وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نوجوانوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان کی 65 فیصد نوجوان آبادی ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے اور انہیں جدید تعلیم و ہنر سے آراستہ کر کے عالمی سطح پر ان کا مثبت کردار یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب حکومت نوجوانوں کو درپیش تمام درپیش مسائل کے حل اور انہیں معاشی و سیاسی طور پر بااختیار بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے اپنے پیغام میں کہا کہ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد ملکی تعمیر و ترقی میں یوتھ کے تعمیری کردار کو اجاگر کرنا اور ان کی صحیح سمت میں سرپرستی کرنا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ملک و قوم سے محبت کو اپنا شعار بنائیں اور گالی گلوچ کی سیاست اور نشے جیسے زہر سے خود کو دور رکھتے ہوئے اپنی جسمانی اور ذہنی صحت پر توجہ دیں۔ مریم نواز شریف نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار پنجاب حکومت نوجوانوں کے لیے ایک مضبوط سہارا بن کر سامنے آئی ہے۔
حکومتی کاوشوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایگریکلچر انٹرن شپ، لیپ ٹاپ سکیم، ای ٹیکسیز، آسان فنانس اور آسان کاروبار سکیموں میں نوجوانوں کو شامل کیا گیا ہے۔ پرواز کارڈ کے ذریعے ہنرمند اور غیر ہنرمند افراد کو بیرونِ ملک روزگار کے لیے بلاسود قرضے دیے جا رہے ہیں جس کے تحت پہلے ہی 10 ہزار ہنرمند نوجوان خلیجی ممالک میں روزگار حاصل کر چکے ہیں۔ مزید برآں، اپنے کاروبار کے قیام کے لیے 3 کروڑ روپے تک کے بلاسود قرضے اور نئے بزنس آئیڈیاز کی حوصلہ افزائی کے لیے انکیوبیشن سنٹرز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔
تعلیمی شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ اسکولوں اور کالجوں کے ہزاروں طلبہ کے لیے ہونہار سکالرشپ پروگرام جاری ہے جبکہ نصاب میں پہلی بار آئی ٹی، ای روزگار اور فری لانسنگ جیسے جدید مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اسکلز کی تربیت کے ساتھ فنی تربیتی اداروں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ مریم نواز نے نوجوانوں کو ہدایت کی کہ وہ صرف نوکری تلاش کرنے کے بجائے نوکری دینے والے بنیں اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے آگے بڑھیں، پنجاب حکومت ان کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے “نوجوانوں کے عالمی دن” کے بین الاقوامی موقع پر پوری قوم اور خاص طور پر ملک کے کروڑوں باصلاحیت نوجوانوں کے نام ایک نہایت اہم، فکر انگیز اور مفصل پیغام جاری کیا ہے۔ اپنے پیغام میں وزیراعظم نے واضح اور قطعیت کے ساتھ اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کے تمام تر دستیاب قومی وسائل کو نوجوانوں کی بہترین ذہنی، جسمانی، فکری اور علمی نشوونما کے لیے وقف کرنا موجودہ حکومت کی پالیسی کا مرکزی نقطہ اور سب سے اہم ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کی پائیدار ترقی اور تابناک مستقبل کا راز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو درست سمت فراہم کرنے میں پنہاں ہے۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری ہونے والے اس خصوصی اور تفصیل سے بھرپور پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان آج دنیا کے تمام دیگر اقوام کے ساتھ ہم آواز ہو کر اپنے نوجوانوں کو ان کی بے پناہ قدرتی صلاحیتوں، پرجوش توانائی، مثبت جذبے اور ان داتا خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک یا معاشرے کی حقیقی ترقی کا دارومدار وہاں کی یوتھ کی تعلیمی اور اخلاقی تربیت پر ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس سال نوجوانوں کا عالمی دن جس عنوان سے منایا جا رہا ہے، یعنی “مختلف حالات، مشترکہ امنگیں”، وہ ایک بہت بڑی سچائی کا مظہر ہے۔ یہ موضوع دنیا بھر کی یہ حقیقت کھول کر سامنے لاتا ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں رہنے والے نوجوانوں کے سیاسی، معاشی، جغرافیائی اور سماجی حالات بے شک ایک دوسرے سے بالکل مختلف اور گوناگوں ہو سکتے ہیں، لیکن ایک محفوظ، پرامن، خوشحال اور تابناک مستقبل کی خواب اور خواہشات سبھی کی یکساں ہیں۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں انتہائی گرمجوشی کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی مجموعی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ہماری قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کا ایک انمول تحفہ اور عظیم ترین سرمایہ ہیں۔ ہمارے یہی نوجوان آئندہ کل کے روشن اور پرامید پاکستان کے حقیقی معمار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیت، نئے خیالات، سچی لگن اور پرعزم محنت ہر شعبہ ہائے زندگی میں امید افزاء اور مثبت تبدیلیوں کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا کھل کر اظہار ہی ایک پائیدار، مضبوط اور خودکفیل پاکستان کی بنیاد قائم کر سکتا ہے۔ پاکستان کی نوجوان نسل نے تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، کھیل، فنون، اور سماجی خدمت جیسے متعدد شعبوں میں نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر بھی ملک کا نام اور پرچم بلند کیا ہے، جبکہ مقامي سطح پر بھی ایک ذمہ دار اور فعال شہری کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
حکومتی اصلاحات، پالیسیوں اور عملی اقدامات کی مفصل وضاحت کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان نوجوانوں کو جدید دور کے جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے عملی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔ نوجوانوں کو معیاری اور اثر انگیز تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ مہارتوں، خود روزگار کے مواقع، کاروباری اور صنعتی ترقی، ڈیجیٹل جدت اور سماجی و قومی فیصلوں میں شمولیت کے ذریعے مضبوط سے مضبوط تر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایسے عملی راستے ہموار کیے ہیں تاکہ ہمارے ہونہار طلباء عالمی منڈیوں کے معیار پر پورا اتر سکیں اور اپنی فنی استعداد کو عالمی سطح پر منوا سکیں۔
