پی سی بی کے نئے سینٹرل کنٹریکٹ کا فارمولا سامنے آگیا، یکم جولائی سے 30 جون 2027ء تک نافذ ہوگا، کنٹریکٹ کے حصول کے لیے میچز کھیلنے کی کڑی شرائط عائد، کھلاڑیوں کے لیے مختلف ٹریکس اور لاکھوں روپے ماہانہ معاوضوں سمیت میچ فیس کے نئے نرخ مقرر، کرکٹ ویب سائٹ کا سنسنی خیز دعویٰ

منصور احمد june 20,2026

لاہور (اسپورٹس رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے قومی کرکٹرز کے لیے نئے اور انقلابی سینٹرل کنٹریکٹ کا پورا خاکہ اور فارمولا منظرِ عام پر آگیا ہے، جس کے تحت نیا کنٹریکٹ یکم جولائی 2026ء سے لے کر 30 جون 2027ء تک کے لیے نافذ العمل ہوگا، مقتدر بین الاقوامی کرکٹ ویب سائٹ ’کرک انفو‘ کی سنسنی خیز رپورٹ کے مطابق پی سی بی نے اس بار کنٹریکٹ کی اہلیت کے لیے کڑا معیار مقرر کیا ہے، جس کے تحت اب سینٹرل کنٹریکٹ کے لیے صرف وہی کھلاڑی اہل تصور کیے جائیں گے جنہوں نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران پاکستان کی طرف سے کم از کم 4 ٹیسٹ میچز، 6 ون ڈے انٹرنیشنل یا پھر کم از کم 6 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے ہوں۔

رپورٹ کے مطابق نئے سینٹرل کنٹریکٹ نظام کے تحت کھلاڑیوں کی کارکردگی اور فارمیٹ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں مختلف منفرد ٹریکس (Tracks) میں تقسیم کیا گیا ہے، جن کے ماہانہ معاوضوں کی تفصیل درج ذیل ہے:

🏏 پی سی بی سینٹرل کنٹریکٹ 2026-27ء کے مختلف ٹریکس اور معاوضے:

کھلاڑیوں کے کیٹیگری ٹریکسفارمیٹ اور تفصیلمقررہ ماہانہ معاوضہ / وظیفہ
ٹریک اے (Track A)ٹاپ ٹیسٹ اسپیشلسٹ کرکٹرز40 لاکھ روپے
ٹریک اے بی (Track AB)ٹیسٹ اور ون ڈے فارمیٹ کے ٹاپ پلیئرز48 لاکھ روپے
ٹریک بی سی (Track BC)وائٹ بال اسپیشلسٹ کے ٹاپ کھلاڑی34 لاکھ روپے
ٹریک سی (Track C)ٹی ٹونٹی اسپیشلسٹ کھلاڑی26 لاکھ روپے
ٹریک ڈی (Track D)ابھرتے ہوئے (Emerging) نوجوان کرکٹرز10 لاکھ روپے

اسٹرٹیجک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پی سی بی نے کھلاڑیوں کے مالیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ انہیں گلوبل لیگز کھیلنے کے لیے بھی بڑی رعایت دی ہے، کنٹریکٹ کے مطابق ٹریک سی میں شامل ٹی ٹونٹی اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کو اپنے ماہانہ معاوضے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ہونے والی لاتعداد کمرشل ٹی ٹونٹی لیگز کھیلنے کے لیے این او سی حاصل کرنے کی کھلی اجازت ہوگی، اس کے علاوہ نئے سینٹرل کنٹریکٹ میں ملک کے ابھرتے ہوئے نوجوان ڈومیسٹک کرکٹرز کے لیے خصوصی گنجائش اور حوصلہ افزائی رکھی گئی ہے جنہیں ٹریک ڈی کے تحت ماہانہ 10 لاکھ روپے بطور مقتدر وظیفہ دیے جائیں گے تاکہ ملک میں ٹیلنٹ کو نکھارا جا سکے۔

پی سی بی نے ماہانہ معاوضوں کے علاوہ قومی کھلاڑیوں کی میچ فیس کے حوالے سے بھی نئے اور پرکشش نرخ مقرر کر دیے ہیں، جس کے تحت اب کھلاڑیوں کو ایک ٹیسٹ میچ کھیلنے کی فیس 15 لاکھ روپے دی جائے گی، جبکہ ایک ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیلنے کا معاوضہ 7 لاکھ 50 ہزار روپے اور ایک ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچ کھیلنے کی فیس 5 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، کرکٹ مبصرین کے مطابق پی سی بی کا یہ نیا کنٹریکٹ فارمولا جہاں کھلاڑیوں کو معاشی طور پر مستحکم کرے گا، وہی کارکردگی دکھانے والے اور فٹ کھلاڑیوں کو ہی ٹیم میں برقرار رکھنے میں مقتدر ثابت ہوگا۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی تیز، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی ہنگامی اور انتہائی اہم دورے پر تہران روانہ، ایرانی اعلیٰ قیادت اور سفارتی مقتدر شخصیات سے ملاقاتیں شیڈول، ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی ’ارنا‘ نے دورے کی تصدیق کر دی

کاشف عباسی ,june 20,2026

اسلام آباد/تہران (سیاسی رپورٹر/انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

سپر پاور امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کے نتیجے میں طے پانے والے تاریخی امن معاہدے ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کے بعد خطے کی بدلتی ہوئی سٹرٹیجک صورتحال کو پائیدار بنانے کے لیے پاکستان نے ایک بار پھر اپنا فعال ترین سفارتی کردار ہنگامی بنیادوں پر تیز کر دیا ہے، اس سلسلے میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی ایک انتہائی اہم اور ہنگامی دورے پر ایران کے دارالحکومت تہران روانہ ہو گئے ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے اس مقتدر دورے کو مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن و امان کے قیام، عالمی سفارت کاری اور معاہدے کے خدوخال کو حتمی شکل دینے کے لحاظ سے انتہائی کلیدی اور سنسنی خیز اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے اس اعلیٰ سطح کے ہنگامی دورے کی حساسیت اور اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایران کے سرکاری میڈیا نے بھی اسے بریکنگ نیوز کے طور پر نمایاں کوریج دی ہے، ایران کی آفیشل اور مقتدر سرکاری نیوز ایجنسی ”ارنا“ نے پاکستانی وزیرِ داخلہ کی تہران آمد اور اس اعلیٰ سطح کے دورے کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے مطلع کیا ہے کہ محسن نقوی اپنے اس مقتدر دورے کے دوران ایرانی دارالحکومت تہران میں ایران کی اعلیٰ ترین حکومتی، عسکری اور سفارتی شخصیات سے خصوصی ملاقاتیں کریں گے، اس سٹرٹیجک دورے کا سب سے اہم، بنیادی اور حساس ترین محور ایران اور امریکہ کے درمیان جاری پسِ پردہ مذاکرات میں ہونے والی حالیہ پیشرفت، جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد اور ضامن کے طور پر پاکستان کی جانب سے کی جانے والی نئی سفارتی کوششیں ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق تہران میں ہونے والی ان مقتدر ملاقاتوں کے دوران پاک ایران دوطرفہ سیکیورٹی امور، سرحدی انتظام، خطے کی مجموعی جیو پولیٹیکل صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر تزویراتی امور پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا، یہ دورہ دراصل پاکستان کی اسی پائیدار خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت وہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کی قیادت میں خطے میں عالمی امن کا سب سے بڑا علمبردار بن کر ابھرا ہے، سیاسی و معاشی مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے، مستقل امن و امان کے قیام اور عالمی طاقتوں کے مابین سفارتی روابط کو فعال و محفوظ بنانے کے لیے پاکستان کا یہ برادرانہ اور مقتدر ثالثی کردار خطے کو ایک نئی اور محفوظ سمت کی طرف گامزن کر رہا ہے۔

پٹرول اور ڈیژل کی تاریخی سستا ہونے کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 48 روپے 29 پیسے فی لیٹر کی بھاری کمی، غریب اور متوسط طبقے کے لیے بڑا معاشی ریلیف، قیمتیں 282 روپے سے یکسر گر کر 233 روپے 90 پیسے پر آگئیں، وزارتِ خزانہ کا نوٹیفکیشن جاری

منصور احمد june 20,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

وفاقی حکومت نے پٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں میں ملکی تاریخ کے سب سے بڑے معاشی ریلیف پیکج کے فوراً بعد غریب اور پسماندہ علاقوں کے عوام کے لیے مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی پچھلے کئی ماہ کی سب سے بڑی اور نمایاں کٹوتی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے، وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت میں 48 روپے 29 پیسے کی بھاری کمی کی منظوری دی گئی ہے، حکومت کے اس غریب پرور فیصلے کے بعد مارکیٹ میں مٹی کے تیل کی قیمت 282 روپے 19 پیسے سے یکسر کم ہو کر 233 روپے 90 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جس کا فوری اطلاق ملک بھر میں نافذ العمل ہو چکا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمتوں میں یہ واضح اور بڑی کمی حکومت کی اسی وسیع تر سٹرٹیجک معاشی پالیسی اور ریلیف ایجنڈے کا تسلسل ہے جس کے تحت گزشتہ روز پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 74 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیژل کی قیمت میں 67 روپے کی ریکارڈ کٹوتی کر کے پٹرول 299 روپے اور ڈیژل 311 روپے کا کیا گیا تھا، وزارتِ خزانہ کے مقتدر ذرائع کا کہنا ہے کہ مٹی کے تیل کے نرخوں میں تقریباً 48 روپے سے زائد کا یہ ریلیف براہِ راست ملک کے ان پسماندہ، دیہی اور پہاڑی علاقوں کے متوسط و غریب طبقے تک پہنچے گا جو گیس کی عدم دستیابی کے باعث اسے آج بھی اپنے گھروں میں بنیادی ایندھن اور چولہا جلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، جس سے ان کے گھریلو بجٹ میں نمایاں بچت ہوگی۔

