اقوامِ متحدہ کا آبنائے ہرمز میں فوری انسانی امدادی راہداری کھولنے کا پرزور مطالبہ، بحری نقل و حمل میں رکاوٹوں سے عالمی سطح پر خوراک، ایندھن اور کھاد کی سپلائی شدید متاثر، یو این ہائی کمشنر وولکر ترک اور سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے امریکہ ایران امن معاہدے اور جنگ بندی کا شاندار خیرمقدم

محمود احمد june 16,2026

اقوامِ متحدہ (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

عالمی سلامتی اور معیشت کے حوالے سے اقوامِ متحدہ نے ایک انتہائی اہم اور ہنگامی بیان جاری کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں فوری طور پر ایک محفوظ انسانی امدادی راہداری کھولنے کا پرزور مطالبہ کر دیا ہے تاکہ دنیا بھر میں خوراک، ایندھن اور دیگر تمام ضروری اشیاء کی معطل شدہ ترسیل کو فوری بحال کر کے ممکنہ ہولناک عالمی غذائی بحران کا رستہ روکا جا سکے، اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق خطے میں جاری حالیہ جنگ اور بحری نقل و حمل میں حائل رکاوٹوں نے عالمی سطح پر توانائی، خوراک کی منڈیوں اور انسانی امداد کی بین الاقوامی فراہمی کو شدید ترین نقصان پہنچایا ہے، اسی حساس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی نائب ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ایوا ڈیبو نے پوری دنیا کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز جیسی حساس ترین گزرگاہ کی مکمل بندش یا اس کی محدود فعالیت دنیا کی پہلے سے پسماندہ اور کمزور معیشتوں کو ناقابلِ تلافی مالی نقصان پہنچا سکتی ہے، جس کے براہِ راست نتیجے کے طور پر عالمی سطح پر غربت، افلاس اور بھوک کے مہیب سائے مزید گہرے ہو جائیں گے۔

دوسری جانب اس بحران کے بیچ اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے عالمی طاقت امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان طے پانے والے نئے امن معاہدے اور مستقل جنگ بندی کا کھلے دل سے خیرمقدم کیا ہے اور تمام متعلقہ فریقین پر سخت زور دیا ہے کہ وہ خطے میں اب مکمل تحمل کا مظاہرہ کریں اور اس عارضی پیش رفت کو مستقل امن میں بدلنے کے لیے مخلصانہ کوششیں تیز کریں، اسی اثناء میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اپنے ایک تہنیتی بیان میں امریکہ ایران امن معاہدے کو مشرقِ وسطیٰ کے طویل تنازعے کے خاتمے کی جانب ایک انتہائی کلیدی اور تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے تجارتی مقاصد کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کے فیصلے کی بھرپور حمایت کی ہے، اقوامِ متحدہ اور اس کے تمام ذیلی امدادی اداروں نے متفقہ طور پر دنیا کو یہ خطرے کی گھنٹی سنائی ہے کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی حالیہ رکاوٹوں کے باعث خوراک، فصلوں کے لیے ضروری کھاد اور خام تیل (ایندھن) کی عالمی سپلائی چین بری طرح مفلوج ہو کر رہ گئی ہے، جس کے سنگین اثرات اب صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کے جھٹکے سرحدوں سے باہر پوری دنیا میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

عالمی سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے حالیہ تاریخی امن فریم ورک کے مسودے میں آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے اور خطے میں جاری جنگ بندی کو مستقل قانونی شکل دینے کی کڑی شقیں شامل کی گئی ہیں، تاہم اس پورے فریم ورک کے سو فیصد نفاذ اور زمین پر اس کی عملی شکل دیکھنے کے لیے فریقین کے مابین ابھی مزید چند اعلیٰ سطح کے مذاکرات درکار ہوں گے، بین الاقوامی دفاعی اور معاشی ماہرین کے مطابق یہ حالیہ سفارتی پیش رفت اس وقت عالمی معیشت کو سہارا دینے، تیل کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام اور غریب ممالک کو خوراک کی بلاتعطل فراہمی کے لیے نہایت اہم اور ریڑھ کی ہڈی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم اور بڑی بحری تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے روزانہ کروڑوں بیرل تیل دنیا بھر میں سپلائی کیا جاتا ہے۔

”جب آپ بہت زیادہ امیر ہوں تو پھر لمبی باتیں بھی کر سکتے ہیں“، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید سے انتہائی دلچسپ اور طنزیہ مکالمہ، جی سیون سمٹ کے دوران دونوں رہنماؤں کی ملاقات کی اندرونی کہانی میڈیا پر وائرل، وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ کا ایران کے خلاف امریکی بحریہ کے تاریخی محاصرے کی کامیابی کا دعویٰ، آبنائے ہرمز جمعے تک عالمی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھول دی جائے گی، ابراہام اکارڈز کی توسیع کی راہ ہموار

President Trump Makes First Middle East Trip Of His Second Term

کاشف عباسی ,june 16,2026

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

عالمی سیاست کے افق سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور دلچسپ سفارتی خبر سامنے آئی ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی سیون سمٹ کے مصروف ترین موقع پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے ساتھ ایک اہم دوطرفہ ملاقات کے دوران اپنے مخصوص اور روایتی طنزیہ انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جب آپ بہت زیادہ امیر ہوں تو پھر آپ لمبی لمبی باتیں بھی کر سکتے ہیں‘‘، واشنگٹن کے سفارتی ذرائع سے حاصل ہونے والی اندرونی کہانی کے مطابق اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسکراتے ہوئے اماراتی صدر کو مخاطب کیا اور چٹکلا چھوڑا کہ جب کوئی شخص یا ریاست اتنی زیادہ دولت مند اور امیر ہو تو وہ طویل گفتگو کرنے کا بھی باآسانی متحمل ہو سکتا ہے، صدر ٹرمپ کے اس برجستہ جملے پر کمرے میں موجود دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام اور سفارتکاروں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھر گئی اور محفل کا ماحول انتہائی خوشگوار اور دوستانہ ہو گیا۔

اس اہم ترین ملاقات کے فوراً بعد امریکی دارالحکومت واشنگٹن پہنچنے پر وائٹ ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے ایک کڑک اور تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے امریکی خارجہ پالیسی کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے کہا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کا سب سے پہلا اور بنیادی مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کو کسی بھی قیمت پر جوہری ہتھیار (ایٹم بم) حاصل کرنے سے روکنا تھا اور ہم نے اپنی سخت ترین حکمتِ عملی کی بدولت اس مقصد میں تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے، امریکی صدر نے عالمی میڈیا کے سامنے ایک بہت بڑا دعویٰ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی سب سے اہم ترین سمندری گزرگاہ ”آبنائے ہرمز“ کو رواں ہفتے جمعے کے دن تک بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر دوبارہ کھول دیا جائے گا کیونکہ ایران اب امریکی دباؤ کے بعد عالمی برادری کے ساتھ اپنے معمول کے سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کرنے کا شدید خواہاں ہے، صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت خود مجبور ہو کر مذاکرات کی میز کی طرف آئی ہے تاکہ دنیا میں اپنے خلاف قائم سخت تاثر کو بدل کر ایک پرامن ریاست کے طور پر اپنی حیثیت کو دوبارہ مستحکم کر سکے، انہوں نے خلیج عمان اور بحیرہ عرب میں ایرانی بحری ناکہ بندی کرنے پر امریکی بحریہ کی جارحانہ اور کامیاب کارروائیوں کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ ایران کا عسکری محاصرہ سو فیصد کامیاب رہا اور اس شاندار کامیابی پر امریکی بحریہ کے تمام کمانڈرز اور جوان پوری دنیا کی جانب سے مبارکباد کے مستحق ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی نقشے پر بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایران ماضی کے دوران عرب ممالک اور اسرائیل کے مابین ہونے والے تاریخی ”ابراہام اکارڈز“ کی توسیع اور امن عمل میں سب سے بڑی اور خطرناک رکاوٹ بنا ہوا تھا، تاہم اب اس تاریخی محاصرے اور نئی ڈیل کے بعد یہ قوی توقع پیدا ہو گئی ہے کہ خطے کے مزید اہم اسلامی اور عرب ممالک بھی بہت جلد اس امن اور سفارتی معاہداتی عمل کا باقاعدہ حصہ بنیں گے، صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی اس نئی اور مجوزہ مفاہمتی یادداشت کی تمام تر باریک اور حساس تفصیلات بہت جلد پوری دنیا اور امریکی عوام کے سامنے پبلک کر دی جائیں گی، انہوں نے ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس سلسلے میں ایک خصوصی اور بڑی لائیو پریس کانفرنس کا انعقاد کرنے جا رہے ہیں جس میں وہ ایران کے ساتھ ہونے والے اس نئے تاریخی معاہدے کو میڈیا کے سامنے ”لفظ بہ لفظ“ خود پڑھ کر سنائیں گے تاکہ عالمی میڈیا، امریکی کانگریس اور عوام اس کے مندرجات اور کڑی شرائط کو بالکل درست اور واضح انداز میں سمجھ سکیں اور کسی قسم کا کوئی ابہام باقی نہ رہے، اس موقع پر سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں ایران کے ساتھ کیے جانے والے پرانے جوہری معاہدے پر شدید ترین تنقید کے تیر چلاتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اوباما کا وہ ناقص معاہدہ پورے خطے اور عالمی سلامتی کے لیے انتہائی نقصان دہ اور تباہ کن ثابت ہو سکتا تھا کیونکہ اس میں ایران کو چھوٹ دی گئی تھی، جبکہ اس کے برعکس میرا موجودہ معاہدہ ایران کے لیے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی تمام تر چوراہوں اور راہوں کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے کے خلاف دنیا کی ایک سب سے مضبوط اور ناقابلِ تسخیر عسکری و سفارتی رکاوٹ ثابت ہو گا، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران کے ساتھ ان کڑے مذاکرات کا دوسرا اہم مرحلہ بھی جلد ہی کامیابی سے مکمل ہو جائے گا جس کے بعد پورے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن، پائیدار سلامتی اور تجارتی استحکام کے نئے اور روشن امکانات پیدا ہوں گے۔

امریکا اور ایران کے مابین تاریخی امن معاہدے کی دستخطی تقریب کا مقام اچانک تبدیل، جنیوا کے بجائے اب سوئٹزرلینڈ کے مشہور ’برجن اسٹاک ریزورٹ‘ میں عالمی رہنما سر جوڑیں گے، دستخط جمعہ 19 جون کو ہوں گے، وزیراعظم شہباز شریف کی میزبانی اور کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل جنگ بندی کی راہ ہموار

