کاروباری برادری کا ساتھ دینے پر حکومت کا شکریہ، ملکی ترقی نجی شعبے کے تعاون سے ہی ممکن ہے: وزیراعظم شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مشکل ترین معاشی حالات میں حکومتی پالیسیوں کا بھرپور ساتھ دینے پر ملک کی تاجر اور کاروباری برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط شراکت داری ہی پاکستان کی اصل معاشی ترقی کی ضامن ہے۔

آئندہ مالی سال کے سالانہ گوشوارے پر صنعتکاروں سے مشاورت تفصیلات کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملک کی معروف صنعتکار اور کاروباری شخصیات پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خصوصی ملاقات کی۔ یہ ملاقات حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے سالانہ مالیاتی گوشوارے (بجلی اور آمدنی کے تخمینے) کے حوالے سے جاری ملک گیر مشاورت کا حصہ تھی۔ اس اہم بیٹھک میں ملک کی مجموعی معاشی صورتحال، نئی سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعتی ترقی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

کاروباری برادری ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے وزیراعظم نے معزز وفد کا وزیراعظم ہاؤس میں خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری پاکستان کی معیشت کی مضبوطی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ تاجر برادری ملک کے اصل سفیر ہیں جو پوری دنیا میں پاکستان کی تجارتی پہچان بناتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت ملکی برآمدات میں اضافے پر مبنی معاشی ترقی کی پالیسی پر گامزن ہے اور اسی لیے پالیسی سازی کے ہر عمل میں نجی شعبے کی مشاورت کو بنیادی اور کلیدی اہمیت دی جا رہی ہے۔

غیر دستاویزی معیشت کو سرکاری دائرے میں لانے کا عزم وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کی غیر دستاویزی (غیر رسمی) معیشت کو سرکاری محصولاتی دائرے (ٹیکس نیٹ) میں لانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ کاروبار دوست پالیسیوں کے باعث اب ملکی معیشت میں واضح استحکام آ رہا ہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کا اصل مقصد ایسی صنعتوں کا فروغ ہے جن سے ملکی پیداوار میں اضافہ ہو، برآمدات بڑھیں اور ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ ہو سکے۔

صنعت، زراعت اور جدید معلوماتی ٹیکنالوجی پر خصوصی توجہ وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملک میں صنعت، زراعت اور جدید معلوماتی ٹیکنالوجی (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کے شعبوں کی ترقی کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے جبکہ ملک کے نوجوانوں کے لیے مختلف تکنیکی اور فنی تربیت کے پروگرام بھی جاری ہیں تاکہ انہیں روزگار کے بہتر اور جدید مواقع میسر آ سکیں۔

خصوصی تجارتی عدالتوں کا قیام اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری اس اہم ملاقات کے دوران وفد کو حکومت کی جانب سے کیے جانے والے معاشی اقدامات پر تفصیلی آگاہی دی گئی جس میں بتایا گیا کہ سرکاری محصولات کے دیرینہ مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے قانونی اصلاحات کی گئی ہیں اور ملک میں خصوصی تجارتی (کمرشل) عدالتوں کے قیام پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اس کے علاوہ، کراچی کی بندرگاہوں سے ملک کے اندرونی حصوں تک رسائی کو آسان اور تیز بنانے کے منصوبے بھی آخری مراحل میں ہیں۔

تجارتی سامان کی ترسیل اور مصنوعی ذہانت کا قومی منصوبہ سرکاری حکام کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق، ریلوے اور شاہراہوں (موٹرویز) کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری سے تجارتی سامان کی اندرون و بیرون ملک ترسیل میں نمایاں بہتری آئے گی، جبکہ حکومت ملک میں ‘مصنوعی ذہانت’ (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) پر مبنی ایک قومی منصوبہ بھی تشکیل دے رہی ہے تاکہ مختلف پیداواری شعبوں میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھا کر لاگت کو کم کیا جا سکے Industrial cost۔

حکومتی معاشی پالیسیوں پر تاجر برادری کا بھرپور اعتماد ملاقات میں موجود کاروباری وفد نے موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت اب بالکل درست سمت میں گامزن ہے۔ کاروباری رہنماؤں نے صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی، محصولاتی اصلاحات، برآمدی ترقیاتی اقدامات اور جمع شدہ سرکاری واجبات (ٹیکس ریفنڈز) کی بروقت ادائیگیوں کے حکومتی اقدامات کو دل کھول کر سراہا۔

کاروباری برادری نے حکومت کے ساتھ ہر سطح پر مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں صنعتی ترقی، برآمدات میں ریکارڈ اضافے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے وزیراعظم کے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔ اس اہم ترین ملاقات میں وفاقی وزراء اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے بھی شرکت کی۔

بابر اعظم ایک روزہ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے پاکستان کے دس بہترین بلے بازوں میں شامل

منصور احمد june 03,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 03 جون 2026ء

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز بلے باز بابر اعظم نے بین الاقوامی کرکٹ میں ایک اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ وہ پاکستان کی جانب سے ایک روزہ میچوں (او ڈی آئی) کی تاریخ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے دس (10) چوٹی کے بلے بازوں کی باوقار فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔

سابق مایہ ناز بلے باز اعجاز احمد کا ریکارڈ توڑ دیا آسٹریلیا کے خلاف کھیلی گئی حالیہ سیریز کے دوران بابر اعظم نے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے سابق نامور کھلاڑی اعجاز احمد کو رنز کی دوڑ میں پیچھے چھوڑا اور مایہ ناز دس کھلاڑیوں کی فہرست میں اپنی جگہ پکی کی۔ اعجاز احمد طویل عرصے سے اس فہرست کا حصہ تھے، جن کا ریکارڈ اب سابق کپتان نے اپنے نام کر لیا ہے۔

مستقل مزاجی اور عالمی معیار کا شاندار ریکارڈ بابر اعظم نے اب تک کھیلے گئے ایک سو بیالیس (142) ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں ترپن اعشاریہ چوون (53.54) کی شاندار اور جاندار اوسط کے ساتھ مجموعی طور پر چھ ہزار پانچ سو چھیاسی (6586) رنز اسکور کیے ہیں۔ ان کی ان یادگار اننگز میں بیس (20) شاندار سنچریاں (سو رنز) اور اڑتیس (38) نصف سنچریاں (پچاس رنز) شامل ہیں، جو عالمی کرکٹ میں ان کی لاجواب مستقل مزاجی اور بہترین تکنیک کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انضمام الحق بدستور پہلے نمبر پر براجمان پاکستان کی جانب سے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ورلڈ ریکارڈ اب بھی سابق جارح مزاج کپتان انضمام الحق کے پاس محفوظ ہے، جنہوں نے اپنے طویل دورِ کھیل میں گیارہ ہزار سات سو ایک (11701) رنز بنائے۔

پاکستان کے دیگر نامور بلے باز پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے دیگر نمایاں اور مایہ ناز بلے بازوں میں محمد یوسف، سعید انور، شاہد آفریدی، شعیب ملک، جاوید میانداد، یونس خان، سلیم ملک اور محمد حفیظ شامل ہیں، جو طویل عرصے تک قومی ٹیم کی بلے بازی کی بنیادی ریڑھ کی ہڈی رہے ہیں اور اب بابر اعظم بھی اسی صفِ اول کے کھلاڑیوں میں شمار ہو چکے ہیں۔

کھیل کے ماہرین کی جانب سے بھرپور خراجِ تحسین کرکٹ کے ماہرین اور سابق کھلاڑیوں کے مطابق، بابر اعظم کا اتنی کم عمری اور کم میچوں میں یہ عظیم سنگِ میل عبور کرنا ان کے مستقل اعلیٰ معیار، محنت اور پاکستان کرکٹ میں ان کے مضبوط اور ناقابلِ تسخیر مقام کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ مستقبل میں پاکستان کے لیے مزید کئی بڑے ریکارڈز اپنے نام کریں گے۔

امریکہ نے پاکستان سمیت دنیا کے ساٹھ ممالک پر نئے تجارتی ٹیکس عائد کر دیے، عالمی معیشت میں ہلچل

محمود احمد june 03,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

امریکی حکومت نے ایک بہت بڑا معاشی فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت سمیت دنیا کے ساٹھ (60) اہم تجارتی شراکت دار ممالک سے آنے والے سامان پر دس (10) سے ساڑھے بارہ (12.5) فیصد تک نئے درآمدی ٹیکس (ٹیرف) نافذ کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے اس غیر متوقع فیصلے کو عالمی تجارت اور معاشی نظام کے لیے ایک انتہائی سخت اور دور رس قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

جبری مشقت کے قوانین پر عملدرآمد میں ناکامی کا الزام امریکی حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ سخت معاشی فیصلہ ایک طویل تحقیقاتی عمل کے بعد کیا گیا ہے۔ امریکی مقتدر حلقوں نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ ساٹھ ممالک اپنے ہاں جبری مشقت (مزدوروں سے زبردستی کام لینے) کے مروجہ طریقوں سے تیار ہونے والی مصنوعات کی روک تھام کے لیے مؤثر قوانین بنانے اور ان پر سختی سے عملدرآمد کروانے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ اسی بنیاد پر ان ممالک سے امریکہ آنے والی تمام برآمدات پر اضافی درآمدی ڈیوٹی اور ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

