وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شور پرود کے پہاڑی سلسلے میں فتنہ الخوارج کے خلاف انتہائی کامیاب اور مؤثر آپریشن کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس کامیاب کارروائی کے دوران 10 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔
وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انسانیت کے دشمن اور ملک کا امن تباہ کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف یہ کامیاب آپریشن ہماری سیکیورٹی فورسز کی اعلیٰ تدبیر، جرات اور بہترین جنگی مہارت کا واضع مظہر ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کی اس لعنت کے خلاف جنگ میں اپنے باہمت اور جری سیکیورٹی اداروں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور سیکیورٹی ادارے ملکِ پاکستان سے ہر قسم کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مکمل خاتمے کے لیے پور خلوص اور عزم کے ساتھ کوشاں ہیں اور پاک دھرتی سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے پرمسرت موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو خصوصاً مبارکباد کا تہنیتی پیغام بھیجا ہے۔
اماراتی نیوز ایجنسی کے مطابق متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم اور نائب صدر، نائب وزیراعظم و صدارتی دفتر کے سربراہ شیخ منصور بن زاید آل نہیان نے بھی صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو قومی دن کی مبارکباد کے پیغامات ارسال کیے۔ اماراتی اعلیٰ قیادت نے اپنے پیغامات میں پاکستان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان قائم لازوال اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
دوسری جانب، شیخ محمد بن راشد آل مکتوم اور شیخ منصور بن زاید آل نہیان نے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کو بھی یومِ آزادی کے حوالے سے الگ الگ تہنیتی پیغامات بھیجے۔
اماراتی قیادت کی جانب سے پاکستان کی اعلیٰ سیاسی قیادت کو یومِ آزادی پر یوں پرخلوص مبارکباد دینا دونوں ممالک کے درمیان قائم گہرے، مضبوط اور کثیرالجہتی دوستانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی قیادت باہمی تعاون، معاشی شراکت داری اور برادرانہ روابط کو مزید وسعت دینے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چین کے سابق وزیراعظم ژو رونگ جی کے انتقال پر گہرے دکھ اور انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں پاکستان کا مخلص دوست اور عظیم رہنما قرار دیا ہے۔
بدھ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے تعزیتی بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ سابق چینی وزیراعظم ژو رونگ جی کی رحلت کی خبر سن کر انہیں شدید صدمہ پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے چین کی ترقی اور پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا، وہ ایک عظیم مدبر، بصیرت افروز رہنما اور پاکستان کے بے لوث دوست تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حکومتِ پاکستان اور تمام پاکستانی عوام کی جانب سے چینی صدر شی جن پنگ، وزیراعظم لی چیانگ، چین کے عوام اور مرحوم کے سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دکھ اور غم کی اس گھڑی میں اپنے لازوال اور آزمودہ آئرن برادر چین کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کے غم میں برابر کا شریک ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے “نوجوانوں کے عالمی دن” کے بین الاقوامی موقع پر پوری قوم اور خاص طور پر ملک کے کروڑوں باصلاحیت نوجوانوں کے نام ایک نہایت اہم، فکر انگیز اور مفصل پیغام جاری کیا ہے۔ اپنے پیغام میں وزیراعظم نے واضح اور قطعیت کے ساتھ اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کے تمام تر دستیاب قومی وسائل کو نوجوانوں کی بہترین ذہنی، جسمانی، فکری اور علمی نشوونما کے لیے وقف کرنا موجودہ حکومت کی پالیسی کا مرکزی نقطہ اور سب سے اہم ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کی پائیدار ترقی اور تابناک مستقبل کا راز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو درست سمت فراہم کرنے میں پنہاں ہے۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری ہونے والے اس خصوصی اور تفصیل سے بھرپور پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان آج دنیا کے تمام دیگر اقوام کے ساتھ ہم آواز ہو کر اپنے نوجوانوں کو ان کی بے پناہ قدرتی صلاحیتوں، پرجوش توانائی، مثبت جذبے اور ان داتا خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک یا معاشرے کی حقیقی ترقی کا دارومدار وہاں کی یوتھ کی تعلیمی اور اخلاقی تربیت پر ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس سال نوجوانوں کا عالمی دن جس عنوان سے منایا جا رہا ہے، یعنی “مختلف حالات، مشترکہ امنگیں”، وہ ایک بہت بڑی سچائی کا مظہر ہے۔ یہ موضوع دنیا بھر کی یہ حقیقت کھول کر سامنے لاتا ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں رہنے والے نوجوانوں کے سیاسی، معاشی، جغرافیائی اور سماجی حالات بے شک ایک دوسرے سے بالکل مختلف اور گوناگوں ہو سکتے ہیں، لیکن ایک محفوظ، پرامن، خوشحال اور تابناک مستقبل کی خواب اور خواہشات سبھی کی یکساں ہیں۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں انتہائی گرمجوشی کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی مجموعی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ہماری قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کا ایک انمول تحفہ اور عظیم ترین سرمایہ ہیں۔ ہمارے یہی نوجوان آئندہ کل کے روشن اور پرامید پاکستان کے حقیقی معمار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیت، نئے خیالات، سچی لگن اور پرعزم محنت ہر شعبہ ہائے زندگی میں امید افزاء اور مثبت تبدیلیوں کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا کھل کر اظہار ہی ایک پائیدار، مضبوط اور خودکفیل پاکستان کی بنیاد قائم کر سکتا ہے۔ پاکستان کی نوجوان نسل نے تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، کھیل، فنون، اور سماجی خدمت جیسے متعدد شعبوں میں نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر بھی ملک کا نام اور پرچم بلند کیا ہے، جبکہ مقامي سطح پر بھی ایک ذمہ دار اور فعال شہری کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
حکومتی اصلاحات، پالیسیوں اور عملی اقدامات کی مفصل وضاحت کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان نوجوانوں کو جدید دور کے جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے عملی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔ نوجوانوں کو معیاری اور اثر انگیز تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ مہارتوں، خود روزگار کے مواقع، کاروباری اور صنعتی ترقی، ڈیجیٹل جدت اور سماجی و قومی فیصلوں میں شمولیت کے ذریعے مضبوط سے مضبوط تر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایسے عملی راستے ہموار کیے ہیں تاکہ ہمارے ہونہار طلباء عالمی منڈیوں کے معیار پر پورا اتر سکیں اور اپنی فنی استعداد کو عالمی سطح پر منوا سکیں۔
تعلیمی اصلاحات اور یوتھ پروگرام کے عملی منصوبوں کی بابت گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہونہار طلبہ و طالبات کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیکنیکل ایجوکیشن اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید ترین شعبوں میں تربیتی راستے کھولنے کے لیے بلا سود قرضوں، لیپ ٹاپس کی تقسیم، اسکالرشپ پروگرامز، اور بامعاوضہ انٹرن شپ جیسے پروگرامز کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام” کے تحت ملک بھر کی نوجوان افرادی قوت کو جدید ترین اور معتبر ہنر سکھائے جا رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے “نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن” کو ہنگامی بنیادوں پر مزید فعال، بااختیار اور متحرک کیا گیا ہے۔ یہ قومی ادارہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ سندات اور اندرونِ ملک انڈسٹری کی ضروریات کے مطابق نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی جدید ترین پیشہ ورانہ تربیت فراہم کر رہا ہے۔
اپنے پیغام کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے تمام نوجوانوں کو ایک جذباتی اور حوصلہ افزا خصوصی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ دیانتداری، سخت محنت، ذمہ داری اور جذبۂ حب الوطنی کے ساتھ اپنے سفر کو آگے بڑھاتے رہیں۔ نوجوانوں کی ترقی ہی میں پاکستان کا پائیدار اور درخشندہ مستقبل محفوظ ہے۔ انہوں نے تمام مکاتبِ فکر، تمام طبقات اور بالخصوص یوتھ پر زور دیا کہ آئیں سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم ایک جٹ ہو کر ملکی ترقی و خوشحالی میں اپنا تعمیری اور مثبت کردار ادا کریں گے تاکہ وطنِ عزیز پاکستان ہر نوجوان کے لیے روشن، محفوظ اور باوقار مستقبل کی حتمی ضمانت بن سکے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قیامِ پاکستان سے لے کر تعمیرِ پاکستان تک زندگی کے ہر شعبے میں مسلمانوں کے شانہ بشانہ اقلیتی برادریوں کے مثبت اور کلیدی کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں بسنے والے تمام شہری بلا تفریقِ مذہب و ملت اس ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے متحد ہیں۔
