اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسف) نے شدید خبردار کیا ہے کہ صومالیہ میں عالمی انسانی امداد میں کٹوتیوں کی وجہ سے بنیادی طبی و غذائی خدمات تیزی سے بند ہو رہی ہیں، جس کا سب سے زیادہ نقصان معصوم بچوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
جنیوا میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے یونیسف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے انکشاف کیا کہ امدادی کٹوتیوں کے نتیجے میں صومالیہ میں سینکڑوں غذائی اور صحتی مراکزبند ہو چکے ہیں، جبکہ تعلیم اور بچاؤ کے دیگر تحفظاتی پروگرام ختم ہو رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق سال 2026ء کے پہلے چھ مہینوں میں شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کی سٹیبلائزیشن سینٹرز میں منتقلی میں 32 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ کمیونٹی کی سطح پر حفاظتی غذائی خدمات کی بندش ہے۔
یونیسف نے خبردار کیا کہ مراکزبند ہونے سے ماؤں کو بچوں کے علاج کے لیے طویل مسافت طے کرنا پڑتی ہے، جس سے علاج میں تاخیر اور بچوں کی ہلاکت کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ صومالیہ اس وقت شدید خشک سالی، سیلاب اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کی وجہ سے ایندھن اور کھاد کی گرانی جیسے سنگین بحرانوں سے گھرا ہوا ہے، جہاں فوری عالمی امداد کی اشد ضرورت ہے۔
پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، قطر، انڈونیشیا اور ملائیشیا سمیت 12 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے شمال مغربی شام میں ابو الظہور فوجی اڈے پر اسرائیلی فضائی حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے شام کی خودمختاری و علاقائی سالمیت پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کے مطابق، پاکستان، ترکیہ، الجزائر، انڈونیشیا، اردن، لبنان، ملائیشیا، موریطانیہ، فلسطین، قطر، سعودی عرب اور صومالیہ کے وزرائے خارجہ نے شام کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کا یہ عمل خطے میں امن و استحکام کو تباہ کرنے، بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑانے اور شام میں انسانی بحران سے نمٹنے کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہا ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف فوری اور مضبوط موقف اپنائیں۔ تمام وزرائے خارجہ نے 1974ء کے معاہدے کے مکمل احترام اور مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی افواج کے فوری انخلا کا مطالبہ کرتے ہوئے شام کی سیاسی وحدت اور آزادی کا ہر قیمت پر تحفظ کرنے پر زور دیا۔
جرمنی میں شائع ہونے والی ایک جدید بین الاقوامی تحقیق کے نتائج سے یہ تشویشناک بات سامنے آئی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی عالمی حرارت کی وجہ سے روان صدی کے اختتام تک یورپ میں جنگلاتی آگ کے متاثرہ رقبے میں نمایاں اور ہولناک اضافہ ہو سکتا ہے۔
جریدے “گلوبل چینج بائیولوجی” میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں پوٹسمڈ انسٹی ٹیوٹ فار کلائمیٹ امپیکٹ ریسرچ کے اہم محقق مائیک بلنگ کی قیادت میں سائنسدانوں نے بتایا کہ شدید گرمی، خشکی اور تیز ہواؤں جیسے موسمی حالات بگڑنے سے یورپ بھر میں آگ کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق اگر عالمی درجہ حرارت میں 1.8 ڈگری کا اضافہ ہوتا ہے تو جلنے والے رقبے میں 39 فیصد اضافہ ہوگا، جبکہ 3.6 ڈگری درجہ حرارت بڑھنے کی صورت میں یہ اضافہ 192 فیصد تک پہنچ جائے گا جس سے متاثرہ رقبہ موجودہ حالت کے مقابلے میں تین گنا بڑھ جائے گا۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ وسطی یورپ، مغربی یورپ کے وسیع حصے اور بحیرہ روم کے علاقے اس کی سب سے شدید زد میں آئیں گے۔
تاہم ماہرین نے یہ نقطہ بھی اجاگر کیا ہے کہ آگ کے خطرات صرف موسم پر نہیں بلکہ زمین کے استعمال، بروقت نشاندہی اور روک تھام پر بھی منحصر ہیں۔ تحقیق کے مطابق اگر آگ کی بروقت نشاندہی، کنٹرول اور بہتر انتظامی اقدامات کو عمل میں لایا جائے تو شدید ترین درجہ حرارت کے منظر نامے میں بھی جنگلاتی آگ سے متاثرہ رقبے کو 72 فیصد سے 92 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
اسلام آباد / نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 20 اگست 2026ء
