حق و حریت کا ابدی بیانیہ: کربلا ناانصافی کے خلاف پکار رہا ہے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق اور امن کے لیے موثر اقدامات اٹھائے، مشعال حسین ملک

منصور احمد june 26,2026

اسلام آباد (کشمیر امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

جیل میں بند مقتدر حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ اور ممتاز کشمیری رہنما مشعال حسین ملک نے عالمی برادری پر پرزور انداز میں دباؤ ڈالتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے، انصاف کی فراہمی اور دیرپا امن کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر بامعنی اور موثر اقدامات اٹھائے۔ محرم الحرام کے مقتدر موقع پر جاری کیے گئے اپنے ایک خصوصی ویڈیو پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ کربلا کا لازوال پیغام پوری دنیا میں جاری ظلم و جبر کے خلاف ڈٹ جانے اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کا ابدی درس دیتا ہے۔

مشعال حسین ملک نے معرکہ کربلا کے نظریاتی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظیم قربانی سچائی، انصاف، صبر اور استقامت کی ایک ایسی لازوال علامت ہے جو دنیا بھر میں اپنے وقار اور آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والی مظلوم قوموں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سید الشہداء کی یہ بے مثال قربانی جرات، صداقت اور مقتدر انصاف کے لیے غیر متزلزل عزم کے اعلیٰ ترین انسانی نظریات کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کربلا کا پیغام وقت اور جغرافیائی حدود سے بالاتر ہے، جو محکوم اور مظلوم قوموں کو امید، حوصلہ اور طاقت دیتا ہے اور انسانیت کو یہ سکھاتا ہے کہ کس طرح پورے وقار اور استقامت کے ساتھ ظلم کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مقبوضہ وادی کی مقتدر صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے لوگ کئی دہائیوں سے اپنے بنیادی حقوق اور انصاف کے حصول کے لیے بے پناہ مشکلات، مظالم اور لازوال قربانیوں کو برداشت کرتے ہوئے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ مشعال حسین ملک نے اصرار کیا کہ محرم الحرام کا یہ مقدس مہینہ امتِ مسلمہ سمیت وسیع تر عالمی برادری کو اس مقتدر ذمہ داری کی یاد دلاتا ہے کہ وہ ہر حال میں مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوں، آپس میں اتحاد، رواداری اور ہمدردی کو فروغ دیں اور معاشرے میں انصاف کے اصولوں کو برقرار رکھیں۔ انہوں نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ غاصبانہ طاقت ہمیشہ عارضی ہوتی ہے جبکہ سچائی، الٰہی قربانی اور اصولوں کی غیر متزلزل عملداری ہمیشہ ابدی رہتی ہے اور دنیا بھر کی آنے والی نسلوں کو حق پر جینے کا حوصلہ دیتی رہے گی۔

انسانی وقار کا تحفظ: تشدد، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے، فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے عوام بدترین ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 26,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے تشدد، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کو کسی بھی مہذب معاشرے میں سراسر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسے مکروہ اقدامات انسانی حقوق اور انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین اور اسلامی تعلیمات کے بھی مکمل منافی ہیں۔ تشدد کے متاثرین کی حمایت کے عالمی دن کے موقع پر جاری کردہ اپنے مقتدر پیغام میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں تشدد کا شکار ہونے والے مظلوموں سے پرخلوص انداز میں یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر تشدد کی ہر شکل کے خاتمے، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان انسان کے تقدس و وقار سے متعلق اسلامی اقدار کی رہنمائی اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی روشنی میں تمام افراد کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے متاثرین کی بحالی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی نوعیت کے معاشرتی تشدد کے متاثرین بہترین طبی، نفسیاتی، قانونی اور سماجی معاونت کے قانونی حقدار ہیں، جبکہ تشدد کے مرتکب عناصر کا کڑا احتساب یقینی بنانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے متعلقہ قوانین کے مؤثر نفاذ، قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات اور ریاستی تحفظ و نگرانی کے نظام کو مزید مستحکم بنایا جا رہا ہے۔ اپنے پیغام میں وزیرِ اعظم نے غیر ملکی قابضین کی طرف سے منظم انداز میں تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے عوام ریاستی جبر و استبداد، قابضین کے بدترین تشدد اور توہین آمیز و غیر انسانی سلوک کا سامنا کر رہے ہیں، اور ان قابضین کے جرائم کی مذمت اور ان کی جوابدہی اب مشترکہ عالمی ذمہ داری بن چکی ہے۔

وزیرِ اعظم نے عالمی برادری کی توجہ خاص طور پر بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری دہائیوں پر محیط ریاستی دہشت گردی کے متاثرین کی مشکلات و مصائب کی جانب مبذول کرائی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر متعدد مستند رپورٹوں میں مقبوضہ کشمیر میں من مانی گرفتاریوں، دورانِ حراست وحشیانہ تشدد، جبری گمشدگیوں، اجتماعی سزاؤں اور سیاسی اختلافِ رائے کو دبانے کے بھارتی اقدامات پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے، جو کہ وہاں منظم تشدد کی عالمی تصدیق ہے۔ وزیرِ اعظم نے اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب عناصر کا احتساب یقینی بنائیں۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ پاکستان کشمیری عوام کی غیر ملکی تسلط کے خلاف جدوجہد کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ان کے حقِ خودارادیت کی بھرپور تائید کرتا ہے۔

مذہبی عقیدت اور پرامن فضاء: ملک بھر میں یومِ عاشور انتہائی احترام و غم کے ساتھ منایا گیا، پوری قوم کا شہدائے کربلا کو زبردست خراجِ عقیدت

منصور احمد june 26,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

ملک بھر میں نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے جانثار رفقاء کی عظیم قربانیوں کی یاد میں یومِ عاشور (10 محرم الحرام) انتہائی عقیدت و احترام، گہرے غم اور مقتدر روحانی جذبے کے ساتھ منایا گیا ہے۔ شہریوں، جید مذہبی اسکالرز، عوامی اور سیاسی رہنماؤں نے معرکہ کربلا کے عظیم شہداء کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے حق، انصاف اور اسلام کے لازوال پیغام کے لیے ان کی لازوال قربانیوں کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔ اس مقتدر دن کی مناسبت سے مختلف قومی میڈیا چینلز پر خصوصی معلوماتی نشریات، انٹرویوز اور مقتدر پیغامات نشر کیے گئے، جن میں ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف صبر، بے مثال قربانی اور ثابت قدمی کے ابدی اسباق کی ترویج کی گئی۔

ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں مقتدر علماء کرام اور مذہبی اسکالرز نے سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے باوفا ساتھیوں کے صداقت کے لیے غیر متزلزل اور تاریخی موقف کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ وفاقی و صوبائی دارالحکومتوں سمیت ملک بھر میں سخت اور مقتدر حفاظتی انتظامات کے تحت روایتی تعزیہ، علم اور ذوالجناح کے ماتمی جلوس نکالے گئے، جبکہ مساجد، امام بارگاہوں اور مجالس کے مقامات پر قرآن خوانی، رقت آمیز خصوصی دعاؤں اور مقتدر مذہبی اجتماعات میں لاکھوں عزادار شریک ہوئے۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں شہریوں نے اپنے وفات پا جانے والے پیاروں کے ایصالِ ثواب اور فاتحہ خوانی کے لیے مقامی قبرستانوں کا بھی رخ کیا۔

ملک بھر کے شہریوں، زائرین اور کمیونٹی رہنماؤں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے کیے گئے مقتدر انتظامات کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بہتر حفاظتی اقدامات اور جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کی تعریف کی، جسے مرکزی جلوسوں کے پرامن اور محفوظ انعقاد کو یقینی بنانے اور ملک بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے چست کیا گیا تھا۔ سیاسی و سماجی شخصیات نے شہدائے کربلا کو عقیدت کے پھول پیش کرتے ہوئے اس دن کو رہتی دنیا تک جرات، قربانی اور سچائی کی ایک لازوال اور مقتدر یاد دہانی قرار دیا۔

