پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کا نیا دور، وزیراعظم شہباز شریف سے اعلیٰ سطح کے سعودی کاروباری وفد کی اہم ملاقات

کاشف عباسی , August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کے اہم اور ترجیحی شعبوں میں سعودی عرب کی جانب سے بڑی سرمایہ کاری کی گہری دلچسپی کا پرجوش اور گرمجوش خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان حکومت سے حکومت اور کاروبار سے کاروبار کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے اور وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے یہ بہترین، موزوں اور تاریخ کا سب سے مناسب وقت ہے۔ اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس میں سعودی پاک مشترکہ بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کی قیادت میں آنے والے اعلیٰ سطح کے سعودی کاروباری اور تجارتی وفد سے تفصیلی اور اہم ملاقات کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے اپنے دلی احترام، عقیدت اور نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دہائیوں پر محیط دیرینہ، دینی اور تاریخی برادرانہ تعلقات قائم ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ ان تعلقات کو باہمی مفادات پر مبنی ایک پائیدار اور مضبوط سٹریٹجک اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے تاکہ دونوں ممالک کی معیشت کو استحکام اور پائیدار ترقی حاصل ہو سکے۔

ملاقات کے دوران سعودی وفد کے سربراہ شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے پاکستان کے مختلف اہم اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں جن میں زراعت، بندرگاہوں کی جدید کاری، شاہراہوں کی تعمیر و توسیع، بین الاقوامی ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ، رئیل اسٹیٹ، جدید توانائی کے منصوبوں، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی بہتری اور انفارمیشن ٹیکنالوجی شامل ہیں، میں بڑی سرمایہ کاری اور تجارتی شراکت داری قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کے وژن 2030 کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے اور شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کے سابقہ دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کا موجودہ دورہ گزشتہ بات چیت اور دوطرفہ مذاکرات کو آگے بڑھانے میں انتہائی مددگار ثابت ہو گا اور مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر مالیت کے تجارتی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر پیش رفت کی راہ ہموار کرے گا۔ انہوں نے سعودی وفد کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے ہر ممکن سہولیات، شفاف ماحول اور حکومتی سطح پر کامل تعاون فراہم کرنے کا یقین دلایا۔

اس موقع پر شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے پاکستانی قیادت اور حکومت کے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی حکومت اور وہاں کی تجارتی برادری پاکستان کے نجی اور سرکاری شعبے کے ساتھ تجارتی و کاروباری روابط کو مزید گہرا اور مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ وفد اپنے دورۂ پاکستان کے دوران مختلف وزراء، اعلیٰ حکومتی نمائندوں اور نجی شعبے کے اہم سٹیک ہولڈرز سے بھی تفصیلی ملاقاتیں کرے گا تاکہ آئندہ کے منصوبوں کو حتمی شکل دی جا سکے۔ اس اعلیٰ سطح اور اہم ملاقات میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، جام کمال خان، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، جنید انوار چوہدری، علی پرویز ملک، سردار اویس احمد خان لغاری، محمد حنیف عباسی، وزیراعظم کے مشیران محمد علی، ہارون اختر خان، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی التواء اور پانی کا بطور ہتھیار استعمال پاکستان کے لیے نیا سیکیورٹی چیلنج: وفاقی وزیر احسن اقبال

محمود احمد, August 25,2026

نیویارک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر تاریخی سندھ طاس معاہدے کو التواء میں رکھ کر جدید تاریخ میں پہلی بار پانی کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے، جو پاکستان کی سلامتی اور معیشت کے لیے ایک سنگین اور نیا چیلنج بن چکا ہے۔ نیویارک میں ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیائی اقدامات فروا امین سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ 70 سال پرانا یہ اہم معاہدہ دونوں ممالک کے مابین سخت ترین جنگوں اور کشیدگی کے باوجود ہمیشہ ناقابلِ دست اندازی سمجھا جاتا رہا، تاہم موجودہ بھارتی حکومت کا یکطرفہ اقدام خطے کے امن اور واٹر سیکیورٹی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اقدام سے بھارت کے پاس یہ صلاحیت آ جاتی ہے کہ وہ فصلوں کی اشد ضرورت کے وقت پاکستان کا پانی روک لے یا پھر غیر متوقع طور پر سیلابی پانی چھوڑ کر تباہی مچائے، جس سے مشترکہ آبی وسائل کو دباؤ کا ہتھکنڈہ بنایا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اس سنگین چیلنج سے نمٹنے کے لیے دوہری حکمتِ عملی پر پوری قوت سے کام کر رہا ہے۔ پہلی سطح پر ملک کے اندر پانی ذخیرہ کرنے کے لیے سٹریٹجک بفر کا قیام تیز کر دیا گیا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ چار سے پانچ دہائیوں میں کوئی بڑا ڈیم تعمیر نہیں کیا، لیکن اب دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز پر کام کی رفتار کو تیز کر کے تقریباً 60 لاکھ ایکڑ فٹ اضافی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش پیدا کی جا رہی ہے تا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور بالائی علاقوں سے پانی کے ممکنہ اخراج کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ دوسری سطح پر، پاکستان اس تنازع کو کسی عسکری تصادم یا جنگ کی طرف جانے سے روکنے کے لیے تمام بین الاقوامی اور سفارتی ذرائع کا مؤثر استعمال کر رہا ہے، کیونکہ جنوبی ایشیا کو اس وقت جنگوں کے بجائے غربت، بیماریوں کے خاتمے، اور اپنی نوجوان آبادی کو معیاری تعلیم و روزگار دینے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

