سعودی عرب کے ۳ سپر آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر گئے، خلیجی ریاستوں نے سکھ کا سانس لے لیا

کاشف عباسی ,june 18,2026

لندن/مسقط (بین الاقوامی تجارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فوری بعد سعودی عرب کے پرچم بردار ۳ عظیم الشان سپر آئل ٹینکرز انتہائی حساس سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بحفاظت عبور کر چکے ہیں، برطانوی نشریاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ میرین ٹریفک کے مستند ترین سٹرٹیجک اعداد و شمار کے مطابق اوتاد، جحام اور شادن نامی یہ تینوں پٹرولیم جہاز فروری میں ایران امریکہ تنازع کے باقاعدہ آغاز سے ہی آبنائے ہرمز کے مغرب میں واقع خلیجی سمندر میں لنگر انداز تھے کیونکہ جنگی خطرات کے باعث ان کی نقل و حرکت مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی تھی، بحری ٹریفک ٹریکنگ کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ ان جہازوں نے صیہونی و امریکی ناکہ بندی اور ایرانی حملوں کے خوف سے بچنے کے لیے اپنی لائیو پوزیشن نشر کرنے والے جدید سیکیورٹی ٹرانسمیٹر مکمل بند رکھ کر یہ انتہائی پرخطر راستہ خاموشی سے عبور کیا اور جنگی زون سے نکل کر عمان کی محفوظ خلیج میں داخل ہونے کے فوراً بعد اپنے سگنلز کو دوبارہ فعال کیا، ڈیٹا کے مطابق تینوں ٹینکرز نے سعودی عرب کے ساحلی صنعتی شہر راس تنورہ سے خام تیل لوڈ کیا تھا جن میں سے دو نے جنگ شروع ہونے سے پہلے ۲۷ اور ۲۸ فروری کو مال برداری مکمل کی تھی جبکہ تیسرے ٹینکر نے جنگ شروع ہونے کے ٹھیک ایک ہفتے بعد ۷ مارچ کو تیل لادا تھا، اس وقت اوتاد اور شادن بالترتیب جنوبی کوریا اور جاپان کو اپنی متوقع منزل کے طور پر نشر کر رہے ہیں جبکہ جحام نے اس وقت اپنی لوکیشن کو صیغہ راز میں رکھا ہوا ہے۔

دوسری جانب بی بی سی کے سلامتی امور کے سینیئر ایڈیٹر فرینک گارڈنر نے خطے کی تازہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس معاہدے کے نفاذ پر خلیجی عرب ریاستوں نے بظاہر محتاط رہتے ہوئے بالآخر سکھ کا سانس لیا ہے کیونکہ ان ممالک کی سب سے اہم سمندری تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز اب معمول کی بین الاقوامی آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھولی جا رہی ہے اور یہ تمام ممالک اب یہ قوی امید کر رہے ہیں کہ حالیہ مہینوں میں ایران کی جانب سے ان کی آئل فیلڈز پر آنے والے تباہ کن ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کا سلسلہ اب مستقل طور پر ختم ہو جائے گا، تاہم اس مفاہمتی یادداشت کی ابتدائی کامیابی کے باوجود مشرقِ وسطیٰ میں کئی بڑے حل طلب معاشی و عسکری معاملات بدستور موجود ہیں، ماہرین کے مطابق مذاکرات میں سب سے پیچیدہ اور اہم ترین معاملہ ایران کا جوہری پروگرام ہے کیونکہ آئندہ ۶۰ دن کا عرصہ حد سے زیادہ مختصر ہے جس میں یہ عالمی سطح پر طے کیا جائے گا کہ تہران کے جوہری پروگرام کی نگرانی کس جدید اور سخت طریقے سے کی جائے تاکہ یہ سوفیصد یقینی بنایا جا سکے کہ وہ پسِ پردہ خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے پر کام نہ کر رہا ہو، یاد رہے کہ ۲۰۱۵ء میں اوباما دور کے تاریخی ”جے سی پی او اے“ معاہدے تک پہنچنے میں اس ۶۰ روزہ مدت سے ۱۰ گنا زیادہ طویل وقت لگا تھا جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیا تھا۔

بین الاقوامی معاشی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمد و رفت کے لیے مقررہ ۶۰ روزہ مدت ختم ہونے کے بعد بھی خلیج میں بحری جہازوں کے لیے خطرہ برقرار رہے گا کیونکہ ایران اس گزرگاہ پر سمندری نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک نیا خودساختہ قانونی نظام نافذ کر سکتا ہے جس کے تحت وہ یہاں سے گزرنے والے عالمی جہازوں سے باقاعدہ ”ٹول ٹیکس“ وصول کرے گا، واضح رہے کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کو جنگی تباہی کے بعد ملک کی دوبارہ تعمیرِ نو کے لیے ۳۰۰ ارب امریکی ڈالر کا خطیر فنڈ ملنا ہے جس کی معاشی مالی معاونت بڑی حد تک وہی خلیجی عرب ریاستیں کرنے پر مجبور ہوں گی جن پر حالیہ جنگ کے دوران ایران حملے کرتا رہا ہے، بعض ماہرین کے مطابق امریکہ داخلی سیاسی دباؤ کے باعث براہِ راست ایران کو اتنی بڑی رقم دینے کی پوزیشن میں بالکل نہیں ہے لہٰذا واشنگٹن کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں بچتا کہ وہ ایران کو آبنائے ہرمز پر ٹول وصول کرنے کی کھلی اجازت دے اور اس پر مکمل خاموشی اختیار کر لے، زیادہ امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ واشنگٹن ”ٹول“ والے معاملے پر مصلحت پسندانہ خاموشی اختیار کرے گا جبکہ تہران برادر ملک مسقط (عمان) کے ساتھ مل کر اس اہم سمندری گزرگاہ پر ٹول کی مستقل وصولی کو یقینی بنائے گا، ماہرین کے نزدیک گزشتہ چند ماہ کے تنازع کے دوران ایران نے تجارتی جہازوں کو روک کر ان سے ایک سے دو ملین ڈالر کے حساب سے عارضی ٹول وصول کیا ہے مگر مستقل قانون نافذ کرنے کی صورت میں پٹرولیم جہازوں پر ۵ لاکھ ڈالر فی جہاز ٹول فیس عائد کیے جانے کا قوی امکان ہے جبکہ دیگر تجارتی سازوسامان لے جانے والے کارگو بحری جہازوں پر یہ شرح ان کے وزن کے حساب سے مختلف ہو سکتی ہے۔

فیفا ورلڈکپ، انگلینڈ کی کروشیا کے خلاف شاندار فتح، کپتان ہیری کین کے دو گول

محمود احمد june 18,2026

ٹیکساس، امریکہ (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

جاری فیفا ورلڈکپ 2026ء کے ایک انتہائی سنسنی خیز اور ہائی وولٹیج مقابلے میں انگلینڈ نے کروشیا کی فٹبال ٹیم کو دو کے مقابلے میں چار گول سے عبرتناک شکست دے کر عالمی ایونٹ میں اپنے سفر کا شاندار اور جاندار آغاز کر دیا ہے، ٹیکساس سے حاصل ہونے والی اسپورٹس تفصیلات کے مطابق اس ہائی پروفائل میچ میں انگلش ٹیم کا پلہ آغاز سے ہی کروشیا کے خلاف پوزیشن اور اٹیکنگ فٹبال کے لحاظ سے بھاری رہا، انگلینڈ کی جانب سے جارحانہ اسکورنگ کا باقاعدہ آغاز میچ کے بارہویں منٹ میں ہی ہو گیا جب کروشیا کی دفاعی فاؤل پر انگلینڈ کو ایک اہم پنالٹی کک ملی جس پر کپتان ہیری کین نے انتہائی مہارت کے ساتھ گیند کو جال کی راہ دکھا کر ٹیم کو ابتدائی برتری دلائی، تاہم کھیل کے ۳۶ویں منٹ پر کروشیا کے مایہ ناز فارورڈ مارٹن نے انگلش الیون کے مضبوط دفاع کو یکسر چکمہ دیتے ہوئے بہترین گول اسکور کیا اور مقابلہ ۱-۱ سے برابر کر دیا، اس گول کے جواب میں انگلش کپتان نے پچ پر شاندار کم بیک کیا اور ٹھیک چھ منٹ بعد یعنی ۴۲ویں منٹ پر ہیری کین نے ایک بار پھر خوبصورت فیلڈ گول داغ کر انگلینڈ کو میچ میں ۲-۱ کی برتری دلا دی لیکن پہلے ہاف کے ختم ہونے سے چند سیکنڈ قبل کروشیا کے پیٹر موسیٰ نے پینلٹی ایریا کے پاس سے ایک طوفانی ہٹ لگا کر گیند کو گول پوسٹ میں پہنچایا اور مقابلہ دو دو گول سے برابر کر دیا جس کے ساتھ ہی پہلے ہاف کا کھیل اسی سنسنی خیز اسکور پر یکسر ختم ہوا۔

