امریکہ اور ایران جنگ کے اثرات سے معیشت کو بچانے کے لیے اقدامات جاری؛ آبنائے ہرمز پر انحصار ختم کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے پر کام تیز

محمود احمد, September 07,2026

ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ ان کا ملک توانائی کی برآمدات، عالمی تجارت اور ملکی معاشی سرگرمیوں کو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر متبادل راستے اور جدید بنیادی ڈھانچہ تیار کر رہا ہے۔

انور قرقاش نے ابوظہبی میں انعقاد پذیر ہِلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی واضح اور سخت الفاظ میں کہا کہ متحدہ عرب امارات کی توانائی کی عالمی برآمدات اور بنیادی تجارتی و معاشی سرگرمیوں کو علاقائی کشیدگی، بدامنی یا جنگی حالات کے باعث کسی بھی صورت یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔

صدارتی مشیر نے اپنے خطاب میں تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات اپنی مشرقی ساحلی پٹی پر واقع بندرگاہوں کی مجموعی استعداد کار میں غیر معمولی اضافہ کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پائپ لائنز، ریلوے نیٹ ورک اور نئے تجارتی راستوں کو بھی تیزی سے وسعت دی جا رہی ہے تاکہ توانائی کی منتقلی اور عالمی تجارت کے لیے ہر وقت آبنائے ہرمز کے متبادل راستے باآسانی دستیاب رہیں۔

ایران کے ساتھ مستقبل کے سفارتی تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انور قرقاش نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک فعال تعلق دوبارہ قائم تو کیا جا سکتا ہے، تاہم حالیہ عسکری حملوں اور پرتشدد واقعات کے بعد باہمی اعتماد کی مکمل بحالی میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

انہوں نے خلیجی عرب ریاستوں کی مجموعی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے درپیش سلامتی کے خطرے کے بارے میں اگرچہ خلیجی ممالک کے مابین عمومی اتفاقِ رائے موجود تھا، لیکن اس کے باوجود ایک مشترکہ، مضبوط اور مربوط عسکری و معاشی حکمتِ عملی اختیار کرنے میں خلیجی ریاستیں مطلوبہ حد تک کامیاب نہیں ہو سکیں۔

انور قرقاش کے مطابق موجودہ نازک صورتحال نے خلیجی ممالک کو اپنی سلامتی، بقا اور معاشی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے مزید خود انحصاری اور متبادل ذرائع پیدا کرنے کا شدید احساس دلایا ہے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری شدید کشیدگی نے پہلے ہی عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل اور تیل کی بین الاقوامی منڈیوں پر گہرا دباؤ بڑھا رکھا ہے۔

یمن میں لڑائی میں ایک بار پھر شدید تپش: حوثیوں کا سعودی عرب پر فضائی حملوں اور کروز میزائل کارروائیوں کا بڑا الزام

محمود احمد, September 07,2026

صنعا (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

یمن کے حوثی باغی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے متعدد صوبوں میں شدید فضائی حملے کیے ہیں اور کروز میزائلوں سے مختلف اہم اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ حوثیوں کے زیرِ انتظام کام کرنے والی سرکاری خبر رساں ایجنسی صبا کے مطابق ان تازہ فضائی اور میزائل حملوں کے دوران صوبہ الجوف، البیضا، مأرب اور تعز کے متعدد حساس مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی ہے۔

حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر ان شدید حملوں کا یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں زمینی جنگ ایک بار پھر انتہائی خونریز اور شدت اختیار کر گئی ہے۔ حوثی جنگجو اس وقت بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل آبنائے باب المندب سے متصل اہم اور تزویراتی علاقوں کی جانب تیزی سے پیش قدمی کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں جہاں انہیں شدید مقاومت کا سامنا ہے۔

موصولہ رپورٹوں کے مطابق گزشتہ چند روز سے حوثی جنگجوؤں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی باقاعدہ مسلح افواج کے درمیان گھمسان کا معرکہ جاری ہے۔ ان جھڑپوں میں اب تک دونوں جانب سے بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ یمنی حکومتی فورسز کو سعودی عرب کی مکمل سفارتی و عسکری حمایت حاصل ہے جبکہ خود کو انصار اللہ کہلوانے والے حوثی گروپ کو ایران کا قریبی اتحادی تصور کیا جاتا ہے۔

اس وقت حوثی گروپ دارالحکومت صنعا سمیت شمالی یمن کے تمام وسیع و عریض علاقوں پر قابض ہے، جبکہ یمنی حکومت کے حامی دستے ملک کے جنوبی اور مشرقی حصوں سمیت اہم ساحلی اور بندرگاہی علاقوں کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں۔ حالیہ لڑائی کا مرکزی نقطہ تعز، الحدیدہ کے مغربی اضلاع اور المَخا کے اطراف کا خطہ ہے، جو باب المندب کی اہم سمندری گزرگاہ تک براہِ راست رسائی فراہم کرتا ہے۔ یمنی حکومتی فورسز نے بھی حوثی ٹھکانوں پر جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے بعض اہم علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس تمام تر جنگی صورتحال کے پیشِ نظر حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف جوابی سمندری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے سعودی تیل بردار جہازوں اور ان کی نقل و حمل کو نشانہ بنانے کی کھلی دھمکیاں بھی دی ہیں۔ چونکہ آبنائے باب المندب دنیا بھر کی تیل اور تجارتی ترسیل کی اہم ترین شاہراہ ہے، اس لیے اس خطے میں جنگ کے پھیلنے سے عالمی جہاز رانی اور توانائی کے منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ فی الوقت سعودی حکام نے حوثیوں کے ان تازہ الزمات پر کوئی باقاعدہ تبصرہ یا آزادانہ تصدیق جاری نہیں کی ہے۔

فاسٹ بولر محمد عباس کا لارڈز کے میدان پر تاریخی کارنامہ: سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کا 25 سالہ ریکارڈ توڑ دیا

