام کھلے مین ہولز اور دیگر خطرناک گٹروں کی فوری نشاندہی کر کے وہاں نئے ڈھکن لگائے جائیں اور غفلت برتنے والے ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور غریب کا معصوم بچہ اس طرح کے المناک اور اندوہناک واقعات کا شکار ہونے سے ہمیشہ کے لیے محفوظ رہ سکے۔

اقوامِ متحدہ کا آبنائے ہرمز میں فوری انسانی امدادی راہداری کھولنے کا پرزور مطالبہ، بحری نقل و حمل میں رکاوٹوں سے عالمی سطح پر خوراک، ایندھن اور کھاد کی سپلائی شدید متاثر، یو این ہائی کمشنر وولکر ترک اور سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے امریکہ ایران امن معاہدے اور جنگ بندی کا شاندار خیرمقدم

محمود احمد june 16,2026

اقوامِ متحدہ (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

عالمی سلامتی اور معیشت کے حوالے سے اقوامِ متحدہ نے ایک انتہائی اہم اور ہنگامی بیان جاری کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں فوری طور پر ایک محفوظ انسانی امدادی راہداری کھولنے کا پرزور مطالبہ کر دیا ہے تاکہ دنیا بھر میں خوراک، ایندھن اور دیگر تمام ضروری اشیاء کی معطل شدہ ترسیل کو فوری بحال کر کے ممکنہ ہولناک عالمی غذائی بحران کا رستہ روکا جا سکے، اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق خطے میں جاری حالیہ جنگ اور بحری نقل و حمل میں حائل رکاوٹوں نے عالمی سطح پر توانائی، خوراک کی منڈیوں اور انسانی امداد کی بین الاقوامی فراہمی کو شدید ترین نقصان پہنچایا ہے، اسی حساس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی نائب ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ایوا ڈیبو نے پوری دنیا کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز جیسی حساس ترین گزرگاہ کی مکمل بندش یا اس کی محدود فعالیت دنیا کی پہلے سے پسماندہ اور کمزور معیشتوں کو ناقابلِ تلافی مالی نقصان پہنچا سکتی ہے، جس کے براہِ راست نتیجے کے طور پر عالمی سطح پر غربت، افلاس اور بھوک کے مہیب سائے مزید گہرے ہو جائیں گے۔

دوسری جانب اس بحران کے بیچ اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے عالمی طاقت امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان طے پانے والے نئے امن معاہدے اور مستقل جنگ بندی کا کھلے دل سے خیرمقدم کیا ہے اور تمام متعلقہ فریقین پر سخت زور دیا ہے کہ وہ خطے میں اب مکمل تحمل کا مظاہرہ کریں اور اس عارضی پیش رفت کو مستقل امن میں بدلنے کے لیے مخلصانہ کوششیں تیز کریں، اسی اثناء میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اپنے ایک تہنیتی بیان میں امریکہ ایران امن معاہدے کو مشرقِ وسطیٰ کے طویل تنازعے کے خاتمے کی جانب ایک انتہائی کلیدی اور تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے تجارتی مقاصد کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کے فیصلے کی بھرپور حمایت کی ہے، اقوامِ متحدہ اور اس کے تمام ذیلی امدادی اداروں نے متفقہ طور پر دنیا کو یہ خطرے کی گھنٹی سنائی ہے کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی حالیہ رکاوٹوں کے باعث خوراک، فصلوں کے لیے ضروری کھاد اور خام تیل (ایندھن) کی عالمی سپلائی چین بری طرح مفلوج ہو کر رہ گئی ہے، جس کے سنگین اثرات اب صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کے جھٹکے سرحدوں سے باہر پوری دنیا میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

عالمی سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے حالیہ تاریخی امن فریم ورک کے مسودے میں آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے اور خطے میں جاری جنگ بندی کو مستقل قانونی شکل دینے کی کڑی شقیں شامل کی گئی ہیں، تاہم اس پورے فریم ورک کے سو فیصد نفاذ اور زمین پر اس کی عملی شکل دیکھنے کے لیے فریقین کے مابین ابھی مزید چند اعلیٰ سطح کے مذاکرات درکار ہوں گے، بین الاقوامی دفاعی اور معاشی ماہرین کے مطابق یہ حالیہ سفارتی پیش رفت اس وقت عالمی معیشت کو سہارا دینے، تیل کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام اور غریب ممالک کو خوراک کی بلاتعطل فراہمی کے لیے نہایت اہم اور ریڑھ کی ہڈی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم اور بڑی بحری تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے روزانہ کروڑوں بیرل تیل دنیا بھر میں سپلائی کیا جاتا ہے۔

