آج پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کریں گے، امریکہ ایران جنگ بندی سے اب خطے میں معاشی خوشحالی آئے گی اور مہنگائی کی سیاہ رات ختم ہونے کو ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف کا قومی اسمبلی میں تاریخی خطاب، فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کلیدی کردار کی تعریف

کاشف عباسی ,june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اہم ترین اجلاس میں مقتدر خطاب کرتے ہوئے غیور ملکی عوام کے لیے ایک بہت بڑی معاشی خوشخبری سنائی ہے کہ حکومت نے جو وعدہ کیا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوتے ہی اس کا پورا فائدہ عوام کو منتقل کیا جائے گا، اس کے تحت آج پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ اور تاریخی کمی کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا، پارلیمنٹ کے ایوان میں ارکانِ اسمبلی سے سٹریٹجک گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج سے ٹھیک ۳ مہینے پہلے جب مشرقِ وسطیٰ میں اچانک ہولناک جنگ چھڑی تھی تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کو یکدم آگ لگ گئی تھی جس کا براہِ راست معاشی بوجھ پاکستان کی غریب عوام کو اٹھانا پڑا، لیکن پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی حالیہ تاریخی جنگ بندی کے فوری بعد اب عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں انتہائی تیزی سے نیچے آ رہی ہیں اور یقیناً آنے والے دنوں میں اس میں مزید واضح کمی آئے گی، انہوں نے پُرعزم انداز میں کہا کہ اس عظیم امن معاہدے اور جنگ بندی کے باعث اب پورے خطے میں معاشی خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوگا، تیل کی قیمتیں مسلسل نیچے آ رہی ہیں اور اب مہنگائی کی وہ طویل سیاہ رات ہمیشہ کے لیے ختم ہونے کو ہے جس نے عوام کو پریشان کر رکھا تھا، ان کا کہنا تھا کہ اس کٹھن بحران کے وقت ہمارے معاشی وسائل حد سے زیادہ محدود تھے لیکن چونکہ آج تیل اور پٹرول کی ہفتہ وار قیمتوں کا باقاعدہ اعلان ہونا ہے، اس لیے حکومت آج عوام کو ایک بڑا ریلیف دینے جا رہی ہے۔

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کے بڑھتے ہوئے عالمی سفارتی اثر و رسوخ پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج امریکہ ایران امن معاہدے کے نفاذ کے بعد ساری دنیا میں پاکستان کا نام انتہائی عزت، تکریم اور وقار کے ساتھ گونج رہا ہے اور دنیا کے ہر خطے میں پاکستان کا سٹریٹجک وقار بلند ہوا ہے، انہوں نے ایوان کو سفارتی رابطوں سے مطلع کرتے ہوئے بتایا کہ کل شام ان کی ایران کے معزز صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے طویل تفصیلی بات چیت ہوئی ہے جس کے دوران ایرانی صدر نے جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ ثالثی پر بار بار ریاستِ پاکستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور انہوں نے خود کہا کہ وہ بہت جلد باضابطہ دورے پر پاکستان آئیں گے اور یہاں کی غیور عوام کا ذاتی طور پر شکریہ ادا کریں گے، وزیرِ اعظم نے قومی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملکی سلامتی اور قومی وحدت کے لیے ہم سب ایک ہیں اور ہمیشہ ایک رہیں گے، انہوں نے اس عظیم مشن کی کامیابی پر نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے جنیوا اور سفارتی محاذ پر بھرپور حصہ ڈالا جبکہ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی ایران کے حوالے سے پسِ پردہ اپنا پورا متحرک کردار احسن طریقے سے ادا کیا، شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف (اپوزیشن لیڈر) کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس حساس قومی معاملے پر حکومت کا ساتھ دیا۔

اپنے خطاب کے آخر میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے واشنگٹن اور تہران کو امن کی میز پر لانے کے حوالے سے سب سے بڑا انکشاف کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس ناممکن سفارتی کامیابی کو ممکن بنانے میں سب سے زیادہ کلیدی، تاریخی اور سٹریٹجک کردار پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ہے جن کی شب و روز کی انتھک محنت اور جرات مندانہ حکمتِ عملی نے پاکستان کو عالمی سطح پر امن کا ضامن بنا دیا، انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہمیں ذاتی طور پر اس تاریخی کامیابی کا کوئی سستا سیاسی کریڈٹ لینے کا بالکل شوق نہیں ہے بلکہ ہماری حکومت اور عسکری قیادت کے ذہنوں پر صرف اور صرف اپنی غیور قوم کو عالمی سطح پر سرخرو کرنے اور انہیں کریڈٹ دلوانے کا ایک مخلصانہ جوش و جذبہ سوار تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو سرخرو کیا۔

پاکستان کا لیبیا میں لیبیائی قیادت اور ملکیت پر مبنی سیاسی عمل کی حمایت کا اعادہ، سفیر عثمان جدون کا پائیدار امن کے لیے جامع لائحۂ عمل پر زور

محمود احمد june 18,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

پاکستان نے برادر اسلامی ملک لیبیا میں مستقل استحکام کے لیے خالصتاً لیبیائی قیادت اور ملکیت پر مبنی سیاسی عمل کے لیے اپنے اصولی اور مضبوط سفارتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اسے ملک میں پائیدار امن، قومی یکجہتی اور معاشی خوشحالی کے حصول کا واحد قابلِ عمل راستہ قرار دے دیا ہے، اقوامِ متحدہ کے صدر دفاتر سے حاصل ہونے والی بین الاقوامی سٹریٹجک تفصیلات کے مطابق پاکستان نے لیبیا میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی معاونتی مشن کی جانب سے تمام لیبیائی فریقین اور مسلح دھڑوں کے درمیان سیاسی مکالمے اور قومی مفاہمت کو فروغ دینے کی مسلسل کوششوں کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم ترین اجلاس میں لیبیا کی تازہ ترین سیکیورٹی صورتحال پر منعقدہ بریفنگ کے دوران خصوصی اظہارِ خیال کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے گہری امید ظاہر کی کہ ملک میں انتخابی انتظامات سے متعلق حالیہ مشاورت اور منظم اسٹرکچرڈ ڈائیلاگ کے عمل سے سامنے آنے والی تمام اہم تجاویز و سفارشات تمام فریقین میں اتفاقِ رائے کے فروغ، معطل قومی اداروں کے اتحادِ نو اور دیرینہ قومی مفاہمت کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھانے میں انتہائی معاون ثابت ہوں گی۔

پاکستانی نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل کے اراکین کے سامنے سٹریٹجک بیانیے پر روشنی ڈالتے ہوئے سیاسی، سلامتی، معاشی اور عدالتی شعبوں میں لیبیائی فریقین کے درمیان مسلسل روابط اور تعمیری شمولیت کی اہمیت پر کڑا زور دیا، انہوں نے مشرقی اور مغربی لیبیا کے مابین سیکیورٹی اداروں کے درمیان حالیہ اعتماد سازی کے مثبت اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے پُرعزم الفاظ میں ملکی استحکام کے تحفظ اور متحدہ قومی دفاعی اداروں کے قیام کے لیے جاری فیلڈ کوششوں کی مکمل حوصلہ افزائی کی، لیبیا کے داخلی اقتصادی استحکام کی بنیادی اہمیت کو دنیا بھر کے سامنے اجاگر کرتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے جاری مالیاتی سال ۲۰۲۶ء کے لیے متفقہ اخراجاتی فریم ورک پر اس کی اصل روح کے مطابق فوری عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ملک میں معاشی و مالیاتی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے اور لیبیا کی طویل المدتی اقتصادی ترقی کی بنیاد کو مستقل طور پر مضبوط کیا جائے، انہوں نے قانون کی بالادستی، عدالتی وحدت کے تحفظ اور آئینی نگرانی کے نظام کو مزید فعال و مضبوط بنانے کی تمام ملکی کوششوں کی بھی اصولی حمایت کا اعادہ کیا۔

اپنے تاریخی خطاب کے دوران پاکستانی مندوب نے لیبیا کے عالمی بینکوں میں منجمد کھربوں ڈالر کے اثاثوں کے تحفظ اور انہیں صرف اور صرف لیبیائی عوام کی فلاح و بہبود اور ملکی تعمیرِ نو کے لیے محفوظ رکھنے کی شدید ضرورت پر زور دیا اور اس اہم ترین معاشی ضمن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے سابقہ متعلقہ اقدامات اور قراردادوں پر بغیر کسی تاخیر کے بروقت عملدرآمد کا کڑا مطالبہ کیا، لیبیا کے ایک مکمل مستحکم، محفوظ اور متحد مستقبل کے لیے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مستقل عزم کو اعلیٰ سطح پر اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مستقبل میں بھی عالمی فورمز پر لیبیائی قیادت اور ملکیت پر مبنی ایسے تمام سیاسی و جمہوری عمل کی حمایت میں اپنا مثبت اور تعمیری کردار بدستور جاری رکھے گا جو برادر اسلامی ملک میں پائیدار امن، معاشی ترقی اور خوشحالی کی حقیقی راہ ہموار کرے۔

پاکستان کا اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز تقاریر کے خلاف مؤثر عالمی اقدامات کا مطالبہ، سفیر عاصم افتخار احمد کا اقوامِ متحدہ کے لائحۂ عمل کو جلد حتمی شکل دینے پر زور

محمود احمد june 18,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

پاکستان نے دنیا بھر میں نفرت انگیز تقاریر بالخصوص اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے جابرانہ رجحان کے خلاف مضبوط بین الاقوامی شراکت داریوں اور مربوط عالمی اقدامات کا کڑا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی برادری کو واشنگٹن اور تہران سمیت تمام دارالحکومتوں میں خبردار کیا ہے کہ نفرت، امتیازی سلوک اور کمزور و غیر محفوظ طبقات کے خلاف مسلسل اشتعال انگیزی سماجی ہم آہنگی، انسانی وقار اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے ایک مستقل اور ہولناک عسکری و سیاسی خطرہ بنی ہوئی ہے، اقوامِ متحدہ کے صدر دفاتر میں نفرت انگیز تقاریر کے انسداد کے پانچویں عالمی دن کے موقع پر منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جس کا مرکزی موضوع ”نفرت انگیز تقاریر کے انسداد میں شراکت داریوں کی طاقت“ تھا، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اسلاموفوبیا کو دنیا بھر میں نفرت انگیز تقاریر کی سب سے سنگین، متعصبانہ اور خطرناک ترین شکل قرار دیا، انہوں نے عالمی مندوبین کے سامنے واضح کیا کہ مسلمانوں، ان کی اسلامی شناخت، مقدس مذہبی شعائر اور عبادت گاہوں پر منظم حملے نیز مذہبی آزادیوں پر عائد جابرانہ پابندیاں مختلف مغربی اور غیر مسلم معاشروں میں عدم برداشت، شدید ہیجان اور محرومی کو فروغ دے رہی ہیں، واضح رہے کہ یہ اعلیٰ سطحی بین الاقوامی تقریب اقوامِ متحدہ میں مراکش کے مستقل مشن اور اقوامِ متحدہ کے خصوصی دفتر برائے انسدادِ نسل کشی و ذمہ داری برائے تحفظ کے باہمی اشتراک سے منعقد کی گئی تھی۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں اس بنیادی نقطے پر گہرا زور دیا کہ نفرت انگیز تقاریر ہماری مشترکہ انسانی اقدار پر ایک براہِ راست جابرانہ حملہ ہیں جو انسانی مساوات کو مجروح کرتی، پوری برادریوں کو غیر انسانی بناتی اور پُرامن و جامع معاشروں کی بنیادی جڑوں کو کمزور کرتی ہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ جدید ڈیجیٹل دور اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے اس سنگین خطرے کو مزید سو گنا بڑھا دیا ہے جہاں آن لائن پلیٹ فارمز کو منظم طریقے سے مسلمانوں کے خلاف نفرت، غلط معلومات اور کمزور طبقات کے خلاف اشتعال انگیزی پھیلانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ تاریخ اس سچائی کی گواہ ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کے منفی اثرات کبھی بھی قومی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے اور اگر انہیں بروقت نہ روکا گیا تو یہ بین الاقوامی امن و استحکام کو شدید خطرے میں ڈال کر بڑے عسکری جرائم اور مظالم کو جنم دے سکتے ہیں اور انتہائی ہولناک صورتوں میں نسل کشی جیسے بھیانک انسانی جرائم کا باعث بن سکتے ہیں، پاکستان کے مستقل مندوب نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ نفرت انگیز تقاریر اب دنیا کی مرکزی سیاست اور سماجی بیانیے کا باقاعدہ حصہ بنتی جا رہی ہیں جہاں مخصوص انتہا پسند رہنماؤں کی جانب سے شناخت کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے اور اقلیتوں و بے بس مسلمانوں کے خلاف خوف کے ماحول کو سیاسی و انتخابی مقاصد اور ووٹ بینک کے لیے بھڑکایا جاتا ہے کیونکہ بعض معاشروں میں اسلاموفوبیا پر مبنی یہ زہریلا بیانیہ وہاں کے مقامی طاقت کے ڈھانچوں اور مخصوص مفادات کے ساتھ جڑ کر مسلمانوں کے خلاف معاشی و سماجی امتیازی سلوک کو مزید گہرا کر رہا ہے۔

