پاکستان میں غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن ختم، کارآمد ویزے کے بغیر قیام پر فوری گرفتاریوں کا حکم

منصور احمد, JULY 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے لیے حکومت کی جانب سے دی گئی آخری ڈیڈ لائن ختم ہو گئی ہے، جس کے بعد کارآمد ویزے کے بغیر مقیم کسی بھی افغان شہری کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے گا۔ وفاقی حکومت نے ملک میں بغیر قانونی دستاویزات، اوور اسٹے کیسز اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی بیدخلی (ڈی پورٹیشن) کے عمل میں مزید تزویراتی تیزی لانے کا مقتدر فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت اب افغان شہریوں کی گرفتاریوں کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر وفاقی وزارتِ داخلہ کو تفصیلی رپورٹ بھیجی جائے گی۔

مقتدر تفصیلات کے مطابق، وفاقی وزارتِ داخلہ کو روزانہ کی بنیاد پر بھیجی جانے والی اس رپورٹ میں بغیر ویزے کے پکڑے گئے افغان شہریوں کی درست تعداد، ان کے خلاف اب تک کی گئی قانونی کارروائی اور ان کی موجودہ حیثیت کے تمام تزویراتی کوائف شامل ہوں گے۔ وفاقی وزارتِ داخلہ نے اس مقتدر مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے 28 جون 2026ء کو چاروں صوبائی چیف سیکریٹریز، چیف سیکریٹری گلگت بلتستان، چیف سیکریٹری آزاد کشمیر اور چیف کمشنر اسلام آباد کو ان فیصلوں پر سختی سے عمل درآمد کرنے کے لیے باقاعدہ خط لکھا تھا۔

وزارتِ داخلہ کے اس مقتدر خط میں تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، متعلقہ پولیس حکام اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کو اس فیصلے پر من و عن عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ضروری اور ہنگامی ہدایات جاری کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد اب کسی بھی غیر قانونی تارکِ وطن کو ملک میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور قانون کے مطابق سخت تزویراتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

لیونل میسی کا ریکارڈ توڑ کر ورلڈ کپ کی تاریخ میں تیز ترین 20 گول کرنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے؛ ناک آؤٹ میچز میں 12 گول کا نیا عالمی سنگِ میل

محمود احمد, JULY 10,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

فرانسیسی فٹ بال ٹیم کے مقتدر کپتان اور دنیا کے صفِ اول کے اسٹار فٹ بالر کیلین ایمباپے نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پہلے کوارٹر فائنل میں مراکش کے خلاف شاندار گول کر کے فٹ بال کی تاریخ میں متعدد نئے اور تاریخی عالمی اعزازات اپنے نام کر لیے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق، 27 سالہ فرانسیسی کپتان کیلین ایمباپے نے مراکش کے خلاف تزویراتی میچ کے 60 ویں منٹ میں ایک شاندار گول اسکور کیا، اور اس کے ساتھ ہی وہ فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں تیز ترین 20 گول مکمل کرنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔

تزویراتی اعداد و شمار کے مطابق، کیلین ایمباپے نے صرف 20 ورلڈ کپ میچز کھیل کر اپنے 20 گول مکمل کیے، اور اس مقتدر کارنامے کے ساتھ انہوں نے ارجنٹائن کے مایہ ناز فٹ بالر لیونل میسی کا تاریخی ریکارڈ بھی توڑ دیا، جنہوں نے یہ سنگِ میل 30 ورلڈ کپ میچز کھیل کر حاصل کیا تھا۔ ایمباپے نے یہ حیران کن کارنامہ اپنے تین ورلڈ کپ ایڈیشنز (2018، 2022 اور 2026) کے دوران انجام دیا۔ اس کے ساتھ ہی کیلین ایمباپے 27 سال اور 201 دن کی عمر میں ورلڈ کپ کی تاریخ میں 20 گول اسکور کرنے والے دنیا کے کم عمر ترین فٹ بالر بھی بن گئے ہیں۔ انہوں نے اب تک 2018 کے ورلڈ کپ میں 4، 2022 میں 8 اور رواں ٹورنامنٹ 2026 میں اب تک 8 گول اسکور کیے ہیں۔

اس شاندار کارکردگی کی بدولت کیلین ایمباپے فیفا ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ میچز میں سب سے زیادہ گول کرنے والے دنیا کے واحد کھلاڑی بن گئے ہیں، جہاں وہ ناک آؤٹ مرحلوں میں اب تک مجموعی طور پر 12 مقتدر گول اسکور کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ فرانس کی جانب سے بین الاقوامی فٹ بال میں 100 گولز میں براہِ راست کردار (گول کنٹریبیوشن) ادا کرنے والے پہلے فرانسیسی کھلاڑی بن گئے ہیں، جن کے نام اب 64 انفرادی گول اور 36 گول اسسٹ موجود ہیں۔ رواں ورلڈ کپ 2026 میں 8 گول اور 3 اسسٹ کے ساتھ کیلین ایمباپے 1966 کے بعد پہلے فٹ بالر بن گئے ہیں جنہوں نے دو مختلف ورلڈ کپ ایڈیشنز میں 10 سے زائد گول کنٹریبیوشنز ریکارڈ کیں۔ ناک آؤٹ مرحلے میں ان کے مجموعی 14 گول کنٹریبیوشنز بھی اب لیونل میسی کے برابر ہو گئے ہیں، جو گزشتہ 60 برسوں میں مشترکہ طور پر دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔

ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے ایس ایم ای سیکٹر کو قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کیا جائے، وزیراعظم شہباز شریف

کاشف عباسی , JULY 10,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے مختلف پیداواری شعبوں کو آسان شرائط پر مالی سہولیات کی فراہمی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے ملک کے تمام بینکوں کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ ترجیحی شعبوں بالخصوص ایس ایم ای سیکٹر کے لیے قرضوں کے اجراء میں نمایاں اضافہ کریں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت پاکستان میں ‘ایکسیس ٹو فائنانس’ کے فروغ کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی اجلاس جمعہ کو یہاں منعقد ہوا۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اجلاس میں وزیراعظم کو ‘ایکسیس ٹو فائنانس پلان’ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور معاشی استحکام سے پائیدار معاشی ترقی کے سفر کو تیز کرنے کے لیے پلان کی ترجیحات اور اہداف پر روشنی ڈالی گئی۔