محمود احمد june 16,2026

اسلام آباد / برن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان طویل ترین مذاکرات کے بعد طے پانے والے انتہائی حساس اور مجوزہ تاریخی امن معاہدے کی باضابطہ دستخطی تقریب کے مقام میں سیکیورٹی اور سفارتی وجوہات کی بنا پر اچانک بڑی تبدیلی کر دی گئی ہے، سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ ہنگامی بیان کے مطابق اس تاریخی امن معاہدے پر اب سابقہ طے شدہ مقام جنیوا کے بجائے سوئٹزرلینڈ کے دنیا بھر میں مشہور اور جھیل کے کنارے واقع پرسکون ’برجن اسٹاک ریزورٹ‘ میں دستخط کیے جائیں گے، جبکہ یہ تاریخی اور عالمی تقریب رواں ہفتے جمعہ ۱۹ جون کو منعقد ہو گی، سوئس سفارتی حکام کا کہنا ہے کہ برجن اسٹاک ریزورٹ کو اس کی غیر معمولی سیکیورٹی اور اعلیٰ سطحی بین الاقوامی سفارتی سرگرمیوں کے شاندار ٹریک ریکارڈ کی بدولت منتخب کیا گیا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ ترین نمائندے اور وزرائے خارجہ اس حتمی امن معاہدے پر دستخط کر کے خطے میں جاری ہولناک کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی تعلقات کی بحالی کا ایک نیا باب شروع کریں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے عالمی میڈیا کے سامنے یہ بڑا اور تاریخی اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اس تاریخی امن معاہدے کی دستخطی تقریب جنیوا میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خصوصی میزبانی اور ثالثی کے تحت منعقد ہو گی، وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے تہنیتی بیان میں واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ یہ معاہدہ صرف دو بڑے ممالک کے مابین روایتی مفاہمت یا ناکہ بندی کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر پاکستان کی غیر جانبدار سفارت کاری، باہمی مکالمے اور مستقل امن کی جیت کی ایک عظیم علامت ہے، وزیراعظم کے مطابق دونوں ممالک نے پسِ پردہ طویل اور کٹھن مذاکرات کے بعد لبنان سمیت مشرقِ وسطیٰ کے مختلف گرم محاذوں پر جاری تمام فوجی کارروائیوں اور بمباری کے فوری اور مستقل خاتمے پر مکمل اتفاق کر لیا ہے اور یہ امن معاہدہ پورے خطے میں پائیدار استحکام، تجارتی ترقی اور اعتماد سازی کے ایک نئے سنہرے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں میڈیا کو بتایا تھا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اس امن معاہدے کے حتمی مسودے کے حوالے سے دونوں طاقتوں کے درمیان انتہائی اہم اور مثبت پیش رفت ہوئی ہے، ان کے مطابق ایرانی حکومت اور اعلیٰ قیادت دستخطی تقریب کے باقاعدہ انعقاد سے قبل اپنے تمام پڑوسی مسلم ممالک اور برادر خطوں کو مکمل طور پر اعتماد میں لینے کے لیے سفارتی رابطے تیزی سے جاری رکھے ہوئے ہے، بین الاقوامی سفارتی ذرائع کے مطابق اس مجوزہ معاہدے کے اہم ترین نکات میں لبنان اور شام میں فوری جنگ بندی، امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے منجمد کیے گئے اربوں ڈالرز کے ایرانی اثاثوں کی فوری بحالی اور بعض دیگر پیچیدہ مالی و سفارتی پابندیوں کے مستقل حل سے متعلق امور شامل ہیں، عالمی سیاسی مبصرین اور دفاعی ماہرین اس معاہدے کو رواں صدی میں مشرقِ وسطیٰ کے امن، سلامتی اور پائیدار استحکام کے لیے اب تک کی سب سے بڑی اور کامیاب ترین سفارتی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

پاکستان اور ایتھوپیا کے مابین اعلیٰ تعلیم اور سائنسی تحقیق کے فروغ کے لیے تاریخی ”مشترکہ ریکٹرز فورم“ قائم، کامسٹیک کی سہولت کاری سے دونوں ممالک کے سرکردہ جامعاتی ادارے ایک پیج پر آ گئے، کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کا ایتھوپیا کے ہونہار طلبہ کے لیے 25 خصوصی اسکالرشپس کا بڑا اعلان

منصور احمد june 16,2026

اسلام آباد (ایجوکیشن ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

اسلامی تعاون تنظیم ( کی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (کامسٹیک) کی مخلصانہ سہولت کاری اور کوششوں سے پاکستان اور افریقی ملک ایتھوپیا کے درمیان اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق اور جدید تکنیکی تعاون کے فروغ کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی ”مشترکہ ریکٹرز فورم“ باقاعدہ طور پر قائم کر دیا گیا ہے، وفاقِ دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی تعلیمی تفصیلات کے مطابق اس سائنسی فورم میں دونوں برادر ممالک کے پانچ پانچ ممتاز ترین تعلیمی، طبی اور تحقیقی ادارے شامل کیے گئے ہیں اور اس کا بنیادی مقصد پاک ایتھوپیا تعلیمی روابط کو مضبوط بنانا، سائنس دانوں کے مابین مشترکہ تحقیق کو فروغ دینا اور عصرِ حاضر کے جدید سائنسی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینا ہے، اس عظیم الشان فورم کے قیام کا باضابطہ اور باہم اعلان او آئی سی-کامسٹیک، پاکستان اور ایتھوپیا کے اعلیٰ حکام کے درمیان منعقدہ ایک اہم مشترکہ ورچوئل (آن لائن) اجلاس کے دوران کیا گیا۔

کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے اس اعلیٰ سطحی اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ یہ نو منتخب فورم دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ تعلیم، جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحتِ عامہ (پبلک ہیلتھ)، سائنسی ریسرچ اور افرادی قوت کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں باہمی تعاون کو ایک نئی اور مضبوط جہت فراہم کرے گا، اس موقع پر پاکستان میں تعینات ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے اپنے ملک کی علم پر مبنی جدید معیشت، سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ اور تحقیق پر مبنی تعلیمی پالیسیوں کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی و سفارتی روابط کو مزید مستحکم کرنے کی اشد ضرورت پر زور دیا، تعلیمی ماہرین کے مطابق اس فورم کے تحت ایتھوپیا کی معروف جامعات اور ریسرچ اداروں کے ساتھ پاکستان کی ممتاز ترین یونیورسٹیوں کے درمیان طلبہ و اساتذہ کے تبادلے، مشترکہ سائنسی و طبی تحقیقی منصوبوں اور ادارہ جاتی اشتراک کو تیزی سے فروغ دیا جائے گا جبکہ اس پاک افریقہ مشن کو عملی شکل دینے کے لیے ایک مشترکہ تکنیکی کمیٹی بھی قائم کی جائے گی جو آئندہ کے تمام پروگراموں اور سرگرمیوں کی نگرانی اور رہنمائی کرے گی۔

اجلاس کے دوران پاکستان کی جانب سے خیر سگالی کے ایک بڑے جذبے کے طور پر کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کی انتظامیہ نے ایتھوپیا کے ہونہار طلبہ کے لیے ۲۵ بڑی اسکالرشپس کا باقاعدہ اعلان بھی کیا جس کا ایتھوپیا کے سفیر نے کھلے دل سے خیرمقدم کیا، جبکہ دوسری طرف کامسٹیک نے ایتھوپیا کی ان ممتاز جامعات کے ریکٹرز اور نمائندوں کو بہت جلد اسلام آباد کا سرکاری دورہ کرنے کی باضابطہ دعوت دی ہے تاکہ دوطرفہ تعلیمی و تحقیقی تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے، ملکی و بین الاقوامی تعلیمی ماہرین کے مطابق پاکستان کا یہ جرات مندانہ اقدام افریقہ کے ساتھ پاکستان کے علمی، تحقیقی اور سائنسی تعلقات کو ایک نئی بلندی پر لے جانے کی جانب ایک انتہائی اہم اور کلیدی پیش رفت ثابت ہو گا۔

چکوال میں افسوسناک واقعہ: حج سے لوٹنے والے آسٹریلوی نژاد پاکستانی خاندان پر فائرنگ، 9 سالہ بچی جاں بحق، سی سی ڈی اہلکار گرفتار

منصور احمد june 14,2026

چکوال(نیوز اینڈ نیوز) —14جون 2026ء

ضلع چکوال کی حدود میں پیش آنے والے ایک انتہائی دلدوز اور المناک واقعے نے نہ صرف ملک بھر بلکہ آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی برادری کو بھی شدید غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا ہے جہاں آسٹریلیا میں مستقل رہائش پذیر پاکستانی شہری عدیل احمد اپنی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ، بیٹے عفان اور 9 سالہ معصوم بیٹی ہانیہ احمد کے ہمراہ فریضۂ حج کی مقدس سعادت حاصل کرنے کے فوراً بعد محض دو روز قبل ہی پاکستان پہنچے تھے لیکن چکوال کے علاقے میں ان کی گاڑی کو مبینہ طور پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکاروں کی جانب سے فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں گاڑی میں موجود 9 سالہ معصوم ہانیہ احمد شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئیں جبکہ ان کے والد عدیل احمد اور بھائی عفان گولیوں کی زد میں آکر شدید زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، اس ہولناک واقعے کی اطلاع ملتے ہی آسٹریلیا میں آباد پاکستانی کمیونٹی میں شدید غم و غصہ اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور ذرائع کے مطابق آسٹریلوی حکام نے بھی واقعے کی سنگینی کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطح پر پاکستانی حکام سے رابطہ قائم کر کے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ مقامی پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور واقعے میں ملوث ایک سی سی ڈی اہلکار کو گرفتار کر کے حراست میں لے لیا ہے جس سے تفتیش جاری ہے، دوسری جانب ڈی پی او چکوال نے اس پورے واقعے کو انتہائی افسوسناک اور ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے میڈیا کو یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ملوث پائے جانے والے تمام ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا رعایت ہرگز نہیں برتی جائے گی جبکہ شہریوں، سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے بھی اس اندوہناک واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ معصوم بچی کے خون سے انصاف کیا جائے اور مستقبل میں ایسے سنگین و المناک سانحات کے مستقل سدباب کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طریقہ کار پر نظرثانی کی جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن پر بڑا پیغام، ہر بچے کو استحصال سے پاک اور تعلیم سے آراستہ کرنے کے قومی عزم کا اعادہ، دنیا بھر میں ۱۳ کروڑ ۸۰ لاکھ بچوں کی مزدوری پر تشویش کا اظہار، بینظیر انکم سپورٹ، بیت المال اور دانش اسکولز کے ذریعے مستحق بچوں کی کفالت کا اعلان

