پاکستان عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کا بانی رکن بنے گا؛ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کل چین روانہ ہوں گے

منصور احمد, JULY 15,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار عوامی جمہوریہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای کی خصوصی دعوت پر ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ 16 سے 17 جولائی تک شنگھائی (چین) کا تزویراتی دورہ کریں گے۔ اس دورے کے دوران دوطرفہ تزویراتی تعلقات، علاقائی تعاون کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم ترین امور پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ مقتدر تفصیلات کے مطابق، نائب وزیراعظم 16 جولائی کو ‘عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم’ کے باقاعدہ قیام کی دستخطی تقریب میں خصوصی شرکت کریں گے اور پاکستان کی جانب سے بانی رکن کی حیثیت سے اس تاریخی بین الاقوامی معاہدے پر باقاعدہ دستخط کریں گے۔ اس کے بعد، وہ 17 جولائی کو شنگھائی میں منعقد ہونے والی ‘عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس’ کی افتتاحی تقریب اور مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی سے متعلق اعلیٰ سطح کے مقتدر اجلاس میں بھی شریک ہوں گے۔ اس اہم کانفرنس کے موقع پر نائب وزیراعظم کی چینی وزیر خارجہ وانگ ای سے ایک اہم دوطرفہ ملاقات طے ہے، جبکہ وہ وہاں موجود دیگر ممالک کے ہم منصبوں سے بھی باہمی تعاون بڑھانے کے لیے ملاقاتیں کریں گے۔

اپنی ان تمام اہم سفارتی مصروفیات کے دوران نائب وزیراعظم ٹیکنالوجی کے شعبے میں، بالخصوص ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات اور ترقیاتی ضروریات پر مبنی پاکستان کا اصولی موقف پیش کریں گے۔ وہ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں موجود تفاوت کو کم کرنے، اس جدید ٹیکنالوجی تک تمام ممالک کی منصفانہ رسائی کو فروغ دینے اور استعداد کار میں اضافے پر زور دیں گے۔ اسحاق ڈار اس مقتدر امر کو بھی اجاگر کریں گے کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کے ثمرات کو دنیا بھر میں پائیدار ترقی، معاشی خوشحالی اور سب کے لیے مشترکہ فائدے کے لیے مؤثر طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مظالم اور قبضے کے باوجود فلسطینی اتھارٹی کی انتظامی و مالی اصلاحات قابلِ ستائش؛ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا برسلز اجلاس میں اعتراف

محمود احمد, JULY 15,2026

برسلز (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے جنرل سیکریٹریٹ نے اسرائیلی جارحیت، مسلسل فوجی قبضے اور سنگین ترین چیلنجز کے باوجود فلسطینی ریاست کی جانب سے کی جانے والی ادارہ جاتی، انتظامی اور مالی اصلاحات کی پیش رفت کو نمایاں الفاظ میں سراہا ہے۔ فلسطینی خبر رساں ادارے کے مطابق، او آئی سی کے معاون سیکریٹری جنرل برائے فلسطین و القدس امور سمیر بکر نے برسلز میں منعقدہ ایک مقتدر اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے اس موقف کا اظہار کیا۔ اس اہم اجلاس میں فلسطینی وزیرِ اعظم محمد مصطفیٰ، یورپی کمیشن کی کمشنر ڈوبراوکا شوئیکا اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کیلس بھی موجود تھیں۔ سمیر بکر نے واضح کیا کہ خطے میں دو ریاستی حل کو محفوظ بنانے اور اس پر پائیدار عمل درآمد کے لیے فلسطینی اتھارٹی کو ادارہ جاتی اور مالی طور پر مستحکم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

او آئی سی نے غاصب اسرائیل سے مقتدر مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے روکے گئے تمام ٹیکسوں کی آمدنی فوری طور پر اور بغیر کسی شرط کے جاری کرے۔ تنظیم نے عالمی برادری کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی اس وقت شدید ترین مالی بحران کا سامنا کر رہی ہے، جس کے باعث اس کے لیے اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کرنا اور مظلوم شہریوں کو صحت، تعلیم اور سماجی بہبود جیسی بنیادی عوامی خدمات فراہم کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ تنظیم نے تمام بین الاقوامی شراکت داروں اور امداد دینے والے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ریاستِ فلسطین کو فوری مالی امداد فراہم کریں اور فلسطینی معیشت کی دانستہ ناکہ بندی کے سنگین نتائج کا فوری نوٹس لیں۔

اپنے مقتدر بیان میں او آئی سی نے اقوامِ متحدہ کے فلسطینی مہاجرین کے بہبود کے ادارے کو اسرائیل کی جانب سے مسلسل نشانہ بنانے، غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی توسیع، فلسطینی اراضی کے الحاق، جبری بے دخلیوں اور غزہ کی طویل ترین ناکہ بندی کی بھی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ تنظیم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر سفارتی و معاشی دباؤ بڑھائے تاکہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر فوری عمل درآمد شروع کرے، جس میں غزہ پٹی سے اسرائیلی فورسز کا مکمل انخلا، تمام سرحدی گزرگاہوں کو کھولنا اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی شامل ہے۔ او آئی سی نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ تمام فلسطینی عوام اور فلسطینی سرزمین کی قانونی، سیاسی اور ادارہ جاتی وحدت کو ریاستِ فلسطین کی منتخب حکومت کی قیادت میں ہر قیمت پر برقرار رہنا چاہیے۔

عالمی سپلائی چینز مشترکہ مفادات کی زنجیر ہیں، مصنوعی طریقوں سے منقطع کرنے سے سب کا نقصان ہوگا، چین کا انتباہ

کاشف عباسی , JULY 15,026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

چین نے بین الاقوامی تجارتی نظام پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ دور میں عالمی سپلائی چینز (تجارتی ترسیل کے راستے) مشترکہ مفادات کی ایک ایسی پائیدار زنجیر بن چکی ہیں جس میں تمام فریق ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ بیجنگ کے مطابق، اس مربوط نظام میں کسی ایک فریق کی ترقی سب کے لیے فائدہ مند ہے، جبکہ کسی ایک کا بھی نقصان پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کرتا ہے۔ چینی بین الاقوامی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے مطابق، یہ مقتدر باتیں چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے بدھ کے روز روزانہ کی پریس کانفرنس کے دوران عالمی تجارت اور سپلائی چینز کے حساس مسئلے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہیں۔