پاکستان، برطانیہ اور یورپی یونین سمیت بڑے شراکت دار ہدف پر رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی اس نئی اور کڑی تجارتی پالیسی کی زد میں آنے والے ساٹھ ممالک میں پاکستان، بھارت، برطانیہ، یورپی یونین کے رکن ممالک، کینیڈا اور جاپان جیسے امریکہ کے سب سے بڑے اور مستقل تجارتی شراکت دار شامل ہیں۔ یہ تمام ممالک ہر سال امریکہ کو مجموعی طور پر اربوں ڈالرز مالیت کی اشیاء برآمد کرتے ہیں، جس کے باعث عالمی ماہرینِ معیشت کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نئی پالیسی سے پورے عالمی تجارتی نظام پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکی مارکیٹ میں منصفانہ مسابقت اور مزدوروں کا تحفظ امریکی محکمہ تجارت نے اپنے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ یہ ہنگامی اقدام امریکی مارکیٹ میں منصفانہ کاروباری مسابقت کو یقینی بنانے اور جبری مشقت کے خلاف عالمی سطح پر دباؤ بڑھانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارت جاری رکھنا جو مزدوروں کے حقوق پر مؤثر اقدامات نہیں کرتے، خود امریکی معیشت، مقامی کارخانوں اور امریکی محنت کشوں کے مفادات کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔

عالمی تجارتی نظام میں شفافیت لانے کا دعویٰ امریکی نمائندہ برائے تجارت نے بھی واشنگٹن کے اس بڑے اقدام کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاشی ٹیکس کا اصل مقصد عالمی تجارتی نظام میں شفافیت، برابری اور انصاف کو فروغ دینا ہے تاکہ امریکی مصنوعات اور وہاں کے مقامی محنت کشوں کو بین الاقوامی سطح پر ہونے والے غیر منصفانہ مقابلے سے مستقل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

برآمدی صنعتوں پر دباؤ اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا خطرہ دوسری جانب، بین الاقوامی معاشی مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکہ کے اس یکطرفہ فیصلے سے عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ، غیریقینی صورتحال اور مختلف بلاکس کے درمیان تجارتی کشیدگی میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے کے بعد پاکستان سمیت تمام متاثرہ ممالک کی مقامی برآمدی صنعتوں پر مالی دباؤ بڑھے گا اور ان کے لیے امریکی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات سستے داموں بیچنا اب ممکن نہیں رہے گا۔

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابیاں، مختلف اضلاع میں 17 دہشت گرد ہلاک

منصور احمد june 02,2026

راولپنڈی / کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جون 2026ء

پاک فوج اور سکیورٹی فورسز نے صوبہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر ہنگامی اور کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے سترہ (17) اہم دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق، یہ تمام کارروائیاں صوبے کے حساس اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے مختلف خفیہ ٹھکانوں پر کی گئیں۔

خفیہ اطلاعات پر مربوط آپریشنز اور شدید فائرنگ کا تبادلہ فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ عسکری بیان کے مطابق، بلوچستان کے مختلف مقامات پر بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی انتہائی معتبر اور خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ ان معلومات پر سکیورٹی فورسز نے انتہائی مربوط اور منظم آپریشنز کا آغاز کیا۔ کارروائیوں کے دوران گھیرے میں آئے دہشت گردوں اور فورسز کے درمیان آمنے سامنے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں سترہ (17) شرپسند دہشت گرد مارے گئے۔

شہریوں پر حملوں میں ملوث ہونا اور بھاری اسلحے کی برآمدگی سرکاری عسکری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے یہ تمام دہشت گرد طویل عرصے سے سکیورٹی فورسز پر حملوں، تخریب کاری اور معصوم شہریوں کے خلاف مختلف گھناؤنی دہشت گردانہ کارروائیوں میں براہِ راست ملوث اور مطلوب تھے۔ کامیاب کارروائی کے بعد فورسز نے دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں پر قبضے کے بعد وہاں سے بھاری مقدار میں جدید ترین خودکار اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (بارودی مواد) برآمد کر کے قبضے میں لے لیے ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس آپریشن اور عزمِ استحکام عسکری حکام کے مطابق، دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد ان تمام متاثرہ علاقوں میں فوج کا خصوصی سرچ اور کلیئرنس آپریشن بدستور جاری ہے تاکہ وہاں موجود کسی بھی دوسرے ممکنہ خطرے یا مفرور ساتھی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے اور پورے خطے کو دہشت گرد عناصر سے پاک کر کے پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔

بیان میں مزید عزم ظاہر کیا گیا کہ قومی پالیسی ‘عزمِ استحکام’ کے تحت ملک بھر سے دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کے لیے یہ ٹارگٹڈ کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی اور پاکستان میں بیرونی ممالک کی سرپرستی اور فنڈنگ سے ہونے والی ہر قسم کی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

سکیورٹی فورسز نے اپنے مشترکہ بیان کے اختتام پر اس فولادی عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک کے امن، سلامتی، ملکی استحکام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ پوری قومی قوت، یکسوئی اور عسکری طاقت کے ساتھ آخری حد تک جاری رکھی جائے گی۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسی ویں اجلاس کے صدر کا تاریخی انتخاب، بنگلہ دیش کے سفارتکار خلیل الرحمان کامیاب

محمود احمد june 02,2026

نیویارک / ڈھاکہ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جون 2026ء

عالمی سفارت کاری کے میدان میں جنوبی ایشیا کے لیے بڑی کامیابی سامنے آئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسی ویں (81ویں) سالانہ اجلاس کے صدر کے معرکہ آرا انتخاب میں بنگلہ دیش کے سینیئر اور مایہ ناز سفارتکار خلیل الرحمان حتمی طور پر کامیاب قرار پائے ہیں۔ وہ ستمبر 2026ء سے لے کر ستمبر 2027ء تک قائم رہنے والے اس اہم ترین عالمی اجلاس کے صدر کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دیں گے۔

جنرل اسمبلی میں ریکارڈ رائے شماری اور سو فیصد حاضری اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر نیویارک میں جنرل اسمبلی کے صدر کے منصب کے لیے ہونے والی اس ہنگامی رائے شماری کے دوران دنیا بھر کے ممالک کی جانب سے مجموعی طور پر ایک سو نوے (190) ووٹ ڈالے گئے۔ اس تاریخی انتخاب کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ دنیا کا کوئی بھی رکن ملک اس اہم ووٹنگ کے عمل سے نہ تو غیر حاضر رہا اور نہ ہی کسی نے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا، بلکہ تمام ممالک نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

انتخابی نتائج اور دونوں امیدواروں کے ووٹوں کا موازنہ دنیا کے اس سب سے بڑے سفارتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ انتخابی نتائج کے مطابق، دونوں ممالک کے مابین سخت جوڑ پڑا جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

خلیل الرحمان (بنگلہ دیش): 99 ووٹ حاصل کیے
اینڈریاس کاکوریس (قبرص): 91 ووٹ حاصل کیے

    اقوامِ متحدہ کے قوانین کے مطابق، صدارت کی کرسی حاصل کرنے کے لیے امیدوار کو سادہ اکثریت کے تحت کم از کم چھیانوے (96) ووٹ درکار تھے، جس کے مقابلے میں بنگلہ دیش کے خلیل الرحمان نے ننانوے (99) ووٹ حاصل کر کے میدان مار لیا۔ بین الاقوامی سیاسی ماہرین اس انتخاب کو اس لحاظ سے انتہائی سنسنی خیز اور اہم قرار دے رہے ہیں کہ دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلہ غیر معمولی طور پر سخت رہا اور ہار جیت کا فیصلہ محض آٹھ (8) ووٹوں کے معمولی فرق سے ہوا۔

    نئے صدر کی آئینی ذمہ داریاں اور عالمی منصب بنگلہ دیشی سفارتکار خلیل الرحمان رواں سال ستمبر 2026ء میں شیڈول کے مطابق جنرل اسمبلی کے اکیاسی ویں اجلاس کی صدارت کا باقاعدہ حلف اٹھا کر چارج سنبھالیں گے اور پورے ایک سال تک اس معتبر عالمی منصب پر فائز رہیں گے۔ ان کی کلیدی ذمہ داریوں میں جنرل اسمبلی کے تمام اہم ترین اجلاسوں کی صدارت کرنا، کائنات کے مختلف خطوں میں جاری جنگوں اور بحرانوں کے خاتمے کے لیے رکن ممالک کے درمیان قریبی سفارتی مشاورت کو فروغ دینا اور نازک عالمی امور پر عالمی برادری کے اندر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں اپنا فعال کردار ادا کرنا شامل ہوگا۔

    اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی عالمی حیثیت واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اس وقت کرہ ارض کے تقریباً تمام خودمختار اور آزاد ممالک پر مشتمل دنیا کا سب سے بڑا اور معتبر ترین عالمی فورم ہے۔ یہ وہ تاریخی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر میں پائیدار امن کے قیام، علاقائی سلامتی کے تحفظ، موسمیاتی و پائیدار ترقی، انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے اور بین الاقوامی برادری کے درمیان باہمی معاشی و عسکری تعاون سمیت تمام بڑے اور سنگین عالمی معاملات پر تفصیلی غور و خوض کے بعد مشترکہ فیصلے کیے جاتے ہیں۔

    عمران خان سے ملاقات کروائیں، پھر بجٹ پاس کروائیں؛ علیمہ خان کا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو بڑا مشورہ

    کاشف عباسی ,june 02,2026

    راولپنڈی / پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 02 جون 2026ء

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے صوبائی بجٹ کی منظوری کے معاملے پر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ایک اہم اور دوٹوک مشورہ دے دیا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اگر حکومت بجٹ کی پرامن اور باقاعدہ منظوری چاہتی ہے، تو اس کے لیے سب سے پہلے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے مقتدر حلقوں اور پارٹی قیادت کی ملاقات کی اجازت دی جائے۔

    ملاقاتوں پر پابندی اور پارٹی ورکرز کے تحفظات راولپنڈی میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان گزشتہ کئی ماہ سے جیل میں سخت ترین قید کا سامنا کر رہے ہیں اور اس دوران ان سے ملاقاتوں پر عائد کی جانے والی غیر قانونی پابندیوں کے حوالے سے عوام اور پارٹی کے اندر متعدد سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے تمام مرکزی رہنماؤں اور لاکھوں مخلص کارکنوں کی یہ شدید ترین خواہش ہے کہ عمران خان سے ملاقاتوں کا سلسلہ فوری طور پر بحال کیا جائے۔