دوسری جانب معاشی ماہرین اور عوامی حلقوں نے پٹرولیم مصنوعات کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی اتنی بڑی کمی کا شدید خیرمقدم کیا ہے، تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پٹرول، ڈیژل اور اب مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اس مسلسل اور یکمشت بھاری ریلیف کے بعد اب ملک بھر میں مال برداری (لاجسٹکس) اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں واضح کمی آنا ناگزیر ہو چکی ہے، جس کے براہِ راست اور مثبت اثرات روزمرہ کی اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں پر پڑیں گے اور ملک میں جاری مہنگائی کی مجموعی شرح کو گراؤنڈ پر لانے میں بہت بڑی مدد ملے گی۔

”فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف عظیم ہیں، دونوں کے ورکنگ ریلیشنز شاندار ہیں، ایک آرمی چیف کو اپنے وزیرِ اعظم کا پورا احترام کرتے دیکھنا خوبصورت ترین منظر ہے“، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کو سنسنی خیز انٹرویو، ایران جنگ رکوانے میں پاکستان کی اسٹرٹیجک ثالثی کا اعتراف

کاشف عباسی ,june 20,2026

واشنگٹن/اسلام آباد (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی امن معاہدے ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی منظرنامے پر پاکستانی قیادت کی غیر معمولی عسکری و سیاسی صلاحیتوں اور مثالی داخلی ہم آہنگی کو دنیا کے سامنے زبردست الفاظ میں سراہا ہے، واشنگٹن سے موصولہ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشہور امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کو دیے گئے ایک مقتدر اور خصوصی انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے سول اور عسکری تعلقات کو دنیا بھر کے جمہوری و دفاعی نظام کے لیے ایک شاندار اور بہترین اسٹرٹیجک مثال قرار دے دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے کی صورتحال پر کھل کر بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ سپر پاور امریکہ اور ایران کو ہولناک جنگ کے دہانے سے واپس لانے اور کائنات میں امن قائم کرانے میں پاکستان کا کردار سب سے اہم اور مخلصانہ تھا، انہوں نے پاکستانی طاقت کا کٹھ چٹھا کھولتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان میں فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ اور تعلقات کی کیمسٹری بہت لاجواب ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک عظیم سپہ سالار ہیں اور ان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف بھی ایک مقتدر لیڈر ہیں، دونوں کے آپس میں شاندار، مربوط اور پختہ تعلقات قائم ہیں۔“

ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے اندرونی سیاسی و عسکری ڈھانچے کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے مزید کہا کہ ”یہ منظر دیکھنا بین الاقوامی برادری کے لیے انتہائی خوبصورت اور قابلِ تقلید ہے کہ ملک کا ایک طاقتور فوجی سربراہ پوری طرح اور مخلصانہ طور پر اپنے آئینی وزیرِ اعظم کا احترام کرتا ہے اور ان کے ساتھ مل کر فیصلے کرتا ہے،“ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستانی قیادت نے ایران کے ساتھ یہ پیچیدہ مفاہمتی یادداشت طے کرنے میں واشنگٹن کی بہت بڑی اور تاریخی مدد کی، کیونکہ پاکستانی حکام تہران کے حکمرانوں اور ایرانیوں کی نفسیات کو بہت اچھے طریقے سے جانتے، پرکھتے اور سمجھتے تھے۔

امریکی صدر نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ ”ہم نے ایران کو فوجی اور دفاعی سطح پر پوری طرح جکڑ کر شکست دے دی تھی، لیکن اس انتہائی نازک اور سسپنس سے بھرپور موڑ پر پاکستان نے، جو کہ امریکہ کے بہت قریب اور دیرینہ دوست ہے، مجھ سے باقاعدہ اعلیٰ سطحی درخواست کی کہ ایران پر مزید ملٹری حملے نہ کیے جائیں، جس کے بعد پاکستان کے فولادی اصرار پر ہی ہم نے مذاکرات اور مستقل امن کا راستہ اختیار کیا،“ سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ انٹرویو ظاہر کرتا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی کامیاب خارجہ پالیسی نے نہ صرف دنیا کو تیسری جنگِ عظیم سے بچایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا عسکری و سیاسی وقار بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

گلگت بلتستان جنرل انتخابات 2026ء کے حتمی نتائج کا باضابطہ اعلان، الیکشن کمیشن نے 21 کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، پیپلز پارٹی جنرل نشستوں پر سب سے بڑی جماعت بن کر ابھر آئی، ن لیگ اور آزاد امیدوار بھی کامیاب، سپریم اپیلیٹ کورٹ کے حکم پر 3 حلقوں کے نتائج مؤخر

منصور احمد june 20,2026

گلگت (بیورو رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ گلگت بلتستان نے خطے میں ہونے والے حالیہ جنرل انتخابات 2026ء کے سرکاری نتائج کی روشنی میں نو منتخب اراکینِ اسمبلی کے ناموں کا باضابطہ اور مقتدر نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان کی جانب سے الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 98(1) اور الیکشن رولز 2017 کے قواعد 94 اور 96 کے تحت جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق عمومی (جنرل) نشستوں پر کامیاب ہونے والے 21 اراکین کی رکنیت کی باقاعدہ تصدیق کر دی گئی ہے، جبکہ قانونی و عدالتی چارہ جوئی کے باعث 3 حلقوں کے نتائج فی الوقت مؤخر کر دیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اسٹرٹیجک فہرست کے مطابق مختلف حلقوں سے کامیاب ہونے والے مقتدر اراکینِ اسمبلی کی تفصیل درج ذیل ہے:

🏛️ گلگت بلتستان اسمبلی کے کامیاب امیدواروں کی فہرست:

حلقہ نمبر اور نامکامیاب امیدوار کا نام
جی بی اے-1 گلگت-Iامجد حسین
جی بی اے-2 گلگت-IIحفیظ الرحمن
جی بی اے-3 گلگت-IIIسید سہیل عباس
جی بی اے-4 نگر-Iمحمد علی اختر
جی بی اے-5 نگر-IIذوالفقار علی مراد
جی بی اے-6 ہنزہنیک نام کریم
جی بی اے-7 سکردو-Iسید توقیر مہدی
جی بی اے-8 سکردو-IIمحمد کاظم
جی بی اے-10 سکردو-IVناصر علی خان
جی بی اے-11 کھرمنگاقبال حسن
جی بی اے-12 شگرعمران ندیم
جی بی اے-13 استور-Iرانا فرمان علی
جی بی اے-14 استور-IIرانا محمد فاروق
جی بی اے-16 دیامر-IIامام ملک
جی بی اے-18 دیامر-IVملک کفایت الرحمٰن
جی بی اے-19 غذر-Iسید جلال علی شاہ
جی بی اے-20 غذر-IIعبدالجہان
جی بی اے-21 غذر-IIIامان علی
جی بی اے-22 گانچھے-Iمحمد ابراہیم ثنائی
جی بی اے-23 گانچھے-IIانور علی
جی بی اے-24 گانچھے-IIIاسد شفیق

نوٹیفکیشن کے مطابق گلگت بلتستان کے ان اہم ترین جنرل انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز نے شاندار سیاسی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنرل نشستوں پر سب سے زیادہ کامیابیاں حاصل کی ہیں اور وہ ایوان میں سب سے بڑی پارلیمانی قوت بن کر سامنے آئی ہے، اس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ (ن)، مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم)، متعدد آزاد امیدواروں اور استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے امیدوار بھی بھاری اکثریت سے منتخب ہو کر نئی گلگت بلتستان اسمبلی کا حصہ بننے میں کامیاب رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مقتدر ذرائع نے واضح کیا ہے کہ مذکورہ تمام امیدواروں کی کامیابی کا باقاعدہ اعلان تمام قانونی، آئینی اور انتخابی تقاضوں کی سو فیصد تکمیل اور ریٹرننگ افسران کے حتمی مینوئل ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے بعد کیا گیا ہے، جس کے ساتھ ہی منتخب اراکین کی گزیٹڈ فہرست باضابطہ طور پر شائع کر دی گئی ہے، الیکشن کمیشن نے صراحت کی ہے کہ جہاں 21 ممبران کا نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے، وہیں باقی ماندہ 3 حلقوں کے ممبران کے نتائج سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کے حالیہ احکامات اور حکمِ امتناع کی روشنی میں روک دیے گئے ہیں، جن کا فیصلہ عدالتی احکامات کے بعد کیا جائے گا۔

”اگر جنگ بروقت نہ روکی جاتی تو تیسری جنگ عظیم کے 200 فیصد امکانات تھے، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پوری دنیا کے مستقل امن کی دستاویز ہے“، وزیرِ اعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ کی ’اے آر وائی نیوز‘ میں مقتدر گفتگو، فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور شہباز شریف کو عظیم تاریخی ہیرو قرار دے دیا