پاکستانی سفیر نے اس عالمی چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک اصولی، پُرعزم اور مستقبل بین بین الاقوامی حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انسانی وقار، مساوات اور آزادی کے فروغ کے لیے پاکستان کی ریاست اور عوام کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا، سفیر عاصم افتخار احمد نے نفرت انگیز تقاریر سے متعلق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی متعلقہ قراردادوں اور اقوامِ متحدہ کی آفیشل حکمتِ عملی اور لائحۂ عمل برائے انسدادِ نفرت انگیز تقاریر پر اس کی اصل روح کے مطابق مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا، انہوں نے اقوامِ متحدہ کے مقتدر ادارہ برائے اتحادِ تہذیبوں کی جانب سے اسلاموفوبیا کے انسداد کے لیے اقوامِ متحدہ کے مجوزہ لائحۂ عمل کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی سفارتی کوششوں کا بھرپور خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ تاریخی دستاویز نفرت انگیز تقاریر اور مذہبی عدم برداشت کی تمام شکلوں سے نمٹنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی موجودہ کوششوں کو مزید سٹرٹیجک تقویت دے گی، انہوں نے صراحت کی کہ پاکستان رکن ممالک اور اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر اسلاموفوبیا کے خلاف اپنی عالمی جدوجہد جاری رکھے گا کیونکہ یہ ہماری آئندہ نسلوں، مشترکہ اقدار اور انسانی تہذیب کے تحفظ کے لیے ایک عظیم اخلاقی اور سفارتی ذمہ داری ہے۔

امریکہ ایران کو 300 ارب ڈالر کی کوئی ادائیگی نہیں کر رہا، یہ خبر سراسر جعلی اور ڈیموکریٹس کا مایوس کن پروپیگنڈا ہے، تاریخی امن معاہدے سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں یکدم گر گئیں اور اسٹاک مارکیٹ میں زبردست بہتری آئی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کڑا ٹوئٹ، نائب صدر جے ڈی وینس کا اسرائیلی کابینہ کو سخت ترین پیغام

محمود احمد june 18,2026

واشنگٹن (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بین الاقوامی میڈیا پر گردش کرنے والی ان افواہوں کو دوٹوک الفاظ میں یکسر مسترد کر دیا ہے کہ امریکہ تاریخی امن معاہدے کے تحت ایران کو 300 ارب ڈالر کی خطیر رقم ادا کر رہا ہے، واشنگٹن سے حاصل ہونے والی سٹریٹجک تفصیلات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک انتہائی اہم اور جارحانہ پیغام میں واضح کیا کہ امریکہ ایران کو کوئی رقم نہیں دے رہا اور ۳۰۰ ارب ڈالر کی معاشی فنڈنگ کی تمام خبریں سراسر من گھڑت، جعلی اور ڈیموکریٹس کا پھیلاؤ ہوا سیاسی پروپیگنڈا ہیں، صدر ٹرمپ نے فخر سے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے اس تاریخی امن معاہدے میں صرف اور صرف امریکہ کی شاندار کامیابی اور بالادستی ہوئی ہے جس کے مثبت اثرات کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں یکدم نیچے آئی ہیں اور ملکی عوام کو چاہیے کہ وہ اپنی معاشی خوشحالی اور ملکی ترقی دیکھنے کے لیے امریکی اسٹاک مارکیٹ کے بہترین اور تاریخی انڈیکس کو دیکھیں، دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی میڈیا کے نمائندوں سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے صراحت کی کہ ایران کا اس کڑے معاہدے پر دستخط کرنا دراصل سپر پاور امریکہ اور اس کے غیور عوام کی ایک بہت بڑی تاریخی جیت ہے کیونکہ اس معاہدے کے نفاذ کے ساتھ ہی ایران کی ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا ہے اور دستاویز کی اہم ترین شقوں میں واضح طور پر شامل ہے کہ ایران آئندہ ایسے کوئی بھی مہلک ہتھیار یا بیلسٹک میزائل تیار نہیں کرے گا جس سے دنیا کے امن یا کسی بھی ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو، انہوں نے واضح کیا کہ تہران حکومت کے روزمرہ رویے اور کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے ہی اس پر عائد اقتصادی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کی جائے گی اور پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والا یہ ”اسلام آباد میمورنڈم“ ہر لحاظ سے امریکی سیکیورٹی مفاد کے عین مطابق ہے جس سے خطے میں مستقل امن قائم ہوگا۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے خطے کی تازہ ترین عسکری صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید بتایا کہ ایران نے گزشتہ دو دنوں کے دوران سٹریٹجک گزرگاہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی بین الاقوامی یا تجارتی بحری جہاز کو نشانہ نہیں بنایا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں معاہدے کی پاسداری شروع کر چکا ہے اور صرف گزشتہ رات ہی اس اہم ترین بحری راستے سے ریکارڈ 12.5 ملین بیرل خام تیل لے کر متعدد تجارتی جہاز بحفاظت گزرے ہیں، انہوں نے اعلان کیا کہ اسلام آباد معاہدے کے مطابق باقاعدہ جانچ پڑتال کا 60 روزہ دورانیہ آج سے نافذ العمل ہو گیا ہے اور وائٹ ہاؤس بہت جلد اس مفاہمتی یادداشت کی تمام اہم شقوں اور سٹریٹجک فوائد پر امریکی کانگریس کو تفصیلی بریفنگ دے گا، اپنے آئندہ کے سفارتی شیڈول کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے کہا کہ ان کا سوئٹزرلینڈ جانے کا پروگرام ضرور ہے لیکن وہاں کب جانا ہے اس کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی کیونکہ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ایران کے ساتھ معاہدے کے انتہائی باریک تکنیکی نکات پر مزید اہم ترین بات چیت ہونی ہے اور قوی امکان ہے کہ وہ اس ہفتے کے آخر تک یا اتوار تک سوئٹزرلینڈ روانہ ہو جائیں لیکن ان کے اس دورے کا تمام تر دارومدار جنیوا میں ایرانی وفد کی آمد پر ہے، جے ڈی وینس نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ ایران جنیوا مذاکرات میں تمام شرائط کی مکمل تعمیل اور عملی اقدامات کے بعد ہی دنیا بھر میں موجود اپنے منجمد فنڈز تک رسائی حاصل کر سکے گا، اسرائیلی حکومت کی جانب سے آنے والے بیانات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنجمن نیتن یاہو کی کابینہ کے کچھ انتہا پسند وزراء اس تاریخی معاہدے اور صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر بلاجواز تنقید کر رہے ہیں لیکن اسرائیلی کابینہ کو اس قسم کی تنقید کرنے سے پہلے زمینی حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہیے، امریکی نائب صدر نے اسرائیلی قیادت کو ایک انتہائی سخت اور واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی کابینہ کو یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کے گھروں کی حفاظت صرف اور صرف امریکی ہتھیاروں کی بدولت ہوتی ہے اور اسرائیل کا دفاع امریکی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے یقینی بنایا جاتا ہے کیونکہ اسرائیل اپنی بقا کے لیے جن جدید ترین ہتھیاروں سے حفاظت کرتا ہے وہ سب امریکہ کے بنے ہوئے ہیں لہٰذا تل ابیب بلاجواز تنقید کے بجائے حقائق کو تسلیم کرے۔

پاکستان کی ثالثی میں امریکہ ایران تاریخی معاہدے کے بعد برطانیہ کی نئی ٹریول ایڈوائزری جاری، دبئی اور متحدہ عرب امارات کے سفر پر عائد تمام پابندیاں ختم، برطانوی شہری معمول کے مطابق سفر کر سکیں گے

منصور احمد june 18,2026

لندن (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

پاکستان کی کامیاب ترین مخلصانہ ثالثی کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی امن معاہدہ نافذ العمل ہونے کے فوری بعد برطانوی حکومت نے خطے کی صورتحال کو پرامن قرار دیتے ہوئے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے لیے اپنی آفیشل ٹریول ایڈوائزری کو بڑے پیمانے پر اپڈیٹ کر دیا ہے، لندن سے حاصل ہونے والی بین الاقوامی سفارتی تفصیلات کے مطابق برطانوی وزارتِ خارجہ (فارن آفس) نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ جنگی تنازع اور شدید کشیدگی کے باعث برطانوی شہریوں کو دبئی سمیت متحدہ عرب امارات کے تمام شہروں کے لیے جاری کردہ ”غیر ضروری سفر سے گریز“ کی سخت ترین ہدایت اور پابندی کو فوری طور پر واپس لے لیا ہے، برطانوی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اس نئی اور نرم ترین گائیڈ لائن کے تحت اب تمام برطانوی شہری اور کاروباری افراد پہلے کی طرح مکمل طور پر پرسکون ماحول میں معمول کے مطابق دبئی اور امارات کی دیگر ریاستوں کا آزادانہ سفر کر سکتے ہیں کیونکہ اب وہاں سیکیورٹی کا کوئی خطرہ موجود نہیں رہا، واضح رہے کہ یہ مثبت ترین عالمی پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب مقتدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک ہولناک تباہی سے بچانے کے لیے پاکستان کے تیار کردہ تاریخی امن مینو پر باقاعدہ طور پر الیکٹرانک دستخط کر دیے ہیں۔

