فیفا ورلڈ کپ: انگلینڈ نے ناروے کا خواب چکنا چور کر دیا، جوڈ بیلنگھم کے دو شاندار گولز کی بدولت سیمی فائنل میں رسائی

محمود احمد, JULY 12,2026

میامی (نیوز اینڈ نیوز) — 12 جولائی 2026ء

فٹ بال کے سب سے بڑے تزویراتی میلے، 23ویں فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ایک انتہائی سنسنی خیز اور اعصاب شکن کوارٹر فائنل مقابلے میں انگلینڈ نے ناروے کو اضافی وقت میں 1-2 سے شکست دے کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ میامی کے مقتدر ہارڈ راک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس تاریخی میچ میں انگلش ٹیم کی فتح کے حقیقی ہیرو اسٹار مڈفیلڈر جوڈ بیلنگھم رہے، جنہوں نے اپنے شاندار کھیل اور دو یادگار گولز کی بدولت ٹیم کی کشتی کو پار لگایا۔

میچ کا آغاز دونوں ٹیموں کی جانب سے جارحانہ انداز میں ہوا، تاہم ناروے نے تزویراتی برتری حاصل کرتے ہوئے 36ویں منٹ میں آندریاس شیلڈروپ کے ایک خوبصورت گول کی بدولت 0-1 کی برتری حاصل کر کے اسٹیڈیم میں موجود انگلش مداحوں کو سکتے میں ڈال دیا۔ اس دباؤ کے باوجود انگلینڈ نے ہمت نہ ہاری اور اپنے حملے تیز کر دیے۔ پہلے ہاف کے اضافی وقت میں جوڈ بیلنگھم نے حریف ٹیم کے دفاع کو توڑتے ہوئے ایک شاندار گول داغ کر مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا۔ دوسرے ہاف میں دونوں مقتدر ٹیموں نے برتری حاصل کرنے کے لیے کئی خطرناک مووز بنائیں، لیکن دونوں جانب کا دفاع مضبوط ثابت ہوا اور مقررہ وقت تک اسکور 1-1 رہا، جس کے باعث میچ اضافی وقت میں داخل ہوگیا۔

اضافی وقت کے آغاز میں ہی، یعنی 93ویں منٹ میں، جوڈ بیلنگھم نے ایک مرتبہ پھر اپنی عالمی کلاس کا مظاہرہ کیا اور حریف گول کیپر کو چکمہ دیتے ہوئے گیند کو جال کی راہ دکھا کر انگلینڈ کو 1-2 کی فیصلہ کن برتری دلا دی۔ ناروے کی جانب سے دنیا کے بہترین اسٹرائیکرز میں شمار ہونے والے ارلنگ ہالینڈ پورے میچ میں انگلش دفاع کے لیے خطرہ بنے رہے، تاہم انگلینڈ کے تزویراتی بیک لائن نے انہیں گول کرنے کا کوئی واضح موقع نہ دیا۔ میچ کے آخری لمحات میں ناروے کا ایک ممکنہ گول بھی ہوا، لیکن وی اے آر کی مداخلت کے بعد اسے فاؤل قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔ اس فتح کے بعد اب سیمی فائنل میں انگلینڈ کا روایتی حریف ارجنٹینا سے بڑا تزویراتی ٹکراؤ ہوگا، جس پر دنیا بھر کے فٹ بال شائقین کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

یورپی یونین کے اشتراک سے 12 لاکھ یورو مالیت کا نیا منصوبہ ’’منزل‘‘ شروع، پاکستانی نوجوانوں کو کاروباری و سماجی قیادت کے لیے بااختیار بنایا جائے گا

محمود احمد, JULY 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

یورپی یونین کے مالی تعاون اور مقتدر اشتراک سے 12 لاکھ یورو مالیت کا ایک نیا انقلابی منصوبہ ’’منزل‘‘ کامیابی سے شروع کر دیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد پاکستانی نوجوانوں کو روزگار، کاروباری مواقع، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی تزویراتی صلاحیت اور کمیونٹی قیادت کے لیے جامع طور پر بااختیار بنانا ہے۔ لاہور اور کراچی میں باقاعدہ طور پر شروع کیے گئے اس تزویراتی منصوبے کے تحت راولپنڈی، لاہور، میرپورخاص اور سانگھڑ میں تقریباً 4 ہزار مستحق نوجوان خواتین و مردوں کو براہِ راست معاشی و تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی، جبکہ 40 نوجوانوں کی قیادت میں قائم مقامی تنظیموں کی استعداد کار (کیپیسٹی بلڈنگ) بھی بڑھائی جائے گی۔

جاری کردہ مقتدر تفصیلات کے مطابق، اس اہم منصوبے پر عملدرآمد ناروین چرچ ایڈ ، سول سوسائٹی سپورٹ پروگرام اور شراکت فاؤنڈیشن کے باہمی اشتراک سے کیا جا رہا ہے، جبکہ اس کی مکمل مالی معاونت یورپی یونین فراہم کر رہی ہے۔ منصوبے کا تزویراتی مقصد نوجوانوں کو صرف ترقیاتی پروگراموں کے روایتی مستفید افراد کے بجائے کامیاب کاروباری شخصیات، موسمیاتی تحفظ کے علمبردار، کمیونٹی رہنما اور مقامی طرزِ حکمرانی میں فعال شراکت دار بنانا ہے۔ اس پروگرام کے تحت نوجوانوں کو مارکیٹ کی جدید ضروریات سے ہم آہنگ مہارتیں، روزگار و کاروبار کے مواقع، قائدانہ صلاحیتوں کی تربیت اور مقامی سطح پر موسمیاتی مسائل کے پائیدار حل تیار کرنے میں مدد دی جائے گی۔ منصوبے میں خواتین، خصوصی افراد، خواجہ سرا برادری، مذہبی اقلیتوں اور معاشرتی طور پر محروم طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی شمولیت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین کے پاکستان میں قائم وفد کے قائم مقام سربراہ برائے تعاون ڈاکٹر سباستین لوریون نے کہا کہ یورپی یونین کو اس مقتدر منصوبے کی حمایت پر فخر ہے، کیونکہ جب نوجوانوں کو آواز، مواقع اور شناخت ملتی ہے تو معاشرے زیادہ مضبوط، جدید اور منصفانہ بنتے ہیں۔ ناروین چرچ ایڈ کے کنٹری ڈائریکٹر اسٹیفن کینٹ نے اپنے مقتدر خطاب میں کہا کہ “منزل” اس پختہ یقین پر مبنی ہے کہ نوجوان صرف ترقیاتی منصوبوں کے مستفید نہیں بلکہ تبدیلی کے حقیقی رہنما، اختراع کار اور دیرپا حل کے تزویراتی شراکت دار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نوجوانوں کی مہارتوں، تنظیموں اور سرکاری اداروں کے ساتھ روابط کو مضبوط بنا کر ایسے پائیدار حل میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے جن کے فوائد منصوبے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی مقامی آبادی کو مستقل حاصل ہوتے رہیں گے۔

