ڈیجیٹل چیلنجز اور نسلِ نو کا تحفظ: منشیات کی بدلتی نوعیت کے مطابق ہمارا ردِعمل بھی تبدیل ہونا چاہیے، سوشل میڈیا اور کرپٹو کرنسی کا استعمال تشویشناک ہے، صدر مملکت آصف علی زرداری

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے منشیات کے استعمال اور اس کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے مقتدر موقع پر دنیا بھر اور بالخصوص پاکستان میں منشیات کے پھیلتے ہوئے جدید اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ منشیات کے خطرات کی بدلتی نوعیت کے پیشِ نظر اب ریاست اور معاشرے کے ردِعمل اور تزویراتی حکمتِ عملی کو بھی تبدیل ہونا پڑے گا۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری کردہ مقتدر پیغام میں صدرِ مملکت نے کہا کہ روایتی منشیات کے ساتھ ساتھ اب مارکیٹ میں انتہائی خطرناک مصنوعی منشیات کی نئی اقسام سامنے آ چکی ہیں، جو ہماری نوجوان نسل کے لیے ایک بڑا اور سنجیدہ عالمی مسئلہ بن چکی ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے جرائم پیشہ عناصر کے جدید طریقوں کو بے نقاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ بین الاقوامی اسمگلرز اور مقامی ڈیلرز جدید مواصلاتی ٹیکنالوجیز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو منشیات کی تشہیر، ترویج اور اسے ایک معمول کی بات بنا کر پیش کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ ان غیر قانونی سرگرمیوں کی مالی معاونت اب روایتی مالیاتی نظام سے ہٹ کر کرپٹو کرنسیوں اور پوشیدہ ڈیجیٹل ادائیگی کے ذرائع سے کی جا رہی ہے، جس کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچنا آسان ہو جاتا ہے۔ صدرِ مملکت نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے منشیات کے استعمال کو فیشن، جدیدیت، مرتبے یا بے ضرر تفریح کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ تصورات نہایت خطرناک اور گمراہ کن ہیں کیونکہ انسانی صلاحیتوں کی تباہی میں کوئی ترقی پسندی نہیں ہو سکتی۔

صدرِ مملکت نے مسئلہ کے انسانی پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ منشیات کا اثر صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس سے پورا خاندان، برادریاں اور تعلیمی نظام متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ اسمگلنگ اور تقسیم کاروں کے خلاف مقتدر قانونی کارروائی ناگزیر ہے، لیکن صرف قانون نافذ کرنے کے اقدامات اس ناسور کا مکمل حل نہیں ہیں؛ ہمیں انسداد، تعلیم، عوامی آگاہی اور بحالی کے اقدامات کو بیک وقت مضبوط بنانا ہوگا۔ انہوں نے اس سال کے عالمی موضوع کا حوالہ دیتے ہوئے اپیل کی کہ پارلیمان، انتظامیہ، علمائے کرام، میڈیا، کمیونٹی رہنما اور والدین مل کر ایسا سماجی و ثقافتی ماحول تشکیل دیں جو نوجوانوں کو مثبت مواقع کی طرف راغب کرے۔ اپنے پیغام کے اختتام پر صدر آصف علی زرداری نے اس جنگ میں صفِ اول میں خدمات انجام دینے والے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مقتدر اہلکاروں، طبی ماہرین، اساتذہ اور سول سوسائٹی کے اراکین کی فرض شناسی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

منشیات کے خلاف جنگ میں پوری قوم متحد: پاکستان منشیات، ان کی غیر قانونی ترسیل اور نوجوانوں تک رسائی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے منشیات کے استعمال اور اس کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے مقتدر موقع پر پوری قوم بالخصوص والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، سماجی رہنماؤں اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ ہماری نسلِ نو کو اس کثیر الجہتی لعنت سے بچانے کے لیے فرنٹ لائن پر آ کر اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان منشیات کی نئی اقسام، اس کی بین الاقوامی ترسیل اور نوجوانوں تک اس کی رسائی کے تمام منسلک خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر سطح پر پرعزم اور ثابت قدم ہے۔

وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج پاکستان عالمی برادری کے ساتھ ہم آواز ہو کر منشیات کے سدِباب کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کے عزم کو دہراتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال کا عالمی موضوع ’’دیرینہ مسائل، نئے چیلنجز اور منشیات سے پاک مستقبل کے لیے اختراعی اقدامات‘‘ ہے، جو عالمی سطح پر اس مسئلے کی بدلتی اور سنگین نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے قومی استعداد میں اضافے، صوبائی و وفاقی اداروں میں ہم آہنگی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ انٹیلی جنس کے تبادلے کو وسعت دے رہی ہے، کیونکہ ان غیر قانونی نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے کے بغیر معاشرے کو محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔

وزیرِ اعظم نے اپنے مقتدر خطاب میں تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک بنانے کو حکومت کی اولین قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس طلب میں کمی، آگاہی مہم اور متاثرین کے علاج و بحالی کے لیے جامع و متوازن حکمتِ عملی کے تحت کام کر رہی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے منشیات خوروں اور اسمگلروں کے خلاف برسرِ پیکار اینٹی نارکوٹکس فورس کے ان بہادر شہداء کو خصوصی اور مقتدر خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے وطنِ عزیز کے مستقبل کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی سماجی برائیوں کے خلاف مؤثر روک تھام اور ایک صحت مند و منشیات سے پاک معاشرے کی تشکیل ہم سب کی مشترکہ آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی ہائی الرٹ: نویں محرم الحرام کا مرکزی ماتمی جلوس، ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن سمیت تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور مجسٹریٹس روٹس پر لائیو مانیٹرنگ کے لیے تعینات

منصور احمد june 25,2026

اسلام آباد (سیکیورٹی و انتظامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نویں محرم الحرام کے مرکزی ماتمی جلوس کے مقتدر موقع پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی اور انتظامات کو انتہائی سخت کر دیا گیا ہے۔ جمعرات کے روز نویں محرم الحرام کے روایتی جلوس کے دوران ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) اسلام آباد عرفان نواز میمن سمیت ضلعی انتظامیہ کے تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور مقتدر افسران جلوس کے حساس ترین راستوں پر خود موجود رہے اور تمام تر انتظامات کی نگرانی کی۔

ترجمان ضلعی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر پریس ریلیز کے مطابق، ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن نے جلوس کے مختلف راستوں پر کیے گئے انتظامی اقدامات کا تفصیلی معائنہ کیا اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس اسلام آباد کے ہمراہ مرکزی امام بارگاہ کے اطراف فول پروف سیکیورٹی امور کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا۔ سیکیورٹی اور لائیو مانیٹرنگ کے نظام کو مزید مقتدر بنانے کے لیے ڈی سی اسلام آباد نے اسلام آباد پولیس کے جدید کنٹرول سینٹر کا بھی دورہ کیا، جہاں سی سی ٹی وی اور ڈیجیٹل کیمروں کے ذریعے جلوس کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا گیا۔

اس مقتدر موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن نے واضح کیا کہ تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور ضلعی انتظامیہ کے نامزد کردہ مجسٹریٹس جلوس کے مختلف راستوں پر اس کے آغاز سے لے کر پرامن اختتام تک فیلڈ میں ہمہ وقت موجود رہیں گے۔ انہوں نے تاکید کی کہ مجسٹریٹس اپنی اپنی ڈیوٹی پوائنٹس پر الرٹ رہیں گے تاکہ عزاداروں کو کسی قسم کی تنگی کا سامنا نہ ہو اور وفاقی دارالحکومت میں بین المسالک ہم آہنگی اور امن و امان کی مقتدر فضاء کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جا سکے۔