بریفنگ میں مقتدر حکام کو بتایا گیا کہ اس اہم منصوبے کا مرکزی نکتہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز)، زراعت، برآمدات، قابل تجدید توانائی، ہاؤسنگ اور آئی ٹی کے شعبوں کے لیے آسان قرضوں اور کریڈٹ تک رسائی کو بڑھانا ہے، تاکہ برآمدات میں اضافہ، پائیدار معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ اس تزویراتی منصوبے پر عملدرآمد کے لیے وزارتِ خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں پر مشتمل پورے نظام پر مبنی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ وفاقی وزیرِ خزانہ اس نئے گورننس اسٹرکچر کی سربراہی کریں گے جبکہ گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس کے شریک سربراہ ہوں گے۔ اس اسٹرکچر کے تحت باقاعدہ اجلاس منعقد ہوں گے اور وزیراعظم کو ہر ماہ اس تزویراتی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ کیا جائے گا، جس کے تحت اگلے 2 سال کے لیے پرعزم اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایس ایم ای سیکٹر ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور آسان شرائط پر فنڈز کی دستیابی سے ہی برآمدات پر مبنی معیشت کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مالی سہولیات کی فراہمی میں بہتر اور بہترین کارکردگی دکھانے والے بینکوں کی حکومتی سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے گی، جبکہ اس پلان پر پیش رفت کے حوالے سے ماہانہ جائزہ اجلاس کی صدارت وہ خود کریں گے۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اس پلان کے تحت نجی شعبے کے مجموعی قرضوں میں ایس ایم ای سیکٹر کا حصہ موجودہ 7 فیصد سے بڑھا کر اگلے 2 سال میں 10 فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ایس ایم ای شعبے میں قرضوں سے مستفید ہونے والے افراد اور کاروباروں کی تعداد کو 310,000 سے بڑھا کر اگلے 2 سال میں 750,000 تک پہنچایا جائے گا۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، پاکستانی بینکوں کے صدور و سی ای اوز ، صوبائی چیف سیکرٹریز اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی اور معاشی استحکام کے اس تزویراتی روڈ میپ پر مکمل یکسوئی کا اظہار کیا۔

لاہور میں پیپلز پارٹی کا کم بیک، 25 جولائی کو مینارِ پاکستان پر تاریخی جلسہ کریں گے، صدر پی پی پی وسطی پنجاب راجہ پرویز اشرف

منصور احمد, JULY 10,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) وسطی پنجاب کے صدر اور مقتدر رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا 25 جولائی کو مینارِ پاکستان پر ہونے والا جلسہ انتہائی کامیاب اور تاریخی ہو گا۔ وہ جمعہ کے روز پیپلز پارٹی لاہور ڈویژن کے زیرِ اہتمام جوہر ٹاؤن آفس میں 25 جولائی کے جلسے کی تیاریوں، پی پی پی لاہور کی نئی ویب سائٹ کے باقاعدہ افتتاح اور ٹاؤن عہدیداروں سے ملاقات کے موقع پر تزویراتی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں میاں شاہد عباس، مجید غوری، خرم فاروق، احمد گھمن، اسجد ملک، اصغر بھٹی، منیر ڈگرہ، عامر نصیر بٹ، آغا تقی، شاہدہ جبیں، طاہرہ جالب، حسن اشرف، شاویز ندیم، احمد رضا شاہ، ازین گلزار، رانا ٹیپو، افراز نقوی سمیت جیالوں اور کارکنوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔

تقریب کے دوران عمران ڈوگر نے پیپلز پارٹی لاہور کی نئی ویب سائٹ پر مقتدر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ویب سائٹ پر اب تک 66 ہزار 946 ممبرز کی رکنیت مکمل کر لی گئی ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے اپنے خطاب میں پی پی لاہور کے صدر فیصل میر کے مینارِ پاکستان جلسے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج کارکنوں کی تیاریاں دیکھ کر واضح ہے کہ یہ ایک مقتدر جلسہ ہو گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اگلے 15 دن ہر کارکن جلسے کی بھرپور منصوبہ بندی کرے، کوئی ورکر اکیلا نہ جائے بلکہ اپنے ساتھ فیملی، دوستوں اور ساتھیوں کو لے کر آئے، میں خود بھی جلسے میں پارٹی پرچم اٹھا کر شریک ہوں گا۔ انہوں نے واشگاف کیا کہ سب کو ساتھ لے کر چلنا ہی اصل لیڈر شپ ہوتی ہے۔

پی پی لاہور کے صدر فیصل میر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ 25 جولائی کو لاہور کے 10 ٹاؤنوں سے جیالوں کے مقتدر قافلے مینارِ پاکستان پہنچیں گے، جہاں ہر ٹاؤن کو 10 ہزار کارکن لانے کا ہدف دیا گیا ہے اور جلسے کے انتظامی امور کے لیے 25 کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جلسے کی رات صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا جائے گا۔ جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عائشہ شوکت اور مجید غوری نے بھی خطاب کرتے ہوئے قیادت کو یقین دلایا کہ لاہور میں پی پی پی کی مقتدر تبدیلی نظر آئے گی اور جلسے کے دن 10 ہزار رکشوں پر پیپلز پارٹی کا جھنڈا لہرایا جائے گا۔ قبل ازیں، راجہ پرویز اشرف کی آمد پر فیصل میر اور ڈاکٹر عائشہ نے ان کا شاندار استقبال کیا اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔

اسلام آباد میں او آئی سی کی خواتین سے متعلق 9 ویں وزارتی کانفرنس کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے انتظامات کا جائزہ لیا

کاشف عباسی , JULY 10,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 12 اور 13 جولائی کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی خواتین سے متعلق 9 ویں وزارتی کانفرنس کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی کے آٹھویں اجلاس کی صدارت کی ہے۔ جمعہ کو دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اجلاس کے دوران اس بین الاقوامی کانفرنس کے پروقار انعقاد کے لیے حتمی تیاریوں کا تفصیلی اور تزویراتی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران سیکرٹری انسانی حقوق نے کانفرنس کے مجموعی پروگرام، غیر ملکی وفود کی سہولت، سفارتی پروٹوکول، فول پروف سکیورٹی، لاجسٹکس، میڈیا انتظامات اور بین الوزارتی مؤثر رابطہ کاری سے متعلق کیے گئے انتظامات پر ایک جامع بریفنگ دی، تاکہ کانفرنس کا انعقاد مکمل خوش اسلوبی اور کامیابی کے ساتھ یقینی بنایا جا سکے۔ نائب وزیرِاعظم سینیٹر اسحاق ڈار نے متعلقہ کونسل اور حکام کی محنت اور کاوشوں کو مقتدر الفاظ میں سراہتے ہوئے خصوصی ہدایت کی کہ دنیا بھر سے اس اہم کانفرنس میں شرکت کے لیے آنے والے معزز وفود کے قیام کو ہر ممکن حد تک آرام دہ اور خوشگوار بنایا جائے اور انہیں روایتی پاکستانی مہمان نوازی کے مطابق بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔

اس اعلیٰ سطحی تزویراتی اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف، وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، سیکرٹری خارجہ، سیکرٹری انسانی حقوق اور متعلقہ وزارتوں کے دیگر سینئر اور مقتدر حکام نے بھی شرکت کی اور انتظامات کو فول پروف بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

وفاقی وزیر احسن اقبال کی صدارت میں گلیشیائی جھیلوں کے ٹوٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کا جائزہ؛ جان و مال اور انفراسٹرکچر کا تحفظ اولین ترجیح

منصور احمد, JULY 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر قائم کردہ ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا دوسرا اہم ترین اجلاس نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں مون سون 2026 کے دوران شہریوں کے جان و مال اور قومی انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے مقتدر و مربوط حکمت عملی اپنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے ویڈیو لنک کے ذریعے کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، چیئرمین این ڈی ایم اے اور متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کے مقتدر نمائندگان نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران ایمرجنسی رسپانس کمیٹی نے مون سون 2026 کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے اب تک کی گئی تزویراتی تیاریوں اور ہنگامی ردعمل کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر صوبائی اداروں کے نمائندوں کی جانب سے مون سون کے دوران ممکنہ سیلابی و دیگر خطرات سے نمٹنے اور بالخصوص شمالی علاقہ جات میں محفوظ سیاحت کو یقینی بنانے کے حوالے سے کی گئی انتظامی تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ مقتدر حکام کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں حالیہ درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کے باعث شمالی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (گلوف)، لینڈ سلائیڈنگ اور پہاڑی ملبے کے بہاؤ کے شدید خدشات موجود ہیں، جس کے لیے پیشگی حفاظتی اقدامات اٹھانا انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے۔

وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے اجلاس سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے بہترین پیشگی منصوبہ بندی، بروقت اقدامات اور تمام اسٹیک ہولڈرز و انتظامی اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کی ضرورت پر خصوصی زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی سطح پر مؤثر رابطہ کاری اور بروقت ردعمل کے تزویراتی نظام کو مزید فعال اور مضبوط بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناگہانی یا ہنگامی صورتحال میں انسانی جانوں اور بنیادی ڈھانچے کے نقصان کو کم سے کم رکھا جا سکے۔ این ڈی ایم اے کے حکام نے تمام وفاقی و صوبائی اداروں کے تعاون سے ملک بھر میں جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکنہ مقتدر اقدامات اٹھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کیس: وفاقی آئینی عدالت کا 10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری، نسلہ ٹاور مسماری کے عدالتی احکامات واپس

منصور احمد, JULY 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

وفاقی آئینی عدالت نے کراچی میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق مقدمے کا 10 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے نسلہ ٹاور کی مسماری کا سبب بننے والے سپریم کورٹ کے 21 دسمبر 2018 اور 22 جنوری 2019 کے احکامات باقاعدہ واپس لے لیے ہیں۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں جاری کیے گئے اس مقتدر فیصلے میں واشگاف طور پر قرار دیا گیا ہے کہ عدالتیں اپنے سامنے موجود اصل تنازع تک ہی محدود رہیں اور غیر ضروری معاملات میں مداخلت سے گریز کریں۔ تحریری فیصلے کے مطابق، سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی طور پر لیاری کی ایک غیر قانونی عمارت سے متعلق اپیل زیر سماعت تھی، تاہم عدالت نے اس مقدمے کا دائرہ کار پہلے پورے لیاری اور پھر تزویراتی طور پر پورے کراچی شہر تک وسیع کر دیا۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ سپریم کورٹ نے زیر سماعت مقدمے سے آگے بڑھ کر غیر قانونی شادی ہالز، شاپنگ سینٹرز، مارکیٹس اور کراچی ماسٹر پلان کے خلاف تعمیرات کو مسمار کرنے جیسے وسیع احکامات جاری کیے، جو عدالتی اختیارات سے تجاوز کے مترادف تھے۔

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے مقتدر فیصلے میں قرار دیا کہ بلڈنگ قوانین اور تعمیرات سے متعلق جملہ معاملات صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، جبکہ آئین اور قانون سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) اور سندھ حکومت کو غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرنے کا قانونی پابند بناتے ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر قانونی نظام اور متعلقہ انتظامی ادارے پہلے سے موجود ہیں، اس لیے مروجہ قانون کے مطابق انہی اداروں کو اپنی تزویراتی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہییں۔ عدالت نے مزید کہا کہ صرف ایس بی سی اے کی ابتدائی رپورٹ کی بنیاد پر کسی بھی عمارت کو مسمار کرنے کا یکطرفہ حکم نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ ہر شہری کا یہ بنیادی آئینی حق ہے کہ اس کے خلاف کوئی بھی کارروائی مکمل قانونی تقاضوں اور شفاف طریقہ کار کے مطابق عمل میں لائی جائے۔

عدالتی فیصلے میں تزویراتی طور پر واضح کیا گیا کہ وفاقی آئینی عدالت کسی بھی غیر قانونی تعمیر کو جائز قرار نہیں دے رہی، بلکہ یہ اصول طے کر رہی ہے کہ ایسی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے لیے قانون اور ضابطہ پہلے سے موجود ہے، جس پر صرف متعلقہ اداروں کو ہی عملدرآمد کرنا چاہیے۔ عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ اصل مقدمہ لیاری کی ایک مخصوص عمارت سے متعلق تھا، جو فریقین کے مطابق اب غیر مؤثر ہو چکا ہے، لہٰذا سپریم کورٹ کی جانب سے اس مقدمے میں جاری کیے گئے تمام سابقہ احکامات واپس لیتے ہوئے کیس کو باقاعدہ نمٹا دیا گیا ہے۔ اس تحریری فیصلے کے ساتھ جسٹس سید ارشد حسین شاہ نے ایک اضافی نوٹ بھی تحریر کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق اور عوامی سہولیات کا تحفظ ریاست کی اولین اور مقتدر ذمہ داری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پارکس، کھیل کے میدان، گرین بیلٹس، فٹ پاتھ، ساحل اور دیگر عوامی مقامات کو غیر قانونی قبضوں اور غیر قانونی تبدیلیوں سے ہر صورت محفوظ بنایا جائے۔

اقوامِ متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر من و عن عملدرآمد کے لیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے، وزیراعظم شہباز شریف

