حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان، عالمی منڈی میں خام تیل سستا جبکہ سونا مہنگا

کاشف عباسی , August 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

حکومتِ پاکستان نے عوام پر مہنگائی کا نیا بوجھ ڈالتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں زبردست اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے 77 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 47 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 20 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کے نئے نرخ 390 روپے 42 پیسے فی لیٹر مقرر کر دیے گئے ہیں۔ نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا اور یہ ایک روز کے لیے طے کی گئی ہیں۔

دوسری جانب عالمی کموڈٹی مارکیٹ میں پیر کے روز ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان رہا، جہاں امریکی خام تیل کے ستمبر کی ترسیل کے معاہدے 0.62 ڈالر کی کمی کے ساتھ 81.78 ڈالر فی بیرل اور برینٹ کروڈ کے اکتوبر کے معاہدے 0.17 ڈالر کی کمی کے بعد 88.35 ڈالر فی بیرل پر طے پائے۔

اس کے برعکس عالمی منڈی میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔ سونے کی فی اونس قیمت 16.20 ڈالر کے اضافے سے 4,453.50 ڈالر جبکہ چاندی کی قیمت 0.68 ڈالر کے اضافے کے ساتھ 65.79 ڈالر فی اونس تک جا پہنچی۔ زرعی اجناس کی بات کی جائے تو گندم کی قیمت میں 1.50 ڈالر فی بشل کمی ریکارڈ کی گئی اور اس کا سودا 688 ڈالر فی بشل پر ہوا، جبکہ مکئی کے دسمبر کے معاہدے 1.25 ڈالر کے اضافے کے ساتھ 484.50 ڈالر فی بشل پر بند ہوئے۔

ریلوے گارڈز اور لوکو پائلٹس کے لیے بڑا تحفہ: خانیوال میں جدید سہولیات سے آراستہ ‘رننگ رومز’ کی اپ گریڈیشن مکمل

منصور احمد, August 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے پاکستان ریلوے کے فرنٹ لائن سٹاف، بالخصوص گارڈز اور لوکو پائلٹس کے لیے ایک اور اہم ریلیف کا اعلان کیا ہے۔ راولپنڈی کے بعد اب خانیوال میں بھی ریلوے گارڈز اور ڈرائیورز کے لیے جدید ترین سہولیات سے آراستہ “رننگ رومز” کی جامع اپ گریڈیشن اور تزئین و آرائش کا کام کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔

ترجمان ریلوے کے مطابق پاکستان ریلوے کی 79 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اپنے بنیادی فیلڈ سٹاف کے لیے اتنی وسیع اور جدید سطح پر ورکنگ کنڈیشنز اور رہائشی سہولیات میں بہتری لائی گئی ہے۔ خانیوال میں اپ گریڈ کیے گئے ان نئے رننگ رومز کا باضابطہ افتتاح 22 اگست کو کیا جائے گا۔

وزارتِ ریلوے کے حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر محمد حنیف عباسی کی خصوصی دلچسپی اور ہدایت پر محکمے کے فرنٹ لائن ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے اس موقع پر اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ ریلوے کے محنتی اور جفاکش ملازمین کو بہترین، آرام دہ اور باوقار ماحول کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے تاکہ وہ بغیر کسی ذہنی تناؤ کے اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔

روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ: جولائی 2026 کے اختتام تک مجموعی ترسیلاتِ زر 13.647 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں

کاشف عباسی , August 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2026ء کے اختتام تک روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے تحت مجموعی ترسیلاتِ زر بڑھ کر 13.647 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جو جون 2026ء کے اختتام پر 13.365 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔

اعداد و شمار کے مطابق صرف جولائی 2026ء کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 282 ملین ڈالر بھیجے، جبکہ جون میں 306 ملین ڈالر اور مئی 2026ء میں 312 ملین ڈالر موصول ہوئے تھے۔ پروگرام کے تحت رجسٹرڈ اکاؤنٹس کی مجموعی تعداد جولائی میں 10 ہزار 589 کے اضافے سے 9 لاکھ 56 ہزار 790 ہو گئی ہے، جبکہ جون میں یہ تعداد 9 لاکھ 46 ہزار 201 ریکارڈ کی گئی تھی۔

جولائی کے اختتام تک تارکینِ وطن نے مختلف مالیاتی اسکیموں میں نمایاں سرمایہ کاری کی۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں 684 ملین ڈالر، نیا پاکستان اسلامی سرٹیفکیٹس میں 1316 ملین ڈالر اور روشن ایکویٹی انویسٹمنٹ میں 151 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو وطنِ عزیز میں براہِ راست بینکاری، رقوم کی منتقلی اور مختلف شعبوں میں محفوظ سرمایہ کاری کے لیے جدید اور آسان سہولیات فراہم کر رہا ہے۔

بجٹ شفافیت اور مالیاتی معلومات تک عوامی رسائی میں پاکستان کی بڑی پیش رفت، عالمی سکور 45 تک پہنچ گیا

محمود احمد, August 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

پاکستان نے بجٹ شفافیت، مالیاتی معلومات تک عام شہریوں کی رسائی اور جوابدہی کے نظام میں زبردست اور نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔ انٹرنیشنل بجٹ پارٹنرشپ (آئی بی پی) کے جاری کردہ اوپن بجٹ سروے 2025ء کے مطابق پاکستان کا بجٹ شفافیت سکور سال 2023ء کے 30 پوائنٹس سے نمایاں طور پر بڑھ کر سال 2025ء میں 45 پوائنٹس تک جا پہنچا ہے، جو محض دو سال کے مختصر عرصے میں 50 فیصد کی ریکارڈ بہتری کی کھلی عکاسی کرتا ہے۔

مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد کے مطابق پاکستان کا موجودہ 45 پوائنٹس کا سکور اس وقت عالمی اوسط کے بالکل برابر آ چکا ہے، جبکہ جنوبی ایشیا اور دیگر اہم ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں بھی پاکستان کا گراف کافی بہتر رہا ہے۔ سروے کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق بھارت 44، سری لنکا 43، بنگلہ دیش 37، نائجیریا 24 اور چین 19 پوائنٹس کے ساتھ اس عالمی فہرست میں پاکستان سے پیچھے رہ گئے ہیں۔

اوپن بجٹ سروے کے مطابق پاکستان نے مالیاتی و بجٹ سازی کے متعدد اہم اور بنیادی شعبوں میں یہ پیش رفت حاصل کی ہے۔ ایگزیکٹو بجٹ پروپوزل کا سکور 43 سے بڑھ کر 57 پوائنٹس ہو گیا، منظور شدہ بجٹ کا سکور 33 سے بڑھ کر 50 پوائنٹس تک پہنچ گیا، جبکہ بجٹ سازی میں عام شہریوں کی شمولیت کا سکور 15 سے بڑھ کر 22 ہو گیا۔ اس کے علاوہ سالانہ اختتامی رپورٹ کی بروقت آن لائن اشاعت اور جامع معلومات کی فراہمی کا سکور 52 ریکارڈ کیا گیا۔

عوامی شرکت کے شعبے میں پاکستان کا حاصل کردہ 22 پوائنٹس کا سکور عالمی اوسط اور ایشیا پیسیفک خطے کی اوسط دونوں سے کہیں زیادہ ہے، جو بجٹ کے پورے عمل میں عوامی اور پارلیمانی شمولیت کو یقینی بنانے کی حکومتی پالیسی کا ثبوت ہے۔ انٹرنیشنل بجٹ پارٹنرشپ نے پاکستان کی جانب سے بروقت رپورٹس کی آن لائن دستیابی کو خصوصی طور پر سراہا ہے۔

علاوہ ازیں، امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کی جانے والی تازہ ترین مالیاتی شفافیت کی تشخیص میں بھی پاکستانی مالیاتی نظام کی متعدد مثبت خصوصیات کا اعتراف کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں منظور شدہ بجٹ، سالانہ مالیاتی رپورٹس تک عام عوام کی رسائی، آمدن و اخراجات کی تفصیلات، خودمختار دولت فنڈ کے مضبوط قانونی فریم ورک اور سپریم آڈٹ ادارے کے آزادانہ کردار کو خصوصی طور پر سراہا گیا۔

حکومتِ پاکستان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ بجٹ شفافیت میں اس مسلسل بہتری کا مقصد صرف اعداد و شمار کی اشاعت نہیں، بلکہ عوام، پارلیمان، کاروباری برادری اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سرکاری وسائل، آمدن اور اخراجات کے بارے میں سچا، شفاف اور بروقت حساب فراہم کرنا ہے۔ شفافیت سے جوابدہی اور جوابدہی سے ادارہ جاتی ساکھ اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے مالیاتی اصلاحات کا یہ سفر آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔

پنجاب کے اضلاع میں صاف پانی کی فراہمی پر مریم نواز شریف کی صدارت میں مسلسل پانچواں اجلاس، اہم فیصلے

منصور احمد, August 17,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر کے مختلف اضلاع میں صاف پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم اور مسلسل پانچویں اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں چکوال، راولپنڈی، راجن پور، فیصل آباد، مری اور اٹک میں واٹر سپلائی اور پائپ لائن منصوبوں کے جائزہ کے ساتھ ساتھ ترجیحی بنیادوں پر مختلف سفارشات کی منظوری دی گئی۔ وزیرِ اعلیٰ نے چکوال کے شدید قلت کے شکار 8 دیہات سمیت راجن پور، جام پور، ڈاجل اور فیصل آباد کے مضافات میں پائلٹ واٹر پروجیکٹس شروع کرنے پر اتفاق کیا۔

اجلاس میں راجن پور میں پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر 21 واٹر باؤزرز فراہم کرنے اور مری میں واٹر ٹینکس کے ساتھ پانی کے نئے ذرائع تلاش کرنے کی سخت ہدایت کی گئی۔ واٹر اتھارٹی اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق راولپنڈی میں 252، اٹک میں 399، راجن پور میں 191، مری میں 90 اور چکوال میں 237 نئے واٹر فلٹریشن پلانٹس تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے کہا کہ جن علاقوں میں شہریوں کو سروں اور کندھوں پر پانی اٹھا کر لانا پڑتا ہے، وہ حکومت کی اولین ترجیح ہیں اور عوام کو ان کی دہلیز پر صاف پانی کی فراہمی تک حکومت آرام سے نہیں بیٹھے گی۔

لاہور میں رات کے وقت غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سولر انرجی کی کمی اور لیسکو انتظامیہ کے اخراجات بڑی وجہ قرار