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہِ انسانی امور (او سی ایچ اے) نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے الخلیل کے نزدیک الظاہریہ میں جاری اسرائیلی ملٹری آپریشن اور نافذ کردہ کرفیو کے نتیجے میں اندازاً 40 ہزار سے زائد فلسطینی شہری اپنے ہی گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں، جس سے شدید انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی روزانہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز کی جانب سے علاقے میں عمارتوں کی چھتوں پر سنائپرز تعینات کر دیے گئے ہیں اور سڑکوں کو مٹی کے ڈھیروں سے بند کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے بچوں اور معمر افراد سمیت ہزاروں لوگ گھروں سے باہر نہیں نکل پا رہے اور نہ ہی انہیں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی تک رسائی مل رہی ہے۔ او سی ایچ اے کے مطابق تقریباً سات فلسطینی گھروں کو فوجی پوچھ گچھ کے مراکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ خاندانوں کو ایک ہی کمرے میں بند کر کے رکھا گیا ہے۔
رپورٹ میں غزہ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ غزہ سٹی کی بندرگاہ کے قریب اسرائیلی فضائی حملے میں 7 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے، جس سے انسانی امدادی سرگرمیاں اور شہریوں کا محفوظ مقامات تک پہنچنا انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ نے تمام سیکیورٹی آپریشنز میں بین الاقوامی قوانین کے احترام اور عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے اپنے بین الاقوامی ٹرمینل نمبر 5 پر ’سائلنٹ ایئرپورٹ‘ پراجیکٹ کے پہلے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ہوائی اڈے پر غیر ضروری پبلک اناؤنسمنٹس اور شور و غل کو کم کر کے مسافروں کو ایک پرسکون، اور آرام دہ سفر کا ماحول فراہم کرنا ہے۔
سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس پراجیکٹ کے تحت اب بلند آواز میں ہونے والے اعلانات کو صرف ڈیپارچر گیٹس تک ہی محدود رکھا جائے گا۔ مسافروں کو فلائٹ سے متعلق تمام ضروری معلومات اور اپ ڈیٹس فراہم کرنے کے لیے اب جدید ڈیجیٹل ڈسپلے سکرینز اور مختلف آن لائن چینلز کا استعمال کیا جائے گا۔ مسافر ایئرپورٹ کے آفیشل واٹس ایپ نمبر، ویب سائٹ، موبائل نوٹیفیکیشنز اور ’آسک می‘ ٹیم کے ذریعے اپنی پروازوں کی صورتحال سے لمحہ بہ لمحہ باخبر رہ سکیں گے۔ ایئرپورٹ انتظامیہ نے بتایا ہے کہ اس منصوبے کے اگلے مراحل کا اعلان طے شدہ وقت پر کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ عالمی سطح پر بھی بہترین خدمات کے لیے جانا جاتا ہے۔ برطانیہ کے عالمی ادارے ‘سکائی ٹریکس’ کے انڈیکس میں اس ایئرپورٹ نے مشرقِ وسطیٰ کے بہترین ایئرپورٹس میں چوتھی جبکہ 30 سے 40 ملین مسافروں کی کیٹیگری میں نمایاں پوزیشنز حاصل کی ہیں۔
عرب جمہوریہ شام کے وزیرِ خارجہ اسد حسن الشیبانی ایک اہم سرکاری دورے پر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق شام کے وزیرِ خارجہ یہ دورہ پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی خصوصیات اور دعوت پر کر رہے ہیں۔ اسلام آباد کے نور خان ایئرپورٹ پر آمد پر معزز شامی مہمان کا پرُتپاک استقبال وزارتِ خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری برائے مشرقِ وسطیٰ اور اعلیٰ سفارتی حکام نے کیا۔
اس اہم دورے کے دوران شامی وزیرِ خارجہ کی اپنے پاکستانی ہم منصب سینیٹر اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان اور شام کے درمیان دوطرفہ سفارتی، معاشی اور تجارتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر گفتگو کی جائے گی۔ اس کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال، علاقائی امن و امان، اور بین الاقوامی فورمز پر باہمی تعاون کو فروغ دینے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
دنیا کی تین بڑی اور اہم مسلم طاقتوں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ‘مکہ معاہدے’ کے تحت ایک جدید اور تاریخی مشترکہ دفاعی اتحاد وجود میں آ گیا ہے جس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا بلکہ عالمی جیو پولیٹیکل منظر نامے پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس دفاعی معاہدے کو عالمی و علاقائی سیاست کے ماہرین خطے میں طاقت کے توازن اور پائیدار امن کی جانب ایک انتہائی اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