منگل کے روز وزیراعظم آفس میں ‘مذہبی اقلیتوں کے قومی دن’ کی مناسبت سے منعقدہ ایک پروقار تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 11 اگست کا دن ملک کی اقلیتوں کے جذبۂ حب الوطنی اور خدمات کو سراہنے کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسیحی، ہندو، سکھ، پارسی اور دیگر تمام اقلیتی برادریوں کے لیے پوری قوم کے دل میں انتہائی احترام ہے۔ وزیراعظم نے قائد اعظم محمد علی جناح کے 11 اگست کے تاریخی خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دہانی کرائی کہ آئینِ پاکستان تمام شہریوں کو مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔
وزیراعظم نے اپنی اور اپنے بہن بھائیوں کی ابتدائی تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے تعلیمی شعبے میں کرسچنکمیونٹی کی دہائیوں پر محیط خدمات کی تعریف کی۔ انہوں نے گروپ کیپٹن سیسل چوہدری، جسٹس اے آر کارنیلئیس، جوگندر ناتھ منڈل، ایس ایل گبز اور ایس پی سنگھا جیسی عظیم اقلیتی شخصیات کو قومی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دفاعِ وطن اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اقلیتوں کے جانی نذرانے تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ دفاعی معاہدے پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں امن، استوار معیشت اور ترقی کے فروغ کا ضامن ہے۔
تقریب سے وفاقی وزیرِ مذہبی امور سردار محمد یوسف، وزیرِ مملکت برائے مذہبی بین المذاہب ہم آہنگی کھیئل داس کوہستانی اور سینیٹر خلیل طاہر سندھو نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے اقلیتوں کو حاصل مکمل مذہبی آزادی، سکھ اور ہندو میرج ایکٹس جیسے قانون سازی کے اہم اقدامات اور عبادت گاہوں کی سیکیورٹی پر حکومتی کاوشوں کو سراہا۔ تقریب کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے والی اقلیتی شخصیات میں ایوارڈز اور اعزازات بھی تقسیم کیے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کو اہم سفارتی و دفاعی پیش رفت قرار دیتے ہوئے متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔ قرارداد میں وزیراعظم، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
اجلاس کے دوران نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026ء اور اس کے ایکشن پلان کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ عمودی رہائش ) اور انرجی ایفیشنسی کوڈز کو ترجیح دی جائے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ‘اپنا گھر’ سکیم کے تحت بینکوں نے 220 ارب روپے کے قرضے منظور کیے ہیں جبکہ 32 ارب روپے سے زائد کی رقوم جاری کی جا چکی ہیں۔
وفاقی کابینہ نے پاکستان انفارمیشن سکورٹی فریم ورک کی منظوری دی جو ملک میں سائبر سکورٹی کے بنیادی معیارات کے لیے اہم دستاویز ثابت ہوگا۔ علاوہ ازیں، پاکستان اور سویڈن کے درمیان 1981ء کے دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے کے خاتمے کا نوٹس واپس لینے اور پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں ترامیم کی توثیق بھی کی گئی۔
اجلاس کے اختتام پر کابینہ کمیٹی برائے توانائی، اقتصادی رابطہ کمیٹی ) اور کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے گزشتہ اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کی باضابطہ توثیق کر دی گئی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی ‘مکہ معاہدے’ کے کوئی جارحانہ مقاصد نہیں، بلکہ یہ صرف دفاعی مقاصد اور خطے میں امن، ترقی و خوشحالی کے فروغ کے لیے ہے۔ انہوں نے اس معاہدے کو مسلم امہ کے لیے باعثِ تقویت قرار دیتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو سراہا۔
وزیراعظم نے ہنگو اور سوات سمیت دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جامِ شہادت نوش کرنے والے میجر حافظ احسان الٰہی، کیپٹن حمزہ اکرم اور ڈی ایس پی دیار خان سمیت تمام شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے دیرینہ رہنما اقبال چنڑ کے انتقال پر بھی گہرے دکھ کا اظہار اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) وہاں اکثریتی جماعت بن کر ابھری ہے، جو قائد نواز شریف کی قیادت پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر میں کسی کو لاقانونیت یا انارکی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاہم امن اور تحمل کے ساتھ بات چیت کرنے والوں کے لیے نئی حکومت کے قیام کے بعد مذاکرات کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے قوم کو 14 اگست کا جشنِ آزادی بھرپور شان و شوکت اور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منانے کی ہدایت کی اور عزم ظاہر کیا کہ پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرکے قائد اعظم کا واقعی پاکستان بنایا جائے گا۔