مختلف شہروں میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عام شہریوں کا کہنا تھا کہ پرامن حکومتی انتظامات اور نظم و ضبط کے بہترین ماحول نے انہیں مکمل آسانی اور مقتدر عقیدت کے ساتھ عاشورہ کے مراسم ادا کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا۔ شہریوں نے اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں سیکیورٹی کا انتظام انتہائی قابلِ ستائش تھا اور ہر چیز کو تزویراتی طور پر منظم کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ محفوظ ماحول سے پوری طرح مطمئن ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یومِ عاشورہ لوگوں کے مابین باہمی اتحاد، رواداری، صبر اور ایمان کو فروغ دینے کا ابدی درس دیتا ہے، اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقتدر اسوہ اور آفاقی پیغام کائنات میں انصاف، حریت اور انسانیت کے لیے ہمیشہ ایک روشن مشعلِ راہ رہے گا۔

اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کا فوری حل: بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی شکایات کے حل میں کامیابی کی شرح 83 فیصد تک پہنچ گئی، چیئرمین او پی ایف سید قمر رضا

محمود احمد june 26,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (او پی ایف) کے چیئرمین سید قمر رضا نے سمندر پار پاکستانیوں کی فلاح و بہبود اور ان کے مسائل کے فوری حل کے لیے متعارف کرائی گئی انقلابی اور مقتدر اصلاحات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ فاؤنڈیشن نے اپنے شکایتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کر دیا ہے، جس کی بدولت بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی شکایات کے حل میں کامیابی کی مقتدر شرح 83 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

جمعہ کے روز ایک مقامی ٹی وی چینل سے خصوصی اور مقتدر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین او پی ایف سید قمر رضا نے وضاحت کی کہ او پی ایف بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لیے کارکردگی، شفافیت اور خدمات کی فوری فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے اپنے انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل نظام کو مسلسل اپ گریڈ کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تارکینِ وطن کی سہولت کے لیے 24/7 واٹس ایپ، ای میل اور آن لائن پورٹل پر مشتمل ایک مربوط اور مقتدر شکایت سیل چست کیا گیا ہے، جہاں موصول ہونے والے مسائل پر فوری ایکشن لیا جاتا ہے۔

چیئرمین او پی ایف نے فاؤنڈیشن کے تعلیمی نیٹ ورک کے حوالے سے اہم معلومات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ او پی ایف اس وقت آزاد جموں و کشمیر سمیت پاکستان کے چاروں صوبوں میں 27 سے زائد مقتدر اسکولوں اور کالجوں کا انتظام کامیابی سے چلا رہی ہے۔ ان تمام تعلیمی اداروں میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی فیسوں میں 50 فیصد تک کی خطیر اور مقتدر رعایت بھی دی جا رہی ہے۔

سید قمر رضا نے مزید بتایا کہ او پی ایف بیرونِ ملک، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں مقیم محنتی پاکستانیوں کے لیے ملازمت کے عدم تحفظ اور کام کی جگہ کے خدشات جیسے سنگین مسائل کو حل کرنے کے لیے مقتدر سطح پر کوشاں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ او پی ایف کی مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیز اور دیگر فلاحی منصوبوں کو بھی تیز کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستانی کارکنوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرونِ ملک کسی پاکستانی کی وفات جیسے انتہائی نازک اور افسوسناک معاملات میں فاؤنڈیشن ان کے سوگوار خاندانوں کو بروقت مالی و انتظامی امداد کی فراہمی یقینی بناتی ہے، تاکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کا ملکی اداروں کے مقتدر تعاون پر اعتماد مزید مضبوط ہو سکے۔ او پی ایف ہر سطح پر مکمل شفافیت اور اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ سمندر پار پاکستانیوں کی خدمت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

منشیات سے پاک معاشرے کا عزم: پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسدادِ منشیات اور اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن منایا گیا، شعور بیدار کرنے کے لیے خصوصی تقاریب کا انعقاد

کاشف عباسی ,june 26,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

پاکستان سمیت دنیا بھر میں منشیات کے استعمال، اس کی روک تھام اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن جمعہ 26 جون کو مقتدر روایتی جوش و جذبے اور عزمِ نو کے ساتھ منایا گیا ہے۔ اس عالمی دن کو منانے کا بنیادی اور تزویراتی مقصد انسدادِ منشیات اور اسمگلنگ کے کثیر الجہتی خطرات کے حوالے سے عام شہریوں میں وسیع آگاہی اور شعور فراہم کرنا ہے تاکہ معاشرے سے منشیات کے استعمال کا خاتمہ، غیر قانونی بین الاقوامی تجارت کا سدِباب اور اس ممنوعہ کاروبار میں ملوث مجرمانہ نیٹ ورکس کی مکمل حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ اس وقت دنیا بھر میں نشے کے عادی افراد کی تعداد میں ہونے والا مسلسل اضافہ عالمی برادری کے لیے گہری تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔

پاکستان میں منشیات کی روک تھام کے لیے قانون نافذ کرنے والے مقتدر ادارے انتہائی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ملک میں اینٹی نارکوٹکس فورس ، پولیس اور پاکستان کوسٹ گارڈز سمیت مختلف متعلقہ ادارے مشترکہ اور انفرادی کارروائیوں کے دوران سالانہ اربوں اور کروڑوں روپے مالیت کی خطرناک منشیات برآمد کرتے ہیں اور اسمگلنگ میں ملوث سینکڑوں ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جاتا ہے۔ منشیات کی سپلائی لائن کاٹنے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں نشے کے مقتدر عادی افراد کے علاج اور ان کی بحالی کے لیے بھی حکومتی اور نجی سطح پر جامع اقدامات جاری ہیں، جن کا حتمی مقصد پاکستان کو منشیات سے پاک کر کے ایک صحت مند معاشرے کا قیام یقینی بنانا ہے۔

انسدادِ منشیات اور اس کی غیر قانونی اسمگلنگ کے اس عالمی دن کے مقتدر موقع پر ملک بھر میں سرکاری، غیر سرکاری، طبی، فلاحی، رفاعی اور نجی اداروں کے زیرِ اہتمام سیمینارز، واکس اور معلوماتی تقریبات کا بڑے پیمانے پر انعقاد کیا گیا۔ ان مقتدر تقاریب میں طبی ماہرین اور سماجی رہنماؤں نے منشیات کے جسمانی، معاشی اور معاشرتی نقصانات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مقررین نے عام آدمی بالخصوص نوجوان نسل میں اس ناسور کے خلاف شعور اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ معاشرے کے تمام طبقات مل کر اس موذی لت کے خلاف مضبوط ڈھال بن سکیں اور آنے والے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

انسانی وقار کا تحفظ: پاکستان سمیت دنیا بھر میں تشدد کے متاثرین کی حمایت کا عالمی دن منایا گیا، ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک کے خاتمے کے لیے عوامی شعور بیدار کرنے پر زور


اسلام آباد/ نیوز ڈیسک( نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

پاکستان سمیت دنیا بھر میں تشدد کے خلاف اور اس کا شکار ہونے والے متاثرین کی حمایت کا عالمی دن جمعہ 26 جون کو مقتدر انداز میں منایا گیا ہے۔ اس اہم ترین دن کو عالمی سطح پر منانے کا بنیادی مقصد تشدد سے متاثرہ بے گناہ افراد کی نفسیاتی و جسمانی بحالی، ان کے لیے قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا اور کائنات کے تمام انسانوں پر ہونے والے ہر قسم کے تشدد کے مکمل خاتمے کے لیے عوامی شعور کو بیدار کرنا ہے۔

