امریکی بحری ناکہ بندی سے ایران کی درآمدات شدید متاثر، پیٹرول کی قلت کے باعث کوٹہ میں کمی اور قیمتوں میں اضافے کا قوی امکان

محمود احمد, August 29,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

ریاستہائے متحدہ امریکہ کی جانب سے عائد کردہ سخت اور بین الاقوامی بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران کی بین الاقوامی تجارت اور ضروری سامان کی درآمدات کا عمل شدید ترین مشکلات اور رکاوٹوں کا شکار ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ایرانی دارالحکومت تہران سمیت ملک بھر میں ایندھن، بالخصوص پیٹرول کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ (مجلس) کی اہم اقتصادی کمیٹی کے سینئر رکن جعفر قادری نے ملک کو درپیش اس سنگین معاشی صورتحال، ایندھن کے بحران اور بحری ناکہ بندی کے اثرات پر بات کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ایران اس وقت سنگین اقتصادی دباؤ کی زد میں ہے اور حکومت کے لیے پرانے نرخوں اور طریقہ کار پر پیٹرول کی بلاتعطل فراہمی جاری رکھنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کی اقتصادی کمیٹی کے رکن جعفر قادری کے فراہم کردہ اہم اور سنسنی خیز اعداد و شمار کے مطابق، ایران سالانہ بنیادوں پر جو مجموعی طور پر تقریباً 210 ملین (21 کروڑ) ٹن مختلف سامان و خام مال درآمد کرتا ہے، اس کی کل درآمدات کا تقریباً 83 فیصد حصہ جنوبی بحیرۂ چین اور متعلقہ بین الاقوامی بحری شاہراہوں کے راستے ایرانی بندرگاہوں تک پہنچتا ہے۔ تاہم، امریکی بحری جہازوں اور بحری ناکہ بندی کی وجہ سے اس سب سے اہم اور بنیادی تجارتی راستے میں شدید ترین رکاوٹیں کھڑی ہو چکی ہیں، جس کے باعث نہ صرف تیل کے ٹینکرز کی آمد و رفت منقطع ہوئی ہے بلکہ ایندھن کے دیگر بحری جہاز بھی ایرانی ساحلوں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔

جعفر قادری نے ملک کے اندرونی ایندھن کے اعداد و شمار پر روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا کہ ایران کو اس وقت یومیہ (روزانہ) کی بنیاد پر تقریباً 15 سے 20 ملین (ڈیڑھ سے دو کروڑ) لیٹر پیٹرول کے بدترین خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے معاشی حقیقت اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ بین الاقوامی بحران اور کرنسی کے دباؤ میں بیرونِ ملک سے محض ایک لیٹر پیٹرول درآمد کرنے پر ایرانی حکومت کو تقریباً 1 امریکی ڈالر کے برابر خطیر رقم خرچ کرنا پڑتی ہے، جو ملکی معیشت اور خزانوں پر ایک بھاری بوجھ بن چکی ہے۔

ایرانی رکنِ پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ امریکی ناکہ بندی، غیر ملکی زرِ مبادلہ کی کمی اور موجودہ نازک ترین حالات میں ماضی کی طرح شہریوں کو بلا پابندی اور بے تحاشا سبسڈی والے نرخوں پر پیٹرول فراہم کرتے رہنا معاشی منطق کے تمام اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بحران کو مزید سنگین بنانے والی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ سستے پیٹرول کا ایک بڑا اور اہم حصہ منظم سمگلنگ کے ذریعے سرحد پار دوسرے ممالک میں چلا جاتا ہے، جس سے ایرانی عوام کے حق پر ڈاکہ پڑ رہا ہے۔

جعفر قادری نے تہران حکومت اور ایرانی انتظامیہ کے متوقع سخت فیصلے کے بارے میں اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اب پیٹرول کی ملکی طلب اور محدود دستیابی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی اور سخت قسم کے کنٹرولنگ اقدامات نافذ کرنا ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان متوقع اور اضطراری اقدامات میں شہریوں کے لیے ایندھن کے ماہانہ کوٹے میں نمایاں کمی کرنا یا پیٹرول کی سرکاری قیمتوں میں ردوبدل اور اضافہ شامل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ اس بحرانی وقت میں حکومت کے لیے انتہائی ضروری ہو چکا ہے کہ وہ دستیاب محدود قومی وسائل کا مؤثر اور محتاط استعمال یقینی بنائے، ایندھن کی بارڈر سمگلنگ کو ہر قیمت پر روکے، اور صرف اندرونِ ملک اور ہنگامی ضروریات کو ترجیح دے

بین الاقوامی فیڈریشن کے سربراہ ڈیوڈ فشر کا متاثرہ علاقوں کا جائزہ، ریڈ کراس کا عالمی امدادی نیٹ ورک متحرک، ہنگامی صورتحال کے پیش نظر امدادی کارروائیاں تیز کرنے کا اعلان

محمود احمد, August 29,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

جنوبی ایشیائی ملک نیپال میں بدھ کے روز آنے والے قیامت خیز سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد اب ایک اور ممکنہ سیلابی ریلے کے شدید اور سنگین خطرات نے جنم لے لیا ہے، جس پر بین الاقوامی امدادی اداروں اور ریسکیو تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کی بین الاقوامی فیڈریشن کے سربراہ ڈیوڈ فشر نے نیپال کی موجودہ نازک صورتحال اور موسمیاتی خطرات پر بات کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ان کا ادارہ ملک میں کسی بھی وقت دوبارہ آنے والے دوسرے سیلاب کے خطرے کے حوالے سے انتہائی فکر مند ہے اور تمام ٹیموں کو اعلیٰ الرٹ پر رکھ دیا گیا ہے۔

جمعی کے روز دارالحکومت کھٹمنڈو میں بین الاقوامی پریس کے نمائندوں اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیوڈ فشر نے متاثرہ علاقوں کے زمینی حقائق اور اعداد و شمار سے آگاہ کیا۔ ان کے فراہم کردہ مستند ڈیٹا کے مطابق، بدھ کے روز گلیشیئر اور شدید بارشوں کے بعد آنے والی ہولناک قدرتی تباہی سے اب تک نیپال کے مختلف اضلاع میں تقریباً 93 ہزار سے زائد افراد براہِ راست اور شدید طور پر متاثر ہو چکے ہیں۔ ان متاثرین میں سے ہزاروں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں اور کھلے آسمان تلے بنیادی انسانی ضروریات، بشمول ادویات، خوراک اور پینے کے صاف پانی سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اس ایمرجنسی اور انسانی بحران سے فوری طور پر نمٹنے کے لیے ریڈ کریسنٹ اور ریڈ کراس نے ہنگامی بنیادوں پر بین الاقوامی عطیہ دہندگان، این جی اوز اور عالمی برادری سے تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ سوئس فرانک —جو کہ امریکی ڈالر میں تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ ڈالر بنتے ہیں—فراہم کرنے کی باقاعدہ اپیل جاری کر دی ہے۔ ریڈ کریسنٹ کا کہنا ہے کہ اس خطیر رقم کا بنیادی اور اولین مقصد متاثرین کے لیے فوری جان بچانے والی ہنگامی امدادی کارروائیاں، عارضی پناہ گاہوں کا قیام، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، اور ممکنہ دوسرے سیلاب کے پیشِ نظر پیشگی دفاعی اقدامات کو ممکن بنانا ہے۔

ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ فیڈریشن کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم رسمی اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ نیپال میں درپیش ہنگامی صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارے کے تمام عالمی امدادی نیٹ ورک کو فوری طور پر متحرک کر دیا گیا ہے۔ عالمی ٹیمیں سامانِ زیست اور طبی امداد کے ہمراہ نیپال کے دور دراز اور کٹے ہوئے علاقوں میں پہنچ رہی ہیں۔ اعلامیے میں زور دیا گیا ہے کہ اگر دوسرے ممکنہ سیلاب کا خطرہ حقیقت بنتا ہے تو اس کے اثرات پہلے سے شدید متاثرہ 93 ہزار سے زائد آبادی کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، جس کے لیے دنیا کو بلا تاخیر مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنا ہوگی۔

وینزویلا اور امریکہ کے مابین تاریخی تیل معاہدہ: عبوری صدر ڈیلسی رودریگیز کی توثیق، 100 ارب ڈالر سے زائد کی غیر ملکی سرمایہ کاری اور 209 ارب ڈالر ٹیکس آمدن کی پیش گوئی

کاشف عباسی , August 29,2026

کاراکاس/واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی رودریگیز نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والے انتہائی اہم اور کثیر ارب ڈالر کے تیل کے معاہدے کی باضابطہ توثیق کرتے ہوئے اسے اپنے ملک کے لیے ایک ’تاریخی معاہدہ‘ قرار دیا ہے۔ وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں میڈیا اور حکام سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیلسی رودریگیز نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ اس پیش رفت سے طویل عرصے سے معاشی زوال، اقتصادی پابندیوں اور مشکلات کا شکار وینزویلا کی قومی معیشت کی فوری بحالی میں بے مثال اور تاریخی پیش رفت متوقع ہے۔ ان کے فراہم کردہ محتاط اعداد و شمار کے مطابق، اس بین الاقوامی منصوبے کے ذریعے وینزویلا کے توانائی کے شعبے میں 100 ارب ڈالر سے زائد کی براہِ راست غیر ملکی نجی سرمایہ کاری آئے گی، جبکہ ملکی خزانے کو آئندہ سالوں میں 209 ارب ڈالر سے زیادہ کی ٹیکس آمدن حاصل ہونے کا قوی امکان ہے۔

عالمی توانائی بحران، ایندھن کی بلند قیمتیں اور امریکی سیاسی منظرنامہ

یہ غیر معمولی اور اہم معاہدہ ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک طرف ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سنگین ملٹری کشیدگی اور جنگ کے باعث عالمی منڈیوں میں خام تیل کی رسد شدید دباؤ کا شکار ہو چکی ہے، جس سے دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف، امریکہ میں نومبر کے وسط مدتی \ انتخابات قریب آ رہے ہیں اور پیٹرول کی بلند ہوتی ہوئی قیمتیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا سیاسی و معاشی چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ اس تناظر میں وینزویلا جیسے وسیع ذخائر رکھنے والے ملک کا امریکی منڈیوں اور کمپنیوں کے لیے کھلنا عالمی اور امریکی دونوں سطحوں پر ایندھن کے بحران کو قابو کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ اور مارکو روبیو کا مؤقف: تاریخ کا سب سے بڑا تیل کا معاہدہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل اس منصوبے کے خد و خال پر بات کرتے ہوئے کھلے عام یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ یہ باہمی سمجھوتہ واشنگٹن اور امریکی کمپنیوں کو وینزویلا کے 65 ارب بیرل کے ثابت شدہ تیل ذخائر تک نمایاں اور مستقیم رسائی فراہم کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے اس پیش رفت کو ’دنیا کی پوری تاریخ کا سب سے بڑا تیل کا معاہدہ‘ بھی قرار دیا تھا۔ اسی حوالے سے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اپنے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس معاہدے کے حتمی نفاذ کے نتیجے میں وینزویلا کی ایندھن انڈسٹری میں تقریباً 100 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے، جو طویل عرصے سے زوال پذیر معیشت کی دوبارہ تعمیرِ نو اور وینزویلا کی توانائی کی صنعت کو جدید بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

آئل فیلڈز کی ملکیت، قانونی سوالات اور نجی کمپنیوں کا کردار

اگرچہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت نے اس معاہدے کی افادیت کو اجاگر کیا ہے، تاہم وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول، انتظامی اختیارات اور ملکیت کی حتمی منتقلی سے متعلق تفصیلات تاحال مکمل طور پر واضح نہیں کی گئی ہیں۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس انرجی انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر ریسرچ فیلو جارج پنیون کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ معاہدے پر تکنیکی نقطہ نظر سے کئی اہم اور قانونی سوالات ابھی جواب طلب ہیں، جن میں بنیادی سوال یہ ہے کہ وینزویلا کے قومی ذخائر کی ملکیت کس قانونی طریقہ کار، شرائط اور کس ٹائم فریم کے تحت امریکی یا نجی کمپنیوں کو منتقل کی جائے گی۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایگزیوس’ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور وینزویلا کی ٹیمیں اس وقت وینزویلا کے 12 مختلف اور اہم آئل فیلڈز سے متعلق حتمی مذاکرات کر رہی ہیں، جن میں مجموعی طور پر تقریباً 90 ارب بیرل ثابت شدہ خام تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متعدد عالمی اور امریکی نجی کمپنیاں ان وسائل سے فائدہ اٹھانے، نئے کنویں کھودنے اور پیداوار کو چند ماہ میں گنا بڑھانے کے لیے وینزویلا میں فوری طور پر اپنا انفراسٹرکچر قائم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

چین سے سیلاب سے متعلق معلومات موصول ہو رہی ہیں: نیپالی وزیر خارجہ شیشیر خانال

منصور احمد, August 29,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر خانال نے تصدیق کی ہے کہ نیپال اور چین کے درمیان حالیہ تباہ کن سیلابی صورتحال سے متعلق قریبی رابطہ، تبادلہ خیال اور اعلیٰ سطح پر ہم آہنگی کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ چینی حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں اور سرحد پار صورتحال کے حوالے سے ضروری معلومات اور ڈیٹا مسلسل موصول ہو رہا ہے۔