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے مکہ مکرمہ کے تاریخی قصر الصفا میں سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے اعلیٰ سطحی ملاقات کی ہے۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق سعودی ولی عہد نے قصر الصفا آمد پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کا گرمجوشی سے پرُتپاک استقبال کیا۔
اس اہم اور اعلیٰ سطحی ملاقات میں پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، اسٹریٹجک شراکت داری، معاشی و دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے خطے کی سیکیورٹی، مشترکہ دفاع اور اسلامی یکجہتی کو مضبوط بنانے کی سمت ایک تاریخی اور سنگِ میل پیش رفت کرتے ہوئے مکہ مکرمہ میں سہ فریقی “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں۔ معاہدے کی سب سے اہم شق کے تحت کسی بھی ایک رکن ملک پر بیرونی مسلح حملہ تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا جس کا اجتماعی دفاعی اصول کے تحت مشترکہ جواب دیا جائے گا۔
یہ تاریخ ساز معاہدہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی خصوصی دعوت پر مکہ مکرمہ کے تاریخی ‘الصفاء محل’ میں منعقدہ اعلیٰ سطحی مشترکہ دفاعی سربراہ اجلاس کے دوران طے پایا۔ اجلاس میں سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان، وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے شرکت کی، جہاں سعودی ولی عہد نے دونوں سربراہانِ مملکت کا پرتپاک استقبال کیا۔
سربراہی اجلاس کے دوران تینوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان دوطرفہ و سہ فریقی اسٹریٹجک تعلقات، علاقائی سلامتی، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور باہمی دلچسپی کے امور پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ قائدین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنی طویل المیعاد برادرانہ دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو دفاعی میدان میں نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔
تہوں پر مبنی اس دفاعی معاہدے کے تحت نہ صرف اجتماعی دفاع کا عہد کیا گیا ہے بلکہ عسکری تربیت، جدید دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ، مشترکہ فوجی مشقیں اور سلامتی کے دیگر امور میں باہمی تعاون کو وسیع تر پیمانے پر فروغ دینے پر کامل اتفاق کیا گیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ’ تینوں ممالک کی مشترکہ صلاحیتوں، بین الاقوامی اور علاقائی امن کے قیام اور محفوظ مستقبل کے لیے ایک باقاعدہ فریم ورک فراہم کرتا ہے، جو خطے میں پائیدار استحکام کا باعث بنے گا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ‘ردالفتنہ 3’ کے تحت بلوچستان کے اضلاع واشک اور مستونگ میں دہشت گردوں کے خلاف الگ الگ کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے ان اہم آپریشنز کے دوران ‘فتنہ الہندوستان’ کے 12 خطرناک دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور جرات کی ستائش کی۔
اپنے پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عزم ظاہر کیا کہ ‘عزم استحکام’ کے وژن کے تحت دہشت گردی کے خلاف ہماری سیکیورٹی فورسز شاندار اور نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور افواجِ پاکستان ملکِ عزیز سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل اور حتمی خاتمے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کوئٹہ کے نواحی علاقے سورنج میں کوئلے کی کان میں پیش آنے والے دلخراش اور المناک حادثے میں محنت کش مزدوروں کی اموات پر گہرے دکھ، صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے سورنج کی کان میں خطرناک گیس بھر جانے کے باعث ہونے والے اس حادثے کو انتہائی دردناک قرار دیتے ہوئے جاں بحق ہونے والے محنت کشوں کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی ہے۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جمعہ کے روز جاری ہونے والے باضابطہ بیانیے کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) اور بلوچستان کے تمام متعلقہ امدادی اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ریسکیو اور ریلیف کارروائیوں کو بلا تعطل اور انتہائی مستعد انداز میں جاری رکھیں۔ انہوں نے کان میں پھنسے اور زخمی ہونے والے تمام مزدوروں کو بحفاظت نکالنے اور انہیں فوری بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام تر وسائل بکارِ لانے کی بھی تاکید کی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے غمزدہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینے والے محنت کش ہمارا انتہائی قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام اور انتظامیہ کو سخت ہدایت جاری کی کہ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی قیمتی جانوں کو محفوظ بنانے کے لیے مستقل اور فول پروف حفاظتی اقدامات فوری طور پر نافذ کیے جائیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے دلخراش واقعات کا سدِباب ممکن ہو سکے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع خضدار میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے جانے والے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پر پاک فوج اور تمام متعلقہ اداروں کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ وزیراعظم نے بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد تنظیم ‘فتنہ الہندوستان’ کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ فورسز نے ایک بار پھر اپنی بے مثال صلاحیتوں اور دلیری سے ملک کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔
پنجشنبہ (جمعرات) کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے آپریشن کے دوران 4 خطرناک دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے اور بارودی مواد سے لدی 2 گاڑیوں کو بروقت تباہ کر کے دشمن کا بڑا دہشت گردانہ منصوبہ ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور بروقت اقدام کی شدید پذیرائی کی۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ بیرونی ایما پر پاکستان کا امن و امان تباہ کرنے اور دہشت گردی پھیلانے کی ہر مذموم کوشش کو اسی طرح خاک میں ملا دیا جائے گا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ارضِ پاک سے دہشت گردی اور غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی شرپسندی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ بلاامتیاز آپریشن اور یکسو کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپنی بہادر سکیورٹی فورسز کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے اور وطنِ عزیز کے امن، استحکام، خودمختاری اور سلامتی کے لیے ان کے افسران و جوانوں کی لازوال قربانیوں کو بے حد قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بیرونِ ملک مقیم تمام پاکستانیوں کو ملک کا انتہائی قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ انہیں سفارتخانوں اور کونصل خانوں میں تمام ممکنہ آسانیاں اور اعلیٰ ترین سہولیات کی فراہمی حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے تاکید کی ہے کہ کیو آر کوڈ کی مدد سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی تمام شکایات کے براہِ راست اندراج اور ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے وسیع پیمانے پر آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ تمام شہری اس جدید نظام سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے سفارتخانوں میں سہولیات کی فراہمی میں اضافے، تمام سرکاری و قانونی دستاویزات کی تصدیقی عمل کی ڈیجیٹائزیشن، شکایت کے طریقہ کار کو مزید آسان بنانے اور بیرونِ ملک سے پاکستان میں معاشی و دیگر ادائیگیوں کے لیے قائم جدید ڈیجیٹل نظام سے متعلق وزارتِ خارجہ کے ایک اعلیٰ سطحی بریفنگ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے پنجشنبہ (جمعرات) کو جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزرا احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، چوہدری سالک حسین، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ مملکت عون چوہدری، معاونِ خصوصی طارق باجوہ اور دنیا بھر میں قائم پاکستانی سفارتخانوں کے سفرائے کرام، وزارتِ داخلہ، ایف آئی اے، اور این آئی ٹی بی سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی آسانی کے لیے پاور آف اٹارنی، جائیدادوں کی خرید و فروخت کے معاملات اور اہم دستاویزات کی تصدیق کو آسان بنانے کے لیے کیو آر کوڈ سسٹم مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت دی کہ سفارتخانوں میں کیو آر کوڈز کو نمایاں جگہوں پر آویزاں کیا جائے اور خصوصی مہم کے ذریعے اس کی افادیت کو اجاگر کیا جائے۔
بریفنگ کے دوران وزیراعظم کو بتایا گیا کہ عوام الناس اور بیرونِ ملک جانے والے شہریوں کی سہولت کے پیشِ نظر وزارتِ خارجہ اسلام آباد کے مرکزی دفتر میں حال ہی میں شام کی شفٹ کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ آسان خدمت مرکز اسلام آباد میں بھی دستاویزات کی تصدیق کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کوریئر سروسز کے ذریعے تصدیقی عمل متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اس نظام کو ہائر ایجوکیشن کمیشن ، انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن ، نادرا اور نیشنل پولیس بیورو کے مرکزی ڈیٹا بیس سے منسلک کر دیا گیا ہے جس سے تصدیقی مراحل کی رفتار میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ حکام