گفتگو کے دوران انہوں نے حکومتِ پاکستان کے ‘اڑان پاکستان’ فریم ورک اور 5E حکمتِ عملی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جیو اکنامکس کو ملکی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے پاس 7 ٹریلین ڈالر سے زائد مالیت کے معدنی ذخائر موجود ہیں، اور معاشی استحکام کی بحالی کے بعد امریکی کمپنیوں، ایکسپورٹ امپورٹ بنک، اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا جا رہا ہے۔ احسن اقبال نے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی اور صنعتی تعاون کسی صورت بھی چین کے ساتھ پاکستان کے آئرن کلیڈ تعلقات کی قیمت پر نہیں ہوگا۔ چین نے توانائی بحران کے وقت سی پیک کے ذریعے 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی، اور اب سی پیک 2.0 کے تحت بی ٹو بی ماڈل میں گرین انرجی، زراعت، ٹیکنالوجی اور کان کنی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ وفاقی وزیر نے پاکستان کی نئی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا سینٹرز اور یونیورسٹیوں میں تحقیقی اصلاحات کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان میں اضافی توانائی اور باصلاحیت نوجوان آبادی کی صورت میں ڈیٹا سینٹرز کے لیے پرکشش ماحول موجود ہے، لیکن پانی کے وسائل کا تحفظ ہی ملکی بقا اور غذائی تحفظ کی اصل ضامن ہے۔ پاکستان دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ مساوی اور متوازن تعلقات قائم رکھتے ہوئے اپنی معاشی و آبی خودمختاری کا ہر قیمت پر دفاع جاری رکھے گا۔

پاکستان اور ایتھوپیا کا موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مشترکہ اقدامات اور تجربات کے تبادلے پر زور

منصور احمد, August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے عالمی اثرات کے پیشِ نظر پائیدار ترقی پالیسی ادارے کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح کے سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان اور ایتھوپیا کے مابین موسمیاتی لچک، شجرکاری، پانی کے تحفظ، اور سبز معیشت میں باہمی تعاون کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں ایتھوپیا کے سفیر عمر حسین اوبا نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی انسانی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے اور اب دنیا کو محض خطرات کی نشاندہی کرنے کے بجائے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ انہوں نے ایتھوپیا کے ‘گرین لیگیسی انیشی ایٹو’ کو پاکستان کے لیے ایک بہترین مثال قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے ملک نے شجرکاری اور زمین کی بحالی کو عوامی روزگار سے جوڑا جس سے لاکھوں افراد مستفید ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایتھوپیا حکومت، تحقیق، جامعات اور عوام کے اشتراک سے حاصل ہونے والے اس کامیاب تجربے کو پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ایتھوپیا جیسے ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی خطرات کا محض شکار بننے کے بجائے عالمی سطح پر عملی حل پیش کرنے والے ممالک کے طور پر ابھرنا ہو گا تا کہ قدرتی ماحولیاتی حل اور گرین فنانسنگ کے ذریعے پائیدار ترقی حاصل کی جا سکے۔

موڈیز ریٹنگ میں بہتری پر جرمن سفیر کی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کو مبارکباد: دوطرفہ اقتصادی تعاؤن بڑھانے پر اتفاق

کاشف عباسی , August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان میں جرمنی کی سفیر انا لیپل نے اہم ملاقات کی، جس میں انہوں نے بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ‘موڈیز’ کی جانب سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری پر وزیرِ خزانہ کو مبارکباد پیش کی۔ جرمن سفیر نے علاقائی و تزویراتی چیلنجز کے باوجود پاکستان کے معاشی استحکام اور اصلاحاتی اقدامات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی کاوشوں کو سراہا۔

ملاقات کے دوران وزیرِ خزانہ نے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، مالیاتی نظم و ضبط اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ڈیجیٹلائزیشن پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیکس اصلاحات اور پالیسیوں کے تسلسل سے شفافیت بڑھے گی اور جرمن کثیر القومی کمپنیوں سمیت تمام غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول میسر آئے گا۔

جرمن سفیر نے دوطرفہ تجارتی روابط مزید مضبوط بنانے میں جرمنی کی مکمل دلچسپی کا اعادہ کیا اور وزیرِ خزانہ کو رواں سال جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں منعقد ہونے والی ’19ویں ایشیا پیسیفک کانفرنس آف جرمن بزنس’ میں شرکت کی باضابطہ دعوت بھی دی۔

یوکرین میں فوری جنگ بندی اور سفارت کاری کی بحالی پر زور: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کا اہم مطالبہ