تعلیمی اصلاحات اور یوتھ پروگرام کے عملی منصوبوں کی بابت گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہونہار طلبہ و طالبات کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیکنیکل ایجوکیشن اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید ترین شعبوں میں تربیتی راستے کھولنے کے لیے بلا سود قرضوں، لیپ ٹاپس کی تقسیم، اسکالرشپ پروگرامز، اور بامعاوضہ انٹرن شپ جیسے پروگرامز کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام” کے تحت ملک بھر کی نوجوان افرادی قوت کو جدید ترین اور معتبر ہنر سکھائے جا رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے “نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن” کو ہنگامی بنیادوں پر مزید فعال، بااختیار اور متحرک کیا گیا ہے۔ یہ قومی ادارہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ سندات اور اندرونِ ملک انڈسٹری کی ضروریات کے مطابق نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی جدید ترین پیشہ ورانہ تربیت فراہم کر رہا ہے۔
اپنے پیغام کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے تمام نوجوانوں کو ایک جذباتی اور حوصلہ افزا خصوصی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ دیانتداری، سخت محنت، ذمہ داری اور جذبۂ حب الوطنی کے ساتھ اپنے سفر کو آگے بڑھاتے رہیں۔ نوجوانوں کی ترقی ہی میں پاکستان کا پائیدار اور درخشندہ مستقبل محفوظ ہے۔ انہوں نے تمام مکاتبِ فکر، تمام طبقات اور بالخصوص یوتھ پر زور دیا کہ آئیں سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم ایک جٹ ہو کر ملکی ترقی و خوشحالی میں اپنا تعمیری اور مثبت کردار ادا کریں گے تاکہ وطنِ عزیز پاکستان ہر نوجوان کے لیے روشن، محفوظ اور باوقار مستقبل کی حتمی ضمانت بن سکے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی، زرعی اور کاروباری تعاون کو وسعت دینے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے اقتصادی امور پریس کے سینئر ایڈوائزر سن ڈونگ شینگ کی قیادت میں سی پیک سیکرٹریٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال اور سینیئر پالیسی سازوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی۔
ملاقات کے دوران وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے چینی وفد کو پاکستان کے قومی اقتصادی ایجنڈے ”اڑان پاکستان“ سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج برآمدات کی کمزور بنیاد ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چین سالانہ 2.6 ٹریلین ڈالر کی درآمدات کرتا ہے جبکہ اس میں پاکستان کا حصہ صرف 3 ارب ڈالر کے قریب ہے، جسے بڑھانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں چین نے پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکالا اور اب سی پیک 2.0 کے ذریعے پاکستان اپنے برآمدی خسارے پر قابو پانے کے لیے پرعزم ہے۔
پروفیسر احسن اقبال نے صنعتی انقلاب 4.0 اور 5.0 کے تحت آٹومیشن، روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی میں چینی تجربات سے استفادہ کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے زور دیا کہ سی پیک 2.0 کا اصل محور کاروبار سے کاروبار تعاون ہے، جس کے تحت صنعتی، زرعی اور معدنی شعبوں میں علاقائی و عالمی سطح پر نجی شعبوں کا اشتراکِ عمل ضروری ہے۔
چینی وفد کے سربراہ مسٹر سن ڈونگ شینگ نے پاک چین دوستی کی مضبوطی کا اعادہ کرتے ہوئے سی پیک فیز ون کی کامیابیوں کو سراہا۔ انہوں نے زراعت، صنعت، پیداواری صلاحیت میں اضافے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی شمولیت اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے فروغ پر زور دیا۔
اجلاس کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سی پیک 2.0 کے پانچ کوریڈورز اور پاکستان کے ”اڑان پاکستان“ فریم ورک کے درمیان تزویراتی ہم آہنگی کو عملی جامہ پہنایا جائے گا تاکہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے آگے بڑھ کر صنعتی ترقی، مسابقت، اور کاروباری شراکت داری کے ذریعے مشترکہ خوشحالی کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ملک کے مالیاتی و معاشی نظام میں اصلاحات اور بین الاقوامی معاہدوں کی پیش رفت سے متعلق پانچ اہم سمریوں اور بلوں کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری کردہ سرکاری اعلامیے کے مطابق، صدر مملکت نے جن اہم آئینی و قانونی بلوں کی توثیق کی ہے ان میں ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان (ترمیمی) بل 2026ء، مالیاتی اداروں کی مالی رقوم کی وصولی (ترمیمی) بل 2026ء اور وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) (ترمیمی) بل 2026ء شامل ہیں۔ ان بلوں کا مقصد ملکی بینکنگ نظام کو مضبوط بنانا، واجب الادا مالیاتی رقوم کی وصولی کو تیز تر کرنا اور ٹیکس دہندگان کے حوالے سے ریونیو فریم ورک میں اصلاحات لانا ہے۔
اس کے علاوہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے نمایاں خدمات کے اعتراف میں سید علی محمود کو پاکستان سول ایوارڈ عطا کرنے کی منظوری بھی دی۔ دوسری جانب، بین الاقوامی اور اسلامی سطح پر شفافیت اور بدعنوانی کی روک تھام کے لیے صدر مملکت نے تنظیمِ اسلامی تعاون (OIC) کے رکن ممالک کے انسدادِ بدعنوانی قوانین کے نفاذ میں باہمی تعاون سے متعلق مکہ المکرمہ کنونشن کی باضابطہ توثیق کی منظوری دے دی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قیامِ پاکستان سے لے کر تعمیرِ پاکستان تک زندگی کے ہر شعبے میں مسلمانوں کے شانہ بشانہ اقلیتی برادریوں کے مثبت اور کلیدی کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں بسنے والے تمام شہری بلا تفریقِ مذہب و ملت اس ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے متحد ہیں۔