منشیات کے خلاف گرینڈ آپریشن: کوکین سپلائر پنکی کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے، منشیات کی سرپرستی کرنے والے ایس ایس پی سطح کے افسران کے خلاف بھی انکوائری جاری ہے، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو

محمود احمد june 25,2026

کراچی (کرائم رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو نے صوبے بالخصوص وفاقی و صوبائی دارالحکومتوں میں منشیات کے خاتمے کے لیے جاری مقتدر مہم کے حوالے سے اہم ترین انکشافات کیے ہیں۔ نجی ٹی وی چینل کے مقتدر پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ ملک کی سب سے بڑی اور ہائی پروفائل کوکین ڈیلر انمول عرف “پنکی” کو پولیس نے مقتدر نیٹ ورک سمیت گرفتار کر لیا ہے اور اب اسے قانون کے مطابق عبرت ناک کیفرِ کردار تک ہر صورت پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنکی ایک بین الکلیاتی کوکین سپلائر ہے، اور چونکہ کوکین ایک انتہائی مہنگی منشیات ہے، اس لیے اس کا نیٹ ورک بنیادی طور پر معاشرے کے انتہائی امیر اور مالدار طبقے کو ہی نشانہ بناتا تھا۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے محکمہ پولیس کے اندر موجود کالی بھیڑوں کے خلاف ایک مقتدر اور تاریخی داخلی صفائی (انٹرنل اکاؤنٹبلٹی) کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کی تاریخ میں جتنا کڑا اور سخت احتساب اس وقت ہو رہا ہے، اس کی مثال کسی دوسرے ادارے میں نہیں ملتی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ منشیات فروشوں کی پشت پناہی اور سرپرستی کرنے کے الزامات کے تحت ایس ایس پی جیسے مقتدر اور اعلیٰ سطح کے پولیس افسران کے خلاف بھی اعلیٰ اختیاراتی انکوائریاں شروع کر دی گئی ہیں، کیونکہ ہمارا پہلا ہدف پولیس کے اندر چھپے ان مجرموں کا خاتمہ کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 5 ماہ کے دوران صوبے بھر میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے تحت 6,500 سے زائد چھوٹے بڑے منشیات سپلائرز کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جا چکا ہے۔

کراچی کی سیکیورٹی صورتحال اور بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس پر بات کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے بتایا کہ کراچی پولیس کی جدید اور مربوط حکمتِ عملی کی بدولت شہر میں گزشتہ دو سالوں کے دوران مجموعی جرائم کی شرح میں 40 فیصد تک مقتدر کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ اغواء برائے تاوان کی وارداتیں لگ بھگ ختم ہو چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سرحد پار پڑوسی ملک میں بیٹھ کر انٹرنیشنل نمبرز سے کراچی میں نیٹ ورک چلانے والے ماسٹر مائنڈز کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے اور ملک سے فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے سندھ پولیس “انٹرپول” کے ساتھ لائیو اور قریبی تعاون کر رہی ہے۔ حال ہی میں ایسے ہی ایک بڑے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 70 سے زائد خطرناک جرائم پیشہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے 4 ملزمان پولیس مقابلے میں مارے گئے ہیں۔ آئی جی سندھ نے اعادہ کیا کہ سندھ کا طویل پہاڑی اور وسیع سمندری بارڈر منشیات کی اسمگلنگ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم وفاقی حکومت اور اینٹی نارکوٹکس فورس کے ساتھ مل کر نوجوان نسل کو اس ناسور سے بچانے کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔

عوامی ریلیف کی بڑی نوید: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 20 سے 50 روپے تک کی مقتدر کمی کا امکان، اوگرا نے نئی قیمتوں کی سمری تیار کر لی

کاشف عباسی ,june 25,2026

لاہور/اسلام آباد (معاشی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

مہنگائی کے مارے عوام کے لیے ایک بڑی اور مقتدر ریلیف کی خبر سامنے آئی ہے، جہاں ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید بھاری کمی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے بین الاقوامی مارکیٹ کے رجحانات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں سے متعلق مقتدر سمری مکمل طور پر تیار کر لی ہے۔ نجی ٹی وی چینل کی مقتدر رپورٹ کے مطابق، نئی سمری میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 20 روپے سے لے کر 50 روپے فی لیٹر تک کی نمایاں کمی کا قوی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس عوامی ریلیف کا حتمی فیصلہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی منظوری سے مشروط ہے، جبکہ نئی مقتدر قیمتوں کا باقاعدہ اعلان جمعہ کے روز متوقع ہے۔

دوسری جانب، وزیرِ اعظم کے مقتدر سیاسی مشیر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے بھی پٹرولیم مصنوعات کے مزید سستا ہونے کا واضح عندیہ دیا ہے۔ ایک نجی ٹی وی پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے انکشاف کیا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پٹرولیم قیمتوں کے حساس معاملے پر ایک اعلیٰ سطحی خصوصی ٹیم تشکیل دے دی ہے، جس کا مقصد قیمتوں کو مرحلہ وار مزید نیچے لانا ہے۔ انہوں نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو سخت مقتدر وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھی کمپنی نے پٹرولیم مصنوعات کا کوئی مصنوعی بحران پیدا کرنے یا بلیک میلنگ کی کوشش کی، تو حکومت ان سے انتہائی سختی سے نمٹے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروبار میں نفع و نقصان ساتھ ساتھ چلتے ہیں، کمپنیوں کو ماضی میں جتنا مقتدر فائدہ ہوا، اب انہیں قیمتیں کم کر کے وہ فائدہ ہر صورت عوام کو منتقل کرنا ہوگا۔

وفاقی مشیر رانا ثناء اللہ نے ماضی کے بحران کی تزویراتی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگی کشیدگی کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اچانک ملکی کنٹرول سے باہر ہو گئی تھیں۔ اس ہنگامی اور بحرانی کیفیت سے نمٹنے کے لیے حکومت نے عارضی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر ہر جمعے کو پٹرولیم قیمتوں کے تزویراتی تعین کا مقتدر فیصلہ کیا تھا، تاکہ ملکی اسٹاک کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس دوران ملکی ضرورت کے پیشِ نظر زائد قیمتوں پر بھی تیل امپورٹ کرنا پڑا، جس پر بعض حلقوں کی جانب سے یہ منفی پروپیگنڈا کیا گیا کہ آئل کمپنیوں نے اربوں روپے کا غیر قانونی منافع کما لیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سارا نظام ایک مقتدر سسٹم کے تحت چلتا ہے، اگر کمپنیوں پر بہت زیادہ مالی بوجھ پڑ رہا ہوا تو حکومت توازن برقرار رکھنے کے لیے ان کا بھی خیال رکھے گی، تاہم پہلی ترجیح صرف اور صرف عام عوام کو براہِ راست ریلیف پہنچانا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں نئی بحری کشیدگی: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز کے لیے نئے بحری راستے کا اعلان، بغیر رابطے سفر کرنے والے جہازوں کو کارروائی کی سخت وارننگ

منصور احمد june 25,2026

تہران/واشنگٹن ( نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

تزویراتی اور تجارتی لحاظ سے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ “آبنائے ہرمز” میں ایک بار پھر شدید عالمی و سفارتی کشیدگی سر اٹھانے لگی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے بین الاقوامی تجارتی جہازوں کے گزرنے کے لیے باقاعدہ طور پر ایک بالکل نئے بحری راستے کا اعلان کر دیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب کے مقتدر ترجمان نے واضح الفاظ میں وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب سے تمام بحری جہازوں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ایرانی فورسز کے ساتھ مسلسل لائیو رابطے میں رہتے ہوئے اپنے مقتدر سفر کو یقینی بنائیں۔