اس عظیم الشان کامیابی پر پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے دنیا بھر کو باضابطہ مطلع کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کی اس تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دونوں ممالک کے صدور نے حتمی دستخط ثبت کر دیے ہیں جس کے بعد یہ جرات مندانہ معاہدہ پوری دنیا میں فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس سٹریٹجک معاہدے کی بنیادی اور اہم ترین شقوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے صراحت کی کہ اس امن فارمولے کے تحت ایران بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے لیے سٹریٹجک گزرگاہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ مکمل کھول رہا ہے جبکہ دوسری جانب سپر پاور امریکہ ایران کے خلاف خلیج میں جاری اپنی کڑی اور جابرانہ بحری ناکہ بندی کو فی الفور ختم کرنے پر مکمل راضی ہو گیا ہے، وزیرِ اعظم پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ وہ بطورِ ثالث اور ضامن اس تاریخی امریکہ ایران مفاہمتی یادداشت کی باقاعدہ توثیق کرتے ہیں اور اس سلسلے میں ۱۹ جون ۲۰۲۶ء سے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں دونوں ممالک کے مابین تکنیکی سطح کے اگلے اہم ترین مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہونے جا رہا ہے جس میں معاہدے کے تمام باریک نکات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا، بین الاقوامی معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے اس عظیم الشان امن معاہدے کے نفاذ کے ساتھ ہی وال اسٹریٹ سمیت دنیا بھر کی تمام بڑی اسٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی اور بہتری ریکارڈ کی جا رہی ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل (پٹرولیم) کی آسمان کو چھوتی ہوئی قیمتیں بھی یکدم نیچے گر گئی ہیں جس سے عالمی معیشت کو ایک بہت بڑا بریک تھرو اور ریلیف ملا ہے۔

فیفا ورلڈکپ، امریکی حکام کا ایرانی فٹبال ٹیم کے ساتھ ناروا سلوک، میچ کے فوراً بعد امریکہ چھوڑنے کا حکم، کپتان مہدی تاریمی کا شدید احتجاج

محمود احمد june 18,2026

لاس اینجلس (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

جاری فیفا ورلڈک2026 کے دوران امریکی حکام کی جانب سے ایرانی فٹبال ٹیم کے ساتھ انتہائی ناروا اور متعصبانہ سلوک روا رکھنے کی سنگین تفصیلات سامنے آئی ہیں، لاس اینجلس سے موصولہ بین الاقوامی اسپورٹس رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے ایرانی فٹبال ٹیم کو نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گئے اپنے اہم ترین میچ کے فوری بعد امریکہ میں قیام کرنے کی اجازت دینے کے بجائے فی الفور ملک چھوڑ کر واپس میکسیکو میں قائم اپنے تربیتی کیمپ میں منتقل ہونے کا سخت صدارتی و انتظامی حکم جاری کیا ہے، عالمی کھیلوں کے قوانین کے برعکس امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایرانی کھلاڑیوں کو میچ کے بعد ہوٹل میں آرام کرنے اور فزیکل ریکوری کے لیے مناسب وقت بھی فراہم نہیں کیا گیا جو کہ اسپورٹس مین شپ کی کھلی خلاف ورزی ہے، ایرانی فٹبال فیڈریشن کے ذرائع کے مطابق یہ پریشان کن صورتحال صرف میچ کے بعد تک محدود نہیں رہی بلکہ میچ سے قبل جب ایرانی ٹیم اپنے تربیتی کیمپ میکسیکو سے امریکہ آرہی تھی تو اس وقت بھی امریکی امیگریشن اور سیکیورٹی حکام نے سخت تفتیش اور کڑی اسکریننگ کے نام پر ایرانی کھلاڑیوں اور آفیشلز کو ایئرپورٹ پر مسلسل ۵ گھنٹے تک روک کر شدید ذہنی و جسمانی اذیت کا نشانہ بنایا۔

ایرانی فٹبال ٹیم کے مایہ ناز کپتان مہدی تاریمی نے امریکی بیوروکریسی کے اس جابرانہ رویے پر شدید برہمی اور احتجاج کا اظہار کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ اس غیر ضروری اور متعصبانہ تفتیش کے باعث کھلاڑیوں کی فزیکل ریکوری اور کھیل پر توجہ شدید متاثر ہوئی ہے کیونکہ ورلڈکپ جیسے اتنے بڑے عالمی عسکری مقابلے کے لیے پچ پر اترنے سے پہلے ہر کھلاڑی کا ذہنی اور جسمانی طور پر مکمل تازہ دم ہونا اور پرسکون ہونا انتہائی ضروری ہوتا ہے مگر امریکی رویے نے ٹیم کو تھکاوٹ سے دوچار کیا، واضح رہے کہ ایران نے فیفا ورلڈکپ 2026 میں اپنا پہلا اہم اوپننگ میچ نیوزی لینڈ کے خلاف لاس اینجلس کے اسٹیڈیم میں کھیلا جو دونوں ٹیموں کے مابین سخت مقابلے کے بعد ۲-۲ گول سے برابر رہا تھا، ورلڈکپ شیڈول کے مطابق گروپ مرحلے میں ایران کا اگلا اہم ترین میچ آئندہ پیر کے روز بیلجیئم کے خلاف لاس اینجلس میں ہی کھیلا جانا ہے مگر امریکی حکام کی جانب سے ٹیم کو بار بار امریکہ سے باہر بھیجنے اور دوبارہ لانے کے اس کٹھن انتظامی عمل نے ایرانی فٹبال ٹیم کی اگلے میچ کی تیاریوں پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

فیفا ورلڈکپ، لیونل میسی نے الجزائر کے خلاف شاندار ہیٹ ٹرک کر کے کرسٹیانو رونالڈو کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، میروسلاو کلوزے کا ریکارڈ بھی برابر

محمود احمد june 18,2026

لزبن، پرتگال (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

ارجنٹینا کے لیجنڈری اور شہرۂ آفاق فٹبالر لیونل میسی نے الجزائر کے خلاف میچ میں سحر انگیز پرفارمنس کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار ہیٹ ٹرک داغ دی ہے اور اس تاریخی کارنامے کے ساتھ ہی انہوں نے فیفا ورلڈکپ کی تاریخ میں ایک نیا اور ناقابلِ یقین عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے، لزبن سے حاصل ہونے والی بین الاقوامی اسپورٹس رپورٹس کے مطابق لیونل میسی اب ۳۸ سال اور ۳۵۷ دن کی عمر میں فیفا ورلڈکپ کی تاریخ کے اندر ہیٹ ٹرک اسکور کرنے والے دنیا کے معمر ترین اور سینئر ترین کھلاڑی بن گئے ہیں، میسی نے فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے اپنے پہلے ہی اوپننگ میچ میں الجزائر کے مضبوط دفاع کے پرخچے اڑاتے ہوئے یکے بعد دیگرے ۳ شاندار گول اسکور کیے اور ارجنٹینا کو الجزائر کے خلاف ۰-۳ کے واضح مارجن سے ایک یادگار کامیابی دلائی، میچ کے دوران میسی نے اپنا پہلا گول پینلٹی باکس کے باہر طوفانی اور طویل فاصلے کے شاٹ پر کیا جبکہ دوسرا گول حریف گول کیپر سے گیند ریبونڈ ہونے پر انتہائی چابکدستی سے قریب سے نیٹ کی زینت بنایا اور تیسرا گول اپنی روایتی و خوبصورت انفرادی موو کے ذریعے ڈیفینڈرز کو چکمہ دیتے ہوئے داغ کر اپنی ہیٹ ٹرک مکمل کی۔

اس جادوئی عسکری اسپورٹس کارکردگی کے ساتھ ہی لیونل میسی نے اپنے روایتی حریف اور پرتگال کے اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کا ایک بڑا عالمی ریکارڈ باقاعدہ طور پر توڑ دیا ہے جنہوں نے سال ۲۰۱۸ء کے ورلڈکپ میں ۳۳ سال کی عمر میں اسپین کے خلاف شاندار ہیٹ ٹرک کر کے یہ اعزاز اپنے نام کیا تھا مگر اب میسی ۳۸ سال سے زائد عمر میں یہ کارنامہ انجام دے کر دنیا کے واحد سینئر کھلاڑی بن چکے ہیں، بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق میسی نے اپنے شاندار بین الاقوامی کیریئر کے ۲۰۰ویں یادگار میچ میں یہ عظیم ترین اعزاز حاصل کیا ہے اور اس یادگار ہیٹ ٹرک کے بعد اب فیفا ورلڈکپ کی تاریخ میں لیونل میسی کے کل گولز کی مجموعی تعداد ۱۶ تک پہنچ گئی ہے جس کے ساتھ ہی انہوں نے جرمنی کے مایہ ناز اسٹرائیکر میروسلاو کلوزے کا ورلڈکپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے کا عالمی ریکارڈ بھی باقاعدہ برابر کر دیا ہے اور وہ اب مشترکہ طور پر دنیا کے ٹاپ اسکورر بن گئے ہیں، ارجنٹینا کے شائقین کے لیے یہ تاریخی کارنامہ اس لحاظ سے بھی انتہائی جذباتی اور خاص بن چکا ہے کیونکہ یہ میسی کے کیریئر کے پہلے ورلڈکپ گول کے ٹھیک ۲۰ سال مکمل ہونے کے موقع پر سامنے آیا ہے جس نے اس یادگار فتح کو فٹبال کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے لازوال بنا دیا ہے۔

بھارتی میڈیا اور صحافیوں کی بولتی بند، معاہدے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کے بطور ثالث دستخط نے نئی دہلی میں آگ لگا دی، ”اسلام آباد میمورنڈم“ کا متن منظرِ عام پر آنے سے مودی سرکار سکتے میں

محمود احمد june 18,2026

تہران/اسلام آباد (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کے تاریخی امن معاہدے کے حوالے سے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک دھماکہ خیز ٹوئٹ نے پاکستان کے خلاف مسلسل زہریلے پروپیگنڈے اور سازشوں میں مصروف بھارتی میڈیا اور نئی دہلی کے صحافتی حلقوں میں یکسر صفِ ماتم بچھا دی ہے، تہران اور واشنگٹن سے حاصل ہونے والی تازہ ترین سٹریٹجک رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والی باضابطہ مفاہمتی یادداشت کا اصل متن اور آفیشل کاپی پوری دنیا کے سامنے شیئر کر دی ہے جس پر پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے بطورِ ثالث اور ضامن واضح دستخط موجود ہیں، اس منظرِ عام پر آنے والی تاریخی دستخطی کاپی نے مودی سرکار اور ہندوستانی مبصرین کے تن بدن میں شدید آگ لگا دی ہے کیونکہ بھارتی میڈیا کے لیے یہ ہضم کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے کہ عالمی سطح پر جس پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کے لیے نئی دہلی نے اربوں ڈالر پانی کی طرح بہائے، وہی پاکستان آج حالیہ عالمی تاریخ کے سب سے بڑے اور اہم ترین امن معاہدے کو یقینی بنانے کا واحد ضامن اور مرکزی محور بن کر ابھرا ہے، ایرانی صدر کی اس تاریخی ٹوئٹ کے بعد دنیا بھر کے مقتدر سفارتی حلقوں میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور پاکستان کی عسکری قیادت کی اعلیٰ سفارتکاری کی زبردست تعریفیں کی جا رہی ہیں جبکہ دوسری جانب خطے میں امن کا روایتی دشمن بھارتی میڈیا مسلسل رونے دھونے اور مضحکہ خیز تاویلات پیش کرنے میں مصروف ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق بھارتی میڈیا کی جانب سے مودی سرکار کو خفت سے بچانے کے لیے گزشتہ ۲۴ گھنٹوں کے دوران مسلسل یہ مضحکہ خیز اور من گھڑت جھوٹا الزام عائد کیا جا رہا تھا کہ اس عالمی معاہدے کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے یکطرفہ جھوٹ بولا جا رہا ہے اور اس معاہدے کا نام سرے سے ”اسلام آباد میمورنڈم“ ہے ہی نہیں اور نہ ہی اس دستاویز میں پاکستان کا کوئی ذکر موجود ہے، تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے آفیشل اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی معاہدے کی لائیو تصویر نے بھارتی میڈیا کے اس مضحکہ خیز جھوٹ اور پراپوگنڈے کو سیکنڈوں میں یکسر بے نقاب کر دیا ہے کیونکہ صدارتی دستاویز پر جلی حروف میں ”اسلام آباد میمورنڈم“ ہی تحریر ہے جس کے نیچے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور بطورِ ثالث پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ڈیجیٹل دستخط صاف چمک رہے ہیں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے عالمی پیغام میں واشنگٹن کو کڑا پیغام دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ایک تاریخی دستاویز ہے اور ایک طاقتور و غیرت مند ایران کا واضح پیغام ہے کہ عالمی امن ہمیشہ صرف اور صرف باہمی احترام اور برابری کے سائے میں ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، انہوں نے فخر سے کہا کہ اس مفاہمتی یادداشت کا ایک ایک لفظ غیرت مند ایرانی قوم کی حقیقی آواز کا عکاس ہے اور ایرانی قوم نے کسی بھی بیرونی عسکری دھمکی، اقتصادی ناکہ بندی یا جابرانہ دباؤ کے سامنے اپنی عزتِ نفس اور قومی خود مختاری کا سودا نہیں کیا اور آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایرانی قوم کی بے مثال استقامت، ثابت قدمی اور تہران کی ذمہ دارانہ سٹرٹیجک سفارتکاری کا شاندار نتیجہ ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مابین طے پانے والے اس ۱۴ نکاتی امن معاہدے کی پاکستان نے بطورِ ثالث باقاعدہ توثیق کر دی ہے اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے تہنیتی پیغام میں واشنگٹن اور تہران کو مبارکباد دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ عظیم معاہدہ مشرقِ وسطیٰ اور خطے میں مستقل امن و معاشی استحکام کی سب سے مضبوط بنیاد ثابت ہوگا، انہوں نے عالمی دنیا پر واضح کیا کہ اس ناممکن سفارتی پیش رفت کو ممکن بنانے، دونوں ایٹمی و عسکری طاقتوں کو جنگ کی آگ سے نکالنے اور علاقائی استحکام کو آگے بڑھانے میں پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی رات دن کی انتھک مخفی محنت اور سٹرٹیجک حکمتِ عملی نے سب سے کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا ہے جسے تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا جبکہ وزیرِ اعظم نے اس شاندار کامیابی پر امریکی صدر ٹرمپ، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کو پاکستان کی ریاست اور عوام کی طرف سے دلی مبارکباد بھی پیش کی ہے۔

امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی مکمل طور پر ختم کر دی، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت 60 روزہ مدت کا باقاعدہ آغاز، 300 ارب ڈالر فنڈنگ کی خبریں جعلی پروپیگنڈا ہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کے اہم بیانات

کاشف عباسی ,june 18,2026

واشنگٹن (بین الاقوامی امور کے ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی امن معاہدے کے نفاذ کے ساتھ ہی امریکی افواج نے ایرانی بندرگاہوں کی طویل عرصے سے جاری سخت بحری ناکہ بندی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے، واشنگٹن سے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی جانب سے جاری کردہ آفیشل سٹریٹجک بیان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خصوصی اور براہِ راست ہدایت پر ایرانی بندرگاہوں اور تمام ساحلی علاقوں کی معاشی و عسکری ناکہ بندی فوری طور پر ہٹا لی گئی ہے، سینٹ کام نے واضح کیا ہے کہ خلیجِ عرب اور خلیجِ عمان میں ایرانی بندرگاہوں تک اب بحری آمد و رفت کا راستہ مکمل طور پر صاف ہے اور پٹرولیم و دیگر تجارتی سامان لانے اور لے جانے والے بین الاقوامی بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جا رہی تاہم تہران حکومت کی جانب سے امن معاہدے کی مکمل پاسداری کی حتمی یقین دہانی تک امریکی جنگی جہاز اور بحری بیڑے سیکیورٹی کے پیشِ نظر جنرل ایریا میں بدستور موجود رہیں گے، دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے ایک انتہائی اہم پیغام میں بین الاقوامی میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے کہ امریکہ ایران کو 300 ارب ڈالر کی خطیر رقم ادا کر رہا ہے، صدر ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ امریکہ ایران کو کوئی رقم نہیں دے رہا اور 300 ارب ڈالر کی فنڈنگ کی یہ تمام خبریں سراسر جعلی ہیں اور یہ ڈیموکریٹس کا پھیلاؤ ہوا مایوس کن سیاسی پروپیگنڈا ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس تاریخی امن معاہدے میں صرف اور صرف امریکہ کی شاندار کامیابی ہوئی ہے جس کے مثبت اثرات کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں یکدم نیچے آئی ہیں اور ملکی عوام کو چاہیے کہ وہ اپنی معاشی بہتری دیکھنے کے لیے امریکی اسٹاک مارکیٹ کے بہترین انڈیکس کو دیکھیں۔

مزید برآں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واشنگٹن میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے صراحت کی کہ ایران کا اس سخت ترین معاہدے پر دستخط کرنا دراصل سپر پاور امریکہ کی ایک بہت بڑی تاریخی جیت ہے اور یہ معاہدی بالخصوص امریکی عوام کے مفادات کی فتح ہے، انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے نفاذ کے ساتھ ہی ایران کی ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا ہے کیونکہ دستاویز کی اہم ترین شقوں میں واضح طور پر شامل ہے کہ ایران آئندہ ایسے کوئی بھی مہلک ہتھیار یا بیلسٹک میزائل تیار نہیں کرے گا جس سے دنیا کے امن یا کسی بھی ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو، نائب صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے مثبت رویے کو باریک بینی سے مانیٹر کرتے ہوئے ہی اسے مستقبل میں ریلیف فراہم کیا جائے گا اور اس معاشی ریلیف کا تمام تر انحصار تہران کے اپنے ذمہ دارانہ رویے، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کے ساتھ اس کے پرامن تعلقات پر ہوگا، انہوں نے واضح کیا کہ تہران حکومت کی روزمرہ کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ہی اس پر عائد اقتصادی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کی جائے گی اور پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی یہ ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ ہر لحاظ سے امریکی سیکیورٹی مفاد کے عین مطابق ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسرائیل اور حزب اللہ بھی اس عظیم امن معاہدے کا احترام کریں گے کیونکہ خطے میں جنگ اب کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور بعض میڈیا ہاؤسز کی جانب سے معاہدے کی شقوں کو انتہائی غلط اور گمراہ کن انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، انہوں نے مہم جوئی کا کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے اپنی سخت معاشی حکمتِ عملی سے ایران کو اس حد تک کمزور کر دیا کہ وہ اپنا جارحانہ رویہ تبدیل کر کے امن کی میز پر آنے پر مجبور ہوا لہٰذا یہ امریکہ ایران معاہدہ خطے کے وسیع تر امن کے لیے ایک بہترین تاریخی پیش رفت ہے۔

جے ڈی وینس نے خطے کی تازہ ترین عسکری صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ایران نے گزشتہ دو دنوں کے دوران آبنائے ہرمز میں کسی بھی بین الاقوامی یا تجارتی بحری جہاز کو نشانہ نہیں بنایا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں معاہدے کی پاسداری شروع کر چکا ہے اور صرف گزشتہ رات ہی اس اہم ترین بحری گزرگاہ سے ریکارڈ ۱۲.۵ ملین بیرل خام تیل لے کر متعدد جہاز بحفاظت گزرے ہیں، انہوں نے اعلان کیا کہ اسلام آباد معاہدے کے مطابق باقاعدہ جانچ پڑتال کا ۶۰ روزہ دورانیہ آج سے نافذ العمل ہو گیا ہے اور وائٹ ہاؤس بہت جلد اس مفاہمتی یادداشت کی تمام اہم شقوں اور سٹریٹجک فوائد پر امریکی کانگریس کو تفصیلی بریفنگ دے گا، اپنے آئندہ کے سفارتی شیڈول کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے کہا کہ ان کا سوئٹزرلینڈ جانے کا پروگرام ضرور ہے لیکن وہاں کب جانا ہے اس کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی کیونکہ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ایران کے ساتھ معاہدے کے انتہائی باریک تکنیکی نکات پر مزید اہم ترین بات چیت ہونی ہے اور قوی امکان ہے کہ وہ اس ہفتے کے آخر تک سوئٹزرلینڈ روانہ ہو جائیں لیکن ان کے اس دورے کا دارومدار جنیوا میں ایرانی وفد کی آمد پر ہے جو اتوار تک متوقع ہے، جے ڈی وینس نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ ایران جنیوا مذاکرات میں تمام شرائط کی مکمل تعمیل اور عملی اقدامات کے بعد ہی دنیا بھر میں موجود اپنے منجمد فنڈز تک رسائی حاصل کر سکے گا، اسرائیلی حکومت کی جانب سے آنے والے بیانات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنجمن نیتن یاہو کی کابینہ کے کچھ وزراء اس تاریخی معاہدے اور صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر بلاجواز تنقید کر رہے ہیں لیکن اسرائیلی کابینہ کو اس قسم کی تنقید کرنے سے پہلے زمینی حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہیے، امریکی نائب صدر نے اسرائیلی قیادت کو ایک انتہائی سخت اور واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی کابینہ کو یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کے گھروں کی حفاظت صرف اور صرف امریکی ہتھیاروں کی بدولت ہوتی ہے اور اسرائیل کا دفاع امریکی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے یقینی بنایا جاتا ہے کیونکہ تل ابیب اپنی بقا کے لیے جن جدید ترین ہتھیاروں کا استعمال کرتا ہے وہ سب امریکہ کے بنے ہوئے ہیں۔

”شکریہ وزیرِ اعظم شہباز شریف، شکریہ فیلڈ مارشل عاصم منیر“، امریکہ ایران امن معاہدے کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا پاکستانی قیادت سے تاریخی رابطہ

    کاشف عباسی ,june 18,2026

    اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کے تاریخی امن معاہدے پر الیکٹرانک دستخط مکمل ہونے کے فوراً بعد اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے ایک انتہائی اہم اور طویل ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیرِ اعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ اعلیٰ سطحی اعلامیے کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کو آج سہ پہر ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی جانب سے ایک خصوصی ٹیلیفون کال موصول ہوئی جو ۳۰ منٹ سے زائد وقت تک جاری رہی اور دونوں مقتدر رہنماؤں کے مابین تاریخی ”اسلام آباد امن معاہدے“ پر باقاعدہ دستخطوں کے عمل درآمد کے بعد یہ پہلا براہِ راست سفارتی رابطہ ہے، اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، ایران کی اعلیٰ ترین سٹریٹجک قیادت اور ایران کے تمام برادر عوام کو اس تاریخی امن معاہدے پر دستخط مکمل ہونے پر دلی مبارکباد پیش کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عظیم الشان معاہدہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ اور پورے خطے میں مستقل امن و استحکام کے قیام میں سنگِ میل ثابت ہوگا بلکہ جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد برادر ایرانی قوم کی تیز ترین تعمیرِ نو اور پاکستان و ایران کے مابین باہمی دلچسپی کے تمام اقتصادی، تجارتی و دفاعی شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور پائیدار بنانے کا باعث بھی بنے گا۔