کاشف عباسی , JULY 10,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر من و عن عملدرآمد اور عالمی امن، سلامتی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے بین الاقوامی قوانین اور کثیرالجہتی معاہدوں کے احترام کے حوالے سے پاکستان کے مستقل اور غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔ جمعہ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے امیدوار میکی سال نے یہاں وزیراعظم ہاؤس میں ایک اہم تزویراتی ملاقات کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے میکی سال کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کے لیے پاکستان کے پائیدار عزم کو دہرایا اور عالمی امور کو مقتدر انداز میں چلانے کے لیے اقوامِ متحدہ کے مرکزی کردار کے لیے پاکستان کی مضبوط اور اصولی حمایت کا واضح اظہار کیا۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ اقوامِ متحدہ کی آئندہ آنے والی قیادت، ادارے کے تین بنیادی اور اہم ترین ستونوں، یعنی عالمی امن و سلامتی، اقتصادی ترقی اور انسانی حقوق کو متوازن انداز میں آگے بڑھانے کے لیے اپنا مؤثر تزویراتی کردار ادا کرے گی۔

ملاقات کے دوران، سیکریٹری جنرل کے امیدوار میکی سال نے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اور دیگر شعبوں کے لیے پاکستان کی دیرینہ، تاریخی اور گراں قدر خدمات کو مقتدر الفاظ میں سراہا۔ انہوں نے عالمی امن کے فروغ اور بین الاقوامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جاری کوششوں میں پاکستان کی اعلیٰ قیادت کے تعمیری اور مثبت کردار کی تعریف کی، اور اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی استحکام کے لیے پاکستان کا کردار ہمیشہ تزویراتی اہمیت کا حامل رہا ہے۔

یوکرین تنازع میں بڑھتی ہوئی کشیدگی امن کے امکانات کو مزید معدوم کر رہی ہے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا واشگاف موقف

محمود احمد, JULY 09,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

پاکستان نے عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین تنازع کی لڑائی میں حالیہ شدید اضافہ اور جنگ کے دائرۂ کار میں مسلسل توسیع نہ صرف متاثرہ علاقوں میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے، بلکہ فریقین کے درمیان فاصلے، عدم اعتماد اور تزویراتی کشیدگی کو بھی ہوا دے رہی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں پُرامن مذاکرات کے لیے سیاسی گنجائش تیزی سے سکڑ رہی ہے اور امن کے امکانات مزید معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔

مقتدر تفصیلات کے مطابق، یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے آج اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے یوکرین سے متعلق منعقدہ خصوصی اجلاس میں پاکستان کا قومی بیانیہ پیش کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اس تنازع نے جس خطرناک اور تشویشناک رخ کو اختیار کر لیا ہے، اسے فوری طور پر تبدیل کرنے کی تزویراتی ضرورت ہے، اور اس کا بہترین راستہ فوجی ذرائع کو اپنانے کے بجائے سنجیدہ مکالمے اور سفارت کاری میں مزید سرمایہ کاری کرنا ہے۔

سفیر عثمان جدون نے کونسل کو بتایا کہ واضح طور پر اس ضمن میں بنیادی ذمہ داری تمام متعلقہ فریقین پر عائد ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں ہم ایک بار پھر فوری اور مکمل جنگ بندی اور سنجیدہ و بامعنی مذاکرات کی بلا تاخیر بحالی کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور بنیادی اصولوں، تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات اور متعلقہ کثیرالجہتی معاہدوں سے ہم آہنگ، باہمی طور پر قابلِ قبول اور پُرامن تصفیہ ہی خطے میں دیرپا امن کے حصول کا واحد قابلِ عمل تزویراتی راستہ ہے۔

انہوں نے سلامتی کونسل کے اراکین کے سامنے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کے اندر اور باہر، جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل تلاش کرنے کی بارہا کی جانے والی مقتدر اپیلیں اب تک بدقسمتی سے مؤثر ثابت نہیں ہو سکیں ہیں۔ اپنے تزویراتی بیان کے اختتام پر سفیر عثمان جدون نے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس عالمی تنازع کے منصفانہ، جامع، پائیدار اور پُرامن حل کے لیے کی جانے والی تمام بین الاقوامی کوششوں کی بلا تفریق حمایت جاری رکھے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت کوئٹہ میں صوبائی اپیکس کمیٹی کا مقتدر اجلاس، بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ

کاشف عباسی , JULY 09,026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت کوئٹہ میں صوبائی اپیکس کمیٹی کا ایک اعلیٰ سطحی اور مقتدر اجلاس منعقد ہوا، جس میں بلوچستان کی مجموعی امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی تزویراتی جائزہ لیا گیا۔ قومی ایکشن پلان (نیشنل ایکشن پلان) کے اس اہم ترین اجلاس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے علاوہ وفاقی وزرا عطا تارڑ، احد چیمہ، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور قانون نافذ کرنے والے مقتدر اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران صوبے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام سے متعلق کئی اہم تزویراتی فیصلوں اور انتظامی اقدامات کی منظوری دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس میں مقتدر اظہارِ خیال کرتے ہوئے واضح کیا کہ دہشت گردی کے فتنے کے مکمل خاتمے کے لیے ریاست اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے گی اور آخری فسادی و دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ بلا تفریق جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں پولیس اور فوج کے جوانوں سمیت متعدد شہری شہید ہوئے ہیں، اور افواجِ پاکستان نے ملکی سلامتی کے لیے بڑی قربانیاں دے کر اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا ہے، جس پر پوری قوم سکیورٹی فورسز کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے۔ وزیراعظم کا واشگاف الفاظ میں کہنا تھا کہ ان مزموم واقعات میں ہمارے مشرقی ہمسائے کا ہاتھ ہے، جہاں سے دہشت گرد تنظیموں کو اسلحہ اور فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ یہ دہشت گرد افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں بھی دہشت گردی کی کارروائیوں میں خارجی ملوث ہیں، تاہم ملک کی سیاسی و عسکری قیادت فتنہ الخوارج کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے مکمل طور پر یکسو ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال مئی میں معرکہ حق کی کامیابی اور پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیاں دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہیں، مگر شہدا کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی اور پاکستان جلد ترقی و خوشحالی کا گہوارہ بنے گا۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے میڈیا کو بتایا تھا کہ گزشتہ 4 روز کے دوران صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی کے 3 بڑے واقعات رونما ہوئے، جن میں 42 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ سکیورٹی فورسز کی بھرپور جوابی کارروائی میں 54 خارجیوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ ان بزدلانہ حملوں کا بنیادی مقصد شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانا تھا اور یہ سب کچھ بھارت کی سرپرستی میں کروایا جا رہا ہے، تاہم بلوچستان کے بہادر عوام اور فورسز نے دشمن کے اس ایجنڈے کا دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے اسے ناکام بنا دیا ہے۔

