بجٹ 26-2025ء سے قبل وفاقی حکومت کا بڑا معاشی ایکشن، ای سی سی نے اربوں روپے کے اہم مالی اور ترقیاتی فیصلوں کی منظوری دے دی، پی ایس او کے لیے ۱۰۰ ارب روپے کی فنانسنگ سہولت اور ترقیاتی اسکیموں کے لیے اضافی فنڈز جاری کرنے کا فیصلہ

کاشف عباسی ,june 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

نئے مالی سال چھبیس ستائیس (27-2026) کے وفاقی بجٹ کی پیشکشی سے عین قبل حکومت کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے جمعہ کے روز ایک اہم ترین اجلاس میں بڑے مالی اور ترقیاتی فیصلوں کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کے تحت چالیس ارب روپے سے زائد کی سپلیمنٹری گرانٹس اور شدید مالی بحران کے شکار ادارے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے لیے سو ارب روپے کی ہنگامی فنانسنگ سہولت شامل ہے، اسلام آباد سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ اعلٰی سطح کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت منعقد ہوا جس میں ملک کے مختلف نازک مالی امور، سرکاری اداروں کی فوری ضروریات اور توانائی کے شعبے کو درپیش گردشی قرضوں کے سنگین مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا، اجلاس میں ای سی سی نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان اسٹیٹ آئل کے لیے سو ارب روپے کی خودمختار ضمانت یعنی سوورن گارنٹی پر مبنی فنانسنگ کی خصوصی منظوری دی، عسکری و حکومتی حکام کے مطابق پی ایس او کو اس وقت دیگر مختلف سرکاری اداروں سے نو سو ارب روپے سے زائد کی خطیر واجب الادا رقوم کی عدم وصولی کا سامنا ہے جس کے باعث ملک میں تیل کی سپلائی چین متاثر ہونے اور ایندھن کی قلت کے شدید خدشات پیدا ہو رہے تھے، کمیٹی نے اس بحران کو ٹالنے کے ساتھ ساتھ چالیس ارب روپے سے زائد کی اضافی گرانٹس کی بھی منظوری دی جبکہ ارکانِ پارلیمنٹ کی مختلف ترقیاتی اسکیموں کے لیے دس ارب روپے کی اضافی فنڈنگ جاری کرنے کی بھی باقاعدہ اجازت دی گئی ہے، مزید برآں پائیدار ترقیاتی اہداف پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے سات اعشاریہ صفر دو چھ (7.026) ارب روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ بھی منظور کی گئی ہے، ایک اور اہم فیصلے کے تحت ای سی سی نے مختلف وفاقی وزارتوں اور سرکاری محکموں میں ملازمین کے لیے خصوصی اعزازیہ کے دائرہ کار کو مزید وسعت دے دی ہے جس میں اب لا اینڈ جسٹس ڈویژن، کامرس ڈویژن اور اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو کو بھی شامل کر لیا گیا ہے جبکہ یہ سہولت پہلے سے ہی وزارتِ خزانہ، ریونیو، پلاننگ، ایف بی آر، قومی اسمبلی، سینیٹ اور وزیراعظم آفس جیسے اعلٰی ترین اداروں کو حاصل تھی، اجلاس کے دوران گلگت بلتستان میں ہونے والے آئندہ انتخابات سے قبل وہاں کے لیے چار اعشاریہ تین اٹھ (4.38) ارب روپے کی خطیر خصوصی گرانٹ کی بھی فوری منظوری دی گئی، وزارتِ خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام اہم ترین فیصلے جاری مالی سال کے اختتامی مرحلے میں ناگزیر حکومتی ضروریات کو پورا کرنے اور ملکی ترقیاتی کاموں کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے ہیں جبکہ دوسری جانب نئے بجٹ کی تیاریاں اب اپنے آخری اور حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔

جون کے بڑے احتجاج سے قبل آزاد کشمیر حکومت کا بڑا ایکشن، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دے دیا گیا، پورے خطے میں موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ سروسز معطل، سیاحوں کو فوری علاقہ چھوڑنے کی ہدایت

کاشف عباسی ,june 06,2026

مظفرآباد (نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) حکومت نے نو جون کو ہونے والے مجوزہ بڑے اور ملک گیر احتجاج سے قبل ایک انتہائی بڑا اور تزویراتی فیصلہ کرتے ہوئے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کو انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت باقاعدہ طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے، مظفرآباد سے موصول ہونے والی سرکاری تفصیلات کے مطابق یہ سخت ترین فیصلہ سیکیورٹی کے شدید خدشات اور خطے میں ممکنہ بدامنی و ہنگامہ آرائی کو روکنے کے پیشِ نظر کیا گیا ہے، جس کے فوری بعد پورے آزاد کشمیر میں سیکیورٹی کے انتظامات کو ہائی الرٹ کرتے ہوئے مزید سخت کر دیا گیا ہے، محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق جے اے اے سی کو “امن و امان کے لیے ایک بڑا خطرہ” قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ اس تنظیم کی حالیہ سرگرمیاں معاشرے میں شدید انتشار، جلاؤ گھیراؤ اور عدم تحفظ پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہیں، حکومت نے پبلک سیفٹی اور امنِ عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سخت ترین ہدایات جاری کی ہیں جن کے تحت سیاحوں کو اس پیک سیزن کے دوران بھی فوری طور پر آزاد کشمیر کا علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ نئے آنے والے تمام ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو سختی سے مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے دورے بیس جون تک لازمی طور پر مؤخر کر دیں، مزید برآں انتظامیہ کو تمام ہوٹلوں کو فوری طور پر خالی کرانے کے سخت احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں، سیکیورٹی خدشات کی اسی سنگین صورتحال کے باعث پورے خطے میں ہونے والے تعلیمی امتحانات کو بھی تا حکمِ ثانی ملتوی کر دیا گیا ہے جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے حساس مقامات پر وفاقی اور مقامی اضافی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے، اطلاعات کے مطابق آدھی رات کے وقت پورے آزاد کشمیر کے خطے میں موبائل ڈیٹا اور تیز رفتار انٹرنیٹ سروسز کو بھی مکمل طور پر معطل کر دیا گیا ہے جبکہ عام فون کال سروسز کو جزوی طور پر بحال رکھا گیا ہے تاکہ شرپسند عناصر سوشل میڈیا کا استعمال نہ کر سکیں، واضح رہے کہ جے اے اے سی کی جانب سے نو جون کو دی جانے والی اس مجوزہ احتجاجی تحریک کا اصل تنازع مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے معاملے کے گرد گھومتا ہے، جس میں یہ تنظیم آزاد کشمیر اسمبلی کی بارہ مخصوص نشستوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا بنیادی مطالبہ کر رہی ہے، تنظیم کا مؤقف ہے کہ یہ نشستیں خالصتاً سیاسی فائدے اور وفاداریاں تبدیل کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں اور اس سے مقامی سیاست پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، تاہم آزاد کشمیر حکومت اور دیگر بڑے سیاسی حلقے اس مؤقف سے شدید اختلاف رکھتے ہیں، دوسری جانب اس حساس معاملے پر عدالتی پیش رفت کے تحت آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر تمام اہم اسٹیک ہولڈرز سے ان کی قانونی رائے طلب کر لی ہے جس کے بعد خطے کی سیاسی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے، حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام سیکیورٹی ادارے صورتحال پر مسلسل کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال یا قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے لیے تمام محکمے الرٹ ہیں۔

چھوٹے تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم کا اعلان، معاشی ترقی اور دستاویزی معیشت کے فروغ کے لیے حکومت کا نیا انقلابی ٹیکس نظام متعارف، آئندہ ہفتے مصنوعی ذہانت پر مبنی سسٹم لانے کا فیصلہ