چینی ترجمان لین جیان نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ سیاسی یا مصنوعی طریقوں سے عالمی سپلائی چینز کو منقطع کرنے، تحفظ پسند تجارتی رکاوٹیں کھڑی کرنے اور سپلائی چینز کی زبردستی ازسرِنو تشکیل کی تمام کوششیں نہ صرف دنیا بھر میں بھاری معاشی اخراجات کا باعث بنیں گی بلکہ یہ مارکیٹ کے بنیادی اصولوں اور کاروباری اداروں کے آزادانہ انتخاب کے بھی سراسر خلاف ہیں۔ انہوں نے تزویراتی نکتہ اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان منفی اقدامات کے نتیجے میں عالمی برادری اور تمام شراکت دار فریقین کو تجارت میں بہت زیادہ قیمت ادا کرنی پڑے گی جبکہ ان کے حاصل ہونے والے معاشی فوائد انتہائی کم رہ جائیں گے۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بیجنگ کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ چین بین الاقوامی تجارت میں اعلیٰ معیار کے کھلے پن کی پالیسی کو مسلسل وسعت دیتا رہے گا۔ چین اپنی وسیع ترین عالمی مارکیٹ، مکمل صنعتی ڈھانچے اور دیگر نمایاں پیداواری برتریوں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے دنیا کو مستحکم انداز میں اعلیٰ معیار کی مصنوعات کی فراہمی جاری رکھے گا اور دنیا بھر کے کاروباری اداروں کو باہمی تعاون کے مزید نئے اور مقتدر مواقع فراہم کرتا رہے گا تاکہ عالمی معیشت کو بحرانوں سے بچایا جا سکے۔

ریاست یوٹاہ میں مسلم شہری پر چاقو سے قاتلانہ حملہ؛ امریکی مسلم تنظیم ‘کیر’ کا اسلام مخالف بیانیے اور نفرت انگیز جرائم کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ

محمود احمد, JULY 15,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

امریکہ میں مسلمانوں کے شہری حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم سب سے بڑی موقر تنظیم ‘کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز’ (کیر) نے ریاست یوٹاہ میں مبینہ مذہبی منافرت کی بنیاد پر ایک مسلمان شہری پر چاقو سے کیے گئے ہولناک حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ تنظیم نے امریکی حکام، سیاست دانوں اور سماجی رہنماؤں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسلام مخالف نفرت انگیز بیانات کی واضح اور دوٹوک مذمت کریں اور ایسی انتہا پسندانہ سوچ کو فروغ دینے والے عناصر کو معاشرے میں مکمل طور پر مسترد کریں۔

مقامی پولیس کے مطابق، گرفتار ملزم نے تفتیش کے دوران مبینہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ اس نے متاثرہ شخص کو محض اس کے اسلامی عقیدے اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق، متاثرہ مسلم شہری پر چاقو سے یکے بعد دیگرے کئی وار کیے گئے، جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہو گیا اور اسے نازک حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ملزم مبینہ طور پر مسلم برادری کو نشانہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر جانی نقصان پہنچانے والے مزید خوفناک حملوں کی بھی باقاعدہ منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ پولیس نے واقعے کی سنگینی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسے باقاعدہ ‘نفرت انگیز جرم’ (ہیٹ کرائم) کے طور پر رجسٹر کر کے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نہاد عوض نے اس ہولناک واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک تزویراتی بیان میں کہا کہ یہ بزدلانہ حملہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ اسلام مخالف نفرت انگیز بیانات کے معاشرے میں کتنے خطرناک اور حقیقی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب مسلمانوں کو مسلسل بدنام کیا جاتا ہے، انہیں ایک خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، یا انہیں مساوی حقوق اور انسانی وقار سے محروم سمجھا جاتا ہے، تو بعض انتہا پسند ذہن کے حامل افراد اسی زہریلے بیانیے کو عملی تشدد کی شکل دے دیتے ہیں۔ نہاد عوض نے مطالبہ کیا کہ امریکی رہنما اسلاموفوبیا اور مذہبی تعصب کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوں، اور انہوں نے زخمی شہری کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔

عالمی بحری راستوں پر حملے ناقابلِ قبول؛ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے پر اقوامِ متحدہ کے ادارے ‘آئی ایم او’ کی سخت مذمت

محمود احمد, JULY 15,2026

اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے ‘انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن’ (آئی ایم او) نے تجارتی لائف لائن سمجھے جانے والے اہم بحری راستے ‘آبنائے ہرمز’ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں آئل ٹینکروں پر ہونے والے حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ عالمی ادارے نے خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کو فوری طور پر ختم کرنے اور تجارتی جہاز رانی پر حملے روکنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ ادارے کے ترجمان نے ان واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ عالمی ادارہ متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر ان حملوں کی تفصیلات اور نقصانات کی تصدیق کر رہا ہے، اور اس خطرناک سلسلے کو فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔

موقر تفصیلات کے مطابق، خطے میں کشیدگی کے باعث سمندر میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں اور ان کے عملے کو بحفاظت نکالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر محفوظ راستے قائم کیے جا رہے ہیں۔ عالمی ادارے نے تمام متعلقہ فریقوں پر سفارتی تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مزید محاذ آرائی سے گریز کرنے پر زور دیا ہے تاکہ سمندری حدود میں کام کرنے والے کارکنوں کی جانوں اور بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جا سکے۔