ترجمان پاسدارانِ انقلاب نے دوٹوک لہجے میں خبردار کیا کہ ایرانی فورسز سے پیشگی رابطے اور مقتدر اجازت کے بغیر کسی بھی دوسرے پرانے یا متبادل راستے سے گزرنا ایران کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگا اور ایسا کرنا متعلقہ جہازوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق، خطے میں اب صرف وہی بحری راستہ محفوظ تصور کیا جائے گا جس کا ایران کی جانب سے باضابطہ اعلان کیا گیا ہے، اور ان نئی مقتدر ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی تجارتی یا فوجی جہاز کو ایرانی بحریہ کی جانب سے سخت تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب، خلیج میں منعقدہ ‘بحرین تعاون کونسل’ کے مقتدر موقع پر موجود امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے اس تزویراتی اقدام پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی بحری قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی بھی قسم کا کوئی ٹول ٹیکس، فیس یا ایرانی شرائط ہرگز قبول نہیں کی جائیں گی، کیونکہ بین الاقوامی آبی گزرگاہیں کسی ایک مخصوص ریاست کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتیں۔

مارکو روبیو نے خلیجی ممالک کے مقتدر رہنماؤں سے ہونے والی اہم ملاقاتوں کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک نے اس نئی صورتحال پر اپنے شدید تزویراتی خدشات سے آگاہ کیا ہے، اور عمان سمیت تمام خلیجی ریاستیں اس خطے میں کسی بھی قسم کے ٹول ٹیکس کے نفاذ کے سخت خلاف ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے عزم کا اعادہ کیا کہ امریکہ اپنے اتحادی خلیجی ممالک کی سلامتی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور آنے والے سفارتی عمل میں ان ممالک کو مکمل طور پر شامل رکھا جائے گا۔ انہوں نے ان افواہوں کو بھی یکسر مسترد کر دیا کہ امریکہ نے ایران کو کوئی رقم منتقل کی ہے یا کسی تعمیرِ نو کے منصوبے کا حصہ ہے، جس سے خطے میں تزویراتی تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

قراردادیں محض ارادوں کا اظہار نہیں بلکہ منشور کے تحت قانونی ذمہ داریاں ہیں، منتخب یا طویل عرصے تک عمل نہ ہونا کونسل کے اختیار کو کمزور کرتا ہے؛ مسئلہ فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر پر قراردادوں پر عمل نہ ہونا عالمی امن کے لیے بڑا دھچکا، مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا مقتدر خطاب

محمود احمد june 25,2026

نیویارک/اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

اقوامِ متحدہ میں پاکستان اور چین نے اپنی تزویراتی شراکت داری اور کثیرالجہتی سفارت کاری کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے مشترکہ طور پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک انتہائی مقتدر ‘آریا فارمولا’ اجلاس منعقد کیا ہے۔ اس خصوصی سفارتی بیٹھک نے دنیا بھر کے رکن ممالک کو ایک اہم اور تزویراتی موقع فراہم کیا ہے کہ وہ کھل کر اس امر پر غور کریں کہ سلامتی کونسل اپنی منظور شدہ قراردادوں کے مکمل، مؤثر اور بغیر کسی امتیاز کے یکساں عملدرآمد کو کس طرح ہر قیمت پر یقینی بنا سکتی ہے۔

اس مقتدر اجلاس کو اقوامِ متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل خالد خیاری، سیکیورٹی کونسل رپورٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر محترمہ شملہ کندیاہ، اور انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے مسٹر رچرڈ گوون نے اہم بریفنگز دیں۔ تمام مقررین نے اپنے مقالوں میں اس بات پر گہرا زور دیا کہ قراردادوں پر ان کی روح کے مطابق من و عن عملدرآمد کرنا ہی دراصل سلامتی کونسل کی ساکھ، عالمی اختیار اور اس کی افادیت کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کونسل کے فیصلوں کو زمینی حقائق میں تبدیل کرنے کے لیے قراردادوں کے ساتھ حقیقت پسندانہ مینڈیٹس، واضح طریقۂ کار، مسلسل لائیو نگرانی، مناسب مالی وسائل اور مضبوط سیاسی عزم کا ہونا ناگزیر ہے۔

اجلاس سے اپنے مقتدر خطاب میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے دوٹوک اور مقتدر الفاظ میں کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادیں محض رسمی ارادوں کا اظہار نہیں ہوتیں بلکہ یہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت تمام رکن ممالک پر عائد ہونے والی سخت قانونی ذمہ داریاں ہیں۔ انہوں نے دنیا کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ قراردادوں پر من پسند طریقے سے (سلیکٹو) عمل کرنا یا طویل عرصے تک انہیں سرد خانے کی نذر رکھنا خود کونسل کے عالمی اختیار کو شدید کمزور کرتا ہے، دیرینہ تنازعات کے حل میں بڑی رکاوٹ بنتا ہے اور مظلوم انسانوں کے مصائب میں ہولناک اضافہ کرتا ہے، جیسا کہ اس وقت فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی مخدوش صورتحال میں صاف دیکھا جا سکتا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ مضبوطی سے لڑتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعے سے متعلق سلامتی کونسل کی مقتدر قراردادوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث یہ اہم بین الاقوامی مسئلہ آج بھی حل طلب ہے، جس کے باعث خطے اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور معصوم کشمیری عوام مسلسل بدترین انسانی مشکلات اور مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے سامنے متعدد مقتدر اور عملی تجاویز پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ غیر نافذ یا جزوی طور پر نافذ قراردادوں کا سالانہ بنیادوں پر باقاعدہ جائزہ لیا جائے، عملدرآمد کے واضح ڈیجیٹل اور سفارتی طریقے وضع کیے جائیں اور سیکریٹری جنرل کی مساعیِ جمیلہ کو کونسل کے فیصلوں کے ساتھ مربوط کیا جائے۔ اجلاس میں شریک سلامتی کونسل کے مستقل و غیر مستقل ارکان نے چین اور پاکستان کے اس مشترکہ اقدام کا زبردست خیرمقدم کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ کونسل کو اپنے فیصلوں کے مستقل اور غیر جانبدار نفاذ کو یقینی بنانا چاہیے، جس سے پاک چین کثیرالجہتی تعاون کا وقار مزید بلند ہوا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے کھلے مباحثے میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون کا مقتدر خطاب؛ فلسطین اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار، سال 2025ء کے دوران ریکارڈ 38 ہزار سے زائد جانی و حقوقی خلاف ورزیاں رپورٹ، ذمہ دار عناصر کے کڑے احتساب کا مطالبہ

محمود احمد june 25,2026

نیویارک/اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسلح تنازعات اور غیر ملکی قبضے کی سنگین صورتحال میں معصوم بچوں کی ابتر ہوتی ہوئی حالت پر شدید ترین تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ جنگ، تشدد اور بنیادی حقوق سے طویل محرومی کے سب سے زیادہ ہولناک اور سنگین اثرات معصوم بچوں کو ہی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیرِ اہتمام ’’بچوں اور مسلح تنازعات‘‘ سے متعلق منعقدہ اہم کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے غیر ملکی تسلط کے تحت زندگی گزارنے والے بچوں کی حالتِ زار کو انتہائی تشویشناک قرار دیا۔ انہوں نے مقتدر برادری کی توجہ دلاتے ہوئے نشاندہی کی کہ صرف مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ایک سال کے دوران بچوں کے خلاف وحشیانہ سنگین خلاف ورزیوں کے 12 ہزار سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