نے بتایا کہ اپوسٹائل کنونشن کے تحت دستاویزات کی تصدیق کو ‘ون سٹیپ’ کر دیا گیا ہے اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے ایک جدید موبائل ایپلی کیشن بھی تیار کی جا رہی ہے، جس کے ذریعے برتھ، ڈیتھ، میرج اور فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کی گھر بیٹھے ڈیجیٹل تصدیق ممکن ہو سکے گی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں پولیس چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی جانب سے کیے جانے والے مذموم اور بزدلانہ حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نے اس ناخوشگوار واقعے کے نتیجے میں فرض کی راہ میں جامِ شہادت نوش کرنے والے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) دیار خان سمیت تمام 9 پولیس اہلکاروں کی عظیم قربانی پر گہرے دکھ، صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے پنجشنبہ (جمعرات) کے روز جاری ہونے والے باضابطہ بیانیے کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے شہدائے پولیس کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی اور ان کے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے صبرِ جمیل کی التجا کی ہے۔ وزیراعظم نے اس حملے میں شدید زخمی ہونے والے دیگر پولیس اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے ان کی جلد اور مکمل صحت یابی کی بھی دعا کی ہے۔
حملے کے فوری بعد پولیس کی بروقت اور جرات مندانہ جوابی کارروائی پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخوا پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بہادری کو شدید سراہا، جس کے نتیجے میں فتنہ الخوارج کے 15 سفاک دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک کر دیے گئے۔ وزیراعظم نے خیبر پختونخوا پولیس کے جوانوں کی شجاعت کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کی لعنت کے خلاف جنگ میں ہماری پولیس فورس نے ہمیشہ ہراول دستے کا تاریخی اور بے مثال کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود حکومت اور تمام قومی ادارے ملک عزیز سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل، حتمی اور جذری خاتمے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں اور شہدا کی یہ عظیم قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے ایک اعلیٰ سطحی اور اہم ملاقات کی، جس میں وزارتِ قومی صحت کے زیرِ انتظام چلنے والے مختلف ترقیاتی امور، عوامی بہتری کے پالیسی اقدامات اور درپیش چیلنجز پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی گئی۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے پنجشنبہ (جمعرات) کو جاری کردہ باضابطہ اور انتظامی اعلامیے کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران وفاقی وزیر برائے قومی صحت نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو وزارت کے تحت ملک بھر میں جاری صحت کے فلاحی و بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور عام شہریوں کو موثر طبی امداد کی فراہمی سے متعلق آگاہ کیا۔ ملاقات کے ماحول میں جہاں شعبہ صحت کی کارکردگی مرکزی نقطہ رہی، وہیں ملک کی مجموعی اور موجودہ سیاسی صورتِ حال اور حکومتی پالیسیوں پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی۔
ملاقات کے دوران وفاقی وزیر سید مصطفیٰ کمال نے وزیراعظم کو وزارتِ قومی صحت کی جانب سے ملک بھر میں مختلف وبائی و شدید بیماریوں کی روک تھام اور ان کے تدارک کے لیے اٹھائے گئے خصوصی اور ہنگامی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ پیش کی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ وفاقی سطح پر صحت کے نظام میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت، ہسپتالوں میں ادویات کی بلا تعطل فراہمی اور بنیادی مراکزی صحت کو بہتر بنانے کے لیے حکمتِ عملی پر کام جاری ہے۔ وزیراعظم نے ہیلتھ سیکٹر کی کارکردگی میں بہتری لانے اور بیماریوں کے کنٹرول کے لیے جاری اقدامات کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ عوام الناس کو معیاری، ارزاں اور جدید ترین طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کسر نہ چھوڑی جائے اور تمام جاری منصوبوں کو وقتِ مقررہ پر مکمل کیا جائے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا ایک انتہائی اعلیٰ سطحی اور اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کے توانائی کے شعبے کو جدید ترجیحات کے مطابق ڈھالنے کے لیے ‘پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023’ میں کی گئی اہم ترامیم کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی۔ وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہونے والے اس خصوصی اجلاس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، پروفیسراحسن اقبال کے علاوہ متعلقہ وزارتی وفاقی سیکرٹریز اور توانائی انڈسٹری کے اعلیٰ ترین سرکاری حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کے اندر آئل ریفائنریز کی موجودہ کارکردگی، توانائی کی پیداوری صلاحیت، براؤن فیلڈ ریفائنریز کے بنیادی ڈھانچے اور آئل سیکٹر میں متوقع عالمی سرمایہ کاری سے متعلق امور کا تفصیلی اور باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس بات پر شدید زور دیا کہ پاکستان میں موجود تمام آئل ریفائنریز کی جدید ترین تکنیکی بنیادوں پر اپ گریڈیشن اب کوئی اختیاری معاملہ نہیں بلکہ وقت کی شدید اور عاجلانہ ضرورت بن چکی ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ جدید تقاضوں اور عالمی معیار سے ہم آہنگ ریفائنریز پاکستان کے پائیدار توانائی تحفظ کے جامع نظام کا ایک مرکزی اور اہم ترین ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات پر مبنی یہ اقدام نہ صرف ملک کی مجموعی توانائی کی ضروریات کو زیادہ مؤثر، مستحکم اور بہتر انداز میں پورا کرے گا بلکہ گرانقدر غیر ملکی زرِ مبادلہ کا خرچ کم کر کے درآمدی ایندھن پر پاکستان کا انحصار نمایاں طور پر گھٹانے میں مدددگار ثابت ہوگا۔ مزید برآں، اس سے ملک بھر میں ماحول دوست اور اعلیٰ معیار کا صاف ایندھن فراہم کرنے کا دیرینہ مقصد بھی حاصل کیا جا سکے گا، جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
اجلاس میں شریک اعلیٰ حکام نے وزیراعظم اور کمیٹی کے دیگر اراکین کو پاکستان میں توانائی کی صورتِ حال پر تفصیلی بریفنگ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ ملک کی موجودہ ریفائنریز کی پیداواری گنجائش کو بڑھانے اور فرنس آئل جیسی کم معیار کی ایندھن مصنوعات کو بتدریج ختم کرنے کے لیے ان کی اپ گریڈیشن ناگزیر ہو چکی ہے۔ بریفنگ میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ ترامیم کے تحت اب یورو-4 اور بالخصوص اعلیٰ ترین یورو-5 معیار کے پٹرول اور ڈیزل کی مقامی سطح پر پیداوار کو یقینی بنایا جائے گا۔ یہ اقدام پاکستان کے عالمی ماحولیاتی معاہدوں اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق بین الاقوامی وعدوں کی تکمیل کے لیے انتہائی ضروری ہے، جس سے ملک میں جان لیوا اور شدید فضائی آلودگی میں نمایاں کمی لائی جا سکے گی اور عام عوام کو بین الاقوامی معیار کا ایندھن میسر آئے گا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے توانائی کے نگران ادارے اویل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی مجموعی کارکردگی کو بین الاقوامی سانچے میں ڈھالنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ کی فوری اور حقیقی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اوگرا میں بنیادی نوعیت کی انتظامی و قانونی اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔ اس کا بنیادی مقصد آئل اینڈ گیس کے شعبے میں تجارتی مسابقت، شفافیت اور غیر ملکی و مقامی سرمایہ کاری کے لیے ماحول کو مکمل طور پر سازگار بنانا ہے۔ وزیراعظم نے واضح اور سخت احکامات جاری کیے کہ نئی آئل ریفائننگ پالیسی کی منظوری کے بعد اس کے ہر شق پر فوری، مؤثر اور طے شدہ وقت کے اندر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور اس سلسلے میں کسی بھی وزارت، ادارے یا انتظامی افسر کی طرف سے کسی بھی قسم کی غفلت، سستی یا تاخیر کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے تمام تمام سٹیک ہولڈرز کو قریبی رابطہ اور باہمی مشاورت کے ذریعے اصلاحاتی عمل تیز کرنے کا پابند کیا۔
مستقبل کی اسٹریٹجک ضروریات اور سرمایہ کاری کے حجم کو وسیع کرنے کے لیے، وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے براؤن فیلڈ ریفائنریز کے حوالے سے اس ترمیمی پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 کی تشہیر اور آگاہی کے لیے قطر، برادر اسلامی ملک سعودی عرب اور دیگر اہم خلیجی ممالک میں خصوصی روڈ شوز منعقد کرنے کے واضح احکامات دیے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر براؤن فیلڈ ریفائنریز میں معاشی و تکنیکی اصلاحات متعارف کروانے پر وفاقی وزیر برائے پٹرولیم اور ان کی پوری ماہر ٹیم کی دن رات کی محنت اور شاندار کارکردگی کو کھلے دل سے سراہا۔ اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے وزارتِ پٹرولیم اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ ہنگامی صورتِ حال یا عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے ملک کے اندر پٹرولیم مصنوعات کے اسٹریٹجک ذخائر کا حجم جلد از جلد بڑھانے کے لیے جامع عمل درآمدی منصوبہ بندی تشکیل دیں تاکہ ملک کو توانائی کے کسی بھی غیر متوقع بحران سے محفوظ رکھا جا سکے۔