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی تازہ کارروائیاں، مزید 5 خارجی دہشت گرد جہنم واصل

منصور احمد, JULY 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

سکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف مقتدر کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے علاقے میں تازہ تزویراتی آپریشنز کے دوران مزید 5 خارجیوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ معتبر سکیورٹی ذرائع کے مطابق، ‘آپریشن شعبان’ کے تحت ہفتہ کی شام تک کی جانے والی مؤثر کارروائیوں میں جہنم واصل ہونے والے اب تک کے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 57 ہو گئی ہے۔

سکیورٹی ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ تزویراتی تفصیلات کے مطابق، 5 جولائی سے اب تک جاری رہنے والے آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مجموعی طور پر فتنہ الخوارج کے 95 خارجی دہشت گردوں کو کامیابی سے جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔ سکیورٹی حکام نے اس مقتدر عزم کا اعادہ کیا ہے کہ صوبہ بلوچستان کے امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے والے عناصر کے خلاف یہ کارروائیاں بلا امتیاز جاری رکھی جائیں گی اور ملک سے آخری دہشت گرد کے مکمل خاتمے تک بلوچستان میں ‘آپریشن شعبان’ پوری تزویراتی قوت کے ساتھ جاری رہے گا۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد کا سوات کے تحصیل آفس بری کوٹ کا دورہ، مستحق خواتین سے ملاقات

کاشف عباسی , JULY 11,026

سوات / پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے سوات کے علاقے بری کوٹ میں بی آئی ایس پی تحصیل آفس کا دورہ کیا ہے۔ انہوں نے وہاں موجود مستحق خواتین سے تفصیلی ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور ان کے فوری تزویراتی حل کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر چیئرپرسن نے خواتین کو ڈیجیٹل والٹ کے محفوظ استعمال، مکمل ادائیگی وصول کرنے اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی کٹوتی سے محفوظ رہنے کے حوالے سے خصوصی طور پر آگاہ کیا۔

مقتدر تفصیلات کے مطابق، سینیٹر روبینہ خالد نے خواتین بینیفشریز کو بتایا کہ والٹ ایکٹیویشن فیس 280 روپے ہے۔ انہوں نے خواتین کو تسلی دیتے ہوئے واضح کیا کہ آپ کی امدادی رقم آپ کے ڈیجیٹل والٹ میں مکمل طور پر محفوظ رہتی ہے، اس لیے رقم نکالنے میں کسی قسم کی جلد بازی کی ضرورت نہیں۔ مستحق خواتین اپنی سہولت کے مطابق کسی بھی وقت متعلقہ بینک کے کسی بھی مجاز ریٹیلر سے اپنی مکمل رقم حاصل کر سکتی ہیں۔

سینیٹر روبینہ خالد نے دورے کے دوران ‘بینظیر فری سم’ کی تقسیم کے عمل کا بھی باریک بین جائزہ لیا اور عملے کو سخت تزویراتی ہدایات جاری کیں کہ تمام مستحق خواتین کو شفاف، باعزت اور بروقت خدمات فراہم کی جائیں اور ان کے وقار کا خاص خیال رکھا جائے۔ اس مقتدر موقع پر ڈائریکٹر جنرل بی آئی ایس پی خیبر پختونخوا الف جان آفریدی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے اور انہوں نے انتظامی امور پر بریفنگ دی۔

تیزی سے بڑھتی آبادی ماحولیاتی پائیداری اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سنگین خطرہ ہے، ترجمان وزارتِ موسمیاتی تبدیلی

منصور احمد, JULY 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے ترجمان اور ماحولیاتی پالیسی کے نامور ماہر محمد سلیم شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان میں آبادی میں تیز رفتار اضافہ ماحولیاتی پائیداری اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی قومی صلاحیت کے لیے ایک بڑا تزویراتی چیلنج بن چکا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے آبادی کے مؤثر انتظام کو موسمیاتی موافقت (کلائمیٹ ایڈاپٹیشن) اور پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ آبادی کے موقع پر کیا، جو ہر سال 11 جولائی کو تولیدی صحت، صنفی مساوات، انسانی حقوق اور پائیدار ترقی جیسے اہم موضوعات پر شعور اجاگر کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔

محمد سلیم شیخ نے مقتدر تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اقوامِ متحدہ نے سال 2026ء کے لیے ’’آج اور مستقبل میں نوجوانوں کی امیدوں اور امنگوں کو حقیقت کا روپ دینا‘‘ کو عالمی موضوع قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی مجموعی آبادی اب تقریباً 25 کروڑ 90 لاکھ ہو چکی ہے اور سالانہ شرحِ اضافہ 2.55 فیصد ہے، جبکہ یہاں ہر سال تقریباً 67 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں۔ ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر یہ موجودہ رجحان برقرار رہا تو آئندہ پانچ برسوں میں ملکی آبادی 30 کروڑ سے تجاوز کر جائے گی، جس سے پانی، صحت، تعلیم، رہائش، روزگار اور بنیادی شہری ڈھانچے پر غیر معمولی دباؤ بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی آبادی میں اضافے، شہری توسیع اور موسمیاتی تبدیلی کو پائیدار ترقی کے لیے بڑے چیلنجز قرار دے چکے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان میں شرحِ پیدائش 3.6 بچے فی خاتون ہے جو پورے جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ آبادی میں یہ بے ہنگم اضافہ پانی کی قلت، جنگلات کی کٹائی، زمینی انحطاط، حیاتیاتی تنوع میں کمی اور فضائی آلودگی کا باعث بن رہا ہے۔ محمد سلیم شیخ نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ موسمیاتی لچک (کلائمیٹ ریزیلینس) صرف شجرکاری یا سیلاب سے بچاؤ کے منصوبوں سے حاصل نہیں ہو سکتی، بلکہ اس کے لیے تعلیم، خواتین کی بااختیاری، خاندانی منصوبہ بندی، تولیدی صحت اور پائیدار شہری منصوبہ بندی میں تزویراتی سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ موجودہ حکومت تمام متعلقہ اداروں کے مقتدر تعاون سے ایسی مربوط پالیسیاں تشکیل دے رہی ہے جو ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنا سکیں۔