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ تشدد تمام ہی انسانی معاشروں میں کسی نہ کسی مقتدر صورت اور کسی نہ کسی سطح پر ہمیشہ موجود رہا ہے، جو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ تشدد کے متاثرین کی حمایت کے اس عالمی دن کے مقتدر موقع پر دنیا بھر میں مہم جوئی کا حصہ بننے والے متاثرین اور ایسے دردناک واقعات میں معجزاتی طور پر بچ جانے والے افراد کو ان کی جرات پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ انسانی وقار کی بحالی کے لیے تشدد اور دیگر ظالمانہ، غیر انسانی یا رسوا کن سلوک اور سخت سزا کے خلاف اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام ایک مقتدر عالمی معاہدہ عمل میں لایا گیا تھا، جس کی تزویراتی اہمیت کے پیشِ نظر اب تک امریکہ سمیت دنیا کے 166 ممالک اس عالمی معاہدے کی باقاعدہ توثیق کر چکے ہیں۔

اس مقتدر دن کی مناسبت سے پاکستان اور دنیا بھر میں سرکاری، غیر سرکاری، فلاحی اور رفاعی اداروں کے زیرِ اہتمام خصوصی سیمینارز اور شعوری تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ ان مقتدر تقاریب میں مقررین نے معاشرے میں بڑھتے ہوئے تشدد کو روکنے، تشدد کے متاثرین کی مالی و اخلاقی تلافی کرنے، ان کی طبی و سماجی بحالی کے نظام کو مؤثر بنانے اور انسانوں پر وحشیانہ تشدد میں ملوث سنگدل عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر کڑی سزا دینے کے حوالے سے عملی اقدامات اٹھانے پر مقتدر آگاہی فراہم کی، تاکہ ایک پرامن اور متوازن معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔

ملک میں آبی صورتحال مستحکم: واپڈا نے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے مقتدر اعداد و شمار جاری کر دیے

روزینہ اسماعیل.june 26,2026

اسلام آباد (معاشی و آبی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک بھر کے تمام بڑے دریاؤں، ڈیموں اور تزویراتی آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین اور مقتدر اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ جمعہ کے روز جاری کردہ آفیشل رپورٹ کے مطابق، ملک کے آبی نظام میں پانی کا بہاؤ مستحکم ہے اور ڈیموں میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

واپڈا کی جانب سے جاری کردہ مقتدر اعداد و شمار کے مطابق مختلف دریاؤں اور پلوں پر پانی کی لائیو صورتحال درج ذیل جدول کی صورت میں ریکارڈ کی گئی ہے:

مقام / دریاپانی کی آمد (کیوسک)پانی کا اخراج (کیوسک)
دریائے سندھ (تربیلا ڈیم)1,39,1001,36,800
دریائے کابل (نوشہرہ)40,10040,100
خیرآباد پل1,72,9001,72,900
دریائے جہلم (منگلا ڈیم)37,90060,000
دریائے چناب (مرالہ)29,5008,500
جناح بیراج1,84,3001,77,800
چشمہ بیراج1,77,2001,75,000
تونسہ بیراج1,77,5001,59,000
گدو بیراج1,49,8001,11,000
سکھر بیراج1,06,10058,100
کوٹری بیراج43,400صفر
تریموں بیراج19,0003,400
پنجند بیراج12,400صفر

🏔️ بڑے ڈیموں اور آبی ذخائر کی موجودہ مقتدر سطح

تربیلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ہے، جبکہ موجودہ پانی کی سطح 1437.18 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550 فٹ ہے اور اس وقت قابلِ استعمال پانی کا مقتدر ذخیرہ 0.645 ملین ایکڑ فٹ موجود ہے۔

منگلا کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ ہے، جبکہ پانی کی موجودہ مقتدر سطح 1165.10 فٹ تک پہنچ چکی ہے۔ یہاں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی حد 1242 فٹ ہے اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2.347 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

چشمہ کا کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15 فٹ، جبکہ موجودہ سطح 640.10 فٹ ہے۔ پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 640.10 فٹ، پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 649 فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.028 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ ہوا ہے۔

جنرل اسمبلی کے اہم مباحثے میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا تزویراتی خطاب؛ دیرپا امن محض ایک وقتی واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے، سلامتی کی کامیابیوں کو معاشی بحالی سے جوڑنا ناگزیر، امن سازی فنڈ کی لچکدار مالی معاونت کی مقتدر حمایت، پریس ریلیز

محمود احمد june 26,2026

نیویارک/اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

پاکستان نے عالمی سطح پر دیرپا امن و امان کے قیام کے لیے ایک بار پھر تزویراتی موقف اپناتے ہوئے اس بات پر گہرا زور دیا ہے کہ دنیا بھر میں صرف روایتی امن مشنز کا بھیجنا کافی نہیں، بلکہ تنازعات کے آغاز ہی سے مستقل امن سازی کو عالمی عمل کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ امن مشنز سے امن سازی اور پھر متعلقہ ممالک کی قومی قیادت میں ترقی کے مرحلے تک مؤثر منتقلی کے لیے مستقل سیاسی عزم، مناسب مالی وسائل اور بین الاقوامی برادری کی مربوط معاونت ناگزیر ہے۔

امن سازی اور پائیدار امن سے متعلق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے مقتدر مباحثے میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ امن سازی کمیشن کے قیام کو بیس برس مکمل ہو چکے ہیں، جس کا بنیادی مقصد تنازعات سے نکلنے والے پسماندہ ممالک کو امن کے پائیدار استحکام اور دوبارہ جنگ کی طرف جانے سے بچانے میں معاونت فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے زمینی صورتحال کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا کہ آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نہ امن برقرار رکھنے کے مواقع پہلے جیسے رہے ہیں اور نہ ہی امن کی تعمیر کے، جبکہ دوسری جانب محدود ہوتے ہوئے وسائل پر رکن ممالک کا مقابلہ بھی بڑھتا جا رہا ہے؛ اس لیے ضروری ہے کہ ہم امن سازی کے وعدے کو پورا کرنے کے لیے مجموعی صورتحال کا سنجیدگی اور جامع انداز میں جائزہ لیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے مقتدر خطاب میں اسٹریٹجک نکتہ اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ امن کوئی ایک وقتی واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے، جو تنازعات کی روک تھام، قیامِ امن، امن مشنز، تنازعات کے بعد بحالی اور مستقل امن سازی پر مشتمل ہوتا ہے، اور یہ تمام مراحل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اور باہمی طور پر تقویت دینے والے ہیں۔ انہوں نے مصر اور سلووینیا کی سفارتی سہولت کاری میں مکمل ہونے والے “2025 پیس بلڈنگ آرکیٹیکچر ریویو” کے مقتدر نتائج کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ قومی ملکیت ، امن سازی کمیشن اور اقوامِ متحدہ کے مرکزی اداروں کے درمیان مضبوط روابط اور پورے یو این نظام میں بہتر ہم آہنگی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے مقتدر امن سازی فنڈ کے اہم کردار کو تسلیم کرتا ہے اور ان پروگراموں سے مستفید ہونے والے ممالک کے تجربات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بروقت اور لچکدار مالی و تکنیکی معاونت زمینی سطح پر حقیقی اور مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان، جو اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں فوجی دستے فراہم کرنے والے دنیا کے بڑے ممالک میں شامل ہے اور امن سازی کمیشن کا بانی رکن بھی ہے، نے خود اس امر کا مشاہدہ کیا ہے کہ سلامتی میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو ادارہ جاتی استحکام، قومی مفاہمت اور سماجی و معاشی بحالی کے ساتھ جوڑنا کس قدر ضروری ہے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان اس مشترکہ عالمی مقصد کے حصول کے لیے تمام رکن ممالک کے ساتھ مقتدر تعاون جاری رکھے گا۔