امریکا اور ایران کے مابین تاریخی امن معاہدے کی دستخطی تقریب کا مقام اچانک تبدیل، جنیوا کے بجائے اب سوئٹزرلینڈ کے مشہور ’برجن اسٹاک ریزورٹ‘ میں عالمی رہنما سر جوڑیں گے، دستخط جمعہ 19 جون کو ہوں گے، وزیراعظم شہباز شریف کی میزبانی اور کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل جنگ بندی کی راہ ہموار

محمود احمد june 16,2026

اسلام آباد / برن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان طویل ترین مذاکرات کے بعد طے پانے والے انتہائی حساس اور مجوزہ تاریخی امن معاہدے کی باضابطہ دستخطی تقریب کے مقام میں سیکیورٹی اور سفارتی وجوہات کی بنا پر اچانک بڑی تبدیلی کر دی گئی ہے، سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ ہنگامی بیان کے مطابق اس تاریخی امن معاہدے پر اب سابقہ طے شدہ مقام جنیوا کے بجائے سوئٹزرلینڈ کے دنیا بھر میں مشہور اور جھیل کے کنارے واقع پرسکون ’برجن اسٹاک ریزورٹ‘ میں دستخط کیے جائیں گے، جبکہ یہ تاریخی اور عالمی تقریب رواں ہفتے جمعہ ۱۹ جون کو منعقد ہو گی، سوئس سفارتی حکام کا کہنا ہے کہ برجن اسٹاک ریزورٹ کو اس کی غیر معمولی سیکیورٹی اور اعلیٰ سطحی بین الاقوامی سفارتی سرگرمیوں کے شاندار ٹریک ریکارڈ کی بدولت منتخب کیا گیا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ ترین نمائندے اور وزرائے خارجہ اس حتمی امن معاہدے پر دستخط کر کے خطے میں جاری ہولناک کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی تعلقات کی بحالی کا ایک نیا باب شروع کریں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے عالمی میڈیا کے سامنے یہ بڑا اور تاریخی اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اس تاریخی امن معاہدے کی دستخطی تقریب جنیوا میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خصوصی میزبانی اور ثالثی کے تحت منعقد ہو گی، وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے تہنیتی بیان میں واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ یہ معاہدہ صرف دو بڑے ممالک کے مابین روایتی مفاہمت یا ناکہ بندی کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر پاکستان کی غیر جانبدار سفارت کاری، باہمی مکالمے اور مستقل امن کی جیت کی ایک عظیم علامت ہے، وزیراعظم کے مطابق دونوں ممالک نے پسِ پردہ طویل اور کٹھن مذاکرات کے بعد لبنان سمیت مشرقِ وسطیٰ کے مختلف گرم محاذوں پر جاری تمام فوجی کارروائیوں اور بمباری کے فوری اور مستقل خاتمے پر مکمل اتفاق کر لیا ہے اور یہ امن معاہدہ پورے خطے میں پائیدار استحکام، تجارتی ترقی اور اعتماد سازی کے ایک نئے سنہرے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں میڈیا کو بتایا تھا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اس امن معاہدے کے حتمی مسودے کے حوالے سے دونوں طاقتوں کے درمیان انتہائی اہم اور مثبت پیش رفت ہوئی ہے، ان کے مطابق ایرانی حکومت اور اعلیٰ قیادت دستخطی تقریب کے باقاعدہ انعقاد سے قبل اپنے تمام پڑوسی مسلم ممالک اور برادر خطوں کو مکمل طور پر اعتماد میں لینے کے لیے سفارتی رابطے تیزی سے جاری رکھے ہوئے ہے، بین الاقوامی سفارتی ذرائع کے مطابق اس مجوزہ معاہدے کے اہم ترین نکات میں لبنان اور شام میں فوری جنگ بندی، امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے منجمد کیے گئے اربوں ڈالرز کے ایرانی اثاثوں کی فوری بحالی اور بعض دیگر پیچیدہ مالی و سفارتی پابندیوں کے مستقل حل سے متعلق امور شامل ہیں، عالمی سیاسی مبصرین اور دفاعی ماہرین اس معاہدے کو رواں صدی میں مشرقِ وسطیٰ کے امن، سلامتی اور پائیدار استحکام کے لیے اب تک کی سب سے بڑی اور کامیاب ترین سفارتی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