محمود احمد, August 25,2026

اقوام متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

حکومتِ پاکستان نے ملک کے دو بڑے اقتصادی و انتظامی مراکز اسلام آباد اور لاہور کے درمیان ایک جدید ترین ہائی سپیڈ ریل کوریڈور قائم کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد دونوں شہروں کے درمیان سفری وقت کو نصف سے بھی کم کرنا اور تجارتی روابط کو فروغ دینا ہے۔ اس اہم اور تاریخ ساز منصوبے کی منظوری وفاقی کابینہ اور قومی اقتصادی کونسل کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں دی گئی، جس کی صدارت وزیراعظم نے کی۔ ابتدائی تفصیلات کے مطابق اس جدید ریلوے ٹریک کی کل لمبائی تقریباً تین سو پچاس کلومیٹر ہو گی اور اس پر دو سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے والی بلٹ ٹرین ٹائپ ہائی سپیڈ ٹرینیں چلائی جائیں گی، جس کی بدولت اسلام آباد سے لاہور کا فاصلہ محض پونے دو سے دو گھنٹے میں طے کرنا ممکن ہو سکے گا۔ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف عام مسافروں، تاجروں اور سرکاری حکام کو سفری سہولت میسر آئے گی بلکہ موٹروے اور جی ٹی روڈ پر گاڑیوں کے دباؤ اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی۔ وزاتِ ریلوے اور مواصلات کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اس منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ اربوں ڈالر لگایا گیا ہے جسے بین الاقوامی اور علاقائی مالیاتی اداروں کی شراکت داری نیز پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت مکمل کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت اسلام آباد اور لاہور کے علاوہ راولپنڈی، جہلم، گجرات اور گوجرانوالہ کے قریب بھی جدید انٹرچینج اسٹیشن بنائے جائیں گے تاکہ ملحقہ علاقوں کی آبادی بھی اس تیز رفتار ٹرانسپورٹ سسٹم سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔ کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیرِ مواصلات نے بتایا کہ یہ منصوبہ آنے والی نسلوں کے لیے بنیادی ڈھانچے کا ایک عظیم تحفہ ہو گا جو ملک میں اقتصادی سرگرمیوں میں تزی لانے کے ساتھ ساتھ روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے لیے جدید اور صاف ستھری گرین انرجی یعنی سولر اور الیکٹرک پاور سسٹم کا استعمال کیا جائے گا تا کہ ایندھن کے درآمدمی بل پر بھی قابو پایا جا سکے اور ماحولیات کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ منصوبے کا پہلا فیز تین سال کے عرصے میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اس کے لیے زمین کے حصول اور سروے کا کام رواں سال کے آخر تک شروع کر دیا جائے گا۔ معاشی ماہرین اور تجارتی برادری نے اس منصوبے کو ملک کے ٹرانسپورٹیشن سیکٹر میں ایک شاندار انقلاب قرار دیتے ہوئے اس کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے ملک کی اندرونی تجارت، سیاحت اور صنعتی نقل و حمل کو بے پناہ استحکام حاصل ہو گا۔

آبنائے ملاکا اور سنگاپور کو آزاد اور محفوظ بحری گزرگاہ برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ: انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور کا سنگاپور فورم میں اہم اقدام

محمود احمد, August 25,2026

سنگاپور/جکارتہ (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور نے منگل کے روز آبنائے ملاکا اور سنگاپور کو بین الاقوامی بحری تجارت اور جہاز رانی کے لیے آزاد، کھلی اور محفوظ گزرگاہوں کے طور پر برقرار رکھنے کے اپنے عزم کا دوبارہ اعادہ کیا ہے۔

چینی خبر رساں ادارے ‘شنہوا’ کی رپورٹ کے مطابق سنگاپور میں منعقدہ 17ویں تعاون فورم کے موقع پر تینوں ساحلی ممالک نے ان اہم بحری گزرگاہوں کی بین الاقوامی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس کے اختتام پر جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ 1982ء کے اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام بحری جہازوں کو ان حدود سے بلا تعطل گزرنے کا بنیادی حق (حقِ عبوری گزر) حاصل ہے، اور یہ تینوں ممالک ہر سطح پر جہاز رانی کی آزادیوں کا احترام کرتے ہیں۔

انڈونیشیا کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سی ٹرانسپورٹیشن، ملائیشیا کے میرین ڈیپارٹمنٹ اور سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ موقف میں واضح کیا گیا کہ ان بحری راستوں سے فائدہ اٹھانے والے ممالک، بین الاقوامی تنظیموں اور سمندری صنعت سے وابستہ تمام فریقین کو بھی آمدورفت کی سلامتی، حفاظت اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے میں اپنا متحرک اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔

دریائے کولوراڈو کے پانی میں کٹوتی کا تنازع: نیواڈا ریاست نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا

محمود احمد, August 25,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

امریکی ریاست نیواڈا نے دریائے کولوراڈو کے پانی کی تقسیم سے متعلق وفاقی حکومت کے کٹوتی کے منصوبے کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف باضابطہ قانونی مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ امریکی جنوب مغرب کی 7 ریاستوں اور 4 کروڑ سے زائد عوام کو سیراب کرنے والے اس اہم ترین دریا پر جاری شدید خشک سالی اور پانی کی تقسیم پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد یہ بڑا قانونی قدم اٹھایا گیا ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق وفاقی حکومت نے حال ہی میں زیریں طاس کی ریاستوں—نیواڈا، ایریزونا اور کیلیفورنیا—کے لیے پانی کی فراہمی میں 2036ء تک سالانہ 3.7 ارب مکعب میٹر تک کٹوتی کا فیصلہ سنایا ہے، جبکہ بالائی طاس کی ریاستوں کو اس کٹوتی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ نیواڈا حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے ان کے حصے کا 2 تہائی پانی کم ہو جائے گا، جس سے صحرائی شہر ‘لاس ویگاس’ کو شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے جو اپنی 90 فیصد پانی کی ضروریات کے لیے اسی دریا پر انحصار کرتا ہے۔ نیواڈا کے ریپبلکن گورنر جو لومبارڈو نے واضح کیا کہ یہ کوئی سیاسی ڈرامہ نہیں بلکہ نیواڈا کے شہریوں اور معیشت کی بقا کا جنگ ہے۔

دوسری جانب وفاقی حکام کا موقع ہے کہ تمام 7 ریاستوں کے درمیان پانی کے استعمال پر عدم اتفاق کے باعث یہ کارروائی ناگزیر تھی، تاکہ لیک پاول اور لیک میڈ جیسے تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ جانے والے ڈیموں میں پن بجلی کی پیداوار اور پانی کا بنیادی نظام مکمل طور پر مفلوج ہونے سے بچایا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق نیواڈا کے بعد ایریزونا ریاست کی جانب سے بھی ٹرمپ انتظامیہ کے اس منصوبے کے خلاف داد رسی کے لیے وفاقی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے جانے کا شدید امکان ہے۔