    آفیشل اعلامیے کی تفصلیات کے مطابق وزیرِ اعظم پاکستان نے ایران کے سپریم لیڈر رہبرِ معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے لیے بھی اپنے گہرے احترام اور دلنشین نیک تمناؤں کا خصوصی پیغام پہنچایا، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جنگ کے خاتمے اور خطے کی معاشی خوشحالی کے لیے امن معاہدے پر دستخط کرنے کے ایرانی قیادت کے جرات مندانہ فیصلے کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے اگلے تکنیکی مرحلے کے لیے ایرانی ٹیم کی کامیابی کی دعا کی اور اس پختہ عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک سچے برادر اسلامی اور ہمسایہ ملک کی حیثیت سے عالمی فورمز سمیت ہر کٹھن شعبے میں ایران کی اخلاقی، سیاسی و اقتصادی حمایت جاری رکھے گا، دوسری جانب ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ایرانی قوم اور تہران حکومت کی جانب سے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مخلصانہ اور خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے تاریخی الفاظ استعمال کیے کہ ”شکریہ وزیرِ اعظم شہباز شریف، شکریہ فیلڈ مارشل عاصم منیر“، ایرانی صدر نے واشنگٹن اور تہران کو جنگ کی آگ سے نکالنے کے لیے پاکستان کی ان دونوں اعلیٰ ترین شخصیات کی انتھک سفارتی مہارت، غیر معمولی اخلاص اور اعلیٰ دانش مندی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بطورِ ثالث اس پورے عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں نہایت شاندار اور کلیدی کردار ادا کیا ہے جسے ایران کی ریاست ہمیشہ انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھے گی اور مشکل وقت میں پاکستان کی اس مثبت، تعمیری اور مخلصانہ حمایت کو ایران کی تاریخ میں ہمیشہ سنہرے حروف سے یاد رکھا جائے گا۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے برادر پاکستانی عوام کے لیے اپنی نیک خواہشات اور محبت کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ تہران باہمی دلچسپی کے تمام اہم شعبوں میں پاکستان کے ساتھ دوطرفہ سٹریٹجک تعلقات کو اب ایک نئی بلندی تک لے جانے کا شدید خواہاں ہے، اس تاریخی اور دوستانہ گفتگو کے اختتام پر دونوں ممالک کے رہنماؤں نے باہمی سہولت کے مطابق جلد از جلد ایک دوسرے کے دارالحکومتوں یعنی اسلام آباد اور تہران کے باقاعدہ سرکاری دورے کرنے پر مکمل اتفاق کیا تاکہ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امن و امان کے امور میں موجودہ بہترین تعاون اور مشترکہ منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھایا جا سکے جبکہ دونوں صدور نے آئندہ دنوں میں بھی خطے کی بدلتی صورتحال پر مسلسل اور قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کا دورۂ سوئٹزرلینڈ منسوخ، امریکہ ایران امن معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کے باعث فیصلہ

    کاشف عباسی ,june 18,2026

    اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا دورۂ سوئٹزرلینڈ ناگزیر وجوہات کی بنا پر یکسر منسوخ کر دیا گیا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی اعلیٰ سفارتی ذرائع کی تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باقاعدہ اور مستقل خاتمے کے لیے تیار کی گئی تاریخی ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ پر بطور ثالث دستخط کرنے اور دستخطوں کی یہ تقریب جنیوا کے بجائے الیکٹرانک طور پر ورچوئل انداز میں منعقد ہونے کے باعث دورہ منسوخ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا، شیڈول کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آج رات سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا روانہ ہونا تھا جہاں وہ اس معاہدے کی دستخطی تقریب میں ذاتی طور پر شرکت کرنے والے تھے تاہم دونوں بڑی عالمی طاقتوں کے صدور کے مابین ایم او یو پر مقررہ وقت سے پہلے ہی الیکٹرانک دستخط ہو جانے کے باعث اب جنیوا میں ہونے والی اس تقریب میں وزیرِ اعظم پاکستان کی جسمانی موجودگی ضروری نہیں رہی لہٰذا ان کے بیرونِ ملک دورے کا پورا شیڈول منسوخ کر دیا گیا اور جمعرات کے روز ہی وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اس تاریخی امن دستاویز پر بطور ثالث اپنے ڈیجیٹل دستخط ثبت کر دیے۔

    بین الاقوامی مبصرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین طویل عرصے سے جاری شدید ترین عسکری کشیدگی اور جنگی صورتحال کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششیں بالآخر رنگ لے آئی ہیں اور دونوں عالمی طاقتوں کو امن کی میز پر لانے کے بعد اب اس تاریخی امن دستاویز کو باقاعدہ ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کا نام دے کر دنیا بھر میں نافذ العمل کر دیا گیا ہے جس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس بڑے عالمی معاہدے کا مرکز، ضامن اور ثالث اسلامی جمہوریہ پاکستان بنا ہے، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا اس تاریخی دستاویز پر بطور ثالث اپنے دستخط ثبت کرنا عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ، جرات مندانہ خارجہ پالیسی اور بہترین امن پسند کردار کا ایک واضح ثبوت ہے، اس تاریخی امن یادداشت پر دونوں ممالک کی اعلیٰ ترین قیادت نے پہلے ہی اپنی مکمل سفارتی رضامندی ظاہر کرتے ہوئے الیکٹرانک دستخط مکمل کر لیے تھے اور اب اس مقتدر دستاویز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے باقاعدہ دستخط موجود ہیں جس کے بعد اس عالمی امن معاہدے کو دونوں حکومتوں کی اعلیٰ ترین سٹریٹجک سطح پر حتمی قانونی و آئینی حیثیت حاصل ہو گئی ہے جو خطے میں مستقل امن کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔

    آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی ۲۰۱۷ء کی تاریخی فتح کو ۹ سال مکمل، روایتی حریف بھارت کے خلاف شاندار کامیابی قومی کرکٹ کی تاریخ کا سنہرا باب، سرفراز احمد اور فخر زمان کے تاثرات

    منصور احمد june 18,2026

    لاہور (اسپورٹس رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کا ۱۸ جون ۲۰۱۷ء ایک انتہائی سنہرا اور لازوال باب ہے جب قومی کرکٹ ٹیم نے دنیا بھر کی تمام تر توقعات اور کرکٹ ماہرین کے تجزیوں کے یکسر برعکس گراؤنڈ پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل معرکے میں اپنے روایتی حریف بھارت کو ۱۸۰ رنز کے بھاری مارجن سے عبرتناک شکست دے کر پہلی بار یہ عالمی اعزاز اپنے نام کیا تھا، اس تاریخی اور ناقابلِ فراموش کامیابی کو آج پورے نو سال مکمل ہو گئے ہیں مگر اس شاندار فتح کی سحر انگیز یادیں آج بھی ملکی و بین الاقوامی شائقینِ کرکٹ کے دلوں میں پوری طرح تازہ ہیں، اس یادگار دن کے موقع پر قومی کرکٹ ٹیم کے اس وقت کے مایہ ناز کپتان سرفراز احمد نے اپنے خصوصی پریس بیان میں جذباتی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اوول کے تاریخی میدان میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کو فضا میں اٹھانا بلاشبہ ان کے پورے کرکٹ کیریئر کا یادگار ترین اور سنہرا لمحہ تھا، سابق کپتان کے مطابق یہ عظیم کامیابی کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ پوری ٹیم، محنتی کوچنگ سٹاف، اسپورٹنگ مینجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی کی مشترکہ اور مخلصانہ کاوشوں کا خوبصورت نتیجہ تھی جس نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا۔

    اس تاریخی فائنل معرکے میں بھارتی بالنگ لائن کے پرخچے اڑاتے ہوئے شاندار سنچری اسکور کرنے والے مایہ ناز اوپننگ بیٹر فخر زمان نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فائنل میچ میں کھیلی گئی جارحانہ اننگز اور وہ تاریخی دن آج بھی ان کی زندگی اور یادوں کا سب سے اہم حصہ ہیں کیونکہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی نے انہیں بطور انٹرنیشنل کرکٹر بہت کچھ سکھایا اور ان کے مجموعی کیریئر کو بنانے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا، دوسری جانب قومی ٹیم کے موجودہ مایہ ناز اسپنر ابرار احمد نے ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ۲۰۱۷ء کا یہ ہائی وولٹیج فائنل میچ اپنے گھر پر بیٹھ کر دیکھا تھا اور پاکستان کی تاریخی جیت پر انہیں بے حد خوشی محسوس ہوئی تھی، ان کے بقول جب کپتان سرفراز احمد عالمی ٹرافی لے کر کراچی پہنچے تو وہ دیوانہ وار ان کے گھر گئے تھے تاہم شائقین کے بے پناہ رش کی وجہ سے وہ اس وقت ٹرافی کو قریب سے دیکھنے میں یکسر ناکام رہے تھے لیکن آج ٹرافی کو اپنے بالکل قریب دیکھنا ان کے لیے ایک انتہائی خاص اور سحر انگیز لمحہ ہے، فاسٹ بولر خرم شہزاد نے اس حوالے سے بتایا کہ چیمپئنز ٹرافی کی تیاری کے لیے لگائے گئے تربیتی کیمپ کے دوران وہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی (این سی اے) میں پاکستان ٹیم کے نیٹ بولر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے اور ملکی ٹیم کی اس عظیم کامیابی کو وہ آج بھی فخر سے یاد کرتے ہیں۔

    عالمی اعزاز حاصل کرنے کی نویں سالگرہ کے موقع پر قومی ٹیم کے مایہ ناز آل راؤنڈر عامر جمال نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیتنا پوری پاکستانی قوم کے لیے ایک عظیم الشان فخر کا لمحہ تھا اور اس ایونٹ کے سیمی فائنل و فائنل کی سنسنی خیز یادیں آج بھی ناقابلِ فراموش ہیں، انہوں نے فائنل میچ کا ایک انتہائی نازک موڑ یاد کرتے ہوئے کہا کہ پچ پر جب بھارتی کپتان ویرات کوہلی کا ایک اہم کیچ ڈراپ ہوا تو پوری ٹیم اور شائقین شدید دباؤ کا شکار ہو گئے تھے تاہم اگلی ہی گیند پر شاداب خان کے ایک انتہائی شاندار اور ناقابلِ یقین کیچ نے پاکستان کو دوبارہ مقابلے میں مضبوط پوزیشن دلائی جس سے ٹیم کے حوصلے آسمان پر پہنچ گئے اور یوں روایتی حریف کے خلاف ایک تاریخی کامیابی کی راہ ہموار ہوئی۔

    سعودی عرب کے ۳ سپر آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر گئے، خلیجی ریاستوں نے سکھ کا سانس لے لیا

    کاشف عباسی ,june 18,2026

    لندن/مسقط (بین الاقوامی تجارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فوری بعد سعودی عرب کے پرچم بردار ۳ عظیم الشان سپر آئل ٹینکرز انتہائی حساس سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بحفاظت عبور کر چکے ہیں، برطانوی نشریاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ میرین ٹریفک کے مستند ترین سٹرٹیجک اعداد و شمار کے مطابق اوتاد، جحام اور شادن نامی یہ تینوں پٹرولیم جہاز فروری میں ایران امریکہ تنازع کے باقاعدہ آغاز سے ہی آبنائے ہرمز کے مغرب میں واقع خلیجی سمندر میں لنگر انداز تھے کیونکہ جنگی خطرات کے باعث ان کی نقل و حرکت مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی تھی، بحری ٹریفک ٹریکنگ کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ ان جہازوں نے صیہونی و امریکی ناکہ بندی اور ایرانی حملوں کے خوف سے بچنے کے لیے اپنی لائیو پوزیشن نشر کرنے والے جدید سیکیورٹی ٹرانسمیٹر مکمل بند رکھ کر یہ انتہائی پرخطر راستہ خاموشی سے عبور کیا اور جنگی زون سے نکل کر عمان کی محفوظ خلیج میں داخل ہونے کے فوراً بعد اپنے سگنلز کو دوبارہ فعال کیا، ڈیٹا کے مطابق تینوں ٹینکرز نے سعودی عرب کے ساحلی صنعتی شہر راس تنورہ سے خام تیل لوڈ کیا تھا جن میں سے دو نے جنگ شروع ہونے سے پہلے ۲۷ اور ۲۸ فروری کو مال برداری مکمل کی تھی جبکہ تیسرے ٹینکر نے جنگ شروع ہونے کے ٹھیک ایک ہفتے بعد ۷ مارچ کو تیل لادا تھا، اس وقت اوتاد اور شادن بالترتیب جنوبی کوریا اور جاپان کو اپنی متوقع منزل کے طور پر نشر کر رہے ہیں جبکہ جحام نے اس وقت اپنی لوکیشن کو صیغہ راز میں رکھا ہوا ہے۔