آپریشن بنیانٌ مرصوص کی کامیابی، تزویراتی استحکام اور سفارتی فتوحات ملک کے روشن مستقبل کی بنیاد ہیں؛ رائس یونیورسٹی اور جناح لائبریری ہیوسٹن میں خطاب

روزینہ اسماعیل, JULY 11,2026

ہیوسٹن / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے پاکستان کی تزویراتی تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے ’’اڑان پاکستان‘‘ کو ایک کھرب ڈالر کی معیشت کے حصول کا قومی روڈ میپ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ معاشی بحالی، قومی استحکام اور سفارتی کامیابیاں ملک کے روشن مستقبل کی مضبوط بنیاد بن چکی ہیں۔ وزارت کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، وفاقی وزیر احسن اقبال نے امریکا کی رائس یونیورسٹی میں طلبہ، اساتذہ، محققین اور پاکستانی برادری سے تزویراتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تین اہم قومی سنگ میل عبور کرنے کے بعد ترقی اور مواقع کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ‘آپریشن بنیانٌ مرصوص’ کی کامیاب تکمیل نے پاکستان کی تزویراتی بصیرت، قومی یکجہتی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کا بھرپور مظاہرہ کیا، جس سے ملک کے استحکام پر قومی اور بین الاقوامی اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقتدر کارروائی نے عالمی برادری کے سامنے بھارت کی جارحیت کو بے نقاب کیا، جبکہ پاکستان نے خطے میں امن، ذمہ داری اور تحمل پر مبنی اپنے مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔ پروفیسر احسن اقبال نے سنگاپور، جنوبی کوریا، چین اور خلیجی ممالک کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی سیاسی استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے حکومت کے اس مقتدر عزم کا اعادہ کیا کہ 2035ء تک پاکستان کو ایک کھرب ڈالر کی معیشت بنایا جائے گا۔

بعد ازاں، وفاقی وزیر نے ہیوسٹن میں جناح لائبریری میں پاکستانی نژاد امریکی برادری کے ہمراہ قائدِ اعظم محمد علی جناح اور شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی 150 ویں یومِ پیدائش کی مقتدر تقریبات میں شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے سال 2026ء کو ‘سالِ قائدِ اعظم’ قرار دیا ہے تاکہ بانیانِ پاکستان کی 150 ویں سالگرہ قومی و عالمی سطح پر شایانِ شان انداز میں منائی جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اڑان پاکستان کے ذریعے حکومت بانیانِ پاکستان کے وژن کو عملی شکل دے رہی ہے، جو علم پر مبنی معیشت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر مرکوز ہے۔ اس موقع پر قائداعظم اکیڈمی نے قومی خدمات کے اعتراف میں وفاقی وزیر احسن اقبال کو اپنا اعلیٰ ترین اعزاز “جناح کیپ” پیش کیا۔ اپنے دورے کے دوران وفاقی وزیر نے ابنِ سینا فاؤنڈیشن کے چیئرمین نصرالدین روپانی سے بھی ایک اہم تزویراتی ملاقات کی، جس میں زچہ و بچہ کی صحت اور انسانی ترقی کے اشاریوں کو بہتر بنانے کے لیے باہمی تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

آبادی میں غیر معمولی اضافہ معیشت اور وسائل کے لیے بڑا چیلنج ہے، پائیدار مستقبل کے لیے فوری منصوبہ بندی لازم ہے، سینیٹر شیری رحمان

منصور احمد, JULY 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی مقتدر نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کی معیشت، محدود وسائل اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ایک سنگین تزویراتی چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اور ہم آہنگ اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ عالمی یومِ آبادی (ورلڈ پاپولیشن ڈے) کے موقع پر جاری کردہ اپنے ایک تزویراتی پیغام میں انہوں نے بتایا کہ عالمی آبادی 8 ارب 20 کروڑ جبکہ پاکستان کی آبادی تقریباً 25 کروڑ 90 لاکھ ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن چکا ہے۔

سینیٹر شیری رحمان نے واضح کیا کہ پاکستان کی سالانہ آبادی کی شرحِ نمو 2.55 فیصد ہے جبکہ ملک میں فرٹیلیٹی کی شرح 3.6 تک پہنچ گئی ہے، جو بدقسمتی سے پورے جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آبادی میں اضافے کا موجودہ رجحان اسی طرح جاری رہا تو 2050ء تک پاکستان کی مجموعی آبادی تقریباً 39 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے، اس لیے بروقت اور مقتدر منصوبہ بندی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تیز رفتار اضافہ پانی کے وسائل، غذائی تحفظ، صحت، تعلیم، رہائش اور روزگار کے مواقع پر شدید دباؤ کا باعث بن رہا ہے، لہٰذا حکومت خاندانی منصوبہ بندی کو قومی بجٹ، معاشی منصوبہ بندی اور ترقیاتی پالیسیوں کا لازمی حصہ بنائے۔

سماجی و معاشی چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہوئے پی پی پی کی مقتدر رہنما نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں 5 سال سے کم عمر کے تقریباً 40 فیصد بچے غذائی کمی کی وجہ سے نشوونما میں رکاوٹ (اسٹنٹنگ) کا شکار ہیں، جبکہ ملک کی تقریباً 42 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اس کے علاوہ، سال 2025ء کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ پاکستانیوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا رہا ہے اور غیر کنٹرول شدہ آبادی اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبادی کی نمو صرف خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر خاندان اور پوری قوم کی فکر ہے۔

اپنے مقتدر پیغام کے اختتام پر سینیٹر شیری رحمان نے تاکید کی کہ آبادی کی نمو کو منظم کرنا موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت اور غذائی تحفظ کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے پارلیمان، صوبائی حکومتوں، مذہبی علماء، اساتذہ، ڈاکٹروں اور سول سوسائٹی سے پرزور اپیل کی کہ وہ مل کر عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کریں، کیونکہ درست پالیسی سازی اور انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کے ذریعے ہی اس آبادی کو بوجھ کے بجائے ایک حقیقی قومی تزویراتی طاقت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

تیزی سے بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی ملک کا قیمتی اثاثہ ہے، تعلیم و ہنر فراہم کر کے معاشی استحکام کا ضامن بنایا جا سکتا ہے، طاہر ایوب