    حکومتی افواہیں اور خفیہ ڈیل کے دعووں کی حقیقت انہوں نے ایک بار پھر میڈیا کے سامنے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے مختلف سیاسی افواہیں پھیلائی جاتی ہیں، تاہم حقیقت میں پسِ پردہ کسی بھی قسم کی کوئی سیاسی ڈیل، این آر او یا مفاہمت نہیں ہو رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی حکمرانوں کو عوامی ردعمل اور اپنے خلاف سیاسی دباؤ میں شدید اضافہ محسوس ہوتا ہے تو وہ اس طرح کی قیاس آرائیاں سامنے لے آتے ہیں۔

    عمران خان کی صحت پر شدید خدشات اور طبی معائنے کا مطالبہ علیمہ خان نے سابق وزیراعظم کی جیل میں صحت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی صحت اور ان کے باقاعدہ طبی معائنے کے حوالے سے فیملی اور وکلا کو شدید اور سنجیدہ خدشات لاحق ہیں۔ انہوں نے جیل انتظامیہ اور عدالتوں سے پرزور مطالبہ کیا کہ انہیں ملک کے مستند اور ماہر ڈاکٹروں کے ذریعے فوری طور پر مکمل طبی معائنہ کروانے کی قانونی سہولت فراہم کی جائے تاکہ ان کی صحت کے بارے میں پائے جانے والے تمام شکوک و شبہات دور ہو سکیں۔

    تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو میدان میں آنے کی پکار انہوں نے پارٹی کی اعلیٰ سطح کی قیادت سے مخلصانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تمام منتخب نمائندے، سینیٹرز، اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی اور تمام سینئر رہنما اس کڑے وقت میں مثالی یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور اپنے کارکنوں کے ساتھ ہراول دستہ بن کر کھڑے ہوں۔ علیمہ خان کے مطابق، اگر پارٹی کی مرکزی سیاسی قیادت خود جیلوں اور سڑکوں پر میدان میں آئے گی، تو اس سے نچلی سطح پر موجود ورکرز کا اعتماد اور حوصلہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو جائے گا۔

    جمہوری عمل کا احترام اور سیاسی استحکام کی ضرورت علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عوام کے ڈالے گئے قیمتی ووٹ اور مجموعی جمہوری عمل کا غیر مشروط احترام ملکی بقا کے لیے انتہائی ضروری ہے، اور ملک کے تمام موجودہ سیاسی معاملات کا واحد حل صرف آئین، قانون اور مروجہ جمہوری اصولوں کے مطابق ہی نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر سخت زور دیا کہ پاکستان میں حقیقی سیاسی استحکام اور جمہوری عمل کی مضبوطی کے لیے اب تمام فریقین کو اپنا اپنا ذمہ دارانہ اور آئینی کردار ادا کرنا ہو گا۔

    انہوں نے اپنی گفتگو کے آخر میں ایک بار پھر مقتدر حلقوں سے مطالبہ کیا کہ عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد غیر قانونی پابندیوں اور ان کے بنیادی قانونی و طبی حقوق کی پامالی کا فوری طور پر جائزہ لیا جائے، اور جیل میں بند سابق وزیراعظم سے متعلق تمام زیرِ التوا معاملات کو ملکی قانون کے مطابق فی الفور حل کیا جائے۔

    عمران خان کئی ماہ سے قیدِ تنہائی میں ہیں، کسی قسم کی کوئی ‘ڈیل’ نہیں ہو رہی: علیمہ خان کا راولپنڈی میں بڑا دعویٰ

    کاشف عباسی ,june 02,2026

    راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جون 2026ء

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے مروجہ سیاسی افواہوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیراعظم کو گزشتہ کئی ماہ سے جیل میں سخت قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے حوالے سے میڈیا اور سیاسی حلقوں میں گردش کرنے والی خفیہ ‘ڈیل’ کی تمام خبریں اور دعوے بالکل بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔

    حکومتی دباؤ اور ڈیل کی افواہوں کا حقیقت سے موازنہ راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ جب بھی موجودہ حکومت کو عوامی ردعمل اور اپوزیشن کا سیاسی دباؤ بڑھتا ہوا محسوس ہوتا ہے، تو وہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے مختلف افواہیں اور ڈیل سے متعلق جھوٹی خبریں مارکیٹ میں لے آتی ہے، تاہم حقیقت میں پسِ پردہ ایسی کوئی بات نہیں ہو رہی۔

    فیملی کی طرف سے کسی سیاسی ریلیف یا رعایت کا مطالبہ نہیں انہوں نے میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو ان سے سوالات کرنے کے بجائے مقتدر اور متعلقہ حکام سے یہ پوچھنا چاہیے کہ عمران خان کو اتنے طویل عرصے سے قیدِ تنہائی میں کیوں بند رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے خاندان کی جانب سے حکومت یا مقتدر حلقوں سے کسی بھی قسم کے سیاسی ریلیف، این آر او یا رعایت کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا، بلکہ فیملی صرف اور صرف ان کے بنیادی قانونی، آئینی اور انسانی حقوق کی فوری فراہمی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

    عمران خان پر ذہنی دباؤ اور آنکھوں کے علاج کا ہنگامی مطالبہ علیمہ خان نے انتظامیہ پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو کئی ماہ سے مسلسل شدید ذہنی اور جسمانی دباؤ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ اور متعلقہ اداروں سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مطالبہ کیا کہ عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور ان کے مکمل تفصیلی طبی معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر جیل سے کسی مستند اور بڑے طبی ادارے (ہسپتال) میں منتقل کیا جائے، تاکہ ملک کے ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا باقاعدہ معائنہ اور علاج ممکن بنایا جا سکے۔

    ملاقاتوں کی تردید اور پارٹی قیادت کا دوٹوک موقف انہوں نے بعض مخصوص سیاسی شخصیات کی جانب سے پھیلائی جانے والی افواہوں کی سخت تردید کرتے ہوئے کہا کہ مقتدر حلقوں اور عمران خان کے درمیان حالیہ دنوں میں کسی بھی ملاقات سے متعلق گردش کرنے والی خبریں سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں۔ ان کے بقول، تحریک انصاف کی مرکزی قیادت بھی ان تمام خبروں کو سرکاری طور پر مسترد کر چکی ہے اور ڈیل سے متعلق کیے جانے والے تمام دعوے عوام کو گمراہ کرنے کی ایک ناکام کوشش ہیں۔

    عوامی ووٹ کا احترام اور گلگت بلتستان کا تذکرہ علیمہ خان نے اپنے بیان میں ملکی سیاست پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے ڈالے گئے ووٹ کا غیر مشروط احترام ہی کسی بھی حقیقی جمہوری نظام کی اصل بنیاد ہوتا ہے۔ اگر عوام کو ایک بار یہ احساس دلا دیا جائے کہ ان کے ووٹ کی کوئی قانونی اہمیت یا حیثیت ختم ہو گئی ہے، تو اس کے ملک پر انتہائی ہولناک اور منفی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے ملک کے بالائی خطے گلگت بلتستان کے موجودہ سیاسی ماحول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی شفاف اور آزادانہ سیاسی سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے ایک سازگار اور پرامن ماحول فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

    پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں سے یکجہتی کی اپیل انہوں نے تحریک انصاف کے تمام منتخب رہنماؤں، اراکینِ اسمبلی اور سینیٹرز سے پرزور اپیل کی کہ وہ اس مشکل وقت میں اپنے لاکھوں مخلص کارکنوں اور بانی عمران خان کے اصولی مؤقف کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہوں اور ملکی سیاست میں اپنا فعال اور انقلابی کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے تمام منتخب نمائندوں اور اعلیٰ قیادت کو ہر حال میں ورکرز کی توقعات پر پورا اترنا ہو گا۔

    علیمہ خان نے پریس کانفرنس کے آخر میں اس پختہ عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے بھائی عمران خان کے قانونی، آئینی، طبی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہیں گی اور اس کڑے وقت میں اپنی یہ قانونی و سیاسی جدوجہد آخری حد تک جاری رکھیں گی۔

    بجلی کی سبسڈی ختم نہیں ہو رہی، مستحق صارفین کو ریلیف ملتا رہے گا: وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری

    منصور احمد june 02,2026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جون 2026ء

    وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے بجلی کے بلوں سے پریشان عوام کے لیے بڑا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت دو سو (200) یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے تحفظ یافتہ (پروٹیکٹڈ) صارفین کی سبسڈی کسی صورت ختم نہیں کر رہی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ملک کے غریب اور مستحق صارفین کو بدستور ریلیف فراہم کیا جاتا رہے گا۔

    سبسڈی کے خاتمے کی افواہیں گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں جاری حالیہ اصلاحات کا بنیادی مقصد غریب صارفین کو زیادہ سے زیادہ معاشی سہولت اور ریلیف فراہم کرنا ہے، جبکہ بعض سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے سبسڈی کے خاتمے سے متعلق پھیلائی جانے والی تمام رپورٹس حقائق کے بالکل منافی اور سراسر گمراہ کن ہیں۔

    سبسڈی حاصل کرنے والے صارفین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ وفاقی وزیر نے پریس کانفرنس کے دوران اہم اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران سرکاری سبسڈی حاصل کرنے والے گھریلو صارفین کی تعداد میں ریکارڈ اور نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق، اس ریلیف سے مستفید ہونے والے صارفین کی تعداد پچانوے (95) لاکھ سے بڑھ کر اب دو کروڑ پندرہ لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ملک بھر کے تقریباً چھیاسی (86) فیصد گھریلو صارفین اس وقت حکومت کی جانب سے کسی نہ کسی صورت میں سستی بجلی یا سبسڈی حاصل کر رہے ہیں۔