سفیر عثمان جدون نے اپنے مقتدر خطاب میں واضح کیا کہ غیر ملکی قبضے کی دیگر تمام تر صورتحال میں بچوں کو درپیش گہرے نفسیاتی صدمات اور جسمانی مظالم بھی شدید عالمی تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی تمام صورتحال کی کڑی اور لائیو نگرانی کی جائے اور ان کے بارے میں سلامتی کونسل کو مکمل غیر جانبدارانہ رپورٹنگ فراہم کی جائے تاکہ انسانی حقوق پامال کرنے والے ذمہ دار عناصر کا بلا تفریق احتساب ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ تنازعات اور غیر ملکی قبضے کے حالات میں بچوں کی مشکلات کا کوئی بھی مؤثر حل اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک ان سنگین مسائل کی بنیادی سیاسی و تزویراتی وجوہات کا تدارک نہ کیا جائے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پیشگی سفارت کاری، تنازعات کے دیرپا حل اور اختلافات کے پرامن تصفیے پر زیادہ توجہ دینے کی مقتدر ضرورت پر زور دیا۔

سفیر جدون نے کہا کہ جو عالمی تنازعات اور علاقائی اختلافات طویل عرصے تک حل طلب رہتے ہیں، ان کی انسانی قیمت دنیا کو بہت بھاری چکانی پڑتی ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ عام شہریوں اور بالخصوص معصوم بچوں جیسے کمزور طبقات کے کندھوں پر آتا ہے۔ انہوں نے بچوں کے تحفظ کے لیے فوری عملی اقدامات کا مقتدر تقاضا کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں مؤثر نگرانی، خلاف ورزیوں کے مرتکبین کو سزا سے استثنا (سزا سے چھوٹ) کے خاتمے، اسکولوں کو حملوں اور عسکری مقاصد کے لیے استعمال سے محفوظ رکھنے، اور متاثرہ علاقوں میں محفوظ تعلیمی نظام کے فروغ جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے تمام متحارب فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون، بچوں کے حقوق کے کنونشن اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی مکمل پاسداری کریں۔

پاکستانی مندوب نے اس امر کی نشاندہی کی کہ یہ اہم مباحثہ ’’بچوں اور مسلح تنازعات‘‘ کے مینڈیٹ کے قیام کی تیسویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوا ہے، جسے 1996ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قائم کیا تھا، اور انہوں نے اس مینڈیٹ کے لیے پاکستان کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعادہ کیا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ کا مقتدر حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ سال 2025ء کے دوران دنیا بھر میں بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں کے 38 ہزار سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو اس مینڈیٹ کے قیام کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی اور تشویشناک تعداد ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ابھرتے ہوئے نئے خطرات، بشمول بغیر پائلٹ فضائی ڈرونز اور مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس جدید ہتھیاروں کے نظام، بچوں کو پہلے سے کہیں زیادہ اور غیر معمولی حملوں کی مقتدر زد میں لا رہے ہیں، لہٰذا بچوں کی فلاح و بہبود سلامتی کونسل کی ترجیحات میں ہر صورت سرفہرست رہنی چاہیے۔

قومی استحکام اور سیاسی مذاکرات: حکومت اور مسلح افواج کی مشترکہ کاوشوں سے پاکستان کو سفارتی کامیابی ملی، اختیار ولی خان کی پی ٹی آئی کو ‘میثاقِ جمہوریت’ کی حمایت کی اپیل

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان کے خیبر پختونخوا کے لیے مقتدر کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں سیاسی و جمہوری استحکام کے لیے ‘میثاقِ جمہوریت’ کی بھرپور حمایت کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کو حاصل ہونے والی حالیہ تمام مقتدر کامیابیاں دراصل قومی اتحاد، یگانگت اور باہمی تعاون کا ہی نتیجہ ہیں۔ ایک مقامی نیوز چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کی جانب سے اپوزیشن کو دی جانے والی مذاکرات کی مقتدر تجویز کی مکمل حمایت کی اور پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ جیل کی روایتی سیاست کے مخدوش دائرے سے باہر نکل کر خالصتاً قومی مفادات پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔

انہوں نے مقتدر الفاظ میں واضح کیا کہ ایک جمہوری معاشرے میں حکومت کی پالیسیوں پر تعمیری تنقید کرنا اپوزیشن کا آئینی حق ہے اور یہ بالکل قابلِ قبول ہے، لیکن پاکستان کی سلامتی، خودمختاری یا بنیادی قومی و تزویراتی مفادات پر کسی بھی قسم کا کوئی سودا یا سمجھوتہ ہرگز نہیں کیا جا سکتا۔ اختیار ولی خان نے قومی اداروں کے مابین بہترین ہم آہنگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سول حکومت اور مسلح افواج نے مشترکہ اور انتھک جدوجہد کے ذریعے ملک کو ایک بار پھر عظیم سفارتی اور تزویراتی (اسٹریٹجک) کامیابی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے اور عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بحال کرنے کے لیے پاک فوج اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی مشترکہ مقتدر کاوشیں بلاشبہ لائقِ تحسین اور قابلِ فخر ہیں۔

اپنے انٹرویو کے اختتام پر وزیرِ اعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے پی ٹی آئی پر دوبارہ زور دیا کہ وہ منفی تنقید اور احتجاج کی سیاست سے آگے بڑھ کر سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو پارلیمانی و مقتدر مذاکرات کے عمل میں شامل ہونا چاہیے، تاکہ جمہوریت کے پائیدار استحکام اور ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے سب مل کر کام کر سکیں اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔

محرم الحرام کے محفوظ جلوسوں کا انعقاد: پرامن ماحول کے لیے عوامی نظم و ضبط اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون ناگزیر ہے، چیف ٹریفک آفیسر اسلام آباد کائنات اظہر خان کی اپیل

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (سیکیورٹی و ٹریفک رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) اسلام آباد کائنات اظہر خان نے وفاقی دارالحکومت میں محرم الحرام کے مقتدر اجتماعات اور جلوسوں کے دوران ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے عوامی نظم و ضبط کو کلیدی قرار دیا ہے۔ جمعرات کی صبح انہوں نے اسلام آباد کے سیکٹر G-6 میں مرکزی محرم کے جلوس کے روٹ کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹریفک کے تزویراتی انتظامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور سیکیورٹی سے متعلق کیے گئے مقتدر اقدامات کی خود نگرانی کی۔ اپنے اس دورے کے دوران میڈیا چینلز کے نمائندوں سے مقتدر گفتگو کرتے ہوئے، سی ٹی او کائنات اظہر خان نے مختلف پوائنٹس پر ٹریفک اہلکاروں کی تعیناتی کا معائنہ کیا، گاڑیوں کے بہاؤ کی نگرانی کی اور جلوس کے روٹ پر الرٹ کھڑے ڈیوٹی افسران کو موقع پر ضروری ہدایات بھی جاری کیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ جلوس کے شرکاء (عزاداروں) اور عام شہریوں کی سیکیورٹی کو ہر قیمت پر یقینی بناتے ہوئے متبادل راستوں پر ٹریفک کی ہموار نقل و حرکت کو برقرار رکھنا اسلام آباد ٹریفک پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ سی ٹی او کائنات اظہر خان نے جلوس کے شرکاء اور وفاقی دارالحکومت کے رہائشیوں پر زور دیا کہ وہ ان مقتدر دنوں میں اعلیٰ درجے کے نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں، پولیس کی طرف سے جاری کردہ آفیشل ٹریفک ایڈوائزری پر سختی سے عمل کریں اور شاہراہوں پر تعینات پولیس اہلکاروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ انہوں نے شہریوں سے مقتدر اپیل کی کہ وہ اپنی گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں جلوس کے راستوں پر کھڑی کرنے کے بجائے صرف اور صرف مخصوص کردہ پارکنگ ایریاز میں ہی پارک کریں، تاکہ شہر میں کسی بھی جگہ رش یا بھیڑ پیدا نہ ہو اور کسی بھی ناگہانی صورتحال میں ہنگامی رسائی کے لیے راستے بالکل صاف رہیں۔

اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مقتدر ترجمان کے مطابق، مرکزی محرم کے جلوس کے دوران ٹریفک کے فول پروف انتظام اور سڑکوں پر موجود مسافروں کی فوری مدد کے لیے 350 سے زائد ہائی وے اور ٹریفک اہلکار خصوصی طور پر تعینات کیے گئے ہیں۔ مسافروں کی سفری مشکلات کو کم سے کم کرنے اور متاثرہ بند حصوں کے ارد گرد منظم و محفوظ نقل و حرکت کو برقرار رکھنے کے لیے مقتدر ڈائیورشن پلانز ترتیب دیے گئے ہیں۔ سی ٹی او نے اپنے مقتدر بیان کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ ان مذہبی تقریبات کے پرامن اور مقتدر انعقاد کے لیے شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان لائیو اور موثر ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے، اس لیے تمام سڑک استعمال کرنے والے شہری صبر و تحمل سے کام لیں اور دن بھر ٹریفک حکام کی طرف سے جاری کردہ ڈیجیٹل ہدایات پر عمل پیرا رہیں۔

آزاد کشمیر کی سیاست میں مسلم لیگ (ن) کی مقتدر پیش رفت: سابق رکن قانون ساز اسمبلی چوہدری شہزاد کی وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام سے ملاقات، ساتھیوں سمیت ن لیگ میں شمولیت کا باقاعدہ اعلان

محمود احمد june 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ایک بڑی اور مقتدر کامیابی حاصل کی ہے، جہاں سابق ممبر قانون ساز اسمبلی چوہدری شہزاد نے اپنے مقتدر خاندان اور ہزاروں ساتھیوں سمیت پاکستان مسلم لیگ (ن) میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام سے اسلام آباد میں واقع ان کی مقتدر رہائش گاہ پر ایک اہم سیاسی ملاقات کی۔ وفاقی وزارت کی طرف سے جاری کردہ مقتدر پریس ریلیز کے مطابق، اس اہم سیاسی موقع پر ممبر قومی اسمبلی ملک ابرار اور ممبر صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا شاہ جہاں یوسف بھی خصوصی طور پر موجود تھے۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے سابق ایم ایل اے چوہدری شہزاد کو روایتی پارٹی مفلر اور کیپ پہنائی اور مسلم لیگ (ن) کے مقتدر قافلے میں شمولیت اختیار کرنے پر انہیں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے خوش آمدید کہا۔ انجینئر امیر مقام کا کہنا تھا کہ چوہدری شہزاد کی شمولیت سے آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کا تنظیمی نیٹ ورک مزید مقتدر اور مستحکم ہوگا اور عوامی خدمت کے مشن کو نئی توانائی ملے گی۔

اس مقتدر موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سابق ممبر قانون ساز اسمبلی چوہدری شہزاد نے مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت پر اپنے کامل اور غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ قائد محمد نواز شریف، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف، وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام اور آزاد کشمیر کی مقامی مسلم لیگی قیادت کی مقتدر رہنمائی میں پارٹی کے ترقیاتی وژن کو تیزی سے آگے بڑھائیں گے اور خطے کے عوام کی فلاح و بہبود اور عوامی خدمت کے لیے اپنا بھرپور اور فعال مقتدر کردار ادا کرتے رہیں گے۔

ریاستی رٹ اور عوامی یکجہتی: چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس آزاد کشمیر کی پریس کانفرنس سے کالعدم کمیٹی کا جھوٹا بیانیہ بے نقاب، عوام کی بھرپور تائید

منصور احمد june 25,2026

مظفر آباد/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

چیف سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس آزاد کشمیر کی حالیہ مقتدر مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد ریاست مخالف کالعدم کمیٹی کا جھوٹا اور گمراہ کن بیانیہ مکمل طور پر بے نقاب ہو گیا ہے، جس پر آزاد جموں و کشمیر کے غیور عوام نے حکومتی مؤقف کی بھرپور اور مقتدر تائید کا اعلان کیا ہے۔ آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے شہریوں اور عمائدین نے اعلیٰ حکام کی پریس کانفرنس پر اپنے گہرے ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس نے کالعدم کمیٹی کے من گھڑت پراپیگنڈے کو ٹھوس دستاویزی اور مقتدر ثبوتوں کے ساتھ پبلک کر کے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا ہے۔

شہریوں نے حقائق پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ راولاکوٹ ہسپتال کے افسوسناک واقعے میں قانون ہاتھ میں لینے اور اشتعال انگیزی کی پہل خود کالعدم کمیٹی کے کارندوں نے کی تھی، جبکہ بعد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی و مقتدر کارروائی کو بنیاد بنا کر سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر شدید گمراہ کن پراپیگنڈا کیا گیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان انتشار پسند اور مقتدر عناصر نے معصوم مقامی نوجوانوں کو ورغلا کر ان کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھمائے اور انہیں دانستہ طور پر ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف صف آراء کر کے اشتعال انگیزی پھیلانے کی کوشش کی۔

آزاد کشمیر کے مقتدر شہریوں نے پریس کانفرنس کے دوران الحاقِ پاکستان کے خلاف اٹھنے والے کسی بھی غیر آئینی مطالبے یا بیانیے کو “ریڈ لائن” قرار دینے کے ریاستی مؤقف کی سو فیصد حمایت کرتے ہوئے اعادہ کیا کہ پاکستان سے لازوال وابستگی اور محبت کشمیری عوام کے ایمان، نظریے اور اجتماعی شناخت کا مقتدر حصہ ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ کسی بھی نوعیت کے قانونی یا انتظامی معاملات کو ڈنڈے کے زور پر یا بلیک میلنگ سے حل نہیں کیا جا سکتا، یہی وجہ ہے کہ اب شعور مند عوام اس شرپسند کمیٹی کے منفی ایجنڈے سے مکمل دوری اختیار کر رہے ہیں۔ شہریوں نے شرپسند عناصر کے خلاف کھل کر اور جرات مندانہ مقتدر مؤقف اپنانے پر چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس آزاد کشمیر کا شکریہ ادا کیا، جبکہ عوامی حلقوں کی یہ تائید اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ریاست اور عوام امن و سلامتی کے لیے ایک پیج پر ہیں۔

روحانیت اور سفارت کاری کا مقتدر سنگِ میل: داتا گنج بخشؒ کے 983ویں سالانہ عرس کی تقریبات کا آغاز، پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے والے خود تنہا ہو گئے، نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار

کاشف عباسی ,june 25,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

برصغیر پاک و ہند کی عظیم مقتدر روحانی شخصیت حضرت علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کے 983ویں سالانہ عرس مبارک کی تین روزہ روایتی تقریبات کا باقاعدہ آغاز جمعرات کے روز مزارِ اقدس کو غسل دینے کی پروقار تقریب سے ہو گیا ہے۔ مہمانِ خصوصی نائب وزیرِ اعظم اور وفاقی وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے مزارِ انور کو عرقِ گلاب سے غسل دیا اور روایتی چادر پوشی کی۔ غسل کی اس مقتدر تقریب میں صوبائی وزراء بلال یاسین، خواجہ سلمان رفیق، اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے معاونِ خصوصی علی ڈار سمیت جید علماء و مشائخ اور ملک بھر سے آئے ہوئے مقتدر زائرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جبکہ معروف نعت خوانوں نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت کے نذرانے پیش کیے۔

غسل کی تقریب کے بعد نائب وزیرِ اعظم محمد اسحاق ڈار نے داتا دربار کمپلیکس میں میڈیا کے نمائندوں سے مقتدر گفتگو کرتے ہوئے صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف، قائدِ مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے پوری قوم کو عرس کی دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے داتا دربار کی وسیع مقتدر توسیع کا سہرا وزیرِ اعلیٰ مریم نواز اور ان کی ٹیم کے سر باندھا۔ اس موقع پر میڈیا کو اہم ترین عالمی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے انکشاف کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگی کشیدگی کو ختم کرانے اور دونوں ممالک کو 47 سال بعد مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان نے انتہائی مقتدر اور تاریخی ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔

نائب وزیرِ اعظم نے سفارتی رازوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ ایران اور امریکہ کے معاملے پر ہمارا بنیادی کام سہولت کاری (فیسیلیٹیشن) تھا، اور بطور سہولت کار ہم اس کی تشہیر نہیں کر سکتے تھے۔ تاہم، اب جب اس مقتدر معاہدے پر باقاعدہ دستخط ہو چکے ہیں، تو حکومت نے اس تاریخی دستاویز کو قومی اسمبلی کے ریکارڈ پر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب پاکستان نے اس میزبانی کی آفر کی تو بعض عالمی حلقوں نے دوری کا عذر پیش کیا، مگر ہم سب کو ‘اسلام آباد میمورنڈم’ کے اس عظیم سفارتی معرکے پر فخر ہونا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے تاریخی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 18 جون کو جی سیون (G7) کے مقتدر اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کر دیں، جس کے بعد وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے بھی اس تاریخی ایران امریکہ امن معاہدے پر دستخط کیے۔

انہوں نے اپوزیشن اور ناقدین کو سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان جس کے بارے میں یہ منفی پراپیگنڈا کیا جاتا تھا کہ وہ سفارتی طور پر تنہا ہو چکا ہے، اب اس عظیم کامیابی کے بعد دنیا کو پتہ چل گیا ہے کہ حقیقت میں تنہا کون ہوا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ رواں سال 28 فروری کو جب ایران پر حملہ ہوا تھا تو پاکستان نے اس کی مقتدر اور بھرپور مذمت کی تھی۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایک ناقابلِ تسخیر ایٹمی قوت بنایا ہے اور اب ہماری حکومت کا مشن اسے ایک عظیم معاشی قوت بنانا ہے۔ ہم ایک مقتدر امن پسند قوم ہیں لیکن اپنا دفاع کرنا اچھے سے جانتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمیں ورثے میں انتہائی مخدوش معاشی صورتحال ملی تھی، جس کو اب کافی حد تک ٹھیک کر لیا گیا ہے اور موجودہ متوازن بجٹ میں تنخواہ دار طبقے سمیت تاجر برادری کو ہر ممکنہ ریلیف منتقل کر دیا گیا ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کا قیام: محرم الحرام کے دوران فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے جاتے ہیں، ایس پی سٹی زون ڈاکٹر ایاز حسین کی ‘سائیلنٹ شیلڈ’ میں گفتگو

منصور احمد june 25,2026

اسلام آباد (سیکیورٹی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) سٹی زون اسلام آباد ڈاکٹر ایاز حسین نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کے لیے پولیس نے ایک جامع اور فول پروف سیکیورٹی حکمت عملی وضع کر لی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مقتدر ڈیجیٹل میڈیا پروگرام “سائیلنٹ شیلڈ” کی خصوصی محرم نشریات میں اینکر پرسن اور تحقیقاتی رپورٹر سید بلال عزت نقوی کے ساتھ ایک مقتدر انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ایس پی سٹی نے واضح کیا کہ محرم الحرام محض کوئی روایتی یا سالانہ سیکیورٹی مشق نہیں ہے، بلکہ یہ ایک گہرا جذباتی، روحانی اور تاریخی موقع ہے جس کے تقدس اور عزاداروں کی حفاظت کے لیے اسلام آباد پولیس کی ذمہ داریاں دوگنی ہو جاتی ہیں۔

ڈاکٹر ایاز حسین نے مقتدر حفاظتی انتظامات کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی پلاننگ کا عمل کئی ہفتے قبل شروع کر دیا گیا تھا، جس کے تحت تمام امام بارگاہوں اور مجالس کے مقامات کی باقاعدہ جیو ٹیگنگ مکمل کر لی گئی ہے۔ حالیہ سیکیورٹی پلان کے مطابق، مخصوص زونز سے مجموعی طور پر 95 جلوس برآمد کیے جائیں گے، جن میں سے 14 انتہائی حساس جلوسوں کو سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کے تحت ‘اے’ کیٹیگری میں برقرار رکھا گیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ صرف یومِ عاشور کے مقتدر موقع پر 4,000 سے زائد پولیس افسران و جوان ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دیں گے، جبکہ 300 سے زائد ٹریفک پولیس اہلکار شہر بھر میں قائم 57 سیکیورٹی چیک پوسٹس پر ٹریفک کی روانی کو مقتدر بنائیں گے۔ اس پورے حفاظتی نظام کو پاک فوج، رینجرز اور خفیہ اداروں کی معاونت حاصل ہوگی اور سیف سٹی کیمروں، ڈرونز اور باڈی وارن کیمروں کے ذریعے لائیو مانیٹرنگ کی جائے گی۔

ایس پی سٹی نے اپنے دائرہ اختیار کے حساس ترین روٹس کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ جی 9/4 جامعہ المرتضیٰ سے شروع ہو کر کشمیر ہائی وے پر پی ڈبلیو ڈی چوک تک جانے والا مرکزی جلوس اور جی 6/2 امام بارگاہ اثنا عشری سے برآمد ہونے والا روایتی جلوس بڑے اجتماعات میں شامل ہیں، جس کے باعث عاشورہ کے دن صبح 8 بجے سے رات 8 بجے تک فضلِ حق روڈ، پولی کلینک روڈ اور میونسپل روڈ عام ٹریفک کے لیے مکمل بند رہیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسلام آباد پولیس کا کردار محض لاٹھی لے کر کھڑے ہونا نہیں بلکہ مختلف مکاتبِ فکر کے مابین ایک مقتدر پل کا کردار ادا کرنا ہے، جس کے لیے شیعہ اور سنی علماء کرام کو ایک میز پر لا کر امن کا باہمی عہد لیا گیا ہے۔ انٹرویو کے اختتام پر انہوں نے سخت موسم میں 16 سے 18 گھنٹے طویل ڈیوٹی دینے والے پولیس جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلانے سے گریز کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری پولیس کو دیں۔

