وزیراعظم کے ’ڈیجیٹل پاکستان وژن‘ کے تحت بڑا انقلابی قدم، شادی رجسٹریشن کا روایتی نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل ماڈل میں تبدیل، نادرا اور ڈی سی آفس کا ریکارڈ منسلک، ایک ہی چھت تلے تمام سہولیات مفت دستیاب

منصور احمد june 10,2026

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

حکومتِ پاکستان نے ملک کو جدید ٹیکنالوجی سے ہمکنار کرنے اور عوامی سہولت کے لیے ایک اور سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جہاں وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کے تحت شادی رجسٹریشن کے دہائیوں پرانے روایتی و پیچیدہ نظام کو مستقل طور پر ایک جدید ترین ڈیجیٹل سروس ماڈل میں تبدیل کر دیا گیا ہے، اس انقلابی اقدام کا بنیادی مقصد شہریوں کو خوار کیے بغیر انتہائی تیز رفتار، آسان اور ایک ہی جگہ پر تمام قانونی سہولیات فراہم کرنا ہے، وفاقی دارالحکومت سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (NITB) نے شادی رجسٹریشن کے عمل کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے ایک نیا اور اچھوتا ماڈل متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت اب نکاح خوانی سے لے کر باقاعدہ میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کے حصول تک کی تمام تر قانونی خدمات ایک ہی مرکز پر یکجا کر دی گئی ہیں، اس سلسلے میں اسلام آباد کے معروف ”پاکستان آسان خدمت مرکز“ میں باقاعدہ طور پر ایک سٹیٹ آف دی آرٹ اور بالکل مفت ”میرج رجسٹریشن لاؤنج“ قائم کر دیا گیا ہے، جہاں شہری اب مختلف سرکاری دفاتر اور کونسلوں کے چکر کاٹے بغیر چند ہی منٹوں میں اپنی رجسٹریشن کا عمل آسانی سے مکمل کر سکیں گے۔

ایک ہی چھت تلے دستیاب ہونے والی سہولیات: نئے اور خودکار نظام کے تحت دارالحکومت کے شہریوں کو اب درج ذیل اہم ترین قانونی سہولیات ایک ہی جگہ پر فراہم کی جا رہی ہیں:

نکاح رجسٹرار (سرکاری طور پر تصدیق شدہ) کی فوری سہولت۔
نادرا کے مرکزی ڈیٹابیس سے ریکارڈ کی فوری اور خودکار اپڈیٹ۔
ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) آفس سے متعلقہ تمام ضروری قانونی کاغذی کارروائی۔
شادی کی مکمل رجسٹریشن کا پیپر لیس اور سو فیصد ڈیجیٹل پراسیس۔

وزارتِ داخلہ اور آئی ٹی حکام کے مطابق نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی اور دیگر تمام متعلقہ ضلعی اداروں کے ساتھ درخواست گزار کا ڈیٹا کمپیوٹرائزڈ لنک کے ذریعے فوری طور پر منسلک کر دیا جائے گا، جس کے بعد پرانے کاغذی فارمز، فائلوں کے کلچر، رشوت ستانی اور مہینوں کی تاخیر میں واضح طور پر بڑی کمی واقع ہوگی، اس اہم پیش رفت پر نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تاریخی اقدام پاکستان میں ڈیجیٹل گورننس کے فروغ اور عوام کو کم لاگت، باوقار اور تیز رفتار خدمات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا آئینہ دار ہے، حکام نے واضح کیا کہ: ۱۔ اس اسمارٹ سسٹم کے بعد اب شہریوں کو مختلف دور دراز دفاتر کے ذلت آمیز چکر لگانے سے ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے گی۔ ۲۔ شادی کے تمام قانونی اور شرعی مراحل اب ایک ہی چھت کے نیچے ایک ہی دن میں مکمل ہوں گے۔ ۳۔ پورے نظام کو ای-گورننس کے ذریعے انتہائی شفاف اور تیز ترین بنا دیا گیا ہے تاکہ انسانی مداخلت اور غلطی کا امکان ختم ہو سکے۔

منصوبے کا اصل مقصد: آئی ٹی ماہرین اور سماجی حلقوں نے حکومت کے اس اقدام کو خوب سراہا ہے، حکام کے مطابق یہ منصوبہ بالخصوص غریب اور کم آمدن والے خاندانوں کے لیے ایک بہت بڑی اور سستی ترین سہولت ثابت ہوگا، تاکہ نکاح اور سرکاری میرج سرٹیفکیٹ کی رجسٹریشن کے عمل میں غریب عوام کو ایجنٹ مافیا سے بچا کر مکمل آسانیاں اور شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔

مری ایکسپریس وے پر قیامت خیز منظر، سیاحوں کی تیز رفتار وین دیوار سے ٹکرا کر خوفناک آگ کی لپیٹ میں آ گئی، ۱۰ مسافر زندہ جھلس کر جاں بحق، متعدد زخمی، ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ

کاشف عباسی ,june 10,2026

مری(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

ملکہ کوہسار مری کی خوبصورت وادی کو غمی میں ڈوبو دینے والا ایک انتہائی ہولناک اور دلخراش ٹریفک حادثہ پیش آیا ہے، جہاں مری ایکسپریس وے پر پی ٹی ڈی سی ٹورسٹ اسپاٹ کے قریب سیاحوں کی مسافر وین میں خوفناک آگ لگنے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے بدقسمت افراد کی تعداد دس (10) تک پہنچ گئی ہے جبکہ متعدد دیگر مسافر شدید طور پر زخمی اور جھلس گئے ہیں، مری اور ریسکیو ذرائع سے حاصل ہونے والی سنسنی خیز اور افسوسناک تفصیلات کے مطابق یہ قیامت خیز حادثہ اس وقت پیش آیا جب خوبصورت موسم کا لطف اٹھانے کے لیے آنے والے سیاحوں سے بھری ایک ہائی ایس وین انتہائی تیز رفتاری کے باعث موڑ کاٹتے ہوئے بے قابو ہو گئی اور سڑک کی حفاظتی دیوار سے زوردار طریقے سے جا ٹکرائی، عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس شدید ترین ٹکر کے نتیجے میں گاڑی کا فیول ٹینک دھماکے سے پھٹ گیا اور پیٹرول لیک ہونے کے باعث پوری وین نے چند ہی سیکنڈز کے اندر ایک ہولناک آگ کے گولے کی شکل اختیار کر لی، ذرائع کے مطابق آگ اس قدر اچانک، تیز اور خوفناک تھی کہ وین کے اندر پھنسے ہوئے معصوم مسافروں کو باہر نکلنے کا معمولی سا موقع بھی نہ مل سکا اور وہ گاڑی کے اندر ہی زندہ جھلس گئے، جس کے باعث جانی نقصان میں انتہائی دردناک اضافہ ہوا، مری ایکسپریس وے پر لگی اس ہولناک آگ کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں ہنگامی بنیادوں پر سائرن بجاتی ہوئی فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، جن میں ریسکیو 1122 ، موٹروے پولیس کے چاک و چوبند دستے اور فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیاں شامل تھیں، فائر فائٹرز نے سخت جدوجہد کے بعد مسافر وین میں لگی بے قابو آگ پر قابو پایا اور ریسکیو اہلکاروں نے جلی ہوئی گاڑی کا ملبہ کاٹ کر لاشوں اور تڑپتے ہوئے زخمیوں کو نکال کر فوری طور پر قریبی سرکاری اسپتالوں میں منتقل کیا، جہاں زخمیوں کی نازک حالت کے پیشِ نظر ڈاکٹروں کی چھٹیاں منسوخ کر کے ہسپتال میں ہنگامی حالت (ایمرجنسی) نافذ کر دی گئی ہے، دوسری جانب نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس (NHMP) کے اعلیٰ حکام کے مطابق اگرچہ بظاہر حادثہ فیول ٹینک پھٹنے سے ہوا ہے، تاہم ابتدائی طور پر آگ لگنے کی دیگر ممکنہ وجوہات میں گاڑی کے انجن میں شارٹ سرکٹ یا مسافر گاڑیوں میں مروجہ قانون کے خلاف رکھے جانے والے غیر قانونی گیس سلنڈر کی موجودگی کو بھی خاص طور پر مدنظر رکھا جا رہا ہے، موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے کی سو فیصد اصل وجہ جاننے کے لیے ہائی لیول کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، واضح رہے کہ اس المناک اور بڑے حادثے کے باعث مری ایکسپریس وے پر گاڑیوں کی آمد و رفت اور ٹریفک کی روانی شدید طور پر متاثر ہوئی ہے جبکہ سیاحوں اور مقامی گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگ گئی ہیں جنہیں موٹروے پولیس متبادل راستوں پر منتقل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

مظفرآباد کے قریب پاک فوج کا ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، پرواز کے دوران اچانک تکنیکی خرابی حادثے کا سبب بنی، آئی ایس پی آر کی جانب سے جانی نقصان کی تصدیق، پاک فوج کا اعلیٰ سطح کا انکوائری بورڈ تشکیل