ٹیکس چوری اور جعل سازی کا ہائی پروفائل کیس: قطر میں مقیم پاکستانی کا بینک اکاؤنٹ خالی کرنے کے معاملے پر ایف بی آر کی بڑی وضاحت، واٹس ایپ پر جعلی احکامات بھیجنے کا سنسنی خیز انکشاف

منصور احمد june 25,2026

اسلام آباد (ٹیکس و معاشی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے قطر میں مقیم ایک مبینہ اوورسیز پاکستانی ارسلان آدم کے بینک اکاؤنٹ سے فنڈز کی منتقلی اور اکاؤنٹ خالی کیے جانے کے معاملے پر سوشل میڈیا اور پبلک ہلاکت خیز پروپیگنڈے کا مقتدر نوٹس لیتے ہوئے ایک انتہائی تفصیلی اور سنسنی خیز وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ یہ معاملہ کسی زیادتی کا نہیں بلکہ ٹیکس چوری اور سرکاری دستاویزات کی جعل سازی کا ایک سنگین کیس ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (ٹویٹر) پر جاری کردہ اپنے مقتدر اور تفصیلی ڈیجیٹل بیان میں ایف بی آر کے ترجمان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جناب ارسلان آدم عوامی سطح پر خود کو ایک غیر مقیم تارکینِ وطن (اوورسیز پاکستانی) کے طور پر پیش کر کے ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم سچ یہ ہے کہ سال 2017 اور 2018 کے اپنے آفیشل انکم ٹیکس گوشوارے فائل کرتے وقت انہوں نے خود اپنے دستخطوں سے اپنے آپ کو پاکستان میں مقیم شہری قرار دیا تھا۔ پاکستانی ٹیکس قانون کے تحت اس حیثیت کا حامل فرد اپنی ملکی و غیر ملکی تمام تر آمدنی پر مکمل ٹیکس دینے کا قانونی طور پر پابند ہوتا ہے۔

ایف بی آر کے مطابق، ارسلان آدم نے ہر سال 23.52 ملین روپے کی خطیر غیر ملکی آمدنی کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا، جبکہ قانون کے مطابق اس کی حد صرف 5 ملین روپے ہے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 122(9) کے تحت ایف بی آر کی جانب سے انہیں متعدد نوٹسز بھیجے گئے اور مقتدر سماعت کا مکمل و منصفانہ موقع فراہم کیا گیا، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے انکم دعووں کی تائید میں ایک بھی دستاویزی ثبوت یا بینکنگ ریکارڈ پیش کرنے میں مکمل ناکام رہے۔ ان کے اپنے اعلانات اور ثبوت فراہم نہ کرنے پر ایف بی آر نے قانون کے مطابق ان پر 30 ملین (3 کروڑ) روپے کا قانونی ٹیکس مطالبہ عائد کیا۔

بیان میں مزید انکشاف کیا گیا کہ جب ایف بی آر نے اس واجب الادا ٹیکس کی قانونی ریکوری کا عمل شروع کیا، تو جناب آدم نے اس مقتدر کارروائی کو روکنے کے لیے اپنے متعلقہ بینک کے سامنے ایف بی آر کے نام سے تیار کردہ بالکل جعلی اور من گھڑت احکامات پیش کیے، جو انہیں واٹس ایپ کے ذریعے بھیجے گئے تھے۔ ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ یہ احکامات بورڈ کی طرف سے کبھی جاری ہی نہیں کیے گئے، یہ ایف بی آر کے آفیشل آئی آر ایس سسٹم میں کہیں موجود نہیں ہیں اور نہ ہی ان پر کوئی آفیشل بارکوڈ درج ہے، جو کہ واضح جعل سازی ہے۔ اس جعل سازی کے ذریعے جب وہ ریکوری روکنے میں ناکام رہے تو انہوں نے مقتدر قانون سے بچنے کے لیے 24 جون 2026 کو کمشنر اپیلز کے سامنے ایک تاخیری اپیل دائر کی، یہ وہی دن تھا جس دن انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنا شکایتی خط وائرل کیا۔ ایف بی آر نے اعادہ کیا ہے کہ ادارہ قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنے اور قانون پسند شہریوں کی مدد کے لیے پرعزم ہے، تاہم جعل سازوں اور ٹیکس چوروں کے خلاف کسی دباؤ میں نہیں آئے گا۔

حق و صداقت کا ابدی معیار: واقعہ کربلا اصلاحِ امت، احیائے سنتِ نبوی ﷺ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے عظیم مقصد کے لیے قربانی کا نام ہے، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے یومِ عاشور (10 محرم الحرام) کے مقتدر اور فکر انگیز موقع پر امتِ مسلمہ اور پاکستانی قوم کے نام اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ معرکہ کربلا دراصل اصلاحِ امت، احیائے سنتِ نبوی ﷺ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے عظیم و آفاقی مقصد کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کا نام ہے۔ وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، انہوں نے واضح کیا کہ نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے جانثار رفقاء کی یہ عظیم قربانی نوعِ انسانی کو ایمان، صبر و استقامت، ایثار، حق پسندی اور اصلاحِ معاشرہ کے بے مثال اسباق سے روشناس کراتی ہے، جو ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں عدل و انصاف، صبر و برداشت اور ذمہ داری کے اوصاف کو ہر ممکن فروغ دیں۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے مقتدر پیغام میں تاریخی و اخلاقی حقائق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اصولوں اور مقتدر اقدار کی پاسداری ہی کسی بھی باوقار اور مہذب معاشرے کی مضبوط بنیاد ہوتی ہے۔ سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بے مثل طرزِ عمل سے کائنات کے سامنے یہ ثابت کر دیا کہ حق و صداقت، عدل و انصاف اور انسانی عظمت کے تحفظ کے لیے میدانِ جنگ میں کٹ جانا درحقیقت ظلم و جبر، ناانصافی اور باطل کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے کہیں زیادہ افضل اور اعلیٰ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ دور میں اختلافات، نفرت اور انتشار کے فرسودہ رویوں کے بجائے باہمی احترام، بین المسالک رواداری اور یکجہتی جیسی مقتدر اقدار کی مضبوطی ہی ہمارا اولین قومی پیشِ نظر ہونا چاہیے۔

اپنے مقتدر خطاب میں وزیرِ اعظم نے ملک بھر کے جید علماء کرام، مشائخ عظام، ذاکرین، ذرائع ابلاغ (میڈیا) اور نوجوان نسل سے پرزور اپیل کی کہ وہ یومِ عاشور کے حقیقی اور تزویراتی پیغام کو علمی بنیادوں پر اجاگر کریں، معاشرے میں بین المسالک احترام و ہم آہنگی کی فضاء کو برقرار رکھیں اور ہر قسم کی اشتعال انگیزی اور نفرت آمیز بیانیے کا سدِباب کریں۔ انہوں نے قوم کو عہد کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آئیے آج یہ پختہ عزم کریں کہ شہدائے کربلا کی مقتدر قربانی کی روشنی میں حق و انصاف کے ساتھ اپنی وابستگی کو مزید مضبوط کریں گے، معاشرے کے کمزور و محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے اور اپنے کردار و عمل سے ایک مضبوط، متحد اور پرامن قوم کی تعمیر میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ وزیرِ اعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ دنیا بھر میں امن و استحکام اور پوری امتِ مسلمہ کو اتحاد، اتفاق اور خیر و برکت سے نوازے۔

حق و باطل کا تزویراتی معرکہ: یومِ عاشور ہمیں صبر، استقامت، ایثار، حق گوئی اور اصولوں پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتا ہے، واقعہ کربلا ایک زندہ درسگاہ ہے، صدر مملکت آصف علی زرداری