کاشف عباسی ,june 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

حکومتِ پاکستان نے ملک بھر کے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کو باقاعدہ ٹیکس نظام میں شامل کرنے اور ٹیکس ادائیگی کے پیچیدہ عمل کو انتہائی سادہ بنانے کے لیے ایک نئی اور تاریخی “فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم” متعارف کرانے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، اسلام آباد سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ خصوصی ریلیف اسکیم سالانہ بیس کروڑ روپے تک کا کاروباری حجم یعنی ٹرن اوور رکھنے والے تمام چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے تیار کی گئی ہے، اس اہم ترین اسکیم کا باقاعدہ اعلان وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے رکن حامد عتیق سرور نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا، حکام نے اس موقع پر واضح کیا کہ یہ جدید ٹیکس نظام ملک بھر کی تمام بڑی تاجر تنظیموں اور چیمبرز کے نمائندوں سے تفصیلی مشاورت کے بعد تشکیل دیا گیا ہے تاکہ تاجر برادری کے تحفظات دور کرتے ہوئے ٹیکس ادائیگی کو آسان بنایا جا سکے اور زیادہ سے زیادہ غیر رجسٹرڈ تاجروں کو ٹیکس نیٹ کے دائرے میں شامل کیا جا سکے، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے جاری وسیع پیمانے پر ٹیکس اصلاحات کا بنیادی مقصد ملکی ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، دستاویزی معیشت کو ہر سطح پر فروغ دینا اور پہلے سے ٹیکس دینے والے غریب و تنخواہ دار طبقے پر موجود اضافی ٹیکس بوجھ کو نمایاں طور پر کم کرنا ہے، ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت ایک مکمل طور پر منصفانہ، متوازن اور پائیدار ٹیکس نظام کی تشکیل کے لیے تمام ضروری اور ٹھوس اقدامات کر رہی ہے، انہوں نے ایک بڑی پیشرفت کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کی براہِ راست نگرانی میں جاری اس ڈیجیٹل اصلاحاتی پروگرام کے تحت اب جدید ترین ٹیکنالوجی کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے تحت آئندہ ہفتے پارلیمنٹ میں مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) پر مبنی ایک بالکل نئے، خودکار اور شفاف ٹیکس نظام سے متعلق انتہائی اہم اعلان بھی متوقع ہے، محمد اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے معاشی استحکام حاصل کرنے کے بعد اب تیز رفتار معاشی ترقی کی شاہراہ پر آگے بڑھنا ناگزیر ہو چکا ہے، جس کے لیے قومی آمدنی میں اضافہ اور ٹیکس چوری کا خاتمہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، عسکری و حکومتی حکام کے مطابق اس نئی فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم کے نفاذ کے ذریعے چھوٹے تاجروں کے لیے ایف بی آر کے چکر کاٹنے اور فائلنگ کا عمل مزید آسان ہوگا، ملکی کاروباری سرگرمیوں کی دستاویز بندی میں واضح بہتری آئے گی اور مجموعی طور پر قومی معیشت کو مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔

لاہور میں پاکستانی اسپنر کا جادو چل گیا، ابرار احمد نے آسٹریلیا کے خلاف باؤلنگ میں چالیس سال پرانا قومی ریکارڈ برابر کر کے نئی تاریخ رقم کر دی، قذافی اسٹیڈیم میں آسٹریلوی بیٹنگ لائن تباہ

کاشف عباسی ,june 05,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جون 2026ء

قومی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز اور جادوگر اسپنر ابرار احمد نے آسٹریلیا کے خلاف کھیلے گئے تیسرے اور فیصلہ کن ایک روزہ بین الاقوامی (ون ڈے) میچ میں انتہائی شاندار اور جادوئی باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے چالیس سال پرانا قومی ریکارڈ برابر کر دیا ہے، لاہور کے تاریخی قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس اعصاب شکن اور اہم ترین میچ میں ابرار احمد نے اپنے مقررہ دس اوورز میں انتہائی کفایتی اور نپی تلی باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف انیس رنز دیے اور کینگروز کی دو اہم وکٹیں حاصل کیں، اس شاندار اسپیل کے دوران ان کا اکانومی ریٹ محض ایک اعشاریہ نو صفر رہا جو کہ آسٹریلیا کے خلاف کسی بھی پاکستانی باؤلر کی جانب سے اب تک کے بہترین اور یادگار باؤلنگ اسپیلز میں شمار ہوتا ہے، اس بے مثال اور تاریخی کارکردگی کے ساتھ ہی ستائیس سالہ اسپنر ابرار احمد نے آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے کرکٹ میں پاکستانی باؤلرز کے کفایتی ترین باؤلنگ اسپیل کا دیرینہ قومی ریکارڈ باقاعدہ طور پر برابر کر دیا ہے، کرکٹ ریکارڈز کی تفصیلات کے مطابق اس سے قبل سابق نامور آف اسپنر توصیف احمد نے سال انیس سو چھیاسی میں آسٹریلیا کے خلاف دس اوورز میں انیس رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کی تھیں جبکہ جادوگر اسپنر سعید اجمل نے سال دو ہزار نو میں متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں دس اوورز کے دوران انیس رنز دے کر دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا اور اب ابرار احمد نے بھی انیس رنز کے عوض دو شکار کر کے ان دونوں عظیم باؤلرز کا تاریخی اعزاز اپنے نام کر لیا ہے، میچ کے دوران ابرار احمد کی اس شاندار اور جکڑی ہوئی باؤلنگ نے مضبوط آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو مسلسل شدید دباؤ میں رکھا جس نے میچ میں پاکستان کی شاندار کامیابی اور سیریز جیتنے میں سب سے اہم اور کلیدی کردار ادا کیا، یہی وجہ ہے کہ ان کی اس جرات مندانہ کارکردگی کو شائقینِ کرکٹ سمیت دنیا بھر کے نامور کرکٹ ماہرین کی جانب سے سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز پر بھرپور طریقے سے سراہا جا رہا ہے، واضح رہے کہ پاکستان نے اس تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے میچ میں آسٹریلیا کو عبرتناک شکست دے کر یہ ہوم سیریز باقاعدہ طور پر اپنے نام کر کے ملک کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

افریقہ کے لیے پاکستان کا اہم سفارتی متبادل، ایتھوپیا اور پاکستان کے درمیان معاشی و تجارتی تعاون کے فروغ کے لیے پارلیمانی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا کی ملاقات

منصور احمد june 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جون 2026ء

وفاقی جمہوریہ ایتھوپیا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان نے باہمی تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، ہوا بازی (ایوی ایشن) اور ثقافتی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو تیزی سے فروغ دینے کے لیے دونوں ممالک کے مابین پارلیمانی روابط کو مزید مضبوط اور فعال بنانے پر مکمل اتفاق کر لیا ہے، اسلام آباد سے جاری ہونے والی سرکاری تفصیلات کے مطابق یہ اہم ترین سفارتی اتفاقِ رائے جمعہ کے روز وفاقی دارالحکومت میں ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا اور چیئرمین سینیٹ پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کے درمیان ہونے والی ایک اعلٰی سطح کی ملاقات میں سامنے آیا، اس اہم ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے دوطرفہ سفارتی تعلقات کا تفصیلی جائزہ لیا، باہمی تعاون کے نئے امکانات پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا اور مستقبل میں تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا مخلصانہ اعادہ کیا، ملاقات میں ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے دونوں ممالک کے مابین تاریخی، ثقافتی اور باہمی اقدار پر مبنی دیرینہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستان کو ایک بڑی پیشکش کی کہ ایتھوپیا اس وقت افریقی یونین کا مرکزی ہیڈکوارٹر اور پورے افریقی براعظم کا ایک انتہائی اہم ترین تجارتی دروازہ ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان افریقہ میں اپنے سفارتی روابط، باہمی تجارت اور معاشی اثر و رسوخ کو مزید وسعت دے سکتا ہے، دوسری جانب چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے ایتھوپیا میں حالیہ برسوں کے دوران جاری رہنے والی تیز رفتار معاشی ترقی، اقتصادی نمو اور حکومت کے اصلاحاتی اقدامات کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے ثقافتی وفود کے تبادلے اور مذہبی سیاحت کو دوطرفہ تعلقات کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے، انہوں نے پاکستان کی بہترین زرعی صلاحیتوں اور تجربے کا ذکر کرتے ہوئے زور دیا کہ ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کو حاصل کرنے کے لیے دونوں ممالک کو زراعت سمیت مختلف تکنیکی شعبوں میں اپنی مہارت اور تجربات کا مخلصانہ تبادلہ کرنا چاہیے، اس اہم بیٹھک کے اختتام پر دونوں فریقین نے پارلیمانی فرینڈشپ گروپس کے فوری قیام اور دونوں ممالک کے پارلیمانی وفود کے باقاعدہ تبادلوں پر بھی اتفاق کیا تاکہ ادارہ جاتی اور سفارتی تعلقات کو مزید پائیدار بنایا جا سکے، جبکہ دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ باہمی تعاون کے فروغ کے ذریعے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، ہوا بازی اور ثقافتی شعبوں میں تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جائے گا۔

دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، پنجگور میں بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر وزیراعظم شہباز شریف کا سکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین

کاشف عباسی ,june 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جون 2026ء

وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی حالیہ کامیاب اور بڑی کارروائی پر فورسز کے جوانوں اور افسران کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے، وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ ایک باضابطہ اور اہم ترین بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے حب الوطنی اور جانفشانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پڑوسی ملک بھارت کی خفیہ سرپرستی اور حمایت میں کام کرنے والے خطرناک نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے چھ دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے، وزیراعظم نے اس اہم ترین انٹیلی جنس آپریشن میں حصہ لینے والے سکیورٹی اہلکاروں کی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت، بے مثال جرات اور لازوال قومی خدمت کے جذبے کو دل کھول کر سراہا، ان کا کہنا تھا کہ ہماری بہادر سکیورٹی فورسز نے انتہائی چاق و چوبند انداز میں ایسے ملک دشمن اور وحشی دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر زمینی کارروائی کی ہے جو معصوم، بے گناہ اور نہتے پاکستانی شہریوں کی جان و مال کو شدید نقصان پہنچانے کی مذموم و تخریب کارانہ سرگرمیوں میں مخلصانہ طور پر ملوث تھے، وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کی بہادر اور نڈر سکیورٹی فورسز وطنِ عزیز کے چپے چپے کے دفاع، ملکی امن و استحکام اور عوام کے تحفظ کے لیے دن رات ہر وقت الرٹ اور تیار ہیں اور دہشت گردی کی اس طویل جنگ کے خلاف ان کی دی جانے والی عظیم قربانیاں پوری غیور قوم کے لیے باعثِ فخر اور مشعلِ راہ ہیں، انہوں نے اس آہنی عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان ریاست کی رٹ کو برقرار رکھتے ہوئے ملک سے دہشت گردی کی آخری علامت کے مکمل خاتمے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور پاک وطن کے امن و امان کو نقصان پہنچانے والے ان تمام شرپسند عناصر کے خلاف ریاستی کارروائیاں پوری فوجی و انتظامی قوت کے ساتھ آخری دم تک جاری رکھی جائیں گی، واضح رہے کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے پنجگور کے پسماندہ ضلع میں خفیہ اطلاع پر مبنی ایک گرینڈ آپریشن کے دوران چھ مبینہ دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا تھا، جبکہ عسکری کارروائی کے بعد ان کے خفیہ ٹھکانوں کی تلاشی کے دوران بھاری مقدار میں جدید خودکار اسلحہ، گولیوں کا ذخیرہ، گولہ بارود، دیسی ساختہ بم اور ایک گاڑی بھی قبضے میں لے کر دہشت گردی کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک ناکام بنا دیا گیا ہے۔

غزہ میں سنگین غذائی بحران کا خاتمہ، سعودی عرب اور عالمی ادارہ صحت کے مابین ہسپتالوں میں غذائی خدمات کو مضبوط بنانے کا تاریخی معاہدہ طے پا گیا، لاکھوں فلسطینیوں کو فوری طبی ریلیف اور مفت کھانا فراہم کیا جائے گا

روزینہ اسماعیل.june 05,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جون 2026ء

سعودی عرب اور عالمی ادارہ صحت نے جنگ زدہ غزہ کی پٹی میں بنیادی صحت کے مراکز اور ہسپتالوں کے اندر غذائی خدمات کو مستحکم و فعال بنانے کے لیے ایک مشترکہ ایگزیکٹو پروگرام پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں، ریاض سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ بڑا انسانی ہمدردی کا منصوبہ غزہ میں مظلوم فلسطینی عوام کی ہنگامی امداد کے لیے جاری سعودی عوامی مہم کا ایک اہم حصہ ہے جس کے تحت لاکھوں متاثرہ افراد کو مفت طبی اور غذائی سہولیات فراہم کی جائیں گی، اس دستخط شدہ منصوبے کے تحت تقریباً دو لاکھ اٹھاون ہزار دو سو تئیس فلسطینی براہِ راست مستفید ہوں گے جبکہ گیارہ لاکھ بہتر ہزار چار سو سڑسٹھ افراد کو بالواسطہ فائدہ پہنچے گا، پروگرام کا بنیادی اور تزویراتی مقصد غزہ میں صحت اور غذائیت کی گرتی ہوئی صورتحال کو ہنگامی بنیادوں پر بہتر بنانا ہے، خاص طور پر ایسے صدمہ زدہ مریضوں، خواتین اور معصوم بچوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی جو شدید غذائی قلت اور پیچیدہ طبی مسائل کا شکار ہیں، اس مہم کے لیے شدید غذائی قلت کے فوری علاج کے لیے خصوصی طبی کٹس فراہم کی جائیں گی اور ہسپتالوں سمیت تمام متحرک صحت مراکز کو غذائی سپلیمنٹس، ضروری وٹامنز، معدنیات، خصوصی غذائی مرکبات اور وریدی غذا یعنی بوتل کے ذریعے دی جانے والی غذائیت کے محلول کے ساتھ ساتھ دیگر تمام ضروری طبی سامان اور جدید آلات بھی وافر مقدار میں دستیاب کیے جائیں گے، یہ انقلابی منصوبہ شاہ سلمان امدادی مرکز اور عالمی ادارہ صحت کے باہمی تعاون سے جاری وسیع تر انسانی امدادی پروگراموں کا حصہ ہے جس کا اصل ہدف فلسطین میں تباہ حال صحت کے شعبے کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا، طبی خدمات کے گرتے ہوئے معیار کو بہتر بنانا اور غذائی بحران سے شدید متاثرہ خاندانوں کی بروقت مدد کرنا ہے، دوسری جانب سعودی حکام نے مزید بتایا کہ شاہ سلمان امدادی مرکز کے زیرِ نگرانی قائم مرکزی باورچی خانہ غزہ میں بے گھر اور شدید متاثرہ فلسطینی خاندانوں کے لیے روزانہ کی بنیاد پر تازہ اور گرم کھانوں کی مسلسل تقسیم کا سلسلہ بھی پوری تندہی سے جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ سرگرمی بھی سعودی عرب کی جانب سے اپنے فلسطینی بھائیوں کی مخلصانہ امداد اور انسانی ہمدردی کی ان عظیم کوششوں کا تسلسل ہے جس کا واحد مقصد جنگ اور بدترین بحران سے متاثرہ بے گناہ شہریوں کو ان کی دہلیز پر فوری اور عملی ریلیف فراہم کرنا ہے۔

سیاسی نظام کی حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ ایک معاملے پر متفق نظر آتے ہیں کہ تحریک انصاف موجود نہیں ہونی چاہیے، سابق وفاق وزیر فواد چوہدری کا سنسنی خیز دعویٰ

کاشف عباسی ,june 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جون 2026ء

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ملک کے موجودہ سیاسی منظرنامے کے حوالے سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور تزویراتی دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ بظاہر ایک اہم معاملے پر مکمل متفق نظر آتے ہیں اور وہ نکتہ یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف موجود نہیں ہونی چاہیے، ایک نجی ٹی وی چینل کے معروف صحافتی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس پوزیشن کی تفصیل بتائی کہ ایک جانب اسٹیبلشمنٹ نے تحریک انصاف کے متعدد سینیئر رہنماؤں کو گرفتار کیا جبکہ دوسری جانب خود عمران خان نے پارٹی کے اندر ایسے متبادل اور غیر معروف افراد کو آگے لا کر اہم ذمہ داریاں سونپ دیں جن کے پاس کوئی سیاسی تجربہ، عوامی اثر و رسوخ یا مضبوط تنظیمی حیثیت سرے سے موجود ہی نہیں تھی، فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ان دونوں طرف کے فیصلوں اور حکمتِ عملی کے نتیجے میں پارٹی کی مجموعی تنظیمی طاقت شدید کمزور ہوئی اور تحریک انصاف کو ناقابلِ تلافی سیاسی نقصان پہنچا، انہوں نے موجودہ نازک صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ اب پارٹی اس پوزیشن میں بالکل نہیں رہی کہ وہ جیل میں بند عمران خان کی کوئی مؤثر سیاسی مدد یا ان کی رہائی کے لیے کوئی بڑا دبائو ڈال سکے، اس لیے اب عمران خان کو اپنے اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان موجود تمام تر سنگین اختلافات کو کسی تیسرے فریق کے بغیر خود براہِ راست حل کرنا ہوں گے، سابق وفاقی وزیر نے فوج اور ملکی سیاسی قیادت کے مابین تعلقات کے اصولوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلقات میں بہتری لانے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ کوئی بھی رہنما اپنے بنیادی سیاسی مؤقف، نظریے یا بیانیے سے دستبردار ہو جائے، تاہم پاکستان کے موجودہ سیاسی نظام کی زمینی حقیقت اور طاقت کے توازن کو کسی بھی طور نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا، انہوں نے بانی تحریک انصاف کو مخلصانہ مشورہ دیتے ہوئے زور دیا کہ عمران خان کو اب ملکی فوج کے ساتھ اپنے بگاڑے ہوئے تعلقات کو ہر حال میں بہتر بنانے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور ان تعلقات کی دوبارہ بحالی کا طریقہ کار اور فارمولا بھی خود عمران خان کو ہی طے کرنا ہوگا کیونکہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان دونوں کو ایک دوسرے کے لیے ملکی بقا کی خاطر سیاسی گنجائش پیدا کرنا ہوگی، انہوں نے خبردار کیا کہ یکطرفہ طرزِ عمل یا اکھڑ پن سے معاملات کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے، اس لیے ملک میں پائیدار سیاسی و معاشی استحکام کی واپسی کے لیے بامقصد مکالمہ، سیاسی برداشت اور باہمی رابطہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے کیونکہ تصادم اور اداروں کے ساتھ لڑائی کی سیاست کسی بھی فریق یا ملک کے مفاد میں نہیں۔