کاشف عباسی ,june 10,2026

مظفرآباد(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے فضائی علاقے میں پاک فوج کا ایک بڑا ملٹری ہیلی کاپٹر افسوسناک حادثے کا شکار ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں جانی نقصان کی انتہائی دردناک اطلاعات سامنے آئی ہیں، پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اور ہنگامی اعلامیے کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے نواحی علاقے کے قریب پاک فوج کا ایک ایم آئی-17 (Mi-17) ملٹری ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا، آئی ایس پی آر کے مطابق ابتدائی موصول ہونے والی اطلاعات سے پتہ چلا ہے کہ یہ ہیلی کاپٹر اپنی معمول کی پرواز پر تھا کہ اچانک فضا میں ہی اس کے اندر شدید ترین تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی، جس پر پائلٹس نے قابو پانے کی بھرپور کوشش کی تاہم ہیلی کاپٹر زمین دوز ہو گیا، مظفرآباد اور عسکری ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق اس ہولناک واقعے کے فوراً بعد پاک فوج کی خصوصی ریسکیو ٹیموں، آرمی ایوی ایشن کے ماہرین اور مقامی امدادی اداروں نے بغیر کوئی وقت گنوائے جائے وقوعہ پر پہنچ کر بڑے پیمانے پر امدادی آپریشن کا آغاز کر دیا ہے اور متاثرہ ملبے سے اہلکاروں کو نکالنے کا عمل تیزی سے جاری ہے، آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ ملٹری ہیلی کاپٹر کے اس دلخراش حادثے کی اصل اور حتمی وجوہات کا درست تعین کرنے کے لیے جی ایچ کیو کی ہدایت پر فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی انکوائری بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے، جو حادثے کے تمام تزویراتی و تکنیکی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اور تفصیلی تحقیقات مکمل کر کے اپنی حتمی رپورٹ جلد ہی عسکری قیادت کو پیش کرے گا، دوسری جانب پاک فوج کی اعلیٰ قیادت نے ہیلی کاپٹر حادثے پر گہرے دکھ، صدمے اور شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وطنِ عزیز کے لیے فرائض انجام دینے والے متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے، عسکری حکام کے مطابق جائے وقوعہ پر ابھی بھی امدادی کارروائیاں اور تحقیقات کا ابتدائی عمل پوری تندہی سے جاری ہے۔

راولپنڈی کی تحصیل گوجرخان میں تیزاب گردی کی ہولناک واردات، طلاق کی کارروائی کے دوران طیش میں آ کر بیوی نے شوہر پر تیزاب پھینک دیا، جھلس جانے والا شخص تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل، سفاک خاتون موقع سے گرفتار

منصور احمد june 10,2026

گوجرخان(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

ضلع راولپنڈی کی تحصیل گوجرخان میں تیزاب گردی کا ایک انتہائی افسوسناک اور ہولناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں مبینہ طور پر طلاق اور علیحدگی کے معاملے پر ایک خاتون نے غصے اور طیش میں آ کر اپنے ہی شوہر پر تیزاب پھینک دیا، جس کے نتیجے میں وہ بری طرح جھلس کر شدید زخمی ہو گیا، راولپنڈی پولیس اور گوجرخان کے مقامی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق متاثرہ شخص، جس کی شناخت کامران حسین کے نام سے ہوئی ہے، اپنی اہلیہ کے ساتھ گھریلو ناچاقی کے باعث علیحدگی اور طلاق کی باقاعدہ قانونی کارروائی کے سلسلے میں مقامی یونین کونسل کے دفتر آیا ہوا تھا، عینی شاہدین اور ابتدائی معلومات کے مطابق یونین کونسل کے اندر طلاق کی دفتری کارروائی مکمل ہونے کے بعد جیسے ہی کامران حسین دفتر کی عمارت سے باہر نکلا، تو وہاں پہلے سے گھات لگائے بیٹھی اس کی بدبخت اہلیہ نے مبینہ طور پر اچانک اس پر تیزاب سے حملہ کر دیا، اس اچانک حملے کے نتیجے میں تیزاب پڑنے سے کامران حسین کا جسم بری طرح جھلس گیا اور وہ درد سے چیلاتا ہوا زمین پر گر کر شدید زخمی ہو گیا، آس پاس موجود لوگوں نے خونخوار خاتون کو قابو کیا اور متاثرہ شخص کو فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹر (ٹی ایچ کیو) ہسپتال گوجرخان منتقل کیا، جہاں ڈاکٹرز کے مطابق اس کی حالت تشویشناک ہے اور اسے طبی امداد دی جا رہی ہے، دوسری جانب واقعے کی اطلاع ملتے ہی گوجرخان پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور موقع کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے کی کوشش کرنے والی سنگدل خاتون کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا، پولیس نے واقعے کا باقاعدہ ہنگامی مقدمہ درج کر کے ملزمہ کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، گوجرخان پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ اس گھناؤنے واقعے کے تمام پہلوؤں اور پسِ پردہ محرکات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق ملزمہ کو سخت سے سخت سزا دلوانے کے لیے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے۔

جھنگ میں فرسٹ ایئر کی طالبہ سے اجتماعی زیادتی کے کیس میں سنسنی خیز موڑ، واردات کے بعد ملزمان کے سابق ایم پی اے کے ڈیرے پر پناہ لینے کا انکشاف، سی سی ٹی وی فوٹیج منظرِ عام پر آنے اور عوامی دباؤ کے بعد ملزمان پولیس کے حوالے، سہولت کاروں کے خلاف بھی گھیرا تنگ

منصور احمد june 10,2026

جھنگ(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

پنجاب کے شہر جھنگ میں فرسٹ ایئر کی معصوم طالبہ ایشال فاطمہ کے اغواء اور اس کے ساتھ ہونے والی بدترین اجتماعی زیادتی کے ہولناک مقدمے میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جہاں پولیس کی جاری تحقیقات کے دوران یہ افسوسناک پیش رفت ہوئی ہے کہ واردات انجام دینے کے بعد سفاک ملزمان نے قانون کی گرفت اور فوری گرفتاری سے بچنے کے لیے علاقے کے ایک بااثر سابق رکنِ صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) کے پاس باقاعدہ پناہ حاصل کر رکھی تھی، جھنگ پولیس اور باوثوق تفتیشی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق پولیس کی جے آئی ٹی اور سائنسی بنیادوں پر ہونے والی تحقیقات سمیت ہسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے باریک بینی سے جائزے سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ملزمان متاثرہ طالبہ ایشال فاطمہ کو درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد انتہائی تشویشناک اور نیم مردہ حالت میں خاموشی سے ہسپتال لے کر آئے اور وہاں بدنامی اور پکڑے جانے کے خوف سے لڑکی کو تڑپتا ہوا چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گئے، بعد ازاں پولیس کی چھاپہ مار کارروائیوں سے بچنے کے لیے ان سنگدل ملزمان نے مبینہ طور پر جھنگ کی ایک بااثر اور نامور سیاسی شخصیت (سابق ایم پی اے) کی چھتری تلے پناہ لی، ذرائع کا کہنا ہے کہ جب یہ ہولناک معاملہ حد سے زیادہ سنگین نوعیت اختیار کر گیا اور ہسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ملک بھر میں شدید عوامی ردِعمل اور غصے کی لہر دوڑی، تو چاروں طرف سے بڑھتے ہوئے شدید دباؤ کے باعث مذکورہ سابق ایم پی اے نے بدنامی کے ڈر سے مبینہ طور پر ملزمان کو خود پولیس کے حوالے کر دیا، تاہم اس سنسنی خیز انکشاف کے بعد جھنگ کے شہری، مختلف سماجی تنظیموں اور عوامی حلقوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مقتدر حلقوں پر یہ سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ صریحاً جرم ثابت ہونے کے باوجود ان درندوں کو فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کرنے کے بجائے اپنے پاس پناہ کیوں دی گئی؟ دوسری جانب جھنگ پولیس کے اعلیٰ حکام کا اس حساس معاملے پر کہنا ہے کہ کیس کی سنگینی کے پیشِ نظر تمام زاویوں اور پہلوؤں سے میرٹ پر تفتیش جاری ہے اور اگر اس گھناؤنے جرم میں مذکورہ سابق ایم پی اے یا کسی بھی دوسری بااثر شخصیت کے براہِ راست یا بالواسطہ ملزمان کے سہولت کار ہونے کے ناقابلِ تردید شواہد سامنے آئے، تو قانون کی بالادستی قائم رکھتے ہوئے ان کے خلاف بھی سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، پولیس حکام کے مطابق تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور اس بھیانک واردات کے پورے نیٹ ورک سمیت تمام ممکنہ پسِ پردہ سہولت کاروں کے مکروہ کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مظلوم طالبہ ایشال فاطمہ کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔

قومی ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد پر پی سی بی کا بھرپور اعتماد، ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے اہم دوروں کے لیے کلین چٹ مل گئی، ٹیسٹ کپتان شان مسعود کی قیادت کے مستقبل پر فیصلہ تاحال پینڈنگ، سلمان علی آغا مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ گئے