محمود احمد, September 07,2026

ندن (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

پاکستان کے 36 سالہ تجربہ کار فاسٹ بولر محمد عباس نے کرکٹ کے قبلہ اول کہلائے جانے والے تاریخی میدان لارڈز میں اپنی جادوئی اور بے مثال سوئنگ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک نیا قومی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ محمد عباس نے لارڈز گراؤنڈ پر سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے والے پاکستانی بولرز کی فہرست میں سابق کپتان اور سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کا سالوں پرانا قائم کردہ تاریخی ریکارڈ باضابطہ طور پر پاش پاش کر دیا ہے۔ اس شاندار کارکردگی نے دنیا بھر میں موجود کرکٹ کے شائقین اور ماہرین کی توجہ ایک بار پھر اپنی طرف مبذول کروا لی ہے۔

سرکاری و بین الاقوامی اعداد و شمار کے مطابق محمد عباس نے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں اب تک مجموعی طور پر صرف 4 ٹیسٹ اننگز میں انتہائی قلیل اور حیران کن 11.41 کی بولنگ اوسط کا مظاہرہ کرتے ہوئے 17 وکٹیں اپنے نام کی ہیں۔ اس شاندار کامیابی اور وکٹوں کی مجموعی تعداد کے ساتھ ہی محمد عباس اب لارڈز کے تاریخی ہوم گراؤنڈ پر سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے پاکستانی فاسٹ بولرز کی فہرست میں اپنے دور کے عظیم بولر وقار یونس کے ساتھ مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر آ گئے ہیں، جو کہ پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور روشن باب ہے۔

اگر لارڈز کے میدان پر پاکستانی بولرز کے مجموعی اعداد و شمار اور تاریخی ریکارڈز پر نظر ڈالی جائے تو اس میدان پر پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ سابق فاسٹ بولر محمد عامر کے پاس محفوظ ہے، جنہوں نے 7 ٹیسٹ اننگز میں 18 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔ فہرست میں دوسرے نمبر پر سابق برق رفتار بولر وقار یونس موجود ہیں جنہوں نے 5 اننگز میں 17 وکٹیں حاصل کیں، اور اب محمد عباس نے صرف 4 اننگز میں 17 وکٹیں لے کر وقار یونس کی برابری کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔

اس فہرست میں دوسرے اور تیسرے درجے پر موجود سابق کھلاڑیوں کی بات کی جائے تو اس سے قبل سوئنگ کے سلطان اور سابق قومی کپتان وسیم اکرم نے لارڈز کی 6 اننگز میں مجموعی طور پر 12 وکٹیں حاصل کی تھیں، جنہیں اب محمد عباس نے اپنی شاندار بولنگ کے ذریعے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ وسیم اکرم جیسے عظیم کھلاڑی کے ریکارڈ کو توڑنا کسی بھی جدید دور کے بولر کے لیے ایک ناقابلِ فراموش اور شاندار اعزاز تسلیم کیا جاتا ہے۔ مزید برآں، پاکستان کے سابق عالمی شہرت یافتہ لیگ اسپنر مشتاق احمد بھی اس فہرست میں اہم مقام رکھتے ہیں جنہوں نے 4 اننگز میں 11 وکٹیں اپنے نام کر رکھی ہیں۔

محمد عباس نے حال ہی میں انگلینڈ کے خلاف کھیلے گئے دوسرے لارڈز ٹیسٹ میچ میں اپنی اعلیٰ ترین بولنگ کی مہارت کا شاندار مظاہرہ کیا

نیپال اور تبت میں خوفناک سیلاب: ہلاکتیں 547 ہو گئیں، 450 غیرملکیوں سمیت 977 افراد لاپتہ، ریسکیو آپریشن جاری

منصور احمد, August 28,2026

کاٹھمنڈو / لھاسا (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

نیپال اور چین کے سرحدی علاقے تبت میں بدھ کے روز آنے والے تباہ کن سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 547 ہو گئی ہے، جبکہ 450 سے زائد غیرملکی سیاحوں سمیت کم از کم 977 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ تباہ شدہ علاقوں میں ریسکیو ٹیموں کی جانب سے وسیع پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے تاکہ ملبے اور سیلابی ملبے تلے دبے افراد کی تلاش ممکن بنائی جا سکے۔ سیلاب کے باعث کئی پہاڑی دیہات اور سیاحتی مقام مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب، تبت کی سرحد پر چینی حکام کا کہنا ہے کہ اس ناگہانی سیلاب کے نتیجے میں تبتی حدود میں بھی 5 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 558 افراد لاپتہ ہیں۔ نیپالی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ہیلی کاپٹروں اور جدید ڈرونز کے ذریعے متاثرہ علاقوں کا سروے کیا جا رہا ہے تاکہ پھنسے ہوئے مقامی افراد اور غیرملکیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔ نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ بیشتر لاپتہ افراد سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔

نیپال سیلاب پر پاکستان دفترِ خارجہ کا اظہارِ افسوس: صدر، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کی جانب سے تعزیتی پیغامات

NEPAL-WEATHER-LANDSLIDE-FLOOD

منصور احمد, August 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

پاکستان کے دفتر خارجہ نے نیپال اور تبت کے سرحدی علاقوں میں آنے والے حالیہ ہولناک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانوں کے ضیاع، بڑے پیمانے پر ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر شدید رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران نیپالی عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیپال میں بدھ کے روز آنے والے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے جنم لینے والی انسانی صورتحال، ہلاکتوں اور مالی نقصان پر پاکستان کی حکومت اور عوام کو گہرا دکھ پہنچا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے صدر، وزیرِ اعظم اور نائب وزیرِ اعظم نے اپنے علیحدہ تعزیتی پیغامات کے ذریعے نیپالی حکومت، لواحقین اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس کٹھن اور مشکل وقت میں پوری پاکستانی قوم نیپال میں موجود اپنے بھائیوں اور بہنوں کے غم اور مشکلات میں برابر کی شریک ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس قدرتی آفت کے تناظر میں نیپال کے ساتھ ہر ممکن تعزیت اور یکجہتی کے عزم کو دہرایا گیا ہے اور ریسکیو و ریلیف کی کوششوں کی کامرانی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا دعویٰ: ‘آبنائے ہرمز کھلی ہے، امریکہ ایران کے خلاف بہت بڑی فتح کی جانب گامزن’