منصور احمد june 12,2026

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 12 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوامِ عالم کے ساتھ مل کر ہر بچے کو استحصال سے پاک اور تعلیم سے آراستہ تابناک مستقبل کی فراہمی کے لیے ہرممکن اقدامات کرنے کے پکے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان بچوں سے مشقت و مزدوری کے مکمل خاتمے کے لیے ایک انتہائی جامع اور مؤثر حکمتِ عملی پر پوری تندہی سے عمل پیرا ہے کیونکہ بچے ہمارے ملک کے مستقبل کے حقیقی معمار ہیں اور ان کے تابندہ مستقبل کے تحفظ اور صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے سرکاری سطح پر تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، اسلام آباد سے وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن (World Day Against Child Labour) کے موقع پر جاری کیے گئے خصوصی اور مخلصانہ پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ آج کے دن پاکستان دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر اس عہد کو دہراتا ہے کہ معصوم بچوں کے حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا، انہوں نے بتایا کہ اس سال عالمی سطح پر یہ اہم دن ”بچوں سے مشقت ناقابلِ قبول: بچوں کے لیے منصفانہ مواقع، نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار“ کے خوبصورت عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے، وزیراعظم نے بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا کہ آج کے اس جدید دور میں بھی دنیا بھر کے اندر تقریباً ۱۳ کروڑ ۸۰ لاکھ معصوم بچے مزدوری اور مشقت کرنے پر مجبور ہیں جن میں سے ۵ کروڑ ۴۰ لاکھ سے زائد بچے انتہائی خطرناک نوعیت کے کاموں میں مصروف ہیں جو کہ عالمی برادری کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے، ان کا کہنا تھا کہ بچوں سے مشقت و مزدوری کا مکمل سدِ باب ہماری قومی معاشی و سماجی ترقی اور معاشرتی انصاف کے لیے ناگزیر ہے کیونکہ قوموں کی حقیقی ترقی ان کی مستقبل کی افرادی قوت اور بچوں کی ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کے بہترین استعمال پر ہی منحصر ہوتی ہے۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی اس مقصد سے سچی وابستگی کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ہم نے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے متعلقہ کنونشنز کی باقاعدہ توثیق کر رکھی ہے جو ملازمت کی کم سے کم عمر اور بچوں سے مشقت کی بدترین اقسام کے خاتمے کے لیے بنائے گئے ہیں، اس وقت ملک کے اندر بچوں سے متعلق قانونی اصلاحات، قوانین کے مؤثر نفاذ، سماجی تحفظ، معیاری تعلیم اور غریب خاندانوں کی معاشی آسودگی جیسے پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ بچوں سے مشقت کی بنیادی جڑوں اور وجوہات کا ہمیشہ کے لیے تدارک کیا جا سکے، انہوں نے قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال (NCRC) کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ بچوں کے حقوق کی نگرانی اور اس حوالے سے قومی و بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عملدرآمد کے فروغ میں مصروفِ عمل ہے جبکہ وفاقی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن انسٹیٹیوٹ اور صوبائی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹیز، ویلفیئر بیوروز اور چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کے ذریعے کمزور، یتیم اور محروم بچوں کو مکمل تحفظ، مالی معاونت اور معاشرے میں باعزت بحالی کے شاندار مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، وزیراعظم نے تمام صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں نے بچوں سے مشقت کے تدارک کے لیے نمایاں قانونی اور انتظامی اقدامات کیے ہیں اور تمام صوبوں میں جبری مشقت کے قوانین کے تحت ضلعی نگرانی کمیٹیاں اور خصوصی یونٹس قائم کیے جا چکے ہیں جو لائقِ ستائش ہیں۔

وزیراعظم نے اپنے پیغام میں اس حقیقت کا مخلصانہ اعتراف کیا کہ ملک میں جاری غربت ہی بچوں سے مشقت کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ ہے، اسی لیے حکومت باعزت روزگار کے مواقع کی فراہمی سمیت معاونت کے سماجی تحفظ کے پروگرامز اور تعلیمی وظائف کی اسکیموں کو وسائل کی شدید کمی کے باوجود انتہائی مؤثر انداز میں چلا رہی ہے جن میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ”وسیلہ تعلیم“ اقدام اور پاکستان بیت المال کے قائم کردہ ”چائلڈ لیبر اسکولز“ غریب بچوں کے لیے قابلِ ذکر خدمات سر انجام دے رہے ہیں، اس کے ساتھ ہی انہوں نے ”دانش اسکولز“ کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان ورلڈ کلاس اسکولوں کے ذریعے ملک کے طول و عرض میں ہزاروں مستحق اور یتیم بچے اعلیٰ تعلیم کے زیور سے بالکل مفت آراستہ ہو کر اپنے روشن مستقبل کی جانب تیزی سے پیش قدمی کر رہے ہیں، انہوں نے آئی ایل او، یونیسیف، یورپی یونین اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا جن کے مسلسل تعاون سے ملک میں لیبر گورننس کی جانب پیش رفت تیز ہو رہی ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے خطاب کے آخر میں ملک کے تمام آجروں، محنت کشوں، والدین، اساتذہ، سول سوسائٹی کی تنظیموں، مذہبی رہنماؤں، نجی شعبے اور بالخصوص ذرائع ابلاغ (میڈیا) سے پرزور اپیل کی کہ وہ معصوم بچوں کو ہر قسم کے استحصال سے محفوظ رکھنے کے اس عظیم اور مقدس قومی مقصد میں حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں کیونکہ یہ ہم سب کی مشترکہ سماجی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، انہوں نے کہا کہ آئیے ہم سب مل کر ایک ایسے پڑھتے لکھتے پاکستان کی تعمیر کریں جہاں ہر بچہ تعلیم یافتہ، محفوظ اور بااختیار ہو اور اسے قومی ترقی اور خوشحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے مساوی اور بہترین مواقع میسر آ سکیں۔

پاکستان کی مسقط پلان آف ایکشن کی بھرپور حمایت، نفرت انگیز تقاریر، نسل کشی پر اکسانے اور سنگین جرائم کے خاتمے کے لیے مؤثر اور اختراعی عالمی فریم ورک قرار، اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا افتتاحی تقریب سے دبنگ خطاب، سلطنتِ عمان اور عالمی برادری کو کامیاب تکمیل پر مبارکباد

محمود احمد june 12,2026

اقوام متحدہ، نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) —12جون 2026ء

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے مسقط پلان آف ایکشن کی بھرپور اور غیر مشروط حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اسے دنیا بھر میں نفرت انگیز تقاریر، نسل کشی پر اکسانے اور دیگر سنگین ترین انسانی جرائم کی روک تھام کے لیے ایک انتہائی مؤثر اور اختراعی عالمی فریم ورک قرار دیا ہے، اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں مسقط پلان آف ایکشن کی پروقار اور اعلیٰ سطح کی افتتاحی تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ یہ عظیم الشان منصوبہ دنیا بھر کی روایتی اور مقامی برادریوں کے رہنماؤں کی سماجی ساکھ، اخلاقی حیثیت اور عوامی اعتماد کو بہترین طریقے سے بروئے کار لا کر امن، باہمی مکالمے اور مصالحتی عمل کو فروغ دیتا ہے، پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ قبائلی عمائدین، روایتی سردار اور مقامی برادریوں کے رہنما تاریخی طور پر تنازعات کے حل، منصفانہ مصالحت اور مقامی نظم و نسق کو برقرار رکھنے میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں اور آج کے اس جدید دور میں بھی یہ مقتدر شخصیات امن سازی، تنازعات کے پرامن خاتمے اور انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہی ہیں، انہوں نے دنیا بھر میں عدم برداشت، امتیازی رویوں اور نفرت انگیز تقاریر میں ہونے والے ہولناک اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس عالمی چیلنج کے تدارک کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی اور مخلصانہ عالمی تعاون کی اشد ضرورت ہے کیونکہ نفرت انگیز تقاریر اور نسل کشی جیسے بھیانک جرائم کے محرکات انتہائی پیچیدہ نوعیت کے ہیں، لہٰذا ان کے مؤثر سدباب کے لیے اب قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مربوط اور یکجا اقدامات کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

واضح رہے کہ مسقط پلان آف ایکشن اقوامِ متحدہ کی سرپرستی اور سلطنتِ عمان کی خصوصی کاوشوں سے تیار کیا گیا ایک ایسا بین الاقوامی فریم ورک ہے جس کا بنیادی مقصد روایتی اور مقامی آبادیوں کے بااثر رہنماؤں کے کردار کو عالمی سطح پر مضبوط بنا کر نفرت انگیز تقاریر اور نسل کشی کی روک تھام کو عملی طور پر ممکن بنانا ہے، اس تاریخی منصوبے کی افتتاحی تقریب میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سمیت متعدد عالمی رہنماؤں، سربراہان اور نامور سفارتکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، تقریب کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب نے ملک کی خارجہ پالیسی کو پیش کرتے ہوئے عزم دہرایا کہ پاکستان اپنے تمام بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر نفرت انگیز نظریات کے خاتمے، مستقل امن کے فروغ اور مساوات پر مبنی پُر امن معاشروں کے قیام کے لیے اپنا تعمیری کام ہمیشہ جاری رکھے گا، سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب کے آخر میں سلطنتِ عمان کی اعلیٰ قیادت، اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسدادِ نسل کشی اور پیس میکرز نیٹ ورک کی انتظامیہ کو مسقط پلان آف ایکشن کی شاندار تیاری اور اس کی کامیاب تکمیل پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد بھی پیش کی۔

پاکستان اور چائلڈ مائنڈ انسٹی ٹیوٹ کے درمیان بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کے شعبے میں اسٹریٹجک شراکت داری پر اتفاق، نیویارک میں اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران ذہنی صحت کے قومی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ تعاون پر اہم پیش رفت، وفاقی وزیرِ مملکت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ کی عالمی ماہرین کو اکتوبر میں اسلام آباد آمد کی باضابطہ دعوت