کاشف عباسی ,june 10,2026

لاہور(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کی قیادت اور کوچنگ سیٹ اپ کے حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے اندر اہم فیصلے تاحال زیرِ غور ہیں، تاہم کرکٹ بورڈ کے باوثوق ذرائع کے مطابق ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد کو فی الحال ان کی کوچنگ کی ذمہ داریوں کے حوالے سے بورڈ کی جانب سے گرین سگنل اور کلین چٹ مل گئی ہے، لاہور اور پی سی بی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز میں حالیہ بدترین ناکامیوں کے بعد قومی کرکٹ ٹیم کے کوچنگ سیٹ اپ میں بڑی اکھاڑ پچھاڑ اور تبدیلیوں کی افواہیں گرم تھیں، تاہم تمام تر قیاس آرائیوں کو دم توڑتے ہوئے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرفراز احمد بدستور پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے برقرار رہیں گے اور وہ آئندہ ہونے والے دورۂ ویسٹ انڈیز اور دورۂ انگلینڈ کے اہم ترین معرکوں میں بھی ٹیم کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے نظر آئیں گے، دوسری جانب ٹیسٹ کپتان شان مسعود کے مستقبل اور ان کی کپتانی کے حوالے سے تاحال شدید غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، ذرائع کے مطابق شان مسعود اپنی بہترین بیٹنگ فارم کی وجہ سے دونوں دوروں کے لیے بطور کھلاڑی ٹیم میں شامل ہونے کے انتہائی مضبوط امیدوار ہیں، تاہم ان کی کپتانی برقرار رکھنے یا اس منصب میں تبدیلی کرنے کے بارے میں حتمی فیصلہ بورڈ کی جانب سے تاحال التوا کا شکار ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر اب تک سولہ (۱۶) ٹیسٹ میچز میں قومی ٹیم کی قیادت کرنے والے شان مسعود کی کپتانی کے حوالے سے پی سی بی کی اعلیٰ قیادت کے حتمی گرین سگنل کا انتظار کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان کی ٹی ٹونٹی ٹیم کے موجودہ کپتان سلمان علی آغا کو ٹیسٹ فارمیٹ کی کپتانی دلوانے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کے بعض انتہائی اہم اور بااثر حلقوں کی بھرپور تائید و حمایت حاصل ہو چکی ہے جس کے باعث کپتانی کے لیے ان کا نام مضبوطی سے ابھرا ہے، تاہم شان مسعود کے حق میں جو ایک سب سے اہم اور کلیدی نکتہ جا رہا ہے وہ ان کا انگلش کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کا وسیع تر تجربہ ہے، جہاں وہ یارکشائر اور ڈربی شائر جیسی نامور کاؤنٹی ٹیموں کی باقاعدہ کامیاب قیادت بھی کر چکے ہیں، کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ دورۂ انگلینڈ کے دوران شان مسعود کا یہ کاؤنٹی کا تجربہ اور وہاں کی کنڈیشنز سے واقفیت قومی ٹیم کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، واضح رہے کہ شان مسعود پاکستان کی سات مختلف ٹیسٹ سیریز میں قومی ٹیم کی کپتانی کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں اور اس مختصر ترین عرصے کے دوران وہ مسلسل تبدیلیوں کے باعث پانچ مختلف کوچز کے ساتھ کام کرنے کا انوکھا تجربہ بھی رکھتے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ پی سی بی انگلینڈ کے اہم ترین دورے سے قبل ٹیسٹ فارمیٹ کی باگ ڈور کس کے حوالے کرتا ہے۔

حب میں پاکستان کی پہلی جدید گرین فیلڈ ریفائنری کا قیام، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے سپیک ریفائنری کے وفد کی اہم ملاقات، ایف بی آر امور اور ریگولیٹری منظوریوں کو جلد مکمل کرنے کی درخواست، ۲ ہزار ملازمتیں پیدا ہوں گی

منصور احمد june 10,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

پاکستان کو توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنانے اور صنعتی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کے لیے بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں ملک کی پہلی ڈیپ کنورژن گرین فیلڈ ریفائنری لگانے کے منصوبے پر پیش رفت تیز ہو گئی ہے، وفاقی دارالحکومت سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے سپیک ریفائنری پرائیویٹ لمیٹڈ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے خصوصی ملاقات کی، جس کی قیادت کمپنی کے مخلص اور سینیئر چیئرمین ظفر شیخ کر رہے تھے، اس اہم بیٹھک میں حب، بلوچستان میں پاکستان کی اس پہلی ڈیپ کنورژن گرین فیلڈ ریفائنری کے میگا منصوبے کے خدوخال اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات کے دوران وفد نے وفاقی وزیر تجارت کو منصوبے کی اب تک کی پیش رفت سے تفصیلی طور پر آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مجوزہ ریفائنری دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہوگی، جو ہر قسم کے خام تیل (Crude Oil) کو کامیابی سے پراسیس کر کے ملکی ضرورت کے مطابق اعلیٰ ترین معیار کی پیٹرولیم مصنوعات تیار کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، کمپنی کے چیئرمین ظفر شیخ اور وفد نے وفاقی حکومت سے مخلصانہ درخواست کی کہ گرین فیلڈ ریفائنری پالیسی کے تحت منصوبے کے لیے درکار تمام ریگولیٹری منظوریوں، بالخصوص فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے متعلقہ ٹیکس و کسٹمز کے دیرینہ امور کو جلد از جلد مکمل اور کلیئر کیا جائے تاکہ اس بڑے منصوبے کی بروقت تکمیل کو ہر صورت ممکن بنایا جا سکے، وفد کے مطابق اس گرین فیلڈ ریفائنری کے قیام سے حب اور اس کے گردونواح کے پسماندہ علاقوں میں رہنے والے مقامی نوجوانوں کے لیے تقریباً دو ہزار (2,000) سے زائد براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے شاندار مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ یہ منصوبہ مقامی صنعت کی ترقی، نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی کی پاکستان منتقلی اور علاقائی سطح پر معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرے گا، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اس بڑی سرمایہ کاری کا کھلے دل سے خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی بہترین اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت، آبادی کے لحاظ سے بڑی مقامی مارکیٹ اور علاقائی تجارتی راہداریوں (سی پیک وغیرہ) کی بدولت توانائی اور صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری کے بے شمار اور پرکشش مواقع فراہم کرتا ہے، انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ حب ریفائنری جیسے بڑے اور جدید منصوبے پاکستان کے پائیدار توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے، مہنگے درآمدی ایندھن پر ملکی انحصار کو کم کرنے، صنعتی انقلاب کو فروغ دینے اور مستقبل میں مزید ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے، سپیک ریفائنری کے وفد نے وفاقی وزیر کو مستقبل میں پیٹروکیمیکل صنعتوں کے باقاعدہ قیام اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی مقامی سطح پر تیاری سے متعلق اپنے وسیع وژن اور ماسٹر پلان سے بھی آگاہ کیا، جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے پاکستان کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو نئی جلا ملے گی اور ملکی برآمدات میں اربوں ڈالر کے اضافے کی نئی راہیں کھلیں گی۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست اتار چڑھاؤ، ابتدائی بدترین مندی کے بعد تیز ترین بحالی، ہنڈرڈ انڈیکس سرخ زون سے نکل کر مثبت زون میں داخل، سرمایہ کاروں کی اربوں روپے کی نئی خریداری

کاشف عباسی ,june 10,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے تیسرے روز یعنی بدھ کو ٹریڈنگ کے دوران زبردست اتھل پتھل اور سنسنی خیز اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جہاں مارکیٹ ابتدائی اوقات میں شدید منفی رجحان اور مندی کا شکار ہوئی، تاہم بعد ازاں سرمایہ کاروں کی جانب سے مارکیٹ میں کیے جانے والے بھرپور اعتماد اور بڑے پیمانے پر خریداری کے باعث مارکیٹ نے ایک بار پھر نمایاں اور تیز ترین بحالی دکھائی، جس کی بدولت ہنڈرڈ انڈیکس دوبارہ مثبت زون میں داخل ہو گیا، اسلام آباد اور کراچی کے مالیاتی ذرائع سے حاصل ہونے والی کاروباری تفصیلات کے مطابق آج صبح کاروبار کے آغاز پر کے ایس ای-100 انڈیکس میں شدید مندی دیکھی گئی اور انڈیکس ۵۰ سے زائد پوائنٹس کی فوری کمی کے ساتھ ۱ لاکھ ۷۰ ہزار ۲ سو اسی (170,280) پوائنٹس کی نچلی سطح تک گر گیا تھا، جس سے سرمایہ کاروں میں کچھ دیر کے لیے تشویش کی لہر دوڑ گئی، تاہم ٹریڈنگ کے باقاعدہ آغاز اور دن گزرنے کے ساتھ ہی مارکیٹ کے مختلف منافع بخش شعبوں میں نئی سرمایہ کاری بڑھنے سے صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی اور مارکیٹ میں تیز ترین خریداری کا ایک بڑا رجحان پیدا ہوا، جس کے بعد کے ایس ای-100 انڈیکس نے اپنی پرانی پوزیشن کو ناصرف بحال کیا بلکہ ۳۰۰ سے زائد پوائنٹس کے شاندار اضافے کے ساتھ ۱ لاکھ ۷۰ ہزار ۷ سو انتیس (170,729) پوائنٹس کی بلند سطح تک پہنچ گیا، جو مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے بحال ہوتے ہوئے مضبوط اعتماد اور مثبت تزویراتی رجحان کی واضح عکاسی کرتا ہے، مارکیٹ کے معاشی ماہرین اور اسٹاک تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کاروں کی جانب سے ملک کے بڑے تجارتی بینکنگ، توانائی، آئل اینڈ گیس اور صنعتی شعبوں کے سستے شیئرز میں اچانک بڑی خریداری کی گئی، جس کے باعث ہنڈرڈ انڈیکس نے مندی کے جھٹکے سے نکل کر انتہائی تیزی سے بحالی دکھائی اور اس کے نتیجے میں مارکیٹ کی مجموعی کاروباری فضا دن کے اختتام تک مکمل طور پر مثبت اور منافع بخش رہی، واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری روز کے اختتام پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کے ایس ای-100 انڈیکس ۱ لاکھ ۷۰ ہزار ۳ سو تیس (170,330) پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا، جس کے مقابلے میں آج کی یہ بحالی ملکی معیشت اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک خوش آئند لہر ثابت ہوئی ہے۔