بلوچستان میں بڑی کارروائی، پنجگور میں سکیورٹی فورسز کا خفیہ اطلاع پر مبنی گرینڈ آپریشن، بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے 6 دہشت گرد ہلاک، بھاری مقدار میں اسلحہ و بارود برآمد

منصور احمد june 05,2026

پنجگور (نیوز اینڈ نیوز) — 05 جون 2026ء

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں ایک انتہائی اہم اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے تین اور چار جون کی درمیانی شب خفیہ اطلاع پر مبنی ایک گرینڈ آپریشن کے دوران چھ مبینہ دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے، عسکری ذرائع کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق یہ ٹارگٹڈ کارروائی ایک ایسے مخصوص اور حساس مقام پر کی گئی جہاں مبینہ طور پر پڑوسی ملک بھارت کی براہِ راست سرپرستی میں کام کرنے والے انتہائی خطرناک دہشت گرد روپوش تھے اور ملک دشمن سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز کے چاق و چوبند دستوں نے جدید ہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں کے متعدد خفیہ ٹھکانوں کو انتہائی مؤثر اور کمانڈو انداز میں نشانہ بنایا جس کے بعد دونوں اطراف سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور فورسز نے گھیراؤ سخت کرتے ہوئے چھ شرپسندوں کو موقع پر ہی ڈھیر کر دیا، کارروائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے ترجمان نے مزید انکشاف کیا کہ ہلاک ہونے والے ان دہشت گردوں کے قبضے سے جدید خودکار اسلحہ، خطرناک گولہ بارود، دیسی ساختہ بم اور ایک گاڑی بھی برآمد کر لی گئی ہے جبکہ سکیورٹی حکام نے تصدیق کی ہے کہ مارے جانے والے تمام افراد پنجگور اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں معصوم شہریوں پر حملوں، تخریب کاری اور دہشت گردی کی متعدد سنگین کارروائیوں میں مخلصانہ طور پر مطلوب اور ملوث تھے، آئی ایس پی آر نے موجودہ صورتحال کے حوالے سے بتایا کہ ضلع پنجگور کے اس پورے علاقے میں اب بھی سکیورٹی فورسز کا وسیع پیمانے پر کلیئرنس اور سرچ آپریشن پوری قوت سے جاری ہے تاکہ وہاں موجود کسی بھی دوسرے ممکنہ دہشت گرد یا ان کے سہولت کار کی موجودگی کا جڑ سے خاتمہ کیا جا سکے، اس کامیاب ترین مشن کے بعد سکیورٹی فورسز نے اپنے آہنی عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک عزیز کی خودمختاری، امن و استحکام اور معیشت کو نقصان پہنچانے والے ان شرپسند عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور پاک وطن سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے آخری گولی اور آخری خون کے قطرے تک تمام ضروری اور سخت ترین اقدامات کیے جائیں گے۔

موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اب عالمی برادری کو زبانی دعووں سے نکل کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے، عالمی یومِ ماحولیات پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اہم ترین پیغام

محمود احمد june 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 05 جون 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر اپنے ایک خصوصی، تفصیلی اور تزویراتی پیغام میں موسمیاتی بحران کے مقابلے کے لیے عالمی اور علاقائی سطح پر اجتماعی کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کی اشد ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کرہ ارض کے تحفظ اور ماحولیاتی مسائل کے مؤثر مقابلے کے لیے تمام اجتماعی اقدامات کو ہر ممکن حد تک مضبوط بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، انہوں نے عالمی فورمز پر پاکستان کا مقدمہ لڑتے ہوئے اس بات کو ایک بار پھر واضح طور پر اجاگر کیا کہ پاکستان عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں انتہائی کم حصے دار ہونے کے باوجود موسمیاتی تبدیلیوں اور ان کے تباہ کن اثرات سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطوں اور ممالک کی فہرست میں شامل ہے، اس کے باوجود ملک مسلسل آنے والے ریکارڈ توڑ اور تباہ کن سیلابوں، شمالی علاقہ جات میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے عمل، زرعی زمینوں کو بنجر کرنے والی شدید خشک سالی، گرمیوں کے موسم میں ریکارڈ توڑ شدید گرمی کی لہروں (ہیٹ ویوز) اور ملک بھر میں پینے اور زراعت کے پانی کے بڑھتے ہوئے شدید دباؤ جیسے سنگین ترین وجودی چیلنجز کے مقابلے میں بے پناہ ثابت قدمی، ہمت اور قومی عزم کا مظاہرہ کر رہا ہے، سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی، دنیا سے مختلف جانداروں اور حیاتیاتی تنوع میں خطرناک حد تک ہونے والی کمی اور مجموعی طور پر ماحولیاتی تنزلی جیسے باہم جڑے ہوئے پیچیدہ عالمی مسائل سے نمٹنے کے لیے اب روایتی طریقوں سے ہٹ کر بین الاقوامی تعاون اور مشترکہ فنڈنگ کو مزید وسعت دینا ناگزیر ہو چکا ہے اور اس عالمی مہم کے ضمن میں “مشترکہ مگر مختلف ذمہ داریوں اور متعلقہ صلاحیتوں” کے عالمی سطح پر مانے گئے اصول کو ہمیشہ مخلصانہ طور پر پیشِ نظر رکھا جانا چاہیے تاکہ متاثرہ ممالک کو ان کا جائز حق مل سکے، انہوں نے حکومت کی داخلی پالیسیوں کی تفصیل بتاتے ہوئے واضح کیا کہ قومی سطح پر حکومتِ پاکستان ماحولیاتی تحفظ اور شجرکاری کو اپنی تمام تر ریاستی اور وفاقی پالیسی ترجیحات کا ایک مرکزی اور لازمی جزو بنانے کے لیے مخلصانہ طور پر کوشاں ہے جہاں اس طویل المدتی منصوبے کے سلسلے میں موجودہ حکومت کا ایک اہم ترین اور تاریخی سنگِ میل یہ ہے کہ اب صاف, صحت مند اور پائیدار ماحول کے حق کو ملک کے ہر شہری کا بنیادی آئینی حق تسلیم کیا گیا ہے، نائب وزیراعظم نے حکومتی اقدامات کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ اور ہم آہنگ رہائشی منصوبوں کی تعمیر، ماحول کو آلودگی سے بچانے کے لیے صاف و گرین توانائی کی جانب تیز تر منتقلی اور بڑے شہروں میں ماحول دوست و پائیدار تعمیراتی طریقوں کے فروغ کے لیے عملی اور ٹھوس زمینی اقدامات کر رہا ہے، تاہم موسمیاتی بحران کی روز بہ روز بڑھتی ہوئی سنگینی اس امر کی سختی سے متقاضی ہے کہ عالمی برادری محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے مشترکہ، مادی اور مؤثر اقدامات کو یقینی بنائے، اپنے اس تفصیلی پیغام کے آخر میں انہوں نے آذربائیجان کی حکومت کا عالمی یومِ ماحولیات دو ہزار چھبیس کی شاندار اور کامیاب میزبانی کرنے پر خصوصی اور مخلصانہ شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان عالمی ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو یکجا کرنے، ماحولیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم اور تعمیری عالمی مکالمے کے فروغ میں آذربائیجان کی موجودہ قائدانہ کاوشوں اور سفارتی کردار کو انتہائی قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات آٹھ دہائیوں سے مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں، امریکی سفارتخانے میں ڈھائی سویں سالگرہ کی تقریب سے وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب

محمود احمد june 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جون 2026ء

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین آٹھ دہائیوں پر محیط تاریخی تعلقات انسدادِ دہشت گردی، باہمی تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، تعلیم، صحت اور توانائی سمیت متعدد اہم شعبوں میں انتہائی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔ اسلام آباد میں واقع امریکی سفارتخانے میں امریکہ کی ڈھائی سویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک پروقار تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی انتظامیہ اور وہاں کے عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی، جبکہ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ دنیا کے ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے قیامِ پاکستان کے بعد اسے فوری طور پر تسلیم کیا تھا اور دونوں ممالک کے تعلقات ہمیشہ باہمی احترام، اعتماد اور اسٹریٹجک تعاون پر مبنی رہے ہیں، اسی طرح دونوں ممالک کے مابین تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط میں وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جہاں دس لاکھ سے زائد پاکستانی نژاد امریکی شہری دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں ایک اہم اور متحرک پل کا کردار ادا کر رہے ہیں، انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت لگ بھگ اسی بڑی امریکی کمپنیاں پاکستان میں کامیابی سے کاروبار کر رہی ہیں جبکہ ہزاروں پاکستانیوں نے امریکی جامعات سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے اور وہ مختلف شعبوں میں اپنی بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف نے جنوبی ایشیا کے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے امریکی صدر کے مثبت کردار کو کھل کر سراہا اور کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین شدید کشیدگی کے دوران جنگ بندی کرانے میں امریکی کوششوں کو پاکستان ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عالمی تاریخ میں ہمیشہ امن کے ایک سچے داعی کے طور پر یاد رکھا جائے گا، سفارتی تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے مابین ایک مخلص اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر اپنا بھرپور سفارتی کردار ادا کر رہا ہے تاکہ خطے میں کسی بھی ممکنہ جنگ کو روک کر پائیدار امن قائم کیا جا سکے اور انہوں نے اس اہم ترین مشن اور علاقائی استحکام کے سلسلے میں سپہ سالار جنرل عاصم منیر کی انتھک سفارتی کوششوں کو بھی خصوصی طور پر سراہا اور عزم ظاہر کیا کہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے پاکستان ہمیشہ اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا، وزیراعظم نے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں تربیلا ڈیم، زرعی ترقی کے منصوبوں، تعلیمی وظائف اور مختلف سماجی فلاحی پروگراموں میں امریکی مالی و تکنیکی تعاون کا مخلصانہ ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس طویل شراکت داری نے پاکستان کی مجموعی ترقی میں ہمیشہ ایک کلیدی کردار ادا کیا ہے اور انہوں نے قوی امید ظاہر کی کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات مزید گہرے ہوں گے اور دونوں ممالک مشترکہ تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔

عالمی سیاست میں بہت بڑی پیش رفت، امریکہ اور ایران تاریخی معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ گئے، رواں ہفتے کے آخر تک حتمی اعلان متوقع، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا انکشاف

محمود احمد june 04,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 04 جون 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حیران کن اور تزویراتی انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اعلٰی سطح کے مذاکرات اب فیصلہ کن اور آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور قوی امکان ہے کہ رواں ہفتے کے اختتام (ویک اینڈ) تک دونوں ممالک کے مابین ایک تاریخی معاہدہ طے پا جائے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ دونوں ممالک طویل کشیدگی کے بعد اب معاہدے کے بالکل قریب ہیں اور ان کی دلی خواہش ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید تناؤ کا خاتمہ صرف اور صرف سفارتی اور سیاسی طریقے سے ہی ممکن بنایا جائے۔
آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایرانی جوہری پروگرام پر سخت شرائط
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممکنہ معاہدے کے چیدہ چیدہ نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ:
بحری آمدورفت کی بحالی: اس ممکنہ معاہدے کے فوری بعد عالمی تجارتی شاہراہ ‘آبنائے ہرمز’ میں بین الاقوامی بحری جہازوں کی آمدورفت اور تیل کی ترسیل مکمل طور پر معمول پر آ سکے گی۔
جوہری ہتھیاروں پر پابندی: انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں اعادہ کیا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سخت نگرانی: ایران کی تمام تر جوہری سرگرمیوں سے متعلق معاملات اور ان کی سخت نگرانی اس نئے معاہدے کا سب سے اہم اور مرکزی حصہ ہیں۔
سفارت کاری کو ترجیح: خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام کے لیے فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل کو ہی اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
لبنان کی صورتحال اور حزب اللہ کی جانب سے یقین دہانی کا دعویٰ
امریکی صدر نے مشرقِ وسطیٰ کے دیگر بحرانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے بھرپور کوشش کی جا رہی ہے کہ لبنان کے داخلی حالات اور آبنائے ہرمز کے معاملات کو ایک دوسرے سے بالکل الگ تھلگ رکھا جائے تاکہ مختلف نوعیت کے بین الاقوامی تنازعات کے حل میں کوئی نئی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔ انہوں نے ایک بڑا دعویٰ بھی کیا کہ لبنانی عسکری تنظیم حزب اللہ کی جانب سے یہ اہم یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ فی الحال اسرائیل پر کوئی بڑا حملہ نہیں کرے گی، جس کے بعد خطے میں جنگ کے بادل چھٹنے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
امریکی کانگریس میں بحث اور ٹرمپ کی کڑی تنقید
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ایوانِ نمائندگان (کانگریس) میں ان کی انتظامیہ کے خلاف پیش کی جانے والی اس حالیہ قرارداد پر کڑی تنقید کی جس میں ایران کے خلاف صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ: واشنگٹن کے بعض مخصوص سیاسی حلقے ملکی مفاد کو پسِ پشت ڈال کر صرف ذاتی مفاد کے لیے ان کی کامیاب خارجہ پالیسیوں کی بلاوجہ مخالفت کر رہے ہیں۔
امریکہ کو کسی بھی نئی اور لاحاصل جنگ میں دھکیلنے کے بجائے سفارت کاری اور پرامن مذاکرات کو ایک موقع دیا جانا چاہیے۔
ان کی موجودہ انتظامیہ دن رات صرف مذاکرات کے ذریعے ہی دیرینہ عالمی تنازعات کے پرامن خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔
ممکنہ معاہدے پر دنیا بھر کی نظریں
امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اس متوقع معاہدے پر اس وقت عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ اس تاریخی پیش رفت کے براہِ راست اثرات مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سلامتی، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں (توانائی منڈیوں) اور بین الاقوامی سفارت کاری پر مرتب ہوں گے۔ اگر یہ معاہدہ اگلے دو روز میں طے پا جاتا ہے تو یہ دونوں ممالک کے مابین دہائیوں پر محیط حالیہ کشیدگی کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی اور اہم سفارتی پیش رفت تصور کی جائے گی۔

حکومت ملی تو گلگت بلتستان میں سستی ترین بجلی بنا کر پورے پاکستان کو دیں گے، بلاول بھٹو زرداری کا غذر کے بڑے انتخابی جلسے میں اعلان

کاشف عباسی ,june 04,2026

غذر، گلگت بلتستان (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جون 2026ء
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک بڑے عوامی اور انتخابی معرکے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات میں عوام نے پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع دیا، تو یہاں پانی سے بھاری مقدار میں بجلی پیدا کر کے پورے پاکستان کو سب سے کم اور سستے نرخوں پر فراہم کی جائے گی۔ غذر میں ایک بہت بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ ماضی کی تحقیقات کے مطابق گلگت بلتستان میں تقریباً پچاس ہزار میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی قدرتی صلاحیت موجود ہے، جسے عوامی و نجی شعبے کی مشترکہ شراکت داری (پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ) کے ذریعے کامیابی سے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ بنانے کا تاریخی وعدہ
بلاول بھٹو زرداری نے جلسے کے شرکا سے وعدہ کیا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ خود اسلام آباد جا کر وفاق سے یہ زوردار مطالبہ کریں گے کہ گلگت بلتستان کو باقاعدہ طور پر پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ تسلیم کیا جائے تاکہ یہاں کے غیور عوام کو مکمل آئینی حقوق، نمائندگی اور حقِ حکمرانی حاصل ہو سکے۔ انہوں نے خطے کے حوالے سے درج ذیل اہم نکات کا اعادہ کیا:
آئینی شناخت: گلگت بلتستان کے چپے چپے کو ملک کے دیگر صوبوں کی طرح مکمل آئینی شناخت دی جائے گی۔
حقِ ملکیت: مقامی آبادی کے حقِ ملکیت پر بغیر کسی دباؤ کے سو فیصد عملدرآمد کرایا جائے گا۔
زمینوں کے حقوق: یہاں کے مقامی عوام کو ان کی آبائی زمینوں کے قانونی اور مالکانہ حقوق دیے جائیں گے۔
حقوق کی جنگ: پیپلز پارٹی خطے کے مظلوم عوام کو ان کے حقوق دلانے کے لیے اپنی سیاسی جدوجہد آخری دم تک جاری رکھے گی۔
نوجوانوں کے لیے روزگار اور مفت ہاؤسنگ منصوبوں کا اعلان
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ خطے کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم کرنا ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور حکومت بننے کی صورت میں کسی سفارش کے بغیر، خالص میرٹ پر ہزاروں سرکاری ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ انہوں نے صوبہ سندھ کے کامیاب ماڈل کی طرز پر یہاں بھی ‘جی بی پیپلز ہاؤسنگ انیشیٹو’ کے نام سے غریبوں کے لیے مفت گھروں کے منصوبے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس فلاحی اسکیم کا باقاعدہ آغاز غذر کی سرزمین سے کیا جائے گا۔
صحت اور تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات کا وعدہ
بلاول بھٹو زرداری نے سندھ میں صحت کے شعبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں میں امراضِ قلب اور گردہ و جگر کے بڑے ہسپتالوں کے ذریعے عوام کو اربوں روپے کا مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے، بالکل اسی طرز کے جدید اور عالمی معیار کے طبی ادارے گلگت بلتستان میں بھی قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ
خطے کے تمام چھوٹے بڑے ہسپتالوں کی حالتِ زار کو ہنگامی بنیادوں پر بہتر بنایا جائے گا۔
دیہی علاقوں کے لیے ماں اور بچے کی صحت کے خصوصی ہیلتھ پروگرام متعارف کرائے جائیں گے۔
تمام جدید طبی سہولیات اور مفت ادویات عام آدمی کی دہلیز تک پہنچائی جائیں گی۔
انفراسٹرکچر، سڑکوں اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی
خطے کی پسماندگی کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے سڑکوں اور انٹرنیٹ کے سنگین مسائل کو تسلیم کیا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ جدید ترین سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے جی بی کے دور دراز علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کے مواصلاتی رابطوں کو بحال کیا جائے گا، جبکہ علاقائی تجارتی راستوں کی تعمیر اور سیاحتی منصوبوں پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ انہوں نے جلسے کے آخر میں تمام کارکنوں اور عوام سے پرزور اپیل کی کہ وہ 7 جون کو ہونے والے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں تاکہ ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح کے ان تمام وعدوں کو عملی شکل دی جا سکے۔