اس تاریخی معاہدے کے تحت تینوں ممالک دفاعی اور معاشی اعتبار سے اپنی اپنی منفرد خصوصیات اور اعلیٰ صلاحیتوں کا اشتراک کریں گے۔ انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز کے تجزیے کے مطابق اس معاہدے کی بنیادی اور علامتی اہمیت یہ ہے کہ اس میں پاکستان کی مانی ہوئی جوہری و ملٹری صلاحیت، سعودی عرب کی بے پناہ توانائی، مالیاتی وسائل و معاشی طاقت اور ترکی کی جدید اور تیزی سے ابھرتی ہوئی دفاعی و ٹیکنالوجیکل صنعت ایک ساتھ مجتمع ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل یہ تینوں مسلم ممالک مختلف بلاکس یا معاہدوں کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک تھے، تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ تینوں طاقتور ممالک نے ایک مشترکہ چھتری تلے جمع ہو کر دفاعی اشتراک کا اعلان کیا ہے۔
اگرچہ مکہ معاہدے کا پورا باضابطہ متن تاحال عام نہیں کیا گیا، تاہم تینوں ممالک کی سفارتی اور دفاعی قیادت کی جانب سے جاری کردہ اشاروں کے مطابق اس باہمی معاہدے کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ کسی بھی ایک رکن ملک پر غیر ملکی جارحیت یا حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ شق نیٹو یعنی نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن کے مشہور زمانہ ‘آرٹیکل 5’ سے مماثلت رکھتی ہے۔ اس اہم شق کا سیدھا اور واضح مقصد خطے میں کسی بھی ممکنہ دشمن یا جارح قوت کو حملے سے باز رکھنا اور رکن ممالک کی سلامتی کی مکمل ضمانت دینا ہے۔
دفاعی و سٹریٹیجک تجزیہ کاروں کی رائے کے مطابق اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ اگر جنوبی ایشیا میں کسی بھی قسم کے مسلح تنازع یا جنگ کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو سعودی عرب اور ترکی پاکستان کی دفاعی مدد، لاجسٹکس اور سفارتی حمایت فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ اسی طرح اگر مشرقِ وسطیٰ، شام یا مشرقی بحیرۂ روم کے علاقوں میں اسرائیل یا کسی دوسری قوت کے ساتھ ترکی یا سعودی عرب کا سامنا ہوتا ہے تو پاکستانی مسلح افواج اور انٹیلی جنس ادارے اپنے اتحادیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔
تاہم دیگر بین الاقوامی سیاسی مبصرین اور سفارت کاروں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاہدے میں شامل کسی ایک ملک کو کسی تنازع کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو دیگر دو ممالک کا فوری اور راست طور پر جنگ میں کود پڑنا واحد راستہ نہیں ہوگا۔ اس کے بجائے معاہدے کی شرائط کے تحت متاثرہ ملک کو اعلیٰ درجے کا جدید ترین اسلحہ، دفاعی ڈرونز، مشترکہ انٹیلی جنس، سیٹلائٹ ڈیٹا اور عالمی فورمز پر بھرپور سفارتی و معاشی تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ کسی بھی جارحیت کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کر سکے۔
اس کے علاوہ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک کی برّی، بحری اور فضائی افواج کے درمیان باقاعدگی سے مشترکہ فوجی مشقوں، جنگی سامان کی باہمی تیاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ڈرون ٹیکنالوجی کی ترقی پر بھی کام کیا جائے گا۔ اس اقدام سے دفاعی پیداوار میں خودانحصاری حاصل ہوگی اور مغربی یا بیرونی ممالک پر فوجی انحصار میں نمایاں کمی آئے گی۔
صنعتی اور معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو مکہ معاہدہ صرف فوجی سطح تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے ذریعے تینوں ممالک کے درمیان تجارتی راستوں کی حفاظت، توانائی کے تحفظ اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں بھی تعاون بڑھایا جائے گا۔ پاکستان کی جیو سٹریٹیجک پوزیشن، سعودی عرب کے مالیاتی وسائل اور ترکی کی صنعتی طاقت کا یہ ملاپ ایک ایسا نیا معاشی و دفاعی بلاک تشکیل دے رہا ہے جو خطے میں پائیدار استحکام لانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
عالمی طاقتوں کی جانب سے اس نئے اتحاد کا گہرائی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف اسلامی دنیا میں اس پیش رفت کو انتہائی خوش آئند اور مسلم امہ کے اتحاد کی جانب بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے، وہاں دوسری جانب روایتی حریف ممالک اور عالمی سیاسی کھلاڑی اس نئے طاقت کے مرکز کی تشکیل کو باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں۔ مکہ معاہدہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آنے والے دور میں علاقائی خود مختاری اور باہمی دفاعی تعاون ہی کسی بھی ملک کی سلامتی کی حتمی ضمانت بن کر سامنے آئے گا۔
اسلام آباد / بانگوئی (نیوز اینڈ نیوز) — 20 اگست 2026ء