دوسری جانب، اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے بھی اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتباہ جاری کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کی اطلاعات انتہائی خطرناک ہیں، کیونکہ اس کے براہِ راست اثرات خطے سے باہر نکل کر دنیا بھر کے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم بحری گزرگاہ سے خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی عالمی ترسیل جڑی ہوئی ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ دنیا بھر میں ایک نیا معاشی اور انسانی بحران پیدا کر دے گی۔ انہوں نے ایران اور امریکہ سے رپورٹ ہونے والے حملوں کو فوری طور پر روکنے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق جنگ بندی بحال کرنے کا مقتدر مطالبہ کیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس کا بڑا اقدام؛ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیلی وزیرِ اعظم کو شام اور لبنان سے فوجیں نکالنے کا حکم

محمود احمد, JULY 15,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سنگین صورتحال کے پیشِ نظر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ایک اہم رابطہ کر کے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل شام کی حدود سے اپنی تمام فوجیں فوری طور پر واپس بلائے، جبکہ انہوں نے لبنانی سرحدوں پر بھی اسی نوعیت کے اقدامات اٹھانے پر سخت زور دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘تاس’ نے ‘ایگزیوس’ کی رپورٹ کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ امریکی اور اسرائیلی اعلیٰ حکام نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی صدر نے 9 جولائی کو نیتن یاہو کے ساتھ ہونے والی ایک اہم ٹیلیفونک گفتگو کے دوران اس مقتدر موقف سے کھل کر آگاہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کو دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اسرائیل کو شام کی سرزمین سے اپنی افواج کو باہر نکالنا ہو گا اور لبنان کے محاذ پر بھی اسی پالیسی پر عمل کرنا ہو گا۔ ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے اس تزویراتی رابطے کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ شام کی حدود میں اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی مسلسل موجودگی خطے میں شدید ترین کشیدگی کا باعث بن رہی ہے، اور یہ پوزیشن حالات کو مزید بگاڑنے کی وجہ بن سکتی ہے کیونکہ وہاں کی مقامی قوتیں آپ کو اپنی سرزمین پر دیکھنا پسند نہیں کرتیں۔

ٹیکنالوجی کی دنیا میں نیا انقلاب: اوپن اے آئی کا بغیر اسکرین والا انوکھا گھریلو کمپیوٹر متعارف کرانے کا فیصلہ

روزینہ اسماعیل, JULY 15,2026

سان فرانسسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کام کرنے والی دنیا کی معروف کمپنی ‘اوپن اے آئی’ صارفین کے لیے ایک انتہائی جدید اور منفرد ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے، جس میں اسکرین کے بغیر کام کرنے والا موبائل اسمارٹ اسپیکر شامل ہے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کی جانب سے اس انوکھی ایجاد کو مصنوعی ذہانت کے نئے دور کا ایک جدید گھریلو کمپیوٹر قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی معاشی جریدے ‘بلوم برگ’ کی رپورٹ کے مطابق، یہ جدید ترین آلہ اس وقت تیاری کے مراحل میں ہے اور اسے گھروں میں ایک ایسے انسان نما مصنوعی ذہانت کے ساتھی کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا جو روزمرہ کے کاموں میں مدد فراہم کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق، یہ جدید ترین اسمارٹ اسپیکر گھر میں موجود دیگر تمام اسمارٹ برقی آلات کو کنٹرول کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس کی مدد سے مختلف قسم کی آڈیوز اور دیگر میڈیا فائلز چلائی جا سکیں گی۔ یہ مقتدر آلہ صارفین کے پوچھے گئے پیچیدہ سوالات کے فوری جوابات دینے، ان کے اہم پیغامات کا جواب بھیجنے اور مشہورِ زمانہ ‘چیٹ جی پی ٹی’ کی گفتگو کرنے کی جدید ترین صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی مکمل سہولت فراہم کرے گا، جس سے صارفین کو ایک بالکل نیا اور انوکھا تجربہ حاصل ہوگا۔

عرب لیگ کے نئے سربراہ نبیل فہمی کو اماراتی نائب وزیراعظم کا فون؛ نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر دلی مبارکباد، مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی پر اہم مشاورت

منصور احمد, JULY 15,2026

ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان نے عرب لیگ کے نو منتخب سیکرٹری جنرل نبیل فہمی سے ایک مقتدر ٹیلیفونک رابطہ قائم کیا ہے۔ اماراتی وزیر خارجہ نے نئے سربراہ کو مسلم امہ کے اس اہم ترین اور باوقار ادارے کی قیادت سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور عرب دنیا کے مفادات کے تحفظ اور مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

اماراتی نیوز ایجنسی کے مطابق، اس اہم گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور حالیہ تزویراتی تبدیلیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ رابطے کے دوران اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ رکن ممالک کے مابین باہمی روابط کو مضبوط بنا کر اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر خطے میں دیرپا امن، خوشحالی اور سیاسی استحکام کو یقینی بنایا جائے گا۔

بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملوں سے متعلق رپورٹنگ کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع؛ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے نئی قرارداد منظور کر لی

محمود احمد, JULY 15,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بحیرہ احمر کی موجودہ صورتحال اور وہاں ہونے والے حملوں سے متعلق مقتدر رپورٹنگ کی مدت میں مزید چھ ماہ کی تزویراتی توسیع کر دی ہے۔ اماراتی نیوز ایجنسی کے مطابق، سلامتی کونسل نے سال 2026 کی نئی قرارداد منظور کرتے ہوئے بحیرہ احمر میں تجارتی و بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں سے متعلق سیکرٹری جنرل کی جانب سے متواتر اور جامع رپورٹس پیش کرنے کی مدت میں توسیع کا مقتدر فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد اب یہ معلوماتی اور نگران عمل 15 جنوری 2027ء تک بدستور جاری رہے گا۔

موقر تفصیلات کے مطابق، سلامتی کونسل کے پندرہ میں سے 13 ارکان نے اس اہم قرارداد کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کیا، جبکہ دو مقتدر عالمی طاقتوں، چین اور روس نے اس رائے شماری کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔ سلامتی کونسل کے 10 ہزار 194 ویں اجلاس میں متفقہ طور پر منظور کی جانے والی یہ نئی قرارداد دراصل یمن اور بحیرہ احمر کی سیکیورٹی سے متعلق سلامتی کونسل کی سابقہ قراردادوں کا ہی ایک تسلسل ہے۔