جماعت اسلامی کا پٹرول، بجلی اور مہنگائی کے خلاف ملک گیر عوامی تحریک چلانے کا اعلان، حافظ نعیم الرحمن کی کارکنوں کو بڑی مہم کی تیاری کی ہدایت

منصور احمد june 04,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جون 2026ء

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم مصنوعات، بجلی کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے اور کمر توڑ مہنگائی کے خلاف آنے والے دنوں میں ملک گیر سطح پر ایک بڑی عوامی تحریک چلانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ مرکزِ منصورہ سے ملک بھر کے جماعتی ذمہ داران اور تنظیمی عہدیداروں کے ایک اہم ترین آن لائن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیرِ جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی خالصتاً عوامی حمایت کے ذریعے ملکی نظام کی تبدیلی چاہتی ہے اور وہ کسی بھی قسم کی پسِ پردہ سازش یا غیر جمہوری طریقے سے اقتدار حاصل کرنے پر رتی بھر یقین نہیں رکھتی۔

لاکھوں نئے ارکان کی شمولیت: رکنیت سازی مہم تیز کرنے کی سخت ہدایت حافظ نعیم الرحمن نے ملک بھر کے کارکنان اور ذمہ داران کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ کے دس روز کو مکمل طور پر رکنیت سازی مہم کے لیے وقف کر دیا جائے اور مقررہ اہداف کے فوری حصول کے لیے تمام تر توانائیاں بروئے کار لائی جائیں۔ انہوں نے مہم کے اہداف کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا:

پچھلا مرحلہ: رکنیت سازی کے گزشتہ مرحلے میں ملک بھر سے تقریباً اٹھارہ سے بیس لاکھ افراد نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی۔
موجودہ ہدف: اس موجودہ مرحلے میں بھی پندرہ سے بیس لاکھ نئے ارکان کو شامل کرنے کا بڑا ہدف آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
بڑے شہروں پر فوکس: کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے تمام بڑے شہروں پر خصوصی توجہ مرکوز کر کے ہر علاقے اور گلی محلے کو اس مہم میں کور کیا جائے۔

مہنگائی اور عوامی مسائل پر دو ٹوک موقف امیرِ جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں اور پٹرول کی قیمتوں نے غریب عوام کو زندہ درگور اور شدید ترین مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، ایسی صورتحال میں جماعت اسلامی مظلوم عوام کی توانا آواز بنے گی۔ انہوں نے سوشل میڈیا اور پیغام رسانی کی ڈیجیٹل ایپلی کیشنز کے استعمال پر زور دیتے ہوئے کارکنوں کو ہدایت کی کہ

جدید مواصلاتی ذرائع کے گروپس کے ذریعے جماعت کا منشور اور اصلاحی پیغام گھر گھر پہنچایا جائے۔
عوامی مسائل کو انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مؤثر اور بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے۔
نچلی سطح تک تنظیمی رابطوں اور نیٹ ورک کو مزید مضبوط اور فعال بنایا جائے۔

بجٹ کے تناظر میں ملک گیر احتجاجی تحریک کا عندیہ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ آنے والے وفاقی بجٹ اور عوامی مشکلات کے تناظر میں جماعت اسلامی کسی بھی وقت ملک گیر احتجاج یا بڑی عوامی تحریک کی حتمی کال دے سکتی ہے، جس کے لیے ملک بھر کے کارکنان کو ذہنی اور تنظیمی طور پر ہر وقت مکمل تیار رہنا چاہیے۔

نوجوان نسل کو تباہی سے بچانے اور سماجی اصلاحات پر زور اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے نوجوانوں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے خطرناک رجحان کو ایک سنگین قومی بحران قرار دیا۔ انہوں نے اساتذہ، علمائے کرام، ڈاکٹروں، انجینئرز اور دیگر بااثر سماجی شخصیات کو ساتھ ملا کر ایک منظم اور ملک گیر آگاہی مہم چلانے کی ضرورت پر زور دیا۔ حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی صرف ایک روایتی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک دینی و اصلاحی تحریک ہے جو معاشرتی بہتری، بلا تفریق عوامی خدمت اور اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔

قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان کی تاریخی فتح، تیسرے ون ڈے میں آسٹریلیا کو دھول چٹا کر ایک روزہ میچوں کی سیریز اپنے نام کر لی

محمود احمد june 04,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 04 جون 2026ء

قومی کرکٹ ٹیم نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیسرے اور فیصلہ کن ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں مہمان آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کو چار وکٹوں سے عبرتناک شکست دے دی ہے۔ اس فتح کے ساتھ ہی پاکستان نے تین میچوں پر مشتمل یہ اہم ترین بین الاقوامی سیریز ایک کے مقابلے میں دو میچوں سے اپنے نام کر کے ملک بھر کے شائقینِ کرکٹ کو جشن کا ایک شاندار تحفہ پیش کر دیا ہے۔

آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت، پوری ٹیم 157 پر ڈھیر لاہور کے تاریخی قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس معرکے میں آسٹریلوی کپتان جوش انگلس نے ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم پاکستانی بولرز کی تباہ کن اور منظم کارکردگی کے سامنے مہمان ٹیم کا کوئی بھی بڑا بلے باز جم کر نہ کھیل سکا اور پوری آسٹریلوی ٹیم محض 157 رنز پر ہی ڈھیر ہو گئی۔ آسٹریلیا کی جانب سے کپتان جوش انگلس 65 رنز بنا کر سب سے نمایاں رہے، جبکہ مارنس لبوشین اور الیکس کیری صرف 19، 19 رنز ہی جوڑ سکے۔

قومی بولرز کی نپی تلی اور تباہ کن بولنگ پاکستان کی جانب سے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے حریف ٹیم کی بیٹنگ لائن کے پرخچے اڑاتے ہوئے 3 اہم وکٹیں حاصل کیں۔ ان کے ہمراہ اسپنر ابرار احمد اور شاداب خان نے بہترین تال میل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2، 2 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی، جبکہ حارث رؤف بھی 1 وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

ہدف کا کامیاب تعاقب اور فیصلہ کن شراکت داری آسٹریلیا کی جانب سے دیے گئے 158 رنز کے آسان ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی شروعات اگرچہ کچھ مشکلات کا شکار رہیں، تاہم قومی بلے بازوں نے ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 42 ویں اوور میں 6 وکٹوں کے نقصان پر مطلوبہ ہدف حاصل کر لیا۔ پاکستان کی جانب سے مایہ ناز بلے باز بابر اعظم 40 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ معاذ صداقت نے 27 رنز کی اننگز کھیلی۔ میچ کے نازک موڑ پر عبدالصمد اور شاداب خان نے شاندار اعصاب کا مظاہرہ کیا اور ساتویں وکٹ کے لیے 49 رنز کی انتہائی اہم اور ناقابلِ شکست شراکت قائم کر کے ٹیم کو فتح کی دہلیز تک پہنچایا۔