    مستحقین کے لیے جدید بائیو میٹرک اور تصویری رجسٹریشن کا نظام وفاقی وزیر نے کہا کہ سبسڈی کے اس پورے نظام کو مزید شفاف، منصفانہ اور مؤثر بنانے کے لیے ایک جدید تصویری اور رمزی کوڈ (کیو آر کوڈ) پر مبنی ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس نئے انتظامی اقدام کا اصل مقصد ملک کے حقیقی مستحق صارفین کا سو فیصد درست ڈیٹا مرتب کرنا اور سبسڈی کی فراہمی کو مزید منظم بنانا ہے۔ اس سلسلے میں ملک بھر میں نئی رجسٹریشن کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے صارفین سے ان کی بنیادی معلومات حاصل کی جائیں گی۔

    بجلی کے بلوں پر کسی نئے ٹیکس کے نفاذ کی تردید سردار اویس لغاری نے عوام کو خوشخبری سناتے ہوئے واشنگٹن یا آئی ایم ایف کے دباؤ کے حوالے سے واضح کیا کہ بجلی کے بلوں پر کسی بھی نئے ٹیکس کے نفاذ کی کوئی تجویز اس وقت حکومت کے زیرِ غور نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور پوری کابینہ بجلی کے نرخوں میں بتدریج کمی لانے اور صارفین کو براہِ راست ریلیف فراہم کرنے کے اپنے تحریری وعدے پر قائم ہے اور توانائی کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات کے مثبت نتائج اب سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

    نجی بجلی گھروں سے معاہدوں پر نظرثانی اور ساڑھے تین کھرب روپے کی بچت انہوں نے بتایا کہ ملک کے آزاد بجلی پیدا کرنے والے نجی کارخانوں (آئی پی پیز) کے ساتھ ماضی کے معاہدوں پر کامیاب نظرثانی کے نتیجے میں قومی خزانے کو تقریباً ساڑھے تین کھرب روپے کی خطیر بچت ممکن ہوئی ہے۔ اسی طرح، بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے انتظامی نقصانات اور بجلی چوری میں نمایاں کمی لا کر ایک سو تریانوے (193) ارب روپے کی بچت حاصل کی گئی ہے، جبکہ مالی سال 2024-25 کے دوران ملک کے مجموعی گردشی قرضے میں سات سو اسی (780) ارب روپے کی تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    شمسی توانائی اور نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے حکومتی پالیسی وفاقی وزیر توانائی نے شمسی توانائی (سولر سسٹم) کے حوالے سے جاری افواہوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں شمسی توانائی کے فروغ کی مکمل اور اصولی حمایت کرتی ہے اور عوام میں سولر نظام اپنانے کی ہرگز حوصلہ شکنی نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ گھروں کی بجلی واپس گرڈ کو بیچنے کا نظام (نیٹ میٹرنگ) اپنے اصل قانون کے ساتھ مکمل برقرار ہے، صرف بلنگ کے طریقہ کار کو پہلے سے زیادہ شفاف اور پائیدار بنایا جا رہا ہے تاکہ امیر اور غریب تمام صارفین کو منصفانہ معاشی سہولت فراہم کی جا سکے۔

    انہوں نے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ موجودہ حکومت توانائی کے شعبے میں کڑے احتساب اور اصلاحات کا یہ عمل مستقبل میں بھی جاری رکھے گی تاکہ پاکستان کے بجلی کے نظام کو معاشی طور پر مستحکم، شفاف، چوری سے پاک اور مکمل طور پر عوام دوست بنایا جا سکے۔

    اٹلی میں چار پاکستانی مزدوروں کو گاڑی میں زندہ جلا کر قتل کرنے کا ہولناک انکشاف، دو پاکستانی ملزمان گرفتار

    محمود احمد june 02,2026

    روم (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جون 2026ء

    یورپی ملک اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک دل دہلا دینے والا اور انتہائی سفاکانہ واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں چار پاکستانی کھیت مزدوروں کو مبینہ طور پر ایک منی وین کے اندر بند کر کے زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا ہے۔ اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ واقعے میں ملوث ہونے کے قوی شبے میں دو پاکستانی شہریوں کو ہی گرفتار کر کے باقاعدہ تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

    پٹرول پمپ پر جلتی ہوئی وین سے لاشوں کی برآمدگی اطالوی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس کے مطابق، یہ افسوسناک اور انسانیت سوز واقعہ کلابریا کے علاقے امینڈولارا کے قریب ایک پٹرول پمپ پر پیش آیا، جہاں ایک جلتی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی شہریوں کی بری طرح جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں۔ ابتدائی کرائم سین تحقیقات کے مطابق، چاروں مقتولین گاڑی کے اندر ہی موجود تھے جب نامعلوم سفاک ملزمان نے مبینہ طور پر گاڑی کے تمام دروازے باہر سے مضبوطی سے بند کر دیے۔

    نگرانی کیمروں کی ریکارڈنگ اور لرزہ خیز مناظر تحقیقاتی اداروں کو پٹرول پمپ پر لگے حفاظتی نگرانی کیمروں (سی سی ٹی وی) کی جو ریکارڈنگ موصول ہوئی ہے، اس کے مطابق دو افراد نے گاڑی کے قریب آ کر مبینہ طور پر کوئی انتہائی تیز رفتار آتش گیر مادہ (پٹرول یا کیمیکل) پھینکا، جس کے نتیجے میں وین میں اچانک ہولناک آگ بھڑک اٹھی۔ گاڑی پر آگ پھینکنے کے فوری بعد ملزمان بڑی آسانی سے موقع سے فرار ہو گئے، جبکہ گاڑی کے دروازے باہر سے بند ہونے کے باعث اندر موجود بے بس افراد اپنی جانیں بچانے میں ناکام رہے۔

    فائر بریگیڈ کی آمد اور پولیس کی جانب سے قتل کی تصدیق اطلاعات کے مطابق، پٹرول پمپ انتظامیہ کی اطلاع پر فائر بریگیڈ کے اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر گاڑی میں لگی آگ پر قابو پایا، تاہم اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی اور گاڑی کے اندر موجود چاروں بدقسمت پاکستانی شہری جاں بحق ہو چکے تھے۔ مقامی پولیس کے اعلیٰ حکام نے اس واقعے کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ‘سنگین قتل’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کے مختلف پہلوؤں پر باریک بینی سے تحقیقات جاری ہیں اور گرفتار ملزمان سے مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

    تارکینِ وطن کے گروہوں میں دیرینہ کشیدگی اور تنازعات مقامی ذرائع اور رپورٹس کے مطابق، اٹلی کا یہ مخصوص علاقہ گزشتہ کچھ عرصے سے غیر قانونی و قانونی تارکینِ وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا۔ مقامی باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ زرعی شعبے (کھیتوں) میں مزدوری کرنے، رہائش کے مسائل اور قانونی دستاویزات (ویزہ و پیپرز) سے متعلق دیرینہ تنازعات کے باعث وہاں مقیم مختلف گروہوں کے درمیان شدید اختلافات اور دشمنی موجود تھی۔

    سخت سزا کا یقین اور پاکستانی برادری میں صدمے کی لہر اطالوی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس اندوہناک واقعے کے تمام اصل محرکات، پسِ پردہ کارفرما عناصر، ممکنہ دیگر مفرور ساتھی ملزمان اور واقعے کے پس منظر کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے۔ اطالوی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یقین دلایا ہے کہ اس گھناؤنے جرم کے ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے گی۔

    دوسری جانب، یورپ کے ملک اٹلی میں پیش آنے والے اس لرزہ خیز واقعے نے وہاں مقیم پوری پاکستانی برادری کو شدید صدمے اور خوف میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے حلقوں نے بھی اطالوی حکومت سے اس واقعے کی مکمل، شفاف اور فوری تحقیقات کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان سخت ٹیلیفونک گفتگو، ایران اور لبنان کے معاملات پر شدید اختلافات نمایاں

    کاشف عباسی ,june 02,2026

    واشنگٹن / تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 02 جون 2026ء

    امریکہ اور اسرائیل کے روایتی گہرے گٹھ جوڑ میں دراڑیں نمایاں ہونے لگی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ایک حالیہ ٹیلیفونک گفتگو میں شدید تلخی اور تکرار سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ پسِ پردہ جاری سفارتی کوششوں اور لبنان کی موجودہ نازک صورتحال کے حوالے سے اسرائیلی حکومت کی جارحانہ پالیسیوں پر اپنے سخت ترین تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    ایرانی مذاکرات اور اسرائیل کے غیر متناسب فوجی اقدامات رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے دوٹوک گفتگو کے دوران کہا کہ حالیہ اسرائیلی اقدامات سے خطے میں عسکری کشیدگی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ایران کے ساتھ جاری نازک مذاکراتی عمل کے مکمل طور پر متاثر ہونے اور ختم ہونے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے لبنان میں کی جانے والی عسکری کارروائیوں پر بھی کڑی تنقید کی اور بین الاقوامی قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں ‘غیر متناسب’ قرار دیا۔

    ٹرمپ کی نیتن یاہو کو سخت وارننگ اور الفاظ کی تلخی عالمی میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ امریکی صدر نے اسرائیلی وزیرِاعظم کو واضح طور پر خبردار کیا کہ ان کی موجودہ ہٹ دھرمی پر مبنی پالیسیوں کے باعث عالمی سطح پر اسرائیل کو شدید تنقید، سفارتی تنہائی اور بدنامی کا سامنا ہے۔ بعض باخبر ذرائع کے مطابق، گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے خلاف انتہائی سخت اور تند و تیز الفاظ بھی استعمال کیے، تاہم ان دعوؤں کی دونوں ممالک کے آزاد یا سرکاری ذرائع سے اب تک مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

    حالیہ برسوں کی سب سے کشیدہ اور تلخ ترین بات چیت رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ اور وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام نے اس ٹیلیفونک گفتگو کو دونوں رہنماؤں کے درمیان حالیہ کئی برسوں کی سب سے سخت، تلخ اور کشیدہ ترین بات چیت قرار دیا ہے۔ سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران, لبنان اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی جنگی صورتحال پر اب واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان تزویراتی اختلافات کھل کر دنیا کے سامنے نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔

    ایران کی تشویش اور سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ دوسری جانب، ایران نے لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر یہ یکطرفہ کارروائیاں فوری طور پر نہ روکی گئیں، تو خطے میں بحالیِ امن کے لیے جاری تمام پسِ پردہ سفارتی کوششوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اور مستقل استحکام کے لیے سب سے پہلے جنگی کشیدگی میں فوری کمی لانا ناگزیر ہے۔

    سیاسی و بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ مثلثی کشیدگی مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال کو مزید پیچیدہ اور دھماکہ خیز بنا سکتی ہے، جبکہ دوسری طرف خطے میں جنگ بندی اور سفارتی حل تلاش کرنے کی عالمی کوششوں کو بھی شدید ترین نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں پر مقناطیسی میدان کے مضبوط شواہد دریافت، فلکیات کی دنیا میں بڑی پیش رفت

    روزینہ اسماعیل.june 02,2026

    لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 02 جون 2026ء

    دنیا بھر کے ماہرینِ فلکیات نے نظامِ شمسی سے باہر دور دراز کائنات میں موجود مختلف سیاروں پر مقناطیسی میدان (میگنیٹک فیلڈ) کی موجودگی کے اب تک کے سب سے اہم اور ٹھوس شواہد حاصل کر لیے ہیں۔ سائنسی حلقوں کی جانب سے اسے فلکیات اور خلائی تحقیق کی دنیا میں ایک بہت بڑی اور تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    جدید دوربینوں کی مدد سے سات بڑے سیاروں کا مطالعہ سائنسی رپورٹ کے مطابق، فلکیاتی سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی کے خطوں میں نصب دنیا کی جدید ترین دوربینوں کے مشاہدات اور ڈیٹا کی مدد سے نظامِ شمسی سے باہر موجود سات بڑے اور انتہائی گرم گیسوں سے بھرپور سیاروں کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ اس جدید ترین تحقیق کے دوران ان دور دراز سیاروں پر چلنے والی خوفناک حد تک تیز رفتار ہواؤں کے رویے اور رخ کا گہرا جائزہ لیا گیا، جس کے نتیجے میں ان کے گرد ایک مضبوط مقناطیسی میدان کی موجودگی کے واضح اور ناقابلِ تردید آثار سامنے آئے۔

    مقناطیسی میدان کیا ہے اور اس کی اہمیت؟ خلائی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقناطیسی میدان دراصل ایک غیر مرئی (نظر نہ آنے والی) حفاظتی قوت یا ڈھال ہوتی ہے، جو کسی بھی سیارے کے اندرونی حصے میں موجود برقی طور پر متحرک مادّوں کی تیز حرکت کے باعث پیدا ہوتی ہے۔ ہماری زمین سمیت ہمارے پورے نظامِ شمسی کے بیشتر سیاروں میں یہ مقناطیسی میدان پہلے سے موجود ہے، جو ان سیاروں کو سورج کی تباہ کن شعاعوں اور مختلف دیگر خطرناک خلائی خطرات سے محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

    مشتری جیسے دیو ہیکل سیارے اور وہاں کا درجہ حرارت حالیہ تحقیق میں جن ساتوں سیاروں کا مطالعہ کیا گیا ہے، وہ حجم اور بناوٹ کے اعتبار سے ہمارے نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے ‘مشتری’ جیسے یا اس سے بھی کہیں زیادہ بڑے (دیو ہیکل) ہیں۔ یہ تمام سیارے کائنات میں اپنے اپنے میزبان ستاروں (سورج) کے انتہائی قریب ہو کر گردش کرتے ہیں، جس کے باعث ان سیاروں کا ایک حصہ مسلسل شدید گرمی کی لپیٹ میں رہتا ہے جبکہ دوسرا حصہ مستقل تاریکی اور سردی کا شکار رہتا ہے۔ درجہ حرارت کے اسی شدید ترین فرق کے باعث ان سیاروں پر خوفناک فضائی دباؤ بنتا ہے اور انتہائی تیز رفتار طوفانی ہوائیں چلتی ہیں۔

    پچیس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوائیں سائنس دانوں کے مطابق، ان میں سے بعض سیاروں پر چلنے والی ہواؤں کی رفتار تقریباً پچیس ہزار (25,000) کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جاتی ہے، جو کہ ہمارے نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری پر چلنے والی طوفانی ہواؤں کی رفتار سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔ انہی ہواؤں کی غیر معمولی حرکات، دباؤ اور رفتار کے جدید ترین ریاضیاتی تجزیے نے محققین کو ان سیاروں کے گرد مقناطیسی میدان کی موجودگی کے حتمی شواہد فراہم کیے۔

    کائنات میں زندگی کی تلاش کے لیے نئی امید ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان نئے دریافت ہونے والے سیاروں کے مقناطیسی میدان مشتری کے انتہائی طاقتور مقناطیسی میدان جتنے مضبوط نہیں ہیں، تاہم ان کی موجودگی اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ وسیع کائنات میں سیاروں کی بنیادی ساخت اور ان کے ارتقاء کے عمل میں مقناطیسی میدان ایک اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق، یہ شاندار دریافت نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں کے بارے میں انسانی علم میں نمایاں اضافہ کرے گی اور مستقبل میں کائنات کے دور دراز حصوں میں ایسے نئے سیاروں کی تلاش میں انتہائی مددگار ثابت ہوگی جہاں زندگی کے وجود کے امکانات ہو سکتے ہیں۔

    لبنان کی صورتحال پر سلامتی کونسل میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف، اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت

    محمود احمد june 02,2026

    نیویارک / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 02 جون 2026ء

    پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں لبنان کی مسلسل بگڑتی ہوئی تزویراتی اور انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان نے لبنان پر جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں، غیر قانونی زمینی دراندازیوں اور لبنانی علاقوں پر قبضے کو بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے بنیادی منشور (چارٹر) کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    لبنان کے بیس فیصد رقبے پر قبضہ اور شہریوں کی جبری نقل مکانی اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مستقل جنگ بندی کے انتظامات اور تمام تر بین الاقوامی سفارتی کوششوں کے باوجود لبنان میں سلامتی اور انسانی صورتحال لمحہ بہ لمحہ خراب ہو رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث اس وقت لبنان کے تقریباً بیس فیصد رقبے پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ قائم ہو چکا ہے، جبکہ وہاں کی مقامی شہری آبادی کو جبری نقل مکانی اور شدید ترین انسانی مشکلات کا سامنا ہے۔

    ہزاروں ہلاکتیں، لاکھوں بے گھر اور امدادی کارکنوں پر حملے پاکستانی مندوب نے ہنگامی اجلاس کو زمینی حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ رواں سال مارچ کے مہینے سے لے کر اب تک ہزاروں معصوم انسان ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ دس لاکھ سے زائد لبنانی شہری اپنے ہی ملک میں بے گھر ہو کر در بدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے طبی عملے، ہسپتالوں اور امدادی کارکنوں پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کی بھی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بزدلانہ اقدامات بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین ترین خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔

    ثقافتی ورثے کی تباہی اور ملکی خودمختاری کا مطالبہ سفیر عاصم افتخار احمد نے لبنان کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی مقامات کو جان بوجھ کر نشانہ بنائے جانے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ عالمی ثقافتی ورثے کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا یہ اصولی مؤقف ہے کہ لبنان کی قومی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کا دنیا بھر میں ہر صورت احترام کیا جائے۔

    سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر عملدرآمد کا مطالبہ پاکستانی مستقل مندوب نے کہا کہ پاکستان ان تمام سفارتی کوششوں کی غیر مشروط حمایت کرتا ہے جن کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جنگی کشیدگی کا خاتمہ اور پائیدار امن کا قیام ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے اراکین کے سامنے زور دے کر یہ مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل کی منظور شدہ تاریخی ‘قرارداد نمبر 1701’ پر فوری اور مکمل عملدرآمد کروایا جائے اور اسرائیلی افواج کا ‘بلیو لائن’ (لبنانی سرحد) تک مکمل انخلا یقینی بنایا جائے۔

    لبنانی عوام سے یکجہتی اور عالمی برادری کو پکار پاکستان نے لبنان کی حکومت اور وہاں کے غیور عوام کے ساتھ اپنے مکمل اور برادرانہ یکجہتی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک مستحکم، آزاد اور پرامن لبنان پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن اور سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان نے بین الاقوامی برادری اور عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچانے، مزید عسکری کشیدگی کو روکنے اور سفارتی حل کو آگے بڑھانے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کریں۔

    اپنے خطاب کے آخر میں پاکستانی مندوب نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ خطے میں دیرپا اور مستقل امن صرف اور صرف باہمی مذاکرات، سنجیدہ سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے، جبکہ یکطرفہ فوجی اقدامات مسائل کے مستقل حل کے بجائے ہمیشہ نئی اور پیچیدہ جنگی الجھنیں پیدا کرتے ہیں۔

    پاکستان نے طویل المدتی تنازعات کے پھیلاؤ کے خطرات سے خبردار کر دیا، اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب کا اہم خطاب

    محمود احمد june 02,2026

    اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 02 جون 2026ء

    پاکستان نے عالمی سطح پر جاری جنگی صورتحال کے تناظر میں ایک بار پھر اپنا واضح موقف پیش کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ طویل عرصے تک جاری رہنے والے تنازعات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی انتہائی سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔ پاکستان کے مطابق، ان جنگوں کے خطرناک اثرات اب مخصوص سرحدوں سے تجاوز کر کے دیگر پرامن ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

    سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس اور مستقل مندوب کا بیانیہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اور اہم اجلاس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ طویل المدتی تنازعات فریقین کے مابین شدید غلط فہمیوں، تزویراتی کشیدگی اور بڑے تصادم کے امکانات کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف علاقائی استحکام داؤ پر لگ جاتا ہے بلکہ بین الاقوامی امن کو بھی شدید ترین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