منگل کے روز وزیراعظم آفس میں ‘مذہبی اقلیتوں کے قومی دن’ کی مناسبت سے منعقدہ ایک پروقار تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 11 اگست کا دن ملک کی اقلیتوں کے جذبۂ حب الوطنی اور خدمات کو سراہنے کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسیحی، ہندو، سکھ، پارسی اور دیگر تمام اقلیتی برادریوں کے لیے پوری قوم کے دل میں انتہائی احترام ہے۔ وزیراعظم نے قائد اعظم محمد علی جناح کے 11 اگست کے تاریخی خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دہانی کرائی کہ آئینِ پاکستان تمام شہریوں کو مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔
وزیراعظم نے اپنی اور اپنے بہن بھائیوں کی ابتدائی تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے تعلیمی شعبے میں کرسچنکمیونٹی کی دہائیوں پر محیط خدمات کی تعریف کی۔ انہوں نے گروپ کیپٹن سیسل چوہدری، جسٹس اے آر کارنیلئیس، جوگندر ناتھ منڈل، ایس ایل گبز اور ایس پی سنگھا جیسی عظیم اقلیتی شخصیات کو قومی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دفاعِ وطن اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اقلیتوں کے جانی نذرانے تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ دفاعی معاہدے پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں امن، استوار معیشت اور ترقی کے فروغ کا ضامن ہے۔
تقریب سے وفاقی وزیرِ مذہبی امور سردار محمد یوسف، وزیرِ مملکت برائے مذہبی بین المذاہب ہم آہنگی کھیئل داس کوہستانی اور سینیٹر خلیل طاہر سندھو نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے اقلیتوں کو حاصل مکمل مذہبی آزادی، سکھ اور ہندو میرج ایکٹس جیسے قانون سازی کے اہم اقدامات اور عبادت گاہوں کی سیکیورٹی پر حکومتی کاوشوں کو سراہا۔ تقریب کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے والی اقلیتی شخصیات میں ایوارڈز اور اعزازات بھی تقسیم کیے۔
نجکاری کمیشن بورڈ کا 257واں اہم اجلاس منگل کے روز وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری و چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور اور جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کی آؤٹ سورسنگ سمیت لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) کی نجکاری کے حوالے سے کلیدی منظوریاں دی گئیں۔
نجکاری کمیشن کے ترجمان کے مطابق بورڈ نے لاہور اور کراچی کے بین الاقوامی ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کے لیے ‘ای وائی پارتھنون’ کی زیرِ قیادت قائم کنسورشیم کو شفاف مسابقتی عمل کے بعد مالیاتی مشیر کے طور پر منتخب کرنے کی منظوری دے دی۔ اس کے ساتھ ہی کامیاب کنسورشیم کے ساتھ مالیاتی مشاورتی خدمات کے معاہدے کے خدوخال طے کرنے اور اسے حتمی شکل دینے کے لیے ایک خصوصی مذاکراتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
اجلاس میں بورڈ نے پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کے شعبے میں لیسکو اور میپکو کی نجکاری کو “بڑی نجکاری” کا درجہ دینے کی منظوری بھی دی۔ اس اہم فیصلے کے بعد لاگو ضوابط کے تحت ان دونوں بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے مالیاتی مشیر کی باقاعدہ تقرری کا عمل شروع کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ لیسکو اور میپکو حکومت کی جانب سے طے شدہ نجکاری کے چوتھے مرحلے میں شامل ہیں، جبکہ اس سے قبل کے تین مراحل کا عمل پہلے سے جاری ہے۔
نجکاری کمیشن بورڈ نے حکومتی نجکاری کے ایجنڈے کو کامیابی سے آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام تر عمل کو مکمل شفافیت، مسابقت اور پیشہ ورانہ اصولوں کے مطابق یقینی بنایا جائے گا تاکہ عوام اور قومی خزانے کو بہترین قیمت حاصل ہو سکے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ تشدد اور انارکی کی سیاست پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا دیرینہ وطیرہ بن چکی ہے اور وہ کبھی پرامن احتجاج پر یقین نہیں رکھتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا بنیادی مقصد ملک میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا اور قومی ترقی کے جاری سفر کو روکنا ہے، جبکہ راولپنڈی میں ہونے والے تازہ فائرنگ کے واقعے نے ان کے مذموم ایجنڈے کو پوری قوم کے سامنے واضح کر دیا ہے۔
منگل کے روز راولپنڈی مال روڈ پر پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے پر اپنے خصوصی ردِعمل میں وفاقی وزیر اطلاعات نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلح ہو کر آنا اور سیکیورٹی اہلکاروں پر دن دیہاڑے فائرنگ کرنا ناقابلِ برداشت اور شدید قابلِ مذمت عمل ہے جس کا کوئی قانونی یا سیاسی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ ماضی میں بھی پی ٹی آئی کے مسلح احتجاجوں کے دوران پولیس اور رینجرز کے اہلکار جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور آج کے واقعے سے بھی ملزم کے قبضے سے پارٹی کا پرچم اور دیگر اہم دستاویزات برآمد ہوئی ہیں، جو ان کے نظریے کی عکاسی کرتی ہیں۔