کاشف عباسی ,june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور اور مقتدر سینیٹر رانا ثناء اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے مابین چھڑنے والی ہولناک جنگ کو اگر پاکستان اپنی دور اندیش سفارت کاری کے ذریعے بروقت نہ روکتا تو دنیا میں تیسری جنگِ عظیم (World War III) چھڑنے کے 200 فیصد امکانات موجود تھے، انٹرنیشنل پریس ایجنسی اور نجی ٹی وی چینل ’اے آر وائی نیوز‘ کے مقتدر پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی عالمی امن کے لیے سرانجام دی جانے والی لازوال خدمات کو تاریخ کے سنہری حروف میں لکھا جائے گا اور دنیا انہیں کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔

رانا ثناء اللہ نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی سٹرٹیجک اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کڑا مؤقف اختیار کیا کہ یہ امن معاہدہ محض ایک عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ پوری دنیا کے مستقل امن اور بقا کی ایک تاریخی دستاویز ہے، انہوں نے واضح کیا کہ یہ معرکہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان ایک محدود جنگ نہیں تھی بلکہ اس کی لپیٹ میں آکر پوری دنیا کا جغرافیائی نقشہ یکسر بدل سکتا تھا اور ہر طرف تباہی پھیل جاتی، لیکن پاکستان نے مخلصانہ کردار ادا کر کے انسانیت کی بھلائی کے لیے اس جنگ کو عین اسی نازک مرحلے پر روک دیا جہاں سے پوری کائنات کو تباہی کے دہانے سے بچا لیا گیا ہے۔

وزیرِ اعظم کے مشیر نے سفارتی کامیابی کا کٹھ چٹھا کھولتے ہوئے فخر سے بتایا کہ سپر پاور امریکہ اور ایران کے مابین اس عظیم الشان امن معاہدے کا سہرا سو فیصد پاکستان کے سر سجتا ہے، انہوں نے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ ”اس تاریخی دستاویز پر امریکہ اور ایران کے صدور نے باقاعدہ دستخط کیے ہیں، اور دنیا کی ان دونوں بڑی طاقتوں کے دستخطوں کو باضابطہ طور پر ‘ویریفائی’ اور ضامن کا کردار پاکستان نے ادا کیا ہے،“ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اس وقت وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر دونوں قوم کے عظیم ہیرو بن کر ابھرے ہیں اور غیور پاکستانی قوم اپنے ان مقتدر سپہ سالاروں پر ہمیشہ خون کے آخری قطرے تک فخر کرے گی، انہوں نے یاد دلایا کہ یہ تمام تاریخی و معاشی کامیابیاں معرکے کے فوراً بعد حاصل ہوئیں جو پاکستان کی عسکری و سفارتی طاقت کا عالمی لوہا ماننے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

مہنگائی کے مارے عوام کے لیے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف، پٹرول 74 روپے اور ڈیژل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر کی تاریخی کمی، وزیرِ اعظم نے حتمی منظوری دے دی، نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگا

منصور احمد june 19,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان نے قوم سے کیے گئے اپنے حالیہ وعدے کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ملکی تاریخ کے سب سے بڑے اور سنسنی خیز معاشی ریلیف کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 74 روپے کی ریکارڈ کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیژل کی قیمت میں بھی 67 روپے فی لیٹر کی بھاری کٹوتی کر دی گئی ہے، حکومت کے اس انقلابی اور عوامی فیصلے کے بعد پٹرول کی موجودہ فی لیٹر قیمت 373 روپے سے یکسر کم ہو کر 299 روپے کی سطح پر آگئی ہے، جبکہ ڈیژل کی قیمت بھی 378 روپے سے گھٹ کر 311 روپے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جس کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ملک بھر میں نافذ العمل ہوگا۔

وزارتِ خزانہ کے حکام کے مطابق اس مقتدر فیصلے کا بنیادی مقصد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تیز ترین گراوٹ کے براہِ راست اور حقیقی اثرات کو کسی بھی تاخیر کے بغیر غریب عوام کی دہلیز تک منتقل کرنا ہے، وزیرِ اعظم نے اس تاریخی ریلیف پیکج پر دستخط کرتے ہوئے اپنے خصوصی بیان میں واضح کیا ہے کہ عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے شکنجے سے آزاد کرانا اور ان پر موجود شدید معاشی دباؤ کو کم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترین ترجیح اور اخلاقی ذمہ داری ہے، انہوں نے کڑا رخ اختیار کرتے ہوئے تمام صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی احکامات جاری کیے ہیں کہ پٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں میں اس بھاری کمی کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور روزمرہ کی اشیائے ضروریہ (سبزی، پھل اور دالوں) کی قیمتوں میں بھی اسی تناسب سے فوری کمی لائی جائے تاکہ اس اسٹرٹیجک ریلیف کا فائدہ عام آدمی کو مل سکے۔

دوسری جانب معاشی ماہرین اور تجارتی حلقوں نے حکومت کے اس اقدام کو ملکی معیشت کے لیے ایک انتہائی خوش آئند اور پائیدار موڑ قرار دیا ہے، ماہرینِ معیشت کے مطابق پٹرولیم مصنوعات میں اتنی بڑی نوعیت کی کمی سے ٹرانسپورٹیشن اور لاجسٹکس کے اخراجات یکسر نیچے آئیں گے، جس کے نتیجے میں ملک میں جاری مہنگائی کی مجموعی شرح (Inflation) میں واضح اور بڑی کمی واقع ہوگی، عوامی حلقوں نے بھی پٹرول کی قیمت 300 روپے سے نیچے آنے پر شدید مسرت کا اظہار کیا ہے اور اسے مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی حالیہ کامیاب جنگ بندی اور سفارت کاری کا پہلا بڑا اور حقیقی معاشی ثمر قرار دیا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں مندی کے بعد پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 14,900 روپے کی تاریخی کمی، سونا 4 لاکھ 38 ہزار 036 روپے کی سطح پر آگیا، چاندی کی قیمتیں بھی یکایک گر گئیں، صرافہ مارکیٹ کی رپورٹ

روزینہ اسماعیل.june 19,2026

کراچی (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

بین الاقوامی بلین مارکیٹ اور مقامی صرافہ بازاروں میں پٹرولیم مصنوعات کے بعد اب سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بھی بڑے پیمانے پر غیر معمولی اور تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، آل پاکستان سپریم کونسل جیولرز ایسوسی ایشن اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 149 ڈالر کی زبردست مندی کے بعد 4,156 ڈالر کی سطح پر نیچے آگئی ہے، عالمی مارکیٹ میں ہونے والی اس بڑی گراوٹ کے براہِ راست اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں جس کے باعث پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت 14,900 روپے کی نمایاں کمی کے بعد 4 لاکھ 38 ؎ہزار 036 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔

صرافہ مارکیٹ کے مقتدر ذرائع کے مطابق فی تولہ سونے کے ساتھ ساتھ 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 13,410 روپے کی بڑی کٹوتی دیکھی گئی ہے جس کے بعد مقامی بازاروں میں 10 گرام سونا گھٹ کر 3 لاکھ 74 ہزار 205 روپے کی سطح پر آگیا ہے، معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے کامیاب معاہدے اور عالمی معیشت میں استحکام کی بحالی کے باعث سرمایہ کار اب سونے کی محفوظ پناہ گاہوں سے سرمایہ نکال کر دیگر تجارتی شعبوں میں لگا رہے ہیں، جس کی وجہ سے قیمتی دھاتوں کی قیمتیں تیزی سے نیچے آرہی ہیں اور عام خریداروں کے لیے ایک طویل عرصے بعد بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔

سونے کے ساتھ ساتھ ملکی صرافہ بازاروں میں چاندی کی قیمتوں کو بھی بڑا بریک لگا ہے، اعداد و شمار کے مطابق فی تولہ چاندی کی قیمت 413 روپے کی نمایاں کمی کے بعد 6,946 روپے کی سطح پر آگئی ہے، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 373 روپے کی بڑی گراوٹ کے ساتھ مارکیٹ میں 5,895 روپے کی سطح پر بند ہوئی، صرافہ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے باعث مارکیٹ میں خریداروں کا رش بڑھنے کا امکان ہے، تاہم آنے والے دنوں میں عالمی حالات کے مطابق قیمتوں میں مزید استحکام یا کمی متوقع ہے۔

امریکہ ایران جنگ بندی اور عالمی امن اعزاز پر پوری قوم اور عسکری و سیاسی قیادت مبارکباد کی مستحق ہے، پاکستان نے دنیا میں ذمہ دار اور پرامن ریاست کے طور پر لوہا منوایا، سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کا مقتدر بیان، بجٹ کو عوام دوست بنانے اور پٹرولیم قیمتوں میں فوری ریلیف دینے کا مطالبہ