محمود احمد, August 26,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم انٹرویو کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ تناؤ کے باوجود انتہائی اہم عالمی سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے اور امریکی بحریہ نے کامیابی سے جہاز رانی کو بحال رکھا ہوا ہے۔ امریکی مبصر اور معروف سبسکرپشن سٹریمنگ نیٹ ورک ‘بلیز میڈیا’ کے بانی گلین بیک کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ‘گزشتہ رات ہم نے 22 تجارتی کشتیاں اور جہاز وہاں سے بحفاظت نکالے ہیں’۔ انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی پر کھل کر بات کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کے خلاف اس جغرافیائی اور سیاسی معرکے میں امریکی بحریہ، برّی فوج اور امریکہ کی مضبوط معاشی طاقت نے انتہائی فیصلہ کن اور کلیدی کردار ادا کیا ہے جس کے نتیجے میں امریکہ ایک ‘بہت بڑی تاریخی فتح’ کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں امریکہ نے وینزویلا کے بحران میں بھی بڑی کامیابی حاصل کی تھی اور بالکل اسی طرح ‘ایران کے معاملے میں بھی امریکہ کو بہت جلد حتمی کامیابی حاصل ہو جائے گی’۔

انٹرویو کے دوران جب امریکی صدر سے ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا اور سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اطلاعات کے مطابق وہ ‘حملوں یا واقعے میں بہت بری طرح زخمی ہوئے تھے، لیکن میں ایسا نہیں سمجھتا کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں’۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد عالمی سفارتی، دفاعی اور معاشی حلقوں میں شدید تحرک پیدا ہو گیا ہے، بالخصوص تیل کی عالمی منڈیوں اور سمندری تجارتی راستوں کی حفاظت سے متعلق امریکی پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ایرانی قیادت سے متعلق امریکی صدر کا یہ نیا موقف آنے والے دنوں میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔

دریائے کولوراڈو کے پانی میں کٹوتی کا تنازع: نیواڈا ریاست نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا

محمود احمد, August 25,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

امریکی ریاست نیواڈا نے دریائے کولوراڈو کے پانی کی تقسیم سے متعلق وفاقی حکومت کے کٹوتی کے منصوبے کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف باضابطہ قانونی مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ امریکی جنوب مغرب کی 7 ریاستوں اور 4 کروڑ سے زائد عوام کو سیراب کرنے والے اس اہم ترین دریا پر جاری شدید خشک سالی اور پانی کی تقسیم پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد یہ بڑا قانونی قدم اٹھایا گیا ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق وفاقی حکومت نے حال ہی میں زیریں طاس کی ریاستوں—نیواڈا، ایریزونا اور کیلیفورنیا—کے لیے پانی کی فراہمی میں 2036ء تک سالانہ 3.7 ارب مکعب میٹر تک کٹوتی کا فیصلہ سنایا ہے، جبکہ بالائی طاس کی ریاستوں کو اس کٹوتی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ نیواڈا حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے ان کے حصے کا 2 تہائی پانی کم ہو جائے گا، جس سے صحرائی شہر ‘لاس ویگاس’ کو شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے جو اپنی 90 فیصد پانی کی ضروریات کے لیے اسی دریا پر انحصار کرتا ہے۔ نیواڈا کے ریپبلکن گورنر جو لومبارڈو نے واضح کیا کہ یہ کوئی سیاسی ڈرامہ نہیں بلکہ نیواڈا کے شہریوں اور معیشت کی بقا کا جنگ ہے۔

دوسری جانب وفاقی حکام کا موقع ہے کہ تمام 7 ریاستوں کے درمیان پانی کے استعمال پر عدم اتفاق کے باعث یہ کارروائی ناگزیر تھی، تاکہ لیک پاول اور لیک میڈ جیسے تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ جانے والے ڈیموں میں پن بجلی کی پیداوار اور پانی کا بنیادی نظام مکمل طور پر مفلوج ہونے سے بچایا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق نیواڈا کے بعد ایریزونا ریاست کی جانب سے بھی ٹرمپ انتظامیہ کے اس منصوبے کے خلاف داد رسی کے لیے وفاقی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے جانے کا شدید امکان ہے۔

سوڈان کا بحران: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا پائیدار امن کے لیے سوڈانی قیادت میں سیاسی عمل پر زور

محمود احمد, August 25,2026

اقوام متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

پاکستان نے سوڈان میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی و انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مسلسل رابطہ کاری، بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری اور فوری انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ سوڈان میں پائیدار امن کی بحالی صرف اور صرف سوڈانی قیادت اور سوڈانی ملکیت میں چلنے والے سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے دارفور، کردفان اور بالخصوص العبید کی ابتر ہوتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے عسکری رویے اور بڑھتی کشیدگی کو دارفور، الجنینہ اور الفاشر میں ہونے والے مظالم کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ تنازع اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکا ہے اور اس کا سب سے بڑا خامیانہ عام شہری بھگت رہے ہیں۔ پاکستان نے واضح کیا کہ ایک متحد، مستحکم اور خودمختار سوڈان نہ صرف وہاں کے عوام بلکہ پورے افریقہ کے امن و خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔

پاکستان نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے فوری طور پر جدہ اعلامیے پر عملدرآمد یقینی بنائے اور بلا رکاوٹ امداد کی رسائی ممکن بنائے۔ سفیر عاصم افتخار نے کونسل پر واضح کیا کہ ایک خودمختار ریاست کی قومی مسلح افواج اور نسل کشی کے التزامات کا سامنا کرنے والی ملیشیا کے درمیان واضح فرق برقرار رکھا جائے اور سوڈان کی تقسیم یا متوازی حکومت قائم کرنے کی کسی بھی کوشش کی سختی سے مخالفت کی جائے۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کا منصوبہ: یورپی یونین کا اسرائیل سے ٹینڈرز کی فوری واپسی کا مطالبہ

محمود احمد, August 24,2026

برسلز (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

یورپی یونین نے اسرائیلی حکومت پر شدید زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کے حساس زون’ میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر سمیت دیگر تمام توسیعی منصوبوں کو فوری طور پر منسوخ کرے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اہم مطالبہ ‘یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس’ کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم رسمی بیان میں سامنے آیا ہے۔