”اگر امریکہ محفوظ رہنا چاہتا ہے تو ہمارے خطے سے نکل جائے“، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی واشنگٹن کو آخری وارننگ، امریکی افواج مسلسل خطرے کی زد میں ہیں، کسی بھی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے

محمود احمد june 10,2026

تہران(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حالیہ خونریز عسکری تصادم اور بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال کے تناظر میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کو ایک انتہائی سخت اور دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ اپنے آپ کو اور اپنے فوجیوں کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے تو اسے مشرقِ وسطیٰ کے پورے خطے سے اپنی عسکری موجودگی کو فوری طور پر ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہوگا، تہران اور بین الاقوامی میڈیا سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک اہم اور ہنگامی بیان میں وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واشنگٹن کو کڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ امریکہ نے میدانِ جنگ میں ماضی کی مسلسل ناکامیوں اور ذلت سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور اس نے ایک بار پھر ایران کے فولادی عزم اور بے پناہ قوتِ ارادی کو آزمانے کا ایک انتہائی غلط اور تاریخی فیصلہ کیا ہے، انہوں نے واشگاف الفاظ میں دنیا کو بتایا کہ ایرانی مسلح افواج اپنے ملک پر ہونے والے کسی بھی حملے، جارحیت یا کھلی دھمکی کو کسی صورت نظرانداز نہیں کریں گی اور وطنِ عزیز کے دفاع میں کسی بھی ممکنہ امریکی مہم جوئی کا پہلے سے کہیں زیادہ بھرپور اور عبرتناک جواب دیا جائے گا، ایرانی وزیر خارجہ نے پینٹاگون کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پورے خطے میں موجود تمام امریکی اور دیگر غیر ملکی عسکری افواج مسلسل اور براہِ راست ایران کے دفاعی میزائلوں کے خطرے کی زد میں ہیں اور اب کسی بھی فریق کی جانب سے کیے جانے والے غلط اندازے، کسی حادثاتی واقعے یا براہِ راست تصادم کی صورت میں خطے کی صورتحال مزید سنگین اور کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہے جس کی تمام تر تباہی کی ذمہ داری وائٹ ہاؤس پر عائد ہوگی، انہوں نے عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جنگی کشیدگی کو کم کرنے اور خطے میں مستقل امن و استحکام قائم کرنے کا واحد، حتمی اور مؤثر راستہ صرف اور صرف یہی ہے کہ غیر ملکی غاصب افواج یہاں سے اپنا بوریا بستر گول کر کے فوری انخلا کریں، عباس عراقچی نے اپنے بیان کے آخر میں ایرانی قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے پختہ عزم کا اظہار کیا کہ ایران اپنی قومی سلامتی، بقا اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکنہ حد تک جائے گا اور امریکہ یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے دیے جانے والے کسی بھی قسم کے فوجی دباؤ، پابندیوں یا گیدڑ بھبکیوں کے سامنے جھکنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، دفاعی مبصرین کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان خطے میں امریکی اڈوں پر ہونے والے حالیہ میزائل حملوں کے بعد پینٹاگون کے لیے ایک واضح اور خطرناک پیغام ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ چھڑ گئی، امریکہ کی جنوبی ایران پر شدید فضائی بمباری، پاسدارانِ انقلاب کا بحرین، کویت اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر ہولناک جوابی میزائل اور ڈرون حملہ، دنیا لرز اٹھی

محمود احمد june 10,2026

تہران(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی اب باقاعدہ ایک ہولناک عسکری تصادم اور کھلی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جہاں امریکی میڈیا کی سنسنی خیز رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے براہِ راست اور جارحانہ احکامات پر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران کے متعدد اسٹریٹجک اہداف پر شدید فضائی کارروائیاں کی ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران نے بھی انتہائی سخت ردِعمل دیتے ہوئے خطے میں موجود کئی امریکی فوجی تنصیبات پر بڑے جوابی حملوں کا دعویٰ کر دیا ہے، تہران اور واشنگٹن کے جنگی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق امریکی فضائیہ نے جنوبی ایران میں قائم متعدد اہم ترین فوجی و دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا، ایرانی حکام نے امریکی بمباری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان فضائی حملوں میں ایران کے انتہائی اہم ساحلی شہر بندر عباس، جسک اور دیگر جنوبی علاقوں کے قریب قائم فوجی تنصیبات شدید متاثر ہوئی ہیں، جبکہ حملوں کے نتیجے میں خطے کے بعض بنیادی انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، دوسری جانب اس امریکی حملے کے فوراً بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی طاقت کو نشانہ بناتے ہوئے یہ بڑا اور سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین، کویت اور اردن میں قائم امریکی عسکری اڈوں کو اپنے جدید ترین بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز کے ذریعے کامیابی سے نشانہ بنایا ہے، ایرانی حکام کے باضابطہ بیانات کے مطابق ان کے جوابی حملوں میں بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے سب سے بڑے مرکز ”ففتھ فلیٹ“، اردن کے اسٹریٹجک ”الازرق ایئر بیس“ اور کویت کے اندر قائم اہم ”علی السالم“ فوجی اڈے کو براہِ راست ہدف بنا کر تباہی مچائی گئی ہے، اگرچہ امریکی دفاعی حکام نے اب تک ایران کی جانب سے کیے جانے والے بعض دعوؤں اور اپنے اڈوں پر ہونے والے نقصان کی مکمل تصدیق نہیں کی ہے، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک ہنگامی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے صرف اتنا اعلان کیا ہے کہ ایران کے اندر ان کا فضائی آپریشن اب مکمل ہو چکا ہے اور فی الحال واشنگٹن کی جانب سے مزید کسی نئی کارروائی کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا، تاہم اس کے برعکس ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز نے امریکہ کو آخری وارننگ جاری کرتے ہوئے سخت خبردار کیا ہے کہ اگر مستقبل میں امریکی فوج کی جانب سے دوبارہ کسی بھی قسم کی مہم جوئی یا مزید حملے کیے گئے، تو ایران کا اگلا اور حتمی جواب پہلے سے کہیں زیادہ ہولناک، سخت اور پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لینے والا ہوگا، دفاعی ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین اس براہِ راست اور خونی تصادم نے دنیا بھر کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔

مہنگائی کے ستائے عوام اور پنشنرز کے لیے بڑی خوشخبری، حکومت کا قومی بچت اور سروا اسلامک اسکیموں پر منافع کی شرح میں شاندار اضافے کا اعلان، نئی شرحوں کا اطلاق آج سے نافذ العمل، بہبود اور پنشنرز اکائونٹ پر ماہانہ منافع بڑھ گیا