اس منظور شدہ قرارداد کے تحت سال 2024 کی سابقہ قرارداد کی شق نمبر 10 میں شامل رپورٹنگ کی مدت کو باقاعدہ توسیع دی گئی ہے، تاکہ بحیرہ احمر کی تازہ ترین صورتحال، بحری راستوں کے تحفظ اور امن و امان کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی متواتر رپورٹس اور بریفنگز سلامتی کونسل کو مستقل بنیادوں پر فراہم کی جاتی رہیں اور خطے میں بحری تجارت کو محفوظ بنایا جا سکے۔

نایاب ترین قسم کے پھیلاؤ کے لیے تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج دستیاب نہیں؛ ہلاکتیں 754 تک پہنچ گئیں، عالمی ادارہ صحت کی تشویشناک رپورٹ

روزینہ اسماعیل, JULY 15,2026

کنشاسا (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

عالمی ادارہ صحت نے ہنگامی انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریہ کانگو کے مشرقی علاقوں میں مہلک ایبولا وائرس کے 80 فیصد نئے کیسز ایسے پراسرار ذرائع سے سامنے آ رہے ہیں جن کی منتقلی کا سلسلہ معلوم کرنا تاحال ممکن نہیں ہو سکا۔ مقتدر طبی ماہرین کے مطابق، یہ تشویشناک صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ مہلک ترین بیماری صحت کے حکام کی نگرانی اور رسائی سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے، جو خطے کے لیے ایک بڑے انسانی المیے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

اماراتی نیوز ایجنسی ‘وام’ کے مطابق، عالمی ادارہ صحت نے تزویراتی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں گزشتہ مئی سے ایبولا وائرس کی ایک انتہائی نایاب اور خطرناک قسم کی وبا پھیلی ہوئی ہے، جس کے تدارک کے لیے فی الحال دنیا میں کوئی بھی منظور شدہ سائنسی علاج یا ویکسین دستیاب نہیں ہے۔ افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے بھی اس بحران کی سنگینی کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ اب تک افریقی براعظم میں ریکارڈ کی جانے والی ایبولا کی تیز ترین اور بدترین ترین وبا بن چکی ہے۔

سرکاری سطح پر جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، کانگو میں اب تک ایبولا کے تصدیق شدہ کیسز کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2,011 ہو چکی ہے، جبکہ اس موذی وائرس کے باعث اب تک 754 افراد اپنی قیمتی جانیں ہار چکے ہیں۔ ملک کے قومی ادارہ صحت نے اپنی تازہ ترین مقتدر رپورٹ میں تشویشناک انکشاف کیا ہے کہ صرف پیر کے روز اتوری ، شمالی کیوو اور اوت-اوئیلے کے صوبوں میں مزید 54 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس نے مقامی طبی نظام کی کمزوریوں اور اس وبا کی ہولناکی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا خطاب؛ سلامتی کونسل کی مستقل نشستوں میں اضافے کی مخالفت، عالمی مالیاتی نظام میں فوری اصلاحات پر زور

محمود احمد, JULY 15,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ موجودہ اور ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کا واحد راستہ کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان نے ایک ایسے مؤثر، نمائندہ، جمہوری، جوابدہ اور منصفانہ عالمی نظام اور اداروں کی تشکیل پر زور دیا ہے جو دنیا کے معاشی و سلامتی کے مسائل کا پائیدار حل فراہم کر سکیں۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے غیر رسمی اجلاس بعنوان “پیکٹ فار دی فیوچر کا جائزہ: مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کثیرالجہتی نظام” سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے ‘پیکٹ فار دی فیوچر’ کے تحت کیے گئے عالمی وعدوں پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے مقتدر خطاب میں واضح کیا کہ ایک فعال اور مضبوط جنرل اسمبلی ہی دراصل ایک مؤثر اقوامِ متحدہ کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ میں جنرل اسمبلی کے کلیدی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کے ساتھ ساتھ جنرل اسمبلی کو مصنوعی ذہانت ، خلائی سرگرمیوں اور عالمی مشترکہ وسائل جیسے جدید ترین اور ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں بھی مرکزی اور تزویراتی کردار ادا کرنا چاہیے۔

بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مستقل مندوب نے ایک منصفانہ اور جمہوری عالمی اقتصادی نظم و نسق کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ترقی پذیر ممالک کے لیے رعایتی مالی وسائل تک آسان رسائی، قرضوں کے بوجھ میں بامعنی ریلیف اور عالمی برادری کے کیے گئے وعدوں پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ‘بورورز پلیٹ فارم’ کے قیام میں پاکستان کی بطور نائب چیئرمین خدمات کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے بین الاقوامی اقتصادی تعاون اور ہم آہنگی کے فروغ میں ای سی او ایس او سی کے چارٹر کے تحت حاصل اختیارات سے بھرپور استفادہ کرنے پر زور دیا۔

سلامتی کونسل میں اصلاحات کے حساس معاملے پر سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کے اصولی اور روایتی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کو زیادہ نمائندہ، جمہوری، شفاف، جوابدہ اور مؤثر بنانے کے لیے جامع اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ مستقل نشستوں میں اضافہ نہ تو سلامتی کونسل کو درپیش بنیادی مسائل کا حل ہے اور نہ ہی اسے اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کی وسیع حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اصلاحات کا مقصد بالخصوص ترقی پذیر اور چھوٹے ممالک سمیت پوری رکنیت کے اجتماعی مفادات کی بہتر عکاسی ہونا چاہیے، اور اس سلسلے میں بین الحکومتی مذاکرات ہی مناسب اور متفقہ فورم ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ اصل کامیابی کا معیار یہ ہوگا کہ آیا اقوامِ متحدہ کے ادارے مستقبل میں واقعی زیادہ نمائندہ، جوابدہ اور منصفانہ بن کر تمام رکن ممالک کی ضروریات پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔

اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا سلامتی کونسل سے مقتدر خطاب؛ افریقہ کے ساتھ پاکستان کی ہمہ جہت شراکت داری اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر زور