روزینہ اسماعیل.june 19,2026

کراچی (اسٹاف رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور عالمی سطح پر امن کے فروغ سے متعلق پاکستان کو ملنے والے عظیم الشان “عالمی امن اعزاز” کے حصول پر ملک کی عسکری و سیاسی قیادت سمیت پوری پاکستانی قوم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے، پریس ریلیز کے مطابق کراچی سے جاری اپنے ایک مقتدر بیان میں سابق گورنر سندھ نے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور پوری قوم کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی کامیابی اجتماعی قومی کوششوں اور انتہائی مؤثر و دور اندیش سفارتی حکمتِ عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ڈاکٹر عشرت العباد خان نے ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کی کامیاب ثالثی کے نتیجے میں بہتر ہوتے سفارتی روابط اور اس تاریخی مفاہمت کو دنیا میں امن اور استحکام کے ایک نئے سنہری دور کی علامت قرار دیا، انہوں نے فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے طویل ترین مشکل حالات، لازوال قربانیوں اور مسلسل سفارتی جدوجہد کے ذریعے بین الاقوامی برادری میں خود کو ایک انتہائی ذمہ دار اور پرامن ریاست کے طور پر منوایا ہے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آج عالمی سفارتکاری میں ایک مقتدر اور مؤثر ترین کھلاڑی کا کردار ادا کر رہا ہے جو کہ 24 کروڑ عوام کے لیے باعثِ فخر ہے۔

سابق گورنر سندھ نے حکومتی معاشی پالیسیوں پر بات کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ان بین الاقوامی سٹرٹیجک کامیابیوں کے براہِ راست معاشی اثرات عام شہریوں کی دہلیز تک بھی لازمی پہنچنے چاہئیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہونے کے بعد ملک میں مہنگائی میں واضح کمی لائی جائے اور پٹرول، ڈیژل، گیس کی قیمتوں میں فوری و خاطر خواہ ریلیف سمیت توانائی کے شعبے میں مثبت تبدیلیاں لائی جائیں، ڈاکٹر عشرت العباد خان نے زیرِ بحث وفاقی بجٹ پر کڑا زور دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ کو ہر صورت عوام دوست بنایا جائے اور اس میں پارلیمنٹ کی تجویز کردہ ضروری ترامیم کے بعد ہی اسے منظور کیا جائے تاکہ تنخواہ دار اور غریب مزدور طبقے کو حقیقی معاشی ریلیف مل سکے۔

اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاکستان کی پائیدار ترقی صرف اور صرف سیاسی ہم آہنگی، ادارہ جاتی تعاون اور فولادی قومی اتحاد سے ہی ممکن ہے، جبکہ خطے میں درپیش بیرونی چیلنجز بالخصوص پاکستان کو نشانہ بنانے والی بھارتی پراکسی سرگرمیوں کو کچلنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر قومی حکمتِ عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اسی درست سمت میں پیش رفت جاری رکھتا ہے تو ملک خطے میں ایک مضبوط، معاشی طور پر مستحکم اور پرامن ایٹمی ریاست کے طور پر مزید نمایاں ہو کر ابھرے گا۔

فائبرائزیشن کی آڑ میں ٹیلی کام کمپنیوں کو شہریوں کے گھروں تک رسائی نہیں دی جا سکتی، متنازع بل کو کسی صورت منظور نہیں ہونے دیں گے، پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان کا کڑا مؤقف، بل میں کنفیوژن موجود ہے، گنجائش ہوئی تو تبدیلی کریں گے، وفاقی وزیر شزا فاطمہ کی وضاحت

کاشف عباسی ,june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی مقتدر سینیٹر پلوشہ خان نے انٹرنیٹ انفراسٹرکچر اور فائبرائزیشن کے نام پر لائے جانے والے نئے قانون پر سخت ترین سٹرٹیجک مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کنیکٹیوٹی اور ڈیجیٹلائزیشن کی آڑ لے کر نجی یا سرکاری ٹیلی کام کمپنیوں کو عام شہریوں کے گھروں اور نجی املاک تک رسائی کا بلاجواز اختیار کسی صورت نہیں دیا جا سکتا، اسلام آباد سے جاری اپنے ایک اہم ترین بیان میں سینیٹر پلوشہ خان نے دوٹوک الفاظ میں تہران نما عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ شکل میں اس متنازع بل کو سینیٹ سے کسی صورت منظور نہیں ہونے دیا جائے گا کیونکہ آئینِ پاکستان اور شہریوں کے بنیادی حقوق سے متصادم کوئی بھی قانون سازی کرنا ناممکن ہے، ان کا کہنا تھا کہ کنیکٹیوٹی کی مد میں معصوم عوام کا معاشی یا آئینی استحصال نہیں کیا جا سکتا اور مقتدر ماہرینِ قانون و ٹیکنالوجی کی حتمی رائے کے بغیر اس بل کا پاس ہونا قطعی ناممکن ہے۔

سینیٹر پلوشہ خان نے سیاسی منظرنامے کی صراحت کرتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ ”ہو سکتا ہے کہ کسی مخصوص سیاسی وجہ یا دباؤ کے باعث یہ بل قومی اسمبلی سے باآسانی نکل گیا ہو، مگر سینیٹ (ایوانِ بالا) میں اسے پیپلز پارٹی نے ہی سٹرٹیجک بنیادوں پر روکا ہے،“ انہوں نے مطلع کیا کہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوامی تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے سینیٹ میں ”پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل“ کو سخت مزاحمت کر کے رکوایا ہے، دوسری جانب اس بڑے سیاسی و عوامی دباؤ کے بعد وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ نے بھی حکومت کا پوزیشن واضح کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا ہے کہ ”پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026“ میں اگر عوامی مفاد یا قانونی ویزا کے تحت کسی بھی تبدیلی کی گنجائش ہوئی تو حکومت اپوزیشن کی مشاورت سے وہ تبدیلیاں ضرور کرے گی۔

ایک نجی ٹی وی چینل کے مقتدر پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے اعتراف کیا کہ بل پر مزید تفصیلی وضاحتوں کی کڑی ضرورت ہے اور اس حوالے سے ضروری ترامیم لائی جائیں گی، ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا یہ اعتراض بالکل ٹھیک ہے کہ زمین کے اوپر ٹیلی کام انفراسٹرکچر (ٹاورز اور تاروں) کی تنصیب اور نجی املاک کے حوالے سے بل کے مسودے میں کچھ سنگین کنفیوژن موجود ہے، جسے پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے ضرور دور کیا جائے گا، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی نے بل میں موجود بھاری جرمانوں کے حوالے سے اصرار کیا کہ قانون میں درج 5 کروڑ روپے تک کا جرمانہ صرف اور صرف اسی مخصوص صورت میں عائد ہوگا جب زمین یا جائیداد کے مالک اور ٹیلی کام کمپنی کے درمیان باہمی رضامندی سے باقاعدہ معاہدہ طے پا چکا ہو اور بعد میں مالکِ مکان کی جانب سے اس قانونی معاہدے کی صریح خلاف ورزی کی جائے، حکومت اس بل کے ذریعے کسی کے حقوق پامال نہیں کرنا چاہتی۔

محرم الحرام کے دوران ضلع وہاڑی میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات، 1913 پولیس افسران و اہلکار ڈیوٹی پر تعینات، ڈرون اور سی سی ٹی وی کیمروں سے مجالس اور جلوسوں کی مانیٹرنگ، ڈی پی او تصور اقبال کی شہریوں سے تعاون کی اپیل

محمود احمد june 19,2026

وہاڑی (خصوصی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء محرم الحرام کے مقدس اور حساس مہینے کے موقع پر ضلع وہاڑی میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی کے انتہائی سخت اور غیر معمولی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق ضلعی پولیس انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ جامع سیکیورٹی پلان کے تحت ضلع بھر میں محرم الحرام کی تمام مجالس اور عزاداری کے جلوسوں کی حفاظت کے لیے مجموعی طور پر 1,913 اعلیٰ پولیس افسران، لیڈیز پولیس اور جوانوں کو سیکیورٹی ڈیوٹی پر ہائی الرٹ تعینات کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا سدِباب کیا جا سکے۔

سیکیورٹی پلان کی جدید اسٹرٹیجی کے مطابق تمام امام بارگاہوں، مجالس کے مقامات اور جلوسوں کے روایتی راستوں کی کڑی نگرانی کے لیے جدید ترین سی سی ٹی وی ( کیمروں، ڈرون کیمروں اور متحرک ڈیجیٹل سرویلنس وینز کا سہارا لیا جا رہا ہے، اس کے علاوہ سیکیورٹی انتظامات کو فول پروف بنانے اور فیلڈ میں مستعدی جانچنے کے لیے 6 مقتدر ویجیلنس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو چوبیس گھنٹے مسلسل مانیٹرنگ پر مامور رہیں گی، عسکری نوعیت کی حفاظتی تدابیر کے تحت حساس ترین مقامات اور جلوس کے راستوں میں آنے والی بلند عمارتوں پر ‘روف ٹاپ’ (چھتوں پر) ماہر نشانہ باز اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ شرپسند عناصر پر کڑی نظر رکھنے کے لیے سادہ لباس میں ملبوس اسپیشل برانچ کے اہلکار بھی عزاداروں کے روپ میں گراؤنڈ پر موجود رہیں گے۔