صحافیوں کی جانب سے اس سوال پر کہ بحران کے ابتدائی لمحات میں چین کی طرف سے بروقت معلومات اور الرٹ کیوں فراہم نہیں کیا گیا، وزیر خارجہ شیشیر خانال نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی نوعیت انتہائی اچانک اور پیچیدہ تھی، جس کے باعث ممکن ہے کہ خود چینی حکام کے پاس بھی ابتدائی مرحلے میں مکمل، واضح اور مستند معلومات فوری طور پر موجود نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اب دونوں ممالک کے مابین رابطے مکمل طور پر بحال ہیں اور ضروری تفصیلات و اپ ڈیٹس چین کی جانب سے باقاعدگی سے موصول ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق، نیپال اس تباہ کن واقعہ کے فوری بعد سے مسلسل چینی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور دونوں ممالک سرحدی علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک دوسرے سے مکمل تعاون کر رہے ہیں۔

وزیر خارجہ شیشیر خانال نے مزید بتایا کہ چینی حکام نہ صرف گلیشیئر ٹوٹنے کی جگہ اور اس کے نتیجے میں بننے والی جھیل کے پانی کی سطح کی جدید آلات کے ذریعے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں، بلکہ ممکنہ خطرات، پانی کے بہاؤ اور کسی بھی نئے خطرے کے بارے میں پیشگی معلومات نیپال کو فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ معلومات کی اس بروقت فراہمی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اگر کسی نئی ہنگامی صورتحال یا دوبارہ سیلابی ریلے کا خطرہ پیدا ہو، تو نیپالی انتظامیہ کو بروقت حفاظتی اور دفاعی اقدامات اٹھانے میں مدد مل سکے اور عام شہریوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

نیپال اور تبت میں تباہ کن سیلاب کی تبا ہی: ہلاکتیں بڑھ کر 623 ہو گئیں، ہزاروں لاپتہ، اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی جانب سے ہنگامی امداد کا آغاز

محمود احمد, August 29,2026

کاٹھمنڈو/لھاسا/اقوام متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

جنوبی ایشیا کے پہاڑی ملک نیپال اور اس کے ہمسائے تبت کے سرحدی خطے میں بدھ کے روز گلیشیئر انہدام اور شدید بارشوں کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب کی ہولناکی میں ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سڑکوں، پلوں، اور درجنوں پہاڑی دیہاتوں کو بہا لے جانے والے اس ناگہانی قدرتی آفت کے نتیجے میں دونوں ممالک میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 623 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ نیپالی حدود میں 2,000 اور تبت میں 550 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید دردناک اضافے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ نیپال اور تبت میں ہنگامی حالت نافذ کر کے مقامی ریسکیو اداروں، افواج اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی جانب سے وسیع پیمانے پر بحالی اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

نیپال پولیس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، نیپالی حدود میں سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تصدیق شدہ تعداد بڑھ کر 616 ہو گئی ہے۔ اس سے قبل نیپالی حکام نے ہلاکتوں کی تعداد 579 بتائی تھی، تاہم ملبے اور تباہ شدہ مکانات کی کھدائی کے دوران مزید لاشیں برآمد ہونے پر اعداد و شمار اپ ڈیٹ کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب تبت کی سرحد پر چینی سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ سرحدی دیہاتوں میں سیلاب کی زد میں آ کر ہلاک ہونے والے چینی شہریوں کی سرکاری تعداد بڑھ کر 7 ہو گئی ہے جبکہ 554 افراد تاحال بے نشان اور لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لیے ڈرون اور ریسکیو کتوں کی مدد لی جا رہی ہے۔

سیلاب کے بعد پیدا ہونے والے اس انسانی بحران کے تناظر میں بین الاقوامی برادری اور مختلف عالمی ممالک نے نیپال کی مدد کے لیے ہنگامی کارروائیاں اور امداد کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان نے نیپار کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر 10 ہزار سے زائد خاندانوں کو خوراک، طبی امداد اور صاف پینے کے پانی کی شدید اور اضطراری ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے مختلف ادارے متاثرین میں خیمے اور راشن کی تقیسم میں مصروف ہیں۔

دریں اثناء، یورپی یونین کینیڈا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ سمیت دنیا کے متعدد اہم ممالک نے نیپال کے لیے کروڑوں ڈالر کے ہنگامی مالیاتی پیکج اور بنیادی امدادی سامان بھجوانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ نیپالی حکومت کی جانب سے عالمی برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ دور دراز کے پہاڑی علاقوں میں مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے اور سڑکیں تباہ ہو جانے کی وجہ سے ریسکیو کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز کے ذریعے لاپتہ 2,000 سے زائد افراد کی تلاش کے لیے دن رات آپریشن جاری رکھا جائے گا۔

سفیر عاصم افتخار احمد کا ہیٹی کی قیادت میں سکیورٹی کاوشوں کی حمایت اور دیرپا امن کے لیے عالمی برادری سے تعاون کا مطالبہ

محمود احمد, August 29,2026

اقوام متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

پاکستان نے کیریبین ملک ہیٹی کے علاقے کینسکوف میں مسلح گینگ کے حالیہ دلخراش اور سفاکانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہیٹی میں ہیٹی کی اپنی قیادت میں جاری سکیورٹی کاوشوں کی بھرپور معاونت کرے۔ پاکستان نے زور دیا ہے کہ گینگ سپریشن فورس کی بروقت، مؤثر اور مکمل تعیناتی کے لیے درپیش تمام انتظامی، مالی اور لاجسٹک رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے تاکہ متاثرہ عوام کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

ہیٹی کی کی تشویشناک سکیورٹی صورتحال کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اور اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ حالیہ ہولناک حملے ہیٹی کے عوام کو درپیش طویل عرصے سے جاری، ابتر اور نہایت تشویشناک سکیورٹی صورتِ حال کی ایک سنگین اور تلخ یاد دہانی ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں کی بین الاقوامی کوششوں کے باوجود وہاں کے حالات میں کوئی خاطر خواہ یا پائیدار بہتری نہیں آ سکی، جس سے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی مکمل طور پر معطل ہو کر رہ گئی ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے سامنے ہیٹی کے معصوم شہریوں کی تکالیف کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ “حالیہ واقعہ ہیٹی کے عوام کو درپیش طویل اور سنگین سکیورٹی صورتِ حال کی ایک تلخ اور واضح یاد دہانی ہے۔ گینگ کی جانب سے شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنا کر کیے جانے والے یہ ہولناک اور پرتشدد حملے خواتین اور معصوم بچوں کو غیر متناسب طور پر اور سب سے زیادہ متاثر کر رہے ہیں، جس کا عالمی برادری کو فوری نوٹس لینا ہوگا”۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے گزشتہ برس ہیٹی کے حکام کی مدد کے لیے منظور کی جانے والی \ کی تعیناتی کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ اس فورس کی بلا تاخیر اور مکمل تعیناتی کے ساتھ ساتھ ہیٹی میں غیر قانونی اسلحے، بارود اور ہتھیاروں کی ترسیل کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر انتہائی مربوط اور مؤثر اقدامات اٹھانا بے حد ناگزیر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی اسلحے کی رسد کا خاتمہ کیے بغیر گینگ تشدد کی مؤثر روک تھام اور عوام میں سکیورٹی و تحفظ کا بنیادی احساس بحال کرنا ممکن نہیں ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اس مشکل اور نازک وقت میں ہیٹی کے عوام اور حکومت کی معاونت کے لیے عالمی برادری کے باہمی تعاون کو مزید مضبوط اور وسیع بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہیٹی کے بحران کے ایک پائیدار، دیرپا اور جامع حل کے لیے وہاں جاری عدم استحکام کے بنیادی، کثیرالجہتی اور تاریخی اسباب سے نمٹنا انتہائی ضروری ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے کوئی بھی ایسا لائحہ عمل تبھی کامیاب ہو سکتا ہے جو ‘ہیٹی کی قیادت میں اور ہیٹی کی ملکیت’ پر مبنی ہو۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے اپنے خطاب کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ “ہم کی عملی کارروائیوں کے لیے عالمی معاونت کو متحرک کرنے اور ہیٹی میں جاری طویل المدت تشدد کی بنیادی وجوہات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے جامع تخفیفِ اسلحہ، عدم مسلح کاری اور بحالیِ نو کی حکمتِ عملی کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں شراکت داروں کے ‘اسٹینڈنگ گروپ’ کی کاوشوں اور اقدامات کا کھلے دل سے خیرمقدم کرتے ہیں”۔