کاشف عباسی , August 17,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے متعدد علاقوں میں رات کے وقت شدید غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث شہریوں کا جینا محال ہو گیا ہے۔ لیسکو ذرائع کے مطابق اقبال ٹاؤن، سبزہ زار، جوہر ٹاؤن، سمن آباد، ملتان روڈ، ہربنس پورہ اور مزنگ جیسے گنجان آباد علاقوں میں دن کے وقت نیٹ میٹرنگ سے حاصل ہونے والی سولر توانائ کی وجہ سے سپلائی معمول کے مطابق رہتی ہے، تاہم رات کے وقت سولر پینلز کا نظام بند ہوتے ہی لیسکو اپنے “کمپنی نقصانات” پورا کرنے کے لیے غیر اعلانیہ بجلی کی بندش شروع کر دیتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق فکس چارجز، ٹیکسز اور مختلف سرچارجز میں کئی سو فیصد اضافے کے باوجود لیسکو کے خسارے کا ختم نہ ہونا انتظامی نااہلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاور ڈویژن اور پی پی آئی بی کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں اس وقت بجلی کی پیداوار ضرورت سے زیادہ ہے، مگر لیسکو اور دیگر ڈسٹری بیوشن کمپنیاں وصولیوں کے باوجود کم بجلی خرید رہی ہیں تاکہ اپنے مالی اہداف اور افسران کے شاہانہ اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لیسکو بورڈ اور اعلیٰ حکام کے نان پروڈکٹیو (غیر پیداواری) اخراجات ماہانہ کروڑوں روپے تک جا پہنچے ہیں، جبکہ دوسری جانب فیلڈ میں عملے کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

دوسری جانب بجلی صارفین نے حکومت اور پاور کمپنیوں کے رویے پر شدید احتجاج کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں جن کا بل 10 ہزار روپے آتا تھا، اتنے ہی یونٹس کا بل اب 50 ہزار روپے سے تجاویز کر چکا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت بجلی کے جھٹکوں اور کم وولٹیج کی وجہ سے شہریوں کے اربوں روپے کے الیکٹرانک آلات کو پہنچنے والے نقصان کا حساب لینے کا بھی ایک طریقہ کار وضع کرے اور لیسکو کے شاہانہ اخراجات ختم کر کے صارفین کو بلوں میں فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔

گڈز ٹرانسپورٹرز کے مسائل کے حل اور ایکسل لوڈ پالیسی پر وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کا اہم بیان

منصور احمد, August 17,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے گڈز ٹرانسپورٹرز کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے ساتھ کیے گئے تمام وعدے ہر صورت میں پورے کیے جائیں گے اور موٹروے پولیس کی جانب سے کسی بھی گاڑی کا ناجائز چالان نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں گڈز ٹرانسپورٹرز اتحاد کی جانب سے مذاکرات کی کامیابی کی خوشی میں اپنے اعزاز میں دیے گئے ایک پروقار استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر کا ٹرانسپورٹرز کیمپ پہنچنے پر والہانہ استقبال کیا گیا، نعرے بازی کی گئی اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ اس موقع پر گڈز ٹرانسپورٹرز اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے وفاقی وزیر کو روایتی سندھی اجرک پہنائی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عبدالعلیم خان نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز ایکسل لوڈ پالیسی کی خلاف ورزی نہ کریں کیونکہ یہ ان کے اپنے مفاد میں ہے، مقررہ حد سے زیادہ وزن لادنے سے گاڑیوں اور سڑکوں دونوں کا نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں اس معاملے کے حل کے لیے قائم کمیٹی کا چیئرمین بنایا تھا، اور مسلسل نو روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد مسائل کو باہمی رضامندی سے حل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاہراہوں پر واقع “ویٹ سٹیشنز” کے حوالے سے ٹرانسپورٹرز کی شکایات کا فوری خاتمہ کیا جائے گا، جبکہ موٹروے پولیس کے ذریعے ڈرائیورز کے لائسنس کے اجرا کا بھی مناسب بندوبست کیا جا رہا ہے۔ سیکرٹری مواصلات، چیئرمین این ایچ اے اور آئی جی موٹرویز کو شاہراہوں کا باقاعدگی سے دورہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ قومی شاہراہوں اور موٹرویز کو عوام اور ٹرانسپورٹرز کے لیے زیادہ دوستانہ بنایا جا سکے۔

تقریب کے اختتام پر گڈز ٹرانسپورٹرز اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے مطالبات کی منظوری پر وفاقی حکومت اور عبدالعلیم خان کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر اویس چوہدری ایڈووکیٹ، امداد حسین نقوی، چوہدری قمر الزمان گل، اظہر سراج، رؤف خان بالا، ملک شیر خان اور ملک حاجی فرید سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

مانگا روڈ اور ملتان روڈ پر پنجاب فوڈ اتھارٹی کی بڑی کارروائی، 2 ہزار کلو گلا سڑا گوشت تلف، 25 لاکھ روپے جرمانہ

منصور احمد, August 17,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی کی بالخصوص دی گئی ہدایت پر ایڈیشنل ڈی جی آپریشنز اسد اللہ کی سربراہی میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے مانگا روڈ اور 45 کلومیٹر ملتان روڈ پر واقع تین معروف میٹ اور آئل فیکٹریوں پر اچانک چھاپے مارے۔ کارروائی کے دوران حفظانِ صحت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزیوں اور صفائی کے ناقص انتظامات پر مجموعی طور پر 25 لاکھ روپے کے بھاری جرمانے عائد کیے گئے۔

ترجمان پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق کارروائی کے دوران انتہائی ناقص انتظامات اور ایکسپائر اشیاء پر مشتمل پولٹری پروسیسنگ فروزن میٹ فیکٹری کو فوری طور پر سیل کر دیا گیا، جبکہ 2 ہزار کلوگرام گلا سڑا اور ناقص گوشت موقع پر تلف کر دیا گیا۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی راجہ منصور احمد نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ایک معروف برانڈ کے میٹ یونٹ سے پرانا ایکسپائر گوشت برآمد ہوا جسے دوبارہ پیک کر کے مارکیٹ میں سپلائی کرنے کا منصوبہ تھا، جب کہ فیکٹری میں ٹریسیبیلٹی ریکارڈ اور حشرات کی روک تھام کے کوئی اقدامات موجود نہیں تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو محفوظ خوراک کی فراہمی کے لیے بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور عوام کسی بھی شکایت پر فوڈ اتھارٹی کی ہیلپ لائن 1223 پر فوری رابطہ کریں۔