ڈی پی او وہاڑی تصور اقبال نے سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ مجالس اور جلوسوں کے راستوں پر واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹرز کے ذریعے تلاشی کا نظام لازمی بنایا گیا ہے، جبکہ زائرین اور عام شہریوں کی سہولت کے لیے ٹریفک کی بلا تعطل روانی برقرار رکھنے کی خاطر ٹریفک پولیس کی جانب سے متبادل روٹس (راستے) بھی مقرر کر دیے گئے ہیں، ڈی پی او وہاڑی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی پلان پر 100 فیصد عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور انہوں نے تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، منتظمین اور عام شہریوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ ملک و ملت کی سلامتی اور امن و امان کے قیام کے لیے مقامی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

لاہور ہائیکورٹ نے رہائشی علاقے میں قائم پلاسٹک فیکٹری کے خلاف پیرا کی کارروائی کو درست قرار دے دیا، فیکٹری ختم کرنے کا حکم برقرار، پیر کے روز فورس کی موجودگی میں آپریشن کرنے کی ہدایت

کاشف عباسی ,june 19,2026

لاہور (قانونی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم ترین فیصلے میں رہائشی علاقے میں قائم غیر قانونی پلاسٹک فیکٹری کے خلاف پنجاب انوائرمنٹل ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کی کارروائی کو سو فیصد درست اور قانونی قرار دیتے ہوئے فیکٹری کو فی الفور ختم کرنے کا حکم برقرار رکھا ہے، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس جاوید اقبال وینس نے نجی پلاسٹک فیکٹری کے مالک کی جانب سے دائر کردہ اپیل پر تفصیلی سماعت کی، کارروائی کے دوران چیف پراسیکیوٹر پیرا بیرسٹر مدثر اسحاق اپنے قانونی معاونین کے ہمراہ عدالتِ عالیہ میں پیش ہوئے۔

دورانِ سماعت پیرا کے مقتدر وکیل بیرسٹر مدثر اسحاق نے ٹھوس شواہد پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ رہائشی علاقے میں زہریلا دھواں اور ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والی فیکٹری کے خلاف عوامی شکایات موصول ہوئی تھیں، جن کی بنیاد پر کی جانے والی یہ کارروائی پیرا کے قانونی دائرہ اختیار اور ایکٹ کے تحت بالکل آئینی ہے، دوسری جانب فیکٹری کے وکیل نے دفاعی استدلال پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فیکٹری کو مستقل بند کرانا یا اس کا وجود ختم کرانا پیرا فورس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا بلکہ یہ مخصوص معاملہ خالصتاً محکمہ ماحولیات کا ہے اس لیے اتھارٹی کی کارروائی کو کالعدم قرار دیا جائے۔

عدالتِ عالیہ نے فریقین کے مقتدر دلائل اور سٹرٹیجک قوانین کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد فیکٹری انتظامیہ کی درخواست کو یکسر مسترد کر دیا، لاہور ہائیکورٹ نے پیرا فورس کے ایکشن کو قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے کڑا حکم جاری کیا کہ پیر کے روز پیرا فورس کی بھاری نفری کی موجودگی میں رہائشی علاقے سے اس پلاسٹک فیکٹری کو مکمل طور پر ختم کر کے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔

کامیاب سفارت کاری سے پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوا، معاشی ترقی کے لیے زراعت اور صنعت میں ہنگامی سرمایہ کاری ناگزیر ہے، آئی ایم ایف پر انحصار ختم کرنے کے لیے برآمدات بڑھائی جائیں، قومی اسمبلی میں بجٹ بحث کے دوران پیپلز پارٹی کی رہنما ڈاکٹر نفیسہ شاہ کا مقتدر خطاب

منصور احمد june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی مرکزی رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے ملک کی حالیہ خارجہ پالیسی، سٹرٹیجک فیصلوں اور خطے میں ہونی والی عظیم سفارتی کامیابیوں پر ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق قومی اسمبلی کے اہم ترین اجلاس میں جمعہ کے روز وفاقی بجٹ پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایم این اے ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ پاکستان نے اپنی بہترین، دور اندیش اور مخلصانہ سفارت کاری کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں امن کو جتوایا ہے، جس کی بدولت عالمی سطح پر ملک کا سفارتی وقار حد سے زیادہ بلند ہوا ہے اور جنگ و انتہا پسندی کے نظریات کو عبرتناک شکست ہوئی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ خلیجی ممالک (جی سی سی) کے ساتھ پاکستان کے موجودہ برادرانہ و اقتصادی تعلقات قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے تاریخی وژن کا تسلسل ہیں جو ملکی معیشت کو نئی اور پائیدار راہ پر گامزن کریں گے۔

ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے ملکی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے کڑے شکنجے سے مستقل نجات حاصل کرنے کے لیے پارلیمنٹ اور حکومت کے سامنے مقتدر تجاویز پیش کیں، انہوں نے اصرار کیا کہ پاکستان جیسے کثیر الآبادی والے ملک کی تیز رفتار معاشی ترقی کے لیے زراعت اور صنعت (انڈسٹری) کے شعبوں میں ہنگامی بنیادوں پر بھاری سرمایہ کاری کی جائے اور ملکی ترقی کے لیے وضع کردہ ’’اڑان پاکستان‘‘ وژن کے تحت تمام معاشی اہداف کو بروقت حاصل کیا جائے، پیپلز پارٹی کی رہنما نے قومی اسمبلی کے فلور پر کڑا زور دیا کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے اور ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے ملکی برآمدات (ایکسپورٹس) کے راستے میں حائل تمام بیوروکریٹک اور ٹیکس رکاوٹوں کو فی الفور دور کیا جائے۔

انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ ملکی معیشت کی حقیقی ریڑھ کی ہڈی یعنی کسانوں اور زمینداروں کو کھاد، بیج اور بجلی پر زیادہ سے زیادہ ریلیف اور جدید سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ملکی زرعی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ممکن ہو سکے، ڈاکٹر نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ کسان خوشحال ہوگا تو پاکستان معاشی طور پر مضبوط اور خودکفیل بنیادوں پر استوار ہو سکے گا، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ موجودہ سٹرٹیجک بجٹ میں ان کی پیش کردہ تجاویز کو شامل کر کے ملک کو معاشی خود مختاری کی طرف لے جایا جائے گا۔

”وزیرِ اعظم صاحب! پٹرول کی قیمت میں 10، 20 روپے کی کمی سے عوام کو نہ ٹرخائیں، ‘خاطر خواہ کمی’ وہی ہوگی جو جنگ سے پہلے تھی“، سینئر صحافی غریدہ فاروقی کا ایکس (X) پر کڑا بیان، جنگ بندی کے بعد پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف کے حکومتی دعووں پر اپوزیشن اور میڈیا کا ردعمل

منصور احمد june 19,2026

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان کی کامیاب ترین ثالثی اور تاریخی جنگ بندی کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونی والی تیز ترین کمی کا فائدہ غریب عوام تک پہنچانے کے حکومتی دعووں پر ملک کے مقتدر صحافتی و سیاسی حلقوں نے کڑا رخ اختیار کر لیا ہے، تفصیلات کے مطابق ملک کی معروف اور سینئر اینکر پرسن و صحافی غریدہ فاروقی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے ایک انتہائی سخت اور سٹرٹیجک بیان میں وزیرِ اعظم پاکستان کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ”وزیرِ اعظم صاحب! پٹرول کی ملکی قیمت میں ‘خاطر خواہ کمی’ صرف اور صرف وہی تسلیم کی جائے گی کہ پٹرول کی فی لیٹر قیمت کو یکسر اسی سطح پر واپس لایا جائے جو مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ چھڑنے سے قبل ملک میں رائج تھی،“ غریدہ فاروقی نے حکومتی معاشی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کڑے الفاظ میں کہا کہ محض 10، 20 یا 50 روپے وغیرہ کی اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر کمی کر کے حکومت پپسے ہوئے عوام کو ٹرخانے کی کوشش نہ کرے اور آئی ایم ایف کے دباؤ یا اپنے ریونیو کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے غریب عوام کی جیبوں پر مزید ڈاکا ڈالنا بند کرے۔

دوسری جانب وزیرِ اعظم پاکستان نے قوم سے اپنے ایک مقتدر اور تاریخی خطاب میں مہنگائی کے مارے عوام کو خوشخبری سناتے ہوئے سنسنی خیز اعلان کیا ہے کہ آج پٹرول اور ڈیژل کی ہفتہ وار قیمتوں کا باقاعدہ جائزہ لیا جا رہا ہے اور حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بڑی اور “خاطر خواہ کمی” کا باضابطہ اعلان کرنے جا رہی ہے، وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ آج سے ٹھیک 3 مہینے قبل جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہولناک جنگ چھڑی تھی تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو یکایک آگ لگ گئی تھی جس کا براہِ راست بوجھ پاکستان پر بھی پڑا، لیکن پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کے نتیجے میں ہونے والی تاریخی جنگ بندی کے بعد اب بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بہت تیزی سے نیچے آرہی ہیں اور یقیناً آنے والے دنوں میں اس میں مزید بڑی کمی واقع ہوگی، انہوں نے پُرعزم انداز میں کہا کہ اس تاریخی جنگ بندی سے اب پورے خطے میں معاشی خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوگا، تیل کی قیمتیں مسلسل نیچے آرہی ہیں اور مہنگائی کی وہ سیاہ رات اب ہمیشہ کے لیے ختم ہونے کو ہے جس نے محدود وسائل کے باعث ہماری معیشت کو جکڑ رکھا تھا۔