عطاء اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی کی جانب سے کی جانے والی لانگ مارچ کی کال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر کوئی اہم سفارتی و معاشی کامیابی ملتی ہے یا اہم معاہدے طے پاتے ہیں، پی ٹی آئی فوری طور پر ملک میں انارکی پھیلانے کے لیے احتجاج کا راستہ اختیار کر لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے جیسی عظیم بین الاقوامی کامیابی اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی عزّت ان سے ہضم نہیں ہو رہی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے اپنے بیان کے اختتام پر عزم ظاہر کیا کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود پاکستان ترقی، خوشحالی اور استحکام کے راستے پر کامیابی سے گامزن رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی قیادت عوام کی بہتری کے لیے دن رات کوشاں ہے اور امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والے عناصر کو ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
خاتونِ اول اور رکنِ قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے ‘اقلیتوں کے قومی دن’ کے موقع پر پاکستان بھر کی تمام اقلیتی برادریوں کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی تعمیر، ترقی اور خوشحالی میں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی خدمات اور بنیادی کردار انتہائی قابلِ قدر ہیں۔ اپنے ایک خصوصی پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ یہ دن ملک کے لیے اقلیتی برادریوں کی گراں قدر کاوشوں کو تسلیم کرنے اور اس قومی عزم کی تجدید کا موقع ہے کہ ہر شہری اس وطنِ عزیز کا مساوی اور برابر کا رکن ہے۔
خاتونِ اول نے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان شخصیات نے تعلیم، صحت، قانون، عوامی خدمت، تجارت، مسلح افواج، فنون اور کھیل سمیت تمام شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی حاصل کردہ کامیابیوں اور محنت نے پاکستان کی پیش رفت اور خوشحالی کی داستان کو مضبوط بنایا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مساوات کا حقیقی اور عملی اظہار ہر شہری کو حاصل یکساں حقوق اور بلا امتیاز مواقع میں نظر آنا چاہیے، جبکہ قانون ریاست کے تمام باشندوں کو یکساں تحفظ فراہم کرنے کا پابند ہے۔
بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے بالخصوص اقلیتی نوجوانوں اور خواتین کے بااختیار ہونے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایک جامع اور خوشحال پاکستان کی تعمیر میں ان کا نقش کلیدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم، ہنر مندی اور روزگار کے یکساں راستے ہموار کیے جانے چاہئیں تاکہ وہ ملک کے بہتر مستقبل میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ اسی طرح اقلیتی خواتین کو بھی تعلیمی، معاشی اور عوامی زندگی میں بھرپور انداز میں حصہ لینے کے پورے مواقع ملنے چاہئیں۔
اپنے پیغام کے اختتام پر خاتونِ اول نے تمام تعلیمی اداروں، خاندانوں اور عوامی طبقات پر زور دیا کہ وہ نوجوان نسل میں باہمی احترام، برداشت اور مساوات کی اقدار کو فروغ دیں۔ انہوں نے دعا کی کہ پاکستان اپنے تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق، انصاف اور عزتِ نفس کی ضمانت بن کر مسلسل ترقی اور خوشحالی کے سفر پر گامزن رہے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پاکستان میں منعقد ہونے والے 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کی تیاریوں اور انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے منگل کے روز ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پاکستان مارچ 2027ء میں ان تاریخی علاقائی کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کا فریضہ انجام دے گا، جس کے لیے تمام سفارتی اور انتظامی سطح پر تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں۔
اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم نے کھیلوں کی بین الاقوامی معیار کے مطابق بلا تعطل اور بہترین تیاریوں کو یقینی بنانے کے لیے مختلف ذیلی کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کمیٹیوں کی ذمہ داریوں میں مالیاتی امور کی دیکھ بھال، اسپورٹس انفراسٹرکچر کی جدید بنیادوں پر تعمیر و اپ گریڈیشن، قومی کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ تربیت و تیاری اور ایونٹ سے منسلک تمام لاجسٹک انتظامات کی باقاعدہ نگرانی شامل ہوگی۔ سینیٹر اسحاق ڈار نے تمام متعلقہ اداروں، صوبائی حکومتوں اور وزارتوں کے درمیان بروقت منصوبہ بندی اور باہمی قریبی رابطے کی اہمیت پر خصوصی زور دیا تاکہ کسی بھی شعبے میں تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی پاکستان کے لیے اپنے کھیلوں کے میدان میں موجود صلاحیتوں، شاندار مہمان نوازی اور اعلیٰ انتظامی استعداد کو دنیا بھر کے سامنے بہترین طریقے سے اجاگر کرنے کا ایک سنہری موقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بین الاقوامی کھیلوں کے انعقاد کے ذریعے خطے اور دنیا کو پاکستان کی طرف سے امن، باہمی دوستی، خیر سگالی اور ہم آہنگی کا مثبت اور واضح پیغام پہنچایا جائے گا۔
اس اہم جائزاتی اجلاس میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر عارف سعید، سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ، ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسپورٹس بورڈ، وزارتِ خزانہ کے اعلیٰ حکام کے علاوہ پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومتوں کے نمائندگان نے بھی شرکت کی اور کھیلوں کے کامیاب انعقاد کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔
سندھ میں قومی شاہراہوں اور موٹرویز کے بنیادی ڈھانچے کو جدید ترین خطوط پر استوار کرنے، تجارتی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور سفر کو محفوظ بنانے کے لیے رواں مالی سال کے دوران 49 ارب 30 کروڑ 50 لاکھ روپے کے بھاری فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ ان فنڈز کی مدد سے حیدرآباد سکھر موٹروے اور سیلاب سے شدید متاثر ہونے والی اہم قومی شاہراہ این-5 کی تعمیر و بحالی سمیت متعدد اہم ترین مواصلاتی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری رکھا جائے گا۔