سوڈان کا بحران: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا پائیدار امن کے لیے سوڈانی قیادت میں سیاسی عمل پر زور

محمود احمد, August 25,2026

اقوام متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

پاکستان نے سوڈان میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی و انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مسلسل رابطہ کاری، بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری اور فوری انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ سوڈان میں پائیدار امن کی بحالی صرف اور صرف سوڈانی قیادت اور سوڈانی ملکیت میں چلنے والے سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے دارفور، کردفان اور بالخصوص العبید کی ابتر ہوتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے عسکری رویے اور بڑھتی کشیدگی کو دارفور، الجنینہ اور الفاشر میں ہونے والے مظالم کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ تنازع اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکا ہے اور اس کا سب سے بڑا خامیانہ عام شہری بھگت رہے ہیں۔ پاکستان نے واضح کیا کہ ایک متحد، مستحکم اور خودمختار سوڈان نہ صرف وہاں کے عوام بلکہ پورے افریقہ کے امن و خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔

پاکستان نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے فوری طور پر جدہ اعلامیے پر عملدرآمد یقینی بنائے اور بلا رکاوٹ امداد کی رسائی ممکن بنائے۔ سفیر عاصم افتخار نے کونسل پر واضح کیا کہ ایک خودمختار ریاست کی قومی مسلح افواج اور نسل کشی کے التزامات کا سامنا کرنے والی ملیشیا کے درمیان واضح فرق برقرار رکھا جائے اور سوڈان کی تقسیم یا متوازی حکومت قائم کرنے کی کسی بھی کوشش کی سختی سے مخالفت کی جائے۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کا منصوبہ: یورپی یونین کا اسرائیل سے ٹینڈرز کی فوری واپسی کا مطالبہ

محمود احمد, August 24,2026

برسلز (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

یورپی یونین نے اسرائیلی حکومت پر شدید زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کے حساس زون’ میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر سمیت دیگر تمام توسیعی منصوبوں کو فوری طور پر منسوخ کرے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اہم مطالبہ ‘یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس’ کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم رسمی بیان میں سامنے آیا ہے۔

یورپی یونین نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ سائیٹل منٹ پروجیکٹ کے تحت 1,200 سے زائد نئے رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے حال ہی میں جاری کردہ ٹینڈر نوٹس کو بغیر کسی تاخیر کے واپس لے۔ بیان میں بالکل واضح کیا گیا ہے کہ فلسطینی اراضی پر کسی بھی قسم کی جدید یا توسیعی تعمیرات بین الاقوامی قوانین، معاہدو ں اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس کے مطابق، زون میں غیر قانونی یہودی بستیوں کا یہ منصوبہ دو ریاستی حل کے امکانات کو بنیادی اور تاریخی طور پر شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ یورپی یونین نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نہ صرف تمام تر تعمیراتی ٹینڈرز واپس لے بلکہ فلسطینی شہریوں پر تشدد اور غیر قانونی اقدامات کرنے والے انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کو سخت قانونی جوابدہی کے کٹہرے میں لائے۔

امریکی پابندیوں کی دھمکی پر چین کا سخت ردِعمل: ’ایران سے تجارت پر یکطرفہ پابندیاں کشیدگی میں مزید اضافہ کریں گی‘

محمود احمد, August 24,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

چین نے امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارت و کاروبار کرنے والے ممالک پر ثانوی پابندیاںعائد کرنے کی نئی دھمکی پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ یکطرفہ پابندیاں اور زبردستی کا دباؤ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتے، بلکہ اس طرح کے اقدامات سے خطے میں کشیدگی اور تناؤ مزید بڑھے گا جو کسی بھی عالمی فریق کے مفاد میں نہیں ہے۔

چینی خبر رساں ادارے ’سی جی ٹی این‘ کے مطابق، بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے امریکی وزیرِ خزانہ کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ یکطرفہ پابندیوں کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین تمام متعلقہ فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو عالمی اقتصادی ترقی اور مالیاتی استحکام کو نقصان پہنچائے۔ انہوں نے تاکید کی کہ تمام فریقین کو فوری طور پر سفارتی مذاکرات اور سیاسی تصفیے کی راہ پر واپس آنا چاہیے۔

چینی ترجمان نے امریکہ کو تنبیہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ چین اس تمام صورتحال اور بین الاقوامی پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ چین اپنے قومی مفادات اور چینی کمپنیوں کے جائز اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اور ضروری اقدامات اٹھائے گا۔ سفارتی ماہرین کے مطابق چین کا یہ واضح پیغام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بیجنگ ایران کے ساتھ اپنی تجارتی اور معاشی شراکت داری پر امریکی دباؤ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

بحیرۂ احمر میں تناؤ: سعودی بندرگاہ ینبع کے قریب آئل ٹینکر پر میزائل حملہ، عرشے پر آگ بھڑک اٹھی

محمود احمد, August 24,2026

جدہ/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

سعودی عرب کے مغربی ساحل پر واقع سٹریٹجک اہمیت کی حامل بندرگاہ ینبع کے قریب ایک تیل بردار جہاز (آئل ٹینکر) نا معلوم سمت سے آنے والے میزائل کا نشانہ بن گیا۔ برطانوی بحری تجارتی کارروائیوں کے ادارے ‘یو کے ایم ٹی او’ کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی الرٹ کے مطابق، حملے کے نتیجے میں آئل ٹینکر کے عرشے (ڈیک) پر شدید آگ بھڑک اٹھی، جس پر قابو پانے کے لیے فوری کارروائی کی گئی۔