وزیرِ اعظم نے عالمی محاذ پر ملنے والی اس سٹرٹیجک کامیابی پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کی بدولت پوری دنیا میں ملک کا نام انتہائی عزت و وقار سے گونج رہا ہے اور دنیا کے ہر خطے میں پاکستان کا سفارتی وقار بلند ہوا ہے، انہوں نے انکشاف کیا کہ ”کل شام میری ایران کے صدر سے تفصیلی فون پر بات چیت ہوئی، جس کے دوران ایرانی صدر نے اس بحران کو ٹالنے اور جنگ بندی کرانے پر بار بار پاکستان کی حکومت اور مسلح افواج کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، اور انہوں نے خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ بہت جلد خود پاکستان کا باضابطہ دورہ کر کے یہاں کے غیور عوام کا شکریہ ادا کریں گے،“ وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ اس نازک قومی و بین الاقوامی معاملے پر ہماری پوری سیاسی و عسکری قیادت اور قومی وحدت ایک پیج پر ہے، انہوں نے اس کامیابی میں بھرپور حصہ ڈالنے پر نائب وزیرِ اعظم، وزیرِ داخلہ محسن نقوی (جنہوں نے ایران کے حوالے سے اپنا پورا کلیدی سفارتی کردار ادا کیا) اور قائدِ حزبِ اختلاف (اپوزیشن لیڈر) کا خصوصی شکریہ ادا کیا، اپنے خطاب کے آخر میں وزیرِ اعظم نے دوٹوک الفاظ میں اعتراف کیا کہ خطے کو اس ہولناک جنگ سے بچانے اور اس عظیم عالمی کامیابی کو ممکن بنانے میں سب سے زیادہ کلیدی اور سٹرٹیجک کردار فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا ہے، وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ ہمیں اس کامیابی کا کوئی ذاتی کریڈٹ لینے کا شوق نہیں ہے بلکہ پوری قوم کو عالمی سطح پر کریڈٹ دلوانے کا ایک جوش اور جذبہ ہمارے ذہنوں پر سوار تھا جو خدا کے فضل سے پورا ہو گیا۔

پاکستان میں 9000 افراد کے بینک اکاؤنٹس میں 750 ارب روپے موجود ہونے کا سنسنی خیز انکشاف، اتنی بھاری رقم کے باوجود انکم ٹیکس صفر ظاہر کیا گیا، 98.9 فیصد ٹیکس فائلرز آمدن چھپاتے ہیں، چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ

کاشف عباسی ,june 19,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین راشد لنگڑیال نے ملکی تاریخ میں ٹیکس چوری اور معاشی بے ضابطگیوں کے حوالے سے ایک انتہائی چونکا دینے والا اور سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں صرف 9000 امیر ترین افراد کے بینک اکاؤنٹس میں اس وقت مجموعی طور پر 750 ارب روپے کے بھاری اموال اور بینک ڈپازٹس موجود ہیں، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اہم ترین اجلاس میں مقتدر بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے انکشاف کیا کہ ان 9000 کھرب پتی افراد نے اتنی بڑی دولت رکھنے کے باوجود اپنے انکم ٹیکس گوشواروں (ریٹرنز) میں اپنی آمدنی کو بالکل صفر ظاہر کر رکھا ہے جو کہ ملکی معیشت کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے۔

قائمہ کمیٹی کے سامنے ٹیکس چوروں کا کڑا کٹھ چٹھا کھولتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر نے مزید بتایا کہ پاکستان میں ٹیکس کا نظام کس قدر پامال ہو چکا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کے 98.9 فیصد ٹیکس ریٹرن فائلرز جان بوجھ کر اپنی حقیقی آمدن کو قانون سے چھپاتے اور حد سے زیادہ کم ظاہر کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ کڑوا سچ اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارے ٹیکسیشن کے پورے ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر سٹرٹیجک بے ضابطگیاں اور خامیاں موجود ہیں جن کا فائدہ اٹھا کر بااثر اشرافیہ ٹیکس نیٹ سے صاف بچ نکلتی ہے اور سارا بوجھ غریب عوام پر آ گرتا ہے۔

راشد لنگڑیال نے اس سنگین صورتحال سے نمٹنے اور کڑی مانیٹرنگ کے لیے ایف بی آر کے نئے انقلابی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اب ملک میں روایتی نظام کو یکسر بدل کر ایک جدید اور خودکار “فیس لیس ٹیکسیشن سسٹم” متعارف کرانے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے، اس ڈیجیٹل نظام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہوگی کہ اس میں ٹیکس افسر اور ٹیکس دہندہ (اسیسٹی) کے درمیان کسی بھی قسم کا کوئی براہِ راست رابطہ یا ملاقات نہیں ہو سکے گی جس سے رشوت ستانی اور ملی بھگت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا۔ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ارکان کو مطلع کیا گیا کہ جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے اب ٹیکس نیٹ کو ہر صورت مؤثر اور وسیع بنانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں تاکہ معاشی نظام میں شفافیت کو 100 فیصد یقینی بنا کر اربوں روپے کی ہونی والی اس منظم ٹیکس چوری کو آہنی ہاتھوں سے روکا جا سکے۔

پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے کوئی مخصوص ٹائم لائن نہیں دی جا سکتی، میرٹ اور کارکردگی پر مبنی طویل مدتی اصلاحات کے نتائج وقت کے ساتھ آئیں گے، ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید کی پریس کانفرنس

منصور احمد june 19,2026

لاہور (خصوصی اسپورٹس رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے قومی کرکٹ کے ڈھانچے اور کارکردگی کے حوالے سے میڈیا کو مطلع کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ کی مجموعی بہتری اور بحالی کے لیے کوئی بھی مخصوص یا جادوئی ٹائم لائن نہیں دی جا سکتی، قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق مقتدر فاسٹ بولر عاقب جاوید نے سچائی پر مبنی دوٹوک گفتگو کی اور کہا کہ یہ کہنا سراسر غیر حقیقت پسندانہ اور ناانصافی ہوگا کہ چند ماہ کی مختصر محنت کے بعد قومی ٹیم آٹھ کھڑی ہوگی اور دنیا کی کوئی ٹیم اسے کبھی شکست نہیں دے سکے گی، ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کے نظام میں بہتری لانا ایک طویل مدتی اور مسلسل عمل ہے جس کے سٹرٹیجک نتائج بتدریج وقت کے ساتھ ہی سب کے سامنے آئیں گے۔

عاقب جاوید نے پی سی بی کی نئی حکمتِ عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی سی بی کی خصوصی ہدایت پر کھلاڑیوں کی سلیکشن کے پورے نظام میں انقلابی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، اب سلیکشن کے عمل کو 100 فیصد شفاف اور صرف میرٹ پر مبنی بنانا کرکٹ بورڈ کی اولین ترجیح ہے تاکہ ماضی کی خامیوں کو دور کیا جا سکے، انہوں نے واضح کیا کہ اب قومی ٹیم میں سفارش یا نام کے بجائے صرف وہی کھلاڑی گرین شرٹ پہننے کا حقدار ٹھہرے گا جو ڈومیسٹک اور بین الاقوامی سطح پر مستقل بنیادوں پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا، عاقب جاوید کے مطابق ڈومیسٹک کرکٹ کے بنیادی ڈھانچے (اسٹرکچر) میں بھی 3 بڑے فارمیٹس کے لحاظ سے تبدیلیاں کی گئی ہیں اور قومی سطح پر ٹیلنٹ کو نکھارنے کے لیے مختلف نئی کیٹیگریز بنا دی گئی ہیں۔

ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس نے پریس کانفرنس میں مزید صراحت کی کہ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی 20 فارمیٹس کی جدید سفارتی و عسکری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اب ہر فارمیٹ کے لیے بالکل الگ الگ فٹنس اور تکنیکی معیار (کرائٹیریا) مقرر کر دیے گئے ہیں تاکہ ہمارے کھلاڑی اپنی منفرد صلاحیتوں کے مطابق خود کو بین الاقوامی چیلنجز کے لیے تیار کر سکیں، عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ اس نئے اور کڑے نظام کی بدولت اب ہر ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑی کو پہلے دن سے ہی یہ واضح اندازہ ہوگا کہ قومی الیون میں مستقل جگہ بنانے کے لیے اسے اپنے کھیل کے کن مخصوص شعبوں میں مزید سخت محنت اور تکنیکی بہتری لانے کی ضرورت ہے، انہوں نے کرکٹ فینز سے صبر کی اپیل کرتے ہوئے قوی امید ظاہر کی کہ میرٹ، شفافیت اور مخلصانہ پالیسیوں کے یہ مثبت عسکری اثرات مستقبل قریب میں پاکستان کرکٹ کی مجموعی اور پائیدار بحالی کی صورت میں لازمی نظر آئیں گے۔

بھارت کی ہندوتوا حکومت اپنی کشمیر دشمن اور ظالمانہ پالیسیوں کے ذریعے تنازعۂ کشمیر کی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتی، جموں و کشمیر کے بارے میں بھارتی ہٹ دھرمی عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے، کل جماعتی حریت کانفرنس کا اسلام آباد سے مشترکہ اعلامیہ جاری