بیان کے اختتام پر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے ہیٹی کے مظلوم عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ہیٹی میں دیرپا امن کی بحالی، سکیورٹی کے قیام، استحکام، تعمیرِ نو، اور ترقی و خوشحالی کے اہداف کے حصول کے لیے بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ اور ہیٹی کی قیادت کے ساتھ مل کر اپنا مثبت، فعال اور تعمیری کردار مسلسل ادا کرتا رہے گا۔

نیپال اور تبت میں خوفناک سیلاب: ہلاکتیں 547 ہو گئیں، 450 غیرملکیوں سمیت 977 افراد لاپتہ، ریسکیو آپریشن جاری

منصور احمد, August 28,2026

کاٹھمنڈو / لھاسا (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

نیپال اور چین کے سرحدی علاقے تبت میں بدھ کے روز آنے والے تباہ کن سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 547 ہو گئی ہے، جبکہ 450 سے زائد غیرملکی سیاحوں سمیت کم از کم 977 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ تباہ شدہ علاقوں میں ریسکیو ٹیموں کی جانب سے وسیع پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے تاکہ ملبے اور سیلابی ملبے تلے دبے افراد کی تلاش ممکن بنائی جا سکے۔ سیلاب کے باعث کئی پہاڑی دیہات اور سیاحتی مقام مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب، تبت کی سرحد پر چینی حکام کا کہنا ہے کہ اس ناگہانی سیلاب کے نتیجے میں تبتی حدود میں بھی 5 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 558 افراد لاپتہ ہیں۔ نیپالی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ہیلی کاپٹروں اور جدید ڈرونز کے ذریعے متاثرہ علاقوں کا سروے کیا جا رہا ہے تاکہ پھنسے ہوئے مقامی افراد اور غیرملکیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔ نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ بیشتر لاپتہ افراد سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔

ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری کھولنے پر اتفاق: تہران کا اہم اعلان

منصور احمد, August 28,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے تہران میں ایک اہم اور خوش آئند اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان عالمی تجارتی اور بحری نقطہ نظر سے انتہائی اہم اور حساس گزرگاہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے ایک عارضی بحری راہداری کھولنے پر حتمی اتفاق ہو گیا ہے۔ ایرانی دفاعی و سکیورٹی قیادت کی جانب سے سامنے آنے والے اس بیان کو خطے میں بحری سفر، تیل کی ترسیل اور عالمی تجارت کو درپیش مشکلات و کشیدگی میں کمی کی جانب ایک انتہائی کلیدی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

میجر جنرل محسن رضائی کے مطابق ایران اور سلطنتِ عمان کی باہمی مشاورت اور سفارتی و سکیورٹی کاوشوں کے نتیجے میں قائم کی جانے والی یہ نئی بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کے بالکل وسط میں واقع ہوگی۔ اس مخصوص راہداری کے ذریعے مختلف ممالک کے تجارتی و مال بردار بحری جہازوں کی بحفاظت آمد و رفت ممکن بنائی جا سکے گی، جس سے عالمی منڈیوں کو تجارتی سامان اور توانائی کی رسد کو بلا تعطل برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے عارضی بحری راہداری کے باقاعدہ قیام کو آبنائے ہرمز جیسے دنیا کے انتہائی اہم سمندری راستے میں تجارتی جہاز رانی کو دوبارہ معمول پر لانے کی جانب ایک غیر معمولی اور اہم پیش رفت سے تعبیر کیا۔

اگرچہ ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے اس مفاہمت اور عارضی راہداری کے بنیادی فریم ورک کی تصدیق کر دی ہے، تاہم اس نئی بحری گزرگاہ کے عملی آغاز کی حتمی تاریخ، بحری جہازوں کے اس راستے کو استعمال کرنے کے مخصوص طریقے اور اس عارضی منصوبے کی کل مدت سے متعلق مزید تفصیلات فوری طور پر عام نہیں کی گئی ہیں۔ سفارتی و معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ تہران اور مسقط کے درمیان یہ اتفاقِ رائے خطے کی کشیدہ صورتحال میں توازن پیدا کرنے اور عالمی بحری راستوں کی تحفظ و سلامتی کو یقینی بنانے میں اہم میل پتھر ثابت ہوگا۔

نیپال اور تبت کی سرحد پر تباہ کن سیلاب: ہلاکتیں 489 ہو گئیں، سینکڑوں لاپتہ، جھیل پھٹنے کا نیا خطرہ

محمود احمد, August 28,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

نیپال اور تبت کے سرحدی خطے میں گلیشیئر انہدام اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب نے وسیع پیمانے پر ہولناک تباہی مچا دی ہے، جس میں سڑکیں زیرِ آب آ چکی ہیں، پل بہہ گئے ہیں اور درجنوں مکانات ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ نیپالی حکام اور پولیس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین معلومات کے مطابق سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد بڑھ کر 489 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ سینکڑوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے رشتہ دار اور امدادی ٹیمیں سرگرم ہیں۔ متاثرہ اضلاع میں فوج، پولیس اور ہنگامی امدادی ادارے ملبہ ہٹانے اور بند سڑکوں کو کھولنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ دور دراز کے علاقوں تک ریسکیو کارروائیاں پہنچائی جا سکیں۔