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے یومِ عاشور کے مقتدر اور تاریخی موقع پر امتِ مسلمہ اور پاکستانی قوم کے نام اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ عاشورہ کا دن اسلامی تاریخ کا ایک عظیم، جرات مندانہ اور انتہائی بامعنی دن ہے، جو ہمیں صبر، استقامت، ایثار، حق گوئی اور اصولوں پر ثابت قدم رہنے کا ابدی درس دیتا ہے۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری کردہ مقتدر پیغام کے مطابق، صدرِ مملکت نے واضح کیا کہ اگرچہ یہ دن کئی اہم تاریخی واقعات کی یاد تازہ کرتا ہے، تاہم تاریخِ اسلام میں اس کی سب سے نمایاں اور مقتدر نسبت نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اہل بیتِ اطہار اور ان کے رفقائے وفا کی اس لازوال قربانی سے ہے جو 61 ہجری میں میدانِ کربلا میں پیش آئی۔

صدر آصف علی زرداری نے واقعہ کربلا کے تزویراتی اور نظریاتی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ معرکہ کربلا محض کوئی روایتی تاریخی سانحہ نہیں بلکہ انسانیت کے لیے ایک دائمی پیغام اور ایک زندہ درسگاہ ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مقتدر عمل سے امتِ مسلمہ کو یہ ابدی تعلیم دی کہ حق، عدل، دیانت اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے اپنے پورے خاندان سمیت ہر قسم کی قربانی تو دی جا سکتی ہے لیکن باطل، ظلم، جابرانہ ملوکیت اور ناانصافی کے سامنے کبھی سر تسلیم خم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سید الشہداء کی اس بے مثال جدوجہد کا اصل مقصد امت کی اصلاح اور دینِ محمدی ﷺ کی حقیقی و اخلاقی اقدار کا تحفظ کرنا تھا۔

صدرِ مملکت نے قوم پر زور دیا کہ آج ہمیں بطور قوم یہ مقتدر عہد کرنا چاہیے کہ ہم حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اسوۂ حسنہ اور سیرت سے حق پسندی، اخلاقی جرأت، صبر و تحمل، اعلیٰ ترین ایثار اور خدمتِ خلق کے اوصاف کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کا لازمی حصہ بنائیں۔ انہوں نے تمام پاکستانیوں سے پرزور مقتدر اپیل کی کہ وہ عاشورہ کے ان مقدس ایام میں ملک بھر میں امن، رواداری، بین المسالک احترام اور بھائی چارے کی فضاء کو ہر ممکن فروغ دیں، کسی بھی قسم کی افواہوں اور اشتعال انگیز رویوں سے مکمل اجتناب برتیں اور قومی وحدت و یکجہتی کے استحکام کے لیے اپنا مثبت اور فعال کردار ادا کریں۔ اپنے پیغام کے اختتام پر صدرِ مملکت نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں واقعہ کربلا کے حقیقی و تزویراتی پیغام کو سمجھنے، اس سے رہنمائی حاصل کرنے اور اپنی زندگیوں کو حق، عدل، صبر اور تقویٰ کے اصولوں کے مطابق استوار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

ڈیجیٹل چیلنجز اور نسلِ نو کا تحفظ: منشیات کی بدلتی نوعیت کے مطابق ہمارا ردِعمل بھی تبدیل ہونا چاہیے، سوشل میڈیا اور کرپٹو کرنسی کا استعمال تشویشناک ہے، صدر مملکت آصف علی زرداری

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے منشیات کے استعمال اور اس کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے مقتدر موقع پر دنیا بھر اور بالخصوص پاکستان میں منشیات کے پھیلتے ہوئے جدید اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ منشیات کے خطرات کی بدلتی نوعیت کے پیشِ نظر اب ریاست اور معاشرے کے ردِعمل اور تزویراتی حکمتِ عملی کو بھی تبدیل ہونا پڑے گا۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری کردہ مقتدر پیغام میں صدرِ مملکت نے کہا کہ روایتی منشیات کے ساتھ ساتھ اب مارکیٹ میں انتہائی خطرناک مصنوعی منشیات کی نئی اقسام سامنے آ چکی ہیں، جو ہماری نوجوان نسل کے لیے ایک بڑا اور سنجیدہ عالمی مسئلہ بن چکی ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے جرائم پیشہ عناصر کے جدید طریقوں کو بے نقاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ بین الاقوامی اسمگلرز اور مقامی ڈیلرز جدید مواصلاتی ٹیکنالوجیز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو منشیات کی تشہیر، ترویج اور اسے ایک معمول کی بات بنا کر پیش کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ ان غیر قانونی سرگرمیوں کی مالی معاونت اب روایتی مالیاتی نظام سے ہٹ کر کرپٹو کرنسیوں اور پوشیدہ ڈیجیٹل ادائیگی کے ذرائع سے کی جا رہی ہے، جس کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچنا آسان ہو جاتا ہے۔ صدرِ مملکت نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے منشیات کے استعمال کو فیشن، جدیدیت، مرتبے یا بے ضرر تفریح کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ تصورات نہایت خطرناک اور گمراہ کن ہیں کیونکہ انسانی صلاحیتوں کی تباہی میں کوئی ترقی پسندی نہیں ہو سکتی۔

صدرِ مملکت نے مسئلہ کے انسانی پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ منشیات کا اثر صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس سے پورا خاندان، برادریاں اور تعلیمی نظام متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ اسمگلنگ اور تقسیم کاروں کے خلاف مقتدر قانونی کارروائی ناگزیر ہے، لیکن صرف قانون نافذ کرنے کے اقدامات اس ناسور کا مکمل حل نہیں ہیں؛ ہمیں انسداد، تعلیم، عوامی آگاہی اور بحالی کے اقدامات کو بیک وقت مضبوط بنانا ہوگا۔ انہوں نے اس سال کے عالمی موضوع کا حوالہ دیتے ہوئے اپیل کی کہ پارلیمان، انتظامیہ، علمائے کرام، میڈیا، کمیونٹی رہنما اور والدین مل کر ایسا سماجی و ثقافتی ماحول تشکیل دیں جو نوجوانوں کو مثبت مواقع کی طرف راغب کرے۔ اپنے پیغام کے اختتام پر صدر آصف علی زرداری نے اس جنگ میں صفِ اول میں خدمات انجام دینے والے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مقتدر اہلکاروں، طبی ماہرین، اساتذہ اور سول سوسائٹی کے اراکین کی فرض شناسی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

منشیات کے خلاف جنگ میں پوری قوم متحد: پاکستان منشیات، ان کی غیر قانونی ترسیل اور نوجوانوں تک رسائی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے منشیات کے استعمال اور اس کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے مقتدر موقع پر پوری قوم بالخصوص والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، سماجی رہنماؤں اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ ہماری نسلِ نو کو اس کثیر الجہتی لعنت سے بچانے کے لیے فرنٹ لائن پر آ کر اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان منشیات کی نئی اقسام، اس کی بین الاقوامی ترسیل اور نوجوانوں تک اس کی رسائی کے تمام منسلک خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر سطح پر پرعزم اور ثابت قدم ہے۔

وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج پاکستان عالمی برادری کے ساتھ ہم آواز ہو کر منشیات کے سدِباب کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کے عزم کو دہراتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال کا عالمی موضوع ’’دیرینہ مسائل، نئے چیلنجز اور منشیات سے پاک مستقبل کے لیے اختراعی اقدامات‘‘ ہے، جو عالمی سطح پر اس مسئلے کی بدلتی اور سنگین نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے قومی استعداد میں اضافے، صوبائی و وفاقی اداروں میں ہم آہنگی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ انٹیلی جنس کے تبادلے کو وسعت دے رہی ہے، کیونکہ ان غیر قانونی نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے کے بغیر معاشرے کو محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔

وزیرِ اعظم نے اپنے مقتدر خطاب میں تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک بنانے کو حکومت کی اولین قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس طلب میں کمی، آگاہی مہم اور متاثرین کے علاج و بحالی کے لیے جامع و متوازن حکمتِ عملی کے تحت کام کر رہی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے منشیات خوروں اور اسمگلروں کے خلاف برسرِ پیکار اینٹی نارکوٹکس فورس کے ان بہادر شہداء کو خصوصی اور مقتدر خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے وطنِ عزیز کے مستقبل کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی سماجی برائیوں کے خلاف مؤثر روک تھام اور ایک صحت مند و منشیات سے پاک معاشرے کی تشکیل ہم سب کی مشترکہ آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

منشیات کے خلاف گرینڈ آپریشن: کوکین سپلائر پنکی کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے، منشیات کی سرپرستی کرنے والے ایس ایس پی سطح کے افسران کے خلاف بھی انکوائری جاری ہے، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو

محمود احمد june 25,2026

کراچی (کرائم رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو نے صوبے بالخصوص وفاقی و صوبائی دارالحکومتوں میں منشیات کے خاتمے کے لیے جاری مقتدر مہم کے حوالے سے اہم ترین انکشافات کیے ہیں۔ نجی ٹی وی چینل کے مقتدر پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ ملک کی سب سے بڑی اور ہائی پروفائل کوکین ڈیلر انمول عرف “پنکی” کو پولیس نے مقتدر نیٹ ورک سمیت گرفتار کر لیا ہے اور اب اسے قانون کے مطابق عبرت ناک کیفرِ کردار تک ہر صورت پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنکی ایک بین الکلیاتی کوکین سپلائر ہے، اور چونکہ کوکین ایک انتہائی مہنگی منشیات ہے، اس لیے اس کا نیٹ ورک بنیادی طور پر معاشرے کے انتہائی امیر اور مالدار طبقے کو ہی نشانہ بناتا تھا۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے محکمہ پولیس کے اندر موجود کالی بھیڑوں کے خلاف ایک مقتدر اور تاریخی داخلی صفائی (انٹرنل اکاؤنٹبلٹی) کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کی تاریخ میں جتنا کڑا اور سخت احتساب اس وقت ہو رہا ہے، اس کی مثال کسی دوسرے ادارے میں نہیں ملتی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ منشیات فروشوں کی پشت پناہی اور سرپرستی کرنے کے الزامات کے تحت ایس ایس پی جیسے مقتدر اور اعلیٰ سطح کے پولیس افسران کے خلاف بھی اعلیٰ اختیاراتی انکوائریاں شروع کر دی گئی ہیں، کیونکہ ہمارا پہلا ہدف پولیس کے اندر چھپے ان مجرموں کا خاتمہ کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 5 ماہ کے دوران صوبے بھر میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے تحت 6,500 سے زائد چھوٹے بڑے منشیات سپلائرز کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جا چکا ہے۔

کراچی کی سیکیورٹی صورتحال اور بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس پر بات کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے بتایا کہ کراچی پولیس کی جدید اور مربوط حکمتِ عملی کی بدولت شہر میں گزشتہ دو سالوں کے دوران مجموعی جرائم کی شرح میں 40 فیصد تک مقتدر کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ اغواء برائے تاوان کی وارداتیں لگ بھگ ختم ہو چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سرحد پار پڑوسی ملک میں بیٹھ کر انٹرنیشنل نمبرز سے کراچی میں نیٹ ورک چلانے والے ماسٹر مائنڈز کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے اور ملک سے فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے سندھ پولیس “انٹرپول” کے ساتھ لائیو اور قریبی تعاون کر رہی ہے۔ حال ہی میں ایسے ہی ایک بڑے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 70 سے زائد خطرناک جرائم پیشہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے 4 ملزمان پولیس مقابلے میں مارے گئے ہیں۔ آئی جی سندھ نے اعادہ کیا کہ سندھ کا طویل پہاڑی اور وسیع سمندری بارڈر منشیات کی اسمگلنگ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم وفاقی حکومت اور اینٹی نارکوٹکس فورس کے ساتھ مل کر نوجوان نسل کو اس ناسور سے بچانے کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔

عوامی ریلیف کی بڑی نوید: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 20 سے 50 روپے تک کی مقتدر کمی کا امکان، اوگرا نے نئی قیمتوں کی سمری تیار کر لی

کاشف عباسی ,june 25,2026

لاہور/اسلام آباد (معاشی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

مہنگائی کے مارے عوام کے لیے ایک بڑی اور مقتدر ریلیف کی خبر سامنے آئی ہے، جہاں ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید بھاری کمی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے بین الاقوامی مارکیٹ کے رجحانات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں سے متعلق مقتدر سمری مکمل طور پر تیار کر لی ہے۔ نجی ٹی وی چینل کی مقتدر رپورٹ کے مطابق، نئی سمری میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 20 روپے سے لے کر 50 روپے فی لیٹر تک کی نمایاں کمی کا قوی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس عوامی ریلیف کا حتمی فیصلہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی منظوری سے مشروط ہے، جبکہ نئی مقتدر قیمتوں کا باقاعدہ اعلان جمعہ کے روز متوقع ہے۔

دوسری جانب، وزیرِ اعظم کے مقتدر سیاسی مشیر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے بھی پٹرولیم مصنوعات کے مزید سستا ہونے کا واضح عندیہ دیا ہے۔ ایک نجی ٹی وی پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے انکشاف کیا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پٹرولیم قیمتوں کے حساس معاملے پر ایک اعلیٰ سطحی خصوصی ٹیم تشکیل دے دی ہے، جس کا مقصد قیمتوں کو مرحلہ وار مزید نیچے لانا ہے۔ انہوں نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو سخت مقتدر وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھی کمپنی نے پٹرولیم مصنوعات کا کوئی مصنوعی بحران پیدا کرنے یا بلیک میلنگ کی کوشش کی، تو حکومت ان سے انتہائی سختی سے نمٹے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروبار میں نفع و نقصان ساتھ ساتھ چلتے ہیں، کمپنیوں کو ماضی میں جتنا مقتدر فائدہ ہوا، اب انہیں قیمتیں کم کر کے وہ فائدہ ہر صورت عوام کو منتقل کرنا ہوگا۔

وفاقی مشیر رانا ثناء اللہ نے ماضی کے بحران کی تزویراتی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگی کشیدگی کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اچانک ملکی کنٹرول سے باہر ہو گئی تھیں۔ اس ہنگامی اور بحرانی کیفیت سے نمٹنے کے لیے حکومت نے عارضی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر ہر جمعے کو پٹرولیم قیمتوں کے تزویراتی تعین کا مقتدر فیصلہ کیا تھا، تاکہ ملکی اسٹاک کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس دوران ملکی ضرورت کے پیشِ نظر زائد قیمتوں پر بھی تیل امپورٹ کرنا پڑا، جس پر بعض حلقوں کی جانب سے یہ منفی پروپیگنڈا کیا گیا کہ آئل کمپنیوں نے اربوں روپے کا غیر قانونی منافع کما لیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سارا نظام ایک مقتدر سسٹم کے تحت چلتا ہے، اگر کمپنیوں پر بہت زیادہ مالی بوجھ پڑ رہا ہوا تو حکومت توازن برقرار رکھنے کے لیے ان کا بھی خیال رکھے گی، تاہم پہلی ترجیح صرف اور صرف عام عوام کو براہِ راست ریلیف پہنچانا ہے۔

قراردادیں محض ارادوں کا اظہار نہیں بلکہ منشور کے تحت قانونی ذمہ داریاں ہیں، منتخب یا طویل عرصے تک عمل نہ ہونا کونسل کے اختیار کو کمزور کرتا ہے؛ مسئلہ فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر پر قراردادوں پر عمل نہ ہونا عالمی امن کے لیے بڑا دھچکا، مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا مقتدر خطاب