منصور احمد june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے سینئر ترین رہنماؤں نے مودی حکومت کی فاشسٹ پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ بھارت کی متعصب ہندوتوا حکومت اپنے تمام تر ظلم و ستم، سفاکانہ کشمیر دشمن ہتھکنڈوں اور ظالمانہ پالیسیوں کے باوجود عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعۂ کشمیر کی تاریخی و قانونی حقیقت کو کسی صورت تبدیل نہیں کر سکتی، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے مقتدر سینیئر رہنماؤں محمد فاروق رحمانی، حاجی سلطان بٹ اور چودھری شاہین اقبال نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے ایک اہم ترین مشترکہ ترین بیان جاری کرتے ہوئے دیرینہ تنازعۂ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے پر کڑا زور دیا ہے، حریت قیادت کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کے حوالے سے نئی دہلی کی ہٹ دھرمی اور ہٹلر شاہی پر مبنی جابرانہ پالیسی اب صرف جنوبی ایشیا کے خطے کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک ہولناک اور سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

حریت رہنماؤں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی تازہ ترین زمینی صورتحال پر گہرے افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ سفاک بھارتی افواج نے وادی میں کشمیری عوام کی حق پر مبنی اور پرامن جدوجہدِ آزادی کو بندوق کے زور پر دبانے کے لیے وحشیانہ ظلم و تشدد، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھروں پر آدھی رات کو چھاپوں، فوجی محاصروں اور تلاشی کی نام نہاد کارروائیوں سمیت جبری گرفتاریوں اور سیاسی انتقام کا کڑا سلسلہ حد سے زیادہ تیز کر دیا ہے، کشمیری قیادت نے جابر بھارتی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے حوالے سے اپنی نوآبادیاتی اور غاصبانہ پالیسی کو فی الفور ترک کرے اور کشمیری عوام کو ان کا بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت فراہم کرتے ہوئے اس دیرینہ مسئلے کے پرامن، منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے سفارتی راہ ہموار کرے، انہوں نے عالمی برادری کو مطلع کیا کہ بھارت نے حریت کی صفِ اول کی قیادت سمیت ہزاروں معصوم کشمیری نوجوانوں کو کالے قوانین کے تحت جھوٹے، من گھڑت اور بے بنیاد مقدمات میں ملوث کر کے تہاڑ جیل سمیت دیگر بدنام زمانہ بھارتی عقوبت خانوں اور جیلوں میں غیر قانونی طور پر قید کر رکھا ہے، لیکن ان تمام تر جابرانہ ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیری عوام کے لازوال جذبۂ حریت اور آزادی کی تڑپ کو ذرہ برابر بھی کمزور نہیں کیا جا سکا۔

مشترکہ اعلامیے میں حریت رہنماؤں نے اس فولادی عزم کا اعادہ کیا کہ مقبوضہ وادی کے چپے چپے پر گرنے والا کشمیری شہداء کا پاک خون اور ان کی عظیم قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی اور مظلوم کشمیری عوام اپنی اس منصفانہ جدوجہدِ آزادی کو اس کے منطقی انجام اور مکمل آزادی تک پہنچانے کے لیے ہر محاذ پر پرعزم ہیں، انہوں نے اقوامِ متحدہ ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور بااثر عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے بدترین مظالم، ماورائے عدالت قتل، انسانی حقوق کی سنگین ترین پامالیوں اور کشمیریوں کے سیاسی جبر کا فوری اور کڑا نوٹس لے، اور بھارت پر سفارتی و اقتصادی دباؤ ڈال کر تنازعۂ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے میں اپنا مؤثر اور تاریخی کردار ادا کرے تاکہ خطے کو مستقل تباہی سے بچایا جا سکے۔

وفاق کے ۵۰ سے زائد اداروں میں ملازمین کو بنیادی تنخواہ سے دگنی مراعات دینے کا سنسنی خیز انکشاف، بعض افسران کی تنخواہیں عام محکموں کے مقابلے میں ۲ سے ۳ گنا زیادہ ہونے کا انکشاف، وزارتِ خزانہ کے یکساں تنخواہ کے نظام کا اصول بری طرح متاثر

منصور احمد june 19,2026

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

وفاقی حکومت کے ۵۰ سے زائد اہم ترین اداروں اور خودمختار سٹرٹیجک محکموں میں ملازمین اور اعلیٰ افسران کو ان کی بنیادی تنخواہ سے ۱۰۰ فیصد یعنی دگنی سے بھی زائد اضافی مراعات اور پرکشش الاؤنسز دیے جانے کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے، وفاقی دارالحکومت کے معتبر سرکاری ذرائع اور سینئر صحافی انصار عباسی کی بیوروکریسی کے حوالے سے تیار کردہ ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق تنخواہوں کے سرکاری ڈھانچے سے مکمل واقفیت رکھنے والے اعلیٰ مقتدر حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان مخصوص اداروں میں مجموعی ماہانہ تنخواہیں عام سرکاری وزارتوں اور محکموں میں کام کرنے والے بالکل اِسی گریڈ کے افسران کے مقابلے میں ۲ سے ۳ گنا تک کہیں زیادہ ہیں جس کے باعث سول سروس کے اندر شدید بے چینی اور مایوسی پھیل رہی ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ان غیر معمولی مراعات اور بھاری الاؤنسز حاصل کرنے والے بااثر ترین محکموں میں صدر سیکرٹریٹ، وزیرِ اعظم آفس ، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ، سینیٹ سیکرٹریٹ، سپریم کورٹ سمیت تمام اعلیٰ عدالتیں (حائی کورٹس)، قومی احتساب بیورو (نیب)، وفاقی انٹیلی جنس ادارے، ایف بی آر کے ٹیکس حکام اور مختلف خصوصی ٹربیونلز اور وفاقی عدالتوں کے ملازمین شامل ہیں، اعلیٰ سطح کے ان آئینی عہدوں اور انفورسمنٹ ایجنسیوں کے علاوہ زیادہ مراعات پانے والے دیگر اداروں میں وفاق کے زیرِ انتظام خصوصی تعلیمی، بحالی اور صحت کے بڑے ادارے، بینکنگ ٹربیونلز، وفاقی پولیس تنظیمیں (ایف آئی اے و موٹروے پولیس) اور دیگر خودمختار ریگولیٹری ادارے بھی شامل ہیں جنہیں خزانے سے اربوں روپے اضافی دیے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے وفاقی حکومت مختلف سیاسی و انتظامی وجوہات کی بنیاد پر منتخب من پسند اداروں کو خصوصی الاؤنسز کی منظوری دیتی رہی ہے جن میں کارکردگی کی ترغیبات، فیلڈ کی عملی ضروریات اور اعلیٰ ہنر مند عملے کو سرکاری ملازمت میں برقرار رکھنا شامل بتایا جاتا ہے لیکن اس کا بھیانک اور منفی نتیجہ ایک ہی حکومتی ڈھانچے اور ایک ہی ملک کے اندر متعدد متوازی تنخواہی نظاموں کی صورت میں نکلا ہے، صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ ایک عام وزارت یا اٹیچڈ محکمہ میں دن رات کام کرنے والا گریڈ ۲۰ کا سینیئر افسر اُس افسر کے مقابلے میں آدھی سے بھی کم تنخواہ حاصل کرتا ہے جو بالکل اِسی گریڈ ۲۰ میں کسی ایسے بااثر ادارے میں تعینات ہو جہاں کارکردگی یا خصوصی سیکیورٹی الاؤنسز دیے جاتے ہیں، مالیاتی ناقدین اور سینیئر بیوروکریٹس کا کہنا ہے کہ اس امتیازی پالیسی سے ملک کے یکساں بنیادی تنخواہ کے نظام کا بنیادی آئینی اصول بری طرح متاثر ہوا ہے اور وفاق میں ایک ایسی عجیب صورتحال پیدا ہوگئی ہے جسے کئی مقتدر بیوروکریٹس ”حکومت کے اندر ایک الگ حکومت“ قرار دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ چند سال قبل وزارتِ خزانہ نے اس بڑے معاشی فرق کو دور کرنے کے لیے صرف وفاقی سیکرٹریٹ کے اُن غریب ملازمین کے لیے ۱۵ سے ۲۵ فیصد تک ”ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس“ (DRA) متعارف کرایا تھا جو معمول کی پرانی تنخواہیں لے رہے تھے، اگرچہ یہ اقدام اس سرکاری اعتراف کا واضح ثبوت تھا کہ مختلف محکموں کے مابین تنخواہوں کا فرق حد سے زیادہ اور غیر منصفانہ حد تک بڑھ چکا ہے لیکن وفاقی سیکرٹریٹ کے باہر کام کرنے والے لاکھوں دیگر سرکاری ملازمین کو اس الاؤنس سے یکسر محروم رکھا گیا، حکومت نے اس وقت وفاقی سیکرٹریٹ کے ان افسران کو اضافی معاوضہ دے کر (جنہیں پہلے کوئی خصوصی مراعات حاصل نہیں تھیں) سول سروس میں بڑھتی ہوئی شدید بے چینی اور ہڑتالوں کو وقتی طور پر کم کرنے کی کوشش کی تھی تاہم زمینی حقائق یہ ہیں کہ وفاق کے بااثر اور طاقتور ادارے اب بھی حکومت اور وزارتِ خزانہ پر دباؤ ڈال کر اپنے ملازمین کے لیے نئے نئے ناموں سے مزید الاؤنسز اور شاہانہ مراعات حاصل کرتے جا رہے ہیں جس سے غریب ملک کے خزانے پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔

آج پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کریں گے، امریکہ ایران جنگ بندی سے اب خطے میں معاشی خوشحالی آئے گی اور مہنگائی کی سیاہ رات ختم ہونے کو ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف کا قومی اسمبلی میں تاریخی خطاب، فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کلیدی کردار کی تعریف

کاشف عباسی ,june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اہم ترین اجلاس میں مقتدر خطاب کرتے ہوئے غیور ملکی عوام کے لیے ایک بہت بڑی معاشی خوشخبری سنائی ہے کہ حکومت نے جو وعدہ کیا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوتے ہی اس کا پورا فائدہ عوام کو منتقل کیا جائے گا، اس کے تحت آج پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ اور تاریخی کمی کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا، پارلیمنٹ کے ایوان میں ارکانِ اسمبلی سے سٹریٹجک گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج سے ٹھیک ۳ مہینے پہلے جب مشرقِ وسطیٰ میں اچانک ہولناک جنگ چھڑی تھی تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کو یکدم آگ لگ گئی تھی جس کا براہِ راست معاشی بوجھ پاکستان کی غریب عوام کو اٹھانا پڑا، لیکن پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی حالیہ تاریخی جنگ بندی کے فوری بعد اب عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں انتہائی تیزی سے نیچے آ رہی ہیں اور یقیناً آنے والے دنوں میں اس میں مزید واضح کمی آئے گی، انہوں نے پُرعزم انداز میں کہا کہ اس عظیم امن معاہدے اور جنگ بندی کے باعث اب پورے خطے میں معاشی خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوگا، تیل کی قیمتیں مسلسل نیچے آ رہی ہیں اور اب مہنگائی کی وہ طویل سیاہ رات ہمیشہ کے لیے ختم ہونے کو ہے جس نے عوام کو پریشان کر رکھا تھا، ان کا کہنا تھا کہ اس کٹھن بحران کے وقت ہمارے معاشی وسائل حد سے زیادہ محدود تھے لیکن چونکہ آج تیل اور پٹرول کی ہفتہ وار قیمتوں کا باقاعدہ اعلان ہونا ہے، اس لیے حکومت آج عوام کو ایک بڑا ریلیف دینے جا رہی ہے۔

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کے بڑھتے ہوئے عالمی سفارتی اثر و رسوخ پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج امریکہ ایران امن معاہدے کے نفاذ کے بعد ساری دنیا میں پاکستان کا نام انتہائی عزت، تکریم اور وقار کے ساتھ گونج رہا ہے اور دنیا کے ہر خطے میں پاکستان کا سٹریٹجک وقار بلند ہوا ہے، انہوں نے ایوان کو سفارتی رابطوں سے مطلع کرتے ہوئے بتایا کہ کل شام ان کی ایران کے معزز صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے طویل تفصیلی بات چیت ہوئی ہے جس کے دوران ایرانی صدر نے جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ ثالثی پر بار بار ریاستِ پاکستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور انہوں نے خود کہا کہ وہ بہت جلد باضابطہ دورے پر پاکستان آئیں گے اور یہاں کی غیور عوام کا ذاتی طور پر شکریہ ادا کریں گے، وزیرِ اعظم نے قومی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملکی سلامتی اور قومی وحدت کے لیے ہم سب ایک ہیں اور ہمیشہ ایک رہیں گے، انہوں نے اس عظیم مشن کی کامیابی پر نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے جنیوا اور سفارتی محاذ پر بھرپور حصہ ڈالا جبکہ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی ایران کے حوالے سے پسِ پردہ اپنا پورا متحرک کردار احسن طریقے سے ادا کیا، شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف (اپوزیشن لیڈر) کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس حساس قومی معاملے پر حکومت کا ساتھ دیا۔

اپنے خطاب کے آخر میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے واشنگٹن اور تہران کو امن کی میز پر لانے کے حوالے سے سب سے بڑا انکشاف کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس ناممکن سفارتی کامیابی کو ممکن بنانے میں سب سے زیادہ کلیدی، تاریخی اور سٹریٹجک کردار پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ہے جن کی شب و روز کی انتھک محنت اور جرات مندانہ حکمتِ عملی نے پاکستان کو عالمی سطح پر امن کا ضامن بنا دیا، انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہمیں ذاتی طور پر اس تاریخی کامیابی کا کوئی سستا سیاسی کریڈٹ لینے کا بالکل شوق نہیں ہے بلکہ ہماری حکومت اور عسکری قیادت کے ذہنوں پر صرف اور صرف اپنی غیور قوم کو عالمی سطح پر سرخرو کرنے اور انہیں کریڈٹ دلوانے کا ایک مخلصانہ جوش و جذبہ سوار تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو سرخرو کیا۔

پاکستان کا لیبیا میں لیبیائی قیادت اور ملکیت پر مبنی سیاسی عمل کی حمایت کا اعادہ، سفیر عثمان جدون کا پائیدار امن کے لیے جامع لائحۂ عمل پر زور

محمود احمد june 18,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

پاکستان نے برادر اسلامی ملک لیبیا میں مستقل استحکام کے لیے خالصتاً لیبیائی قیادت اور ملکیت پر مبنی سیاسی عمل کے لیے اپنے اصولی اور مضبوط سفارتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اسے ملک میں پائیدار امن، قومی یکجہتی اور معاشی خوشحالی کے حصول کا واحد قابلِ عمل راستہ قرار دے دیا ہے، اقوامِ متحدہ کے صدر دفاتر سے حاصل ہونے والی بین الاقوامی سٹریٹجک تفصیلات کے مطابق پاکستان نے لیبیا میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی معاونتی مشن کی جانب سے تمام لیبیائی فریقین اور مسلح دھڑوں کے درمیان سیاسی مکالمے اور قومی مفاہمت کو فروغ دینے کی مسلسل کوششوں کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم ترین اجلاس میں لیبیا کی تازہ ترین سیکیورٹی صورتحال پر منعقدہ بریفنگ کے دوران خصوصی اظہارِ خیال کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے گہری امید ظاہر کی کہ ملک میں انتخابی انتظامات سے متعلق حالیہ مشاورت اور منظم اسٹرکچرڈ ڈائیلاگ کے عمل سے سامنے آنے والی تمام اہم تجاویز و سفارشات تمام فریقین میں اتفاقِ رائے کے فروغ، معطل قومی اداروں کے اتحادِ نو اور دیرینہ قومی مفاہمت کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھانے میں انتہائی معاون ثابت ہوں گی۔

پاکستانی نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل کے اراکین کے سامنے سٹریٹجک بیانیے پر روشنی ڈالتے ہوئے سیاسی، سلامتی، معاشی اور عدالتی شعبوں میں لیبیائی فریقین کے درمیان مسلسل روابط اور تعمیری شمولیت کی اہمیت پر کڑا زور دیا، انہوں نے مشرقی اور مغربی لیبیا کے مابین سیکیورٹی اداروں کے درمیان حالیہ اعتماد سازی کے مثبت اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے پُرعزم الفاظ میں ملکی استحکام کے تحفظ اور متحدہ قومی دفاعی اداروں کے قیام کے لیے جاری فیلڈ کوششوں کی مکمل حوصلہ افزائی کی، لیبیا کے داخلی اقتصادی استحکام کی بنیادی اہمیت کو دنیا بھر کے سامنے اجاگر کرتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے جاری مالیاتی سال ۲۰۲۶ء کے لیے متفقہ اخراجاتی فریم ورک پر اس کی اصل روح کے مطابق فوری عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ملک میں معاشی و مالیاتی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے اور لیبیا کی طویل المدتی اقتصادی ترقی کی بنیاد کو مستقل طور پر مضبوط کیا جائے، انہوں نے قانون کی بالادستی، عدالتی وحدت کے تحفظ اور آئینی نگرانی کے نظام کو مزید فعال و مضبوط بنانے کی تمام ملکی کوششوں کی بھی اصولی حمایت کا اعادہ کیا۔

اپنے تاریخی خطاب کے دوران پاکستانی مندوب نے لیبیا کے عالمی بینکوں میں منجمد کھربوں ڈالر کے اثاثوں کے تحفظ اور انہیں صرف اور صرف لیبیائی عوام کی فلاح و بہبود اور ملکی تعمیرِ نو کے لیے محفوظ رکھنے کی شدید ضرورت پر زور دیا اور اس اہم ترین معاشی ضمن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے سابقہ متعلقہ اقدامات اور قراردادوں پر بغیر کسی تاخیر کے بروقت عملدرآمد کا کڑا مطالبہ کیا، لیبیا کے ایک مکمل مستحکم، محفوظ اور متحد مستقبل کے لیے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مستقل عزم کو اعلیٰ سطح پر اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مستقبل میں بھی عالمی فورمز پر لیبیائی قیادت اور ملکیت پر مبنی ایسے تمام سیاسی و جمہوری عمل کی حمایت میں اپنا مثبت اور تعمیری کردار بدستور جاری رکھے گا جو برادر اسلامی ملک میں پائیدار امن، معاشی ترقی اور خوشحالی کی حقیقی راہ ہموار کرے۔