وسطی افریقی جمہوریہ (سی اے آر) کے مغربی علاقے “زامبوئی” میں، جو کیمرون کی سرحد کے انتہائی قریب واقع ہے، سونے کی ایک غیر قانونی/مقامی کان میں اچانک زمین دھنسنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ مقامی سرکاری حکام نے اس افسوسناک حادثے اور جانی نقصان کی تصدیق کی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کان کے مقام پر مٹی کا ایک بہت بڑا تودہ اچانک نیچے آ گرا، جس نے وہاں کام کرنے والے اور موجود درجنوں افراد کو پل بھر میں اپنی زد میں لے لیا جبکہ دیگر افراد نے بھاگ کر اپنی جانیں بچانے کی کوشش کی۔ کیمرون کے سرحدی قصبے گاروآ بولائی کے میئر آدمو عبدون نے میڈیا کو بتایا کہ یہ خوفناک حادثہ منگل کی دوپہر کو پیش آیا اور امدادی کارروائیوں کے دوران اب تک ملبے سے 107 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
حادثے میں زندہ بچ جانے والے ایک مزدور سیڈرک مبانگو نے بتایا کہ زمین اچانک پوری طرح بیٹھ گئی اور مٹی کا تودہ لوگوں کے اوپر آ گرا، جس سے مزید کئی افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ کیمرون کے مشرقی علاقے کے گورنر گریگوار موونگو کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کم از کم 3 کیمرونی شہری بھی شامل ہیں جن کی لاشیں ابائی علاقوں کو منتقل کی جا رہی ہیں۔ شدید زخمی ہونے والے افراد کو حادثے کے مقام سے 50 کلومیٹر دور واقع قصبے “بابوآ” کے ہسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی تاہم امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
اسلام آباد / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 20 اگست 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک “غیر معمولی اور تباہ کن معاشی کارروائی” شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ امریکی صدر نے یہ اہم اور سخت موقف اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری ایک بیان کے ذریعے سامنے لایا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں لکھا کہ انہوں نے ایران کو ایک اچھے اور پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے لیے بھرپور اور مکمل موقع فراہم کیا تھا، لیکن ایرانی قیادت اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے اس نئے اور شدید معاشی دباؤ کے اعلان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی و معاشی کشیدگی میں ایک بار پھر شدید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اس نئے اعلان کے بعد عالمی معاشی منڈیوں خصوصاً تیل کی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی جیو پولیٹیکل صورتحال پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
اسلام آباد / بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء
چین کے صدر شی جن پنگ نے اندریس باکا کو ہنگری کے صدر کا عہدہ سنبھالنے اور منتخب ہونے پر مبارکباد کا کا پیغام بھیجا ہے। چینی صدر نے اپنے پیغام میں چین اور ہنگری کے دیرینہ اور دوستانہ تعلقات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تاریخی اور مضبوط شراکت داری قائم ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ ہنگری ان پہلے ممالک میں شامل ہے جنہوں نے عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا تھا، اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ سفارتی تعلقات کے قائم ہونے کے 77 سالوں کے دوران، دونوں ممالک نے ہمیشہ باہمی احترام، مساوات اور باہمی فائدے کے اصولوں کی پاسداری کی ہے، جس سے مختلف شعبوں میں نتیجہ خیز تعاون حاصل ہوا ہے۔
صدر شی نے مزید کہا کہ وہ چین اور ہنگری کے تعلقات کی ترقی کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں اور نئے صدر باکا کے ساتھ مل کر روایتی دوستی کو آگے بڑھانے، سیاسی اعتماد کو فروغ دینے، اور مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے خواہا ں ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک کے عوام کی بہتری کے لیے “نئے عہد میں چین-ہنگری ہمہ موسمی جامع تزویراتی شراکت داری” کو پائیدار اور دور رس انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔
بھارت میں مودی حکومت کے دورِ اقتدار میں سیاسی نظام اور عدلیہ کی کارکردگی سے متعلق تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ بھارتی جریدے “دی وائر” کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق بھارتی عدالتوں میں سیاسی رہنماؤں کے خلاف ہزاروں زیر التوا فوجداری مقدمات اور تاخیر کے شکار عدالتی نظام نے مودی انتظامیہ کے شفافیت کے تمام دعوئوں کو آشکار کر دیا ہے۔