محمود احمد, JULY 15,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

پاکستان نے مغربی افریقہ اور ساحل خطے میں دیرپا امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے اپنی مضبوط اور اصولی حمایت کا صریح اعادہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مغربی افریقہ اور ساحل کے لیے اقوامِ متحدہ کے دفتر کی کارکردگی پر منعقدہ ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ خطے کو درپیش پیچیدہ سیاسی، سلامتی، انسانی اور سماجی و اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی ملکیت، مضبوط علاقائی تعاون اور مستقل بین الاقوامی مالی و سیاسی حمایت ناگزیر ہے۔ انہوں نے یو این او واس کے خصوصی نمائندے کی جامع بریفنگ کی تعریف کی اور خطے میں احتیاطی سفارت کاری، جامع سیاسی مکالمے اور باہمی تعاون کے فروغ میں ادارے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس کے آئندہ آزادانہ اسٹریٹجک جائزے کا خیرمقدم کیا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل اور تاریخی عزم کو دہراتے ہوئے ریاستوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے بنیادی اصول پر سختی سے زور دیا۔ افریقہ کے ساتھ پاکستان کے گہرے تعلقات کا تزویراتی تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے فخر سے اجاگر کیا کہ پاکستانی امن دستوں نے پورے افریقی براعظم میں اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے امن قائم کرنے اور امن کے استحکام کی مقتدر کوششوں میں ہمیشہ نمایاں اور امتیازی خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا، “افریقہ کے ساتھ ہماری شراکت داری دیرینہ، مضبوط اور ہمہ جہت ہے اور پاکستان اس براعظم کی خوشحالی کو اپنی ترجیحات میں شامل سمجھتا ہے۔”

پاکستانی مستقل مندوب نے مغربی افریقہ اور ساحل کے علاقوں میں دہشت گردی اور پُرتشدد انتہا پسندی کے مسلسل بڑھتے ہوئے خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس لعنت کے مؤثر تدارک کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض عسکری کارروائیاں کافی نہیں، بلکہ اس مقصد کے لیے ایک ایسی جامع حکمتِ عملی درکار ہے جو مؤثر سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو جنم دینے والی بنیادی وجوہات اور معاشی محرومیوں کے خاتمے پر بھی یکساں توجہ دے۔ انہوں نے علاقائی تعاون کے فروغ کی اہمیت کے ضمن میں ایکوواس اور کنفیڈریشن آف ساحل اسٹیٹس کے درمیان جاری روابط کا خیرمقدم کیا اور باہمی اعتماد کی بحالی کے لیے مسلسل مکالمے کی حوصلہ افزائی کی۔

اپنے مقتدر خطاب کے آخر میں سفیر عاصم افتخار احمد نے امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کے باہمی گہرے تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے کو درپیش انسانی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنی امداد اور سرمایہ کاری کی حمایت جاری رکھے، بالخصوص انسانی امدادی سرگرمیوں کے لیے درکار عالمی مالی وسائل کی مسلسل کمی کا فوری نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ “دیرپا امن اور سلامتی کا انحصار پائیدار ترقی، مضبوط اداروں اور نوجوانوں کے لیے بہتر معاشی مواقع کی فراہمی پر ہے”۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن، معاشی استحکام اور تعمیرِ نو کے فروغ کے لیے تمام مخلصانہ عالمی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

اب تک پھنس جانے والی 220 ڈولفنز کو کامیابی سے ریسکیو کیا جا چکا؛ جدید ایمبولینس 200 کلومیٹر کے علاقے میں خدمات انجام دے گی، وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کا تقریب سے مقتدر خطاب

منصور احمد, JULY 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے انڈس بلائنڈ ڈولفن (اندھی ڈولفن) کی بقا اور تحفظ کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت تمام شراکت داروں کے مابین مربوط اور اجتماعی اقدامات پر زور دیا ہے۔ اسلام آباد میں ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک مقتدر تقریب کے دوران انہوں نے جدید ترین ‘انڈس ڈولفن ریسکیو ایمبولینس’ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار اس نایاب نسل کو بچانے کے لیے وفاقی حکومت، حکومتِ سندھ، حکومتِ پنجاب اور ڈبلیو ڈبلیو ایف نے مل کر غیر معمولی کام کیا ہے، جس کی بدولت اب تک دریا کے مختلف حصوں میں پھنس جانے والی 220 نایاب ڈولفنز کو کامیابی سے ریسکیو کیا جا چکا ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے انڈس بلائنڈ ڈولفن کی تاریخی و ماحولیاتی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ منفرد آبی حیات دریائے سندھ کی قدیم ترین تاریخ کا حصہ ہے، جو یہاں آباد ہونے والی انسانی تہذیبوں سے بھی پہلے سے اس دریا کا مسکن ہے۔ انہوں نے اس غلط فہمی کو دور کیا کہ یہ ڈولفن کسی بیماری یا حادثے کی وجہ سے نابینا ہے، بلکہ قدرتی ارتقائی عمل کے تحت اس کی آنکھیں فعال نہیں ہیں اور یہ پانی میں راستہ تلاش کرنے اور شکار کرنے کے لیے آواز کی لہروں (ایکو لوکیشن) کا استعمال کرتی ہے۔ وفاقی وزیر نے اصرار کیا کہ یہ نایاب ڈولفن محض ایک جاندار نہیں بلکہ دریائے سندھ کے پورے ماحولیاتی نظام اور وادی سندھ کی عظیم تہذیبی وراثت کی ایک مقتدر علامت ہے۔

وفاقی وزیر نے ماضی کی سنگین صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ 1970ء کی دہائی میں انڈس ڈولفن کی تعداد تشویشناک حد تک کم ہو کر صرف 1200 کے لگ بھگ رہ گئی تھی، تاہم مشترکہ مہم اور بروقت تزویراتی فیصلوں نے اسے معدوم ہونے سے بچا لیا۔ انہوں نے چین کے دریائے یانگ زی کی ناپید ہو جانے والی ‘بائیجی ڈولفن’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک نسل کو بچایا نہ جا سکا، مگر پاکستان نے اجتماعی عزم کا مظاہرہ کر کے اپنی نایاب ڈولفن کا تحفظ یقینی بنایا ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے اعلان کیا کہ نو متعارف کرائی گئی جدید ریسکیو ایمبولینس دریائے سندھ کے تقریباً 200 کلومیٹر کے طویل ماحولیاتی علاقے میں چوبیس گھنٹے ہنگامی خدمات انجام دے گی، جبکہ اس پورے مشن میں دریا کے کناروں پر آباد 1500 سے زائد مقامی ماہی گیروں اور خاندانوں کو بھی شراکت دار بنایا جا رہا ہے۔