روزینہ اسماعیل, JULY 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے قائم مقام صدر طاہر ایوب نے کہا ہے کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے، جسے معیاری تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، جدید مہارتوں اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کر کے قومی ترقی اور معاشی استحکام کا ضامن بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ آبادی میں اضافے کو چیلنج کے بجائے معاشی مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے ایک جامع قومی حکمتِ عملی اختیار کی جائے تاکہ پاکستان اپنی آبادیاتی صلاحیت سے بھرپور استفادہ کر سکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو عالمی یومِ آبادی کے موقع پر چیمبر ہاؤس میں مختلف کاروباری وفود سے تزویراتی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ طاہر ایوب نے کہا کہ عالمی یومِ آبادی اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ پائیدار ترقی کے لیے آبادی میں اضافے، انسانی وسائل کی ترقی اور معاشی منصوبہ بندی کے درمیان متوازن ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ کسی بھی قوم کی حقیقی طاقت صرف اس کی آبادی کی تعداد میں نہیں بلکہ اس بات میں مضمر ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تعلیم، ہنر اور مواقع فراہم کر کے قومی ترقی میں کس حد تک مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نوجوان آبادی کے لحاظ سے دنیا کے اہم ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک غیر معمولی موقع فراہم کرتی ہے، تاہم اگر انسانی وسائل کی ترقی پر بروقت سرمایہ کاری نہ کی گئی تو یہی آبادی معاشی اور سماجی مسائل میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نجی شعبہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، نوجوانوں میں کاروباری رجحان پیدا کرنے اور افرادی قوت کی استعداد بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ قائم مقام صدر آئی سی سی آئی نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسیوں کا تسلسل، معاشی استحکام اور کاروبار دوست ماحول ہی سرمایہ کاری میں اضافے اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے صنعتی شعبے، انفارمیشن ٹیکنالوجی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور برآمدات پر مبنی صنعتوں کی مقتدر سرپرستی پر زور دیا۔

اس تزویراتی موقع پر آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد عرفان چوہدری نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو فنی تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، ڈیجیٹل مہارتوں اور کاروباری صلاحیتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط اور فعال ایس ایم ای سیکٹر، سازگار حکومتی پالیسیوں اور آسان مالیاتی سہولیات کی بدولت لاکھوں نئے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، جو ملک میں جامع اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

یوکرین تنازع میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش، فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات بحال کریں، اقوامِ متحدہ میں چین کا مطالبہ

محمود احمد, JULY 11,2026

اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب سن لی نے یوکرین تنازع میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے پھیلاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کریں، جنگی شدت میں کمی لائیں اور جلد از جلد امن مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کریں۔ چینی خبر رساں ادارے ‘شنہوا’ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اور تزویراتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سن لی نے کہا کہ حالیہ عرصے میں دونوں فریقوں کی جانب سے زیادہ شدت اور بڑے دائرۂ کار میں فوجی حملے کیے جا رہے ہیں، جن کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا زیاں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

چینی مندوب نے واضح کیا کہ چین شہریوں اور سویلین تنصیبات پر ہونے والے ہر قسم کے حملوں کی مقتدر الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور تمام متعلقہ فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے حملے بند کریں۔ انہوں نے واشگاف کیا کہ حالیہ دنوں میں فریقین فوجی محاذ آرائی اور جوابی کارروائیوں کے ایک خطرناک چکر میں پھنس چکے ہیں، جس سے نہ صرف عام شہری شدید مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں بلکہ نفرت اور کشیدگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث امن مذاکرات کی راہ مزید دشوار بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کریں۔

سن لی نے اپنے خطاب میں کہا کہ فریقین کو سیاسی عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلد از جلد مذاکرات بحال کرنے چاہییں اور ایک جامع، دیرپا اور قابلِ عمل امن معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ چونکہ دونوں فریقوں کو اپنے اپنے سکیورٹی خدشات لاحق ہیں، اس لیے اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں کے مطابق ایک ایسا مشترکہ تزویراتی حل تلاش کیا جانا چاہیے جو دونوں جانب کے سکیورٹی مفادات کا احترام کرے اور خطے میں متوازن، مؤثر اور پائیدار سکیورٹی نظام کے قیام کو یقینی بنائے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ چین یوکرین بحران کے سیاسی حل کے لیے اپنے غیر جانبدار اور منصفانہ مؤقف پر قائم ہے اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر اس بحران کے جلد حل کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

امریکا کا افغان طالبان کی ‘یرغمال بنانے کی پالیسی’ پر شدید تشویش کا اظہار، تمام بے قصور امریکی شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ

محمود احمد, JULY 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

امریکا نے افغان طالبان رجیم کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کو یرغمال بنا کر سیاسی مفادات حاصل کرنے کا معاملہ ایک بار پھر عالمی سطح پر اٹھا دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان الزبتھ اسٹکنی نے افغان رجیم پر شدید تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغان طالبان اب بھی غیر ملکی شہریوں کو ”یرغمال بنانے کی پالیسی“ پر عمل پیرا ہیں، جو کہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ترجمان نے مطالبہ کیا کہ افغان طالبان اس “ہوسٹیج ٹیکنگ پالیسی” کے تحت قید تمام بے قصور امریکی شہریوں کو فوری طور پر رہا کریں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان کے مطابق، افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکا کے اہم ترین قومی مفادات میں شامل ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ الزبتھ اسٹکنی نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے انسانی حقوق کی بدترین صورتحال پر طالبان رجیم کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کے دورِ حکومت میں خواتین کے حقوق کی صورتحال انتہائی خوفناک ہے، لہٰذا طالبان رجیم خواتین اور معصوم بچیوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں فوری طور پر بند کرے۔

عالمی مبصرین اور ماہرین کے مطابق، افغان طالبان رجیم کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کو یرغمال بنا کر انہیں سیاسی دباؤ اور تزویراتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا عالمی قوانین اور سفارتی اصولوں کی کھلی منافی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی انتہا پسندی، دہشت گردوں کی مبینہ سرپرستی اور بنیادی انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں نے اسے دنیا بھر میں شدید سفارتی تنہائی کا شکار کر دیا ہے، جس سے نکلنے کے لیے انہیں اپنے مقتدر رویوں پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔

ملک گیر کریک ڈاؤن: اے این ایف کی بڑی کارروائیاں، 3 کروڑ 82 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی منشیات برآمد، 2 خواتین سمیت 10 ملزمان گرفتار

منصور احمد, JULY 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے ملک کے مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کو مزید تیز کرتے ہوئے مختلف مقتدر کارروائیوں میں 3 کروڑ 82 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی مجموعی طور پر 487.31 کلو گرام منشیات برآمد کر کے 2 خواتین سمیت 10 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ اے این ایف کے مقتدر ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق، منشیات کے عالمی نیٹ ورکس اور اسمگلرز کے خلاف یہ تزویراتی کارروائیوں ملک کے مختلف ایئرپورٹس اور شاہراہوں پر عمل میں لائی گئیں۔