یو کے ایم ٹی او کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، یہ حملہ ینبع پورٹ کے مغرب میں سمندر میں پیش آیا۔ تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ بحری جہاز کے عملے کے تمام ارکان مکمل طور پر محفوظ ہیں اور کسی جانی نقصان یا سمندر میں تیل کے اخراج سے ہونے والے ماحولیاتی نقصان کی فوری اطلاعات نہیں ملی ہیں۔ ادارے نے فی الحال سیکیورٹی اور تحقیقاتی وجوہات کی بناء پر متاثرہ آئل ٹینکر کی ملکیت یا اس کے پرچم کی تفصیلات عام نہیں کی ہیں۔

ینبع کی بندرگاہ سعودی عرب کی اہم ترین آئل ایکسپورٹ ٹرمینلز اور صنعتی مراکز میں شمار ہوتی ہے، جو بحیرۂ احمر کے ذریعے خام تیل کی عالمی ترسیل میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید سخت اقتصادی پابندیوں کے اعلان اور ایران کی جانب سے جواباً خطے سے تیل کی ترسیل روکنے اور آبنائے ہرمز و بحیرۂ احمر کے بحری راستوں کو متاثر کرنے کی دھمکیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔

اگرچہ اس حملے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی نے قبول نہیں کی ہے، لیکن ماضی میں یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی بندرگاہوں اور بحیرۂ احمر سے گزرنے والے تجارتی و آئل ٹینکرز پر ڈرون اور میزائل حملے کیے جاتے رہے ہیں۔ حوثی گروپ کی جانب سے ماضی میں سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی معاشی ناکہ بندی کے جواب میں بحیرۂ احمر کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔

بین الاقوامی بحری سیکیورٹی اداروں نے اس واقعے کے بعد بحیرۂ احمر اور باب المندب کی شاہراہ سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز کو شدید محتاط رہنے اور الرٹ کی سطح بلند رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس تازہ ترین واقعے سے بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی فراہمی اور بحری تجارت کی حفاظت سے متعلق تحفظات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

چین اور کویت کے دوطرفہ تعلقات کو اعلیٰ سطح پر لے جانے کا عزم: بیجنگ میں نائب صدر ہان ژینگ اور کویتی وزیرِ خارجہ کی ملاقات

محمود احمد, August 24,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

چین کے نائب صدر ہان ژینگ سے کویت کے وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے بیجنگ میں ایک اہم ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں شراکت داری کو نئی بلندیوں پر لے جانے پر کامل اتفاق کیا گیا۔

چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، ملاقات کے دوران چینی نائب صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کی سٹریٹجک رہنمائی میں چین اور کویت کے تعلقات مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حالیہ برسوں میں مختلف تجارتی، معاشی اور سفارتی شعبوں میں تعاؤن میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ چین کویت کے ساتھ مل کر دوطرفہ تعلقات کو مزید اعلیٰ سطح پر لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔ نائب صدر ہان ژینگ نے مزید کہا کہ چین مشرقِ وسطیٰ میں دائمی امن و سکون کی بحالی کے لیے خطے کے تمام فریقین کے ساتھ مل کر امن مذاکرات اور سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

کویتی وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے عالمی اور علاقائی مسائل پر چین کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہا اور چین کی جانب سے کویت کی مسلسل حمایت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کویت ‘ایک چین’ کے اصول پر مضبوطی سے قائم ہے۔ کویتی وزیرِ خارجہ نے عزم ظاہر کیا کہ کویت چین کے ساتھ اپنے تعلقات میں نئے اور وسیع امکانات پیدا کرنے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے گا۔

سفارتی و سیکیورٹی حل کی تلاش: پاکستانی وفد کا اہم دورۂ تہران، امریکہ ایران کشیدگی اور علاقائی صورتحال کا جائزہ

محمود احمد, August 24,2026

تہران/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید سخت معاشی پابندیوں کے اعلان اور ایران کی طرف سے خلیج سے تیل کی ترسیل روکنے کی جوابی دھمکی کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے درمیان ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستانی وفد کے ہمراہ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کا پرشور استقبال ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے کیا۔ وفد میں پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی شامل ہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے ‘اسنا’ کے مطابق، پاکستانی وفد اپنے اس اعلیٰ سطحی دورے کے دوران ایران کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت سے انتہائی اہم ملاقاتیں کرے گا۔ ان ملاقاتوں میں دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ، سرحدی سلامتی کے استحکام، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اور خطے میں پیدا ہونے والی تاز ترین سیکیورٹی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

یہ اہم وزٹ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ کی جانب سے ایران کی معیشت پر مزید ناکہ بندی کی جا رہی ہے اور منگل کے روز عمان کے وزیرِ خارجہ بھی ایرانی حکام سے اہم مذاکرات کے لیے تہران پہنچ رہے ہیں۔ سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان اور عمان کے ان یکے بعد دیگرے دوروں کا مقصد خلیج کے خطے میں مزید کسی بڑے فوجی یا معاشی تصادم کو روکنا اور بحران کا سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔

سعودی عرب اور فرانس کے درمیان کھیل کے شعبے میں تعاون کی تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دستخط

محمود احمد, August 24,2026

پیرس (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

سعودی عرب اور فرانس نے کھیل اور ایتھلیٹکس کے شعبے میں باہمی تعلقات کو فروغ دینے، تجربات کا تبادلہ کرنے اور مشترکہ پروگراموں کو وسعت دینے کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط کر دیے ہیں۔ یہ دستخط فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں منعقدہ ’ای سپورٹس ورلڈ کپ 2026‘ کی پروقار اختتامی تقریب کے موقع پر کیے گئے۔