اپنے خطاب کے آخر میں ڈاکٹر مصدق ملک نے موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج، درجہ حرارت میں اضافہ اور گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا محض تقدیر کا فیصلہ نہیں بلکہ ہمارے اپنے فیصلوں کا نتیجہ ہیں، جس کی وجہ سے حالیہ برسوں کے تباہ کن سیلابوں میں 4 کروڑ سے زائد افراد متاثر اور ہزاروں لقمہ اجل بنے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت دریائے سندھ کو ‘لیونگ انڈس’ (زندہ دریائے سندھ) کے طور پر محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور عوام کو بھی اپنی قدرتی وراثت اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے اپنی اجتماعی ذمہ داریاں نبھانی ہوں گی۔

قومی ہاکی ٹیم کے ورلڈ کپ اسکواڈ کا انتخاب اب غیر ملکی کوچز کریں گے، پاکستان ہاکی فیڈریشن کا بڑا فیصلہ

منصور احمد, JULY 14,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے ہاکی ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں ایک انتہائی مقتدر اور تزویراتی فیصلہ کرتے ہوئے قومی ٹیم کے ورلڈ کپ اسکواڈ کے حتمی انتخاب کا تمام تر اختیار غیر ملکی کوچز کے سپرد کر دیا ہے۔ فیڈریشن نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ورلڈ کپ جیسے بڑے اور معتبر عالمی ایونٹ کے لیے کھلاڑیوں کی فٹنس پر کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق، غیر ملکی کوچز تربیتی کیمپ میں شریک تمام کھلاڑیوں کے سخت اور جدید فٹنس ٹیسٹ مکمل کرنے کے بعد ایک جامع تکنیکی رپورٹ مرتب کریں گے، اور اسی رپورٹ کی بنیاد پر موزوں ترین ورلڈ کپ اسکواڈ کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے مقتدر حکام کا مؤقف ہے کہ صرف وہی کھلاڑی قومی اسکواڈ کا حصہ بن پائیں گے جو مکمل طور پر فٹ ہوں گے اور غیر ملکی کوچز کے مقرر کردہ مطلوبہ جسمانی و تکنیکی معیار پر سو فیصد پورا اتریں گے۔

اس وقت اسلام آباد میں قومی ہاکی ٹیم کا اہم تربیتی کیمپ کامیابی سے جاری ہے، جہاں غیر ملکی کوچز روزانہ کی بنیاد پر دو سخت ترین سیشنز میں کھلاڑیوں کی فٹنس، تکنیک اور جسمانی استعداد کار کا تفصیلی اور مقتدر جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ورلڈ کپ کے لیے ایک ناقابلِ شکست الیون تیار کی جا سکے۔

ملک کے بیشتر حصوں میں گرمی اور شدید حبس کا راج برقرار؛ آئندہ 24 گھنٹوں میں کشمیر، بالائی خیبرپختونخوا اور شمال مشرقی پنجاب میں بارش کا امکان

روزینہ اسماعیل, JULY 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید گرم اور حبس زدہ رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔ تاہم، شام یا رات کے اوقات میں کشمیر، بالائی خیبرپختونخوا، شمال مشرقی پنجاب اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ مقتدر موسمیاتی رپورٹ کے مطابق، موجودہ موسمی صورتحال کے پیشِ نظر بحیرۂ عرب سے مرطوب ہوائیں ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں، جبکہ کمزور مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ ملک کے شمالی علاقوں پر موجود ہے۔ فی الوقت کسی قسم کا الرٹ یا انتباہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے محکمہ موسمیات نے واضح کیا کہ ملک کے بیشتر حصوں میں موسم گرم اور مرطوب رہا، تاہم اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار، جنوبی پنجاب، شمالی بلوچستان، بالائی خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بادل برسے۔ گزشتہ روز سب سے زیادہ بارش پنجاب میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد (ایئرپورٹ 69 ملی میٹر) میں ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ جوہرآباد میں 56، ملتان (ایئرپورٹ 49، سٹی 17)، قصور 40، سرگودھا سٹی 36، ڈیرہ غازی خان 20، کوٹ ادو 12، بہاولپور سٹی 03، منڈی بہاؤالدین 02، جبکہ چکوال، خانیوال اور بہاولپور ایئرپورٹ پر 01 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ بلوچستان کے علاقے بارکھان میں 04، گلگت بلتستان کے علاقے گوپس میں 03، جبکہ خیبر پختونخوا کے تفریحی مقامات کالام اور کاکول میں 01 ملی میٹر بارش ہوئی۔

منگل کے روز ملک بھر میں ریکارڈ کیے گئے درجہ حرارت کے مطابق صوبہ بلوچستان کا شہر سبی 46 ڈگری سینٹی گریڈ کے ساتھ گرم ترین علاقہ رہا۔ اس کے علاوہ نوکنڈی اور دالبندین میں 44 ڈگری، جبکہ تربت، نور پور تھل، بھکر اور دادو میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ شہریوں کو شدید حبس اور گرمی کی لہر کے پیشِ نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور پانی کا استعمال زیادہ رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔

51ویں بین الاقوامی سیرت النبی ﷺ کانفرنس آئندہ ماہ ربیع الاول میں شایانِ شان انداز میں منعقد کی جائے گی، وفاقی وزیر سردار محمد یوسف