ترجمان کے مطابق، پہلی بڑی کارروائی پشاور کے باچا خان ایئرپورٹ پر کی گئی، جہاں جدہ جانے والی 2 خواتین سمیت 3 مسافروں کے سفری بیگ کی تلاشی کے دوران 1.960 کلو گرام اعلیٰ معیار کی آئس برآمد کر کے ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا۔ اسی طرح اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی ایک تزویراتی کارروائی کے دوران جدہ جانے والے 3 دیگر مسافروں کے بیگ میں موجود کپڑوں میں تیکنیکی طور پر جذب کی گئی 6.55 کلو گرام آئس برآمد کر کے ملزمان کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ شاہراہوں پر کی گئی کارروائیوں میں رنگ روڈ پشاور کے قریب ایک مشکوک ٹرک سے 410.4 کلو گرام چرس، جبکہ ملتان روڈ لاہور کے قریب ایک رکشہ سے 25.2 کلو گرام چرس برآمد کر کے متعلقہ ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

علاوہ ازیں، اے این ایف نے سپینی روڈ کوئٹہ میں واقع ایک کوریئر آفس پر چھاپہ مار کر پارسل میں موجود فائبر باکس سے 19.2 کلو گرام چرس برآمد کی۔ سندھ میں کی گئی کارروائیوں کے دوران انڈس ہائی وے جامشورو کے قریب ایک ٹرک سے 18 کلو گرام چرس، جبکہ نیشنل ہائی وے حیدرآباد کے قریب ایک مسافر بس کے مسافر کے قبضے سے 6 کلو گرام چرس برآمد کر کے دونوں ملزمان کو مقتدر گرفت میں لے لیا گیا۔ اے این ایف حکام کے مطابق، ان تمام کامیاب کارروائیوں کے خلاف انسدادِ منشیات ایکٹ 1997 کے تحت باقاعدہ مقدمات درج کر کے بین الاقوامی و قومی اسمگلنگ نیٹ ورک کے تانے بانے معلوم کرنے کے لیے تفصیلی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

نوجوانوں کی ڈیجیٹل صلاحیتیں اور تکنیکی مہارتیں ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں، وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ

روزینہ اسماعیل, JULY 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی ڈیجیٹل صلاحیتوں اور جدید تکنیکی مہارتوں کا فروغ پاکستان کے روشن، ترقی یافتہ اور خوشحال مستقبل کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ ڈیجیٹل تعلیم اور آئی ٹی کی تربیت کے ذریعے خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانا موجودہ حکومت کی اولین ترین ترجیح ہے۔ مقتدر تفصیلات کے مطابق، ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ آبادی کے موقع پر جاری کیے گئے اپنے ایک اہم اور تزویراتی پیغام میں کیا۔

وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے اپنے پیغام میں زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب کو ایک فعال ڈیجیٹل معیشت (Digital Economy) میں تبدیل کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملکی نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، فری لانسنگ کے مواقع اور عالمی سطح کی تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے کے لیے حکومتی سطح پر بھرپور اور مسلسل کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی باصلاحیت خواتین آئی ٹی سیکٹر کی مقتدر مدد سے نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ دنیا بھر میں اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کر رہی ہیں، جو کہ خوش آئند ہے۔ وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق ملک بھر میں تیز ترین انٹرنیٹ کی بہترین فراہمی اور ‘ڈیجیٹل پاکستان’ کے تزویراتی منصوبے پر تیز رفتاری سے کام کر رہے ہیں تاکہ ہر شہری کو ترقی کے مساوی مواقع میسر آ سکیں۔

آبادی میں سالانہ 2.55 فیصد اضافہ معاشی ترقی اور وسائل کی تقسیم کے لیے بڑا چیلنج ہے، وزیراعظم شہباز شریف

کاشف عباسی , JULY 11,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آبادی سے متعلق بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت اور معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ کاوشوں کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں آبادی میں سالانہ 2.55 فیصد کا غیر معمولی اضافہ معاشی منصوبہ بندی، روزگار کی فراہمی، تعلیم، صحت، رہائش، غذائی تحفظ، بنیادی شہری ڈھانچے کی ترقی اور ماحولیاتی پائیداری کے حوالے سے انتہائی سنگین تزویراتی چیلنجز کا باعث بن رہا ہے۔ آج (ہفتہ کو) منائے جانے والے عالمی یومِ آبادی (ورلڈ پاپولیشن ڈے) پر اپنے خصوصی مقتدر پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان آج اقوامِ عالم کے ساتھ ہم آواز ہو کر آبادی کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کی ضامن ذمہ دارانہ منصوبہ بندی کے عزم کی تجدید کرتا ہے۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ آبادی کی ذمہ دارانہ و دانشمندانہ منصوبہ سازی اور نظم و نسق ہی ایک فلاحی معاشرے کی بنیاد ہے، کیونکہ دستیاب وسائل سے متناسب آبادی ہی سہولیات کی منصفانہ تقسیم اور خوشحال عوام کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال یہ عالمی دن ’’نوجوانوں کی امیدوں اور امنگوں کو آج اور مستقبل میں حقیقت بنانا‘‘ کے زیرِ عنوان منایا جا رہا ہے، جو اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ خوشحال مستقبل کی تشکیل میں نوجوان مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آبادی کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے، جہاں مجموعی ملکی آبادی کا 65 فیصد سے زائد حصہ 30 برس سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جو ایک قیمتی قومی سرمایہ اور معاشی و سماجی ترقی کا مضبوط تزویراتی محرک ہے، تاہم اس بڑھتی ہوئی آبادی کی استعداد سے بھرپور استفادے کے لیے ملکی وسائل میں مسلسل سرمایہ کاری اور جامع حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔

وزیراعظم نے ایک اہم مقتدر پیشرفت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ملکی آبادی اور ترقی کے تناظر میں جامع اور مؤثر قومی حکمتِ عملی کی تشکیل کے لیے وفاقی حکومت کے زیرِ نگرانی “قومی کونسل برائے آبادی” قائم کر دی گئی ہے۔ یہ اعلیٰ سطحی قومی فورم وفاق اور صوبوں کے درمیان پالیسی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی روابط کو یقینی بنائے گا، جبکہ بااختیار خواتین، انسانی وسائل کی ترقی، اور طویل المدتی سماجی و معاشی خوشحالی اس کونسل کی اولین تزویراتی ترجیحات میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو باصلاحیت اور بااختیار بنانے کے لیے ‘وزیراعظم یوتھ پروگرام’ جیسے اقدامات بھی جاری ہیں۔