صورتحال کو مزید سنگین بناتے ہوئے حکام نے ایک نئے تباہ کن سیلابی ریلے کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بدھ کے روز لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے پہاڑی علاقے میں بننے والی عارضی جھیل کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں نشیبی علاقوں کی جانب نیا سیلابی ریلہ آئے گا۔ اس خدشے کے پیشِ نظر ہنگامی طور پر لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کو تیز کر دیا گیا ہے اور امدادی ادارے کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں۔ متاثرین کھلے آسمان تلے اپنے پیاروں کی تلاش اور بنیادی انسانی امداد کی فراہمی کے منتظر ہیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کا شام کی خودمختاری کا اعادہ، اسرائیلی حملوں کی مذمت اور سیاسی حل پر زور

محمود احمد, August 28,2026

اقوام متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

پاکستان نے شام کی صورتحال میں رونما ہونے والی مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنازع، تقسیم اور انسانی بحران کے برسوں کے بعد اب شام کو استحکام، بحالی اور معمول کی جانب واپسی کے لیے ایک حقیقی موقع میسر آیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کی انسانی اور سیاسی صورتحال پر بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے زور دیا کہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اسے محفوظ اور برقرار رکھنے اور عالمی برادری کی جانب سے اس کی بھرپور حمایت کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ سفیر عثمان جدون نے شامی ریاست اور اس کے اداروں کے استحکام کو مستحکم بنانے کی اہمیت اجاگر کی اور شامی ڈیموکریٹک فورسز کو ریاستی ڈھانچے میں ضم کرنے کی جانب پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے جامع، شامی ملکیت اور شامی قیادت میں ایسے سیاسی عمل پر زور دیا جو قومی یکجہتی کو مضبوط کرے۔

شام کے وزیر خارجہ کے حالیہ دورۂ پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے دیرینہ تعلقات میں نئی تحریک کا مظہر ہے۔ انہوں نے شام پر عائد معاشی پابندیوں بالخصوص امریکی پابندیوں کے خاتمے، اور خطے میں شام کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون اور سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا، تاہم یہ بھی واضح کیا کہ شام میں انسانی صورتحال تاحال تشویشناک ہے اور تعمیرِ نو کے ساتھ امداد کا سلسلہ برقرار رہنا چاہیے۔ انہوں نے دہشت گردی اور داعش جیسے گروہوں کو ابھرتے استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے مربوط کوششوں پر زور دیا۔ دوسری جانب، شام کے خلاف اسرائیلی فوجی کشیدگی اور ابو الضہور ایئربیس پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے 1974 کے علیحدگی کے معاہدے کے احترام اور مقبوضہ شامی گولان سمیت تمام علاقوں سے اسرائیلی انخلا کا مطالبہ کیا، اور شام کی خودمختاری و سالمیت کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

قطری وزیرِ خارجہ کی تہران میں ایرانی ہم منصب سے ملاقات: پاکستان کے بعد قطر کا سفارتی تحرک تیز

کاشف عباسی , August 27,2026

تہران/دوحہ (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

قطر کے وزیرِ خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے جمعرات کے روز ایران کے دارالحکومت تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی ملاقات کی ہے۔ اگرچہ اس ملاقات کی باضابطہ اور تفصیلی جزیات فوری طور پر عام نہیں کی گئیں، تاہم خطے میں جاری کشیدگی اور سفارتی تحرک کے تناظر میں اسے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ قطری وزیرِ خارجہ کا یہ اہم دورہ پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران کے تمام تر مثبت نتائج اور دو روز بعد سامنے آیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں امن قائم کرنے کے لیے اہم مسلم ممالک متحرک ہو چکے ہیں۔ واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے اور ثالثی کا کردار ادا کرنے والے مرکزی ممالک میں قطر اور پاکستان سرفہرست شامل ہیں۔

اس دورے کے حوالے سے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے گزشتہ روز اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ قطری وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اپنے دورۂ ایران کے دوران تہران کے اعلیٰ حکام کے ساتھ قطر کی جانب سے جاری ثالثی کی کوششوں، سیکیورٹی امور، کشیدگی میں کمی اور خطے میں ہونے والی حالیہ اہم سیاسی و سفارتی پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان اور قطر کا یکے بعد دیگرے تہران کے ساتھ یہ اعلیٰ سطحی رابطہ امریکہ اور ایران کے مابین درپیش جیو پولیٹیکل مسائل اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے جاری کوششوں کو آگے بڑھانے میں انتہائی کلیدی پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی دوسری لہر کا خطرہ، ہلاکتیں 332 ہو گئیں: ماہرین کی شدید تشویش

محمود احمد, August 27,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

نیپال میں گلیشیئر انہدام سے آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ماہرینِ ماحولیات نے مزید سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے شدید خطرات سے خبردار کیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس قدرتی آفت میں جاں بحق ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد بڑھ کر 332 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں نیپالی فوج، پولیس اور مقامی امدادی ٹیموں کا سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ تریبھوون یونیورسٹی کے ‘سینٹر فار ڈیزاسٹر اسٹڈیز’ کے ڈائریکٹر بسنت راج ادھیکاری نے عالمی ذرائع ابلاغ کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ہمالیہ کے بالائی علاقوں کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر آنے والے 24 سے 48 گھنٹوں میں سیلاب کی دوسری اور تیسری تباہ کن لہروں کا خدشہ موجود ہے، جو نچلے علاقوں کو دوبارہ لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔

ڈائریکٹر بسنت راج ادھیکاری نے بتایا کہ اگرچہ فی الوقت میدانی علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ رکا ہوا ہے، تاہم پہاڑی تودے اور چٹانیں کھسکنے (لینڈ سلائیڈنگ) کے شدید خطرات بدستور برقرار ہیں جس سے ندی نالوں کے راستے مسدود ہو کر مزید تباہی پھیلا سکتے ہیں۔ نیپالی ماہرین چین میں موجود سائنسدانوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ ہمالیہ کے خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی مانیٹرنگ کی جا سکے۔ سائنسدانوں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کے باعث پہاڑی خطوں کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے جس سے برف اور چٹانیں غیر مستحکم ہو کر اتنی بڑی تباہی کا سبب بنیں۔ دوسری جانب تباہ شدہ پلوں اور سڑکوں کے باعث امدادی ٹیموں کو متاثرین تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی کمبوڈیا کے صدرِ سینیٹ سے ملاقات، دوسری آئی ایس سی کانفرنس میں عالمی امن پر زور

محمود احمد, August 27,2026

اسلام آباد/نوم پنہہ (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے دوسری بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس کے موقع پر تمام شریک سپیکرز اور بین الاقوامی وفود کے ہمراہ کمبوڈیا کے سینیٹ کے صدر سامدیک موہا بورور تھپادی ہن سین سے اہم خیرسگالی ملاقات کی ہے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق، ملاقات کے دوران چیئرمین سینیٹ نے کانفرنس کی شاندار میزبانی پر کمبوڈیا کی پارلیمنٹ اور سینیٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بین الپارلیمانی مکالمے اور پارلیمانی سفارت کاری کے فروغ کے لیے سامدیک ہن سین کی قیادت کو بھرپور سراہا۔ کانفرنس کے شرکاء اور عالمی پارلیمانی نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ موجودہ دور میں عالمی امن کی بحالی، مسلح تنازعات، معاشی غیر یقینی، دہشت گردی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے تبا ہ کن چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر پارلیمانی سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ناگزیر ہو چکی ہے۔