    یوکرین تنازع پر پاکستان کا اصولی موقف انہوں نے یوکرین کے دیرینہ تنازع کے حوالے سے پاکستان کے روایتی اور اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے فریقین کے مابین تعمیری مکالمے، فعال سفارت کاری اور پرامن حل کی حمایت کرتا آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نازک صورتحال میں مزید فوجی کشیدگی اس بحران کو ایک وسیع تر اور تباہ کن تصادم میں تبدیل کر سکتی ہے، جس کے بھیانک اثرات کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا محسوس کرے گی۔

    ریاستوں کی خودمختاری اور مسلح ڈرونز کی دراندازی پر تشویش پاکستانی مندوب نے دنیا کی تمام ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے غیر مشروط احترام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ بنیادی اصول بین الاقوامی قانون اور عالمی نظام کی بنیاد ہیں اور ان پر ہر صورت عمل ہونا چاہیے۔ انہوں نے پڑوسی ممالک کی فضائی حدود میں مسلح ڈرونز کی مبینہ دراندازی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی معصوم شہریوں کی ہلاکتوں پر پاکستان کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار بھی کیا۔

    جدید جنگی ٹیکنالوجی اور انسانی قوانین کا چیلنج سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات کی نشاندہی کی کہ جدید جنگوں میں ریموٹ کنٹرول ڈرونز کے بڑھتے ہوئے اندھا دھند استعمال نے نئے انسانی اور قانونی چیلنجز پیدا کر دیے ہیں، جن سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی انسانی قوانین پر مکمل عملدرآمد بے حد ضروری ہو چکا ہے۔ انہوں بھی اس بات پر سخت زور دیا کہ جنگی ٹیکنالوجی کے استعمال میں معصوم انسانی جانوں کے تحفظ کو ہمیشہ اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔

    جائز سلامتی مفادات کا تسلیم کیا جانا ناگزیر پاکستان کے مستقل مندوب نے یوکرین تنازع کے مستقل حل کے لیے تین بنیادی نکات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران کے خاتمے کے لیے تمام فریقین کے جائز سلامتی مفادات کو تسلیم کرنا، اقوامِ متحدہ کے منشور کے زریں اصولوں کی پاسداری کرنا اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں امریکہ کی سہولت کاری میں جاری مذاکراتی عمل کو تنازع کے حل کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے اس کی جلد اور غیر مشروط بحالی پر زور دیا۔

    انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ محض عسکری ذرائع یا جنگی طاقت کسی بھی خطے میں کبھی پائیدار امن قائم نہیں کر سکتے، جبکہ بامعنی، سنجیدہ اور مسلسل مذاکرات ہی خطے میں دیرپا امن کی واحد ضمانت فراہم کر سکتے ہیں۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے فوراً اور مکمل جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین سے پرخلوص اپیل کی کہ وہ ہٹ دھرمی چھوڑ کر خلوصِ نیت کے ساتھ امن کے راستے کی طرف واپس آئیں۔

    پاکستان یورپی یونین کے ساتھ کثیر الجہتی شراکت داری مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے: وزیراعظم شہباز شریف

    کاشف عباسی ,june 01,2026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 1 جون 2026ء

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے واشنگٹن اور دیگر عالمی دارالحکومتوں میں جاری سفارتی تبدیلیوں کے تناظر میں واضح کیا ہے کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنی کثیر الجہتی تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا شدید خواہاں ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ دونوں فریقوں کے مابین تجارتی، معاشی، اقتصادی اور سفارتی تعاون کو آنے والے دنوں میں مزید وسعت دی جائے گی۔

    دفترِ وزیراعظم میں اعلیٰ سطحی ملاقات اور شرکا وزیراعظم ہاؤس میں یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ اور یورپی کمیشن کی نائب صدر کاجا کالس سے ایک اہم ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے موقع پر پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور دیگر سینیئر حکام بھی موجود تھے۔

    تزویراتی مکالمے کے آٹھویں دور پر اطمینان کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان جاری ‘تزویراتی مکالمے’ (اسٹریٹجک ڈائیلاگ) کے آٹھویں دور کے کامیاب انعقاد پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تجارت، نئی سرمایہ کاری، ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات، علاقائی سلامتی، ہجرت کے قوانین، پائیدار ترقی اور باہمی رابطہ کاری (کنیکٹیویٹی) سمیت مختلف اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

    جی ایس پی پلس سہولت کی اہمیت اور برآمدات انہوں نے پاکستان اور یورپی یونین کے مابین مضبوط تجارتی تعلقات کے فروغ میں ‘جی ایس پی پلس’ (GSP Plus) سہولت کی کلیدی اہمیت کو خصوصی طور پر اجاگر کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس تجارتی رعایتی پروگرام نے یورپی مارکیٹ میں پاکستانی برآمدات میں اضافے اور دونوں خطوں کے معاشی روابط کو مستحکم بنانے میں ہمیشہ ایک اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔

    خلیجی خطے میں امن اور عسکری و سفارتی قیادت کا کردار وزیراعظم شہباز شریف نے خلیجی خطے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی مخلصانہ سفارتی کوششوں کی حمایت کرنے پر یورپی یونین کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی عسکری اور سیاسی قیادت، بشمول نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر، خطے میں پائیدار امن کے قیام اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنا انتہائی اہم اور تاریخی کردار ادا کر رہے ہیں۔

    ملاقات کے دوران جنوبی ایشیا کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، پڑوسی ملک افغانستان سے متعلق امور اور مختلف دیگر پیچیدہ علاقائی و عالمی معاملات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    یورپی قیادت کو دورہ پاکستان کی دعوت وزیراعظم نے یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں باضابطہ طور پر پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔ اس موقع پر یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالس نے علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کو دل کھول کر سراہا اور پاکستان کے ساتھ تزویراتی تعلقات کو مزید مضبوط اور وسیع بنانے میں یورپی یونین کی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

    انگلش فٹبال کے ایک یادگار دور کا اختتام؛ مایہ ناز فٹبالر جیمز ملنر کا ریٹائرمنٹ کا اعلان

    محمود احمد june 01,2026

    لندن (نیوز اینڈ نیوز) – 1 جون 2026ء

    انگلینڈ کے مایہ ناز اور انتہائی تجربہ کار فٹبالر جیمز ملنر نے چوبیس طویل سیزنز پر محیط اپنے شاندار اور تاریخی پیشہ ورانہ سفر کے بعد فٹبال کی دنیا کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہنے (ریٹائرمنٹ) کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ چالیس سالہ مڈفیلڈر نے انگلش پریمیئر لیگ کی تاریخ میں سب سے زیادہ میچز کھیلنے والے کھلاڑی کے طور پر اپنے شاندار کیریئر کا اختتام کیا ہے۔

    آخری سیزن اور میچز کا منفرد عالمی ریکارڈ جیمز ملنر نے اپنے فٹبال کیریئر کے آخری تین سیزن مشہور کلب ‘برائٹن اینڈ ہوو البیون’ کے ساتھ گزارے اور مجموعی طور پر چھ سو اٹھاون (658) لیگ میچز کھیل کر تاریخ کا ایک انتہائی منفرد اور ناقابلِ شکست ریکارڈ قائم کیا۔ انہوں نے رواں سال فروری کے مہینے میں سابق ریکارڈ ہولڈر گیرتھ بیری کا سب سے زیادہ میچز کھیلنے کا ریکارڈ توڑ کر یہ تاریخی اعزاز اپنے نام کیا تھا۔

    سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام اور سفر کا آغاز سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے ایک انتہائی جذباتی پیغام میں جیمز ملنر نے کہا کہ انگلش پریمیئر لیگ میں چوبیس یادگار سیزن گزارنے کے بعد اب کھیل کو باوقار طریقے سے الوداع کہنے کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ محض سولہ برس کی عمر میں اپنے پسندیدہ کلب ‘لیڈز یونائیٹڈ’ کی نمائندگی کرتے ہوئے جس سفر کا آغاز انہوں نے کیا تھا، وہ ان کی ذاتی توقعات سے کہیں زیادہ کامیاب اور سنسنی خیز ثابت ہوا۔

    مختلف نامور کلبز کی نمائندگی اور کامیابیاں اپنے طویل اور تاریخی کیریئر کے دوران انہوں نے دنیا کے مایہ ناز فٹبال کلبز جیسے کہ نیو کیسل یونائیٹڈ، ایسٹن ولا، مانچسٹر سٹی، لیورپول اور برائٹن کی کامیابی کے ساتھ نمائندگی کی۔ عسکری اور تزویراتی میدان کی طرح فٹبال میں بھی ان کا ‘مانچسٹر سٹی’ کے ساتھ دور سب سے زیادہ کامیاب رہا جہاں انہوں نے دو بڑے لیگ ٹائٹل جیتے، جبکہ ‘لیورپول’ کے ساتھ کھیلتے ہوئے بھی متعدد دیگر اہم عالمی اعزازات اپنے نام کیے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے اپنے ملک انگلینڈ کی قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے دو عالمی کپ (ورلڈ کپ) اور دو یورپی چیمپئن شپ مقابلوں میں بھی شرکت کا اعزاز حاصل کیا۔

    فٹبال سے وابستہ یادیں اور عظیم کھلاڑیوں کی فہرست جیمز ملنر کا اپنے پیغام کے اختتام پر کہنا تھا کہ فٹبال کے اس کھیل نے انہیں زندگی میں ان کی سوچ اور توقعات سے کہیں زیادہ نوازا ہے۔ کھیل کے دوران بننے والی سچی دوستیوں، یادگار لمحات اور تاریخی کامیابیوں کو وہ ہمیشہ اپنے دل کے قریب رکھیں گے۔

    واضح رہے کہ پریمیئر لیگ کی تاریخ میں چھ سو سے زائد میچز کھیلنے والے دنیا کے گنتی کے چند عظیم کھلاڑیوں میں جیمز ملنر کے علاوہ ریان گگز اور فرینک لیمپارڈ جیسے لیجنڈز بھی شامل ہیں۔ کھیلوں کے مبصرین کی جانب سے ان کی اس ریٹائرمنٹ کو انگلش فٹبال کے ایک سنہری اور یادگار دور کا اختتام قرار دیا جا رہا ہے۔