منصور احمد june 12,2026

نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) —12جون 2026ء

پاکستان اور چائلڈ مائنڈ انسٹی ٹیوٹ کے تحت قائم ایس این ایف گلوبل سینٹر فار چائلڈ اینڈ ایڈولیسنٹ مینٹل ہیلتھ نے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کے شعبے میں اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے پر باقاعدہ اتفاق کر لیا ہے جس کے تحت ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ نوجوان نسل کے نفسیاتی و ذہنی مسائل کے حل کے لیے عالمی معیار کے ماڈلز متعارف کروائے جائیں گے، نیویارک سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق یہ اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے امریکہ کے سرکاری دورے کے دوران نیویارک میں واقع ایس این ایف گلوبل سینٹر کا تفصیلی دورہ کیا جہاں ان کے ہمراہ وزارتِ قومی صحت کے سینئر مشیر ڈاکٹر ملک محمد صافی اور ڈاکٹر سید عثمان ہمدانی بھی موجود تھے، دورے کے دوران پاکستانی وفد نے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کے لیے عالمی سطح پر اپنائے جانے والے کامیاب ترین ماڈلز کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور اس بات پر تفصیلی غور کیا کہ ان بین الاقوامی تجربات کو پاکستان میں کس طرح مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکتا ہے جبکہ وفد کو ایس این ایف گلوبل سینٹر کے اعلیٰ ماہرین نے ادارے کے تحقیقی، تربیتی اور ڈیجیٹل پروگراموں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی جن کا بنیادی مقصد کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں ذہنی صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔

پاکستانی وفد اور عالمی ماہرین کے مابین ہونے والی اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں چند اہم ترین شعبوں میں مشترکہ تعاون کو فوری طور پر آگے بڑھانے پر بات چیت ہوئی جن کے تحت اب دونوں فریقین مل کر بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت سے متعلق مشترکہ تحقیق کریں گے، ملک میں ذہنی صحت کے قومی ڈیٹا سسٹمز کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور جدید ترین ڈیجیٹل ذہنی صحت پروگرامز تیار کیے جائیں گے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے اسکولوں اور بنیادی صحت کے مراکز میں ذہنی صحت کی خدمات کا انضمام کیا جائے گا تاکہ نچلی سطح پر بچوں کی کونسلنگ کی جا سکے اور پاکستانی ماہرین سمیت نوجوان محققین کے لیے عالمی فیلوشپ پروگرامز، خصوصی تربیت، رہنمائی اور افرادی قوت کی استعداد میں اضافے کے منصوبے شروع کیے جائیں گے، ملاقات کے دوران پاکستانی وفد نے عالمی ادارے کو بتایا کہ یہ جدید ماڈل پاکستان کی مجوزہ قومی ذہنی صحت پالیسی، نیشنل ہب آف ایکسیلنس فار مینٹل ہیلتھ اور ملک بھر میں بچوں اور نوجوانوں کے لیے ذہنی صحت کی خدمات کے فروغ کے سرکاری منصوبوں سے مکمل مطابقت رکھتا ہے جس پر دونوں فریقوں نے اتفاق کیا کہ اس ابتدائی رابطے کو فوری عملی شکل دینے کے لیے ایک باضابطہ ادارہ جاتی معاہدے کی جانب پیش رفت کی جائے گی جس کے تحت تحقیق، تربیت، پالیسی سازی اور اختراعات میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا، وفاقی وزیرِ مملکت برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے چائلڈ مائنڈ انسٹی ٹیوٹ، ایس این ایف گلوبل سینٹر اور انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار چائلڈ اینڈ ایڈولیسنٹ سائکیاٹری اینڈ الائیڈ پروفیشنز کے نمائندوں کو رواں سال یکم اور دو اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہونے والی عالمی یومِ ذہنی صحت کی بڑی تقریب میں شرکت کی باضابطہ دعوت بھی دی تاکہ اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

عمان کے ساحل پر آئل ٹینکر پر امریکی فوج کی ہلاکت خیز کارروائی، دو بھارتی ملاح جاں بحق اور ایک لاپتہ، نئی دہلی کا شدید ترین احتجاج، بھارت نے امریکی سفارت خانے کے قائم مقام سربراہ کو طلب کر لیا، خلیج عمان میں تجارتی جہازوں پر حملوں سے عالمی سطح پر شدید کشیدگی

محمود احمد june 11,2026

نئی دہلی / مسقط(نیوز اینڈ نیوز) —11 جون 2026ء

عمان کے ساحل کے قریب خام تیل لے جانے والے ایک بڑے آئل ٹینکر پر امریکی فوج کی جانب سے کی جانے والی ہلاکت خیز کارروائی کے نتیجے میں دو بھارتی ملاحوں کی افسوسناک ہلاکت اور ایک ملاح کے سمندر میں لاپتہ ہونے پر بھارت میں شدید غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور بھارت نے اس واقعے پر انتہائی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے نئی دہلی میں تعینات امریکی سفارت خانے کے قائم مقام سربراہ کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے شدید ترین سفارتی احتجاج ریکارڈ کرایا ہے، نئی دہلی اور مسقط کے سفارتی و عسکری ذرائع سے حاصل ہونے والی سنسنی خیز تفصیلات کے مطابق عمان کے سمندری ساحل کے قریب سیٹبیلو نامی آئل ٹینکر پر ہونے والے اس ہولناک حملے کے بعد جہاز کے عملے میں شامل متعدد افراد بری طرح متاثر ہوئے ہیں تاہم امدادی کارروائی کے دوران اکیس ملاحوں کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے اور اس واقعے کے فوراً بعد بھارتی حکومت نے اپنے معصوم شہریوں کی ہلاکت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی حکومت سے اس پورے واقعے کی اعلیٰ سطح پر مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے، دوسری جانب اس خونریز کارروائی پر اپنا باضابطہ عسکری موقف پیش کرتے ہوئے یونائیٹڈ اسٹیٹس سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ آئل ٹینکر برادر ملک ایران سے خام تیل لے جا رہا تھا اور مبینہ طور پر خطے میں عائد بین الاقوامی پابندیوں اور امریکی ناکہ بندی کی کھلی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا تھا اس لیے امریکی فوج کے سرکاری بیان کے مطابق اس مشکوک بحری جہاز کو رکنے کے لیے متعدد بار وائرلیس پر سخت وارننگ دی گئی تاہم جہاز کے عملے کی جانب سے امریکی ہدایات پر عمل نہ کرنے اور جہاز کی رفتار تیز کرنے کے بعد مجبورا ایک امریکی جنگی طیارے نے کارروائی کرتے ہوئے جہاز کے مرکزی انجن کو نشانہ بنایا جس کے بعد وہاں ہلاکتیں ہوئیں، اس کارروائی کے ردعمل میں بھارت کی وزارتِ خارجہ نے سخت ترین تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی سفیر کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور بھارتی حکام نے سمندر میں لاپتہ ہونے والے ملاح کی فوری تلاش اور متاثرہ خاندانوں کو تمام ضروری معلومات فراہم کرنے کا بھی دبنگ مطالبہ کیا ہے، واضح رہے کہ یہ خطرناک واقعہ ایک ایسے نازک وقت میں پیش آیا ہے جب چند روز قبل ہی عمان کے ساحل کے قریب ایک اور آئل ٹینکر میریویکس کو بھی اسی طرح نشانہ بنایا گیا تھا تاہم خوش قسمتی سے اس جہاز پر موجود چوبیس بھارتی ملاحوں کو بعد میں محفوظ طریقے سے نکال لیا گیا تھا، بحری امور کے ماہرین کے مطابق خلیج عمان اور بحیرہ عرب کے ان انتہائی اہم ترین عالمی تجارتی راستوں پر حالیہ دنوں میں بڑھنے والی عسکری کشیدگی اب عالمی تجارت اور دنیا بھر میں توانائی کی ترسیل کے لیے نئے اور ہولناک خطرات پیدا کر رہی ہے جبکہ سمندری راستوں پر بڑھتے ہوئے ان فوجی اقدامات نے بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں اور بڑے تجارتی اداروں کو بھی شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی فضائی کمپنی اتحاد ایئر ویز کا کابل کے لیے پروازیں دگنی کرنے کا بڑا اعلان، پندرہ جولائی سے ابوظبی اور افغانستان کے درمیان روزانہ اضافی پروازیں چلیں گی، زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے یورپ جانے والے مسافروں کو شاندار سفری سہولیات کی فراہمی

منصور احمد june 11,2026

متحدہ عرب امارات کی نامور اور سرکاری فضائی کمپنی اتحاد ایئر ویز نے پندرہ جولائی دو ہزار چھبیس سے اپنے مرکزی ہیڈ کوارٹر ابوظبی اور افغان دارالحکومت کابل کے درمیان مسافر پروازوں کی تعداد میں بڑا اضافہ کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان فضائی آپریشن کو مزید وسیع کیا جائے گا، اماراتی نیوز ایجنسی کے مطابق اتحاد ایئرلائن نے مسافروں کے بے پناہ رش کے پیشِ نظر پروازوں کی موجودہ تعداد کو اب باقاعدہ طور پر دگنی کر دیا ہے اور اس نئے شیڈول کے تحت اب یومیہ ایک اضافی پرواز مستقل طور پر چلائی جائے گی، فضائی کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ پروازوں کے دائرہ کار میں یہ نئی توسیع افغانستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان براہِ راست سفر کرنے والے تجارتی مسافروں اور بالخصوص ابوظبی کے جدید ترین زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے راستے یورپ، امریکہ اور دنیا کے دیگر بڑے ممالک کا سفر کرنے والے بین الاقوامی مسافروں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھ کر کی گئی ہے کیونکہ کابل سے چلنے والی یہ پروازیں زاید ایئرپورٹ کو ایک بڑے فضائی مرکز کے طور پر استعمال کریں گی، ایئرلائن کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اس اہم روٹ پر مسافروں کے آرام و آسائش کو برقرار رکھنے کے لیے جدید ترین ایئربس اے تین سو بیس طیارے استعمال کیے جا رہے ہیں جن کے اندر آٹھ بزنس کلاس اور ایک سو پچاس اکانومی کلاس کی نشستیں موجود ہیں، اس اقدام سے دونوں خطوں کے مابین فضائی روابط اور تجارتی سرگرمیوں میں مزید تیزی آئے گی۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان نے بین تہذیبی مکالمے کو عصرِ حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کی کلید قرار دے دیا، باہمی تعاون اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی مؤثر ترین ذرائع ہیں، مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا چین کے زیرِ اہتمام اعلیٰ سطحی تقریب سے خطاب