    دوسری جانب بی بی سی کے سلامتی امور کے سینیئر ایڈیٹر فرینک گارڈنر نے خطے کی تازہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس معاہدے کے نفاذ پر خلیجی عرب ریاستوں نے بظاہر محتاط رہتے ہوئے بالآخر سکھ کا سانس لیا ہے کیونکہ ان ممالک کی سب سے اہم سمندری تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز اب معمول کی بین الاقوامی آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھولی جا رہی ہے اور یہ تمام ممالک اب یہ قوی امید کر رہے ہیں کہ حالیہ مہینوں میں ایران کی جانب سے ان کی آئل فیلڈز پر آنے والے تباہ کن ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کا سلسلہ اب مستقل طور پر ختم ہو جائے گا، تاہم اس مفاہمتی یادداشت کی ابتدائی کامیابی کے باوجود مشرقِ وسطیٰ میں کئی بڑے حل طلب معاشی و عسکری معاملات بدستور موجود ہیں، ماہرین کے مطابق مذاکرات میں سب سے پیچیدہ اور اہم ترین معاملہ ایران کا جوہری پروگرام ہے کیونکہ آئندہ ۶۰ دن کا عرصہ حد سے زیادہ مختصر ہے جس میں یہ عالمی سطح پر طے کیا جائے گا کہ تہران کے جوہری پروگرام کی نگرانی کس جدید اور سخت طریقے سے کی جائے تاکہ یہ سوفیصد یقینی بنایا جا سکے کہ وہ پسِ پردہ خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے پر کام نہ کر رہا ہو، یاد رہے کہ ۲۰۱۵ء میں اوباما دور کے تاریخی ”جے سی پی او اے“ معاہدے تک پہنچنے میں اس ۶۰ روزہ مدت سے ۱۰ گنا زیادہ طویل وقت لگا تھا جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیا تھا۔

    بین الاقوامی معاشی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمد و رفت کے لیے مقررہ ۶۰ روزہ مدت ختم ہونے کے بعد بھی خلیج میں بحری جہازوں کے لیے خطرہ برقرار رہے گا کیونکہ ایران اس گزرگاہ پر سمندری نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک نیا خودساختہ قانونی نظام نافذ کر سکتا ہے جس کے تحت وہ یہاں سے گزرنے والے عالمی جہازوں سے باقاعدہ ”ٹول ٹیکس“ وصول کرے گا، واضح رہے کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کو جنگی تباہی کے بعد ملک کی دوبارہ تعمیرِ نو کے لیے ۳۰۰ ارب امریکی ڈالر کا خطیر فنڈ ملنا ہے جس کی معاشی مالی معاونت بڑی حد تک وہی خلیجی عرب ریاستیں کرنے پر مجبور ہوں گی جن پر حالیہ جنگ کے دوران ایران حملے کرتا رہا ہے، بعض ماہرین کے مطابق امریکہ داخلی سیاسی دباؤ کے باعث براہِ راست ایران کو اتنی بڑی رقم دینے کی پوزیشن میں بالکل نہیں ہے لہٰذا واشنگٹن کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں بچتا کہ وہ ایران کو آبنائے ہرمز پر ٹول وصول کرنے کی کھلی اجازت دے اور اس پر مکمل خاموشی اختیار کر لے، زیادہ امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ واشنگٹن ”ٹول“ والے معاملے پر مصلحت پسندانہ خاموشی اختیار کرے گا جبکہ تہران برادر ملک مسقط (عمان) کے ساتھ مل کر اس اہم سمندری گزرگاہ پر ٹول کی مستقل وصولی کو یقینی بنائے گا، ماہرین کے نزدیک گزشتہ چند ماہ کے تنازع کے دوران ایران نے تجارتی جہازوں کو روک کر ان سے ایک سے دو ملین ڈالر کے حساب سے عارضی ٹول وصول کیا ہے مگر مستقل قانون نافذ کرنے کی صورت میں پٹرولیم جہازوں پر ۵ لاکھ ڈالر فی جہاز ٹول فیس عائد کیے جانے کا قوی امکان ہے جبکہ دیگر تجارتی سازوسامان لے جانے والے کارگو بحری جہازوں پر یہ شرح ان کے وزن کے حساب سے مختلف ہو سکتی ہے۔

    فیفا ورلڈکپ، انگلینڈ کی کروشیا کے خلاف شاندار فتح، کپتان ہیری کین کے دو گول

    محمود احمد june 18,2026

    ٹیکساس، امریکہ (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    جاری فیفا ورلڈکپ 2026ء کے ایک انتہائی سنسنی خیز اور ہائی وولٹیج مقابلے میں انگلینڈ نے کروشیا کی فٹبال ٹیم کو دو کے مقابلے میں چار گول سے عبرتناک شکست دے کر عالمی ایونٹ میں اپنے سفر کا شاندار اور جاندار آغاز کر دیا ہے، ٹیکساس سے حاصل ہونے والی اسپورٹس تفصیلات کے مطابق اس ہائی پروفائل میچ میں انگلش ٹیم کا پلہ آغاز سے ہی کروشیا کے خلاف پوزیشن اور اٹیکنگ فٹبال کے لحاظ سے بھاری رہا، انگلینڈ کی جانب سے جارحانہ اسکورنگ کا باقاعدہ آغاز میچ کے بارہویں منٹ میں ہی ہو گیا جب کروشیا کی دفاعی فاؤل پر انگلینڈ کو ایک اہم پنالٹی کک ملی جس پر کپتان ہیری کین نے انتہائی مہارت کے ساتھ گیند کو جال کی راہ دکھا کر ٹیم کو ابتدائی برتری دلائی، تاہم کھیل کے ۳۶ویں منٹ پر کروشیا کے مایہ ناز فارورڈ مارٹن نے انگلش الیون کے مضبوط دفاع کو یکسر چکمہ دیتے ہوئے بہترین گول اسکور کیا اور مقابلہ ۱-۱ سے برابر کر دیا، اس گول کے جواب میں انگلش کپتان نے پچ پر شاندار کم بیک کیا اور ٹھیک چھ منٹ بعد یعنی ۴۲ویں منٹ پر ہیری کین نے ایک بار پھر خوبصورت فیلڈ گول داغ کر انگلینڈ کو میچ میں ۲-۱ کی برتری دلا دی لیکن پہلے ہاف کے ختم ہونے سے چند سیکنڈ قبل کروشیا کے پیٹر موسیٰ نے پینلٹی ایریا کے پاس سے ایک طوفانی ہٹ لگا کر گیند کو گول پوسٹ میں پہنچایا اور مقابلہ دو دو گول سے برابر کر دیا جس کے ساتھ ہی پہلے ہاف کا کھیل اسی سنسنی خیز اسکور پر یکسر ختم ہوا۔

    کھیل کے دوسرے ہاف کے آغاز سے ہی انگلش ٹیم نے ایک منظم سٹریٹجک دباؤ کروشیا کے کھلاڑیوں پر مسلسل برقرار رکھا جس کا بھرپور فائدہ پچ پر صاف دکھائی دیا جب کھیل کے ۴۷ویں منٹ میں انگلینڈ کے اسٹار مڈفیلڈر جوڈ بیلہنگم نے حریف ٹیم کے ڈیفینڈرز کو ڈربل کرتے ہوئے ایک شاندار گول اسکور کر کے اپنی ٹیم کو ۳-۲ کی برتری دلا دی، اس کے بعد کروشیا کی ٹیم نے میچ میں واپسی کے لیے سرتوڑ کوششیں کیں اور کئی جوابی حملے کیے لیکن انگلش گول کیپر نے ان کے تمام عزائم خاک میں ملا دیے، کھیل کے آخری لمحات میں انگلش اسٹرائیکرز نے ایک بار پھر کروشیا کے کمزور دفاع پر فائنل حملہ بولا جس کے نتیجے میں ۸۵ویں منٹ میں رشفورڈ نے گیند کو نیٹ کی زینت بنا کر اسکور ۴-۲ کر دیا اور کروشیا کی میچ میں واپسی کے تمام راستے ہمیشہ کے لیے بند کر دیے، ریفری کی فائنل سیٹی بجنے تک کروشیا کی ٹیم مزید کوئی گول اسکور کرنے میں یکسر ناکام رہی اور یوں انگلینڈ نے یہ یادگار میچ چار دو کے واضح مارجن سے اپنے نام کر کے ورلڈکپ کے گروپ مرحلے میں اہم ترین تین پوائنٹس حاصل کر لیے ہیں۔

    ایران نے شرائط نہ مانیں تو دوبارہ حملے اور بحری ناکہ بندی کریں گے، امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کی دھمکی، اسرائیل کا لبنان میں آپریشن جاری رکھنے کا اعلان

    کاشف عباسی ,june 18,2026

    واشنگٹن/تل ابیب (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی امن معاہدے پر دستخطوں کے فوری بعد امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے تہران کو سخت ترین الفاظ میں دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ میں طے کردہ کڑی شرائط پر سو فیصد عمل نہیں کیا تو امریکہ اس کے خلاف ایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کی مکمل ملٹری صلاحیت رکھتا ہے، واشنگٹن اور تل ابیب سے حاصل ہونے والی سٹریٹجک رپورٹس کے مطابق امریکی وزیرِ جنگ نے واضح کیا کہ رواں ہفتے دستخط کیے گئے امن معاہدے کے تحت واشنگٹن نے نیک نیتی کے طور پر اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر اتفاق ضرور کیا ہے جس کے باعث گزشتہ اپریل کے مہینے سے ایرانی ساحلوں کی طرف آنے اور جانے والے بحری جہازوں کی رکی ہوئی آمد و رفت بحال ہو رہی ہے مگر یہ سب مشروط ہے، پیٹ ہیگستھ نے کڑے تیور اپناتے ہوئے کہا کہ اگر ایران اپنے وعدوں کے مطابق جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی خواہشات کو مکمل طور پر ترک نہیں کرتا تو امریکی وزارتِ جنگ ہر قسم کے اقدامات کے لیے تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائیاں فوری دوبارہ شروع کر دی جائیں گی کیونکہ امریکہ کی کسی بھی عسکری کارروائی اور مذاکرات کا بنیادی مرکز صرف ایران کے جوہری ہتھیاروں کا خاتمہ ہے، انہوں نے برطانوی قیادت پر زور دیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنے فوجی اخراجات بڑھائے اور امریکہ کو بحرِ ہند کے چاگوس جزائر میں واقع اہم ترین خفیہ فوجی اڈے ”ڈیاگو گارسیا“ تک مکمل رسائی فراہم کرے۔