کاشف عباسی ,june 10,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

حکومتِ پاکستان نے ملک میں بچت کے رجحان کو فروغ دینے اور سرمایہ کاروں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے قومی بچت (نیشنل سیونگز) اسکیموں اور سروا اسلامک اسکیموں کے تحت مختلف سرمایہ کاری منصوبوں پر منافع کی شرح میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، اسلام آباد کے سرکاری ذرائع اور سینٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ان نئی اور زائد شرحوں کا باقاعدہ اطلاق ۱۰ جون ۲۰۲۶ء یعنی آج ہی سے پورے ملک میں فوری طور پر نافذ العمل کر دیا گیا ہے، جاری کردہ سرکاری اعلامیے کی تفصیلات کے مطابق اسپیشل سیونگز سرٹیفکیٹ اور اسپیشل سیونگز اکاؤنٹ پر پہلے پانچ منافع کی چھ ماہی ادائیگیوں کے لیے اب سالانہ شرح بارہ اعشاریہ چار (12.4) فیصد مقرر کی گئی ہے، جبکہ چھٹے اور آخری منافع کی ادائیگی کے لیے اس شرح کو مزید بڑھا کر تیرہ اعشاریہ چھ (13.6) فیصد کر دیا گیا ہے، اسی طرح ڈیفنس سیونگز سرٹیفکیٹ کے تحت سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے مختلف مدتوں کے لحاظ سے منافع کی شرح میں بھی واضح اضافہ کیا گیا ہے، جس کے تحت دسویں سال کی مدت مکمل ہونے تک مجموعی منافع دو سو سولہ (216) فیصد کی بلند ترین سطح تک پہنچ جائے گا، جو سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش موقع ہے، وزارتِ خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق ریگولر انکم سرٹیفکیٹ ہولڈرز کے لیے اب ایک لاکھ روپے کی بنیادی سرمایہ کاری کے عوض ہر ماہ ایک ہزار بیس (1,020) روپے کا منافع دیا جائے گا، جو مجموعی طور پر سالانہ بارہ اعشاریہ چوبیس (12.24) فیصد بنتا ہے، دوسری جانب معاشرے کے کمزور اور معزز طبقات کے لیے سب سے اہم ترین بہبود سیونگز سرٹیفکیٹ، پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ اور شہدا فیملی ویلفیئر اکاؤنٹ کے تحت اب ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری پر ماہانہ ایک ہزار ایک سو (1,100) روپے کا بڑا منافع مقرر کیا گیا ہے، جو کہ سالانہ بنیادوں پر تیرہ اعشاریہ بیس (13.20) فیصد کے برابر بنتا ہے، قومی بچت کے حکام کے مطابق مروجہ قوانین کے تحت بہبود سیونگز سرٹیفکیٹ خریدنے کی سہولت صرف بیواؤں، بزرگ شہریوں (سینیئر سیٹیزنز) اور خصوصی افراد (ڈس ایبلڈ پرسنز) کے لیے ہی دستیاب ہوگی، جبکہ پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ خالصتاً ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور شہدا فیملی ویلفیئر اکاؤنٹ ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ دینے والے عظیم شہدا کے پسماندگان اور اہل خانہ کے لیے مخصوص رہے گا، مختصر مدتی بچت سرٹیفکیٹس (ایس ٹی ایس سی) کے تحت سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے تین ماہ، چھ ماہ اور ایک سال کی مدت کے لیے بالترتیب گیارہ اعشاریہ چالیس (11.40) فیصد، گیارہ اعشاریہ چھیاسٹھ (11.66) فیصد اور گیارہ اعشاریہ ستتر (11.77) فیصد سالانہ منافع مقرر کر دیا گیا ہے، تاہم دوسری جانب حکومت نے روایتی عام سیونگ اکاؤنٹ پر منافع کی پرانی شرح کو بغیر کسی تبدیلی کے دس (10) فیصد سالانہ پر ہی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، معاشی ماہرین اور مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق ملک میں جاری معاشی صورتحال کے تناظر میں منافع کی شرح میں یہ حالیہ اضافہ عوام میں بچت کی حوصلہ افزائی کرنے، بینکنگ نظام میں مائع کاری بڑھانے اور خاص طور پر فکسڈ انکم پر گزارا کرنے والے سرمایہ کاروں کو مہنگائی کے دور میں بہتر منافع فراہم کرنے کے حکومتی اقدامات کا ایک مخلصانہ حصہ ہے۔

طالبان وفد کے ممکنہ دورہ برسلز کے خلاف یورپ میں شدید غم و غصہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور افغان شہریوں کا یورپی پارلیمنٹ کے دفتر کے باہر بڑا احتجاجی مظاہرہ، طالبان کو مدعو کرنا افغان خواتین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف قرار

منصور احمد june 09,2026

برسلز(نیوز اینڈ نیوز) — 09 جون 2026ء

افغان طالبان کے ممکنہ دورۂ برسلز اور یورپی اداروں کے ساتھ متوقع مذاکرات کے خلاف اسپین میں یورپی پارلیمنٹ کے مرکزی دفتر کے باہر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، تارکینِ وطن افغان شہریوں اور مختلف سماجی کارکنوں نے ایک بہت بڑا اور شدید احتجاجی مظاہرہ کیا ہے، برسلز اور بین الاقوامی میڈیا سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق مظاہرین نے غصے سے بھرپور نعرے بازی کرتے ہوئے طالبان وفد کو یورپی اداروں میں باضابطہ مدعو کرنے کی کسی بھی کوشش یا اقدام کو دہشت گردی و جبر کے متاثرین کی کھلی توہین اور مظلوم افغان خواتین کے سلگتے ہوئے مسائل کو یکسر نظرانداز کرنے کے مترادف قرار دیا ہے، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مظاہرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے طویل اور تاریک دورانِ حکومت میں طالبان انتظامیہ نے افغانستان کے اندر معصوم خواتین اور بچیوں کی بنیادی آزادیوں پر بدترین اور سخت ترین پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جس کے باعث پورا ملک اس وقت افغان خواتین کے لیے ایک بہت بڑے قید خانے کی شکل اختیار کر چکا ہے، انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ طالبان کی فاشسٹ پالیسیاں خواتین کی تعلیم، روزگار، عزتِ نفس اور ان کے روشن مستقبل کے لیے ایک مسلسل اور سنگین خطرہ بنی ہوئی ہیں، افغان جریدے ”افغانستان انٹرنیشنل“ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق اس احتجاج میں شریک پناہ گزینوں اور عالمی نمائندوں نے یورپی یونین سے پرزور مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق پامال کرنے والے طالبان کو یورپی پارلیمنٹ جیسے معزز ترین پلیٹ فارم پر جگہ دینے کے بجائے بین الاقوامی عدالتوں کے کٹہرے میں کھڑا کر کے ان کا کڑا احتساب کیا جانا چاہیے اور انہیں عالمی سطح پر جوابدہ بنایا جانا چاہیے، مظاہرین کا مؤقف تھا کہ انسانی حقوق کی ایسی سنگین و کھلی خلاف ورزیوں کے ناقابلِ تردید الزامات کی موجودگی میں طالبان کو کسی بھی قسم کا سفارتی پلیٹ فارم یا سیاسی کوریج فراہم کرنا عالمی قوانین کا جنازہ نکالنے کے برابر ہے، واضح رہے کہ اندرونی رپورٹس کے مطابق یورپی پارلیمنٹ کے متعدد اراکین اور اسی (۸۰) سے زائد بین الاقوامی انسانی حقوق کی نامور تنظیمیں بھی طالبان وفد کے اس ممکنہ دورۂ برسلز پر پہلے ہی شدید تشویش اور مخالفت کا اظہار کر چکی ہیں، بین الاقوامی سیاسی ماہرین اور دفاعی مبصرین کا اس صورتحال پر کہنا ہے کہ اس وقت خود افغانستان کے اندرونی حالات بھی سیاسی اور سماجی طور پر تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور کابل حکومت کی سخت پالیسیوں کے خلاف عوامی مزاحمت اور اندرونی لاوے کے پھٹنے کی مسلسل اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، مبصرین کے مطابق اب ملک کے اندر اور بیرونِ ملک ہونے والے یہ بڑے پیمانے کے مظاہرے طالبان کے اس عوامی حمایت اور پورے ملک پر مکمل امن و امان کے کنٹرول کے دعوؤں پر سنگین ترین سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔

مودی سرکار کی نفرت انگیز سیاست کے خلاف نوجوان باغی، ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ بھارتی نوجوانوں کی حقیقی آواز بن گئی، ہندو مسلم بیانیے کے بجائے تعلیم اور روزگار دینے کا مطالبہ، تحریک تیز کرنے کا اعلان