بھارتی سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی جانے والی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس وقت بھارت بھر میں قانون سازوں اور ارکانِ اسمبلی کے خلاف مجموعی طور پر 4,192 فوجداری مقدمات زیر التوا ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کی 28 میں سے 14 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے خلاف مختلف سنگین نوعیت کے فوجداری کیسز عدالتوں میں چل رہے ہیں۔ ان میں تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے خلاف 89 اور سیاسی رہنما سووندو ادھیکاری کے خلاف 29 کیسز شامل ہیں۔ اتر پردیش سمیت کئی بڑی ریاستوں میں سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کے مقدمات التوا کا شکار ہیں۔
معروف بھارتی صحافی شویتا کوہاری کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں سنگین الزامات کا سامنا کرنے والے نمائندوں کی موجودگی نے بھارت کے سیاسی نظام اور جوابدہی کے جمہوری عمل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے دوران عام عوام انصاف کے حصول سے محروم دکھائی دیتے ہیں جبکہ آئینی اداروں اور عدلیہ پر ہندوتوا نظریات کے اثرات بڑھ رہے ہیں جس سے جمہوری اقدار متأثر ہو رہی ہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اعلان کیا ہے کہ اس کی عملہ ٹیم 19 اگست سے یکم ستمبر تک مغربی افریقی ملک سینیگال کا دو ہفتے طویل اہم دورہ کرے گی۔ اس دورے کے دوران آئی ایم ایف حکام سینیگال کے لیے ایک نئی مالیاتی قرض سہولت کے تحت ممکنہ طور پر معاونت حاصل کرنے والی پالیسیوں، معاشی اصلاحات اور مزید تکنیکی امور پر سینیگالی انتظامیہ کے ساتھ تفصیلی بات چیت جاری رکھیں گے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کی ٹیم کا یہ جامع دورہ سینیگال کے لیے ایک نئے معاشی پروگرام کی سمت اہم پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے قبل 3 اگست کو آئی ایم ایف کے ترجمان نے واضح کیا تھا کہ فنڈ کا عملہ اس وقت تکنیکی سطح کے مذاکرات کے لیے بالکل تیار ہے جب سینیگال کے حکام خود کو اگلے مرحلے کی بات چیت کے لیے تیار قرار دیں گے۔
آئی ایم ایف کا یہ تازہ اقدام اور دو ہفتوں کا دورہ 2024ء میں سینیگال کی جانب سے قومی قرضوں کی غلط رپورٹنگ کے سامنے آنے والے معاملے کو بحسن و خوبی حل کرنے اور شفافیت قائم کرنے کی کوششوں کا اگلا مرحلہ ہے۔ یاد رہے کہ قرض کے ڈیٹا میں گڑبڑ اور غلط معلومات کی فراہمی کی وجہ سے آئی ایم ایف کا سابقہ قسط اور امدادی پروگرام روک دیا گیا تھا، جس کے بعد اب نئی اصلاحات کی روشنی میں نیا فریم ورک طے کیا جا رہا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی ایک نئی لہر کے دوران ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے متحدہ عرب امارات کے ان بیانات اور الزامات کو صریحاً مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے یو اے ای کی سرزمین پر میزائل داغے ہیں۔ ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران پر لگائے جانے والے یہ تمام الزامات بالکل بے بنیاد، من گھڑت اور علاقے کی صورتحال کو مزید خراب کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب، ان الزامات اور مبینہ حملوں کے فوری ردِعمل میں متحدہ عرب امارات کی حکومت نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تمام قسم کے تجارتی، معاشی اور مالیاتی لین دین کو اگلے نوٹس تک معطل کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ اماراتی حکام کی جانب سے اس فیصلے سے متعلق تمام متعلقہ بینکنگ، تجارتی اور مالیاتی اداروں کو احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق متحدہ عرب امارات کے اس یکطرفہ فیصلے کے بعد دونوں خلیجی ممالک کے درمیان سالہا سال سے قائم اربوں ڈالر کے تجارتی تعلقات، کاروباری ساہوکاری اور مالیاتی روابط شدید متاثر ہوں گے، جس سے پورے خلیجی خطے کی معاشی صورتحال، تجارتی نقل و حمل اور سفارتی تعلقات پر انتہائی گہرے اور منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لیبیا کے اندر پائیدار امن، معاشی استحکام اور ادارہ جاتی یکجہتی کے لیے مسلسل مذاکرات، حقیقی یکجہتی اور قومی مفاہمت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جامع، لیبیا کے اپنے زیرِ قیادت اور ان کی اپنی ملکیت پر مبنی سیاسی عمل ہی ملک کو درپیش مسائل سے نکالنے اور آگے بڑھانے کا واحد مؤثر راستہ ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اقوام متحدہ کے معاونتی مشن برائے لیبیا کے حوالے سے منعقدہ اہم بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کیا۔ انہوں نے لیبیا کے سیاسی عمل اور قومی مفاہمت کو آگے بڑھانے کے لیے یو این ایس ایم آئی ایل کی کاوشوں کو بھرپور انداز میں سراہا۔ سفیر عاصم نے لیبیا کی خودمختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور قومی وحدت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل اور اصولی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی معاونت سے جاری اس سیاسی عمل کو کامیابی سے آگے بڑھانے کے لیے لیبیا کے تمام اندرونی اور متعلقہ فریقوں کے درمیان مضبوط سیاسی عزم اور باہمی تعاون کا ہونا انتہائی ناگزیر ہے۔
پاکستان نے یو این ایس ایم آئی ایل کے سیاسی روڈ میپ کے تحت ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا، جس میں ہائی نیشنل الیکشن کمیشن کے بورڈ کے چیئرپرسن کی تقرری کے لیے ایک مشترکہ طریقہ کار پر اتفاق بھی شامل ہے۔ پاکستانی مندوب نے اسٹرکچرڈ ڈائیلاگ کے اختتام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس گفتگو کے نتیجے میں سامنے آنے والی سفارشات جلد ہی ادارہ جاتی یکجہتی اور قومی مفاہمت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کی شکل اختیار کریں گی۔
امورِ سکیورٹی پر بات کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے مشرقی اور مغربی لیبیا کے فوجی و سکیورٹی اداروں کے درمیان قائم ہونے والے رابطوں، بالخصوص فائیو پلس فائیو جوائنٹ ملٹری کمیشن کے ذریعے ہونے والی مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سطح پر متحد اور ایک ہی فریم ورک کے تحت کام کرنے والے سکیورٹی اداروں کے قیام کے لیے تمام فریقوں کے درمیان مسلسل مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات مسلسل جاری رہنے چاہئیں۔
پاکستانی مستقل مندوب نے اپنے خطاب میں 2026ء کے یونیفائیڈ اسپینڈنگ فریم ورک کے ذریعے مالیاتی ہم آہنگی میں سامنے آنے والی پیش رفت کو بھی سراہا اور ملکی سطح پر اقتصادی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط، شفافیت، احتساب اور قومی وسائل کی تمام علاقوں میں منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ملک کے اندر عدالتی یکجہتی، قانون کی حکمرانی اور آئینی نگرانی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ اپنے بیان کے اختتام پر سفیر عاصم نے کہا کہ سیاسی، سکیورٹی، اقتصادی اور عدالتی شعبوں میں متوازن پیش رفت ہی قومی مفاہمت اور ایک مضبوط و متحد حکومت کے قیام کی راہ ہموار کرے گی، جو لیبیا کے عوام کے لیے پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے ان تمام مقاصد اور کوششوں کے لیے پاکستان کی طرف سے مسلسل اور مکمل حمایت فراہم کرنے کا عزم دہرايا۔
پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے چیف آرگنائزر عزیز احمد اعوان نے بھارتی وزیرِ داخلہ کے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اپنے ایک اہم بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان پر بے بنیاد اور من گھڑت الزامات عائد کیے ہیں لیکن آج تک اپنے کسی ایک بھی دعوے کا کوئی ثبوت عالمی برادری کے سامنے پیش نہیں کر سکا۔ اس کے برعکس پاکستان نے ہمیشہ بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے ناقابلِ تردید شواہد دنیا کے سامنے رکھے ہیں۔
عزیز احمد اعوان نے بھارتی جاسوس اور دہشت گرد کلبھوشن یادیو کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بھارتی ایجنٹ بلوچستان میں کیا کر رہا تھا؟ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کا امن تباہ کرنے اور وہاں دہشت گردی کا جال پھیلانے میں براہِ راست بھارت کا ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیرِ داخلہ کے تازہ ترین الزامات پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک اور ناکام کوشش ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت اب خود بیرونِ ملک دہشت گردی برآمد کرنے اور عالمی سطح پر دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے ملک کے طور پر سامنے آ چکا ہے۔
پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے چیف آرگنائزر نے مزید کہا کہ مودی سرکار پاکستان کے ہاتھوں ہونے والی اپنی بدترین شکست کو چھپانے کے لیے ایک بار پھر جھوٹے الزامات کا کھیل کھیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ معرکہِ حق میں بھارت کا کیا حشر ہوا تھا اور اب وہ جھوٹی ڈاکومنٹریز بنا کر اپنی تاریخی عزیمت اور ناکامی کو نہیں چھپا سکتا۔ بھارت کے یہ بے بنیاد الزامات عالمی برادری کی توجہ اس کی اپنی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی سے ہرگز نہیں ہٹا سکتے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اعلان کیا ہے کہ فنڈ کا وفد 19 اگست سے یکم ستمبر تک مغربی افریقی ملک سینیگال کا اہم دورہ کرے گا۔ اس دو ہفتہ وار دورے کے دوران آئی ایم ایف کی ٹیم سینیگال کے لیے ایک نئی مالیاتی قرض سہولت کے تحت مجوزہ پالیسیوں، معاشی اصلاحات اور تکنیکی امور پر سینیگالی حکام کے ساتھ تفصیلی بات چیت کرے گی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، آئی ایم ایف کی مکمل ٹیم کا یہ دورہ سینیگال کے ساتھ نئے معاشی پروگرام کی بحالی کی جانب اہم پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے قبل 3 اگست کو آئی ایم ایف کے ترجمان نے واضح کیا تھا کہ فنڈ کا عملہ سینیگال کے ساتھ مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور یہ دورہ ملکی حکام کی آمادگی کے بعد ممکن ہوا ہے۔
یہ مذاکرات سال 2024ء میں سینیگال کے سابقہ حکومت کی جانب سے قومی قرضوں سے متعلق کی جانے والی غلط رپورٹنگ اور غلط اعداد و شمار کے معاملے کو حل کرنے کی کوششوں کا تسلسل ہیں۔ اس مالیاتی بے ضابطگی کے باعث آئی ایم ایف نے سینیگال کا سابقہ مالیاتی پروگرام معطل کر دیا تھا۔ اب نئے جائزے اور اصلاحاتی فریم ورک کے بعد سینیگال کے لیے نئے قرض پروگرام کی راہ ہموار ہونے کا امکان ہے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرانے اور خطے میں امن قائم کرنے کے لیے اپنا ہر ممکن سفارتی کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفون پر اہم گفتگو کی، جس کے دوران انہوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور باہمی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ترک ایوانِ صدر کی جانب سے جاری کردہ رسمی بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹیلیفونک رابطے کے دوران صدر رجب طیب اردوان نے خطے میں امن و استحکام کی کوششوں میں ترکیہ کی مکمل حمایت اور تعاون فراہم کرنے کی آمادگی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ پہلے بھی علاقائی تنازعات کو حل کرنے کے لیے کوشاں رہا ہے اور اب بھی دونوں ممالک کے درمیان افہام و تفہیم پیدا کرنے کے لیے سہولت کار بن سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر کے خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات انتہائی سنجیدہ اور وسیع پیمانے پر جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی اور ایرانی حکومتوں کے مختلف اداروں کے درمیان سفارتی رابطے پہلے سے زیادہ مضبوط اور فعال ہیں، تاہم تاحال دونوں فریقین کسی حتمی اتفاقِ رائے یا باہمی مفاہمت تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
اقوام متحدہ کے شعبہ برائے انسانی امور کے ہنگامی امدادی دفتر (او سی ایچ اے) نے تشویشناک اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سال 2025ء کے دوران دنیا بھر میں اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران ہلاک ہونے والے امدادی کارکنوں کی مجموعی تعداد 350 تک پہنچ گئی۔ رپورٹس کے مطابق ان میں سے سب سے زیادہ یعنی 186 امدادی اہلکار غزہ اور 71 سوڈان میں ہلاک ہوئے۔ ‘او سی ایچ اے’ کے بیان کے مطابق سال 2025ء امدادی کارکنوں کے خلاف تشدد کا ایک اور انتہائی المناک اور ریکارڈ سال ثابت ہوا، جس کے دوران کل 907 کارکن ہلاک، زخمی یا اغوا کا شکار ہوئے۔
تحقیقاتی ادارے “ہیومینیٹیرین آؤٹ کمز” کے ڈیٹا بیس کے مطابق یہ تعداد سال 2024ء میں ہلاک ہونے والے 377 امدادی کارکنوں کے مقابلے میں معمولی سی کم ہے۔ عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سال 2026ء کے آغاز سے اب تک دنیا بھر میں مزید 82 امدادی کارکن قتل، 97 شدید زخمی اور 39 اغوا ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے انسانی ہمدردی کے تحت کام کرنے والے عملے پر بڑھتے ہوئے حملوں اور خاص طور پر جدید ٹیکنالوجی کے منفی استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر نے خبردار کیا ہے کہ کم لاگت اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس مسلح ڈرونز کا پھیلاؤ ایک انتہائی سنگین اور نیا خطرہ بن چکا ہے، جس سے مختلف فریقین کو مہلک طاقت کے استعمال کا موقع مل رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سوڈان میں رواں سال کے ابتدائی چار ماہ کے دوران ہونے والی عام شہریوں کی 80 فیصد اموات انہی ڈرون حملوں کی وجہ سے ہوئی ہیں، جن میں خاص طور پر مقامی منڈیوں اور طبی مراکزی کو نشانہ بنایا گیا۔