    ایران کا امریکہ کے ساتھ مذاکرات روکنے اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا بڑا اعلان، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ

    محمود احمد june 01,2026

    تہران (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

    امریکی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر، اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری تمام پسِ پردہ سفارتی پیغامات کے تبادلے کو فوری طور پر روکنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تہران نے عالمی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے بحری راستے ‘آبنائے ہرمز’ کو مکمل بند کرنے اور دیگر علاقائی محاذوں کو فعال کرنے کا سنگین عندیہ دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اب مذاکرات کے تمام امکانات تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور خطے کی صورتحال ایک نئے اور ہولناک مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔

    اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت اور لبنانی علاقوں سے انخلا کا مطالبہ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، حکام نے غزہ اور لبنان میں جاری اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ لبنانی علاقوں سے فی الفور اور مکمل انخلا کرے۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو خطے میں جاری اس تمام خونریزی اور کشیدگی کا براہِ راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک پر کڑی تنقید کی ہے۔

    آبنائے ہرمز اور باب المندب کو بند کرنے کا اعلان ایرانی میڈیا کے مطابق، تہران حکام نے تزویراتی طور پر اہم ترین بین الاقوامی بحری گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل بند کرنے اور بحیرہ احمر کے تجارتی راستے ‘باب المندب’ سمیت دیگر مزاحمتی محاذوں کو متحرک کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، سفارتی و عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ایران کی جانب سے کیے جانے والے عملی اقدامات اور ان کے حتمی وقت کے بارے میں ابھی تک تفصیلی معلومات سامنے نہیں آئیں۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کابینہ اجلاس سے اہم خطاب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام اور ملک کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت ہر قسم کے بیرونی چیلنج اور جنگی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک اپنے اصولی مؤقف اور دفاعی پالیسیوں پر سختی سے ثابت قدم رہے گا اور ہر مشکل ترین صورتحال کا دلیری سے مقابلہ کرے گا۔ صدر مسعود پزشکیان کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی قوم اپنے اصولوں اور مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرے گی۔ انہوں نے قومی اتحاد، ملکی استقامت اور اسلامی مزاحمت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے چنے ہوئے راستے پر مضبوطی سے گامزن رہے گا۔

    وزارتِ خارجہ کا امریکہ پر سنگین الزامات اور سخت موقف دوسری جانب، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس کے دوران امریکہ پر شدید ترین تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ خطے میں معصوم انسانوں کے خلاف جاری تمام اسرائیلی اقدامات اور جنگی جرائم کا برابر کا شریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک ناقابلِ اعتبار ملک ہے جو مسلسل اپنا سفارتی مؤقف تبدیل کرتا ہے اور مذاکرات کے دوران جان بوجھ کر نئے مطالبات سامنے لاتا رہتا ہے۔

    ترجمان وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ ایران بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے دفاع کے حق کو مکمل محفوظ سمجھتا ہے، اور اگر کسی بھی پڑوسی یا دور کے ملک کی سرزمین یا عسکری تنصیبات ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے استعمال کی گئیں، تو ایران ان کے خلاف سخت ترین جوابی کارروائی کا پورا قانونی و اخلاقی حق رکھتا ہے۔

    عالمی منڈیوں اور تجارتی حلقوں میں شدید ہلچل مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی اس شدید ترین عسکری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر گہری تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے دنیا کے مصروف ترین بحری راستوں کی بندش کی دھمکی کے بعد عالمی منڈیاں، تیل کی کمپنیاں اور بین الاقوامی تجارتی حلقے اس بدلتی ہوئی صورتحال پر انتہائی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سے عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔

    راولپنڈی تعلیمی بورڈ کا انٹرمیڈیٹ امتحانات میں نقل مافیا کے خلاف سخت کریک ڈاؤن؛ جدید ترین کمانڈ سینٹر سے مانیٹرنگ جاری

    منصور احمد june 01,2026

    راولپنڈی(نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

    وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی امتحانی نظام کے وژن، چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان اور صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی خصوصی ہدایات پر راولپنڈی میں انٹرمیڈیٹ امتحانات کو شفاف بنانے کے لیے بڑے اقدامات سامنے آئے ہیں۔ کمشنر و چیئرمین تعلیمی بورڈ راولپنڈی انجینئر عامر خٹک کی مؤثر حکمت عملی کے تحت انٹرمیڈیٹ اول سالانہ امتحان 2026ء میں شفافیت اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔

    جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے ریئل ٹائم مانیٹرنگ بورڈ حکام کے مطابق، امتحانی عمل کی سخت نگرانی کے لیے ایک جدید ترین کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کیا گیا ہے، جس کے ذریعے تمام امتحانی مراکز کی لائیو (ریئل ٹائم) مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، خصوصی مانیٹرنگ ٹیمیں اور بورڈ کے اعلیٰ افسران مختلف امتحانی مراکز کے مسلسل دورے کر رہے ہیں تاکہ امتحانات کے انعقاد میں شفافیت، میرٹ اور غیر جانبداری کے اصولوں پر سو فیصد عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

    امتحانی مرکز میں نقل کرتے ہوئے امیدوار رنگے ہاتھوں گرفتار کنٹرولر امتحانات تعلیمی بورڈ راولپنڈی تنویر اصغر اعوان کی خصوصی ہدایات پر امتحانی مراکز میں جاری سخت نگرانی کے دوران ایک بڑی کامیابی ملی ہے، جہاں ایک اُمیدوار کو نقل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا۔ امتحانی ضوابط کے سخت قانون کے مطابق، نقل کرنے والے اُمیدوار کے خلاف فوری طور پر کیس رجسٹر کر لیا گیا ہے اور فائل کو مزید سخت قانونی کارروائی کے لیے ڈسپلن برانچ بھجوا دیا گیا ہے۔

    ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر بلاامتیاز کارروائی کا انتباہ کنٹرولر امتحانات تنویر اصغر اعوان نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا کہ تعلیمی بورڈ راولپنڈی امتحانات کے شفاف انعقاد، حقیقی حقدار طلبہ کے میرٹ کے تحفظ اور بوٹی مافیا یا نقل کے مکمل خاتمے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں خبردار کیا کہ امتحانی ضابطہ اخلاق کی معمولی سی خلاف ورزی بھی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور قواعد و ضوابط کے مطابق ہر کسی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے تمام طلبا اور اُمیدواروں کو مخلصانہ مشورہ دیا کہ وہ صرف اپنی صلاحیتوں اور دن رات کی محنت پر اعتماد کرتے ہوئے امتحانات میں حصہ لیں اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی یا شارٹ کٹ سے دور رہیں۔

    شفافیت اور احتساب کے فروغ کا عزم تعلیمی بورڈ راولپنڈی کی انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ امتحانی نظام میں اعلیٰ درجے کی شفافیت، دیانتداری اور کڑے احتساب کے فروغ کے لیے بورڈ کے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا، تاکہ محنتی طلبہ کو ایک منصفانہ، پرامن اور سازگار امتحانی ماحول فراہم کیا جا سکے۔

    خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات پر عید کے دوران سیاحوں کی آمد توقع سے کم، ماہرین کا سہولیات کی کمی پر تشویش کا اظہار

    کاشف عباسی ,june 01,2026

    پشاور(نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

    عیدالاضحیٰ کی طویل تعطیلات کے دوران خیبرپختونخوا کے معروف اور خوبصورت سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی آمد توقعات سے نمایاں طور پر کم رہی ہے۔ سرکاری طور پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گلیات، سوات، کالام، کمراٹ، کاغان اور ناران سمیت صوبے کے مختلف تفریحی علاقوں میں مجموعی طور پر گیارہ لاکھ چونسٹھ ہزار سے زائد افراد نے سفر کیا، جبکہ اس پورے سیزن کے دوران غیر ملکی سیاحوں کی تعداد انتہائی مایوس کن یعنی ایک سو سے بھی کم ریکارڈ کی گئی ہے۔

    مختلف وادیوں میں سیاحوں کی آمد کے سرکاری اعداد و شمار صوبائی سیاحتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق، عید کے دنوں میں سب سے زیادہ سیاحوں نے وادی سوات کا رخ کیا جہاں تین لاکھ تینتیس ہزار سے زائد افراد تفریح کے لیے پہنچے۔ اس کے علاوہ سابق قبائلی اضلاع (ضم شدہ اضلاع) میں تین لاکھ چورانوے ہزار، وادی ناران میں ایک لاکھ دس ہزار، جبکہ مری کے قریب واقع گلیات کے مختلف خوبصورت علاقوں میں بھی ایک لاکھ دس ہزار سے زائد افراد نے سیاحت کی۔

    سرکاری اعداد و شمار پر ماہرین کے تحفظات سیاحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے ان سرکاری اعداد و شمار پر تفصیلی تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاری کیے گئے ان اعداد و شمار میں وہاں کی مقامی آبادی اور عید کی تعطیلات گزارنے کے لیے اپنے آبائی گھروں کو جانے والے افراد کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ اس خلط ملط کی وجہ سے اصل سیاحوں (تفریح کی غرض سے آنے والوں) کی اصل تعداد کا درست اور شفاف اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