یورپی یونین نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ سائیٹل منٹ پروجیکٹ کے تحت 1,200 سے زائد نئے رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے حال ہی میں جاری کردہ ٹینڈر نوٹس کو بغیر کسی تاخیر کے واپس لے۔ بیان میں بالکل واضح کیا گیا ہے کہ فلسطینی اراضی پر کسی بھی قسم کی جدید یا توسیعی تعمیرات بین الاقوامی قوانین، معاہدو ں اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس کے مطابق، زون میں غیر قانونی یہودی بستیوں کا یہ منصوبہ دو ریاستی حل کے امکانات کو بنیادی اور تاریخی طور پر شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ یورپی یونین نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نہ صرف تمام تر تعمیراتی ٹینڈرز واپس لے بلکہ فلسطینی شہریوں پر تشدد اور غیر قانونی اقدامات کرنے والے انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کو سخت قانونی جوابدہی کے کٹہرے میں لائے۔

سعودی عرب اور فرانس کے درمیان کھیل کے شعبے میں تعاون کی تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دستخط

محمود احمد, August 24,2026

پیرس (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

سعودی عرب اور فرانس نے کھیل اور ایتھلیٹکس کے شعبے میں باہمی تعلقات کو فروغ دینے، تجربات کا تبادلہ کرنے اور مشترکہ پروگراموں کو وسعت دینے کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط کر دیے ہیں۔ یہ دستخط فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں منعقدہ ’ای سپورٹس ورلڈ کپ 2026‘ کی پروقار اختتامی تقریب کے موقع پر کیے گئے۔

سعودی عرب کی جانب سے وزیرِ کھیل شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی الفیصل اور فرانس کی جانب سے فرانسیسی وزیرِ کھیل مارینا فیری نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔ اس مفاہمتی یادداشت کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان سپورٹس انڈسٹری میں تعاون کے ایک جامع اور عمومی فریم ورک کی تشکیل کرنا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کی میزبانی میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنسوں، سیمینارز اور کھیلوں کے بڑے عالمی ایونٹس میں مشترکہ شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔

اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے کھیل سے وابستہ اداروں اور تنظیموں کے درمیان ایکسپرٹیز کا تبادلہ کیا جائے گا۔ اس میں خصوصی طور پر ایلیٹ سپورٹس، ای سپورٹس ، گراس روٹس سپورٹس، سپورٹس سائنس، سپورٹس میڈیسن اور سپورٹس لا (کھیلوں کے قوانین) جیسے اہم شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے کوچز، ماہرین اور محققین کے درمیان جدید تکنیکوں اور صلاحیتوں کی بہتری کے لیے باقاعدہ تبادلے کی راہ ہموار ہوگی، جو سعودی عرب کے ‘ویژن 2030’ کے تحت کھیل کے شعبے کی ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔

امریکی ٹیرف کا منہ توڑ جواب: کینیڈا نے 8 ستمبر سے اربوں ڈالر کی امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کر دیا

محمود احمد, August 24,2026

اوٹاوا (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

امریکہ اور کینیڈا کے درمیان جاری تین روزہ اہم تجارتی مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر مکمل طور پر ناکام ہو گئے ہیں، جس کے فوراً بعد کینیڈا کی حکومت نے امریکی مصنوعات پر اربوں ڈالر کے جوابی ٹیرف عائد کرنے کا باضابطہ اور حتمی اعلان کر دیا ہے۔ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے پارلیمنٹ ہاؤس اوٹاوا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ کینیڈا 8 ستمبر سے امریکی سٹیل، الیکٹرانکس اور دیگر سامانِ تجارت پر ‘ڈالر کے بدلے ڈالر’ کی بنیاد پر یکساں جوابی ٹیرف لاگو کرے گا۔

کینیڈا کا یہ انتہائی سخت قدم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین برآمدات پر 50 فیصد اضافی محصول عائد کرنے کے یکطرفہ فیصلے کے ردِعمل میں اٹھایا گیا ہے۔ وزیراعظم مارک کارنی نے امریکہ کے اس فیصلے پر کڑا موقف اپناتے ہوئے کہا کہ “جب آپ پر حملہ کیا جاتا ہے تو آپ جنگ کی حالت میں ہوتے ہیں؛ ہم پر تجارتی حملہ ہوا ہے اور کینیڈا اپنے محنت کشوں، کسانوں، خاندانوں اور کاروباری طبقات کے تحفظ کے لیے امریکی ٹیرف کا برابر اور اینٹ کا جواب پتھر سے دے گا۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ کینیڈا واشنگٹن کی یکطرفہ شرائط کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ اس نئے امریکی اقدام سے کینیڈا کی وائن، ڈیری، فرنیچر، سیمنٹ اور ہاکی کے سامان سمیت تقریباً 20 ارب ڈالر کی برآمدات شدید متاثر ہوں گی، جبکہ تینوں ممالک کے آزادانہ تجارتی معاہدے کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

دوسری جانب امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ کینیڈا پر ڈالتے ہوئے کہا کہ اوٹاوا نے ایک بہترین اقتصادی موقع گنوا دیا ہے اور فی الحال امریکہ کینیڈا سے مزید بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ تاہم کینیڈا میں وزیراعظم مارک کارنی کے اس جرات مندانہ فیصلے کو وسیع عوامی اور سیاسی حمایت حاصل ہو رہی ہے اور اپوزیشن کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ پیئر پوئیلیور نے بھی حکومتی موقف کی مکمل تائید کرتے ہوئے ملک کے روزگار اور معیشت کی دفاع کے لیے متحد ہونے کا اعادہ کیا ہے۔

انڈیا میں جن زی کو لبھانے کی کوشش: نریندر مودی کا انسٹاگرام پر نیا بے تکلفانہ انداز