بین الاقوامی یکجہتی: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا وینزویلا میں زلزلہ سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (پارلیمانی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے برادر ملک وینزویلا میں آنے والے ہولناک زلزلہ کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانی و مالی نقصانات پر انتہائی گہرے دکھ، صدمے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زلزلے سے متاثرہ خاندانوں کے اہلخانہ سے مقتدر ہمدردی اور دلی تعزیت کی ہے۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی طرف سے جمعرات کے روز جاری کردہ مقتدر پریس ریلیز کے مطابق، اسپیکر قومی اسمبلی نے اپنے تعزیتی پیغام میں واضح کیا کہ پاکستان کی پارلیمان اور پوری قوم اس مشکل اور کٹھن گھڑی میں وینزویلا کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے، اور پاکستانی قوم وینزویلا کے عوام کے اس گہرے غم اور صدمے میں برابر کی شریک ہے۔

سردار ایاز صادق نے اپنے مقتدر بیان میں عالمی برادری کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی ناگہانی قدرتی آفات سے متاثرہ انسانوں کی مدد کے لیے عالمی سطح پر وسیع یکجہتی، مشترکہ امدادی سرگرمیوں اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے اس قوی امید کا اظہار بھی کیا کہ وینزویلا کی حکومت اور غیور عوام اپنی روایتی ہمت، عزم اور حوصلے سے اس مقتدر آزمائش پر جلد ہی قابو پا لیں گے۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے تمام افراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے اپنی مقتدر نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔

تعزیتی پیغام: وزیرِ اعظم شہباز شریف کا سابق مقتدر فاسٹ باؤلر شعیب اختر کے بھائی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق مقتدر اور عالمی شہرت یافتہ متبادل فاسٹ باؤلر شعیب اختر کے بھائی شاہد اختر کے اچانک انتقال پر انتہائی گہرے دکھ، صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

جمعرات کے روز وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر تعزیتی بیان کے مطابق، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے معروف سابق کرکٹر شعیب اختر اور ان کے تمام اہل خانہ سے اس کٹھن گھڑی میں دلی تعزیت اور مقتدر ہمدردی کا اظہار کیا۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں سوگوار خاندان کے ساتھ غم بانٹتے ہوئے مقتدر دعا کی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ مرحوم شاہد اختر کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام اور جنت الفردوس میں جگہ عطاء فرمائے، اور ان کے جانے سے پیچھے رہ جانے والے تمام لواحقین کو یہ ناقابلِ تلافی اور گہرا صدمہ برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل اور ہمت عطا فرمائے۔

پاکستان مشن کی میزبانی میں ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے عالمی تعاون اور سیاسی حمایت بڑھانے پر اعلیٰ سطحی مشاورت

محمود احمد june 24,2026

نیویارک/اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

اقوامِ متحدہ میں ایچ آئی وی/ایڈز سے متعلق منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے مقتدر موقع پر پاکستان نے عالمی صحت کے میدان میں ایک اور بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے قائم اقوامِ متحدہ کے ‘گروپ آف فرینڈز’ کے سیکریٹریٹ نے مشترکہ طور پر ایک انتہائی اہم سفارتی بریفنگ اور مقتدر مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا۔ اس مقتدر عالمی اجلاس کا عنوان “ہیپاٹائٹس کے خاتمے کی جانب پیش رفت: اعلیٰ سطحی سیاسی اقدام کے لیے رفتار پیدا کرنا” تھا، جس میں دنیا بھر سے وزارتِ صحت کے مقتدر نمائندگان، اقوامِ متحدہ کے سینیئر سفارت کاروں اور عالمی صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ممتاز رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اجلاس میں وائرل ہیپاٹائٹس کے خطرناک عالمی بوجھ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، جو اس وقت دنیا کی مہلک ترین دائمی بیماریوں میں شامل ہے اور ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 13 لاکھ سے زائد انسانی جانیں نگل لیتی ہے۔ اس مقتدر موقع پر مختلف جغرافیائی خطوں پر مشتمل ایک مشترکہ سیاسی روڈ میپ پر اصولی اتفاقِ رائے پیدا کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد سال 2028ء تک وائرل ہیپاٹائٹس کے مکمل خاتمے پر اقوامِ متحدہ کے ایک باضابطہ اور خود مختار اعلیٰ سطحی اجلاس کے انعقاد کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اجلاس کا باقاعدہ آغاز اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون کے مقتدر افتتاحی کلمات سے ہوا، جس کے بعد ‘کولیشن فار گلوبل ہیپاٹائٹس ایلیمینیشن’ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جان وارڈ نے وائرل ہیپاٹائٹس کے عالمی اثرات اور بین الاقوامی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے امکانات پر جامع بریفنگ دی۔

پاکستانی حکومت کی مقتدر قومی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے عالمی برادری کو بتایا کہ حکومتِ پاکستان نے ملک گیر سطح پر “وزیراعظم پروگرام برائے انسدادِ ہیپاٹائٹس سی” کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کے لیے عالمی ادارۂ صحت کے قریبی تعاون سے 25 کروڑ امریکی ڈالر کے بھاری مقتدر فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ اس پروگرام کا تزویراتی مقصد سال 2030ء تک ہیپاٹائٹس سی کو ملک میں صحتِ عامہ کے لیے خطرہ بننے سے مستقل طور پر روکنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس منصوبے کے تحت پورے پاکستان میں اسکریننگ، تشخیص اور علاج معالجے کی جدید ترین سہولیات عوام کو مکمل طور پر مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔ سفیر عثمان جدون نے مزید کہا کہ اس اہم پروگرام کی موثر نگرانی اور شفاف جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے خود وزیرِاعظم پاکستان قومی ٹاسک فورس کی براہِ راست مقتدر قیادت کر رہے ہیں، جس میں صحتِ عامہ کے ممتاز ملکی و بین الاقوامی ماہرین، معالجین اور محققین شامل ہیں۔

مشاورتی اجلاس کے دوران شرکاء نے عالمی ادارۂ صحت کی حال ہی میں جاری کردہ عالمی ہیپاٹائٹس رپورٹ اور 79ویں عالمی صحت اسمبلی کے وزارتی اعلامیے کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اجلاس میں شریک پاکستان، فرانس، جمہوریہ چیک، میکسیکو، پیرو، ترکیہ، منگولیا، چین، برازیل، ملائیشیا، اسپین اور فلپائن کے مقتدر نمائندوں نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ ہیپاٹائٹس کی روک تھام اور مکمل شفا کے مؤثر ذرائع موجود ہونے کے باوجود، اس بیماری کو عالمی سطح پر وہ مطلوبہ سیاسی توجہ اور مالی وسائل حاصل نہیں ہو رہے جس کی یہ مستحق ہے۔ شرکاء نے عزم ظاہر کیا کہ سال 2030ء تک ہیپاٹائٹس کے عالمی خاتمے کے اہداف کو پانے کے لیے مختلف جغرافیائی خطوں کی وسیع نمائندگی کے ساتھ ایک مضبوط عالمی اتحاد قائم کیا جائے گا، اور اس سلسلے میں غیر رسمی مقتدر مشاورت کا سلسلہ مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے گا۔

پاک روس اسٹریٹجک تعاون: پاکستان اور روس کے درمیان آفات سے نمٹنے، سرچ اینڈ ریسکیو اور صلاحیتی دائرہ کار کے اضافے کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق

کاشف عباسی ,june 24,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

پاکستان اور روس کے درمیان ہنگامی آفات سے نمٹنے، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز اور باہمی صلاحیتی دائرہ کار (کیپیسٹی بلڈنگ) کے اضافے کے لیے تزویراتی تعاون کو مزید مقتدر اور وسیع کرنے پر مکمل اتفاق ہو گیا ہے۔ بدھ کے روز نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ترجمان کی طرف سے جاری کردہ مقتدر پریس ریلیز کے مطابق، روس کے ایک اعلیٰ سطح کے دفاعی وفد نے این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا مقتدر دورہ کیا اور وہاں قائم جدید ترین ‘نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر’ کی کارکردگی کا تفصیلی معائنہ کیا۔

روس کے ڈپٹی چیف نیشنل ڈیفنس مینجمنٹ سینٹر، لیفٹیننٹ جنرل اسکوسکوف اولیگ ایوانوچ کی مقتدر سربراہی میں آنے والے اس وفد کو این ڈی ایم اے کے اعلیٰ حکام نے پاکستان میں آفات سے نمٹنے کے طریقہ کار، جدید ترین پیشگی آگاہی کے نظام (ارلی وارننگ سسٹم) اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے بروقت اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس مقتدر موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تکنیکی تعاون اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے تجربات کے باہمی تبادلے کی کلیدی اہمیت پر خصوصی زور دیا۔

روسی دفاعی وفد کو بریفنگ کے دوران این ای او سی کے صلاحیتی دائرہ کار، سیٹلائٹ پر مبنی پیشگی انتباہی نظام اور کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں قومی وسائل کے موثر اور مربوط استعمال پر انتہائی مقتدر اور جامع پریزنٹیشن دی گئی۔ اس دوران وفد کو سال 2026ء کے دوران پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درپیش ممکنہ ماحولیاتی خطرات کے حوالے سے بھی تفصیلی سائنسی ڈیٹا فراہم کیا گیا۔ بریفنگ کے بعد دونوں ممالک نے علاقائی خطرات کی درست تشخیص، ان کے بروقت تدارک اور ایک بین الاقوامی ‘گلوبل ڈیزاسٹر ریسورس نیٹ ورک’ کے قیام کے مقتدر عزم کا اعادہ کیا۔ روسی وفد نے پاکستان کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر اور یہاں آفات سے نمٹنے کے لیے رائج جدید ترین ڈیجیٹل نظام کی زبردست ستائش کی اور پاکستان کے ساتھ مل کر آفات سے بچاؤ کے لیے عملی اقدامات کو مزید موثر بنانے کا مقتدر عزم ظاہر کیا۔

پارلیمانی نگرانی اور معاشی شفافیت: چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کو قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کی سالانہ رپورٹ کمیٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے پیش کر دی

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (پارلیمانی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

چیئرمین سینیٹ پاکستان، سید یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کی سالانہ تزویراتی رپورٹ پیش کر دی گئی ہے۔ یہ مقتدر رپورٹ (برائے مدت مارچ 2025ء تا فروری 2026ء) کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک مقتدر ملاقات کے دوران پیش کی۔ اس جامع رپورٹ میں ملک کے اندر مالی شفافیت، مالیاتی احتساب، مؤثر طرزِ حکمرانی اور قومی معیشت و محصولات (ریونیو) سے متعلق اہم ترین امور کی کڑی نگرانی کو فروغ دینے کے لیے قائمہ کمیٹی کی جانب سے کی جانے والی قانون سازی، فعال نگرانی اور پالیسی سازی سے متعلق تمام دوررس اقدامات کا تفصیلی اور مقتدر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

اس مقتدر موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے ملک میں جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے اور عوامی معاملات میں اعلیٰ سطح کی شفافیت و سخت احتساب کو یقینی بنانے کے لیے پارلیمانی نگرانی کے کلیدی اور اہم کردار پر خصوصی زور دیا۔ انہوں نے مالیاتی اور محصولات سے متعلق پیچیدہ ملکی امور کا باریک بینی سے جائزہ لینے میں قائمہ کمیٹی کے انتہائی فعال اور تعمیری کردار کو بھرپور انداز میں سراہا، اور ملک میں مجموعی طرزِ حکمرانی (گورننس) میں بہتری سمیت جمہوری عمل پر عوامی اعتماد بڑھانے میں کمیٹی کے مقتدر تعاون کو قابلِ قدر قرار دیا۔

چیئرمین سینیٹ نے سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور قائمہ کمیٹی کے تمام اراکین کی غیر متزلزل لگن اور سخت محنت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مؤثر پارلیمانی کمیٹیاں دراصل عوامی مفادات کے حقیقی تحفظ اور قومی اداروں کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے نہایت ناگزیر ہوتی ہیں۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اعلیٰ جمہوری اقدار سے اپنی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے مقتدر الفاظ میں واضح کیا کہ پارلیمان کا ایوانِ بالا (سینیٹ) ملک میں بہتر طرزِ حکمرانی اور پائیدار اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے شفافیت، کڑے احتساب اور مضبوط پارلیمانی عمل کی حمایت مستقل بنیادوں پر جاری رکھے گا۔

ٹیلی کام سیکٹر میں نئی انقلابی پیش رفت: پی ٹی اے نے موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر لائسنسز کے اجراء کے لیے درخواستیں طلب کر لیں

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (ٹیکنالوجی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک کے ٹیلی کام سیکٹر میں مسابقت اور جدید خدمات کو فروغ دینے کے لیے ایک مقتدر قدم اٹھاتے ہوئے موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر (ایم وی این او) لائسنسز کے اجراء کے لیے باقاعدہ طور پر درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ یہ اہم پیش رفت وفاقی کابینہ کی جانب سے موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر سروسز کے پالیسی فریم ورک کی منظوری اور اس کے باقاعدہ نوٹیفکیشن کے بعد سامنے آئی ہے۔ بدھ کے روز پی ٹی اے ہیڈ کوارٹرز سے جاری کردہ مقتدر پریس ریلیز کے مطابق، ٹیلی کام انڈسٹری اور کاروباری شعبے سے تعلق رکھنے والے دلچسپی رکھنے والے تمام مقتدر ادارے منظور شدہ پالیسی فریم ورک اور پی ٹی اے کی سخت لائسنسنگ شرائط کے عین مطابق ایم وی این او لائسنس کے حصول کے لیے اپنی درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں۔

اس مقتدر لائسنسنگ فریم ورک کے تحت، کامیاب اداروں کو یہ قانونی اجازت ہوگی کہ وہ پاکستان میں پہلے سے موجود اور لائسنس یافتہ موبائل نیٹ ورک آپریٹرز کے انفراسٹرکچر کو استعمال کرتے ہوئے ان کے ساتھ باہمی تزویراتی معاہدوں کے تحت اپنی الگ برانڈنگ اور شناخت کے ساتھ کمرشل ٹیلی کمیونیکیشن خدمات فراہم کر سکیں۔ پی ٹی اے کے اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ ایم وی این او لائسنسز ابتدائی طور پر 15 سال کی طویل مدت کے لیے جاری کیے جائیں گے، تاہم ان لائسنسز کا برقرار رہنا متعلقہ ریگولیٹری شرائط و ضوابط کی مکمل، مستقل اور بلا تعطل پاسداری سے مشروط ہوگا۔ اتھارٹی نے مزید بتایا کہ درخواست گزاروں کے لیے اہلیت کے معیار، اپلائی کرنے کے تفصیلی طریقہ کار اور لائسنس کی شرائط و ذمہ داریوں کی تمام تر ضروری مقتدر تفصیلات پی ٹی اے کی آفیشل ویب سائٹ پر ایم وی این او لائسنس ٹیمپلیٹ کی صورت میں دستیاب کر دی گئی ہیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