سندھ کے مواصلاتی انفراسٹرکچر کے حوالے سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی 2026-27) کے سرکاری دستاویزات سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے زیرِ انتظام سندھ میں موٹرویز اور قومی شاہراہوں کے کل 9 بڑے اور اہم ترین منصوبے شامل ہیں، جن کی مجموعی منظور شدہ پی سی-ون لاگت 594 ارب 97 کروڑ 70 لاکھ روپے بنتی ہے۔ ان تمام منصوبوں پر جون 2026 تک مجموعی طور پر 122 ارب 50 کروڑ 80 لاکھ روپے کی رقوم خرچ کی جا چکی تھیں، جبکہ یکم جولائی 2026 کے بعد باقی ماندہ مالی ضروریات کا تخمینہ 472 ارب 46 کروڑ 90 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔ رواں مالی سال 2026-27 کے لیے مختص کیے گئے 49 ارب 30 کروڑ 50 لاکھ روپے میں 8 ارب 5 کروڑ 50 لاکھ روپے کے مقامی وسائل شامل ہیں، جبکہ 41 ارب 25 کروڑ روپے کی رقم غیر ملکی معاونت پر مشتمل ہے۔
دستاویزات کے مطابق منصوبوں میں سب سے بڑی اور اہم رقم، یعنی 30 ارب روپے، 306 کلومیٹر طویل حیدرآباد۔سکھر موٹروے کی تعمیر کے لیے مختص کی گئی ہے۔ چھ لین پر مشتمل یہ جدید اور باڑ سے محفوظ موٹروے بلڈ، آپریٹ اینڈ ٹرانسفر (BOT) کی بنیاد پر تعمیر کرنے کا عظیم الشان منصوبہ ہے جس کی مجموعی منظور شدہ لاگت 363 ارب 70 کروڑ روپے ہے، اور اس کی باقی ماندہ مالی ضرورت 363 ارب 69 کروڑ 10 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔ اس منصوبے کے لیے رواں مالی سال کے 30 ارب روپے میں سے 2 ارب روپے مقامی ذرائع اور 28 ارب روپے غیر ملکی مالی معاونت سے حاصل ہوں گے۔ حکام کے مطابق اس میگا پروجیکٹ کی خریدی و ٹینڈرنگ کا عمل نومبر 2026ء تک مکمل ہونے کی قوی توقع ہے۔
اس کے علاوہ سال 2022 کے تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونے والی قومی شاہراہ این-5 کے مورو سے رانی پور تک (کلومیٹر 318 سے 404 کے درمیانی) شمالی اور جنوبی دونوں حصوں کی تعمیرِ نو اور 32 متاثرہ پلوں کی مکمل بحالی کے لیے 9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 57 ارب 24 کروڑ 50 لاکھ روپے کی مجموعی لاگت والے اس منصوبے پر جون 2026 تک 13 ارب 22 کروڑ 40 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے تھے۔ اس منصوبے کے لاٹ-1 پر 23 فیصد اور لاٹ-2 پر 19 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور اسے 30 جون 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے تحت انڈس ہائی وے (این-55) پر شکارپور سے راجن پور کے درمیان 221.9 کلومیٹر طویل اضافی کیریج وے کی تعمیر کے لیے 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ 44 ارب 70 کروڑ روپے سے زائد لاگت کے اس منصوبے پر اب تک 32 ارب روپے سے زائد خرچ ہو چکے ہیں اور اس کے مختلف حصوں پر 21 فیصد سے 79 فیصد تک کام مکمل ہو چکا ہے، جسے اکتوبر 2026 تک مکمل کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب چین کے تعاون سے این-5 کے ہالا۔مورو سیکشن کے 66 کلومیٹر حصے کی بحالی کے لیے 2 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کی مجموعی لاگت 27 ارب 97 کروڑ روپے ہے اور اس کی خریداری کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔
اسی طرح سکھر میں این-5 اور این-65 کے سنگم پر چار لین فلائی اوور اور رابطہ سڑکوں کے لیے 1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس پر 62 فیصد کام مکمل ہے اور اسے اپریل 2027 تک مکمل کیا جائے گا۔ کراچی۔لاہور موٹروے کے لیے زمین کے حصول، معاوضوں کی ادائیگی اور یوٹیلٹی سروسز کی منتقلی کی مد میں 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس پر 68 فیصد کام مکمل ہے اور دسمبر 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ مزید برآں سکھر۔ملتان موٹروے پر بھونگ انٹرچینج کی 31 اگست 2026 تک مکمل تیاری کے لیے 10 کروڑ روپے، کیریک کوریڈور کے منصوبوں کے لیے 83 کروڑ روپے، جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مجوزہ نئی کراچی۔حیدرآباد موٹروے کی کمرشل فزیبلٹی کی تیاری کے لیے 7 کروڑ 50 لاکھ روپے کے فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔ ان تمام ترقیاتی اور مواصلاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل سے سندھ بھر میں نہ صرف سفری سہولیات اور تجارتی مال برداری کے نظام میں واضح بہتری آئے گی بلکہ ملک گیر سطح پر معاشی سرگرمیوں کو بھی زبردست فروغ حاصل ہوگا۔
محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا، تاہم شمال مشرقی پنجاب، بالائی خیبرپختونخوا، کشمیر، اسلام آباد اور خطہ پوٹھوہار میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔
ترجمان محکمہ موسمیات کے مطابق اس وقت ہوا کا سیزنل کم دباؤ شمال مشرقی بلوچستان پر موجود ہے جبکہ ملک کے بالائی حصوں میں کمزور مون سون ہوائیں داخل ہو رہی ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی ملک کے اکثر حصوں میں موسم گرم اور مرطوب رہا، تاہم قصور کے علاقے میں 1 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق پیر کے روز ملک میں شدید گرمی ریکارڈ کی گئی جہاں سب سے زیادہ درجہ حرارت دادو میں 45 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، جبکہ سبی، دالبندین، سکھر، روہڑی اور خیرپور میں درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی ‘مکہ معاہدے’ کے کوئی جارحانہ مقاصد نہیں، بلکہ یہ صرف دفاعی مقاصد اور خطے میں امن، ترقی و خوشحالی کے فروغ کے لیے ہے۔ انہوں نے اس معاہدے کو مسلم امہ کے لیے باعثِ تقویت قرار دیتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو سراہا۔