کھیل کے دوسرے ہاف کے آغاز سے ہی انگلش ٹیم نے ایک منظم سٹریٹجک دباؤ کروشیا کے کھلاڑیوں پر مسلسل برقرار رکھا جس کا بھرپور فائدہ پچ پر صاف دکھائی دیا جب کھیل کے ۴۷ویں منٹ میں انگلینڈ کے اسٹار مڈفیلڈر جوڈ بیلہنگم نے حریف ٹیم کے ڈیفینڈرز کو ڈربل کرتے ہوئے ایک شاندار گول اسکور کر کے اپنی ٹیم کو ۳-۲ کی برتری دلا دی، اس کے بعد کروشیا کی ٹیم نے میچ میں واپسی کے لیے سرتوڑ کوششیں کیں اور کئی جوابی حملے کیے لیکن انگلش گول کیپر نے ان کے تمام عزائم خاک میں ملا دیے، کھیل کے آخری لمحات میں انگلش اسٹرائیکرز نے ایک بار پھر کروشیا کے کمزور دفاع پر فائنل حملہ بولا جس کے نتیجے میں ۸۵ویں منٹ میں رشفورڈ نے گیند کو نیٹ کی زینت بنا کر اسکور ۴-۲ کر دیا اور کروشیا کی میچ میں واپسی کے تمام راستے ہمیشہ کے لیے بند کر دیے، ریفری کی فائنل سیٹی بجنے تک کروشیا کی ٹیم مزید کوئی گول اسکور کرنے میں یکسر ناکام رہی اور یوں انگلینڈ نے یہ یادگار میچ چار دو کے واضح مارجن سے اپنے نام کر کے ورلڈکپ کے گروپ مرحلے میں اہم ترین تین پوائنٹس حاصل کر لیے ہیں۔

ایران نے شرائط نہ مانیں تو دوبارہ حملے اور بحری ناکہ بندی کریں گے، امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کی دھمکی، اسرائیل کا لبنان میں آپریشن جاری رکھنے کا اعلان

کاشف عباسی ,june 18,2026

واشنگٹن/تل ابیب (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی امن معاہدے پر دستخطوں کے فوری بعد امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے تہران کو سخت ترین الفاظ میں دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ میں طے کردہ کڑی شرائط پر سو فیصد عمل نہیں کیا تو امریکہ اس کے خلاف ایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کی مکمل ملٹری صلاحیت رکھتا ہے، واشنگٹن اور تل ابیب سے حاصل ہونے والی سٹریٹجک رپورٹس کے مطابق امریکی وزیرِ جنگ نے واضح کیا کہ رواں ہفتے دستخط کیے گئے امن معاہدے کے تحت واشنگٹن نے نیک نیتی کے طور پر اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر اتفاق ضرور کیا ہے جس کے باعث گزشتہ اپریل کے مہینے سے ایرانی ساحلوں کی طرف آنے اور جانے والے بحری جہازوں کی رکی ہوئی آمد و رفت بحال ہو رہی ہے مگر یہ سب مشروط ہے، پیٹ ہیگستھ نے کڑے تیور اپناتے ہوئے کہا کہ اگر ایران اپنے وعدوں کے مطابق جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی خواہشات کو مکمل طور پر ترک نہیں کرتا تو امریکی وزارتِ جنگ ہر قسم کے اقدامات کے لیے تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائیاں فوری دوبارہ شروع کر دی جائیں گی کیونکہ امریکہ کی کسی بھی عسکری کارروائی اور مذاکرات کا بنیادی مرکز صرف ایران کے جوہری ہتھیاروں کا خاتمہ ہے، انہوں نے برطانوی قیادت پر زور دیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنے فوجی اخراجات بڑھائے اور امریکہ کو بحرِ ہند کے چاگوس جزائر میں واقع اہم ترین خفیہ فوجی اڈے ”ڈیاگو گارسیا“ تک مکمل رسائی فراہم کرے۔

دوسری جانب امریکہ اور ایران کے مابین امن معاہدہ نافذ العمل ہونے اور اس میں تمام فوجی کارروائیاں بند کرنے کی واضح شرط کے باوجود غاصب اسرائیلی فوج نے خطے کے امن کو داؤ پر لگاتے ہوئے برادر اسلامی ملک لبنان کے خلاف اپنی جارحانہ فوجی کارروائیاں بدستور جاری رکھنے کا ہٹ دھرمی پر مبنی باضابطہ اعلان کیا ہے، اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے اپنے آفیشل ٹیلی گرام چینل پر جاری کردہ ایک جابرانہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ صیہونی فوجیں اب بھی جنوبی لبنان کے اندر تقریباً ۱۰ کلومیٹر تک پھیلے ہوئے نام نہاد سیکیورٹی زون میں آپریشنز کر رہی ہیں اور ان کی یہ فیلڈ موجودگی آپریشنل ضروریات کے باعث ہے لہٰذا صیہونی دستے خطرات کو ختم کرنے کے نام پر معصوم شہریوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے، اس سے قبل لبنانی میڈیا نے بھی تصدیق کی تھی کہ معاہدے کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی و زمینی حملے کیے گئے ہیں، صیہونی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے اس عالمی امن معاہدے پر دستخط کے بعد اب تک کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا اور وہ خود کو اس عمل سے یکسر الگ تھلگ ظاہر کر رہے ہیں، انہوں نے امریکی ٹیلی ویژن ”فاکس نیوز“ سے گفتگو میں مکارانہ موقف اپنایا کہ اسرائیل اس براہِ راست امن مذاکرات کا حصہ نہیں رہا ہے اور وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے سے شدید اختلاف رکھتے ہیں جبکہ اسرائیل کے انتہا پسند دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے سوشل میڈیا پر زہر اگلتے ہوئے کھلم کھلا اعلان کیا ہے کہ اسرائیل ٹرمپ کے اس امن معاہدے کا بالکل پابند نہیں ہے کیونکہ صیہونی حکومت اس معاہدے کی فریق نہیں ہے جو ان کی نام نہاد سلامتی کو یقینی نہ بنائے، صیہونی حکام کے ان بیانات نے امریکی انتظامیہ کی امن کوششوں اور معاہدے کی شفافیت پر ایک بار پھر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

سپریم کورٹ ملازمین کے یوٹیلیٹی الاؤنس میں ۱۰۰ فیصد تاریخی اضافہ، شہریوں کا شدید ردعمل، تمام مراعات ختم کرنے کا مطالبہ

منصور احمد june 18,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

چیف جسٹس آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے ملازمین اور افسران کے یوٹیلیٹی الاؤنس میں پورے ۱۰۰ فیصد اضافے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی عدالتی و انتظامی تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یوٹیلیٹی الاؤنس میں کیے جانے والے اس بھاری اضافے کا باقاعدہ اطلاق یکم جولائی ۲۰۲۶ء سے ہوگا، اعلامیے کے تفصیلی اعداد و شمار کے مطابق گریڈ ۱ سے ۶ تک کے ملازمین کا ماہانہ الاؤنس ۶ ہزار روپے سے بڑھا کر ۱۲ ہزار روپے جبکہ گریڈ ۷ سے ۱۰ تک کے ملازمین کا الاؤنس ۸ ہزار سے بڑھا کر ۱۶ ہزار روپے کر دیا گیا ہے، اسی طرح گریڈ ۱۱ سے ۱۵ تک کے ملازمین کا یوٹیلیٹی الاؤنس ۱۰ ہزار سے بڑھ کر سیدھا ۲۰ ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے، اعلامیے کے مطابق گریڈ ۱۶ کے افسران کا الاؤنس ۱۲ ہزار سے بڑھا کر ۲۴ ہزار روپے، گریڈ ۱۷ کے افسران کا یوٹیلیٹی الاؤنس ۱۵ ہزار سے بڑھ کر ۳۰ ہزار روپے جبکہ گریڈ ۱۸ کے افسران کا الاؤنس ۱۸ ہزار سے بڑھا کر ۳۶ ہزار روپے تک پہنچا دیا گیا ہے، اعلیٰ ترین افسران کی بات کی جائے تو گریڈ ۱۹ کے افسران کا الاؤنس ۲۱ ہزار سے بڑھا کر ۴۲ ہزار روپے، گریڈ ۲۰ کے افسران کا الاؤنس ۲۴ ہزار سے بڑھا کر ۴۸ ہزار روپے جبکہ گریڈ ۲۱ اور اس سے اوپر کے تمام اعلیٰ ترین افسران کا ماہانہ الاؤنس ۳۰ ہزار روپے سے بڑھا کر سیدھا ۶۰ ہزار روپے کر دیا گیا ہے، اس سرکاری اعلامیے میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ اس مخصوص یوٹیلیٹی الاؤنس میں گیس اور بجلی کے بھاری اخراجات شامل ہیں اور اس مد میں ہونے والے تمام اضافی اخراجات مالیاتی سال ۲۰۲۶-۲۷ کے منظور شدہ بجٹ سے ہی پورے کیے جائیں گے۔

دوسری جانب معاشی بحران اور کمر توڑ مہنگائی کے پِسے ہوئے عام شہریوں نے سپریم کورٹ کے اس اعلامیے پر انتہائی شدید اور منفی ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور عدالتی انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے، شہریوں کا اپنے عوامی احتجاج میں کہنا ہے کہ ملک کے دیگر سرکاری ملازمین اور اعلیٰ حکام کی تنخواہوں میں پہلے ہی کئی سو گنا اضافہ کیا جا چکا ہے اور اب اس کٹھن صورتحال میں سپریم کورٹ کے ملازمین کے لیے یوٹیلیٹی الاؤنس کو دوگنا کرنا موجودہ ملکی حکومت کی اخراجات کم کرنے اور سادگی اختیار کرنے کی دعوے دار پالیسی کے سراسر خلاف ہے، شہریوں اور مختلف عوامی تنظیموں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاشی انصاف کا مظاہرہ کرتے ہوئے یا تو حکومت کو بلاتفریق تمام غریب پاکستانی شہریوں کے لیے بھی کم از کم ۶۰ ہزار روپے کے برابر ماہانہ خصوصی الاؤنس ادا کرنے کا فوری عدالتی حکم جاری کریں یا پھر ملک کی اعلیٰ ترین سیکیورٹی و حکومتی شخصیات سے لے کر نچلے درجے تک کے تمام سرکاری ملازمین کی ایسی تمام غیر ضروری پٹرول، گیس اور بجلی کی مراعات کو اس وقت تک کے لیے مکمل طور پر معطل اور ختم کیا جائے جب تک ملک موجودہ سنگین معاشی بحران اور بیرونی قرضوں کے چنگل سے مستقل طور پر باہر نہیں آجاتا کیونکہ اشرافیہ کو بھاری مراعات دینا غریب عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔

امریکہ اور ایران کے مابین جنگ کے خاتمے کا تاریخی ۱۴ نکاتی معاہدہ نافذ العمل، صدور نے الیکٹرانک دستخط کر دیے، پاکستان کی بطور ثالث توثیق


کاشف عباسی ,june 18,2026

تہران/واشنگٹن/اسلام آباد (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

عالمِ اسلام اور بین الاقوامی سیاست کے مابین جاری شدید ترین کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک بہت بڑی اور تاریخی بریک تھرو سامنے آئی ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور امن کے قیام کے لیے ایک اہم ۱۴ نکاتی جامع معاہدے پر باقاعدہ طور پر الیکٹرانک دستخط کر دیے ہیں جس کے ساتھ ہی یہ تاریخی معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے، پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اس عالمی پیش رفت کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ پر امریکہ اور ایران کے مابین الیکٹرانک دستخط مکمل ہو چکے ہیں اور پاکستان نے بطورِ ثالث اس تاریخی امن دستاویز کی باقاعدہ توثیق کر دی ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے اہم ترین جذباتی و سفارتی بیان میں واضح کیا کہ اس تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دونوں طاقتور ممالک کے صدور نے دستخط کیے ہیں جو اس بات کی ناقابلِ تردید علامت ہے کہ دونوں فریقین طویل تنازع اور جنگ کے مستقل حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے میں سو فیصد سنجیدہ ہیں، انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے ابتدائی اور بنیادی قدم کے طور پر ایران نے عالمی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی بحری ٹریفک کے لیے فوری طور پر دوبارہ کھولنے جبکہ امریکہ نے ایران کے خلاف جاری بحری ناکہ بندی کو فی الفور ختم کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے، پاکستانی وزیرِ اعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جرات مندانہ قیادت اور بہترین سفارتکاری کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی امن کے لیے مخلصانہ وابستگی نے خطے کو ایک ممکنہ ہولناک اور تباہ کن عالمی جنگ سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جبکہ انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم بشمول جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی انتھک معاشی و سیاسی کوششوں کو بھی زبردست خراجِ تحسین پیش کیا، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایران کی اعلیٰ ترین قیادت بشمول رہبرِ معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کی اعلیٰ بصیرت اور اسلامی دانشمندی کا اعتراف کرتے ہوئے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سینیئر ارکان محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی کی مخلصانہ خدمات کو بھی سراہا اور برادر ممالک قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی اعلیٰ قیادت کے تعمیری کردار کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ مفاہمتی یادداشت پورے خطے میں باہمی احترام اور مشترکہ معاشی خوشحالی کی ایک انتہائی مضبوط بنیاد ثابت ہو گی۔

بین الاقوامی بیورو کے مطابق اس دستخطی تقریب کی حیرت انگیز تفصیلات کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس کے دورے کے دوران دارالحکومت پیرس کے تاریخی ورسائی محل میں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے ساتھ ایک پُرتکلف عشائیے کے موقع پر اس تاریخی ایران امریکہ مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کیے، اس یادگار موقع پر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے صدر ٹرمپ کو باقاعدہ دستاویزات پیش کیں جس پر دستخط مکمل ہوتے ہی فرانسیسی صدر میکرون نے امریکی صدر کو اس عظیم کامیابی پر کھڑے ہو کر دلی مبارکباد پیش کی جبکہ صدر ٹرمپ نے صحافیوں کے جم غفیر کو فاتحانہ انداز میں بتایا کہ انہوں نے ایران کے ساتھ امن معاہدے پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں، وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ آفیشل ویڈیو میں امریکی صدر کے ہاتھ کو زوم کر کے مفاہمت کی یادداشت کے خاص فارسی ورژن پر دستخط کرنے کے تاریخی لمحے کو نمایاں طور پر دکھایا گیا ہے اور اس کے چند ہی منٹوں بعد ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ”ارنا“ نے بھی تہران سے صدر مسعود پزشکیان کی ایک یادگار لائیو تصویر شائع کی جس میں ایرانی صدر نے مسکراتے ہوئے کیمرے کے سامنے اسکرین پر مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جس کے ایک طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط صاف دکھائی دے رہے تھے، وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام کے مطابق یہ معاہدہ جنیوا (سوئٹزرلینڈ) میں طے شدہ وقت سے پہلے ہی فریقین کی باہمی رضامندی اور جلد عملدرآمد کی خواہش کے باعث الیکٹرانک طریقے سے مکمل کر لیا گیا ہے تاہم جنیوا میں دونوں ممالک کی تکنیکی مذاکراتی ٹیموں کی طے شدہ سٹرٹیجک شرکت اور ملاقات شیڈول کے مطابق بدستور برقرار رہے گی جس میں معاہدے پر عمل درآمد کے لیے فوری اگلے انتظامی مراحل طے کیے جائیں گے۔

دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹیلی ویژن سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے معاہدے کے حتمی متن پر الیکٹرانک دستخطوں کی مکمل تصدیق کرتے ہوئے ایران کا نپی تلا اور مضبوط موقف دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، ترجمان نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ سٹرٹیجک آبنائے ہرمز کی مکمل سیکیورٹی کا معاملہ صرف ایران اور عمان کی مشترکہ مقتدر ذمہ داری ہے اور اس تجارتی گزرگاہ میں بحری جہازوں کو فراہم کی جانے والی خدمات اور پروٹیکشن کے بدلے ایران باقاعدہ سروس فیس وصول کرے گا، انہوں نے غاصب صیہونی حکومت کو کڑی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل کی جانب سے برادر اسلامی ملک لبنان پر وحشیانہ حملے اور غاصبانہ قبضہ جاری رہا تو یہ اس عالمی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی تصور ہوگی جس کے خلاف ایران سخت ترین جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے، اسماعیل بقائی نے ملکی خودمختاری پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کے میزائل پروگرام پر کسی بھی عالمی طاقت سے کوئی مذاکرات نہیں کیے جا سکتے اور نہ ہی ایران کا کوئی بھی جوہری مواد ملک سے باہر بھیجا جائے گا البتہ تہران کے پاس افزودہ یورینیم کو پرامن مقاصد کے لیے کم درجے پر لانے کا تکنیکی آپشن موجود ہے، انہوں نے واشنگٹن کو یاد دہانی کرائی کہ طے شدہ ۶۰ دنوں کے اندر امریکہ یا کسی دوسرے فریق کو خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں کوئی اضافہ نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی کوئی نئی معاشی پابندیاں لگائی جانی چاہئیں، تہران پر عائد تیل کی تمام جابرانہ پابندیاں آج سے ہی ختم ہونی چاہئیں تاکہ ایران اگلے ۶۰ دنوں میں اپنا خام تیل عالمی منڈی میں آزادانہ فروخت کر سکے اور امریکہ اس بات کا قانونی طور پر پابند ہے کہ وہ دنیا بھر میں منجمد ایرانی مالیاتی اثاثوں کو فوری بحال کرنے کے سلسلے میں حائل تمام تر رکاوٹیں دور کرے کیونکہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں پر دنیا کے کسی بھی فریق کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات، وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی زیرِ صدارت جائزہ اجلاس میں 4 درجاتی حصار قائم کرنے کا حکم

روزینہ اسماعیل.june 18,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی زیرِ صدارت محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی اور دیگر اہم انتظامات سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک جدید خصوصی موبائل ایپلی کیشن ”محفوظ محرم“ متعارف کرانے کا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے، اسلام آباد سے حاصل ہونے والی انتظامی تفصیلات کے مطابق اس اہم اجلاس میں چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد پولیس نے محرم الحرام کے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے وزیرِ داخلہ کو تفصیلی بریفنگ دی، بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سیف سٹی اسلام آباد میں ایک مرکزی کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے جبکہ عزاداروں، مجالس اور ماتمی جلوسوں کی فول پروف حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ ۴ درجاتی حصار قائم کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے، انتظامیہ کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں تمام مجالس اور جلوسوں کا جامع سیکیورٹی آڈٹ مکمل کر لیا گیا ہے اور امن و نگہبان کمیٹیوں کو بھی فیلڈ میں مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے جبکہ اسلام آباد انتظامیہ امن و امان کی فضا برقرار رکھنے کے لیے تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، مجالس کے لائسنس ہولڈرز اور جلوسوں کے منتظمین سے مسلسل قریبی رابطے میں ہے۔