سعودی عرب کی جانب سے وزیرِ کھیل شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی الفیصل اور فرانس کی جانب سے فرانسیسی وزیرِ کھیل مارینا فیری نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔ اس مفاہمتی یادداشت کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان سپورٹس انڈسٹری میں تعاون کے ایک جامع اور عمومی فریم ورک کی تشکیل کرنا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کی میزبانی میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنسوں، سیمینارز اور کھیلوں کے بڑے عالمی ایونٹس میں مشترکہ شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔

اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے کھیل سے وابستہ اداروں اور تنظیموں کے درمیان ایکسپرٹیز کا تبادلہ کیا جائے گا۔ اس میں خصوصی طور پر ایلیٹ سپورٹس، ای سپورٹس ، گراس روٹس سپورٹس، سپورٹس سائنس، سپورٹس میڈیسن اور سپورٹس لا (کھیلوں کے قوانین) جیسے اہم شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے کوچز، ماہرین اور محققین کے درمیان جدید تکنیکوں اور صلاحیتوں کی بہتری کے لیے باقاعدہ تبادلے کی راہ ہموار ہوگی، جو سعودی عرب کے ‘ویژن 2030’ کے تحت کھیل کے شعبے کی ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔

امریکی ٹیرف کا منہ توڑ جواب: کینیڈا نے 8 ستمبر سے اربوں ڈالر کی امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کر دیا

محمود احمد, August 24,2026

اوٹاوا (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

امریکہ اور کینیڈا کے درمیان جاری تین روزہ اہم تجارتی مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر مکمل طور پر ناکام ہو گئے ہیں، جس کے فوراً بعد کینیڈا کی حکومت نے امریکی مصنوعات پر اربوں ڈالر کے جوابی ٹیرف عائد کرنے کا باضابطہ اور حتمی اعلان کر دیا ہے۔ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے پارلیمنٹ ہاؤس اوٹاوا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ کینیڈا 8 ستمبر سے امریکی سٹیل، الیکٹرانکس اور دیگر سامانِ تجارت پر ‘ڈالر کے بدلے ڈالر’ کی بنیاد پر یکساں جوابی ٹیرف لاگو کرے گا۔

کینیڈا کا یہ انتہائی سخت قدم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین برآمدات پر 50 فیصد اضافی محصول عائد کرنے کے یکطرفہ فیصلے کے ردِعمل میں اٹھایا گیا ہے۔ وزیراعظم مارک کارنی نے امریکہ کے اس فیصلے پر کڑا موقف اپناتے ہوئے کہا کہ “جب آپ پر حملہ کیا جاتا ہے تو آپ جنگ کی حالت میں ہوتے ہیں؛ ہم پر تجارتی حملہ ہوا ہے اور کینیڈا اپنے محنت کشوں، کسانوں، خاندانوں اور کاروباری طبقات کے تحفظ کے لیے امریکی ٹیرف کا برابر اور اینٹ کا جواب پتھر سے دے گا۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ کینیڈا واشنگٹن کی یکطرفہ شرائط کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ اس نئے امریکی اقدام سے کینیڈا کی وائن، ڈیری، فرنیچر، سیمنٹ اور ہاکی کے سامان سمیت تقریباً 20 ارب ڈالر کی برآمدات شدید متاثر ہوں گی، جبکہ تینوں ممالک کے آزادانہ تجارتی معاہدے کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

دوسری جانب امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ کینیڈا پر ڈالتے ہوئے کہا کہ اوٹاوا نے ایک بہترین اقتصادی موقع گنوا دیا ہے اور فی الحال امریکہ کینیڈا سے مزید بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ تاہم کینیڈا میں وزیراعظم مارک کارنی کے اس جرات مندانہ فیصلے کو وسیع عوامی اور سیاسی حمایت حاصل ہو رہی ہے اور اپوزیشن کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ پیئر پوئیلیور نے بھی حکومتی موقف کی مکمل تائید کرتے ہوئے ملک کے روزگار اور معیشت کی دفاع کے لیے متحد ہونے کا اعادہ کیا ہے۔

انڈیا میں جن زی کو لبھانے کی کوشش: نریندر مودی کا انسٹاگرام پر نیا بے تکلفانہ انداز

محمود احمد, August 23,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

انڈیا کی سیاست میں ڈیجیٹل مواصلات کا انداز تیزی سے بدل رہا ہے۔ 75 سالہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی، جو طویل عرصے سے سکرپٹڈ تقاریر اور رسمی نشریات کے ذریعے اپنی ایک سخت گیر اور بااثر سیاسی رہنما کی شبیہ قائم رکھے ہوئے تھے، اب ملک کی نئی نسل بالخصوص ’جن زی‘ سے پیار اور بے تکلفانہ انداز میں رابطہ استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حالیہ ہفتوں کے دوران مودی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ میں ایک واضح اور نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ وہ ٹائم لائن جو ماضی میں صرف سرکاری و محتاط انداز میں تیار کی گئی تصاویر تک محدود تھی، اب اس میں انسٹاگرام ٹرینڈز جیسے ’گیٹ ریڈی وِد می‘ طرز کی ویڈیوز، موبائل سے خود بنائی گئی سیلفی ویڈیوز اور نوجوانوں سے براہِ راست ‘دوست’ کہہ کر مخاطب ہونے کے کلپس شامل ہیں۔ حال ہی میں نئی دہلی میں طلبہ کی ایک گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے جن زی کے مقبول عام مکالموں کا سہارا لیا اور کہا کہ آج کا انڈین نوجوان اپنے خاندان کی پہلی نسل ہے جو راکٹ، ڈرون اور جدید کمپیوٹر چپس بنانے کے شعبے میں آگے بڑھ رہی ہے۔