منی لانڈرنگ کے الزامات پر ارجنٹائن فٹ بال ایسوسی ایشن کے خلاف امریکا میں تحقیقات کا آغاز

محمود احمد, JULY 09,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے ارجنٹائن کی قومی فٹ بال ٹیم کی نگران تنظیم ‘ارجنٹائن فٹ بال ایسوسی ایشن’ کے خلاف منی لانڈرنگ کے سنگین الزامات کے تحت باقاعدہ تزویراتی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ارجنٹائن کی فٹ بال ایسوسی ایشن امریکی حکام کی زد میں ایک ایسے نازک وقت پر آئی ہے جب اسے 7 جولائی کو مصر کے خلاف کھیلے گئے راؤنڈ آف 16 کے ناک آؤٹ میچ میں شدید ترین دھاندلیوں اور ریفری کی جانب سے ارجنٹائن کو جتوانے کے لیے یکطرفہ فیصلوں کے باعث عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اس متنازع ترین میچ کے بعد ارجنٹائن کی ٹیم، متعلقہ ریفری اور فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا پر دنیا بھر کے کھیلوں کے حلقوں کی جانب سے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

ارجنٹائن کے معتبر اور صفِ اول کے اخبار ‘لا ناسیون’ کی جانب سے جاری کردہ تزویراتی رپورٹ کے مطابق، ایف بی آئی اس وقت فلوریڈا میں قائم کمپنی ‘ٹور پروڈ انٹر ایل ایل سی’ کے مالیاتی امور اور لین دین کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے، جو امریکا میں ارجنٹائن کی فٹ بال ایسوسی ایشن کے تجارتی و مالیاتی معاملات کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی بینکوں کے ذریعے منتقل کی جانے والی تقریباً 26 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم اس وقت وفاقی ادارے کی تحقیقات کا اصل مرکز ہے۔ حکام اس تزویراتی پہلو کا سراغ لگا رہے ہیں کہ آیا یہ مالیاتی ٹرانزیکشنز امریکی قوانین خصوصاً منی لانڈرنگ کے انسداد سے متعلق ضوابط کے خلاف تو نہیں کی گئیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس مجموعی رقم میں سے تقریباً 5 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مختلف نجی کمپنیوں اور افراد کو ایسی مبہم روش کے تحت منتقل کیے گئے جن کی کوئی ٹھوس یا قانونی وجہ فی الحال سامنے نہیں آ سکی، جس کے بعد ایف بی آئی نے متعلقہ بینکوں کے ریکارڈز اور مالی دستاویزات کو قبضے میں لے کر جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔ تحقیقاتی دستاویزات کے مطابق، جن بینکوں کے ذریعے یہ بھاری فنڈز منتقل کیے گئے ان میں سٹی بینک، بینک آف امریکہ، جے پی مورگن چیز، پی این سی بینک اور سائنووس بینک شامل ہیں۔ تاہم، رپورٹس میں ان بینکوں پر کسی بدعنوانی کا الزام نہیں ہے بلکہ ان کا نام صرف ان ٹرانزیکشنز کو پروسیس کرنے کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، اس بڑی مالیاتی انکوائری کا دائرہ کار اب ارجنٹائن فٹ بال ایسوسی ایشن کے مقتدر عہدیداروں تک پھیل گیا ہے، جن میں ایسوسی ایشن کے صدر کلاڈیو تاپیا کا نام بھی شامل ہے۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا آغاز کسی فرد کو مجرم قرار دینے کے مترادف نہیں ہوتا، تاہم یہ کسی بڑے مجرمانہ نیٹ ورک کی نشاندہی کی طرف ایک اہم تزویراتی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، ارجنٹائن کی ٹیم فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنل راؤنڈ میں سوئٹزرلینڈ کے خلاف میچ کھیلنے کی تیاریوں میں مصروف ہے، مگر اس نئے مالیاتی اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد اس تزویراتی تنازع نے دنیا بھر کے کھیلوں کے پریس اور شائقین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔

فرانس کے خلاف کوارٹر فائنل سے قبل مراکش کو بڑا دھچکا، اسماعیل صیباری انجری کے باعث باہر

محمود احمد, JULY 09,2026

بوسٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

مراکش کے مقتدر اور اسٹار فٹ بالر اسماعیل صیباری فرانس کے خلاف فیفا ورلڈ کپ 2026 کے انتہائی اہم کوارٹر فائنل میچ سے باہر ہو گئے ہیں، جس کی باقاعدہ تصدیق ٹیم کے ہیڈ کوچ محمد اوہابی نے کی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق، بوسٹن کے جلیٹ اسٹڈیم میں شیڈول مقتدر میچ سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے مراکش کے فٹ بال کوچ نے بتایا کہ اسماعیل صیباری کے علاوہ ٹیم کے تمام کھلاڑی 100 فیصد فٹ اور پُرعزم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ میچ اسماعیل صیباری کے لیے بہت جلدی آ گیا ہے لیکن امید ہے کہ وہ اگلے میچوں تک مکمل فٹ ہو جائیں گے۔

اسماعیل صیباری، جنہوں نے حال ہی میں ہالینڈ کے کلب پی ایس وی آئندھووین سے 50 ملین یورو (57 ملین ڈالر) کے عوض جرمن کلب بائرن میونخ میں شمولیت اختیار کی ہے، موجودہ فیفا ورلڈ کپ میں مراکش کے اہم ترین کھلاڑی رہے ہیں۔ انہوں نے گروپ اسٹیج کے تمام 3 میچوں میں شاندار گول کیے اور راؤنڈ آف 32 میں ہالینڈ کے خلاف پینلٹی شوٹ آؤٹ پر فیصلہ کن گول بھی داغا تھا، تاہم کینیڈا کے خلاف راؤنڈ آف 16 کے میچ میں وہ ہیمسٹرنگ انجری کا شکار ہو کر میدان سے باہر چلے گئے تھے۔

مراکش کی ٹیم 2022 کے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں فرانس کے ہاتھوں ملنے والی 0-2 کی شکست کا تزویراتی بدلہ لینے کے لیے میدان میں اترے گی۔ کوچ محمد اوہابی نے ان تجاویز کو مقتدر انداز میں مسترد کر دیا کہ کوارٹر فائنل تک پہنچنا ہی ان کی ٹیم کے لیے بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم کل کا میچ ہر حال میں جیتنا چاہتے ہیں اور سیمی فائنل میں جگہ بنانے کی پوری تزویراتی کوشش کریں گے۔ دوسری جانب مراکش اور ریال میڈرڈ کے مقتدر کھلاڑی ابراہیم ڈیاز کا کہنا تھا کہ وہ فرانس جیسی مضبوط ٹیم کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیار ہیں اور انہیں اپنی ٹیم پر پورا بھروسہ ہے۔ واضح رہے کہ اس میچ کی فاتح ٹیم سیمی فائنل میں اسپین یا بیلجیم کے مدِ مقابل آئے گی۔

پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات 56 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی ریکارڈ ترین سطح پر پہنچ گئیں، وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری

منصور احمد, JULY 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی مچھلی اور مچھلی سے تیار کی جانے والی مصنوعات کی برآمدات ریکارڈ 56 کروڑ 80 لاکھ امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ جمعرات کو جاری کردہ اپنے تزویراتی بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ تاریخی کامیابی حکومت کی بحری معیشت (بلیو اکانومی) کی اصلاحات، سمندری خوراک کی برآمدات میں اضافے اور بین الاقوامی معیار کے مطابق خوراک کی حفاظت اور اعلیٰ معیار کو یقینی بنانے کے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

وفاقی وزیر نے برآمدات کے باریک بین اعداد و شمار بتاتے ہوئے واضح کیا کہ برآمدات میں منجمد مچھلی سرفہرست رہی، جس سے 10 کروڑ 50 لاکھ 90 ہزار ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا، جبکہ منجمد اسکویڈ اور کٹل فش کی برآمدات 10 کروڑ 37 لاکھ 10 ہزار ڈالر، فش میل 8 کروڑ 31 لاکھ 20 ہزار ڈالر، جھینگا 6 کروڑ 21 لاکھ 40 ہزار ڈالر، کیکڑا 3 کروڑ 68 لاکھ 90 ہزار ڈالر، سارڈین 3 کروڑ 6 لاکھ 20 ہزار ڈالر، میکرل 2 کروڑ 26 لاکھ 70 ہزار ڈالر، فلیٹ فش 1 کروڑ 72 لاکھ 40 ہزار ڈالر، آکٹوپس 1 کروڑ 51 لاکھ 80 ہزار ڈالر اور سوریمی (قیمہ نما مچھلی کا گوشت) 1 کروڑ 46 لاکھ 30 ہزار ڈالر رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات کا بڑا حصہ چین، تھائی لینڈ، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات، جاپان، ویتنام، سعودی عرب، جنوبی کوریا، انڈونیشیا اور امریکہ بھیجا گیا۔

محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ خلیجی خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث علاقائی تجارت اور بحری نقل و حمل (لاجسٹکس) میں رکاوٹوں کے باوجود یہ ریکارڈ کامیابی حاصل کرنا پاکستان کے ماہی گیری کے شعبے، برآمدکنندگان اور متعلقہ اداروں کی استعداد کا ثبوت ہے۔ انہوں نے میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منصور علی وسان اور ان کی ٹیم کو بین الاقوامی معیار برقرار رکھنے اور برآمدی منڈیوں تک رسائی آسان بنانے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ وزارت بحری امور جلد ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کرے گی، جس میں ملک کے ٹاپ 10 فشریز ایکسپورٹرز کو وزیراعظم کی جانب سے تعریفی اسناد پیش کی جائیں گی۔ انہوں نے اس تاریخی کامیابی پر میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ، پاکستان فشریز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، فش پروسیسرز اور تمام متعلقہ فریقین کو مبارکباد پیش کی۔

بحری معیشت کے فروغ اور بین الاقوامی تجارت کی سہولت کے لیے کسٹمز نظام میں وسیع پیمانے پر اصلاحات نافذ، ممبر کسٹمز سید شکیل شاہ

محمود احمد, JULY 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ممبر کسٹمز سید شکیل شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم ٹاسک فورس کی سفارشات اور ایف بی آر میں جاری اصلاحات کے تحت بحری معیشت کے فروغ اور بین الاقوامی تجارت کو سہل بنانے کے لیے کسٹمز نظام میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کے نفاذ کا سلسلہ جاری ہے۔ وہ جمعرات کو یہاں وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے میری ٹائم افیئرز کے چیئرمین افتخار احمد راؤ اور سیکرٹری میری ٹائم افیئرز کے ہمراہ مشترکہ پریس بریفنگ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی میں میری ٹائم افیئرز کا بنیادی کردار ہے اور ٹاسک فورس کی نشاندہی پر بندرگاہوں سے متعلق متعدد اہم مسائل کے حل کے لیے مقتدر اقدامات کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں درآمدی سامان کی کلیئرنس کا دورانیہ 1 سال کے اندر 52.9 گھنٹوں سے کم ہو کر 18.3 گھنٹے رہ گیا ہے، جبکہ حکومت نے اس ہدف کو 12 گھنٹے تک لانے کا عزم کر رکھا ہے۔

سید شکیل شاہ نے بتایا کہ ٹاسک فورس کی سفارشات پر ملک کی بندرگاہوں پر کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی کے لیے فیس لیس نظام نافذ کیا گیا ہے، جس سے فی گڈز ڈیکلریشن اوسط ریونیو 16 فیصد اضافے کے بعد 6.8 ملین روپے سے بڑھ کر 7.7 ملین روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ درآمدی ٹیکسوں کی مجموعی وصولی میں 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے بڑے بحری جہازوں کو ایندھن کی فراہمی (بنکرنگ) کے مقتدر قواعد تیار کر کے کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں پر نافذ کر دیے گئے ہیں، جس سے بحری تجارت میں اضافہ ہو گا۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے قوانین اپ گریڈ کیے ہیں اور اب آف ڈاک ٹرمینلز سمیت بندرگاہوں پر مجموعی طور پر 50 ہزار کنٹینرز ذخیرہ کرنے کی گنجائش حاصل کر لی گئی ہے۔ مزید برآں، مقامی شپ بلڈنگ کے فروغ کے لیے ویسلز پر کسٹمز ڈیوٹی کے بعد اب نئے مالی سال کے بجٹ میں سیلز ٹیکس بھی مکمل ختم کر دیا گیا ہے۔

ممبر کسٹمز نے تزویراتی تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹل اصلاحات کے تحت دریائے سندھ کے اطراف ملک بھر میں 35 ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز قائم کیے جا رہے ہیں جو مشکوک، اسمگل شدہ اور ٹیکس چوری میں ملوث کارگو کی نگرانی کریں گے۔ ان مقتدر اقدامات کی بدولت پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی وصولیوں میں 124 ارب روپے اور سگریٹ پر درآمدی ڈیوٹی کی مد میں 51 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوا ہے، جبکہ ٹائروں کی قانونی درآمد میں 42 فیصد، فیبرکس میں 41 فیصد، کاسمیٹکس میں 75 فیصد اور الیکٹرانکس کی درآمدات میں 105 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ نظام میں شفافیت لانے کے لیے فریٹ فارورڈنگ ایجنٹس کی رجسٹریشن کے لیے پیشہ ورانہ امتحان کا انعقاد اب انسٹی ٹیوٹ آف بائننس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی کرے گا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان سنگل ونڈو، پیشگی کارگو ڈیکلریشن، این ایل سی کے ساتھ کنٹینرز اسکیننگ کے جدید نظام اور ریئل ٹائم ٹریکنگ سسٹم کی بدولت پاکستان کے بحری و تجارتی شعبے کو عالمی معیار کے مطابق تیار کیا جا رہا ہے۔