اجلاس کے دوران خصوصی طور پر تیار کی گئی ”محفوظ محرم“ ایپلی کیشن کے بارے میں بتایا گیا کہ اس جدید سروس کے ذریعے اسلام آباد کے عام شہری گراؤنڈ پر کسی بھی مشتبہ شخص، مشکوک سرگرمی یا سیکیورٹی کے نامکمل انتظامات کی فوری اطلاع براہِ راست کنٹرول روم کو دے سکیں گے اور اس ایپ میں شہریوں کے لیے لائیو لوکیشن اور امیج شیئرنگ (تصاویر بھیجنے) کی خصوصی سہولت بھی میسر کی گئی ہے تاکہ فوری ایکشن لیا جا سکے، اس موقع پر وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پولیس حکام کو تمام چھوٹے بڑے جلوسوں اور مجالس کے داخلی و خارجی راستوں پر واک تھرو گیٹس نصب کرنے اور سخت ترین چیکنگ کا حکم دیا ہے جبکہ شہریوں کی سہولت کے لیے جامع متبادل ٹریفک پلان پر سو فیصد عملدرآمد کرنے کی کڑی ہدایت کی ہے، محسن نقوی نے واشگاف الفاظ میں رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ سیکیورٹی افسران دفاتر کے بجائے خود فیلڈ میں موجود رہیں اور ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کے لیے کھانے پینے کے معیاری انتظامات کو بروقت یقینی بنائیں، وزیرِ داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے طے کردہ ضابطہ اخلاق کی پابندی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور سوشل میڈیا یا فیلڈ میں کسی بھی قسم کے اشتعال انگیز مواد، وال چاکنگ اور نفرت انگیز تقریر کے خلاف ریاست کی جانب سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ریاست مخالف ٹویٹ کیس، صنم جاوید اور فلک جاوید پر فردِ جرم عائد نہ ہو سکی، علی امین گنڈاپور کے وارنٹ منسوخ

کاشف عباسی ,june 18,2026

لاہور (عدالتی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

لاہور کی مقامی عدالت میں ریاست مخالف ٹویٹ کیس میں نامزد پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) پنجاب کی سرگرم عہدیدار صنم جاوید اور ان کی ہمشیرہ فلک جاوید پر جیل حکام کی جانب سے عدم پیشی کے باعث تاحال فردِ جرم عائد نہ ہو سکی، عدالتی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق لاہور کی ایڈیشنل سیشن جج نصرت صدیقی کی عدالت میں اس ہائی پروفائل کیس کی باقاعدہ سماعت ہوئی مگر دونوں نامزد ملزمان کو جیل سے عدالت کے روبرو پیش نہیں کیا گیا جس کے باعث فردِ جرم عائد کرنے کی عدالتی کارروائی مکمل نہ ہو سکی، عدالت عالیہ نے ملزمان کی عدم پیشی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ۳ جولائی ۲۰۲۶ء تک ملتوی کر دی اور متعلقہ جیل انتظامیہ کو سخت ہدایت جاری کی کہ آئندہ تاریخِ سماعت پر دونوں خواتین ملزمان کی عدالت میں حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، واضح رہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے اس حساس مقدمے کا تفصیلی چالان پہلے ہی عدالت میں جمع کروایا جا چکا ہے۔

دوسری جانب لاہور کی سیشن عدالت کے ڈیوٹی جج جاوید اقبال سپرا کی عدالت میں آڈیو لیک کیس کی اہم ترین سماعت کے دوران سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما علی امین گنڈاپور کے باقاعدہ عدالت کے سامنے سرنڈر (پیش) ہو جانے پر ان کے جاری کردہ ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری مستقل طور پر منسوخ کر دیے گئے ہیں، عدالتی کارروائی کے دوران علی امین گنڈاپور اور ان کے شریک ملزم اسد فاروق اپنے وکلاء کے ہمراہ ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوئے جہاں ان کے وکیل نے ٹھوس موقف اختیار کیا کہ محض ایک قانونی سماعت میں ناگزیر وجوہات کی بنا پر عدم پیشی کے باعث علی امین گنڈاپور کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے گئے تھے تاہم اب انہوں نے قانون کا احترام کرتے ہوئے عدالت کے سامنے خود کو سرنڈر کر دیا ہے اور وہ عدالت کے رحم و کرم پر ہیں، ڈیوٹی جج نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا جو بعد میں سناتے ہوئے علی امین گنڈاپور کے وارنٹ منسوخ کر دیے اور آڈیو لیک کیس کی مزید سماعت ۱۵ جولائی ۲۰۲۶ء تک کے لیے ملتوی کرنے کا باقاعدہ حکم جاری کر دیا۔

ایران کو ۶۰ دنوں تک تیل فروخت کرنے کی مکمل اجازت ملنی چاہیے، دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، اسماعیل بقائی

روزینہ اسماعیل.june 18,2026

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے تاریخی امن معاہدے کے تناظر میں ایران کا ٹھوس اور غیر مبہم موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ طے شدہ اگلے ۶۰ دنوں کے اندر دوسرے فریق کو خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی ایران پر کوئی نئی پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں، تہران سے سرکاری ٹیلی ویژن کے حوالے سے موصولہ بین الاقوامی سفارتی رپورٹ کے مطابق ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے اہم ترین پریس بیان میں واشنگٹن پر زور دیا کہ ایران پر عائد تیل کی تمام تر پابندیاں اب فوری ختم ہونی چاہئیں اور تہران کو معاہدے کے بعد آئندہ ۶۰ دنوں تک عالمی منڈی میں اپنا خام تیل آزادانہ فروخت کرنے کی مکمل آئینی اجازت ملنی چاہیے، انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ دنیا بھر میں ایران کے منجمد کیے گئے اربوں ڈالر کے اثاثوں تک تہران کی رسائی کے سلسلے میں حائل تمام تر رکاوٹیں دور کرے، میزائل پروگرام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کے میزائلوں کے بارے میں کسی دوسرے ملک کی گفتگو ہمیں بالکل پسند نہیں اور ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر کسی بھی عالمی فریق کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی جبکہ ایران کے پاس افزودہ یورینیم کو خود کار طریقے سے کم درجے پر لانے کا آپشن موجود ہے مگر ایرانی جوہری مواد کو کسی صورت ملک سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ عالمی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو فراہم کی جانے والی سیکیورٹی خدمات کے بدلے ایران باقاعدہ فیس وصول کرے گا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مشرقِ وسطیٰ کی نازک صورتحال پر بات کرتے ہوئے صیہونی حکومت کو سخت وارننگ دی کہ اسرائیل کی لبنان میں کسی بھی قسم کی فوجی موجودگی یا جارحیت اس عالمی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی تصور ہوگی اور اگر اسرائیل نے لبنان پر اپنا غاصبانہ قبضہ جاری رکھا تو ایران کی جانب سے اس کے خلاف انتہائی ضروری و سخت اقدامات کیے جائیں گے، دوسری طرف اسرائیل نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے جبکہ لبنانی صدر جوزف عون نے اپنے پریس بیان میں اصرار کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ان کے ملک کی جاری بات چیت امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والے اس تازہ امن معاہدے سے بالکل آزاد اور الگ تھلگ ہے، ادھر امریکی قومی انسدادِ دہشت گردی سینٹر کے سابق سربراہ اور ٹرمپ انتظامیہ کے سابق مشیر جو کینٹ نے خطے کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی اس ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کو طویل المدتی برقرار رکھنے کے لیے خطے میں اسرائیلی مہم جوئی اور اقدامات کو محدود کرنا واشنگٹن کے لیے انتہائی ضروری ہے، انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے فیصلے کو انتہائی مثبت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے خطے میں استحکام برقرار رہے گا تاہم معاہدے کی اصل کامیابی کا انحصار اسرائیل کی جارحیت کو روکنے اور مشرقِ وسطیٰ میں توازن قائم رکھنے پر ہے، دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران معاہدہ اسرائیل کے لیے بھی معاشی و سیاسی طور پر فائدہ مند ہوگا لیکن لبنان اور حزب اللہ سے متعلق معاملات میں اسرائیل کو اپنے دفاع کا ہمیشہ مکمل حق حاصل رہے گا۔

مسجد اقصی کی حیثیت تبدیل کرنے کی اسرائیلی سازش بے نقاب، غیر قانونی بستیوں کی توسیع پر فلسطین کی شدید مذمت

روزینہ اسماعیل.june 18,2026

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

فلسطینی وزارتِ خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں اسرائیلی غیر قانونی بستیوں کی جاری وحشیانہ توسیع کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی خطرناک اور کھلی اشتعال انگیزی قرار دیا ہے، مقبوضہ بیت المقدس سے حاصل ہونے والی بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق فلسطینی وزارتِ خارجہ نے اپنے ہنگامی گراں قدر بیان میں واضح کیا ہے کہ غاصب اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی صیہونی آبادکاری کے لیے ۵۷۶ رہائشی یونٹس اور الخلیل (ہیبرون) کے وسط میں ایک انتہا پسند مڈل اسکول (مذہبی مدرسے) کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ غیر قانونی منظوری اسرائیل کی ہائر پلاننگ کونسل نے دی ہے جبکہ بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے تحت اسرائیلی آبادکار بستیاں سراسر غیر قانونی اور کالعدم تصور کی جاتی ہیں، فلسطینی وزارتِ خارجہ نے عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ معصوم فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والے اسرائیل پر فوری طور پر تمام آبادکاری سرگرمیاں روکنے کے لیے کڑا سفارتی و اقتصادی دباؤ ڈالے اور ان جابرانہ اقدامات کو فی الفور کالعدم قرار دے، دوسری جانب اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماؤں پر سنگین الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکہ کے بعض کٹر صیہونی حلقوں کے تعاون سے مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد اقصی کی تاریخی اور قانونی حیثیت (اسٹیٹس کو) کو مستقل طور پر تبدیل کرنے کی ایک انتہائی گھناؤنی سٹریٹجک سازش پر کام کر رہے ہیں۔