یادگار فتح اور اسٹیڈیم میں جشن کا سماں اس تزویراتی کامیابی کے بعد قذافی اسٹیڈیم لاہور میں موجود ہزاروں شائقینِ کرکٹ نے ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے اور قومی پرچم لہرا کر پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ مبصرین کے مطابق، قومی ٹیم کی اس تاریخی کامیابی میں بولرز کی غیر معمولی کارکردگی اور درمیانی لائن کے بلے بازوں کی ذمہ دارانہ بلے بازی نے سب سے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے عالمی تعاون بڑھایا جائے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا تنظیم برائے انسدادِ کیمیائی ہتھیار کے فریم ورک کے تحت استعدادِ کار میں اضافے پر زور

محمود احمد june 04,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جون 2026ء

پاکستان نے دنیا کے کسی بھی خطے، کسی بھی فرد، کسی بھی جگہ اور کسی بھی صورت میں مہلک کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی سخت ترین الفاظ میں مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا بین الاقوامی کنونشن عالمی تخفیفِ اسلحہ اور پائیدار امن کے نظام کا ایک بنیادی ستون ہے۔

پاکستان کا اصولی موقف اور شامی حکومت کے عزم کی تعریف مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی صورتحال سے متعلق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک خصوصی بریفنگ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان اس عالمی کنونشن کی عالمگیریت اور اس کے مکمل، مؤثر اور بغیر کسی امتیاز کے نفاذ کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے شام کی حکومت کی جانب سے تنظیم برائے انسدادِ کیمیائی ہتھیار کے ساتھ مکمل تعاون کے عزم کو سراہا اور کہا کہ یہ تعاون کیمیائی ہتھیاروں کے ممکنہ باقیات کے خاتمے کے عمل کو تیز کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہو رہا ہے۔

زیرِ التوا امور، سکیورٹی چیلنجز اور رکاوٹیں سفیر عثمان جدون نے تنظیم برائے انسدادِ کیمیائی ہتھیار کے ڈائریکٹر جنرل کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ چھبیس میں سے انیس زیرِ التوا امور اب بھی حل طلب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنیکل سیکرٹریٹ ان مقامات کی نشاندہی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے جو کنونشن کے تحت قابلِ اعلامیہ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سیکرٹریٹ نے ضروریات اور خلا کے جائزے کے تحت ان کمزوریوں کی ایک غیر حتمی فہرست بھی تیار کی ہے جو شامی حکام کی فراہمی اور ان کی دستیاب استعداد کے درمیان موجود ہیں۔ تاہم، پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ شام کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور بعض اہم علاقوں پر دیگر قوتوں کے قبضے کی کیفیت اس عمل کے بروقت اور مؤثر نفاذ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔

شامی حکام کی استعدادِ کار میں اضافے کا مطالبہ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا:

“یہ امر انتہائی ضروری ہے کہ شامی حکام کو درپیش زمینی رکاوٹوں اور اندرونی چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے ان کی انتظامی و عسکری استعدادِ کار میں اضافہ کیا جائے اور ان کے ساتھ عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے۔”

انہوں نے واضح کیا کہ یہ تعاون کئی بڑے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے انتہائی اہم ہے، جن میں مشتبہ مقامات کی نوعیت، ادارہ جاتی محدودیتیں، اور شامی قومی ٹیموں کی کیمیائی گولہ بارود کو سنبھالنے، ان کی نقل و حمل اور انہیں محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے سے متعلق محدود تکنیکی صلاحیت اور تجربہ شامل ہیں۔

برادر ممالک ترکیہ اور قطر کی کوششوں کی تعریف نائب مستقل مندوب نے ان تمام عالمی فریقین کی بھی کھل کر تعریف کی جو شامی حکام کی استعداد بڑھانے اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں اپنا تکنیکی تعاون فراہم کر رہے ہیں۔ اس اہم ترین مہم کے حوالے سے انہوں نے برادر مسلم ممالک ترکیہ اور قطر کی سفارتی اور تزویراتی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا۔

اخری میں انہوں نے ٹیکنیکل سیکرٹریٹ پر زور دیا کہ وہ کنونشن کے مطابق اپنی آزادانہ تصدیقی ذمہ داریاں پوری دیانت داری سے جاری رکھے تاکہ شام میں موجود مشتبہ کیمیائی ہتھیاروں اور ان کے پھیلاؤ کے کسی بھی ممکنہ خطرے کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں فریقین کے درمیان جاری مثبت روابط مزید مضبوط بنیاد فراہم کریں گے تاکہ تمام حل طلب امور جلد از جلد نمٹائے جا سکیں اور اس اہم فائل کو ہمیشہ کے لیے بند کیا جا سکے۔

نور مقدم قتل کیس میں بڑی پیش رفت، سپریم کورٹ نے مجرم ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست مسترد کر دی، سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم

محمود احمد june 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 04 جون 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک کے مشہور اور انتہائی حساس نور مقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی جانب سے دائر کی جانے والی نظرثانی کی درخواست کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے ان کی سزائے موت کو برقرار رکھنے کا حتمی حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے اس تاریخی فیصلے کے بعد مجرم کی پھانسی سے بچنے کی آخری قانونی کوشش بھی بری طرح ناکام ہو گئی ہے۔

تین رکنی بینچ کا فیصلہ اور عدالتی ریمارکس رپورٹ کے مطابق، سپریم کورٹ کے معزز جج جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں قائم تین رکنی خصوصی بینچ نے کیس کی تفصیلی سماعت کی۔ عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر قرار دیا کہ ریکارڈ پر موجود تمام شواہد، گواہیاں اور سابقہ عدالتی فیصلے بالکل آئین اور قانون کے مطابق ہیں، اس لیے ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں کسی بھی قسم کی مداخلت کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔

کیس کا پسِ منظر اور سابقہ فیصلے یہ ہائی پروفائل مقدمہ جولائی دو ہزار اکیس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پیش آنے والے نور مقدم کے بہیمانہ قتل سے متعلق ہے، جس نے اس وقت پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور عوامی سطح پر شدید ترین ردعمل پیدا ہوا تھا۔ یاد رہے کہ مقتولہ نور مقدم، پاکستان کے ایک سابق سفارتکار کی بیٹی تھیں جنہیں اسلام آباد میں بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ اس لرزہ خیز واقعے کے بعد ماتحت عدالت نے ظاہر جعفر کو قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔

مجرم کے لیے تمام قانونی راستے بند قانونی ماہرین کے مطابق، سپریم کورٹ کی جانب سے نظرثانی کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد اب مجرم ظاہر جعفر کے لیے عدالتی سطح پر دستیاب تمام اہم ترین قانونی راستے اور چارہ جوئیاں تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔ اس فیصلے کو پاکستان میں خواتین کے تحفظ، سنگین جرائم کے سداد اور انصاف کی فوری فراہمی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور سنگِ میل پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

آئندہ وفاق بجٹ میں موبائل اور انٹرنیٹ صارفین کے لیے بڑے ریلیف کی تجویز، وزارت آئی ٹی کی ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی سفارشات تیار

منصور احمد june 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جون 2026ء:

وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) نے آئندہ مالی سال دو ہزار چھبیس ستائیس کے وفاقی بجٹ کے لیے وزارتِ خزانہ کو ٹیلی کام سیکٹر کی تیز رفتار ترقی اور موبائل صارفین کو بڑا ریلیف فراہم کرنے سے متعلق انتہائی اہم اور انقلابی تجاویز ارسال کر دی ہیں۔ وزارتِ آئی ٹی کے اعلیٰ حکام کے مطابق، ان بجٹ تجاویز میں موبائل اور انٹرنیٹ صارفین پر عائد بھاری ٹیکسوں میں مرحلہ وار کمی کی سفارش کی گئی ہے تاکہ ڈیجیٹل خدمات تک عام عوام کی رسائی کو مزید سستا اور آسان بنایا جا سکے۔

وزارتِ آئی ٹی کی جانب سے پیش کردہ اہم ترین تجاویز درج ذیل ہیں:

ایڈوانس ٹیکس میں کمی: موبائل صارفین پر عائد پندرہ فیصد ایڈوانس ٹیکس کو فوری طور پر کم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
عام سیلز ٹیکس میں ریلیف: ٹیلی کام سروسز پر لاگو ساڑھے انیس فیصد عام سیلز ٹیکس کو مرحلہ وار بنیادوں پر کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
یکساں ٹیکس نظام: ملک بھر کے تمام صوبوں اور علاقوں میں ٹیلی کام خدمات پر ایک جیسا اور یکساں ٹیکس نظام نافذ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
درآمدی ڈیوٹی میں چھوٹ: انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے استعمال ہونے والے براڈ بینڈ آلات اور ٹیلی کام کے دیگر سازوسامان پر عائد درآمدی ڈیوٹیز کو کم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
سرمایہ کاری کا فروغ: ملک میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی لاگت کو کم کرنے کے لیے اقدامات اور ٹیلی کام سیکٹر کے نئے منصوبوں میں نجی سرمایہ کاری کے فروغ کی سفارش کی گئی ہے۔
سرکاری خزانے پر بوجھ میں کمی: سرکاری خزانے پر انحصار کم کر کے پرائیویٹ سیکٹر (نجی شعبے) کو آگے بڑھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