محمود احمد june 25,2026

نیویارک/اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

اقوامِ متحدہ میں پاکستان اور چین نے اپنی تزویراتی شراکت داری اور کثیرالجہتی سفارت کاری کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے مشترکہ طور پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک انتہائی مقتدر ‘آریا فارمولا’ اجلاس منعقد کیا ہے۔ اس خصوصی سفارتی بیٹھک نے دنیا بھر کے رکن ممالک کو ایک اہم اور تزویراتی موقع فراہم کیا ہے کہ وہ کھل کر اس امر پر غور کریں کہ سلامتی کونسل اپنی منظور شدہ قراردادوں کے مکمل، مؤثر اور بغیر کسی امتیاز کے یکساں عملدرآمد کو کس طرح ہر قیمت پر یقینی بنا سکتی ہے۔

اس مقتدر اجلاس کو اقوامِ متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل خالد خیاری، سیکیورٹی کونسل رپورٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر محترمہ شملہ کندیاہ، اور انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے مسٹر رچرڈ گوون نے اہم بریفنگز دیں۔ تمام مقررین نے اپنے مقالوں میں اس بات پر گہرا زور دیا کہ قراردادوں پر ان کی روح کے مطابق من و عن عملدرآمد کرنا ہی دراصل سلامتی کونسل کی ساکھ، عالمی اختیار اور اس کی افادیت کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کونسل کے فیصلوں کو زمینی حقائق میں تبدیل کرنے کے لیے قراردادوں کے ساتھ حقیقت پسندانہ مینڈیٹس، واضح طریقۂ کار، مسلسل لائیو نگرانی، مناسب مالی وسائل اور مضبوط سیاسی عزم کا ہونا ناگزیر ہے۔

اجلاس سے اپنے مقتدر خطاب میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے دوٹوک اور مقتدر الفاظ میں کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادیں محض رسمی ارادوں کا اظہار نہیں ہوتیں بلکہ یہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت تمام رکن ممالک پر عائد ہونے والی سخت قانونی ذمہ داریاں ہیں۔ انہوں نے دنیا کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ قراردادوں پر من پسند طریقے سے (سلیکٹو) عمل کرنا یا طویل عرصے تک انہیں سرد خانے کی نذر رکھنا خود کونسل کے عالمی اختیار کو شدید کمزور کرتا ہے، دیرینہ تنازعات کے حل میں بڑی رکاوٹ بنتا ہے اور مظلوم انسانوں کے مصائب میں ہولناک اضافہ کرتا ہے، جیسا کہ اس وقت فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی مخدوش صورتحال میں صاف دیکھا جا سکتا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ مضبوطی سے لڑتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعے سے متعلق سلامتی کونسل کی مقتدر قراردادوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث یہ اہم بین الاقوامی مسئلہ آج بھی حل طلب ہے، جس کے باعث خطے اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور معصوم کشمیری عوام مسلسل بدترین انسانی مشکلات اور مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے سامنے متعدد مقتدر اور عملی تجاویز پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ غیر نافذ یا جزوی طور پر نافذ قراردادوں کا سالانہ بنیادوں پر باقاعدہ جائزہ لیا جائے، عملدرآمد کے واضح ڈیجیٹل اور سفارتی طریقے وضع کیے جائیں اور سیکریٹری جنرل کی مساعیِ جمیلہ کو کونسل کے فیصلوں کے ساتھ مربوط کیا جائے۔ اجلاس میں شریک سلامتی کونسل کے مستقل و غیر مستقل ارکان نے چین اور پاکستان کے اس مشترکہ اقدام کا زبردست خیرمقدم کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ کونسل کو اپنے فیصلوں کے مستقل اور غیر جانبدار نفاذ کو یقینی بنانا چاہیے، جس سے پاک چین کثیرالجہتی تعاون کا وقار مزید بلند ہوا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے کھلے مباحثے میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون کا مقتدر خطاب؛ فلسطین اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار، سال 2025ء کے دوران ریکارڈ 38 ہزار سے زائد جانی و حقوقی خلاف ورزیاں رپورٹ، ذمہ دار عناصر کے کڑے احتساب کا مطالبہ

محمود احمد june 25,2026

نیویارک/اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسلح تنازعات اور غیر ملکی قبضے کی سنگین صورتحال میں معصوم بچوں کی ابتر ہوتی ہوئی حالت پر شدید ترین تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ جنگ، تشدد اور بنیادی حقوق سے طویل محرومی کے سب سے زیادہ ہولناک اور سنگین اثرات معصوم بچوں کو ہی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیرِ اہتمام ’’بچوں اور مسلح تنازعات‘‘ سے متعلق منعقدہ اہم کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے غیر ملکی تسلط کے تحت زندگی گزارنے والے بچوں کی حالتِ زار کو انتہائی تشویشناک قرار دیا۔ انہوں نے مقتدر برادری کی توجہ دلاتے ہوئے نشاندہی کی کہ صرف مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ایک سال کے دوران بچوں کے خلاف وحشیانہ سنگین خلاف ورزیوں کے 12 ہزار سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

سفیر عثمان جدون نے اپنے مقتدر خطاب میں واضح کیا کہ غیر ملکی قبضے کی دیگر تمام تر صورتحال میں بچوں کو درپیش گہرے نفسیاتی صدمات اور جسمانی مظالم بھی شدید عالمی تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی تمام صورتحال کی کڑی اور لائیو نگرانی کی جائے اور ان کے بارے میں سلامتی کونسل کو مکمل غیر جانبدارانہ رپورٹنگ فراہم کی جائے تاکہ انسانی حقوق پامال کرنے والے ذمہ دار عناصر کا بلا تفریق احتساب ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ تنازعات اور غیر ملکی قبضے کے حالات میں بچوں کی مشکلات کا کوئی بھی مؤثر حل اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک ان سنگین مسائل کی بنیادی سیاسی و تزویراتی وجوہات کا تدارک نہ کیا جائے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پیشگی سفارت کاری، تنازعات کے دیرپا حل اور اختلافات کے پرامن تصفیے پر زیادہ توجہ دینے کی مقتدر ضرورت پر زور دیا۔

سفیر جدون نے کہا کہ جو عالمی تنازعات اور علاقائی اختلافات طویل عرصے تک حل طلب رہتے ہیں، ان کی انسانی قیمت دنیا کو بہت بھاری چکانی پڑتی ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ عام شہریوں اور بالخصوص معصوم بچوں جیسے کمزور طبقات کے کندھوں پر آتا ہے۔ انہوں نے بچوں کے تحفظ کے لیے فوری عملی اقدامات کا مقتدر تقاضا کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں مؤثر نگرانی، خلاف ورزیوں کے مرتکبین کو سزا سے استثنا (سزا سے چھوٹ) کے خاتمے، اسکولوں کو حملوں اور عسکری مقاصد کے لیے استعمال سے محفوظ رکھنے، اور متاثرہ علاقوں میں محفوظ تعلیمی نظام کے فروغ جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے تمام متحارب فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون، بچوں کے حقوق کے کنونشن اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی مکمل پاسداری کریں۔

پاکستانی مندوب نے اس امر کی نشاندہی کی کہ یہ اہم مباحثہ ’’بچوں اور مسلح تنازعات‘‘ کے مینڈیٹ کے قیام کی تیسویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوا ہے، جسے 1996ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قائم کیا تھا، اور انہوں نے اس مینڈیٹ کے لیے پاکستان کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعادہ کیا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ کا مقتدر حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ سال 2025ء کے دوران دنیا بھر میں بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں کے 38 ہزار سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو اس مینڈیٹ کے قیام کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی اور تشویشناک تعداد ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ابھرتے ہوئے نئے خطرات، بشمول بغیر پائلٹ فضائی ڈرونز اور مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس جدید ہتھیاروں کے نظام، بچوں کو پہلے سے کہیں زیادہ اور غیر معمولی حملوں کی مقتدر زد میں لا رہے ہیں، لہٰذا بچوں کی فلاح و بہبود سلامتی کونسل کی ترجیحات میں ہر صورت سرفہرست رہنی چاہیے۔