واضح رہے کہ انسٹاگرام پر نریندر مودی کے 10 کروڑ 60 لاکھ (106 ملین) سے زیادہ فالوورز ہیں، جس کی بدولت وہ دنیا میں اس پلیٹ فارم پر سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے بین الاقوامی سیاسی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ اگرچہ بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سنہ 2014ء کے عام انتخابات کے بعد سے ڈیجیٹل سیاست اور سوشل میڈیا میڈیا مہمات میں مہارت حاصل رہی ہے، لیکن مودی کا یہ نیا ‘غیر رسمی انداز’ بی جے پی کی روایتی ڈیجیٹل پالیسی کا حصہ نہیں تھا، بلکہ رواں سال ملک بھر میں نوجوانوں اور طلبہ کی جانب سے مختلف مسائل پر کیے گئے احتجاجی مظاہروں کے بعد مودی کی سوشل میڈیا ٹیم نے اس نئی حکمتِ عملی کو تیزی سے اپنایا ہے۔

عراق کا بڑا فوجی قدم: سعودی سرحد کی نگرانی کے لیے نئی ’بدیہہ آپریشنز کمانڈ‘ قائم، پڑوسی ممالک کے خلاف حملے روکنے کا عزم

محمود احمد, August 23,2026

بغداد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

عراقی حکومت نے اپنی جنوبی و مغربی سرحدوں، بالخصوص برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ ملحقہ بارڈر پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کے لیے ایک نئی ملٹری کمانڈ تشکیل دے دی ہے۔ عراقی حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی اور اہم مقصد عراق کی سرحدی حدود کو محفوظ بنانا اور کسی بھی غیر قانونی عنصر کی جانب سے عراقی سرزمین کو پڑوسی ممالک پر حملوں یا تخریب کاری کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں کو مکمل طور پر ناکام بنانا ہے۔

عراقی وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل یحییٰ رسول نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ نئی قائم کردہ ‘بدیہہ آپریشنز کمانڈ’ اپنے مشن کے پہلے ہی دن سے عملی طور پر فعال ہو کر سعودی عرب کی سرحد کے قریب طے شدہ علاقوں میں منتقل ہونا شروع ہو گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ نئی ملٹری آپریشنز کمانڈ بنیادی طور پر 10 اگست کو صوبہ مثنیٰ کے وسیع صحرائی خطے میں سیکیورٹی کو مزید مضبوط اور سخت بنانے کے لیے قائم کی گئی تھی، جس کے مستقل کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

میجر جنرل یحییٰ رسول نے مزید تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ اس نوبنیاد کمانڈ کا مرکزی ہیڈکوارٹر صوبہ مثنیٰ کے تاریخی اور سٹریٹجک علاقے ‘نقرة السلمان’ میں قائم کیا جائے گا۔ نقرة السلمان کا یہ خطہ سماوہ کے وسیع صحرا کے بالکل وسط میں اور ضلع سلمان کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے، جو سعودی عرب کی سرحد سے محض 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس پیش رفت کے بعد دونوں برادر ممالک کے سرحدی دفاع میں مزید بہتری اور علاقائی استحکام کی امید کی جا رہی ہے۔

سابق امریکی وزیرِ دفاع لیون پینیٹا کی ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پالیسی پر شدید تنقید: معاشی ناکہ بندی کو امریکہ کی کمزوری قرار دے دیا

محمود احمد, August 23,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

امریکہ کے سابق وزیرِ دفاع اور امریکی استخباراتی ادارے (سی آئی اے) کے سابق سربراہ لیون پینیٹا نے ایران کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے شروع کی گئی ’معاشی جنگ‘ کو امریکہ کی بڑی ناکامی قرار دیا ہے۔ ایک نشریاتی ادارے (سی این این) کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف معاشی ناکہ بندی اور سخت اقتصادی دباؤ سے امریکہ کو مطلوبہ کامیابی نہیں ملے گی، بلکہ اس کے برعکس ایران خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کو بند کر کے خود امریکہ پر زبردست اقتصادی اور تجارتی دباؤ بڑھا رہا ہے۔

لیون پینیٹا نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ تہران کو شدید اقتصادی مشکلات، غذائی اجناس اور طبی سامان کی فراہمی میں رکاوٹیں ڈال کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ایک سنگین غلطی ہے، جو کہ عالمی قوانین کی نظر میں ’جنگی جرم‘ کی زمرے میں آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس وقت دنیا بھر میں مخالف طاقتوں کے ایک منظم محور — جس میں چین، روس، شمالی کوریا اور ایران شامل ہیں — سے نمٹ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ چاروں ممالک ایک دوسرے کی بھرپور مدد کر رہے ہیں؛ جیسے شمالی کوریا روس کو 10,000 جنگجو اور جدید ڈرونز فراہم کر چکا ہے، لیکن امریکی صدر اس کے برعکس اپنے اتحادوں کو تنقید کا نشانہ بنا کر دشمنوں کو خوش کرنے کی ’الٹی حکمتِ عملی‘ پر گامزن ہیں۔

سابق امریکی وزیرِ دفاع نے زور دیا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے، چاہے امریکی صدر ڈیموکریٹ رہا ہو یا ریپبلکن، بنیادی عالمی اصول یہی رہے ہیں کہ امریکہ کو دنیا میں مضبوط قیادت فراہم کرنی ہے، اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات استوار رکھنے ہیں اور آمروں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے۔ تاہم، ٹرمپ عالمی قیادت سے پیچھے ہٹ چکے ہیں اور انہوں نے ولادی میر پیوٹن، شی جن پنگ اور کم جونگ ان جیسے آمروں کے سامنے لچک دکھائی ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ ایران کی معاشی ناکہ بندی کے نتیجے میں وہاں کی سخت گیر حکومت اپنی طاقت اور مقبولیت میں مزید اضافہ کر لے گی، جبکہ عالمی سطح پر امریکہ ایک اور جنگ ہارتا ہوا اور تنہا دکھائی دے گا، جو کہ اس کی بین الاقوامی ساکھ کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہوگا۔