اپنے خطاب میں چیئرمین سینیٹ نے زور دیا کہ بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس کو ایک ایسا متحرک پلیٹ فارم بننا چاہیے جہاں دنیا بھر کی پارلیمانیں اتفاقِ رائے سے تنازعات کا پرامن حل تلاش کر سکیں۔ انہوں نے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے تزویراتی و دفاعی تعاون اور مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں پاکستان کے تعمیری سفارتی کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب روایتی سفارت کاری محدود ہو جائے تو پارلیمانی رابطے بریک تھرو فراہم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کمبوڈیا کے ماضی کے تنازعات سے امن و ترقی کی طرف سفر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مصالحت اور قومی یکجہتی ہی پائیدار ترقی کی واحد ضامن ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے عالمی برادری اور پارلیمانوں سے اپیل کی کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم “عزم سے عمل کی طرف، مکالمے سے عملی پیش رفت کی طرف اور وعدوں سے نتائج کی طرف” قدم بڑھائیں۔

نیپال اور تبت میں گلیشیئر پھٹنے سے خوفناک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ: ہلاکتیں 165 ہو گئیں، 826 افراد لاپتا

محمود احمد, August 27,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

نیپال اور تبت کے سرحدی خطے میں گلیشیئر پھٹنے اور ملبے کا زبردست بہاؤ آنے کے باعث تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے قیامت خیز تباہی مچا دی ہے۔ نیپال کی ‘نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی’ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، اس قدرتی آفت کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 165 ہو گئی ہے، جبکہ 529 غیر ملکی سیاحوں سمیت مجموعی طور پر 826 افراد تاحال لاپتا ہیں جن کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر ہنگامی زمینی و فضائی ریسکیو آپریشنز جاری ہیں۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق یہ ہولناک سیلاب ایک گلیشیئر کے اچانک انہدام اور اس کے بعد تیزی سے بہنے والے ملبے کے باعث آیا، جس نے نشیبی علاقوں کی عمارتوں، پلوں اور راستوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔

تبت کی جانب بھی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ چین کے سرکاری نشریاتی ادارے ‘سی سی ٹی وی’ کے مطابق تبت کی گیرونگ کاؤنٹی میں لاپتا افراد کی تعداد 558 تک پہنچ گئی ہے جن میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں، جبکہ وہاں 3 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ دوسری جانب ایک سیاحتی گروپ نے بتایا ہے کہ متاثرہ علاقے میں موجود 47 افراد، جن میں گائیڈز اور سیاح شامل ہیں، کا بھی کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ نیپالی فوج نے ریسکیو اور ریلیف آپریشن کو تیز کرنے کے لیے 2,000 سے زائد مسلح اہلکار تعینات کر دیے ہیں جو ہیلی کاپٹروں اور جدید آلات کی مدد سے محصورین کو نکالنے میں مصروف ہیں۔ تاہم، مسلسل بارشوں، راستوں کی بندش اور پہاڑی تودے گرنے سے امدادی ٹیموں کو دور دراز کے تباہ شدہ علاقوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

جنوبی لبنان پر اسرائیلی جیٹس کی بمباری، علی طاہر کی پہاڑیوں اور نبطیہ کے علاقوں میں شدید دھماکے

محمود احمد, August 27,2026

بیروت (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

جنوبی لبنان میں جاری سنگین کشیدگی کے دوران اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایک بار پھر مختلف علاقوں پر شدید بمباری کی ہے، جس سے پورے خطے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی جیٹس نے جنوبی لبنان کے اہم اور حساس علاقے نبطیہ کے مشرقی نواح میں واقع علی طاہر کی پہاڑیوں کو دو مرحلوں میں ہدف بناتے ہوئے فضائی حملے کیے ہیں۔ بمباری کے نتیجے میں منٹوں میں علاقے میں مسلسل اور شدید ترین دھماکے ہوئے، جن کی گونج دور دور تک سنی گئی جبکہ نشانہ بننے والی پہاڑیوں اور آبادیوں سے دھوئیں کے سیاہ اور گہرے بادل فضا میں بلند ہوتے دیکھے گئے۔

سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے رات کی تاریکی میں بھی کارروائیاں جاری رکھیں اور مشرقی زوتار اور مفدون کے درمیان واقع علاقوں میں شدید شیلنگ اور بمباری کی۔ واضح رہے کہ علی طاہر کی پہاڑیاں جنوبی لبنان اور نبطیہ شہر کے قریب دفاعی و جیو سٹریٹجک لحاظ سے اہم علاقہ تصور کی جاتی ہیں، جہاں حالیہ عرصے میں اسرائیلی عسکری کارروائیوں اور حزب اللہ کی دفاعی سرگرمیوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خطے میں جاری صورتحال انتہائی کشیدہ اور تشویشناک ہے، جبکہ تازہ فضائی حملوں سے مزید ہلاکتوں اور تباہی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل میں پاکستان کا دبنگ بیان: اسرائیل کی غـزہ میں جنگ بندی پامالیاں اور الحاق سازشیں بے نقاب، سفیر عاصم افتخار کا خطاب

محمود احمد, August 27,2026

اقوام متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیرِ اہتمام مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص مقبوضہ فلسـطینی علاقے کی بگڑتی ہوئی انتہائی حساس صورتحال پر منعقدہ اہم ماہانہ بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ فلسـطینی خطہ اس وقت تاریخ کے سب سے نازک اور خطرناک ترین موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں قابض اسرائیلی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی سنگین پامالیاں، غیر قانونی الحاق کی کوششیں اور مظلوم فلسـطینیوں پر مظالم کی انتہا کر دی گئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اس بیانیے میں قائم مقام خصوصی رابطہ کار رامز الاکبروف، اعلیٰ نمائندے نکولائی ملاڈینوف اور محترمہ رے برن کی بریفنگز کا خصوصی حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ زمینی حقائق کو دانستہ تبدیل کرنے کے تمام اسرائیلی اقدامات دراصل ایک خودمختار فلسـطینی ریاست کی جغرافیائی و سیاسی بنیادوں کو تباه کرنے کی ناپاک کوشش ہیں۔