عالمی مبصرین کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل میں بعض بااثر انتہا پسند حلقے مسجد اقصی کے پاک احاطے کو باضابطہ طور پر کثیر المذاہب عبادت گاہ قرار دینے کی خطرناک تجویز پر عمل پیرا ہیں، ناقدین اور مسلم اسکالرز کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی بھی جابرانہ اقدام صدیوں پرانے اس طے شدہ عالمی انتظام کے خلاف سنگین بغاوت ہو گا جس کے تحت مسجد اقصی کا تمام تر انتظام و انصرام برادر اسلامی ملک اردن کی زیر نگرانی قائم اسلامی وقف کونسل کے پاس ہے اور موجودہ بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصی کا صرف دورہ کر سکتے ہیں لیکن انہیں وہاں کسی بھی قسم کی مذہبی عبادات یا رسومات ادا کرنے کی بالکل اجازت نہیں ہے، رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے بعض انتہا پسند سیاست دان مسجد اقصی میں یہودی عبادات کو وسیع پیمانے پر زبردستی متعارف کرانے کے کھلے حامی بن چکے ہیں اور اسی سلسلے میں اسرائیلی دائیں بازو کے کٹر رہنما موشے فیگلن نے حال ہی میں مسجد اقصی کے احاطے میں گھس کر اشتعال انگیز مذہبی نغمے گائے اور وہاں مسلمانوں کی مسجد کی جگہ نئی صیہونی عبادت گاہ تعمیر کرنے کے حق میں زہریلا بیان دیا ہے جبکہ اسرائیل کے متعصب وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر بھی متعدد بار پولیس فورس کے سائے میں مسجد اقصی پر دھاوا بول چکے ہیں جس کے خلاف فلسطینی عوام اور تمام عرب ممالک مسلسل شدید ترین احتجاج ریکارڈ کراتے رہے ہیں اور حالیہ وائرل ہونے والی لائیو ویڈیوز میں اتمار بن گویر کو مسجد اقصی میں اسرائیلی جھنڈا لہراتے اور مسجد پر اسرائیلی حقِ ملکیت کے غاصبانہ نعرے لگاتے ہوئے صاف دیکھا جا سکتا ہے۔

اگرچہ اس عالمی دباؤ پر اسرائیلی وزیراعظم کے مکار دفتر نے مسجد اقصی کی موجودہ حیثیت میں کسی بھی تبدیلی کے دعووں کی روایتی تردید کی ہے تاہم فلسطینی قیادت، اردن اور دیگر علاقائی اسلامی ممالک نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، دریں اثنا اسلامی وقف کونسل کے نائب سربراہ ڈاکٹر مصطفی ابو سوئے نے دنیا کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصی کی موجودہ اسلامی حیثیت تبدیل کرنے کی کوئی بھی ناپاک کوشش پورے مشرقِ وسطیٰ اور خطے کے امن کو ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں جھونک سکتی ہے کیونکہ مسجد اقصی کے معاملے میں کوئی بھی صیہونی مداخلت کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کا باعث بنے گی، ادھر انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والی پیش رفت کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے دو معصوم فلسطینی دیہات میں نامعلوم انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں نے رات کی تاریکی میں مساجد کو باقاعدہ آگ لگا دی ہے، مقامی فلسطینی حکام کے مطابق رام اللہ کے قریب واقع گاؤں جِلجِلیہ میں مسجد کے وضو خانے اور دیگر حصوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا جبکہ مسجد کی دیواروں پر عبرانی زبان میں انتہائی اشتعال انگیز اور توہین آمیز نعرے بھی تحریر کیے گئے، عینی شاہدین کے مطابق اس لگی آگ سے اللہ کے گھر کی چھت، دیواریں اور قیمتی فرش بری طرح جھلس کر متاثر ہوئے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج نے روایتی سستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ فوجی دستوں کے پہنچنے تک مشتبہ صیہونی افراد فرار ہو چکے تھے، یہ سنگین ترین پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صیہونی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور مسجد اقصی کا تحفظ ایک بار پھر پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں یکسر نیچے آ گئیں، پاکستان میں تاحال پٹرولیم مصنوعات سستی نہ ہو سکیں

روزینہ اسماعیل.june 18,2026

واشنگٹن/اسلام آباد (بین الاقوامی تجارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدور کے مابین تاریخی امن معاہدے کی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اور تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، واشنگٹن سے حاصل ہونے والی معاشی رپورٹس کے مطابق اس بڑے سٹریٹجک معاہدے کے نافذ ہوتے ہی امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی فی بیرل قیمت یکسر گر کر ۷۵ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ برطانوی خام تیل (برینٹ کروڈ) ۷۷ ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے، اسی طرح متحدہ عرب امارات کا مشہورِ زمانہ مربن خام تیل بھی عالمی منڈی میں ۷۴ ڈالر فی بیرل کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے، عالمی معاشی ماہرین کے مطابق اس امن معاہدے کے باعث جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر بڑی ایشیائی معیشتوں میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے جس کے نتیجے میں وہاں کے اسٹاک انڈیکسز میں زبردست بہتری اور تیزی ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں زمین پر آنے کے باوجود پاکستانی عوام کو اب تک اس کا کوئی ریلیف نہیں مل سکا ہے جس پر عوامی و تجارتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

ملکی معاشی ذرائع کے مطابق پاکستانی حکومت نے دو ماہ کا وافر پٹرولیم ذخیرہ موجود ہونے کے باوجود رواں سال فروری کے مہینے میں ایران جنگ شروع ہوتے ہی ہنگامی بنیادوں پر ملک میں پٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کر دیا تھا لیکن اب عالمی منڈی میں قیمتیں انتہائی کم ہونے کے باوجود حکومت کی جانب سے قیمتوں میں کمی کرنے کے بجائے تاحال صرف داخلی مشاورت کا سست عمل جاری ہے، پٹرولیم سیکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کا ۷۴ اور ۷۵ ڈالر فی بیرل کی سطح پر آنا پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے امپورٹ بل میں اربوں ڈالر بچانے کا سنہری موقع ہے مگر اس کے باوجود اوگرا اور وزارتِ خزانہ کی جانب سے پٹرول سستا کرنے کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملکی صارفین تاحال مہنگا پٹرول خریدنے پر مجبور ہیں اور عوامی سطح پر حکومت سے فوری طور پر عالمی مارکیٹ کے تناسب سے پٹرولیم مصنوعات سستی کرنے کا پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

ٹیکساس میں چھوٹا مسافر طیارہ ہائی وے پر گر کر تباہ، شہریوں نے جان پر کھیل کر مسافروں کو بچا لیا

منصور احمد june 18,2026

آسٹن، ٹیکساس (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہر لاریڈو میں ایک چھوٹا جیٹ مسافر طیارہ ہائی وے پر اچانک گر کر خوفناک حد تک تباہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا ہے جبکہ حادثے کے فوراً بعد عام شہریوں نے اپنی جان پر کھیل کر بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی مسافروں کی زندگیاں بچا لیں، ٹیکساس سے موصولہ عالمی بیورو رپورٹ کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں مجموعی طور پر ۶ افراد سوار تھے اور طیارہ گرتے ہی ہائی وے پر سفر کرنے والے متعدد شہریوں نے اپنی گاڑیاں روک دیں اور زخمیوں کو آگ کے شعلوں سے نکالنے کے لیے فوری طور پر جائے حادثہ کی طرف دوڑ پڑے، عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بعض جرات مند شہریوں نے طیارے کے کاک پٹ کی کھڑکی کو کلہاڑیوں اور بھاری اوزاروں سے توڑ کر اندر پھنسے ہوئے زخمی افراد کو بحفاظت باہر نکالا جبکہ دیگر لوگوں نے سرکاری امدادی ٹیموں کے پہنچنے تک شدید زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنا جاری رکھی، رپورٹ کے مطابق حادثے میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ جاں بحق ہونے والا بدقسمت فرد طیارے کا مسافر تھا یا زمین پر موجود کوئی راہگیر اس کی زد میں آیا۔

مقامی پولیس انتظامیہ نے ابھی تک طیارے میں سوار زخمی افراد کی حتمی شناخت اور ان کی نازک طبی حالت کے بارے میں تفصیلی معلومات صیغہ راز میں رکھی ہیں جبکہ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق حادثے کے بعد اٹھنے والے زہریلے دھوئیں اور شدید آگ پر قابو پانے کی کوشش کے دوران ۵ مقامی پولیس اہلکار بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر احتیاطی تدابیر کے تحت قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، بین الاقوامی فلائٹ ٹریکنگ کمپنی کے مستند ڈیٹا کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا یہ چھوٹا جیٹ طیارہ میکسیکو کے لاس کابوس انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اڑان بھر کر لاریڈو کی جانب پرواز کر رہا تھا، لاریڈو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ڈائریکٹر گلبرٹو سانچیز نے اپنے ابتدائی بیان میں شدید خدشہ ظاہر کیا ہے کہ طیارے کو دورانِ پرواز اچانک کسی سنگین فنی خرابی کا سامنا ہوا ہو سکتا ہے تاہم فیڈرل ایوی ایشن نے حادثے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ ہائی لیول تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، اس ہولناک حادثے کی دل دہلا دینے والی ویڈیوز اور لائیو تصاویر سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح وائرل ہو رہی ہیں جن میں امریکی شہریوں کو اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر انسانیت کے ناطے مسافروں کو آگ سے نکالتے دیکھا جا سکتا ہے اور دنیا بھر میں ان شہریوں کو ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔

مشکل وقت میں ملک کی خاطر صوبوں نے وفاق کو سپورٹ کیا، آئین کے دائرے میں رہ کر گرانٹ دیں گے، مراد علی شاہ