دریائے چناب میں سیلابی ریلے کی خبریں بے بنیاد ہیں: پی ڈی ایم اے پنجاب

روزینہ اسماعیل, August 17,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے دریائے چناب میں ڈیڑھ لاکھ کیوسک کا بڑا سیلابی ریلا آنے کے حوالے سے سوشل میڈیا اور نجی نیوز چینلز پر گردش کرنے والی تمام خبروں کی باقاعدہ تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق اس قسم کی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں ہے اور دریاؤں میں پانی کی آمد و رفت فی الوقت مکمل طور پر نارمل ہے۔

پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے واضح کیا کہ ادارہ، محکمہ آبپاشی، فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن اور ارسا کے ساتھ چوبیس گھنٹے مکمل رابطے میں ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایات پر تمام دریاؤں، ڈیموں اور بیراجوں پر پانی کے بہاؤ کی مسلسل ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ دریائے چناب میں اس وقت پانی کا بہاؤ محض 61 ہزار کیوسک ہے جو بالکل نارمل سطح پر ہے۔ انہوں نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ کسی بھی ممکنہ سیلابی خطرے کی صورت میں انتظامیہ اور شہریوں کو وقت سے پہلے الرٹ جاری کیا جائے گا۔

سیالکوٹ چیمبر کا نیا میڈیکل سٹی منصوبہ شہر میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی میں اہم پیش رفت ہے: خواجہ آصف

کاشف عباسی , August 16,2026

سیالکوٹ (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے ‘سیالکوٹ میڈیکل سٹی لمیٹڈ’ کے قیام کا فیصلہ اور صحت کا نیا منصوبہ شہر میں جدید طبی سہولیات کی دیرینہ ضرورت کو پورا کرنے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ سیالکوٹ کینٹ میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اس کاوش کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اس منصوبے سے مقامی اور گردونواح کے عوام کو لاہور یا بیرونِ ملک جائے بغیر اپنے ہی شہر میں معیاری علاج میسر آ سکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے بھی جلد پانچ سو بستروں پر مشتمل جنرل ہسپتال اور کارڈیک ہسپتال کا سنگِ بنیاد رکھا جائے گا۔

وزیرِ دفاع نے ریاض الدین شیخ اور کاروباری برادری کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ چیمبر نے ماضی میں بھی ایئرپورٹ اور ایئر سیال جیسے تاریخی منصوبے نجی شعبے کی مدد سے مکمل کیے ہیں۔ خواجہ آصف نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ دو سو پانچ ارب روپے کی لاگت سے تیار ہونے والے کھاریاں-اسلام آباد موٹروے منصوبے کا پہلا مرحلہ اگلے سال تک مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے برآمدات اور بالخصوص عالمی سطح پر فٹ بال کی صنعت میں سیالکوٹ کے بین الاقوامی مقام کو سراہا اور کہا کہ نیا طبی منصوبہ شہر کو ایک اقتصادی اور خدماتی مرکز بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

گلگت بلتستان میں سیاحت کا انقلاب: گزشتہ دس سال کے دوران سیاحوں کی آمد میں چار سو فیصد کا تاریخی اضافہ، دس لاکھ سے زائد ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی آمد

روزینہ اسماعیل, August 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

گلگت بلتستان کے دلکش اور خوبصورت سیاحتی مقامات کا رخ کرنے والے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں گزشتہ دس سال کے دوران چار سو فیصد کا بے مثال اور نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ نامور تجزیہ کار رؤف ظفر نے اپنی ایک خصوصی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سال دو ہزار پندرہ میں گلگت بلتستان جانے والے سیاحوں کی کل تعداد محض دو لاکھ کے قریب تھی، جبکہ سال دو ہزار پچیس کے دوران تقریباً دس لاکھ سے زائد سیاحوں نے گلگت بلتستان کی حسین وادیوں کا رخ کیا۔ ان میں سولہ ہزار پانچ سو سے زائد غیر ملکی سیاح بھی شامل تھے، جو عالمی سطح پر پاکستان کی مثبت شناخت اور پرامن ماحول کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے عرصے میں گلگت بلتستان آنے والے سیاحوں کی تعداد میں آٹھ لاکھ کا شاندار اضافہ ہوا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ صرف گلگت بلتستان ہی نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کے مشہور سیاحتی مقامات جیسے سوات، کاغان، ناران اور کمراٹ کی خوبصورت وادیوں میں بھی آنے والے سیاحوں کی تعداد مسلسل لاکھوں میں رہی ہے۔ رؤف ظفر کا کہنا ہے کہ ذرائع آمد و رفت تک آسان رسائی، سڑکوں کی بہتری، مؤثر حفاظتی اقدامات اور عوامی سطح پر آگاہی اور شعور اجاگر کر کے نہ صرف سیاحوں کی اس تعداد میں مزید خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے بلکہ شمالی علاقہ جات کے دشوار گزار راستوں پر پیش آنے والے ناخوشگوار حادثات میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ پاکستان اپنے قدرتی اور حسین سیاحتی شعبے کے ذریعے سالانہ اربوں ڈالر کا زرِ مبادلہ کما سکتا ہے، جس سے نہ صرف علاقائی معیشت کو استحکام ملے گا اور مقامی آبادی کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی، بلکہ قومی سطح پر بھی معاشی اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