پاکستانی مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے تفصیلی خطاب کے دوران سلامتی کونسل اور عالمی ضمیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غير قانونی آبادکاری کی سرگرمیاں بلا خوف و خطر اور بلا روک ٹوک جاری ہیں جبکہ متنازع علاقوں میں پیش رفت عملاً مغربی کنارے کو منقسم کر کے ہزاروں فلسـطینیوں کو جبری بے دخلی کے شدید خطرے سے دوچار کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سمیت آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے گروپ نے اسرائیلی آبادکاری کی ان توسیع پسندانہ پالیسیوں اور الحاق کے منصوبوں کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے خطے کے امن کے خلاف ایک تبا ہ کن اور خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قابض یہودیوں اور آبادکاروں کی جانب سے عام شہریوں پر تشدد اور دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے جن میں سے سینکڑوں حملے ریکارڈ پر آ چکے ہیں لیکن عالمی سطح پر ان مظالم کو روکنے کے لیے تاحال کوئی مضبوط عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا جو کہ انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہے۔

مالیاتی جارحیت اور معاشی تسلط کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے نشاندہی کی کہ قابض اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے اربوں ڈالر کے فلسـطینی کلیئرنس ریونیو اور رقوم کی مسلسل اور غیر قانونی روک تھام نے فلسـطینی کو معاشی بحران اور شدید مالیاتی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جس کے باعث وہاں کے معصوم شہریوں کے لیے بنیادی زندگی کی سہولیات اور طبی خدمات کی فراہمی بھی ناممکن ہوتی جا رہی ہے، لہٰذا یہ روک رکاوٹیں فوری طور پر ختم کر کے رقوم کی بلا تاخیر منتقلی یقینی بنائی جائے۔ غزہ کی صورتحال کا نقشہ کھینچتے ہوئے انہوں نے سلامتی کونسل کے ارکان پر سخت سوال اٹھایا کہ اگر جنگ بندی کے اعلانات اور سفارتی دعوے موجود ہیں تو پھر غـزہ میں ہر روز معصوم شہری، خواتین اور بچے کیسے شہید کیے جا رہے ہیں، ہلاکتیں اور تباہی کا سلسلہ کیوں نہیں تھما اور جنگ بندی کے بعد سے اب تک بارہ سو سے زائد فلسـطینی کس بنیاد پر جاں بحق ہوئے ہیں، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ قابض قوتیں عالمی مطالبات اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کو مکمل طور پر ہوا میں اڑا رہی ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے مزید کہا کہ امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ کی جانب سے امن کے لیے کی جانے والی تمام تر سفارتی کوششوں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی امن قراردادوں کے باوجود اسرائیل کی طرف سے مسلسل فوجی کشیدگی، بمباری اور روڈ میپ کی کھلی خلاف ورزیاں پورے سفارتی عمل کو پٹڑی سے اتارنے کی سازش ہیں تاکہ خطے کو مزید تباہی کی طرف دھکیلا جا سکے۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے ریلیف ادارے اور اس کی تنصیبات پر اسرائیلی حملوں اور غیر قانونی جبری مداخلت پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اقوامِ متحدہ کے تمام دفاتر، سکولوں، تربیتی مراکزی اور سفارتی عملے کے تحفظ کی ضمانت دی جائے اور اسرائیل کو بین الاقوامی ضوابط کا پابند بنایا جائے کیونکہ کسی بھی ملک کو اقوامِ متحدہ کے منشور پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

عالمی برادری اور سلامتی کونسل کے سامنے پاکستان نے اپنا چار نکاتی ہنگامی حل پیش کرتے ہوئے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ قابض طاقت اسرائیل کو مقبوضہ فلسـطینی علاقے کی قانونی، جغرافیائی اور آبادیاتی ہیئت کو تبدیل کرنے کے تمام غیر قانونی اقدامات، الحاق کی سازشوں اور جبری بے دخلی سے فوری طور پر روکا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ امن منصوبے پر سچے دل اور مکمل شفافیت کے ساتھ عمل درآمد کا آغاز کیا جائے جبکہ جن طاقتور عالمی ممالک کا اس خطے میں اثر و رسوخ ہے وہ اپنے سفارتی اور معاشی ذرائع کو استعمال میں لا کر اسرائیل کو عالمی قوانین کی پاسداری پر مجبور کریں اور فلسـطینیوں پر ڈھائے جانے والے جنگی جرائم کے تمام ذمہ داران کا عالمی عدالتوں میں سخت محاسبہ کیا جائے۔ پاکستانی مندوب نے اپنے بیان کے اختتام پر دوٹوک الفاظ میں کہا کہ فلسـطین کے مظلوم عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل نظریاتی، اخلاقی اور سفارتی یکجہتی ہمیشہ کی طرح غیر متزلزل ہے اور ہم ان کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں ان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں دائمی اور حقیقی امن کی واحد راہ یہی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں انیس سو سرسٹھ سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد، خود مختار اور پائیدار فلسـطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا دعویٰ: ‘آبنائے ہرمز کھلی ہے، امریکہ ایران کے خلاف بہت بڑی فتح کی جانب گامزن’

محمود احمد, August 26,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم انٹرویو کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ تناؤ کے باوجود انتہائی اہم عالمی سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے اور امریکی بحریہ نے کامیابی سے جہاز رانی کو بحال رکھا ہوا ہے۔ امریکی مبصر اور معروف سبسکرپشن سٹریمنگ نیٹ ورک ‘بلیز میڈیا’ کے بانی گلین بیک کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ‘گزشتہ رات ہم نے 22 تجارتی کشتیاں اور جہاز وہاں سے بحفاظت نکالے ہیں’۔ انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی پر کھل کر بات کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کے خلاف اس جغرافیائی اور سیاسی معرکے میں امریکی بحریہ، برّی فوج اور امریکہ کی مضبوط معاشی طاقت نے انتہائی فیصلہ کن اور کلیدی کردار ادا کیا ہے جس کے نتیجے میں امریکہ ایک ‘بہت بڑی تاریخی فتح’ کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں امریکہ نے وینزویلا کے بحران میں بھی بڑی کامیابی حاصل کی تھی اور بالکل اسی طرح ‘ایران کے معاملے میں بھی امریکہ کو بہت جلد حتمی کامیابی حاصل ہو جائے گی’۔

انٹرویو کے دوران جب امریکی صدر سے ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا اور سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اطلاعات کے مطابق وہ ‘حملوں یا واقعے میں بہت بری طرح زخمی ہوئے تھے، لیکن میں ایسا نہیں سمجھتا کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں’۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد عالمی سفارتی، دفاعی اور معاشی حلقوں میں شدید تحرک پیدا ہو گیا ہے، بالخصوص تیل کی عالمی منڈیوں اور سمندری تجارتی راستوں کی حفاظت سے متعلق امریکی پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ایرانی قیادت سے متعلق امریکی صدر کا یہ نیا موقف آنے والے دنوں میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔

نیپال میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاری، 95 افراد جاں بحق جبکہ انڈین شہریوں سمیت سینکڑوں غیر ملکی سیاح لاپتہ