محمود احمد june 18,2026

کراچی ( /نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واضح کیا ہے کہ موجودہ ملکی و عالمی معاشی صورتحال کے باعث مالی سال ۲۰۲۶-۲۷ کا بجٹ گزشتہ برسوں سے یکسر مختلف نوعیت کا ہے، مشکل گھڑی میں ملک کی خاطر تمام صوبوں نے وفاقی حکومت کو بھرپور سپورٹ کیا ہے تاہم تمام فریقین نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا ہے کہ ہر فیصلہ ملکی آئین کے مطابق کیا جائے گا کیونکہ آئین میں نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کو مکمل تحفظ حاصل ہے اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے کی رقم میں کسی قسم کی کٹوتی یا کمی نہیں کی جا سکتی، کراچی میں صوبائی وزراء ناصر حسین شاہ، مکیش کمار چاولہ اور جام خان شورو کے ہمراہ ایک پُر ہجوم پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت صوبے میں مسلسل ۱۸واں بجٹ پیش کر رہی ہے اور سندھ میں سرمایہ کاری، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی سرگرمیوں کا فروغ ہمیشہ ہماری اولین ترجیحات میں شامل رہا ہے، انہوں نے انکشاف کیا کہ ابتدا میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے میں کمی کی تجویز زیر غور آئی تھی تاہم صوبوں نے اپنے آئینی حقوق کا بھرپور دفاع کیا جس کے بعد وفاق، چاروں صوبائی حکومتوں اور اتحادی جماعتوں نے آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے آرٹیکل ۱۶۴ کے تحت مسئلہ حل کیا جس کے مطابق صوبائی حکومتیں قومی دفاع اور یکجہتی کے پیش نظر وفاق کو گرانٹ فراہم کر سکتی ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے بجٹ کی اندرونی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کی وصولیوں کا مجموعی ہدف ۱۵.۲۶۴ ٹریلین روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ ۱۳.۳۵ ٹریلین روپے کی وصولی تک صوبوں کو ان کا پورا مقررہ حصہ ملے گا اور اس سے زائد وصول ہونے والی رقم صوبے وفاق کو گرانٹ کی صورت میں دیں گے، انہوں نے بتایا کہ صوبائی بجٹ کا کل حجم ۳ ہزار ۵۲۵ ارب روپے ہے جبکہ ہمارے اخراجات ۲ ہزار ۵۶۰ ارب روپے ہیں، بجٹ میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے ۵۴ ارب ۲۵ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو صوبے کی مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہوں گے، ان کا کہنا تھا کہ سندھ کو وفاقی محصولات کی مد میں مئی تک ۴۴۱ ارب روپے کے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ صوبائی وصولیوں میں بھی ۵۲ ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ان تمام مالی چیلنجز کے باوجود مجموعی طور پر صوبائی بجٹ میں تقریباً ۳۰۰ ارب روپے کا خسارہ موجود ہے، مراد علی شاہ نے کسانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی تھوڑی سی سپورٹ سے صوبے میں گندم کی پیداوار ۱.۴ ملین ٹن کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے جبکہ صوبائی ٹیکس وصولی ۶۲۳ ارب روپے ہو چکی ہے، انہوں نے ملازمین کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں کم از کم ماہانہ اجرت ۴۳ ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں ۷ فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے اور سندھ حکومت آئینی تقاضوں کے مطابق صوبے کے حقوق کا تحفظ جاری رکھے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران معاہدے پر تنقید کرنے والوں کو سخت جواب، تنقید کرنے والے حاسد، برے یا احمق قرار

کاشف عباسی ,june 18,2026

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت ترین مؤقف نہ اپنانے کے حوالے سے ہوم گراؤنڈ پر ہونے والی تمام اندرونی تنقید کو یکسر مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے تاریخی امن معاہدے کا بھرپور اور جارحانہ دفاع کیا ہے، واشنگٹن سے حاصل ہونے والی سیاسی و معاشی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے امریکی سٹاک مارکیٹ میں ہونے والے ریکارڈ تاریخی اضافے اور عالمی منڈی میں خام تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کو اپنی کامیاب خارجہ پالیسی کا واضح اور ناقابلِ تردید ثبوت قرار دیا ہے، تفصیلات کے مطابق امریکی صدر نے ایران کے ساتھ طے پانے والی ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ پر امریکی انتظامیہ اور بعض کٹر پالیسی سازوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے ان سوالات کا انتہائی سخت الفاظ میں جواب دیا ہے جس میں ناقدین کا دعویٰ تھا کہ تہران کے ساتھ ہونے والا یہ معاہدہ واشنگٹن کے لیے کوئی بڑی کامیابی نہیں ہے اور امریکہ کو ایران کے خلاف مزید سخت ترین لائن لینی چاہیے تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مخصوص اور روایتی جارحانہ انداز میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر ایک تند و تیز پوسٹ شیئر کی ہے جس میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں لکھا کہ ”یہ بیوقوف، جو یہ سمجھتے ہیں کہ میں ایران پر زیادہ سخت ثابت نہیں ہوا، جب کہ میری اس کامیاب پالیسی کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ نے ابھی ابھی اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھوا ہے اور تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے گر رہی ہیں، یہ لوگ یا تو حسد کا شکار ہیں، برے لوگ ہیں، یا پھر بالکل ہی احمق ہیں“، امریکی صدر کا سٹریٹجک مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کا باقاعدہ خاتمہ ہونے اور امن معاہدہ نافذ ہوتے ہی امریکی معیشت اور سٹاک مارکیٹ نے پچھلے تمام ریکارڈز پاش پاش کر دیے ہیں کیونکہ اس معاہدے کے تحت ایران کی جانب سے عالمی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے اور تیل کی سپلائی بحال ہونے کی امید پر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں یکسر نیچے آ گئی ہیں جس کا براہِ راست فائدہ امریکی اور عالمی صارفین کو پہنچ رہا ہے لہٰذا معاشی ترقی پر تنقید کرنے والے ملک کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔

فیفا ورلڈکپ، لیونل میسی کو ریڈ کارڈ نہ ملنے پر شدید تنازع، ایونٹ کی شفافیت پر انگلیاں اٹھ گئیں

محمود احمد june 18,2026

میامی، امریکہ (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

جاری فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء میں ارجنٹینا اور الجزائر کے مابین کھیلے گئے میچ کے دوران ارجنٹائنی کپتان اور لیجنڈری فٹبالر لیونل میسی کو سنگین فاؤل پر ”ریڈ کارڈ“ نہ دیے جانے کے بعد عالمی ایونٹ کی شفافیت پر گہرے سوالات اٹھ گئے ہیں، میامی سے حاصل ہونے والی اسپورٹس تفصیلات کے مطابق ایک طرف جہاں مشتعل شائقین نے سوشل میڈیا پر فٹبال ورلڈکپ کو ہی باقاعدہ فکسڈ قرار دینا شروع کر دیا ہے، وہیں دوسری جانب معتبر فٹبال تجزیہ کاروں اور مبصرین نے بھی گراؤنڈ ریفری کے اس فیصلے کو سراسر غیر منصفانہ اور یکطرفہ قرار دیا ہے، مشہورِ زمانہ کھیلوں کے نشریاتی ادارے ”ای ایس پی این“ کے پینل مانیٹرنگ اور ماہرین کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہنا تھا کہ الجزائری دفاعی کھلاڑی کے پاؤں کے پچھلے حصے پر جان بوجھ کر اپنا بوٹ رکھ کر خطرناک انداز میں گرانے کی پاداش میں قانون کے مطابق لیونل میسی کو ۱۰۰ فیصد ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیجا جانا چاہیے تھا مگر ریفری نے اسے مکمل نظرانداز کیا۔

میچ کے سنسنی خیز ری پلے کو بار بار دیکھنے کے بعد دنیا بھر کے کھیلوں کے پنڈتوں اور فٹبال فینز کا متفقہ طور پر یہ ماننا ہے کہ اس انتہائی پرتشدد حرکت پر اسٹار کھلاڑی کو سخت ترین سزا دی جا سکتی تھی، تاہم پولینڈ سے تعلق رکھنے والے فیلڈ ریفری سزیمون نے اس ہولناک فاؤل پر میسی کو کوئی کارڈ تک نہ دکھایا اور سب سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ رہی کہ اس دوران جدید ترین ٹیکنالوجی ”وی اے آر“ (فيديو اسسٹنٹ ریفری) کی جانب سے بھی کوئی واضح مداخلت یا ری ویو سامنے نہیں آیا، فٹبال کے دیوانوں اور صارفین نے سوشل میڈیا پر سنگین دعویٰ کیا ہے کہ ٹورنامنٹ کی ویلیو بڑھانے کے لیے فیفا کی جانب سے جان بوجھ کر اسٹار فٹبالر لیونل میسی کو ریڈ کارڈ کی پابندی سے بچایا جا رہا ہے کیونکہ انتظامیہ اور اسپاٹ لائٹ کمپنیاں ہر حال میں چاہتی ہیں کہ آگے چل کر ورلڈکپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں میسی اور کرسٹیانو رونالڈو کا ایک آخری بڑا تاریخی مقابلہ دیکھنے کو ملے اور اسی لالچ میں الجزائر کے خلاف کھلی ناانصافی کی گئی جس سے فیفا کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

ورلڈکپ میں کرسٹیانو رونالڈو کی مایوس کن کارکردگی، بڑھتی عمر اور گرتی فارم پر شدید تنقید