    ڈیجیٹل پاکستان وژن کو فروغ دینے کا عزم وزارتِ آئی ٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام تجاویز کا بنیادی مقصد ملک میں ڈیجیٹل رسائی، تیز رفتار انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ حکام کے مطابق، اگر وفاقی بجٹ میں ٹیلی کام سیکٹر کو ٹیکسوں میں یہ متوقع ریلیف فراہم کر دیا جاتا ہے، تو موبائل اور انٹرنیٹ سروسز واضح طور پر سستی ہو جائیں گی، جس کا براہِ راست فائدہ عام صارفین، کاروباری اداروں اور ملک کی مجموعی ڈیجیٹل معیشت کو پہنچے گا۔

    حتمی فیصلہ وفاقی بجٹ کی پیشی پر ہوگا اگرچہ وزارتِ آئی ٹی کی جانب سے یہ تمام سفارشات وزارتِ خزانہ کو باقاعدہ طور پر بھجوا دی گئی ہیں، تاہم ان تجاویز کی حتمی منظوری اور باضابطہ اعلان وفاقی حکومت کی جانب سے نیا بجٹ پیش کیے جانے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

    راولپنڈی میں مبینہ پولیس گردی کا سنگین واقعہ، انصاف نہ ملنے پر متاثرہ خاتون کی کچہری چوک میں خودسوزی کی دھمکی

    منصور احمد june 04,2026

    راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جون 2026ء

    راولپنڈی کے پوش علاقے ڈی ایچ اے فیز ٹو کی رہائشی خاتون حفصہ رانی نے مقامی پولیس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دہائی دی ہے کہ بحریہ پولیس چوکی کے اہلکاروں نے ان کے شوہر کو مبینہ طور پر غیر قانونی حراست میں لے کر لاکھوں روپے نقدی اور قیمتی گاڑی چھین لی اور بعد ازاں ان کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔

    لاکھوں روپے کی مبینہ چھینا جھپٹی اور غیر قانونی حراست کی تفصیلات متاثرہ خاتون کے مطابق، 20 مئی 2026ء کو چوکی انچارج عبدالمقدم، امتیاز ناصر اور دیگر اہلکاروں نے ان کے شوہر اورنگزیب کو ڈی ایچ اے فیز ٹو سے حراست میں لیا۔ خاتون کا دعویٰ ہے کہ گرفتاری کے دوران پولیس اہلکاروں نے موقع پر ہی دو لاکھ روپے نقدی چھین لی، جبکہ بعد ازاں شوہر کو بحریہ فیز 7 منتقل کر کے دباؤ کے تحت ان کے بینک اکاؤنٹ سے مزید ڈھائی لاکھ روپے نکلوائے گئے۔ حفصہ رانی کا مزید کہنا ہے کہ ان کی قیمتی اسپورٹس گاڑی بھی پولیس اہلکار اپنی ذاتی تحویل میں لے گئے اور شوہر کو تین روز تک غیر قانونی حراست میں رکھنے کے بعد تھانہ صدر بیرونی میں منشیات کا مقدمہ درج کروا دیا۔ انہوں نے یہ لرزہ خیز الزام بھی لگایا کہ شوہر کی رہائی کے عوض پولیس کی جانب سے 15 لاکھ روپے رشوت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

    “انصاف نہ ملا تو خود کو آگ لگا دوں گی” — خاتون کی میڈیا سے گفتگو میڈیا کے نمائندوں سے روتے ہوئے گفتگو کرتے ہوئے حفصہ رانی نے کہا کہ وہ انصاف کی تلاش میں متعدد اعلیٰ پولیس حکام کے دفاتر کے چکر لگا لگا کر تھک چکی ہیں لیکن تاحال کسی نے ان کی فریاد نہیں سنی۔ ان کا کہنا تھا:

    “میرے دو معصوم اور چھوٹے بچے ہیں، میں عدالتوں اور پولیس دفاتر کے دھکے کھا کھا کر ہمت ہار چکی ہوں۔ اگر مجھے اگلے دو سے تین دن کے اندر انصاف فراہم نہ کیا گیا، تو میں راولپنڈی کے کچہری چوک میں سرِعام خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا لوں گی، جس کی ذمہ دار انتظامیہ ہو گی۔”

    وزیراعلیٰ مریم نواز اور آئی جی پنجاب سے فوری مداخلت کا مطالبہ متاثرہ خاتون نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، صوبائی وزیر داخلہ، آئی جی پنجاب، آر پی او راولپنڈی اور سی پی او راولپنڈی سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین معاملے کی کسی ایماندار افسر سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، ان کے شوہر کو انصاف فراہم کر کے مبینہ طور پر لوٹی گئی رقم اور گاڑی واپس دلائی جائے۔

    (نوٹ: مذکورہ بالا الزامات خاتون حفصہ رانی کی جانب سے پریس کانفرنس اور میڈیا گفتگو میں عائد کیے گئے ہیں۔ متعلقہ پولیس حکام کی جانب سے تاحال ان الزامات کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے)۔

    قومی ہاکی ٹیم کی شاندار کامیابی، پاکستان جونیئر ہاکی ایشیا کپ کے سیمی فائنل میں داخل، روایتی حریف بھارت سے ٹاکرا 5 جون کو ہو گا

    محمود احمد june 03,2026

    لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

    سرزمینِ جاپان میں کھیلے جانے والے اٹھارہ سال سے کم عمر کھلاڑیوں کے ہاکی ایشیا کپ میں پاکستان نے انتہائی شاندار اور تاریخی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیمی فائنل مرحلے کے لیے کامیابی سے کوالیفائی کر لیا ہے۔ گروپ مرحلے کے ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن میچ میں پاکستان نے بنگلادیش کو دو کے مقابلے میں پانچ گول سے عبرتناک شکست دے کر ٹورنامنٹ میں اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔

    پاکستانی ٹیم کا جارحانہ کھیل اور گولز کی تفصیل جاپان کے خوبصورت شہر کاکامیگاہارا میں کھیلے گئے اس سنسنی خیز میچ میں پاکستانی نوجوانوں نے کھیل کے آغاز ہی سے انتہائی جارحانہ انداز اپنایا اور حریف بنگلادیشی دفاعی لائن پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا۔ پاکستان کی فتح میں عبداللہ نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے دو گول اسکور کیے، جبکہ عدیل، آسام اور محمد یحییٰ نے ایک ایک گول کر کے ٹیم کی پوزیشن کو ناقابلِ شکست بنا دیا۔ دوسری جانب بنگلادیش کی طرف سے تیرک اسلام اور منا اسلام ہی صرف ایک ایک گول اسکور کرنے میں کامیاب ہو سکے۔

    میچ کا بہترین کھلاڑی اور ٹیم کی مجموعی کارکردگی پورے میچ کے دوران میدان میں غیر معمولی اور دلکش کھیل کا مظاہرہ کرنے پر نوجوان پاکستانی اسٹار محمد یحییٰ کو ‘میچ کا بہترین کھلاڑی’ قرار دیا گیا۔ مبصرین کے مطابق، پاکستانی فارورڈ لائن نے ملنے والے تمام مواقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا، جبکہ مڈفیلڈ اور دفاعی پوزیشن پر موجود کھلاڑیوں نے بھی بہترین تال میل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پورے کھیل کے دوران اپنی برتری کو کم نہیں ہونے دیا۔ اس فیصلہ کن کامیابی کے بعد پاکستان اب ٹورنامنٹ جیتنے کے لیے سب سے مضبوط امیدوار بن کر ابھرا ہے۔

    سیمی فائنل میں روایتی حریف بھارت کا سامنا اب دنیا بھر کے ہاکی شائقین کی نظریں 5 جون کو ہونے والے سیمی فائنل پر جم گئی ہیں، جہاں پاکستان کا مقابلہ اپنے روایتی حریف بھارت سے ہوگا، جس کا شائقینِ کھیل بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔

    پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر کی مبارکباد اور نیک تمنائیں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی نے قومی جونیئر ٹیم اور تمام انتظامیہ (مینجمنٹ) کو اس شاندار کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ اپنے خصوصی پیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ بڑی کامیابی تمام کھلاڑیوں، کوچز اور معاون عملے (سپورٹ اسٹاف) کی انتھک محنت اور لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے قومی ٹیم سے امید ظاہر کی کہ وہ سیمی فائنل کے اس بڑے معرکے میں بھی اپنی بہترین کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے فائنل تک رسائی حاصل کرے گی اور ملک میں ہاکی کے روشن مستقبل کی بنیاد کو مزید مضبوط بنائے گی۔