پنجاب کا مالی سال 27-2026 کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اور پنشنرز کے لیے 3.5 فیصد اضافے کا بڑا اعلان، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی موجودگی میں اپوزیشن کا شدید ہنگامہ اور ”جعلی بجٹ نامنظور“ کے نعرے، محصولات کے اہداف میں 42 فیصد سے زائد کے ریکارڈ اضافے کی تجویز

منصور احمد june 16,2026

لاہور (بیورو رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

پنجاب حکومت نے مالی سال 27-2026 کا سالانہ بجٹ صوبائی اسمبلی کے ایوان میں پیش کر دیا ہے جس میں مہنگائی کے مارے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ۷ فیصد جبکہ بزرگ پنشنرز کی پنشن میں ۳.۵ فیصد اضافے کا باقاعدہ اعلان کیا گیا ہے، لاہور سے حاصل ہونے والی سنسنی خیز سیاسی اور معاشی تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا یہ اہم ترین بجٹ اجلاس اسپیکر ملک محمد احمد خان کی زیرِ صدارت مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ چالیس منٹ کی غیر معمولی تاخیر سے شروع ہوا جس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی خصوصی شرکت کی، بجٹ اجلاس کا آغاز ہوتے ہی ایوان میں اپوزیشن ارکان نے شدید ترین ہنگامہ آرائی کی اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی فوری رہائی کے حق میں فلک شگاف نعرے بازی شروع کر دی، جیسے ہی وزیرِ خزانہ نے بجٹ تقریر پڑھنا شروع کی تو اپوزیشن کے احتجاج میں مزید شدت اور تلخی آگئی اور اپوزیشن ارکان غصے میں اپنی نشستوں سے اٹھ کر اسپیکر ڈائس کے بالکل قریب جمع ہو گئے، اس دوران ”جعلی بجٹ نامنظور“ اور ”خان کو رہا کرو“ کے شدید نعرے پورے ایوان میں گونجتے رہے جبکہ کئی مشتعل اپوزیشن ارکان نے احتجاجاً بجٹ دستاویزات اور سرکاری کاغذات پھاڑ کر اسپیکر ڈائس کی فضا میں اچھال دیے جس سے ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا۔

بجٹ کے پسِ منظر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پنجاب کابینہ نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس بجٹ کی باقاعدہ حتمی منظوری دی تھی، نئے بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے ریلیف اقدامات کے علاوہ صوبے کے مالیاتی و ریونیو اہداف میں بھی انتہائی نمایاں اور تاریخی اضافہ کیا گیا ہے، حکومت نے صوبائی خزانہ بھرنے کے لیے بورڈ آف ریونیو کے اہداف میں ۲۵ فیصد جبکہ محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کے ریونیو اہداف میں ۷۷ فیصد اضافے کی کڑی تجویز دی ہے، سرکاری بجٹ دستاویزات کے مطابق پنجاب کے اپنے محصولات (ٹیکسز) کے مجموعی اہداف میں ۴۲.۷ فیصد کا بڑا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ صوبائی حکومت کا سخت مؤقف ہے کہ یہ بجٹ عوام پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر ترقیاتی منصوبوں کی جلد تکمیل، عوامی فلاح و بہبود اور سخت مالی نظم و ضبط کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑی محنت سے تیار کیا گیا ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن لیڈر اور متحدہ اپوزیشن نے حکومت کے اس بجٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے عوامی توقعات کے برعکس اور غریب کش قرار دیا ہے، سیاسی مبصرین کے مطابق پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے پہلے ہی روز ہونے والا یہ شدید ہنگامہ اور ہولناک احتجاج آئندہ دنوں میں صوبائی سیاست کے درجہ حرارت اور ماحول کو مزید گرم کر سکتا ہے، جبکہ بجٹ تجاویز اور مختلف محکموں کے مطالباتِ زر پر تفصیلی اور گرما گرم بحث آئندہ آنے والے روزانہ کے اجلاسوں میں باقاعدہ جاری رہے گی۔