محمود احمد, August 23,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

انڈیا کی سیاست میں ڈیجیٹل مواصلات کا انداز تیزی سے بدل رہا ہے۔ 75 سالہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی، جو طویل عرصے سے سکرپٹڈ تقاریر اور رسمی نشریات کے ذریعے اپنی ایک سخت گیر اور بااثر سیاسی رہنما کی شبیہ قائم رکھے ہوئے تھے، اب ملک کی نئی نسل بالخصوص ’جن زی‘ سے پیار اور بے تکلفانہ انداز میں رابطہ استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حالیہ ہفتوں کے دوران مودی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ میں ایک واضح اور نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ وہ ٹائم لائن جو ماضی میں صرف سرکاری و محتاط انداز میں تیار کی گئی تصاویر تک محدود تھی، اب اس میں انسٹاگرام ٹرینڈز جیسے ’گیٹ ریڈی وِد می‘ طرز کی ویڈیوز، موبائل سے خود بنائی گئی سیلفی ویڈیوز اور نوجوانوں سے براہِ راست ‘دوست’ کہہ کر مخاطب ہونے کے کلپس شامل ہیں۔ حال ہی میں نئی دہلی میں طلبہ کی ایک گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے جن زی کے مقبول عام مکالموں کا سہارا لیا اور کہا کہ آج کا انڈین نوجوان اپنے خاندان کی پہلی نسل ہے جو راکٹ، ڈرون اور جدید کمپیوٹر چپس بنانے کے شعبے میں آگے بڑھ رہی ہے۔

واضح رہے کہ انسٹاگرام پر نریندر مودی کے 10 کروڑ 60 لاکھ (106 ملین) سے زیادہ فالوورز ہیں، جس کی بدولت وہ دنیا میں اس پلیٹ فارم پر سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے بین الاقوامی سیاسی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ اگرچہ بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سنہ 2014ء کے عام انتخابات کے بعد سے ڈیجیٹل سیاست اور سوشل میڈیا میڈیا مہمات میں مہارت حاصل رہی ہے، لیکن مودی کا یہ نیا ‘غیر رسمی انداز’ بی جے پی کی روایتی ڈیجیٹل پالیسی کا حصہ نہیں تھا، بلکہ رواں سال ملک بھر میں نوجوانوں اور طلبہ کی جانب سے مختلف مسائل پر کیے گئے احتجاجی مظاہروں کے بعد مودی کی سوشل میڈیا ٹیم نے اس نئی حکمتِ عملی کو تیزی سے اپنایا ہے۔

عراق کا بڑا فوجی قدم: سعودی سرحد کی نگرانی کے لیے نئی ’بدیہہ آپریشنز کمانڈ‘ قائم، پڑوسی ممالک کے خلاف حملے روکنے کا عزم

محمود احمد, August 23,2026

بغداد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

عراقی حکومت نے اپنی جنوبی و مغربی سرحدوں، بالخصوص برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ ملحقہ بارڈر پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کے لیے ایک نئی ملٹری کمانڈ تشکیل دے دی ہے۔ عراقی حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی اور اہم مقصد عراق کی سرحدی حدود کو محفوظ بنانا اور کسی بھی غیر قانونی عنصر کی جانب سے عراقی سرزمین کو پڑوسی ممالک پر حملوں یا تخریب کاری کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں کو مکمل طور پر ناکام بنانا ہے۔

عراقی وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل یحییٰ رسول نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ نئی قائم کردہ ‘بدیہہ آپریشنز کمانڈ’ اپنے مشن کے پہلے ہی دن سے عملی طور پر فعال ہو کر سعودی عرب کی سرحد کے قریب طے شدہ علاقوں میں منتقل ہونا شروع ہو گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ نئی ملٹری آپریشنز کمانڈ بنیادی طور پر 10 اگست کو صوبہ مثنیٰ کے وسیع صحرائی خطے میں سیکیورٹی کو مزید مضبوط اور سخت بنانے کے لیے قائم کی گئی تھی، جس کے مستقل کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

میجر جنرل یحییٰ رسول نے مزید تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ اس نوبنیاد کمانڈ کا مرکزی ہیڈکوارٹر صوبہ مثنیٰ کے تاریخی اور سٹریٹجک علاقے ‘نقرة السلمان’ میں قائم کیا جائے گا۔ نقرة السلمان کا یہ خطہ سماوہ کے وسیع صحرا کے بالکل وسط میں اور ضلع سلمان کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے، جو سعودی عرب کی سرحد سے محض 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس پیش رفت کے بعد دونوں برادر ممالک کے سرحدی دفاع میں مزید بہتری اور علاقائی استحکام کی امید کی جا رہی ہے۔

سابق امریکی وزیرِ دفاع لیون پینیٹا کی ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پالیسی پر شدید تنقید: معاشی ناکہ بندی کو امریکہ کی کمزوری قرار دے دیا

محمود احمد, August 23,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

امریکہ کے سابق وزیرِ دفاع اور امریکی استخباراتی ادارے (سی آئی اے) کے سابق سربراہ لیون پینیٹا نے ایران کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے شروع کی گئی ’معاشی جنگ‘ کو امریکہ کی بڑی ناکامی قرار دیا ہے۔ ایک نشریاتی ادارے (سی این این) کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف معاشی ناکہ بندی اور سخت اقتصادی دباؤ سے امریکہ کو مطلوبہ کامیابی نہیں ملے گی، بلکہ اس کے برعکس ایران خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کو بند کر کے خود امریکہ پر زبردست اقتصادی اور تجارتی دباؤ بڑھا رہا ہے۔

لیون پینیٹا نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ تہران کو شدید اقتصادی مشکلات، غذائی اجناس اور طبی سامان کی فراہمی میں رکاوٹیں ڈال کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ایک سنگین غلطی ہے، جو کہ عالمی قوانین کی نظر میں ’جنگی جرم‘ کی زمرے میں آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس وقت دنیا بھر میں مخالف طاقتوں کے ایک منظم محور — جس میں چین، روس، شمالی کوریا اور ایران شامل ہیں — سے نمٹ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ چاروں ممالک ایک دوسرے کی بھرپور مدد کر رہے ہیں؛ جیسے شمالی کوریا روس کو 10,000 جنگجو اور جدید ڈرونز فراہم کر چکا ہے، لیکن امریکی صدر اس کے برعکس اپنے اتحادوں کو تنقید کا نشانہ بنا کر دشمنوں کو خوش کرنے کی ’الٹی حکمتِ عملی‘ پر گامزن ہیں۔