اپنے پیغام کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، اراکینِ پارلیمان، ترقیاتی شراکت داروں، سول سوسائٹی، جامعات، نجی شعبے، علمائے کرام اور ذرائع ابلاغ سے پرزور اپیل کی کہ وہ آبادی کے معاملے کی حساسیت کے مدِ نظر ہنگامی بنیادوں پر اپنی سماجی ذمہ داری کا احساس کریں، تاکہ اجتماعی عزم اور مشترکہ کاوشوں کے ذریعے ملکی آبادیاتی صلاحیت کو ایک دیرپا قومی قوت میں بدل کر موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان کو یقینی بنایا جا سکے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت پورٹ کنیکٹیویٹی میں بہتری کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس

منصور احمد, JULY 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بندرگاہوں کے رابطہ نظام (پورٹ کنیکٹیویٹی) میں تزویراتی بہتری کے حوالے سے ہفتہ کو ایک اعلیٰ سطح کے مقتدر اجلاس کی صدارت کی۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اجلاس کے دوران سیکرٹری میری ٹائم افیئرز نے کمیٹی کو پاکستان کی بندرگاہوں کی موجودہ صورتحال، ان کی آپریشنل استعداد اور فنڈز کے استعمال کی صلاحیت کے بارے میں تفصیلی تزویراتی بریفنگ دی۔

نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار نے اجلاس سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع ایک انتہائی اہم تزویراتی اثاثہ ہے جس سے ملکی معیشت کے لیے بھرپور استفادہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وسطی، جنوبی اور مغربی ایشیا کے اہم ترین سنگم پر واقع ہے، اس لیے رابطہ کاری کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کر کے ملک زیادہ سے زیادہ معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ کمیٹی نے ملک کی تمام بندرگاہوں کی مجموعی ترقی، آپریشنل کارکردگی میں مقتدر اضافے اور علاقائی سطح پر مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

اجلاس کے دوران بندرگاہوں کے رابطہ نظام کو فول پروف بنانے، آپریشنل امور کو مؤثر بنانے، مختلف مقتدر اداروں کے درمیان باہمی رابطہ کاری کو مضبوط کرنے، بین الاقوامی تجارت اور لاجسٹکس کو آسان بنانے پر غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ متعلقہ شعبوں میں اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ پاکستان کی بندرگاہوں کو مؤثر علاقائی تجارتی مراکز (ریجنل ٹریڈ ہب) کے طور پر ترقی دی جا سکے۔ اس اہم تزویراتی اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف، وزیر بحری امور، معاون خصوصی وزیراعظم برائے محصولات طارق باجوہ، سیکرٹری میری ٹائم افیئرز، ڈائریکٹر جنرل این ایل سی چیئرمین کراچی پورٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی اور ملکی رابطوں کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

پاکستان-بنگلہ دیش نالج کوریڈور: ایچ ای سی نے بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے علامہ اقبال اسکالرشپ ٹیسٹ کا کامیاب انعقاد کر دیا

روزینہ اسماعیل, JULY 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پاکستان-بنگلہ دیش نالج کوریڈور کے تحت بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے علامہ محمد اقبال اسکالرشپس کے دوسرے بیچ کے امیدواروں کا اسکالرشپ انٹری ٹیسٹ کامیابی سے منعقد کر لیا ہے۔ ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، بنگلہ دیش کے مقتدر شہروں سلہٹ، رنگ پور اور بریسال میں بیک وقت منعقدہ انٹری ٹیسٹ میں تقریباً 500 امیدواروں نے شرکت کی۔ امیدواروں کی یہ بڑی تعداد اس بات کی واضح عکاس ہے کہ بنگلہ دیشی طلبہ میں پاکستان کی جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع سے استفادہ کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جبکہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون اور تزویراتی روابط کو مزید مستحکم کرنے میں بھی معاون ثابت ہو گا۔

ایچ ای سی نے اپنے اعلامیے میں واضح کیا کہ علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام پاکستان-بنگلہ دیش نالج کوریڈور کا ایک اہم ترین حصہ ہے جس کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان علمی، تعلیمی اور تحقیقی تعاون کو فروغ دینا اور نوجوانوں کو معیاری اعلیٰ تعلیم کے بہترین مواقع فراہم کرنا ہے۔ کمیشن نے اس اہم امتحان کے شفاف، منظم اور کامیاب انعقاد میں بنگلہ دیش میں قائم پاکستان کے ہائی کمیشن کے مقتدر تعاون کو سراہتے ہوئے ان کی سفارتی خدمات پر گہرے تشکر کا اظہار کیا۔

ایچ ای سی کے مطابق، یہ اسکالرشپ پروگرام دونوں برادر ممالک کے درمیان عوامی روابط (پبلک ٹو پبلک کانٹیکٹ)، تعلیمی تبادلوں اور باہمی تزویراتی اعتماد کو مزید فروغ دینے میں ایک کلیدی اور مقتدر کردار ادا کرے گا، جس سے خطے میں علمی ترقی کے نئے راستے کھلیں گے۔

کمبوڈیا میں چینی شہریوں کے اسکامنگ نیٹ ورک میں کام کرنے کا اعتراف؛ جعلی ‘علی ایکسپریس’ اور ‘ٹیلی گرام’ کے ذریعے غیر ملکیوں سے فراڈ کا انکشاف

محمود احمد, JULY 10,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) امیگریشن نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر ایک بڑی اور تزویراتی کارروائی کرتے ہوئے کمبوڈیا اور سری لنکا میں سرگرم بین الاقوامی آن لائن فراڈ اور اسکیمنگ نیٹ ورک سے مبینہ طور پر منسلک ایک خاتون مسافر کو آف لوڈ کر کے باقاعدہ گرفتار کر لیا ہے۔ ایف آئی اے کے مقتدر ترجمان کے مطابق، آف لوڈ کی جانے والی مسافرہ کی شناخت فاطمہ ساجد دختر ساجد وحید (سکنہ لاہور) کے نام سے ہوئی ہے۔ مذکورہ خاتون سری لنکا جانے کے لیے ایئرپورٹ پہنچی تھی جہاں امیگریشن کلیئرنس کے دوران مشکوک سفری حالات کی بناء پر اسے تفصیلی تزویراتی جانچ پڑتال کے لیے روک لیا گیا۔