ترکیہ سے واپسی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غیر متوقع فیصلہ، سکیورٹی خدشات کے باعث اپنا طیارہ تبدیل کر لیا

کاشف عباسی , JULY 09,026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد ترکیہ سے وطن واپسی کے دوران اپنا طیارہ غیر متوقع طور پر تبدیل کر لیا ہے، جس کی بنیادی وجہ سنگین سکیورٹی خطرات بتائی گئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ترکیہ میں منعقدہ نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے قطر کی حکومت کی طرف سے تحفتاً دیے گئے اپنے نئے طیارے میں انقرہ پہنچے تھے۔ تاہم، واپسی کے تزویراتی سفر کے لیے انہوں نے اچانک اس طیارے کو استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے پرانے اور آزمودہ ‘ایئر فورس ون’ طیارے کے ذریعے برطانیہ تک کا سفر مکمل کیا۔

برطانیہ پہنچنے کے بعد صدر ٹرمپ نے وہاں سے امریکا تک کا بقیہ سفر دوبارہ اسی قطری تحفے والے طیارے میں کیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک مقتدر بیان میں اس غیر متوقع تبدیلی کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے انقرہ سے برطانیہ کے علاقے ملڈن ہال میں واقع رائل ایئر فورس کے فوجی بیس تک کا سفر اپنے پرانے ‘ایئر فورس ون’ طیارے میں کیا، جبکہ اس تزویراتی دورانئے میں ان کا نیا طیارہ اسی ایئر بیس پر محفوظ کھڑا رہا اور وہاں تعینات امریکی سکیورٹی فوجیوں نے اس کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔

واضح رہے کہ امریکا کے اعلیٰ سکیورٹی حکام نے قطر کی طرف سے امریکی صدر کو تحفتاً دیے گئے اس جدید طیارے کی پہلے بھی کئی مرتبہ تفصیلی جانچ پڑتال کی ہے۔ انقرہ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا باقاعدہ اعتراف کیا کہ انہیں موجودہ صورتحال میں ممکنہ طور پر ایران کی جانب سے شدید سکیورٹی خطرات لاحق ہیں، جس کی وجہ سے یہ حفاظتی تزویراتی اقدامات اٹھائے گئے۔

چین میں رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران نئی توانائی کی گاڑیوں کی پیداوار، فروخت اور برآمدات میں مستحکم اضافہ ریکارڈ

منصور احمد, JULY 09,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

چین میں رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران نئی توانائی کی گاڑیوں (نیو انرجی وہیکلز) کی پیداوار، فروخت اور بین الاقوامی برآمدات میں مقتدر و مستحکم اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے چائنا ایسوسی ایشن آف آٹوموبائل مینوفیکچررز کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ ترین تزویراتی اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ رواں سال جنوری سے جون تک کے عرصے میں چین کی آٹوموبائل صنعت نے نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کے شعبے میں بے پناہ ترقی کا مظائرہ کیا ہے۔ جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس 6 ماہ کے عرصے کے دوران چین میں نئی توانائی کی گاڑیوں کی مجموعی پیداوار 74 لاکھ 38 ہزار یونٹس جبکہ فروخت 74 لاکھ 46 ہزار یونٹس رہی، جو بالترتیب گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 6.7 فیصد اور 7.3 فیصد زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق، صرف جون کے مہینے میں نئی فروخت ہونے والی گاڑیوں کی مارکیٹ میں نئی توانائی کی گاڑیوں کا حصہ مجموعی طور پر فروخت ہونے والی تمام گاڑیوں کا تقریباً 60 فیصد رہا، جو کہ ماحول دوست اور جدید گاڑیوں کی طرف ایک مقتدر تزویراتی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ عالمی برآمدات کے حوالے سے جاری کردہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ جنوری سے جون تک چین نے دنیا بھر کے مختلف ممالک کو مجموعی طور پر 50 لاکھ 96 ہزار گاڑیاں برآمد کیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 65.3 فیصد کا مقتدر اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ ان برآمد کی جانے والی گاڑیوں میں سے صرف نئی توانائی کی گاڑیوں کی برآمدات کا حجم 23 لاکھ 55 ہزار رہا، جو سالانہ بنیادوں پر 1.2 گنا مقتدر و تاریخی اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

ایران کی جانب سے امریکی فوجی حملوں اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی شدید مذمت، سلامتی کونسل کو خط ارسال

محمود احمد, JULY 09,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

ایران نے امریکا کی جانب سے ایک بار پھر کی جانے والی مبینہ جارحانہ کارروائیوں اور اقوامِ متحدہ کے منشور سمیت تمام بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق، اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے سفیر امیر سعید ایروانی نے گزشتہ روز اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش اور جولائی کے مقتدر مہینے کے لیے سلامتی کونسل کے صدر کو ایک باقاعدہ خط ارسال کیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا نے ایک بار پھر جنوبی ایران میں واقع شہری تنصیبات پر بڑے پیمانے پر فوجی حملے کیے ہیں۔ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے کی جانے والی یہ نئی جارحانہ کارروائیاں اقوامِ متحدہ کے منشور کی دفعہ ۲ (۴) کی کھلی خلاف ورزی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق ۱ کی سنگین ترین خلاف ورزی ہیں۔

ایرانی مندوب سفیر امیر سعید ایروانی نے اپنے مقتدر خط میں تزویراتی موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ سویلین اور شہری تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا اور ایران کی خودمختاری کے خلاف طاقت کا مسلسل و غیر قانونی استعمال بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین ترین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاندانہ اقدامات امریکا کی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے مکمل انحراف اور توہین کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایرانی مندوب نے اپنے مقتدر بیانیے میں اس بات کا پرزور اعادہ کیا کہ ایران یہ واضح کر دینا چاہتا ہے کہ امریکا کی طرف سے طاقت کے اس غیر قانونی استعمال، اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تمام تر سنگین نتائج اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کی تمام تر اخلاقی و قانونی ذمہ داری براہِ راست امریکا پر عائد ہوتی ہے۔