محمود احمد june 11,2026

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اختلافات سے بالاتر ہو کر باہمی افہام و تفہیم، تعاون اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کو مؤثر ترین ذرائع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ کے اس نازک مرحلے پر جب عالمی امن اور ہم آہنگی کو متعدد چیلنجز درپیش ہیں بین تہذیبی مکالمے کی اہمیت کو کسی بھی طور کم نہیں سمجھا جا سکتا، چین کے مستقل مشن کے زیرِ اہتمام اقوامِ متحدہ میں بین تہذیبی مکالمے کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ مکالمے کی روح ہی وہ قوت ہے جس نے انسانی تہذیب کو باہمی احترام، اعتماد کے فروغ اور مشترکہ ترقی و پیش رفت کی راہ متعین کرنے کے قابل بنایا ہے، انہوں نے عالمی برادری کو بتایا کہ پاکستان جو مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے صدیوں سے مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور مذاہب کے امتزاج اور باہمی تعامل کا مرکز رہا ہے اس لیے بین المذاہب ہم آہنگی، پُرامن بقائے باہمی، تنوع، تکثیریت اور مکالمے کی اقدار نہ صرف پاکستانی تہذیب کی نمایاں خصوصیات ہیں بلکہ یہی اقدار ہماری خارجہ پالیسی کی رہنمائی بھی کرتی ہیں، مستقل مندوب نے سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے ارکان کو یاد دلایا کہ اسی جذبے کے تحت پاکستان نے فلپائن کے ساتھ مل کر امن کے لیے بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے، افہام و تفہیم اور تعاون کے فروغ سے متعلق ایک اہم قرارداد کا معاون پیش کنندہ بننے کا اعزاز حاصل کیا جسے حال ہی میں بیس مئی کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اتفاقِ رائے سے منظور کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والی اقوامِ متحدہ ہمیشہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ رہی ہے کہ بین الاقوامی امن اور تہذیبوں کے درمیان مکالمہ ایک دوسرے سے گہرا اور اٹوٹ تعلق رکھتے ہیں، سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے اختتامی کلمات میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک پُرعزم شراکت دار کے طور پر اقوامِ متحدہ اور تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر تہذیبوں، ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان مکالمے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں مستقل جاری رکھے گا تاکہ عالمی امن، ہم آہنگی اور خوشحالی کے مشترکہ مقاصد کو کامیابی سے آگے بڑھایا جا سکے، انہوں نے اس موقع پر چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، جنرل اسمبلی کے صدر اور اقوامِ متحدہ کے اتحادِ تہذیبوں کے اعلیٰ نمائندے جناب میگوئل اینخیل موراتینوس کے تعریفی پیغامات کو بھی سراہا جبکہ جمہوریہ کولمبیا کے صدر جناب گستاوو پیٹرو کے خطاب کا بھی والہانہ خیرمقدم کرتے ہوئے ان کے خیالات کو دنیا کے لیے قابلِ قدر قرار دیا۔

مشرقِ وسطیٰ کے نازک حالات پر سلامتی کونسل میں پاکستان کا بڑا بیان، سفیر عاصم افتخار احمد کا کثیرالجہتی سفارت کاری، ثالثی اور فوری جنگ بندی پر زور، غزہ میں تین برس سے جاری اسرائیلی جارحیت اور تباہی پر شدید تشویش، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششیں تاحال جاری رکھنے کا اعلان

محمود احمد june 11,2026

اقوام متحدہ، نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) —11جون 2026ء

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی حل کے فروغ اور ثالثی کے موضوع پر منعقدہ کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطے کی صورتحال کو نہایت نازک اور مسلسل غیر یقینی قرار دیا ہے، انہوں نے سلامتی کونسل کے ارکان کو بتایا کہ پورے خطے میں حل طلب تنازعات طویل المدتی کشمکش کی صورت اختیار کر چکے ہیں جبکہ تشدد کے مسلسل ادوار اب معمول بنتے جا رہے ہیں کیونکہ بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزی، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد میں ناکامی اور حقیقی سیاسی عمل کے فقدان نے پائیدار امن، استحکام اور سلامتی کے حصول کے امکانات کو شدید نقصان پہنچایا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ایسے نازک مرحلے پر سیاسی حل کے فروغ اور پیش رفت کو یقینی بنانا اقوام متحدہ کے منشور کے تحت ہماری بنیادی ذمہ داری ہے کیونکہ عرب اسرائیل تنازع سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین اور اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے، انہوں نے زمینی صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں تقریباً تین برس سے جاری تباہ کن جنگ اور اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں انسانی المیہ انتہائی ہولناک صورت اختیار کر چکا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کی مربوط سفارتی کاوشوں اور پاکستان سمیت آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے گروپ کی حمایت سے غزہ امن منصوبہ اور سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر دو ہزار آٹھ سو تین وجود میں آئے تھے، تاہم جنگ بندی کے باوجود فلسطینیوں کے خلاف خلاف ورزیاں اور ہلاکتیں بدستور جاری ہیں جبکہ دوسری جانب مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے غیر قانونی پھیلاؤ اور یکطرفہ اقدامات پر مبنی ایک منظم پالیسی دو ریاستی حل کے امکانات کو مسلسل کمزور کر رہی ہے، پاکستانی سفیر نے لبنان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں جنگ بندی کے خاتمے سے متعلق فریم ورک اور سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر سترہ سو ایک کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں اور اسرائیل کی بے دریغ بمباری کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ افراد جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں جبکہ جنوبی لبنان پر غیر قانونی قبضے کا دائرہ مسلسل وسیع ہوتا جا رہا ہے، اس کے علاوہ شام اپنی نئی قیادت اور جرات مندانہ سیاسی فیصلوں کے ذریعے بتدریج استحکام کی جانب پیش رفت کی کوشش کر رہا ہے تاہم اسے اب بھی اپنے جنوبی علاقوں میں جاری قبضے جیسے چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ یمن کی صورتحال بھی عالمی برادری کی سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ایک جامع اور یمنی قیادت پر مبنی سیاسی عمل ہی وہاں پائیدار امن قائم کر سکتا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پاکستان مغربی ایشیا اور وسیع تر خلیجی خطے میں حالیہ پیش رفت کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے کیونکہ اس جنگ کے علاقائی اور عالمی امن سمیت بین الاقوامی معیشت بالخصوص توانائی اور غذائی تحفظ پر مرتب ہونے والے اثرات بالکل واضح ہیں، انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ جنگ بندی کے حصول اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے پاکستان نے ترکیہ، مصر، سعودی عرب اور دیگر شراکت داروں بالخصوص قطر اور چین کے ساتھ مل کر بھرپور سفارتی اور ثالثی کوششیں کیں اور ہماری فوری ترجیح سفارت کاری کے عمل کو جاری رکھنا، مکمل جنگ بندی کو یقینی بنانا اور آبنائے ہرمز میں معمول کی صورتحال کی بحالی ہونی چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور ان مشکل حالات میں پاکستان نے خلیج تعاون کونسل کے برادر رکن ممالک کے ساتھ اپنی مسلسل اور غیر متزلزل حمایت اور مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے، انہوں نے کونسل کے سامنے پاکستان کے اصولی موقف کو پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تنازعات کی بنیادی وجوہات کا مؤثر اور منصفانہ حل تلاش نہ کیا جائے کیونکہ مسئلۂ فلسطین خطے میں دیرپا امن کے قیام کی تمام کوششوں کا مرکزی محور ہے اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی بنیاد پر ایک وقت کے تعین کے ساتھ ناقابلِ واپسی سیاسی عمل کو آگے بڑھایا جانا چاہیے جو انیس سو سڑسٹھ سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک خودمختار، آزاد اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام پر منتج ہو جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، عاصم افتخار احمد نے مزید انکشاف کیا کہ پاکستان کی امن کے لیے طویل المدتی وابستگی عملی اقدامات کی صورت میں عیاں ہے اور پاکستان غزہ امن منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں مسلسل سرگرم عمل ہے جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور مکالمے کے فروغ کے لیے ثالثی اور سہولت کاری کی مخلصانہ کوششوں میں بھی معاونت کر رہا ہے اور یہ سفارتی کوششیں آج بھی پوری تندہی سے جاری ہیں، انہوں نے اپنے خطاب کے آخر میں کونسل پر زور دیا کہ آج مشرقِ وسطیٰ کو امن کی جتنی ضرورت ہے اتنی ہی ضرورت باقی دنیا کو بھی ہے اس لیے سفارت کاری کو محاذ آرائی پر، مکالمے کو تقسیم پر اور بین الاقوامی قانون کو وقتی مفادات پر ہر صورت ترجیح دی جائے کیونکہ یہی دیرپا امن کا واحد راستہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو فوری طور پر جوہری معاہدے پر دستخط کرنے کا مشورہ، ایرانیوں کی جانب سے امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنانے اور بم برآمد ہونے کا سنسنی خیز دعویٰ، سیکیور امریکہ ایکٹ منظور جبکہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں پاکستان کی درخواست پر وقفہ دینے کا اعتراف

محمود احمد june 10,2026

واشنگٹن(نیوز اینڈ نیوز) — 10جون 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ایک سنسنی خیز عسکری دعویٰ کیا ہے کہ ایرانیوں نے حال ہی میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنا کر مار گرایا ہے جبکہ تہران کو عقل کے ناخن لیتے ہوئے فوری طور پر نئے جوہری معاہدے پر دستخط کر دینے چاہئیں کیونکہ یہ خود اس کے اپنے مفاد میں ہے، واشنگٹن ڈی سی میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا اور موجودہ مجوزہ معاہدہ ایرانی حکومت کے لیے ایک آخری اور بہتر موقع ہے، پریس بریفنگ کے دوران ہیلی کاپٹر حملے سے متعلق اہم عسکری تفصیلات بتاتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایرانیوں نے جس امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا اس کے اندر ایک انتہائی بڑا بم موجود تھا اور یہ محض خوش قسمتی تھی کہ تباہی کے بعد وہ بم دھماکے سے نہیں پھٹا ورنہ خطے میں صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین اور قابو سے باہر ہو سکتی تھی، انہوں نے واضح کیا کہ امریکی عسکری اثاثے پر ہونے والے اس حملے کے بعد ایران کے خلاف سخت ترین جوابی کارروائی کرنا ناگزیر اور ضروری سمجھا گیا تھا، اس موقع پر امریکی صدر نے ملک کے اندرونی تحفظ کے حوالے سے سیکیور امریکہ ایکٹ پر باقاعدہ دستخط کرنے کا بھی بڑا اعلان کیا اور کہا کہ اس نئے قانون کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرحدی سیکیورٹی فورسز کو مزید جدید وسائل اور فنڈز فراہم کیے جائیں گے کیونکہ ان کی حکومت امیگریشن اور بارڈر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنا رہی ہے اور سرحدی نگرانی سخت کر کے غیر قانونی داخلوں کی مکمل روک تھام کی گئی ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی اس اہم گفتگو کے دوران پاکستان کا خاص طور پر حوالہ دیتے ہوئے ایک اور بڑا انکشاف کیا اور دعویٰ کیا کہ بعض نازک مواقع پر پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی خصوصی درخواست پر ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں کچھ دیر کے لیے وقفہ دیا گیا تھا جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھنے والی شدید عسکری کشیدگی کے دوران جنگ بندی کروانے اور امن قائم کرنے کی کوششوں میں بھی امریکی کردار انتہائی کلیدی رہا ہے، امریکی صدر نے آخر میں اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے حوالے سے اپنے اصولی موقف پر سختی سے قائم ہے اور ایران کو کسی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے اب مخلصانہ طور پر سفارتی حل کی طرف بڑھنا چاہیے۔