اقوام متحدہ کے امدادی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ صرف تین سالوں کے دوران 1000 سے زائد امدادی کارکنان کا مارا جانا کسی بھی طور قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ محض مذمت کر دینے سے انسانی حقوق کے محافظوں کو تحفظ نہیں ملے گا، بلکہ عالمی ریاستوں کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین پر سختی سے عمل کرنا ہوگا اور خلاف ورزی کرنے والوں کا احتساب یقینی بنانا ہوگا۔ ٹام فلیچر نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی کتنی ہی کیوں نہ بدل جائے، جنگ کے بنیادی انسانی قوانین کبھی نہیں بدلتے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے ان کی جانب سے کیے گئے حالیہ رابطوں کا مثبت جواب دے دیا ہے۔ یہ اہم بیان صدر ٹرمپ کی جانب سے پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ جاری مشترکہ فوجی مشقیں محدود کرنے کے حکم کے ٹھیک ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جب امریکی صدر سے سوال کیا گیا کہ پیانگ یانگ نے ان کی سفارتی کوششوں کا جواب کیوں نہیں دیا، تو انہوں نے واضح کیا کہ کم جونگ اُن کا جواب موصول ہو چکا ہے، تاہم انہوں نے اس جواب کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
صدر ٹرمپ اپنی دوسری مدتِ صدارت میں بھی شمالی کوریا کے ساتھ براہِ راست سفارت کاری شروع کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے جنوبی کوریا کے ساتھ 11 روزہ مشترکہ فوجی مشقوں کو انتہائی مہنگی اور شمالی کوریا کے لیے معاندانہ قرار دیتے ہوئے اپنے وزیرِ دفاع کو ان میں نمایاں کمی کا حکم دیا تھا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنوبی کوریا نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کی امریکی مہم میں ساتھ دینے سے انکار کیا تھا، اسی لیے یہ اقدام اٹھایا گیا۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور اقوامِ متحدہ میں شمالی کورین مشن نے فی الحال اس پر باقاعدہ تبصرے سے معذرت کی ہے۔
واضح رہے کہ سال 2019ء میں دونوں رہنماؤں کی آخری ملاقات کے بعد مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے، جس کے بعد سے شمالی کوریا نے روس اور چین کے ساتھ اپنے سٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط کر لیا ہے۔ حال ہی میں یوکرینی حکام نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ روس نے یوکرین کے خلاف جنگ میں شمالی کوریا کے تیار کردہ بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کیا ہے۔ اس تمام صورتحال کے باوجود صدر ٹرمپ کم جونگ اُن کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کی بحالی اور خطے میں تناؤ کم کرنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن گاکا نے ایک اہم نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے مملکت کے تمام ہوائی اڈوں پر فعال کمرشل اور پرائیویٹ ایئر لائنز کے لیے سخت ہدایات جاری کی ہیں। سرکلر کے تحت تمام ایئر لائنز پر لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ پرواز سے قبل مسافروں کی تمام درکار سفری دستاویزات کی صد فیصد تصدیق ہر صورت یقینی بنائیں۔
خلیجی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق گاکا نے واضح کیا ہے کہ ایئر کیریئرز مسافروں کی سعودی عرب میں آمد، روانگی، حتمی منزل، اور ٹرانزٹ والے تمام ممالک کی جدید ترین سفری شرائط و ضوابط کی مکمل چھان بین کریں۔ ایئر لائنز کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ قواعد و ضوابط سے متعلق معلومات محض مستند سرکاری ذرائع یا بااختیار منظور شدہ انتظامی قواعد سے حاصل کی جائیں۔
اس کے علاوہ، تمام ایئر لائنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بورڈنگ پوائنٹس پر ضروری احتیاطی تدابیر اپنائیں تاکہ بورڈنگ کارڈ حاصل کرنے والے ہر مسافر کی قانونی و سفری دستاویزات کی مکمل جانچ ہو سکے۔ سعودی اتھارٹی نے تمام ایئر لائنز کو خبردار کیا ہے کہ گاکا کی جاری کردہ تمام ہدایات، احکامات اور سرکلرز کی مکمل اور بلا تاخیر پاسداری کی جائے، اور کسی بھی قسم کی غفلت یا ورزی پر سخت قانونی و انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