سابق امریکی وزیرِ دفاع نے زور دیا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے، چاہے امریکی صدر ڈیموکریٹ رہا ہو یا ریپبلکن، بنیادی عالمی اصول یہی رہے ہیں کہ امریکہ کو دنیا میں مضبوط قیادت فراہم کرنی ہے، اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات استوار رکھنے ہیں اور آمروں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے۔ تاہم، ٹرمپ عالمی قیادت سے پیچھے ہٹ چکے ہیں اور انہوں نے ولادی میر پیوٹن، شی جن پنگ اور کم جونگ ان جیسے آمروں کے سامنے لچک دکھائی ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ ایران کی معاشی ناکہ بندی کے نتیجے میں وہاں کی سخت گیر حکومت اپنی طاقت اور مقبولیت میں مزید اضافہ کر لے گی، جبکہ عالمی سطح پر امریکہ ایک اور جنگ ہارتا ہوا اور تنہا دکھائی دے گا، جو کہ اس کی بین الاقوامی ساکھ کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہوگا۔

ایران کا ’اقتصادی جنگ‘ میں شامل ممالک کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ: آبنائے ہرمز کی بندش اور ایٹمی پالیسی میں تبدیلی کی دھمکی

محمود احمد, August 23,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد کردہ معاشی دباؤ کے تناظر میں ایک انتہائی سخت اور دھمکی آمیز بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی ’اقتصادی جنگ‘ میں اس کا ساتھ دینے والے تمام ممالک کو اپنا براہِ راست ’دشمن‘ تصور کرے گا اور ان کے خلاف جوابدہ اقدامات کیے جائیں گے۔ محسن رضائی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری چھ ماہ طویل تنازع اور معاشی تعطل کو ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم ایرانی قیادت کی جانب سے سخت ردِعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

محسن رضائی نے اپنے انٹرویو کے دوران عالمی بحری تجارت بالخصوص خلیج فارس کی سب سے اہم شاہراہ ‘آبنائے ہرمز’ کے حوالے سے شدید دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھی ملک نے ایران کے خلاف امریکی معاشی ناکہ بندی یا پابندیوں میں حصہ لیا، تو ایران آبنائے ہرمز اور خلیج فارس سے ’تیل کا ایک قطرہ‘ بھی باہر نہیں جانے دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوجی طاقت کا استعمال کرنے میں ناکامی کے بعد امریکہ اب اقتصادی ناکہ بندی کے ذریعے تہران پر دباؤ بڑھا رہا ہے، جس کے جواب میں ایران نہ صرف اپنی جنگی حکمتِ عملی اور انداز میں بنیادی تبدیلیاں لا رہا ہے بلکہ اپنی روایتی سفارتی پالیسی کو بھی نیا موڑ دے رہا ہے۔

ایٹمی پروگرام اور عالمی معاہدوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے محسن رضائی نے عالمی اداروں کے رویے پر شدید تحفظات ظاہر کیے اور کہا کہ امریکہ کے بلااشتعال اقدامات اور حملوں کی وجہ سے دنیا بھر کے ممالک میں ایٹم بم حاصل کرنے کی خواہش میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بین الاقوامی قوانین اور این پی ٹی جیسے معاہدا ت کسی ملک کو غیر ملکی حملوں سے نہیں بچا سکتے، تو ایران ایٹم بم کیوں حاصل نہ کرے؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر عمل پیرا رہتے ہوئے آئی اے ای اے کے ساتھ مکمل تعاون کیا، لیکن اس کے باوجود اسے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد اب دنیا بھر میں یہ تاثر عام ہو چکا ہے کہ ایٹمی ہتھیار ہی کسی ملک کی سلامتی اور دفاعی ڈیٹرنس کی واحد ضمانت ہیں۔

بنگلہ دیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی و معاشی فریم ورک میں شمولیت کا اشارہ: انڈین میڈیا میں شدید تشویش، نئی علاقائی صف بندی پر بحث چھڑ گئی

کاشف عباسی , August 23,2026

ڈھاکہ (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

بنگلہ دیش کے مشیر برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر کے ایک تازہ ترین اور اہم ترین سفارتی بیان نے جنوب ایشیائی خطے بالخصوص انڈین صحافتی و سیاسی حلقوں میں ایک بڑا زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے بنگلہ دیش سنگباد سنستھا (بی ایس ایس) سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم طارق رحمان کے قریبی ساتھی ہمایوں کبیر نے واضح کیا کہ بنگلہ دیش پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان پنپنے والے کسی بھی مجوزہ معاشی یا دفاعی فریم ورک میں شامل ہونے کے امکان کے حوالے سے انتہائی مثبت اور کھلی سوچ رکھتا ہے۔ اس بیان کے سامنے آتے ہی بھارتی ذرائع ابلاغ پر شدید تشویش اور گہرا تجسس دیکھا جا رہا ہے۔

انڈین میڈیا میں ہمایوں کبیر کے اس مؤقف کو اس نظر سے دیکھا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش دراصل پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے تاریخی مکہ معاہدے اور ممکنہ چار ملکی دفاعی بلاک کا حصہ بننے کے لیے پرعزم ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان پچھلے کچھ عرصے سے جاری شدید سفارتی اور سیاسی کشیدگی کے تناظر میں ڈھاکا کے اس نئے مثبت رویے کو ایک انتہائی اہم، غیر متوقع اور سٹریٹجک تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس چار ملکی بلاک میں بنگلہ دیش کی شمولیت سے خطے میں دفاعی و اقتصادی توازن تبدیل ہو جائے گا جس سے بھارت پر زبردست سفارتی دباؤ بڑھے گا۔

مشیرِ خارجہ امور ہمایوں کبیر نے مزید تفصیلا ت دیتے ہوئے بتایا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی خصوصی دعوت پر بنگلہ دیش کے نو منتخب وزیراعظم طارق رحمان کا دورۂ ریاض گرمیوں کا موسم ختم ہونے کے بعد حتمی طور پر طے پائے گا۔ اس اعلٰی سطحی دورے کے دوران سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مکہ فریم ورک میں شمولیت کی دستاویزات کو حتمی شکل دیے جانے کا قوی امکان ہے۔ بنگلہ دیش کی اس نئی خارجہ پالیسی نے خطے میں ایک بالکل نئی سفارتی صف بندی کی بنیاد رکھ دی ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکی وفاقی عدالت نے 75 ممالک پر عائد امیگریشن ویزا پابندی کالعدم قرار دے دی: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیوں کو بڑا قانونی دھچکا