وزیراعظم نے ہنگو اور سوات سمیت دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جامِ شہادت نوش کرنے والے میجر حافظ احسان الٰہی، کیپٹن حمزہ اکرم اور ڈی ایس پی دیار خان سمیت تمام شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے دیرینہ رہنما اقبال چنڑ کے انتقال پر بھی گہرے دکھ کا اظہار اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) وہاں اکثریتی جماعت بن کر ابھری ہے، جو قائد نواز شریف کی قیادت پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر میں کسی کو لاقانونیت یا انارکی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاہم امن اور تحمل کے ساتھ بات چیت کرنے والوں کے لیے نئی حکومت کے قیام کے بعد مذاکرات کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے قوم کو 14 اگست کا جشنِ آزادی بھرپور شان و شوکت اور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منانے کی ہدایت کی اور عزم ظاہر کیا کہ پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرکے قائد اعظم کا واقعی پاکستان بنایا جائے گا۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان میں امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے وزارتِ خزانہ میں اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان معاشی تعلقات، دوطرفہ تجارت، اور مالیاتی تعاون کو وسعت دینے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیر خزانہ نے امریکی ناظم الامور کو اپنے حالیہ دورۂ واشنگٹن کی تفصیلات سے آگاہ کیا، جہاں انہوں نے امریکی وزیر خزانہ، آئی ایم ایف کی اعلیٰ انتظامیہ، امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن اور ایگزم بینک کے حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اداروں کے ساتھ تعمیری گفتگو ہوئی ہے اور پاکستان تجارتی بنیادوں پر قابلِ عمل منصوبوں کے لیے امریکی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتا ہے۔
ملاقات میں امریکی تجارتی نمائندہ دفتر کے ساتھ باہمی تجارت کے فریم ورک پر ہونے والی پیش رفت پر بھی گفتگو کی گئی۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ ان مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے، جس سے مارکیٹ تک رسائی اور پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت زرمبادلہ کے ذخائر اور کریڈٹ پروفائل کو مستحکم بنانے کے لیے مالی معاونت کے ذرائع کو متنوع بنا رہی ہے۔
گفتگو کے دوران بندرگاہوں، لاجسٹکس، توانائی، ٹیلی کمیونیکیشن، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، اور مصنوعی ذہانت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر غور کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے علاقائی صورتحال کے پیش نظر پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں سے ہم آہنگی کے لیے یومیہ قیمتوں کی نظرثانی کے نظام کا بھی ذکر کیا۔
امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے مشکل عالمی معاشی حالات اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے باوجود معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے کو سراہا۔ انہوں نے امریکی حکومت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت اور خصوصی شعبوں میں امریکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
پاکستان میں فلپائن کے سفیر ڈاکٹر ایمانوئل آر فرننڈیز نے دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارت کو 500 ملین امریکی ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی و معاشی تعلقات کے فروغ میں دونوں ممالک کے نجی شعبے اور چیمبرز آف کامرس کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔
قومی خبر رساں ادارے (اے پی پی) کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں فلپائنی سفیر نے بتایا کہ اس وقت پاکستان اور فلپائن کے درمیان باہمی تجارت 197 ملین ڈالر ہے جو کہ دونوں ممالک کی حقیقی صلاحیت سے کافی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلپائن آبادی کے لحاظ سے آسیان کی دوسری بڑی مارکیٹ ہے اور پاکستان کے لیے اس خطے کا گیٹ وے ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آسیان کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کی صورت میں پاکستان 4 ٹریلین ڈالر کی وسیع مارکیٹ سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
سفیر نے بتایا کہ اسلام آباد میں فلپائن کا سفارتخانہ پاکستانیوں کے لیے ویزا عمل کو آسان بنا رہا ہے اور اس وقت ماہانہ تقریباً 320 ویزے جاری کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال 5 ہزار سے زائد پاکستانی سیاحت کے لیے فلپائن کا رخ کرتے ہیں جبکہ فلپائنی شہری بھی پاکستان کے شمالی علاقوں کی سیر میں دلچسپی رکھتے ہیں، اس لیے آنے والے وقت میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پروازوں کی شروعات کے امکانی راستے موجود ہیں۔
ڈاکٹر ایمانوئل آر فرننڈیز نے ادویات، آٹوموبائل، الیکٹرانکس، حلال مصنوعات، سیاحت، زراعت، ای کامرس اور بلیو و گرین اکانومی کو باہمی سرمایہ کاری کے لیے اہم ترین شعبے قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے نوجوان اور جامعات بھی اسکالرشپ معاہدوں کے ذریعے ڈیجیٹل اکانومی اور تعلیمی میدان میں مضبوط شراکت داری قائم کر سکتے ہیں۔
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی اور تعمیر میں اقلیتی برادریوں کا کردار ناقابلِ فراموش ہے، اور ہر شہری کو حقوق، تحفظ اور مساوی مواقع فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ‘قومی اقلیتی دن’ کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارلیمنٹرینز، اقلیتی کاکس کے ارکان اور سینیٹ سیکرٹریٹ کے اعلیٰ حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