تحقیقاتی رپورٹ میں شمالی علاقہ جات کے تمام سیاحتی مقامات کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور جدید طرز پر ترقی کی اشد ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب بھی کئی خوبصورت اور اہم مقامات ایسے ہیں جہاں تک پہنچنے کے لیے صرف کچے ٹریکس موجود ہیں، جس کے باعث سفر کے دوران بارش، لینڈ سلائیڈنگ اور شدید برف باری کی وجہ سے سیاحوں کو سخت مشکلات، خطرات اور تعطل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان تمام قدرتی وادیوں تک بہتر، کشادہ اور محفوظ سڑکوں کے نیٹ ورک کی تعمیر وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، جبکہ ان دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات، ہنگامی امداد اور دیگر بنیادی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنا کر سیاحت کے فروغ کو مزید تیز کیا جا سکتا ہے۔

پہاڑی اور برفانی علاقوں میں گاڑی چلانے اور سفر کرنے کے حوالے سے سیاحوں اور بالخصوص ڈرائیوروں کو تربیت اور ضروری معلومات کی فراہمی سے بھی حادثات کی شرح میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ جب ڈرائیوروں اور مسافروں کو پہاڑی راستوں کے خطرات، موسم کی سختی اور احتیاطی تدابیر سے متعلق مکمل آراستہ کیا جائے گا تو اس سے سفر نہ صرف آرام دہ اور محفوظ بنے گا بلکہ سیاحوں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ ان علاقوں میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید بنائیں اور مقامی سطح پر سیاحت سے وابستہ افراد کی تربیت کے لیے خصوصی اقدامات کریں تاکہ پاکستان دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے پہلی ترجیح بن سکے۔

اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر شمالی علاقہ جات میں ہوٹل سازی، مواصلات اور ریسکیو کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں تو آنے والے سالوں میں سیاحوں کی یہ تعداد دوگنی ہو سکتی ہے۔ مقامی سطح پر گائیڈز کی تیاری، قدرتی ماحول کے تحفظ اور صفائی کے نظام کو بہتر بنانا بھی سیاحت کے پائیدار فروغ کے لیے لازمی اجزاء ہیں۔ اس شعبے کی ترقی سے ملک میں روزگار کے بے شمار نئے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کی معیشت کو ایک نیا اور مضبوط سہارا میسر آئے گا، جو پورے خطے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایس آئی ایف سی کی تاریخی پیش رفت: بلوچستان میں 200 ملین ڈالر کا خضدار معدنی منصوبہ فعال، سالانہ 230 ملین ڈالر تک آمدن کی توقع

منصور احمد, August 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی خصوصی معاونت اور سہولت کاری کے نتیجے میں پاکستان کے معدنی شعبے میں ایک نیا اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے، جس کے تحت بلوچستان کا اہم خضدار بارائٹ، لیڈ اور زنک منصوبہ باقاعدہ طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کا معدنی شعبہ اپنے وسیع اور غیر معمولی قدرتی وسائل کے باعث ملک کی معاشی بحالی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ بارائٹ، لیڈ اور زنک کا شمار ملک کے ان اہم ترین اور بڑے معدنی منصوبوں میں ہوتا ہے جو طویل عرصے سے انتظامی پیچیدگیوں، قانونی رکاوٹوں اور نامساعد حالات کے باعث زیرِ التوا چلے آ رہے تھے۔

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل نے اس اہم منصوبے کو درپیش تمام دیرینہ مسائل بالخصوص کان کنی کی لیز سے متعلق پیچیدگیوں کو احسن طریقے سے حل کراتے ہوئے دو سو ملین ڈالر، یعنی تقریباً پچپن ارب روپے کی خطیر سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی ہے۔ یہ اہم اور فائدہ مند منصوبہ پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ اور بولان مائننگ انٹرپرائزز کے باہمی اشتراک اور باہم تعاون سے بلوچستان کے اہم ضلع خضدار میں تیار اور فعال کیا جا رہا ہے۔ کان کنی کی لیز سے متعلق تمام قانونی اور انتظامی مسائل کے خاتمے کے بعد آپریشنل معاہدے کی حتمی تکمیل اس منصوبے کی عملی شروعات اور کان کنی کے آغاز میں سب سے اہم ترین پیش رفت ثابت ہوئی ہے۔

تخمینے اور فنی رپورٹس کے مطابق خضدار کا یہ اہم منصوبہ تقریباً انہتر ملین ٹن کے وسیع اور انتہائی قیمتی معدنی ذخائر پر مشتمل ہے، جبکہ اس منصوبے سے معدنیات نکالنے کی متوقع مدت چوتھیس سال مقرر کی گئی ہے۔ اس منصوبے کے باقاعدہ فعال ہونے اور تجارتی پیداوار کے آغاز سے پاکستان کو سالانہ ایک سو پچاس ملین ڈالر سے لے کر دو سو تیس ملین ڈالر تک کی کثیر آمدن اور زرمبادلہ حاصل ہونے کی قوی توقع ہے، جس سے نا صرف وفاقی اور صوبائی خزانے کو درکار معاشی تقویت ملے گی بلکہ بلوچستان بالخصوص خضدار اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں مقامی افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقے میں سڑکوں، اسکولوں اور ہسپتالوں کی تعمیر سے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مقامی معاشی سرگرمیوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوگا۔

پاکستان کے قدرتی اور معدنی وسائل میں مقامی اور غير ملکی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے مواقع عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے پاکستان کی پالیسیوں پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی واضع اور واضح عکاسی کرتے ہیں۔ ماہرینِ معیشت اور معدنیات کے مطابق خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے زیرِ اہتمام معدنی شعبے میں کی جانے والی یہ مسلسل اصلاحات، شفافیت اور عملی اقدامات پاکستان کی معدنی معیشت کو دنیا کے سامنے ایک نئی اور باوقار شناخت دے رہے ہیں۔ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف خام مال کی برآمد ممکن ہوگی بلکہ ملک کے اندر صنعتی ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا جو آنے والے دنوں میں ملکی معیشت کا رخ موڑنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوگا۔