    انتظامی کمزوریاں اور مری سے موازنہ ماہرین کے مطابق، گلیات سمیت خیبرپختونخوا کے دیگر سیاحتی علاقوں میں بیک وقت لاکھوں افراد کو ٹھہرانے کی وسیع گنجائش موجود ہے، تاہم جدید سہولیات کی شدید کمی، ناقص طویل المدتی منصوبہ بندی، انتظامی کمزوریوں اور بنیادی ڈھانچے (سڑکوں وغیرہ) کی خرابی کے باعث یہ خوبصورت علاقے اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ ماہرین نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ عید کے دوران مری میں ہوٹلوں اور رہائشی مقامات پر شدید رش رہا اور بہت سے سیاحوں کو مجبورا اپنی گاڑیوں میں راتیں گزارنا پڑیں، لیکن اس کے باوجود بڑی تعداد میں لوگوں نے قریبی گلیات کا رخ کرنے کے بجائے مری ہی میں مقیم رہنے کو ترجیح دی۔ ماہرین کے نزدیک اس کی بنیادی وجہ گلیات میں مناسب، فیملی کے لیے محفوظ اور سستی رہائش گاہوں کی شدید کمی اور بنیادی سیاحتی سہولیات کا فقدان ہے۔

    سیاحت کے سنہری دور کا خاتمہ اور بند منصوبے سیاحتی ماہرین نے افسوس کے ساتھ نشاندہی کی کہ اب سے کئی برس قبل خیبرپختونخوا کے ان سیاحتی مقامات پر سیاحوں کا رش موجودہ صورتحال سے کہیں زیادہ ہوا کرتا تھا؛ ماضی میں عید کے موقع پر وادی سوات، کالام اور گلیات کے ہوٹلوں میں کمرے ملنا ناممکن ہو جاتا تھا، لیکن اب صورتحال اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کے اہم ترین تفریحی منصوبے، جیسے کہ ‘ایوبیہ کی چیئر لفٹ’، طویل عرصے سے بند پڑی ہے جبکہ متعدد دیگر تفریحی منصوبے بھی حکومت کی عدم توجہ کا شکار ہیں، جس سے صوبائی سیاحت کے فروغ پر انتہائی منفی اور گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

    حکومت سے اصلاحات اور خصوصی تربیت کا مطالبہ ماہرین نے صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ سیاحت کے شعبے میں وسیع تجربہ اور وژن رکھنے والے پیشہ ور افراد کو محکمہ سیاحت میں اہم ذمہ داریاں سونپی جائیں۔ اس کے ساتھ ہی، مقامی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے افسران کو سیاحت اور مہمان نوازی (ہوسپیٹلٹی) کے شعبے کی خصوصی تربیت دی جائے اور تمام سیاحتی مقامات پر پینے کے صاف پانی، سستی رہائش اور اچھے راستوں جیسی بنیادی سہولیات کو ہنگامی بنیادوں پر بہتر بنایا جائے تاکہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں دوبارہ اضافہ ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مؤثر منصوبہ بندی، جدید ڈیجیٹل سہولیات اور بہتر سکیورٹی انتظامات فراہم کیے جائیں، تو خیبرپختونخوا کا یہ سیاحتی شعبہ صوبے کی معیشت کے لیے ایک انتہائی مضبوط، مستقل اور پائیدار ذریعہ آمدن بن سکتا ہے۔

    گلگت بلتستان میں شفاف انتخابات کا مطالبہ، فارم 45 کے تحفظ پر زور

    کاشف عباسی ,june 01,2026

    شگر (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شگر میں ایک بڑے اور عوامی انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں صاف اور شفاف انتخابات کرانے کا زوردار مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں پر خصوصی زور دیا ہے کہ وہ ووٹنگ کے پورے عمل کی خود نگرانی کریں اور انتخابی نتائج سے متعلق تمام ضروری دستاویزات کو محفوظ بنائیں۔

    پیپلز پارٹی سے گلگت بلتستان کے عوام کا دیرینہ رشتہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ گلگت بلتستان کے غیور عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان پیپلز پارٹی کا مخلصانہ ساتھ دیتے آرہے ہیں اور یہی عوامی محبت و وفاداری ان کی سیاسی طاقت کا اصل سرچشمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کی جرات کی بدولت وہ آج بھی فخر کے ساتھ ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ کا تاریخی نعرہ بلند کرتے ہیں۔

    گزشتہ انتخابی نتائج پر تحفظات اور دھاندلی کے الزامات انہوں نے مخالفین پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی متعدد جیتی ہوئی نشستیں زبردستی چھینی گئیں، اسی لیے یہ اب بے حد ضروری ہو چکا ہے کہ آئندہ انتخابات مکمل طور پر آزاد، منصفانہ اور شفاف ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اس بار اپنے ووٹ کی خود حفاظت کریں اور انتخابی عمل پر دائرے کی طرح گہری نظر رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کی انتظامی بے ضابطگی کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔

    عوامی مینڈیٹ کا احترام اور کارکنوں سے اپیل چیئرمین پیپلز پارٹی نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ اس بار عوامی مینڈیٹ کا ہر حال میں احترام کیا جائے گا اور اب کسی بھی دوسری سیاسی جماعت کو عوام کا ووٹ چوری کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ انہوں نے کارکنوں سے پرجوش اپیل کی کہ وہ انتخابی دن بھرپور انداز میں پولنگ اسٹیشنز پر متحرک رہیں اور ہر مرحلے پر عوام کے ڈالے گئے ووٹ کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

    قائدین کی قربانیوں اور نظریے کا تذکرہ اپنے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے محترمہ بینظیر بھٹو اور قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کی لازوال سیاسی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان عظیم رہنماؤں نے پاکستان کے پسے ہوئے عوام کو آئینی حقوق، جمہوری شعور اور بین الاقوامی سطح پر ایک نئی شناخت فراہم کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی ترقی، جمہوریت کی بقا اور قومی وقار کے لیے پیپلز پارٹی کی دی گئی قربانیاں ملکی تاریخ کا ایک روشن اور اہم حصہ ہیں۔

    جلسے کے اختتام پر انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ وہ آنے والے ان اہم انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لیں اور اپنے ووٹ کی طاقت کا صحیح استعمال کر کے علاقے کی ترقی، خوشحالی اور اپنے بنیادی عوامی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

    ایران پر امریکی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ، تہران کا جوابی کارروائی کا دعویٰ

    محمود احمد june 01,2026

    تہران / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

    امریکہ اور ایران کے درمیان دیرینہ کشیدگی ایک بار پھر انتہائی خطرناک اور نازک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے ایرانی سرزمین پر موجود اہم فوجی تنصیبات کو براہِ راست نشانہ بنانے کے بعد ایران نے بھی امریکہ کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔ دونوں طاقتوں کے درمیان اس براہِ راست تصادم کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں اور صورتحال انتہائی دھماکہ خیز ہو چکی ہے، جبکہ خطے کے متعدد پڑوسی ممالک میں ہائی سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    امریکی حملے اور نشانہ بننے والے اہداف امریکی مرکزی کمان کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ بیان کے مطابق، امریکی افواج نے جنوبی ایران کے ساحلی علاقوں گورک اور جزیرہ قشم میں واقع ایرانی فوج کے ریڈار سسٹمز، ڈرون کنٹرول مراکز اور فضائی دفاعی تنصیبات پر شدید حملے کیے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ یکطرفہ کارروائی ایران کی جانب سے گزشتہ دنوں امریکی ڈرون کو مار گرانے اور خطے میں بڑھتی ہوئی جارحانہ عسکری سرگرمیوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق، اس آپریشن کے دوران ایرانی فضائی دفاعی نظام کے بعض حصوں اور ڈرون کنٹرول مرکز کو کامیابی سے تباہ کیا گیا ہے، کیونکہ یہ تنصیبات بین الاقوامی سمندری گزرگاہوں اور امریکی مفادات کے لیے مستقل خطرہ بن چکی تھیں۔

    ایران کا جوابی حملہ اور پاسدارانِ انقلاب کا مؤقف دوسری جانب، ایران کے طاقتور عسکری ادارے ‘پاسدارانِ انقلاب’ نے امریکی حملوں کے فوری جواب میں خطے میں قائم ایک بڑے امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اس تیز رفتار جوابی کارروائی میں ان مخصوص امریکی مقامات کو ہدف بنایا گیا جہاں سے ایران پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ ایرانی اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری، زمینی حدود اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا اور کسی بھی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، ایران کی دفاعی و جارحانہ صلاحیت اس وقت مکمل طور پر فعال ہے اور دشمن کی کسی بھی اگلی کارروائی کا جواب دینے کے لیے انگلیاں ٹریگر پر ہیں۔

    خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ اور کویت کی تیاری مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی اس شدید فوجی کشیدگی کے باعث کویت سمیت کئی خلیجی ممالک میں ہنگامی حالت (ہائی الرٹ) نافذ کر دی گئی ہے۔ کویتی حکام نے امارت کے فضائی دفاعی نظام کو فوری طور پر متحرک کر دیا ہے جبکہ شہریوں کو کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کویت کے بعض سرحدی اور حساس علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے ہیں تاکہ ممکنہ فضائی خطرات سے نمٹا جا سکے۔

    عالمی تجارت، توانائی کی منڈیاں اور ماہرین کے خدشات سیاسی اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی کارروائیوں کا یہ سلسلہ پورے خطے کے امن و استحکام کو ملیا میٹ کر سکتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان اس کشیدگی کو فوری طور پر نہ روکا گیا، تو اس کے بھیانک اثرات عالمی تجارت، تیل و گیس کی بین الاقوامی منڈیوں (توانائی کے شعبے) اور مجموعی عالمی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔

    عالمی برادری کی تشویش اور سفارتی کوششیں اقوامِ متحدہ سمیت عالمی برادری نے مشرقِ وسطیٰ کی اس ابتر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور اس سنگین تنازع کو جنگ کے بجائے سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق، موجودہ نازک حالات میں کسی بھی فریق کی جانب سے ایک غلط اندازہ یا اضافی فوجی کارروائی پورے خطے کو کسی بڑے عالمی بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ اس دوران عالمی سطح پر سفارتی رابطے بھی انتہائی تیز ہو گئے ہیں اور مختلف دوست ممالک خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے پسِ پردہ کوششیں کر رہے ہیں، تاہم صورتحال بدستور غیر یقینی اور انتہائی حساس بنی ہوئی ہے۔