چیئرمین سینیٹ نے یاد دہانی کرائی کہ انہوں نے 2009ء میں بطور وزیراعظم 11 اگست کو ‘قومی اقلیتی دن’ قرار دیا تھا تاکہ اقلیتوں کے مساوی مقام اور خدمات کا سرکاری سطح پر اعتراف کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی دور میں اقلیتی امور کی وفاقی وزارت کا قیام، ملازمتوں میں 5 فیصد کوٹہ اور سینیٹ میں اقلیتی نمائندگی جیسے تاریخی اقدامات کیے گئے تھے۔
سید یوسف رضا گیلانی نے تحریکِ پاکستان اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اقلیتی رہنماؤں کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے دیوان بہادر ایس پی سنگھا، جوگندر ناتھ منڈل، جسٹس اے آر کارنیلیس، جسٹس دوراب پٹیل، جسٹس رانا بھگوان داس اور ڈاکٹر رتھ فاؤ کی خدمات کا خصوصی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج، عدلیہ، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اقلیتی شخصیات کا باب قابلِ فخر ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ میثاقِ مدینہ بین المذاہب ہم آہنگی کی روشن مثال ہے، جبکہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی ہمیشہ تمام شہریوں کے مساوی حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ تقریب کے اختتام پر چیئرمین سینیٹ نے سینیٹر دنیش کمار اور پارلیمانی اقلیتی کاکس کی کاوشوں کو سراہا۔
لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کسٹم اور ایف آئی اے حکام نے مشترکہ اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کی جدہ جانے والی پرواز سے ایک ایئر ہوسٹس کو بھاری مقدار میں غیر ملکی کرنسی بیرونِ ملک اسمگل کرنے کی کوشش کے الزام میں پرواز سے اتار کر گرفتار کر لیا ہے۔
حکام کے مطابق پی آئی اے کی پرواز پی کے 203 کے ذریعے جدہ روانہ ہونے والی ایئر ہوسٹس پر شک گزرنے پر اس کی تفصیلی تلاشی لی گئی، جس کے دوران اس کے قبضے سے 37 ہزار 318 امریکی ڈالر اور 40 ہزار سعودی ریال برآمد ہوئے۔ ذرائع کے مطابق یہ غیر ملکی کرنسی انتہائی مہارت کے ساتھ جرابوں میں چھپائی گئی تھی تاکہ ایئرپورٹ سیکیورٹی کو چکمہ دیا جا سکے۔
کسٹم حکام نے اسمگل کی جانے والی تمام غیر ملکی کرنسی کو تحویل میں لے کر متعلقہ قوانین کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملزمہ کو مزید تفتیش کے لیے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے پیچھے ممکنہ طور پر ملوث دیگر افراد کا سراغ لگانے کے لیے بھی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
قانون دانوں اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کرنسی کی اس طرح اسمگلنگ ملک کے لیے معاشی نقصان کا باعث بنتی ہے اور کسی بھی قومی ادارے کے ملازم کی جانب سے ایسی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر کڑا احتساب ضروری ہے، تاہم جرم کی حتمی ذمہ داری کا تعین عدالت اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔
واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک بھر کے تمام اہم دریاؤں، بیراجوں اور ڈیموں میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ پیر کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق تربیلا ڈیم اپنی انتہائی گنجائش تک بھر چکا ہے جبکہ دیگر اہم آبی ذخائر میں بھی پانی کا ذخیرہ تسلی بخش سطح پر موجود ہے۔
واپڈا رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ 99 ہزار 100 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 69 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج 36 ہزار 200 کیوسک رہا، جبکہ خیرآباد پل پر آمد و اخراج 2 لاکھ 15 ہزار 300 کیوسک درج کیا گیا۔ دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر آمد 38 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 7 ہزار کیوسک رہا، جبکہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 70 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 56 ہزار 200 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
بیراجوں کی صورتحال بیان کرتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا کہ جناح بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 72 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 65 ہزار 200 کیوسک رہا۔ چشمہ بیراج میں آمد 2 لاکھ 53 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 44 ہزار 800 کیوسک جبکہ تونسہ بیراج میں آمد 3 لاکھ 30 ہزار کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 9 ہزار کیوسک درج کیا گیا۔ سندھ کے بیراجوں میں گدو بیراج پر آمد 2 لاکھ 73 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 33 ہزار 300 کیوسک، سکھر بیراج پر آمد 1 لاکھ 81 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 28 ہزار 100 کیوسک جبکہ کوٹری بیراج پر آمد 1 لاکھ 71 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 30 ہزار 100 کیوسک ریکارڈ ہوا۔ علاوہ ازیں تریموں کے مقام پر آمد 46 ہزار 400 کیوسک اور پنجند بیراج پر آمد 52 ہزار 200 کیوسک درج کی گئی۔
آبی ذخائر اور ڈیموں کی صورتحال کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح اپنی انتہائی گنجائش 1550 فٹ تک پہنچ چکی ہے اور ڈیم مکمل بھر گیا ہے، جہاں آج قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.580 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1206.90 فٹ ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی انتہائی گنجائش 1242 فٹ ہے، اور یہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 4.683 ملین ایکڑ فٹ موجود ہے۔ اسی طرح چشمہ ریزروائر میں پانی کی سطح 648.50 فٹ ہے اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.285 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا کے ضلع اپر چترال میں طوفانی بارشوں اور تباہ کن فلیش فلڈ (سیلابی ریلوں) نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں سڑکیں، پل، مکانات اور زرعی اراضی شدید متاثر ہوئی ہیں۔ ملبے اور مٹی کے بڑے پیمانے پر جمع ہو جانے کے باعث علاقے میں آمدورفت اور عام معمولاتِ زندگی معطل ہو کر رہ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جگھور گول، شوٹ اور ہنجوگول کے علاقوں میں آنے والے تیز رفتار سیلابی ریلوں نے بنیادی ڈھانچے، سڑکوں اور گلیوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ متعدد علاقوں کا رابطہ دیگر اضلاع سے کٹ گیا تھا اور کئی شہری سیلابی پانی میں پھنس کر رہ گئے۔