منصور احمد, JULY 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف کی زیرِ صدارت منگل کے روز ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں 51ویں بین الاقوامی سیرت النبی ﷺ کانفرنس کی تیاریوں، انتظامات اور دیگر متعلقہ انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے اعلان کیا کہ آئندہ ماہِ ربیع الاول کے دوران 51ویں بین الاقوامی سیرت النبی ﷺ کانفرنس کا انعقاد انتہائی شایانِ شان اور مقتدر انداز میں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ مذہبی امور کو اس سال اس بابرکت کانفرنس کے انعقاد کا عظیم اعزاز حاصل ہو رہا ہے، جو نئی نسل کو اسلامی تعلیمات اور سیرتِ طیبہ ﷺ کی روشنی سے روشناس کرانے میں اہم ترین کردار ادا کرے گی۔

وفاقی وزیر نے تزویراتی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس مقتدر کانفرنس میں ملک بھر کے ممتاز و جید علماء کرام، مقتدر مذہبی شخصیات، محققین، سکالرز اور دنیا کے مختلف ممالک سے تشریف لانے والے معزز مندوبین شرکت کریں گے، جس سے بین الاقوامی سطح پر سیرت النبی ﷺ کے آفاقی پیغام کو فروغ ملے گا۔ اجلاس میں وزارتِ مذہبی امور کے ایڈیشنل سیکرٹری مرزا علی محسود سمیت دیگر اعلیٰ ترین مقتدر افسران نے بھی شرکت کی اور وفاقی وزیر کو کانفرنس کے سیکیورٹی اور انتظامی امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔

دریں اثناء، وفاقی وزیرِ مذہبی امور سردار محمد یوسف نے حج 2027ء کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس ڈیجیٹل سسٹم کو عازمینِ حج کی سہولت کے لیے مزید مؤثر اور سہل بنایا جائے۔ انہوں نے لاہور حاجی کیمپ کی جاری تعمیراتی سرگرمیوں کو ہنگامی بنیادوں پر جلد از جلد مکمل کرنے پر بھی سخت زور دیا۔ مزید برآں، سردار محمد یوسف نے اسلام آباد حاجی کیمپ میں قائم قرآن ری سائیکلنگ پلانٹ کو مکمل طور پر فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس حساس اور اہم ترین منصوبے کو فوری طور پر عملی طور پر مؤثر بنایا جائے تاکہ مقدس قرآنی اوراق کے شایانِ شان احترام کے ساتھ موزوں ترین سائنسی طریقے سے ری سائیکلنگ اور تلفی کو یقینی بنایا جا سکے۔

سعودی عرب پر حملے قابلِ مذمت اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہیں، وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا سخت ردِعمل

کاشف عباسی , JULY 14,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب پر کیے گئے حالیہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے برادر ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل اور تزویراتی حمایت کا صریح اعادہ کیا ہے۔ منگل کے روز سماجی رابطے کی مقتدر ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک خصوصی اور اہم بیان میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان گزشتہ رات برادر ملک مملکتِ سعودی عرب پر کیے گئے صریح حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

وزیر اعظم نے اپنے تزویراتی بیان میں واضح کیا کہ ایسے بزدلانہ اور قابلِ مذمت اقدامات مملکتِ سعودی عرب کی خودمختاری، خود مختار حیثیت اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں، اور ان سے خطے کے پہلے سے نازک امن و استحکام کو مزید شدید نقصان پہنچنے کا سنگین خدشہ ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان برادر ملک سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے لیے اپنی اصولی اور غیر متزلزل حمایت کا عزم دہراتا ہے اور اس انتہائی نازک وقت میں اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ مکمل اور بے لوث یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اپنے مقتدر پیغام کا اختتام کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر خطے میں امن، استحکام، دیرپا سلامتی اور باہمی افہام و تفہیم کے فروغ کے لیے کی جانے والی تمام مخلصانہ، تعمیری اور سفارتی کوششوں کی بھرپور مقتدر حمایت جاری رکھے گا، کیونکہ سعودی عرب کا امن درحقیقت پورے خطے کے امن و سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔

وی اے آر کا متنازع استعمال اور جانبداری کے الزامات: فیفا ورلڈ کپ میں ریفرینگ پر بحران شدت اختیار کر گیا، سابق ریفری کرسٹینا انکل کے تحفظات

محمود احمد, JULY 14,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

فیفا ورلڈ کپ میں ریفری کے متنازع فیصلوں اور ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (وی اے آر) کے غیر متوقع استعمال پر جاری عالمی تنازع نے ایک نیا تزویراتی موڑ اختیار کر لیا ہے، جہاں سابق نامور فیفا ریفری کرسٹینا انکل نے نئے ریفرینگ پروٹوکول پر اپنے گہرے اور مقتدر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔ ارجنٹائن کی سیمی فائنل تک رسائی کے سفر کے دوران مختلف میچز میں ریفرینگ کے فیصلوں پر حریف ٹیموں اور ان کے مینیجرز نے شدید ترین اعتراضات اٹھائے ہیں، جس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ تاثر بھی تیزی سے گردش کر رہا ہے کہ ٹورنامنٹ میں لیونل میسی کی ٹیم (ارجنٹائن) کو منظم طریقے سے فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔

موقر تفصیلات کے مطابق، کوارٹر فائنل کے ایک انتہائی اہم اور سنسنی خیز مقابلے میں سوئٹزرلینڈ کے مقتدر فارورڈ بریل ایمبولو کو مبینہ ڈائیونگ کی پاداش میں دوسرا پیلا کارڈ (یلو کارڈ) دکھا کر میدان سے باہر بھیجنے کے متنازع ترین فیصلے نے دنیا بھر کے ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ سوئس کوچ مرات یاکین نے اس فیصلے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر ‘ناقابلِ قبول’ قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے سابق ریفری کرسٹینا انکل نے واضح کیا کہ نئے وی اے آر پروٹوکول کے تحت فیلڈ ریفری کے بنیادی اور تزویراتی فیصلے تک تبدیل کیے جا رہے ہیں، جو کہ وی اے آر ٹیکنالوجی کے اصل مقصد اور حقیقی روح سے صریحاً انحراف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس انتہائی پیچیدہ نظام کو مکمل اور جامع آزمائش (ٹرائل) کے بغیر ورلڈ کپ جیسے بڑے اسٹیج پر نافذ کرنے کی وجہ سے شائقینِ فٹ بال اور تجزیہ کاروں کے شکوک و شبہات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب، فیفا کے اعلیٰ حکام نے جانبداری اور ارجنٹائن کی حمایت کے تمام تر الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنے مقتدر ریفری سربراہ پیئرلوئیجی کولینا کے سابقہ پالیسی بیان کا حوالہ دیا ہے جس میں فیصلوں کی شفافیت پر زور دیا گیا تھا۔ کرسٹینا انکل کا ماننا ہے کہ اگرچہ ٹورنامنٹ کے بیشتر فیصلے تکنیکی طور پر درست محسوس ہوئے، تاہم حالیہ پے در پے تنازعات اور مختلف کھلاڑیوں کے خلاف اپنائی گئی متضاد سزاؤں کی روش نے فیفا کے پورے امپائرنگ نظام پر شائقین کا اعتماد بری طرح متاثر کیا ہے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کی امیدوار کی ملاقات، پاکستان کے امن کردار کو سراہا