محمود احمد june 18,2026

ہیوسٹن، امریکہ (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے اپنے افتتاحی میچ میں پرتگال کی ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر کانگو) کے خلاف مایوس کن کارکردگی کے بعد مایہ ناز اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں اور کھیلوں کے ماہرین نے ان کی بڑھتی عمر اور ٹیم میں موجودہ کردار پر گہرے سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں، امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں کھیلے گئے اس سنسنی خیز میچ میں پرتگال نے ابتدا میں جواؤ نیویس کے بہترین ہیڈر کی بدولت برتری حاصل کر لی تھی اور وٹینیا، برونو فرنینڈس اور برنارڈو سلوا پر مشتمل مضبوط پرتگالی مڈفیلڈ نے کھیل پر مکمل کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے حریف کے مقابلے میں زیادہ پاسز بھی کیے مگر اس کے باوجود ٹیم کو حتمی گول کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا، میچ میں ۴۱ سالہ رونالڈو بطور مین اسٹرائیکر بالکل غیر مؤثر ثابت ہوئے اور پورے میچ میں ان کے پاؤں سے صرف ۲۵ بار گیند ٹچ ہوئی جبکہ وہ حریف ٹیم کے نیٹ پر ایک بھی ہدف کے مطابق شاٹ لگانے میں بری طرح ناکام رہے جس کے باعث یہ اہم میچ ۱-۱ سے برابر ختم ہوا اور ڈی آر کانگو نے ورلڈکپ کا ایک قیمتی پوائنٹ حاصل کر لیا۔

اعداد و شمار کے لحاظ سے ڈی آر کانگو نے پرتگال کے مقابلے میں زیادہ شاٹس مارے اور بہتر گولز پوزیشنز پیدا کیں جس سے پرتگالی اٹیک کی سنگین کمزوری واضح ہو گئی، رونالڈو اس میچ میں ۴۱ سال اور ۱۳۲ دن کی عمر کے ساتھ ورلڈکپ کی تاریخ کے معمر ترین آؤٹ فیلڈ کھلاڑی بن گئے ہیں مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ عمر کے اثرات اب ان کی کارکردگی پر واضح ہو چکے ہیں اور ماضی کا یہ برق رفتار ونگر اب صرف سینٹر فارورڈ تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، تشویشناک بات یہ ہے کہ رونالڈو اپنے حالیہ ورلڈکپس اور یورو کپ کے آخری میچز میں کوئی بھی گول اسکور نہیں کر سکے اور جب وہ الیون کا حصہ ہوتے ہیں تو پرتگال کی گول اوسط اوسطاً ۱.۹ ہوتی ہے جبکہ ان کی عدم موجودگی میں یہ اوسط بڑھ کر ۲.۸ گول تک پہنچ جاتی ہے، دوسری جانب پرتگال کے ہیڈ کوچ روبرٹو مارٹینز نے رونالڈو کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ فٹبال کی تاریخ کے سب سے بڑے اسکورر کو کٹھن میچ میں فیلڈ سے باہر نکالنا عقلمندی نہیں ہے، تاہم اس خراب آغاز کے بعد فٹبال کی دنیا میں یہ بحث اب عروج پر پہنچ چکی ہے کہ آیا رونالڈو پرتگال کی موجودہ ورلڈکپ مہم میں ایک مضبوط طاقت ثابت ہوں گے یا پھر ٹیم کے لیے سب سے کمزور کڑی بن جائیں گے۔

کیپ ورڈی کے اسٹار گول کیپر وزینا کی والدہ کا ویزا منظور، اتوار کو بیٹے کا میچ دیکھنے میامی اسٹیڈیم پہنچیں گی

محمود احمد june 18,2026

میامی، امریکہ (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

جاری فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء میں اپنی جاندار پرفارمنس کی بدولت راتوں رات شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے کیپ ورڈی کے مایہ ناز گول کیپر ”وزینا“ کی والدہ اب اپنے بیٹے کو ایکشن میں دیکھنے کے لیے امریکہ کے مشہورِ زمانہ میامی اسٹیڈیم میں موجود ہوں گی، اسپورٹس ذرائع کے مطابق وزینا کی والدہ اینا کانڈیڈہ بھاری امریکن ویزا فیس کی وجہ سے اب تک امریکہ نہیں جا سکی تھیں لیکن امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے خصوصی طور پر ان کی ویزا فیس معاف کر کے ان کے امریکہ پہنچنے کے ہنگامی انتظامات شروع کر دیے ہیں، یو ایس ہاؤس ڈیموکریٹک لیڈر حکیمی جیفریز نے سوشل میڈیا پر اس بڑی خوشخبری کو شیئر کرتے ہوئے دنیا کو بتایا کہ انہوں نے امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو سے اس اہم معاملے پر خصوصی بات چیت کی تھی کہ وہ اپنے صوابدیدی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے چالیس سالہ اسٹار گول کیپر کی بوڑھی والدہ کو میچ دیکھنے کے لیے امریکہ بلانے میں مدد کریں، حکیمی جیفریز کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ سرکاری اعلان کرتے ہوئے دلی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ بھاری فیس کی وجہ سے رکی ہوئی وزینا کی والدہ اب اتوار کے روز کیپ ورڈی اور یوراگوئے کے مابین ہونے والا سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے کے لیے میامی کے اسٹیڈیم میں موجود ہوں گی کیونکہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ان کا ویزا جاری کر کے ان کے فضائی سفر کے انتظامات بھی سنبھال لیے ہیں۔

امریکہ روانگی کی منظوری پر وزینا کی والدیہ اینا کانڈیڈہ نے گہرے جذباتی انداز میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت دنیا کی خوش قسمت ترین ماں ہیں اور اپنے بیٹے سے ملنے اور اسے اتنے بڑے عالمی اسٹیج پر کھیلتے ہوئے دیکھنے کے لیے شدید بے چین ہیں، واضح رہے کہ فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء میں شریک کیپ ورڈی سمیت دنیا کے پانچ مخصوص ممالک کے شائقینِ فٹبال کے لیے سخت امریکی امیگریشن پالیسی کے تحت ناقابلِ واپسی ویزا فیس کی مد میں ۱۱ ہزار پاؤنڈ جمع کرانے کی کڑی شرط عائد تھی جو کہ رواں سال مئی کے مہینے میں تبدیل کی گئی تھی، اسی سخت قانون اور بھاری فیس کی وجہ سے وزینا کی فیملی امریکہ آنے سے قاصر تھی لیکن اب امریکی حکومت کے اس بڑے اور ہمدردانہ فیصلے کے بعد اسٹار گول کیپر کی والدہ اتوار کو اسٹیڈیم کے وی آئی پی اسٹینڈز میں بیٹھ کر اپنی ٹیم اور بیٹے کی حوصلہ افزائی کریں گی جس پر کیپ ورڈی کے فٹبال فینز نے امریکی حکام کا شکریہ ادا کیا ہے۔

امریکہ ایران جنگ کا باقاعدہ خاتمہ، وزیراعظم شہباز شریف نے بطور ثالث تاریخی ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ پر دستخط کر دیے

کاشف عباسی ,june 18,2026

اسلام آباد (قومی سرخی/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے مابین طویل عرصے سے جاری شدید ترین کشیدگی، معاشی محاصرے اور ہولناک جنگی صورتحال کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مخلصانہ اور انتھک سفارتی کوششیں آخرکار رنگ لے آئی ہیں اور دونوں عالمی طاقتوں کو امن کی میز پر لانے کے بعد اب اس تاریخی امن دستاویز کو باقاعدہ ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کا نام دے کر نافذ کر دیا گیا ہے، دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی اعلیٰ سطحی سفارتی تفصیلات کے مطابق اس تاریخی بین الاقوامی معاہدے کی سب سے خاص اور اہم ترین بات یہ ہے کہ اس عظیم امن مشن کا مرکز، میزبان اور ضامن خود پاکستان بنا ہے، پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس تاریخی دستاویز پر بطور ثالث باقاعدہ اپنے دستخط ثبت کر دیے ہیں جو کہ عالمی منظرنامے پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ، جرات مندانہ پوزیشن اور امن پسند برادرانہ کردار کا ایک ناقابلِ تردید اور روشن ترین ثبوت ہے۔

سرکاری باوثوق ذرائع کے مطابق اس تاریخی امن یادداشت پر دونوں ممالک کی اعلیٰ ترین قیادت نے پہلے ہی اپنی حتمی رضامندی ظاہر کرتے ہوئے دستخط کے مراحل مکمل کر لیے تھے، ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے باقاعدہ دستخط موجود ہیں جس کے بعد اس انقلابی معاہدے کو دونوں حکومتوں کی اعلیٰ ترین سطح پر حتمی قانونی و بین الاقوامی حیثیت حاصل ہو گئی ہے، سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والا یہ سٹریٹجک معاہدہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور امن کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہو گا جس سے بند پڑی سمندری تجارتی گزرگاہیں ہمیشہ کے لیے بحال ہو جائیں گی اور اس تاریخی کامیابی سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار اور سفارتی قد کاٹھ آسمان کو چھونے لگا ہے جس پر عالمی برادری پاکستان کی اعلیٰ قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کر رہی ہے۔

انسانی ہمدردی کے اقدامات سخاوت نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہیں، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا دبنگ موقف