منصور احمد june 09,2026

نئی دہلی(نیوز اینڈ نیوز) — 09 جون 2026ء

بھارت میں مودی سرکار کی عوام دشمن تعلیمی و معاشی پالیسیوں کے خلاف نوجوانوں کی ایک منفرد اور بڑی احتجاجی تحریک کے طور پر ابھرنے والی ”کاکروچ جنتا پارٹی“ (سی جے پی) نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی پالیسیوں پر سخت اور تیکھی تنقید کرتے ہوئے دوٹوک مطالبہ کیا ہے کہ ملک کی سیاست کو مذہبی منافرت اور تقسیم کے بجائے خالصتاً تعلیم، روزگار کی فراہمی اور نوجوانوں کے حقیقی مسائل پر مرکوز کیا جائے، نئی دہلی اور بھارتی میڈیا کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مودی سرکار کو کڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے بھارتی سیاست کو جان بوجھ کر صرف ہندو مسلم کے زہریلے بیانیے تک محدود رکھا گیا ہے، تاکہ عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا سکے، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس نفرت انگیز سیاست کے باعث نوجوانوں کو درپیش بڑھتی ہوئی بے روزگاری، تعلیمی نظام کے سنگین مسائل اور روزگار کے مواقع کی بدترین کمی جیسے سب سے بنیادی اور اہم مسائل پسِ منظر میں چلے گئے ہیں، ابھیجیت دیپکے کا کہنا تھا کہ بھارت کی نئی اور باشعور نوجوان نسل اب مودی سرکار کے کھوکھلے نعروں کے بجائے اپنے مستقبل، تعلیم کی بہتری اور معقول ملازمتوں کے حوالے سے عملی و فوری اقدامات چاہتی ہے، انہوں نے مودی حکومت کو خبردار کیا کہ اگر تعلیمی نظام میں فوری اصلاحات نہ کی گئیں اور نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم نہ کیے گئے تو ملک بھر میں جاری احتجاجی سرگرمیوں کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے جس کی تمام تر ذمہ داری کٹھ پتلی سرکار پر عائد ہوگی، کاکروچ جنتا پارٹی کے مرکزی ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی وزیر تعلیم کے فوری استعفے کے اپنے اصولی مطالبے کے ساتھ ساتھ ملکی تعلیمی نظام میں انقلابی اصلاحات اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے بہت جلد ایک جامع اور تاریخی قومی ایجنڈا بھی عوام کے سامنے پیش کرے گی، واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں بھارت کے طول و عرض میں امتحانی پرچوں کے آؤٹ ہونے، پیپرز لیک اسکینڈلز اور نتائج میں بڑے پیمانے پر ہونے والے کرپشن و تنازعات کے بعد بھارت کے مختلف بڑے شہروں میں طلبہ اور نوجوانوں کی جانب سے مودی سرکار کے خلاف احتجاجی مظاہروں اور غصے میں روزبروز ہولناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، نئی دہلی کے سیاسی مبصرین کے مطابق نوجوانوں کے ان سلگتے ہوئے مسائل اور روزگار سے متعلق سخت مطالبات نے اس وقت بھارتی سیاست کے ایوانوں میں ایک نیا زلزلہ برپا کر دیا ہے اور مودی سرکار دفاعی پوزیشن پر آ گئی ہے، جبکہ دوسری جانب ملک کی مختلف سیاسی جماعتیں بھی اب انتخابی میدان میں نوجوان ووٹرز کے اس بڑھتے ہوئے انقلابی کردار کو انتہائی اہم قرار دینے پر مجبور ہو چکی ہیں، کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے اپنے فولادی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ نوجوانوں کی یہ تحریک ناصرف مودی کے فاشسٹ نظریات کا مقابلہ کرے گی بلکہ تعلیم، نظام میں مکمل شفافیت، میرٹ کی بحالی اور روزگار کے بہترین مواقع کے حصول کو ہی اپنی اس بڑی جدوجہد کا بنیادی محور بنائے رکھے گی۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی ہولناک رخ اختیار کر گئی، ایرانی کارروائی میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر تباہ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت ترین ردِعمل، واشنگٹن جواب دینے پر مجبور ہوگا، پائلٹس کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا

منصور احمد june 09,2026

واشنگٹن(نیوز اینڈ نیوز) — 09 جون 2026ء

آبنائے ہرمز کے انتہائی حساس سمندری علاقے میں امریکی اور ایرانی افواج کے مابین کشیدگی ایک نئے اور انتہائی ہولناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب پیش آنے والے حالیہ سنگین واقعے کے بعد اب امریکہ ایرانی جارحیت کا جواب دینے پر مجبور ہوگا، امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایرانی فورسز کی مبینہ کارروائی کے نتیجے میں امریکی فوج کا ایک جدید اور اربوں روپے مالیت کا اپاچی (Apache) گن شپ ہیلی کاپٹر مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، واشنگٹن اور امریکی میڈیا سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے جاری کردہ باضابطہ بیان میں بتایا کہ امریکی فوج کے اعلیٰ حکام نے انہیں گزشتہ شب پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کی تمام تفصیلات سے آگاہ کیا ہے، جس کے مطابق دورانِ گشت امریکی فوج کے ایک جدید ترین اپاچی گن شپ ہیلی کاپٹر کو سمندر میں نشانہ بنایا گیا، تاہم خوش قسمتی سے ہیلی کاپٹر میں سوار دونوں امریکی پائلٹس معجزانہ طور پر محفوظ رہے جنہیں جائے وقوعہ سے فوری طور پر بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے، امریکی صدر نے ایران کو کڑی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز جیسے بین الاقوامی اور حساس ترین علاقے میں امریکی فوجی اثاثوں کو براہِ راست نشانہ بنانا ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے اور امریکہ اس اشتعال انگیزی پر اب اپنی مرضی کے مطابق مناسب عسکری ردعمل دینے کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے، دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق خطے میں ۱۳ اپریل سے جاری بحری ناکہ بندی کے دوران امریکی نیوی کی جانب سے اب تک متعدد مشکوک بحری جہازوں کو روک کر ان کا رخ موڑا جا چکا ہے جبکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد لے جانے والے درجنوں دیگر جہازوں کو تصدیق کے بعد گزرنے کی باقاعدہ اجازت دی گئی ہے، امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اپاچی ہیلی کاپٹر کے اس حادثے کو پینٹاگون کی جانب سے ابتدائی طور پر ایک عام تکنیکی یا آپریشنل واقعہ قرار دینے کی کوشش کی جا رہی تھا، تاہم بعد ازاں خفیہ اداروں سے سامنے آنے والی نئی معلومات میں یہ سنسنی خیز دعویٰ کیا گیا کہ یہ ہیلی کاپٹر دراصل ایرانی فورسز کی بلااشتعال عسکری کارروائی کا نشانہ بنا تھا، نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر صحافیوں سے ہنگامی گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ واقعے میں کسی بھی امریکی فوجی اہلکار کی جان کو نقصان نہیں پہنچا، تاہم وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون اس تمام صورتحال کا انتہائی بغور جائزہ لے رہے ہیں، دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی سطح پر خام تیل کی ترسیل کی دنیا کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی اس نئی عسکری کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور پورے خطے کی سلامتی پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

مالیاتی دباؤ اور سیاسی ترجیحات، قومی اقتصادی کونسل کا اہم ترین اجلاس آج طلب، ۴۷ کھرب روپے سے زائد کے ملکی ترقیاتی بجٹ کی تشکیلِ نو پر غور، ترقیاتی منصوبوں میں بڑی کٹوتیوں کا امکان

کاشف عباسی ,june 08,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) — 08 جون 2026ء

ملک کے بدلتے ہوئے سیاسی و مالی حقائق کے پیشِ نظر ترقیاتی بجٹ کی تشکیلِ نو کے لیے قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطح کا اجلاس آج پیر کے روز وزیراعظم پاکستان کی زیرِ صدارت منعقد ہو رہا ہے، جس میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے وفاقی اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں پر مشتمل تقریباً ۴۷ کھرب ۱۵ ارب (۴.۷۱۵ کھرب) روپے کے مجموعی ترقیاتی پروگرام کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، وفاقی دارالحکومت کے باوثوق ذرائع کے مطابق شدید مالیاتی دباؤ، سیاسی ترجیحات اور مختلف سرکاری اداروں کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے وفاقی اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کیے جانے کا قوی امکان ہے، واضح رہے کہ قومی اقتصادی کونسل ملک کا اعلیٰ ترین اقتصادی فیصلہ ساز فورم ہے جو وزیراعظم، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وفاقی وزراء پر مشتمل ہوتا ہے، ذرائع کے مطابق آج ہونے والے اس اہم اجلاس کے چار نکاتی ایجنڈے میں سالانہ منصوبہ 2025-26 کا تفصیلی جائزہ، سالانہ منصوبہ 2026-27 کی حتمی منظوری اور چاروں صوبوں کے اہم سماجی و اقتصادی اشاریوں پر بریفنگ شامل کی گئی ہے، اجلاس کے دوران پبلک سیکٹر انویسٹمنٹ (پی ایس آئی) پروگرام 2025-26 کا جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ مالی سال کے لیے مجوزہ سرمایہ کاری منصوبوں پر بھی تفصیلی غور کیا جائے گا، اس کے علاوہ رواں مالی سال کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں اب تک کی گئی مختلف ترامیم، نئے اضافوں اور تقریباً ۱۷۵ ارب روپے کی بڑی کٹوتی کی باقاعدہ توثیق کرنا بھی کونسل کے ایجنڈے کا ایک اہم حصہ ہے، وفاقی ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی پی ایس ڈی پی کا کل حجم ۱.۳ کھرب روپے سے تجاوز کر سکتا ہے، جبکہ دوسری جانب ملک میں مالی وسائل کی محدود دستیابی اور تنگی کے باعث صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگراموں (اے ڈی پیز) کے حجم میں نمایاں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، اجلاس میں ملک بھر میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں کی اب تک کی پیش رفت کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، کیونکہ اس وقت ملک کے متعدد میگا منصوبے لاگت اور تکمیل کی مدت میں غیر معمولی اور نمایاں اضافے کا شکار ہو چکے ہیں، حکام کے مطابق ان بڑے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے اور روزبروز بڑھتے ہوئے اضافی اخراجات پر قابو پانے کے لیے ایک نئی اور سخت حکمتِ عملی مرتب کرنے پر غور کیا جائے گا، معاشی ماہرین کے مطابق قومی اقتصادی کونسل میں آج کیے جانے والے یہ بڑے فیصلے آئندہ پیش کیے جانے والے وفاقی بجٹ 2026-27 کی اصل سمت کا تعین کرنے میں سب سے اہم اور کلیدی کردار ادا کریں گے، خاص طور پر ایک ایسے نازک وقت میں جب حکومت کو ملکی ترقیاتی اخراجات، سخت مالیاتی نظم و ضبط اور اپنے اتحادیوں کے سیاسی تقاضوں کے درمیان ایک مشکل توازن قائم کرنے کا بڑا چیلنج درپیش ہے۔