عدم پھیلاؤ سے متعلق سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں سفیر عاصم افتخار احمد کا بڑا بیان، مشرقِ وسطیٰ کی ابھرتی ہوئی صورتحال اور نئے تناؤ پر گہری تشویش کا اظہار، تہران اور واشنگٹن کے درمیان چار دہائیوں بعد اعلیٰ ترین سطح کے براہِ راست ”اسلام آباد مذاکرات“ کا انکشاف، پاکستان کی جانب سے دونوں فریقین کو تحمل اور ضبط کا مظاہرہ کرنے کی مخلصانہ اپیل

محمود احمد june 10,2026

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عدم پھیلاؤ اور 1737 کمیٹی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطے میں جاری نازک صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جو نئے سرے سے شروع ہونے والی کشیدگی اور بڑھتے ہوئے شدید تناؤ سے عبارت ہے، انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ گزشتہ چند روز کے واقعات نے واضح طور پر اس صورتحال کی سنگینی، مزید عسکری کشیدگی کے خطرات اور اس امر کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ سفارتی کوششیں جلد از جلد نتیجہ خیز ثابت ہوں کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ تشدد میں اضافہ اس حقیقت کی ایک واضح یاد دہانی ہے کہ کمزور اور غیر مستحکم جنگ بندی کس قدر سنگین خطرات اور ناقابلِ برداشت نتائج کو جنم دے سکتی ہے، پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ علاقائی اور بین الاقوامی امن، سلامتی اور خوشحالی کے مفاد میں تشدد اور عدم استحکام کے اس جاری سلسلے کا خاتمہ اب ناگزیر ہو چکا ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ سفارت کاری کے تعطل اور دشمنی کے آغاز نے ایرانی جوہری معاملے پر جاری غور و خوض کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں اس پیچیدہ مسئلے پر فریقین کے درمیان فاصلے مزید بڑھ گئے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے اہم تصدیقی مینڈیٹ میں بھی خلل پیدا ہوا ہے، انہوں نے تمام تصفیہ طلب مسائل بشمول ایرانی جوہری معاملے کے پُرامن حل کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا پختہ یقین ہے کہ سفارتی روابط اور مسلسل مکالمہ ہی ایسے بنیادی اصول ہونے چاہییں جن کی رہنمائی میں تمام متنازع امور کا باہمی مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کیا جائے اور یہ عمل متعلقہ فریقوں کے حقوق اور ذمہ داریوں کے مطابق آگے بڑھایا جائے، سفیر عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے سامنے یہ اہم انکشاف کیا کہ پاکستان نے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر جنگ کے خاتمے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بڑی سفارتی کوششوں کا آغاز کیا ہے اور ہم کشیدگی میں کمی، جنگ بندی کے قیام اور خطے میں وسیع تر استحکام کے فروغ کے لیے تعمیری سفارتی روابط جاری رکھے ہوئے ہیں، انہوں نے دونوں فریقوں کی جانب سے پاکستان پر بھرپور اعتماد کے اظہار کو سراہا جنہوں نے جنگ بندی کے حصول کے لیے مذاکرات میں شرکت کی اور ”اسلام آباد مذاکرات“ کا حصہ بنے جو کہ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصے میں اعلیٰ ترین سطح کا پہلا براہِ راست رابطہ اور تاریخی مکالمہ تھا، پاکستانی سفیر نے واضح کیا کہ واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ قیادت کی سطح پر مسلسل روابط کے ذریعے نیز خطے اور اس سے باہر موجود اپنے دیگر اہم شراکت داروں بالخصوص سعودی عرب، مصر، ترکیہ، قطر اور چین سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مسلسل مشاورت کے ذریعے اسلام آباد نے ہمیشہ مکالمے کی حوصلہ افزائی کی ہے اور پیغامات کے تبادلے میں سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول اور ضروری مواقع پیدا کرنے کی مخلصانہ کوشش کی ہے، عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ان مخلصانہ کوششوں کا واحد مقصد دشمنی کی شدت کو کم کرنا، معصوم انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنانا اور سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا موقع فراہم کرنا ہے کیونکہ ہمارا یہ طرزِ عمل علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن کے لیے پاکستان کے مستقل عزم کا مظہر ہے جو اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان جغرافیائی و سیاسی چیلنجز سے نمٹنے اور پیچیدہ تنازعات کے حل کے لیے اصولی، مکالمہ پر مبنی اور تعمیری سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، انہوں نے اپنے خطاب کے آخر میں سلامتی کونسل کے ارکان کو بتایا کہ جب ہم اپنے دوستوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس تنازع کے پُرامن اور سفارتی حل کی تلاش کے لیے خلوصِ نیت اور انتھک محنت سے کوشاں ہیں اور بالخصوص جب حتمی مقصد کے حصول کا مرحلہ قریب دکھائی دے رہا ہے تو ہم تمام فریقوں سے مخلصانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ تحمل اور ضبط کا مظاہرہ کریں اور امن کو مزید ایک موقع دیں، لہذا آئیے ہم سب امن اور سفارت کاری کے راستے پر گامزن رہیں کیونکہ اسی راستے میں کامیابی کے روشن امکانات موجود ہیں اور یہی وہ واحد امید ہے جس سے بین الاقوامی برادری وابستہ ہے۔

سلامتی کونسل میں پاکستان کا یوکرین تنازع کے حل کے لیے سفارت کاری اور جنگ بندی پر زور، عسکری ذرائع دیرپا امن کی ضمانت نہیں دے سکتے، زاپوریژژیا جوہری بجلی گھر کے اطراف حملوں پر شدید تشویش کا اظہار، اقوام متحدہ کے منشور کی پاسداری کا مطالبہ

محمود احمد june 10,2026

اقوام متحدہ، نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے یوکرین تنازع میں بڑھتی ہوئی ہولناک کشیدگی اور جنگی محاذ کے خطرناک پھیلاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارت کاری، مکالمہ اور باہمی مذاکرات ہی واحد اور مؤثر ترین راستہ ہیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے یوکرین سے متعلق منعقدہ ہنگامی اجلاس میں پاکستان کی جانب سے مخلصانہ خطاب کرتے ہوئے عثمان جدون نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ عسکری ذرائع اور جنگی ہتھیار کبھی بھی دنیا میں دیرپا امن کی ضمانت نہیں دے سکتے بلکہ اس مہم جوئی سے صرف اور صرف معصوم انسانی جانوں کے ضیاع اور متاثرہ شہری آبادی کے مصائب و مشکلات میں مزید خوفناک اضافہ ہوتا ہے، انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے فوری قیام کے لیے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری اور مکمل جنگ بندی پر اتفاق کریں تاکہ سفارت کاری کو مؤثر انداز میں آگے بڑھنے کا پورا موقع مل سکے، پاکستان کے نائب مستقل مندوب نے امید ظاہر کی کہ تمام متعلقہ فریق جلد از جلد امریکہ کی سہولت کاری میں جاری مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کریں گے اور انتہائی تعمیری انداز میں اس امن عمل کا حصہ بنیں گے کیونکہ پاکستان شروع سے ہی یوکرین تنازع کے پُرامن حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی غیر جانبدارانہ حمایت کرتا آیا ہے اور آئندہ بھی اسی اصولی مؤقف پر سختی سے قائم رہے گا، سفیر عثمان جدون نے کہا کہ امن کی جانب حقیقی پیش رفت کے لیے یہ بات سب سے زیادہ ضروری ہے کہ تمام فریق اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں اور مقاصد کی مکمل پاسداری کریں اور ایک ایسا عالمی سطح پر قابلِ قبول حل تلاش کریں جو تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات کو مدنظر رکھتا ہو، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ حملوں اور جوابی عسکری کارروائیوں کے تسلسل نے تنازع زدہ علاقوں میں مزید تباہی اور انسانی مشکلات کو جنم دیا ہے جبکہ بے گناہ شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچہ اس جنگ سے سب سے زیادہ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، اس موقع پر پاکستان نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی حالیہ رپورٹ پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا جس میں زاپوریژژیا جوہری بجلی گھر کے اطراف ہونے والے حالیہ حملوں اور اس کی سلامتی کو لاحق سنگین ایٹمی خطرات کی واضح نشاندہی کی گئی ہے، سفیر عثمان جدون نے امید ظاہر کی کہ تمام فریقین زاپوریژژیا نیوکلیئر پاور پلانٹ کے گرد موجود جنگ بندی اور حفاظتی انتظامات سے متعلق ہونے والی مفاہمت پر مکمل اور ذمہ دارانہ عمل درآمد جاری رکھیں گے، پاکستان نے تمام فریقین پر دوبارہ زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور خصوصاً بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی عالمی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں اور ایسے تمام اقدامات سے سختی سے گریز کریں جو شہری آبادی اور اہم ترین جوہری تنصیبات کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں کیونکہ عالمی برادری بارہا انسانی قوانین کے احترام کا مطالبہ کر چکی ہے اور موجودہ صورتحال میں ان اصولوں کی پابندی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے، پاکستان نے ایک بار پھر عالمی فورم پر واضح کیا کہ یوکرین تنازع کا پائیدار حل میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ صرف مذاکرات کی میز پر ہی ممکن ہے اور عالمی امن کے لیے سفارت کاری کو ہر ممکن موقع دیا جانا چاہیے۔

روس-یوکرین تنازع پر پاکستان کا مؤقف انتہائی ذمہ دارانہ اور قابلِ تحسین ہے، روسی سفیر البرٹ پی خوریف کی اسلام آباد میں اہم پریس بریفنگ، یوکرین پر نیوکلیئر پاور پلانٹ، زچگی ہسپتال اور مسافر بس پر ہولناک حملوں کے سنگین الزامات