محمود احمد, August 23,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

امریکی وفاقی عدالت نے ایک تاریخی اور اہم فیصلہ سناتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے دنیا کے 75 مختلف ممالک کے شہریوں کو مستقل بنیادوں پر امریکا میں آباد ہونے سے روکنے والی متنازع امیگریشن ویزا پابندی کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ نیویارک کی جنوبی ضلعی عدالت کی معزز جج جینیٹ ورگاس نے اس حکومتی پالیسی کو امریکہ کے نافذ العمل قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اس قسم کی اجتماعی پابندی جاری کر کے اپنے آئینی و قانونی اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ اس عدالتی فیصلے کو وائٹ ہاؤس اور ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن اصلاحات کے لیے ایک بڑا اور غیر متوقع قانونی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ متنازع امیگریشن پالیسی رواں سال جنوری 2026ء میں باقاعدہ نافذ کی گئی تھی، جس کے تحت ایشیا، افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے 75 سے زائد ممالک جن میں افغانستان، برازیل، مصر، ایران، عراق، نائجیریا، صومالیہ، تھائی لینڈ اور یمن شامل ہیں، کے شہریوں کے لیے گرین کارڈ اور امیگرنٹ ویزوں کی جاری کارروائیوں پر معطلی عائد کر دی گئی تھی۔ اس وقت امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے موقف میں یہ کہا تھا کہ ان زیادہ خطرے والے ممالک سے آنے والے غیر ملکی تارکینِ وطن امریکہ کی عوامی و فلاحی سہولیات پر غیر ضروری مالی بوجھ بنتے ہیں، جس کو روکنے کے لیے ویزا پراسیسنگ پر پابندی لگائی گئی تھی۔ تاہم جج ورگاس نے اپنے فیصلے میں اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی بھی درخواست گزار کا ویزا محض اس کے آبائی ملک کی بنیاد پر منسوخ یا منجمد نہیں کیا جا سکتا، بالخصوص اس وقت جب قونصلر افسران نے تمام قانونی شرائط اور دستاویزات کی تصدیق کر لی ہو۔

عدالت کے اس فیصلے کے فوری نتیجے میں وہ تمام تمام ویزا انوائسز اور معطل شدہ درخواستیں خود بخود بحال ہو جائیں گی جو صرف اس صدارتی پالیسی کا سہارا لے کر منسوخ کی گئی تھیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگرچہ امریکی وزارتِ انصاف اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ اپیلٹ کورٹ میں جانے کا حق رکھتی ہے، لیکن فی الوقت 75 ممالک کے لاکھوں امیگریشن درخواست دہندگان کے لیے امریکی سفارت خانوں کا راستہ دوبارہ کھل گیا ہے۔ واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی انتخابی مہم کے دوران امریکی سرحدوں پر سخت کنٹرول، ملک بدری کی رفتار تیز کرنے اور قانونی و غیر قانونی امیگریشن کو محدود کرنے کے جو بلند و بانگ وعدے کیے تھے، ان کی راہ میں امریکی عدالتیں اب ایک مضبوط رکاوٹ کے طور پر سامنے آ رہی ہیں۔

انسدادِ صحرا زدگی میں چین کے اقدامات اور کامیابیاں عالمی برادری کے لیے بہترین نمونہ ہیں: یاسمین فواد کا بیجنگ میں اہم انٹرویو

محمود احمد, August 22,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اگست 2026ء

اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل اور کنونشن برائے انسدادِ صحرا زدگی کے سیکرٹریٹ کی ایگزیکٹو سیکرٹری یاسمین فواد نے چین کے اپنے حالیہ دورے کے دوران بیجنگ میں چائنا میڈیا گروپ کو ایک خصوصی انٹرویو دیا ہے، جس میں انہوں نے زمین کو بنجر ہونے سے بچانے اور سبزہ زاروں کی بحالی کے حوالے سے چین کی عالمی سطح پر نمایاں اور شاندار کامیابیوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر خاص زور دیا کہ ماحولیاتی تحفظ اور زمین کے تحفظ کے کسی بھی بڑے اور پائیدار منصوبے کی کامیابی کے لیے مضبوط، طویل مدتی اور اٹل سیاسی عزم بنیادی شرط ہے، جو کہ چین کی اعلیٰ قیادت میں واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔

اقوام متحدہ کی ایگزیکٹو سیکرٹری یاسمین فواد نے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ برسوں کے دوران چین میں صحرائی، بنجر اور ریتلی زمینوں کے رقبے میں مسلسل اور نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس نے چین کو دنیا بھر میں زمینی انحطاط کے منفی رجحان کو مثالی انداز میں تبدیل کرنے والی عالمی مثالوں میں ممتاز ترین مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین عالمی سطح پر صحرا زدگی کو روکنے، ماحول کو بچانے اور سبز ترقی کو فروغ دینے کی بین الاقوامی کوششوں میں ایک فعال، بااثر اور پیش پیش رہنما کا کردار ادا کر رہا ہے، اور صحرا زدگی کے خلاف اس طویل اور مسلسل جدوجہد میں سبز ترقی کا چینی ماڈل اور تجربہ دنیا کے دیگر تمام ممالک کے لیے انتہائی قابلِ تقلید اور مشعلِ راہ ثابت ہو سکتا ہے۔

فیفا کا بڑا ایکشن: 2026 ورلڈ کپ فائنل کے بعد لڑائی پر ارجنٹائن کے کھلاڑیوں پر پابندیاں اور کروڑوں روپے کے بھاری جرمانے عائد