کاشف عباسی , JULY 14,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے معزز عہدے کی امیدوار مشیل باشلیٹ جیریا نے ایک اہم اور مقتدر ملاقات کی ہے۔ منگل کے روز وزارتِ خارجہ سے جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق، ملاقات میں عالمی و علاقائی سلامتی، کثیر الجہتی تعاون اور اقوامِ متحدہ کے مستقبل کے ڈھانچے پر تزویراتی تبادلہ خیال کیا گیا۔

موقر ملاقات کے دوران نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کے فروغ، بین الاقوامی قانون کی بالادستی اور بین الاقوامی معاہدوں کے احترام کے لیے پاکستان کے دیرینہ اور غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے عالمی ترقیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں اقوامِ متحدہ کے کلیدی کردار پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس عالمی ادارے کو اب ترقی پذیر ممالک کی مخصوص ضروریات، معاشی مسائل اور ترجیحات کے مطابق خود کو مؤثر اور جوابدہ بنانا ہوگا۔

سینیٹر اسحاق ڈار نے پائیدار عالمی امن کے قیام کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر ان کی روح کے مطابق مکمل اور دیانتدارانہ عمل درآمد پر زور دیا، تاکہ دیرینہ بین الاقوامی تنازعات کا پُرامن حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے عالمی رہنما کے سامنے بالخصوص جموں و کشمیر اور فلسطین کے دیرینہ مسائل کے منصفانہ، پائیدار اور فوری حل کی اہمیت کو مقتدر انداز میں اجاگر کیا۔

سیکرٹری جنرل کے عہدے کی امیدوار مشیل باشلیٹ جیریا نے خطے میں امن و استحکام کے پائیدار فروغ کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اور دیگر عالمی اقدامات کے لیے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان کی گراں قدر خدمات، قربانیوں اور نمایاں ترین کردار کی بھرپور تعریف کی اور پائیدار ترقی کے لیے پاکستان کے عزم کو سراہا۔

پمز کارڈیک سینٹر کی اپ گریڈیشن اور پلسڈ فیلڈ ایبلیشن پروگرام کا آغاز؛ وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کا اہم فلاحی اقدامات کا اعلان

روزینہ اسماعیل, JULY 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے واضح کیا ہے کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ملک کا سب سے بڑا ریفرل ہسپتال ہے جہاں روزانہ 7 سے 9 ہزار مریض علاج کے لیے آتے ہیں، جبکہ مریضوں اور تیمارداروں کی مجموعی آمد و رفت روزانہ 30 سے 40 ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔ منگل کے روز جاری کردہ ایک مقتدر بیان میں وفاقی وزیرِ صحت نے بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے لیے حکومتی حکمتِ عملی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت اسلام آباد میں 28 بنیادی مراکزِ صحت کو فعال اور جدید بنانے پر ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہے تاکہ عام بیماریوں کا علاج مقامی سطح پر ہی ممکن بنایا جا سکے اور پمز جیسے بڑے طبی اداروں پر بوجھ کم ہو۔

سید مصطفیٰ کمال نے وفاقی دارالحکومت کے باسیوں اور ملک بھر سے آنے والے مریضوں کے لیے بڑی خوشخبری سناتے ہوئے بتایا کہ پمز میں پاکستان کے پہلے سرکاری شعبے کے مقتدر ‘پلسڈ فیلڈ ایبلیشن پروگرام’ اور پمز کارڈیک سینٹر کی اپ گریڈیشن کے پہلے مرحلے کی تعمیری تکمیل کر دی گئی ہے، جبکہ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں مریضوں کی رہنمائی کے لیے ‘پیشنٹ فیسلیٹیشن اسسٹنٹ سروس’ کا بھی باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پمز کارڈیک سینٹر کی توسیع کے منصوبے پر 7.2 ارب روپے لاگت آئی ہے جبکہ مزید 90 کروڑ روپے کی خطیر سرمایہ کاری سے اسے دنیا کی جدید ترین کارڈیک ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا گیا ہے جہاں غریب اور مستحق مریضوں کو بالکل مفت علاج فراہم کیا جائے گا۔

وفاقی وزیرِ صحت نے مزید بتایا کہ اس جدید پروگرام کے تحت دل کے امراض (دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی) میں مبتلا 4 مریضوں کا دنیا کی جدید ترین کیتھیٹر ایبلیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے کامیاب علاج مکمل کر لیا گیا ہے، جن میں اسلام آباد، آزاد کشمیر اور مردان سے تعلق رکھنے والے مستحق افراد شامل تھے۔ پمز کے طبی ماہرین کے مطابق، پلسڈ فیلڈ ایبلیشن روایتی ریڈیو فریکوئنسی اور کریو ایبلیشن کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ محفوظ، موثر اور تیز رفتار طریقہ علاج ہے، جس میں دل کے اردگرد کے صحت مند ٹشوز کو کم سے کم نقصان پہنچتا ہے، پیچیدگیوں کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور مریض انتہائی جلد صحت یاب ہو کر اپنے گھر منتقل ہو جاتا ہے۔