محمود احمد june 18,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

پاکستان نے عالمی برادری کو آئینہ دکھاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دنیا اس وقت غیر معمولی وسعت اور پیچیدگی کے حامل سنگین ترین انسانی بحران سے دوچار ہے جہاں لاکھوں بے گناہ انسان مختلف جنگی تنازعات، غیر ملکی قبضے، موسمیاتی آفات، بدترین غربت اور غذائی عدم تحفظ کے باعث زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں، نیویارک سے موصولہ اعلیٰ سطحی سفارتی رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل کے انسانی امور سے متعلق اجلاس کے عمومی مباحثے میں پاکستان کا ٹھوس موقف پیش کرتے ہوئے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ عالمی سطح پر انسانی امداد فراہم کرنا کوئی سخاوت، خیرات یا احسان کا عمل نہیں ہے بلکہ یہ انسانی ضمیر کا اولین تقاضا اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت سب کی مشترکہ قانونی و اخلاقی ذمہ داری ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارا اصل امتحان انتہائی سادہ ہے کہ کیا عالمی امداد دنیا میں کسی بھی تعصب اور بلا امتیاز، سیاسی مقاصد سے پاک ہو کر اور بغیر کسی تاخیر یا رکاوٹ کے ہر سچے ضرورت مند تک پہنچ رہی ہے یا نہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ مستقل مالی قلت اور فنڈز کی کمی کے باعث مجبور امدادی اداروں کو مظلوموں کے لیے خوراک، رہائش، ادویات اور تحفظ جیسی بنیادی ترین انسانی ضروریات کے درمیان مشکل ترین فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں جو کہ عالمی برادری کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے عالمی انسانی امداد کے پورے نظام کو زیادہ مؤثر، شفاف اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے سلامتی کونسل اور دنیا کے سامنے پانچ اہم ترین تجاویز پیش کیں، انہوں نے سب سے پہلے اس بات پر زور دیا کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی مسلح تنازعات اور جابرانہ غیر ملکی قبضے کی صورتحال ہے وہاں بین الاقوامی انسانی قوانین کا احترام ہر صورت یقینی بنایا جائے اور طاقتور ممالک کی جانب سے ان قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کو معمول سمجھنے، جواز پیش کرنے یا نظرانداز کرنے کا منافقانہ رویہ اب مستقل طور پر ترک کرنا ہوگا، انہوں نے دوسری تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہر جنگی صورتحال میں محصورین تک محفوظ، تیز رفتار، مستقل اور بلا رکاوٹ انسانی رسائی کو یقینی بنایا جائے، تیسری تجویز میں انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کو بکھراؤ سے بچا کر براہِ راست ان مقامات پر پہنچایا جائے جہاں ضرورت سب سے زیادہ ہو، چوتھی تجویز کے تحت انہوں نے زور دیا کہ ہنگامی امداد عارضی طور پر جانیں تو بچاتی ہے لیکن طویل المدتی استحکام کے لیے اس امداد کو ترقیاتی منصوبہ بندی، موسمیاتی موافقت اور آفات سے بچاؤ کی قومی حکمت عملیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا لازمی ہے اور خصوصاً کمزور ممالک میں قبل از وقت انتباہی نظام (ارلی وارننگ سسٹم) کو مضبوط بنانا ہو گا، پانچویں تجویز میں انہوں نے واضح کیا کہ انسانی ضروریات میں مستقل کمی لانے کے لیے سیاسی عزم کے ذریعے طویل تنازعات کی بنیادی وجوہات کو حل کرنا ہو گا اور یہ حل اقوامِ متحدہ کے منشور اور سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق صرف مکالمے، سفارت کاری اور پرامن ذرائع سے ہی نکالا جا سکتا ہے، اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عاصم افتخار نے دنیا کو جرات مندانہ پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آج کے اس بدترین انسانی بحران میں ہماری کامیابی کا حقیقی معیار ہمارے کاغذوں پر کیے گئے بڑے بڑے وعدے نہیں بلکہ زمین پر ہماری عملی کارکردگی ہو گی۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا بڑا بیان، امن فیصلوں کی میز پر خواتین کی موجودگی ناگزیر قرار

محمود احمد june 18,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان نے خواتین کو امن کے قیام کے لیے ایک بنیادی اور اہم فریق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کی فعال شمولیت کے بغیر قائم ہونے والا کوئی بھی امن کمزور بنیادوں پر استوار ہوتا ہے، اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز نیویارک سے حاصل ہونے والی اعلیٰ سطحی سفارتی تفصیلات کے مطابق اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل (سیکیورٹی کونسل) کے کھلے مباحثے برائے ”خواتین، امن اور سلامتی“ میں قومی بیان دیتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پائیدار امن کے لیے خواتین کی دانش، قیادت اور عملی تجربات ناگزیر ہیں اور ان کی جگہ فیصلہ سازی کے عمل کے حاشیوں پر نہیں بلکہ اس مرکزی میز پر ہونی چاہیے جہاں دنیا کے اہم ترین فیصلے کیے جاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ صرف انصاف یا مساوات کا مسئلہ نہیں بلکہ مؤثریت کا سوال بھی ہے کیونکہ جن امن معاہدوں میں خواتین شامل ہوتی ہیں وہ عموماً کمیونٹیز کی ضروریات کا بہتر احاطہ کرتے ہیں اور زیادہ دیرپا ثابت ہوتے ہیں، انہوں نے اس بات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ خواتین، امن اور سلامتی کا ایجنڈا سلامتی کونسل کے سب سے انقلابی وعدوں میں سے ایک ہونے کے باوجود تاحال سب سے نامکمل وعدوں میں شمار ہوتا ہے جس کے باعث خواتین آج بھی تنازعات، غیر ملکی قبضے، غربت اور جنسی تشدد کے سنگین نتائج بھگت رہی ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اس اہم ایجنڈے کے فروغ کے لیے پاکستان کے اصولی عزم کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی خواتین نے سفارت کاری، سیاست، عوامی خدمت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سول سوسائٹی اور خاص طور پر اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں ہمیشہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور جرات کا لوہا منوایا ہے، پاکستان کے مستقل مندوب نے اس عالمی ایجنڈے کی کامیابی کے لیے چند کلیدی ترجیحات بھی دنیا کے سامنے رکھیں جن میں اقوامِ متحدہ اور علاقائی تنظیموں کی ثالثی ٹیموں اور مذاکراتی وفود میں خواتین کی منظم شمولیت کو یقینی بنانا شامل ہے، انہوں نے سیکیورٹی کونسل پر زور دیا کہ وہ خواتین امن سازوں، انسانی حقوق کی کارکنان اور خاتون صحافیوں کو آن لائن ہراسانی، دھمکیوں اور تشدد سے بچانے کے لیے قبل از وقت انتباہی نظام جیسے مؤثر اقدامات کرے، انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ خواتین کی سیاسی و سماجی شرکت کے لیے مستقل اور لچکدار فنڈز فراہم کریں اور تعمیرِ نو کے منصوبوں میں خواتین کی تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف تک رسائی کو اولیت دیں، اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عاصم افتخار احمد نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ اگر دنیا حقیقی معنوں میں پائیدار امن چاہتی ہے تو خواتین کو ابتدا ہی سے تمام فیصلہ سازی کے عمل کا مستقل حصہ بنانا ہو گا کیونکہ وہ خاندانوں اور آنے والی نسلوں کے خدشات کو ان کمروں تک لے کر آتی ہیں جہاں اکثر طاقت کی سیاست غالب ہوتی ہے۔

موٹروے پولیس کی ایمانداری، 22 لاکھ روپے کے گمشدہ زیورات اصل مالک کو لوٹا دیے

منصور احمد june 18,2026

اسلام آباد (بیورو رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس نے ایمانداری، فرض شناسی اور عوامی خدمت کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے سڑک پر گرا ہوا تقریباً 22 لاکھ روپے مالیت کے سونے کے زیورات اور قیمتی سامان سے بھرا بیگ تلاش کر کے اس کے اصل مالک کے حوالے کر دیا ہے، موٹروے پولیس کی مرکزی پریس ریلیز کے مطابق گوادر کے قریب شاہراہ پر دورانِ پیٹرولنگ افسران کو ایک لاوارث بیگ ملا جس میں قیمتی سونا موجود تھا، موٹروے پولیس کے اہلکاروں نے فوری طور پر بیگ کو اپنی تحویل میں لے کر خفیہ طور پر مالک کی تلاش شروع کی، ابتدائی طور پر سراغ نہ ملنے پر پولیس نے بیگ کے اندر موجود سامان کی تفصیلات کو صیغہ راز میں رکھتے ہوئے سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع پر گمشدہ بیگ کی تشہیر کی تاکہ کوئی جعلی شخص دعویٰ نہ کر سکے، اس مہم کے بعد اصل مالک نے پولیس سے رابطہ کر کے بیگ کی سو فیصد درست نشاندہی اور تمام قانونی ثبوت فراہم کیے جس پر سارا سامان بحفاظت ان کے سپرد کر دیا گیا۔

بیگ کے مالک نے قیمتی اثاثے کی واپسی پر انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ سفر کے دوران یہ بیگ نادانستہ طور پر سڑک پر گر گیا تھا جس کا انہیں علم بھی نہ ہو سکا، انہوں نے موٹروے پولیس کی بے مثال ایمانداری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو دل کھول کر خراجِ تحسین پیش کیا، اس عظیم الشان اور قابلِ ستائش کارکردگی پر ڈی آئی جی ویسٹ زون بلوچستان ڈاکٹر قریش خان نے ڈیوٹی پر مامور پولیس افسران کے لیے نقد انعام اور تعریفی اسناد دینے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے، ڈی آئی جی ڈاکٹر قریش خان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ موٹروے پولیس شاہراہوں پر عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہمیشہ اپنی اولین ذمہ داری سمجھتی ہے اور ہمارے جرات مند افسران ہر حال میں قانون کی پاسداری، عوامی خدمت اور محکمہ جاتی اعتماد کے فروغ کے لیے اپنی یہ مقدس ذمہ داریاں اسی احسن انداز میں انجام دیتے رہیں گے۔