ایران کا ’اقتصادی جنگ‘ میں شامل ممالک کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ: آبنائے ہرمز کی بندش اور ایٹمی پالیسی میں تبدیلی کی دھمکی

محمود احمد, August 23,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد کردہ معاشی دباؤ کے تناظر میں ایک انتہائی سخت اور دھمکی آمیز بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی ’اقتصادی جنگ‘ میں اس کا ساتھ دینے والے تمام ممالک کو اپنا براہِ راست ’دشمن‘ تصور کرے گا اور ان کے خلاف جوابدہ اقدامات کیے جائیں گے۔ محسن رضائی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری چھ ماہ طویل تنازع اور معاشی تعطل کو ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم ایرانی قیادت کی جانب سے سخت ردِعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

محسن رضائی نے اپنے انٹرویو کے دوران عالمی بحری تجارت بالخصوص خلیج فارس کی سب سے اہم شاہراہ ‘آبنائے ہرمز’ کے حوالے سے شدید دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھی ملک نے ایران کے خلاف امریکی معاشی ناکہ بندی یا پابندیوں میں حصہ لیا، تو ایران آبنائے ہرمز اور خلیج فارس سے ’تیل کا ایک قطرہ‘ بھی باہر نہیں جانے دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوجی طاقت کا استعمال کرنے میں ناکامی کے بعد امریکہ اب اقتصادی ناکہ بندی کے ذریعے تہران پر دباؤ بڑھا رہا ہے، جس کے جواب میں ایران نہ صرف اپنی جنگی حکمتِ عملی اور انداز میں بنیادی تبدیلیاں لا رہا ہے بلکہ اپنی روایتی سفارتی پالیسی کو بھی نیا موڑ دے رہا ہے۔

ایٹمی پروگرام اور عالمی معاہدوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے محسن رضائی نے عالمی اداروں کے رویے پر شدید تحفظات ظاہر کیے اور کہا کہ امریکہ کے بلااشتعال اقدامات اور حملوں کی وجہ سے دنیا بھر کے ممالک میں ایٹم بم حاصل کرنے کی خواہش میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بین الاقوامی قوانین اور این پی ٹی جیسے معاہدا ت کسی ملک کو غیر ملکی حملوں سے نہیں بچا سکتے، تو ایران ایٹم بم کیوں حاصل نہ کرے؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر عمل پیرا رہتے ہوئے آئی اے ای اے کے ساتھ مکمل تعاون کیا، لیکن اس کے باوجود اسے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد اب دنیا بھر میں یہ تاثر عام ہو چکا ہے کہ ایٹمی ہتھیار ہی کسی ملک کی سلامتی اور دفاعی ڈیٹرنس کی واحد ضمانت ہیں۔

بنگلہ دیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی و معاشی فریم ورک میں شمولیت کا اشارہ: انڈین میڈیا میں شدید تشویش، نئی علاقائی صف بندی پر بحث چھڑ گئی

کاشف عباسی , August 23,2026

ڈھاکہ (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

بنگلہ دیش کے مشیر برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر کے ایک تازہ ترین اور اہم ترین سفارتی بیان نے جنوب ایشیائی خطے بالخصوص انڈین صحافتی و سیاسی حلقوں میں ایک بڑا زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے بنگلہ دیش سنگباد سنستھا (بی ایس ایس) سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم طارق رحمان کے قریبی ساتھی ہمایوں کبیر نے واضح کیا کہ بنگلہ دیش پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان پنپنے والے کسی بھی مجوزہ معاشی یا دفاعی فریم ورک میں شامل ہونے کے امکان کے حوالے سے انتہائی مثبت اور کھلی سوچ رکھتا ہے۔ اس بیان کے سامنے آتے ہی بھارتی ذرائع ابلاغ پر شدید تشویش اور گہرا تجسس دیکھا جا رہا ہے۔

انڈین میڈیا میں ہمایوں کبیر کے اس مؤقف کو اس نظر سے دیکھا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش دراصل پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے تاریخی مکہ معاہدے اور ممکنہ چار ملکی دفاعی بلاک کا حصہ بننے کے لیے پرعزم ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان پچھلے کچھ عرصے سے جاری شدید سفارتی اور سیاسی کشیدگی کے تناظر میں ڈھاکا کے اس نئے مثبت رویے کو ایک انتہائی اہم، غیر متوقع اور سٹریٹجک تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس چار ملکی بلاک میں بنگلہ دیش کی شمولیت سے خطے میں دفاعی و اقتصادی توازن تبدیل ہو جائے گا جس سے بھارت پر زبردست سفارتی دباؤ بڑھے گا۔

مشیرِ خارجہ امور ہمایوں کبیر نے مزید تفصیلا ت دیتے ہوئے بتایا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی خصوصی دعوت پر بنگلہ دیش کے نو منتخب وزیراعظم طارق رحمان کا دورۂ ریاض گرمیوں کا موسم ختم ہونے کے بعد حتمی طور پر طے پائے گا۔ اس اعلٰی سطحی دورے کے دوران سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مکہ فریم ورک میں شمولیت کی دستاویزات کو حتمی شکل دیے جانے کا قوی امکان ہے۔ بنگلہ دیش کی اس نئی خارجہ پالیسی نے خطے میں ایک بالکل نئی سفارتی صف بندی کی بنیاد رکھ دی ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