منصور احمد june 10,2026

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

اس وقت روس اور یوکرین کے درمیان جاری خونی جنگ اپنے خطرناک ترین اور وحشیانہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں پاکستان میں تعینات روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے وفاق دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ہنگامی پریس بریفنگ کے دوران یوکرین کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مغربی دنیا اور یوکرینی حکومت پر سنگین الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے جبکہ دوسری جانب انہوں نے روس اور یوکرین کے اس شدید تنازع پر پاکستان کی ریاست کے اب تک کے اسٹریٹجک اور سفارتی کردار کی کھل کر تعریف کی ہے، روسی سفیر کا کہنا تھا کہ اس جنگ کے آغاز ہی سے پاکستان کا موقف ہمیشہ انتہائی متوازن، تعمیری، حقیقت پسندانہ اور ذمہ دارانہ رہا ہے جسے ماسکو کی اعلیٰ قیادت انتہائی قابلِ تحسین اور قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے کیونکہ پاکستان نے مغربی ممالک کے شدید دباؤ کے باوجود بین الاقوامی سطح پر جس بہترین غیر جانبدارانہ اور سنجیدہ حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا ہے وہ عالمی امن کے لیے ایک بہترین مثال ہے، روسی سفیر نے پریس بریفنگ کے دوران یوکرین کی عسکری کارروائیوں کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دنوں کے دوران یوکرینی افواج کی جانب سے سویلین آبادی پر وحشیانہ گولہ باری کی گئی جس کے تحت پُر امن شہری علاقوں کو بلا اشتعال نشانہ بنایا گیا اور دنیا کے حساس ترین نیوکلیئر پاور پلانٹ کے بالکل قریب قائم رہائشی علاقوں، بچوں کے اسکولوں اور ایک زچگی ہسپتال پر دانستہ طور پر راکٹ برسائے گئے جبکہ نیوکلیئر پاور یونٹ پر ایک خطرناک خودکش ڈرون حملہ بھی کیا گیا جس کے نتیجے میں پلانٹ کے انتہائی اہم مشین ہال کی بیرونی کنکریٹ کی دیوار میں تقریباً تیس سینٹی میٹر کا گہرا سوراخ ہو گیا تاہم خوش قسمتی سے کوئی بڑا جانی یا تابکاری کا نقصان نہیں ہوا لیکن روس نے ان واقعات کو اقوامِ متحدہ کے سامنے انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کی یہ بزدلانہ عسکری مہم جوئی کسی بھی وقت دنیا میں ایک بہت بڑے اور ناقابلِ تلافی ایٹمی حادثے کا سبب بن سکتی ہے، روسی سفیر نے بریفنگ میں دیگر دلدوز واقعات کا ذکر کرتے ہوئے یوکرینی حکومت پر سویلین ہلاکتوں کے مزید الزامات عائد کیے اور بتایا کہ ایک علاقے میں یوکرینی ڈرون حملے کی زد میں آ کر ایک معصوم پانچ سالہ بچہ بے دردی سے ہلاک ہو گیا جبکہ ایک دوسرے مقام پر مسافروں سے بھری ایک پبلک بس کو راکٹ کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بس میں سوار سات عام شہری موقع پر ہی جاں بحق اور گیارہ افراد شدید زخمی ہو گئے جبکہ اس سے قبل ایک تعلیمی ادارے پر ہونے والے ڈرون حملے میں گریجویشن کے آخری مرحلے کے اکیس معصوم طلبا بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں اٹھارہ نوجوان لڑکیاں شامل تھیں، روس نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ اب یہ جنگ ایک بالکل نئے اور تباہ کن فوجی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور روسی افواج کی کارروائیاں اب مزید وسیع اور بے رحم ہوں گی جس کے تحت یوکرین کے تمام فوجی صنعتی کمپلیکس اور اسلحہ خانوں پر حملے شروع کر دیے گئے ہیں اور اب روس یوکرین کے دارالحکومت کے اندر قائم مرکزی کمانڈ کنٹرول اور اعلیٰ فیصلہ سازی کے صدارتی و عسکری مراکز کو براہِ راست نشانہ بنا کر تباہ کر دے گا اور ان فضائی حملوں میں روس نے اپنے جدید ترین اور ہائپر سونک میزائل سسٹمز کا بے دریغ استعمال شروع کر دیا ہے جنہیں روکنے میں یوکرینی فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے، روسی سفیر نے امریکہ اور نیٹو سمیت تمام مغربی ممالک پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ عالمی برادری یوکرین کی اس بربریت اور معصوم بچوں کے قتلِ عام کو دیدہ و دانستہ نظر انداز کر رہی ہے اور الٹا یوکرین کو مزید خطرناک فوجی امداد فراہم کر کے جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک امن مذاکرات کی تمام کوششوں کو خود اپنے ہاتھوں سے مٹی میں ملا رہے ہیں جبکہ یوکرینی اور مغربی میڈیا ہاؤسز اس اندوہناک واقعے پر غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور انہوں نے حقیقت دیکھنے کے لیے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے سے بھی صاف انکار کر دیا ہے، روسی سفیر کا کہنا تھا کہ ماسکو نے پاکستان سمیت دنیا کے تمام دوست ممالک کو سفارتی روابط کے ذریعے ان تمام تر زمینی حقائق اور یوکرینی جارحیت سے تفصیلی طور پر آگاہ کر دیا ہے تاکہ عالمی سطح پر سچائی سامنے آ سکے۔

روس کا یوکرین پر ہولناک الزامات کے ساتھ بڑے عسکری حملوں کا اعلان، سٹاروبیلسک یونیورسٹی پر ڈرون حملے میں ۲۱ طلبا جاں بحق، کییف میں فیصلہ سازی کے مراکز کو اڑانے کی دھمکی، زرکون اور کنژال میزائلوں کا استعمال

منصور احمد june 10,2026

ماسکو(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

روس اور یوکرین کے درمیان جاری خونی جنگ اب اپنے خطرناک ترین اور وحشیانہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں پاکستان میں تعینات روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے یوکرین کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال پر ایک ہنگامی پریس بریفنگ دیتے ہوئے سٹاروبیلسک کے علاقے میں ہونے والے حالیہ ہولناک ڈرون حملے اور اس کے بعد کی روسی عسکری جوابی کارروائیوں پر شدید ترین ردِعمل کا اظہار کیا ہے اور مغربی دنیا سمیت یوکرینی حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، ماسکو اور بین الاقوامی میڈیا مانیٹرنگ ڈیسک سے حاصل ہونے والی سنسنی خیز تفصیلات کے مطابق روسی سفیر نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ماہ ۲۲ مئی کو سٹاروبیلسک کے پُر امن علاقے میں یوکرین کی مسلح افواج (AFU) نے ایک بزدلانہ ڈرون حملہ کر کے وہاں قائم ایک معصوم تعلیمی ادارے کو براہِ راست نشانہ بنایا، جسے انہوں نے صریحاً بین الاقوامی ”دہشت گردی“ قرار دیا ہے، روسی سفیر کی جانب سے پریس بریفنگ میں فراہم کردہ دلدوز تفصیلات کے مطابق:
یوکرینی حملے میں تدریسی یونیورسٹی کے ۲۱ زیرِ تعلیم طلبا موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
ملبے تلے دب جانے اور دھماکے کی زد میں آنے سے ۶۰ سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے۔
جاں بحق ہونے والے مظلوم طلبا میں ۱۸ نوجوان لڑکیاں اور ۳ لڑکے شامل تھے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ تمام جاں بحق و متاثرہ طلبا کی عمریں ۲۳ سال سے کم تھیں۔
یہ تمام نوجوان طلبا مذکورہ تدریسی یونیورسٹی کے گریجویشن کے آخری مرحلے سے منسلک تھے اور اپنا مستقبل بنانے کے سفر پر تھے۔
روسی سفیر البرٹ پی خوریف نے کریملن کا دوٹوک موقف دہراتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران شہری آبادی اور تعلیمی اداروں کو وحشیانہ انداز میں نشانہ بنانا تمام بین الاقوامی قوانین اور جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے، انہوں نے یوکرین کے اس اقدام کو روس کی جانب سے طے کردہ ”ریڈ لائن عبور کرنے“ کے مترادف قرار دیتے ہوئے انتہائی خوفناک ردِعمل کا واضح عندیہ دیا ہے، روسی سفیر نے واشنگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ اب یہ جنگ ایک بالکل نئے اور تباہ کن فوجی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور روسی افواج کی کارروائیاں اب مزید وسیع اور بے رحم ہو سکتی ہیں، اسی تناظر میں روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ جنگی بیانات کے مطابق:
۱۔ یوکرین کے تمام فوجی صنعتی کمپلیکس، اسلحہ خانوں اور توانائی کے مراکز پر مرحلہ وار تباہ کن حملے شروع کر دیے گئے ہیں۔
۲۔ روس اب یوکرین کے دارالحکومت کییف کے اندر قائم مرکزی کمانڈ کنٹرول اور اعلیٰ فیصلہ سازی کے صدارتی و عسکری مراکز کو براہِ راست نشانہ بنا کر تباہ کر سکتا ہے۔
۳۔ ان فضائی حملوں میں روس نے اپنے جدید ترین اور ناقابلِ شکست ہائپر سونک میزائل سسٹمز جیسے کہ اسکندر ، کنژال ، اور زرکون سمیت دیگر جدید ترین ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال شروع کر دیا ہے۔
روسی حکومت کے دعوے کے مطابق مغربی ممالک کی جانب سے فراہم کردہ یوکرینی فضائی دفاعی نظام روس کے ان مہلک ہائپر سونک میزائلوں کے متعدد حملوں کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے، روسی سفیر نے امریکہ اور نیٹو سمیت تمام مغربی ممالک پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ عالمی برادری یوکرین کی اس بربریت اور معصوم طلبا کے قتلِ عام کو دیدہ و دانستہ نظر انداز کر رہی ہے اور الٹا یوکرین کو مزید خطرناک فوجی امداد فراہم کر کے جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک امن مذاکرات کی تمام کوششوں کو خود اپنے ہاتھوں سے مٹی میں ملا رہے ہیں جبکہ یوکرینی اور بعض مغربی میڈیا ہاؤسز اس اندوہناک واقعے پر غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں، روسی حکام کے مطابق عالمی برادری کے سامنے سچ لانے کے لیے مختلف ممالک کے صحافیوں کو خود سٹاروبیلسک کی تباہ شدہ یونیورسٹی کا دورہ کروایا گیا ہے، جس میں تقریباً ۲۰ ممالک کے ۵۱ غیر ملکی صحافی شریک تھے، تاہم بعض بڑے مغربی میڈیا ہاؤسز نے تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سچائی کو دیکھنے اور دورے میں شرکت کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
ادارتی نوٹ: یہ ہنگامی رپورٹ خالصتاً روسی سفیر اور ماسکو کے باضابطہ بیانات، دعوؤں اور الزامات پر مبنی ہے، جبکہ آزاد بین الاقوامی ذرائع اور یوکرینی حکام کی جانب سے ان دعوؤں کی مکمل تصدیق یا موقف اس سے مختلف ہو سکتا ہے۔