وفاقی بجٹ 2026-27ء، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان زرداری ہاؤس میں اہم مشاورتی اجلاس، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی پی پی پی کی تجاویز بجٹ میں شامل کرنے کی یقین دہانی، وزیراعظم شہباز شریف آج تیسرے دور میں شریک ہوں گے

کاشف عباسی ,june 08,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) — 08 جون 2026ء

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے حکومت کی اہم اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو باقاعدہ یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں پارٹی کی جانب سے پیش کردہ تمام تجاویز اور سفارشات پر سنجیدگی سے غور کر کے انہیں شامل کیا جائے گا، وفاقی دارالحکومت سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق یہ یقین دہانی اتوار کے روز پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین ہونے والے ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس میں کرائی گئی، جو زرداری ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، اس اہم بیٹھک میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پارٹی وفد کی خود قیادت کی، جس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، سینیٹر شیری رحمان اور رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر جیسی اہم سیاسی شخصیات شامل تھیں، سفارتی و سیاسی ذرائع کے مطابق دونوں بڑی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان وفاقی بجٹ، نئے ترقیاتی منصوبوں، صوبوں کے جائز مالی حقوق اور ملک بھر میں عوامی ریلیف کے مختلف اقدامات پر تفصیلی اور تعمیری تبادلہ خیال کیا گیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اہم اجلاس اصل میں ہفتہ کے روز ہونا تھا، تاہم گلگت بلتستان کے انتخابات سے متعلق گوں نا گوں مصروفیات کے باعث پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی خصوصی درخواست پر اسے اتوار تک کے لیے مؤخر کر دیا گیا تھا، اب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین بجٹ مشاورت کا تیسرا اہم دور پیر یعنی آج متوقع ہے، جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف بھی لاہور سے اپنی واپسی کے فوراً بعد خود شرکت کریں گے، سیاسی مبصرین کے مطابق وفاقی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے قبل اتحادی جماعتوں کے درمیان جاری یہ مسلسل مشاورت حکومتی اتحاد کے مستقبل کے استحکام اور بجٹ کی بلا رکاوٹ منظوری کے لیے انتہائی اہم اور کلیدی قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے غریب عوام کو ریلیف دینے، ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم اور صوبائی حقوق سے متعلق متعدد سخت اور اہم تجاویز حکومت کے سامنے رکھی گئی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا ہوا، ایران کا اسرائیل پر بڑا اور اچانک میزائل حملہ، تل ابیب سمیت پورے اسرائیل میں فضائی حملوں کے سائرن بج اٹھے، بیروت پر اسرائیلی بمباری کے بعد پاسدارانِ انقلاب کا انتقام، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیتن یاہو کو فوری جوابی کارروائی سے روکنے کی ہدایت

کاشف عباسی ,june 08,2026

یروشلم / تہران(نیوز اینڈ نیوز) — 08 جون 2026ء

مشرقِ وسطیٰ میں اپریل کے مہینے میں ہونے والی عارضی جنگ بندی کے بعد ایران نے پہلی بار اسرائیل پر براہِ راست بڑا میزائل حملہ کر دیا ہے، جس کے بعد پورے اسرائیل میں خوف و ہراس پھیل گیا اور فضائی حملوں کے سائرن بج اٹھے جبکہ صیہونی دفاعی نظام کو فوری طور پر انتہائی ہائی الرٹ کر کے متحرک کر دیا گیا، یروشلم اور تہران سے موصول ہونے والی جنگی تفصیلات کے مطابق اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ ملک کے مختلف مقامات پر ایران کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی روکنے کے لیے ان کے فضائی دفاعی نظام نے ہنگامی کارروائی کی، یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب اسرائیل نے اسی روز بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتے ہوئے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ میں ایک مبینہ عسکری کمانڈ سینٹر کو شدید بمباری کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اس اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں دو معصوم افراد جاں بحق جبکہ بیس (۲۰) سے زائد زخمی ہوئے، دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس میزائل حملے کی باقاعدہ ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے ایک ”انتباہی کارروائی“ قرار دیا ہے اور سخت وارننگ جاری کی ہے کہ اگر اسرائیل نے دوبارہ کسی قسم کی عسکری جارحیت کی تو اس کا اگلا جواب اس سے کہیں زیادہ سخت اور وسیع پیمانے پر دیا جائے گا، اسی تناظر میں ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور واشنگٹن کے ساتھ اہم مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرنے والے محمد باقر قالیباف نے مودی سرکار کی طرح اسرائیل کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بیروت پر بزدلانہ حملے کے لیے امریکہ نے اسرائیل کو باقاعدہ ”گرین سگنل“ دیا تھا، جس کے بعد اب خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کو ایران کے لیے ”جائز اہداف“ قرار دیا جا سکتا ہے، اس سنگین صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر سخت زور دیا ہے کہ وہ ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں فی الحال کسی بھی قسم کی فوری جوابی عسکری کارروائی سے مکمل گریز کریں، صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین اس وقت ایک مستقل امن معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ موجودہ نازک صورتحال مزید خراب ہو، تاہم کشیدگی کے باعث امریکی سفارت خانے نے یروشلم میں موجود اپنے تمام سفارتی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو فوری طور پر محفوظ مقامات اور زیرِ زمین بنکرز میں رہنے کی سخت ہدایت جاری کر دی ہے، اسی دوران خطے میں امن کی بحالی کے لیے سرگرم پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ایک اہم اور ہنگامی ملاقات کی، جس میں خطے کی ابتر صورتحال اور جاری امن عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، سفارتی ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا ایک مخلصانہ اور خصوصی پیغام بھی ایرانی قیادت تک پہنچایا ہے، دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اپریل کی جنگ بندی کے باوجود ایران اور اسرائیل کے مابین یہ عسکری تصادم ایک بار پھر انتہائی خطرناک موڑ اختیار کر چکا ہے، جس کے تباہ کن اثرات ناصرف پورے مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور خام تیل کی قیمتوں پر بھی براہِ راست مرتب ہونے کا شدید خدشہ ہے۔

آزاد کشمیر میں سنگین عسکری تصادم، کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران فائرنگ سے ۴ پولیس اہلکار شہید اور متعدد زخمی، راولاکوٹ ہسپتال پر حملے کو آئی جی پی نے ”کھلی دہشت گردی“ قرار دے دیا، بلاول بھٹو کی شدید تشویش

کاشف عباسی ,june 08,2026

مظفرآباد(نیوز اینڈ نیوز) — 08 جون 2026ء

آزاد جموں و کشمیر میں حالات انتہائی کشیدہ اور ناگفتہ بہ ہو چکے ہیں، جہاں نئی نویلی کالعدم قرار دی گئی تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے احتجاج کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے مابین ہونے والے شدید ترین خونی تصادم اور جھڑپوں میں کم از کم ۴ پولیس اہلکار شہید جبکہ بیس (۲۰) سے زائد شدید زخمی ہو گئے ہیں، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے پولیس حکام کے مطابق راولاکوٹ شہر میں احتجاجی مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم اس وقت انتہائی ہولناک اور شدت اختیار کر گیا جب مشتعل افراد کے مسلح جتھوں نے مختلف مقامات پر پولیس کو سیدھی فائرنگ کا نشانہ بنایا، آزاد کشمیر پولیس کے سربراہ انسپکٹر جنرل لیاقت علی ملک کے دفتر سے جاری ہونے والے باضابطہ اور ہنگامی بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ چاروں پولیس اہلکار اس وقت جامِ شہادت نوش کر گئے جب مشتعل مظاہرین نے راولاکوٹ کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) پر منظم انداز میں دھاوا بولا اور حملہ کر دیا، آئی جی پولیس کے بیان کے مطابق فرائض پر مامور ان شہید اہلکاروں کو مظاہرین کی جانب سے ممنوعہ آتشیں اسلحے اور شاٹ گن سے نشانہ بنایا گیا، جسے پولیس کے اعلیٰ حکام نے ”کھلی دہشت گردی“ قرار دیتے ہوئے امن و امان تباہ کرنے والے ان تمام ذمہ دار شرپسند عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین عسکری و قانونی کارروائی کا فولادی عزم ظاہر کیا ہے، دوسری جانب سرکاری و مقامی ذرائع کے مطابق پولیس کی جوابی کارروائی اور تصادم کے نتیجے میں مظاہرین میں شامل کم از کم دو افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ درجنوں دیگر افراد شدید زخمی ہیں جنہیں طبی امداد دی جا رہی ہے، تاہم مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کا خدشہ ہے کہ علاقے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، اس خونریز واقعے کے بعد انتظامیہ کی جانب سے پورے علاقے میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ تمام اہم ترین سرکاری تنصیبات، چوکوں اور حکومتی عمارتوں کے گرد پولیس اور ایلیٹ فورس کی اضافی نفری تعینات کر کے گشت بڑھا دیا گیا ہے، ادھر اس سنگین صورتحال کے دوران آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے آئینی ترامیم سے متعلق صدارتی ریفرنس کی اہم سماعت کی، جس کے دوران عدالتِ عظمیٰ نے سخت ریمارکس دیے کہ آئین کے اندر تبدیلیاں یا ترامیم کوئی ایسی رعایت یا حلوہ نہیں ہیں جنہیں کسی بھی حکومت سے ڈرا دھمکا کر یا زبردستی احتجاج کے ذریعے حاصل کیا جائے، دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کی اس بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وہاں امن و امان کی بحالی کے لیے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے فوری اور خصوصی رابطہ کریں گے، واضح رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کے لیے مخصوص اسمبلی نشستوں کو ختم کرنے کے خلاف ۹ جون کو مظفرآباد کی جانب ایک بڑے لانگ مارچ اور غیر معینہ مدت کے دھرنے کا اعلان کر رکھا تھا، جس کے بعد امن و امان کے پیشِ نظر حکومت نے ایکشن لیتے ہوئے اس تنظیم کو انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت باقاعدہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔

گلگت بلتستان انتخابی دنگل، ابتدائی غیر سرکاری نتائج میں پاکستان پیپلز پارٹی ۱۰ نشستوں کے ساتھ سب سے آگے، مسلم لیگ (ن) ۶ نشستوں پر برتری کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود، سیاسی جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کے الزامات

کاشف عباسی ,june 08,2026

گلگت(نیوز اینڈ نیوز) — 08 جون 2026ء

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے ابتدائی اور غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سب سے زیادہ نشستوں پر واضح برتری حاصل کرتی دکھائی دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب مختلف سیاسی جماعتوں نے انتخابی بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے سنگین الزامات بھی عائد کر دیے ہیں، گلگت سے موصول ہونے والے ابتدائی غیر سرکاری نتائج کے مطابق قانون ساز اسمبلی کی چوبیس (۲۴) نشستوں میں سے پیپلز پارٹی اس وقت دس (۱۰) حلقوں میں آگے ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) چھ (۶) نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے، اس کے علاوہ آزاد امیدوار پانچ (۵) حلقوں میں سبقت رکھے ہوئے ہیں، جبکہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو دو (۲) نشستوں پر برتری حاصل ہے اور مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) بھی ایک نشست پر آگے چل رہی ہے، غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے علاقائی صدر امجد حسین حلقہ جی بی اے-۱ گلگت میں اپنے مخالفین سے آگے ہیں، جبکہ اسکردو اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بھی پیپلز پارٹی کو نمایاں کامیابیاں ملتی دکھائی دے رہی ہیں، پیپلز پارٹی کے نمایاں امیدواروں میں سید توقیر مہدی (جی بی اے-۷ اسکردو)، فدا محمد نشاد (جی بی اے-۹ اسکردو)، ناصر علی خان (جی بی اے-۱۰ روندو)، اقبال حسن (جی بی اے-۱۱ کھرمنگ) اور عمران ندیم (جی بی اے-۱۲ شگر) اپنے اپنے حلقوں میں واضح برتری حاصل کیے ہوئے ہیں، دوسری جانب مسلم لیگ (ن) بھی گلگت اور استور سمیت کئی اہم حلقوں میں مضبوط پوزیشن میں ہے اور سخت مقابلہ کر رہی ہے، غیر سرکاری نتائج کے مطابق ن لیگ کے سابق وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن (جی بی اے-۲ گلگت)، رانا فرمان علی (جی بی اے-۱۳ استور)، رانا محمد فاروق (جی بی اے-۱۴ استور)، کفایت الرحمٰن (جی بی اے-۱۸ تانگیر)، عبدالجہان (جی بی اے-۲۰ غذر) اور محمد ابراہیم (جی بی اے-۲۲ گانچھے) اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں آگے چل رہے ہیں، تحریکِ انصاف کے حوالے سے بات کی جائے تو پارٹی انتخابی نشان کے بغیر آزاد حیثیت میں میدان میں اترنے والے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں میں سہیل عباس (جی بی اے-۳ گلگت) اپنے حلقے میں برتری حاصل کیے ہوئے ہیں، انتخابی نتائج کے مطابق دیامر، یاسین اور گانچھے سمیت کئی دور افتادہ علاقوں میں آزاد امیدوار انتہائی مضبوط پوزیشن میں سامنے آ رہے ہیں، جس کے باعث مبصرین کا کہنا ہے کہ نئی اسمبلی میں آزاد ارکان کا کردار حکومت سازی کے لیے انتہائی اہم ہو سکتا ہے، انتخابات کے دوران اور پولنگ ختم ہونے کے بعد پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف سمیت بعض بڑی سیاسی جماعتوں نے انتخابی بے ضابطگیوں اور مبینہ دھاندلی کے شدید الزامات عائد کیے ہیں، تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے ان الزامات پر کارروائی جاری ہے اور سرکاری و حتمی نتائج جاری ہونا ابھی باقی ہیں، سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ نتائج اسی طرح برقرار رہے تو گلگت بلتستان میں اگلی حکومت سازی کے لیے سیاسی اتحاد، جوڑ توڑ اور آزاد امیدواروں کی حمایت فیصلہ کن اہمیت اختیار کر جائے گی۔

گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن مستحکم، پی ٹی آئی کا خطے میں کوئی مؤثر ووٹ بینک نہیں، جن کے اپنے امیدوار پورے نہیں وہ دھاندلی کا شور مچا رہے ہیں، صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کا پی ٹی آئی کے الزامات پر کرارا جواب

منصور احمد june 06,2026

لاہور(نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے عام انتخابات کے لیے سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں، جہاں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مابین لفظی جنگ اور سیاسی گرما گرمی میں شدید اضافہ دیکھا جا رہا ہے، لاہور سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے گلگت بلتستان کی انتخابی سیاست پر ن لیگ کا مخلصانہ اور دوٹوک ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں عوامی سطح پر مسلم لیگ (ن) کے حق میں ایک واضح رجحان موجود ہے اور وہاں کے مختلف علاقوں میں گونجنے والے ”شیر، شیر“ کے نعرے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ عوام ن لیگ کی ماضی کی کارکردگی پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں، انہوں نے پی ٹی آئی کی انتخابی مہم کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے انتخابی مہم کے دوران جان بوجھ کر رکاوٹوں کا ایک جھوٹا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں اور سچ یہ ہے کہ اس جماعت کا گلگت بلتستان میں اب کوئی مؤثر ووٹ بینک موجود ہی نہیں رہا، عظمیٰ بخاری نے سیاسی الزامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ جن سیاسی جماعتوں کے پاس حلقوں میں کھڑے کرنے کے لیے امیدوار ہی مکمل نہیں ہیں، وہ اپنی ممکنہ شکست سے بچنے کے لیے ابھی سے ”قبل از وقت دھاندلی“ کے من گھڑت الزامات لگا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں، انہوں نے مشورہ دیا کہ انتخابی مقابلہ سستی الزام تراشی کے بجائے خالصتاً کارکردگی کی بنیاد پر ہونا چاہیے کیونکہ گلگت بلتستان کے باشعور عوام اب جھوٹے دعوؤں اور مخالفین کی منفی سیاست کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں اور وہ صرف ترقی اور عملی کام کرنے والی جماعت کو ہی ترجیح دے رہے ہیں، صوبائی وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ گلگت بلتستان میں سڑکوں کے جال، بہترین انفراسٹرکچر اور دیگر بڑے ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے وہاں کے عوام کی نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور یہی بڑی وجہ ہے کہ عوامی اعتماد ن لیگ کے ساتھ نظر آ رہا ہے جبکہ مخالف سیاسی جماعتیں ترقیاتی کاموں کے بجائے صرف پروپیگنڈا اور الزامات کی سیاست کر رہی ہیں، دوسری جانب سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان میں انتخابی ماحول بتدریج گرم ہو رہا ہے اور تمام جماعتیں اپنے اپنے بیانیے کے ساتھ میدان میں اتر چکی ہیں، مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما رانا ثناء اللہ کے مطابق ن لیگ نے خطے کے زیادہ تر حلقوں میں اپنے مضبوط امیدوار کھڑے کیے ہیں جبکہ بعض مخصوص حلقوں میں مقامی آزاد امیدواروں کی حمایت کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، ان کے مطابق کئی نشستوں پر ن لیگ اور دیگر جماعتوں کے مابین انتہائی سخت اور کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے اور بعض حلقوں میں ہار جیت کا فرق انتہائی کم ہوگا، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کی سیاست کا یہ خاصہ رہا ہے کہ وہاں ہر نئے انتخاب کے ساتھ نئی سیاسی صف بندیاں سامنے آتی ہیں، تاہم اصل اور حتمی فیصلہ ہمیشہ عوامی ووٹ کی طاقت سے ہی ہوتا ہے، جو کسی بھی جماعت کے بلند بانگ دعووں کو حقیقت میں بدلنے یا انہیں یکسر رد کرنے کی پوری طاقت رکھتا ہے۔