محمود احمد, August 26,2026

کاٹھمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

نیپال اور تبت کی سرحد پر واقع پہاڑی سلسلوں میں اچانک آنے والے خوفناک اور شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں اب تک کم از کم 95 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ سینکڑوں ملکی اور غیر ملکی سیاح لاپتہ ہو گئے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق طوفانی بارشوں کے بعد آنے والے پانی کے شدید اور تیز ریلوں میں کئی کثیر المنزلہ عمارتیں، رہائشی مکانات، گاڑیاں اور متعدد اہم رابطہ پل بہہ گئے ہیں۔ سفارتی ذرائع اور نیپالی حکام کے مطابق پہاڑی و سیاحتی علاقوں میں پھنسے اور لاپتہ ہونے والے غیر ملکیوں میں انڈیا کے 133، امریکہ کے 47 اور برطانیہ کے 33 شہری بھی شامل ہیں، جن سے تاحال رابطہ ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور سیکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کا ہنگامی آپریشن شروع کر دیا ہے، تاہم پل بہہ جانے اور سڑکوں پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو دور دراز کے علاقوں میں پہنچنے اور ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ نیپالی حکومت نے انڈین اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے بھی لاپتہ سیاحوں کی تلاش کے لیے مدد کی اپیل کی ہے۔ موسمیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں بارشوں کا سلسلہ آئندہ کچھ دنوں تک جاری رہ سکتا ہے جس سے دریاؤں میں طغیانی اور مزید لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کر کے قریبی محفوظ مقامات پر امدادی کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں۔

پاکستان کا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر تنازعات، جنگوں اور غذائی عدم تحفظ کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے پر زور: سفیر عاصم افتخار احمد کا خطاب

محمود احمد, August 26,2026

اقوام متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

پاکستان نے عالمی سطح پر جاری تنازعات، جنگوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شدید غذائی عدم تحفظ کے دوہرے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی اصولوں، عالمی انسانی قوانین کی پاسداری اور پیشگی سفارتی حکمتِ عملی اپنانے پر شدید زور دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیرِ اہتمام ‘جنگ کی زد میں خوراک: عالمی اور مقامی غذائی بحرانوں کے تدارک میں سلامتی کونسل کا کردار’ کے موضوع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی وزارتی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے ‘2026 گلوبل رپورٹ آن فوڈ کرائسز’ کے اعداد و شمار پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جس میں دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی بھوک اور غذائی قلت کی بنیادی وجہ تشدد اور عسکری تنازعات کو قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران عالمی سطح پر 266 ملین سے زائد افراد شدید ترین غذائی عدم تحفظ کا شکار رہے ہیں جبکہ پچھلی ایک دہائی میں بھوک کے واقعات دگنے ہو چکے ہیں اور شدید بھوک کا سامنا کرنے والے 70 فیصد سے زائد افراد تنازعات کی زد میں گھیرے علاقوں میں مقیم ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب میں واضح کیا کہ عالمی برادری کو بین الاقوامی انسانی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا تاکہ بھوک، قحط اور شہری آبادی کو اجتماعی سزا دینے کے عمل کو کبھی بھی فوجی یا سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال نہ کیا جا سکے۔ انہوں نے غزہ، یمن، سوڈان، جنوبی سوڈان اور ہیٹی کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں خوراک و بنیادی ضروریات کی معطلی، امدادی سامان پر پابندیوں اور انسانی بنیادی ڈھانچے کی تباہی نے فلسطینیوں کو ناقابلِ برداشت مصائب میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تنازعات کی وجہ سے عالمی معیشت، خوراک اور مال برداری کے اخراجات میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جس کا سب سے بڑا اور غیر متناسب بوجھ غریب اور ترقی پذیر ممالک پر پڑ رہا ہے۔ پاکستان نے مطالبات پیش کیے کہ انسانی امداد میں رکاوٹ ڈالنے والوں کا محاسبہ کیا جائے، امداد کو سیاسی و عسکری شرائط سے پاک رکھا جائے اور WFP و FAO کی رپورٹس کی روشنی میں پیشگی کارروائی کی جائے۔ سفیر عاصم افتخار نے اختتام پر کہا کہ محض انسانی امداد سیاسی حل کا متبادل نہیں ہو سکتی اور امن قائم کیے بغیر دنیا میں پائیدار غذائی تحفظ کا حصول ممکن نہیں ہے۔

سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کا اچانک ماسکو کا اہم دورہ

محمود احمد, August 25,2026

واشنگٹن/ماسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے روسی اعلیٰ حکام کے ساتھ انتہائی اہم اور اہم نوعیت کی ملاقاتوں کے لیے اچانک اور غیر متوقع طور پر ماسکو کا ہنگامی دورہ کیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے “رائٹرز” کے مطابق امریکی انٹیلی جنس چیف کا یہ غیر معمولی دورہ ایک ایسے انتہائی حساس اور نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک طرف ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ایران کے درمیان شدید جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور دوسری جانب روس اور ایران کے درمیان گہرے عسکری، دفاعی، معاشی اور سفارتی تعلقات پہلے سے قائم ہیں۔ یوکرینی انٹیلی جنس اور بین الاقوامی سفارتی ذرائع سے موصول ہونے والی تفصیلی رپورٹس کے مطابق روس اور ایران کے درمیان مسلسل بڑھتے ہوئے باہمی دفاعی نظام، ڈرون ٹیکنالوجی کی فراہمی اور عسکری تعاون کے تناظر میں اعلیٰ سطح کے امریکی حکام کا یہ غیر اعلانیہ دورہ عالمی منظر نامے پر کسی نئی اور غیر معمولی پیش رفت کا باعث بن سکتا ہے۔ اس اہم دورے اور سیکیورٹی تحرک کے حوالے سے ماسکو اور کرملین کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے ایران کو کسی بھی قسم کی ناجائز عسکری معاونت کی خبریں درست نہیں ہیں، تاہم روسی حکومت نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سنگین بحران اور تنازع کو پرامن سفارتی راستے سے حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے اور مدد فراہم کرنے کی مکمل آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کے مرکزی انٹیلی جنس ادارے سی آئی اے کے ترجمان نے جان ریٹکلف کے اس ہنگامی دورۂ ماسکو کی تفصیلات، ملاقاتوں کے ایجنڈے اور مقصد سے متعلق ذرائع ابلاغ کو کسی بھی قسم کا تبصرہ یا بیان دینے سے مکمل طور پر معذرت کی ہے۔ بین الاقوامی سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق نومبر 2021 میں سابق سی آئی اے چیف ولیم برنز کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ہونے والی تاریخی ملاقات کے بعد کسی بھی امریکی انٹیلی جنس ادارے کے اعلیٰ ترین سربراہ کا ماسکو کا یہ پہلا بڑا، اہم اور اہم ترین دورہ تصور کیا جا رہا ہے جس سے خطے کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