بحران کی اس صورتحال میں پاک فوج اور فرنٹیئر کور خیبرپختونخوا نارتھ کے جوان فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچے اور بڑے پیمانے پر امدادی و ریسکیو سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ سیکورٹی فورسز کے جوانوں نے سیلاب میں گھرے شہریوں کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
اس کے ساتھ ساتھ بند سڑکوں اور شاہراہوں پر جمع ہونے والے مٹی اور پتھروں کے ملبے کو ہیوی مشینری کے ذریعے ہٹا کر سڑکوں کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے تاکہ امدادی سامان کی فراہمی میں دشواری پیش نہ آئے۔
مقامی رہائشیوں نے اس آفت کی گھڑی میں بروقت امدادی کارروائیوں اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے پر پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ سیکیورٹی فورسز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مشکل ترین حالات میں عوام کی جان و مال کا تحفظ اور ان کی بروقت مدد ہماری اولین ترجیح ہے اور تمام متاثرہ علاقوں میں بحالی کے مکمل ہونے تک ریسکیو و امدادی کام جاری رہیں گے۔
پاکستان کی معروف کاروباری شخصیت اور ممتاز معاشی ماہر عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا ہے کہ ان دنوں ملک میں نئی سرمایہ کاری کے حوالے سے مثبت پیش رفت کے قوی امکانات موجود ہیں، تاہم حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے غیر متوقع فیصلوں سے سخت گریز کرے جن سے تجارتی ماحول اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچے۔
کراچی میں ذرائع ابلاغ اور تاجر برادری سے گفتگو کرتے ہوئے عقیل کریم ڈھیڈی نے معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے مخصوص اور دو ٹوک انداز میں کہا کہ اس وقت کاروباری طبقے کو کسی بڑی سرکاری خوشخبری يا ڈرامائی پیکیج کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ حکومت سے صرف اتنی درخواست ہے کہ معیشت اور سرمایہ کاروں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرنے والے فیصلے نہ کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے واضح امکانات موجود ہیں اور آنے والے دنوں میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ تاہم، اس موقع پر حکومت کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ کاروباری طبقے کا اعتماد بحال رکھے اور ایک مستحکم و سازگار ماحول فراہم کرے۔
عقیل کریم ڈھیڈی نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی معاملات میں طویل المدتی پالیسیوں کا تسلسل، شفافیت اور واضح فیصلے ہی کسی بھی معیشت کی ترقی کی ضمانت ہوتے ہیں۔ حکومت کو ایسے اچانک اور معاشی دھچکے دینے والے اقدامات سے بچنا چاہیے جو تجارتی حلقوں میں غیر یقینی صورتحال اور خوف پھیلاؤ کا باعث بنیں۔ انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں مگر گہری معاشی حقیقت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا، “ہمیں کسی نئی خوشخبری کی ضرورت نہیں، بس حکومت سے اتنی التجا ہے کہ مزید کوئی ‘بمبو’ مت دینا۔”
کراچی میں پراسرار حالات میں جان بحق ہونے والے مقتول میر رضا کی کیمسٹری و پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں ان کے جسم، سر اور چہرے پر شدید تشدد اور فائر آرم (گولی) کے واضح شواہد ملے ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے انکشافات کے بعد مقتول کے والد اور ان کے وکیل جبران ناصر نے پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کرتے ہوئے اعلیٰ پولیس حکام کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کے سر، چہرے، گردن، سینے اور جسم کے متعدد حصوں پر چوٹوں اور تشدد کے گہرے نشانات پائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقتول کو قتل سے قبل جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس میں تھوڑی اور ماتھے پر سخت چوٹیں شامل ہیں۔
میڈیکل رپورٹ میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ میر رضا کے دائیں جانب اوپری کمر پر گولی لگنے کا انٹری وؤنڈ موجود ہے۔ فائر آرم کی اس انجری کے باعث مقتول کی چھٹی پسلی فریکچر ہوئی جبکہ گولی کے اثرات پانچویں پسلی تک پہنچے، جس کے نتیجے میں اندرونی خون بہا اور پھیپھڑوں میں خون جمع ہو گیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معروف وکیل اور انسانی حقوق کے رہنما جبران ناصر نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ نے پولیس کے خودکشی کے دعوؤں کو مکمل طور پر باطل ثابت کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس شفاف تفتیش کرنے کے بجائے میر رضا کے لواحقین کو ہراساں کر رہی ہے اور اے آئی جی کراچی خاندان پر واقعے کو خودکشی تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
جبران ناصر نے مزید کہا کہ “ہمیں اے آئی جی اور ایس ایس پی کراچی کی موجودہ تحقیقاتی ٹیم پر بالکل بھروسہ نہیں رہا، اسی لیے ہم پوری تفتیشی ٹیم کی تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہیں اور اس کے لیے عدالت سے بھی رجوع کریں گے۔” مقتول کے والد نے بھی میڈیا کے سامنے روتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے بیٹے کو بے دردی سے قتل کیا گیا ہے، لہذا قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے سچ سامنے لایا جائے۔