”اگر امریکہ محفوظ رہنا چاہتا ہے تو ہمارے خطے سے نکل جائے“، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی واشنگٹن کو آخری وارننگ، امریکی افواج مسلسل خطرے کی زد میں ہیں، کسی بھی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے

محمود احمد june 10,2026

تہران(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حالیہ خونریز عسکری تصادم اور بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال کے تناظر میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کو ایک انتہائی سخت اور دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ اپنے آپ کو اور اپنے فوجیوں کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے تو اسے مشرقِ وسطیٰ کے پورے خطے سے اپنی عسکری موجودگی کو فوری طور پر ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہوگا، تہران اور بین الاقوامی میڈیا سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک اہم اور ہنگامی بیان میں وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واشنگٹن کو کڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ امریکہ نے میدانِ جنگ میں ماضی کی مسلسل ناکامیوں اور ذلت سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور اس نے ایک بار پھر ایران کے فولادی عزم اور بے پناہ قوتِ ارادی کو آزمانے کا ایک انتہائی غلط اور تاریخی فیصلہ کیا ہے، انہوں نے واشگاف الفاظ میں دنیا کو بتایا کہ ایرانی مسلح افواج اپنے ملک پر ہونے والے کسی بھی حملے، جارحیت یا کھلی دھمکی کو کسی صورت نظرانداز نہیں کریں گی اور وطنِ عزیز کے دفاع میں کسی بھی ممکنہ امریکی مہم جوئی کا پہلے سے کہیں زیادہ بھرپور اور عبرتناک جواب دیا جائے گا، ایرانی وزیر خارجہ نے پینٹاگون کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پورے خطے میں موجود تمام امریکی اور دیگر غیر ملکی عسکری افواج مسلسل اور براہِ راست ایران کے دفاعی میزائلوں کے خطرے کی زد میں ہیں اور اب کسی بھی فریق کی جانب سے کیے جانے والے غلط اندازے، کسی حادثاتی واقعے یا براہِ راست تصادم کی صورت میں خطے کی صورتحال مزید سنگین اور کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہے جس کی تمام تر تباہی کی ذمہ داری وائٹ ہاؤس پر عائد ہوگی، انہوں نے عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جنگی کشیدگی کو کم کرنے اور خطے میں مستقل امن و استحکام قائم کرنے کا واحد، حتمی اور مؤثر راستہ صرف اور صرف یہی ہے کہ غیر ملکی غاصب افواج یہاں سے اپنا بوریا بستر گول کر کے فوری انخلا کریں، عباس عراقچی نے اپنے بیان کے آخر میں ایرانی قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے پختہ عزم کا اظہار کیا کہ ایران اپنی قومی سلامتی، بقا اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکنہ حد تک جائے گا اور امریکہ یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے دیے جانے والے کسی بھی قسم کے فوجی دباؤ، پابندیوں یا گیدڑ بھبکیوں کے سامنے جھکنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، دفاعی مبصرین کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان خطے میں امریکی اڈوں پر ہونے والے حالیہ میزائل حملوں کے بعد پینٹاگون کے لیے ایک واضح اور خطرناک پیغام ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ چھڑ گئی، امریکہ کی جنوبی ایران پر شدید فضائی بمباری، پاسدارانِ انقلاب کا بحرین، کویت اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر ہولناک جوابی میزائل اور ڈرون حملہ، دنیا لرز اٹھی

محمود احمد june 10,2026

تہران(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی اب باقاعدہ ایک ہولناک عسکری تصادم اور کھلی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جہاں امریکی میڈیا کی سنسنی خیز رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے براہِ راست اور جارحانہ احکامات پر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران کے متعدد اسٹریٹجک اہداف پر شدید فضائی کارروائیاں کی ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران نے بھی انتہائی سخت ردِعمل دیتے ہوئے خطے میں موجود کئی امریکی فوجی تنصیبات پر بڑے جوابی حملوں کا دعویٰ کر دیا ہے، تہران اور واشنگٹن کے جنگی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق امریکی فضائیہ نے جنوبی ایران میں قائم متعدد اہم ترین فوجی و دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا، ایرانی حکام نے امریکی بمباری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان فضائی حملوں میں ایران کے انتہائی اہم ساحلی شہر بندر عباس، جسک اور دیگر جنوبی علاقوں کے قریب قائم فوجی تنصیبات شدید متاثر ہوئی ہیں، جبکہ حملوں کے نتیجے میں خطے کے بعض بنیادی انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، دوسری جانب اس امریکی حملے کے فوراً بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی طاقت کو نشانہ بناتے ہوئے یہ بڑا اور سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین، کویت اور اردن میں قائم امریکی عسکری اڈوں کو اپنے جدید ترین بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز کے ذریعے کامیابی سے نشانہ بنایا ہے، ایرانی حکام کے باضابطہ بیانات کے مطابق ان کے جوابی حملوں میں بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے سب سے بڑے مرکز ”ففتھ فلیٹ“، اردن کے اسٹریٹجک ”الازرق ایئر بیس“ اور کویت کے اندر قائم اہم ”علی السالم“ فوجی اڈے کو براہِ راست ہدف بنا کر تباہی مچائی گئی ہے، اگرچہ امریکی دفاعی حکام نے اب تک ایران کی جانب سے کیے جانے والے بعض دعوؤں اور اپنے اڈوں پر ہونے والے نقصان کی مکمل تصدیق نہیں کی ہے، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک ہنگامی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے صرف اتنا اعلان کیا ہے کہ ایران کے اندر ان کا فضائی آپریشن اب مکمل ہو چکا ہے اور فی الحال واشنگٹن کی جانب سے مزید کسی نئی کارروائی کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا، تاہم اس کے برعکس ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز نے امریکہ کو آخری وارننگ جاری کرتے ہوئے سخت خبردار کیا ہے کہ اگر مستقبل میں امریکی فوج کی جانب سے دوبارہ کسی بھی قسم کی مہم جوئی یا مزید حملے کیے گئے، تو ایران کا اگلا اور حتمی جواب پہلے سے کہیں زیادہ ہولناک، سخت اور پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لینے والا ہوگا، دفاعی ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین اس براہِ راست اور خونی تصادم نے دنیا بھر کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔

طالبان وفد کے ممکنہ دورہ برسلز کے خلاف یورپ میں شدید غم و غصہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور افغان شہریوں کا یورپی پارلیمنٹ کے دفتر کے باہر بڑا احتجاجی مظاہرہ، طالبان کو مدعو کرنا افغان خواتین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف قرار

منصور احمد june 09,2026

برسلز(نیوز اینڈ نیوز) — 09 جون 2026ء

افغان طالبان کے ممکنہ دورۂ برسلز اور یورپی اداروں کے ساتھ متوقع مذاکرات کے خلاف اسپین میں یورپی پارلیمنٹ کے مرکزی دفتر کے باہر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، تارکینِ وطن افغان شہریوں اور مختلف سماجی کارکنوں نے ایک بہت بڑا اور شدید احتجاجی مظاہرہ کیا ہے، برسلز اور بین الاقوامی میڈیا سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق مظاہرین نے غصے سے بھرپور نعرے بازی کرتے ہوئے طالبان وفد کو یورپی اداروں میں باضابطہ مدعو کرنے کی کسی بھی کوشش یا اقدام کو دہشت گردی و جبر کے متاثرین کی کھلی توہین اور مظلوم افغان خواتین کے سلگتے ہوئے مسائل کو یکسر نظرانداز کرنے کے مترادف قرار دیا ہے، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مظاہرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے طویل اور تاریک دورانِ حکومت میں طالبان انتظامیہ نے افغانستان کے اندر معصوم خواتین اور بچیوں کی بنیادی آزادیوں پر بدترین اور سخت ترین پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جس کے باعث پورا ملک اس وقت افغان خواتین کے لیے ایک بہت بڑے قید خانے کی شکل اختیار کر چکا ہے، انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ طالبان کی فاشسٹ پالیسیاں خواتین کی تعلیم، روزگار، عزتِ نفس اور ان کے روشن مستقبل کے لیے ایک مسلسل اور سنگین خطرہ بنی ہوئی ہیں، افغان جریدے ”افغانستان انٹرنیشنل“ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق اس احتجاج میں شریک پناہ گزینوں اور عالمی نمائندوں نے یورپی یونین سے پرزور مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق پامال کرنے والے طالبان کو یورپی پارلیمنٹ جیسے معزز ترین پلیٹ فارم پر جگہ دینے کے بجائے بین الاقوامی عدالتوں کے کٹہرے میں کھڑا کر کے ان کا کڑا احتساب کیا جانا چاہیے اور انہیں عالمی سطح پر جوابدہ بنایا جانا چاہیے، مظاہرین کا مؤقف تھا کہ انسانی حقوق کی ایسی سنگین و کھلی خلاف ورزیوں کے ناقابلِ تردید الزامات کی موجودگی میں طالبان کو کسی بھی قسم کا سفارتی پلیٹ فارم یا سیاسی کوریج فراہم کرنا عالمی قوانین کا جنازہ نکالنے کے برابر ہے، واضح رہے کہ اندرونی رپورٹس کے مطابق یورپی پارلیمنٹ کے متعدد اراکین اور اسی (۸۰) سے زائد بین الاقوامی انسانی حقوق کی نامور تنظیمیں بھی طالبان وفد کے اس ممکنہ دورۂ برسلز پر پہلے ہی شدید تشویش اور مخالفت کا اظہار کر چکی ہیں، بین الاقوامی سیاسی ماہرین اور دفاعی مبصرین کا اس صورتحال پر کہنا ہے کہ اس وقت خود افغانستان کے اندرونی حالات بھی سیاسی اور سماجی طور پر تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور کابل حکومت کی سخت پالیسیوں کے خلاف عوامی مزاحمت اور اندرونی لاوے کے پھٹنے کی مسلسل اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، مبصرین کے مطابق اب ملک کے اندر اور بیرونِ ملک ہونے والے یہ بڑے پیمانے کے مظاہرے طالبان کے اس عوامی حمایت اور پورے ملک پر مکمل امن و امان کے کنٹرول کے دعوؤں پر سنگین ترین سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