محمود احمد, August 22,2026

زیورخ (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اگست 2026ء

انٹرنیشنل فیڈریشن آف ایسوسی ایشن فٹبال (فیفا) نے فٹبال ورلڈ کپ 2026ء کے فائنل میچ کے اختتام پر کھلاڑیوں کے درمیان پیش آنے والی شدید جھڑپوں اور بدسلوکی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ارجنٹائن کے اسٹار مڈفیلڈر لیانڈرو پیریڈیز سمیت متعدد کھلاڑیوں اور ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن پر سنگین پابندیاں اور کروڑوں روپے کے جرمانے عائد کر دیے ہیں۔ فیفا ڈسپلنری کمیٹی نے 19 جولائی کو امریکا کے نیویارک نیو جرسی اسٹیڈیم میں اسپین اور ارجنٹائن کے درمیان کھیلے گئے عالمی کپ کے فائنل کے بعد کھلاڑیوں اور آفیشلز کے درمیان ہونے والی جھگڑے کی مکمل تحقیقات کے بعد یہ حتمی فیصلے جاری کیے ہیں۔

فیفا کی جانب سے جاری کردہ فیصلے کی تفصیلا ت کے مطابق ارجنٹائن کے تجربہ کار مڈفیلڈر لیانڈرو پیریڈیز کو ڈسپلن کی سنگین خلاف ورزی پر 10 بین الاقوامی میچز کی پابندی کی سزا سنائی گئی ہے اور ان پر 90 ہزار امریکی ڈالر کا انفرادی جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ اسی واقعے میں ملوث ارجنٹائن کے دفاعی کھلاڑی ناہوئل مولینا کو 7 میچز کے لیے معطل کر دیا گیا ہے جبکہ ان پر بھی 90 ہزار امریکی ڈالر کا سنگین جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، ارجنٹائن کے نوجوان فٹبالر تھیاگو الماڈا اور اسپین کے پابلو مارٹن پائز گاویرا (گاوی) کو ایک، ایک میچ کے لیے معطل کرتے ہوئے 30، 30 ہزار ڈالر جرمانہ کیا گیا ہے، جبکہ ارجنٹائن کے کوچنگ سٹاف کے اہم رکن اور سابق اسٹار روبرٹو آیالا کو 3 میچز کی معطلی کے ساتھ 30 ہزار امریکی ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

کھلاڑیوں کی انفرادی سزاؤں کے ساتھ ساتھ فیفا نے ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن پر مختلف سیکیورٹی و ڈسپلنری خلاف ورزیوں کے باعث مجموعی طور پر 3 لاکھ 21 ہزار امریکی ڈالر کا بھاری جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ عالمی فٹبال باڈی نے واضح کیا کہ ارجنٹائن کی ایسوسی ایشن کو میچ کے دوران اور بعد میں تماشائیوں کے غیر اسپورٹس مین رویے، ٹیم کے ارکان کی بدسلوکی، شائقین کی جانب سے نسل پرستانہ و امتیازی نعرے بازی اور اسٹیڈیم کی بنیادی سیکیورٹی قواعد کی خلاف ورزی کا براہِ راست ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ فیفا نے ارجنٹائن کی قومی ٹیم پر یہ پابندی بھی عائد کی ہے کہ وہ اپنے ہوم گراؤنڈ پر کھیلے جانے والے آئندہ دو عالمی میچز میں اسٹیڈیم کی صرف 50 فیصد گنجائش کے ساتھ شائقین کو داخلے کی اجازت دے گی، تاہم ان میں سے ایک میچ کی شرط کو مشروط طور پر معطل رکھا گیا ہے۔

فیفا ڈسپلنری کمیٹی کی جانب سے مزید ہدایت کی گئی ہے کہ ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن پر عائد کردہ مجموعی جرمانے میں سے 1 لاکھ امریکی ڈالر لازمی طور پر فٹبال میں امتیازی سلوک اور نسل پرستی کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے مثبت اقدامات پر خرچ کیے جائیں گے، جبکہ 1 لاکھ ڈالر کی رقم معطل رکھی گئی ہے۔ فیفا حکام کے مطابق یہ تمام سخت قانونی اقدامات ڈسپلنری اینڈ ایتھکس پراسیکیوٹر کی جانب سے جمع کرائی گئی ویڈیو ثبوتوں پر مبنی جامع رپورٹ کی روشنی میں عمل میں لائے گئے ہیں۔ فیفا نے دونوں ممالک کی فٹبال فیڈریشنز کو فیصلوں کی تفصیلی دستاویزات فراہم کرتے ہوئے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے 10 دن کی حتمی مہلت دی ہے۔ واضح رہے کہ 19 جولائی 2026ء کو کھیلے گئے سنسنی خیز فائنل میں اسپین نے ارجنٹائن کو ایک کے مقابلے میں صفر صفر گول سے شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ 2026ء کی عالمی ٹرافی اپنے نام کی تھی۔

صومالیہ میں امداد میں کٹوتیاں: یونیسف نے لاکھوں بچوں کی زندگی کو درپیش خطرات پر الرٹ جاری کر دیا

محمود احمد, August 22,2026

اقوام متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اگست 2026ء

اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسف) نے شدید خبردار کیا ہے کہ صومالیہ میں عالمی انسانی امداد میں کٹوتیوں کی وجہ سے بنیادی طبی و غذائی خدمات تیزی سے بند ہو رہی ہیں، جس کا سب سے زیادہ نقصان معصوم بچوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

جنیوا میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے یونیسف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے انکشاف کیا کہ امدادی کٹوتیوں کے نتیجے میں صومالیہ میں سینکڑوں غذائی اور صحتی مراکزبند ہو چکے ہیں، جبکہ تعلیم اور بچاؤ کے دیگر تحفظاتی پروگرام ختم ہو رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق سال 2026ء کے پہلے چھ مہینوں میں شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کی سٹیبلائزیشن سینٹرز میں منتقلی میں 32 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ کمیونٹی کی سطح پر حفاظتی غذائی خدمات کی بندش ہے۔

یونیسف نے خبردار کیا کہ مراکزبند ہونے سے ماؤں کو بچوں کے علاج کے لیے طویل مسافت طے کرنا پڑتی ہے، جس سے علاج میں تاخیر اور بچوں کی ہلاکت کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ صومالیہ اس وقت شدید خشک سالی، سیلاب اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کی وجہ سے ایندھن اور کھاد کی گرانی جیسے سنگین بحرانوں سے گھرا ہوا ہے، جہاں فوری عالمی امداد کی اشد ضرورت ہے۔