قومی استحکام اور سیاسی مذاکرات: حکومت اور مسلح افواج کی مشترکہ کاوشوں سے پاکستان کو سفارتی کامیابی ملی، اختیار ولی خان کی پی ٹی آئی کو ‘میثاقِ جمہوریت’ کی حمایت کی اپیل

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان کے خیبر پختونخوا کے لیے مقتدر کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں سیاسی و جمہوری استحکام کے لیے ‘میثاقِ جمہوریت’ کی بھرپور حمایت کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کو حاصل ہونے والی حالیہ تمام مقتدر کامیابیاں دراصل قومی اتحاد، یگانگت اور باہمی تعاون کا ہی نتیجہ ہیں۔ ایک مقامی نیوز چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کی جانب سے اپوزیشن کو دی جانے والی مذاکرات کی مقتدر تجویز کی مکمل حمایت کی اور پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ جیل کی روایتی سیاست کے مخدوش دائرے سے باہر نکل کر خالصتاً قومی مفادات پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔

انہوں نے مقتدر الفاظ میں واضح کیا کہ ایک جمہوری معاشرے میں حکومت کی پالیسیوں پر تعمیری تنقید کرنا اپوزیشن کا آئینی حق ہے اور یہ بالکل قابلِ قبول ہے، لیکن پاکستان کی سلامتی، خودمختاری یا بنیادی قومی و تزویراتی مفادات پر کسی بھی قسم کا کوئی سودا یا سمجھوتہ ہرگز نہیں کیا جا سکتا۔ اختیار ولی خان نے قومی اداروں کے مابین بہترین ہم آہنگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سول حکومت اور مسلح افواج نے مشترکہ اور انتھک جدوجہد کے ذریعے ملک کو ایک بار پھر عظیم سفارتی اور تزویراتی (اسٹریٹجک) کامیابی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے اور عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بحال کرنے کے لیے پاک فوج اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی مشترکہ مقتدر کاوشیں بلاشبہ لائقِ تحسین اور قابلِ فخر ہیں۔

اپنے انٹرویو کے اختتام پر وزیرِ اعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے پی ٹی آئی پر دوبارہ زور دیا کہ وہ منفی تنقید اور احتجاج کی سیاست سے آگے بڑھ کر سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو پارلیمانی و مقتدر مذاکرات کے عمل میں شامل ہونا چاہیے، تاکہ جمہوریت کے پائیدار استحکام اور ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے سب مل کر کام کر سکیں اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔

آزاد کشمیر کی سیاست میں مسلم لیگ (ن) کی مقتدر پیش رفت: سابق رکن قانون ساز اسمبلی چوہدری شہزاد کی وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام سے ملاقات، ساتھیوں سمیت ن لیگ میں شمولیت کا باقاعدہ اعلان

محمود احمد june 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ایک بڑی اور مقتدر کامیابی حاصل کی ہے، جہاں سابق ممبر قانون ساز اسمبلی چوہدری شہزاد نے اپنے مقتدر خاندان اور ہزاروں ساتھیوں سمیت پاکستان مسلم لیگ (ن) میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام سے اسلام آباد میں واقع ان کی مقتدر رہائش گاہ پر ایک اہم سیاسی ملاقات کی۔ وفاقی وزارت کی طرف سے جاری کردہ مقتدر پریس ریلیز کے مطابق، اس اہم سیاسی موقع پر ممبر قومی اسمبلی ملک ابرار اور ممبر صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا شاہ جہاں یوسف بھی خصوصی طور پر موجود تھے۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے سابق ایم ایل اے چوہدری شہزاد کو روایتی پارٹی مفلر اور کیپ پہنائی اور مسلم لیگ (ن) کے مقتدر قافلے میں شمولیت اختیار کرنے پر انہیں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے خوش آمدید کہا۔ انجینئر امیر مقام کا کہنا تھا کہ چوہدری شہزاد کی شمولیت سے آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کا تنظیمی نیٹ ورک مزید مقتدر اور مستحکم ہوگا اور عوامی خدمت کے مشن کو نئی توانائی ملے گی۔

اس مقتدر موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سابق ممبر قانون ساز اسمبلی چوہدری شہزاد نے مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت پر اپنے کامل اور غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ قائد محمد نواز شریف، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف، وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام اور آزاد کشمیر کی مقامی مسلم لیگی قیادت کی مقتدر رہنمائی میں پارٹی کے ترقیاتی وژن کو تیزی سے آگے بڑھائیں گے اور خطے کے عوام کی فلاح و بہبود اور عوامی خدمت کے لیے اپنا بھرپور اور فعال مقتدر کردار ادا کرتے رہیں گے۔

ریاستی رٹ اور عوامی یکجہتی: چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس آزاد کشمیر کی پریس کانفرنس سے کالعدم کمیٹی کا جھوٹا بیانیہ بے نقاب، عوام کی بھرپور تائید

منصور احمد june 25,2026

مظفر آباد/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

چیف سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس آزاد کشمیر کی حالیہ مقتدر مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد ریاست مخالف کالعدم کمیٹی کا جھوٹا اور گمراہ کن بیانیہ مکمل طور پر بے نقاب ہو گیا ہے، جس پر آزاد جموں و کشمیر کے غیور عوام نے حکومتی مؤقف کی بھرپور اور مقتدر تائید کا اعلان کیا ہے۔ آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے شہریوں اور عمائدین نے اعلیٰ حکام کی پریس کانفرنس پر اپنے گہرے ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس نے کالعدم کمیٹی کے من گھڑت پراپیگنڈے کو ٹھوس دستاویزی اور مقتدر ثبوتوں کے ساتھ پبلک کر کے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا ہے۔

شہریوں نے حقائق پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ راولاکوٹ ہسپتال کے افسوسناک واقعے میں قانون ہاتھ میں لینے اور اشتعال انگیزی کی پہل خود کالعدم کمیٹی کے کارندوں نے کی تھی، جبکہ بعد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی و مقتدر کارروائی کو بنیاد بنا کر سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر شدید گمراہ کن پراپیگنڈا کیا گیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان انتشار پسند اور مقتدر عناصر نے معصوم مقامی نوجوانوں کو ورغلا کر ان کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھمائے اور انہیں دانستہ طور پر ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف صف آراء کر کے اشتعال انگیزی پھیلانے کی کوشش کی۔

آزاد کشمیر کے مقتدر شہریوں نے پریس کانفرنس کے دوران الحاقِ پاکستان کے خلاف اٹھنے والے کسی بھی غیر آئینی مطالبے یا بیانیے کو “ریڈ لائن” قرار دینے کے ریاستی مؤقف کی سو فیصد حمایت کرتے ہوئے اعادہ کیا کہ پاکستان سے لازوال وابستگی اور محبت کشمیری عوام کے ایمان، نظریے اور اجتماعی شناخت کا مقتدر حصہ ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ کسی بھی نوعیت کے قانونی یا انتظامی معاملات کو ڈنڈے کے زور پر یا بلیک میلنگ سے حل نہیں کیا جا سکتا، یہی وجہ ہے کہ اب شعور مند عوام اس شرپسند کمیٹی کے منفی ایجنڈے سے مکمل دوری اختیار کر رہے ہیں۔ شہریوں نے شرپسند عناصر کے خلاف کھل کر اور جرات مندانہ مقتدر مؤقف اپنانے پر چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس آزاد کشمیر کا شکریہ ادا کیا، جبکہ عوامی حلقوں کی یہ تائید اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ریاست اور عوام امن و سلامتی کے لیے ایک پیج پر ہیں۔