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا بنیادی مقصد ملک میں موجود معاشی تعطل کو ختم کرنا اور مختلف شعبوں بالخصوص زراعت، معدنیات، معلومات عامہ اور توانائی میں سرمایہ کاری کے عمل کو تیز بنانا ہے۔ خضدار منصوبے کی بحالی سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جب ریاست کے تمام ادارے ایک نقطے پر متفق ہو کر رکاوٹیں دور کرتے ہیں تو سالہا سال سے اٹکے ہوئے معاشی منصوبے بھی ریکارڈ مدت میں فعال ہو جاتے ہیں۔ اس منصوبے کی کامیابی سے بلوچستان میں موجود دیگر معدنی ذخائر سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھی راستے کھلیں گے اور عالمی کمپنیوں کا پاکستان کی طرف میلان مزید بڑھے گا۔

حکومت کا یہ اقدام بلوچستان کے عوام کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور ان کے معاشی حقوق کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ خضدار کا یہ منصوبہ ان تمام افواہوں اور منفی تاثرات کا عمل جواب ہے جو بلوچستان میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے پھیلائے جاتے ہیں۔ جب مقامی آبادی کو روزگار کے باعزت مواقع ملیں گے اور ان کے خطے میں اربوں روپے کے منصوبے مکمل ہوں گے تو اس سے نہ صرف علاقے کی حالت بدلے گی بلکہ ملک میں امن و امان اور پائیدار معاشی استحکام کو بھی تقویب ملے گی۔ آنے والے وقت میں اس منصوبے سے حاصل ہونے والی آمدن کو بلوچستان کی مزید فلاح و بہبود کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔

شور پرود کے پہاڑی سلسلے میں 10 دہشت گردوں کی ہلاکت: وزیراعظم شہباز شریف کا سیکیورٹی فورسز کو کامیاب آپریشن پر خراجِ تحسین

کاشف عباسی , August 15,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 15 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شور پرود کے پہاڑی سلسلے میں فتنہ الخوارج کے خلاف انتہائی کامیاب اور مؤثر آپریشن کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس کامیاب کارروائی کے دوران 10 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انسانیت کے دشمن اور ملک کا امن تباہ کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف یہ کامیاب آپریشن ہماری سیکیورٹی فورسز کی اعلیٰ تدبیر، جرات اور بہترین جنگی مہارت کا واضع مظہر ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کی اس لعنت کے خلاف جنگ میں اپنے باہمت اور جری سیکیورٹی اداروں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور سیکیورٹی ادارے ملکِ پاکستان سے ہر قسم کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مکمل خاتمے کے لیے پور خلوص اور عزم کے ساتھ کوشاں ہیں اور پاک دھرتی سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔

چیئرمین پاکستان ریلویز کی زیرِ صدارت ایم ایل ون منصوبے کا اہم اجلاس: کراچی تا روہڑی سیکشن کی اپ گریڈیشن اور پیش رفت کا جائزہ

محمود احمد, August 15,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 15 اگست 2026ء

چیئرمین پاکستان ریلویز سید مظہر علی شاہ کی زیرِ صدارت مین لائن ون (ایم ایل ون) منصوبے سے متعلق ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں بین الاقوامی ڈیزائن کنسلٹنٹس، ریویو کنسلٹنٹس اور پاکستان ریلویز کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران ایم ایل ون منصوبے کے پہلے مرحلے میں کراچی تا روہڑی سیکشن کی جدید اپ گریڈیشن، تکنیکی امور، آئندہ کی پیش رفت اور دیگر مختلف انتظامی و فنی پہلوؤں کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

چیئرمین پاکستان ریلویز سید مظہر علی شاہ نے متعلقہ حکام اور کنسلٹنٹس کو سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایل ون منصوبے کا ریویو فیز ہر صورت 30 اکتوبر 2026ء تک مکمل کیا جائے۔ انہوں نے منصوبے پر پیش رفت کو تیز تر بنانے کے لیے اس کی مسلسل نگرانی اور ہفتہ وار بنیادوں پر جائزہ لینے کا بھی حکم دیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایم ایل ون منصوبے کے لیے مارکیٹ مشاورت کے دوسرے مرحلے کا باقاعدہ آغاز 8 ستمبر 2026ء سے کیا جائے گا۔ اس مرحلے میں منصوبے کی تیاری، جدید ترین تکنیکی امور اور مستقبل کے عمل درآمد کے لائحہ عمل پر مارکیٹ ماہرین، بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز اور نجی شعبے کی آرا حاصل کی جائیں گی۔ ترجمان ریلویز کے مطابق منصوبے میں مکمل میرٹ، شفافیت اور مسابقت کے اصولوں کی پاسداری کو ہر ممکن حد تک یقینی بنایا جائے گا۔

وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی نے ایم ایل ون منصوبے پر جاری پیش رفت پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایل ون ریلوے کے معاشی استحکام، جدید ترین نظام اور مستقبل کی سفری ضروریات کی بنیاد ہے۔ اس منصوبے کی مکمل اپ گریڈیشن کے بعد ٹرینوں کی رفتار اور مسافروں کو میسر سہولیات میں انقلابی اور نمایاں بہتری آئے گی۔

پشاور میں 79ویں یومِ آزادی کی تقریب: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی پرچم کشائی، شہداء کو خراجِ تحسین

کاشف عباسی , August 14,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 14 اگست 2026ء