سندر انڈسٹریل سٹیٹ میں معروف سنیکس یونٹ پر چھاپہ، تازہ مصنوعات کے ساتھ زائد المیعاد چاکلیٹ، بسکٹس اور کیکس ذخیرہ کرنے پر یونٹ بند

منصور احمد, JULY 09,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے شہریوں کی صحت کے تحفظ کے لیے ایک مقتدر تزویراتی کریک ڈاؤن کرتے ہوئے لاکھوں روپے مالیت کی ۱۲ ہزار ۴۸۱ کلو گرام زائد المیعاد چاکلیٹ، بسکٹس، کیکس، کوکیز، براونی، رس اور دیگر مضرِ صحت اشیائے خورونوش موقع پر تلف کر دی ہیں۔ ترجمان پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ بڑی کارروائی ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی سید موسیٰ رضا کی خصوصی ہدایت پر اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آپریشنز اسد اللہ کی براہِ راست نگرانی میں سندر انڈسٹریل سٹیٹ میں واقع ایک معروف سنیکس یونٹ پر چھاپہ مار کر کی گئی۔ کارروائی کے دوران معلوم ہوا کہ یونٹ میں تازہ مصنوعات کے ساتھ ساتھ بہت بڑی مقدار میں زائد المیعاد اشیا کو بدنیتی سے ذخیرہ کیا گیا تھا، جس پر کارروائی کرتے ہوئے یونٹ کو فوری طور پر بند کر دیا گیا اور برآمد شدہ تمام مال تلف کر دیا گیا۔

ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی سید موسیٰ رضا نے مقتدر تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ چھاپے کے دوران موقع پر تیار شدہ اشیا کی تیاری کا ریکارڈ اور ضروری سپلائی دستاویزات سرے سے موجود نہیں تھیں، جبکہ زائد المیعاد اشیا کو بحفاظت تلف کرنے کے لیے کوئی مؤثر نظام اور مروجہ ضابطہ اخلاق بھی دستیاب نہیں تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ متعدد مصنوعات کو بغیر کسی لازمی رجسٹریشن اور لیبل منظوری کے فروخت کے لیے تیار رکھا گیا تھا۔ اس کے علاوہ گودام میں صفائی ستھرائی کے انتہائی ناقص انتظامات، حشرات کی بہتات اور خوراک تیار کرنے والے عملے کے طبی و تربیتی اسناد کی عدم موجودگی بھی پائی گئی۔ سابقہ سرکاری ہدایات پر عملدرآمد نہ کرنے اور فوڈ قوانین کی مختلف سنگین خلاف ورزیوں پر یہ سخت ترین انتظامی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ سید موسیٰ رضا کا واشگاف الفاظ میں کہنا تھا کہ غیر محفوظ اور مضرِ صحت خوراک فروخت کرنے والوں کو قانون کے مطابق سخت ترین نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے احکامات کے مطابق عوام کی صحت ہماری اولین ترجیح ہے اور خوراک کے معیار پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

اقراء یونیورسٹی اور سرسید یونیورسٹی کے مابین تعلیمی، تحقیقی اور اختراعی شعبوں میں باہمی تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

روزینہ اسماعیل, JULY 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

اقراء یونیورسٹی اور سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ایک مقتدر تزویراتی پیش رفت کرتے ہوئے اپنے اپنے دفاتر برائے تحقیق، جدت اور تجارتی روابط کے ذریعے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں۔ اس مقتدر معاہدے کے تحت دونوں نامور جامعات کے درمیان تعلیمی، تحقیقی اور اختراعی شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ جاری کردہ آفیشل پریس ریلیز کے مطابق، اس شراکت داری کا بنیادی تزویراتی مقصد دونوں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے درمیان مشترکہ تحقیق، جدید جدت طرازی، علم کے تبادلے، صلاحیت سازی اور صنعت و جامعہ کے روابط کو مزید پائیدار اور مضبوط بنانا ہے۔

معاہدے کی تفصیلات کے مطابق، اس مقتدر شراکت داری کے تحت دونوں جامعات کے اساتذہ، محققین اور طلبہ کے لیے مشترکہ تحقیقی منصوبوں، جدید تربیتی پروگراموں، ورکشاپس، سیمینارز اور دیگر علمی و فکری سرگرمیوں کے انعقاد کے وسیع مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ یہ مفاہمتی یادداشت دونوں جامعات کے درمیان ایک مضبوط اور دیرپا تعلیمی شراکت داری کا آغاز ہے، جس کے ذریعے اعلیٰ سطح پر تحقیق، اختراع اور تجارتی سرگرمیوں کو فعال فروغ حاصل ہو گا۔ مقتدر حکام کا کہنا ہے کہ اس تزویراتی اشتراکِ عمل سے نہ صرف دونوں اداروں میں اعلیٰ تعلیم کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی بلکہ ملک میں جدید ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت اور قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے ایک نئی راہ ہموار ہو گی۔

عوام کو پرامن ماحول کی فراہمی اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا؛ وفد کی وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ سے ملاقات

منصور احمد, JULY 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثناء اللہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے ایک مقتدر اور اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی ہے، جس میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے آئندہ انتخابات، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حالیہ احتجاج کے بعد پیدا ہونے والی امن و امان کی صورتحال اور مجموعی سیاسی منظرنامے پر تفصیلی تزویراتی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق، اس مقتدر ملاقات کے دوران آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے متعدد مقتدر رہنماؤں نے باقاعدہ طور پر پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے کا تزویراتی اعلان کیا۔

ملاقات کے دوران وفد نے وفاقی وزیر کو آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی و انتظامی صورتحال سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا، اور اس کے ساتھ ہی مسلم لیگ (ن) کی آئندہ انتخابی مہم، عوامی رابطہ مہم اور پارٹی کی تنظیمی تیاریوں کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اس مقتدر موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ عوام کو اپنی آزادانہ رائے کے مطابق اپنے مقتدر نمائندے منتخب کرنے کے لیے ایک سازگار، محفوظ اور پرامن ماحول کی فراہمی تزویراتی طور پر ناگزیر ہے۔ انہوں نے وفد کو آزاد کشمیر میں مکمل شفاف، غیر جانبدار اور پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی پختہ یقین دہانی کرائی۔ رانا ثناء اللہ نے اپنے مقتدر بیانیے میں مزید کہا کہ عوام کے مقدس ووٹ کا تحفظ اور پورے انتخابی عمل کی ساکھ کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا، اور مسلم لیگ (ن) ایک بھرپور عوامی رابطہ مہم کے ذریعے آزاد کشمیر کے تمام انتخابی حلقوں میں پوری قوت کے ساتھ حصہ لے گی۔