    دوسری جانب امریکہ اور ایران کے مابین امن معاہدہ نافذ العمل ہونے اور اس میں تمام فوجی کارروائیاں بند کرنے کی واضح شرط کے باوجود غاصب اسرائیلی فوج نے خطے کے امن کو داؤ پر لگاتے ہوئے برادر اسلامی ملک لبنان کے خلاف اپنی جارحانہ فوجی کارروائیاں بدستور جاری رکھنے کا ہٹ دھرمی پر مبنی باضابطہ اعلان کیا ہے، اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے اپنے آفیشل ٹیلی گرام چینل پر جاری کردہ ایک جابرانہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ صیہونی فوجیں اب بھی جنوبی لبنان کے اندر تقریباً ۱۰ کلومیٹر تک پھیلے ہوئے نام نہاد سیکیورٹی زون میں آپریشنز کر رہی ہیں اور ان کی یہ فیلڈ موجودگی آپریشنل ضروریات کے باعث ہے لہٰذا صیہونی دستے خطرات کو ختم کرنے کے نام پر معصوم شہریوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے، اس سے قبل لبنانی میڈیا نے بھی تصدیق کی تھی کہ معاہدے کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی و زمینی حملے کیے گئے ہیں، صیہونی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے اس عالمی امن معاہدے پر دستخط کے بعد اب تک کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا اور وہ خود کو اس عمل سے یکسر الگ تھلگ ظاہر کر رہے ہیں، انہوں نے امریکی ٹیلی ویژن ”فاکس نیوز“ سے گفتگو میں مکارانہ موقف اپنایا کہ اسرائیل اس براہِ راست امن مذاکرات کا حصہ نہیں رہا ہے اور وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے سے شدید اختلاف رکھتے ہیں جبکہ اسرائیل کے انتہا پسند دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے سوشل میڈیا پر زہر اگلتے ہوئے کھلم کھلا اعلان کیا ہے کہ اسرائیل ٹرمپ کے اس امن معاہدے کا بالکل پابند نہیں ہے کیونکہ صیہونی حکومت اس معاہدے کی فریق نہیں ہے جو ان کی نام نہاد سلامتی کو یقینی نہ بنائے، صیہونی حکام کے ان بیانات نے امریکی انتظامیہ کی امن کوششوں اور معاہدے کی شفافیت پر ایک بار پھر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    سپریم کورٹ ملازمین کے یوٹیلیٹی الاؤنس میں ۱۰۰ فیصد تاریخی اضافہ، شہریوں کا شدید ردعمل، تمام مراعات ختم کرنے کا مطالبہ

    منصور احمد june 18,2026

    اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    چیف جسٹس آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے ملازمین اور افسران کے یوٹیلیٹی الاؤنس میں پورے ۱۰۰ فیصد اضافے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی عدالتی و انتظامی تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یوٹیلیٹی الاؤنس میں کیے جانے والے اس بھاری اضافے کا باقاعدہ اطلاق یکم جولائی ۲۰۲۶ء سے ہوگا، اعلامیے کے تفصیلی اعداد و شمار کے مطابق گریڈ ۱ سے ۶ تک کے ملازمین کا ماہانہ الاؤنس ۶ ہزار روپے سے بڑھا کر ۱۲ ہزار روپے جبکہ گریڈ ۷ سے ۱۰ تک کے ملازمین کا الاؤنس ۸ ہزار سے بڑھا کر ۱۶ ہزار روپے کر دیا گیا ہے، اسی طرح گریڈ ۱۱ سے ۱۵ تک کے ملازمین کا یوٹیلیٹی الاؤنس ۱۰ ہزار سے بڑھ کر سیدھا ۲۰ ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے، اعلامیے کے مطابق گریڈ ۱۶ کے افسران کا الاؤنس ۱۲ ہزار سے بڑھا کر ۲۴ ہزار روپے، گریڈ ۱۷ کے افسران کا یوٹیلیٹی الاؤنس ۱۵ ہزار سے بڑھ کر ۳۰ ہزار روپے جبکہ گریڈ ۱۸ کے افسران کا الاؤنس ۱۸ ہزار سے بڑھا کر ۳۶ ہزار روپے تک پہنچا دیا گیا ہے، اعلیٰ ترین افسران کی بات کی جائے تو گریڈ ۱۹ کے افسران کا الاؤنس ۲۱ ہزار سے بڑھا کر ۴۲ ہزار روپے، گریڈ ۲۰ کے افسران کا الاؤنس ۲۴ ہزار سے بڑھا کر ۴۸ ہزار روپے جبکہ گریڈ ۲۱ اور اس سے اوپر کے تمام اعلیٰ ترین افسران کا ماہانہ الاؤنس ۳۰ ہزار روپے سے بڑھا کر سیدھا ۶۰ ہزار روپے کر دیا گیا ہے، اس سرکاری اعلامیے میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ اس مخصوص یوٹیلیٹی الاؤنس میں گیس اور بجلی کے بھاری اخراجات شامل ہیں اور اس مد میں ہونے والے تمام اضافی اخراجات مالیاتی سال ۲۰۲۶-۲۷ کے منظور شدہ بجٹ سے ہی پورے کیے جائیں گے۔

    دوسری جانب معاشی بحران اور کمر توڑ مہنگائی کے پِسے ہوئے عام شہریوں نے سپریم کورٹ کے اس اعلامیے پر انتہائی شدید اور منفی ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور عدالتی انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے، شہریوں کا اپنے عوامی احتجاج میں کہنا ہے کہ ملک کے دیگر سرکاری ملازمین اور اعلیٰ حکام کی تنخواہوں میں پہلے ہی کئی سو گنا اضافہ کیا جا چکا ہے اور اب اس کٹھن صورتحال میں سپریم کورٹ کے ملازمین کے لیے یوٹیلیٹی الاؤنس کو دوگنا کرنا موجودہ ملکی حکومت کی اخراجات کم کرنے اور سادگی اختیار کرنے کی دعوے دار پالیسی کے سراسر خلاف ہے، شہریوں اور مختلف عوامی تنظیموں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاشی انصاف کا مظاہرہ کرتے ہوئے یا تو حکومت کو بلاتفریق تمام غریب پاکستانی شہریوں کے لیے بھی کم از کم ۶۰ ہزار روپے کے برابر ماہانہ خصوصی الاؤنس ادا کرنے کا فوری عدالتی حکم جاری کریں یا پھر ملک کی اعلیٰ ترین سیکیورٹی و حکومتی شخصیات سے لے کر نچلے درجے تک کے تمام سرکاری ملازمین کی ایسی تمام غیر ضروری پٹرول، گیس اور بجلی کی مراعات کو اس وقت تک کے لیے مکمل طور پر معطل اور ختم کیا جائے جب تک ملک موجودہ سنگین معاشی بحران اور بیرونی قرضوں کے چنگل سے مستقل طور پر باہر نہیں آجاتا کیونکہ اشرافیہ کو بھاری مراعات دینا غریب عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔

    امریکہ اور ایران کے مابین جنگ کے خاتمے کا تاریخی ۱۴ نکاتی معاہدہ نافذ العمل، صدور نے الیکٹرانک دستخط کر دیے، پاکستان کی بطور ثالث توثیق


    کاشف عباسی ,june 18,2026

    تہران/واشنگٹن/اسلام آباد (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    عالمِ اسلام اور بین الاقوامی سیاست کے مابین جاری شدید ترین کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک بہت بڑی اور تاریخی بریک تھرو سامنے آئی ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور امن کے قیام کے لیے ایک اہم ۱۴ نکاتی جامع معاہدے پر باقاعدہ طور پر الیکٹرانک دستخط کر دیے ہیں جس کے ساتھ ہی یہ تاریخی معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے، پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اس عالمی پیش رفت کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ پر امریکہ اور ایران کے مابین الیکٹرانک دستخط مکمل ہو چکے ہیں اور پاکستان نے بطورِ ثالث اس تاریخی امن دستاویز کی باقاعدہ توثیق کر دی ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے اہم ترین جذباتی و سفارتی بیان میں واضح کیا کہ اس تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دونوں طاقتور ممالک کے صدور نے دستخط کیے ہیں جو اس بات کی ناقابلِ تردید علامت ہے کہ دونوں فریقین طویل تنازع اور جنگ کے مستقل حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے میں سو فیصد سنجیدہ ہیں، انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے ابتدائی اور بنیادی قدم کے طور پر ایران نے عالمی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی بحری ٹریفک کے لیے فوری طور پر دوبارہ کھولنے جبکہ امریکہ نے ایران کے خلاف جاری بحری ناکہ بندی کو فی الفور ختم کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے، پاکستانی وزیرِ اعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جرات مندانہ قیادت اور بہترین سفارتکاری کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی امن کے لیے مخلصانہ وابستگی نے خطے کو ایک ممکنہ ہولناک اور تباہ کن عالمی جنگ سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جبکہ انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم بشمول جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی انتھک معاشی و سیاسی کوششوں کو بھی زبردست خراجِ تحسین پیش کیا، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایران کی اعلیٰ ترین قیادت بشمول رہبرِ معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کی اعلیٰ بصیرت اور اسلامی دانشمندی کا اعتراف کرتے ہوئے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سینیئر ارکان محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی کی مخلصانہ خدمات کو بھی سراہا اور برادر ممالک قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی اعلیٰ قیادت کے تعمیری کردار کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ مفاہمتی یادداشت پورے خطے میں باہمی احترام اور مشترکہ معاشی خوشحالی کی ایک انتہائی مضبوط بنیاد ثابت ہو گی۔

    بین الاقوامی بیورو کے مطابق اس دستخطی تقریب کی حیرت انگیز تفصیلات کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس کے دورے کے دوران دارالحکومت پیرس کے تاریخی ورسائی محل میں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے ساتھ ایک پُرتکلف عشائیے کے موقع پر اس تاریخی ایران امریکہ مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کیے، اس یادگار موقع پر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے صدر ٹرمپ کو باقاعدہ دستاویزات پیش کیں جس پر دستخط مکمل ہوتے ہی فرانسیسی صدر میکرون نے امریکی صدر کو اس عظیم کامیابی پر کھڑے ہو کر دلی مبارکباد پیش کی جبکہ صدر ٹرمپ نے صحافیوں کے جم غفیر کو فاتحانہ انداز میں بتایا کہ انہوں نے ایران کے ساتھ امن معاہدے پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں، وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ آفیشل ویڈیو میں امریکی صدر کے ہاتھ کو زوم کر کے مفاہمت کی یادداشت کے خاص فارسی ورژن پر دستخط کرنے کے تاریخی لمحے کو نمایاں طور پر دکھایا گیا ہے اور اس کے چند ہی منٹوں بعد ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ”ارنا“ نے بھی تہران سے صدر مسعود پزشکیان کی ایک یادگار لائیو تصویر شائع کی جس میں ایرانی صدر نے مسکراتے ہوئے کیمرے کے سامنے اسکرین پر مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جس کے ایک طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط صاف دکھائی دے رہے تھے، وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام کے مطابق یہ معاہدہ جنیوا (سوئٹزرلینڈ) میں طے شدہ وقت سے پہلے ہی فریقین کی باہمی رضامندی اور جلد عملدرآمد کی خواہش کے باعث الیکٹرانک طریقے سے مکمل کر لیا گیا ہے تاہم جنیوا میں دونوں ممالک کی تکنیکی مذاکراتی ٹیموں کی طے شدہ سٹرٹیجک شرکت اور ملاقات شیڈول کے مطابق بدستور برقرار رہے گی جس میں معاہدے پر عمل درآمد کے لیے فوری اگلے انتظامی مراحل طے کیے جائیں گے۔

    دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹیلی ویژن سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے معاہدے کے حتمی متن پر الیکٹرانک دستخطوں کی مکمل تصدیق کرتے ہوئے ایران کا نپی تلا اور مضبوط موقف دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، ترجمان نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ سٹرٹیجک آبنائے ہرمز کی مکمل سیکیورٹی کا معاملہ صرف ایران اور عمان کی مشترکہ مقتدر ذمہ داری ہے اور اس تجارتی گزرگاہ میں بحری جہازوں کو فراہم کی جانے والی خدمات اور پروٹیکشن کے بدلے ایران باقاعدہ سروس فیس وصول کرے گا، انہوں نے غاصب صیہونی حکومت کو کڑی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل کی جانب سے برادر اسلامی ملک لبنان پر وحشیانہ حملے اور غاصبانہ قبضہ جاری رہا تو یہ اس عالمی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی تصور ہوگی جس کے خلاف ایران سخت ترین جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے، اسماعیل بقائی نے ملکی خودمختاری پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کے میزائل پروگرام پر کسی بھی عالمی طاقت سے کوئی مذاکرات نہیں کیے جا سکتے اور نہ ہی ایران کا کوئی بھی جوہری مواد ملک سے باہر بھیجا جائے گا البتہ تہران کے پاس افزودہ یورینیم کو پرامن مقاصد کے لیے کم درجے پر لانے کا تکنیکی آپشن موجود ہے، انہوں نے واشنگٹن کو یاد دہانی کرائی کہ طے شدہ ۶۰ دنوں کے اندر امریکہ یا کسی دوسرے فریق کو خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں کوئی اضافہ نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی کوئی نئی معاشی پابندیاں لگائی جانی چاہئیں، تہران پر عائد تیل کی تمام جابرانہ پابندیاں آج سے ہی ختم ہونی چاہئیں تاکہ ایران اگلے ۶۰ دنوں میں اپنا خام تیل عالمی منڈی میں آزادانہ فروخت کر سکے اور امریکہ اس بات کا قانونی طور پر پابند ہے کہ وہ دنیا بھر میں منجمد ایرانی مالیاتی اثاثوں کو فوری بحال کرنے کے سلسلے میں حائل تمام تر رکاوٹیں دور کرے کیونکہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں پر دنیا کے کسی بھی فریق کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

    محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات، وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی زیرِ صدارت جائزہ اجلاس میں 4 درجاتی حصار قائم کرنے کا حکم

    روزینہ اسماعیل.june 18,2026

    اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی زیرِ صدارت محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی اور دیگر اہم انتظامات سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک جدید خصوصی موبائل ایپلی کیشن ”محفوظ محرم“ متعارف کرانے کا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے، اسلام آباد سے حاصل ہونے والی انتظامی تفصیلات کے مطابق اس اہم اجلاس میں چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد پولیس نے محرم الحرام کے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے وزیرِ داخلہ کو تفصیلی بریفنگ دی، بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سیف سٹی اسلام آباد میں ایک مرکزی کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے جبکہ عزاداروں، مجالس اور ماتمی جلوسوں کی فول پروف حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ ۴ درجاتی حصار قائم کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے، انتظامیہ کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں تمام مجالس اور جلوسوں کا جامع سیکیورٹی آڈٹ مکمل کر لیا گیا ہے اور امن و نگہبان کمیٹیوں کو بھی فیلڈ میں مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے جبکہ اسلام آباد انتظامیہ امن و امان کی فضا برقرار رکھنے کے لیے تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، مجالس کے لائسنس ہولڈرز اور جلوسوں کے منتظمین سے مسلسل قریبی رابطے میں ہے۔

    اجلاس کے دوران خصوصی طور پر تیار کی گئی ”محفوظ محرم“ ایپلی کیشن کے بارے میں بتایا گیا کہ اس جدید سروس کے ذریعے اسلام آباد کے عام شہری گراؤنڈ پر کسی بھی مشتبہ شخص، مشکوک سرگرمی یا سیکیورٹی کے نامکمل انتظامات کی فوری اطلاع براہِ راست کنٹرول روم کو دے سکیں گے اور اس ایپ میں شہریوں کے لیے لائیو لوکیشن اور امیج شیئرنگ (تصاویر بھیجنے) کی خصوصی سہولت بھی میسر کی گئی ہے تاکہ فوری ایکشن لیا جا سکے، اس موقع پر وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پولیس حکام کو تمام چھوٹے بڑے جلوسوں اور مجالس کے داخلی و خارجی راستوں پر واک تھرو گیٹس نصب کرنے اور سخت ترین چیکنگ کا حکم دیا ہے جبکہ شہریوں کی سہولت کے لیے جامع متبادل ٹریفک پلان پر سو فیصد عملدرآمد کرنے کی کڑی ہدایت کی ہے، محسن نقوی نے واشگاف الفاظ میں رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ سیکیورٹی افسران دفاتر کے بجائے خود فیلڈ میں موجود رہیں اور ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کے لیے کھانے پینے کے معیاری انتظامات کو بروقت یقینی بنائیں، وزیرِ داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے طے کردہ ضابطہ اخلاق کی پابندی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور سوشل میڈیا یا فیلڈ میں کسی بھی قسم کے اشتعال انگیز مواد، وال چاکنگ اور نفرت انگیز تقریر کے خلاف ریاست کی جانب سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ریاست مخالف ٹویٹ کیس، صنم جاوید اور فلک جاوید پر فردِ جرم عائد نہ ہو سکی، علی امین گنڈاپور کے وارنٹ منسوخ

    کاشف عباسی ,june 18,2026

    لاہور (عدالتی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    لاہور کی مقامی عدالت میں ریاست مخالف ٹویٹ کیس میں نامزد پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) پنجاب کی سرگرم عہدیدار صنم جاوید اور ان کی ہمشیرہ فلک جاوید پر جیل حکام کی جانب سے عدم پیشی کے باعث تاحال فردِ جرم عائد نہ ہو سکی، عدالتی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق لاہور کی ایڈیشنل سیشن جج نصرت صدیقی کی عدالت میں اس ہائی پروفائل کیس کی باقاعدہ سماعت ہوئی مگر دونوں نامزد ملزمان کو جیل سے عدالت کے روبرو پیش نہیں کیا گیا جس کے باعث فردِ جرم عائد کرنے کی عدالتی کارروائی مکمل نہ ہو سکی، عدالت عالیہ نے ملزمان کی عدم پیشی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ۳ جولائی ۲۰۲۶ء تک ملتوی کر دی اور متعلقہ جیل انتظامیہ کو سخت ہدایت جاری کی کہ آئندہ تاریخِ سماعت پر دونوں خواتین ملزمان کی عدالت میں حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، واضح رہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے اس حساس مقدمے کا تفصیلی چالان پہلے ہی عدالت میں جمع کروایا جا چکا ہے۔

    دوسری جانب لاہور کی سیشن عدالت کے ڈیوٹی جج جاوید اقبال سپرا کی عدالت میں آڈیو لیک کیس کی اہم ترین سماعت کے دوران سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما علی امین گنڈاپور کے باقاعدہ عدالت کے سامنے سرنڈر (پیش) ہو جانے پر ان کے جاری کردہ ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری مستقل طور پر منسوخ کر دیے گئے ہیں، عدالتی کارروائی کے دوران علی امین گنڈاپور اور ان کے شریک ملزم اسد فاروق اپنے وکلاء کے ہمراہ ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوئے جہاں ان کے وکیل نے ٹھوس موقف اختیار کیا کہ محض ایک قانونی سماعت میں ناگزیر وجوہات کی بنا پر عدم پیشی کے باعث علی امین گنڈاپور کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے گئے تھے تاہم اب انہوں نے قانون کا احترام کرتے ہوئے عدالت کے سامنے خود کو سرنڈر کر دیا ہے اور وہ عدالت کے رحم و کرم پر ہیں، ڈیوٹی جج نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا جو بعد میں سناتے ہوئے علی امین گنڈاپور کے وارنٹ منسوخ کر دیے اور آڈیو لیک کیس کی مزید سماعت ۱۵ جولائی ۲۰۲۶ء تک کے لیے ملتوی کرنے کا باقاعدہ حکم جاری کر دیا۔

    ایران کو ۶۰ دنوں تک تیل فروخت کرنے کی مکمل اجازت ملنی چاہیے، دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، اسماعیل بقائی

    روزینہ اسماعیل.june 18,2026

    تہران (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے تاریخی امن معاہدے کے تناظر میں ایران کا ٹھوس اور غیر مبہم موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ طے شدہ اگلے ۶۰ دنوں کے اندر دوسرے فریق کو خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی ایران پر کوئی نئی پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں، تہران سے سرکاری ٹیلی ویژن کے حوالے سے موصولہ بین الاقوامی سفارتی رپورٹ کے مطابق ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے اہم ترین پریس بیان میں واشنگٹن پر زور دیا کہ ایران پر عائد تیل کی تمام تر پابندیاں اب فوری ختم ہونی چاہئیں اور تہران کو معاہدے کے بعد آئندہ ۶۰ دنوں تک عالمی منڈی میں اپنا خام تیل آزادانہ فروخت کرنے کی مکمل آئینی اجازت ملنی چاہیے، انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ دنیا بھر میں ایران کے منجمد کیے گئے اربوں ڈالر کے اثاثوں تک تہران کی رسائی کے سلسلے میں حائل تمام تر رکاوٹیں دور کرے، میزائل پروگرام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کے میزائلوں کے بارے میں کسی دوسرے ملک کی گفتگو ہمیں بالکل پسند نہیں اور ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر کسی بھی عالمی فریق کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی جبکہ ایران کے پاس افزودہ یورینیم کو خود کار طریقے سے کم درجے پر لانے کا آپشن موجود ہے مگر ایرانی جوہری مواد کو کسی صورت ملک سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ عالمی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو فراہم کی جانے والی سیکیورٹی خدمات کے بدلے ایران باقاعدہ فیس وصول کرے گا۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مشرقِ وسطیٰ کی نازک صورتحال پر بات کرتے ہوئے صیہونی حکومت کو سخت وارننگ دی کہ اسرائیل کی لبنان میں کسی بھی قسم کی فوجی موجودگی یا جارحیت اس عالمی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی تصور ہوگی اور اگر اسرائیل نے لبنان پر اپنا غاصبانہ قبضہ جاری رکھا تو ایران کی جانب سے اس کے خلاف انتہائی ضروری و سخت اقدامات کیے جائیں گے، دوسری طرف اسرائیل نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے جبکہ لبنانی صدر جوزف عون نے اپنے پریس بیان میں اصرار کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ان کے ملک کی جاری بات چیت امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والے اس تازہ امن معاہدے سے بالکل آزاد اور الگ تھلگ ہے، ادھر امریکی قومی انسدادِ دہشت گردی سینٹر کے سابق سربراہ اور ٹرمپ انتظامیہ کے سابق مشیر جو کینٹ نے خطے کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی اس ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کو طویل المدتی برقرار رکھنے کے لیے خطے میں اسرائیلی مہم جوئی اور اقدامات کو محدود کرنا واشنگٹن کے لیے انتہائی ضروری ہے، انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے فیصلے کو انتہائی مثبت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے خطے میں استحکام برقرار رہے گا تاہم معاہدے کی اصل کامیابی کا انحصار اسرائیل کی جارحیت کو روکنے اور مشرقِ وسطیٰ میں توازن قائم رکھنے پر ہے، دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران معاہدہ اسرائیل کے لیے بھی معاشی و سیاسی طور پر فائدہ مند ہوگا لیکن لبنان اور حزب اللہ سے متعلق معاملات میں اسرائیل کو اپنے دفاع کا ہمیشہ مکمل حق حاصل رہے گا۔