گورنر ہاؤس پشاور میں ملک کے 79ویں یومِ آزادی کے پرمسرت موقع پر پروقار اور شاندار پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پرچم کشائی کی اور قومی ترانے کے ساتھ پوری قوم کو جشنِ آزادی کی دلی مبارکباد پیش کی۔

تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وہ تمام اہلِ وطن کو آزادی کی مبارکباد دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ قوم ایک آزاد، خودمختار اور باوقار ملک میں سانس لے رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ شب صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں ‘یادگارِ فتح’ کا باضابطہ افتتاح کیا، جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، مسلح افواج کے سربراہان اور غیر ملکی سفرا نے شرکت کی۔

گورنر خیبرپختونخوا نے وطنِ عزیز کی دفاع و سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے تمام عظیم شہداء کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج، ایف سی، پولیس اور تمام سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں اور صوبے کے امن و استحکام کے لیے قوم اپنی افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے عالمی و علاقائی معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران تنازع کے دوران پاکستان نے انتہائی مثبت، تعمیمی اور ذمہ دارانہ سفارتی کردار ادا کیا جسے بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔ خطے میں امن کے قیام کے لیے وزیراعظم، فیلڈ مارشل، نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ پاکستان ہمیشہ ترقی، امن اور خوشحالی کی منازل طے کرتا رہے۔

اینٹی کرپشن عدالتوں کو منتقل مقدمات کی نیب میں واپسی: احتساب عدالت کا 15 ریفرنسز کی بحالی پر صوبائی وزیر علی حسن بروہی سمیت دیگر کو نوٹس

محمود احمد, August 13,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 13 اگست 2026ء

سندھ ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں اینٹی کرپشن عدالتوں کو منتقل کیے گئے کرپشن کے متعدد مقدمات کی احتساب عدالتوں میں باقاعدہ واپسی شروع ہو گئی ہے۔ نیب پراسیکیوٹر کی استدعا پر احتساب عدالت نے 15 مختلف ریفرنسز کی بحالی کا عمل شروع کرتے ہوئے نامزد اہم شخصیات کو نوٹس جاری کر کے طلب کر لیا ہے۔

سندھ ہائیکورٹ نے پہلے سے اینٹی کرپشن منتقل کیے گئے نیب کیسز کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے تمام مقدمات دوبارہ نیب عدالتوں میں بھیجنے کی ہدایت کی تھی۔ عدالت کی جانب سے اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور مالی بدعنوانی کے کیسز میں بلوچستان کے صوبائی وزیر علی حسن بروہی، سندھ کے سابق چیف سیکرٹری و ممبر لینڈ یوٹیلائزیشن صدیق میمن سمیت کئی اہم انتظامی افسران اور بلڈرز کو نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔

طلب کیے گئے دیگر افراد میں ملیر کے سابق ڈپٹی کمشنر قاضی جان محمد، سابق ڈسٹرکٹ آفیسر ریونیو اعجاز حسین، سابق ایڈیشنل سیکرٹری عبدالقادر میمن، سابق سیکشن آفیسر غلام مصطفیٰ، ٹریژری آفیسر محمد موسیٰ کاظمی اور اسسٹنٹ ٹریژری آفیسر عبداللطیف کھوسو شامل ہیں۔ اس کے علاوہ میرپور ساکرو کے تپیدار نثار احمد وگن، علی اصغر میندھرو، سابق مختیارکار اقبال اعوان، محمد حنیف اور معروف بلڈرز جاوید اقبال اور وسیم احمد شیخ کو بھی احتساب عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

پاکستان کی آئندہ سفارتی سرگرمیوں اور اعلیٰ سطح کے غیر ملکی دوروں کا جائزہ: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت اہم اجلاس

کاشف عباسی , August 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان کی آئندہ سفارتی سرگرمیوں، اعلیٰ سطح کے متوقع دوروں اور خطے و بین الاقوامی سطح پر ہونے والی اہم پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اجلاس کے دوران بالخصوص ناروے کے وزیر خارجہ کے اسلام آباد کے آنے والے اہم دورے کی تیاریوں اور انتظامات کا جامع جائزہ لیا گیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہدایت کی کہ آنے والی تمام سفارتی سرگرمیوں اور مذاکرات سے ملک کے لیے مثبت اور ٹھوس نتائج کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ شعبے موثر رابطہ کاری اور بھرپور تیاری کریں۔

اجلاس میں سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سمیت وزارتِ خارجہ کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور پاکستان کی عالمی و علاقائی سفارتی حکمتِ عملی سے متعلق نائب وزیراعظم کو بریفنگ دی۔

آسان خدمت مرکز سے شہریوں کے لیے 60 سے زائد سرکاری خدمات ایک ہی چھت تلے فراہم، پاکستان دنیا کے بہترین سائبر سیکیورٹی ممالک میں شامل: شزا فاطمہ خواجہ

منصور احمد, August 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ ‘آسان خدمت مرکز’ کا بنیادی مقصد حکومتی خدمات کو شہریوں کے لیے آسان، تیز اور قابلِ رسائی بنانا ہے۔ اس مرکز کے ذریعے ایک ہی چھت تلے مختلف سرکاری اداروں کی 60 سے زائد خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، جس سے شہریوں کو مختلف دفاتر کے چکر لگانے اور طویل قطاروں میں کھڑے ہونے سے نجات مل گئی ہے۔