دورانِ تفتیش مسافرہ نے اعتراف کیا کہ وہ اس سے قبل کمبوڈیا میں چینی شہریوں کے زیرِ انتظام چلنے والے ایک منظم آن لائن اسکیمنگ نیٹ ورک میں باقاعدہ کام کر چکی ہے۔ خاتون کے مقتدر بیان کے مطابق، اسے ملازمت کا جھانسہ دے کر 2 لاکھ روپے وصول کیے گئے تھے جبکہ ویزا اور ٹکٹ کا انتظام بھی اسی گروہ نے کیا تھا۔ وہاں جعلی ’علی ایکسپریس‘ پلیٹ فارم اور ’ٹیلی گرام‘ کے ذریعے مصری شہریوں کو سرمایہ کاری کے نام پر آن لائن فراڈ کا نشانہ بنایا جاتا تھا جس پر چینی آپریٹرز اہداف مکمل کرنے پر تنخواہ اور کمیشن دیتے تھے۔ مسافرہ نے وہاں ایچ آر کی ذمہ داریاں بھی سنبھال رکھی تھیں اور متعدد پاکستانی شہریوں کو اس فراڈ کمپنی میں بھرتی کروایا۔

خاتون نے مزید انکشاف کیا کہ اس کا دوست ’وکٹر‘ اب اسے سری لنکا بلا رہا تھا جہاں اسے اسی نوعیت کی آن لائن اسکیمنگ کمپنی میں دوبارہ ملازمت کی پیشکش کی گئی تھی۔ ایف آئی اے حکام نے مسافرہ کے موبائل فون کے باریک بین تجزیے سے آن لائن فراڈ، جعلی پلیٹ فارمز، ٹیلی گرام چیٹس اور دیگر اہم ڈیجیٹل شواہد برآمد کر لیے ہیں جن سے انسانی اسمگلنگ، بین الاقوامی سائبر فراڈ اور منظم ٹرانس نیشنل جرائم سے گہرے تزویراتی تعلقات سامنے آئے ہیں۔ خاتون کو مزید مقتدر تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔

پاکستان میں غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن ختم، کارآمد ویزے کے بغیر قیام پر فوری گرفتاریوں کا حکم

منصور احمد, JULY 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے لیے حکومت کی جانب سے دی گئی آخری ڈیڈ لائن ختم ہو گئی ہے، جس کے بعد کارآمد ویزے کے بغیر مقیم کسی بھی افغان شہری کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے گا۔ وفاقی حکومت نے ملک میں بغیر قانونی دستاویزات، اوور اسٹے کیسز اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی بیدخلی (ڈی پورٹیشن) کے عمل میں مزید تزویراتی تیزی لانے کا مقتدر فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت اب افغان شہریوں کی گرفتاریوں کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر وفاقی وزارتِ داخلہ کو تفصیلی رپورٹ بھیجی جائے گی۔

مقتدر تفصیلات کے مطابق، وفاقی وزارتِ داخلہ کو روزانہ کی بنیاد پر بھیجی جانے والی اس رپورٹ میں بغیر ویزے کے پکڑے گئے افغان شہریوں کی درست تعداد، ان کے خلاف اب تک کی گئی قانونی کارروائی اور ان کی موجودہ حیثیت کے تمام تزویراتی کوائف شامل ہوں گے۔ وفاقی وزارتِ داخلہ نے اس مقتدر مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے 28 جون 2026ء کو چاروں صوبائی چیف سیکریٹریز، چیف سیکریٹری گلگت بلتستان، چیف سیکریٹری آزاد کشمیر اور چیف کمشنر اسلام آباد کو ان فیصلوں پر سختی سے عمل درآمد کرنے کے لیے باقاعدہ خط لکھا تھا۔

وزارتِ داخلہ کے اس مقتدر خط میں تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، متعلقہ پولیس حکام اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کو اس فیصلے پر من و عن عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ضروری اور ہنگامی ہدایات جاری کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد اب کسی بھی غیر قانونی تارکِ وطن کو ملک میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور قانون کے مطابق سخت تزویراتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

لیونل میسی کا ریکارڈ توڑ کر ورلڈ کپ کی تاریخ میں تیز ترین 20 گول کرنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے؛ ناک آؤٹ میچز میں 12 گول کا نیا عالمی سنگِ میل

محمود احمد, JULY 10,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

فرانسیسی فٹ بال ٹیم کے مقتدر کپتان اور دنیا کے صفِ اول کے اسٹار فٹ بالر کیلین ایمباپے نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پہلے کوارٹر فائنل میں مراکش کے خلاف شاندار گول کر کے فٹ بال کی تاریخ میں متعدد نئے اور تاریخی عالمی اعزازات اپنے نام کر لیے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق، 27 سالہ فرانسیسی کپتان کیلین ایمباپے نے مراکش کے خلاف تزویراتی میچ کے 60 ویں منٹ میں ایک شاندار گول اسکور کیا، اور اس کے ساتھ ہی وہ فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں تیز ترین 20 گول مکمل کرنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔

تزویراتی اعداد و شمار کے مطابق، کیلین ایمباپے نے صرف 20 ورلڈ کپ میچز کھیل کر اپنے 20 گول مکمل کیے، اور اس مقتدر کارنامے کے ساتھ انہوں نے ارجنٹائن کے مایہ ناز فٹ بالر لیونل میسی کا تاریخی ریکارڈ بھی توڑ دیا، جنہوں نے یہ سنگِ میل 30 ورلڈ کپ میچز کھیل کر حاصل کیا تھا۔ ایمباپے نے یہ حیران کن کارنامہ اپنے تین ورلڈ کپ ایڈیشنز (2018، 2022 اور 2026) کے دوران انجام دیا۔ اس کے ساتھ ہی کیلین ایمباپے 27 سال اور 201 دن کی عمر میں ورلڈ کپ کی تاریخ میں 20 گول اسکور کرنے والے دنیا کے کم عمر ترین فٹ بالر بھی بن گئے ہیں۔ انہوں نے اب تک 2018 کے ورلڈ کپ میں 4، 2022 میں 8 اور رواں ٹورنامنٹ 2026 میں اب تک 8 گول اسکور کیے ہیں۔

اس شاندار کارکردگی کی بدولت کیلین ایمباپے فیفا ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ میچز میں سب سے زیادہ گول کرنے والے دنیا کے واحد کھلاڑی بن گئے ہیں، جہاں وہ ناک آؤٹ مرحلوں میں اب تک مجموعی طور پر 12 مقتدر گول اسکور کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ فرانس کی جانب سے بین الاقوامی فٹ بال میں 100 گولز میں براہِ راست کردار (گول کنٹریبیوشن) ادا کرنے والے پہلے فرانسیسی کھلاڑی بن گئے ہیں، جن کے نام اب 64 انفرادی گول اور 36 گول اسسٹ موجود ہیں۔ رواں ورلڈ کپ 2026 میں 8 گول اور 3 اسسٹ کے ساتھ کیلین ایمباپے 1966 کے بعد پہلے فٹ بالر بن گئے ہیں جنہوں نے دو مختلف ورلڈ کپ ایڈیشنز میں 10 سے زائد گول کنٹریبیوشنز ریکارڈ کیں۔ ناک آؤٹ مرحلے میں ان کے مجموعی 14 گول کنٹریبیوشنز بھی اب لیونل میسی کے برابر ہو گئے ہیں، جو گزشتہ 60 برسوں میں مشترکہ طور پر دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔

ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے ایس ایم ای سیکٹر کو قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کیا جائے، وزیراعظم شہباز شریف

کاشف عباسی , JULY 10,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے مختلف پیداواری شعبوں کو آسان شرائط پر مالی سہولیات کی فراہمی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے ملک کے تمام بینکوں کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ ترجیحی شعبوں بالخصوص ایس ایم ای سیکٹر کے لیے قرضوں کے اجراء میں نمایاں اضافہ کریں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت پاکستان میں ‘ایکسیس ٹو فائنانس’ کے فروغ کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی اجلاس جمعہ کو یہاں منعقد ہوا۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اجلاس میں وزیراعظم کو ‘ایکسیس ٹو فائنانس پلان’ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور معاشی استحکام سے پائیدار معاشی ترقی کے سفر کو تیز کرنے کے لیے پلان کی ترجیحات اور اہداف پر روشنی ڈالی گئی۔

بریفنگ میں مقتدر حکام کو بتایا گیا کہ اس اہم منصوبے کا مرکزی نکتہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز)، زراعت، برآمدات، قابل تجدید توانائی، ہاؤسنگ اور آئی ٹی کے شعبوں کے لیے آسان قرضوں اور کریڈٹ تک رسائی کو بڑھانا ہے، تاکہ برآمدات میں اضافہ، پائیدار معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ اس تزویراتی منصوبے پر عملدرآمد کے لیے وزارتِ خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں پر مشتمل پورے نظام پر مبنی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ وفاقی وزیرِ خزانہ اس نئے گورننس اسٹرکچر کی سربراہی کریں گے جبکہ گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس کے شریک سربراہ ہوں گے۔ اس اسٹرکچر کے تحت باقاعدہ اجلاس منعقد ہوں گے اور وزیراعظم کو ہر ماہ اس تزویراتی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ کیا جائے گا، جس کے تحت اگلے 2 سال کے لیے پرعزم اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایس ایم ای سیکٹر ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور آسان شرائط پر فنڈز کی دستیابی سے ہی برآمدات پر مبنی معیشت کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مالی سہولیات کی فراہمی میں بہتر اور بہترین کارکردگی دکھانے والے بینکوں کی حکومتی سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے گی، جبکہ اس پلان پر پیش رفت کے حوالے سے ماہانہ جائزہ اجلاس کی صدارت وہ خود کریں گے۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اس پلان کے تحت نجی شعبے کے مجموعی قرضوں میں ایس ایم ای سیکٹر کا حصہ موجودہ 7 فیصد سے بڑھا کر اگلے 2 سال میں 10 فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ایس ایم ای شعبے میں قرضوں سے مستفید ہونے والے افراد اور کاروباروں کی تعداد کو 310,000 سے بڑھا کر اگلے 2 سال میں 750,000 تک پہنچایا جائے گا۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، پاکستانی بینکوں کے صدور و سی ای اوز ، صوبائی چیف سیکرٹریز اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی اور معاشی استحکام کے اس تزویراتی روڈ میپ پر مکمل یکسوئی کا اظہار کیا۔

لاہور میں پیپلز پارٹی کا کم بیک، 25 جولائی کو مینارِ پاکستان پر تاریخی جلسہ کریں گے، صدر پی پی پی وسطی پنجاب راجہ پرویز اشرف

منصور احمد, JULY 10,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) وسطی پنجاب کے صدر اور مقتدر رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا 25 جولائی کو مینارِ پاکستان پر ہونے والا جلسہ انتہائی کامیاب اور تاریخی ہو گا۔ وہ جمعہ کے روز پیپلز پارٹی لاہور ڈویژن کے زیرِ اہتمام جوہر ٹاؤن آفس میں 25 جولائی کے جلسے کی تیاریوں، پی پی پی لاہور کی نئی ویب سائٹ کے باقاعدہ افتتاح اور ٹاؤن عہدیداروں سے ملاقات کے موقع پر تزویراتی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں میاں شاہد عباس، مجید غوری، خرم فاروق، احمد گھمن، اسجد ملک، اصغر بھٹی، منیر ڈگرہ، عامر نصیر بٹ، آغا تقی، شاہدہ جبیں، طاہرہ جالب، حسن اشرف، شاویز ندیم، احمد رضا شاہ، ازین گلزار، رانا ٹیپو، افراز نقوی سمیت جیالوں اور کارکنوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔

تقریب کے دوران عمران ڈوگر نے پیپلز پارٹی لاہور کی نئی ویب سائٹ پر مقتدر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ویب سائٹ پر اب تک 66 ہزار 946 ممبرز کی رکنیت مکمل کر لی گئی ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے اپنے خطاب میں پی پی لاہور کے صدر فیصل میر کے مینارِ پاکستان جلسے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج کارکنوں کی تیاریاں دیکھ کر واضح ہے کہ یہ ایک مقتدر جلسہ ہو گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اگلے 15 دن ہر کارکن جلسے کی بھرپور منصوبہ بندی کرے، کوئی ورکر اکیلا نہ جائے بلکہ اپنے ساتھ فیملی، دوستوں اور ساتھیوں کو لے کر آئے، میں خود بھی جلسے میں پارٹی پرچم اٹھا کر شریک ہوں گا۔ انہوں نے واشگاف کیا کہ سب کو ساتھ لے کر چلنا ہی اصل لیڈر شپ ہوتی ہے۔

پی پی لاہور کے صدر فیصل میر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ 25 جولائی کو لاہور کے 10 ٹاؤنوں سے جیالوں کے مقتدر قافلے مینارِ پاکستان پہنچیں گے، جہاں ہر ٹاؤن کو 10 ہزار کارکن لانے کا ہدف دیا گیا ہے اور جلسے کے انتظامی امور کے لیے 25 کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جلسے کی رات صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا جائے گا۔ جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عائشہ شوکت اور مجید غوری نے بھی خطاب کرتے ہوئے قیادت کو یقین دلایا کہ لاہور میں پی پی پی کی مقتدر تبدیلی نظر آئے گی اور جلسے کے دن 10 ہزار رکشوں پر پیپلز پارٹی کا جھنڈا لہرایا جائے گا۔ قبل ازیں، راجہ پرویز اشرف کی آمد پر فیصل میر اور ڈاکٹر عائشہ نے ان کا شاندار استقبال کیا اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