آسان خدمت مرکز میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان اور آذربائیجان کے باہمی تعاون سے صرف 90 دنوں کے اندر قائم کیے گئے اس مرکز میں شناختی کارڈ، پاسپورٹ، نادرا، سی ڈی اے، اسلام آباد پولیس، میونسپل کارپوریشن اور وزارتِ خارجہ کی خدمات دستیاب ہیں۔ مرکز میں شادی اور نکاح کی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے، جہاں حال ہی میں ایک تقریب کا انعقاد کر کے محض نصف گھنٹے کے اندر رجسٹریشن اور شناختی کارڈز کا کام مکمل کیا گیا۔

شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ ڈیجیٹل تبدیلی کے تحت 39 وفاقی سرکاری محکموں کو پیپر لیس بنایا جا چکا ہے اور ‘ون پیشنٹ، ون آئی ڈی’ نظام کے تحت 42 لاکھ مریضوں کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے۔ ادویات کی سیریلائزیشن کا پروجیکٹ بھی زیرِ تکمیل ہے جس سے شہری اصلی اور جعلی دوا کی فوری تصدیق کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ روایتی اسٹامپ پیپرز کے مسائل کو ختم کرنے کے لیے ای اسٹامپ کے ڈیجیٹل نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے اور اوورسیز پاکستانیوں کی رائے و شکایات کے لیے بھی آن لائن پلیٹ فارم فعال کر دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے زور دیا کہ حکومت کی بنیادی توجہ طریقہ کار کے بجائے شہری مرکزیت پر مبنی طرزِ حکمرانی پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل حدود اور ڈیجیٹل خودمختاری بھی ملک کے لیے ایک اہم وجودی معاملہ ہے، اور انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق پاکستان اب دنیا کے اعلیٰ ترین سائبر سیکیورٹی ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں سالانہ 20 فیصد اضافہ ہو رہا ہے اور ملک اپنے 79ویں یومِ آزادی پر ڈیجیٹل محاذ پر بالکل درست سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

بلوچستان کے ضلع سوراب میں دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی: فتنۃ الہندوستان سے وابستہ 18 دہشت گرد ہلاک، 3 شہری بھی جاں بحق

منصور احمد, August 12,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

بلوچستان کے ضلع سوراب میں گاڑی میں دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کی تیاری کے دوران قبل از وقت دھماکے اور اس کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں ‘فتنۃ الہندوستان’ سے وابستہ مجموعی طور پر 18 دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ قبل از وقت ہونے والے اس دھماکے اور قریبی بارودی مواد کے پھٹنے سے علاقے کے 3 عام شہری بھی جاں بحق ہو گئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، سوراب میں دہشت گرد گاڑی میں بم نصب کر رہے تھے کہ اچانک دھماکا ہو گیا، جس سے موقع پر ہی 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز اور بلوچستان پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مشترکہ کلیئرنس اور سرچ آپریشن کا آغاز کیا۔ فرار ہونے والے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگا کر سیکیورٹی فورسز نے موثر جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں مزید 10 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔

شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران پاک فوج کے دو بہادر جوان بھی زخمی ہوئے، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود باقی ماندہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے اور کلیئرنس کے لیے سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔

ترجمان آئی ایس پی آر نے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری اور ‘عزمِ استحکام’ کے وژن کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی بھرپور کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھیں گے۔

پاکستان کی 65 فیصد نوجوان آبادی قیمتی اثاثہ ہے: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا یوتھ ڈے پر نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا عزم

کاشف عباسی , August 12,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نوجوانوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان کی 65 فیصد نوجوان آبادی ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے اور انہیں جدید تعلیم و ہنر سے آراستہ کر کے عالمی سطح پر ان کا مثبت کردار یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب حکومت نوجوانوں کو درپیش تمام درپیش مسائل کے حل اور انہیں معاشی و سیاسی طور پر بااختیار بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے اپنے پیغام میں کہا کہ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد ملکی تعمیر و ترقی میں یوتھ کے تعمیری کردار کو اجاگر کرنا اور ان کی صحیح سمت میں سرپرستی کرنا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ملک و قوم سے محبت کو اپنا شعار بنائیں اور گالی گلوچ کی سیاست اور نشے جیسے زہر سے خود کو دور رکھتے ہوئے اپنی جسمانی اور ذہنی صحت پر توجہ دیں۔ مریم نواز شریف نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار پنجاب حکومت نوجوانوں کے لیے ایک مضبوط سہارا بن کر سامنے آئی ہے۔

حکومتی کاوشوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایگریکلچر انٹرن شپ، لیپ ٹاپ سکیم، ای ٹیکسیز، آسان فنانس اور آسان کاروبار سکیموں میں نوجوانوں کو شامل کیا گیا ہے۔ پرواز کارڈ کے ذریعے ہنرمند اور غیر ہنرمند افراد کو بیرونِ ملک روزگار کے لیے بلاسود قرضے دیے جا رہے ہیں جس کے تحت پہلے ہی 10 ہزار ہنرمند نوجوان خلیجی ممالک میں روزگار حاصل کر چکے ہیں۔ مزید برآں، اپنے کاروبار کے قیام کے لیے 3 کروڑ روپے تک کے بلاسود قرضے اور نئے بزنس آئیڈیاز کی حوصلہ افزائی کے لیے انکیوبیشن سنٹرز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔

تعلیمی شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ اسکولوں اور کالجوں کے ہزاروں طلبہ کے لیے ہونہار سکالرشپ پروگرام جاری ہے جبکہ نصاب میں پہلی بار آئی ٹی، ای روزگار اور فری لانسنگ جیسے جدید مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اسکلز کی تربیت کے ساتھ فنی تربیتی اداروں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ مریم نواز نے نوجوانوں کو ہدایت کی کہ وہ صرف نوکری تلاش کرنے کے بجائے نوکری دینے والے بنیں اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے آگے بڑھیں، پنجاب حکومت ان کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